Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَكُلُّ مَاءٍ وَقَعَتِ النَّجَاسَةُ فِيهِ لَمْ يَجُزِ الْوُضُوءُ بِهِ قَلِيلًا كَانَتِ النَّجَاسَةُ أَوْ كَثِيرًا، وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: يَجُوزُ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ أَحَدُ أَوْصَافِهِ لِمَا رَوَيْنَا، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: يَجُوزُ إِنْ كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَا يَحْمِلُ خَبَثًا۔ ”وَكُلُّ مَاءٍ وَقَعَتِ النَّجَاسَةُ فِيهِ“ اور ہر ایسا پانی۔ دیکھیے! ماء، ”كُلُّ مَاءٍ“ نکرہ آیا، اور اس کے بعد ”وَقَعَتْ“ فعل آیا، تو یہ موصوف صفت بنیں گے۔ ”وَكُلُّ مَاءٍ وَقَعَتِ النَّجَاسَةُ فِيهِ“ ہر ایسا پانی کہ نجاست گر پڑے اس میں، ”لَمْ يَجُزِ الْوُضُوءُ بِهِ“ تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے، ”قَلِيلًا كَانَتِ النَّجَاسَةُ أَوْ كَثِيرًا“ تھوڑی ہو نجاست یا زیادہ۔ ہر وہ پانی جس کے اندر نجاست گر پڑے، اس سے وضو کرنا جائز نہیں یعنی اس سے پاکی حاصل کرنا جائز نہیں، چاہے تھوڑی نجاست گری ہو، چاہے زیادہ، وہ پانی نجس ہو جائے گا بھئی۔ یاد رکھیے! اس سے مراد ماء قلیل ہے۔ کیا مراد ہے؟ ماء قلیل مراد ہے، ماء کثیر یعنی ماء جاری کے جو حکم میں ہوتا ہے، اور ماء جاری اس کا حکم آگے آ رہا ہے، اسی صفحے کے آخر میں: ”وَالْمَاءُ الْجَارِي“ بھئی۔ یہاں سے پھر ماء جاری اور اسی طرح آگے ماء کثیر جو ہے اس کا حکم بیان کریں گے، تو یہ کس کا ذکر ہو رہا ہے؟ ماء قلیل کا، جو قلیل پانی ہو بھئی۔ یہ نہایت اہم مسئلہ ہے، اور خصوصاً دورۂ حدیث شریف کے اندر اس کی خوب تفصیل آ جائے گی بھئی، خوب تفصیل۔ یہاں مختصر طور پر صاحبِ ہدایہ نے اس کو ذکر کیا اور صرف تین مذاہب ذکر کیے: ایک تو احناف کا مذہب، ایک امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب اور ایک امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان کیا۔ تفصیل یاد رکھیے بھئی! امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں، وہ فرماتے ہیں: پانی، اس میں نجاست گرے تو وہ نجس نہیں ہوتا جب تک اس میں نجاست کا اثر دکھائی نہ دے۔ یعنی اثر دکھائی دینے کا معنی یہ ہے کہ پانی کے تین اوصاف میں سے کوئی وصف بدل جائے۔ پانی کا رنگ، بو، ذائقہ، ان میں سے کسی کے اندر تبدیلی آتی ہے تو پھر اس پانی کو نجس کہیں گے ورنہ نجس نہیں کہیں گے۔ جی، تو امام مالک رحمہ اللہ، وہ قلیل اور کثیر کا فرق کرتے ہی نہیں، وہ فرماتے ہیں پانی نجس ہوتا ہی نہیں جب جتنی بھی نجاست گر پڑے، جب تک اس نجاست کا اثر اس پانی میں دکھائی نہ دے، تو وہ قلیل اور کثیر ماء کا فرق کرتے ہی نہیں ہیں بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور احناف جو ہیں، وہ قلیل اور کثیر میں فرق کرتے ہیں۔ شوافع کے نزدیک بھی اور احناف کے نزدیک بھی ماء قلیل کے اندر نجاست گر پڑے چاہے تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو، پانی نجس ہو جائے گا۔ اور اگر ماء کثیر ہو، زیادہ ہو تو اس میں نجاست گرنے سے وہ نجس نہیں ہو گا جب تک اس میں نجاست دکھائی نہ دے بھئی، جب تک اس میں نجاست کا اثر نہ دکھائی دے، اس وقت تک وہ پانی نجس نہیں ہو گا بھئی۔ خلاصۂ مذاہب سمجھ میں آیا بھئی؟ امام مالک رحمہ اللہ ماء قلیل، ماء کثیر میں کوئی فرق نہیں کرتے، فرماتے ہیں پانی نجس ہو گا ہی نہیں جتنی بھی نجاست گر پڑے جب تک اس نجاست کا اثر پانی کے اندر ظاہر نہ ہو جائے بھئی، پانی کے رنگ، بو یا ذائقے میں کوئی تبدیلی نہ نظر آئے بھئی، اس وقت تک پانی نجس نہیں۔ جبکہ احناف اور شوافع فرق کرتے ہیں۔ احناف اور شوافع کے نزدیک ماء قلیل اس کے اندر تھوڑی سی بھی نجاست گر گئی تو پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا بھئی، اوصاف کا بدلنا ضروری نہیں۔ ماء قلیل ہے، بس نجاست گری، نجس ہو جائے گا۔ ہاں ماء کثیر جو ہے وہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوتا إلّا یہ کہ اس کے اندر نجاست کا اثر دکھائی دینے لگے بھئی۔ پھر ماء قلیل کسے کہتے ہیں اور ماء کثیر کسے کہتے ہیں؟ اس میں شوافع کا مذہب الگ اور احناف کا مذہب الگ۔ اس بات پہ تو اتفاق تھا کہ ماء قلیل نجس ہو جاتا ہے اور ماء کثیر نجس نہیں، ہاں لیکن قلیل کسے کہیں گے، کثیر کسے کہیں گے، وہ الگ تعریف کرتے ہیں۔ شوافع کے نزدیک پانی اگر دو مٹکے کی مقدار ہو، دو مٹکے بھئی، دو مٹکے کی مقدار پانی ہو تو یہ ماء کثیر ہے، اس سے کم ہو تو یہ ماء قلیل ہے بھئی۔ تو دو مٹکے سے کم پانی ہے، اس میں ایک قطرہ بھی پیشاب کا گر گیا یا خون کا گر گیا یا شراب کا گر گیا، پانی سارا کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا، نجس ہو جائے گا۔ اور دو مٹکے ہو تو پھر وہ نجس نہیں ہو گا إلّا یہ کہ کیا ہو؟ نجاست کا اثر دکھائی دینے لگے۔ آپ چلو میں پانی لیتے ہیں اور باقاعدہ اس کے اندر پانی کا اثر نظر آتا ہے تو پھر اس صورت میں وہ نجس شمار ہو گا۔ تفصیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو شوافع کے نزدیک ماء کثیر کتنا ہے؟ دو مٹکے، اور ماء قلیل جو دو مٹکے سے کم ہو بھئی ان کا۔ جبکہ احناف جو ہیں، احناف، احناف میں ماء قلیل اور ماء کثیر کسے کہیں گے اس میں کئی اقوال ہیں۔ ایک دو قول بس میں ذکر کروں گا بھئی۔ احناف کے نزدیک ماء قلیل اور ماء کثیر یہ مبتلیٰ بہٖ کی رائے کے سپرد ہے۔ احناف کے نزدیک بھئی ماء کثیر کسے کہیں گے؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ مبتلیٰ بہٖ کی رائے کے سپرد ہے۔ مبتلیٰ بہٖ جس کا پانی کے استعمال سے واسطہ پڑا ہے، جس کو یہ بات پیش آئی ہے، اگر اس کی رائے میں ایک پانی کثیر ہے تو اس کو کثیر سمجھا جائے گا اور اگر اس کی رائے میں وہ ماء جس سے اس کا واسطہ پڑا ہے اگر وہ قلیل ہے تو اس کو قلیل سمجھا جائے گا بھئی۔ کیا سمجھا جائے گا؟ قلیل۔ یعنی مطلب یہ ہے مبتلیٰ بہٖ جو ہے اس کے سامنے کچھ پانی موجود ہے۔ پانی میں نجاست گری، ایک شخص ہے اس کو پانی کی ضرورت پیش آئی اور پانی نہیں، ایک جگہ پر پانی اس نے دیکھا مثلاً پانی ہے اور اس کے ایک کنارے پر نجاست ہے، اگر اس مبتلیٰ بہٖ جس کا اس پانی کے استعمال سے واسطہ پڑا ہے اگر اس کی یہ رائے ہے کہ یہ نجاست دوسرے کنارے تک دوسری طرف پہنچ گئی ہو گی تو یہ سارا پانی نجس شمار ہو گا، معلوم ہوا یہ ماء قلیل ہے۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ یہ نجاست دوسری طرف نہیں پہنچی ہو گی تو معلوم ہوا اس کی رائے میں یہ ماء کثیر ہے، تو اس کے لیے دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے بھئی۔ جی، تو معلوم ہوا احناف کے نزدیک ایک قول کیا ہوا کہ ماء قلیل اور کثیر اس کا یہ کس کے سپرد ہے؟ مبتلیٰ بہٖ کی رائے کے سپرد۔ اور مبتلیٰ بہٖ کیا معنی کون؟ وہ جو اس میں مبتلا ہوا یعنی جس کو پیش آیا ہے یہ واقعہ، جس کا اس پانی سے واسطہ پڑا ہے۔ تو اس کا اگر یہ خیال ہے کہ نجاست کا اثر دوسری طرف نہیں پہنچا ہو گا تو معلوم ہوا اس کے خیال میں یہ ماء کثیر ہے۔ اور رائے مختلف ہوتی ہیں بھئی۔ ایک آدمی کے نزدیک ہو سکتا ہے ایک ماء قلیل ہو اور دوسرے کے نزدیک کیا ہو؟ کثیر ہو، تو بہرحال جو بھی مبتلیٰ بہٖ ہے اس کی رائے کے سپرد ہے بھئی، رائے کے سپرد ہے۔ یہ ایک قول ہے بھئی، ایک قول۔ اور یہ، یہی مذہب ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھئی، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔ اور اسی کی طرف رجوع ثابت ہے امام محمد رحمہ اللہ سے بھی بھئی، انہوں نے بھی اسی کی طرف رجوع فرمایا بھئی۔ جبکہ متأخرینِ احناف جس قول پر فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر پانی دہ در دہ ہو بھئی، یعنی ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“، دہ در دہ، اگر اتنی مقدار ہے پانی کی تو پھر یہ ماء کثیر ہے، اگر اس سے کم ہے تو یہ قلیل ہے بھئی۔ دہ در دہ یعنی ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“ یعنی دس ضربے دس، دس ضربے دس۔ دس ضربے دس کا معنی یہ کہ پانی اتنا ہو کہ چوڑائی بھی اس کی دس گز ہو اور لمبائی بھی اس کی کتنی ہو، کتنی جگہ میں وہ پھیلا ہوا ہے؟ دس۔ لمبائی دس گز اور چوڑائی بھی دس گز، تو یہ ہے ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“، دہ در دہ بھئی۔ یہ تالاب یا یہ جوہڑ جو ہے یہ دہ در دہ ہے اور یہ ماء کثیر شمار ہو گا۔ اس کے اندر اگر ایک طرف نجاست گرتی ہے تو دوسری طرف وضو کرنا جائز ہے بھئی۔ متأخرینِ احناف اس پر فتویٰ دیتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ متأخرینِ احناف اس پر فتویٰ دیتے ہیں۔ اور یہ گز یاد رکھنا شرعی گز مراد ہے، آج کل جو کپڑے کا گز رائج ہے وہ نہیں۔ شرعی گز یہ ذراع کو کہتے ہیں، کہنی سے لے کر یہ کہنی سے لے کر یہ بڑی انگلی کے سرے تک، یہ جو فاصلہ ہے یہ ہے ذراع بھئی، یہ ہے شرعی گز۔ اور یہ ڈیڑھ فٹ ہے بھئی، کتنا ہے؟ ڈیڑھ فٹ ہے بھئی۔ تو یہ آدمیوں کو نہ دیکھیں، کسی کا قد چھوٹا ہو گا، ہاتھ اس کا چھوٹا، کسی کا لمبا، تو بہرحال یہ متوسط درجے کا آدمی ہو تو اتنا ہوتا ہے اور یہ ڈیڑھ فٹ ہے۔ تو بس شرعی گز کتنا ہوا؟ شرعی گز یاد رکھیے ڈیڑھ فٹ کا ہے، اور آج کل جو کپڑے کا گز رائج ہے وہ تین فٹ کا ہے۔ معلوم ہوا اس میں دو وہ دو شرعی گز کے برابر ہے بھئی۔ اور میٹر، میٹر اس سے بھی تقریباً تین انچ زیادہ لمبا ہوتا ہے بھئی۔ جو آج کل گز ہے، میٹر اس سے تین انچ تقریباً زیادہ ہوتا ہے بھئی۔ تو ایک فٹ میں ہوئے بارہ انچ، ڈیڑھ فٹ میں کتنے ہوئے؟ اٹھارہ انچ۔ تو شرعی گز ہوا اٹھارہ انچ کا۔ اور یہ عام آج کل جو رائج کپڑے کا گز ہے وہ کتنا ہوا؟ تین فٹ ہے۔ تین فٹ، ایک فٹ میں بارہ انچ تو کل کتنے ہوئے؟ چھتیس انچ۔ تو گز چھتیس انچ کا ہوا آج کل کا۔ اور میٹر اس سے بھی تین انچ زیادہ ہوتا ہے تقریباً، تو وہ کتنا ہوا؟ انتالیس انچ کا ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ شرعی گز مراد ہے۔ تو ایک تالاب ہے ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“، لمبائی بھی دس گز شرعی اور چوڑائی بھی دس شرعی گز، تو یہ کتنا ہوا؟ فٹ کے حساب سے بتائیے بھئی! پندرہ فٹ چوڑائی اور پندرہ فٹ لمبائی، یہ دہ در دہ ہے بھئی۔ تو یہ ماء کثیر ہے، ماء کثیر۔ تو اس میں ایک طرف نجاست گرے تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز۔ یاد رکھیے! یہ جو دہ در دہ آیا بھئی دہ در دہ، یعنی چوڑائی بھی دس گز، دس شرعی گز اور لمبائی بھی پانی کی کتنی ہو؟ دس شرعی گز ہو۔ تو اس پانی کا رقبہ جو ہے نا سو مربع گز ہو گیا۔ زمین وغیرہ کا رقبہ عموماً جو بیان کیا جاتا ہے بھئی مربع گزوں کے ساتھ، وہ کس طرح ہوتا ہے؟ لمبائی کو چوڑائی کے ساتھ ضرب دیتے ہیں۔ تو لمبائی کتنی اس پانی کی؟ دس گز، چوڑائی بھی کتنی؟ دس گز، تو دس ضربے دس کتنا ہو گیا؟ سو۔ تو یہ اس پانی کو کہیں گے یہ سو مربع گز ہے۔ تو سو مربع گز کا تالاب یہ ہے ماء کثیر بھئی، ماء کثیر۔ تو سو مربع گز ہوں بھئی، چاہے لمبائی ایک طرف ایک جانب کم ہے، دوسری جانب زیادہ، تو بھی صحیح ہے۔ مثلاً ایک پانی ہے اس کی چوڑائی جو ہے وہ پانچ گز ہے اور لمبائی اس کی بیس گز ہے۔ لمبائی کتنی؟ اور چوڑائی کتنی ہے؟ پانچ گز۔ تو اب آپ یہ نہ کہیں یہ تو دہ در دہ نہیں ہے، بلکہ لمبائی ضرب چوڑائی: بیس گز ضربے پانچ گز کتنا ہوا؟ سو گز، یہ بھی سو گز ہے، یہ وہی دہ در دہ ہے بھئی۔ تو اس سے بھی اس میں بھی ایک طرف نجاست گر پڑے تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے بھئی۔ اور اگر ایک پانی ہے اس کی چوڑائی چار گز ہے اور لمبائی پچیس گز ہے، تو بھی یہ کتنے مربع گز ہوا؟ یہ بھی پچیس ضربے چار یہ سو مربع، تو یہ بھی سو مربع گز ہوا، یہ بھی کیا ہے؟ دہ در دہ ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس میں ایک طرف نجاست گرے تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز۔ پھر اس میں یہ بھی تفصیل یاد رکھنا کہ مراد ہے وہ نجاست جس کا ظاہری جسم ہو، کیا ہو؟ جو دکھائی دیتی ہے یعنی آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً اس طرف پانی کے اندر کوئی جانور مرا ہوا پڑا ہے، تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے بھئی، دوسری طرف سے۔ تو ایسی نجاست اگر پانی کے اندر پڑی ہے جو دکھائی دیتی ہے، ایک طرف پڑی ہے اور ماء کثیر ہے، تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہو گا۔ اور اگر اس پانی میں ایسی نجاست گری کہ پانی میں گرنے کے بعد اب اس کا پتہ نہیں، پانی کے ساتھ مل گئی، پانی کے ساتھ مل گئی، تو یاد رکھیے اس صورت میں پھر اس طرف سے بھی وضو کرنا جائز، ہر طرف سے اب دوسری طرف سے تو وضو کرنا تھا ہی جائز، اب ہر طرف سے وضو کرنا جائز ہوا۔ لہٰذا ماء کثیر کے اندر اگر ایسی نجاست گر پڑے جس کا جو دکھائی دے رہی ہے اور پانی میں گرنے کے بعد بھی دکھائی دے رہی ہے، تو اس طرف سے وضو کرنا جائز نہیں کیونکہ یہاں پر اس کے ذرات پانی کے اندر ہیں لیکن دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہو گا۔ اور اگر ایسی نجاست ہے جو دکھائی نہیں دے رہی، مثلاً پیشاب وغیرہ ہے، پانی میں مل گیا، اس کا تو اب پتہ نہیں چلے گا، تو پھر اس صورت میں ہر یہ طرف سے وضو کرنا جائز کیونکہ یہ ماء کثیر ہے، یہ ماء جاری کے حکم میں ہے، اور ”يَرْحَمُكَ اللهُ“، اور یہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوتا إلّا یہ کہ پانی سے چلو بھریں تو اس میں آپ کو اس کا اثر دکھائی دے، پھر یہ حصہ نجس ہو گا ورنہ نہیں بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو متأخرینِ احناف فتویٰ کس پر دیتے ہیں کہ کتنا ماء کثیر ہو گا؟ جو دہ در دہ ہو بھئی۔ دس گز یعنی پندرہ فٹ چوڑائی اور پندرہ فٹ ہی لمبائی ہو، اور گہرائی کتنی ہو؟ تو بعض کہتے ہیں کہ ایک ذراع گہرائی ہونی چاہیے کم از کم، یعنی ڈیڑھ فٹ، بعضوں نے کہا دو ذراع بھئی کم از کم یعنی تین فٹ گہرائی، لیکن صحیح قول کہ اتنی گہرائی ہونی چاہیے کہ اگر چلو بھریں تو زمین نہ نکل آئے بھئی۔ بھئی پانی پھیلا تو ہوا ہے کتنے میں؟ پندرہ ضربے پندرہ فٹ حصے میں پھیلا تو ہوا ہے لیکن گہرائی ہے مثلاً ایک ڈیڑھ انچ ہے، یہ دو انچ ہے، اب ہم چلو بھرتے ہیں تو بالکل زمین نکل آتی ہے، اوپر سے پانی چند لمحوں کے لیے ختم ہو جاتا ہے پھر مل جاتا ہے بھئی۔ گہرائی اتنی ہو کہ چلو بھرنے سے زمین نہ کھلے، یعنی اس سے زیادہ ہونی چاہیے، اس سے زیادہ ہونی چاہیے بھئی۔ اور یہ دہ در دہ کا قول اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہاں سے آیا؟ یاد رکھیے یہ کہیں قرآن و حدیث میں ذکر نہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ اس قول کی یہ ہے: کہتے ہیں ایک مرتبہ امام محمد رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ماء کثیر کسے کہیں گے؟ امام محمد رحمہ اللہ اس وقت ایک چھوٹی سی مسجد میں تشریف فرما تھے، چھوٹی سی مسجد تھی۔ فرمایا: میری اس مسجد کے برابر۔ پوچھا گیا کہ ماء کثیر کسے کہیں گے؟ فرمایا: میری اس مسجد کے برابر ہو تو وہ ماء کثیر ہے۔ چنانچہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد مسجد کو ماپا گیا تو باہر کی طرف سے اس کی لمبائی اور چوڑائی جو تھی وہ ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“ تھی، دہ در دہ تھی، چوڑائی بھی دس گز تھی یعنی پندرہ فٹ اور لمبائی بھی پندرہ فٹ، وہ چھوٹی سی مسجد تھی بھئی۔ بعضوں نے اندر کی طرف سے ماپا تو وہ آٹھ ضربے آٹھ ذراع تھی بھئی، تو بعضوں نے اندر کا اعتبار کیا، انہوں نے آٹھ ضربے آٹھ کا قول کیا کہ یہ ماء کثیر ہے، اس سے کم ہو جائے تو قلیل ہے، اور بعضوں نے باہر کا اعتبار کیا اور کیا کہا؟ دس ضربے دس گز ہو تو یہ ماء کثیر ہے، اس سے کم ہو تو ماء قلیل ہے، اور فتویٰ اسی پر ہے دہ در دہ پر بھئی، دہ در دہ پر۔ لیکن میں نے بتایا امام محمد رحمہ اللہ نے بعد میں رجوع فرما لیا تھا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی طرف اور فرمایا تھا: ”لَا أُوَقِّتُ فِيهِ شَيْئًا“، میں اس میں کوئی تحدید نہیں کرتا، کوئی حد بیان نہیں کرتا بلکہ یہ کس کے سپرد ہے؟ مبتلیٰ بہٖ کی رائے کے سپرد ہے بھئی، مبتلیٰ بہٖ کی رائے کے سپرد ہے۔ لیکن بہرحال متأخرینِ احناف دہ در دہ پر فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر اتنا ماء ہو تو ماء کثیر ہے، اس سے کم ہو تو ماء قلیل ہے، اس سے عوام کے لیے آسانی ہو جاتی ہے، وہ پریشان وغیرہ ہونے کی ضرورت ہی نہیں کہ اب یہ ماء قلیل ہے یا کثیر، بلکہ کیا کیا جائے؟ دیکھا جائے دہ در دہ ہے تو ماء کثیر ہے، دہ در دہ نہیں تو ماء قلیل ہے بھئی۔ جی، تو متأخرینِ احناف اسی قول پر فتویٰ دیتے ہیں بھئی۔ تو تین مذاہب آپ کے سامنے بیان ہوئے بھئی: امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی نجس ہوتا ہی نہیں ہے کیونکہ حدیث میں کیا آیا؟ ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“، ایک ڈیڑھ صفحہ قبل آپ نے یہ حدیث پڑھی: ”الْمَاءُ طَهُورٌ“ پانی پاک ہے، ”لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“ اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث میں آیا ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی، لہٰذا پانی کے جب تک اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے اس کو نجس نہیں شمار ہو گا، اس سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے بھئی۔ وہ قلیل کثیر کا فرق نہیں کرتے۔ جبکہ احناف اور شوافع قلیل اور کثیر کا فرق کرتے ہیں۔ شوافع کے نزدیک کثیر وہ ہے جو قلتین ہو یعنی دو مٹکے ہو، اور احناف کے نزدیک ماء کثیر جو ہے دہ در دہ ہے بھئی۔ تو یہ پانی کے مسئلے میں احناف کے مذہب میں سب سے زیادہ شدت ہے بھئی، سب سے زیادہ سختی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ سب سے زیادہ شدت ہے۔ آپ کی یا میری بات نہیں ہو رہی بھئی، ہمارے ہاں تو یہاں کثیر پانی ہوتا ہے، ان علاقے والوں سے پوچھیں جو کئی کئی میل سے پانی لے کر آتے ہیں بھئی، کئی کئی میل سے پانی لے کر آتے ہیں اور وہ پانی لے کر آیا اور اس میں تھوڑی سی نجاست گر گئی اور اس سارے پر نجس ہونے کا حکم لگا دیا گیا، تو اندازہ لگائیے وہ کتنی تکلیف میں اور مصیبت میں پڑ جائے گا بھئی۔ اور میں نے بتایا یہ کوئی قرآن اور حدیث کی بات بھی نہیں ہے بھئی، حدیث میں کوئی تحدید نہیں بھئی، البتہ قلتین والی حدیث آئی، اس میں بھی علماء نے کلام کیا ہے، تو بہرحال دہ در دہ یہ تو بہت زیادہ مقدار ہے بھئی، اس سے ذرا کم ہو جائے تو اس میں ذرا نجاست گرے اور کہا جائے سارا پانی نجس ہو گیا بھئی، تو کتنی تکلیف کا باعث ہو گا، کتنی مشکل کا باعث ہو گا بھئی۔ احتیاط اپنی جگہ ہے بھئی، احتیاط اپنی جگہ ہے لیکن اس کو نجس نہیں کہنا چاہیے بھئی، لیکن بہرحال تمام متأخرینِ احناف اسی پر فتویٰ دیتے ہیں بھئی۔ جبکہ سب سے زیادہ آسانی امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب میں ہے بھئی۔ وہ فرماتے ہیں پانی میں نجاست گر پڑے، جب تک نجاست کا اثر ظاہر نہیں ہو گا پانی نجس ہی نہیں ہو گا بھئی۔ اور امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ظاہرِ حدیث کے زیادہ قریب ہے بھئی، حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے: ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“ بھئی، ”شَيْءٌ“۔ تو جہاں پانی کی قلت ہو، ان کے لیے امام مالک کے قول میں کتنی آسانی آ گئی بھئی۔ چنانچہ اور بھی بہت سے علماء نے امام مالک رحمہ اللہ کے قول کو پسند فرمایا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ شافعی المسلک ہیں، لیکن وہ بھی فرماتے ہیں کہ مجھے پسند ہے، کاش کہ ہمارا مذہب بھی کس کی طرح ہوتا؟ امام مالک رحمہ اللہ کی طرح ہوتا۔ امام رازی رحمہ اللہ جو ہیں وہ بھی اس قول، امام مالک رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دیتے ہیں، بعض احناف نے بھی اس کو ترجیح دی ہے بھئی، تو ان کا مذہب ظاہرِ حدیث کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی، اچھی طرح؟ تو ہمارے نزدیک ماء قلیل اور کثیر میں فرق کیا جائے گا اور متأخرین کس پر فتویٰ دیتے ہیں؟ دہ در دہ ہے تو کثیر ہے، اس سے کم ہے تو قلیل ہے بھئی۔ اور میں نے بتایا جب کثیر ہو تو وہ نجس نہیں ہوتا، اس میں نجاست گرے اور نجاست کا اثر جس طرف گری ہے اس طرف بھی نہیں دکھائی دے رہا تو پھر چاروں طرف سے وضو کرنا اور طہارت حاصل کرنا جائز ہے، اور اگر اس طرف نجاست کا اثر ہے تو پھر اس طرف سے وضو کرنا جائز نہیں، البتہ دوسری طرف سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے بھئی، جائز ہے بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی! کہتے ہیں: ”وَكُلُّ مَاءٍ وَقَعَتِ النَّجَاسَةُ فِيهِ“ اور ہر ایسا پانی جس میں نجاست گر پڑے، میں نے بتایا کون سا ماء یہاں مراد ہے؟ ماء قلیل یا ماء کثیر؟ یہاں ماء قلیل مراد ہے کیونکہ کثیر کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَكُلُّ مَاءٍ وَقَعَتِ النَّجَاسَةُ فِيهِ لَمْ يَجُزِ الْوُضُوءُ بِهِ“ ہر ایسا پانی جس میں نجاست گر پڑے اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے، ”قَلِيلًا كَانَتِ النَّجَاسَةُ أَوْ كَثِيرًا“ تھوڑی ہو نجاست یا زیادہ ہو، ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ يَجُوزُ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے یعنی نجاست گر پڑے تو بھی وضو کرنا جائز ہے، ”مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ أَحَدُ أَوْصَافِهِ“ جب تک بدل نہ جائے اس پانی کے اوصاف میں سے کوئی ایک، ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی بھئی، وہ جو ایک ڈیڑھ صفحہ قبل حدیث گزری ہے: ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَجُوزُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی میں اگر نجاست گر پڑے تو اس سے وضو کرنا جائز ہے ”إِنْ كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ“ اگر وہ پانی کتنا ہو؟ دو مٹکے ہو بھئی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ“ جب پہنچ جائے پانی دو مٹکوں کی مقدار کو ”لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“، خبث کہتے ہیں نجاست، ناپاکی، ”لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“ تو وہ نجاست نہیں اٹھاتا یعنی نجس نہیں ہوتا۔ نجاست نہیں اٹھاتا یعنی نجس نہیں ہوتا یعنی اس میں نجاست گر پڑے تو بھی وہ پانی پاک ہے جب کہ نجاست کا اثر دکھائی نہ دیتا ہو۔ ”وَلَنَا“ اور احناف کی دلیل، ہماری جو دلیل ہے: ”حَدِيثُ الْمُسْتَيْقِظِ مِنْ مَنَامِهِ“ وہ جو نیند سے بیدار ہونے والے کی حدیث ہے، وہ ہماری دلیل ہے۔ حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا“، وضو کے باب میں یہ حدیث ذکر ہوئی تھی کہ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو ہرگز داخل نہ کرے اپنے ہاتھ کو پانی میں یہاں تک کہ اسے تین مرتبہ دھو لے۔ تین مرتبہ۔ تو اس حدیث کے اندر دیکھیے، احتمالِ نجاست کی وجہ سے بھی ہاتھ کو پانی میں داخل کرنے سے منع کیا گیا۔ معلوم ہوا حقیقتاً نجاست گرے گی تو پانی کیا ہو جائے گا یقیناً؟ جب احتمالِ نجاست کی وجہ سے پانی میں ہاتھ داخل کرنے سے منع کیا گیا تو حقیقۃً نجاست کی وجہ سے پانی بطریقِ اولیٰ نجس ہو جائے گا، معلوم ہوا پانی نجس ہو جاتا ہے نجاست اس میں گرے تو۔ ”وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور ہماری دلیل جو ہے، دوسری حدیث ذکر کر رہے ہیں حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلَا يَغْتَسِلَنَّ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ“، یہاں تک ہے حدیث بھئی۔ ”لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہرگز پیشاب نہ کرے تم میں سے کوئی ایک ”فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ“ ماء دائم کے اندر یعنی کھڑے پانی میں۔ کھڑے ہوئے پانی کے اندر تم میں سے کوئی بھی ہرگز پیشاب نہ کرے ”وَلَا يَغْتَسِلَنَّ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ“ اور ہرگز اس کے اندر غسلِ جنابت نہ کرے بھئی، ہرگز اس کے اندر جنابت کا غسل نہ کرے۔ دیکھیے! اس حدیث کے اندر کھڑے ہوئے پانی کے اندر پیشاب کرنے سے بھی منع فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کے اندر جنابت کا غسل کرنے سے بھی منع فرمایا، تو یہ حدیث جو ہے اس کے اندر دیکھیے یہ قید نہیں ہے کہ صفت بدلے گی پانی کی یا صفت نہیں، یہ ذکر نہیں۔ نیز اس میں یہ نہیں ذکر کہ پانی دو مٹکے کی مقدار ہو یا نہ ہو، کوئی فرق نہیں، مطلقاً فرمایا کہ کھڑے پانی میں سے تم میں سے کوئی پیشاب نہ کرے، معلوم ہوا پیشاب سے پانی نجس ہو جائے گا بھئی، حالانکہ پیشاب کی وجہ سے پانی کا کوئی وصف تو نہیں بدلے گا۔ اسی طرح غسلِ جنابت سے بھی منع کیا گیا، حالانکہ اس سے بھی پانی کا کوئی وصف نہیں بدلتا، معلوم ہوا کہ پانی کا وصف نہ بدلے پھر بھی نجاست اس میں گرے تو وہ کیا ہو جاتا ہے؟ نجس ہو جاتا ہے۔ تو یہ دلیل ہوئی امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی، اس میں کوئی قلتین یا غیرِ قلتین کی قید موجود نہیں ہے بھئی، معلوم ہوا وہ نجس ہو جائے گا چاہے قلتین ہو چاہے نہ ہو دونوں صورتوں کے اندر۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے ”وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا یہ قول جو ہے ”لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ“ ہرگز تم میں سے کوئی پیشاب نہ کرے کھڑے پانی میں ”وَلَا يَغْتَسِلَنَّ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ“ اور تم میں سے کوئی ہرگز غسل نہ کرے اس میں جنابت سے، ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ یہ صاحبِ ہدایہ کے الفاظ ہیں، ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ بغیر کسی فرق کے، اس میں قلتین اور غیرِ قلتین کا کوئی فرق نہیں کیا گیا بھئی۔ ”وَالَّذِي رَوَاهُ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ“ امام مالک رحمہ اللہ کی جو دلیل تھی: ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“، اس کے بارے میں بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: ”وَالَّذِي رَوَاهُ مَالِكٌ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امام مالک رحمہ اللہ نے ”وَرَدَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ“ وہ بئرِ بضاعہ کے بارے میں ہے بھئی۔ کس کے بارے میں ہے؟ بئرِ بضاعہ، یہ مدینہ منورہ کے اندر ایک کنواں تھا بھئی، جس کو اس کے پانی کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“ بھئی۔ ”وَمَاؤُهُ كَانَ جَارِيًا فِي الْبَسَاتِينِ“ اور اس کنوئیں کا پانی باغوں میں جاری تھا بھئی، باغوں میں جاری تھا۔ بساتین جمع ہے بستان کی، باغ کو کہتے ہیں، تو اس کا پانی باغوں کے اندر جاری تھا۔ جاری ہونے کا یہ معنی نہیں بھئی تھا تو وہ کنواں ہی، کوئی نہر تو نہیں تھی لیکن اس سے پانی لے کر باغات کو سیراب کیا جاتا تھا بھئی، کئی باغات کو اس کے پانی سے سیراب کیا جاتا تھا تو پانی نکالتے تھے اور پانی اس میں آ جاتا تھا، تو مراد یہ ہے کہ ماء ماء جاری کی طرح تھا، اس کا پانی کس کی طرح تھا؟ ماء جاری کی طرح۔ بھئی باغات کو اس سے سیراب کر رہے ہیں، پانی نکالتے جا رہے ہیں اور پھر کنوئیں کے اندر اسی طرح پانی ہے، معلوم ہوا نیچے سے اور پانی آتا جا رہا ہے، تو وہ پانی کس کی طرح ہوا؟ ماء جاری کی طرح ہوا بھئی۔ اور ہماری بحث کس میں چل رہی ہے؟ ماء قلیل کے اندر، تو ماء جاری کے بارے میں تو، ماء کثیر کے بارے میں تو ہم بھی کہتے ہیں کہ جب اس میں نجاست گرے تو وہ پانی نجس نہیں ہو گا إلّا یہ کہ اس میں نجاست کا اثر دکھائی دینے لگے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ جواب ہوا۔ تو کہتے ہیں وہ حدیث جس کو روایت کیا امام مالک رحمہ اللہ نے وہ بئرِ بضاعہ کے بارے میں آئی ہے: ”وَمَاؤُهُ كَانَ جَارِيًا فِي الْبَسَاتِينِ“ اور اس کا پانی جو تھا بئرِ بضاعہ کا وہ تو باغوں میں جاری تھا یعنی کثیر تھا۔ ”وَمَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے امام ابو داؤد نے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو حدیث ذکر کی بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں: ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اس حدیث کو امام ابو داؤد نے ضعیف قرار دیا ہے بھئی، ضعیف قرار دیا ہے۔ یاد رکھیے! یہ حدیث حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ سے پوچھا گیا اس پانی کے بارے میں جو جنگل و بیابان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے وغیرہ آتے ہیں، اس سے پانی پیتے ہیں کہ کیا وہ پانی نجس ہے یا نجس نہیں ہے، اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“ کہ جب پانی دو قلوں کی مقدار کو پہنچ جائے تو وہ نجس نہیں ہوتا، تو یہ حدیث حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی گئی ہے بھئی۔ جو صاحبِ ہدایہ نے کہا کہ اس کو امام ابو داؤد نے ضعیف قرار دیا ہے، شارحین یہاں پر اعتراض کرتے ہیں کہ امام ابو داؤد نے اپنی کتاب سننِ ابی داؤد کے اندر اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس کو ضعیف نہیں کہا بلکہ سکوت کیا ہے، خاموش رہے ہیں بھئی۔ کچھ نہیں کہا کہ یہ صحیح ہے یا غیرِ صحیح ہے، اور ان کی عادت یہ ہے کہ وہ سکوت کریں، خاموشی کریں، خاموش رہیں، حدیث پر حکم نہ لگائیں، نہ بتلائیں کہ وہ صحیح ہے یا صحیح نہیں، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ تو انہوں نے تو اس حدیث کو ضعیف قرار نہیں دیا بلکہ ان کی عادت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کیا ہے؟ صحیح ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے امام ابو داؤد کی طرف یہ نسبت کیسے کر دی کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے؟ تو جواب یہ، جواب یہ: کہ ہو سکتا ہے امام ابو داؤد جو ہیں انہوں نے کسی اور مقام پر اس حدیث کو ضعیف کہا ہو بھئی۔ اس کتاب میں تو نہ کہا ہو لیکن ہو سکتا ہے کسی اور کتاب میں اس حدیث کو ضعیف کہا ہو، ہو سکتا ہے صاحبِ ہدایہ اس کی طرف اشارہ کر رہے ہوں۔ جیسا کہ بعض علماء نے امام ابو داؤد کے اس قول کو نقل بھی کیا ہے، جیسے بحر الرائق وغیرہ والے نے، کہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فریقین کے پاس فریقین کے پاس کوئی حدیث نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کی تحدید کی گئی ہو۔ پانی کی حد بیان کی گئی ہو ماء قلیل اور کثیر کے سلسلے میں، تو کوئی ایسی حدیث فریقین کے پاس نہیں ہے بھئی۔ کون فرما رہے ہیں؟ امام ابو داؤد کیا فرما رہے ہیں؟ کہ فریقین کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں، کوئی حدیث نہیں جس کے اندر پانی کی کیا کی گئی ہو؟ تحدید کی گئی ہو۔ اور اس حدیث میں تحدید ہے یا نہیں؟ تو جب وہ نفی فرما رہے ہیں، ضعیف قرار دے رہے ہیں، معلوم ہوا تو یہ حدیث بھی کیا ہو گئی؟ اس میں پانی کی تحدید ہے یا نہیں کہ پانی کتنا ہو، کتنی مقدار بیان کی گئی ہے؟ دو مٹکے بھئی، تو اس میں تو تحدید کی گئی ہے جبکہ وہ فرما رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام سے فریقین کے پاس کوئی حدیث نہیں جس میں کیا ہو پانی کی تحدید ہو، تو معلوم ہوا اس حدیث کو بھی انہوں نے ضعیف قرار دے دیا کیونکہ اس میں تو تحدید ہے اور وہ فرما رہے ہیں کوئی حدیث تحدید والی ثابت نہیں ہے بھئی، تو معلوم ہوا یہ حدیث بھی ان کے نزدیک کیا ہو گئی؟ ضعیف ہو گئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ اور دوسرا جواب کہ ہو سکتا ہے ابو داؤد سے مراد سننِ ابی داؤد والے مصنف مراد نہ ہوں بلکہ کوئی اور ابو داؤد مراد ہوں ائمۂ حدیث میں سے۔ ائمۂ حدیث میں سے ہو سکتا ہے کوئی اور ابو داؤد مراد ہوں، کوئی اور امامِ حدیث مراد ہوں جن کی کنیت ابو داؤد ہو بھئی، ابو داؤد ہو۔ جبکہ علامہ زاہد کوثری رحمہ اللہ تعالیٰ، جو بہت بڑے عالمِ دین گزرے ہیں ابھی قریب ہی کے زمانے میں، پچاس ساٹھ سال قبل جن کا انتقال ہوا، ترکی کے رہنے والے تھے اور بہت بڑے عالمِ دین تھے، حنفی المسلک، احناف کے لیے بڑی قیمتی کتابیں انہوں نے لکھی ہیں بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ امام ابو داؤد کسی حدیث کے بارے میں سکوت کریں اور خاموش رہیں، اس پر نہ صحیح ہونے کا حکم لگائیں اور نہ غیرِ صحیح ہونے کا، تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ وہ حدیث صحیح ہے، بلکہ بعض اوقات وہ حدیث غیرِ صحیح بھی ہوتی ہے تو بھی وہ کیا کر جاتے ہیں؟ سکوت کر جاتے ہیں۔ تو ان کے یہ کہنا کہ ان کی عادت یہ ہے کہ وہ صرف صحیح پر سکوت کرتے ہیں یہ درست نہیں ہے۔ کبھی وہ صحیح حدیث پر سکوت کرتے ہیں اور کبھی کیا کرتے ہیں؟ ضعیف حدیث ہوتی ہے اس پر بھی کیا کر جاتے ہیں؟ سکوت کر جاتے ہیں۔ تو سننِ ابی داؤد کا مطالعہ کرنے والے ان کی اس عادت کو آسانی سے اس عادت کو جان سکتے ہیں کہ وہ بعض اوقات حدیث ضعیف ہوتی ہے، اس پر سکوت کر جاتے ہیں، تو سکوت اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ ضعف کی طرف بھئی اشارہ ہوتا ہے۔ تو یہاں بھی امام ابو داؤد نے سکوت فرمایا، معلوم ہوا یہ صحیح ہونے کی وجہ سے سکوت نہیں فرمایا بلکہ کس وجہ سے سکوت فرمایا ہے؟ ضعیف ہونے کی وجہ سے سکوت فرمایا ہے بھئی۔ تو بہرحال یہ تو اس بارے میں بحث تھی کہ صاحبِ ہدایہ نے امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی طرف اس کے ضعیف ہونے کی نسبت کی ہے کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا۔ تو خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ کہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ یہاں پر انہوں نے سکوت کیا ہے، تو بعضوں نے کہا کہ انہوں نے تو اس کے صحیح ہونے کی جانب اشارہ کیا، تو جواب گزر گیا کہ بھئی، ایک جواب تو یہ جو علامہ زاہد کوثری رحمہ اللہ نے دیا کہ ان کا خاموش رہنا صحیح ہونے کی علامت نہیں ہے، صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے، وہ بعض اوقات خاموش ہونا ضعیف ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔ اور دوسرا جواب کیا ہوا؟ کہ ہو سکتا ہے کسی اور کتاب میں انہوں نے فرمایا ہو کہ یہ حدیث کیا ہے؟ ضعیف ہے، جیسے ان کے قول کو نقل کیا ہے بعض کتابوں میں کہ فریقین کے پاس اس سلسلے میں کوئی حدیث نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تحدید ہو، تحدید ہو۔ اور جب تحدید والی حدیث کی انہوں نے نفی کر دی، یعنی معلوم ہوا اس کو ضعیف قرار دے دیا، تو ماء قلتین میں بھی کیا ہے؟ تحدید ہے، تو اس کی بھی تضعیف ہو گئی بھئی، تو ہو سکتا ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو صاحبِ ہدایہ کا بھئی۔ اور تیسرا جواب کیا ہوا؟ کہ ہو سکتا ہے ابو داؤد کے ذریعے اشارہ سننِ ابی داؤد کے مصنف کی طرف اشارہ نہ ہو بلکہ کسی اور امامِ حدیث کی طرف اشارہ ہو جن کی کنیت ابو داؤد ہو بھئی۔ تو بہرحال یہ تو اس بارے میں بحث تھی۔ ویسے یاد رکھیے بھئی! یہ جو حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے: ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ“، اس پر علماء نے بڑی بحث کی ہے بھئی، بڑی بحث کی ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے بھئی۔ یہ میں نے بتلایا کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے بھئی، صحابہ میں سے صرف ایک صحابی اس حدیث کو روایت کر رہے ہیں، حالانکہ یہ پانی کا معاملہ ہے، یہ پاکی ناپاکی کا مسئلہ ہے، اس کی ہر جگہ پر ضرورت پیش آتی ہے، تو اس طرح کی حدیث کو تو مشہور ہونا چاہیے تھا اور کسی سے یہ منقول نہیں ہے، کسی کو معلوم ہوا اس بارے میں خبر ہی نہیں ہے، اگر خبر ہوتی تو وہ ضرور کیا کرتے صحابہ اس کو؟ روایت کرتے، تو معلوم ہوا یہ حدیث ضعیف ہے بھئی، ورنہ یہ حدیث مشہور ہوتی اور صحابہ بھی اس کو روایت کرتے، سب کو پتہ ہوتا۔ اور پھر حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ان کے جو بڑے بڑے تلامذہ ہیں، جو بڑے بڑے محدثین ہیں، بڑے تلامذہ ہیں، وہ روایت نہیں کرتے بھئی۔ حالانکہ اتنا اہم مسئلہ ہے، پانی کی پاکی ناپاکی کا مسئلہ ہے، اگر ان سے روایت صحیح طریقے سے ہوتی تو یقیناً ان کے بڑے جو تلامذہ ہیں، مشہور جو تلامذہ ہیں وہ ضرور روایت کرتے، لیکن وہ نہیں اس کو روایت کرتے بھئی۔ معلوم ہوا یہ حدیث کیا ہے؟ ضعیف ہے بھئی۔ نیز یاد رکھیے! اس حدیث کے اندر اور بھی بڑے اضطرابات ہیں بھئی۔ اس حدیث کی سند میں بھی اضطراب، اس کے متن میں بھی اضطراب ہے بھئی۔ سند بھئی، حدیث کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک حصے کو سند کہتے ہیں، ایک حصے کو متن۔ متن تو جس کے اندر وہ واقعہ یا بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وغیرہ ذکر ہو، وہ ہے متن، اور اس سے پہلے کہ فلاں نے فلاں سے روایت کیا، فلاں نے فلاں سے روایت کیا، فلاں نے فلاں سے روایت کیا، یہ حصہ جو ہے حدیث کا یہ سند کہلاتا ہے جس میں روایت کرنے والوں کے نام ذکر ہوتے ہیں۔ تو اس کی سند میں بھی بڑا اضطراب ہے بھئی، بعض محدثین اس کی سند کسی طرح بیان کرتے ہیں، بعض روایتوں کے اندر سند میں راوی مختلف طریقے سے، بعض میں مختلف طریقے سے، تو سند کے اندر بھی اختلاف ہے، مختلف طریقوں سے سند ہے، معلوم ہوا سند میں بھی اضطراب، سند میں بھی کیا ہے؟ اضطراب۔ اور متن میں بھی اضطراب ہے بھئی۔ متن کیا آیا؟ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں: ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ“ جب پانی دو مٹکوں کی مقدار کو پہنچ جائے، اس میں بھی بڑا اضطراب ہے۔ بعض روایتوں کے اندر یہاں تو دو قلتین کا دو مٹکوں کا ذکر آیا، بعض روایتوں میں ایک قلہ کا ذکر ہے، بعض روایتوں میں ذکر ہے دو یا تین مٹکے، پانی جب دو یا تین مٹکے کی مقدار کو پہنچ جائے، تو یہاں تو صرف کیا ذکر؟ دو، بعضوں میں اس کے ساتھ تین کا بھی ذکر ہے، جب پانی کتنی مقدار کو پہنچ جائے؟ دو یا تین مٹکے کی مقدار کو۔ بعضوں کے اندر چالیس قلوں کا ذکر آیا ہے بعض روایات کے اندر بھئی، بعض روایات میں چالیس مشکیزوں کا ذکر آیا ہے بھئی، بعض روایات میں چالیس ڈول کا ذکر آیا ہے، ڈول جو کنوئیں سے پانی وغیرہ نکالتے ہیں جس کے ذریعے، تو بعض روایات میں چالیس ڈول کا وغیرہ کا ذکر آیا ہے بھئی، معلوم ہوا یہ حدیث کیا ہے؟ ضعیف ہے۔ نیز قلہ، قلتین کا ذکر آیا، قلتین کے تو کئی معانی آتے ہیں بھئی، کئی معانی آتے ہیں۔ ”قُلَّةٌ“ مٹکے کو بھی کہتے ہیں، ”قُلَّةٌ“ انسان کے قد کو بھی کہتے ہیں، قد کو، ”قُلَّةٌ“ پہاڑ کی چوٹی کو بھی کہتے ہیں، ”قُلَّةٌ“ مشکیزے کو بھی کہتے ہیں، ”قُلَّةٌ“ اسی طرح گلاس یا لوٹے وغیرہ اس کو بھی کہتے ہیں، یہاں قلتین سے مٹکا ہی مراد ہے یہ تو تعیین نہیں بھئی، تو اس کے معنی بھی مختلف ہیں۔ اور اگر چلیں مان بھی لیں قلتین سے کیا مراد ہیں؟ مٹکے ہی مراد ہیں، مٹکا ہی ہے اس کا معنی، تو بھی مٹکے بھی تو چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، کون سے مٹکے مراد ہیں؟ تو اس حدیث کے اندر میں اضطراب ہے بھئی، علماء نے اس پر بہت کلام کیا ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس حدیث کی سند میں بھی اضطراب، متن میں بھی اضطراب، اور قلتین لفظ کے بھی کئی معانی آتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے امام ابو داؤد نے، ”أَوْ هُوَ يَضْعُفُ عَنِ احْتِمَالِ النَّجَاسَةِ“ یا، یہ دوسرا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی، کہ شوافع اس حدیث کا کیا ترجمہ کرتے ہیں: ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ“ جب پانی پہنچ جائے دو مٹکوں کو یعنی دو مٹکوں کی مقدار کے برابر ہو پانی، ”لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“ کیا ترجمہ کیا؟ وہ نجس نہیں ہوتا، ”لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“ کا کیا معنی؟ وہ نجس نہیں ہوتا۔ بعض کہتے ہیں حدیث کا یہ معنی نہیں، بلکہ اس میں تو یہ بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے اس کا یہ معنی ہو: ”لَا يَحْمِلُ خَبَثًا“ وہ نجاست نہیں اٹھا سکتا، وہ نجاست برداشت نہیں کر سکتا، تو معنی ہوا وہ نجس ہو جاتا ہے۔ وہ کیا ہو جاتا ہے؟ نجس ہو جا وہ نجاست کو برداشت نہیں کر سکتا، وہ نجاست کو نہیں اٹھا سکتا، اس کے اٹھانے سے عاجز ہے، تو کیا ہو جائے گا؟ شوافع کے نزدیک اس کا کیا معنی ہوا؟ ”لَا يَنْجُسُ“، وہ نجس نہیں ہوتا، اور دوسرا احتمال اس کے اندر کیا ہو گیا؟ ”يَنْجُسُ“ کہ وہ نجس ہو جاتا ہے بھئی۔ یہ بیان کر رہے ہیں دیکھیے، کہتے ہیں: ”أَوْ هُوَ يَضْعُفُ عَنِ احْتِمَالِ النَّجَاسَةِ“، ”أَوْ هُوَ“ یا وہ، وہ پانی جو ہے ”يَضْعُفُ“ ضعیف ہوتا ہے، کمزور ہوتا ہے، عاجز ہوتا ہے ”عَنِ احْتِمَالِ النَّجَاسَةِ“ نجاست کے اٹھانے سے۔ وہ پانی کیا ہوتا ہے؟ کمزور ہوتا ہے نجاست کے اٹھانے سے یعنی اس کے اٹھانے سے عاجز ہوتا ہے یعنی اس کو نہیں اٹھا سکتا، اس کو برداشت نہیں کر سکتا اور نجس ہو جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
82 approved lectures · 17 of 82