Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-019

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”المَاءُ الْمُسْتَعْمَلُ لَا يُطَهِّرُ الأَحْدَاثَ خِلَافًا لِمَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى، هُمَا يَقُولَانِ: إِنَّ الطَّهُورَ مَا يُطَهِّرُ غَيْرَهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى كَالْقَطُوعِ، وَقَالَ زُفَرُ وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى: إِنْ كَانَ الْمُسْتَعْمِلُ مُتَوَضِّئًا فَهُوَ طَهُورٌ، وَإِنْ كَانَ مُحْدِثًا فَهُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ طَهُورٍ“۔ پانی سے متعلقہ مسائل چل رہے ہیں بھئی۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ ماء قلیل جو ہے اس میں نجاست گرے تو وہ نجس ہو جائے گا، اور ماء کثیر کے اندر نجاست گرے تو وہ نجس نہیں ہو گا الا یہ کہ اس پانی میں نجاست کا اثر دکھائی دے بھئی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ کوئی ایسی چیز پانی میں گر کر مری ہے جس میں بہنے والا خون نہیں ہے تو یہ پانی کو نجس نہیں کرے گا۔ اور اسی طرح وہ چیزیں جو پانی کے اندر رہتی ہیں، پانی کے اندر زندگی گزارتی ہیں، وہ بھی پانی کو فاسد نہیں کرتیں، وہ پانی میں مر گئیں تو وہ پانی کو فاسد نہیں کرتیں۔ آج آپ کو ماء مستعمل کے بارے میں بتلائیں گے بھئی، ماء مستعمل۔ ماء مستعمل یعنی استعمال شدہ پانی بھئی، استعمال شدہ۔ بھئی دیکھیے! ایک پانی وہ ہے جس سے کسی پاک چیز کو دھویا گیا، یاد رکھیے یہ پاک ہے اور اس سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے۔ مثلاً آپ نے پانی سے صاف پلیٹ کو دھو لیا یا صاف کپڑے کو دھو لیا، تو یہ دھونے کے بعد جو پانی بچا ہے یہ اب بھی پاک ہے بھئی، تو یہ بالاتفاق پاک ہے اس میں تو بحث ہی نہیں۔ اور وہ پانی جس کے ساتھ نجاست کو دھویا گیا وہ پانی بالاتفاق نجس ہے، اس کے بارے میں بحث ہی نہیں۔ یہاں صرف آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کوئی شخص کسی پانی کے ساتھ وضو کر لیتا ہے تو یہ جو وضو کرنے کے بعد استعمال شدہ پانی یہ کسی برتن میں اکٹھا ہو گیا تو کیا اس کے ساتھ دوبارہ طہارت حاصل کی جا سکتی ہے یا دوبارہ طہارت حاصل نہیں کی جا سکتی؟ یہ ماء مستعمل بھئی، اس کے بارے میں بتلائیں گے بھئی۔ ماء مستعمل کہتے کس کو ہیں؟ آگے تعریف بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے، آپ یہیں پر سمجھ لیجیے۔ بھئی یہ جو ماء مستعمل یہ بتلائیں گے آپ کو، اس سے مراد وہ پانی ہے جس کے ذریعے آپ نے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا ہو یا بطورِ قربت کے آپ نے اس کو استعمال کیا ہو۔ ماء مستعمل کسے کہتے ہیں؟ جس سے آپ نے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا ہو یا اسے قربت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہو۔ دونوں صورتوں میں یہ پانی کیا ہے؟ مستعمل ہے۔ بھئی آپ نے نجاستِ حکمیہ کو پانی سے دور کیا، مثلاً آپ بے وضو تھے، بے وضو تھے، اور آپ نے پانی کے ساتھ وضو کیا، پانی کے ساتھ۔ تو دیکھیے! اس پانی سے جب وضو کیا، آپ کا وضو ہوا یا نہیں ہوا؟ آپ کا وضو تو ہو گیا۔ تو یہ جس پانی سے آپ نے طہارت حاصل کی اور نجاستِ حکمیہ تھی بدن پر، اس کو آپ نے پانی کے ذریعے دور کر دیا، یہ ہے ماء مستعمل بھئی۔ یہ کیا ہے؟ ماء مستعمل۔ بھئی بدن پر کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو، کیونکہ اگر بدن پر نجاست لگی ہوئی تھی تو پھر تو وہ نجاست پانی کے اندر آ گئی بھئی، اور اس کا حکم پیچھے بیان ہو چکا کہ ماء قلیل کے اندر اگر نجاست گر جائے تو وہ نجس ہو جاتا ہے بھئی، اس کی تو بات ہی نہیں ہے۔ یہ کہ آپ کے بدن پر کوئی ظاہری نجاست نہیں لگی ہوئی تھی، صرف نجاستِ حکمیہ تھی، آپ بے وضو تھے صرف بھئی۔ اس پانی کو آپ نے استعمال کر لیا تو یہ کیا ہے؟ ماء مستعمل ہے۔ تو یہ جو پانی استعمال شدہ اکٹھا ہو گیا برتن کے اندر، یہ ماء مستعمل جس میں کوئی ظاہری نجاست نہیں ملی ہوئی، ظاہری نجاست نہیں ملی ہوئی بھئی۔ یا اسی طرح غسل کا پانی جمع ہوا برتن کے اندر بھئی۔ اب بدن پر کوئی نجاست نہ ہو بھئی، کیونکہ اگر نجاست تھی بدن پر پھر تو اس کا حکم پہلے بیان ہو چکا کہ نجاست سے پانی کیا ہو جاتا ہے؟ نجس۔ تو یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے جب بدن پر کوئی نجاست نہ ہو، صرف آپ نے اس سے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا ہو اس پانی کے ذریعے۔ تو دیکھا، اس صورت میں آپ نے دیکھا نجاستِ حکمیہ آپ کے بدن سے دور ہو چکی اس پانی کی وجہ سے، اور یہ پانی جو اکٹھا ہوا برتن میں یہ ماء مستعمل ہے۔ یا اسی طرح آپ نے وضو کیا لیکن آپ کا پہلے سے وضو تھا۔ مثلاً آپ نے عصر کے وقت وضو کیا تھا اور نماز پڑھی، مغرب کا وقت آیا تو ابھی آپ کا وضو ہے، لیکن آپ فضیلت حاصل کرنے کے لیے کیا کر لیتے ہیں؟ دوبارہ وضو کر لیتے ہیں۔ اب تو نجاستِ حکمیہ بھی بدن پر نہیں تھی اور آپ نے پانی سے وضو کیا، اور یہ پانی اب برتن میں یا کسی چیز میں اکٹھا ہو گیا، تو بھی یہ ماء مستعمل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے قربت حاصل کی گئی، یعنی ایک عبادت کو ادا کیا گیا بھئی۔ کس کو ادا کیا گیا؟ ایک عبادت کو ادا، کیونکہ آپ نے نیت کر لی بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے وضو کے اندر دو حیثیتیں ہیں: ایک عبادت ہونے کی حیثیت ہے، ایک ”مِفْتَاحٌ لِلصَّلَاةِ“ ہونے کی حیثیت ہے۔ اگر آپ نیت کریں گے تو پھر یہ مفتاح للصلاۃ بھی بنے گا اور آپ کو اس کا ثواب بھی ملے گا، تو یہ عبادت بن جائے گا۔ اور اگر آپ طہارت کی نیت نہیں کرتے، ویسے ہی پانی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے بغیر نیت کے ہی ویسے ہی ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے وضو والے سارے اعضا کو دھو لیا، تو اب بغیر نیت کے وضو ہوا، وضو تو آپ کا ہو گیا کیونکہ پانی تو کیا ہے؟ نجاست کو ختم کرنے والا ہے، تو نجاست چاہے حقیقی ہو چاہے حکمی ہو، پانی اس کو ختم کر دے گا، لیکن چونکہ آپ نے نیت نہیں کی آپ کو ثواب نہیں ملے گا۔ آپ کو ثواب نہیں ملے گا لیکن نجاستِ حکمیہ آپ کے بدن سے دور ہو گئی یا نہیں ہو گئی اس کی وجہ سے؟ دور ہو گئی، اب اس کے ذریعے آپ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ تو بعض اوقات وضو وہ عبادت بھی بنے گا اور مفتاح للصلاۃ بھی ہو گا جب آپ نے کیا کیا ہو؟ باقاعدہ نیت کے ساتھ وضو کیا ہو، تو عبادت بھی ہو گئی اور اس سے نماز بھی پڑھ سکتے ہیں تو یہ مفتاح للصلاۃ بھی ہوا، نماز ادا ہو سکتی ہے۔ اور اگر آپ نے نیت نہیں کی تو پھر طہارت تو حاصل ہو گئی، مفتاح للصلاۃ تو یہ بن گیا لیکن عبادت نہ بنا، آپ کو ثواب نہیں ملے گا۔ تو میں صورت بیان کر رہا ہوں کہ آپ کا وضو تھا اور مغرب کی نماز کا وقت آیا، آپ نے فضیلت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ نیت کے ساتھ دوبارہ وضو کر لیا۔ تو یہ وضو عبادت ہے یا نہیں بھئی؟ افضل کیا ہے ہر نماز کے لیے؟ نیا وضو کیا جائے، افضل یہ صورت ہے۔ اگرچہ یہ بھی جائز ہے کہ ایک ہی وضو سے جب تک وہ ہے آپ جتنی نمازیں چاہیں پڑھ سکتے ہیں، لیکن افضل یہ ہے کہ ہر نماز کے لیے علیحدہ وضو کیا جائے، تو آپ نے افضل صورت پر عمل کیا اور نیت کے ساتھ وضو کیا ہے، تو یہ وضو کیا بن گیا؟ عبادت تو بن گیا۔ عبادت بن گیا بھئی، تو اس سے اللہ کا قرب حاصل ہوا، تو یہ جو پانی مستعمل برتن میں جمع ہو گیا، اس کے ذریعے اگرچہ نجاستِ حکمیہ کو دور نہیں کیا گیا کیونکہ بدن نجاستِ حکمیہ تو تھی ہی نہیں، آپ بے وضو تو تھے ہی نہیں وضو تو آپ کا پہلے سے تھا، تو اس کے ذریعے حدث کو تو دور نہیں کیا گیا، لیکن کس لیے استعمال کیا گیا؟ بطورِ عبادت کے، قربت کے لیے، اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے، تو یہ بھی ماء مستعمل ہے۔ حاصل یہ کہ یہاں ماء مستعمل آیا، ماء مستعمل سے وہ پانی مراد ہے جس کے ذریعے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا گیا ہو یا اسے قربت کے طور پر استعمال کیا گیا ہو۔ چاہے دونوں چیزیں جمع ہو جائیں چاہے دونوں میں سے ایک پائی جائے۔ دونوں چیزیں جمع ہو جاتی ہیں بعض اوقات بھئی، آپ نے نیت بھی کی ہے اور آپ بے وضو بھی تھے، اب وضو کریں گے، ثواب... عبادت بھی بن گیا اور نجاستِ حکمیہ بھی آپ کے بدن سے زائل ہو گئی، دونوں چیزیں پائی گئیں۔ اور کبھی صرف کیا ہو گا؟ نجاستِ حکمیہ تو بدن سے دور نہیں لیکن قربت کے لیے... بھئی دو چیزیں ہیں نا، ماء مستعمل کسے کہیں گے؟ جس سے... دوبارہ توجہ سے بھئی! جس سے دو چیزوں میں سے ایک کم از کم ضرور حاصل ہو: یا تو اس کی وجہ سے بدن سے نجاستِ حکمیہ دور ہو جائے یعنی حدث دور ہو جائے، یا اس کے ذریعے... اسے کس لیے کیا گیا ہو؟ بطورِ قربت کے استعمال کیا گیا ہو۔ نجاست دور ہو، نجاستِ حکمیہ، یا قربت کے لیے اس کو استعمال کیا گیا ہو، دونوں کیا ہیں؟ دونوں صورتوں میں جو پانی جمع ہو گا وہ کیا ہے؟ وہ ماء مستعمل ہے۔ اب اس میں یہ بھی ممکن ہے: صرف نجاستِ حکمیہ بدن سے دور ہو اور ثواب نہ ملے، جب نیت نہ کی ہو۔ دوسری صورت: عبادت تو بنے لیکن نجاست بدن سے دور نہ ہو کیونکہ نجاستِ حکمیہ بدن پر ہے ہی نہیں، آپ دوبارہ وضو پر وضو کر رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت: دونوں اس کے اندر پائے جائیں، بدن سے نجاستِ حکمیہ بھی دور ہو اور عبادت کا ثواب بھی ملے، وہ کب؟ جب آپ بے وضو تھے اور آپ نے باقاعدہ نیت کے ساتھ کیا کیا ہے؟ وضو کو ادا کیا ہے۔ تو بہرحال ماء مستعمل وہ ہے جس کے ذریعے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا گیا ہو یا اس کو قربت کے لیے استعمال کیا گیا ہو، تو ان دونوں میں سے چاہے ایک چیز پائی جائے یا چاہے دونوں چیزیں پائی جائیں، یہ ماء مستعمل ہو گا بھئی۔ کیا ہو گا؟ ماء مستعمل۔ بھئی وضو پر وضو کا ذکر آیا، یاد رکھنا ایک مسئلہ۔ وضو پر وضو تب افضل ہے اور تب اس کا ثواب ہے جب پہلے وضو سے کم از کم ایک عبادت ادا کر لی گئی ہو۔ عبادت کوئی بھی عبادت، چاہے نفلی عبادت، دو نفل بھی پڑھ لیں آپ تو بس عبادت ہو گئی۔ اگر ایک بھی عبادت ادا نہیں کی گئی اور پھر آپ وضو پر وضو کرتے ہیں، مثلاً آپ نے ظہر کے وقت، نماز کے بعد کسی وقت وضو کر لیا، کیا کر لیا؟ وضو کر لیا، ابھی نماز، عصر کی نماز میں ایک گھنٹہ باقی تھا آپ نے ویسے ہی وضو کر لیا۔ اب جب نماز، عصر کی نماز کا وقت آیا، آپ دوبارہ وضو پر وضو کرتے ہیں فضیلت حاصل کرنے کے لیے، اگرچہ آپ نے پچھلے وضو سے کوئی عبادت ادا نہیں کی، یاد رکھیے اس صورت میں یہ اسراف ہے بھئی۔ صورت میں کیا ہے؟ اسراف ہے، یہ آپ پانی ضائع کر رہے ہیں، فضیلت آپ کو نہیں ملے گی بھئی۔ فضیلت کے لیے کیا ضروری؟ کہ کم از کم پہلے وضو سے ایک... جب یہاں پر جب ایک بھی عبادت نہیں ادا کی تو دوبارہ نیا وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے بھئی؟ اسی وضو سے کیا کر لو؟ نماز پڑھ لو۔ لیکن اگر آپ دوبارہ کرتے ہیں، دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں تو فضیلت نہیں حاصل ہوئی بلکہ آپ نے اسراف کیا، پانی کو ضائع کیا بھئی۔ پچھلا وضو تھا، ایک بھی عبادت نہیں ادا کی اور پھر دوبارہ وضو آپ کر رہے ہیں بھئی، تو یہ اسراف کر رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو ماء مستعمل ہے جو جس کے ذریعے قربت حاصل کی گئی ہے یا نجاستِ حکمیہ کو بدن سے دور کیا گیا ہے، اور خود اس پانی کے اندر کوئی نجاست نہیں، بدن پر کوئی نجاست نہیں تھی، ورنہ اس کا حکم پیچھے گزر چکا بھئی۔ یہ ماء مستعمل ہے، اس کی تفصیل اب بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”المَاءُ الْمُسْتَعْمَلُ لَا يُطَهِّرُ الأَحْدَاثَ“، کہ ماء مستعمل جو ہے، استعمال شدہ پانی جو ہے، ”لَا يُطَهِّرُ الأَحْدَاثَ“ یہ حدثوں کو پاک نہیں کرتا۔ یعنی اس مستعمل پانی کے ذریعے آپ دوبارہ وضو کرنا چاہتے ہیں کسی موقع پر یا اس کے ذریعے غسل کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیے اگر آپ کو حدث لاحق ہے تو وہ حدث پاک نہیں ہو گا۔ اس پانی سے آپ دوبارہ وضو... آپ نے وضو کر کے وضو کیا تھا، یہ پانی جمع ہو گیا۔ بعد میں وضو ٹوٹا، اب آپ اسی پانی سے دوبارہ وضو کرنا چاہتے ہیں؟ نہیں بھئی، یہ حدث کو پاک نہیں کرے گا۔ اس سے کر بھی لیں وضو ہو گئی نہیں، آپ اسی طرح بے وضو ہیں بھئی۔ آپ اس سے دوبارہ غسل کرنا چاہتے ہیں، غسل کا پانی جمع ہوا تھا، تو یاد رکھیے یہ ماء مستعمل ہے بھئی، اب اس سے دوبارہ آپ جنابت کی صورت آ گئی اور آپ غسل کرنا چاہتے ہیں، آپ نے بے شک اس سے غسل کر لیں لیکن ابھی بھی آپ اسی طرح جنبی کے جنبی ہیں بھئی، آپ کو پاکی حاصل نہیں ہوئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے ”المَاءُ الْمُسْتَعْمَلُ لَا يُطَهِّرُ الأَحْدَاثَ“ کہ ماء مستعمل جو ہے وہ حدثوں کو پاک نہیں کرتا۔ ”خِلَافًا لِمَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللهُ“، بخلاف امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کے، وہ فرماتے ہیں ماء مستعمل سے بھی دوبارہ استعمال کرے تو آدمی پاک ہو جائے گا۔ دلیل ان کی یہ ہے کہ قرآن میں پانی کو اللہ نے طہور فرمایا ہے: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾، طہور فرمایا ہے، اور طہور فَعُول وزن ہے مبالغے کا صیغہ، تو طہور کا معنی ہو گا: بار بار پاک کرنے والا۔ جیسے قَطُوع، قَطُوع قاف، طا، یہ متن میں ہی آ رہا ہے ہدایہ کے، قَطُوع، قَطُوع کے معنی ہیں بار بار کاٹنے والا، تو جیسے قَطُوع کا معنی بار بار کاٹنے والا تھا، اسی طرح طَهُور بھی اسی وزن پر ہے تو اس کا معنی ہو گا بار بار صاف کرنے والا، بار بار پاک کرنے والا۔ تو ایک دفعہ وضو کر چکے ہیں، اب یہ جمع ہو گیا برتن کے اندر، آپ دوبارہ وضو کرنا چاہتے ہیں آپ اس سے اب بے وضو ہونے کے بعد، آپ دوبارہ وضو کر لیں پھر آپ کو پاک کر دے گا، پھر تیسری دفعہ پھر وضو کرنا چاہتے ہیں پھر آپ کو پاک کر دے گا، کیونکہ یہ طہور ہے پانی بھئی، یہ بار بار پاک کرنے والا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”هُمَا يَقُولَانِ: إِنَّ الطَّهُورَ مَا يُطَهِّرُ غَيْرَهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى“، وہ فرماتے ہیں کہ طہور جو ہے وہ چیز ہے وہ پانی ہے جو پاک کرے غیرہ اپنے غیر کو اپنے علاوہ کو ”مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى“ ایک مرتبہ کے بعد پھر بھئی، ایک مرتبہ کے بعد یعنی بار... ایک مرتبہ کے بعد دوبارہ پاک کرے یعنی بار بار پاک کرے، ”كَالْقَطُوعِ“ جیسے قَطُوع ہے جس کے معنی بار بار کاٹنے والا۔ یہ ان کی دلیل ہے۔ آگے ہمارے دلائل بھی ذکر ہوں گے اور لیکن بہرحال یہ ان کی دلیل کا یہ جواب علماء دیتے ہیں کہ آپ کا یہ کہنا کہ طہور قَطُوع کی طرح ہے، طہور اور قَطُوع کا معنی ہے بار بار کاٹنے والا تو طہور کا معنی بھی کیا ہوا؟ بار بار پاک کرنے والا۔ تو ہم کہتے ہیں یہ تو آپ لغت میں قیاس کر رہے ہیں، کس میں؟ لغت، زبان کے اندر قیاس کر رہے ہیں کہ ایک لفظ کا یہ معنی ہے لہٰذا اس جیسا جو لفظ آیا اس کا بھی یہی معنی ہونا چاہیے، حالانکہ لغت میں قیاس نہیں صحیح، لغت کے اندر سماع پر مبنی ہوتی ہے کہ سنا ہو آپ نے اس معنی میں لوگوں نے کیا کیا ہو؟ اس لفظ کو استعمال کیا ہو، پھر ہی درست ہو گا کہ اس کو بار بار پاک کرنے والا قرار دیا جائے، اور ائمہ لغت میں سے کسی نے طہور کا یہ معنی بیان نہیں کیا کہ وہ کیا ہو؟ بار بار پاک کرنے والا ہو، ائمہ لغت سے یہ معنی منقول نہیں بھئی۔ یہ تو تھا امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک بھئی، وہ فرماتے ہیں ماء مستعمل سے دوبارہ سہ بارہ وضو کرنا، طہارت حاصل کرنا جائز ہے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ“ اور امام زفر فرماتے ہیں: ”وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللهُ“ اور یہی ایک قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، ”إِنْ كَانَ الْمُسْتَعْمِلُ مُتَوَضِّئًا“ اگر استعمال کرنے والا باوضو تھا، بھئی امام زفر فرماتے ہیں ان کا مذہب سمجھ لیجیے، امام زفر فرماتے ہیں یہ جو ماء مستعمل ہے، اس میں دیکھو کہ اس کو کس نے استعمال کیا، کس نے اس سے وضو کیا؟ اگر جس نے وضو کیا اس سے وہ پہلے سے ہی باوضو تھا، صرف فضیلت کے لیے اس نے اس پانی کو اس سے دوبارہ وضو کیا تھا، تو اس صورت کے اندر یہ پانی جو ہے یہ طاہر ہے بھئی اور مطہر بھی ہے، طاہر بھی ہے اور... یعنی طہور بھی ہے، طاہر بھی ہے اور... بھئی وہ شخص جب پہلے سے ہی باوضو تھا تو پانی کے اندر نہ نجاستِ حقیقیہ آئی، نہ نجاستِ حکمیہ اس سے دور ہوئی ہے، لہٰذا یہ ابھی بھی طہور ہی ہے، اسی طرح پاک ہے پاک کرنے والا ہے جیسے پہلے پاک کرنے والا تھا، اور اگر وضو کرنے والا جس نے اس سے پہلی دفعہ وضو کیا تھا وہ بے وضو تھا، کیا تھا؟ بے وضو، اور اس کے ذریعے اس نے وضو اور پاکی حاصل کی ہے تو اس صورت میں اب یہ طاہر تو ہے یہ استعمال شدہ پانی لیکن طہور نہیں، خود تو پاک ہے لیکن دوسرے کو پاک نہیں کرے گا، اب اس سے دوبارہ کوئی طہارت کرنا چاہے تو وہ درست نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا استعمال کرنے والا اگر پہلے سے باوضو تھا تو یہ ماء کیا ہے؟ پہلے بھی پاک کرنے والا تھا اب بھی کیا ہو گا؟ پاک کرنے والا، اور اگر پہلے جو اس نے پہلی دفعہ استعمال کیا وہ بے وضو تھا، اس کے ذریعے اس نے اپنے بدن سے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا ہے، تو اس صورت میں اب یہ پانی اس کا درجہ گر گیا، اب یہ طاہر تو ہے لیکن طہور نہیں، پاک تو ہے لیکن دوسرے کو پاک نہیں کرے گا، آپ اس سے وضو اب کر بھی لیں آپ کا وضو نہیں ہو گا اس سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى: إِنْ كَانَ الْمُسْتَعْمِلُ“، مستعمل، استعمال کرنے والا، ”إِنْ كَانَ الْمُسْتَعْمِلُ مُتَوَضِّئًا“، اگر وہ پانی استعمال کرنے والا باوضو تھا، ”فَهُوَ طَهُورٌ“، تو یہ پانی کیا ہے؟ یہ ماء مستعمل طہور ہے، اب بھی پاک کرنے والا ہے، ”وَإِنْ كَانَ مُحْدِثًا“، اور اگر وہ مستعمل کیا تھا استعمال کرنے والا؟ محدث تھا، بے وضو تھا، ”فَهُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ طَهُورٍ“، طَاهِرٌ موصوف، غَيْرُ طَهُورٍ اس کی صفت، جی، تو موصوف سے پہلے کیا لائیں گے؟ ایسا، ”فَهُوَ طَاهِرٌ“، تو وہ ایسا پاک ہے ”غَيْرُ طَهُورٍ“ جو پاک کرنے والا نہیں ہے، یعنی خود تو پاک ہے لیکن پاک کرنے والا نہیں ہے، ”لِأَنَّ الْعُضْوَ طَاهِرٌ حَقِيقَةً“ بھئی، یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ اگر بے وضو تھا اور اس نے پانی کو استعمال کیا تھا تو آپ نے پانی کو کیا قرار دیا؟ طاہر غیر طہور، کیا قرار دیا؟ غیر طہور، یا یوں کہو آسان لفظوں میں: طاہر غیر مطہر قرار دیا، طاہر غیر مطہر، اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعُضْوَ طَاهِرٌ“ کیونکہ عضو جو تھا وہ پاک تھا ”حَقِيقَةً“ بھئی۔ بھئی جس نے اس سے وضو کیا تھا وہ تھا تو بے وضو، بے وضو تھا، لیکن کیا بدن پر کوئی حقیقی نجاست لگی تھی؟ حقیقی نجاست نہیں لگی تھی تو بایں اعتبار پانی کو پاک کہنا چاہیے۔ اور لیکن چونکہ اس کے ذریعے اس نے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا ہے، یعنی ایک ایسی چیز کو جس کو شریعت نے کیا قرار دیا ہے؟ نجاست قرار دیا، جس پر شریعت نے جس اعضاء پر نجاست کا حکم لگایا تھا اس کو نجاستِ حکمیہ کو اس کے ذریعے دور کیا گیا ہے تو بایں اعتبار اس کو نجس کہنا چاہیے، کیا کہنا چاہیے؟ اس کو ناپاک کہنا، بدن پر کوئی نجاست نہیں اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پانی کو پاک کہنا چاہیے، یہ استعمال شدہ پانی جو ہے، اور بایں لحاظ دیکھا جائے کہ اس کے ذریعے اس نے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا ہے تو اس پانی کو کیا کہنا چاہیے؟ ناپاک کہنا چاہیے۔ تو ہم نے کہتے ہیں دونوں مشابہتوں پر عمل کیا اور اس کو طاہر غیر مطہر قرار دیا۔ طاہر قرار دیا اس اعتبار سے کہ اس میں کوئی نجاستِ حقیقیہ تو نہیں ہے بھئی لہٰذا کیا ہے؟ طاہر، اور غیر مطہر قرار دیا کیونکہ اس کے اندر اس کے ذریعے کیا دور کر چکا ہے وہ؟ نجاستِ حکمیہ اس کے ذریعے دور کر چکا ہے، تو ہم نے دونوں مشابہتوں پر عمل کیا۔ دلیل سمجھ میں آئی ان کی بھئی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعُضْوَ طَاهِرٌ حَقِيقَةً“، اس لیے کیونکہ عضو جو تھا وہ تو پاک تھا باعتبار حقیقت کے، یعنی اس کا ہر عضو کیا تھا؟ پاک تھا حقیقت کے اعتبار سے، کوئی نجاست ان پر نہیں لگی تھی، ”وَبِاعْتِبَارِهِ يَكُونُ الْمَاءُ طَاهِرًا“، اور اس اعتبار سے تو پانی پاک ہو گا، ”لَكِنَّهُ نَجِسٌ حُكْمًا“، لیکن عضو حکم کے اعتبار سے نجس ناپاک تھا، شریعت نے کیا کہا تھا یہاں کیا آ چکی ہے؟ نجاست آ چکی، تو وہ باعتبار حکم کے ہے یعنی نجاستِ حکمیہ ہے، ”وَبِاعْتِبَارِهِ يَكُونُ الْمَاءُ نَجِسًا“، اور اس کے اعتبار سے نجاستِ حکمیہ کے اعتبار سے پانی کیا ہو چکا ہے؟ پانی نجس ہو گا، ”فَقُلْنَا“، پس ہم قائل ہوئے، ہم نے کہا، ”بِانْتِفَاءِ الطَّهُورِيَّةِ“، کہ طہوریت کیا ہو گئی؟ منتفی ہو گئی، تو ہم قائل ہوئے انتفائے طہوریت کے کہ طہوریت منتفی ہو چکی اب مطہر نہیں ہے یہ، ”وَبَقَاءِ الطَّهَارَةِ“، اور اس بات کے قائل ہوئے کہ طہارت ابھی بھی... پاک تو ہے لیکن پاک کرنے والا نہیں ہے، ”عَمَلًا بِالشَّبَهَيْنِ“، عمل کرتے ہوئے دونوں مشابہتوں پر۔ شَبَہَيْنِ پڑھنا اس لفظ کو بھئی، یاد رکھیے یہ لفظ عام استعمال ہوتا ہے اور اس میں شِبْہٌ بھی لفظ آتا ہے اسی صورت میں اور شَبَہٌ بھی آتا ہے، شِبْہٌ بھی اور شَبَہٌ، شِبْہٌ کا معنی ہوتا ہے مثل، مِثْلٌ، اور شَبَہٌ یہ مصدر ہے اس کے معنی ہوتے ہیں مشابہت۔ شِبْہٌ آئے تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مِثْلٌ، مِثْلٌ بھئی، اور شَبَہٌ کا کیا معنی ہے؟ مشابہت۔ تو آپ موقع و محل دیکھ لیں، جہاں مثل والا معنی بنتا ہو وہاں شِبْہٌ پڑھیں اور جہاں مشابہت والا معنی بنتا ہو صحیح وہاں کیا پڑھیں گے؟ شَبَہٌ۔ تو یہاں بھی شَبَہٌ مناسب بنتا ہے بھئی، ”عَمَلًا بِالشَّبَهَيْنِ“، عمل کرتے ہوئے دونوں مشابہتوں پر۔ یہ امام زفر کا مذہب گزرا، آگے امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب آ رہا ہے۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ: هُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ طَهُورٍ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی ایک روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی کہ ”هُوَ طَاهِرٌ غَيْرُ طَهُورٍ“، کہ وہ پانی وہ ماء مستعمل کیا ہے؟ طاہر ہے غیر طہور ہے یعنی غیر مطہر، پاک تو ہے لیکن پاک کرنے والا نہیں، مطہر نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ مُلَاقَاةَ الطَّاهِرِ الطَّاهِرَ لَا تُوجِبُ التَّنَجُّسَ“، اس لیے کیونکہ مل جانا پاک چیز کا پاک چیز کے ساتھ ”لَا تُوجِبُ التَّنَجُّسَ“ یہ ثابت نہیں کرتا نجس ہونے کو، یہ نجس ہونے کو ثابت... بھئی عضو بھی پاک تھا، وضو کرنے لگا تو پانی بھی کیا تھا؟ پاک، اعضاء پر بھی کوئی حقیقی نجاست نہیں لگی ہوئی، تو پاک چیز پاک چیز سے ملی ہے تو یہ ماء مستعمل کیا ہے؟ پاک ہے، تو یہ نجس ہونے کو ثابت نہیں کرتا، ”إِلَّا أَنَّهُ أُقِيمَتْ بِهِ قُرْبَةٌ“، مگر یہ کہ اس کے ذریعے قربت قائم کی گئی ہے، قربت ادا کی گئی ہے یعنی عبادت ادا کی گئی ہے، ”فَتَغَيَّرَتْ بِهِ صِفَتُهُ“، تو اس کی وجہ سے اس کی صفت بدل گئی، اس پانی کی صفت... ”إِلَّا أَنَّهُ أُقِيمَتْ بِهِ قُرْبَةٌ“، مگر یہ کہ اس کے ذریعے قربت قائم کی گئی ہے، عبادت ادا کی گئی ہے نیت کے ساتھ، اور اس کی وجہ سے پانی کا مرتبہ کم ہو گیا، پانی کا مرتبہ کم ہوا گر گیا تو اب طاہر تو ہے لیکن مطہر نہیں، پہلے وضو سے پہلے طاہر بھی تھا مطہر بھی، اب درجہ گر گیا استعمال کے بعد، اب طاہر ہے لیکن مطہر نہیں ہے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے ”كَمَالِ الصَّدَقَةِ“، جیسے کہ صدقے کا مال ہے۔ یہ کاف الگ ہے اور مال الصدقۃ الگ، جیسے کہ مالِ صدقہ ہے بھئی، دیکھ رہے ہیں بھئی متن ہدایہ میں، ”كَمَالِ الصَّدَقَةِ“، کاف الگ ہے اور مال الصدقۃ الگ، جیسے کہ صدقے کا مال ہے۔ بھئی مال تو سارا پاک ہے لیکن جب آپ اس میں سے کچھ مال کو الگ کر لیتے ہیں، صدقے یعنی زکوٰۃ کی نیت سے اس سے علیحدہ کر لیا، آپ جانتے ہیں یہ زکوٰۃ جو ہے یہ مال کا میل کچیل ہے بھئی، اس کے ذریعے مال کیا ہو جاتا ہے؟ پاک ہو جاتا ہے، تو یہ مال کا میل کچیل ہے اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو یہ زکوٰۃ دینا علماء نے ناجائز فرمایا ہے اس کو کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ میل کچیل ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو یہ میل کچیل والا مال دینا یہ درست نہیں ہے، اگر آپ ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ویسے مال دے دیجیے لیکن یہ زکوٰۃ دینا درست نہیں ہے بھئی۔ تو جیسے دیکھیے وہ مالِ صدقہ اس کے ذریعے کیا کیا گیا؟ قربت ادا کی گئی، عبادت ادا کی گئی، اس کی وجہ سے اس کی صفت گر گئی، صفت کم ہو گئی، اسی طرح یہاں بھی اس ماء مستعمل کے ذریعے کیا کیا گیا ہے؟ عبادت ادا کی گئی ہے تو اس کا درجہ گر گیا، کم ہو گیا بھئی۔ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنَّهُ أُقِيمَتْ بِهِ قُرْبَةٌ فَتَغَيَّرَتْ بِهِ صِفَتُهُ كَمَالِ الصَّدَقَةِ“، مگر یہ کہ اس کے ذریعے قربت قائم کی گئی ہے یعنی عبادت ادا کی گئی ہے تو بدل گئی اس کی وجہ سے اس پانی کی صفت جیسے کہ صدقے کا مال ہے۔ یہ قول کس کا آیا؟ امام محمد رحمہ اللہ کا، وہ کیا فرماتے ہیں؟ طاہر ہے ماء مستعمل، مطہر نہیں ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى: هُوَ نَجِسٌ“، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ”هُوَ نَجِسٌ“، یہ پانی یہ ماء مستعمل یہ نجس ہے ناپاک ہے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ“، ہرگز تم میں سے کوئی پیشاب نہ کرے کھڑے پانی میں، ”وَلَا يَغْتَسِلَنَّ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ“، اور نہ ہرگز اس میں غسل کرے جنابت سے بھئی۔ تو اس حدیث میں دیکھیے بھئی، جیسے کھڑے پانی کے اندر پیشاب کرنے سے منع کیا گیا کیونکہ جب پیشاب کرے گا تو نجاستِ حقیقیہ کس کے ساتھ مل جائے گی؟ پانی کے ساتھ اور اس سے وہ پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا۔ اسی طرح غسلِ جنابت کرنے سے بھی منع کیا گیا، اب غسلِ جنابت کوئی کرتا ہے اور مثلاً اس کے بدن پر کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی، نجاست کو اس نے دھو لیا، صاف کر لیا، لیکن غسل کون سا کر رہا ہے؟ غسلِ جنابت، حالت تو ابھی بھی جنابت والی ہے یعنی نجاستِ حکمیہ ہے، اب وہ غسل کرتا ہے کس کے اندر؟ کھڑے پانی میں، حدیث میں اس سے منع کیا گیا کہ کھڑے پانی میں غسلِ جنابت نہ... اب بدن پر تو کوئی نجاست نہیں، لیکن پھر بھی منع کیا جا رہا ہے حدیث کے اندر، معلوم ہوا نجاستِ حکمیہ سے بھی پانی نجس ہو جاتا ہے۔ نجاستِ حکمیہ سے بھی پانی کیا ہو جاتا ہے؟ نجس ہو جاتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَلِأَنَّهُ“، اور دوسری وجہ بھئی، یہ تو تھی حدیث، نقلی دلیل، عقلی دلیل کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَاءٌ أُزِيلَتْ بِهِ النَّجَاسَةُ“، بھئی کس کا قول چل رہا ہے؟ شیخین رحمہما اللہ، وہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ پانی ماء مستعمل کیا ہے؟ نجس ہے ناپاک ہے۔ ایک تو یہ حدیث میں آ گیا، دوسرا اس لیے: ”وَلِأَنَّهُ مَاءٌ أُزِيلَتْ بِهِ النَّجَاسَةُ“، اس لیے کیونکہ یہ ایسا پانی ہے یہ ماء مستعمل جس کے ذریعے نجاست کو زائل کیا گیا ہے، نجاست کو دور کیا گیا ہے۔ کون سی نجاست؟ النَّجَاسَةُ الْحُكْمِيَّةُ، نجاستِ حکمیہ کو، ”فَيُعْتَبَرُ بِمَاءٍ أُزِيلَتْ بِهِ النَّجَاسَةُ الْحَقِيقِيَّةُ“، لہٰذا اس کو قیاس کیا جائے گا اس پانی کے ساتھ جس کے ذریعے نجاستِ حقیقیہ کو دور کیا گیا ہو، اور جس پانی سے نجاستِ حقیقیہ کو دور کیا جاتا ہے وہ تو یقیناً کیا ہوتا ہے؟ نجس ہوتا ہے، تو جس کے ذریعے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا گیا وہ بھی کیا ہو گا؟ نجس ہو گا۔ اچھا، پھر کون سا نجس ہے بھئی؟ ایک آپ پڑھ چکے، ایک نجاستِ غلیظہ ہے ایک نجاستِ خفیفہ ہے، ایک وہ نجاست جس میں سختی ہے جس کا حکم سخت ہے، اور ایک ہلکے درجے کی نجاست ہے، نجاستِ خفیفہ۔ نجاستِ غلیظہ میں آپ نے پڑھا ہے کہ یہ اگر ایک درہم کی مقدار معاف ہے اور اس سے زیادہ ہو تو معاف نہیں، اس کے ساتھ نماز وغیرہ نہیں ہو گی، اور نجاستِ خفیفہ میں آپ پڑھ چکے کہ کپڑے کے چوتھائی حصے تک معاف ہے اس سے زیادہ معاف نہیں ہے۔ مثلاً آستین پر لگی ہے تو آستین کے چوتھے حصے تک، چار حصے شمار کریں ایک حصے کے بقدر اس سے برابر یا اس سے کم کم ہے نجاستِ خفیفہ تو معاف ہے نماز وغیرہ ٹھیک ہو جائے گی، اس سے زیادہ ہے تو یہ معاف نہیں۔ تو اب یہ تو شیخین کا قول آ گیا کہ یہ نجس ہے بھئی، یہ ماء مستعمل کیا ہے؟ نجس ہے۔ یہ اب کون سا نجس ہے؟ نجس ہے بہ نجاستِ غلیظہ یا نجس ہے بہ نجاستِ خفیفہ؟ تو دونوں روایتیں ہیں اس بارے میں، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ ”ثُمَّ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: نَجَاسَةٌ غَلِيظَةٌ“، پھر حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی جو روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے: ”نَجَاسَةٌ غَلِيظَةٌ“، یہ نجس ہے بہ نجاستِ غلیظہ، یعنی سخت نجاست والا حکم ہے، ”اعْتِبَارًا بِالْمُسْتَعْمَلِ فِي الْحَقِيقِيَّةِ“، قیاس کرتے ہوئے وہ پانی اس پانی پر جس کو استعمال کیا گیا ہے فی الحقیقۃ کس کے اندر؟ نجاستِ... نجاستِ حقیقیہ کو جس پانی سے دور کیا جائے وہ پانی کیا ہے؟ نجس ہے نجاستِ غلیظہ کے ساتھ بھئی، تو جیسے وہ نجس ہے نجاستِ غلیظہ کے ساتھ، اسی طرح اس پانی سے نجاستِ حکمیہ کو دور کیا گیا ہے، لہٰذا یہ پانی بھی کیا ہو گا؟ نجس ہو گا بہ نجاستِ غلیظہ بھئی۔ یہ معنی ہے ”اعْتِبَارًا بِالْمُسْتَعْمَلِ فِي الْحَقِيقِيَّةِ“، قیاس کرتے ہوئے اس پانی پر جس کو استعمال کیا گیا ہو نجاستِ حقیقیہ میں۔ تو ایک قول کیا آیا حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کا کہ یہ پانی یہ نجاستِ غلیظہ ہے بھئی، نجاستِ غلیظہ۔ اور دوسرا قول: ”وَفِي رِوَايَةِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ قَوْلُهُ: نَجَاسَةٌ خَفِيفَةٌ“، اور ایک روایت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی عنہ جو کن سے ہے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، ”وَهُوَ قَوْلُهُ“، اور یہی قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اور یہی قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اپنا بھی ہے، یعنی یہ شیخین کا قول ہے کہ ”نَجَاسَةٌ خَفِيفَةٌ“، یہ کیا ہے یہ پانی؟ نجس ہے بہ نجاستِ... یہ نجاستِ خفیفہ ہے۔ ”لِمَكَانِ الِاخْتِلَافِ“، مکان یاد رکھیے یہ مصدر ہے بمعنی وجود کے، لوجود الاختلاف، کس وجہ سے؟ اختلاف کے پائے جانے کی وجہ سے۔ بھئی تفصیل ذکر ہو گئی، علماء کا اختلاف، فقہاء کا اختلاف آیا یا نہیں ماء مستعمل کے اندر؟ اختلاف آیا، بعض اس کو طاہر قرار دیتے ہیں، بعض اس کو کیا قرار دیتے ہیں؟ نجس قرار دیتے ہیں، تو لہٰذا اب حکم میں معلوم ہوا اتنی سختی نہ رہی بھئی۔ حدیث میں بھی آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں: ”اخْتِلَافُ عُلَمَاءِ أُمَّتِي رَحْمَةٌ“، میری امت کے علماء کا اختلاف بھی رحمت ہے بھئی، تو دیکھیے اب حکم میں وہ سختی نہ رہی لہٰذا اس کو نجاستِ غلیظہ نہیں قرار دیں گے بلکہ کیا قرار دیں گے؟ نجاستِ خفیفہ، کیونکہ یہ اختلاف اس کے اندر اختلاف آ گیا علماء اور فقہاء کا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایک امام محمد رحمہ اللہ کا قول آیا تھا اور وہی ایک روایت تھی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کہ یہ طاہر ہے لیکن مطہر نہیں، دوسرا قول آیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کہ یہ نجاستِ غلیظہ ہے ماء مستعمل، اور تیسرا قول آیا جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی قول ہے کہ یہ نجاستِ خفیفہ ہے بھئی، نجاستِ خفیفہ ہے۔ یہاں آپ کو ایک نہایت قیمتی بات بتلاؤں بھئی، نہایت قیمتی بات بھئی۔ تو گویا بھئی ماء مستعمل کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے تین روایتیں آ گئیں: ایک روایت کے مطابق وہ طاہر ہے، دوسری روایت کے مطابق وہ نجاستِ غلیظہ ہے، اور تیسری روایت کے مطابق وہ نجاستِ خفیفہ ہے بھئی۔ والدِ ماجد شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ رحمہ اللہ درسِ ترمذی کے اندر اس سے متعلق ایک عجیب نکتہ بیان فرماتے تھے بھئی، عجیب نکتہ۔ ترمذی میں شروع میں ابتداء کے اندر حدیث آتی ہے اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وضو سے گناہ بھی خارج ہوتے ہیں بھئی، وضو سے کیا ہوتے ہیں انسان کے؟ گناہ بھی خارج ہوتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ نیکیاں جو ہیں وہ کفارہ ہیں گناہوں کے لیے بھئی، لیکن یاد رکھیے حقوقِ مالیہ اور حقوق العباد اس سے معاف نہیں ہوں گے، حقوقِ مالیہ وغیرہ کے اندر کیا ضروری ہے؟ ادا ضروری ہے بھئی، ہاں اس کے علاوہ جو گناہ ہیں وہ وضو کے ساتھ وہ معاف ہوتے ہیں کیونکہ نیکیاں گناہوں کے لیے کفارہ ہیں۔ اب وضو کے پانی سے کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں؟ اس میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں، بعض علماء فرماتے ہیں صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے، بعض فرماتے ہیں کہ صغیرہ بھی معاف ہو جاتے ہیں اور کبیرہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔ والد صاحب رحمہ اللہ پھر یہاں پر اس مقام پر ترمذی کے اندر بھئی جمہور کا مذہب بیان فرماتے تھے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وضو سے صغائر بھی معاف ہو جاتے ہیں کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾، نیکیاں جو ہیں وہ گناہوں کو لے جاتی ہیں ان کو ختم کر دیتی ہیں، اور تو فرماتے تھے یہاں سیئات سے کیا مراد ہیں؟ صغائر، کیا مراد ہیں؟ جمہور کے مذہب کی بات ہو رہی ہے، جمہور کیا فرماتے ہیں؟ وضو کے پانی سے کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں وضو کرنے سے؟ صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ البتہ کبیرہ جو ہے وہ معاف نہیں ہوتے، ان کے لیے توبہ کی ضرورت ہے الگ سے توبہ کرنا پڑے گی، کبیرہ مثلاً چوری، ڈاکہ وغیرہ اور جو بڑے گناہ ہیں بھئی۔ یہ جمہور کا مذہب ہے، کیا مذہب ہوا جمہور کا؟ صغیرہ مطلقاً معاف ہو جاتے ہیں اور کبیرہ معاف نہیں ہوتے بھئی۔ آخر میں پھر والد صاحب رحمہ اللہ اور علماء کے بھی اقوال نقل فرماتے، علمائے دیوبند کے اقوال بھی نقل فرماتے، ان کے مذاہب بھی، آخر میں اپنی توجیہ بیان فرماتے تھے، انتہائی لطیف و عجیب توجیہ جس کی وجہ سے احادیث کے اندر تطبیق آ جاتی ہے اور اسی طرح بہت سی احادیث اور بزرگوں کے واقعات اور کرامات کے اندر تطبیق آ جاتی ہے، عجیب توجیہ فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ بڑی دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ بات ڈالی اور بعض احادیث سے میں نے اس کو مستنبط کیا اور اس کی وجہ سے احادیث میں تعارض دفع ہو جاتا ہے، کئی مشکل احادیث حل ہو جاتی ہیں، اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس توجیہ سے جمہور کے مذہب میں اور اہل کشف کے واقعات کے درمیان تطبیق آ جاتی ہے، تطبیق آ جاتی ہے۔ چنانچہ فرماتے کہ یاد رکھیے ہر گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ، اس کی دو حیثیتیں ہیں: ایک نفسِ گناہ اور ایک اس گناہ کا برا اثر بھئی۔ تو وہ فرماتے کہ ہر گناہ خصوصاً گناہِ کبیرہ میں دو حیثیتیں ہیں بھئی: ایک ہے نفسِ کبیرہ یعنی ذاتِ کبیرہ، اور ایک ہے کبیرہ گناہ کا برا اثر بھئی۔ کبیرہ گناہ کا برا اثر جو ظاہر اور باطن اور اعضاء وغیرہ پر پڑتا ہے مثلاً اس کا زنگ ہوتا ہے، بدبو ہوتی ہے، بدصورتی ہوتی ہے، اور اس کے برے اثرات اعضاء پر پڑتے ہیں بھئی، اور گناہ کے تو ظاہری برے اثرات ہوتے ہی ہیں، زنگ بھی ہوتا ہے، بدبو بھی ہوتی ہے، اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے، اور تجربے سے بھی یہ بات ظاہر ہے، ڈاکو کی تصویر بھی آپ دیکھیں تو چہرے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ ڈاکو ہے، وہ گناہ کی ظلمت اور سیاہی اس کے چہرے پر آ جاتی ہے، پتہ لگتا ہے کہ یہ برا آدمی ہے اچھا آدمی نہیں ہے، یہ وہ گناہ کے اثرات پڑتے ہیں بھئی۔ اور احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ گناہ کے اثرات ہوتے ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سوکن حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں فرمایا کہ صفیہ تو اتنی سی ہیں یعنی چھوٹے قد والی ہیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اے عائشہ! تم نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو سارا سمندر آلودہ ہو جائے، معلوم ہوا گناہ کا بھی کیا ہوتا ہے؟ ظاہری اثر بھی ہوتا ہے بھئی، ظاہری اثر بھئی۔ نیز اسی طرح حدیث میں آتا ہے بھئی کہ حجرِ اسود کے بارے میں آتا ہے کہ حجرِ اسود جو ہے یہ اللہ نے اس کو جنت سے نازل فرمایا ہے اور یہ دودھ کی طرح سفید تھا، پھر اس کو انسانوں کے گناہوں نے سیاہ کر دیا، بعض احادیث میں آتا ہے مشرکین کے گناہوں نے اس کو کیا کر دیا؟ سیاہ کر دیا، حتیٰ کہ یہ اتنا چمکدار تھا کہ میلوں تک اس کی روشنی جاتی تھی بھئی، میلوں تک اس کی روشنی، جی، اب تو اتنا سیاہ ہے کہ آنکھوں سے بھی اس کی سیاہی نظر آتی ہے اسی لیے اس کو حجرِ اسود کہتے ہیں، سیاہ پتھر، اتنا سیاہ ہو چکا، تو یہ گناہوں کے اثرات اس پر پڑے بھئی، معلوم ہوا گناہ کا کیا ہوتا ہے؟ اثر ہوتا ہے بھئی، بدبو وغیرہ اس کا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح بھئی حدیث میں آتا ہے کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ بن جاتا ہے بھئی، سیاہ داغ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے اور پھر گناہ نہ کرے اور اللہ سے استغفار کرے تو اس کا دل پھر صاف ہو جاتا ہے، لیکن اگر پھر گناہ کرتا ہے اسی طرح کرتا چلا جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ دل پورے دل پر پھیل جاتا ہے بھئی بڑھتے بڑھتے۔ معلوم ہوا کہ گناہ کا بھی ظاہری اور برا اثر وغیرہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر فرماتے کہ میری توجیہ یہ ہے کہ وضو کے پانی سے صغیرہ تو مطلقاً معاف ہوتے ہیں، صغیرہ تو مطلقاً معاف ہوتے ہیں، اور کبیرہ کے بارے میں جمہور نے کیا کہا تھا؟ کبیرہ معاف نہیں ہوتا، یہاں بھی اسی طرح کہ نفسِ کبیرہ تو معاف نہیں ہوتا، نفسِ کبیرہ تو معاف نہیں ہوتا لیکن کبیرہ کے جو برے اثرات ہیں، جو بدبو وغیرہ ہے، جو اس کی سیاہی وغیرہ ہے، وہ مکمل طور پر یا کچھ نہ کچھ طور پر ضرور زائل ہو جاتی ہے بھئی۔ تو نفسِ کبیرہ تو معاف نہیں، اس کے لیے تو باقاعدہ توبہ کی ضرورت ہے لیکن اس کے برے اثرات وغیرہ وہ ضرور مکمل طور پر یا کچھ حیثیت تک وہ اس سے خارج ہو جاتے ہیں وضو کے پانی کے ساتھ۔ اور فرماتے: اگر یہ توجیہ نہ کی جائے تو ان واقعات اور احادیث میں تعارض باقی رہے گا۔ کئی بزرگوں کے کہتے ہیں واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ماء وضو سے گناہِ کبیرہ بھی خارج اور زائل ہو جاتے ہیں۔ بعض بزرگوں کے واقعات سے کیا پتہ چلتا کہ وضو کے پانی کے ساتھ گناہِ کبیرہ بھی خارج ہو جاتے ہیں، تو اگر یہ میری توجیہ نہ مانی جائے پھر تعارض رہتا ہے ان بزرگوں کے کشف و کرامات میں اور جمہور کے مذہب میں۔ جمہور نے تو کیا کہا تھا؟ کبیرہ معاف نہیں ہوتے، اور بزرگ کیا فرماتے ہیں کہ ہم نے گناہوں کو نکلتے ہوئے دیکھا کس کے ساتھ؟ وضو کے پانی کے ساتھ نکلتے ہوئے دیکھا بھئی، تو اب کہتے ہیں میری توجیہ مانی جائے تو ان میں تطبیق آ گئی، بزرگوں نے جو دیکھا وہ گناہوں کے برے اثرات نکلے تھے، تو بزرگوں کی بات صحیح اپنی جگہ پر، اور جمہور جو کہتے ہیں توبہ کرنا پڑے گی وہ نفسِ کبیرہ کے لیے توبہ کرنا پڑے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جمہور تو کہتے تھے کبیرہ گناہ نہیں نکلتے وضو کے ساتھ، تو والد صاحب کی توجیہ کیا تھی کہ اس کے برے اثرات اس سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے بھئی کہ امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ نویں دسویں صدی کے بڑے ولی اللہ اور بڑے عالم گزرے ہیں، وہ اپنے زمانے کے عظیم ولی اللہ اور صاحبِ کشف انسان تھے، وہ اپنے شیخ علی خواص رحمہ اللہ کے بارے میں اپنی کتاب میزان الکبریٰ میں لکھتے ہیں کہ میرے شیخ کو اللہ نے یہ علم دیا تھا کہ وہ کسی آدمی کے غسالے کے اندر اس کے گناہوں کو دیکھ لیتے تھے۔ کون فرما رہے ہیں؟ امام عبد الوہاب شعرانی جو شافعی المسلک ہیں، وہ فرما رہے ہیں کہ میرے شیخ جو تھے علی خواص ان کو اللہ نے یہ کمال نصیب فرمایا تھا، یہ مقام نصیب فرمایا تھا کہ وہ غسل کے اور وضو کے پانی کے اندر اس آدمی کے گناہوں کو دیکھ لیتے تھے، وہ اسی وجہ سے وہ حوض وغیرہ سے وضو نہیں فرماتے تھے کیونکہ اس میں وہ جو گناہ تھے وہ ان کو دکھائی دیتے تھے بھئی، جو آدمی وہاں وضو وغیرہ کرتے ان کے گناہ اس میں دکھائی دیتے تھے۔ اور حتیٰ کہ وہ لکھتے ہیں کہ میرے شیخ جو ہیں حرام کا غسالہ اس کو بھی پہچان لیتے تھے، مکروہ کا غسالہ کہ اس آدمی نے صرف مکروہ کام کیا ہے اس کو بھی پہچان لیتے تھے، اور خلافِ اولیٰ جس نے کیا ہوتا اس کو بھی پہچان لیتے تھے۔ تو وہ فرماتے ہیں: میرے شیخ ایک مرتبہ طہارت حاصل کرنے کے لیے ایک جگہ پر جو وضو وغیرہ یا غسل کی جگہ بنی ہوئی تھی وہاں پر گئے اور پھر بغیر طہارت حاصل کیے ہی نکل آئے اور فرمانے لگے کہ وہاں پر کبیرہ گناہ کا غسالہ پڑا ہوا ہے۔ تو امام عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے شیخ کے داخل ہونے سے پہلے جو آدمی وہاں سے نکلا تھا اس کو میں نے دیکھا تھا کہ فلاں آدمی نکلا ہے، چنانچہ میں فوراً بھاگا، اس آدمی کے پیچھے پہنچا اور اس کو میں نے اپنے شیخ کی یہ بات بتائی کہ تمہارے غسالے کے بارے میں میرے شیخ فرماتے ہیں کہ گناہِ کبیرہ کا غسالہ پڑا ہے، تو اس آدمی نے کہا کہ تمہارے شیخ نے سچ کہا، میں زنا میں مبتلا ہوا تھا، زنا میں، پھر وہ شخص آیا میرے شیخ کے پاس اور ان کے ہاتھ پر اس نے توبہ کی بھئی، توبہ کی۔ معلوم ہوا ان کے شیخ علی خواص نے پانی کے اندر اس شخص کے گناہِ کبیرہ کے برے اثر وغیرہ کو دیکھا تھا اور گناہ کا اثر اس میں خارج ہوا تھا جبھی تو شیخ نے اس کو دیکھا، ہاں لیکن نفسِ گناہ خارج نہیں ہوا تھا اور اس کی وجہ سے وہ آدمی آیا اور باقاعدہ اس نے کیا کی؟ توبہ کی اس سے بھئی۔ معلوم ہوا وضو کی وجہ سے گناہ کا اثر جو ہے وہ خارج ہو جاتا ہے اور معلوم ہوا صرف اثر وغیرہ خارج ہوتا ہے گناہ خارج نہیں ہوتا بھئی۔ اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شیخ کے ساتھ ایک حوض کے کنارے پر تھا، میں وضو کر رہا تھا، شیخ وضو نہیں کر رہے تھے، میں نے وضو نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ پانی میں خنزیر اور کتے پڑے ہوئے ہیں، میں کیسے وضو کروں؟ میں نے کہا کہ صاف ستھرا پانی تو ہے، کہاں ہے خنزیر اور کتے وغیرہ؟ تو شیخ نے مجھے کہتے ہیں اپنے پاس بلایا اور میری آنکھوں پر اپنا ہاتھ پھیرا تو میں نے خود اپنی آنکھوں سے حوض میں خنزیر اور کتے وغیرہ دیکھے جو گناہوں کی شکل میں الگ الگ پڑے ہوئے تھے بھئی۔ حتیٰ کہ بدبو سے یہ بھی پتہ چل رہا تھا کہ یہ غیبت کا غسالہ ہے یا فلاں گناہ کا غسالہ ہے یا فلاں گناہ کا غسالہ ہے بھئی۔ چنانچہ امام شعرانی اپنے شیخ سے روایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ماء مستعمل کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے تین قول ہیں: ایک یہ کہ طاہر غیر مطہر ہے، دوسرا یہ کہ یہ نجاستِ غلیظہ ہے، اور تیسرا یہ کہ یہ نجاستِ خفیفہ ہے۔ کہتے ہیں میرے شیخ فرماتے ہیں کہ یہ تین اقوال امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے یہ فقہی نہیں ہیں بلکہ یہ تین اقوال وضو کرنے والے کے گناہوں پر محمول ہیں۔ کس پر محمول ہیں؟ وضو اور طہارت حاصل کرنے والے کے گناہوں پر محمول ہیں بھئی، کیونکہ اس ماء مستعمل میں گناہ خارج ہو جاتا ہے، تو اگر وہ وضو کرنے والا اس نے صرف خلافِ اولیٰ کام کیا تھا تو اس صورت میں وہ جو ماء مستعمل ہے وہ طاہر ہے لیکن مطہر نہیں، تو ہے ابھی بھی طاہر ہی، اور اگر وہ شخص جو وضو کرنے وہ طہارت کرنے والا ہے اگر اس نے کبیرہ گناہ کیا ہے تو وہ ماء مستعمل جو ہے وہ نجاستِ غلیظہ ہوا بھئی، اور اگر وہ طہارت حاصل کرنے والا اس نے صرف صغائر صغیرہ گناہ کیے تھے اور مکروہات کچھ کیے تھے تو اس صورت میں جو وہ ماء مستعمل ہے وہ کیا ہو گا؟ نجاستِ خفیفہ ہو گا۔ چنانچہ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ یہ تینوں اقوال امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے کشف پر مبنی ہیں بھئی، کشف پر مبنی ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ امام صاحب کے مقلدین جو ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس مسئلے میں یہ تین قول ہیں امام صاحب کے جیسے اور مسائل میں اقوال ہوتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے، یہ تین اقوال مبنی ہیں وضو کرنے والے کے احوال پر، اور فرماتے ہیں کہ یہ نکتہ میرے شیخ علی خواص نے مجھے بتلایا۔ اور فرماتے ہیں کہ پھر تو میں نے اپنے شیخ سے کہا: پھر تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ عظیم صاحبِ کشف لوگوں میں سے تھے؟ تو میرے شیخ فرمانے لگے: ہاں، وہ عظیم صاحبِ کشف لوگوں میں سے تھے، اور نیز وہ میرے شیخ مجھے بتلانے لگے کہ ہمیں یہ بات بھی پہنچی ہے کہ امام صاحب ایک مرتبہ ایک مقام پر وہ وضو خانے میں داخل ہوئے، ایک نوجوان کو دیکھا کہ وضو کر رہا ہے اور اس کے پانی پر نظر ڈالی جو اس سے ٹپک رہا تھا، تو اس سے فرمانے لگے: اے میرے بیٹے! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر لے، تو اس لڑکے وہ نوجوان کہنے لگا: میں نے توبہ کی، میں آج کے بعد والدین کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اسی طرح امام صاحب نے ایک اور شخص کے غسالے کو دیکھا تو اس سے فرمانے لگے: اے بھئی! تو شراب پینے سے اور گانے بجانے کو سننے سے توبہ کر لے، اس نے کہا: میں نے توبہ کر لی۔ اسی طرح ایک اور شخص کے غسالے کو دیکھا تو اس سے فرمانے لگے کہ اے میرے بھئی! زنا سے توبہ کر لے، اس آدمی نے کہا: میں نے توبہ کر لی۔ تو امام صاحب وہ پانی میں دیکھ لیتے تھے ان چیزوں کو۔ پھر کہتے ہیں شیخ علی خواص فرماتے ہیں کہ امام صاحب نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھ سے یہ علم سلب فرما لیجیے، مجھ سے یہ علم ختم فرما دیجیے، کیونکہ اس کی وجہ سے میں مسلمانوں کے عیبوں پر مطلع ہوتا ہوں، چنانچہ اللہ نے پھر وہ علم ان سے سلب فرما لیا بھئی، سلب فرما لیا۔ معلوم ہوا امام صاحب کا مقام کتنا اونچا ہے بھئی، کتنا اونچا ہے، کتنے عظیم صاحبِ کشف تھے کہ گناہوں کے اثرات پانی کے اندر دیکھ لیا کرتے تھے، اور اس سے بھی بڑھ کر ان کے تقویٰ کا اندازہ لگائیے کہ اے اللہ اس علم کو میرے لیے مجھ سے سلب فرما لیجیے کیونکہ اس کی وجہ سے میں اپنے مسلمان بھائیوں کے عیبوں پر مطلع ہوتا ہوں بھئی، مطلع ہوتا ہوں۔ اور پھر حضرت شیخ آگے فرماتے کہ امام صاحب نے اس پانی میں گناہِ کبیرہ کے اثرات کو دیکھا ان کے اثرات کو دیکھتے تھے، نفسِ کبیرہ نہیں خارج ہوتا تھا ورنہ توبہ کا کیا معنی کہ بھئی توبہ کر لو یا اے بیٹے توبہ کر لو، ان کو توبہ کا باقاعدہ فرماتے تھے، معلوم ہوا نفسِ کبیرہ وضو کے ساتھ خارج نہیں ہوتا، ہاں اس کے جو برے اثرات بدبو وغیرہ اور سیاہی ہے وہ مکمل طور پر یا کچھ نہ کچھ حد تک اس وضو اور طہارت کے پانی سے نکل جاتی ہے بھئی، نکل جاتی ہے۔ تو یہ تھی حضرت شیخ رحمہ اللہ کی عجیب اور لطیف توجیہ بھئی، جس کی وجہ سے احادیث میں بھی تطبیق آ جاتی ہے اور بزرگوں کے واقعات اور جمہور کے مذہب میں بھی کیا آ جاتی ہے؟ تطبیق آ جاتی ہے بھئی۔ تو یہ ہیں ہمارے فقہاء، یہ ہیں ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ جن کا اتنا اونچا مقام تھا بھئی، اور جن کے بارے میں احادیث میں آتا ہے، حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر علم ثریا کے پاس بھی ہوا تو اہلِ فارس میں سے ایک شخص اس تک پہنچ جائے گا، اس کو پا لے گا۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس سے مراد امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں، ان کی پیشین گوئی، اتنا اونچا مقام امام صاحب کا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدہ ان کے بارے میں پیشین گوئی فرما رہے ہیں، ان کے امام صاحب کے مقام کا اندازہ لگائیے بھئی، ان کے مقام کا اندازہ لگائیے، اور علماء سب فرماتے ہیں یہ کس کے بارے میں ہے؟ حتیٰ کہ شوافع وغیرہ وہ بھی لکھتے ہیں کہ اس سے کون مراد ہیں؟ شوافع علماء بھی لکھتے ہیں کہ اس سے مراد امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں، انہی کی طرف اس کے ذریعے اشارہ ہے بھئی۔ پھر بھی ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو امام صاحب پر تنقید کرتے ہیں، فقہاء کو برا کہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں قرآن و حدیث کی خدمت کرتے ہوئے گزار دیں، لوگوں کے لیے، ہمارے لیے مسائل کو اتنا آسان بنا دیا، اور ان کی عند اللہ مقبولیت کے لیے کیا یہ بات کم ہے کہ اب تک کروڑوں اربوں انسان ان کے مذہب پر گزرے ہیں اور زندگی گزار رہے ہیں، اور سارے زندگی میں ایک ایک مسئلے میں ان کا اتباع کر رہے ہیں جیسا انہوں نے قرآن و حدیث سے سمجھا اور بتلایا، تو ایک ایک عمل کا ثواب جو ہے ان کو ان کے امام صاحب کے نامۂ اعمال میں جمع ہوتا چلا جا رہا ہے، کتنا اونچا مقام ہے۔ دعا کرو ان لوگوں کو اللہ صحیح سمجھ دے دے۔ بھئی کیوں فقہاء پر تنقید کرتے ہو؟ کیا اس دور کے فتنے کم ہیں؟ تمہیں تمہاری توجہ ان کی طرف ہونی چاہیے، اتنے اسلام کے خلاف فتنے اٹھ رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کھلے عام گستاخیاں کی جا رہی ہیں، قرآن کو جلایا جا رہا ہے، عیسائی لگے ہوئے ہیں اپنے مذہب کو پھیلانے کوششیں کر رہے ہیں، اسی طرح یہ قادیانی مرزائی جو ہیں یہ اپنے خبیث مذہب کو پھیلا رہے ہیں بھئی، تو ان کا مقابلہ کیا جائے یہ جو فتنے ہیں، بجائے اس کے کہ امام صاحب کے خلاف زور لگایا جائے اور اپنی توانائیاں صرف کی جائیں۔ دنیاوی اعتبار سے بھی اپنا نقصان کر رہے ہیں اور اخروی اعتبار سے بھی۔ تو اللہ تعالیٰ ان سب کو سمجھ نصیب فرمائے بھئی، اور اللہ تعالیٰ تمام فقہاء کے تمام فقہائے کرام، تمام ائمہ فقہاء، تمام ائمہ محدثین سب کے اللہ کروڑہا درجات بلند فرمائے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 19 of 82