Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-023

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَإِنْ وَجَدُوا فِي الْبِئْرِ فَأْرَةً أَوْ غَيْرَهَا وَلَا يُدْرَى مَتَى وَقَعَتْ وَلَمْ يَنْتَفِخْ أَعَادُوا صَلَاةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِذَا كَانُوا تَوَضَّؤُوا مِنْهَا، وَغَسَلُوا كُلَّ شَيْءٍ أَصَابَهُ مَاؤُهَا، وَإِنْ كَانَتْ قَدِ انْتَفَخَتْ أَوْ تَفَسَّخَتْ أَعَادُوا صَلَاةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَا: لَيْسَ عَلَيْهِمْ إِعَادَةُ شَيْءٍ حَتَّى يَتَحَقَّقُوا أَنَّهَا مَتَى وَقَعَتْ. کنویں سے متعلقہ مسائل چل رہے ہیں بھئی، کہ کنویں کے اندر اگر کوئی نجاست وغیرہ یا کوئی جانور گر جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر کوئی جانور کنویں میں گرا اور مرا اور پھول اور پھٹ گیا تو اس صورت میں سارا پانی نکالنا پڑے گا، چاہے وہ جانور چھوٹا ہو یا بڑا ہو بھئی۔ اور پھر اس کے بعد یہ ذکر ہوا تھا کہ اگر کنواں چشمے والا ہے تو پھر اس وہ تو اس سے تو سارا پانی نکل ہی نہیں سکتا، جتنا نکالتے جاتے ہیں نیچے سے اور پانی آتا رہتا ہے، تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ؟ طریقہ بتلایا تھا کہ کیا کیا جائے، اس کے برابر اسی کے پانی کی مقدار جتنی اس میں ہے، اس کے برابر اتنی گہرائی کا ایک اور گڑھا کھود لیں اور کنویں سے پانی نکال نکال کر اس میں ڈالتے جائیں، جب یہ گڑھا بھر جائے تو گویا کہ سارا پانی آپ نے کنویں کا نکال لیا تو کنواں پاک ہو جائے گا۔ یا دوسری صورت یہ ذکر ہوئی کہ اس کنویں کے اندر ایک بانس وغیرہ ڈالا جائے اور نشان لگا لیا جائے جتنا پانی ہو اور پھر اس سے چند ڈول نکال کر دیکھیں کہ کتنا فرق پڑا، جلدی جلدی نکالیں، اس میں تاخیر نہیں کرنی کیونکہ نیچے سے اور پانی آئے گا لیکن وہ اتنی رفتار سے نہیں آتا، تو چند ڈول نکال لیں اور پھر دیکھیں کتنا فرق پڑا ہے، کتنا پانی نیچے گیا ہے، تو باقی مقدار کے لیے اسی حساب سے پھر کیا کر لیں گے؟ ڈول نکال لیں تو کنواں پاک سمجھا جائے گا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ دو سو سے لے کر تین سو ڈول تک نکال لیے جائیں تو کنواں پاک ہو جائے گا، جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس صورت کے اندر وہ فرماتے ہیں کہ پانی نکالتے رہو یہاں تک کہ اور نکالنے کی سکت نہ رہے، انسان تھک جائے، پانی اس پر غالب آ جائے، تو امام صاحب جیسے اور مقامات پر بھی مبتلیٰ بہ کی رائے کا اعتبار کرتے ہیں، یہاں بھی انہوں نے جو مبتلیٰ ہوا اسی کے عمل کا اعتبار کیا کہ وہ پانی نکالتا رہے کہ یہاں تک کہ خوب تھک جائے بھئی، کوئی مقدار انہوں نے متعین نہیں فرمائی۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے بعض دیگر فقہاء کا یہ قول بھی ذکر کیا کہ اس صورت کے اندر دو عادل دو آدمی جنہیں پانی کے معاملات کا اندازہ ہو ان سے رائے لی جائے اور ان کے قول پر عمل کر لیا جائے کہ اتنا پانی نکال لیا جائے تو کنویں کو کیا سمجھا جائے گا پھر؟ پاک سمجھا جائے گا بھئی صاحب۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ پانی اکٹھا نکالنا بھی ضروری نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ بعض صورتوں میں مثلاً بیس ڈول نکالنے ہیں یا چالیس ڈول نکالنے ہیں یا جتنا بھی نکالنا ہے، چاہے متفرق طور پر بھی اتنا پانی کنویں سے نکل آئے تو کنواں پاک سمجھا جائے گا۔ اور پھر اس نکالنے کے اندر چاہے نیت ہو یا نیت نہ ہو، کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک، لیکن شرط یہ ہے پہلے اس نجاست کو نکالا جائے، اس جانور وغیرہ کو، اس کے بعد پھر پانی نکالا جائے تو کنواں پاک ہو جائے گا، مثلاً کوئی چیز گری اور اس صورت میں شریعت کا حکم متوجہ ہوا، کوئی ایسا جانور جس میں چالیس ڈول مثلاً نکالنے پڑتے ہیں، جب اس جانور کو نکال دیا اور پھر اس کے بعد چالیس ڈول نکالے اور اس میں بھی کچھ ڈول مثلاً آج نکالے، کچھ ڈول کل نکالے، کچھ ڈول پرسوں نکالے تو جب وہ چالیس ڈول پورے ہو جائیں گے تو کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا، اس سے پہلے پاک نہیں۔ حتی کہ مثلاً اگر کوئی ایسا علاقہ ہے کہ مثلاً کفار کا علاقہ ہے، وہاں چند ایک مسلمان ہیں، اب کنواں مشترکہ ہے، اسی سے کفار بھی استعمال کرتے ہیں، پانی لے جاتے ہیں اور مسلمان بھی اسی سے پانی استعمال کرتے ہیں، اب اس کنویں کے اندر کوئی جانور گر کر مر گیا اور مثلاً کوئی بڑا جانور تھا بکری وغیرہ، اب سارا پانی نکالنا ضروری، تو اس صورت میں آپ نے پڑھا بھئی، کہ سارا پانی نکالنا پڑے گا اور امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ دو سو سے تین سو ڈول تک نکال لیے جائیں، تو جس پر بھی عمل کر لیا جائے علماء دونوں طرف گئے ہیں، اول تو یہ کہ کوشش کی جائے سارا پانی نکالا جائے، اگر وہ دو سو سے تین سو ڈول تک بھی نکال لیے جائیں تو بھی کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا، دو سو ڈول ہیں وجوب کے طریقے پر اور تین سو ڈول ہیں استحباب کے طریقے پر۔ اب مثلاً یہ کنواں تو ہے کفار کے علاقے میں، سارا ان کا محلہ ہے، سارے ان کے لوگ ہیں، مسلمان تو دو چار ہیں، تو اب وہ تو اس طرح نہیں کرنے دیں گے کہ سارا پانی نکالیں، تو تو مسلمان پھر اس وقت تک اس کنویں کا پانی استعمال نہ کریں جب تک اتنا پانی نہ نکل جائے اس میں سے، مثلاً کفار تو استعمال کر رہے ہیں، وہ تو پانی نکالتے جا رہے ہیں، تو بس جتنے عرصے میں دو سو سے تین سو ڈول پانی نکل جائے، جب وہ پانی نکال لیں گے تو کنواں کیا سمجھا جائے گا؟ پاک سمجھ، کفار مسلسل اپنے استعمال کے لیے دن رات جیس جیسی ضرورت ہوتی ہے اس کے مطابق نکالتے جا رہے ہیں، تو جب اتنا پانی نکل جائے گا تو کنویں کو کیا سمجھا جائے گا؟ پاک سمجھا جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں کہ کنویں کے اندر کوئی حیوان مرا ہوا ملا اور پتہ نہیں کہ یہ کب گرا ہے، علم ہی نہیں ہے، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی، متن کے اندر آیا کہ اگر کوئی حیوان ملا ہے تو اس میں دو صورتیں ہیں بھئی، یا تو وہ پھولا اور پھٹا نہیں ہو گا یا پھول گیا ہو گا گل گیا ہو گا۔ اگر وہ حیوان ملا اور پھولا اور گلا نہیں تو اس صورت میں یاد رکھیے پاک کرنے کا تو وہی طریقہ، ایک دن اور رات کی نمازیں لوٹانا پڑیں گی، اگر اسی کنویں کے پانی سے وضو کیا تھا بھئی۔ گزشتہ ایک دن رات کی نمازیں کیا کر لیں گے؟ ان کو لوٹائیں گے اور اگر وہ جانور جو ہے وہ پھول گیا ہے، پھٹ گیا ہے، گل گیا ہے پانی کے اندر تو پھر اس صورت میں تین دن اور تین راتوں کی نمازیں لوٹانا پڑیں گی اگر اسی کے پانی سے وضو کرتے رہے ہیں اور اسی طرح اگر اسی برتن وغیرہ دھوئے ہیں یا کپڑے وغیرہ اس کنویں کے پانی سے دھوئے ہیں تو ان کو دوبارہ دھونا پڑے گا اس عرصے کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک دن رات والی صورت میں جو ایک دن رات کے اندر جو کپڑے دھوئے ہیں یا برتن دھوئے ہیں ان کو دوبارہ دھو لیں گے اور تین دن والی صورت کے اندر جو تین دن اور تین راتوں کے اندر جو کپڑے اور برتن وغیرہ دھوئے ہیں ان کو کیا کر لیں گے؟ دوبارہ دھو لیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَإِنْ وَجَدُوا فِي الْبِئْرِ فَأْرَةً أَوْ غَيْرَهَا“ اور اگر ان کنویں والوں نے پایا کنویں کے اندر کوئی چوہا یا کوئی اور چیز، ”وَلَا يُدْرَى مَتَى وَقَعَتْ“ اور یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کب گرا ہے، ”وَلَمْ يَنْتَفِخْ“ اور وہ پھولا نہیں ہے، معلوم ہوا کوئی زیادہ عرصہ اسے نہیں ہوا، ”أَعَادُوا صَلَاةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِذَا كَانُوا تَوَضَّؤُوا مِنْهَا“ تو لوٹا لیں وہ لوگ ایک دن رات کی نمازیں جبکہ وہ اسی سے وضو کرتے تھے، جب اسی پانی سے وضو کرتے تھے تو پھر ایک دن رات کی نمازیں لوٹا لیں، سمجھ میں آیا؟ اگر اسی سے وضو کیا، اگر کہیں اور سے وضو کرتے رہے ہیں پھر نہیں لوٹانے کی ضرورت بھئی، چونکہ اس کا پانی نجس تھا اس لیے، ”وَغَسَلُوا كُلَّ شَيْءٍ أَصَابَهُ مَاؤُهَا“ اور دھو لیں ہر اس چیز کو جس کو اس کا پانی پہنچا ہے، یعنی اس ایک دن رات کے اندر اس کنویں کے پانی سے جو برتن یا کپڑے دھوئے ہیں ان کو بھی دوبارہ دھو لیں، ”وَإِنْ كَانَتْ قَدِ انْتَفَخَتْ أَوْ تَفَسَّخَتْ“ اور اگر وہ حیوان جو ہے وہ پھول گیا ہے ”أَوْ تَفَسَّخَتْ“ یا گل گیا ہے یعنی پھول پھٹ گیا ہے، ”أَعَادُوا صَلَاةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ تو لوٹائیں بھئی تین دن اور تین راتوں کی نمازیں، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَا: لَيْسَ عَلَيْهِمْ إِعَادَةُ شَيْءٍ حَتَّى يَتَحَقَّقُوا أَنَّهَا مَتَى وَقَعَتْ“ اور صاحبین فرماتے ہیں: ”لَيْسَ عَلَيْهِمْ إِعَادَةُ شَيْءٍ“ ان لوگوں پر کسی چیز کا اعادہ نہیں، کوئی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، ”حَتَّى يَتَحَقَّقُوا“ یہاں تک کہ ان کو تحقیق ہو جائے ”أَنَّهَا مَتَى وَقَعَتْ“ کہ یہ کب گرا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کسی صورت میں، چاہے حیوان پھول پھٹ گیا ہے یا پھولا پھٹا نہیں ہے، دونوں صورتوں میں نمازوں وغیرہ کے اعادے کی ضرورت نہیں، کپڑے اور برتن وغیرہ جو دھوئے ہیں ان کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں، جب تک یہ تحقیق نہ ہو جائے پتہ نہ چل جائے کہ یہ کب گرا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر صاحبین یہ فرماتے ہیں کہ یوں سمجھا جائے گا یہ حیوان ابھی گرا ہے، اس سے پہلے کنواں پاک ہی تھا بھئی، اس سے پہلے کیا تھا؟ پاک ہی تھا، کوئی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، کنواں پاک تھا بھئی اور کوئی کپڑے اور برتن جو دھوئے تھے پچھلے دنوں کے اندر ان کو دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں، بلکہ جس وقت یہ حیوان ہمیں ملا یوں سمجھا جائے گا ابھی گرا ہے، اب سے کنواں نجس ہو گا شمار، اس سے پہلے نجس شمار نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”لِأَنَّ الْيَقِينَ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ“ صاحبین کی دلیل بھئی، وہ فرماتے ہیں ”لِأَنَّ الْيَقِينَ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یقین جو ہے وہ شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا، یہ اسلام کا، فقہ کا عظیم اصول ہے مولانا، ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ“ بھئی، کہ یقین شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ زمانۂ ماضی کے اندر کنویں کا پاک ہونا یقینی تھا یا نہیں تھا بھئی؟ زمانۂ ماضی میں پاک ہونا یقینی تھا اور اب ہمیں حیوان مرا ہوا اس کے اندر ملا ہے، اب شک آ گیا کہ پتہ نہیں کب گرا ہے، گزشتہ ایام کے اندر یہ پہلے سے ہی گرا ہوا تھا، ایک دو دن سے گرا ہوا ہے یا ابھی گرا ہے، تو اس زمانے کے اندر پانی کے نجس ہونے میں شک آ گیا، کیا آ گیا؟ شک آ گیا۔ تو پاک ہونا تو یقینی تھا اور پانی کے نجس ہونے میں شک آ گیا، تو ضابطہ ہے ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ“، یقین شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا، تو پاک ہونا یقینی تھا تو اس کو پاک ہی سمجھا جائے گا اور یوں سمجھا جائے گا کہ گویا کہ وہ چیز وہ حیوان پانی میں ابھی گرا ہے، یوں سمجھیں گے، بھئی یوں سمجھیں گے کہ ابھی گرا ہے، خود گرا ہے یا کسی اور چیز نے لا کر مثلاً کسی پرندے وغیرہ نے کی چونچ میں یا پنجوں میں تھا اور اس سے گرا ہے بھئی یا کسی اور کسی سبب سے ابھی گرا ہے بھئی۔ ”وَصَارَ كَمَنْ رَأَى فِي ثَوْبِهِ النَّجَاسَةَ وَلَا يَدْرِي مَتَى أَصَابَتْهُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ ہو گیا یہ اسی طرح ہو گیا کہ ”كَمَنْ رَأَى فِي ثَوْبِهِ“ جس شخص نے دیکھا اپنے کپڑے کے اندر نجاست کو ”وَلَا يَدْرِي“ اور اسے معلوم نہیں ہے ”مَتَى أَصَابَتْهُ“ کہ یہ نجاست اس کو کب لگی ہے بھئی۔ بھئی ایک آدمی ہے اس کے اس نے اپنے کپڑوں پر نجاست لگی ہوئی دیکھی تو اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ یوں سمجھا جائے گا نجاست ابھی لگی ہے اور گزشتہ ایام کی نمازیں لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں یہ بھی اسی طرح سمجھا جائے گا اور اس کے اندر گزشتہ ایام کی نمازیں لوٹانے کا حکم نہیں تھا، تو لہٰذا اس کے اندر بھی گزشتہ ایام کی نمازیں لوٹانے کا حکم نہیں ہے۔ گویا صاحبین نے اس مسئلے کو قیاس کیا اس کپڑے پر نجاست کے پائے جانے کے مسئلے پر اور اس کے اندر تو حکم تھا کہ نمازیں وغیرہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، لہٰذا یہاں پر بھی نمازیں وغیرہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ یہ تھی صاحبین کی دلیل۔ تو یہاں پر بھئی دو قول آ گئے بھئی، ایک امام صاحب کا قول، امام صاحب فرماتے ہیں کہ بعض صورتوں کے اندر ایک دن رات کی نمازوں کو لوٹانا پڑے گا اور بعض صورتوں کے اندر تین دن تین راتوں کی نمازوں کو لوٹانا پڑے گا، جبکہ صاحبین کا قول آیا وہ فرماتے ہیں کوئی نماز وغیرہ لوٹانے کی ضرورت نہیں بلکہ یوں سمجھا جائے گا کہ یہ حیوان وغیرہ ابھی گرا ہے بھئی، ابھی گرا ہے۔ تو یاد رکھیے، یاد رکھیے علماء دونوں طرف گئے ہیں بھئی، بعضوں نے امام صاحب کے قول کو اختیار کیا، بعضوں نے صاحبین کے قول کو اختیار کیا، تو امام صاحب کے قول میں احتیاط زیادہ ہے بھئی، اس میں کیا ہے؟ احتیاط زیادہ ہے، نماز وغیرہ کا مسئلہ ہے تو احتیاط یہی ہے کہ انسان کیا کرے؟ وہ نمازیں گزشتہ ایام کی لوٹا لے، لیکن اگر صاحبین کے قول پر بھی مسئلہ بتلایا جائے تو یہ بھی درست ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو صاحبین کی دلیل ذکر ہوئی بھئی کہ یقین جو ہے وہ شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا بھئی، شک کی وجہ سے، اور نیز صاحبین نے اس کو قیاس کیا اس شخص پر جس نے اپنے کپڑوں پر نجاست لگی ہوئی دیکھی۔ آگے اب امام صاحب کی دلیل آ رہی ہے: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ لِلْمَوْتِ سَبَبًا ظَاهِرًا وَهُوَ الْوُقُوعُ فِي الْمَاءِ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ موت کا ایک ظاہری سبب ہے اور وہ پانی کے اندر گرنا ہے، ”فَيُحَالُ بِهِ“ ”وَهُوَ الْوُقُوعُ فِي الْمَاءِ“ اور وہ پانی کے اندر گرنا ہے، ”فَيُحَالُ بِهِ“ بہ کی ہا ضمیر راجع ہے موت کو، پس حوالہ کیا جائے گا موت کو، ”عَلَيْهِ“ علیہ کی ہا ضمیر راجع ہے وقوع فی الماء کو، پانی میں گرنے، پس موت کو پانی کے گرنے کے حوالہ کیا جائے گا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”فَيُحَالُ بِهِ“ حوالہ کیا جائے گا، کس کو؟ موت کو، ”عَلَيْهِ“ کس کے؟ وقوع فی الماء، پانی میں گرنے کے، یعنی موت کو پانی میں گرنے کے حوالہ کیا جائے گا، یعنی یوں سمجھا جائے گا پانی میں گرنے سے یہ مرا ہے، پانی میں گرنے سے اس کی موت آئی ہے۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ موت کا ایک ظاہری سبب ہے اور وہ ظاہری سبب کیا ہے یہاں پر؟ حیوان ہمیں ملا ہے کنویں کے اندر، تو ظاہر یہی ہے کہ یہ اس کنویں کے پانی میں گرنے سے مرا ہے، سمجھ میں آیا؟ ایک احتمال تو یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے ابھی ابھی کوئی کسی چیز کی وجہ سے یہ پانی میں مرنے کے بعد گرا ہو بھئی، ایک صورت تو یہ تھی جیسے میں نے ابھی ذکر کیا بھئی، احتمال ہے ہو سکتا ہے کوئی پرندہ اوپر جا رہا تھا اور اس کے پنجوں میں یہ چوہا وغیرہ تھا اور اس سے کنویں کے اندر گر پڑا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بھی احتمال ہے، یا کسی اور وجہ سے گر پڑا، تو اور اسباب احتمالات بھی ہیں لیکن امام صاحب فرماتے ہیں ظاہری سبب کیا اس وقت بظاہر کیا معلوم ہو رہا ہے کہ پانی میں گرنے سے مرا ہے، تو اسی کے حوالہ کیا جائے گا، یعنی یوں ہی سمجھا جائے گا کہ یہ پانی میں گرنے سے مرا ہے اور کچھ وقت اس کو معلوم ہوا گزر چکا ہے بھئی، کچھ وقت گزر چکا ہے۔ تو اب پانی میں گرا ہے تو کس طرح اندازہ لگائیں گے کہ کتنا وقت گزرا ہے؟ کہتے ہیں بھئی اگر پھول گیا ہے پھٹ گیا ہے معلوم ہوا گرے ہوئے کافی دیر ہو چکی ہے، گرا اسی پانی میں گرنے کی وجہ سے مرا ہے اور گرے ہوئے کافی دیر ہو چکی ہے اور اگر پھولا پھٹا نہیں معلوم ہوا زیادہ دیر نہیں گزری، جب زیادہ دیر نہیں گزری تو پھر ہم نے اس میں ایک دن کا نمازوں کے ایک دن رات کی نمازوں کے لوٹانے کا حکم دیا، ایک دن سے کم کا حکم اس لیے نہیں کیونکہ ایک دن سے کم وہ تو وقت ہے، اوقات ہیں، گھڑیاں ہیں اور ان کا ان کے تعیین کی کوئی صورت نہیں، بھئی اس زمانے کے اندر تو گھڑیاں وغیرہ تھیں ہی نہیں، آج کل تو اللہ نے بڑی آسانی کر دی بھئی، آپ دن کے کسی حصے میں ہوتے ہیں، گھڑی پر نظر ڈالتے ہیں، آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس وقت کتنے گھنٹے گزر چکے ہیں اور کتنے گھنٹے باقی ہیں، نماز کے لیے آپ نے پہنچنا ہوتا ہے، عین آپ کو پتہ ہوتا ہے دو منٹ رہ گئے ہیں اب میں پہنچ سکتا ہوں، آپ فوراً چلتے ہیں اور وہاں جماعت تک پہنچ جاتے ہیں، قدیم زمانے میں تو یہ آسانی نہیں تھی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اندازے سے بھئی، پہلے ہی جانا پڑے گا ورنہ وقت کا اندازہ نہیں ہوتا تھا، اسی طرح رات کے وقت بھئی، آپ رات کے کسی حصے میں آج آپ کی آنکھ کھلتی ہے، آپ گھڑی دیکھتے ہیں، آپ کو فوراً پتہ چل جاتا ہے اتنی رات گزر چکی ہے اتنی رات باقی ہے، قدیم زمانے میں تو کوئی صورت نہیں تھی کہ جس سے پتہ لگ جائے، کوئی کوئی ماہر ہوتا تھا وہ ستاروں کے ذریعے کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا تھا لیکن پھر بھی آج کی طرح جو صحیح تعیین کے ساتھ اندازہ ہوتا ہے وہ پہلے نہیں تھا، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی دن سے کم تو اوقات ہیں، ان میں تو تعیین کی کوئی صورت نہیں، گھڑیاں ہیں، کتنی گھڑی؟ کتنا وقت بھئی؟ اس کی تو تعیین ہو نہیں، اندازہ ہی چلانا، تو لہٰذا کم سے کم مقدار کتنی ہم نے متعین کر دی اس کے لیے؟ ایک دن رات، تو جب اگر پھولا پھٹا نہیں، معلوم ہوا تھوڑی دیر ہوئی ہے اس حیوان کو گرے ہوئے کم اور اس میں کیا کر لو؟ ایک دن رات کی نمازیں لوٹا لو اور اگر پھول گیا ہے پھٹ گیا ہے تو پھر کیا کر لو؟ تین دن تین راتیں، کیونکہ تین دن تین راتیں یہ کثرت میں داخل ہو گیا، کثرت کی اقل حد کیا ہے بھئی؟ تین ہے بھئی، تو ہم نے بھی کیا کیا؟ تین دن رات کا اعتبار کر لیا، اگرچہ احتمال یہ بھی ہے ہو سکتا ہے یہ حیوان باہر ہی کہیں مرا تھا وہیں پھول پھٹ گیا پھر کسی جانور نے اٹھایا اور ابھی گرا ہے، یہ احتمال ہے یا نہیں؟ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ یہ احتمال ہے لیکن ظاہری سبب اس وقت کیا معلوم ہو رہا ہے؟ پانی میں گرنے سے، پانی میں ملا ہے تو معلوم ہوا پانی میں گرنے سے ہی مرا ہے اور اسی کے حوالہ کیا جائے گا، یعنی یہی سمجھا جائے گا کہ پانی میں گرنے سے مرا ہے اور پھولا پھٹا ہے، معلوم ہوا کافی دیر ہو گئی ہے اس کو پانی کے اندر گرے ہوئے، تو اس صورت میں کیا کر لو؟ تین دن تین راتوں کی نمازیں لوٹا لو، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ لِلْمَوْتِ سَبَبًا ظَاهِرًا وَهُوَ الْوُقُوعُ فِي الْمَاءِ فَيُحَالُ بِهِ عَلَيْهِ“ کہ موت کا ایک ظاہری سبب ہے اور وہ پانی میں گرنا ہے تو اس موت کو اسی کے حوالہ کیا جائے گا، ”إِلَّا أَنَّ الِانْتِفَاخَ دَلِيلُ التَّقَادُمِ“ مگر یہ کہ پھولنا جو ہے وہ دلیل ہے تقادم کی یعنی پرانا ہونے کی، دلیل ہے کس چیز کی؟ پرانا ہونے کی، یعنی کہ کافی وقت گزر چکا ہے، ”فَيُقَدَّرُ بِالثَّلَاثِ“ تو اس کا اندازہ لگایا جائے گا تین کے ساتھ، تین دن راتوں کے ساتھ، ”وَعَدَمُ الِانْتِفَاخِ وَالتَّفَسُّخِ دَلِيلُ قُرْبِ الْعَهْدِ“ اور نہ پھولنا اور نہ پھٹنا بھئی نہ پھولنا اور نہ پھٹنا جو ہے ”دَلِيلُ قُرْبِ الْعَهْدِ“، عہد کہتے ہیں زمانے کو، یہ زمانے کے قریب ہونے کی دلیل ہے یعنی قریبی زمانے میں گرا ہے، ”فَقَدَّرْنَاهُ بِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ“ تو ہم نے اس کا اندازہ لگایا ایک دن اور رات کے ساتھ، ”لِأَنَّ مَا دُونَ ذَلِكَ سَاعَاتٌ لَا يُمْكِنُ ضَبْطُهَا“ اس لیے کیونکہ اس سے کم جو ہیں ”سَاعَاتٌ“ وہ تو اوقات ہیں، ساعات جمع ہے ساعت کی، گھڑی یعنی اوقات، وقت بھئی، ”سَاعَاتٌ“ اس کیونکہ اس ایک دن رات سے کم جو ہیں وہ تو اوقات ہیں ”لَا يُمْكِنُ ضَبْطُهَا“ جن کا ضبط کرنا ممکن نہیں ہے یعنی ان کی تعیین وغیرہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ”وَأَمَّا مَسْأَلَةُ النَّجَاسَةِ فَقَدْ قَالَ الْمُعَلَّى: هِيَ عَلَى الْخِلَافِ، فَيُقَدَّرُ بِالثَّلَاثِ فِي الْبَالِي، وَبِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي الطَّرِيِّ“ معلیٰ یہ ان کا نام ہے معلیٰ ابن منصور رازی رحمہ اللہ بھئی، معلیٰ ابن منصور رازی رحمہ اللہ اور ان کی کنیت ہے ابو یعلیٰ، ابو یعلیٰ اور یہ بھی قدیم فقہاء میں سے ہیں، بہت بڑے محدث اور فقیہ یہ گزرے ہیں بھئی، بہت بڑے محدث اور فقیہ بھئی، ان کی پیدائش ہے ڈیڑھ سو ہجری اور وفات ہے دو سو گیارہ ہجری میں بھئی، دو سو گیارہ ہجری میں، کتنے مبارک انسان تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اتنے قریب قریب زمانے کے اندر انہوں نے زندگی پائی اور بڑے محدث اور فقیہ تھے اور یہ شاگرد ہیں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے بھئی، تو یہ بڑے مشہور محدث اور فقیہ گزرے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں بھئی، بھئی یاد رکھیے آگے جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ صاحبین کی دلیل کا۔ صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ جس قول کو وہ ترجیح دیتے ہیں اس کی دلیل کو مؤخر ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ دلیل بھی ہو جائے اور سابقہ جو قول تھا یا سابقہ جو دلیل تھی ان کا جواب بھی ہو جائے بھئی۔ تو بعد میں امام صاحب کا قول لے کر آئے یہ بتلانے کے لیے کہ ان کے نزدیک یہ راجح ہے اور دلیلیں بعد میں ان کی ذکر کیں تاکہ ماقبل میں جو دلیلیں آئی تھیں ان کا کیا بن جائے؟ ان کا جواب بھی ہو جائے بھئی۔ تو چنانچہ کہ انہوں نے کیا کہا تھا کہ ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ“ بھئی، تو اس کے مقابلے میں امام صاحب کی دلیل ذکر کی، صاحبین فرماتے ہیں کہ ”اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ“ بھئی، کہ ماقبل میں یہ حیوان پانی کے اندر تھا یا نہیں تھا؟ اس میں کیا ہے؟ شک آیا اور دوسری طرف سے امام صاحب کی دلیل آ گئی، امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ ظاہری طور پر کیا ہے کہ پانی میں گرنا اس کی موت کا سبب ہے، لہٰذا یہی سمجھا جائے گا کہ پانی میں گر کر مرا ہے، یہ نہیں کہ کسی اور چیز نے ابھی لا کر ڈالا ہے، پہلے پاک تھا، بلکہ ظاہری جو سبب ہے اسی کے حوالہ کیا جائے گا اور یوں سمجھا جائے گا اسی وجہ سے پانی میں گر اسی وجہ سے وہ مرا ہے یعنی پانی میں گرنے سے مرا ہے۔ پھر صاحبین نے کیا کیا تھا؟ دوسری دلیل کیا ذکر کی تھی؟ اس مسئلے کو قیاس کیا تھا کس مسئلے پر؟ وہ شخص جس کے کپڑوں پر نجاست لگی ہوئی ہے اور اس نے اس کو دیکھا تو اب اس کے اندر وہ پچھلی نمازیں لوٹانے کا حکم نہیں ہے بلکہ کیا سمجھا جائے گا؟ یہ نجاست ابھی لگی ہے اس کے کپڑوں پر۔ تو اس کا بھی اب جواب دے رہے ہیں کہ مسئلۂ نجاست کے اندر صاحبین اگرچہ اس کو قیاس کرتے ہیں اس پر، اس مسئلے کو قیاس کرتے ہیں کپڑے پر نجاست لگنے کے مسئلے پر قیاس کرتے ہیں، لیکن اگر اس کو اس پر قیاس کر بھی لیا جائے تو بھی صاحبین کو فائدہ نہیں اس کا، اس لیے کیونکہ امام صاحب کا یہ مسلک نہیں ہے، ان کے نزدیک اگر کسی کو اپنے کپڑے پر نجاست لگی ہوئی معلوم ہو اس کا پتہ چلے تو اس میں بھی امام صاحب یہ نہیں فرماتے کہ پچھلی نمازوں کا اعادہ نہیں کرے گا بلکہ وہاں بھی امام صاحب فرماتے ہیں اگر وہ نجاست تازہ ہے زیادہ پرانی نہیں تو اس میں کیا کر لے؟ ایک دن رات کی نمازیں لوٹا لے اگر انہی کپڑوں میں پڑھی ہیں اور اگر وہ نجاست پرانی ہو چکی ہے تو پھر اس اور یہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں اتنے ہی عرصے کے دوران تو پھر کیا کر لے؟ تین دن تین راتوں کی نمازیں لوٹا لے بھئی، تو لہٰذا اگر اس کپڑے کے مسئلے پر قیاس کیا جائے تو بھی یہ صاحبین اس کو اپنی دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اس مسئلے کے اندر بھی اختلاف ہے، اس میں امام صاحب اگر یہ فرماتے کہ پچھلی نمازیں نہیں لوٹانا پڑیں گی پھر تو وہ ان کے لیے یہ ان کی تائید ہوتی اس مسئلے سے ان کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو پہلا تو یہاں دو جواب ذکر کریں گے بھئی، دو: پہلا منعی ہے، دوسرا تسلیمی۔ منعی جواب ابھی گزرا، منعی انکار، اس میں انکار ہے، ہمیں یہ کہ انکار ہے، تسلیم ہی نہیں ہے یہ بات کہ امام صاحب کا بھی یہی مسلک ہے اس کپڑے کی نجاست والے مسئلے میں، بلکہ اس میں بھی وہ کیا فرماتے ہیں؟ تین راتیں، تو اگر قیاس کر لو تو بھی مسئلہ اسی طرح رہتا ہے، امام صاحب کے نزدیک کیا کرنا پڑے گا؟ تین دن تین راتوں کی نمازیں یا بعض صورتوں میں ایک دن ایک رات کی نمازیں لوٹانا ہی پڑیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا مَسْأَلَةُ النَّجَاسَةِ فَقَدْ قَالَ الْمُعَلَّى: هِيَ عَلَى الْخِلَافِ“ باقی نجاست کا جو مسئلہ ہے تو معلیٰ ابن منصور رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”هِيَ عَلَى الْخِلَافِ“ کہ یہ مسئلہ بھی اختلاف پر ہے یعنی اس میں بھی کیا ہے؟ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے، ”فَيُقَدَّرُ بِالثَّلَاثِ فِي الْبَالِي“ پس اندازہ لگایا جائے گا تین کے ساتھ یعنی تین دن تین راتوں کے ساتھ ”فِي الْبَالِي“، بالی کا معنیٰ بوسیدہ یعنی پرانی، پرانی نجاست کے اندر اندازہ کتنے کے ساتھ لگایا جائے گا، کب سے یہ لگی ہے؟ تین دن تین رات سے، ”وَبِيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي الطَّرِيِّ“، طری کہتے ہیں تازہ، اور تازہ نجاست کے اندر ایک دن رات کے ساتھ اندازہ لگایا جائے گا کہ گویا یہ نجاست کو لگے ہوئے کتنا وقت ہو چکا ہے؟ ایک دن رات ہو چکے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَلَوْ سُلِّمَ“ اور اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ اس مسئلے میں امام صاحب کا بھی یہی قول ہے، ایک تو قول معلیٰ ابن منصور رحمہ اللہ کا ذکر کر دیا کہ ان کے نزدیک اس کپڑے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہے تو اگر اس پر قیاس کر بھی لیں تو بھی کوئی فائدہ نہیں اور اگر ہم تسلیم کر بھی لیں کہ کپڑے کے مسئلے میں امام صاحب کا بھی یہی مسئلہ ہے، امام صاحب کے نزدیک بھی یہی مسئلہ ہے کہ اس میں پچھلی نمازیں نہیں لوٹانا پڑیں گی، تو بھی صاحبین اس کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی، اس لیے کیونکہ ایک طرف ہیں کپڑے، دوسری طرف ہے کنواں، کنویں کو قیاس کر رہے ہیں اور اس کے پانی کو، کس پر قیاس کر رہے ہیں؟ کپڑوں، دونوں ایک جیسی چیزیں ہوں تو قیاس کیا جاتا ہے، اگر مختلف چیزیں ہوں تو قیاس نہیں اور یہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں، اس لیے کیونکہ کپڑا انسان نے پہنا ہوا ہے وہ ہر وقت اس کی نگاہوں کے سامنے ہے اور کنواں وہ تو ہر وقت انسان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ہے، صورت سمجھ تو دونوں چیزیں مختلف ہو گئیں، ایک چیز ہر وقت نگاہوں میں رہنے والی، ایک چیز نگاہوں میں ہر وقت رہنے والی نہیں، تو دونوں مختلف چیزیں ہیں تو لہٰذا ایک کو دوسری پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سُلِّمَ“ اور اگر تسلیم کر لیا جائے، کس بات کو تسلیم کر لیا جائے؟ کہ مسئلۂ نجاست امام صاحب کے نزدیک بھی اسی طرح ہے یعنی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ”فَالثَّوْبُ بِمَرْأَى عَيْنِهِ“ تو کپڑا جو ہے وہ اس مرأى دیکھنے کی جگہ، مرأى عينه آنکھوں کے جائے نگاہ میں ہے، یوں کہیں جائے نظر میں ہے، وہ کپڑا کیا ہے؟ اس کی جائے نظر میں ہے، ”وَالْبِئْرُ غَائِبَةٌ عَنْ بَصَرِهِ“ اور کنواں جو ہے وہ اس کی نگاہوں سے غائب ہے، ”فَيَفْتَرِقَانِ“ تو دونوں جدا جدا ہو گئے، دونوں الگ الگ ہو گئے، کپڑا اور کنواں ایک دوسرے سے الگ، جب الگ ہو گئے تو ایک کو دوسرے پر قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو خلاصہ یہ، خلاصہ یہ کہ دو جواب دیے بھئی صاحبِ ہدایہ نے، صاحبین نے قیاس کیا تھا کنویں کو کس پر؟ کپڑوں پر نجاست کے پائے جانے پر، تو گویا کنویں کو قیاس کیا تھا اس کے کپڑوں پر اور تو اس کے دو جواب دیے: ایک منعی، ایک تسلیمی۔ منعی جواب: کہ ہمیں یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک یہ مسئلہ اس طرح ہے کہ اگر نجاست لگی ہو کپڑے پر تو نمازیں نہیں لوٹانا پڑیں، کہ ان کے نزدیک بھی اس میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ نمازیں لوٹانا پڑیں گی بھئی، تو اگر آپ قیاس کر بھی لیں تو یہ آپ کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ پھر بھی امام صاحب کے نزدیک اس میں بھی نمازیں لوٹانا، تو اگر آپ قیاس کر لیتے ہیں آپ کے نزدیک نمازیں لوٹانا نہیں اور امام صاحب کے نزدیک کیا ہیں؟ نمازیں لوٹانا ہے، تو قیاس کر بھی لو پھر بھی کیا کرنا پڑے گا؟ ان کے نزدیک نمازیں لوٹانا ہی پڑیں گی۔ تو یہ منعی جواب، ہمیں تسلیم ہی نہیں کہ امام صاحب کا اس میں یہ مسلک ہے بلکہ اس میں بھی نمازیں لوٹانا پڑیں گی۔ اور دوسرا تسلیمی جواب: کہ اگر ہم یہ تسلیم کر بھی لیں کہ امام صاحب کے نزدیک کپڑے کے مسئلے میں کوئی نماز نہیں لوٹانا پڑے گی پھر بھی آپ قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، ایک طرف کنواں ہے تو دوسری طرف کپڑے ہیں، کپڑے ہر وقت نظر میں اور کنواں ہر وقت نظر میں نہیں ہے بھئی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا بھئی، یہ ہوئے کنویں کے مسائل ختم بھئی، آگے اور مسائل ذکر کرنے لگے ہیں۔ یہ تو وہ صورت تھی کہ اگر جانور گرا ہے اور مرا ہوا ملا، لیکن اگر جانور کنویں میں گرا اور زندہ نکل آیا بھئی، زندہ نکل آیا، یاد رکھیے پھر اس صورت میں کنواں پاک ہے، جیسے پہلے پاک تھا اب بھی کیا ہے؟ پاک ہے، الا یہ کہ وہ جانور اپنا منہ پانی کے اندر ڈال دے، اگر اس نے اپنا منہ پانی کے اندر ڈال دیا اور پھر نکل آیا تو اب یاد رکھیے اس کا لعاب پانی کے ساتھ مل گیا اور اس کے اب لعاب کا جو حکم تھا وہی حکم یہاں آ جائے گا۔ اگر اس کا لعاب نجس تھا ناپاک تھا تو پھر پانی کیا ہو چکا؟ نجس ہو چکا، اگر اس کا لعاب مکروہ تھا تو اس پانی کا استعمال کیا ہو چکا؟ مکروہ، اور اگر اس کا لعاب پاک تھا تو یہ پانی اب کیا ہے؟ اب بھی پاک ہی ہے جیسے پہلے پاک تھا، تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی اور لعاب کس کا پاک ہے کس کا پاک نہیں، کسی چیز کے جھوٹے جھوٹھے کا کیا حکم ہے وہ اب آگے یہ ذکر ہو رہا ہے: ”فَصْلٌ فِي الْآسَارِ وَغَيْرِهَا“ آثار جمع ہے سؤر کی اور سؤر کہتے ہیں جھوٹا بھئی، کوئی پانی وغیرہ کسی برتن سے پیئے اور وہ برتن میں پانی باقی بچ گیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کا جھوٹا کہتے ہیں بھئی جھوٹا، تو آثار سؤر کی جمع۔ تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي الْآسَارِ وَغَيْرِهَا“ یہ فصل ہے جھوٹھے اور وغیرہ کے بیان میں، ”وَعَرَقُ كُلِّ شَيْءٍ مُعْتَبَرٌ بِسُؤْرِهِ“ عَرَق بھئی بفتح الراء، یہ پسینے کو کہتے ہیں، پسینہ۔ پسینے کا حکم بھی ذکر کر دیا بھئی، سؤر کے اندر تفصیل ہے، عرق کو اسی پر قیاس کیا جائے گا بھئی، یعنی جو کسی چیز کے جھوٹھے کا حکم ہے وہی اس کے پسینے کا بھی حکم ہے، یعنی جس حیوان کا جھوٹا یعنی استعمال شدہ پانی وغیرہ پاک ہے وہ اس کا پسینہ بھی پاک ہے اور جس کا جھوٹا نجس ہے تو اس کا پسینہ بھی کیا ہے؟ نجس ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَرَقُ كُلِّ شَيْءٍ مُعْتَبَرٌ بِسُؤْرِهِ“ اور پسینہ ہر چیز کا جو ہے اس کو وہ اس کو قیاس کیا جائے گا ”بِسُؤْرِهِ“ اس کے جھوٹھے پر۔ بھئی کیوں قیاس کیا جائے گا؟ دلیل کیا ہے؟ دلیل آگے ذکر کر رہے ہیں: ”لِأَنَّهُمَا يَتَوَلَّدَانِ مِنْ لَحْمِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں چیزیں پیدا ہوئی ہیں اس کے گوشت سے۔ بھئی پسینہ کہاں سے نکلتا ہے؟ جلد سے یعنی گوشت سے نکلتا ہے، اسی طرح منہ کے اندر جو لعاب بنا وہ بھی کس سے بنا؟ گوشت سے ہی بنا، لہٰذا ”فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا حُكْمَ صَاحِبِهِ“ تو لے لیا ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے حکم کو، یعنی دونوں میں سے جب ایک کا حکم ہے وہی اس دوسرے کا بھی حکم ہو گا کیونکہ پسینہ بھی گوشت سے اور لعاب بھی گوشت سے۔ ”لِأَنَّهُمَا يَتَوَلَّدَانِ مِنْ لَحْمِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں یعنی پسینہ اور لعاب جو ہیں یہ پیدا ہوئے ہیں ”مِنْ لَحْمِهِ“ اس چیز کے گوشت سے، ”فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا حُكْمَ صَاحِبِهِ“ تو لے لیا ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے حکم کو، ”وَسُؤْرُ الْآدَمِيِّ وَمَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ طَاهِرٌ“ اور آدمی یعنی انسان کا جھوٹا ”وَمَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ“ اور وہ حیوان جس کے گوشت کو کھایا جاتا ہے، یعنی بھیڑ بکری، گائے بیل، اونٹ وغیرہ یہ سب بھئی، ان سب کا جھوٹا جو ہے ”طَاهِرٌ“ وہ پاک ہے، انسان کا جھوٹا بھی پاک اور ما يؤکل لحمہ کا جھوٹا بھی پاک ہے۔ یاد رکھیے یہ تو انسان اور وہ چیزیں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اس میں سارے آ گئے بھئی: انسان بھی، اور بھیڑ بکری، گائے بیل وغیرہ، اونٹ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، اسی طرح حلال پرندے بھی آ گئے سارے بھئی، ان کا جھوٹا بھی کیا ہے؟ پاک ہے بھئی، پاک ہے، اور اسی طرح گھوڑے کا جھوٹا وہ بھی کیا ہے؟ پاک ہے بھئی یاد رکھیے۔ اب دلیل آگے ذکر کر رہے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُخْتَلِطَ بِهِ اللُّعَابُ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو ملی ہے پانی کے ساتھ وہ لعاب ہے، پانی کے انہوں نے کسی برتن وغیرہ سے پانی پیا تو پانی کے ساتھ کیا چیز ملی ہے؟ وہ ان کا لعاب ہے، ”وَقَدْ تَوَلَّدَ مِنْ لَحْمٍ طَاهِرٍ“ اور تحقیق وہ لعاب کس سے پیدا ہوا ہے؟ پاک گوشت سے، بھئی ان کا گوشت کھاتے ہیں یا نہیں کھاتے؟ جب کھاتے ہیں تو گوشت پاک ہوا، معلوم ہوا گوشت پاک ہے، تو وہ اسی پاک گوشت سے بننے والا لعاب ہے تو وہ لعاب بھی کیسا ہو گا؟ پاک ہو گا لہٰذا پانی پاک رہے گا۔ ”وَيَدْخُلُ فِي هَذَا الْجَوَابِ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَالْكَافِرُ“ اور داخل ہیں اس جواب کے اندر جنبی بھی اور حائضہ بھی اور کافر بھی بھئی۔ جنبی بھئی جنابت کی حالت میں کوئی شخص ہے یا حائضہ حیض کی حالت میں عورت ہے یا کافر ہے، ان سب کا بھی یہی حکم ہے، یعنی انہوں نے کیا کہا؟ ”سُؤْرُ الْآدَمِيِّ“ آدمی کا جھوٹا کیا ہے؟ پاک، تو یہ سارے بھی اسی کے اندر داخل ہیں، جنبی بھی، حائضہ بھی اور کافر بھی، ان کا جھوٹا بھی پاک۔ جنبی کا جھوٹا پاک ہے بھئی اس لیے کیونکہ اس کے بدن پر کوئی نجاست ظاہری طور پر نہیں لگی ہوئی، ہاں شریعت نے حکماً اس کو کیا قرار دیا ہے؟ ناپاک قرار دیا ہے، تو وہ خود تو ناپاک ہے ٹھیک ہے، حقیقت کے اعتبار سے کوئی نجاست نہیں تو اس کا جھوٹا کیا ہے؟ پاک ہے بھئی، پاک ہے۔ اسی طرح حائضہ حیض والی ہے وہ بھی حکماً کیا ہے؟ نجس ہے، حقیقتاً تو کوئی نجاست اس کے بدن پر ویسے منہ وغیرہ پر نہیں ہے تو اس کا جھوٹا بھی۔ اور کافر کافر بھی انسان ہے تو اس کا جھوٹا بھی کیا ہو گا؟ پاک ہو گا۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ کافر نے کسی برتن سے پانی پیا تو وہ پانی پاک ہے بھئی، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے اس سے پہلے شراب نہ پی ہو، اگر شراب پی ہے اور اس کے بعد اس نے پانی پیا ہے برتن سے تو پھر یقیناً وہ شراب کے اجزاء وہ ملیں گے پانی کے ساتھ تو پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا۔ ”وَسُؤْرُ الْكَلْبِ نَجِسٌ وَيُغْسَلُ الْإِنَاءُ مِنْ وُلُوغِهِ ثَلَاثًا“ اور کتے کا جھوٹا جو ہے ”نَجِسٌ“ نجس ہے ناپاک ہے، ”وَيُغْسَلُ الْإِنَاءُ“ اور دھویا جائے گا برتن کو ”مِنْ وُلُوغِهِ“ اس کے منہ ڈالنے کی وجہ سے ”ثَلَاثًا“ تین مرتبہ۔ کتے کے منہ ڈالنے کی وجہ سے برتن کو کیا کیا جائے گا؟ تین مرتبہ دھویا جائے۔ یہاں ولوغ کا ذکر آیا، ولوغ لفظ بھئی، یاد رکھیے آپ کو ایک ادبی نکتہ بتلائیں بھئی، ادبی نکتہ۔ عربی زبان کے اندر کتے یا درندے وغیرہ کا جو پانی پینا ہے اس کو ولوغ کہتے ہیں، ولوغ۔ کتا یا درندہ اگر آپ نے اس کو دیکھا ہو پانی پیتے ہوئے بھئی وہ زبان کے کنارے سے پانی پیتا ہے، زبان کے ذریعے پانی پیتا ہے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں عربی زبان میں؟ ولوغ کہتے ہیں، ولوغ۔ کتا پانی پیئے اس طرح زبان سے تو عربی میں کہتے ہیں ”وَلَغَ الْكَلْبُ“ یا ”وَلِغَ الْكَلْبُ“۔ اور چھوٹا بچہ ماں کا دودھ پیئے اس کو کہتے ہیں عربی میں رضاعت، رضاعت۔ اور انسان پانی وغیرہ یا کوئی چیز پیئے اس کو کہتے ہیں شرب، شرب بھئی، ”شَرِبَ الْإِنْسَانُ مَاءً“۔ اور اونٹ اور دوسرے حیوانات اگر پانی وغیرہ پیئیں اس کو جرع کہتے ہیں اور اسی طرح قرع، جرع: جیم، را، عین اور قرع: قاف چھوٹا اور را اور عین، قرع۔ ”جَرَعَ الْبَعِيرُ“ یا ”قَرَعَ الْبَعِيرُ“ جب اونٹ پانی پیئے بھئی تب کہتے ہیں۔ اور اگر پرندہ جو پانی پیتا ہے چونچ کے ذریعے اس کو عربی میں کہتے ہیں غب یا غب بھئی، غَبٌّ اور غِبٌّ بھئی۔ اور تو یہ الفاظ اس کے لیے استعمال اور ایک دوسرے کی جگہ پر بھی یہ پھر یہ استعمال ہو جاتے ہیں، یہ بھی یاد رکھنا بھئی۔ تو یہ مختلف الفاظ ہیں دیکھو، عربی زبان یہ چند ایک میں نے بتائے اور بھی اس طرح استعمال ہوتے ہیں، تو عربی زبان کی وسعت کا اندازہ لگائیں، ہر چیز کے پانی پینے کے لیے بھی الگ لفظ ہے بھئی، الگ لفظ ہے۔ تو ہاں اردو میں کوئی فرق نہیں، انسان پیئے تو بھی کہتے ہیں انسان پانی پیا، کوئی فرق آیا؟ حیوان بھی پیئے پانی پیا، پرندے نے بھی پانی پیئے، پانی پیا، دیکھو وہی لفظ پینے ہی کا استعمال ہو رہا ہے سب کے لیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَسُؤْرُ الْكَلْبِ نَجِسٌ وَيُغْسَلُ الْإِنَاءُ مِنْ وُلُوغِهِ ثَلَاثًا“ اور کتے کا جھوٹا جو ہے وہ ناپاک ہے اور دھویا جائے گا برتن کو اس کے منہ ڈالنے کی وجہ سے ”ثَلَاثًا“ تین مرتبہ۔ دلیل آگے ذکر کر رہے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يُغْسَلُ الْإِنَاءُ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ ثَلَاثًا“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”يُغْسَلُ الْإِنَاءُ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ ثَلَاثًا“، دھویا جائے گا برتن کو کتے کے منہ لگانے کی وجہ سے ”ثَلَاثًا“ تین مرتبہ، یعنی کسی برتن سے اگر کتا پانی پی لے تو اس برتن کو تین مرتبہ دھویا جائے گا، ”وَلِسَانُهُ يُلَاقِي الْمَاءَ دُونَ الْإِنَاءِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ فرما رہے ہیں کہ بھئی ولوغِ کلب کا کیا معنیٰ ہے؟ کتا جو زبان سے پانی پیتا ہے، اگر حدیث میں کیا آیا؟ اگر کتا کسی برتن سے پانی پیئے پانی وغیرہ پیئے تو وہ اس برتن کو کتنی مرتبہ دھوؤ؟ تین مرتبہ دھو لو اور یہ بات ظاہر ہے جب کتا پانی پیئے گا تو اس کی زبان پانی کے ساتھ لگے گی یا برتن کے ساتھ لگے گی؟ پانی کے ساتھ لگے گی اور حکم کس کو دھونے کا دیا جا رہا ہے؟ برتن کو، معلوم ہوا برتن نجس ہو چکا ہے تو جب برتن نجس ہوا ہے تو پانی بطریقِ اولیٰ کیا ہو گا؟ وہ نجس اور ناپاک ہو گا بھئی۔ یہ بات ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِسَانُهُ يُلَاقِي الْمَاءَ دُونَ الْإِنَاءِ“ اور اس کی زبان جو ہے وہ تو ملتی ہے پانی کے ساتھ نہ کہ برتن کے ساتھ، ”فَلَمَّا تَنَجَّسَ الْإِنَاءُ فَالْمَاءُ أَوْلَى“ تو جب برتن نجس ہو گیا تو پانی بطریقِ اولیٰ نجس ہو گا۔ جی بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ کتے کا جھوٹا کیا ہے؟ نجس ہے، جب برتن کے دھونے کا حدیث میں حکم دیا جا رہا ہے تو معلوم ہوا وہ پانی بطریقِ اولیٰ کیا ہو چکا؟ نجس ہو چکا یعنی اس کا جھوٹا نجس ہے۔ ”وَهَذَا يُفِيدُ النَّجَاسَةَ وَالْعَدَدَ فِي الْغَسْلِ“ اور یہ حدیث جو ہے یہ فائدہ دیتی ہے، اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو نجس ہونا اور دوسرا ”وَالْعَدَدَ فِي الْغَسْلِ“ دھونے کا عدد بھی پتہ چلا۔ اس حدیث سے کتنی باتیں معلوم ہوئیں؟ دو: نمبر ایک کیا؟ نجس ہونا، معلوم ہوا وہ برتن کیا ہو چکا؟ نجس ہو چکا، اور دوسرا کیا معلوم ہوا؟ کہ پاک کتنی مرتبہ دھونے سے ہو گا؟ تین مرتبہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا يُفِيدُ النَّجَاسَةَ وَالْعَدَدَ فِي الْغَسْلِ“ اور یہ حدیث فائدہ دیتی ہے نجس ہونے کا بھی یعنی اس کا بھی اس سے پتہ چلتا ہے ”وَالْعَدَدَ فِي الْغَسْلِ“ اور عدد کا بھی دھونے کے اندر، ”وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي اشْتِرَاطِ السَّبْعِ“ اور یہ حدیث حجت ہے دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ”فِي اشْتِرَاطِ السَّبْعِ“ سات کی شرط لگانے میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سات مرتبہ دھویا جائے، کتنی مرتبہ؟ سات مرتبہ دھویا جائے گا اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے اس کو مانجھ لیا جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ احادیث میں اس کا ذکر آتا ہے بھئی باقاعدہ احادیث کے اندر کہ سات مرتبہ اس برتن کو جس میں کتے نے پانی پیا ہے اس کو سات مرتبہ دھویا جائے اور ایک مرتبہ مٹی سے مانجھ لیا جائے، مٹی کے ساتھ اس کو دھو لیا جائے اور پھر اس میں راوی کا شک ہے کہ پتہ نہیں حدیث میں آیا پہلی مرتبہ میں ہی مٹی سے دھو لو یا آخری مرتبہ میں، تو پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھ لے اور پھر سات مرتبہ دھوئے یا پہلے سات دفعہ دھو لے اور آخری دفعہ کیا کر لے؟ مٹی سے اس کو مانجھ لے، اس میں راوی کو شک آیا، البتہ زیادہ علماء نے پھر پہلی مرتبہ کو اختیار کیا کہ اولیٰ کیا ہے؟ کیا کرو؟ پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھ لو اور اس کے بعد سات مرتبہ پانی کے ساتھ اس کو دھو لو بھئی، جبکہ ایک روایت امام صاحب سے کہ یہ ہمارے نزدیک مستحب ہے، تو ہمارے نزدیک واجب کیا ہے؟ کتنی مرتبہ کم از کم دھو لے؟ تین مرتبہ دھو لے تو دھونا سے وہ برتن پاک ہو جائے گا، لیکن اور مستحب کیا ہے؟ کتنی مرتبہ دھو لیا جائے؟ سات مرتبہ دھو لیا جائے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک تین مرتبہ دھونا کافی ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث آ گئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سات مرتبہ اور ان کے پاس بھی احادیث بطورِ دلیل کے ہیں بھئی، تو یہ ایک امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل ہوئی یہ حدیث۔ ”وَلِأَنَّ مَا يُصِيبُهُ بَوْلُهُ يَطْهُرُ بِالثَّلَاثِ فَمَا يُصِيبُهُ سُؤْرُهُ وَهُوَ دُونَهُ أَوْلَى“ یہاں سے قیاس پیش کر رہے ہیں کہ شریعت کے اندر جتنی نجاستیں ہیں وہ باقی ان سب کا حکم ذکر ہوا وہ تین دفعہ دھونے سے پاک ہو جاتی ہیں، جب تین دفعہ وہ دھونے سے پاک ہو جاتی ہیں تو یہ کتے کا سؤر یہ بھی ایک نجاست ہے یہ یہ بھی تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا، بلکہ اگر کسی برتن کو کسی کتے کا پیشاب وغیرہ لگ جائے تو پیشاب بھی کیا ہے؟ ایک نجاست اور نجاست کتنی دفعہ دھونے سے پاک ہو جاتی ہے؟ تین، تو جب وہ پیشاب تین دفعہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے تو لعاب تو اس سے کم درجے کا ہے وہ بطریقِ اولیٰ تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا بھئی، دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِأَنَّ مَا يُصِيبُهُ بَوْلُهُ يَطْهُرُ بِالثَّلَاثِ“ اور اس لیے کیونکہ وہ چیز وہ چیز یعنی چاہے کپڑا ہو یا برتن ہو ”يُصِيبُهُ بَوْلُهُ“ جس کو اس کتے کا پیشاب لگ جائے ”يَطْهُرُ بِالثَّلَاثِ“ وہ تین مرتبہ سے پاک ہو جاتا ہے، ”فَمَا يُصِيبُهُ سُؤْرُهُ“ تو وہ چیز جس کو اس کا لعاب اس کا جھوٹا لگے، جس کو جس چیز کو اس کا اس کتے کا جھوٹا لگے ”وَهُوَ دُونَهُ“ اس حال میں کہ وہ جھوٹا اس کے پیشاب سے کم درجے کا ہے نجس ہونے میں کم درجے کا ہے، ”أَوْلَى“ وہ بطریقِ اولیٰ تین مرتبہ سے پاک ہو جائے گا۔ بھئی کتے کا پیشاب اگر کسی چیز کو لگ جائے تو وہ تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جاتی ہے تو لعاب جو اس سے کم درجے کا ہے وہ بطریقِ اولیٰ تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گی۔ ”وَالْأَمْرُ الْوَارِدُ بِالسَّبْعِ مَحْمُولٌ عَلَى ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ“ اور وہ جو حکم آیا ہے سات مرتبہ دھونے کا، میں نے بتایا بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کیا ہے؟ وہ احادیث پیش کرتے ہیں جن کے اندر کتنی مرتبہ دھونے کا ذکر ہے؟ سات مرتبہ، تو صاحبِ ہدایہ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں وہ جو حکم آیا ہے سات مرتبہ دھونے کا ”مَحْمُولٌ عَلَى ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ“ وہ احادیث محمول ہیں ابتدائے اسلام پر، کس پر محمول ہیں؟ یعنی ابتداء کے اندر سات مرتبہ دھونے کا حکم تھا اور بعد میں تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا کیونکہ ہم نے حدیث پیش کر دی، حدیث میں کتنی دفعہ دھونے کا ذکر ہے؟ تین، معلوم ہوا ابتدائے اسلام میں جو سات مرتبہ دھونے کا حکم تھا ان کے لیے یہ حدیث ناسخ بن گئی، وہ حکم منسوخ اور یہ حکم ان کے لیے ناسخ بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں تین دفعہ دھونے کا ذکر آیا، بعض احادیث کے اندر سات مرتبہ دھونے کا ذکر آیا، صاحبِ ہدایہ نے کیا کیا؟ سات والی روایت کو ابتدائے اسلام پر محمول کیا اور تین والی روایت کو آخر حکم پر محمول کیا، ناسخ ہونے پر محمول کیا، اس کا عکس کیوں نہیں کیا؟ کس دلیل کی بنیاد پر آپ نے کہا کہ سات مرتبہ دھونا وہ ابتدائے اسلام میں تھا اور تین مرتبہ دھونا یہ آخر زمانہ کے اندر یہ حکم تھا؟ تو جواب یہ: کہ ہم نے غور کیا اس مسئلے کے اندر، پتہ نہیں کون سے ابتدائے اسلام کے اندر کون سا حکم تھا تین والا یا سات، لیکن جب ہم نے غور کیا تو مسئلہ واضح ہو گیا، ابتداء کے اندر لوگوں کا کتوں کے ساتھ اختلاط بہت زیادہ تھا، جیسے آج کل آپ انگریزوں کو دیکھ لیں بھئی کتوں کا اختلاط ان میں بہت زیادہ، تو اس وقت بھی لوگوں کا کتوں کے ساتھ اختلاط بہت زیادہ تھا تو چنانچہ ان کا بڑا سخت حکم ابتداء میں حتی کہ کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کتوں کو کیا کرو؟ قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور پھر اس کے بعد وہ حکم منسوخ ہوا، پھر صرف سیاہ کتے کے قتل کرنے کا حکم تاکہ لوگوں کے دلوں میں اچھی طرح نفرت بیٹھ جائے، پھر وہ حکم بھی منسوخ ہوا، تو اسی طرح بعض احادیث سے سات بعض میں سات مرتبہ دھونے کا ذکر، بعض میں تین مرتبہ دھونے کا ذکر، کس میں سختی زیادہ ہے؟ کس صورت میں؟ سات مرتبہ دھونے کے اندر سختی زیادہ ہے، معلوم ہوا یہ ابتدائے اسلام سے متعلق ہیں جب حکم بڑا سخت تھا حتی کہ کتوں کو قتل کر دینے کا حکم تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور بعد میں پھر جب لوگوں کے دلوں میں کتوں کی نفرت اچھی طرح بیٹھ گئی تو پھر وہ معاملے کی حکم میں وہ سختی نہ رہی اور پھر کتے کو چوکیداری اور شکار وغیرہ کے لیے حفاظت کے لیے رکھنے کی بھی اجازت دے دی گئی کیونکہ اب لوگوں کے دلوں میں اس کی نفرت اچھی طرح بیٹھ چکی تھی، تو لہٰذا پہلے حکم میں سختی تھی پھر نرمی کر دی گئی تو بعض احادیث میں سات مرتبہ دھونے کا ذکر، بعض میں تین مرتبہ دھونے کا ذکر، معلوم ہوا اور سات والے حکم کے اندر تو سختی ہے، معلوم ہوا اس کا تعلق اس ابتدائی زمانے سے ہے اور تین والے حکم کے اندر نرمی ہے، معلوم ہوا اس کا تعلق آخر زمانے کے ساتھ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ ”وَسُؤْرُ الْخِنْزِيرِ نَجِسٌ لِأَنَّهُ نَجِسُ الْعَيْنِ عَلَى مَا مَرَّ“ اور خنزیر جو ہے اس کا جھوٹا جو ہے وہ ناپاک ہے ”لِأَنَّهُ نَجِسُ الْعَيْنِ“ کیونکہ خنزیر جو ہے وہ نجس العین ہے یعنی اس کی پوری ذات ہی نجس ہے ناپاک ہے، ”عَلَى مَا مَرَّ“ بناء پر اس کے جو گزر گیا، پیچھے بیان ہوا تھا صاحبِ ہدایہ نے بیان کیا تھا کہ خنزیر کی کھال دباغت دینے سے بھی پاک نہیں ہوتی اور خنزیر نجس العین ہے اور دلیل کیا ذکر کی تھی کہ قرآن کے اندر ”فَإِنَّهُ رِجْسٌ“، ”فَإِنَّهُ رِجْسٌ“ کی ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ خنزیر کو، تو معلوم ہوا خنزیر پورا کا پورا ہی کیا ہے؟ نجس ہے ناپاک ہے، نجس العین ہے۔ ”وَسُؤْرُ سِبَاعِ الْبَهَائِمِ نَجِسٌ“ سباعِ بہائم بھئی یہ شکار کرنے والے حیوانات، درندے یعنی درندے، سباع البہائم کیا ہیں؟ درندے، چیرنے پھاڑنے والے شکار کرنے والے جو حیوانات ہیں درندے ہیں، ان کا جو جھوٹا ہے کہتے ہیں ”نَجِسٌ“ یہ ناپاک ہے، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا سِوَى الْكَلْبِ وَالْخِنْزِيرِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے سوائے کتے اور خنزیر کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خنزیر جیسے نجس العین ہے اسی طرح کتا بھی نجس العین ہے، وہ فرماتے ہیں یہ دو تو نجس العین ہیں لہٰذا ان کا جھوٹا وہ تو ناپاک ہے، لیکن اس کے علاوہ باقی جو درندے ہیں ان کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے بھئی کیونکہ وہ نجس بھی نہیں ہیں، لیکن ہمارے نزدیک نجس ہیں بھئی، نجس ہیں۔ کیوں نجس ہیں؟ ہم کہتے ہیں دیکھو شریعت نے ان کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں دی، معلوم ہوا ان کا گوشت نجس ہے، اگر گوشت پاک ہوتا تو شریعت اجازت دیتی، شریعت نے اجازت نہیں دی معلوم ہوا ان کا گوشت کیا ہے؟ ناپاک ہے اور لعاب بھی کس سے پیدا ہوتا ہے؟ گوشت سے ہی پیدا ہوتا ہے تو لعاب کا بھی وہی حکم ہو گا وہ نجس ہو گا، لہٰذا وہ جس برتن سے پانی پیئے گا وہ پانی کو اس کا لعاب لگے گا وہ پانی بھی کیا ہو جائے گا؟ ناپاک ہو جائے گا، اس لیے ہم نے کہا ان کا جھوٹا نجس ہے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”لِأَنَّ لَحْمَهُمَا نَجِسٌ“ بھئی آپ کی کتابوں میں بھی ”لَحْمَهُمَا“ ہے؟ جی؟ جی۔ بھئی اگر یہ ”لَحْمَهُمَا“ ہو کیونکہ ان دونوں کا گوشت نجس ہے پھر تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بن جائے گی کیونکہ ان کے نزدیک ان دو کا گوشت نجس ہے، باقی کا گوشت نجس نہیں، ہمارے نزدیک تو سب کا گوشت کھانے کی شریعت نے اجازت نہیں دی تو سب کا گوشت کیا ہے؟ نجس ہے ناپاک ہے، تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بن جائے گی اور یہ مقام کون سا ہے؟ یعنی پھر اس کے بعد آگے اگر امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہوتی تو اس کا پھر جواب بھی ذکر کرتے، آگے جواب وغیرہ کچھ نہیں اور تو یہاں یہ احناف کی دلیل یہاں ذکر ہونی چاہیے نہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا یہ محل نہیں بھئی اور جی تو عام یہاں آپ کے ہاں جتنے نسخے ہیں ان میں عموماً یہ ہما ہی کی ضمیر ہے اور پھر یہ ضمیر لوٹتی ہے کلب اور خنزیر کی طرف اور کلب اور خنزیر کے مسئلہ یہ تو ان کا جھوٹا نجس ہے یہ تو کن کے نزدیک صرف؟ امام تو یہ تو ان کی دلیل بن جائے گی، تو عام نسخوں میں یہ ہما ضمیر ہی ہے، البتہ فتح القدیر جو مشہور شرح ہے ہدایہ کی اس میں یہاں ہا ضمیر ہے واحد مؤنث کی اور ہا ضمیر ہی یہاں ہونی چاہیے، اسی صورت میں یہ احناف کی دلیل بنے گی بھئی اور یہ مقام بھی ہے احناف کی دلیل کا بھئی، تو یہ ”لِأَنَّ لَحْمَهَا“ ہونا چاہیے اور ہا ضمیر راجع ہے سباع البہائم کو بھئی، درندے بھئی، جمع ہے نا اور جمع کو کون سی دلیل راجع کی جاتی ہے، کون سی ضمیر لوٹائی جاتی ہے عربی میں؟ واحد مؤنث کی کیونکہ جمع بتاویلِ جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، تو یہ ”لِأَنَّ لَحْمَهَا“ ہونا چاہیے، ”لِأَنَّ لَحْمَهَا نَجِسٌ“ اس لیے کیونکہ ان درندوں کا جھوٹ ان کا گوشت کیا ہے؟ ناپاک ہے، ”وَمِنْهُ يَتَوَلَّدُ اللُّعَابُ“ اور اسی گوشت سے لعاب پیدا ہوتا ہے، ”وَهُوَ الْمُعْتَبَرُ فِي الْبَابِ“ اور وہی معتبر ہے اس باب کے اندر۔ اس باب میں یعنی جھوٹھے کے بیان باب میں کس کا اعتبار ہے؟ جھوٹھے کا پتہ کسی حیوان کے جھوٹھے کا کیا حکم ہے اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ اس کے لعاب سے، کس سے؟ لعاب سے، اور لعاب جو ہے وہ گوشت سے پیدا ہوتا ہے اور لعاب ہی کا اعتبار ہے اس باب کے اندر اور وہ لعاب کس سے پیدا ہوا؟ درندوں کا گوشت تو نجس ہے لہٰذا اس سے پیدا ہونے والا لعاب بھی کیا ہو گا؟ نجس ہو گا لہٰذا ان کا جھوٹا بھی نجس ہو گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
82 approved lectures · 23 of 82