بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائِتِ
مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ قَضَاهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَقَدَّمَهَا عَلَى فَرْضِ الْوَقْتِ، وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ التَّرْتِيبَ بَيْنَ الْفَوَائِتِ وَفَرْضِ الْوَقْتِ عِنْدَنَا مُسْتَحَقٌّ، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى مُسْتَحَبٌّ، لِأَنَّ كُلَّ فَرْضٍ أَصْلٌ بِنَفْسِهِ فَلَا يَكُونُ شَرْطًا لِغَيْرِهِ.
بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائِتِ
یہ باب ہے فوت شدہ نمازوں کی قضا کے بیان میں، کہ کسی کی نماز ایک یا کئی نمازیں فوت ہو جائیں تو ان کی قضا کس طریقے پر کی جائے گی؟ اس باب میں یہ تفصیل سے ذکر کیا جائے گا بھئی۔
چنانچہ فرماتے ہیں: مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ قَضَاهَا إِذَا ذَكَرَهَا، مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ کہ جس سے کوئی نماز چھوٹ جائے، قَضَاهَا تو وہ اس کی قضا کرے، إِذَا ذَكَرَهَا جب اس کو یاد آ جائے، وَقَدَّمَهَا عَلَى فَرْضِ الْوَقْتِ اور اس کو مقدم کرے وقتی فرض پر بھئی۔ وقتی فرض پر کیا کرے؟ مقدم کرے۔ یاد رکھیے یہ مسئلہ متعلق ہے صاحبِ ترتیب سے۔ صاحبِ ترتیب وہ شخص ہے جس کے بالغ ہو جانے کے بعد سے لے کر اب تک اس کی کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صاحبِ ترتیب کہتے ہیں۔ اور صاحبِ ترتیب کی یاد رکھیے نماز اگر کوئی رہ جاتی ہے، قضا ہو جاتی ہے تو اگر اس کی کوئی نماز قضا ہو جائے تو اس قضا نماز کو وقتی نماز پر مقدم کرنا پڑے گا۔ اگر وہ وقتی نماز پہلے ادا کرتا ہے اور پھر قضا جو فوت ہوئی تھی اس کی قضا کرتا ہے تو پھر وہ نماز نہیں ہوگی، وقتی کو مقدم کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ صاحبِ ترتیب کے لیے کیا ضروری ہے؟ ترتیب ضروری ہے نمازوں کے اندر، تو جو پہلے فوت ہوئی ہے پہلے اس کو ادا کرے، اس کے بعد وقتی نماز کو ادا کرے۔ ہاں، تین صورتوں کے اندر وقتی نماز کو پڑھتا ہے قضا سے پہلے تو تب بھی جائز ہو جائے گی، جس کو آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کریں گے۔ ایک صورت یہ کہ وقتی نماز کا وقت بڑا تنگ ہو گیا۔ اب اس میں اگر مثلاً دیکھیے، ایک شخص کی ظہر کی نماز رہ گئی۔ ظہر کی نماز رہ گئی اور وہ اب عصر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے، نہیں بھئی صاحبِ ترتیب ہے تو پہلے کیا کرنا پڑے گی؟ ظہر کی قضا کرے گا اور پھر اس کے بعد عصر کی نماز پڑھے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہاں، تین صورتوں کے اندر اگر وہ وقتی نماز کو پہلے پڑھ لیتا ہے تو بھی جائز ہو جائے گا۔ پہلی صورت یہ کہ عصر کا وقت ہے، عصر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے لیکن کیا ضروری تھا اس کے ذمے؟ پہلے ظہر کی قضا کرے، لیکن عصر کا وقت اتنا تنگ ہو گیا، اتنا تھوڑا وقت رہ گیا کہ اب اس میں اگر وہ فوت شدہ یعنی قضا نماز پڑھتا ہے تو یہ عصر کی بھی فوت ہو جائے گی، یہ بھی قضا ہو جائے گی۔ تو اس صورت میں پھر یہ وقتی نماز یعنی عصر کو پہلے پڑھ لے اور قضا نماز کو اس کے بعد پڑھ لے۔ دوسری صورت یہ کہ وہ قضا نماز بھول گیا بھئی، اس کو یاد ہی نہیں کہ میری ظہر کی نماز رہ گئی ہے۔ تو اس صورت میں بھی اگر وہ عصر کی پڑھ لے گا تو وہ درست ہو جائے گی بھئی۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں، یعنی چھ تک پہنچ جائے ان کی تعداد، تو پھر اس صورت میں بھی ترتیب ساقط ہو جاتی ہے اور پھر بغیر ترتیب کے بھی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، یعنی چاہے پہلے فوت شدہ پڑھنا چاہے، چاہے پہلے وقتی پڑھنا چاہے، فوت شدہ جو ہیں چھ تک پہنچ گئی ہیں ان میں بھی پھر ترتیب نہیں رہتی، پھر ان میں بھی کسی کو آگے پیچھے پڑھنا چاہے تو مقدم مؤخر کر سکتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ کتنی صورتوں میں؟ تین صورتیں۔ پہلی صورت کیا؟ کہ وقت اتنا تنگ ہو گیا ہے کہ اب اس میں وہ وقتی نماز تو ادا کی جا سکتی ہے لیکن اگر قضا پہلے پڑھتا ہے تو یہ وقتی بھی کیا ہو جائے گی؟ یہ بھی قضا ہو جائے گی بھئی۔ دوسری صورت اگر بھول جائے، اس کو یاد ہی نہیں کہ میرے ذمے قضا نماز باقی ہے۔ اور تیسری صورت کیا؟ کہ فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں، اور کثرت کی حد کیا ہے؟ کتنی ہو جائیں؟ فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ قَضَاهَا إِذَا ذَكَرَهَا، جس کی کوئی نماز چھوٹ جائے، نماز فوت ہو جائے تو وہ اس کی قضا کرے جب اس کو یاد آ جائے، وَقَدَّمَهَا عَلَى فَرْضِ الْوَقْتِ اور اس فوت شدہ نماز کو مقدم کرے وقتی فرض پر، وَالْأَصْلُ فِيهِ اور اصل اس کے اندر یہ ہے، ضابطہ اس کے اندر یہ ہے، أَنَّ التَّرْتِيبَ بَيْنَ الْفَوَائِتِ وَفَرْضِ الْوَقْتِ عِنْدَنَا مُسْتَحَقٌّ، کہ ترتیب جو ہے فوت شدہ نمازوں کے درمیان اور وقتی فرض کے درمیان عِنْدَنَا ہمارے نزدیک مُسْتَحَقٌّ وہ لازمی ہے، یعنی واجب ہے، واجب ہے۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ مُسْتَحَبٌّ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ترتیب مستحب ہے بھئی، واجب نہیں۔
آگے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر ہو رہی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ كُلَّ فَرْضٍ أَصْلٌ بِنَفْسِهِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی کہ فرائض کے اندر ترتیب جو ہے، فوت شدہ نمازوں اور وقتی فرض کے اندر ترتیب جو ہے مستحب ہے، واجب نہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ كُلَّ فَرْضٍ أَصْلٌ بِنَفْسِهِ، اس لیے کیونکہ ہر فرض اپنی ذات کے اعتبار سے اصل ہے۔ ہر فرض نماز کیا ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے اصل ہے، فَلَا يَكُونُ شَرْطًا لِغَيْرِهِ، لہٰذا یہ اپنے علاوہ کے لیے شرط نہیں ہو سکتی۔
کیا معنی؟ وہ فرماتے ہیں: دیکھیے، ہر نا فرض نماز جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اصل ہے اور اگر آپ یہ شرط لگا دیں کہ قضا پہلے پڑھے گا اور وقتی اس کے بعد پڑھے، تو گویا اس قضا نماز کی ادائیگی آپ نے شرط قرار دے دی، کس کے لیے؟ وقتی نماز کے لیے، تو قضا نماز تو تھی فرض، وہ تو اور جو فرض ہے وہ وہ اصل ہے، فرض جو ہے وہ کیا ہے؟ اصل ہے، اور آپ نے اس کو شرط قرار دے دیا ہے دوسری نماز کے لیے، اور شرط جو ہوتی ہے وہ شے کے تابع ہوا کرتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ شے کے تابع۔ جو قضا نماز ہے جب وہ اصل ہے تو وہ شرط نہیں ہو سکتی، جو اصل ہے وہ تابع نہیں اور جو تابع ہے وہ اصل نہیں۔ تو جب یہ اصل ہے تو آپ اس کو دوسری نماز کے تابع نہیں قرار دے سکتے، یعنی اس کے لیے شرط قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ شرط اور اصل کے اندر منافات ہے، شرط تابع ہوا کرتی ہے اور جو فرض ہے وہ اصل ہے، اس کو تابع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ تو لہٰذا یہ اس کو شرط نہیں قرار دیا جا سکتا کہ یہ قضا پہلے پڑھے گا تو پھر کیا ہوگی؟ وقتی نماز ہوگی، ورنہ تو یہ کیا لازم آئے گی؟ کیا خرابی؟ کہ یہ شرط بن جائے گی، یہ اس کے تابع ہو جائے گی، حالانکہ یہ تو اصل ہے، یہ تابع نہیں ہے، شرط نہیں ہے۔
لِأَنَّ كُلَّ فَرْضٍ أَصْلٌ بِنَفْسِهِ، اس لیے کیونکہ ہر فرض جو ہے وہ اصل ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، فَلَا يَكُونُ شَرْطًا لِغَيْرِهِ، تو یہ اپنے علاوہ کے لیے شرط نہیں ہوگا، کیونکہ پھر تو کیا بن جائے گا؟ تابع بن جائے گی، تو ایک چیز اصل ہو اس کو تابع قرار نہیں دیا جاتا، اور جو تابع ہے وہ اصل نہیں، کیونکہ اصل اور تابع کے اندر منافات ہے۔
وَلَنَا، یہ تھی یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی، وَلَنَا اور ہماری دلیل قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے: مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا، جو شخص نماز سے سو گیا، یعنی سو گیا تھا اس کی نماز رہ گئی، مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ جو شخص نماز سے سو گیا أَوْ نَسِيَهَا یا اس نماز کو وہ بھول گیا، فَلَمْ يَذْكُرْهَا تو وہ نماز اس کو یاد نہیں آئی، إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ مگر اس حال میں کہ وہ کس کے ساتھ تھا؟ امام کے ساتھ تھا۔
صورت یہ حدیث میں ذکر ہو رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کوئی کسی کوئی شخص سو گیا اور اس کی نماز رہ گئی یا بھول گیا اس کی نماز رہ گئی ہے اور وہ پھر امام کے ساتھ اگلی وقتی نماز کے اندر مشغول تھا کہ اس کو اس نماز کے اندر یاد آیا کہ میری تو پچھلی قضا بھی باقی ہے، مثلاً عصر کے وقت امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہے، یاد آیا کہ میری تو ظہر کی نماز بھی باقی ہے، تو آگے حدیث میں آ رہا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کو یہ نماز بھی پوری کر لینی چاہیے، یعنی امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے، پڑھتا رہے، پوری کر لے، پھر اس کے بعد اس قضا نماز کو پڑھے جو ظہر کی رہ گئی تھی مثلاً، وہ پڑھ لے، پھر اس کے بعد جو امام کے ساتھ پڑھی ہے اس کو پھر لوٹائے۔ اس کو کیا کرے؟ اس قضا کو ادا کرنے کے بعد پھر اس وقتی نماز کو دوبارہ لوٹائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازوں کے اندر، فوت شدہ نماز اور وقتی نماز کے درمیان ترتیب واجب ہے، اسی لیے حضور علیہ السلام نماز کے لوٹانے کا حکم دے رہے ہیں، امام کے ساتھ یہ ایک دفعہ پڑھ چکا ہے، لیکن چونکہ اس قضا نماز سے پہلے پڑھا، لہٰذا معلوم ہوا اس کو یہ نماز اس کی نہیں ہوئی، لہٰذا قضا نماز پہلے پڑھ نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد وہ قضا کرے اور پھر کیا کر لے؟ اس جو امام کے ساتھ پڑھی تھی اس کا اعادہ کر لے، تو حدیث سے کیا معلوم ہوا کہ ترتیب فوت شدہ نماز اور وقتی نماز کے درمیان واجب ہے، جبھی تو اس کو لوٹانے کا حکم دیا جا رہا ہے، معلوم ہوا اس کی نماز ہوئی ہی نہیں بھئی۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا، کہ جو شخص نماز سے سو گیا یا اس کو بھول گیا، فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ پس اس کو نماز وہ یاد نہیں آئی مگر یہ کہ وہ امام کے ساتھ تھا، فَلْيُصَلِّ الَّتِي هُوَ فِيهَا، تو اس کو چاہیے کہ پڑھ لے وہ نماز جس کے اندر یہ ہے بھئی، کون سی نماز؟ جو امام کے ساتھ پڑھ رہا ہے، اس نماز کو پڑھ لے، ثُمَّ لِيُصَلِّ الَّتِي ذَكَرَهَا، پھر وہ نماز پڑھے جو اس کو یاد آئی ہے، ثُمَّ لِيُعِدِ الَّتِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ، پھر اس کو چاہیے کہ اعادہ کرے اس نماز کا جس کو اس نے امام کے ساتھ پڑھا تھا۔ معلوم ہوا ترتیب واجب ہے بھئی۔
وَلَوْ خَافَ فَوْتَ الْوَقْتِ يُقَدِّمُ الْوَقْتِيَّةَ ثُمَّ يَقْضِيهَا، اور اگر اس شخص کو خوف ہوا وقت کے فوت ہو جانے کا، تو پھر يُقَدِّمُ الْوَقْتِيَّةَ تو پھر وقتی نماز کو مقدم کر لے، ثُمَّ يَقْضِيهَا پھر اس فوت شدہ نماز کی قضا کر لے، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ وقت تنگ ہو جائے تو پھر پہلے وقتی نماز بھی پڑھ سکتا ہے۔
لِأَنَّ التَّرْتِيبَ يَسْقُطُ بِضِيقِ الْوَقْتِ، اس لیے کیونکہ ترتیب جو ہے وہ ساقط ہو جاتی ہے وقت کے تنگ ہو جانے سے، ضِيقٌ اور زَيْقٌ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، تنگ ہو جانا بھئی۔ لِأَنَّ التَّرْتِيبَ يَسْقُطُ بِضِيقِ الْوَقْتِ، اس لیے کیونکہ ترتیب وقت کے تنگ ہو جانے سے ساقط ہو جاتی ہے، وَكَذَا بِالنِّسْيَانِ اور اسی طرح بھول جانے کی وجہ سے بھی، یعنی بھولنے سے بھی ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، وَكَثْرَةِ الْفَوَائِتِ اور اسی طرح فوت شدہ نمازوں کی کثرت سے، ان کے کثیر ہو جانے سے بھی ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، كَيْلَا يُؤَدِّيَ إِلَى تَفْوِيتِ الْوَقْتِيَّةِ، تاکہ کہیں یہ پہنچا نہ دے وقتی نماز کے فوت ہو جانے تک۔ تاکہ کہیں یہ فوت وقتی نماز کے فوت ہو جانے تک بھئی، جب فوت شدہ نمازیں زیادہ ہو جائیں، فوت شدہ نمازیں زیادہ ہو جائیں، پھر ترتیب ساقط ہو جائے گی، پھر یہ ضروری نہیں کہ ان نمازوں کو پہلے پڑھا جائے اور پھر وقتی نماز پڑھی جائے، اس لیے کیونکہ اگر کسی شخص کی زیادہ نمازیں فوت ہو گئیں، فرض کریں مثلاً ایک مہینے کی نمازیں فوت ہو گئیں یا فرض کریں دو تین دن کی نمازیں فوت ہو گئیں، اب اگر اس کو یہ کہا جائے کہ پہلے وہ نمازیں پڑھو گے تو پھر اگلی وقتی نماز ہوگی ورنہ وقتی نماز نہیں ہوگی، تو پھر اتنی نمازیں اکٹھی پڑھنا یہ تو اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے کہیں یہ نہ ہو اس کی اگلی وقتی نماز ہی فوت نہ ہو جائے بھئی، اس لیے کثرتِ فوائت کی وجہ سے بھی ترتیب کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: كَيْلَا يُؤَدِّيَ إِلَى تَفْوِيتِ الْوَقْتِيَّةِ، تاکہ کہیں یہ پہنچا نہ دے وقتی نماز کے فوت ہو جانے تک۔
وَلَوْ قَدَّمَ الْفَائِتَةَ جَازَ، اور اگر اس نے فوت شدہ نماز کو مقدم کر دیا جَازَ تو یہ بھی جائز ہے۔ بھئی اس کو متن کو متن سے جوڑیں، کیا مسئلہ ذکر ہو رہا ہے؟ اگر وقت تنگ ہو گیا اور اس شخص کو خوف ہے کہ اب اگر میں کیا کروں گا؟ قضا نماز پڑھوں گا تو وقتی بھی ہو کیا ہو جائے گی؟ وقتی بھی قضا ہو جائے گی، تو پھر اس صورت میں کیا کرنا چاہیے اس کو؟ وقتی نماز پہلے پڑھے اور قضا اس کے بعد پڑھے۔ لیکن اگر اس کے بجائے وہ قضا ہی پہلے پڑھ لیتا ہے، وقت بہت تھوڑا رہ گیا تھا، چار پانچ منٹ صرف باقی تھے لیکن اس نے پھر بھی کیا کیا؟ پہلے قضا کو پڑھا، تو کہتے ہیں یہ بھی جائز ہے یعنی اس کی وہ نماز ہو جائے گی، اگرچہ اس نے گناہ کیا، گناہ کا کام کیا، کرنا کیا چاہیے تھا؟ پہلے کیونکہ وقت تنگ تھا تو وقتی کو پہلے پڑھنا چاہیے تھا، لیکن اگر وہ قضا ہی کو پہلے پڑھ لیتا ہے تو بھی یہ جائز ہے۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ قَدَّمَ الْفَائِتَةَ جَازَ، اور اگر اس نے فوت شدہ نماز کو مقدم کر دیا تو یہ بھی جائز ہے، لِأَنَّ النَّهْيَ عَنْ تَقْدِيمِهَا لِمَعْنًى فِي غَيْرِهَا، دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہ بھئی اس صورت میں جب وقت اتنا تنگ ہو گیا تو پھر فوت شدہ نماز کو مقدم کرنا کیوں جائز ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ فوت شدہ نماز کی اپنی ذات میں کوئی خرابی نہیں تھی اس وقت، اس کے ادا کرنے میں کوئی خرابی نہیں، خرابی کس وجہ سے آ رہی تھی؟ کہ وقت تنگ ہے اب اگر قضا پڑھے گا تو وقتی بھی کیا ہو جائے گی؟ وہ بھی قضا ہو جائے گی، تو وہ جو منع کیا گیا اس کو مقدم کرنے سے وہ اس کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے منع کیا گیا تھا، اس کی اپنی ذات میں کوئی خرابی نہیں، لہٰذا اس کو بھی پڑھنا چاہے تو پڑھ لے تو ہو جائے گی بھئی، جائز ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّ النَّهْيَ عَنْ تَقْدِيمِهَا لِمَعْنًى فِي غَيْرِهَا، اس لیے کیونکہ جو روکا گیا ہے اس کو مقدم کرنے سے وہ ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو اس کی ذات کے اس کے علاوہ میں ہے، اس کی اپنی ذات میں کوئی وہ سبب نہیں ہے بھئی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں بھئی؟
بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي الْوَقْتِ سَعَةٌ وَقَدَّمَ الْوَقْتِيَّةَ حَيْثُ لَا يَجُوزُ، لِأَنَّهُ أَدَّاهَا قَبْلَ وَقْتِهَا الثَّابِتِ بِالْحَدِيثِ.
بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِي الْوَقْتِ، بخلاف اس کے کہ جب وقت کے اندر سَعَةٌ گنجائش ہو، وسعت ہو، وَقَدَّمَ الْوَقْتِيَّةَ اور اس نے کیا کیا؟ وقتی نماز کو صورت کیا ہے؟ ایک آدمی کے صاحبِ ترتیب ہے اور اس کی ایک نماز قضا ہے، باقی ہے، اور وہ کیا وقت کے اندر بھی گنجائش ہے اور وہ کیا کرتا ہے؟ وقتی نماز پہلے پڑھتا ہے، حالانکہ پڑھنی کیا چاہیے؟ قضا، تو جب وقت کے اندر گنجائش ہے پھر وقتی کو مقدم کرے گا تو یہ جائز نہیں ہے۔
بخلاف اس کے کہ جب وقت کے اندر گنجائش ہو وَقَدَّمَ الْوَقْتِيَّةَ اور وقتی نماز کو مقدم کر دیا حَيْثُ لَا يَجُوزُ کیونکہ یہ جائز نہیں ہے، حَيْثُ آپ نے پڑھا تعلیل کے لیے آتا ہے، علت بیان کرنے کے لیے، تو یہاں یہ علت بیان کر رہا ہے۔ دیکھیے، با محاورہ ترجمہ عبارت کا یوں بنے گا، کہتے ہیں متن سے دیکھیے: اور اگر فوت شدہ نماز کو مقدم کر دیا تو یہ بھی جائز ہے اس لیے کیونکہ نہی جو اس کو مقدم کرنے سے جو روکا گیا ہے، اس سے نہی کی گئی ہے ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو اس کی ذات کے علاوہ میں ہے۔ معلوم ہوا کیا؟ وقت تنگ ہو جائے تو فوت شدہ نماز کو مقدم کرنا پھر بھی جائز ہے، بخلاف اس صورت کے کہ جب وقت کے اندر گنجائش ہو اور وقتی نماز کو مقدم کر دے، یہ صورت اس کے خلاف ہے حَيْثُ لَا يَجُوزُ کیونکہ یہ جائز نہیں ہے۔ اب ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
لِأَنَّهُ أَدَّاهَا قَبْلَ وَقْتِهَا الثَّابِتِ بِالْحَدِيثِ، اس لیے کیونکہ اس شخص نے اس نماز کو ادا کیا ہے، اس وقتی نماز کو دلیل ذکر کر رہے ہیں نا بھئی، کہ خلاف اس صورت کے کہ جب وقت کے اندر گنجائش ہو تو پھر وقتی کو مقدم کرنا جائز نہیں ہے، کیوں؟ لِأَنَّهُ أَدَّاهَا قَبْلَ وَقْتِهَا الثَّابِتِ بِالْحَدِيثِ، اس لیے کیونکہ اس نے وقتی نماز کو ادا کیا ہے قبل اس کے وقت کے جو ثابت ہے حدیث سے۔ وقتی نماز کا وقت حدیث سے کیا ثابت ہوا؟ قضا کے بعد ہے اور وقت میں گنجائش ہے اور اس نے پھر بھی کیا کر دیا؟ اپنے وقت سے پہلے یعنی قضا سے پہلے اس کو ادا کر دیا، لہٰذا یہ نماز نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ أَدَّاهَا قَبْلَ وَقْتِهَا الثَّابِتِ بِالْحَدِيثِ، اس لیے کیونکہ اس نے وقتی نماز کو ادا کر دیا ہے اس کے اس وقت سے پہلے ہی جو حدیث سے ثابت ہے۔ حدیث سے تو کیا ثابت تھا؟ وقتی نماز کا وقت کب ہے؟ قضا کے بعد ہے، تو اس نے اس سے پہلے ادا کر لیا۔
وَلَوْ فَاتَتْهُ صَلَوَاتٌ رَتَّبَهَا فِي الْقَضَاءِ كَمَا وَجَبَتْ فِي الْأَصْلِ، اور اگر فوت ہو جائیں اس کی کئی نمازیں، رَتَّبَهَا فِي الْقَضَاءِ تو ترتیب سے ادا کرے ان کو فِي الْقَضَاءِ کس میں؟ قضا میں بھی، كَمَا وَجَبَتْ فِي الْأَصْلِ جیسے واجب ہوئی تھیں اصل کے اندر۔ بھئی ایک آدمی ہے، صاحبِ ترتیب سے متعلقہ مسائل چل رہے ہیں، اس کی کئی نمازیں فوت ہو گئیں۔ پہلے تو صورت تھی ایک نماز، اب ہے کئی نمازیں فوت ہو گئیں، تو ان کی مثلاً دو یا تین یا چار نمازیں، تو ان کی بھی بعد میں جب قضا کرے گا تو ان میں بھی ترتیب ضروری ہے۔ مثلاً اس شخص کی ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی یہ چار نمازیں رہ گئیں، تو یہ چار جب قضا اس کے ذمے ہیں تو اس کے لیے فجر کی نماز پڑھنا جائز ہی نہیں، وہ فجر پڑھے گا تو وہ ہوگی ہی نہیں، الّا وہ دو تین صورتیں جو ذکر ہو گئیں بھئی۔ لہٰذا پہلے یہ قضا کرے پھر اس کے بعد یہ فجر پڑھے گا، اور قضا کے اندر بھی ترتیب ضروری ہے: ظہر پہلے ہے، عصر اس کے بعد ہے، مغرب اس کے بعد ہے اور عشاء اس کے بعد، تو ان میں بھی ترتیب ضروری ہے۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ فَاتَتْهُ صَلَوَاتٌ، اگر اس کی فوت ہو جائیں کئی نمازیں، رَتَّبَهَا فِي الْقَضَاءِ تو ترتیب سے پڑھے ان کو قضا کے اندر بھی، كَمَا وَجَبَتْ فِي الْأَصْلِ جیسے واجب ہوئی تھیں اصل کے اندر۔
لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ شُغِلَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَضَاهُنَّ مُرَتَّبًا ثُمَّ قَالَ صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشغول کر دیے گئے چار نمازوں سے یہ خندق والے دن، فَقَضَاهُنَّ مُرَتَّبًا تو حضور علیہ السلام نے ان کی قضا فرمائی مرتباً ترتیب سے، ثُمَّ قَالَ پھر فرمانے لگے: صَلُّوا کہ تم لوگ نماز پڑھو، كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي جیسے کہ تم لوگ دیکھتے ہو میں نماز پڑھتا ہوں، جیسے میں مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو تم بھی اسی طرح نماز پڑھو، اور حضور علیہ السلام نے تو کس طرح قضا فرمائی تھی ان کی؟ ترتیب سے۔ معلوم ہوا یہاں اس شخص کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ جس کی نمازیں رہ گئیں اس کو ترتیب سے ادا کرنا پڑیں گی بھئی۔
بھئی یہ غزوۂ خندق کے موقع پر تفسیر کے اندر آپ نے پڑھا ہوگا کہ تمام عرب کے قبیلے مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو کر آ گئے تھے بھئی، تمام عرب کے قبیلے، اور شدید سردی کا زمانہ تھا اور خوراک کی قلت تھی اور تمام قبیلے اکٹھے ہو کر آ گئے۔ اتنا کڑا اور اتنا مشکل وقت کبھی مسلمانوں پر نہیں آیا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ کفار سارے اکٹھے ہو کر آ رہے ہیں اور ان کی تعداد دس ہزار تھی بھئی، بلکہ بعض روایات میں اس سے بھی زیادہ تیس ہزار تک ان کی تعداد آئی ہے، جبکہ مسلمانوں کی تعداد ادھر صرف دو یا تین ہزار تھی بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، صحابہ کو جمع کیا، ان سے مشورہ کیا کہ سارے عرب کے قبیلے اکٹھے ہو کر آ رہے ہیں، کیا کیا جائے؟ کس طرح ان کا مقابلہ کیا جائے؟ اور ادھر مدینہ منورہ جو ہے وہ کچھ ایسی جگہ پر واقع ہے کہ اس پر تین طرف سے تو حملہ نہیں ہو سکتا تھا، تین طرف سے۔ پہاڑ وغیرہ تھے، کھجوروں کے گھنے باغات تھے، کچھ لوگ تو اس میں سے گزر سکتے تھے لیکن پورا لشکر تو نہیں گزر سکتا تھا، تو البتہ ایک جانب مدینہ کی کھلی تھی، اس طرف سے بڑا لشکر حملہ آور ہو سکتا تھا۔
تو صحابہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ فرمایا۔ صحابہ میں سے پھر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشورہ دیا، فرمانے لگے: یا رسول اللہ! ہمارے علاقے میں جب کوئی بڑا دشمن آ جائے اور اس کے مقابلے کی طاقت نہ ہو تو پھر ہم خندق کھود لیتے ہیں، یعنی جس طرف سے دشمن آ رہا ہو اس طرف اتنا گہرا گڑھا کھود لیتے ہیں جس سے آسانی سے کوئی عبور نہ کر سکے، اور اتنا گہرا کہ کوئی اندر گر جائے تو پھر آسانی سے نکل نہ سکے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تجویز پسند آئی۔ چنانچہ پھر یہ طے کیا کہ خندق کھودی جائے اس طرف جس طرف سے دشمن آ رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ صحابہ کی جماعتیں بنائیں اور ان کے درمیان جگہ کے نشانات لگائے، دس دس بیس بیس گز کا علاقہ ہر ایک کو دیا کہ آپ نے یہاں سے یہاں تک خندق کھودنی ہے، دوسری جماعت نے یہاں سے یہاں تک خندق کھودنی ہے، اور شدید سردی کا زمانہ، خوراک کی قلت اور ادھر دشمن کا خوف الگ، اور دن بالکل ہیں نہیں، وقت ہی نہیں ہے کہ خندق کھودی جا سکے، دن رات صحابہ لگ گئے خندق کے کھودنے کے اندر اور وہ زمین بھی اتنی سخت تھی، بڑی سخت زمین تھی، تو صحابہ دن رات اس خندق کے کھودنے میں لگ گئے بھئی۔
اور اسی موقع پر صحابہ کے اندر مہاجرین اور انصار کے اندر جھگڑا بھی ہوا، مہاجرین کے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے یہ مشورہ دیا تھا وہ بڑے مضبوط آدمی تھے بھئی، اکیلے کئی کئی آدمیوں کے برابر کام کر لیتے تھے۔ تو اب خندق کھودنا بڑا مشکل کام تھا، تو انصار کہنے لگے: یہ سلمان فارسی ہم میں سے ہیں بھئی، یہ ہمارے ساتھ ہوں گے بھئی، مضبوط آدمی ہیں تو بڑی مدد دیں گے ہمارے ساتھ۔ مہاجرین کہنے لگے: نہیں نہیں، یہ ہمارے ساتھ ہوں گے یہ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، آپ تشریف لائے اور پھر اس موقع پر آپ نے فرمایا کہ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں بھئی۔
تو پھر کھدائی شروع کر دی، دن رات لگے ہوئے ہیں۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس جگہ کھدائی کر رہے تھے وہاں ایک بڑی سخت چٹان نکل آئی بھئی، اور بڑی کوشش کی گئی اس کو توڑنے کی لیکن وہ کسی طرح ٹوٹ ہی نہیں رہی تھی۔ صحابہ کے لوہے کے اوزار وغیرہ ٹوٹ گئے لیکن وہ چٹان نہیں ٹوٹ رہی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی، آپ تشریف لائے اور پھر آپ نے کدال لی اور کدال چلائی، تو کدال جیسے ہی پتھر سے ٹکرائی اس کا کچھ ٹکڑا ٹوٹ گیا اور روشنی نکلی جس سے پورا مدینہ منورہ روشن ہو گیا بھئی۔ روایات میں آتا ہے اس طرح روشنی نکلی جیسے تاریک رات کے اندر چراغ روشن کر دیا جائے اور پورا کمرہ روشن ہو جاتا ہے، اس طرح روشنی نکلی بھئی۔ پھر حضور روشنی نکلی حضور علیہ السلام نے تکبیر بلند کی، زور سے اللہ اکبر کہا، صحابہ نے بھی اللہ اکبر کہا۔ پھر حضور علیہ السلام نے دوسری مرتبہ کدال چلائی، پتھر اور چٹان کا کچھ اور حصہ ٹوٹ گیا، اسی طرح پھر روشنی نکلی، حضور علیہ السلام نے پھر زور سے تکبیر کہی۔ اور پھر تیسری مرتبہ آپ نے کدال چلائی، پھر روشنی نکلی اور آپ نے تکبیر کہی اور چٹان پوری طرح ٹوٹ گئی۔
تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ یہ میں نے کدال چلائی تو مجھے روم اور صنعاء وغیرہ کے محلات دکھائے گئے اور میری امت ان جگہوں کو بھی فتح کرے گی بھئی۔ یہ اس زمانے کی بڑی طاقتیں تھیں بھئی، خصوصاً روم وغیرہ یہ تو سپر طاقتیں جیسے آج کل کے زمانے میں امریکہ سمجھ لیں کہ اس کے فتح کی خوشخبری دی گئی ان کو، اور مسلمان بڑی بے سرو سامانی اور تکلیف کی حالت میں تھے۔ کتنی تکلیف میں تھے، کتنی تکلیف میں تھے بھئی، کوئی شخص اپنی جب تکلیف بیان کرتا ہے سننے والا پھر بھی گمان ذہن میں آتا ہے کہ شاید اتنی تکلیف نہیں ہوگی، یہ کچھ زیادہ ہی مبالغہ کر رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ لیکن یہاں تو خالقِ ارض و سما خود قرآن میں فرماتے ہیں: بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ، یہاں تک کہ کلیجے منہ کو آنے لگے تھے بھئی، اتنی سخت تکلیف کا عالم تھا۔
اور اس موقع پر منافقین نے بھی بڑی باتیں کیں بھئی، اور بعض منافقین تو یہ کہنے لگے کہ ہمیں تو خوف کا یہ عالم ہے کہ قضائے حاجت کے لیے کوئی شخص نہیں جا سکتا اور اس شخص کو دیکھو، یہ روم اور صنعاء کو فتح کرنے کی خوشخبریاں سنا رہا ہے بھئی۔ لیکن پھر اللہ نے سارے کفار کو شکست ہوئی، بھاگ گئے بھئی، اور ان کا اللہ تعالیٰ نے آندھی بھیجی، شدید آندھی اور ٹھنڈی ہوا تھی، سردی کا موسم تھا، ان کے سارے خیمے اکھڑ گئے، جانور ادھر ادھر بدک کر بھاگ گئے اور وہ راتوں رات چلے گئے بھئی۔
تو اسی دوران جب وہ آئے تھے اور انہوں نے جو محاصرہ کیا ہوا تھا، اسی میں ایک دن انہوں نے بڑے سخت انہوں نے ارادہ کیا کہ آج ہم خندق کو ہر حال میں عبور کریں گے۔ وہ آئے انہوں نے دیکھا، خندق کھدی ہوئی ہے تو حیران رہ گئے کہ بھئی یہ تو عرب کا طریقہ نہیں ہے، ہم نے کبھی عرب میں ایسا نہیں سنا۔ اب کوشش کرتے ہیں، وہ عبور کر ہی نہیں سکتے، دوسری طرف مسلمان پتھر اور نیزوں کے ساتھ ان کو واپس دھکیل دیتے ہیں، تو ایک دن انہوں نے ارادہ کیا کہ آج ہم خندق کو ہر حال میں عبور کریں گے۔ چنانچہ سارا دن وقفے وقفے سے جگہ جگہ سے ان کی ٹولیاں کوشش کرتی رہیں، لیکن جس طرف کا رخ کرتے تھے صحابہ جو تھے پتھروں اور تیروں کے ساتھ ان کو واپس دھکیل دیتے تھے بھئی۔ تو اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی نمازیں قضا ہو گئیں: ظہر کی، عصر کی، مغرب کی اور اسی طرح عشاء کی نماز بھی، بڑی دیر سے رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا اس وقت پھر ترتیب سے نمازیں ادا کی گئیں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اذان دی، اقامت کہی گئی اور پھر پہلے ظہر کی نماز ادا کی گئی، پھر اقامت کہی گئی اور عصر کی نماز ادا کی گئی، پھر اقامت کے ساتھ مغرب کی نماز باجماعت ادا کی گئی اور سب سے آخر میں عشاء کی نماز ادا کی گئی، اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، تو یہ نمازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ترتیب سے ادا کی تھیں یہ جو قضا نمازیں تھیں، معلوم ہوا قضا نمازوں کے اندر بھی ترتیب ضروری ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی قوت نصیب فرمائی تھی، صحابہ کوشش کر کے تھک گئے لیکن وہ چٹان نہ توڑ سکے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے پھر اس چٹان کو توڑ دیا بھئی۔ اور صحابہ نے پھر کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض نہ ہوں کہ کیسے تم سے یہ چٹان نہیں ٹوٹی، صحابہ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا اور دکھایا انہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے بھئی۔ عرب کا طریقہ تھا کہ شدید بھوک وغیرہ کے عالم میں پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے، کمر تاکہ سیدھی رہے بھئی، کمر سیدھی رہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو آپ نے دو پتھر باندھ رکھے تھے بھئی۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بڑی قوت نصیب فرمائی تھی۔ آپ کو چالیس جنتیوں کے برابر قوت دی گئی تھی، چالیس، اور ایک جنتی کو دنیا کے سو آدمیوں کے برابر قوت ایک جنتی میں ہوگی بھئی سو، تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے چار ہزار انسانوں کے برابر قوت دی گئی تھی بھئی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی کہ بڑا مشہور پہلوان تھا رکانہ نام تھا، رکانہ، تو حضور علیہ السلام نے اس کو بھی دعوتِ توحید دی کہ کفر و شرک کو چھوڑ کر اسلام کی طرف توحید کی طرف آ جاؤ۔ وہ عرب کا بہت بڑا، بڑا مشہور بھئی پہلوان تھا، اس کی قوت کا اندازہ لگائیں بھئی قوت کا، کہ وہ اتنا مضبوط اور بڑے بھاری بھرکم اور مضبوط جسم والا تھا کہ وہ چمڑے پر کھڑا ہو جاتا اونٹ وغیرہ کی کھال پر، تو دس آدمی مل کر کھینچتے تھے وہ چمڑا اس کے پاؤں کے نیچے سے نہیں نکال سکتے تھے بھئی۔ وہ چمڑا پھٹ جاتا تھا لیکن اس کے پاؤں کے نیچے سے نہیں نکلتا تھا بھئی، اتنا مضبوط آدمی۔ بھئی اب زور آزمائی وہ نہیں کر رہا، صرف کیا کر رہا ہے؟ جم کر کھڑا ہوا ہے، پھر بھی وہ اس کے پاؤں سے چمڑا نہیں کھینچ سکتے تھے، تو زور آزمائی میں اس کے اندر کتنی طاقت ہوگی، کوئی اس کا مقابلہ کرے تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
تو حضور علیہ السلام نے اس کو بھی دعوت دی۔ اس نے کہا: ایک شرط پر میں اسلام قبول کر لوں گا کہ تم میرے ساتھ کشتی لڑو اور مجھے ہرا دو۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی میرے ساتھ کشتی کے لیے تیار ہو جائے اور پھر مجھے ہرا دے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ حضور علیہ السلام فرمائے بھئی یہ آپ تیار ہو گئے، آؤ بھئی۔ تو وہ آیا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، حضور علیہ السلام نے اس کو پکڑا اور پھر عجیب بات ہوئی، حضور علیہ السلام نے اس کو اس طرح پکڑ کر نیچے لٹا دیا جیسے ایک چھوٹے سے بچے کو پکڑ کر نیچے لٹاتے ہیں۔ آپ کے سامنے چار پانچ سال کا ایک بچہ آئے آپ اس کو کیسے پکڑ کر لٹائیں گے؟ آرام سے لٹا دیں گے۔ حضور علیہ السلام نے اس طرح آرام سے اس کو لٹا دیا۔ وہ حیران رہ گیا، یہ ہوا کیا؟ کہنے لگا: یہ کیا ہوا مجھے سمجھ نہیں آئی، دوبارہ کشتی لڑیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بھئی دوبارہ آ جاؤ۔ دوبارہ آیا، دوبارہ پھر اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آرام سے پکڑا، نیچے لٹا دیا۔ اس نے کہا: نہیں، تیسری دفعہ پھر لڑیں گے۔ تیسری مرتبہ پھر اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آرام سے نیچے لٹا دیا اور پھر بعد میں وہ مسلمان ہو گئے بھئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بڑی قوت نصیب فرمائی تھی بھئی۔ یہ غزوۂ خندق کے مختصر احوال میں نے ذکر کر دیے، اس موقع پر یہ نمازیں قضا ہوئی تھیں بھئی۔
تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ شُغِلَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَضَاهُنَّ مُرَتَّبًا، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام مشغول کر دیے گئے چار نمازوں سے خندق والے دن، فَقَضَاهُنَّ مُرَتَّبًا تو حضور علیہ السلام نے ان کی قضا فرمائی ترتیب کے ساتھ، ثُمَّ قَالَ صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، پھر حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ تم لوگ بھی نماز پڑھو جیسے تم دیکھتے ہو کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔
إِلَّا أَنْ يَزِيدَ الْفَوَائِتُ عَلَى سِتِّ صَلَوَاتٍ، مگر یہ کہ بڑھ جائیں فوت شدہ نمازیں عَلَى سِتِّ صَلَوَاتٍ چھ نمازوں پر، چھ نمازوں پر بھئی۔ مگر یہ کہ بڑھ جائیں فوت شدہ نمازیں چھ نمازوں پر۔ چھ نمازوں پر بڑھ جائیں، کتنی ہو جائیں معلوم ہوا؟ سات ہو جائیں، کتنی ہو جائیں؟ سات، لیکن نہیں یہ مراد نہیں۔ صاحبِ قدوری کی یہ مراد نہیں۔ مراد یہ ہے کہ فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں، فوت شدہ نمازیں کتنی ہو جائیں؟ چھ ہو جائیں، تو اب یہ کثیر ہو گئیں، کثیر ہو گئیں، اور کثرتِ فوائت بھی کیا کرتی ہے؟ ترتیب کو ساقط کرتی ہے۔ تو چھ نمازیں جب فوت شدہ ہو جائیں تو ترتیب ساقط ہو جائے گی۔ لیکن صاحبِ قدوری جو عبارت لے کر آئے: إِلَّا أَنْ يَزِيدَ الْفَوَائِتُ عَلَى سِتِّ صَلَوَاتٍ، بظاہر اس سے لگتا یوں ہے کہ نمازیں کتنی ہو جائیں فوت شدہ؟ سات ہو جائیں، لیکن میں نے بتایا یہ صاحبِ قدوری کی مراد نہیں، آپ کہیں گے کیسے مراد نہیں بظاہر تو یہی لگ رہا ہے؟ بھئی اس لیے کیونکہ بالاجماع ساتویں نماز کی شرط نہیں ہے، صاحبِ قدوری بھی یہی کہنا چاہتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ کسی کے نزدیک بھی ساتویں کی شرط نہیں، جب ساتویں کی شرط نہیں ہے تو ان کی مراد بھی یقیناً یہ نہیں ہے بلکہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کتنی ہو جائیں فوت شدہ نمازیں؟ چھ ہو جائیں، چھ تک پہنچ جائیں بھئی۔
تو لیکن بظاہر عبارت سے یوں لگتا ہے کہ شاید نمازیں جب چھ پر بڑھ جائیں یعنی سات ہو جائیں، تو شارحین نے اس کی مختلف توجیہات کی ہیں بھئی۔ ایک آسان توجیہ بس آپ یاد رکھیں: إِلَّا أَنْ يَزِيدَ الْفَوَائِتُ ثَابِتَةً عَلَى سِتِّ صَلَوَاتٍ، یہ عَلَى سِتِّ صَلَوَاتٍ اس کو حال بنا لیں، کیا بنا لیں؟ حال۔ مگر یہ کہ فوت شدہ نمازیں بڑھ جائیں ثَابِتَةً عَلَى سِتِّ صَلَوَاتٍ اس حال میں کہ وہ ثابت ہو جائیں چھ نمازوں پر، یعنی کتنی ہو جائیں؟ چھ ہو جائیں۔ توجیہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مختلف توجیہات کی ہیں، علماء نے یہ آسان توجیہ آپ یاد رکھیں کہ چھ ہو جائیں۔ مگر یہ کہ فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں، لِأَنَّ الْفَوَائِتَ قَدْ كَثُرَتْ، اس لیے کیونکہ فوت شدہ نمازیں وہ کثیر ہو گئیں، فَتَسْقُطُ التَّرْتِيبُ فِيمَا بَيْنَ الْفَوَائِتِ بِنَفْسِهَا، تو ساقط ہو جائے گی ترتیب فوت شدہ نمازوں کے اپنے درمیان بھی، كَمَا يَسْقُطُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْوَقْتِيَّةِ، جیسے کہ ترتیب ساقط ہو جائے گی فوت شدہ نمازوں اور وقتی نماز کے درمیان۔ اب سب میں ترتیب ساقط ہوئی، اب کیا کرنا چاہے؟ فوت شدہ نماز ہے اور ایک ہے وقتی نماز، وقتی نماز کو ان پر مقدم کر سکتا ہے کیونکہ ترتیب کیا ہو گئی کثرت کی وجہ سے؟ ساقط۔ نیز فوت شدہ نمازوں کے اپنے اندر بھی ترتیب ساقط ہو گئی، وہاں بھی اب ظہر کو عصر سے پہلے پڑھنا ضروری نہیں، عصر کو مغرب سے پہلے پڑھنا ضروری نہیں، بلکہ جس طرح بھی ادا کرنا چاہے ادا کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے کہ فَتَسْقُطُ التَّرْتِيبُ فِيمَا بَيْنَ الْفَوَائِتِ بِنَفْسِهَا کہ فوت شدہ نمازوں کے اپنے بیچ میں بھی جو ہے ترتیب وہ ساقط ہو جائے گی، كَمَا يَسْقُطُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْوَقْتِيَّةِ جیسے کہ وقتی نماز اور فوت شدہ نمازوں کے درمیان ترتیب ساقط ہو جاتی ہے۔
وَحَدُّ الْكَثْرَةِ أَنْ تَصِيرَ الْفَوَائِتُ سِتًّا بِخُرُوجِ وَقْتِ الصَّلَاةِ السَّادِسَةِ، اور کثرت کی حد یہ ہے کہ فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں چھٹی نماز کے وقت کے نکل جانے سے۔ چھٹی نماز کا وقت نکلے گا تو فوت شدہ نمازیں کتنی ہو جائیں گی؟ چھ۔ مثلاً ایک آدمی ہے اس کی آج کی ظہر رہی اور عصر، پھر مغرب، عشاء اور فجر، کتنی ہو گئیں؟ پانچ ہو گئیں، ابھی بھی حدِ کثرت میں داخل نہیں۔ پھر ظہر کی بھی فوت ہو جائے، اور ظہر کی فوت کب ہوگی؟ جب ظہر کا وقت یعنی چھٹی نماز کا وقت نکل جائے گا تو یعنی عصر کا وقت داخل ہو جائے گا، اب فوت شدہ نمازیں کتنی ہو گئیں؟ چھ ہو گئیں تو حدِ کثرت میں داخل ہو گئیں بھئی۔
تو حدِ کثرت یہ ہے کہ فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں چھٹی نماز کے وقت کے نکلنے سے، وَهُوَ الْمُرَادُ بِالْمَذْكُورِ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ، اور یہی مراد ہے وہ جو مذکور ہے جامع صغیر کے اندر، وَهُوَ قَوْلُهُ اور وہ امام محمد رحمہ اللہ کا یہ قول ہے: وَإِنْ فَاتَتْهُ أَكْثَرُ مِنْ صَلَاةِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَجْزَأَتْهُ الَّتِي بَدَأَ بِهَا، اور اگر فوت ہو جائیں اس کی ایک دن اور رات سے زیادہ نمازیں، أَجْزَأَتْهُ تو اس شخص کے لیے کافی ہو جائے گی الَّتِي بَدَأَ بِهَا وہ نماز جس سے یہ ابتدا کرے۔ اگر اس کی نمازیں کیا ہو جائیں؟ ایک دن رات سے زیادہ نمازیں فوت ہو گئیں، ایک دن رات سے پانچ سے زیادہ نمازیں یعنی کم از کم چھ نمازیں جس کی فوت ہو جائیں، تو أَجْزَأَتْهُ الَّتِي بَدَأَ بِهَا تو کافی ہو جائے گی اس کے لیے وہ نماز جس سے وہ ابتدا کرے، یعنی پھر جس نماز سے بھی ابتدا کرے گا وہ اس کے لیے کافی ہو جائے گی بھئی، پھر یعنی ترتیب ضروری نہیں۔ لِأَنَّهُ إِذَا زَادَ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ تَصِيرُ سِتًّا، اس لیے کیونکہ جب وہ ایک دن اور رات پر زائد ہو گئیں تَصِيرُ سِتًّا تو کتنی ہو گئیں؟ چھ ہو گئیں، چھ ہو گئیں، چنانچہ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے بھی کی بھی یہی مراد ہے کہ فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں، کیونکہ متن میں کیا آیا؟ ایک دن رات سے زیادہ فوت ہو جائیں، معلوم ہوا چھ مراد۔
اب آگے دوسری روایت ذکر کر رہے ہیں: وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ سے یہ بھی ایک روایت آئی ہے، أَنَّهُ اعْتَبَرَ دُخُولَ وَقْتِ السَّادِسَةِ، کہ انہوں نے اعتبار کیا ہے چھٹی نماز کے وقت کے داخل ہونے کا۔ چھٹی نماز کا وقت کیا ہو جائے؟ داخل ہو جائے۔ پہلے قول کے مطابق آج ظہر کی رہی، عصر کی رہی، مغرب کی رہی، عشاء کی رہی، اگلے دن فجر کی رہی اور چھٹی نماز کا وقت یعنی ظہر کا وقت جب نکل جائے گا پھر کیا ہوگی؟ ترتیب ساقط۔ اور دوسری روایت کے مطابق چھٹی کا وقت داخل ہو یعنی ظہر کا وقت داخل ہوگا تو ترتیب کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔
وَالْأَوَّلُ هُوَ الصَّحِيحُ، اور پہلا قول جو ہے وہ صحیح ہے یعنی چھٹی نماز کا وقت جب نکل جائے، لِأَنَّ الْكَثْرَةَ بِالدُّخُولِ فِي حَدِّ التَّكْرَارِ، اس لیے کیونکہ کثرت جو ہے وہ تکرار کی حد میں داخل ہونے سے ہوگا، کوئی شے کثیر ہو گئی کب کہیں گے؟ تکرار آ جائے، اور تکرار کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کم از کم کتنی مرتبہ ہو؟ دو مرتبہ ہو تو اس کو کہتے ہیں تکرار، تو نمازیں کثیر ہو گئیں، قضا نمازیں، کب کہیں گے؟ جب ان میں کیا آ جائے؟ تکرار، اور جب چھٹی نماز قضا ہوگی تو دو نمازوں میں کیا آ گیا؟ تکرار، مثلاً ظہر کی رہی تھی اب عصر کی بھی مغرب، عشاء، فجر اور اب پھر ظہر کی دوبارہ، تو ظہر کی نمازوں میں کیا آ گیا؟ تکرار آ گیا، تو لہٰذا اب کثرت آ گئی۔ لِأَنَّ الْكَثْرَةَ بِالدُّخُولِ فِي حَدِّ التَّكْرَارِ، اس لیے کیونکہ کثرت جو ہے تکرار کی حد میں داخل ہونے سے ہوگا، وَذَلِكَ فِي الْأَوَّلِ، اور یہ کس صورت میں ہے؟ پہلے قول کی صورت میں ہے، اس میں تکرار آ رہا ہے، چھٹی نماز بھی قضا ہو گئی، دوسرے قول کے مطابق تو چھٹی کا وقت ہی داخل ہوا، ابھی چھٹی تو قضا نہیں ہوئی، تو تکرار بھی نہیں آتا بھئی۔
یہاں تک مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟
وَلَوِ اجْتَمَعَتِ الْفَوَائِتُ الْقَدِيمَةُ وَالْحَدِيثَةُ قِيلَ، جی یہاں سے یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں: ایک آدمی ہے اس کے ذمے پرانی فوت شدہ نمازیں بھی ہیں اور پھر کچھ نئی فوت شدہ نمازیں بھی قضا ہوئیں اس کی، لیکن یہ نئی فوت شدہ نمازیں یہ حدِ کثرت سے کم ہیں۔ مثلاً بھئی ایک آدمی تھا وہ نمازی تھا ہی نہیں، پھر تبلیغی جماعت کی برکت سے وہ دین کی طرف آ گیا، نمازیں پڑھنا شروع کر دیں، اب گذشتہ نمازیں تو اس کے ذمے بہت ساری باقی ہیں، اب اس نے باقاعدگی سے نمازیں پڑھنا شروع کر دیں، اب پھر اس کی ایک دو یا تین نمازیں کیا ہو گئیں؟ قضا ہو گئیں، لیکن اب یہ جو جدید قضا ہوئی ہیں یہ حدِ کثرت کے اندر ہیں، حدِ کثرت میں داخل نہیں ہیں۔ تو کیا اب بھی اس کے ذمے ترتیب ضروری ہے یا ترتیب نہیں؟ پچھلی قدیم قضا نمازوں کی طرف دیکھیں تو اس پر کے ذمے ترتیب نہیں، اور صرف جدید پر نظر کریں تو اس پر کیا لازم ہے؟ کیونکہ اب تو یہ ترتیب سے پڑھ رہا ہے تو اس کے ذمے ترتیب ہونی چاہیے، تو علماء دونوں طرف گئے ہیں بھئی۔ بعض مشائخ کیا فرماتے ہیں کہ پچھلی نمازیں بھی اس کے ذمے ہیں، اب یہ نئی بھی ہیں، لہٰذا یہ حدِ کثرت میں داخل ہیں، لہٰذا اس پر ترتیب ضروری نہیں، وقتی نماز پہلے پڑھ لے، وہ قضا کو میں بھی آپس میں قضا کرنے لگے تو کوئی ترتیب ضروری نہیں۔ اور بعض علماء اور فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ ترتیب اب بھی ضروری ہے اور یہ اس نے سستی اور کوتاہی کی ہے تو بطورِ ڈانٹ کے یوں سمجھا جائے گا پچھلی نمازیں اس کے ذمے ہیں ہی نہیں، صرف یہ والی دو تین یا چار نمازیں ہیں اور یہ تو حدِ کثرت میں داخل نہیں، اور جب حدِ کثرت میں داخل نہیں تو ترتیب بھی ساقط نہیں، جب ترتیب ساقط نہیں تو کیا کرنا پڑے گا ان کو؟ ترتیب سے ادا کرنا پڑے گا اور پھر ہی اس کی اگلی وقتی نماز ہوگی ورنہ وقتی نماز اس کی صحیح نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
وَلَوِ اجْتَمَعَتِ الْفَوَائِتُ الْقَدِيمَةُ وَالْحَدِيثَةُ، اور اگر جمع ہو جائیں قدیم فوت شدہ نمازیں وَالْحَدِيثَةُ اور جدید فوت شدہ نمازیں، حدیث معنی جدید بھئی جدید، اور جدید فوت شدہ نمازیں، قِيلَ يَجُوزُ الْوَقْتِيَّةُ مَعَ تَذَكُّرِ الْحَدِيثَةِ لِكَثْرَةِ الْفَوَائِتِ، تو کہا گیا ہے جائز ہے وقتی نماز باوجود یاد ہونے جدید فوت شدہ نمازوں کے، اس کو یاد ہے میری اب کتنی رہ گئی ہیں؟ تین یا چار نمازیں رہ گئیں، تو جدید فوت شدہ نمازیں اس کی یاد اس کو یاد ہیں پھر بھی اس کے لیے وقتی نماز پڑھنا اس سے پہلے جائز ہے، کیوں؟ لِكَثْرَةِ الْفَوَائِتِ، فوائت کے کثرت کی وجہ سے، کیونکہ قدیم نمازیں بھی اس کے ذمے تھیں تو فوائت اس اعتبار سے کثیر ہیں۔
وَقِيلَ لَا يَجُوزُ، اور کہا گیا جائز نہیں، پہلے کیا کرنا پڑے گا؟ پہلے یہ جدید قضا نمازیں پڑھنا پڑیں گی، پھر کیا کرے گا؟ پھر وقتی نماز پڑھے گا۔ تو کہا: وَقِيلَ لَا يَجُوزُ، اور کہا گیا جائز نہیں ہے، وَيُجْعَلُ الْمَاضِي كَأَنْ لَمْ يَكُنْ، اور ماضی کو یوں قرار دیا جائے گا گویا کہ وہ تھا ہی نہیں، یعنی ماضی کی گویا نمازیں اس کے ذمے تھیں ہی نہیں، یوں قرار دیا جائے گا، یوں سمجھا جائے گا۔ یعنی ترتیب کے ساقط ہونے کے اعتبار سے، یہ نہیں کہ اس کے ذمے اب نمازیں پچھلی نمازوں کی قضا ہی نہیں ہے، وہ قضا تو اس کو کرنی پڑے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ قضا، ہاں اس وقت پچھلی نمازوں کے پر نظر کریں، نئی کے ساتھ ملائیں تو حدِ کثرت کو پہنچ رہی ہیں، لیکن یہاں ان پچھلی کو شمار ہی نہیں کیا جائے گا، صرف کس پر نظر کی جائے گی؟ صرف اور جدید حدِ کثرت کو پہنچ رہی ہیں؟ نہیں، وہ جب حدِ کثرت کو نہیں پہنچ رہیں لہٰذا ترتیب بھی اس سے ساقط نہیں، لہٰذا کیا کرنا پڑے گا؟ پہلے قضا کرنا پڑیں گی یہ والی جدید اور پھر کیا کرنا پڑے گی؟ وقتی نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔
یہ معنی ہے: وَيُجْعَلُ الْمَاضِي كَأَنْ لَمْ يَكُنْ زَجْرًا لَهُ عَنِ التَّهَاوُنِ، اور ماضی کو اس طرح قرار دیا جائے گا گویا کہ وہ ہے ہی نہیں، زَجْرًا لَهُ عَنِ التَّهَاوُنِ، زجر کہتے ہیں ڈانٹ ڈپٹ کو بھئی، تہاون سستی اور لاپرواہی، بطورِ ڈانٹ کے عَنِ التَّهَاوُنِ اس سستی پر، اس سستی پر ڈانٹ کے طور پر ماضی کو یوں قرار دیا جائے گا گویا ہے ہی نہیں، یعنی پچھلی قدیم ہیں ہی نہیں، صرف یہ جدید ہیں اور یہ تو حدِ کثرت کو نہیں پہنچ رہیں، لہٰذا ترتیب ساقط نہیں، جب ترتیب ساقط نہیں تو پہلے کیا کرے؟ پہلے قضا کرنا پڑے گی پھر وقتی ہوگی ورنہ وقتی ہوگی ہی نہیں۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
[طالب علم]: اگر ایک آدمی کی نماز قضا ہو گئی، جی، بعد میں اس نے ترتیب سے ادا بھی کر لی، جی، تو اب وہ نماز قضا ہونے کی وجہ سے صاحبِ ترتیب رہے گا کہ نہیں؟
[استاذ]: نہیں نہیں، صاحبِ ترتیب صاحبِ ترتیب ہے، سمجھ میں آیا؟ کہ صاحبِ ترتیب ہی رہے گا جبھی تو اس پر ترتیب ہے، ترتیب ختم ہوگی صاحبِ ترتیب ختم ہوا، پھر پڑھ لے گا پھر صاحبِ ترتیب بن جائے گا، سمجھ میں آیا؟
[طالب علم]: جس کی نمازیں قضا ہو گئی ہوں اور وہ صاحبِ ترتیب بننا چاہتا ہو؟
[استاذ]: جی جی، سب کی قضا کرے سب کی قضا کرے، طریقہ یہ ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے اب یہ تو یاد نہیں کہ میری کون سی رہتی ہے کون سی نہیں، بس یہ نیت کیا کرے: اے اللہ! میرے ذمے مثلاً ظہر کی قضا کرنے لگا ہے، جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہیں ان میں سے جو پہلی ہے باقی اس کی میں قضا کرتا ہوں، اس طرح ادا کرتا رہے بھئی، کرتا رہے کرتا رہے، یہاں تک کہ جب یقین ہو جائے کہ اب ساری پوری ہو گئی ہوں گی، بس پھر یہ کیا بن گیا؟ صاحبِ ترتیب بن گیا، اب ترتیب ضروری ہے بھئی۔