Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ، أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا، وَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ اسْتِحَاضَةٌ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”أَقَلُّ الْحَيْضِ لِلْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا، وَأَكْثَرُهُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ“، وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي التَّقْدِيرِ بِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ۔ بَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ۔ یہ باب ہے حیض اور استحاضہ کے بیان میں۔ حیض بھئی لغت میں بہنے والے خون کو کہتے ہیں، نکلنے والے خون کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ اور شرعاً وہ خون جو بالغہ عورت کے رحم سے ہر ماہ چند یوم تک آتا ہے، اسے حیض کہا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اصطلاحی تعریف یہ آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہے بھئی: قِيلَ: ”هُوَ دَمٌ يَنْفِضُهُ رَحِمُ امْرَأَةٍ سَلِيمَةٍ مِنَ الدَّاءِ وَالصِّغَرِ“، وہ دم ہے جو پھینکے یعنی خارج ہو جو کس سے؟ رَحِمِ امْرَأَةٍ، ایسی عورت کے رحم سے، سَلِيمَةٍ مِنَ الدَّاءِ، جو بیماری سے سلامت ہو یعنی بیمار نہ ہو، وَالصِّغَرِ، اور صغر سے بھی سلیم ہو یعنی صغیرہ نہ ہو۔ اور اسی طرح آئسہ بھی نہ ہو بھئی، وہ بھی بیماری کی وجہ سے ہو گا۔ بھئی یاد رکھیے یہ جو حیض ہے، یہ بیماری کی علامت نہیں بلکہ یہ صحت کی علامت ہے بھئی، صحت کی۔ تندرست عورت کو آتا ہے حیض بھئی۔ اور ہر ماہ چند دن آتا ہے اور اس میں عورت کی عادت کا معتبر ہے بھئی، عورت کی عادت۔ ہر عورت کی کوئی مخصوص عادت ہوتی ہے اسی کے مطابق اسے یہ خون آتا ہے۔ مثلاً کوئی عورت ہے اس کو اسے چار دن آتا ہے تو ہر مہینے ہی چار دن آئے گا۔ کسی کو پانچ دن یا چھ دن آتا ہے تو ہر مہینے ہی اتنے ہی دن آئے گا۔ عورتوں کی اس میں عادت ہوتی ہے عادت بھئی۔ تو عِنْدَ الْأَحْنَافِ اس میں عادت کا اعتبار ہے بھئی۔ اور اگر مثلاً ایک عورت کو ہر مہینے چار دن خون آتا ہے اگلے مہینے مثلاً پانچ دن آیا تو ہم کہیں گے عادت بدل گئی بھئی، عادت بدل گئی۔ پھر اس سے اگلے مہینے مثلاً چھ دن آیا تو ہم پھر کہیں گے عادت بدل گئی بھئی۔ تو یہ سارا کیا شمار ہو گا؟ حیض شمار ہو گا کیونکہ آگے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ تو یہ تین اور دس کے درمیان چاہے ہر مہینے بدلتا رہے اس کو کیا کہیں گے کہ عورت کی عادت بدل رہی ہے، بدل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں دیکھیے کتاب میں: أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا، حیض کی کم سے کم مدت جو ہے وہ تین دن اور ان کی راتیں یعنی تین راتیں ہیں، وَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ اسْتِحَاضَةٌ، اور جو اس سے کم ہو تو وہ استحاضہ ہے۔ وہ کیا ہے؟ استحاضہ۔ بھئی یاد رکھیے عورت کو جو خون آئے وہ تین قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک کو حیض کہتے ہیں، ایک کو استحاضہ کہتے ہیں، ایک کو نفاس کہتے ہیں۔ حیض تو ابھی جیسے میں نے ذکر کیا جو عادت کے مطابق ہر بالغہ عورت کو ہر مہینے چند یوم خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔ اور اسی طرح بچے کی ولادت کے بعد جو خون آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ نفاس کہلاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ، ان کے علاوہ جو خون آئے گا اسے استحاضہ کہتے ہیں اور وہ کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ہو گا تو اس کو استحاضہ کہتے ہیں بھئی، استحاضہ۔ تفصیل آگے بھی آ جائے گی بھئی، استحاضہ کا مستقل مفصل طور پر بیان کریں گے۔ تو سب سے پہلے حیض کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت جو ہے وہ تین دن تین راتیں ہیں بھئی، اور اس سے جو کم ہو جائے وہ استحاضہ ہے۔ ایک عورت کو خون آنا شروع ہوا اور وہ دو دن کے بعد ہی رک گیا معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ استحاضہ ہے کیونکہ حیض تو کم از کم کتنے دن ہوتا ہے؟ تین دن تک، اس سے کم نہیں بھئی۔ اور آگے آپ کو بتلائیں گے زیادہ سے زیادہ حیض دس دن تک ہوتا ہے تو اگر خون آنا شروع ہوا اور دس دن سے بھی زائد ہو گئے تو یہ جو زائد ہو گا یہ کیا ہو گا؟ استحاضہ ہو گا بھئی۔ اور اس میں پھر عادت کا بھی اعتبار کریں گے جی، تفصیل آگے آئے گی آہستہ آہستہ ساتھ ساتھ بھئی۔ تو کہتے ہیں حیض کی کم سے کم مدت جو ہے وہ تین دن اور راتیں ہیں اور وہ جو اس سے کم ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”أَقَلُّ الْحَيْضِ لِلْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ کم سے کم حیض جو ہے لِلْجَارِيَةِ، جاریہ جیسے باندی کو کہتے ہیں عربی زبان میں، اسی طرح لڑکی کو بھی کہتے ہیں۔ تو اقل حیض جو ہے لِلْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ، بکر کنواری بھئی، ثیب غیر کنواری بھئی، کہ کم سے کم حیض جو ہے کنواری لڑکی یا غیر کنواری لڑکی کے لیے ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا وہ تین دن اور تین راتیں ہیں بھئی، وَأَكْثَرُهُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ، اور زیادہ سے زیادہ حیض کتنا ہے؟ کنواری ہو یا غیر کنواری لڑکی ان کے لیے زیادہ سے زیادہ حیض کی مدت وہ دس دن ہے، وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي التَّقْدِيرِ بِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، اور یہ حدیث حجت ہے دلیل ہے عَلَى الشَّافِعِيِّ، علی کس لیے آتا ہے؟ ضرر کے لیے، تو کیا معنی کریں گے؟ خلاف خلاف۔ یہ دلیل یہ حدیث جو ہے دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف فِي التَّقْدِيرِ بِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ایک دن اور رات کے ساتھ اندازہ کرنے میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اقل مدت حیض جو ہے وہ ایک دن اور ایک رات ہے بھئی۔ کم از کم اتنا ہو سکتا ہے بھئی، کم از کم۔ جبکہ ہمارے نزدیک تین دن اور تین راتیں بھئی، اس سے کم حیض نہیں ہو سکتا۔ اور یہ حدیث ہماری دلیل ہے جس میں کیا آیا کہ کم سے کم مدت تین دن اور تین راتیں۔ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّهُ يَوْمَانِ وَالْأَكْثَرُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اقل مدت حیض دو دن اور تیسرے دن کا اکثر حصہ۔ یعنی اکثر یعنی نصف سے جو زائد ہو۔ معلوم ہوا ڈھائی دن سے زیادہ خون آ جائے تو یہ کیا ہے؟ حیض۔ اس سے کم نہیں ہو سکتا، ڈھائی دن سے زیادہ ہو گا بھئی۔ تو تیسرے دن میں انہوں نے آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: ”لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“، تو یہاں پر بھی انہوں نے اکثر کو کل کا حکم دے دیا کہ تیسرے دن کے جب اکثر حصے میں خون آیا تو گویا کہ سارا دن ہی خون آیا تو یہ تین دن ہی ہوئے گویا۔ تو ان کے نزدیک دو دن وَالْأَكْثَرُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ اور تیسرے دن کا اکثر حصہ، إِقَامَةً لِلْأَكْثَرِ مَقَامَ الْكُلِّ، اکثر کو کل کے قائم مقام کرتے ہوئے۔ قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: هَذَا نَقْصٌ عَنِ التَّقْدِيرِ الشَّرْعِيِّ، کہ یہ کم کرنا ہے شریعت کے مقرر کیے ہوئے سے۔ شریعت نے تو کیا مقرر کیا حدیث میں کیا آیا؟ تین دن تین راتیں۔ تو اگر آپ کی بات مان لی جائے تیسرے دن کے صرف اکثر ہی کا اعتبار کر لیا جائے تو شریعت نے تو مقرر کیے تھے تین دن اور اس صورت میں کیا کرنا کیا کرنا پڑے گا؟ شریعت کے مقرر کی ہوئی مقدار سے کم کو ماننا پڑے گا اور یہ صحیح نہیں بھئی، اس میں شریعت نے جو چیز مقرر کی ہے اس میں کمی نہیں کی جا سکتی۔ وَأَكْثَرُهُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ، اور زیادہ سے زیادہ حیض کی مدت جو ہے وہ دس دن ہے، وَالزَّائِدُ اسْتِحَاضَةٌ، اور جو اس سے زائد ہے وہ استحاضہ ہے، لِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ابھی ہم نے روایت کی، وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي التَّقْدِيرِ بِخَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، اور یہ حدیث دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف پندرہ دن کے ساتھ اس کا اندازہ لگانے میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حیض زیادہ سے زیادہ پندرہ دن تک ہو سکتا ہے، پندرہ دن تک ہو سکتا ہے۔ تو یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہوئی، اس میں کیا آیا زیادہ سے زیادہ کتنے دن تک ہے؟ دس دن تک ہے بھئی۔ اور والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ حق یہ ہے کہ اس مسئلے کے اندر صرف احناف کے پاس احناف کی دلیل قوی ہے اور کسی کے پاس قوی دلیل موجود نہیں ہے بھئی، ہمارے پاس یہ واضح حدیث ہے بھئی اور بھی دلائل ہیں تو باقیوں کے پاس کوئی ایسی قوی دلیل ہے ہی نہیں جس سے ان کا مذہب ثابت ہو بھئی۔ ثُمَّ الزَّائِدُ وَالنَّاقِصُ اسْتِحَاضَةٌ، پھر وہ جو زائد ہے یعنی دس سے جو زائد ہے، وَالنَّاقِصُ اور وہ جو کم ہے یعنی جو تین سے کم ہے، اسْتِحَاضَةٌ وہ استحاضہ ہے، لِأَنَّ تَقْدِيرَ الشَّرْعِ يَمْنَعُ إِلْحَاقَ غَيْرِهِ بِهِ، اس لیے کیونکہ شریعت کا مقرر کرنا یہ روک دیتا ہے کس چیز کو روکتا ہے؟ إِلْحَاقَ غَيْرِهِ بِهِ کہ اس کے غیر کو اس کے ساتھ ملایا جائے۔ شریعت نے جب بتلا دیا کم سے کم کتنے ہیں حیض کی مدت؟ تین دن، تو تین سے کم کو اس کے ساتھ ملانا درست نہیں۔ اور شریعت نے جب بتلا دیا کہ زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے؟ دس دن ہے، تو دس سے زائد جو ہے اس کو اس حیض کے ساتھ ملانا صحیح نہیں، وہ حیض شمار نہیں ہو گا بلکہ وہ کیا شمار ہو گا؟ استحاضہ۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ تَقْدِيرَ الشَّرْعِ يَمْنَعُ إِلْحَاقَ غَيْرِهِ بِهِ، اس لیے کیونکہ شریعت کا مقرر کرنا یہ روک دیتا ہے اس کے علاوہ کو اس کے ساتھ ملانے سے۔ وَمَا تَرَاهُ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحُمْرَةِ وَالصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ حَيْضٌ، بھئی حیض کے مسائل اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ جہاں کوئی شبہ وغیرہ آئے وہ سوال پوچھتے جائیے آپ بھئی اور خوب اچھی طرح آپ کے ذہن میں مسائل اس کے واضح ہو جائیں بھئی، پھر اس طرح تفصیل آگے نہیں آئے گی۔ وَمَا تَرَاهُ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحُمْرَةِ وَالصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ حَيْضٌ، اور وہ جس کو عورت دیکھے یہ مِن بیان ہے مَا کا۔ یہ جگہ جگہ اس طرح کی عبارت آ رہی ہے کہ مِنْ کے ذریعے مَا کا بیان کیا جاتا ہے۔ اور وہ جس کو عورت دیکھے بھئی وہ کیا چیز ہے؟ مِنَ الْحُمْرَةِ یعنی کہ سرخی، وَالصُّفْرَةِ اور زردی، وَالْكُدْرَةِ کدرت کہتے ہیں مٹیالا پن بھئی، گدلا ہونا، میلا ہونا، میلا سیاہی کی طرف مائل، گدلا ہونا، سیاہی کی طرف مائل جو میلا ہے بھئی۔ تو وہ جس کو عورت دیکھے یعنی کہ سرخی، زردی اور گدلا پن، حَيْضٌ وہ حیض ہے۔ تو یہ مِنْ کے ذریعے کیا بیان ہو رہا ہے؟ مَا کا بیان۔ اور میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا کہ یہ جو بیان ہوتا ہے ترجمہ کرتے ہوئے اس کو جس کا بیان ہے اس کی جگہ پر لے جائیں۔ حُمْرَة سرخی یعنی سرخ رنگ، صُفْرَة زردی یعنی زرد رنگ، وَالْكُدْرَةِ اور گدلا رنگ یعنی میلا رنگ جو سیاہی کی طرف مائل ہو، حَيْضٌ یہ سب کیا ہیں؟ حیض۔ تو یہ حُمْرَة، صُفْرَة اور كُدْرَة یہ بیان ہے کس کا؟ مَا کا، تو ترجمہ کرتے ہوئے اسی کی جگہ پر ذرا لے جائیں: اور وہ سرخی اور زردی اور میلا پن وہ مٹیالا رنگ جس کو عورت دیکھے، حَيْضٌ وہ کیا ہے؟ حیض۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ حَتَّى تَرَى الْبَيَاضَ خَالِصًا، یہاں تک کہ خالص سفیدی دیکھ لے بھئی، خالص۔ یاد رکھیے یہ حیض کے لیے عورتیں کپڑا رکھتی ہیں وہ خون وغیرہ کو روکنے کے لیے، تو اس پر اس کپڑے کو رکھا اگر اس پر سرخ رنگ ہے یہ بھی حیض ہے۔ اگر زرد ہے تو وہ بھی حیض ہے اور اگر سیاہی مائل میلا ہے تو وہ بھی کیا ہے؟ حیض ہے۔ حَتَّى تَرَى الْبَيَاضَ خَالِصًا، یہاں تک کہ کیا دیکھ لے؟ خالص سفیدی یعنی جیسا کپڑا رکھا تھا اسی طرح سفید ہے تو معلوم ہوا اب حیض رک چکا ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: ”لَا تَكُونُ الْكُدْرَةُ مِنَ الْحَيْضِ إِلَّا بَعْدَ الدَّمِ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کدرت جو میلا پن ہے سیاہی کی طرف جو مائل گدلا پن ہے وہ حیض لَا تَكُونُ مِنَ الْحَيْضِ یہ حیض میں سے نہیں ہے، إِلَّا بَعْدَ الدَّمِ مگر یہ کہ یہ خون کے بعد ہو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گدلا پن یعنی یہ جو میلا سیاہی مائل رنگ ہے یہ اگر سرخ خون کے بعد دیکھے عورت، پہلے سرخ خون تھا اس کے بعد یہ رنگ دیکھا تو یہ حیض میں شمار ہو گا اور اگر یہ گدلا پن خون سرخ خون سے پہلے تھا شروع میں تھا تو پھر اس صورت میں یہ حیض میں سے نہیں۔ اس صورت میں یہ حیض میں سے نہیں ہے بھئی، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مِنَ الرَّحِمِ لَتَأَخَّرَ خُرُوجُ الْكَدِرِ عَنِ الصَّافِي، اس لیے کیونکہ اگر یہ رحم سے ہوتا تو مؤخر ہوتا اس گدلے کا نکلنا عَنِ الصَّافِي صاف کے بعد بھئی۔ وہ فرماتے ہیں یہ یہ جو گدلا پن دیکھا عورت نے یہ معلوم ہوا یہ رحم سے خارج نہیں ہوا۔ اگر رحم سے خارج ہوتا تو پھر یہ سرخ خون کے بعد ہوتا، سرخ خون کے بعد ہوتا۔ اس لیے کیونکہ یہ گدلا پن ہے میلا پن ہے اور پہلے صاف چیز نکلتی ہے اس کے بعد جو میل وغیرہ ہوتا ہے وہ اس کے بعد نکلتا ہے تو بعد میں آئے تو یہ حیض ہے، یہ اسی کا معلوم ہوا میل وغیرہ، اور اگر پہلے آئے تو پھر یہ حیض میں سے نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ مِنَ الرَّحِمِ، اگر یہ رحم ہی میں سے ہوتا، لَتَأَخَّرَ خُرُوجُ الْكَدِرِ عَنِ الصَّافِي، تو مؤخر ہوتا اس مٹیالے پن کا نکلنا صافی یعنی صاف سے۔ وَلَهُمَا، اور طرفین کی دلیل مَا وہ حدیث ہے رُوِيَ جو روایت کی گئی ہے: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا جَعَلَتْ مَا سِوَى الْبَيَاضِ الْخَالِصِ حَيْضًا، کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قرار دیا مَا سِوَى الْبَيَاضِ الْخَالِصِ خالص سفیدی کے علاوہ کو حَيْضًا حیض بھئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خالص سفیدی کے علاوہ باقی سب کو کیا قرار دیا؟ حیض قرار دیا، وَهَذَا لَا يُعْرَفُ إِلَّا سَمَاعًا، اور اس بات کو نہیں جانا جا سکتا مگر سماعت سے ہی سننے سے ہی۔ عورتیں صحابیہ عورتیں جو تھیں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اپنے وہ حیض کے کپڑے بند کر کے بھجواتیں کہ آپ دیکھ لیں کہ یہ جو رنگ ہے اب مثلاً زرد رنگ ہے یا میلا پن ہے یہ حیض ہے یا حیض نہیں؟ اگر حیض نہیں ہے تاکہ پھر ہم نمازیں پڑھنا شروع کر دیں بھئی۔ نمازیں پڑھنا، تو وہ پوچھنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجتیں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سب کو حیض قرار دیا سوائے خالص سفیدی کے، سب کو حیض قرار دیا۔ اور حضرت عائشہ سب کو حیض قرار دے رہی ہیں اس بات کا پتا معلوم ہوا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا جبھی تو سب کو وہ کیا قرار دے رہی ہیں؟ حیض قرار دے رہی ہیں کیونکہ ویسے تو اس بات کا پتا نہیں چل سکتا کہ یہ حیض میں سے ہے یا حیض میں سے نہیں ہے، معلوم ہوا انہوں نے سنا ہو گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ یہ معنی ہے: وَهَذَا لَا يُعْرَفُ إِلَّا سَمَاعًا، اور اس بات کو جانا نہیں جا سکتا مگر سماعت سے ہی سننے سے ہی۔ اور باقی جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ مٹیالا پن اگر صاف خون کے بعد دیکھے تو وہ حیض ہے اگر پہلے دیکھے تو وہ حیض نہیں، اس لیے کیونکہ میل کچیل جو ہے وہ صاف چیز کے بعد نکلتی ہے تو پہلے صاف خون نکلے گا اس کے بعد میلا وہ دیکھے گی عورت تو تو ہم جواب دیتے ہیں کہ: وَفَمُ الرَّحِمِ مَنْكُوسٌ، رحم کا منہ جو ہے مَنْكُوسٌ اوندھا ہے الٹا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تو اس صورت میں ہے بھئی دیکھیے برتن ہے کوئی گھڑا وغیرہ ہے اس میں پانی ہے تو اگر اس گھڑے کو الٹائیں گے تو پہلے صاف پانی نکلے گا اور آخر میں جو پیندے کے اندر میل کچیل ہے وہ آخر میں نکلے گی بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ یہاں بھی اسی طرح پہلے صاف خون آئے گا اور اس کے بعد وہ میلا آئے تو وہ حیض ہی میں سے ہے لیکن اگر پہلے میلا آئے تو یہ حیض میں سے نہیں ہے بھئی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ کہ آپ کی بات ٹھیک ہے پہلے صاف نکلے اور پھر بعد میل کچیل بعد میں آتی ہے لیکن یہ تو اس وقت ہے جب برتن کو اوپر کی طرف سے الٹایا جائے، لیکن اگر برتن کے پیندے میں سوراخ کیا جائے تو پہلے میل کچیل نکلے گا اور اس کے بعد پھر صاف پانی نکلے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح عورت کا رحم اوندھا ہے یعنی الٹا ہے تو اس میں بھی پہلے میل جو ہے وہ نکل سکتا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ گدلا پن پہلے آ سکتا ہے۔ وَفَمُ الرَّحِمِ مَنْكُوسٌ، اور رحم کا منہ جو ہے مَنْكُوسٌ اوندھا ہے الٹا ہے، فَيَخْرُجُ الْكَدِرُ أَوَّلًا، تو مٹیالا پن جو ہے وہ نکلے گا پہلے، كَالْجَرَّةِ، جیسے کہ گھڑا ہوتا ہے، إِذَا ثُقِبَ أَسْفَلُهَا، جب سوراخ کر دیا جائے اس کے نچلے حصے میں۔ وَأَمَّا الْخُضْرَةُ، باقی بھئی سبز رنگ اگر کوئی دیکھے کچھ سبزی مائل رنگ دیکھے کپڑے پر عورت تو کہتے ہیں: فَالصَّحِيحُ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا كَانَتْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ تَكُونُ حَيْضًا، تو صحیح قول یہ ہے کہ اگر عورت جو ہے مِنْ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ حیض والیوں میں سے ہو۔ کس میں سے ہو؟ آپ نے پڑھا ہے بھئی اقراء جمع ہے قرء کی، اسی طرح قروء بھی۔ جیسے اصول الشاشی میں مسئلہ آتا ہے، ہاں: ﴿يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾، تو قروء کس کو کہتے ہیں؟ قرء کی جمع اور یہ حیض کو کہتے ہیں تو اسی کی ایک جمع اقراء آتی ہے۔ تو کہتے ہیں ہاں کہتے ہیں صحیح قول یہ ہے کہ: أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا كَانَتْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ، عورت جو ہے جب وہ حیض والیوں میں سے ہو، تَكُونُ حَيْضًا، تو یہ سبز بھی کیا ہو گا؟ کس میں سے ہو گا؟ یہ بھی حیض ہو گا، وَيُحْمَلُ عَلَى فَسَادِ الْغِذَاءِ، اور اس کو محمول کیا جائے گا غذا کی خرابی پر۔ کس پر؟ غذا کی خرابی پر محمول کیا جائے گا بھئی۔ حیض کا ویسے یہ رنگ تو نہیں ہوتا لیکن سبز رنگ کا عورت دیکھ رہی ہے معلوم ہوا یہ اس کی غذا میں کوئی خرابی ہے بھئی، اس کی خوراک میں کوئی خوراک میں خرابی ہے یا اس کے ہضم میں خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ رنگ اس نے دیکھا، لیکن یہ ہے کس میں سے؟ حیض ہی میں سے ہے البتہ یہ خرابی اس خرابی غذا کی وجہ سے آئی جو رنگ میں تبدیلی آئی۔ وَإِنْ كَانَتْ كَبِيرَةً، اور اگر وہ عورت بڑی ہے بھئی، بڑی ہے۔ بھئی یاد رکھیے عورت جب پچپن ساٹھ سال کی ہو جائے تو پھر حیض آنا بند ہو جاتے ہیں اس کو کہتے ہیں آئسہ۔ کیا کہتے ہیں؟ آئسہ کہتے ہیں۔ تو اگر کوئی بڑی عمر کی عورت ہے اور وہ اس سبز رنگ کو دیکھتی ہے، صرف سبز رنگ ہی تو پھر کہتے ہیں اس کو استحاضہ شمار کیا جائے گا، یہ حیض نہیں ہو گا بھئی۔ دیکھیے بھئی: وَإِنْ كَانَتْ كَبِيرَةً، اور اگر عورت بڑی عمر کی ہے، کیا معنی بڑی عمر کی؟ آئسہ ہے، لَا تَرَى غَيْرَ الْخُضْرَةِ، اور وہ سبز رنگ کے علاوہ اور نہیں دیکھتی مثلاً سبز ہی مسلسل ہے، تُحْمَلُ عَلَى فَسَادِ الْمَنْبِتِ، تو اس کو محمول کیا جائے گا منبت، منبت اگنے کی جگہ یعنی وہ رحم، وہ رحم جہاں اولاد ہوتی ہے جس میں تو وہ رحم جو ہے اس کی خرابی پر اس کو محمول کیا جائے گا، فَلَا تَكُونُ حَيْضًا، تو یہ حیض نہیں ہو گا بھئی۔ وَالْحَيْضُ يُسْقِطُ عَنِ الْحَائِضِ الصَّلَاةَ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهَا الصَّوْمَ، اور حیض جو ہے وہ ساقط کر دیتا ہے حائضہ سے نماز کو۔ حیض کیا ہے؟ حائضہ سے نماز کو ساقط کر دیتا ہے، وَيُحَرِّمُ عَلَيْهَا الصَّوْمَ، اور اس پر روزے کو حرام کر دیتا ہے۔ بھئی نماز کے لیے يُسْقِطُ کا لفظ لے کر آئے، حیض ساقط کر دیتا ہے، معلوم ہوا بعد میں ان کی قضا بھی نہیں کرنی، بالکل نماز ہی سرے سے ساقط ہو گئی۔ اور روزے کے لیے يُحَرِّمُ کا لفظ لے کر آئے صاحب قدوری، معلوم ہوا اس وقت روزہ رکھنا حرام ہے ہاں البتہ بعد میں کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ چنانچہ یہی بتلا رہے ہیں: وَتَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَوَاتِ، اور قضا کرے گی وہ عورت روزے کی اور نماز کی قضا نہیں کرے گی، لِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: ”كَانَتْ إِحْدَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا تَقْضِي الصِّيَامَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَوَاتِ“، بوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کے وہ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے کوئی عورت جو ہے حضور علیہ السلام کے زمانے میں إِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا جب وہ پاک ہو جاتی تھی اپنے حیض سے، تَقْضِي الصِّيَامَ تو وہ روزوں کی قضا کرتی تھی، وَلَا تَقْضِي الصَّلَوَاتِ اور نمازوں کی قضا نہیں کرتی تھی، معلوم ہوا نمازیں ساقط ہو جاتی ہیں۔ وَلِأَنَّ فِي قَضَاءِ الصَّلَوَاتِ حَرَجًا لِتَضَاعُفِهَا وَلَا حَرَجَ فِي قَضَاءِ الصَّوْمِ، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں نقلی دلیل کے ساتھ ساتھ بھئی۔ کہتے ہیں اور اس لیے کیونکہ نمازوں کی قضا میں حَرَجًا حرج ہے، لِتَضَاعُفِهَا بوجہ ان کے دگنا ہونے کے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں اگر عورت پر نمازوں کی بھی قضا آئے تو اس میں حرج ہے تنگی ہے عورت تنگی مشکل میں پڑ جائے گی بوجہ ان نمازوں کے دگنا ہو جانے کے، نمازیں دگنی ہو جائیں گی۔ حیض کے ایام میں نمازیں نہیں پڑھیں مثلاً چھ سات دن تک تو اگلے دنوں کے اندر وقتی نمازیں بھی پڑھنا پڑیں گی اور وہ قضا بھی پڑھنا پڑیں گی تو نمازیں کیا ہو گئیں؟ دگنی ہو گئیں اس کے لیے۔ اور پھر اگر اس مہینے نہ کر سکی تو اگلے مہینے پھر اور بڑھ جائیں گی، اگلے مہینے اور بڑھ جائیں گی تو ان میں اس میں عورت کے لیے تنگی ہے مشکل ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کے اندر تنگی نہیں رکھی بھئی۔ اور جبکہ روزوں کی قضا کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کیونکہ روزوں روزے وہ تو سال میں ایک ہی مرتبہ آتے ہیں تو اگر اس مہینے کے اندر جو پانچ چھ روزے نہیں رکھے وہ بعد میں رکھے تو کوئی تنگی نہیں، گیارہ مہینے ہیں اطمینان سے رکھ سکتی ہے بھئی، اس میں کوئی مشکل نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ فِي قَضَاءِ الصَّلَوَاتِ حَرَجًا لِتَضَاعُفِهَا وَلَا حَرَجَ فِي قَضَاءِ الصَّوْمِ، اس لیے کیونکہ نمازوں کی قضا کے اندر حرج ہے ان کے دگنا ہو جانے کی وجہ سے اور کوئی حرج نہیں ہے روزوں کی قضا میں۔ تو مسئلہ آپ نے پڑھ لیا بھئی۔ ایک عورت ہے، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ایک عورت ہے اور اس پر ایام حیض کی نمازوں کی قضا بھی نہیں البتہ روزوں کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا۔ چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں ایک عورت نماز پڑھ رہی ہے اور عین نماز کے بیچ میں حیض شروع ہو گیا تو یہ نماز بھی اس سے ساقط ہو گئی، یہ نماز بھی کیا ہو گئی؟ ساقط۔ بشرطیکہ یہ فرض نماز ہو بھئی، فرض نماز۔ ہاں اگر سنت یا نفل تھے ان کی اس کو قضا سنت یا نفل کے اندر ایسا ہوا تو اس کی بعد میں قضا کرنا پڑے گی بھئی۔ فرض نماز کیوں ساقط اور نفلوں اور سنتوں کی کیوں قضا کرنا پڑے گی؟ بھئی مسئلہ واضح ہے کہ فرض ظہر کے وقت میں کیا کر رہی ہے؟ ظہر کی نماز پڑھ رہی ہے اور حیض شروع ہو گیا، آپ نے پڑھا اعتبار کس کا ہے؟ آخر وقت کا ہے تو آخر وقت میں تو حیض شروع ہو چکا ہے لہٰذا اس پر ظہر کی نماز ہی اس سے ساقط ہو گئی بھئی۔ اور جبکہ نفل اور سنتیں ان کی قضا کیوں کرے گی؟ وجہ یہ کہ سنتیں بھی دراصل نفل ہی ہیں لیکن حضور علیہ السلام نے ان کو باقاعدگی سے ادا فرمایا اس لیے ان نفلوں کو ہم کیا کہتے ہیں؟ سنت کہتے ہیں۔ تو نفل اور سنت آپ نے پڑھا ہے کہ نفل ویسے تو نفل ہیں لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے جائیں تو وہ واجب ہو جاتے ہیں۔ تو یہ عورت کے ذمے یہ نماز واجب نہیں تھی لیکن جیسے ہی اس نے شروع کر دی اب اس پر کیا ہو چکی؟ واجب ہو گئی، اب یہ حیض کی وجہ سے ساقط نہیں ہو گی کیونکہ اس کا تعلق وقت کے ساتھ نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی؟ وتر بھی ساقط ہو جائیں گے بھئی۔ جبکہ روزے کا حکم اس کے برعکس ہے یعنی روزوں کی قضا کرنا پڑے گی، روزے کی حالت میں حیض شروع ہو گیا تو بعد میں اس کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ ایک اور نکتہ آپ کو بتلاؤں بھئی: یہاں متن میں اوپر آیا: ”وَالْحَيْضُ يُسْقِطُ عَنِ الْحَائِضِ“، اور حیض جو ہے وہ ساقط کر دیتا ہے حائضہ سے نماز کو۔ الْحَائِضِ کہا اس کے ساتھ تا نہیں ملائی گئی: الْحَائِضَةُ، کیوں؟ وجہ یہ کہ یہ جو تا ملائی جاتی ہے یہ فرق کرنے کے لیے ہوتی ہے بَيْنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ۔ قَائِمٌ کا معنی وہ مرد جو کھڑا ہے، قَائِمَةٌ وہ عورت جو کھڑی ہے، تو دیکھو یہاں مذکر اور مؤنث دونوں میں یہ صفت آتی ہے قیام والی دونوں کے لیے ہوتی ہے اس لیے تا کے ذریعے فرق کریں گے۔ لیکن بعض صفات ایسی ہیں جو صرف عورت کے ساتھ خاص ہیں تو وہاں پھر تا کے ذریعے بھی فرق کرنے کی ضرورت نہیں جیسے یہ حیض یہ خاص ہے صرف کس کے ساتھ؟ عورت کے ساتھ تو لہٰذا یہاں تا بھی نہیں ملائی جاتی بھئی، اس کے بغیر ہی پتا لگ گیا کیونکہ یہ صفت ہی کس کی ہے؟ عورت کی ہے۔ اسی طرح حامل لفظ آئے گا: حَامِلٌ، تو حاملہ ہونا بھی چونکہ صرف عورت کی صفت ہے لہٰذا وہاں بھی تا ملا کر فرق نہیں کیا جائے گا بلکہ عورت کے لیے کیا لفظ استعمال کر لیں گے؟ حامل کا لفظ، حامل بغیر تا کے۔ ہاں البتہ اگر حامل کے معنی وزن اٹھانے کے ہیں پھر مذکر اور مؤنث کا فرق تا کے ساتھ کیا جائے گا، مذکر کے لیے حَامِلٌ کہیں گے اور مؤنث کے لیے حَامِلَةٌ کہیں گے بھئی۔ وَلَا تَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، اور حیض والی جو عورت ہے وہ داخل نہیں ہو سکتی ہوگی مسجد میں، مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی، وَكَذَا الْجُنُبُ، اور اسی طرح جنبی بھی جنب بھی جو ہے جو حالت جنابت میں ہے وہ بھی داخل نہیں ہو سکتا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ بیشک میں حلال نہیں کرتا مسجد کو حائضہ کے لیے اور جنب کے لیے۔ تو حدیث میں آیا بھئی کہ عورت حائض کے لیے اور جنب کے لیے مسجد میں جانا حلال نہیں ہے۔ وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حائضہ اور جنب جو ہے وہ مسجد میں ویسے تو نہیں جا سکتے لیکن اگر گزرنا ہو مسجد میں سے، دوسری طرف جانا ہے تو گزر سکتے ہیں، گزرنا ہو تو گزر سکتے ہیں۔ لیکن یہ حدیث مطلق ہے اس میں کوئی گزرنے اور غیر گزرنے کا فرق کیا گیا؟ نہیں بھئی، مطلقاً حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ میں حلال نہیں کرتا مسجد کو حائض اور جنب کے لیے، معلوم ہوا گزرنا بھی ان کے لیے صحیح نہیں بھئی۔ ہاں اگر کوئی ایسا موقع آیا کہ گزرے بغیر کوئی صورت ہی نہیں ہے مثلاً پانی لینے کے لیے جانا ہے، کوئی شخص جنابت کی حالت میں ہے پانی لینے کے لیے جانا ہے اور وہ راستہ مسجد ہی سے ہو کر جاتا ہے دوسری طرف سے راستہ ہی کوئی نہیں ہے تو پھر علماء لکھتے ہیں جب مجبوری ہو گزرنا ہی ہے تو پھر انسان تیمم کر کے گزر جائے مسجد میں سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہ بھی میں نے بتایا جب کوئی اور صورت ہی نہ ہو پھر، ورنہ ویسے جائز نہیں ہے بھئی۔ وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ، اور یہ حدیث اپنے اطلاق کے اعتبار سے یعنی یہ مطلق ہے اس میں گزرنے وغیرہ کا کوئی فرق نہیں کیا گیا تو یہ مطلق ہوئی، تو یہ حدیث اپنے اطلاق کے اعتبار سے حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف، فِي إِبَاحَةِ الدُّخُولِ، کس چیز کے اندر؟ داخل داخل ہونے کے مباح کرنے میں، امام شافعی رحمہ اللہ نے داخل ہونے کو مباح قرار دیا ہے تو اس داخل ہونے کے مباح کرنے میں، عَلَى وَجْهِ الْعُبُورِ وَالْمُرُورِ، عبور اور گزرنے کے طریقے پر، عبور کرتے ہوئے اور گزرتے ہوئے۔ عبارت کا ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فِي إِبَاحَةِ الدُّخُولِ عَلَى وَجْهِ الْعُبُورِ وَالْمُرُورِ، ترجمے پہ نظر رکھیے آخر سے ہو گا اولا پہلے حصے کا کروں گا پھر آخر سے، اور یہ حدیث اپنے اطلاق کی وجہ سے حجت ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف گزرنے اور عبور کرنے کے طریقے پر مسجد کے اندر داخل ہونے کو مباح کرنے میں، یعنی انہوں نے جو مسجد میں سے گزرنے اور عبور کرنے کے طریقے پر داخل ہونے کو مباح قرار دیا ہے اس چیز میں، اس مسئلے میں یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل ہے اور حجت ہے۔ وَلَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ، اور حائضہ جو ہے وہ طواف نہیں کر سکتی بیت اللہ کا، لِأَنَّ الطَّوَافَ فِي الْمَسْجِدِ، اس لیے کیونکہ طواف کس میں ہوتا ہے؟ مسجد میں ہوتا ہے، اور ابھی گزرا کہ حائضہ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اور نیز اس لیے بھی کیونکہ طواف کس کی طرح ہے؟ بیت اللہ کا طواف بھی نماز کی طرح ہے بھئی، نماز ہی ہے گویا ایک طرح کی تو یہ نماز کی طرح ہے اور اس کے لیے طہارت واجب ہے بھئی، اور یہ تو پاکی کی حالت میں نہیں ہے بھئی۔ وَلَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، اور نہیں آ سکتا اس کے پاس اس کا خاوند یعنی وہ اس سے قربت نہیں کر سکتا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾، بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: اور تم قربت نہ کرو ان سے یعنی اپنی بیویوں سے حتی کہ وہ پاک ہو جائیں بھئی۔ وَلَيْسَ لِلْحَائِضِ وَالْجُنُبِ وَالنُّفَسَاءِ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ، اور نہیں ہے حائضہ کے لیے اور جنب کے لیے اور نفاس والی کے لیے قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ قرآن کی قرأت کرنا تلاوت کرنا۔ یعنی حائض، جنب اور نفاس والے قرآن کی تلاوت نہیں کر سکتے یہ ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ دلیل کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ“، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ نہیں تلاوت کر سکتے حائضہ اور جنب شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ کچھ بھی قرآن میں سے، حائض اور جنب قرآن میں سے کچھ بھی تلاوت نہیں کریں گے۔ وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْحَائِضِ، اور یہ حدیث دلیل ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف فِي الْحَائِضِ حیض کے بارے میں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنب کے لیے تو وہ بھی کہتے ہیں وہ تلاوت نہیں کر سکتا۔ لیکن حائض کے لیے وہ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے گنجائش ہے، وہ کیا کر سکتی ہے؟ تلاوتِ قرآن کر سکتی ہے۔ لیکن اس حدیث میں آ گیا کہ حائضہ بھی قرآن کی تلاوت نہیں کر سکتی، تو یہ ان کے خلاف بھی دلیل ہوئی۔ "وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ يَتَنَاوَلُ مَا دُونَ الْآيَةِ" اچھا! امام طحاوی جو ہیں، امام طحاوی رَحِمَهُ اللّٰهُ بھئی احناف کے فقہاء میں سے بڑے بہت بڑے فقیہ بھئی، تو وہ فرماتے ہیں، امام طحاوی کس میں سے ہیں؟ فقہائے احناف میں سے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آیت سے کم جو ہے، اس کی تلاوت حائضہ کر سکتی ہے۔ پوری آیت کی تلاوت تو نہیں کر سکتی، لیکن آیت سے کم کی تلاوت کر سکتی ہے بھئی، آیت سے کم کی۔ آیت سے کم یعنی کچھ لفظ پڑھ لے پھر رک جائے، تو آیت سے کم حصے کی تلاوت کر سکتی ہے۔ "وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ" تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ بھئی یہ امام طحاوی کے خلاف بھی حجت ہے، کیونکہ اس میں یہ نہیں آیا کہ آیت سے پوری آیت نہیں پڑھ سکتی، بلکہ مطلقاً آیا قرآن میں سے کوئی چیز نہیں پڑھ سکتی۔ یہ آیت کو بھی شامل ہے اور آیت سے کم کو بھی شامل ہے، تو لہٰذا وہ بھی نہیں کر سکتی۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ يَتَنَاوَلُ مَا دُونَ الْآيَةِ" اور یہ حدیث جو ہے اپنے اطلاق کے ساتھ، "يَتَنَاوَلُ" شامل ہے، "مَا دُونَ الْآيَةِ" آیت سے کم کو بھی، "فَيَكُونُ حُجَّةً عَلَى الطَّحَاوِيِّ" تو یہ حدیث دلیل ہوگی امام طحاوی رَحِمَهُ اللّٰهُ کے خلاف، "فِي إِبَاحَتِهِ" اس ما دون الآیۃ کے مباح کرنے میں، کس کو؟ آیت سے کم کو انہوں نے جو مباح قرار دیا ہے، اس کے اندر یہ حدیث ان کے خلاف کیا ہوگئی؟ دلیل ہوگئی، حجت ہوگئی بھئی۔ یاد رکھیے! علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت مثلاً استانی ہے، پڑھانے والی ہے، قرآن پڑھاتی ہے، اب اس کو چونکہ ضرورت ہے، حاجت ہے، تو وہ اب ہر مہینے کئی دن تعطیل ہو، سبق ہی نہ ہو، تو بڑا حرج لازم آئے گا۔ تو وہ عورت آیت کو توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے، یعنی دو دو تین تین لفظ پڑھ کر پھر رک جایا کرے، تو آیت توڑ توڑ کر کیا کرے؟ سبق پڑھا سکتی ہے ان ایام کے اندر بھئی، ان ایام کے اندر۔ "وَلَيْسَ لَهُمْ مَسُّ الْمُصْحَفِ إِلَّا بِغِلَافِهِ" اور جائز نہیں ہے ان کے لیے: "مَسُّ الْمُصْحَفِ" قرآن کو چھونا، "إِلَّا بِغِلَافِهِ" مگر اس کے غلاف کے ساتھ۔ یہ جو پیچھے آیا حائض، جنب اور نفساء متن کے اندر بھئی، ان تینوں کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے، "إِلَّا بِغِلَافِهِ" مگر اس قرآن کے غلاف کے ساتھ۔ غلاف ہو درمیان میں، اس کے ذریعے قرآن کو ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ "وَلَا أَخْذُ دِرْهَمٍ" اور ان کے لیے جائز نہیں ہے ایسے درہم کو لینا، "فِيهِ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ" جس میں قرآن کی کوئی سورت ہو، "إِلَّا بِصُرَّتِهِ" صُرَّہ کہتے ہیں تھیلی کو، "إِلَّا بِصُرَّتِهِ" مگر اس درہم کی تھیلی کے ساتھ۔ بھئی قرآن کو بھی یہ لوگ ہاتھ نہیں لگا سکتے اور ایسے درہم کو بھی نہیں پکڑ سکتے اور اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتے جس میں قرآن کی کوئی سورت لکھی ہوئی ہو، "إِلَّا بِصُرَّتِهِ" مگر اس کی تھیلی کے ساتھ بھئی۔ اس کی تھیلی کے ساتھ، تھیلی کے اندر ہے درہم، پھر اس کو پکڑ سکتے ہیں۔ ویسے ہاتھ، براہِ راست درہم کو یا قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ یہاں عبارت دیکھیے: "وَلَا أَخْذُ دِرْهَمٍ" درہم نکرہ آیا، "فِيهِ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ"، "فِيهِ" خبرِ مقدم، "سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ" مبتدائے مؤخر۔ یہ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ تو نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آیا، اور نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آئے تو کیا بنتا ہے اس کے لیے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسے۔ تو "وَلَا أَخْذُ دِرْهَمٍ فِيهِ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ" اور نہ ایسے درہم کو پکڑنا جائز ہے جس کے اندر قرآن کی کوئی سورت ہو، "إِلَّا بِصُرَّتِهِ" مگر اس کی تھیلی سے۔ "وَكَذَا الْمُحْدِثُ لَا يَمَسُّ الْمُصْحَفَ إِلَّا بِغِلَافِهِ" اور اسی طرح جو بے وضو ہو، وہ بھی قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا مگر اس کے غلاف کے ساتھ۔ "لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: "لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ" قرآن کو ہاتھ نہ لگائے مگر پاک آدمی۔ پاک شخص ہی کیا کرے؟ قرآن کو ہاتھ لگائے۔ تو یہ بے وضو بھی اس میں داخل، جنابت والا بھی داخل، حیض والی بھی داخل اور نفاس والی، سب اس کے اندر آ گئے۔ تو یہ حدیث دلیل ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے حدیث کو دلیل کے طور پر ذکر کیا: "لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ"، اس کے بجائے آیت کو کیوں نہیں ذکر کیا بطورِ دلیل کے؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ" بھئی، "لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ"۔ وجہ اس کی یہ کہ وہاں پر اور بھی احتمال ہے کہ ہا ضمیر قرآن کو راجع نہ ہو، بلکہ کس کو راجع ہو؟ لوحِ محفوظ کو، کہ نہیں چھوتے اس کو، لوحِ محفوظ کو، "إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ" مگر پاک، یعنی فرشتے۔ پاکیزہ ہی جو ہیں، وہ ہی اس کو چھوتے ہیں، تو کون مراد ہوں مطہرون سے؟ فرشتے۔ تو وہاں اور بھی احتمال ہے، قطعی طور پر کہ قرآن ہی مراد ہو، قطعی بات نہیں ہے، وہاں اور بھی احتمالات ہیں جو مفسرین نے لکھے۔ تو اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا، جبکہ یہاں پر تو اور کوئی احتمال ہی نہیں ہے حدیث کے اندر: "لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ" قرآن کو نہ ہاتھ لگائے مگر پاک۔ "ثُمَّ الْحَدَثُ وَالْجَنَابَةُ حَلَّا اليد" یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ جو بے وضو ہے، وہ قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے۔ ہاتھ تو نہیں لگا سکتا بے وضو شخص قرآن کو، لیکن اس کی تلاوت کرنا چاہے زبانی، کیا کر سکتا ہے؟ تلاوت کر سکتا ہے۔ جبکہ جو جنب ہے، وہ ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اور زبانی تلاوت بھی کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ کیا وجہ ہے بے وضو تلاوت کر سکتا ہے اور جنب تلاوت نہیں کر سکتا؟ تو فرماتے ہیں کہ دیکھیے! بے وضو جو ہے اس پر بھی حدث آیا، جو جنابت میں ہے اس پر بھی حدث طاری ہے، لیکن جو بے وضو ہے وہ وضو کرتا ہے اور وضو کے اندر کلی کرنا فرض ہے یا فرض نہیں؟ وضو میں تو کلی کرنا فرض نہیں۔ ہاتھوں کا دھونا فرض ہے یا فرض نہیں؟ ہاتھوں کا دھونا تو فرض ہے لیکن کلی کرنا فرض نہیں۔ معلوم ہوا حدث ہاتھوں پر تو آ چکا ہے، لیکن منہ میں نہیں آیا بھئی۔ اسی لیے ہاتھ پر جب حدث آیا ہے تو بے وضو قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا کیونکہ ہاتھ پر کیا آ چکا؟ حدث۔ لیکن کلی کرنا فرض نہیں۔ معلوم ہوا بغیر کلی کے ہی کوئی وضو کرے گا تو وضو ہو جائے گا یا نہیں ہو جائے گا؟ سنت تو رہ جائے گی لیکن وضو تو ہو جائے گا۔ معلوم ہوا حدث منہ میں نہیں اترا، جب حدث منہ میں نہیں اترا تو تلاوت منہ کے ذریعے زبانی کرنا چاہتا ہے، تو منہ میں تو حدث نہیں، لہٰذا زبانی تلاوت کر سکتا ہے۔ جبکہ جنابت میں جو ہے، اس کے لیے جب وہ غسل کرتا ہے، ہاتھوں کا دھونا بھی فرض اور کلی کرنا بھی فرض، معلوم ہوا حدث ہاتھ پر بھی اتر چکا اور منہ میں بھی اتر چکا ہے۔ تو جب ہاتھ پر حدث اتر چکا ہے تو قرآن کو یہ جنابت والا ہاتھ نہیں لگا سکتا اور منہ کے اندر جب حدث اتر چکا ہے تو جب تک غسل نہ کر لے، پوری طرح پاکی حاصل نہ کر لے، قرآن کی زبانی تلاوت بھی نہیں کر سکتا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ "ثُمَّ الْحَدَثُ وَالْجَنَابَةُ حَلَّا الْيَدَ" پھر حدث اور جنابت یہ اتر چکے ہیں ہاتھ پر، "فَيَسْتَوِيَانِ فِي حُكْمِ الْمَسِّ" تو یہ دونوں برابر ہو چکے ہیں چھونے کے، ہاتھ لگانے کے حکم میں۔ یہ بے وضو اور جنابت والے برابر ہیں کس چیز کے اندر؟ ہاتھ لگانے کے حکم میں برابر ہیں، کیونکہ دونوں کے لیے حدث کہاں اتر چکا ہے؟ ہاتھ پر اتر چکا ہے تو دونوں ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ "وَالْجَنَابَةُ حَلَّتِ الْفَمَ دُونَ الْحَدَثِ" اور جنابت وہ منہ میں تو اتری ہے، "دُونَ الْحَدَثِ" لیکن حدث نہیں، وہ منہ میں نہیں آیا، "فَيَفْتَرِقَانِ فِي حُكْمِ الْقِرَاءَةِ" تو دونوں مختلف ہو گئے قراءت کے حکم میں۔ قراءت کے حکم میں دونوں کیا ہو گئے؟ مختلف ہو گئے۔ تو بے وضو کے لیے زبانی قراءت جائز ہے، لیکن جنابت والے کے لیے زبانی قراءت بھی جائز نہیں کیونکہ حدث اتر چکا ہے منہ میں۔ "وَغِلَافُهُ مَا يَكُونُ مُتَجَافِيًا عَنْهُ" صاحبِ ہدایہ اب تفصیل بیان کر رہے ہیں، متن میں آیا تھا کہ قرآن کو غلاف کے بغیر یہ لوگ ہاتھ نہیں لگا سکتے، صاحبِ ہدایہ یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ یاد رکھنا، غلاف وہ چیز ہے جو قرآن سے الگ ہو۔ قرآن کے ساتھ اس کو جوڑا نہیں گیا، قرآن کے ساتھ اس کو سیا نہیں گیا۔ اگر کوئی کپڑا ایسا ہے جس کو قرآن کے ساتھ ہی سی دیا گیا، قرآن کے ساتھ ہی جوڑ دیا گیا، تو وہ قرآن ہی کے حکم میں ہو گیا کیونکہ وہ جدا تو نہیں ہوتا، ساتھ جڑ گیا، تو وہ بھی قرآن ہی کے حکم میں ہے، اس کو بھی بغیر وضو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ ہاں جو غلاف الگ ہو جاتا ہے، جیسے وہ قرآن کے لیے غلاف بنایا جاتا ہے جس میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے اور پھر جب تلاوت کرنی ہو تو اس غلاف کو اتار کر الگ کر دیتے ہیں بھئی، تو یہ الگ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہاتھ لگانا جائز ہے کیونکہ یہ الگ ہے، الگ ہے۔ معلوم ہوا کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جو قرآن سے الگ ہے۔ اور اسی طرح قرآن کے بھی تابع نہ ہو اور ہاتھ لگانے والے کے بھی تابع نہ ہو، پھر اس چیز سے قرآن کو پکڑا جا سکتا ہے۔ جو قرآن کے بھی تابع نہ ہو اور جو ہاتھ لگا رہا ہے اس کے بھی تابع نہ ہو، ایک الگ چیز ہو، الگ کپڑا ہو۔ لہٰذا آپ رومال کے ذریعے قرآن کو پکڑتے ہیں جنابت کی حالت میں، آپ قرآن کو پکڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ رومال نہ آپ کے تابع اور نہ قرآن کے تابع۔ ہاں اگر آپ اپنی آستین کے ذریعے قرآن کو پکڑنا چاہتے ہیں جنابت کی حالت میں، پھر درست نہیں ہے کیونکہ یہ آستین آپ کے تابع ہے۔ آپ نے اس کپڑے کو پہنا ہوا ہے، لہٰذا اس کے ساتھ درست نہیں۔ لہٰذا عورتیں اگر قرآن کو ہاتھ لگانا چاہتی ہیں، پکڑنا چاہتی ہیں، ایک جگہ سے مثلاً دوسری جگہ اس کو رکھنا ہے اور حیض کی حالت میں ہے یا نفاس کی حالت میں ہے یا جنابت کی حالت میں ہے اور وہ اپنے دوپٹے کے ساتھ اس کو پکڑتی ہے، تو یہ درست نہیں ہے بھئی، کیونکہ دوپٹہ کیا ہے؟ اس عورت نے اوڑھ رکھا ہے، یہ اس کے تابع ہے بھئی۔ ہاں اگر اوڑھا نہیں ہوا، الگ ہے، پھر ٹھیک ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح دستانوں کے ساتھ اگر کوئی قرآن کو پکڑنا چاہتا ہے اس حالت میں، تو بھی درست نہیں ہے کیونکہ دستانے اس نے پہن رکھے ہیں، وہ اس کے تابع ہو گئے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اسی طرح قرآن پر جو کپڑا وغیرہ لگا ہوا ہے یا چمڑا لگا ہوا ہے، اگر وہ ساتھ سلا ہوا ہے، جڑا ہوا ہے، تو وہ قرآن کے تابع ہو گیا، لہٰذا صرف اس کے ساتھ پکڑنا درست نہیں بلکہ کوئی الگ کپڑا وغیرہ ہونا چاہیے بھئی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وَغِلَافُهُ مَا يَكُونُ مُتَجَافِيًا عَنْهُ" اور غلاف وہ ہے جو اس قرآن سے جدا ہو، الگ ہو، "دُونَ مَا هُوَ مُتَّصِلٌ بِهِ" نہ کہ وہ جو کہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہو، "كَالْجِلْدِ الْمُشَرَّزِ" جیسے کہ وہ جلد جو اس کے ساتھ جوڑی گئی ہو، وہ چمڑا جو اس کے ساتھ جوڑا گیا ہو، یعنی اس کے ساتھ صحیح نہیں ہے بھئی۔ "هُوَ الصَّحِيحُ" یہی قول صحیح ہے۔ "وَيُكْرَهُ مَسُّهُ بِالْكُمِّ" کُمّ کہتے ہیں آستین کو، اور مکروہ ہے قرآن کو چھونا، قرآن کو ہاتھ لگانا، "بِالْكُمِّ" آستین کے ساتھ، "هُوَ الصَّحِيحُ" یہی قول صحیح ہے، "لِأَنَّهُ تَابِعٌ لَهُ" اس لیے کیونکہ وہ آستین اس چھونے والے کے تابع ہے، "بِخِلَافِ كُتُبِ الشَّرِيعَةِ" بخلاف کس کے؟ کتبِ شریعت۔ آستین اس کے تابع ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ اور خصوصاً آج کل تو یہ آستین آپ کی قمیص کی چھوٹی ہوتی ہے، قدیم زمانے میں آستین بڑی ہوتی تھی، حتیٰ کہ آستین ہی کے اندر جیب وغیرہ ہوا کرتی تھی اور وہ چیزیں اس کے اندر رکھا کرتے تھے۔ چنانچہ کتابوں میں آپ جگہ جگہ پڑھیں گے کہ کوئی اپنا واقعہ، کوئی بات ذکر کرتے ہیں میں نے وہ چیز پھر اپنی آستین میں رکھ لی، تو آپ پھر حیران نہ ہوں کہ آستین میں کیسے رکھ لی؟ ان کا کوئی خاص طریقہ، لباس تھا کہ آستین بڑی ہوتی اور اس میں وہ جیب وغیرہ بھی اسی کے اندر ہوتی تھی بھئی، جیب بھی۔ اور بڑی آستین یہ مالداروں کی علامت ہوتی تھی بھئی۔ پہلے کپڑا ہاتھ سے بنتا تھا بھئی، کسی کو کپڑا ملتا ہی نہیں تھا بھئی، غریب غرباء ایک ہی کپڑے میں ساری زندگی، دو کپڑوں میں ساری زندگی گزار دیتے۔ اب تو اللہ کی طرف سے بڑی ہی آسانیاں آ گئیں بھئی، آپ میں سے ہر ایک کے کتنے کتنے کپڑے ہوں گے، پہلے کوئی اس کا تصور نہیں کر سکتا تھا بھئی۔ تو جتنی بڑی آستین ہوتی، وہ امراء کی علامت تھی، مالدار جو ہوتا اس کی خوب بڑی آستین ہوتی۔ چنانچہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللّٰهُ اپنے شاگردوں سے فرمایا کرتے تھے: خوب کھلی آستینیں سلوایا کرو بھئی، خوب کھلی آستینیں، تاکہ پتہ لگے کہ یہ دین پڑھنے والے کوئی غریب وغیرہ نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں مکروہ ہے آستین کے ساتھ چھونا، یہی قول صحیح ہے کیونکہ آستین اس چھونے والے کے تابع ہے۔ "بِخِلَافِ كُتُبِ الشَّرِيعَةِ" بخلاف شریعت کی جو کتابیں ہیں، یعنی تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ، وہ "لِأَهْلِهَا" أَيْ لِأَهْلِ الشَّرِيعَةِ، اہلِ شریعت کے لیے، یعنی علماء کے لیے، علماء طلباء کے لیے، "حَيْثُ يُرَخَّصُ فِي مَسِّهَا بِالْكُمِّ" اس حیثیت سے کہ رخصت ہے ان کو چھونے میں، "بِالْكُمِّ" آستین کے ساتھ۔ بھئی قرآن کو تو آستین کے ساتھ بھی چھونا کیا ہے؟ مکروہ ہے، جی آستین کے ساتھ چھونا بھی مکروہ ہے، یعنی مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ آستین اس شخص کے تابع ہے۔ لیکن اگر شریعت کی کتابیں ہیں، مثلاً تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ اور اس کو کوئی اہلِ شریعت یعنی علماء، طلباء وغیرہ جو ہیں، وہ کتبِ شریعت کو آستین کے ساتھ چھونا چاہیں، پکڑنا چاہیں، تو وہ ان کو پکڑ سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ بغیر وضو کے شریعت کی کتاب جو ہے، تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ، بغیر وضو کے ان کو ہاتھ لگانا مکروہ ہے، مکروہِ تحریمی بھئی۔ مکروہِ تحریمی ہے، اور البتہ آستین کے ساتھ ہاتھ لگاتا ہے اہلِ شریعت میں سے کوئی، تو اس کے لیے یہ رخصت ہے کیونکہ اگر اس کے لیے آستین کے ساتھ ہاتھ لگانے کی بھی گنجائش نہ ہو، تو وہ تنگی اور تکلیف میں پڑ جائے گا۔ اب ہر وقت تو انسان کا وضو نہیں ہے، تو کسی وقت کوئی چیز دیکھنا پڑی اور وضو نہیں ہے، مثلاً پانی بھی اس وقت قریب نہیں ہے، دور جانا پڑے گا اور کپڑا بھی اور کوئی نہیں، تو وہ آستین کے ذریعے کیا کر سکتا ہے؟ اس کو دیکھ سکتا ہے بھئی۔ جبکہ قرآن کو ہاتھ لگانا، وہ تو حرام ہے بھئی، حرام ہے بغیر وضو کے، جبکہ دینی کتابوں کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانا مکروہِ تحریمی ہے بھئی۔ "بِخِلَافِ كُتُبِ الشَّرِيعَةِ لِأَهْلِهَا حَيْثُ يُرَخَّصُ فِي مَسِّهَا بِالْكُمِّ لِأَنَّ فِيهِ ضَرُورَةً" بخلاف شریعت کی کتابوں کے، "لِأَهْلِهَا" اہلِ شریعت کے لیے، "حَيْثُ يُرَخَّصُ فِي مَسِّهَا بِالْكُمِّ" اس حیثیت سے کہ ان کو رخصت ہے اس کو چھونے میں اپنی آستین کے آستین کے ساتھ، "لِأَنَّ فِيهِ ضَرُورَةً" اس لیے کیونکہ اس کے اندر ضرورت ہے بھئی۔ "وَلَا بَأْسَ بِدَفْعِ الْمُصْحَفِ إِلَى الصِّبْيَانِ لِأَنَّ فِي الْمَنْعِ تَضْيِيعَ حِفْظِ الْقُرْآنِ" اور کوئی حرج نہیں ہے قرآن دینے میں بچوں کو، بچوں کے حوالے قرآن کرنے میں قرآن کو بچوں کے حوالے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، "لِأَنَّ فِي الْمَنْعِ تَضْيِيعَ حِفْظِ الْقُرْآنِ" اس لیے کیونکہ منع کرنے کے اندر حفظِ قرآن کو ضائع کرنا ہے، "وَفِي الْأَمْرِ بِالتَّطْهِيرِ حَرَجًا بِهِمْ" اور طہارت کا حکم دینے میں، "حَرَجًا بِهِمْ" ان کے لیے تنگی ہے، ان کے لیے حرج ہے، "وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ" یہی قول صحیح ہے۔ بعض مشائخ نے، بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قرآن جو ہے وہ بچوں کو نہ دیا جائے، اس لیے کیونکہ بچے طہارت وغیرہ کا خیال نہیں رکھتے، تو اور قرآن کو تو بغیر طہارت کے ہاتھ لگانا صحیح نہیں ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: نہیں، بچے قرآن کو مثلاً اتنا کچھ سمجھنے والا بچہ ہے، وہ مراد ہے بھئی جو پڑھتا ہے اس کو، ان کو قرآن دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کیونکہ اگر قرآن نہیں دیں گے تو حفظِ قرآن کا ضائع کرنا لازم آئے گا۔ بچے نے حفظ کرنا ہے، اب وہ بغیر ہاتھ لگائے تو بغیر قرآن لیے ہوئے تو وہ حفظ نہیں کر سکتا، اور نیز اگر ان کو وہ بچہ ہے، چھوٹا ہے مثلاً چھ سات سال، آٹھ سال کا ہے، اگر ان کو ہر وقت طہارت پاک ہو گے تو پھر قرآن ہاتھ کو ہاتھ لگا سکتے ہو، اگر یہ ان پر پابندی لگائی جائے تو اس صورت میں وہ تنگی کے اندر پڑ جائیں گے بھئی۔ ہاں یہ ہے کہ قرآن ان کو دیا جائے کیونکہ حفظِ قرآن کے لیے اس کی ضرورت ہے، اور طہارت کی تاکید کرتا رہے، سمجھاتا رہے، وہ جوں جوں تھوڑا آگے چھ سات سال کا ہے، آٹھ کا ہے، نو کا، وہ سمجھتا چلا جائے گا اور پھر خود ہی خیال رکھے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "وَإِذَا انْقَطَعَ دَمُ الْحَيْضِ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ لَمْ تَحِلَّ وَطْيُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ" اور جب رک جائے حیض کا خون، "لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ" (يَرْحَمُكَ اللّٰهُ)۔ بھئی مسئلہ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ حیض والی عورت جو ہے، اس پر سے نمازیں ساقط ہو جاتی ہیں، روزوں کی البتہ وہ قضا کرے گی۔ یہ عورت جو ہے مسجد میں بھی داخل نہیں ہو سکتی، بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکتی، اس کا خاوند اس سے قربت بھی نہیں کر سکتا اور یہ قرآن کی تلاوت بھی نہیں کر سکتے اور قرآن کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ اب آگے آپ کو مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ جب حیض کا خون رک جائے تو پھر کب خاوند کے لیے قربت کرنا حلال ہوگا؟ کیا خون کے رکتے ہی قربت کرنا حلال ہوگا یا اور بھی کوئی قیود ہیں ان کا لحاظ رکھنا پڑے گا؟ وہ اب آپ کو بتلانے لگے ہیں۔ تفصیلِ مسئلہ، خلاصۂ کلام یاد رکھیے بھئی! کہ اگر حیض کا خون اس میں یاد رکھیے عادت کو بھی دیکھنا ہے۔ اگر مثلاً عورت کی عادت ہے کہ اس کو ہر ماہ چھ دن خون آتا ہے، تو اس ایک مہینے مثلاً چار دن کے بعد ہی خون رک گیا، تو چار دن کے بعد خون رک جائے پھر بھی خاوند کے لیے صحبت کرنا جائز نہیں جب تک پچھلی عادت کے مطابق دن نہ گزر جائیں۔ اور عادت تو کیا تھی، اس عورت کو کتنے دن خون آتا ہے؟ چھ دن خون آتا ہے۔ تو لہٰذا اگلے دو دن تک بھی خاوند کے لیے صحبت کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ عادت کے دن پورے نہ ہو جائیں۔ وجہ اس کی یہ کیونکہ خون کبھی رک جاتا ہے، کبھی پھر شروع ہو جاتا ہے، تو یہ نہ ہو ابھی حیض رکا ہی نہ ہو۔ لہٰذا بطورِ احتیاط کے کیا ضروری ہے کہ اگلے دو دن تک بھی اس سے قربت نہ کرے بھئی۔ اور اگر اپنے وقت پر حیض رکتا ہے، تو پھر اس کے اندر دیکھیں گے کہ یہ پورے دس دن پر رکا ہے یا دس سے کم دن ہیں، چار ہیں یا پانچ ہیں یا چھ ہیں جو اس کی عادت ہے بھئی، اس کے مطابق۔ اگر عادت کے مطابق رکا ہے، مثلاً چھ دن عادت ہے اور یہ خون بھی رک گیا چھ دن کے پورا ہونے پر، تو اب بھی خاوند قربت نہیں کر سکتا جب تک اس خون کا رکنا پکا نہ ہو جائے، پختہ طریقے سے یہ بات پتہ نہ چل جائے کہ حیض رک چکا ہے۔ لہٰذا خون کے رکتے ہی فوراً صحبت نہیں کر سکتا، بلکہ کچھ وقت تھوڑا سا گزرے تاکہ یہ بات یقینی ہو جائے کہ خون رک چکا ہے۔ اور پھر وہ کتنا وقت ہے؟ کہتے ہیں اتنا وقت جس میں وہ عورت، اول تو یہ کہ قربت خاوند نہ کرے بلکہ پہلے عورت غسل کر لے پھر اس کے بعد قربت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اتنا وقت گزر گیا کہ جس میں عورت غسل کر سکتی ہے، غسل کر سکتی ہے اور تکبیرِ تحریمہ یعنی "اللّٰهُ أَكْبَرُ" کہہ سکتی ہے، اتنا وقت جب گزر جائے تو پھر اس کے بعد صحبت جائز ہو جائے گی، اگرچہ اس نے غسل نہ کیا ہو، اگرچہ اس نے غسل نہ کیا ہو۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ حیض کب رکا ہے؟ چھ دن بعد مثلاً اور عادت کے مطابق، پوری عادت کے مطابق رکا ہے، پھر بھی خاوند کے لیے صحبت جائز نہیں جب تک عورت غسل نہ کر لے یا اتنا وقت اس پر گزر جائے جس میں غسل کر کے تکبیرِ تحریمہ کہہ لے، تکبیرِ تحریمہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تاکہ پختہ طور پر علم ہو جائے کہ خون واقعی رک چکا ہے، اب نہیں آئے گا بھئی۔ اور اگر پورے دس دن کے ہونے پر خون رکا ہے، تو اب دس دن کے بعد تو حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت ہے ہی دس دن، دس دن سے زیادہ تو حیض ہوتا ہی نہیں، لہٰذا اب تو یقینی بات ہے کہ خون آگے جو آئے گا، اگر آیا بھی وہ حیض کا نہیں ہوگا، لہٰذا اب بغیر غسل کے بھی صحبت کرنا جائز ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جی، اب تفصیل دیکھیے۔ "وَإِذَا انْقَطَعَ دَمُ الْحَيْضِ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ" اور جب رک جائے حیض کا خون دس دن سے کم میں ہی، "لَمْ تَحِلَّ وَطْيُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ" تو حلال نہیں ہے، جائز نہیں ہے اس کے ساتھ صحبت کرنا، قربت کرنا، "حَتَّى تَغْتَسِلَ" یہاں تک کہ یہ غسل کر لے، "لِأَنَّ الدَّمَ يَدُرُّ تَارَةً وَيَنْقَطِعُ أُخْرَى" يَدُرُّ پڑھ لیں یا يَدُرَّ پڑھ لیں، دَرَّ يَدُرُّ کے معنی ہوتے ہیں بہنے کے، "لِأَنَّ الدَّمَ يَدُرُّ تَارَةً وَيَنْقَطِعُ أُخْرَى" اس لیے کیونکہ خون جو ہے يَدُرُّ تَارَةً کبھی بہتا ہے، "وَيَنْقَطِعُ أُخْرَى" اور کبھی منقطع ہو جاتا ہے، رک جاتا ہے۔ یہ حیض کا خون کیا ہے؟ کبھی بہتا ہے اور کبھی رک جاتا ہے۔ تو "وَيَنْقَطِعُ أُخْرَى" أَيْ مَرَّةً أُخْرَى یا تَارَةً أُخْرَى، "يَدُرُّ تَارَةً وَيَنْقَطِعُ تَارَةً أُخْرَى"، تو یہ أُخْرَى صفت ہے کس کی؟ تَارَةً محذوف کے لیے۔ تو یہ کبھی بہتا ہے اور کبھی رک جاتا ہے، "فَلَا بُدَّ مِنَ الِاغْتِسَالِ لِيَتَرَجَّحَ جَانِبُ الِانْقِطَاعِ" تو ضروری ہے غسل کرنا تاکہ راجح ہو جائے رکنے کی جانب، منقطع ہونے کی جانب کیا ہو جائے؟ راجح، پتہ چل جائے پختہ طور پر کہ رک چکا ہے خون، منقطع ہو چکا ہے۔ "وَلَوْ لَمْ تَغْتَسِلْ وَمَضَى عَلَيْهَا أَدْنَى وَقْتِ الصَّلَاةِ بِقَدْرِ أَنْ تَقْدِرَ عَلَى الِاغْتِسَالِ وَالتَّحْرِيمَةِ حَلَّ وَطْيُهَا" اور اگر اس نے غسل نہیں کیا، "وَمَضَى عَلَيْهَا أَدْنَى وَقْتِ الصَّلَاةِ" اور گزر گیا اس عورت پر نماز کا ادنیٰ وقت، "بِقَدْرِ" اس قدر مقدار، "أَنْ تَقْدِرَ عَلَى الِاغْتِسَالِ" کہ وہ عورت قادر تھی قادر ہو، "عَلَى الِاغْتِسَالِ" غسل کرنے پر، "وَالتَّحْرِيمَةِ" اور تحریمہ تکبیرِ تحریمہ کہنے پر، یعنی "اللّٰهُ أَكْبَرُ" کہنے پر، "حَلَّ وَطْيُهَا" تو اب اس کے ساتھ قربت کرنا حلال ہے۔ بھئی اب کیوں حلال ہے؟ کہتے ہیں دلیل ذکر کر رہے ہیں: "لِأَنَّ الصَّلَاةَ صَارَتْ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهَا" اس لیے کیونکہ نماز جو ہے وہ اس کے ذمے دین ہو گئی، جب اتنا وقت گزر گیا۔ بھئی دیکھیے! آپ نے مسئلہ گزشتہ یا اس سے گزشتہ سبق میں، میں نے ذکر کیا تھا کہ جن چیزوں کا تعلق وقت سے ہوتا ہے، اس میں آخرِ وقت کا اعتبار ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک عورت اگر آخرِ وقت میں حیض شروع ہو گیا، مثلاً ظہر کا آخری وقت ہے اس میں حیض شروع ہوا، تو آخرِ وقت کا اعتبار ہے اور آخرِ وقت میں تو یہ عورت حیض والی ہے اور حیض والی پر تو نماز واجب نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے ذمے یہ ظہر کی نماز بھی نہیں ہے، یہ ساقط ہو گئی۔ اور اگر اس کا عکس ہو، یعنی ظہر کے اولِ وقت میں حیض والی تھی اور آخرِ وقت میں حیض رک گیا، رک گیا، تو اب یہ آخرِ وقت میں اس پر نماز واجب ہوگی یا نہیں؟ تو کہتے ہیں بھئی وقت کو دیکھ لیں۔ اگر اتنا وقت مل گیا ہے، اتنا وقت ہے جس میں یہ جلدی سے غسل کر سکتی ہے اور تحریمہ کہہ سکتی ہے، "اللّٰهُ أَكْبَرُ" کہہ سکتی ہے، تو اس صورت میں یہ نماز ظہر کی اس پر واجب ہو جائے گی، اور اگر اتنا وقت ہی نہیں تھا جس میں غسل کر کے کیا کر سکے؟ تحریمہ کہہ سکے، مثلاً آخری پانچ منٹ میں رکا ہے، پھر اس کے ذمے یہ نماز بھی نہیں ہے کیونکہ یہ نماز پڑھنے پر یہ قادر ہی نہیں تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہاں پر بھی جب یہ عورت ہے اس کا حیض رک گیا، عادت کے مطابق رکا ہے اور پھر قربت کے لیے کیا ضروری؟ پہلے وہ کیا کر لے؟ غسل کر لے، لیکن اس نے غسل نہیں کیا، لیکن اتنا وقت گزر گیا جس میں غسل کر سکتی ہے اور تحریمہ کہہ سکتی ہے، جب اتنا وقت کسی نماز کا عورت کو مل جائے تو وہ نماز اس پر کیا ہو جاتی ہے؟ واجب ہو جاتی ہے، بعد میں پڑھنا پڑے گی۔ نماز اس کے ذمے دین ہو گئی، اس کو بعد میں پڑھنا پڑے گی۔ تو شریعت نے اس پر نماز کو واجب کیا ہے، معلوم ہوا ہے وہ حکماً پاک ہو چکی ہے۔ حکماً کیا ہو چکی ہے؟ پاک ہو چکی ہے۔ اگر حکماً پاک نہ ہوتی، پھر تو نماز اس پر آتی ہی نہ۔ تو اگرچہ اس نے غسل نہیں کیا لیکن حکماً کیا ہو چکی؟ پاک ہو چکی ہے، اسی لیے اس پر نماز شریعت واجب کر دیتی ہے۔ "لِأَنَّ الصَّلَاةَ صَارَتْ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهَا" اس لیے کیونکہ نماز جو ہے وہ دین ہو گئی اس عورت کے ذمے میں، "فَطَهُرَتْ حُكْمًا" تو یہ عورت پاک ہو گئی حکماً۔ حقیقتاً تو ابھی پاک نہیں، حقیقتاً تو کب پاک ہوگی؟ جب غسل کرے گی، لیکن حکماً پاک ہو چکی، لہٰذا خاوند صحبت کر سکتا ہے۔ "وَلَوْ كَانَ انْقَطَعَ دَمُهَا دُونَ عَادَتِهَا فَوْقَ الثَّلَاثِ لَمْ يَقْرَبْهَا حَتَّى تَمْضِيَ عَادَتُهَا وَإِنِ اغْتَسَلَتْ" اور اگر خون رک گیا، "دُونَ عَادَتِهَا" اس عورت کی عادت سے کم میں، عادت تو تھی مثلاً چھ دن، خون کب رک گیا؟ چار دن میں ہی مثلاً، "فَوْقَ الثَّلَاثِ" عادت سے کم میں، تین سے زیادہ میں۔ خون کتنے دن میں رکا ہے؟ عادت سے تو کم ہے لیکن تین دنوں سے زیادہ ہے۔ یہ قید کیوں لگائی تین دنوں سے زیادہ کی؟ ہاں، کیونکہ تین دن سے زیادہ ہوگا تو حیض ہوگا، ورنہ تو کیا ہے؟ استحاضہ ہے۔ تو تین دن سے زیادہ اور عادت سے کم کے اندر اگر خون منقطع ہو گیا، "لَمْ يَقْرَبْهَا" تو خاوند اس سے قربت نہیں کرے گا، "حَتَّى تَمْضِيَ عَادَتُهَا" یہاں تک کہ اس عورت کی عادت گزر جائے، یعنی وہ دن گزر جائیں، "وَإِنِ اغْتَسَلَتْ" اگرچہ یہ غسل کر لے۔ یعنی خاوند اس سے قربت نہیں کرے گا اگرچہ یہ غسل بھی کر لے، یہاں تک کہ کیا ہے؟ اس کے وہ دن گزر جائیں عادت والے۔ "لِأَنَّ الْعَوْدَ فِي الْعَادَةِ غَالِبٌ" اس لیے کیونکہ لوٹنا، یعنی خون کا واپس لوٹنا، پھر آ جانا یہ عادت میں غالب ہے۔ اکثر کیا ہے؟ عادت کے دنوں کے اندر خون پھر آ جایا کرتا ہے، لہٰذا اس لیے احتیاط کے طور پر اس وقت اس کے لیے صحبت کرنا جائز نہیں۔ "لِأَنَّ الْعَوْدَ فِي الْعَادَةِ غَالِبٌ" اس لیے کیونکہ خون کا پھر لوٹنا عادت کے اندر یہ غالب ہے، "فَكَانَ الِاحْتِيَاطُ فِي الِاجْتِنَابِ" تو احتیاط جو ہے وہ اجتناب میں، پرہیز کرنے میں ہے۔ "وَإِنِ انْقَطَعَ الدَّمُ لِعَشَرَةِ أَيَّامٍ حَلَّ وَطْيُهَا قَبْلَ الْغُسْلِ" اور اگر خون منقطع ہوا یعنی رک گیا دس دن پر، "حَلَّ وَطْيُهَا" تو پھر اس کے ساتھ قربت کرنا، صحبت کرنا خاوند کے لیے جائز ہے، "قَبْلَ الْغُسْلِ" غسل سے پہلے ہی، "لِأَنَّ الْحَيْضَ لَا مَزِيدَ لَهُ عَلَى الْعَشَرَةِ" اس لیے کیونکہ حیض جو ہوتا ہے وہ تو زائد نہیں ہوتا دس دن پر، "إِلَّا أَنَّهُ لَا يُسْتَحَبُّ قَبْلَ الِاغْتِسَالِ" مگر یہ کہ مستحب نہیں ہے غسل سے پہلے صحبت کرنا۔ مستحب کیا ہے؟ چاہے دس دن پر ہی حیض رکے، پھر بھی کیا مستحب کیا ہے کہ غسل کے بعد قربت کی جائے، "لِلنَّهْيِ فِي الْقِرَاءَةِ بِالتَّشْدِيدِ" بوجہ اس نہی کے جو تشدید والی قراءت میں ہے بھئی۔ قراءت میں ایک قراءت کیا ہے؟ "حَتَّى يَطْهُرْنَ"، یہ تو بغیر تشدید کے ہے، اس میں شد نہیں، اور ایک قراءت کیا ہے؟ "حَتَّى يَطَّهَّرْنَ" یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں۔ تو اس میں تشدید والی قراءت میں جو نہی آئی ہے کہ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، تو خون رکنے پر تو وہ پاک ہو گئی، لیکن غسل کرے گی تو پھر خوب پاک ہو جائے گی بھئی۔ تو قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "فَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطَّهَّرْنَ" ان کے ساتھ قربت نہ کرو، صحبت نہ کرو یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں۔ تو چونکہ یہ نہی جو آئی ہے تشدید والی قراءت میں، اس وجہ سے مستحب یہ ہے کہ کب کرے قربت خاوند؟ جب وہ غسل کر لے بھئی۔ اور یاد رکھیے! حیض کی حالت میں خاوند کا بیوی سے صحبت کرنا یہ گناہِ کبیرہ ہے بھئی، کبیرہ گناہ ہے، بہت بڑا گناہ۔ اور اس صورت میں علماء، فقہاء فرماتے ہیں کہ انسان توبہ اور استغفار بھی کرے اور ایک دینار صدقہ کر دے، بعضوں نے لکھا کہ آدھا دینار صدقہ کر دے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور ایک دینار جو ہے وہ ساڑھے ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے بھئی۔ "لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ شَيْئًا" بھئی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ حدیث میں تو آیا تھا قراءت نہ کرے قرآن کی حائض اور جنب: "لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ شَيْئًا"، تو اس میں تو نفاس والی کا ذکر نہیں ہے، اور متن میں تو نفاس والی کا بھی یہی حکم بیان کیا گیا؟ جواب یہ کہ نفاس والی بھی حائض ہی کے حکم میں ہے۔ نفاس والی بھی کس کے حکم میں ہے؟ حائض ہی کے حکم میں ہے، اسی کی طرح ہے، تو دونوں کا حکم ایک ہی ہے بھئی۔ جی، یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر عورت حج کے لیے گئی اور وہاں پر یہ ایامِ حیض شروع ہو گئے بھئی۔ یہ آگے مسئلہ تفصیل سے کتاب الحج کے اندر بھی آ جائے گا، تو یاد رکھیے، وہ صرف طواف نہیں کر سکتی ان ایام میں، باقی حج کے سارے افعال کر سکتی ہے، عرفات بھی جا سکتی ہے، مزدلفہ بھی جائے گی، منیٰ بھی جائے گی، رمیِ جمرات بھی کرے گی، سارے افعال کر سکتی ہے۔ صرف طواف اور سعی جو ہے اس کو مؤخر کر دے گی، اور شریعت نے اس کو رخصت دی ہے وہ مؤخر کر سکتی ہے بھئی۔ جی جی، نمازیں لوٹانا پڑیں گی۔ جب پتہ چل جائے یہ ایام حیض کے ہیں، تو ان کی نمازیں ساقط ہو جائیں گی، اور چاہے پڑھی ہی کیوں نہ ہوں، ان کا اعتبار نہیں۔ اور جو اگر پتہ چلا بعد میں خون آیا اور پھر بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ تو استحاضہ کا تھا، تو جو نمازیں چھوٹ گئی ہیں ان کو لوٹانا پڑے گا بھئی، کیونکہ استحاضہ کے اندر نماز ساقط نہیں ہوتی، نماز پڑھنا پڑتی ہے۔ چلیے بس بھئی! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 31 of 82