وَفِي السَّفَرِ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَيِّ سُورَةٍ شَاءَ، لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي سَفَرِهِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ، وَلِأَنَّ لِلسَّفَرِ أَثَرًا فِي إِسْقَاطِ شَطْرِ الصَّلَاةِ، فَلِأَنْ يُؤَثِّرَ فِي تَخْفِيفِ الْقِرَاءَةِ أَوْلَى.
قراءت سے متعلقہ مسائل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، اور گزشتہ سبق میں آپ نے آخر میں پڑھا تھا کہ وہ کم سے کم مقدار جو قراءت سے کافی ہو جائے یعنی جس سے قراءت کا فرض ادا ہو جائے، وہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک آیت ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کم از کم تین چھوٹی آیتیں ہونی چاہییں یا ایک بڑی آیت ہو بھئی۔
اب آگے بیان کر رہے ہیں، مسنون قراءت بیان کریں گے کہ کس نماز میں امام کو کتنی، مسنون قراءت کتنی ہے، کتنی قراءت کرنی چاہیے اور پھر اسی میں سفر کا بھی ذکر ہے، سفر کی صورت میں، تو سفر کے اندر چونکہ شریعت نے احکام میں نرمی رکھی ہے، تو اسی وجہ سے سفر کے اندر اگر کوئی مختصر سورتیں بھی پڑھ لی جائیں تو یہ بھی درست ہے، مختصر سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَفِي السَّفَرِ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَيِّ سُورَةٍ شَاءَ“ اور سفر میں پڑھے فاتحۃ الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ ”وَأَيِّ سُورَةٍ شَاءَ“ اور جو سورت چاہے، آگے دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي سَفَرِهِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ“ کہ حضور علیہ السلام نے پڑھیں فجر کی نماز میں اپنے سفر میں معوذتین بھئی، معوذتین یعنی ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“ اور ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ“، یہ دو سورتیں پڑھیں، اب فجر کے اندر تو ویسے حضور علیہ السلام کا معمول تھا طویل قراءت فرماتے تھے، لیکن سفر کے اندر حدیث سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام نے کیا پڑھیں، کون سی سورتیں پڑھیں؟ معوذتین پڑھیں، معلوم ہوا سفر کے اندر جو سورت بھی انسان چاہے پڑھ سکتا ہے۔
”وَلِأَنَّ“ یہ آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ لِلسَّفَرِ أَثَرًا فِي إِسْقَاطِ شَطْرِ الصَّلَاةِ“ اور کہتے ہیں اس لیے کیونکہ سفر جو ہے اس کا اثر ہے ”فِي إِسْقَاطِ شَطْرِ الصَّلَاةِ“ نماز کے نصف کو ساقط کرنے میں، یعنی سفر کی وجہ سے چار رکعت والی نماز سفر میں کتنی پڑھی جاتی ہیں؟ دو رکعت پڑھی جاتی ہیں، تو سفر نے دیکھو اپنا اثر ڈالا اور سفر کے اثر کی وجہ سے نماز، نصف نماز ہی ساقط ہو گئی یعنی دو رکعتیں ساقط ہو جاتی ہیں، ”فَلِأَنْ يُؤَثِّرَ فِي تَخْفِيفِ الْقِرَاءَةِ أَوْلَى“ تو یہ کہ یہ مؤثر ہو قراءت کی تخفیف کے اندر یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا، یہ کیا ہو گا؟ بطریقِ اولیٰ، بالفاظِ دیگر یوں کہیے کہ سفر کی وجہ سے جب اصلِ صلاۃ میں کمی آ گئی تو وصفِ صلاۃ میں بطریقِ اولیٰ کمی ہو گی بھئی، اصلِ صلاۃ میں کمی آئی یعنی چار کے بجائے کتنی پڑھتے ہیں؟ دو رکعت پڑھتے ہیں، تو وصفِ صلاۃ یعنی قراءت کے اندر بطریقِ اولیٰ تخفیف آئے گی کہ طویل قراءت کے بجائے مختصر قراءت بھی درست ہے بھئی۔
کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ لِلسَّفَرِ أَثَرًا فِي إِسْقَاطِ شَطْرِ الصَّلَاةِ“ اور اس لیے کیونکہ سفر جو ہے اس کا اثر ہے نصف نماز کو ساقط کرنے میں تو یہ مؤثر ہو قراءت کی تخفیف کے اندر یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا ”وَهَذَا إِذَا كَانَ عَلَى عُجْلَةٍ مِنَ السَّيْرِ“، ہاں یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بتلا رہے ہیں کہ سفر میں جو سورت بھی پڑھنا چاہیں فاتحہ کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں، لیکن یہ اس وقت ہے جب آپ حالتِ... جب آپ جلدی میں ہوں، تو یوں کہیے سفر میں بھی گویا دو حالتیں آ گئیں: ایک حالتِ قرار ہے، ایک حالتِ فرار ہے یعنی جلدی میں ہے انسان، تو حالتِ قرار کے اندر مسنون طریقے سے قراءت کرنی چاہیے اور حالتِ فرار میں جب جلدی ہے تو پھر جو بھی سورت پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے کیونکہ حدیث سے بھی ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام نے سفر میں کون سی سورتیں پڑھیں؟ معوذتین پڑھیں، تو ایک ہے حالتِ قرار، ایک ہے حالتِ فرار۔
بھئی دیکھیے یہاں سے مثلاً آپ سفر پر نکلتے ہیں، مثلاً اسلام آباد جانا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ کتنے فاصلے پر، کتنے فاصلے کے سفر کا ارادہ ہو تو شرعی سفر شمار ہو گا؟ جی؟ اڑتالیس میل ہے بھئی اور یہ بنتا ہے کتنا؟ کوئی ستتر اٹھتر کلومیٹر بنتا ہے یہ بھئی، تو اگر آپ ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جو آپ کے شہر سے، آپ کی بستی سے، بستی سے شمار کرنا ہے شہر سے، آپ کے گھر سے نہیں شمار کرنا بھئی، ورنہ تو شہر بڑا ہے کئی کلومیٹر تو شہر کے اندر ہی شمار ہو جائیں گے، نہیں، بلکہ شہر سے اس بستی کا، ایک بستی سے دوسری بستی کا فاصلہ دیکھا جائے گا، ایک شہر سے دوسرے شہر کا فاصلہ، تو اب آپ ایک ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں کہ وہ شہر آپ کے شہر سے ستتر اٹھتر کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ ہے، تو اب آپ جیسے ہی اپنے شہر سے نکلیں گے، اپنے شہر کے آخری مکانات سے جدا ہو جائیں گے تو اب آپ شرعاً مسافر ہو گئے بھئی، شرعاً مسافر۔ اب چار رکعت والی نماز کے بجائے کتنی پڑھیں گے؟ دو رکعت اس کو ادا کریں گے جسے قصر کہتے ہیں، قصر بھئی۔
اب یہ جب آپ سفر میں چل رہے ہیں یہ ہے حالتِ فرار بھئی، جلدی میں ہیں، راستے میں سواری تھوڑی دیر کے لیے رکے گی، زیادہ دیر کے لیے تو سواری رکے گی نہیں، تو یہ ہے حالتِ فرار، اور وہاں جب دوسرے شہر پہنچتے ہیں تو وہاں اگر آپ کی پندرہ دن اقامت کی نیت ہوئی تو آپ مقیم بن جائیں گے اور اگر پندرہ سے کم دن رہنے کی نیت ہوئی تو وہاں بھی آپ مسافر ہی رہیں گے، چار رکعتوں کے بجائے دو رکعتیں ہی پڑھیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اب جب آپ وہاں رہ رہے ہیں تو اب حالتِ فرار میں نہیں ہیں بلکہ کس حالت میں ہیں؟ حالتِ قرار میں ہیں۔ تو یہ جو انہوں نے کہا جو سورت پڑھنا چاہے یہ کس حالت میں ہے؟ حالتِ فرار میں ہے، حالتِ قرار کو ابھی یہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ۔
کہتے ہیں: ”وَهَذَا إِذَا كَانَ عَلَى عُجْلَةٍ مِنَ السَّيْرِ“ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ جلدی میں ہو سیر، ”مِنَ السَّيْرِ“ چلنے میں، یعنی چلنے میں جلدی پر ہو ”وَإِنْ كَانَ فِي أَمَنَةٍ وَقَرَارٍ“ اور اگر وہ شخص جو ہے امن میں ہے اور قرار میں ہے یعنی اطمینان سے رہ رہا ہے ”يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ“ تو پڑھے گا فجر کے اندر ”نَحْوَ سُورَةِ الْبُرُوجِ وَانْشَقَّتْ“ سورۂ بروج اور سورۂ انشقت جیسی سورتیں پڑھے گا ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ مُرَاعَاةُ السُّنَّةِ“ اس لیے کیونکہ اس کے لیے سنت کی رعایت رکھنا ممکن ہے ”مَعَ التَّخْفِيفِ“ ساتھ کس کے؟ تخفیف کے۔
آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ فجر کے اندر کون سی سورتوں میں سے پڑھنا مسنون ہے، ظہر کے اندر کون سی سورتوں میں سے پڑھنا مسنون ہے اور باقی نمازوں کے اندر، تو اس میں بھی اب دیکھیے فجر میں جو سورتیں پڑھی جاتی ہیں جتنی مقدار پڑھی جاتی ہے ان میں سے چھوٹی سورتیں ذکر کر دیں، مثلاً فجر میں جو مسنون ہے اگے بیان کریں گے طوالِ مفصل ہیں بھئی، کیا ہے؟ طوالِ مفصل، اور طوالِ مفصل میں سے یہ آخری سورتیں انہوں نے ذکر کر دیں کیونکہ اس کی آخری سورتیں چھوٹی ہیں پہلی سورتوں کی بنسبت بھئی، تو دیکھو سنت کی رعایت بھی ہو گئی کیونکہ مسنون انہی طوالِ مفصل میں سے پڑھنا تھا اور ان میں سے بھی کون سی سورتیں ذکر کر دیں جو ذرا باقیوں کی بنسبت اسی طوالِ مفصل والی باقی سورتوں کی بنسبت کیا ہیں؟ کچھ چھوٹی ہیں، تھوڑا سا فرق ہے، تو تخفیف بھی آ گئی اور سنت کی رعایت بھی ہو گئی، یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ مُرَاعَاةُ السُّنَّةِ مَعَ التَّخْفِيفِ“ اس لیے کیونکہ ممکن ہے سنت کی رعایت رکھنا تخفیف کے ساتھ۔
”وَيَقْرَأُ فِي الْحَضَرِ“ اب بیان کرنے لگے ہیں فجر میں کتنی قراءت مسنون ہے، کیا حضور علیہ السلام کا معمول کیا تھا، کتنی قراءت کیا کرتے تھے، کہتے ہیں: ”وَيَقْرَأُ فِي الْحَضَرِ فِي الْفَجْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِأَرْبَعِينَ آيَةً أَوْ خَمْسِينَ آيَةً سِوَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ اور پڑھے گا ”فِي الْحَضَرِ“ حضر کا معنی ہے اقامت یعنی جب شہر میں ہو یعنی اقامت میں ہو اور حضر کی یعنی اقامت کی حالت میں پڑھے گا فجر میں، پڑھے ”فِي الرَّكْعَتَيْنِ“ دونوں رکعتوں میں یعنی دونوں میں ملا کر کتنی پڑھے گا؟ ”بِأَرْبَعِينَ آيَةً“ چالیس آیتیں ”أَوْ خَمْسِينَ آيَةً“ یا پچاس آیتیں ”سِوَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سورۂ فاتحہ کے علاوہ۔ تو فجر کے اندر مسنون یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ کے علاوہ چالیس یا پچاس آیتیں پڑھے دونوں رکعتوں میں ملا کر، یعنی ایک رکعت میں بھی بیس اور دوسری میں بھی بیس، یا یوں کہیں ایک رکعت میں بھی بیس سے پچیس تک اور دوسری میں بھی بیس سے پچیس تک۔
”وَيُرْوَى مِنْ أَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ“ اور روایت کیا گیا ہے چالیس سے لے کر ساٹھ تک، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ چالیس سے ساٹھ تک بھی روایت کیا گیا ہے کہ یعنی دونوں رکعتوں میں، تو کتنی ہو گئی؟ ایک رکعت میں بیس آیتوں سے لے کر تیس آیتوں تک پڑھے، ”وَمِنْ سِتِّينَ إِلَى مِائَةٍ“ اور ساٹھ سے لے کر سو تک، یہ بھی آیا ہے بھئی روایتوں میں، ساٹھ سے لے کر سو تک دو رکعتوں میں پڑھے سورۂ فاتحہ کے علاوہ، یہ کتنی ہو جائیں گی ایک رکعت میں؟ ساٹھ کا نصف کریں تیس اور ادھر سو کا نصف کریں پچاس، یعنی ایک رکعت میں تیس سے لے کر پچاس آیتوں تک، تیس آیتوں سے لے کر پچاس آیتوں کی مقدار ایک رکعت میں پڑھے، یہ بھی روایت میں آیا۔
”وَبِكُلِّ ذَلِكَ وَرَدَ الْأَثَرُ“ اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اثر یعنی حدیث وارد ہوئی ہے، حدیث آئی ہے، ان سب کا ذکر احادیث میں ملتا ہے بھئی۔ ”وَوَجْهُ التَّوْفِيقِ“ اور توفیق کی وجہ، توفیق کی صورت بھئی، یعنی تطبیق بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بعض روایات میں کیا آیا ہے؟ چالیس سے لے کر پچاس تک پڑھے دونوں رکعتوں میں، بعضوں میں آیا چالیس سے لے کر ساٹھ تک پڑھے، بعض میں کیا آیا ہے کہ کتنی پڑھی؟ ساٹھ سے لے کر سو تک، تو اب تطبیق بیان کر رہے ہیں کہ جس سے یہ ایک دوسرے کے مطابق ہو جائیں، تو بتلا رہے ہیں، ”وَجْهُ التَّوْفِيقِ“ توفیق کی وجہ، صورت یہ ہے: ”أَنَّهُ يَقْرَأُ بِالرَّاغِبِينَ مِائَةً“ کہ پڑھے رغبت کرنے والوں کے ساتھ سو، ان کے ساتھ کتنی پڑھے؟ سو تک پڑھے یعنی، یعنی جو قراءت میں رغبت رکھتے ہیں، قراءت سننا چاہتے ہیں تو رغبت رکھنے والے لوگ ہیں تو اس صورت میں کون سی روایت پر عمل کر لے؟ وہ ساٹھ سے لے کر سو تک والی پر، ”وَبِالْكُسَالَى أَرْبَعِينَ“ اور جو سست ہیں ان کے ساتھ چالیس، یعنی اگر ایسے لوگ ہیں جو سست ہیں، رغبت زیادہ نہیں رکھتے قراءت کے اندر تو پھر کتنی پڑھ لے؟ چالیس والی روایت پر عمل کر لے، ”وَبِالْأَوْسَاطِ مَا بَيْنَ خَمْسِينَ إِلَى سِتِّينَ“ اور اگر متوسط درجے کے لوگ ہیں جو زیادہ رغبت نہیں... رغبت ہے لیکن زیادہ رغبت نہیں متوسط درجے کے لوگ ہیں تو ان میں کے لیے کتنی قراءت کر لے؟ پچاس سے لے کر ساٹھ تک بھئی۔
”وَقِيلَ يَنْظُرُ إِلَى طُولِ اللَّيَالِي وَقِصَرِهَا“ اور کہا گیا ہے کہ دیکھے قراءت کرنے والا یعنی امام جو ہے وہ دیکھے ”إِلَى طُولِ اللَّيَالِي وَقِصَرِهَا“ راتوں کے لمبا ہونے اور چھوٹا ہونے کی طرف، اگر راتیں لمبی ہیں تو معلوم ہو... تو پھر اس صورت میں کیا کر لے؟ لمبی قراءت کر لے، اس روایت پر عمل کر لے، اور اگر راتیں چھوٹی ہیں یعنی گرمیوں کی راتیں ہیں تو پھر کس پر عمل کر لے؟ جس میں کم ذکر آیا ہے اس پر عمل کر لے، ”وَإِلَى كَثْرَةِ الْأَشْغَالِ وَقِلَّتِهَا“ اور دیکھے اسی طرح کس کی طرف؟ کثرتِ اشغال اور قلتِ اشغال کی طرف یعنی ان لوگوں کے احوال پر کی طرف نظر کرے، اگر وہ زیادہ کام کاج کرنے والے لوگ ہیں تو پھر مختصر نماز پڑھائے، اس روایت پر عمل کر لے جس میں چالیس سے لے کر پچاس تک کا ذکر آیا ہے، اور اگر متوسط درجے کا کام کاج کرنے والے ہیں تو وہ متوسط کا ذکر جس میں آیا ہے، اور اگر کم کام کاج کرنے والے ہیں تو پھر اس پر عمل کر لے جس میں زیادہ کا ذکر آیا ہے۔
”قَالَ: وَفِي الظُّهْرِ مِثْلَ ذَلِكَ“ اور ظہر میں بھی اسی کے مثل پڑھے، کس کے مثل؟ جتنا فجر میں تھا، ”لِاسْتِوَائِهِمَا فِي سَعَةِ الْوَقْتِ“ بوجہ ان دونوں کے برابر ہونے کے وقت کی گنجائش کے اندر، تو ظہر میں بھی فجر کے مثل قراءت کرے جیسا فجر میں اوپر ذکر ہوا، اس وجہ سے کیونکہ یہ دونوں برابر ہیں وقت کی گنجائش میں، جیسے ظہر کا وقت طویل ہے اسی طرح فجر کا وقت بھی طویل تھا، یوں کہیں جیسے فجر کا وقت طویل تھا، کھلا وقت تھا اسی طرح ظہر کا بھی وقت طویل وقت ہے، کھلا وقت ہے، تو اس میں بھی اتنی قراءت کرے۔
”وَقَالَ فِي الْأَصْلِ“ اور اصل میں یعنی مبسوط میں فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ ”أَوْ دُونَهُ“ یا اس سے کم پڑھے، مبسوط میں امام محمد رحمہ اللہ نے کیا ذکر فرمایا ہے؟ ”أَوْ دُونَهُ“ یا اس سے کم، یعنی ظہر میں فجر کے مثل پڑھے یا اس سے کم پڑھے، ”لِأَنَّهُ وَقْتُ الِاشْتِغَالِ“ اس لیے کیونکہ وہ مشغولیت کا وقت ہے، کام کاج کا وقت ہے ”فَيَنْقُصُ عَنْهُ“ لہٰذا اس سے کچھ کم کر دے جتنا فجر میں پڑھتا تھا اس سے کچھ کم کر دے ”تَحَرُّزًا عَنِ الْمَلَالِ“ اکتاہٹ سے بچنے کے لیے، تاکہ کہیں لوگ اکتاہٹ میں نہ پڑ جائیں، زیادہ طویل قراءت اس میں نہ کرے، اس سے فجر سے کچھ کم کر دے، تو یوں کہیے بھئی کہ وہاں پر انہوں نے دونوں صورتیں ذکر کیں مبسوط کے اندر کہ ظہر میں فجر کے مثل پڑھ لے یا اس سے کم، اس لیے کیونکہ ظہر کی مشابہت جو ہے، ظہر کی مشابہت فجر کے ساتھ بھی ہے وقت کی گنجائش میں، جیسے فجر کا وقت کھلا وقت ہے اسی طرح ظہر میں بھی کھلا وقت ہوتا ہے، لمبا وقت ہوتا ہے، اور بعض اعتبارات سے مشابہت نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہ وقت کون سا ہے؟ مشغولیت والا وقت ہے، تو ان دونوں طرف دونوں میں سے جس کو بھی چاہے اختیار کر سکتا ہے۔
”وَالْعَصْرُ وَالْعِشَاءُ سَوَاءٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ“ اور عصر اور عشاء یہ برابر ہیں، ”يَقْرَأُ فِيهِمَا بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ“ پڑھے ان کے اندر اوساطِ مفصل کو، کس کو؟ اوساطِ مفصل کو۔ یاد رکھیے قرآن کا جو آخری حصہ ہے آپ جانتے ہیں قرآن کے سات حصے ہیں جیسے تیس پاروں کے اندر قرآن کی تقسیم ہے اسی طرح حصوں کے اعتبار سے کتنے حصے ہیں؟ سات حصے، تو جو آخری حصہ ہے ساتواں اس کو مفصل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مفصل کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ اس کے اندر سورتیں بنسبت باقی حصوں کے ذرا چھوٹی سورتیں ہیں آخری حصے میں، تو ان میں فصل زیادہ ہے، کیا ہے؟ فصل زیادہ ہے، دیکھو ہر سورت الگ دوسری سے پھر دوسری سورت بسم اللہ سے شروع ہو گی، پھر اگلی سورت بسم اللہ، تو ان میں فصل زیادہ ہے لہٰذا اس آخری حصے کو کیا کہتے ہیں؟ مفصل کہتے ہیں مفصل۔ پھر اس مفصل کے میں تقسیم تین حصے ہیں بھئی، تین حصے: پہلے حصے میں اس کے ذرا لمبی سورتیں، درمیان والے میں ذرا اس سے چھوٹی اور آخر میں بالکل چھوٹی سورتیں آ جاتی ہیں، تو اس اعتبار سے اس مفصل کے تین حصے ہو گئے: ایک حصہ لمبی سورتوں والا اس کو کہتے ہیں طوالِ مفصل، طوال جمع ہے طویل کی طویل کی، تو اس میں لمبی سورتیں ہیں، طوالِ مفصل لمبی مفصل کی سورتیں جو ہیں، اور پھر درمیان والا جو ہے وہ ہے اوساطِ مفصل، اس میں متوسط درجے کی سورتیں ہیں اس حصے میں جو ہیں کے اعتبار سے، اور آخری حصہ کیا ہے؟ آخری حصہ قصارِ مفصل کہلاتا ہے، قصار جمع ہے قَصِیر کی، قَصِیر کہتے ہیں چھوٹے کو، تو اس میں کیا ہیں؟ چھوٹی سورتیں ہیں مفصل کے اس حصے میں۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَالْعَصْرُ وَالْعِشَاءُ سَوَاءٌ“ عصر اور عشاء برابر ہیں ”يَقْرَأُ فِيهِمَا بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ“ ان میں اوساطِ مفصل پڑھے ”وَفِي الْمَغْرِبِ دُونَ ذَلِكَ“ اور مغرب میں اس سے کم پڑھے ”يَقْرَأُ فِيهَا بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ“ مغرب کے اندر قصارِ مفصل میں سے پڑھے جو چھوٹی سورتیں ہیں۔
اور یہ دیکھ لیجیے یہ حاشیہ ہے بھئی، میری کتاب میں دس نمبر حاشیہ ہے، اس میں تفصیل دی ہے کہ اوساطِ مفصل، طوالِ مفصل اور قصارِ مفصل کون کون سی ہیں، کہتے ہیں: ”طِوَالُ الْمُفَصَّلِ مِنْ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ إِلَى سُورَةِ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ“ طوالِ مفصل جو ہے وہ سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ والسماء ذات البروج تک، یہ ہے طوالِ مفصل، اور... دیکھیے اس میں آخر میں آیا ”وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ“، سورۃ البروج کا ذکر کہاں آیا؟ طوالِ مفصل میں، اور فجر میں کون سی پڑھی جاتی ہیں؟ طوالِ مفصل پڑھی جاتی ہیں اور سورۂ بروج ان کے سب سے آخر میں ہے، معلوم ہوا یہ آخری سورت ہے، اوپر آیا تھا حالتِ قرار میں کیا پڑھے گا فجر میں؟ ”نَحْوَ سُورَةِ الْبُرُوجِ“، تو دیکھو یہ وہ آخری سورت وہاں ذکر ہے کہ یہ باقیوں کی بنسبت کچھ چھوٹی ہے۔ اچھا، تو یہ طوالِ مفصل ہے سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ والسماء ذات البروج تک، ”وَالْأَوْسَاطُ“ اور اوساطِ مفصل جو ہے ”مِنْهَا إِلَى سُورَةِ لَمْ يَكُنْ“ وہاں سے لے کر سورۂ لم یکن تک ہے ”وَالْقِصَارُ مِنْهَا إِلَى الْآخِرِ“ اور قصار پھر وہاں سے لے کر آخر تک، یہ ہے قصارِ مفصل بھئی۔
جی اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ فِيهِ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اصل اس کے اندر کتاب، یاد رکھیے کتاب جیسے یہ جس میں آپ پڑھ رہے ہیں اس کو جیسے عربی میں کتاب کہتے ہیں اسی طرح خط کو بھی عربی میں کتاب کہتے ہیں، خط کو بھی کیا کہتے ہیں؟ کتاب۔ تو کہتے ہیں اصل اس کے اندر، یہ جو ہم نے ذکر کیا کہ فجر میں یہ پڑھے، عصر عشاء میں یہ پڑھے، مغرب میں یہ پڑھے قصارِ مفصل پڑھے، تو اصل اس کے اندر ”كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ اصل اس کے اندر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ہے جو انہوں نے کس کو بھیجا؟ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہ ”أَنْ اقْرَأْ فِي الْفَجْرِ وَالظُّهْرِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ“ یہ کہ پڑھو فجر اور ظہر میں طوالِ مفصل ”وَفِي الْعَصْرِ وَالْعِشَاءِ بِأَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ“ اور عصر اور عشاء میں اوساطِ مفصل ”وَفِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ“ اور مغرب میں قصارِ مفصل پڑھو بھئی، تو یہ اصل ہے اس کی بنیاد پر۔
”وَلِأَنَّ مَبْنَى الْمَغْرِبِ عَلَى الْعُجْلَةِ وَالتَّخْفِيفُ أَلْيَقُ بِهَا“ اور دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مغرب کی بنیاد جلدی پر ہے، مغرب کا وقت کیا ہوتا ہے؟ مستحب وقت تھوڑا ہوتا ہے، تو اس کی بنیاد جلدی پر ہے ”وَالتَّخْفِيفُ أَلْيَقُ بِهَا“ اور تخفیف اس کے زیادہ لائق ہے کہ نماز کو کیا ہونا چاہیے؟ ہلکا ہونا چاہیے، مختصر ہونا چاہیے، تو اسی لیے اس میں قصارِ مفصل پڑھی جائے۔
”وَالْعَصْرُ وَالْعِشَاءُ يُسْتَحَبُّ فِيهِمَا التَّأْخِيرُ“، اچھا بھئی، عصر اور عشاء کا کیا ایا تھا اوپر ذکر کہ اس میں اوساطِ مفصل پڑھی جائیں گی اوساطِ، ایک تو نقلی دلیل تو گزر گئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ خط ہے بھئی، عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں عقلی، کہتے ہیں: ”عَصْرُ وَالْعِشَاءُ يُسْتَحَبُّ فِيهِمَا التَّأْخِيرُ“ ان میں مستحب تاخیر ہے، آپ نے پڑھا بھئی نمازوں کے اوقات جہاں بیان ہوئے تھے آپ نے پڑھا تھا کہ عصر کی نماز کو مؤخر کر کے پڑھا جائے، اسی طرح عشاء میں بھی تاخیر مستحب ہے، تو ان میں مستحب تاخیر ہے ”وَقَدْ يَقَعَانِ بِالتَّطْوِيلِ فِي وَقْتٍ غَيْرِ مُسْتَحَبٍّ فَيُوَقَّتُ فِيهِمَا بِالْأَوْسَاطِ“ اور کبھی کبھار یہ دونوں واقع ہو جائیں گے تطویل کی وجہ سے یعنی قراءت کو لمبا کرنے کی وجہ سے وقتِ غیرِ مستحب میں۔ بھئی ان عصر میں، عصر میں اور عشاء میں تاخیر مستحب ہے تو ان کو مؤخر کر کے پڑھا جاتا ہے، تو اگر ان میں لمبی قراءت کی جائے یعنی طوالِ مفصل کی قراءت کی جائے تو ان میں تو پہلے ہی تاخیر کی گئی ہے، اب قراءت بھی لمبی ہو جائے گی تو کہیں ایسا نہ ہو یہ وقتِ مستحب سے نکل کر کس میں داخل ہو جائیں؟ وقتِ غیرِ مستحب میں کہیں داخل نہ ہو جائیں، اس لیے وہاں پر طوالِ مفصل کے بجائے کس کے پڑھنے کا حکم دیا؟ اوساطِ مفصل کے، یہ معنی ہے ”وَقَدْ يَقَعَانِ بِالتَّطْوِيلِ فِي وَقْتٍ غَيْرِ مُسْتَحَبٍّ“ اور کبھی واقع ہو جائیں گی تطویل کی وجہ سے یعنی قراءت کو لمبا کرنے کی وجہ سے وقتِ غیرِ مستحب میں ”فَيُوَقَّتُ فِيهِمَا“ تو وہ نماز پڑھنے والا جو ہے ان میں تحدید کرے گا ”بِالْأَوْسَاطِ“ کس کے ساتھ؟ اوساط یعنی اوساطِ مفصل کے ساتھ ان کے تحدید کی جائے گی یعنی اس کے ساتھ اس کو اس کی حد بیان ہو گی کہ وہ پڑھے اس کے اندر بھئی، تو ”فَيُوَقِّتُ“ پڑھ لیں تو وہ ضمیر راجع ہے وہ نماز پڑھنے والے کی طرف یا ”فَيُوَقَّتُ“ پڑھ لیں یا اس کی تحدید کی جائے گی فیہما ان دونوں میں کس کے ساتھ؟ تحدید کی جائے گی اوساطِ مفصل کے ساتھ بھئی، یعنی اس کے ساتھ مقید کیا جائے گا وہ پڑھی جائیں گی اس میں۔
”وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْفَجْرِ عَلَى الثَّانِيَةِ“ اور لمبی کرے پہلی رکعت فجر میں سے علی الثانیۃ دوسری رکعت پر، یعنی فجر میں پہلی رکعت کیا کرے امام؟ لمبی پڑھے اور دوسری کے مقابلے میں، ”إِعَانَةً لِلنَّاسِ عَلَى إِدْرَاكِ الْجَمَاعَةِ“ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے جماعتوں کے پا لینے پر، امام کیا کرے؟ پہلی رکعت لمبی پڑھائے فجر میں تاکہ لوگوں کی مدد ہو جائے جماعت کے پا لینے پر کیونکہ وہ غفلت اور نیند کا وقت ہے تو تھوڑی جماعت لمبی کر لے تاکہ لوگ جماعت تک مل جائیں، جماعت میں آ کر شامل ہو جائیں، یہ صاحبِ ہدایہ نے دلیل ذکر کی بھئی، اور نیز یاد رکھیے اسی پر توارث بھی جاری ہے یعنی اسی پر اسی پر توارث بھی جاری ہے یعنی عمل ہوتا چلا آیا ہے اسی طرح بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے۔
”قَالَ: وَرَكْعَتَا الظُّهْرِ سَوَاءٌ“ اور ظہر کی دونوں رکعتیں برابر ہیں یعنی ان میں قراءت کیا کرے؟ برابر، فجر میں تو کیا کرے؟ پہلی رکعت لمبی دوسری کے مقابلے میں اور ظہر میں دونوں رکعتیں برابر، ”هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُطِيلَ الرَّكْعَةَ الْأُولَى عَلَى الثَّانِيَةِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ لمبی کرے پہلی رکعت دوسری پر تمام نمازوں کے اندر، کہ میرے نزدیک پسندیدہ کیا ہے؟ پہلی رکعت تمام نمازوں میں وہ لمبی ہونی چاہیے دوسری رکعت پر، ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى عَلَى غَيْرِهَا فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا“ کہ حضور علیہ السلام وہ پہلی رکعت کو لمبا فرماتے تھے علی غیرہا باقیوں پر فی الصلوات کلھا تمام نمازوں میں۔ تو یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ہے بھئی، وہ یہ حدیث پیش کرتے ہیں دلیل کے طور پر کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلی رکعت کو کیا ہونا چاہیے؟ باقیوں پر لمبا ہونا چاہیے۔
”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ اسْتَوَتَا فِي اسْتِحْقَاقِ الْقِرَاءَةِ“ کہ دونوں رکعتیں برابر ہیں قراءت کے استحقاق میں ”فَيَسْتَوِيَانِ فِي الْمِقْدَارِ“ تو دونوں برابر ہوں گی مقدار کے اندر بھی۔ دونوں رکعتیں استحقاقِ قراءت میں برابر ہیں یعنی دونوں کے اندر قراءت فرض ہے، پہلی رکعت کا حق بھی کیا ہے؟ اس میں کیا کی جائے؟ قراءت کی جائے، اس کے اندر فرض، دوسری رکعت کا حق بھی کیا ہے؟ اس میں کیا کی جائے؟ قراءت، تو دونوں جب استحقاقِ قراءت میں، قراءت کے مستحق ہونے میں یہ دونوں برابر ہیں تو مقدار کے اندر بھی کیا ہوں گی؟ برابر ہوں گی۔ یہ معنی ہے اس کے کہ دونوں برابر ہیں قراءت کے مستحق ہونے میں ”فَيَسْتَوِيَانِ فِي الْمِقْدَارِ“ تو یہ دونوں مقدار میں بھی برابر ہوں گی ”بِخِلَافِ الْفَجْرِ“ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جب دونوں جب دونوں رکعتیں قراءت کے استحقاق میں برابر ہیں تو مقدار میں بھی برابر ہونی چاہییں تو فجر میں آپ نے کیوں کہا پہلی رکعت کیا ہونی چاہیے دوسری کے مقابلے میں؟ لمبی، تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْفَجْرِ“ بخلاف کس کے؟ فجر کے ”لِأَنَّهُ وَقْتُ نَوْمٍ وَغَفْلَةٍ“ کیونکہ وہ نیند اور غفلت کا وقت ہے، تو اس لیے وہاں پر ذرا پہلی رکعت کو لمبا کر دے تاکہ لوگ جو ہیں پہنچ سکیں، جماعت میں شامل ہو سکیں۔
”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْإِطَالَةِ“ اور شیخین رحمہما اللہ حدیث کا اب جواب ذکر کر رہے ہیں کہ حدیث میں تو کیا آیا کہ حضور علیہ السلام تمام نمازوں میں کیا فرماتے تھے؟ پہلی رکعت کو باقی رکعتوں پر طویل فرماتے، لمبا فرماتے تھے، تو کہتے ہیں: ”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْإِطَالَةِ مِنْ حَيْثُ الثَّنَاءِ وَالتَّعَوُّذِ وَالتَّسْمِيَةِ“ اور حدیث محمول ہے لمبا کرنے پر ثناء، تعوذ اور تسمیہ کی حیثیت سے یعنی ان کے اعتبار سے، یعنی حدیث میں جو آیا کہ حضور علیہ السلام پہلی رکعت لمبی فرماتے تھے وہ اس وجہ سے کہ پہلی رکعت میں ثناء بھی آ جاتی تھی، ”سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ“ اور اسی طرح اعوذ باللہ بھی آ جاتی تھی اور بسم اللہ بھی آ جاتی تھی، تو اس وجہ سے پہلی رکعت دوسری رکعت کے مقابلے میں لمبی ہوتی تھی، باقی قراءت کے اعتبار سے، قراءت کے اعتبار سے برابر ہی ہوں گی بھئی۔
”وَلَا مُعْتَبَرَ بِالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ بِمَا دُونَ ثَلَاثِ آيَاتٍ لِعَدَمِ إِمْكَانِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ حَرَجٍ“، آپ نے پڑھ لیا کہ فجر میں پہلی رکعت میں قراءت ذرا زیادہ ہو دوسری کے مقابلے میں، صورت سمجھ میں آ گئی، وہ کچھ لمبی ہونی چاہیے۔ اور باقیوں میں قراءت برابر ہونی چاہیے، اور برابری کا یہ معنی نہیں ایک میں چار مثلاً ایک میں اگر جتنی آیتیں پڑھی ہیں دوسری میں بھی عینہٖ اتنی ہی برابر ہونی چاہییں، نہیں بھئی، ایک یا دو آیتوں کا اگر فرق ہو تو یہ اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، ایک دو آیتوں کا فرق بھی ہو تو بھی اس کو برابر ہی شمار کیا جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کیونکہ ابھی آپ نے پڑھا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام نے سفر میں معوذتین پڑھیں، اسی طرح مغرب میں بھی معوذتین پڑھنا ثابت ہے، تو اب معوذتین پہلی رکعت میں دیکھو سورۂ فلق آ گئی اس کی پانچ آیتیں ہیں، دوسری رکعت میں سورۂ ناس آ گئی اس کی چھ آیتیں ہیں، تو ایک آیت کا تو فرق یہاں بھی پڑ گیا، حالانکہ حالانکہ پہلی رکعت دوسری رکعت کو برابر ہونا چاہیے، دوسری رکعت کو لمبا کرنا بالاجماع مکروہ ہے یاد رکھیے بھئی، مکروہ ہے۔ تو حالانکہ ایک آیت کا فرق آ رہا ہے لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں، تو ایک یا دو آیتوں کا فرق ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ اس سے تو بچنا بڑا مشکل ہے، ہاں اس تین آیتوں کا فرق آ جائے یہ ٹھیک نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ اس کا مطلب ہے پھر دوسری رکعت آپ نے کیا کر دی؟ زیادہ لمبی کر دی۔
یہ معنی ہے ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ بِمَا دُونَ ثَلَاثِ آيَاتٍ“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے زیادتی اور کمی کا تین آیتوں سے کم، تین آیتوں سے کم زیادتی اور کمی کا کوئی اعتبار نہیں ”لِعَدَمِ إِمْكَانِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ حَرَجٍ“ اس لیے کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے بغیر حرج کے، بغیر تنگی کے، اگر بچے گا بچ تو سکتے ہیں انسان لیکن تنگی میں پڑ جائے گا بھئی، تو اس سے بچنا مشکل ہے۔
”وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ قِرَاءَةُ سُورَةٍ بِعَيْنِهَا لَا يَجُوزُ غَيْرُهَا“ اور نہیں ہے ”فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ“ کسی بھی نماز کے اندر ”قِرَاءَةُ سُورَةٍ“ کسی ایسی معین سورت کا پڑھنا، ”قِرَاءَةُ سُورَةٍ بِعَيْنِهَا“ ترجمے پہ نظر رکھنا بھئی، ”قِرَاءَةُ سُورَةٍ بِعَيْنِهَا“ کسی ایسی معین سورت کا پڑھنا کہ ”لَا يَجُوزُ غَيْرُهَا“ کہ اس کے علاوہ کوئی اور سورت جائز ہی نہ ہو۔ کسی نماز کے اندر کسی ایسی معین سورت کا پڑھنا نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور سورت جائز ہی نہ ہوتی ہو اس نماز میں، وہی سورت پڑھنی پڑے گی ایسا نہیں ہے، کسی بھی نماز میں کوئی کسی معین سورت کا پڑھنا ضروری نہیں، ”لِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا“ بوجہ مطلق ہونے اس کے جس کی ہم نے تلاوت کی یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا قول کیا ہے؟ ”فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ تو وہ مطلق ہے، معلوم ہوا جو بھی سورت پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے، کوئی سورت معین نہیں کسی نماز کے اندر۔
اچھا یہ تو مسئلہ بیان کر دیا، کسی نماز کے اندر کسی معین سورت کا پڑھنا ضروری نہیں۔ آگے یہ بیان کریں گے: ”وَيُكْرَهُ أَنْ يُوَقِّتَ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ“ اور یہ بھی مکروہ ہے کہ خود معین کرے کس قرآن میں سے کسی چیز کو نما... کسی نماز کے لیے، کوئی کسی معین سورت کا پڑھنا شرعاً بھی کسی نماز میں نہیں ہے کہ اس کے ضروری ہو اسی کو پڑھنا پڑے گا، اور خود کوئی معین کر لیتا ہے وہی سورت اسی نماز میں پڑھنا چاہ... پڑھتا ہے اور پڑھتا ہی نہیں ہے تو یہ بھی مکروہ ہے، مکروہِ تحریمی ہے بھئی، کہ اس نماز میں ہمیشہ وہ وہی سورت پڑھتا ہے، تو خود متعین کرنا بھی کیا ہے؟ مکروہ ہے، یہ معنی ہے ”وَيُكْرَهُ أَنْ يُوَقِّتَ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ“ اور مکروہ ہے یہ کہ معین کرے قرآن میں سے کسی چیز کو نما... کسی نماز کے لیے ”لِمَا فِيهِ مِنْ هَجْرِ الْبَاقِي“ اس وجہ سے کہ اس میں باقی سورتوں کا چھوڑنا ہے کہ باقی سورتیں کیا کر رہا ہے وہ؟ چھوڑ رہا ہے، اور یہ تو بڑی غلطی ہے، اور نیز ”وَإِيهَامِ التَّفْضِيلِ“ اس میں فضیلت کا وہم ڈالنا ہے، اس سے تو دوسرے کے ذہن میں یہ وہم ڈلے گا کہ شاید اس سورت کا پڑھنا اس میں افضل ہے، لہٰذا یہ درست نہیں۔
”وَلَا يَقْرَأُ الْمُؤْتَمُّ خَلْفَ الْإِمَامِ“ اور مقتدی جو ہے وہ قراءت نہیں کرے گا امام کے پیچھے۔ یاد رکھیے ہمارے نزدیک مقتدی جو ہے وہ امام کے پیچھے قراءت نہیں کرے گا، خاموش رہے گا، خاموشی سے سنے گا بھئی۔ تو خاموشی سے سنے گا اور اگر کوئی قراءت کرتا ہے تو یہ مکروہِ تحریمی ہے بھئی ہمارے عند الاحناف بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَقْرَأُ الْمُؤْتَمُّ خَلْفَ الْإِمَامِ“ اور قراءت نہیں کرے گا مقتدی امام کے پیچھے ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْفَاتِحَةِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے سورۂ فاتحہ میں، وہ فرماتے ہیں مقتدی بھی سورۂ فاتحہ پڑھے گا، جیسے امام پڑھتا ہے مقتدی بھی سورۂ فاتحہ پڑھے گا۔ ”لَهُ“ ان کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْقِرَاءَةَ رُكْنٌ مِنَ الْأَرْكَانِ“ کہ قراءت جو ہے نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے ”فَيَشْتَرِكَانِ فِيهِ“ تو امام اور مقتدی دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ بھئی جیسے اور نماز کے اندر فرائض ہیں بھئی، رکوع ہے، سجدہ ہے، اس میں جیسے مقتدی شریک ہوتا ہے امام کے ساتھ، وہ رکنِ صلاۃ ہیں تو جیسے امام ادا کرتا ہے اسی طرح مقتدی بھی ادا کرتا ہے تو یہ قراءت بھی کیا ہے؟ رکنِ صلاۃ ہے لہٰذا اس میں بھی مقتدی ساتھ شریک ہو گا، دونوں قراءت کریں گے۔
”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ“ جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قراءت اسی کی قراءت ہے، اسی مقتدی کی قراءت ہے یعنی وہ اسی کی طرح ہے گویا وہ خود پڑھ رہا ہے، ”وَعَلَيْهِ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اس پر تو صحابہ کا اجماع نہیں ہے، اگر اجماع ہوتا تو امام شافعی رحمہ اللہ کو بھی اس کا علم ہوتا، لیکن وہ فرما رہے ہیں کہ کیا کرے؟ فاتحہ کی قراءت مقتدی بھی کرے گا۔ تو مراد یہ ہے اکثر صحابہ مراد ہیں بھئی، چنانچہ علماء لکھتے ہیں کہ اسی صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے امام کے پیچھے قراءت سے منع کیا ہے، اسی صحابہ نے منع کیا ہے کہ امام کے پیچھے قراءت نہ کی جائے۔
تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ رُكْنٌ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا“، اب د... جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا، انہوں نے کیا دلیل ذکر کی تھی کہ یہ قراءت بھی رکنِ صلاۃ ہے لہٰذا اس میں امام اور مقتدی دونوں شریک ہوں گے، تو جواب دے رہے ہیں کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، ”وَهُوَ رُكْنٌ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا“ اور یہ ایسا رکن ہے جو مشترک ہے مقتدی اور امام دونوں کے درمیان یعنی دونوں پر ضروری ہے، ”لَكِنَّ حَظَّ الْمُقْتَدِي الْإِنْصَاتُ وَالِاسْتِمَاعُ“ لیکن مقتدی کا حصہ خاموش رہنا اور سننا ہے۔ دونوں پر فرض ہے، دونوں اس میں شریک ہیں لیکن یہاں پر امام کا کام کیا ہے؟ قراءت کرنا اور مقتدی کا کام خاموش رہنا اور توجہ سے سننا ہے، استماع کہتے ہیں توجہ سے سننا۔ ”قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وَإِذَا قُرِئَ فَأَنْصِتُوا“ اور جب قراءت کی جائے تو تم خاموش رہو، نیز اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ“ کہ جب قراءت کی جائے قرآن کی، قران پڑھا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے، تو لہٰذا خاموش رہنا چاہیے اور حدیث بھی آ گئی۔
”وَيُسْتَحْسَنُ عَلَى سَبِيلِ الِاحْتِيَاطِ فِيمَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ بطورِ احتیاط کے پسندیدہ ہے کہ قراءت کر لے، مقتدی بھی کیا کر لے؟ فاتحہ پڑھ لے، اور بطورِ احتیاط کے، یہ معنی ہے ”وَيُسْتَحْسَنُ عَلَى سَبِيلِ الِاحْتِيَاطِ“ اور پسندیدہ ہے بطورِ احتیاط کے ”فِيمَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدٍ“ اس روایت میں جو مروی ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، ”وَيُكْرَهُ عِنْدَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک مکروہ ہے ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ“ اس وجہ سے کہ اس میں وعید آئی ہے بھئی، اس بارے میں کیا آئی ہے؟ وعید آئی ہے، یہ اپ کے حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جس نے امام کے پیچھے قراءت کی ”فَفِي فِيهِ جَمْرَةٌ“ تو اس کے منہ میں انگارہ ہے، اس کے منہ میں کیا ہے؟ انگارہ ہے بھئی، اسی طرح اور بھی صحابہ وغیرہ سے اس قسم کی روایات ہیں بھئی۔
”وَيَسْتَمِعُ وَيُنْصِتُ وَإِنْ قَرَأَ الْإِمَامُ آيَةَ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ“، ترغیب کا معنی ہے رغبت دلانا یعنی امام اگر جنت وغیرہ ایسی آیتیں پڑھتا ہے جن میں جنت کا ذکر ہے، اور ترھیب کا معنی ہے ڈرانا، خوفزدہ کرنا، تو مراد یہ ہے کہ امام ایسی آیتیں پڑھتا ہے جن میں جہنم کا ذکر ہے، تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَمِعُ وَيُنْصِتُ وَإِنْ قَرَأَ الْإِمَامُ آيَةَ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ“ اور توجہ سے سنے اور خاموش رہے اگرچہ امام ترغیب یا ترہیب والی ایت پڑھے، پھر بھی خاموش رہے یعنی جنت کا ذکر ائے ایت کے اندر تو یہ مقتدی جو ہے وہ جنت کی دعا نہ کرے بھئی، جنت کی دعا نہ کرے یعنی پیچھے جنت کا سوال شروع کر دے، اللہ سے دعا شروع کر دے، اور اسی طرح اگر امام ترہیب والی کوئی ایت پڑھتا ہے جس میں جہنم کا ذکر ہے تو مقتدی پیچھے جہنم سے پناہ کی دعا نہ کرے بلکہ خاموش رہے، تو امام چاہے ترغیب والی ایت پڑھے چاہے ترہیب والی پڑھے، مقتدی کیا کرے؟ خاموش رہے اور توجہ سے سنتا رہے، ”لِأَنَّ الِاسْتِمَاعَ وَالْإِنْصَاتَ فَرْضٌ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ توجہ سے سننا اور خاموش رہنا یہ فرض ہے نص سے، قرآن میں کیا ایا؟ اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ تو یہ نص سے فرض ہے، ”وَالْقِرَاءَةُ وَسُؤَالُ الْجَنَّةِ وَالتَّعَوُّذُ مِنَ النَّارِ كُلُّ ذَلِكَ مُخِلٌّ بِهِ“ اور قراءت کرنا یعنی مقتدی کا پیچھے قراءت کرنا، اسی طرح ”وَسُؤَالُ الْجَنَّةِ“ مقتدی کا جنت کو مانگنا ”وَالتَّعَوُّذُ مِنَ النَّارِ“ اور آگ سے پناہ مانگنا یعنی جہنم سے پناہ مانگنا ”كُلُّ ذَلِكَ مُخِلٌّ بِهِ“ یہ سب اس میں خلل ڈالنے والے ہیں۔
خاموش رہنا اور توجہ سے سننا یہ تو فرض ہیں اور اگر پیچھے مقتدی قراءت کرتا ہے یا جنت کا سوال کرتا ہے یا اگ سے پناہ مانگتا ہے تو یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ مخل ہیں، خلل ڈالنے والی ہیں، کس چیز میں؟ توجہ سے سننے میں اور خاموش... یہ تو حکم تو کیا دیا گیا ہے؟ توجہ سے سنو اور خاموش رہو، ان سے اس سے تو ان میں خلل ائے گا، ”وَكَذَلِكَ فِي الْخُطْبَةِ“ اور اسی طرح کس کے اندر؟ خطبے کے اندر، جب خطیب خطبہ دے رہا ہے مثلاً جمعے کا ہے یا عید وغیرہ کا خطبہ ہے تو ان میں بھی خاموش رہنا اور توجہ سے سننا ضروری ہے۔ ”وَكَذَلِكَ إِنْ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور اسی طرح ہے یعنی غور سے سنے اور خاموش رہے اگر خطیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، خطیب کیا کرے؟ خطبہ دینے والا درود پڑھے، خطیب درود پڑھے تو سننے والے جو ہیں ان کو خاموش رہنا چاہیے، حالانکہ عام لوگ کیا کرتے ہیں؟ درود پڑھتے ہیں، حالانکہ خاموش رہنا ضروری ہے، ”لِفَرْضِيَّةِ الِاسْتِمَاعِ“ اس وجہ سے کہ غور سے سننا فرض ہے، توجہ سے سننا فرض ہے، ”لِفَرْضِيَّةِ الِاسْتِمَاعِ“ استماع کے فرض ہونے کی وجہ سے ”إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ الْخَطِيبُ قَوْلَهُ تَعَالَى“ مگر یہ کہ خطیب پڑھے اللہ کا یہ قول ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ“ الآیۃ، یہ ایت اگر پڑھے ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ“ ”فَيُصَلِّي السَّامِعُ فِي نَفْسِهِ“ تو اس صورت میں بھی سننے والا درود پڑھے ”فِي نَفْسِهِ“ اپنے دل میں بھئی، اپنے دل میں یعنی خاموشی سے۔
”وَاخْتَلَفُوا فِي النَّائِي عَنِ الْمِنْبَرِ“ اور اختلاف کیا ہے اس شخص کے بارے میں جو منبر سے دور ہے، بھئی یہ پہلے تو بیان ہوئے وہ وہ لوگ جو منبر کے قریب بیٹھے ہیں جنہیں خطبے کی اواز سنائی دے رہی ہے ان کو خاموش رہنا چاہیے اور توجہ سے خطبہ سننا چاہیے، اور جو ادمی منبر سے دور ہے اس تک اواز ہی نہیں پہنچ رہی اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو اس کے بارے میں فقہاء کا فقہاء جو ہیں انہوں نے کیا کیا ہے؟ اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا اس پر خاموش رہنا فرض ہے، بعضوں نے کہا خاموش رہنا فرض نہیں کیونکہ وہ دور ہے اس تک اواز ہی نہیں پہنچ رہی کیونکہ خاموش رہنے کا مقصد تو کیا تھا تاکہ توجہ سے خطبے کو سن لے اور اب تو اس تک اواز ہی نہیں پہنچ رہی، تو کہتے ہیں: ”وَاخْتَلَفُوا فِي النَّائِي عَنِ الْمِنْبَرِ“ تو اختلاف کیا ہے فقہاء نے اس شخص کے بارے میں جو منبر سے دور ہے ”وَالْأَحْوَطُ هُوَ السُّكُوتُ إِقَامَةً لِفَرْضِ الْإِنْصَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور زیادہ احتیاط وہ کس میں ہے؟ خاموش رہنے میں ہے کہ وہ بھی خاموش رہے ”إِقَامَةً لِفَرْضِ الْإِنْصَاتِ“ تاکہ خاموش رہنے کا فرض قائم کرے بھئی، تاکہ خاموش رہنے کا فرض جو ہے اس کو قائم کرے، اس پر عمل کرے ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ ہی خوب درست جاننے والے ہیں بھئی، چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔