قَالَ: وَتَسْمِيَةُ اللَّهِ تَعَالَى فِي ابْتِدَاءِ الْوُضُوءِ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يُسَمِّ“، وَالْمُرَادُ بِهِ نَفْيُ الْفَضِيلَةِ، وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا مُسْتَحَبَّةٌ، وَإِنْ سَمَّاهَا فِي الْكِتَابِ سُنَّةً، وَيُسَمِّي قَبْلَ الِاسْتِنْجَاءِ وَبَعْدَهُ، هُوَ الصَّحِيحُ۔
گزشتہ سبق میں ہم نے وضو کی سنتوں کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا، اور پہلی سنت ذکر ہوئی تھی کہ وضو کرنے والا اگر نیند سے بیدار ہوا ہے تو برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے ان کو تین مرتبہ دھو لے۔
اور اس سلسلے میں حدیث بھی ذکر ہوئی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ“۔
آج دوسری سنت ذکر کر رہے ہیں وضو کی:
قَالَ: وَتَسْمِيَةُ اللَّهِ تَعَالَى فِي ابْتِدَاءِ الْوُضُوءِ: صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور اللہ کا نام ذکر کرنا وضو کی ابتدا میں۔
یاد رکھیے ہمیشہ، ایک لفظ "وُضو" ہے واو کے ضمہ کے ساتھ، اور ایک لفظ "وَضو" ہے واو کے فتحہ کے ساتھ۔ واو کے فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ اس پانی کا نام ہے جس سے وضو کیا جائے، اور واو کے ضمہ کے ساتھ ہو تو یہ فعلِ وضو کا نام ہے۔ تو اس لفظ کو "وُضو" پڑھنا ہمیشہ۔
یہاں صاحبِ قدوری نے لفظ "تسمیہ" ذکر کیا، تَسْمِيَة۔ یاد رکھیے تسمیہ کا معنی ہے مطلقاً ذکرِ اسمِ اللہ، مطلقاً اللہ کا نام ذکر کرنا، یہ ہے تسمیہ۔ چاہے بسم اللہ کی صورت میں ہو، چاہے غیرِ بسم اللہ کی صورت میں ہو۔ اللہ اکبر کہہ دیا، سبحان اللہ کہہ دیا، الحمد للہ کہہ دیا، لا الہ الا اللہ کہہ دیا، یہ سب ذکرِ اسمِ اللہ ہیں۔ اور بالخصوص "بسم اللہ" ہو تو اس کے لیے لفظ ہے بسملہ، بَسْمَلَةٌ، یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا۔ چونکہ سنت مطلقاً اللہ کا نام ذکر کرنا ہے نہ کہ بالخصوص بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا، اسی لیے صاحبِ قدوری نے "وَتَسْمِيَةُ اللَّهِ تَعَالَى" فرمایا۔ اگر بالخصوص بسم اللہ مسنون ہوتا تو فرماتے: "وَالْبَسْمَلَةُ فِي ابْتِدَاءِ الْوُضُوءِ"۔
چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں کہ جس طرح بھی اللہ کا ذکر کر دیا جائے وضو کے آغاز میں تو سنت ادا ہو جائے گی۔ ہاں البتہ کتبِ احناف میں مشہور یہ ہے کہ یہ دعا پڑھے جو حاشیے میں دی ہوئی ہے:
”بِسْمِ اللَّهِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى دِينِ الْإِسْلَامِ“۔
دلیل: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يُسَمِّ“: اس شخص کا وضو نہیں جس نے اللہ کا نام نہ لیا۔
اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں تو آیا کہ اس کا وضو ہی نہیں ہے، تو پھر اس کو فرائض کے اندر ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن صاحبِ قدوری اس کو سنتوں میں ذکر کر رہے ہیں۔
تو جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: وَالْمُرَادُ بِهِ نَفْيُ الْفَضِيلَةِ: مراد اس کے ذریعے فضیلت اور کمال کی نفی ہے، یعنی اس کا وضو کامل نہیں ہے، افضل نہیں ہے۔ جیسے حدیث میں آتا ہے: ”لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ“، اور حدیث میں آتا ہے: ”لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ“، تو وہاں بھی کمال کی نفی مراد ہے، نہ کہ اصلِ نماز یا اصلِ ایمان کی نفی۔ اسی طرح یہاں بھی کمالِ وضو کی نفی ہے۔
وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا مُسْتَحَبَّةٌ، وَإِنْ سَمَّاهَا فِي الْكِتَابِ سُنَّةً: اور اصح قول یہ ہے کہ یہ تسمیہ مستحب ہے، اگرچہ صاحبِ قدوری نے کتاب کے اندر اس کو سنت قرار دیا ہے۔ مستحب جس کو مندوب بھی کہتے ہیں، یعنی پسندیدہ طریقہ۔ البتہ متعدد ائمہ احناف (جیسے امام طحاوی، امام قدوری، امام نسفی) کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔
وَيُسَمِّي قَبْلَ الِاسْتِنْجَاءِ وَبَعْدَهُ، هُوَ الصَّحِيحُ: اور اللہ کا نام لے استنجاء سے پہلے بھی اور استنجاء کے بعد بھی، یہی قول صحیح ہے۔ کیونکہ استنجاء ملحقاتِ وضو میں سے ہے، لہٰذا اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی اللہ کا ذکر ہونا چاہیے۔
وَالسِّوَاكُ: تیسری سنت: مسواک کرنا۔
سواک وہ لکڑی جس کے ساتھ دانتوں کو صاف کیا جاتا ہے، اس کی جمع "سُوک" آتی ہے۔ اور سواک مصدر بھی ہے، بمعنی مسواک کرنا۔
احادیث میں مسواک کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ دو رکعتیں جو مسواک کر کے پڑھی جائیں، ان ستر رکعتوں سے افضل ہیں جو بغیر مسواک کے پڑھی جائیں۔ اور فرمایا کہ مجھے بار بار جبرائیل مسواک کی تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ شاید اس کے بارے میں قرآن میں حکم نازل فرما دیا جائے گا۔ مسواک اللہ کی رضا کا باعث ہے، حافظے کو بڑھاتی ہے، کثرتِ اولاد کا سبب ہے، پل صراط پر بجلی کی رفتار سے گزرنے کا ذریعہ ہے، اور قبر کی وسعت کا سبب ہے۔
میرے والدِ محترم حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ کو اللہ نے سنتوں کی ایسی محبت نصیب فرمائی تھی کہ انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔ اتنی باقاعدگی سے مسواک استعمال فرماتے تھے کہ ڈیڑھ دو انچ کی رہ جاتی تو پھر نئی مسواک لیتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سنتوں پر عمل کرنے والا بنائے۔
لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهِ: دلیل یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسواک پر ہمیشگی فرماتے تھے، وَعِنْدَ فَقْدِهِ يُعَالِجُ بِالْأُصْبُعِ: اور مسواک کے نہ ہونے کے وقت انگلی سے دانتوں کو صاف کر لے۔ اگر کسی وقت مسواک نہ ہو تو انگلی کے ذریعے دانت صاف کر لے تو سنت ادا ہو جائے گی۔
اگر کوئی شخص برش کر لے تو دانتوں کی صفائی کی سنت تو ادا ہو جائے گی، لیکن خاص لکڑی والی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔
وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ: چوتھی اور پانچویں سنت: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا۔
لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَعَلَهُمَا عَلَى الْمُوَاظَبَةِ: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ہمیشگی کے ساتھ کیا ہے۔
طریقہ: تین مرتبہ کلی کرے، اور ہر مرتبہ نیا پانی لے، اور اسی طرح تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے۔ تو کل چھ چلو ہو گئے۔ تین کلی کے لیے اور تین استنشاق کے لیے۔
وَالْمَحْكِيُّ مِنْ وُضُوئِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے یہی مروی ہے۔
وَمسْحُ الْأُذُنَيْنِ: چھٹی سنت: دونوں کانوں کا مسح کرنا۔
وَهُوَ سُنَّةٌ بِمَاءِ الرَّأْسِ، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ: اور یہ سر کے پانی سے سنت ہے، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے جو نیا پانی لینے کے قائل ہیں۔
دلیل: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ“۔ دونوں کان سر میں سے ہیں، یعنی سر کے پانی کے ساتھ ہی ان کا مسح کیا جائے گا۔
طریقہ: شہادت کی انگلیوں (سبابتین) سے کان کے اندرونی حصے کا مسح کرے، اور انگوٹھوں (ابہامین) سے کان کے بیرونی حصے کا مسح کرے۔
وَتَخْلِيلُ اللِّحْيَةِ: ساتویں سنت: داڑھی کا خلال کرنا۔
لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَرَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِذَلِكَ: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل علیہ السلام نے اس کا حکم دیا تھا۔
داڑھی کی دو قسمیں ہیں:
1۔ لحیۂ خفیفہ: جس میں سے چہرے کی جلد دکھائی دے۔ اس میں بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا فرض ہے۔
2۔ لحیۂ کثہ: گھنی داڑھی۔ اس میں جو حصہ دائرۂ وجہ کے اندر ہے اس کا دھونا فرض ہے، اور جو حصہ لٹکا ہوا ہے (مسترسل) اس کا دھونا فرض نہیں۔
خلال کرنا سنت ہے: گردن کی طرف سے انگلیاں داڑھی کے بالوں میں داخل کر کے خلال کرے۔
وَتَخْلِيلُ الْأَصَابِعِ: آٹھویں سنت: انگلیوں کا خلال کرنا۔
لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”خَلِّلُوا أَصَابِعَكُمْ لَا تَتَخَلَّلْهَا نَارُ جَهَنَّمَ“: اپنی انگلیوں کا خلال کرو تاکہ ان میں جہنم کی آگ داخل نہ ہو۔ ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر خلال کرے، اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے۔
وَتَكْرَارُ الْغَسْلِ إِلَى الثَّلَاثِ: نویں سنت: اعضاء کو تین تین مرتبہ دھونا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ بھی دھویا اور فرمایا کہ یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتے۔ دو دو مرتبہ بھی دھویا اور فرمایا کہ اس پر دگنا اجر ہے۔ اور تین تین مرتبہ بھی دھویا اور فرمایا:
”هَٰذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَٰذَا أَوْ نَقَصَ فَقَدْ تَعَدَّى وَظَلَمَ“۔
یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے، پس جس نے اس پر زیادتی کی یا کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔
زیادتی اسراف ہے، اور کمی کی صورت میں وعید اس پر ہے جو تین بار دھونے کو سنت نہ سمجھے۔
چلیے بس بھئی، هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔