Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الْمَاءِ الَّذِي يَجُوزُ بِهِ الْوُضُوءُ وَمَا لَا يَجُوزُ بِهِ، الطَّهَارَةُ مِنَ الْأَحْدَاثِ جَائِزَةٌ بِمَاءِ السَّمَاءِ وَالْأَوْدِيَةِ وَالْعُيُونِ وَالْآبَارِ وَالْبِحَارِ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾، وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ إِلَّا مَا غَيَّرَ لَوْنَهُ أَوْ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ“. بَابُ الْمَاءِ الَّذِي يَجُوزُ بِهِ الْوُضُوءُ، یہ باب ہے اس پانی کے بیان میں جس سے وضو کرنا جائز ہے، وَمَا لَا يَجُوزُ بِهِ اور جس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ تو اس باب میں ان پانیوں کا بیان ہوگا جن سے وضو کرنا جائز ہے، پاکی حاصل کرنا جائز ہے، اور جن سے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔ جی! الطَّهَارَةُ مِنَ الْأَحْدَاثِ جَائِزَةٌ بِمَاءِ السَّمَاءِ، الطَّهَارَةُ مِنَ الْأَحْدَاثِ، پاکی حاصل کرنا مِنَ الْأَحْدَاثِ تمام حدثوں سے، جَائِزَةٌ یہ جائز ہے بِمَاءِ السَّمَاءِ آسمان کے پانی سے۔ بھئی احداث آیا، پاکی حاصل کرنا تمام حدثوں سے۔ آپ نے پڑھا ہے حدث یہ نجاستِ حکمیہ کو کہتے ہیں بھئی۔ نجاستِ حکمیہ کو کہتے ہیں، مثلاً سبیلین سے کوئی نجاست خارج ہوئی تو یہ بھی حدث ہے، بدن سے بدن کے کسی اور حصے سے نجاست یعنی خون یا پیپ وغیرہ خارج ہوئی اور بہنے کے قابل ہوئی تو یہ بھی کیا ہے؟ حدث ہے۔ اسی طرح قے آئے مِلْءُ الْفَمِ ہے تو یہ بھی کیا ہے؟ حدث ہے۔ اسی طرح یہ یہ تو حدثِ اصغر ہے، آپ نے پڑھا ایک حدثِ اکبر ہے کہ جسے جنابت کہتے ہیں، تو ان سب حدثوں سے پاکی حاصل کرنا جَائِزَةٌ یہ جائز ہے بِمَاءِ السَّمَاءِ آسمان کے پانی سے۔ آسمان کے پانی سے مراد بارش کا پانی ہے۔ تو ان سب حدثوں سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے بِمَاءِ السَّمَاءِ آسمان کے پانی سے، وَالْأَوْدِيَةِ اور وادیوں کے پانی سے۔ وادی بھئی دو پہاڑوں کے درمیان کا علاقہ، حصہ جو ہے زمین کا وہ وادی کہلاتا ہے، اور تو ان وادیوں کے اندر بھی جب یہاں پہاڑوں پر بارش ہوتی ہے تو پہاڑوں سے پانی اکٹھا ہو کر نکلتا ہے اور بہت زیادہ مقدار میں ہوتا ہے، اور یہی پانی جگہ جگہ اکٹھا ہو جاتا ہے تالابوں وغیرہ کی شکل میں، تو یہ جو وادیوں کا پانی ہے اس سے بھی طہارت حاصل کرنا جائز۔ اسی طرح وَالْعُيُونِ، أَيْ بِمَاءِ الْعُيُونِ، اور اسی طرح جو چشموں کا پانی ہے۔ عین کس کو کہتے ہیں؟ چشمے کو، اس سے بھی وضو کرنا اور غسل کرنا جائز۔ وَالْآبَارِ اور کنوؤں کے پانی سے بھئی، آبار جمع ہے بئْر کی، کنویں کو کہتے ہیں۔ وَالْبِحَارِ اور سمندر، بحار جمع ہے بَحْر کی، سمندر کا پانی۔ تو ان سب پانیوں سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے، آسمان کا پانی ہو، وادیوں کا پانی ہو، چشموں کا پانی ہو، کنوؤں کا پانی ہو اور سمندروں کا پانی۔ آگے دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ ان سے پاکی حاصل کرنے کی کیا دلیل ہے، ان سے پاک انسان ہو جاتا ہے کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾، اللہ فرماتے ہیں اور ہم نے نازل کیا آسمان سے مَاءً طَهُورًا پاک پانی۔ طہور کہتے ہیں وہ چیز جو خود پاک ہو اور دوسرے کو پاک کرنے والی ہو بھئی، یعنی طاہر بھی ہو اور مطہر بھی ہو۔ تو اللہ فرما رہے ہیں اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل کیا۔ اسی طرح وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَوْلِهِ کا عطف پیچھے جو آیا تھا قَوْلِهِ تَعَالَى، اس پر کیا داخل تھا؟ لام جارہ، تو وہ مجرور تھا، یہ بھی مجرور۔ وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور حضور علیہ السلام کا یہ قول: ”الْمَاءُ طَهُورٌ“ پانی پاک ہے، ”لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“ کوئی چیز اس کو نجس نہیں کرتی، ”إِلَّا مَا غَيَّرَ لَوْنَهُ أَوْ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ“ مگر وہ چیز جو بدل دے اس کے رنگ کو اور ذائقے کو اور بو کو۔ بھئی پانی کے تین اوصاف ہیں: رنگ، بو اور ذائقہ۔ تو اس حدیث سے کیا معلوم ہوا کہ پانی نجس نہیں ہوتا مگر یہ کہ کوئی نجس چیز اس میں ملی اور پانی کے تین اوصاف میں سے کوئی وصف بدل گیا، پانی کا رنگ بدل گیا اس نجاست کی وجہ سے یا اس کی بو بدل گئی یا اس کا ذائقہ بدل گیا، یعنی نجاست کا اثر اس میں دکھائی دینے لگا تو پھر یہ پانی نجس ہو جائے گا، ویسے نجس نہیں ہوگا۔ وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور دوسری حدیث ذکر کر رہے ہیں بطورِ دلیل کے، اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے فِي الْبَحْرِ سمندر کے بارے میں، سمندر کے پانی کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ وَالْحِلُّ مَيْتَتُهُ“ کہ وہ سمندر جو ہے اس کا پانی پاک ہے، وَالْحِلُّ مَيْتَتُهُ اور حلال ہے اس کا مردار، یعنی اس کا مردار حلال ہے مراد مچھلی ہے بھئی، مچھلی کو ذبح نہیں کیا جاتا بھئی، تو میتہ سے یہاں کیا مراد ہے؟ مچھلی مراد ہے عند الاحناف۔ سمندر میں جو چیزیں جو جانور ہیں ان میں سے صرف مچھلی حلال ہے بھئی۔ تو دیکھیے یہ دراصل ایک صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں، بھئی سمندر تو بہت وسیع ہوتا ہے اور زمین کے اکثر حصے پر سمندر ہے تو ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف سمندر پر سفر کرنا ہے، تو ہر طرف پانی ہی پانی سینکڑوں میل تک کوئی خشکی ہوتی نہیں اور پانی ملتا ہی نہیں، اور یہ جو سمندر کا پانی ہے یہ بے انتہا نمکین ہوتا ہے، حد سے زیادہ نمکین ہوتا ہے پینے کے قابل نہیں ہوتا، تو وہ صحابی انہوں نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور ہمارے پاس تھوڑا سا پانی ہوتا ہے، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو ہم پھر پیاسے ہو جائیں گے وہ پانی تو وضو میں ختم ہو جائے گا، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ وَالْحِلُّ مَيْتَتُهُ“ کہ سمندر جو ہے اس کا پانی پاک ہے، یعنی تم اس سے کیا کر سکتے ہو؟ وضو کر سکتے ہو، بلکہ ایک اور مزید فائدہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرما دیا کہ ”وَالْحِلُّ مَيْتَتُهُ“ سمندر کا مردار یعنی مچھلی جو ہے حلال ہے بھئی، تو احناف کے نزدیک میتہ سے یہاں مراد صرف مچھلی ہے۔ یاد رکھیے جو مچھلی ایک خود مر کر پانی پہ آئے، مچھلی پانی میں خود نہیں مرتی، مر کر پانی کے اوپر آ گئی ہے معلوم نہیں کسی بیماری سے مری ہے، اس کا جائز نہیں ہے کھانا، ہاں جو آپ پکڑتے ہیں تو آپ بھی جو ہے اس کو ذبح تو نہیں کرتے، بس نکال لیتے ہیں وہ خود ہی مر جاتی ہے، تو یہ میتہ مردار خود مری ہے لیکن حلال ہے اس کا کھانا۔ ”وَمُطْلَقُ الِاسْمِ يُطْلَقُ عَلَى هَذِهِ الْمِيَاهِ“، تو تین دلیلیں ذکر کر دیں صاحبِ ہدایہ نے، ایک آیت ذکر کی اور دو حدیثیں ذکر کیں۔ آگے فرما رہے ہیں: وَمُطْلَقُ الِاسْمِ يُطْلَقُ عَلَى هَذِهِ الْمِيَاهِ، اور مطلقِ اسم یعنی مطلق پانی کا جو نام ہے لفظِ پانی جو ہے، يُطْلَقُ عَلَى هَذِهِ الْمِيَاهِ اس کا اطلاق ان پانیوں پر ہوتا ہے۔ آیت میں اور احادیث میں مطلق پانی کا ذکر آیا تھا، ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا، کوئی قید ہے پانی کے لفظ کے ساتھ؟ نہیں، تو پانی نازل کیا اور اس کی صفت بیان کی کہ وہ کس قسم کا ہوتا ہے؟ پاک ہوتا ہے۔ تو مطلق پانی کا ذکر آیا اور مطلق پانی کا لفظ انہی پانیوں پر بولا جاتا ہے جو ہم نے متن میں ذکر کر دیے: مَاءُ السَّمَاءِ آسمانوں آسمان یعنی بارش کا پانی، وادیوں کا پانی، چشموں کا پانی، کنوؤں کا پانی، سمندر کا پانی، ان سب کو عام لوگ کیا کہتے ہیں؟ پانی ہی کہتے ہیں، تو ان پر مطلقِ اسم پانی کا بولا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ معلوم ہوا ان سب سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے۔ ”وَلَا يَجُوزُ بِمَا عُصِرَ مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ“، اور جائز نہیں ہے یعنی پاکی حاصل کرنا بِمَا اس چیز کے ساتھ عُصِرَ جو نچوڑی گئی ہو مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ درخت سے اور پھل سے۔ وہ پانی جو نچوڑا گیا ہو درخت اور پھل سے اس سے پاکی حاصل کرنا جائز نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَاءٍ مُطْلَقٍ“ اس لیے کیونکہ وہ ماءِ مطلق نہیں ہے بھئی، کیونکہ وہ ماءِ مطلق نہیں ہے اور ان پر پانی کا لفظ نہیں بولا جاتا۔ عرف کے اندر بھی بھئی کوئی درخت ہے مثلاً اور اس کے بعض اوقات اس کے اندر پانی زیادہ ہوتا ہے تو اس کے پتوں یا اس کی شاخوں وغیرہ کو نچوڑ کر پانی نکال لیا گیا، یا اسی طرح پھلوں میں بعضوں میں رس زیادہ ہے تو اس کو ان کو نچوڑ کر ان سے رس نکال لیا گیا، تو ان سے وضو کرنا اور پاکی حاصل کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان پر پانی کا لفظ نہیں بولا جاتا۔ ان سے جو چیز نچوڑی گئی ہے اس کو پانی کوئی نہیں کہتا، رس وغیرہ یا کچھ تو کہہ سکتے ہیں لیکن پانی؟ پانی عرف میں اس پر پانی کا لفظ نہیں بولا جاتا، تو یہ ماءِ مطلق ہیں ہی نہیں۔ ”وَالْحُكْمُ عِنْدَ فَقْدِهِ مَنْقُولٌ إِلَى التَّيَمُّمِ“، اور حکم جو ہے یعنی پاک کرنے کا حکم عِنْدَ فَقْدِهِ، فقد کا معنی ہے نہ ہونا بھئی، کسی چیز کا نہ ہونا، وَالْحُكْمُ اور پاکی کا جو حکم ہے عِنْدَ فَقْدِهِ، ہا ضمیر راجع ہے ماءِ مطلق کو، ماءِ مطلق کے نہ ہوتے ہوئے مَنْقُولٌ إِلَى التَّيَمُّمِ وہ نقل کیا گیا ہے کس کی طرف؟ تیمم، وہ منتقل کیا گیا ہے تیمم کی طرف بھئی۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا﴾ پس تم پانی نہ پاؤ تو کیا کر لو؟ تیمم کر لو۔ جب تم پانی نہ پاؤ، دیکھا یہاں کیا لفظ آیا؟ پانی، مطلق پانی کا ذکر کہ مطلق ماء نہ ملے تو کیا کر لو؟ تیمم کر لو۔ تو یہ جو چیزوں سے پانی نچوڑا گیا ہے یہ تو ماءِ مطلق ہی نہیں ہے، اور ماءِ مطلق نہیں یہ تو رس وغیرہ ہے، ماءِ مطلق نہیں۔ اور جب ماءِ مطلق موجود نہ ہو تو پھر شریعت نے کیا حکم دیا ہے کہ کیا کرنا چاہیے؟ پاکی حاصل کرنے کے لیے تیمم کرنا چاہیے، تو ماءِ مطلق کے معدوم ہوتے وقت اس کے نہ ہوتے وقت پاکی کا حکم کس طرف منتقل ہو جاتا ہے؟ تیمم کی طرف، تو لہٰذا جب کسی کے پاس مطلق پانی نہیں ہے اور یہ درخت اور پھلوں سے نچوڑا ہوا رس موجود ہے تو اب اس سے وضو نہیں کیا جائے گا بلکہ ماءِ مطلق نہیں ہے تو حکم کس طرف منتقل ہو جائے گا؟ تو تیمم کیا جائے گا بھئی۔ ”وَالْوَظِيفَةُ فِي هَذِهِ الْأَعْضَاءِ تَعَبُّدِيَّةٌ فَلَا تَتَعَدَّى إِلَى غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ“، اور وظیفہ یعنی دھونے کا جو عمل ہے فِي هَذِهِ الْأَعْضَاءِ ان اعضاء کے اندر تَعَبُّدِيَّةٌ وہ کیا ہے؟ تعبدی ہے۔ بھئی وضو کرنے کا حکم دیا گیا، اب یہ یاد رکھیے وضو کا جو حکم دیا گیا یہ خلافِ قیاس ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو جس مقام پر نجاست لگی تھی، جس مقام سے نجاست بدن سے نکلی تھی صرف اس مقام کو دھونا چاہیے لیکن شریعت نے کس چیز کا حکم دیا؟ وضو کرنے کا حکم دیا کہ وضو کر لو، چہرے کو دھو لو، ہاتھوں کو دھو لو، پاؤں کو دھو لو اور سر کا مسح کر لو۔ تو یہ جو حکم دیا گیا یہ عقل میں آنے والا نہیں، اس کی ہمیں علت اور سبب ہماری عقل میں ہمیں اس کی علت سمجھ میں نہیں آتی بھئی، تو یہ جو وضو کا حکم دیا گیا یہ امرِ تعبدی ہے، یہ کیا ہے؟ یہ بطورِ عبادت کے اس کا حکم دیا گیا ہے، اس کی علت اور وجہ ہماری عقل میں نہیں آتی بھئی۔ عقل تو کیا کہتی ہے؟ صرف اس مقام کو صاف کرنا چاہیے جہاں سے نجاست خارج ہوئی تھی اور نجاست کو ختم کر دینا چاہیے، لیکن ان اعضاء کو دھونے کا حکم دیا گیا حالانکہ ان پر تو کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی، لیکن پھر بھی دھونے کا حکم دیا جا رہا ہے اور کیوں دیا جا رہا ہے؟ وجہ ہماری عقل میں نہیں آتی۔ تو یہ وضو کا حکم کیا ہوا؟ خلافِ قیاس ہوا، امرِ تعبدی ہوا یعنی بطورِ عبادت کے اس کا حکم دیا گیا۔ اور آگے لفظ آیا منصوص علیہ کا بھئی، إِلَى غَيْرِ الْمَنْصُوصِ، منصوص علیہ جس کے بارے میں نص لائی گئی ہے، جس پر نص آئی ہے بھئی، اور وضو کے بارے میں نص کیا آئی ہے؟ وضو کس سے کیا جاتا ہے؟ ماءِ مطلق سے بھئی، پانی سے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے بھئی پانی کے ساتھ۔ اب یہاں سے ”وَالْوَظِيفَةُ فِي هَذِهِ الْأَعْضَاءِ“، یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا ایک اشکال کا جواب ذکر کر رہے ہیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ یہ جو درختوں اور پھلوں سے نچوڑا ہوا پانی ہے یہ اگرچہ ماءِ مطلق نہیں یہ بات تو ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ ماءِ مطلق کے معنی میں ہے، یہ اسی کی طرح ہے، چنانچہ اسی لیے شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے نچوڑے ہوئے پانی کے ذریعے یعنی ان کے رس کے ذریعے اگر کوئی نجاستِ حقیقیہ کو دھوئے تو وہ نجاست دھل گئی تو وہ جگہ پاک ہو جائے گی، وہ کپڑے وغیرہ پر۔ اچھا یہاں شیخین کا لفظ آیا بھئی، شیخین، طرفین، صاحبین، آپ کو علم تو ہو گا لیکن پھر آپ کے فائدے کے لیے ذکر کر دیتا ہوں شاید کسی کے ذہن میں نہ ہو بھئی۔ بھئی یاد رکھیے! امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ یہ استاد ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی اور امام محمد رحمہ اللہ کے بھی، اور امام محمد رحمہ اللہ یہ شاگرد ہیں دونوں کے یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بھی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی۔ تو امام صاحب دونوں کے استاد اور امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے شاگرد بھئی شاگرد، تو لہٰذا دونوں شاگرد یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں ان کو کہتے ہیں صاحبین، کیا کہا جاتا ہے؟ صاحب، صاحب کا معنی ساتھی، یعنی یہ ساتھی ہیں کس چیز میں؟ شاگرد ہونے میں امام صاحب کے بھئی۔ اور امام محمد دونوں کے شاگرد ہیں یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی ان کے استاد اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی ان کے استاد، تو یہ دونوں استاد ہیں تو ان کو شیخین کہا جاتا ہے، شیخ لفظ کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ استاد کے لیے، تو یہ شیخین ہیں یعنی یہ دونوں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہ استاد ہیں ان کے، تو شیخین کا لفظ آئے تو یہ دونوں مراد ہوتے ہیں۔ اور طرفین آئے تو اس سے مراد امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ ہوتے ہیں، طرفین۔ کیوں؟ وجہ یہ بھئی: بھئی دیکھیے! امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں کے استاد اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک کے استاد، امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے شاگرد اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک کے شاگرد، تو جو دونوں کے استاد ہیں وہ ہوئی طرفِ اعلیٰ، اعلیٰ جانب ہوئی، تو ان میں سب سے اعلیٰ کون؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، وہ طرفِ اعلیٰ میں ہیں اوپر کی جانب میں، اور امام محمد رحمہ اللہ طرفِ ادنیٰ میں ہیں نیچے کی طرف کہ وہ دونوں کے شاگرد ہیں، تو دونوں جانبیں طرفِ اعلیٰ اور طرفِ ادنیٰ دونوں طرف آ گئیں تو یہ کیا ہوا؟ طرفین، دونوں طرفین بھئی، ان سے مراد کون ہوتے ہیں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ۔ بات یہ چل رہی تھی کہ صاحبِ ہدایہ یہاں سے ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا درخت اور پھل سے نچوڑے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ ماءِ مطلق نہیں، تو ایک معترض اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگرچہ یہ دونوں ماءِ مطلق نہیں جو درخت اور پھل سے نچوڑا گیا ہے لیکن یہ اس کے معنی میں ہیں، یہ اسی جیسے ہیں، اسی لیے تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کہیں نجاستِ حقیقیہ لگی ہو مثلاً کپڑے وغیرہ یا کسی چیز پر، نجاستِ حقیقیہ جس کا ظاہری جسم دکھائی دے، تو کسی چیز پر اگر نجاستِ حقیقیہ لگی ہو اور اس کو اس درخت یا پھل سے نچوڑے ہوئے پانی سے دھو لیا جائے اور وہ نجاست وہاں سے دھل جائے، ختم ہو جائے، اس کا اثر نہ رہے تو وہ چیز پاک ہو گئی، وہ چیز کیا ہو گئی؟ پاک ہو گئی، تو دیکھیے یہ درخت اور پھل سے نچوڑے ہوئے پانی سے انہوں نے پاک ہونے کا حکم لگا دیا۔ معلوم ہوا اس کے ذریعے نجاستِ حقیقیہ سے طہارت حاصل کرنا جائز، جب نجاستِ حقیقیہ سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے تو نجاستِ حکمیہ کے اندر بھی اس سے طہارت حاصل کرنا جائز ہونا چاہیے بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ حدث لاحق ہوا ہے، بے وضو ہوا ہے، اب بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ پر کوئی نجاستِ حقیقیہ تو نہیں ہے لیکن حکماً نجاست آ چکی ہے، یہ نجاستِ حکمیہ ہے، تو جب نجاستِ حقیقیہ کو درخت اور پھل سے نچوڑے ہوئے پانی سے زائل کرنا جائز تو اس نجاستِ حکمیہ کو بھی اس درخت اور پھل سے نچوڑے ہوئے پانی کے ساتھ زائل کرنا جائز ہونا چاہیے، بعبارتِ دیگر ان پانیوں سے یہ جو نچوڑے گئے ہیں ان سے وضو وغیرہ جائز ہونا چاہیے بھئی، ان سے غسل جائز ہونا چاہیے بھئی، اعتراض یہ ہوا۔ تو جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی دیکھیے! یہ حکم قیاس کے ذریعے ثابت کر رہے ہیں آپ، کس کے ذریعے؟ قیاس کے ذریعے، اور قیاس وہاں کیا جاتا ہے جہاں جو چیز قیاس کے مطابق ہو بھئی، خلافِ عقل نہ ہو، خلافِ قیاس نہ ہو، تو نجاستِ حقیقیہ کے اندر وہاں پر پانی سے دھوتے تھے تو پانی سے شریعت نے کیا حکم دیا؟ پانی سے دھو، جب اس کا اثر ختم ہو جائے تو وہ کپڑا وغیرہ پاک ہو گیا، تو یہ بات عقل میں آنے والی ہے۔ عقل بھی کہتی ہے کہ بھئی نجاست اوپر سے ختم ہو گئی، دھل گئی، اثر ختم ہوا اب اس کو کیا ہونا چاہیے؟ پاک ہو جانا چاہیے، تو وہ چیز چونکہ عقل کے مطابق تھی نجاستِ حقیقیہ کو پانی سے دور کرنا اسی لیے ہم نے اس میں ماءِ مطلق پر قیاس کیا اس نچوڑے ہوئے پانی کو، ان سے بھی اگر کسی نجاستِ حقیقیہ کو دھویا جائے اور وہ زائل ہو جائے، اس کا اثر وغیرہ ختم ہو جائے تو اس پر کیا حکم لگایا جائے گا؟ پاک ہونے کا حکم لگایا جائے گا بھئی۔ تو وہاں پر اصل کے اندر وہ وہ عقل کے مطابق تھا حکم، تو لہٰذا اس پر دوسری چیز کو قیاس کیا گیا اور وہی حکم وہاں بھی لگا دیا گیا۔ پانی سے وہ نجاستِ حقیقیہ زائل ہو جاتی تھی تو یہ اسی طرح کس میں نچوڑے ہوئے پانی سے بھی جب وہ چیز زائل ہو جائے گی تو وہی طہارت والا حکم لگا دیا جائے گا جیسے پانی سے دھونے کی صورت میں لگاتے تھے بھئی۔ تو وہ حکم قیاس کے مطابق تھا خلافِ قیاس نہیں تھا، اس لیے اس پر قیاس وہاں قیاس کے ذریعے دوسری چیز کے لیے بھی وہی حکم ثابت ہو گیا۔ جبکہ وضو جو ہے یہ تو خلافِ قیاس ہے بھئی، اس کی تو ہمیں وجہ اور علت ہماری عقل میں نہیں آتی، ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ بدن پر تو بظاہر کوئی نجاست نہیں لیکن شریعت کہہ رہی ہے بدن سے نجاست خارج ہوئی ہے تو اب اپنے ہاتھوں کو بھی دھو، چہرے کو بھی دھو، پاؤں کو بھی دھو اور سر کا بھی مسح کرو، تو یہ حکم تو خلافِ قیاس ہے، خلاف، اور جو چیز خلافِ قیاس ہو اس پر دوسری چیز کو قیاس نہیں، تو وضو خود ہے خلافِ قیاس اور تو یہ اسی چیز کے ذریعے ہوگا جس چیز سے جو اس کے بارے میں نص آئی ہے بھئی۔ اور نص میں وضو کے بارے میں کیا آیا ہے؟ کس چیز سے وضو کیا جائے گا؟ ماءِ مطلق سے کیا جائے گا، معلوم ہوا یہاں ماءِ مطلق ہی سے طہارت حاصل ہو گی، اور نچوڑے ہوئے پانی کو ماءِ مطلق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وضو خود کیا ہے؟ خلافِ قیاس ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو وہاں منصوص علیہ ماءِ مطلق ہے تو غیرِ منصوص علیہ نچوڑا ہوا پانی اس کو اس پر اس میں یہ حکم نہیں ہو گا، طہارت نہیں آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوَظِيفَةُ فِي هَذِهِ الْأَعْضَاءِ تَعَبُّدِيَّةٌ“ اور وظیفہ، وظیفہ کا کیا معنی؟ عمل، مراد کون سا عمل ہے یہاں؟ دھونے کا عمل، اور دھونے کا جو عمل ہے فِي هَذِهِ الْأَعْضَاءِ ان اعضاء میں تَعَبُّدِيَّةٌ یہ تعبدی ہے، ”فَلَا تَتَعَدَّى إِلَى غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ“ لہٰذا یہ حکم جو ہے متعدی نہیں ہو گا غیرِ منصوص علیہ کی طرف یعنی نچوڑے ہوئے پانی کی طرف۔ منصوص علیہ میں تو ہے ماءِ مطلق ہے، نص میں کس کا ذکر آیا ہے؟ تو منصوص علیہ وہ تو پاکی کا فائدہ دے گا لیکن غیرِ منصوص علیہ کی طرف یہ حکم متعدی نہیں ہو گا کیونکہ یہ حکم وضو کا یہ خلافِ قیاس ہے۔ ”أَمَّا الْمَاءُ الَّذِي يَقْطُرُ مِنَ الْكَرْمِ فَيَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ“، کَرْم بسکون الراء بھئی، یہ انگور کی بیل کو بھی کہتے ہیں اور انگور کو بھی کہتے ہیں بھئی، تو یہاں انگور کی بیل مراد ہے۔ بھئی یاد رکھیے یہ انگور کا درخت وغیرہ نہیں ہوتا، اس کی بیل ہوتی ہے بیل۔ جہاں اس کے گھنے باغات ہیں بالخصوص جیسے افغانستان کا جو دوسری جانب کا علاقہ ہے روس کی طرف کا بھئی، اس علاقے میں انگور کے بڑے گھنے باغات ہیں، اور اتنے بڑے بڑے باغات کہ کہتے ہیں اس میں اگر کوئی انسان داخل ہو جائے تو کئی آدمی مل کر بھی اس کو تلاش نہ کر سکیں بھئی۔ تو ان کی بیل زمین پر پھیلی ہوتی ہے لیکن پھر باغات وغیرہ میں کیا کیا جاتا ہے؟ دیواریں وغیرہ بنا کر اس پر پھیلایا جاتا ہے یا لکڑی وغیرہ کھڑی کر کے ان پر پھیلایا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ جو انگور کی بیل ہے ان سے پانی ٹپکتا ہے، پانی ٹپکتا ہے اور پھر اس کے نیچے اتنا پانی ٹپکتا ہے کہ اگر کوئی برتن وغیرہ رکھ دیا جائے تو بڑی جلدی وہ برتن بھر جاتا ہے اور بالکل صاف شفاف پانی ہوتا ہے بھئی، صاف شفاف۔ تو یہ جو انگور کی بیل سے پانی ٹپکتا ہے صاف شفاف قسم کا کیا اس سے وضو کیا جائے گا کرنا جائز ہے یا کرنا جائز نہیں؟ اب وہ ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْمَاءُ الَّذِي يَقْطُرُ مِنَ الْكَرْمِ“ باقی وہ پانی جو ٹپکتا ہے انگور کی بیل سے، ”فَيَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ“ تو جائز ہے وضو کرنا اس کے ساتھ، ”لِأَنَّهُ مَاءٌ خَرَجَ مِنْ غَيْرِ عِلَاجٍ“ اس لیے کیونکہ وہ ایسا پانی ہے، دیکھو ماء نکرہ آیا، خرج اس کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتا ہے اس کے لیے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی۔ ”لِأَنَّهُ مَاءٌ خَرَجَ مِنْ غَيْرِ عِلَاجٍ“ اس لیے کیونکہ وہ ایسا پانی ہے جو نکلا ہے بغیر کسی عمل کے۔ علاج کا کیا معنی؟ عمل، یعنی کسی کرنے والے نے ان کو نچوڑا وغیرہ نہیں، کسی آپ کے کسی عمل کا اس میں دخل نہیں ہے، بغیر کسی عمل کے یہ پانی خود نکلا ہے اس لیے اس کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے، لیکن اگر آپ کا عمل آتا ہے، آپ نچوڑ کر درخت وغیرہ سے نکالتے ہیں تو پھر اس صورت میں اس سے وضو جائز نہیں۔ ”ذَكَرَهُ فِي جَوَامِعِ أَبِي يُوسُفَ“ ذکر کیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس مسئلے کو اپنی کتاب جوامعِ ابی یوسف میں، ”وَفِي الْكِتَابِ إِشَارَةٌ إِلَيْهِ حَيْثُ شَرَطَ الِاعْتِصَارَ“ اور کتاب کے اندر، کون سی کتاب؟ مختصر القدوری، قدوری میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے نچوڑنے کی شرط لگائی ہے۔ دیکھیے اوپر متن آیا تھا یہ قدوری کا ہے: ”بِمَا عُصِرَ“ جس کو نچوڑا گیا ہو، تو دیکھیے انہوں نے نچوڑنے کی قید لگائی ہے، معلوم ہوا جس کو نچوڑا گیا ہو اس کے ساتھ وضو جائز نہیں، اور جو بغیر نچوڑے بغیر کسی عمل کے خود نکلا ہو اس سے وضو جائز ہے بھئی۔ ”وَلَا يَجُوزُ بِمَاءٍ غَلَبَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ فَأَخْرَجَهُ عَنْ طَبْعِ الْمَاءِ“، اور جائز نہیں ہے پاکی حاصل کرنا بِمَاءٍ ایسے پانی کے ساتھ، غَلَبَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ کہ اس کا غیر اس پر غالب آ جائے، پانی کے علاوہ دوسری چیز پانی پر غالب آ جائے، اس سے پاکی حاصل کرنا جائز نہیں۔ کب؟ غیر دیکھیے دوبارہ ترجمہ: ”وَلَا يَجُوزُ بِمَاءٍ غَلَبَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ“ اور جائز نہیں ہے ایسے پانی کے ساتھ کہ غالب آ جائے اس پر اس کے علاوہ کوئی چیز، ”فَأَخْرَجَهُ عَنْ طَبْعِ الْمَاءِ“ تو اس غیر نے اس کو نکال دیا پانی کی طبیعت سے۔ پانی کو پانی کی طبیعت سے نِکا پانی کی طبیعت ہی بدل ڈالی، تو پھر اس صورت میں اس سے وضو کرنا غسل کرنا جائز نہیں۔ بھئی پانی کی کیا طبیعت ہے؟ پانی پتلا ہوتا ہے، پتلا ہے پانی کہ گاڑھا ہوتا ہے؟ پانی پتلا ہوتا ہے اور بہنے والا ہوتا ہے، نیز اسی طرح یہ چیزوں کو صاف کرنے والا ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ پانی کی طبیعت ہے بھئی۔ تو پانی کی طبیعت پتلا ہوتا ہے، بہنے والا ہوتا ہے، چیزوں کو صاف کرنے والا ہے بھئی۔ تو اب اگر کوئی چیز پانی کے ساتھ مل گئی اور اس پر غالب آ گئی اور اس چیز نے پانی کو پانی کی طبیعت سے نکال دیا یعنی وہ اب پتلا نہ رہا گاڑھا ہو گیا، گاڑھا ہو گیا، اب چیز اس سے صاف نہیں ہوتی بھئی، اس طرح پانی کی طبیعت سے نکال دیا، ان سے وضو کرنا جائز نہیں، غسل کرنا جائز نہیں۔ ”كَالْأَشْرِبَةِ“ جیسے کہ شربت ہیں بھئی، اشربہ جمع ہے شراب کی اور شراب عربی زبان میں شربت کو کہتے ہیں بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ شربت کو کہتے ہیں، تو چنانچہ آپ عرب میں جائیں گے تو وہاں شربت وغیرہ ان پر لکھا ہو گا مثلاً شراب الفواکہ وغیرہ، تو یہ شربت کو کہتے ہیں، اور اردو میں جسے آپ شراب کہتے ہیں اسے عربی میں خمر کہتے ہیں خمر بھئی، تو یہاں شربت مراد ہیں۔ ”كَالْأَشْرِبَةِ“ جیسے کہ شربت ہیں بھئی، ”وَالْخَلِّ“ اور سرکہ ہے، ”وَمَاءِ الْوَرْدِ“ اور گلاب کا پانی، ورد کہتے ہیں گلاب کو، گلاب کا پانی یعنی عرقِ گلاب بھئی، ”وَمَاءِ الْبَاقِلَّى“ باقلی لام کے شد کے ساتھ پڑھنا بھی صحیح اور تخفیف کے ساتھ باقلا پڑھنا بھی صحیح، اور باقلا لوبئے کو کہتے ہیں، اور لوبئے کا پانی، ”وَالْمَرَقِ“ اور شوربہ، ”وَمَاءِ الزَّرْدَجِ“ اور زردج کا پانی، زردج یہ کوئی پودا ہے کوئی بوٹی ہے جس سے کپڑوں وغیرہ کو رنگنے کا کام لیا جاتا ہے بھئی، جس کو پانی وغیرہ میں ملاتے ہیں اور اس کا کوئی تیز رنگ ہوگا اس کے ذریعے کپڑوں کو رنگا جاتا ہے، تو یہ جو ماءِ زردج ہیں یہ سب بھئی یہ اس کی مثالیں ہیں کہ جس میں پانی میں غیر چیز ملی اور اس اس نے پانی کو پانی کی طبیعت سے ہی نکال دیا، تو اب ان کے ساتھ وضو کرنا اور غسل کرنا، پاکی حاصل کرنا جائز نہیں ہے بھئی، یہ سب مثالیں ہیں اس کی بھئی۔ ”لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى مَاءً مُطْلَقًا“ اس لیے کیونکہ ان کو ماءِ مطلق نہیں کہتے، عرف کے اندر ان کو ماءِ مطلق نہیں، ماء کا پانی کا لفظ ان پر نہیں بولا جاتا بھئی۔ آپ کسی سے پانی منگوائیں اور وہ شوربہ اٹھا کر لے آئے تو آپ کیا کہیں گے، اس نے بات مان لیا یا نہیں مانی بھئی؟ آپ اس کو فوراً کہیں گے بھئی میں نے پانی منگوایا تھا یہ آپ کیا اٹھا کر لے آئے! اسی طرح عرقِ گلاب لے آتا ہے آپ کہیں گے بھئی میں نے تو پانی منگوایا تھا، معلوم ہوا عرف میں اس ان کو پانی نہیں کہا جاتا بھئی، یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى مَاءً مُطْلَقًا“ اس لیے کیونکہ ان کو ماءِ مطلق نہیں کہا جاتا۔ ”وَالْمُرَادُ بِمَاءِ الْبَاقِلَّى مَا تَغَيَّرَ بِالطَّبْخِ“، یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بتلا رہے ہیں کہ اوپر متن میں آیا تھا ماء باقلی بھئی، لوبئے کا پانی، کہتے ہیں ایک صورت یہ ہے کہ لوبئے کو ویسے پانی میں ڈال دیا جائے اور اس کا تھوڑا سا کچھ اثر پھر پانی میں آ جائے گا، وہ مراد نہیں ہے بلکہ لوبئے کو پانی میں ڈالا گیا اور پھر اس کو پکا لیا گیا تو اب تو پورے ہی اجزاء اس کے پانی کے اندر مل جائیں گے بھئی، تو وہ مراد ہے بھئی وہ مراد، اور باقی صرف لوبئے کو ویسے پانی میں ڈالا بغیر پکائے اور پھر اس کا تھوڑا بہت اگر اثر آتا بھی ہے وہ اتنا زیادہ نہیں ہوگا معمولی سا ہوگا، اس کے ساتھ وضو وغیرہ کرنا جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بِمَاءِ الْبَاقِلَّى مَا تَغَيَّرَ بِالطَّبْخِ“ اور مراد ماءِ باقلی سے وہ پانی ہے جو بدل گیا ہو بالطَّبْخِ پکانے کی وجہ سے، ”فَإِنْ تَغَيَّرَ بِدُونِ الطَّبْخِ“ اور اگر وہ بدلا ہو بغیر پکائے ہی یعنی ویسے لوبیا ڈالا کچھ اس کا اثر آ گیا، ”يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ“ اس سے وضو کرنا جائز ہے بھئی جائز، چنانچہ اس کو اس پر پانی کا لفظ بھی بولا جاتا ہے، لوبیا ویسے پانی میں رکھا تھا آپ نکال کر لے آئے تو آپ کا ساتھی آپ کو یہ نہیں کہے گا کہ یہ تو آپ کچھ اور اٹھا کر لے آئے ہیں، آپ صرف اتنا کہیں گے یہ جو جس کے پاس لے کر گئے ہیں یا وہ اتنا کہ بھئی صاف پانی لے کر آتے، کیا کرتے؟ صاف یہ تو صاف نہیں ہے، تو ہے تو معلوم ہوا اس کے نزدیک بھی ہے پانی ہی لیکن صاف نہیں ہے بھئی۔ ”وَيَجُوزُ الطَّهَارَةُ بِمَاءٍ خَالَطَهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ فَغَيَّرَ أَحَدَ أَوْصَافِهِ“، یہاں سے قیمتی ضابطہ ذکر فرما رہے ہیں کہ پانی کے ساتھ اگر کوئی پاک چیز مل جائے، کیا چیز مل جائے؟ پاک، ہاں نجس چیز کی بات نہیں ہو رہی، پاک چیز اگر پانی میں مل گئی اور پانی کے تین اوصاف میں سے ایک وصف بدل گیا تو کوئی حرج نہیں، اس سے وضو کرنا جائز ہے۔ پانی میں کوئی پاک چیز ڈالی اور پانی کا رنگ بدلا یا بو کچھ بدل گئی یا کچھ ذائقہ اس میں آ گیا، ایک وصف بدلا ہے، دو یا تین وصف نہیں بدلے، تو صرف جب ایک وصف بدلا ہے اور پاک چیز کی وجہ سے بدلا ہے تو کوئی حرج نہیں، یہ اب بھی کیا ہے؟ ماءِ مطلق ہی ہے، اس سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے۔ کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ الطَّهَارَةُ بِمَاءٍ خَالَطَهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ“ دیکھیے جگہ جگہ یہ ترکیب آتی ہے جو میں نے ذکر کیا، نکرہ کے بعد کیا آ جائے؟ فعل آ جائے تو وہاں ایسا اور ایسی کا لفظ موصوف سے پہلے لے آیا کریں، بہترین ترجمہ ہو جاتا ہے۔ ”وَيَجُوزُ الطَّهَارَةُ“ اور پاکی حاصل کرنا جائز ہے ”بِمَاءٍ“ ایسے پانی سے ”خَالَطَهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ“ کہ مل گئی ہو اس کے ساتھ کوئی پاک چیز ”فَغَيَّرَ أَحَدَ أَوْصَافِهِ“ پس اس پاک چیز نے بدل دیا اس پانی کے اوصاف میں سے ایک کسی ایک وصف کو، ”كَمَاءِ الْمَدِّ“ جیسے کہ سیلاب کا پانی ہے بھئی۔ مد کس کو کہتے ہیں؟ سیلاب کو۔ سیلاب کو، بھئی۔ تو جیسے سیلاب کا پانی ہے، بھئی، سیلاب کا پانی آپ دیکھیں اس میں اگرچہ مٹی وغیرہ ملی ہو گی، تنکے وغیرہ ہوں گے لیکن کیا چیز ملی ہے؟ مٹی ملی ہے، پاک چیز ملی ہے اور ایک وصف بدلا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو اور ویسے بھی یہ مٹی وغیرہ یہ تو پانی میں مل جائے، یہ ویسے بھی معاف ہے کیونکہ ان سے بچنا تو ممکن ہی نہیں ہے، بھئی۔ ان سے بچنا تو مم... آپ اپنے ہاں نہ دیکھیں، صاف ستھرا پانی نلکوں میں آتا ہے، بھئی، جہاں ان علاقے والوں سے پوچھیں جہاں پانی کی قلت ہوتی ہے، بھئی۔ تو یہ مٹی وغیرہ تو پانی میں ملی ہوئی ہوتی ہے، بھئی۔ ”كَمَاءِ الْمَدِّ“، جیسے سیلاب کا پانی۔ ”وَالْمَاءُ الَّذِي اخْتَلَطَ بِهِ الزَّعْفَرَانُ أَوِ الصَّابُونُ أَوِ الْأُشْنَانُ“، اور وہ پانی کہ مل گئی ہو اس کے ساتھ، مل گیا ہو زعفران، ”أَوِ الصَّابُونُ“ یا صابن، ”أَوِ الْأُشْنَانُ“ یا اشنان۔ بھئی، زعفران یہ ایک زرد رنگ کے، سرخی مائل گھاس کا نام ہے، گھاس کا، بھئی۔ اور آپ نے دیکھی ہی ہو گی، بھئی، یہ کھانوں وغیرہ میں بھی استعمال ہوتی ہے اور طبیب وغیرہ دوائیوں میں بھی اس کو استعمال کرتے ہیں، بھئی، زعفران۔ تو یہ زرد رنگ کی گھاس ہے اور اس کا رنگ اترتا ہے، بھئی۔ پانی وغیرہ میں ڈالیں گے تو اس کا رنگ اترے گا، پانی کا رنگ کچھ زرد سا ہو جائے گا۔ صابن تو آپ جانتے ہیں، بھئی، صابن۔ ”وَالْأُشْنَانُ“ اور اشنان، یہ بھی ایک بوٹی ہے، ایک پودا ہے جس سے صابن جیسا کام لیا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں یہ ہوتا ہے تو اس سے صابن کی طرح چیزوں کو دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بھئی۔ جیسے صابن سے چیز اچھی طرح صاف ہو جاتی ہے، اسی طرح اشنان بوٹی جو ہے اس کے ذریعے بھی چیز اچھی طرح دھل جاتی ہے۔ تو دیکھیے، اب وہ پانی جس کے ساتھ زعفران مل جائے یا صابن مل جائے اور یا اشنان مل جائے۔ اب یہ چیزیں ملیں اور پانی کا ایک وصف بدلا تو بھی یہ مَاءِ مُطْلَقْ ہی ہے اور اس کے ساتھ وضو وغیرہ کرنا جائز ہے، بھئی۔ یعنی یہ قلیل سے یہ مل گئے، قلیل سے۔ آگے بتلائیں گے، کثیر کی بات نہیں ہو رہی، زیادہ مل جائے وہ تو پانی پر غالب آ جائیں گے، بھئی، تو اس صورت میں پھر وضو وغیرہ جائز نہیں۔ ”قَالَ: أَجْرَى فِي الْمُخْتَصَرِ مَاءَ الزَّرْدَجِ مَجْرَى الْمَرَقِ“۔ ”قَالَ“، یاد رکھیے یہ جو ”قَالَ“ آیا، اس سے مراد صاحبِ ہدایہ خود ہیں۔ ”قَالَ“ سے کون مراد ہیں؟ صاحبِ ہدایہ خود ہیں۔ اور صاحبِ ہدایہ جہاں اپنی بات کرتے ہیں، کوئی بات اپنی طرف سے ذکر فرماتے ہیں تو وہ ”أَقُولُ“ نہیں کہتے کہ میں کہتا ہوں، بلکہ ”قَالَ“ کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ اس لیے کیونکہ ”أَقُولُ“ میں کہتا ہوں، اس میں انانیت ہے۔ کیا چیز ہے؟ انانیت، کچھ بڑائی کا شائبہ اس میں معلوم ہوتا ہے۔ اور تو وہ عاجزی کے طور پر ”أَقُولُ“ نہیں کہتے بلکہ کیا فرماتے ہیں؟ ”قَالَ“، بھئی۔ اور علامہ ابو السعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ صرف ”قَالَ“ نہیں فرماتے تھے، وہ جہاں بھی آتا تھا وہ لکھتے تھے ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“۔ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے، کمزور بندہ، ضعیف بندہ جو ہے وہ کمزور اور ضعیف بندہ یوں کہتا ہے۔ لیکن پھر بعد میں ان کے شاگرد اور شاگردوں کے جو شاگرد تھے، پہلے کتابیں ہاتھ سے نقل ہوتی تھیں تو وہ انہوں نے جب ان کو نقل کیا تو ”الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ کی جگہ اس کو بدل دیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، ”قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ سے تو استاد کے لیے انہوں نے رضی اللہ کا لفظ شامل کر دیا۔ تو ”قَالَ“، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”أَجْرَى فِي الْمُخْتَصَرِ مَاءَ الزَّرْدَجِ مَجْرَى الْمَرَقِ“، بھئی، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ اوپر متن میں دیکھیے مَاءِ زَرْدَجْ کا ذکر آیا۔ زردج میں نے بتایا بوٹی ہے جس سے کپڑوں وغیرہ کو رنگا جاتا۔ تو مَاءِ زَرْدَجْ کا ذکر آیا، اور کون سے جگہ ذکر آیا؟ کس کی مثالوں میں؟ جن سے وضو کرنا جائز ہے یا جائز نہیں ہے؟ جن سے وضو کرنا جائز نہیں ہے اس کے اندر مَاءِ زَرْدَجْ کو ذکر فرمایا، اس کے قائم مقام کیا، بھئی۔ لیکن فرماتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مَاءِ زَرْدَجْ یہ مَاءِ زَعْفَرَانْ کے درجے میں ہے، اور مَاءِ زَعْفَرَانْ کا ذکر تو کہاں آیا تھا؟ جس سے وضو کرنا جائز ہے، بھئی۔ تو لہٰذا فرماتے ہیں یہی صحیح قول ہے، مَاءِ زَرْدَجْ اس کا حکم مَاءِ زَعْفَرَانْ والا ہے، مرق وغیرہ والا حکم نہیں ہے، بھئی، اس سے وضو کرنا جائز ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”أَجْرَى فِي الْمُخْتَصَرِ مَاءَ الزَّرْدَجِ مَجْرَى الْمَرَقِ“، قائم کیا مختصر میں یعنی قدوری میں مَاءِ زَرْدَجْ کو ”مَجْرَى الْمَرَقِ“، شوربے کے مقام میں۔ صاحبِ قدوری نے مختصر میں کیا کیا؟ مَاءِ زَرْدَجْ کو قائم مقام کیا مرق کے، شوربے کے۔ ”أَجْرَى مَجْرَى الْمَرَقِ“ کا کیا معنی؟ ”أَجْرَى مَجْرَى الْمَرَقِ“، شوربے کے قائم مقام کیا، بھئی، شوربے کے قائم۔ تو کہتے ہیں ”أَجْرَى فِي الْمُخْتَصَرِ مَاءَ الزَّرْدَجِ مَجْرَى الْمَرَقِ“ کہ صاحبِ قدوری نے مختصر کے اندر مَاءِ زَرْدَجْ کو جو ہے قائم مقام کیا ہے شوربے کے، یعنی یہ فرمایا کہ اس سے وضو جائز نہیں۔ ”وَالْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ مَاءِ الزَّعْفَرَانِ“، اور روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے کہ یہ مَاءِ زَعْفَرَانْ کے درجے میں ہے۔ ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“، اور یہی قول صحیح ہے کہ یہ مَاءِ زَعْفَرَانْ کے درجے میں ہے، بھئی، مَاءِ زَعْفَرَانْ۔ ”كَذَا اخْتَارَهُ النَّاطِفِيُّ وَالْإِمَامُ السَّرَخْسِيُّ“، اور اسی طرح اسی کو اختیار کیا ہے، پسند فرمایا ہے، کس نے؟ ناطفی رحمہ اللہ نے، یہ بھی بڑے فقیہ گزرے۔ انہوں نے بھی اس کو اختیار کیا ہے، اسی کو پسند کیا ہے، اور امام سرخسی رحمہ اللہ نے بھی اس کو پسند کیا ہے۔ تو یہی قول صحیح ہے۔ تو یہاں پر امام ناطفی اور امام سرخسی کا ذکر آیا، بھئی۔ یاد رکھیے، امام ناطفی یہ بھی بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں فقہائے احناف میں سے اور ان کا نام تھا ابو العباس احمد ابن محمد، بھئی۔ ابو العباس احمد ابن محمد اور یہ شاگرد ہیں ابو عبد اللہ جرجانی کے، بھئی۔ ابو عبد اللہ جرجانی کے شاگرد ہیں اور ان کی وفات ہوئی ہے چار سو چھیالیس ہجری میں، چار سو چھیالیس ہجری میں۔ ”يَرْحَمُكَ اللهُ“۔ تو چار سو چھیالیس ہجری میں ان کی وفات ہوئی ہے، بھئی، یہ امام ناطفی اور ان کے مزید احوال عام کتابوں میں نہیں ملتے، بھئی۔ دوسرا ذکر آیا امام سرخسی کا۔ دوسرا ذکر کس کا آیا؟ ”يَرْحَمُكَ اللهُ“۔ دوسرا ذکر آیا امام سرخسی کا۔ یاد رکھنا اس لفظ کا تلفظ، بھئی، سین کے ساتھ ساتھ را پر بھی فتحہ ہے اور خا ساکن ہے: سَرَخْسِی، سَرَخْسِی، امام سرخسی، بھئی۔ امام سرخسی جو ہیں یہ بہت بڑے بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں، بھئی، اور فقہائے احناف میں بڑا اونچا مقام ہے ان کا، بھئی۔ ان کا نام ابو بکر محمد ابن احمد ہے، بھئی، ابو بکر محمد ابن احمد، بھئی۔ اور ان کی وفات ہوئی ہے چار سو تراسی ہجری میں، چار آٹھ تین، چار سو تراسی ہجری میں۔ یہ سرخس خراسان کا ایک شہر تھا سرخس، اس کے رہنے والے تھے، اسی نسبت سے سرخسی کہلاتے ہیں۔ اور آپ یہ شاگرد ہیں شمس الائمہ امام حلوانی کے۔ یہ کس کے شاگرد ہیں؟ شمس الائمہ امام حلوانی کے شاگرد ہیں اور جیسے استاد کا لقب شمس الائمہ تھا، اسی طرح آپ کو بھی اللہ نے اتنا اونچا مقام نصیب فرمایا کہ آپ بھی شمس الائمہ ہی کے لقب سے جانے جاتے تھے، بھئی۔ آپ کو بھی شمس الائمہ کہا جاتا تھا۔ اور ان پر اللہ کی طرف سے بڑی آزمائشیں بھی آئیں لیکن بڑی خندہ پیشانی سے انہوں نے ان کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے ایک فتویٰ دیا تھا خاقان کے خلاف، بھئی، جو ترکی کا بادشاہ تھا۔ خاقان کے خلاف کوئی فتویٰ دیا، بھئی، چنانچہ اس بادشاہ نے ان کو جیل میں ڈال دیا اور پندرہ سال تک یہ جیل میں رہے، بھئی، پندرہ سال تک۔ اور جیل بھی ایسی جیل نہیں جیسی آج کل کی ہے، بلکہ ایک گہرے کنوئیں میں ان کو قید کروا دیا، بھئی۔ اور ان کی ہمت دیکھیے اور ان کے علم کا اندازہ لگائیے، بھئی، یہ پندرہ سال تک اس گہرے کنوئیں کے اندر قید رہے لیکن علم کے چاہنے والے، علم کے طلب کرنے والے آپ جیسے طلبہ ان کے پاس پھر بھی پہنچتے رہے۔ طلبہ آتے، کنوئیں کے پاس جمع ہو جاتے اور یہ کنوئیں کے اندر سے ان کو درس دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی طرح درس دیتے ہوئے انہوں نے مشہور کتاب جو ہے مبسوطِ سرخسی، مبسوطِ سرخسی انہوں نے جیل کے اندر بیٹھے ہوئے، کنوئیں کے اندر قید کی حالت میں املا کروائی جو پندرہ جلدوں کے اندر ہے، بھئی، پندرہ جلدوں میں۔ اور پندرہ جلدوں میں ہے اور آج کل یہ جو چھپی ہے تیس جلدوں کے اندر ہے، بھئی، تیس جلدوں میں چھپی ہے، تو جلدیں بھی بڑی بڑی تھیں جن کو اب دگنا کر دیا گیا، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو تیس جلدوں میں۔ اور جانتے ہو یہ مبسوطِ سرخسی کیا ہے؟ یہ شرح ہے کافی کی، کافی کتاب جو صدر، جو حاکم شہید کی کتاب ہے، بھئی، حاکم شہید۔ حاکم شہید کی کتاب ہے کافی اور اس میں انہوں نے ظاہرِ روایت کی ساری کتابوں کو جمع کر دیا ہے۔ کافی کیا ہے؟ ظاہرِ روایت کی جو چھ کتابیں ہیں: مبسوط، زیادات، سیرِ صغیر، سیرِ کبیر، جامعِ صغیر، جامعِ کبیر۔ تو انہوں نے کافی کے اندر ان ساری کتابوں کو مرتب کر کے مختصر طریقے پر سب کو جمع کر دیا ہے بڑے خوبصورت انداز میں۔ اور پھر اس کی شرح کی کس نے؟ امام سرخسی نے، اور قید کی حالت میں۔ اور قید کی حالت میں تھے، کوئی کتاب پاس نہیں ہوتی تھی، کوئی شروحات وغیرہ پاس نہیں تھیں لیکن حافظے کا عالم دیکھیے، بھئی۔ حافظے کا عالم دیکھیے کہ اس کافی کی شرح انہوں نے پندرہ جلدوں میں لکھوائی، بھئی۔ اور اس کے اندر وہ بڑی کثرت سے احادیث بھی نقل کرتے ہیں، صحابہ کے اقوال بھی نقل کرتے ہیں، فقہاء کے اقوال بھی نقل کرتے ہیں۔ تو یہ انہوں نے سارا اپنے حافظے سے انہوں نے لکھوایا، اتنا عظیم اور اتنا قوی حافظہ اللہ نے ان کو نصیب فرمایا تھا۔ تو یہ کتاب پندرہ جلدوں میں لکھوائی۔ اسی طرح دوسری کتاب، بھئی، جامعِ کبیر کی شرح انہوں نے لکھی دو جلدوں کے اندر، وہ بھی اسی طرح قید کی حالت میں ہی املا کروائی، بھئی، قید کی حالت میں۔ ہاں، وہ جب تکمیل کے قریب تھی تو اس وقت رہائی کا پروانہ آ گیا، بادشاہ نے رہا کرنے کا حکم دیا، تو پھر رہا ہونے کے بعد جو کچھ حصہ رہ گیا تھا اس کو انہوں نے اسی سال مکمل کر لیا، بھئی، مکمل کر لیا۔ تو یہ ہیں، بھئی، ہمارے فقہائے کرام جنہوں نے دین کے لیے کتنی کتنی قربانیاں دیں اور کس طرح طلبہ نے ان سے علم حاصل کیا، بھئی، علم۔ اور پھر حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو فقہاء پر اعتراض کرتے ہیں، بھئی۔ اپنی حالت کو دیکھتے نہیں دین کے اندر کیا حالت ہے اور ان لوگوں کا اندازہ لگائیے کہ بادشاہ کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں، بھئی، بادشاہ کے خلاف بلا خوف و خطر، بھئی۔ بادشاہ نے اپنی باندی کو آزاد کیا تھا اور بغیر عدت کے پھر فوراً نکاح کر لیا، حالانکہ اس میں کیا ضروری تھا کہ عدت گزارے تو پھر اس کے ساتھ نکاح کرے، تو انہوں نے فتویٰ دیا کہ یہ بادشاہ نے ناجائز کام کیا ہے، یہ درست نہیں ہے۔ تو بادشاہ نے پھر جیل میں ڈلوا دیا۔ جی، تو یہ ہیں امام سرخسی ”رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً“، بھئی، ”رَحْمَةً“۔ اچھا، بھئی، یہاں ایک اور فائدہ بھی آپ کو بتلا دوں۔ خاقان لفظ آیا خاقان، خاقان: خ، ا، ق دو نقطوں والا، ا اور پھر ن، خاقان۔ خاقان ترکی کے بادشاہ کو کہتے تھے، ترکی کے بادشاہ کا لقب تھا۔ یہ کوئی خاص بادشاہ نہیں تھا، ترکی کے ہر بادشاہ کو خاقان کہا جاتا تھا۔ جیسے روم کے ہر بادشاہ کو قدیم زمانے میں قیصر کہتے تھے، فارس کے ہر بادشاہ کو کسریٰ کہتے تھے، بھئی، کاف چھوٹا، س، ر اور ی اوپر کھڑی زبر۔ فارس کے ہر بادشاہ کو کیا کہتے تھے؟ کسریٰ کہتے تھے۔ مصر کے ہر بادشاہ کو عزیز کہتے تھے، بھئی، عزیز کہتے تھے۔ قبطیوں کے ہر بادشاہ کو فرعون کہتے تھے، بھئی۔ حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہتے تھے، بھئی، نجاشی۔ تو یہ نجاشی جن کا ذکر آتا ہے جو حضور علیہ السلام پر ایمان لائے تھے، یہ ان کا نام نہیں تھا نجاشی، ان کا نام اصحمہ تھا، اصحمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ تو نجاشی ان کا لقب، کیونکہ حبشہ کے ہر بادشاہ کو کہتے ہی کیا تھے؟ نجاشی۔ تو اسی طرح ترکی کے ہر بادشاہ کو خاقان کہا جاتا تھا۔ اور اسی طرح چین کے ہر بادشاہ کو فغفور کہا جاتا تھا: ف، غ، ف، و، ر۔ تو یہ قدیم بادشاہوں کے لقب تھے، تو یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ روم کے بادشاہ نے یوں کہا، بلکہ بس کہہ دیا جاتا قیصر نے یوں کہا ہے، سب سمجھ جاتے کس بادشاہ کی بات ہو رہی ہے؟ روم کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے، یا کسریٰ نے یوں کہا ہے، معلوم ہوا فارس کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے، یا عزیز نے یوں کہا ہے، معلوم ہوا کس بادشاہ کی بات ہو رہی ہے؟ مصر کے، بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِمَاءِ الزَّعْفَرَانِ وَأَشْبَاهِهِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو کرنا جائز نہیں ہے مَاءِ زَعْفَرَانْ کے ساتھ ”وَأَشْبَاهِهِ“ اور جو اس کے مشابہ ہیں۔ ”أَشْبَاهِ“ جمع ہے ”شِبْهٌ“ کی، ”شِبْهٌ“ کا معنی ہے مثل، مثل، جیسا۔ تو جو اس کے مشابہ، مَاءِ زَعْفَرَانْ جیسے ہیں یعنی مَاءِ صَابُونْ، مَاءِ أُشْنَانْ اور مَاءِ زَرْدَجْ، ہمارے نزدیک تو ان سے وضو کرنا جائز، امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ان کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں ہے، بھئی۔ ”مِمَّا لَيْسَ مِنْ جِنْسِ الْأَرْضِ“، ان چیزوں میں سے جو زمین کی جنس میں سے نہیں ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مَاءِ زَعْفَرَانْ اور اس کے مثل جو چیزیں ہیں جو زمین کی جنس میں سے نہیں ہیں، ان کے پانیوں سے وضو کرنا، طہارت حاصل کرنا جائز نہیں۔ بھئی، کچھ چیزیں تو زمین کی جنس میں سے ہیں، مٹی ہے، ریت ہے اور اسی طرح اور جو چیزیں ہیں زمین کی جنس میں سے چونا وغیرہ، جی، تو یہ چیزیں، ان کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو زمین کی جنس میں سے جو چیزیں ہیں ریت، مٹی وغیرہ، ان سے تو بچنا ممکن ہی نہیں، ان سے بچنا تو ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے یہ معاف ہیں، ان کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اس پانی سے وضو اس پانی سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہو گا، بھئی۔ لیکن جس پانی کے اندر زعفران، اشنان اور اس جیسی چیزیں مل جائیں، ان سے وضو کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ مَاءِ مُطْلَقْ رہا ہی نہیں، اب وہ مَاءِ مُقَیَّدْ بن گیا۔ کیا بن گیا؟ مَاءِ مُقَیَّدْ بن گیا، اب اس کو کوئی پانی نہیں کہتا بلکہ زعفران کا پانی کہتا ہے، اس کو کوئی پانی نہیں کہتا بلکہ اشنان کا پانی کہتا ہے، تو دیکھو ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“، ”مَاءُ الْأُشْنَانِ“، دیکھو اضافت ہو رہی ہے باقاعدہ، اشنان کا پانی، زعفران کا پانی۔ تو یہ مَاءِ مُطْلَقْ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مَاءِ مُقَیَّدْ۔ اور ہمیں وضو وغیرہ کا جو حکم دیا گیا ہے وہ مَاءِ مُطْلَقْ کے ساتھ وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جب وہ نہ ہو مَاءِ مُطْلَقْ، یہ والا پانی مَاءِ زَعْفَرَانْ ہے تو مَاءِ مُطْلَقْ تو نہیں ہے، اور کوئی پانی ہے ہی نہیں تو مَاءِ مُطْلَقْ معدوم ہوا، اور مَاءِ مُطْلَقْ جب معدوم ہو تو پھر تیمم کیا جائے گا، یہ زعفران کے پانی سے وضو نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَاءٌ مُقَيَّدٌ“، یہ دلیل ان کی آ گئی کیونکہ یہ مَاءِ مُقَیَّدْ ہے۔ ”أَلَا يَرَى“، بھئی، یہ ”تَرَى“ ہونا چاہیے، ”تَرَى“، بھئی، یا نہیں، تا۔ ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہاں تا ہے: ”أَلَا تَرَى“ اور یہی مناسب بنتا ہے یہاں۔ ”أَلَا تَرَى“، کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يُقَالُ مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“ کہ کہا جاتا ہے ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“، اس پانی کو کیا کہتے ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، فرماتے ہیں کہ یہ مَاءِ مُطْلَقْ نہیں بلکہ یہ کیا ہے؟ مَاءِ مُقَیَّدْ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“ کہا جاتا ہے، ”بِخِلَافِ أَجْزَاءِ الْأَرْضِ“، بخلاف زمین کے اجزاء کے، ان کے وہ ملے ہوئے ہوں تو وضو جائز، ”لِأَنَّ الْمَاءَ لَا يَخْلُو عَنْهَا عَادَةً“، اس لیے کیونکہ پانی خالی نہیں ہوتا ان چیزوں سے عادۃً۔ عادۃً مٹی، ریت وغیرہ سے پانی خالی نہیں، یہ چیزیں تو ملی ہی ہوتی ہیں، لہٰذا ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن زعفران وغیرہ مل گئے تو یہ مَاءِ مُقَیَّدْ بن گیا، مَاءِ مُطْلَقْ رہا ہی نہیں۔ ”وَلَنَا“، اب صاحبِ ہدایہ ہماری دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ ”وَلَنَا أَنَّ اسْمَ الْمَاءِ بَاقٍ عَلَى الْإِطْلَاقِ“، ہماری دلیل یہ ہے کہ اسْمِ مَاءْ باقی ہے اپنے اطلاق پر۔ پانی کا نام ابھی بھی علی الاطلاق باقی ہے یعنی ابھی بھی اس پر مطلقاً پانی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ زعفران اگرچہ تھوڑا سا مل بھی جائے پھر بھی اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ پانی ہی۔ اشنان یا صابن معمولی سا کچھ مل بھی جائے تو بھی اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ پانی ہی کہا جاتا ہے۔ ”أَلَا يَرَى“، یہاں پھر یہ تا ہونی چاہیے: ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَمْ يَتَجَدَّدْ لَهُ اسْمٌ عَلَى حِدَةٍ“، کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ لَمْ يَتَجَدَّدْ لَهُ“ کہ نہیں نیا ہوا اس کے لیے ”اسْمٌ“ کوئی نام ”عَلَى حِدَةٍ“ علیحدہ، بھئی۔ ہم کہتے ہیں، بھئی، کہ زعفران وغیرہ مل جائے پھر بھی یہ کیا ہے؟ مَاءِ مُطْلَقْ ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ اس کے لیے کوئی علیحدہ نام نہیں ہے، بھئی، اب بھی اس پر کیا لفظ بولا جاتا ہے؟ پانی ہی کا لفظ بولا جاتا ہے: ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“، ماء کا لفظ آیا یا نہیں آیا، بھئی؟ تو پانی ہی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اور باقی آپ جو فرما رہے ہیں کہ زعفران کی قید آ گئی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ بھئی یہ جو اضافت ہے، یہ دو قسم کی ہے: ایک اضافتِ تعریف ہے، ایک اضافتِ تقیید ہے، بھئی۔ ت، ق، ی پھر ی اور د: اضافتِ تقیید، بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں اضافت دو قسم پر ہے: ایک اضافتِ تعریف ہے، ایک اضافتِ تقیید ہے۔ اضافتِ تعریف وہ پہچان کے لیے ہوتی ہے، اس سے چیز کی حقیقت نہیں بدلتی۔ چیز کی حقیقت وہی ہوتی ہے، صرف پہچان کے لیے اضافت کی جاتی ہے۔ اور اضافتِ تقیید، اس میں چیز کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے، حقیقت ہی اور ہوتی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر جو ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“ کے اندر اضافت ہے، یہ اضافتِ تعریف کے قبیل سے ہے۔ یہاں جو اضافت کی گئی ہے وہ صرف پہچان کے لیے کی گئی ہے، اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ پانی کی حقیقت ہی بدل گئی ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہتے ہیں ”مَاءُ الْعَيْنِ“، چشمے کا پانی، ”مَاءُ الْبِئْرِ“، کنوئیں کا پانی۔ تو دیکھیے یہاں ماء کی اضافت اگرچہ عین اور کنوئیں کی طرف ہے، چشمے اور کنوئیں کی طرف، لیکن یہ اضافت کس لیے ہے؟ صرف پہچان کے لیے، یہ بتلانے کے لیے کہ یہ کنوئیں کا پانی ہے یا یہ کس کا پانی ہے؟ چشمے کا پانی ہے، صرف پہچان کروانے کے لیے، بتلانے کے لیے ہے۔ پانی اسی طرح پانی ہے، اس کی حقیقت کوئی بدلی ہوئی ہے؟ پانی تو وہی ہے، تو یہ اضافت صرف پہچان کے لیے ہے۔ تو ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“ کے اندر بھی یہ اضافت صرف کس لیے ہے؟ پہچان کے لیے ہے، یہ اضافتِ تقیید کے قبیل سے نہیں ہے۔ اضافتِ تقیید وہاں جو اضافت ہوتی ہے وہ یہ بتلانے کے لیے ہوتی ہے کہ چیز کی حقیقت ہی بدل چکی ہے، جیسے ”مَاءُ الْمَرَقِ“، ”مَاءُ الْمَرَقِ“، شوربے کا پانی۔ اب یہاں ماء کی اضافت مرق کی طرف ہو رہی ہے لیکن آپ بتائیے، شوربہ پانی ہی ہوتا ہے یا اس کی حقیقت ہی بدل چکی ہے؟ اس کی تو حقیقت ہی بدل چکی ہے، معلوم ہوا یہ اضافتِ تعریف نہیں بلکہ اضافتِ تقیید ہے جس میں حقیقت ہی بدلی ہوتی ہے۔ تو ”مَاءُ الزَّعْفَرَانِ“ یہ اضافتِ تعریف کے قبیل سے ہے، اضافتِ تقیید کے قبیل سے نہیں۔ یہ صرف پہچان کے لیے ہے، تھوڑا بہت جو زعفرا... زعفران مل گیا ہے پانی کے اندر، بس بتلانے کے لیے ہے، بھئی۔ پانی کی حقیقت اسی طرح ہے، پانی اسی طرح پتلا ہے، پانی اسی طرح بہنے والا ہے، پانی اسی طرح چیزوں کو صاف کرنے والا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَمْ يَتَجَدَّدْ لَهُ اسْمٌ عَلَى حِدَةٍ“، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس کے لیے کوئی علیحدہ نیا نام نہیں ہے۔ ”وَإِضَافَتُهُ إِلَى الزَّعْفَرَانِ كَإِضَافَتِهِ إِلَى الْبِئْرِ وَالْعَيْنِ“، اور یہ جو ماء کی اضافت ہوئی ہے زعفران کی طرف، یہ جیسے کہ ماء کی اضافت ہے بئر اور عین کی طرف، یہ اسی کی طرح ہے۔ ”وَلِأَنَّ الْخَلْطَ الْقَلِيلَ لَا يُعْتَبَرُ بِهِ لِعَدَمِ إِمْكَانِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ“، اور اس لیے کیونکہ خلط کہتے ہیں ملنا کسی چیز کا دوسری کے ساتھ، تو یہاں ملاوٹ کے معنی میں ہے: ”وَلِأَنَّ الْخَلْطَ الْقَلِيلَ“، اور اس لیے کیونکہ تھوڑی سی ملاوٹ جو ہے یعنی ان چیزوں کی جو تھوڑی سی ملاوٹ ہے ”لَا يُعْتَبَرُ بِهِ“، اس کا کوئی اعتبار نہیں ”لِعَدَمِ إِمْكَانِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ“، اس لیے کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ اس سے بچنا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے، بھئی، آپ کے علاقے کی بات نہیں ہو رہی، جن علاقوں میں زعفران پایا جاتا ہے، جہاں استعمال ہوتا ہے زعفران، تو وہاں پر ہر چیز میں وہ استعمال کرتے ہیں تو پانی کے اندر کچھ نہ کچھ کبھی کہیں گر جائے گا تھوڑا بہت، اس سے تو بچنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہ عام استعمال کرتے ہیں، ان کے پاس ہر چیز میں زعفران گھر میں پڑا ہوا ہے، چیزوں میں پڑا ہوا ہے، استعمال کر رہے ہیں، وہاں اگتا ہے وغیرہ، تو وہ کچھ نہ کچھ تو پانی کے اندر گر جائے گا، اس سے بچنا تو ممکن ہی نہیں، اور اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس پانی سے اب وضو جائز نہیں تو وہ لوگ تو بڑی مشکل میں اور تکلیف میں پڑ جائیں گے۔ تو لہٰذا عند الاحناف یہ اگر چیزیں تھوڑی بہت مل بھی جائیں تو وہ ماء مَاءِ مُطْلَقْ ہی ہے، اس سے وضو کرنا اور پاکی حاصل کرنا جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْخَلْطَ الْقَلِيلَ لَا يُعْتَبَرُ بِهِ“، اور تھوڑی ملاوٹ جو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ”لِعَدَمِ إِمْكَانِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ“، اس وجہ سے کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے ”كَمَا فِي أَجْزَاءِ الْأَرْضِ“، جیسے کہ زمین کے اجزاء میں ہے، زمین کے جیسے اجزاء ہیں مٹی، ریت وغیرہ جیسے ان سے بچنا ممکن نہیں ہے، اسی طرح ان سے بچنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ”فَيُعْتَبَرُ الْغَالِبُ“، تو لہٰذا غالب کا اعتبار کیا جائے گا۔ اب تھوڑا سا زعفران ملا تو زعفران غالب یا پانی غالب؟ پانی غالب ہے، تو اس غالب کا ”فَيُعْتَبَرُ الْغَالِبُ“، غالب کا اعتبار کیا جائے گا۔ ”وَالْغَلَبَةُ بِالْأَجْزَاءِ لَا بِتَغَيُّرِ اللَّوْنِ“، اور غلبہ جو ہے وہ اجزاء سے ہوتا ہے، رنگ کے بدلنے سے نہیں۔ زعفران کا تو رنگ ہے، وہ تھوڑا سا بھی ملے گا تو پانی کے اندر کچھ نہ کچھ زردی تھوڑی سی آ جائے گی، تو اس زردی کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ زعفران پانی پر غالب آ گیا ہے، بلکہ غالب آنے کا پتہ کس سے چلے گا؟ اجزاء اس کے غالب آ جائیں، خوب سارا گر جائے اب وہ خوب غالب آ جائے گا، تو اس صورت میں تو ہم بھی کہتے ہیں اب اس کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْغَلَبَةُ بِالْأَجْزَاءِ لَا بِتَغَيُّرِ اللَّوْنِ“، اور غلبہ جو ہے وہ اجزاء کے ساتھ ہے نہ کہ رنگ کے بدلنے سے، ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“، یہی قول صحیح ہے۔ ”وَإِنْ تَغَيَّرَ بِالطَّبْخِ بَعْدَ مَا خَلَطَ بِهِ غَيْرُهُ لَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ“، یہاں سے یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ اگر پانی کے ساتھ کوئی پاک چیز ملی اور پھر اس کو پکایا گیا اور اس وجہ سے وہ بدل گیا پانی، یعنی اس چیز کے اجزاء پانی کے ساتھ بالکل مل گئے، بھئی، تو اب اس صورت میں اس اس صورت میں اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے، بھئی۔ تو اگر پانی میں چیز ملی اور پھر اس کو پکایا اور پکانے سے پانی اب بدلا ہے، تو اب اس کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَغَيَّرَ بِالطَّبْخِ“، اور اگر پانی بدلا پکانے کی وجہ سے ”بَعْدَ مَا خَلَطَ بِهِ غَيْرُهُ“، بعد اس کے جبکہ اس کے ساتھ اس کے غیر کوئی چیز مل گئی تھی، پانی کے ساتھ کوئی اور چیز مل گئی تھی پھر اس کو پکایا گیا اور وہ بدل گیا، ”لَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ“، تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ فِي مَعْنَى الْمُنْزَلِ مِنَ السَّمَاءِ“، اس لیے کیونکہ اب وہ پانی باقی نہیں رہا مُنْزَلْ مِنَ السَّمَاءِ کے معنی میں۔ اب یہ آسمان سے نازل کیے ہوئے پانی کی طرح نہ رہا، بھئی۔ ”إِلَّا إِذَا طُبِخَ فِيهِ مَا يُقْصَدُ بِهِ الْمُبَالَغَةُ فِي النَّظَافَةِ“، ہاں، سوائے اس صورت میں جب پانی میں پکایا جائے ایسی چیز کو کہ مقصود اس کے ذریعے پاکی، صاف ستھرا کرنے میں مبالغہ مقصود ہو۔ نظافت کا معنی صاف ستھرا کرنا، دھونا اور اس میں مبالغہ۔ سوائے اس چیز... بھئی، کوئی چیز پانی کے ساتھ ملا کر پکائی گئی اور ملا کر پکانے کا مقصد کیا تھا کہ زیادہ صفائی حاصل ہو اس پانی کے ساتھ، تو دیکھیے اس صورت میں اب اس سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے، بھئی، جائز ہے۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا إِذَا طُبِخَ فِيهِ مَا يُقْصَدُ بِهِ الْمُبَالَغَةُ فِي النَّظَافَةِ“، مگر یہ کہ جب پکایا جائے پانی کے اندر ایسی چیز کو کہ مقصود اس کے ذریعے مبالغہ فی النظافت ہو، نظافت، پاکی حاصل کرنے میں مبالغہ مقصود ہو، ”كَالْأُشْنَانِ وَنَحْوُهُ“، جیسے کہ اشنان ہے اور اس جیسی چیزیں ہیں، بھئی۔ ”وَنَحْوُهُ“ پڑھنا، بھئی، ”نَحْوِهِ“ نہ پڑھنا، اس کا عطف ”كَالْأُشْنَانِ“ پر ہے، ”أُشْنَان“ پر نہیں۔ ”أُشْنَان“ پر عطف ہو تو اشنان تو کیا ہے؟ مجرور، اس پر کاف جارہ داخل ہوا اور کاف جارہ کس معنی میں ہے؟ ”مِثْلُ“ کے معنی میں ہے: أَيْ مِثْلُ الْأُشْنَانِ، اور نحو کا اپنا معنی بھی کیا؟ مثل کے معنی میں، تو اگر اس کا عطف اشنان پہ ہو گا تو عبارت کیسے بن جائے گی؟ ”كَنَحْوِهِ“، کاف کا معنی بھی مثل، نحو کا معنی بھی مثل کہ اس کے مثل کا مثل نہ ہو، بھئی، پھر ترجمہ صحیح نہیں، بھئی۔ تو لہٰذا اس کا عطف اس پر ہو گا، جی: ”وَنَحْوُهُ“، اور اس جیسی چیزیں۔ ”لِأَنَّ الْمَيِّتَ يُغْسَلُ بِالْمَاءِ الَّذِي أُغْلِيَ بِالسِّدْرِ“، اس لیے کیونکہ میت جو ہے اس کو غسل دیا جاتا ہے اس پانی کے ساتھ ”أُغْلِيَ بِالسِّدْرِ“، جس کو جوش دیا گیا ہو، جس کو ابالا گیا ہو سدر، بیری کے ساتھ۔ سدر بیری کو کہتے ہیں یعنی پتے مراد ہیں اس کے۔ اس لیے کیونکہ میت جو ہے اس کو غسل دیا جاتا ہے اس پانی کے ساتھ جس میں جس میں بیری کو ابالا گیا ہو، بیری کے پتوں کو جوش دیا گیا ہو۔ ”بِذَلِكَ وَرَدَتِ السُّنَّةُ“، اسی کے ساتھ سنت وارد ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ سنت وارد ہوئی ہے یعنی یہ سنت ہے، مسنون ہے، بھئی، کہ میت کو کس طرح اسی طرح غسل دیا جائے ایسے پانی کے ساتھ جس میں بیری کے پتوں کو جوش دیا گیا ہو، ابالا گیا ہو۔ بھئی، بعض احادیث کے اندر ذکر آتا ہے، جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا انتقال ہوا، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وہاں پر عورتیں، صحابیات موجود تھیں ان سے فرمایا کہ اس کو غسل دے دو بیری کے پانی سے۔ اسی طرح بعض احادیث میں آیا ہے کہ اس کو غسل دینے کا ماء اور پانی اور بیری کے ساتھ۔ تو بہرحال یہ ذکر تو آیا ہے احادیث کے اندر بیری کا پانی ہے یا بیری اور پانی کا ذکر آیا ہے لیکن یہ ذکر حدیث میں نہیں ہے کہ پانی کو میں بیری کے پتے ڈال کر ان کو ابالا جائے، بھئی۔ یہ ابالنے کا ذکر نہیں ملتا احادیث کے اندر۔ چنانچہ شارحین یہاں پر اعتراض کرتے ہیں صاحبِ ہدایہ پر کہ آپ نے کیا فرمایا کہ اسی پر سنت وارد ہوئی ہے یعنی یہ سنت میں اس کا ذکر آیا ہے، احادیث میں، حالانکہ احادیث میں تو ابالنے کا ذکر کہیں نہیں۔ ماء اور سدر کا ذکر تو ملتا ہے، ابالنے کا ذکر نہیں ملتا، بھئی۔ تو جواب یہ کہ صاحبِ ہدایہ حدیث کی مراد بیان کر رہے ہیں، بھئی۔ کیا کر رہے ہیں؟ حدیث کی مراد بیان کر رہے ہیں۔ اگر صرف بیری کے پتوں کو پانی میں ڈالا جائے تو پھر تو فائدہ نہیں، بیری کے پتوں کو کیا کیا جائے؟ پانی میں جوش دیا جائے گا، ابالا جائے گا تو پھر ہی ان میں زیادہ پاک کرنے کی وہ پانی پھر زیادہ پاک کرنے والا ہو گا، تو وہ مراد بیان فرما رہے ہیں۔ لیکن بہرحال ابالنے کا ذکر احادیث میں نہیں ہے، بھئی۔ ”إِلَّا أَنْ يَغْلِبَ ذَلِكَ عَلَى الْمَاءِ“، مگر یہ کہ وہ بیری پانی پر غالب آ جائے۔ وہ چیز کیا ہو؟ پانی پر غالب آ جائے۔ جو بھی چیز پانی میں ملا کر پکائی گئی زیادہ صاف کرنے کے لیے، اس سے پاکی حاصل کرنا جائز، مگر یہ کہ وہ چیز پانی پر غالب آ جائے، پانی کو بدل ہی دے تو پھر اس سے وضو وغیرہ جائز نہیں۔ ”فَيَصِيرُ كَالسَّوِيقِ الْمَخْلُوطِ“، سویق کہتے ہیں ستو کو، بھئی، ستو۔ تو یہ پھر اس صورت میں کس کی طرح ہو جائے گا؟ ”كَالسَّوِيقِ“، اس ستو کی طرح ”الْمَخْلُوطِ“ جو ملایا گیا ہے، یعنی جو پانی کے ساتھ ملایا گیا ستو ہے، پھر یہ اس کی طرح۔ بھئی، وہ چیز جب زیادہ ملائی اور پانی کو جوش دیا گیا تو اب وہ چیز اس نے پانی ہی کو بدل دیا پورے طور پر، جیسے ستو کو پانی کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو وہ پھر پانی نہیں رہتا، اسے کوئی بھی پانی نہیں کہتا، بھئی۔ ”فَيَصِيرُ كَالسَّوِيقِ الْمَخْلُوطِ“، تو یہ ہو جائے گا ملائے ہوئے ستو کی طرح۔ ”لِزَوَالِ اسْمِ الْمَاءِ عَنْهُ“، اس وجہ سے کہ دور ہو گیا، زائل ہو گیا اس سے پانی کا نام۔ اس سے پانی کا نام دور ہو گیا، اب اسے پانی کوئی نہیں کہتا، بھئی۔ ستو وغیرہ تو کہیں گے، پانی نہیں کہتے، بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
82 approved lectures · 16 of 82