قَالَ: ”وَمَنْ شَرَعَ فِي نَافِلَةٍ ثُمَّ أَفْسَدَهَا قَضَاهَا“ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: ”لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِيهِ، وَلَا لُزُومَ عَلَى الْمُتَبَرِّعِ“، وَلَنَا ”أَنَّ الْمُؤَدَّى وَقَعَ قُرْبَةً، فَيَلْزَمُ الْإِتْمَامُ ضَرُورَةَ صِيَانَتِهِ عَنِ الْبُطْلَانِ“.
قَالَ: ”وَمَنْ شَرَعَ فِي نَافِلَةٍ“. بھئی، گزشتہ سبق میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ نفلوں میں ہر دو رکعت وہ علیحدہ نماز کی طرح ہے۔ نفلوں میں سے ہر دو رکعت وہ علیحدہ نماز کی طرح ہے، لہٰذا اگر ایک ہی تحریمہ کے ساتھ کوئی چار رکعت ادا کرے تو بھی جب وہ تیسری رکعت کی طرف اٹھتا ہے تو یہ اسی طرح ہے گویا یہ نئی تحریمہ ہے، نئی تحریمہ ہے۔
اب مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں، قرأت کے مسائل ذکر ہوئے تھے اور بتلایا تھا کہ نفلوں کی ہر رکعت کے اندر قرأت پڑھنا واجب ہے، فرض ہے بھئی، فرض ہے۔
تو اولاً یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جس نے ایک دفعہ نفل شروع کر دیے، شروع کرنے سے پہلے تو وہ نفل ہیں لیکن جب شروع کر دیے تو اب وہ واجب ہو گئے۔ اب اگر ان کو وہ باطل کرتا ہے تو اس اس کو ان کی قضا کرنا پڑے گی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، نفل نفل ہی ہیں، بے شک شروع بھی کیوں نہ کر دیے جائیں، لہٰذا اگر ان کو وہ فاسد کر دیتا ہے تو بعد میں اس پر ان کی قضا، ان کی قضا اس پر نہیں ہے بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں قضا آئے گی۔ جب تک شروع نہیں کیے تھے اس کو اختیار تھا، نہ شروع کرتا، لیکن جب شروع کر دیے اب پورا کرنا پڑے گا کیونکہ اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، اور یہ بھی اعمال میں سے ایک عمل ہے، عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے، لہٰذا اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری اور باطل ہونے سے یہ بچانے کی یہی صورت ہے کہ اس کی قضا کی جائے اور اس کو پورا کر لیا جائے۔
کہتے ہیں قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ شَرَعَ فِي نَافِلَةٍ“ اور جو شخص نفلوں میں شروع ہوا ”ثُمَّ أَفْسَدَهَا“ پھر ان کو فاسد کر دیا ”قَضَاهَا“ تو ان کی قضا کرے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر قضا نہیں ہے اس کی ”لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ ان کے کرنے میں متبرع تھا۔ ان میں کیا تھا؟ متبرع۔ متبرع کہتے ہیں وہ شخص جو اپنی جانب سے کوئی چیز دے، اپنی جانب سے کوئی فعل کرے جو اس پر لازم نہ ہو، جو اس پر لازم، مثلاً بھئی آپ کسی شخص کو اپنے ساتھی کو ویسے ہی کچھ رقم دے دیتے ہیں، نہ آپ پر قرض وغیرہ دین کچھ بھی نہیں تھا، آپ یہ اپنی طرف سے دے رہے ہیں، آپ پر یہ پیسے دینا لازم نہیں تھے تو یہ اس کو کہیں گے تبرع، کیا کہیں گے؟ تبرع، اور آپ متبرع ہوئے۔ اسی طرح نفل ادا کرنے والا بھی متبرع ہے، یہ نفل اس کے ذمے لازم نہیں تھے، وہ اپنی طرف سے ان کو ادا کر رہا ہے ثواب کی نیت سے، تو یعنی جو کام یہ ثواب کی نیت سے کیا جائے وہ ہے تبرع بھئی، کیا ہے؟ یعنی زائد چیز جو انسان پر لازم نہ ہو۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِيهِ“ کیونکہ نفل پڑھنے والا ان نفلوں کے پڑھنے میں متبرع ہے، یہ اس پر لازم نہیں تھے، ”وَلَا لُزُومَ عَلَى الْمُتَبَرِّعِ“ اور متبرع پر کوئی چیز لازم نہیں ہوتی، تو اس پر اس کو لازم نہیں قرار دیں گے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُؤَدَّى وَقَعَ قُرْبَةً“ کہ وہ جو ادا کر دیا گیا وہ قربت ہو کر واقع ہوا ہے۔ بھئی دیکھیے، نفل نفل ہی تھے لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے تو جو کچھ حصہ کے بعد اس نے فاسد کر دیے، پورے نہیں کیے کیا کیا ان کو؟ فاسد۔ تو کچھ حصہ گزر گیا یا نہیں؟ گزر گیا۔ اور وہ تو کیا تھا؟ عبادت تھا، کیا تھا؟ عبادت تھا، اور اب اس نے فاسد کر دیا ہے اس کو، تو لہٰذا وہ جو حصہ ادا ہو چکا اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری ہے اور اس کے بچانے کی یہی صورت ہے کہ بعد میں اس کی کیا کی جائے؟ قضا، ورنہ تو وہ حصہ بھی باطل چلا جائے گا بھئی، دلیل سمجھ میں آئی؟
تو ہماری دلیل یہ ہے کہ: ”أَنَّ الْمُؤَدَّى وَقَعَ قُرْبَةً“ کہ وہ جو ادا کر دیا گیا یعنی کچھ حصہ جو ادا کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس نے پھر نفلوں کو فاسد کر دیا، وہ حصہ جو ادا کر دیا گیا ہے ”وَقَعَ قُرْبَةً“ وہ قربت واقع ہوا ہے یعنی عبادت کے طور پر واقع ہوا ہے، قربت عبادت کو جو اللہ کے قرب کا سبب ہو، وہ قربت واقع ہوا ہے ”فَيَلْزَمُ الْإِتْمَامُ“ تو اس کو پورا کرنا لازم ہے ”ضَرُورَةَ صِيَانَتِهِ عَنِ الْبُطْلَانِ“، ”ضَرُورَةَ صِيَانَتِهِ“ اس کو بچانا ضروری ہونے کی وجہ سے کس چیز سے بچانا؟ ”عَنِ الْبُطْلَانِ“ اس وجہ سے اس کو اس کو باطل سے باطل ہونے سے بچانا ضروری ہے، اس لیے پورا کرنا لازم ہو گا، اور باطل ہونے سے بچانا کیوں ضروری؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو۔
”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا وَقَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ وَقَعَدَ ثُمَّ أَفْسَدَ الْأُخْرَيَيْنِ قَضَى رَكْعَتَيْنِ؛ لِأَنَّ الشَّفْعَ الْأَوَّلَ قَدْ تَمَّ“.
صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے چار رکعت کی نیت کے ساتھ نفل پڑھنا شروع کیے، چار رکعت پڑھنے کی نیت کی اور پہلی دو رکعتوں میں اس نے قرأت بھی کی اور دو رکعتوں کے بعد اس نے قعدہ بھی کیا اور پھر اگلی دو رکعتوں کو اس نے فاسد کر دیا، فاسد کر دیا تو پھر اس پر صرف دو رکعتوں کی قضا ہے، کتنے رکعتوں کی؟ دو رکعتوں کی۔ اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ نفلوں کے اندر ہر دو رکعت جو ہیں وہ علیحدہ نماز ہیں اور پہلی دو رکعتوں میں اس نے قرأت بھی کی تھی اور آخر میں دو رکعت کے بعد قعدہ بھی کیا تھا تو وہ دو پہلی رکعتیں پوری ہو گئیں اور اگلی دو رکعتیں وہ الگ نماز ہیں ان کو اس نے فاسد کیا ہے تو صرف اس کی قضا اس پر آئے گی آخری دو رکعتوں کی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ چاروں رکعتوں کی قضا نہیں۔
یہ بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: ”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا“ اور اگر اس نے چار رکعت پڑھیں یعنی چار رکعت شروع کیں چار رکعت کی نیت سے نماز ”وَقَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ“ اور قرأت کی پہلی دو رکعتوں میں ”وَقَعَدَ“ اور پھر کیا کیا؟ قعدہ کیا، بیٹھا دو رکعتوں کے بعد۔ اس یہ قید ضروری ہے اس لیے کیونکہ اگر اس نے قعدہ نہ کیا، دو رکعتیں پڑھنے کے بعد قعدہ نہیں کیا بھول کر کھڑا ہو گیا اور پھر اگلی دو کو فاسد کر دیا تو اب اگلی دو تو ہوئیں فاسد ان کی تو قضا ہے ہی، پہلی دو کی پہلی دو بھی فاسد ہو گئیں کیونکہ ان کے اندر قعدہ اخیرہ نہیں کیا اور قعدہ اخیرہ تو کیا ہوتا ہے نماز کے اندر؟ فرض ہوتا ہے، اور فرض رہ جائے تو نماز ہی نہیں، تو پہلی دو بھی فاسد ہو گئیں اور آخری دو کو اس نے فاسد کر دیا تو چاروں کی قضا اس کو کرنا پڑے گی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی لیے کہا ”وَقَعَدَ“ اور وہ بیٹھا بھی دو رکعت کے بعد ”ثُمَّ أَفْسَدَ الْأُخْرَيَيْنِ“ پھر اس نے آخری دو کو فاسد کر دیا ”قَضَى رَكْعَتَيْنِ“ تو دو رکعت کی قضا کرے گا، اور کونسی والی دو؟ آخری والی دو جو ہیں ”لِأَنَّ الشَّفْعَ الْأَوَّلَ قَدْ تَمَّ“ اس لیے کیونکہ پہلا شفع وہ تحقیق مکمل ہو چکا ہے یعنی پہلی دو رکعت مکمل ہو چکی ہیں کیونکہ اس میں قرأت بھی اس نے کی ہے اور قعدہ بھی کیا ہے۔
”وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ بِمَنْزِلَةِ تَحْرِيمَةِ الْمُبْتَدَأَةِ“ اور تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یہ نئی تحریمہ کے درجے میں ہے۔ نفلوں میں آپ پڑھ چکے جب تیسری رکعت کے لیے انسان اٹھتا ہے تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ نئی تحریمہ کے درجے میں ہے، گویا نئے سرے سے تکبیرِ تحریمہ وہ کہہ رہا ہے، دو الگ نفل اب وہ گویا پڑھ رہا ہے۔ تو یہ تو یہ قیام کس کے درجے میں ہوا؟ نئی تحریمہ کے درجے میں ہوا ”فَيَكُونُ مُلْزِمًا“ تو یہ قیام اس پر ان نفلوں کو یعنی اس آخری شفعے کو لازم کرنے والا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بھئی، نفل جب تک شروع نہیں کیے وہ نفل ہیں لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے وہ کیا ہو جاتے ہیں؟ واجب ہو جاتے ہیں، تو گویا تکبیرِ تحریمہ جب کسی نے کہہ دی تو اس پر وہ نفل کیا ہو گئے؟ واجب ہو گئے۔ اور یہاں پر تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یعنی یہ جو قیام ہے تیسری رکعت کی طرف یہ کس کے درجے میں؟ تحریمہ کے درجے میں، لہٰذا جب یہ قیام پایا جائے گا وہ تیسری رکعت کی طرف اٹھ جائے گا تو گویا اس نے نئی تحریمہ باندھ لی، نئی تحریمہ سے نماز شروع کر دی، تو یہ قیام تحریمہ کے درجے میں اور تحریمہ تو کیا کرتی تھی؟ نفلوں کو لازم کر دیتی تھی، واجب کر دیتی تھی، تو یہ قیام بھی کیا کر دے گا اس پر نفلوں کو؟ واجب کر دے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ بِمَنْزِلَةِ تَحْرِيمَةِ الْمُبْتَدَأَةِ“ اور تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یہ نئی تحریمہ کے درجے میں ہے ”فَيَكُونُ مُلْزِمًا“ تو یہ قیام اس پر لازم کرنے والا ہے یعنی اگلی دو رکعتوں کو۔
”هَذَا إِذَا أَفْسَدَ الْأُخْرَيَيْنِ بَعْدَ الشُّرُوعِ فِيهِمَا“ اور یہ مسئلہ اس وقت ہے جب اس نے آخری دو رکعتوں کو فاسد کیا ہو ان میں شروع ہو جانے کے بعد، یعنی آخری دو کو شروع کر دیا تھا، ان کے لیے اٹھ گیا تھا پھر ان کو فاسد کیا تو ان کی قضا کرنا پڑے گی جیسا متن میں آیا، آخری دو کے لیے وہ اٹھ گیا تھا پھر ان کو فاسد کیا ہے۔
”وَلَوْ أَفْسَدَ قَبْلَ الشُّرُوعِ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي“ اور اگر اس نے فاسد کر دیا شفعِ ثانی میں شروع ہونے سے پہلے ہی، اگر کیا کیا؟ شفعِ ثانی میں شروع ہونے سے پہلے ہی نماز کو فاسد کر دیا، مثلاً بھئی چار رکعت کی نیت سے نماز شروع کی، دو رکعتیں پوری ہو گئیں، اس میں اس نے قرأت بھی کی ہے سارے ارکان ادا کیے، آخر میں قعدہ بھی کر لیا، اب تیسری کے لیے اٹھا نہیں تھا اس سے پہلے اس نے ان کو فاسد کر دیا، تو جب اٹھا نہیں تو اگلی دو اس پر لازم نہیں، اور اس میں پہلی دو کے لیے تو وہ قعدہ بھی کر چکا تو وہ پوری ہو گئیں، وہ ادا ہو گئیں اور آخری دو کی اس پر قضا نہیں کیونکہ اس نے ان کو ابھی شروع ہی نہیں کیا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ أَفْسَدَ قَبْلَ الشُّرُوعِ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي“ اور اگر اس نے فاسد کر دیا نماز کو شفعِ ثانی میں یعنی آخری دو رکعتوں میں شروع ہونے سے پہلے ہی ”لَا يَقْضِي الْأُخْرَيَيْنِ“ تو یہ آخری دو کی قضا نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس پر لازم ہی نہیں ہوئیں کیونکہ اس نے قیام ہی نہیں کیا، قیام تحریمہ کے درجے میں تھا، قیام پایا جاتا تیسری رکعت کی طرف تو وہ اس پر لازم ہو جاتیں لیکن اس نے تو وہ قیام کیا ہی نہیں، اس سے پہلے ہی نماز کو فاسد کر دیا۔
اور یاد رکھیے یہ مذہب ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی، طرفین۔ بلکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے البتہ اولاً وہ ان کا اور قول تھا جو آگے ذکر ہو رہا ہے بعد میں انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تھا، تو اس قول کے مطابق امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں آخری دو کی وہ قضا کرے گا۔ طرفین تو فرماتے ہیں تیسری رکعت کی طرف اٹھنے سے پہلے ہی نماز کو فاسد کر دیا تو پہلی دو پوری ہو چکیں، اگلی نے لازم ہونا تھا قیام کے بعد لیکن اس نے تو قیام کیا ہی نہیں اس سے پہلے ہی فاسد کر دیا تو اگلی دو بھی اس پر لازم نہیں لہٰذا ان کی قضا بھی اس کے ذمے نہیں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں کہ اگلی دو کی قضا اس کے ذمے لازم ہے بھئی، یہ ایک روایت آئی کس سے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے جس سے انہوں نے رجوع کر لیا تھا۔
کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقْضِي“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ قضا کرے گا یعنی آخری دو کی ”اعْتِبَارًا لِلشُّرُوعِ بِالنَّذْرِ“ وہ قیاس کرتے ہیں شروع کرنے کو نذر پر، منت پر، کس پر قیاس کرتے ہیں؟ منت پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے چار رکعت کی نیت سے نفل شروع کیے تو چاروں اس پر لازم ہو گئے، دو اس میں سے پورے کر چکا ہے اور دو ابھی باقی ہیں تو اس پر اس کو قضا کرنا پڑے گی کیونکہ شروع کرنے سے کوئی چیز لازم ہو جاتی ہے اور اس نے بھی کس نیت سے شروع کیے تھے؟ دو رکعت یا چار رکعت؟ چار رکعت کی نیت سے شروع کیے تھے تو چار اس پر لازم ہو گئے تھے اور ان میں سے دو پورے کر چکا ہے دو ابھی بھی اس کے ذمے باقی ہیں اور وہ اس کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ منت پر، کہ جیسے منت سے کوئی چیز کسی پر واجب ہو جاتی ہے اسی طرح شروع کرنے سے بھی ایک چیز، اپ منت مانگتے ہیں کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں چار نفل پڑھوں گا اور وہ کام آپ کا ہو جاتا ہے تو آپ پر چار نفل کیا ہو جاتے ہیں؟ لازم، تو منت سے جیسے کوئی چیز لازم ہوتی ہے اس اسی طرح شروع کرنے سے بھی چیز لازم ہو جاتی ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقْضِي اعْتِبَارًا لِلشُّرُوعِ بِالنَّذْرِ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ قضا کرے گا قیاس کرتے ہوئے شروع کرنے کو کس پر شروع کو انہوں نے قیاس کیا ہے؟ شروع کو قیاس کرتے ہوئے بالنذر منت پر۔
”وَلَهُمَا“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ مَا شُرِعَ فِيهِ وَمَا لَا صِحَّةَ لَهُ إِلَّا بِهِ“، بھئی توجہ سے سننا بھئی، طرفین فرماتے ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی کیا دلیل آئی؟ کہ شروع کرنے سے ایک چیز لازم ہو جاتی ہے جیسے منت کی وجہ سے ایک چیز لازم ہو جاتی ہے۔ طرفین فرماتے ہیں ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، کوئی چیز شروع کی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے لیکن کیا کیا لازم ہوتا ہے؟ وہ فرماتے ہیں ایک تو جس چیز کو شروع کیا وہ لازم ہوتی ہے اور ایک جس پر اس کا وجود موقوف ہے وہ لازم ہو گی۔
توجہ ہے؟ شروع کرنے سے کیا چیز لازم ہو گی؟ ایک جس کو شروع کیا تو جیسے ہی اس نے شروع کیا تھا اور شروع کس کو کیا تھا؟ پہلی رکعت کو، کس کو؟ تو پہلی رکعت اس پر لازم ہو گئی، اور اکیلی ایک رکعت کی تو نماز ہوتی نہیں، اس کے ساتھ کیا ضروری ہے؟ دوسری رکعت کا ملانا بھی ضروری کیونکہ ادھوری نماز پڑھنے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے ایک رکعت والی نماز سے، تو تو پہلی رکعت تب ہی صحیح ہو گی جب اس کے ساتھ آپ کیا کریں؟ دوسری رکعت ملائیں گے تو یہ نفل بنیں گے، ایک رکعت تو نماز پوری نہیں، تو شروع کرنے کی وجہ سے وہ چیز لازم ہوتی ہے جس میں شروع ہوا اور وہ کونسی رکعت ہے؟ پہلی، اور وہ چیز بھی لازم ہو گی جس پر اس جس چیز کو شروع کیا ہے اس کا وجود موقوف ہو۔ کس کو شروع کیا ہے؟ پہلی رکعت، اور پہلی رکعت کا وجود کس پر موقوف ہے؟ دوسری پر، دوسری ملائے گا تو نماز پوری ہو گی ورنہ تو نماز ہی پوری نہیں، تو لہٰذا شروع کرنے سے ایک وہ چیز لازم ہوتی ہے جس کو شروع کیا جائے اور ایک وہ چیز لازم ہوتی ہے جس پر اس کا وجود موقوف ہے کہ اس کے بغیر یہ ہوتی ہی نہیں۔ تو لہٰذا دوسری بھی اس پر واجب ہو لازم ہو جائے گی، لیکن مزید آگے کی رکعتیں اس پر لازم نہیں کیونکہ آخری دو رکعتیں جو ہیں ان میں ابھی شروع بھی نہیں ہوا تو لہٰذا وہ اس لیے بھی نہیں لازم، نیز آخری دو پر پہلی دو کا وجود بھی موقوف نہیں ہے، پہلی دو پوری ہو جائیں گی یا نہیں جب قعدہ کر لے گا؟ ہو جائیں گی، تو پہلی دو کا وجود آخری دو کے وجود پر موقوف بھی نہیں لہٰذا اس لیے وہ بھی واجب نہیں۔ تو شروع کرنے سے کونسی چیز واجب ہوتی ہے؟ ایک وہ جس کو شروع کیا جائے، دوسری وہ جس پر اس کا وجود موقوف ہو۔ لہٰذا پہلی رکعت واجب کیونکہ اس میں شروع ہوا، دوسری رکعت بھی واجب کیونکہ اس پر پہلی کا وجود موقوف ہے، لیکن تیسری اور چوتھی رکعت وہ واجب نہیں کیونکہ ایک ان میں شروع بھی نہیں ہوا اور ان پر پہلی دو رکعتوں کا وجود بھی موقوف نہیں، دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ“ کہ شروع کرنا یہ لازم کر دیتا ہے کس چیز کو؟ ”مُلْزِمٌ مَا شُرِعَ فِيهِ“ اس چیز کو جس میں شروع ہوا جائے، شروع کرنا یہ لازم کرنے والا ہے اس چیز کو جس میں شروع ہوا جائے ”وَمَا لَا صِحَّةَ لَهُ إِلَّا بِهِ“ اور اس چیز کو لازم کرنے والا ہے شروع کرنا ایک تو اس چیز کو لازم کرنے والا ہے جس میں شروع ہوا جائے اور ایک اس چیز کو کہ کہ اس کی صحت یعنی اس کا صحیح ہونا ہی نہیں ہے بغیر اس کے، اس جس میں شروع ہوا ہے اس کی اس کا صحیح ہونا ہے ہی نہیں بغیر اس کے یعنی جس وہ جس پر یہ موقوف ہے یعنی دوسری رکعت بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے کہ ”أَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ مَا شُرِعَ فِيهِ“ کہ شروع کرنا یہ لازم کرنے والا ہے اس چیز کو جس میں شروع ہوا جائے ”وَمَا لَا صِحَّةَ لَهُ إِلَّا بِهِ“ اور اس چیز کو لازم کرنے والا ہے کہ اس جس میں شروع ہوا ہے اس کا اس کی صحت ہی نہیں ہے مگر اس کے ساتھ یعنی یہ اس پر موقوف ہے۔ یعنی یوں کہیں آسان لفظوں میں کہ شروع کرنا جس چیز میں شروع ہوا جائے اس کو بھی لازم کرنا ہے اس کو بھی لازم کرتا ہے اور جس پر یہ شروع والی چیز جس میں شروع ہوا جس اس کا وجود جس پر موقوف ہے اس کو بھی لازم کر دیتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
”وَصِحَّةُ الشَّفْعِ الْأَوَّلِ لَا تَتَعَلَّقُ بِالثَّانِي“ اور پہلے شفع کا صحیح ہونا اس کا تو تعلق شفعِ ثانی کے ساتھ ہے ہی نہیں، لہٰذا ثانی واجب نہیں ہو گا، ”بِخِلَافِ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ“ بخلاف رکعت دوسری رکعت کے کہ وہ واجب ہو گی کیونکہ اس پر پہلی رکعت موقوف ہے، پہلی رکعت کی صحت ہی تب ہو گی جب دوسری رکعت پائی جائے گی بھئی۔
”وَعَلَى هَذَا سُنَّةُ الظُّهْرِ لِأَنَّهَا نَافِلَةٌ“ اور اسی اختلاف پر ہیں ظہر کی سنتیں بھی ”لِأَنَّهَا نَافِلَةٌ“ کیونکہ وہ بھی نفل ہیں، کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ سنتیں بھی دراصل نفل ہیں لیکن ان کو سنت کہتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پابندی فرمائی ہے اور ان کی تاکید فرمائی ہے، تو اسی اختلاف پر ظہر کی سنتیں بھی ہیں۔ اچھا، اسی اختلاف پر ظہر کی سنتیں بھی ہیں کیونکہ وہ نفل ہیں، تو اگر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد قعدہ کیا اور پھر تیسری کے لیے اٹھنے سے پہلے ہی ان کو فاسد کر دیا، کیا کر دیا؟ فاسد، تو آخری دو کی قضا واجب نہیں کس کے نزدیک؟ طرفین کے نزدیک، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قضا واجب ہے، قضا، تو گویا طرفین کے نزدیک اب اس شخص کے ذمے دو رکعت سنتیں باقی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دو رکعتیں واجب باقی ہیں اب اس کے ذمے، یہ فرق آ جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ سنت تو ہے ہی بہرحال چار رکعتیں لیکن کہتے ہیں: ”وَقِيلَ يَقْضِي أَرْبَعًا“ کہا گیا یعنی بعض مشائخ ہمارے فرماتے ہیں ”يَقْضِي أَرْبَعًا“ کہ اس میں چار ہی کی قضا کرے، کیا کرے؟ چار کی قضا کرے اکٹھی ”احْتِيَاطًا“ بطورِ احتیاط کے ”لِأَنَّهَا بِمَنْزِلَةِ صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک ہی نماز کے درجے میں ہیں، ایک نماز کے درجے میں ہیں۔ تو ورنہ تو مسئلہ کیا بن رہا تھا؟ ضابطے کے مطابق طرفین کے نزدیک دو رکعت اور پڑھے گا اور وہ کیا ہوں گی؟ سنت ہوں گی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دو رکعت پڑھے گا لیکن اب وہ واجب ہوں گی وہ اب قضا کر رہا ہے ان کی، تو لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ چاروں دوبارہ پڑھے کیونکہ یہ چار رکعتیں جو سنت ہیں ایک سلام کے ساتھ حضور علیہ السلام ان کو ادا فرماتے تھے تو ایک سلام کے ساتھ ان کو پڑھے پھر۔
”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا وَلَمْ يَقْرَأْ فِيهِنَّ شَيْئًا أَعَادَ رَكْعَتَيْنِ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي أَرْبَعًا“.
”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا“ اور اگر نماز پڑھنے والے نے چار رکعتیں پڑھیں ”وَلَمْ يَقْرَأْ فِيهِنَّ شَيْئًا“ اور ان میں کسی کے اندر بھی قرأت نہیں کی، ان میں کوئی قرأت نہیں کی کسی بھی یعنی رکعت میں ”أَعَادَ رَكْعَتَيْنِ“ تو دو رکعتوں کا اعادہ کرے گا، دو رکعتوں کی قضا کرے گا ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي أَرْبَعًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ چار کی قضا کرے گا۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے نفل پڑھنا شروع کیے اور چار رکعت کی نیت سے شروع کیے، چار رکعت کی نیت سے، اور پھر چار رکعت تو اس نے پڑھ لیے لیکن ایک رکعت میں بھی اس نے قرأت نہیں کی، جب قرأت نہیں کی تو یہ فاسد ہو گئے اور جب فاسد ہوئے اب ان کی قضا کرنا پڑے گی شروع کرنے کے بعد فاسد ہوئے ہیں، تو کتنے کی قضا کرے گا؟ طرفین فرماتے ہیں دو رکعت کی قضا کرے گا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے چار کی نیت سے شروع کیے تھے لہٰذا کتنے کی قضا کرے گا؟ چار رکعت کی قضا کرے گا، یہ معنی ہے کہ امام صاحب کے طرفین کے نزدیک دو رکعت اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چار رکعت۔
”وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى ثَمَانِيَةِ أَوْجُهٍ“ اور یہ مسئلہ آٹھ صورتوں پر ہے، آٹھ صورت۔ بھئی یہاں آٹھ صورتیں بنتی ہیں، آٹھ صورتیں۔ آٹھ صورتیں بنتی ہیں قرأت کو چھوڑنے کے اعتبار سے۔ پہلی صورت جو متن میں ذکر ہوئی، چاروں میں قرأت نہیں کی، چاروں میں ہی۔ دوسری صورت: پہلی دو میں قرأت نہیں کی آخری دو میں قرأت کی، یہ دوسری صورت۔ تیسری صورت اس کا عکس کر دو: پہلی دو میں کی آخری دو میں قرأت نہیں کی، کتنی صورتیں ہو گئیں؟ تین۔ اچھا، اور چوتھی صورت: چوتھی صورت کہ پہلی کے صرف ایک رکعت میں قرأت نہیں کی باقی سب میں قرأت کی، یہ کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار۔ پانچویں صورت: آخری دو میں سے ایک کے اندر قرأت کو چھوڑ دیا باقی سب میں قرأت کی، کتنی ہو گئیں؟ پانچ صورتیں۔ چھٹی صورت: چھٹی صورت کہ پہلی دونوں میں بھی نہیں کی اور آخری کے ایک میں بھی نہیں کی قرأت، یعنی آخری دو میں سے کسی ایک میں قرأت کی ہے بس پوری نماز میں، چھ ہو گئیں۔ ساتویں صورت: پہلی دو میں سے صرف کسی ایک میں قرأت کی ہے باقی کسی میں بھی قرأت نہیں کی، کتنی ہو گئیں؟ سات صورتیں۔ اور آٹھویں صورت: پہلی کے ایک میں بھی قرأت نہیں کی اور آخری میں سے بھی کسی ایک کے اندر قرأت نہیں کی، یہ آٹھ صورتیں ہیں۔
توجہ ہے؟ کتنی صورتیں ہیں؟ قرأت چھوڑنے کی صورتیں ان چار رکعتوں میں جن میں مسائل مختلف ہوتے ہیں ان پہ نتیجہ مرتب ہو گا ان کے قوانین کے مطابق۔ پہلی صورت کیا ہے؟ چاروں میں قرأت نہیں کی۔ دوسری صورت: پہلی دو میں نہیں کی۔ تیسری صورت: آخری دو میں نہیں کی۔ چوتھی صورت: ہاں پہلے شفع میں ایک میں قرأت کو چھوڑ دیا، اگلی صورت: آخری شفع میں ایک کے اندر قرأت کو چھوڑ دیا، اور چھٹی صورت: یعنی یوں کہیں آخری ایک رکعت میں قرأت کی باقی پہلی دونوں میں بھی نہیں کی اور آخری کے کسی ایک میں بھی نہیں۔ اور ساتویں صورت اس کا عکس: پہلے شفع کے ایک رکعت میں کی باقی آخری دو میں بھی نہیں کی اور پہلی کے کسی ایک میں بھی نہیں، یہ ساتویں صورت۔ آٹھویں صورت: دونوں میں ایک ایک کے اندر قرأت کو چھوڑ دیا۔ آٹھ صورتیں بنتی ہیں، یہ ذہن میں رہیں گی یا مشکل ہو گئیں؟ جی؟ ایک صورت چاروں میں چھوڑ دیا قرأت کو، دوسری صورت پہلی دونوں میں چھوڑ دیا، تیسری صورت آخری دونوں میں چھوڑ دیا، چوتھی صورت دونوں کے جو بھی ترتیب بنا لیں دونوں کی ایک ایک رکعت میں قرأت کو چھوڑ دیا، اچھا، پانچویں صورت پہلی دونوں میں چھوڑ دیا آخری میں ایک کو میں چھوڑ دیا، اگلی صورت آخری دونوں میں چھوڑ دیا اور پہلی میں سے ایک کے اندر چھوڑ دیا، اور اور کونسی صورت؟ تو بہرحال یہ آٹھ صورتیں بنتی ہیں بھئی، آٹھ صورتیں، آٹھ صورتیں۔
کس طرح اس کو ضبط کریں؟ کس طرح یاد رکھیں گے بھئی؟ یوں کہیں قرأت کی کن کن صورت کن کن رکعتوں میں کی اس سے ذرا ترتیب بنائیں۔ پہلی صورت: کسی میں قرأت نہیں کی۔ دوسری صورت: پہلے شفع میں دونوں میں کی آخری میں نہیں۔ تیسری صورت: آخری دو میں کی اور پہلے دو میں نہیں۔ چوتھی صورت: پہلے شفع کے صرف ایک میں قرأت کو چھوڑا ہے بس باقی سب میں کی ہے۔ پانچویں صورت: آخری شفع میں ایک قرأت کو اس ایک میں قرأت کو چھوڑا ہے باقی سب میں قرأت کی ہے۔ چھٹی صورت: دونوں کے ایک ایک میں قرأت نہیں کی، پہلے شفع میں بھی ایک میں قرأت کو چھوڑ دیا دوسرے میں بھی ایک کو چھوڑ دیا۔ ساتویں صورت: پہلے دونوں میں نہیں کی اور آخری ایک میں نہیں کی۔ آٹھویں صورت: کہ آخری دونوں میں بھی قرأت نہیں کی اور پہلی دونوں میں سے ایک کے اندر کی اور ایک کے اندر نہیں کی، تو یہ آٹھ صورتیں ہو گئیں بھئی، آٹھ صورتیں۔
تو کہتے ہیں ”وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى ثَمَانِيَةِ أَوْجُهٍ“ اور یہ مسئلہ جو ہے آٹھ صورت پر ہے۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهَا“ اب ضابطے ذکر کریں گے پھر آپ نے مجھے بتانا ہے کہ کس صورت میں مسئلہ کس کے نزدیک کیا ہو گا، ہمارے تینوں ائمہ کے ضابطے یہاں الگ الگ ہیں دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں تو ”وَالْأَصْلُ فِيهَا“ اصل اس کے اندر یہ ہے ”أَنَّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”تَرْكُ الْقِرَاءَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ أَوْ فِي إِحْدَاهُمَا يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی دونوں میں قرأت کو چھوڑنا یا دونوں میں سے ایک میں قرأت کو چھوڑنا ”يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، ”يُوجِبُ“ أي ”يُثْبِتُ“، یہاں ”يُوجِبُ“ کس معنی میں ہے؟ ”يُثْبِتُ“۔ پہلی دونوں میں یا دونوں میں سے ایک میں قرأت کو چھوڑنا یہ بطلانِ تحریمہ کو ثابت کرتا ہے یعنی تحریمہ باطل ہو جائے گی۔ اگر پہلی دونوں میں قرأت کو چھوڑا یا دونوں میں سے ایک میں قرأت کو چھوڑ دیا تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ ہی باطل ہو جائے گی۔ تحریمہ ہی کیوں باطل ہو گی؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا تُعْقَدُ لِلْأَفْعَالِ“ اس لیے کیونکہ تحریمہ جو ہے اس کو باندھا جاتا ہے افعال کے لیے، کس کے لیے؟ نماز کے افعال ادا کرنے کے لیے، اور افعال کو تو اس نے فاسد کر دیا قرأت کو چھوڑ کر، قرأت تو فرض تھی اس نے کیا کیا؟ فرض کو چھوڑ کر ان نماز کے افعال کو فاسد، جب اعمال فاسد ہو گئے تو تحریمہ ہی کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ جی۔
”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَرْكُ الْقِرَاءَةِ فِي الشَّفْعِ الْأَوَّلِ لَا يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قرأت کا چھوڑنا پہلے شفع میں، چاہے ایک میں چھوڑے چاہے دونوں میں چھوڑے، ”لَا يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“ أي ”لَا يُثْبِتُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، یہ بطلانِ تحریمہ کو ثابت نہیں کرتا یعنی اس سے تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ نماز میں خرابی تو آ جائے گی وہ فرماتے ہیں لیکن تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔
”وَإِنَّمَا يُوجِبُ فَسَادَ الْأَدَاءِ“ تحریمہ تو باطل نہیں ہو گی ”وَإِنَّمَا يُوجِبُ فَسَادَ الْأَدَاءِ“ ہاں البتہ یہ فسادِ ادا کو ثابت کرے گا۔ اگر پہلی دو میں کیا کیا قرأت کو چھوڑ دیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، تو یہ تحریمہ کو تو باطل نہیں کرے گا البتہ ادا کو فاسد کر دے گا، ”يُوجِبُ فَسَادَ الْأَدَاءِ“ یہ فسادِ ادا کو ثابت کر دے گا، صرف ادا فاسد ہو گی۔ کیوں؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ رُكْنٌ زَائِدٌ“ اس لیے کیونکہ قرأت ایک زائد رکن ہے، ہے تو نماز کا رکن لیکن رکنِ زائد ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّ لِلصَّلَاةِ وُجُودًا بِدُونِهَا؟“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ نماز کا وجود بغیر قرأت کے بھی پایا جاتا ہے؟ جیسے گونگے کی نماز، گونگا نماز پڑھتا ہے وہ تو قرأت کرنے پر قادر ہی نہیں ہے تو دیکھو نماز پائی جا رہی ہے اور بغیر قرأت کے ہے، معلوم ہوا یہ قرأت رکن تو ہے لیکن کیا ہے؟ رکنِ زائد ہے۔
”غَيْرَ أَنَّهُ لَا صِحَّةَ لِلْأَدَاءِ إِلَّا بِهَا“ مگر یہ، مگر یہ کہ ”لَا صِحَّةَ لِلْأَدَاءِ“ ادا صحیح نہیں ہے ”إِلَّا بِهَا“ مگر قرأت کے ساتھ، یعنی ادا قرأت کے بغیر صحیح نہیں ہے، یعنی ادا فاسد ہو جائے گی، ادا کیا ہو گی؟ فاسد ہو جائے گی۔
”وَفَسَادُ الْأَدَاءِ لَا يَزِيدُ عَلَى تَرْكِهِ“ اور فسادِ ادا جو ہے یہ بڑھ کر نہیں ہے ”عَلَى تَرْكِهِ“ أي ”تَرْكِ الْأَدَاءِ“، ترکِ ادا پر۔ فسادِ ادا ترکِ ادا پر زائد نہیں ہے، اس سے بڑھ کر نہیں۔ ”فَلَا يَبْطُلُ التَّحْرِيمَةُ“ لہٰذا تحریمہ باطل نہیں۔
بھئی دیکھیے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلے شفع میں قرأت کو کوئی چھوڑ دے چاہے ایک میں چھوڑے چاہے دونوں کو چھوڑے اس سے تحریمہ باطل نہیں ہو گی، صرف ادا کے اندر فساد اور خرابی آئے گی اور تحریمہ کیوں نہیں باطل ہو گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے قرأت کو چھوڑا ہے اور قرأت ایک رکنِ زائد ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ قرأت کے بغیر بھی نماز کا وجود پایا جاتا ہے جیسے گونگے کی نماز ہوتی ہے، مگر یہ ہے کہ قرأت ہے تو رکنِ زائد لیکن اس کو چھوڑنے سے ادا میں فساد آ جاتا ہے، ادا کیا ہو جاتی ہے؟ نماز کی ادا فاسد ہو جاتی ہے، تو فساد کس میں آیا؟ ادا میں، ادا میں۔ اور ایک ہے ادا میں فساد آنا، ادا میں کا فاسد ہو جانا، اور ایک ہے ادا کو بالکل چھوڑ دینا، کیا بڑھ کر کونسی چیز زیادہ ہے؟ بالکل ادا کو چھوڑ دینا، اور ترکِ ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فسادِ ادا کی صورت میں بطریقِ اولیٰ باطل نہیں ہو گی۔
وہ کیا فرماتے ہیں؟ قرأت کو چھوڑا ہے تو فساد صرف کس میں آئے گا؟ ادا میں آئے گا، اور تو فسادِ ادا آیا، اور ایک ہے ترکِ ادا، ترکِ ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فسادِ ادا کی صورت میں بطریقِ اولیٰ تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ بھئی ترکِ ادا میں تحریمہ کیسے باطل نہیں ہوتی؟ بھئی دیکھیے، ایک آدمی ہے اس نے نماز پڑھنا شروع کی، ایک رکعت پڑھنے کے بعد اس کا وضو ٹوٹ گیا، آپ نے حکم پڑھ لیا، کیا کر سکتا ہے وہ؟ بنا کر سکتا ہے یا نہیں؟ وہ یہاں سے پلٹے جائے، جا کر سیدھا جا کر وضو کرے اور پھر سیدھا آ کر اسی نماز پر بنا کر لے یعنی وہیں سے نماز شروع کر دے جہاں جس رکن سے وضو ٹوٹا تھا، تو دیکھو بنا کر رہا ہے، بنا کر رہا ہے، درمیان میں کوئی منافیِ صلاۃ عمل کی اجازت نہیں ورنہ پھر بنا صحیح نہیں۔ اب دیکھیے یہ جب اس کا وضو ٹوٹا یہ واپس پلٹ کر چل پڑا تو اس نے ادا کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟ تو دیکھو ترکِ ادا ہے اور ترکِ ادا کے باوجود آپ کہہ رہے ہیں کہ بنا کر سکتا ہے تحریمہ باطل نہیں، تو جب ترکِ ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فسادِ ادا کا درجہ تو اس سے کم ہے اس میں بطریقِ اولیٰ تحریمہ باطل نہیں ہو گی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے ”وَفَسَادُ“
قَالَ: ”وَمَنْ شَرَعَ فِي نَافِلَةٍ ثُمَّ أَفْسَدَهَا قَضَاهَا، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِيهِ وَلَا لُزُومَ عَلَى الْمُتَبَرِّعِ، وَلَنَا أَنَّ الْمُؤَدَّى وَقَعَ قُرْبَةً فَيَلْزَمُ الْإِتْمَامُ ضَرُورَةَ صِيَانَتِهِ عَنِ الْبُطْلَانِ“.
”قَالَ: وَمَنْ شَرَعَ فِي نَافِلَةٍ“. بھئی گزشتہ سبق میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ نفلوں میں ہر دو رکعت وہ علیحدہ نماز کی طرح ہے۔ نفلوں میں سے ہر دو رکعت وہ علیحدہ نماز کی طرح ہے، لہٰذا اگر ایک ہی تحریمہ کے ساتھ کوئی چار رکعت ادا کرے تو بھی جب وہ تیسری رکعت کی طرف اٹھتا ہے تو یہ اسی طرح ہے گویا یہ نئی تحریمہ ہے، نئی تحریمہ ہے۔
اب مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں، قراءت کے مسائل ذکر ہوئے تھے اور بتلایا تھا کہ نفلوں کی ہر رکعت کے اندر قراءت پڑھنا واجب ہے، فرض ہے بھئی، فرض ہے۔
تو اولا یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جس نے ایک دفعہ نفل شروع کر دیے شروع کرنے سے پہلے تو وہ نفل ہیں لیکن جب شروع کر دیے تو اب وہ واجب ہو گئے۔ اب اگر ان کو وہ باطل کرتا ہے تو اس کو ان کی قضا کرنا پڑے گی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، نفل نفل ہی ہیں بے شک شروع بھی کیوں نہ کر دیے جائیں، لہٰذا اگر ان کو وہ فاسد کر دیتا ہے تو بعد میں اس پر ان کی قضا ان کی قضا اس پر نہیں ہے بھئی۔
جبکہ ہم کہتے ہیں قضا ائے گی۔ جب تک شروع نہیں کیے تھے اس کو اختیار تھا نہ شروع کرتا، لیکن جب شروع کر دیے اب پورا کرنا پڑے گا، کیونکہ اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾، تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، اور یہ بھی اعمال میں سے ایک عمل ہے، عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے، لہٰذا اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری اور باطل ہونے سے یہ بچانے کی یہی صورت ہے کہ اس کی قضا کی جائے اور اس کو پورا کر لیا جائے۔
کہتے ہیں صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”قَالَ: وَمَنْ شَرَعَ فِي نَافِلَةٍ“، اور جو شخص نفلوں میں شروع ہوا، ”ثُمَّ أَفْسَدَهَا“، پھر ان کو فاسد کر دیا، ”قَضَاهَا“، تو ان کی قضا کرے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر قضا نہیں ہے اس کی، ”لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِيهِ“، اس لیے کیونکہ وہ ان کے کرنے میں متبرع تھا۔ ان میں کیا تھا؟ متبرع۔ متبرع کہتے ہیں وہ شخص جو اپنی جانب سے کوئی چیز دے، اپنی جانب سے کوئی فعل کرے جو اس پر لازم نہ ہو، جو اس پر لازم نہ ہو، مثلاً بھئی آپ کسی شخص کو اپنے ساتھی کو ویسے ہی کچھ رقم دے دیتے ہیں، نہ آپ پر قرض وغیرہ دین کچھ بھی نہیں تھا، آپ یہ اپنی طرف سے دے رہے ہیں، آپ پر یہ پیسے دینا لازم نہیں تھے، تو اس کو کہیں گے تبرع۔ کیا کہیں گے؟ تبرع، اور آپ متبرع ہوئے۔ اسی طرح نفل ادا کرنے والا بھی متبرع ہے، یہ نفل اس کے ذمے لازم نہیں تھے، وہ اپنی طرف سے ان کو ادا کر رہا ہے ثواب کی نیت سے، تو یعنی جو کام یہ ثواب کی نیت سے کیا جائے وہ ہے تبرع بھئی، کیا ہے؟ یعنی زائد چیز جو انسان پر لازم نہ ہو۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِيهِ“، کیونکہ نفل پڑھنے والا نفلوں کے پڑھنے میں متبرع ہے، یہ اس پر لازم نہیں تھے، ”وَلَا لُزُومَ عَلَى الْمُتَبَرِّعِ“، اور متبرع پر کوئی چیز لازم نہیں ہوتی، تو اس پر اس کو لازم نہیں قرار دیں گے۔
”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الْمُؤَدَّى وَقَعَ قُرْبَةً“، کہ وہ جو ادا کر دیا گیا وہ قربت ہو کر واقع ہوا ہے۔ بھئی دیکھیے! نفل نفل ہی تھے، لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے تو جو کچھ حصہ کے بعد اس نے فاسد کر دیے، پورے نہیں کیے، کیا کیا ان کو؟ فاسد۔ تو کچھ حصہ گزر گیا یا نہیں؟ گزر گیا، اور وہ تو کیا تھا؟ عبادت تھا، کیا تھا؟ عبادت تھا، اور اب اس نے فاسد کر دیا ہے اس کو، تو لہٰذا وہ جو حصہ ادا ہو چکا اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری ہے، اور اس کے بچانے کی یہی صورت ہے کہ بعد میں اس کی کیا کی جائے؟ قضا، ورنہ تو وہ حصہ بھی باطل چلا جائے گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟
تو ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْمُؤَدَّى وَقَعَ قُرْبَةً“، کہ وہ جو ادا کر دیا گیا یعنی کچھ حصہ جو ادا کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس نے پھر نفلوں کو فاسد کر دیا، وہ حصہ جو ادا کر دیا گیا ہے ”وَقَعَ قُرْبَةً“، وہ قربت واقع ہوا ہے یعنی عبادت کے طور پر واقع ہوا ہے۔ قربت، عبادت کو جو اللہ کے قرب کا سبب ہو، وہ قربت واقع ہوا ہے، ”فَيَلْزَمُ الْإِتْمَامُ“، تو اس کو پورا کرنا لازم ہے، ”ضَرُورَةَ صِيَانَتِهِ عَنِ الْبُطْلَانِ“، ”ضَرُورَةَ صِيَانَتِهِ“، اس کو بچانا ضروری ہونے کی وجہ سے، کس چیز سے بچانا؟ ”عَنِ الْبُطْلَانِ“، اس وجہ سے اس کو باطل ہونے سے بچانا ضروری ہے، اس لیے پورا کرنا لازم ہوگا، اور باطل ہونے سے بچانا کیوں ضروری؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾، تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو۔
”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا وَقَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ وَقَعَدَ ثُمَّ أَفْسَدَ الْأُخْرَيَيْنِ قَضَى رَكْعَتَيْنِ لِأَنَّ الشَّفْعَ الْأَوَّلَ قَدْ تَمَّ“. صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے چار رکعت کی نیت کے ساتھ نفل پڑھنا شروع کیے، چار رکعت پڑھنے کی نیت کی، اور پہلی دو رکعتوں میں اس نے قراءت بھی کی اور دو رکعتوں کے بعد اس نے قعدہ بھی کیا، اور پھر اگلی دو رکعتوں کو اس نے فاسد کر دیا، فاسد کر دیا، تو پھر اس پر صرف دو رکعتوں کی قضا ہے، کتنی رکعتوں کی؟ دو رکعتوں کی، اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ نفلوں کے اندر ہر دو رکعت جو ہیں وہ علیحدہ نماز ہیں، اور پہلی دو رکعتوں میں اس نے قراءت بھی کی تھی اور آخر میں دو رکعت کے بعد قعدہ بھی کیا تھا تو وہ دو پہلی رکعتیں پوری ہو گئیں، اور اگلی دو رکعتیں وہ الگ نماز ہیں ان کو اس نے فاسد کیا ہے تو صرف اس کی قضا اس پر آئے گی، آخری دو رکعتوں کی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ چاروں رکعتوں کی قضا نہیں، یہ بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: ”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا“، اور اگر اس نے چار رکعت پڑھیں یعنی چار رکعت شروع کیں چار رکعت کی نیت سے نماز، ”وَقَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ“، اور قراءت کی پہلی دو رکعتوں میں، ”وَقَعَدَ“، اور پھر کیا کیا؟ قعدہ کیا، بیٹھا دو رکعتوں کے بعد، یہ قید ضروری ہے، اس لیے کیونکہ اگر اس نے قعدہ نہ کیا، دو رکعتیں پڑھنے کے بعد قعدہ نہیں کیا، بھول کر کھڑا ہو گیا اور پھر اگلی دو کو فاسد کر دیا، تو اب اگلی دو تو ہوئیں فاسد ان کی تو قضا ہے ہی، پہلی دو بھی فاسد ہو گئیں کیونکہ ان کے اندر قعدہ اخیرہ نہیں کیا اور قعدہ اخیرہ تو کیا ہوتا ہے نماز کے اندر؟ فرض ہوتا ہے، اور فرض رہ جائے تو نماز ہی نہیں، تو پہلی دو بھی فاسد ہو گئیں اور آخری دو کو اس نے فاسد کر دیا تو چاروں کی قضا اس کو کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے کہا: ”وَقَعَدَ“، اور وہ بیٹھا بھی دو رکعت کے بعد، ”ثُمَّ أَفْسَدَ الْأُخْرَيَيْنِ“، پھر اس نے آخری دو کو فاسد کر دیا، ”قَضَى رَكْعَتَيْنِ“، تو دو رکعت کی قضا کرے گا، اور کون سی والی دو؟ آخری والی دو جو ہیں۔ ”لِأَنَّ الشَّفْعَ الْأَوَّلَ قَدْ تَمَّ“، اس لیے کیونکہ پہلا شفع وہ تحقیق مکمل ہو چکا ہے یعنی پہلی دو رکعت مکمل ہو چکی ہیں کیونکہ اس میں قراءت بھی اس نے کی ہے اور قعدہ بھی کیا ہے۔
”وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ بِمَنْزِلَةِ تَحْرِيمَةِ الْمُبْتَدَأَةِ“، اور تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یہ نئی تحریمہ کے درجے میں ہے۔ نفلوں میں آپ پڑھ چکے، جب تیسری رکعت کے لیے انسان اٹھتا ہے تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ نئی تحریمہ کے درجے میں ہے، گویا نئے سرے سے تکبیر تحریمہ وہ کہہ رہا ہے، دو الگ نفل اب وہ گویا پڑھ رہا ہے۔ تو یہ قیام کس کے درجے میں ہوا؟ نئی تحریمہ کے درجے میں ہوا، ”فَيَكُونُ مُلْزِمًا“، تو یہ قیام اس پر ان نفلوں کو یعنی اس آخری شفعے کو لازم کرنے والا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بھئی نفل جب تک شروع نہیں کیے وہ نفل ہیں لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے وہ کیا ہو جاتے ہیں؟ واجب ہو جاتے ہیں۔ تو گویا تکبیر تحریمہ جب کسی نے کہہ دی تو اس پر وہ نفل کیا ہو گئے؟ واجب ہو گئے۔ اور یہاں پر تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یعنی یہ جو قیام ہے تیسری رکعت کی طرف، یہ کس کے درجے میں؟ تحریمہ کے درجے میں، لہٰذا جب یہ قیام پایا جائے گا، وہ تیسری رکعت کی طرف اٹھ جائے گا تو گویا اس نے نئی تحریمہ باندھ لی، نئی تحریمہ سے نماز شروع کر دی، تو یہ قیام تحریمہ کے درجے میں، اور تحریمہ تو کیا کرتی تھی؟ نفلوں کو لازم کر دیتی تھی، واجب کر دیتی تھی، تو یہ قیام بھی کیا کر دے گا اس پر نفلوں کو؟ واجب کر دے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ بِمَنْزِلَةِ تَحْرِيمَةِ الْمُبْتَدَأَةِ فَيَكُونُ مُلْزِمًا“، اور تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یہ نئی تحریمہ کے درجے میں ہے تو یہ قیام اس پر لازم کرنے والا ہے یعنی اگلی دو رکعتوں کو۔
”هَذَا إِذَا أَفْسَدَ الْأُخْرَيَيْنِ بَعْدَ الشُّرُوعِ فِيهِمَا“، اور یہ مسئلہ اس وقت ہے جب اس نے آخری دو رکعتوں کو فاسد کیا ہو ان میں شروع ہو جانے کے بعد یعنی آخری دو کو شروع کر دیا تھا، ان کے لیے اٹھ گیا تھا، پھر ان کو فاسد کیا تو ان کی قضا کرنا پڑے گی جیسا متن میں آیا، آخری دو کے لیے وہ اٹھ گیا تھا پھر ان کو فاسد کیا ہے۔
”وَلَوْ أَفْسَدَ قَبْلَ الشُّرُوعِ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي“، اور اگر اس نے فاسد کر دیا شفع ثانی میں شروع ہونے سے پہلے ہی، اگر کیا کیا؟ شفع ثانی میں شروع ہونے سے پہلے ہی نماز کو فاسد کر دیا، مثلاً بھئی چار رکعت کی نیت سے نماز شروع کی، دو رکعتیں پوری ہو گئیں، اس میں اس نے قراءت بھی کی ہے سارے ارکان ادا کیے، آخر میں قعدہ بھی کر لیا، اب تیسری کے لیے اٹھا نہیں تھا اس سے پہلے اس نے ان کو فاسد کر دیا، تو جب اٹھا نہیں تو اگلی دو اس پر لازم نہیں، اور اس میں پہلی دو کے لیے تو وہ قعدہ بھی کر چکا تو وہ پوری ہو گئیں، وہ ادا ہو گئیں، اور آخری دو کی اس پر قضا نہیں کیونکہ اس نے ان کو ابھی شروع ہی نہیں کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ أَفْسَدَ قَبْلَ الشُّرُوعِ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي لَا يَقْضِي الْأُخْرَيَيْنِ“، اور اگر اس نے فاسد کر دیا نماز کو شفع ثانی میں یعنی آخری دو رکعتوں میں شروع ہونے سے پہلے ہی تو یہ آخری دو کی قضا نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس پر لازم ہی نہیں ہوئیں، کیونکہ اس نے قیام ہی نہیں کیا، قیام تحریمہ کے درجے میں تھا، قیام پایا جاتا تیسری رکعت کی طرف تو وہ اس پر لازم ہو جاتیں، لیکن اس نے تو وہ قیام کیا ہی نہیں، اس سے پہلے ہی نماز کو فاسد کر دیا۔
اور یاد رکھیے یہ مذہب ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی، طرفین۔ بلکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، البتہ اولا وہ ان کا اور قول تھا جو آگے ذکر ہو رہا ہے، بعد میں انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تھا، تو اس قول کے مطابق امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، آخری دو کی وہ قضا کرے گا۔ طرفین تو فرماتے ہیں تیسری رکعت کی طرف اٹھنے سے پہلے ہی نماز کو فاسد کر دیا تو پہلی دو پوری ہو چکیں، اگلی نے لازم ہونا تھا قیام کے بعد، لیکن اس نے تو قیام کیا ہی نہیں اس سے پہلے ہی فاسد کر دیا تو اگلی دو بھی اس پر لازم نہیں، لہٰذا ان کی قضا بھی اس کے ذمے نہیں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، کہ اگلی دو کی قضا اس کے ذمے لازم ہے بھئی۔ یہ ایک روایت آئی کس سے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے جس سے انہوں نے رجوع کر لیا تھا۔
کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقْضِي“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ قضا کرے گا یعنی آخری دو کی، ”اعْتِبَارًا لِلشُّرُوعِ بِالنَّذْرِ“، وہ قیاس کرتے ہیں شروع کرنے کو نذر پر، منت پر، کس پر قیاس کرتے ہیں؟ منت پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے چار رکعت کی نیت سے نفل شروع کیے تو چاروں اس پر لازم ہو گئے۔ دو اس میں سے پورے کر چکا ہے اور دو ابھی باقی ہیں تو اس کو ان کی قضا کرنا پڑے گی، کیونکہ شروع کرنے سے کوئی چیز لازم ہو جاتی ہے، اور اس نے بھی کس نیت سے شروع کیے تھے؟ دو رکعت یا چار رکعت؟ چار رکعت کی نیت سے شروع کیے تھے تو چار اس پر لازم ہو گئے تھے، اور ان میں سے دو پورے کر چکا ہے دو ابھی بھی اس کے ذمے باقی ہیں، اور وہ اس کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ منت پر، کہ جیسے منت سے کوئی چیز کسی پر واجب ہو جاتی ہے اسی طرح شروع کرنے سے بھی ایک چیز، آپ منت مانگتے ہیں کہ اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں چار نفل پڑھوں گا، اور وہ کام آپ کا ہو جاتا ہے تو آپ پر چار نفل کیا ہو جاتے ہیں؟ لازم۔ تو منت سے جیسے کوئی چیز لازم ہوتی ہے اسی طرح شروع کرنے سے بھی چیز لازم ہو جاتی ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقْضِي اعْتِبَارًا لِلشُّرُوعِ بِالنَّذْرِ“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ قضا کرے گا قیاس کرتے ہوئے شروع کرنے کو، کس پر شروع کو انہوں نے قیاس کیا ہے؟ شروع کو قیاس کرتے ہوئے بنذر، منت پر۔
”وَلَهُمَا“، اور طرفین کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ مَا شُرِعَ فِيهِ وَمَا لَا صِحَّةَ لَهُ إِلَّا بِهِ“. بھئی توجہ سے سننا بھئی! طرفین فرماتے ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی کیا دلیل آئی؟ کہ شروع کرنے سے ایک چیز لازم ہو جاتی ہے جیسے منت کی وجہ سے ایک چیز لازم ہو جاتی ہے۔ طرفین فرماتے ہیں ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، کوئی چیز شروع کی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے، لیکن کیا کیا لازم ہوتا ہے؟ وہ فرماتے ہیں: ایک تو جس چیز کو شروع کیا وہ لازم ہوتی ہے، اور ایک جس پر اس کا وجود موقوف ہے وہ لازم ہو گی۔
توجہ ہے؟ شروع کرنے سے کیا چیز لازم ہو گی؟ ایک جس کو شروع کیا، تو جیسے ہی اس نے شروع کیا تھا اور شروع کس کو کیا تھا؟ پہلی رکعت کو، کس کو؟ پہلی کو، تو پہلی رکعت اس پر لازم ہو گئی۔ اور اکیلی ایک رکعت کی تو نماز ہوتی نہیں، اس کے ساتھ کیا ضروری ہے؟ دوسری رکعت کا ملانا بھی ضروری ہے، کیونکہ ادھوری نماز پڑھنے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے ایک رکعت والی نماز سے، تو پہلی رکعت تب ہی صحیح ہو گی جب اس کے ساتھ آپ کیا کریں؟ دوسری رکعت ملائیں گے تو یہ نفل بنیں گے، ایک رکعت تو نماز پوری نہیں، تو شروع کرنے کی وجہ سے وہ چیز لازم ہوتی ہے جس میں شروع ہوا اور وہ کون سی رکعت ہے؟ پہلی، اور وہ چیز بھی لازم ہو گی جس پر اس جس چیز کو شروع کیا ہے اس کا وجود موقوف ہو، کس کو شروع کیا ہے؟ پہلی رکعت، اور پہلی رکعت کا وجود کس پر موقوف ہے؟ دوسری پر، دوسری ملائے گا تو نماز پوری ہو گی ورنہ تو نماز ہی پوری نہیں۔ تو لہٰذا شروع کرنے سے ایک وہ چیز لازم ہوتی ہے جس کو شروع کیا جائے، اور ایک وہ چیز لازم ہوتی ہے جس پر اس کا وجود موقوف ہے کہ اس کے بغیر یہ ہوتی ہی نہیں۔ تو لہٰذا دوسری بھی اس پر لازم ہو جائے گی، لیکن مزید آگے کی رکعتیں اس پر لازم نہیں، کیونکہ آخری دو رکعتیں جو ہیں ان میں ابھی شروع بھی نہیں ہوا، لہٰذا وہ اس لیے بھی نہیں لازم، نیز آخری دو پر پہلی دو کا وجود بھی موقوف نہیں ہے، پہلی دو پوری ہو جائیں گی یا نہیں جب قعدہ کر لے گا؟ ہو جائیں گی، تو پہلی دو کا وجود آخری دو کے وجود پر موقوف بھی نہیں، لہٰذا اس لیے وہ بھی واجب نہیں۔ تو شروع کرنے سے کون سی چیز واجب ہوتی ہے؟ ایک وہ جس کو شروع کیا جائے، دوسری وہ جس پر اس کا وجود موقوف ہو۔ لہٰذا پہلی رکعت واجب کیونکہ اس میں شروع ہوا، دوسری رکعت بھی واجب کیونکہ اس پر پہلی کا وجود موقوف ہے، لیکن تیسری اور چوتھی رکعت وہ واجب نہیں کیونکہ ایک ان میں شروع بھی نہیں ہوا اور ان پر پہلی دو رکعتوں کا وجود بھی موقوف نہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَلَهُمَا“، طرفین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ“، کہ شروع کرنا یہ لازم کر دیتا ہے، کس چیز کو؟ ”مُلْزِمٌ مَا شُرِعَ فِيهِ“، اس چیز کو جس میں شروع ہوا جائے، شروع کرنا یہ لازم کرنے والا ہے اس چیز کو جس میں شروع ہوا جائے، ”وَمَا لَا صِحَّةَ لَهُ إِلَّا بِهِ“، اور اس چیز کو لازم کرنے والا ہے شروع کرنا، ایک تو اس چیز کو لازم کرنے والا ہے جس میں شروع ہوا جائے اور ایک اس چیز کو کہ اس کی صحت یعنی اس کا صحیح ہونا ہی نہیں ہے بغیر اس کے، اس جس میں شروع ہوا ہے اس کا صحیح ہونا ہے ہی نہیں بغیر اس کے یعنی جس وہ جس پر یہ موقوف ہے یعنی دوسری رکعت بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: ”أَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ مَا شُرِعَ فِيهِ وَمَا لَا صِحَّةَ لَهُ إِلَّا بِهِ“، کہ شروع کرنا یہ لازم کرنے والا ہے اس چیز کو جس میں شروع ہوا جائے اور اس چیز کو لازم کرنے والا ہے کہ اس جس میں شروع ہوا ہے اس کی صحت ہی نہیں ہے مگر اس کے ساتھ یعنی یہ اس پر موقوف ہے، یعنی یوں کہیں آسان لفظوں میں کہ شروع کرنا جس چیز میں شروع ہوا جائے اس کو بھی لازم کرتا ہے اور جس پر یہ شروع والی چیز جس میں شروع ہوا جس اس کا وجود جس پر موقوف ہے اس کو بھی لازم کر دیتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
”وَصِحَّةُ الشَّفْعِ الْأَوَّلِ لَا تَتَعَلَّقُ بِالثَّانِي“، اور پہلے شفع کا صحیح ہونا اس کا تو تعلق شفع ثانی کے ساتھ ہے ہی نہیں، لہٰذا ثانی واجب نہیں ہو گا، ”بِخِلَافِ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ“، بخلاف رکعت دوسری رکعت کے کہ وہ واجب ہو گی کیونکہ اس پر پہلی رکعت موقوف ہے، پہلی رکعت کی صحت ہی تب ہو گی جب دوسری رکعت پائی جائے گی بھئی۔
”وَعَلَى هَذَا سُنَّةُ الظُّهْرِ لِأَنَّهَا نَافِلَةٌ“، اور اسی اختلاف پر ہیں ظہر کی سنتیں بھی، ”لِأَنَّهَا نَافِلَةٌ“، کیونکہ وہ بھی نفل ہیں، کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ سنتیں بھی دراصل نفل ہیں لیکن ان کو سنت کہتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پابندی فرمائی ہے اور ان کی تاکید فرمائی ہے، تو اسی اختلاف پر ظہر کی سنتیں بھی ہیں۔ اچھا، اسی اختلاف پر ظہر کی سنتیں بھی ہیں کیونکہ وہ نفل ہیں، تو اگر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد قعدہ کیا اور پھر تیسری کے لیے اٹھنے سے پہلے ہی ان کو فاسد کر دیا، کیا کر دیا؟ فاسد، تو آخری دو کی قضا واجب نہیں کس کے نزدیک؟ طرفین کے نزدیک، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قضا واجب ہے، قضا۔ تو گویا طرفین کے نزدیک اب اس شخص کے ذمے دو رکعت سنتیں باقی ہیں، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دو رکعتیں واجب باقی ہیں اب اس کے ذمے، یہ فرق آ جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ سنت تو ہے ہی بہرحال چار رکعتیں، لیکن کہتے ہیں: ”وَقِيلَ يَقْضِي أَرْبَعًا“، کہا گیا یعنی بعض مشائخ ہمارے فرماتے ہیں: ”يَقْضِي أَرْبَعًا“، کہ اس میں چار ہی کی قضا کرے، کیا کرے؟ چار کی قضا کرے اکٹھی، احتیاطاً، بطور احتیاط کے، ”لِأَنَّهَا بِمَنْزِلَةِ صَلَاةٍ وَاحِدَةٍ“، اس لیے کیونکہ یہ ایک ہی نماز کے درجے میں ہیں، ایک نماز کے درجے میں ہیں۔ ورنہ تو مسئلہ کیا بن رہا تھا؟ ضابطے کے مطابق طرفین کے نزدیک دو رکعت اور پڑھے گا اور وہ کیا ہوں گی؟ سنت ہوں گی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دو رکعت پڑھے گا لیکن اب وہ واجب ہوں گی وہ اب قضا کر رہا ہے ان کی، تو لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ چاروں دوبارہ پڑھے کیونکہ یہ چار رکعتیں جو سنت ہیں ایک سلام کے ساتھ حضور علیہ السلام ان کو ادا فرماتے تھے تو ایک سلام کے ساتھ ان کو پڑھے پھر۔
”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا وَلَمْ يَقْرَأْ فِيهِنَّ شَيْئًا أَعَادَ رَكْعَتَيْنِ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي أَرْبَعًا“. ”وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا“، اور اگر نماز پڑھنے والے نے چار رکعتیں پڑھیں، ”وَلَمْ يَقْرَأْ فِيهِنَّ شَيْئًا“، اور ان میں کسی کے اندر بھی قراءت نہیں کی، ان میں کوئی قراءت نہیں کی کسی بھی یعنی رکعت میں، ”أَعَادَ رَكْعَتَيْنِ“، تو دو رکعتوں کا اعادہ کرے گا، دو رکعتوں کی قضا کرے گا، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ“، اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي أَرْبَعًا“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ چار کی قضا کرے گا۔
صورت مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے نفل پڑھنا شروع کیے اور چار رکعت کی نیت سے شروع کیے، چار رکعت کی نیت سے، اور پھر چار رکعت تو اس نے پڑھ لیے لیکن ایک رکعت میں بھی اس نے قراءت نہیں کی، جب قراءت نہیں کی تو یہ فاسد ہو گئے، اور جب فاسد ہوئے اب ان کی قضا کرنا پڑے گی شروع کرنے کے بعد فاسد ہوئے ہیں۔ تو کتنے کی قضا کرے گا؟ طرفین فرماتے ہیں دو رکعت کی قضا کرے گا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے چار کی نیت سے شروع کیے تھے لہٰذا کتنے کی قضا کرے گا؟ چار رکعت کی قضا کرے گا۔ یہ معنی ہے کہ امام صاحب کے طرفین کے نزدیک دو رکعت اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چار رکعت۔
”وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى ثَمَانِيَةِ أَوْجُهٍ“، اور یہ مسئلہ آٹھ صورتوں پر ہے، آٹھ صورت۔ بھئی یہاں آٹھ صورتیں بنتی ہیں، آٹھ صورتیں۔ آٹھ صورتیں بنتی ہیں قراءت کو چھوڑنے کے اعتبار سے۔ پہلی صورت جو متن میں ذکر ہوئی: چاروں میں قراءت نہیں کی۔ چاروں میں ہی؟ قراءت نہیں۔ دوسری صورت: پہلی دو میں قراءت نہیں کی، آخری دو میں قراءت کی، یہ دوسری صورت۔ تیسری صورت اس کا عکس کر دو: پہلی دو میں کی، آخری دو میں قراءت نہیں کی، کتنی صورتیں ہو گئیں؟ تین۔ اچھا، اور چوتھی صورت: چوتھی صورت کہ پہلی کے صرف ایک رکعت میں قراءت نہیں کی، باقی سب میں قراءت کی، یہ کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار۔ پانچویں صورت: آخری دو میں سے ایک کے اندر قراءت کو چھوڑ دیا باقی سب میں قراءت کی، کتنی ہو گئیں؟ پانچ صورتیں۔ چھٹی صورت: چھٹی صورت کہ پہلی دونوں میں بھی نہیں کی اور آخری کے ایک میں بھی نہیں کی قراءت، یعنی آخری دو میں سے کسی ایک میں قراءت کی ہے بس پوری نماز میں، چھ ہو گئیں۔ ساتویں صورت: پہلی دو میں سے صرف کسی ایک میں قراءت کی ہے باقی کسی میں بھی قراءت نہیں کی، کتنی ہو گئیں؟ سات صورتیں۔ اور آٹھویں صورت: پہلی کے ایک میں بھی قراءت نہیں کی اور آخری میں سے بھی کسی ایک کے اندر قراءت نہیں کی، یہ آٹھ صورتیں ہیں۔ توجہ ہے؟ کتنی صورتیں ہیں؟ قراءت چھوڑنے کی صورتیں ان چار رکعتوں میں جن میں مسائل مختلف ہوتے ہیں ان پہ نتیجہ مرتب ہو گا ان کے قوانین کے مطابق۔ پہلی صورت کیا ہے؟ چاروں میں قراءت نہیں کی۔ دوسری صورت؟ پہلی دو میں نہیں کی۔ تیسری صورت؟ آخری دو میں نہیں کی۔ چوتھی صورت؟ ہاں پہلے شفعے میں ایک میں قراءت کو چھوڑ دیا۔ اگلی صورت؟ آخری شفعے میں ایک کے اندر قراءت کو چھوڑ دیا۔ اور چھٹی صورت؟ یعنی یوں کہیں، آخری ایک رکعت میں قراءت کی باقی پہلی دونوں میں بھی نہیں کی اور آخری کے کسی ایک میں بھی نہیں۔ اور ساتویں صورت اس کا عکس: پہلے شفعے کے ایک رکعت میں کی باقی آخری دو میں بھی نہیں کی اور پہلی کے کسی ایک میں بھی نہیں۔ یہ ساتویں صورت۔ آٹھویں صورت: دونوں میں ایک ایک کے اندر قراءت کو چھوڑ دیا۔ آٹھ صورتیں بنتی ہیں، یہ ذہن میں رہیں گی یا مشکل ہو گئیں؟ ایک صورت چاروں میں چھوڑ دیا قراءت کو، دوسری صورت پہلی دونوں میں چھوڑ دیا، تیسری صورت آخری دونوں میں چھوڑ دیا، چوتھی صورت دونوں کے، جو بھی ترتیب بنا لیں، دونوں کی ایک ایک رکعت میں قراءت کو چھوڑ دیا، اچھا، پانچویں صورت پہلی دونوں میں چھوڑ دیا آخری میں ایک کو میں چھوڑ دیا، اگلی صورت آخری دونوں میں چھوڑ دیا اور پہلی میں سے ایک کے اندر چھوڑ دیا، اور اور کون سی صورت؟ تو بہرحال یہ آٹھ صورتیں بنتی ہیں بھئی، آٹھ صورتیں، آٹھ صورتیں۔ کس طرح اس کو ضبط کریں، کس طرح یاد رکھیں گے بھئی؟ یوں کہیں قراءت کی کن کن صورت کن کن رکعتوں میں کی اس سے ذرا ترتیب بنائیں: پہلی صورت کسی میں قراءت نہیں کی، دوسری صورت پہلے شفعے میں دونوں میں کی آخری میں نہیں کی، تیسری صورت آخری دو میں کی اور پہلے دو میں نہیں کی، چوتھی صورت پہلے شفعے کے صرف ایک میں قراءت کو چھوڑا ہے بس باقی سب میں کی ہے، پانچویں صورت آخری شفعے میں ایک کو قراءت کو ایک میں قراءت کو چھوڑا ہے باقی سب میں قراءت کی ہے، چھٹی صورت دونوں کے ایک ایک میں قراءت نہیں کی، پہلے شفعے میں بھی ایک میں قراءت کو چھوڑ دیا دوسرے میں بھی ایک کو چھوڑ دیا، ساتویں صورت پہلے دونوں میں نہیں کی اور آخری ایک میں نہیں کی، آٹھویں صورت کہ آخری دونوں میں بھی قراءت نہیں کی اور پہلی دونوں میں سے ایک کے اندر کی اور ایک کے اندر نہیں کی، تو یہ آٹھ صورتیں ہو گئیں بھئی آٹھ صورتیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى ثَمَانِيَةِ أَوْجُهٍ“، اور یہ مسئلہ جو ہے آٹھ صورت پر ہے، ”وَالْأَصْلُ فِيهَا“، اب ضابطے ذکر کریں گے پھر آپ نے مجھے بتانا ہے کہ کس صورت میں مسئلہ کس کے نزدیک کیا ہو گا، ہمارے تینوں ائمہ کے ضابطے یہاں الگ الگ ہیں دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ فِيهَا“، اصل اس کے اندر یہ ہے، ”أَنَّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَرْكُ الْقِرَاءَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ أَوْ فِي إِحْدَاهُمَا يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی دونوں میں قراءت کو چھوڑنا یا دونوں میں سے ایک میں قراءت کو چھوڑنا ”يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، ”يُوجِبُ“ أي ”يُثْبِتُ“، یہاں ”يُوجِبُ“ کس معنی میں ہے؟ ”يُثْبِتُ“، پہلی دونوں میں یا دونوں میں سے ایک میں قراءت کو چھوڑنا یہ بطلان تحریمہ کو ثابت کرتا ہے یعنی تحریمہ باطل ہو جائے گی۔ اگر پہلی دونوں میں قراءت کو چھوڑا یا دونوں میں سے ایک میں قراءت کو چھوڑ دیا تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ ہی باطل ہو جائے گی۔ تحریمہ ہی کیوں باطل ہو گی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا تُعْقَدُ لِلْأَفْعَالِ“، اس لیے کیونکہ تحریمہ جو ہے اس کو باندھا جاتا ہے افعال کے لیے، کس کے لیے؟ نماز کے افعال ادا کرنے کے لیے، اور افعال کو تو اس نے فاسد کر دیا قراءت کو چھوڑ کر، قراءت تو فرض تھی اس نے کیا کیا؟ فرض کو چھوڑ کر ان نماز کے افعال کو فاسد، جب اعمال فاسد ہو گئے تو تحریمہ ہی کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟
”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَرْكُ الْقِرَاءَةِ فِي الشَّفْعِ الْأَوَّلِ لَا يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قراءت کا چھوڑنا پہلے شفعہ میں، چاہے ایک میں چھوڑے چاہے دونوں میں چھوڑے، ”لَا يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، أي ”لَا يُثْبِتُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، یہ بطلان تحریمہ کو ثابت نہیں کرتا یعنی اس سے تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ نماز میں خرابی تو آ جائے گی وہ فرماتے ہیں، لیکن تحریمہ باطل نہیں ہو گی، ”وَإِنَّمَا يُوجِبُ فَسَادَ الْأَدَاءِ“، تحریمہ تو باطل نہیں ہو گی، ”وَإِنَّمَا يُوجِبُ فَسَادَ الْأَدَاءِ“، ہاں البتہ یہ فساد ادا کو ثابت کرے گا۔ اگر پہلی دو میں کیا کیا؟ قراءت کو چھوڑ دیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تو یہ تحریمہ کو تو باطل نہیں کرے گا البتہ ادا کو فاسد کر دے گا، ”يُوجِبُ فَسَادَ الْأَدَاءِ“، یہ فساد ادا کو ثابت کر دے گا، صرف ادا فاسد ہو گی۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ رُكْنٌ زَائِدٌ“، اس لیے کیونکہ قراءت ایک زائد رکن ہے، ہے تو نماز کا رکن لیکن رکن زائد ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّ لِلصَّلَاةِ وُجُودًا بِدُونِهَا؟“، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ نماز کا وجود بغیر قراءت کے بھی پایا جاتا ہے؟ جیسے گونگے کی نماز، گونگا نماز پڑھتا ہے وہ تو قراءت کرنے پر قادر ہی نہیں ہے تو دیکھو نماز پائی جا رہی ہے اور بغیر قراءت کے ہے، معلوم ہوا یہ قراءت رکن تو ہے لیکن کیا ہے؟ رکن زائد ہے۔ ”غَيْرَ أَنَّهُ لَا صِحَّةَ لِلْأَدَاءِ إِلَّا بِهَا“، مگر یہ مگر یہ کہ ”لَا صِحَّةَ لِلْأَدَاءِ“، ادا صحیح نہیں ہے ”إِلَّا بِهَا“، مگر قراءت کے ساتھ یعنی ادا قراءت کے بغیر صحیح نہیں ہے، یعنی ادا فاسد ہو جائے گی، ادا کیا ہو گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ ”وَفَسَادُ الْأَدَاءِ لَا يَزِيدُ عَلَى تَرْكِهِ“، اور فساد ادا جو ہے یہ بڑھ کر نہیں ہے ”عَلَى تَرْكِهِ“، أي ”تَرْكِ الْأَدَاءِ“، ترک ادا پر، فساد ادا ترک ادا پر زائد نہیں ہے، اس سے بڑھ کر نہیں، ”فَلَا يُبْطِلُ التَّحْرِيمَةَ“، لہٰذا تحریمہ باطل نہیں۔
بھئی دیکھیے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلے شفعہ میں قراءت کو کوئی چھوڑ دے، چاہے ایک میں چھوڑے چاہے دونوں کو چھوڑے، اس سے تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ صرف ادا کے اندر فساد اور خرابی آئے گی، اور تحریمہ کیوں نہیں باطل ہو گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے قراءت کو چھوڑا ہے اور قراءت ایک رکن زائد ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ قراءت کے بغیر بھی نماز کا وجود پایا جاتا ہے جیسے گونگے کی نماز ہوتی ہے، مگر یہ ہے کہ قراءت ہے تو رکن زائد لیکن اس کو چھوڑنے سے ادا میں فساد آ جاتا ہے، ادا کیا ہو جاتی ہے؟ نماز کی ادا فاسد ہو جاتی ہے، تو فساد کس میں آیا؟ ادا میں، ادا میں۔ اور ایک ہے ادا میں فساد آنا، ادا کا فاسد ہو جانا، اور ایک ہے ادا کو بالکل چھوڑ دینا، کیا بڑھ کر کون سی چیز زیادہ ہے؟ بالکل ادا کو چھوڑ دینا، اور ترک ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فساد ادا کی صورت میں بطریق اولیٰ تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ قراءت کو چھوڑا ہے تو فساد صرف کس میں آئے گا؟ ادا میں آئے گا، اور تو فساد ادا آیا، اور ایک ہے ترک ادا، ترک ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فساد ادا کی صورت میں بطریق اولیٰ تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ بھئی ترک ادا میں تحریمہ کیسے باطل نہیں ہوتی؟ بھئی دیکھیے ایک آدمی ہے اس نے نماز پڑھنا شروع کی، ایک رکعت پڑھنے کے بعد اس کا وضو ٹوٹ گیا، آپ نے حکم پڑھ لیا، کیا کر سکتا ہے وہ؟ بنا کر سکتا ہے یا نہیں؟ وہ یہاں سے پلٹے جائے جا کر سیدھا جا کر وضو کرے اور پھر سیدھا آ کر اسی نماز پر بنا کر لے یعنی وہیں سے نماز شروع کر دے جہاں جس رکن سے وضو ٹوٹا تھا، تو دیکھو بنا کر رہا ہے، بنا کر رہا ہے، درمیان میں کوئی منافی صلاۃ عمل کی اجازت نہیں ورنہ پھر بنا صحیح نہیں، اب دیکھیے یہ جب اس کا وضو ٹوٹا یہ واپس پلٹ کر چل پڑا تو اس نے ادا کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟ چھوڑ دیا۔ تو دیکھو ترک ادا ہے اور ترک ادا کے باوجود آپ کہہ رہے ہیں کہ بنا کر سکتا ہے، تحریمہ باطل نہیں، تو جب ترک ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فساد ادا کا درجہ تو اس سے کم ہے اس میں بطریق اولیٰ تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ معنی ہے: ”وَفَسَادُ الْأَدَاءِ لَا يَزِيدُ عَلَى تَرْكِهِ فَلَا يُبْطِلُ التَّحْرِيمَةَ“، اور فساد ادا یہ ترک ادا پر کوئی زائد نہیں ہے، لہٰذا یہ تحریمہ کو باطل نہیں کرے گا۔
”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَرْكُ الْقِرَاءَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ يُوجِبُ بُطْلَانَ التَّحْرِيمَةِ“، اور امام صاحب کے نزدیک پہلی دونوں رکعتوں میں قراءت کا چھوڑنا یہ بطلان تحریمہ کو ثابت کرتا ہے یعنی تحریمہ کیا ہو جائے گی؟ اگر پہلی دونوں میں قراءت کو چھوڑا تو تحریمہ کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ ”وَفِي إِحْدَاهُمَا لَا يُوجِبُ“، اور دونوں پہلی دو میں سے کسی ایک میں قراءت کو چھوڑا ہے تو یہ بطلان تحریمہ کو ثابت نہیں، اس صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہو گی، ”لِأَنَّ كُلَّ شَفْعٍ مِنَ التَّطَوُّعِ صَلَاةٌ عَلَى حِدَةٍ“، اس لیے کیونکہ نفلوں میں سے ہر شفعہ جو ہے ہر دو رکعت جو ہے یہ علیحدہ نماز ہے، یہ علیحدہ نماز ہے، ”وَفَسَادُهَا بِتَرْكِ الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“، اور اس کا فاسد ہونا ایک رکعت میں قراءت چھوڑنے کی وجہ سے مجتہد فیہ، یہ مجتہد فیہ ہے یعنی اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔
بھئی مسئلہ ہم نے پڑھا تھا گزشتہ سبق میں کہ ہمارے نزدیک نفل کی ساری رکعتوں میں قراءت فرض ہے۔ فرض اگر چار رکعت والے ہیں تو اس میں دو رکعت کے اندر قراءت فرض ہے آخری دو میں قراءت فرض نہیں، لیکن اگر نفل پڑھ رہا ہے تو چار رکعت والے نفل ہیں تو چاروں کے اندر قراءت فرض ہے، اس لیے کیونکہ ہر دو رکعت علیحدہ نماز ہے، ہر دو رکعت علیحدہ، اور تو ہر دو رکعت کے اندر قراءت الگ الگ فرض ہے بھئی، فرض ہے۔ لیکن امام لیکن حضرت حسن بصری رحمہ اللہ جو جلیل القدر تابعی گزرے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ایک رکعت میں قراءت فرض ہے دونوں میں نہیں فرض، اور وہ دلیل یہی ذکر کرتے ہیں کہ امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، تو قرآن میں بھی کیا حکم دیا گیا: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾، تو امر، حکم دیا گیا، اور جب ایک رکعت میں قراءت کر لی تو امر پر عمل ہو گیا، امر پر ہاں، اور امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، لہٰذا ایک رکعت میں قراءت فرض ہے دوسری میں قراءت فرض نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ جبکہ ہمارے نزدیک بھی امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، ہونا تو یہی چاہیے ایک رکعت میں قراءت فرض ہونی چاہیے، لیکن ہم نے دوسری رکعت میں بھی قراءت کو فرض قرار دیا کیونکہ دوسری رکعت پہلی کے مشابہ ہے ہر اعتبار سے، تو جو پہلی کا حکم وہی دوسری کا بھی حکم، اس لیے دونوں میں قراءت فرض ہے، تفصیل پیچھے بیان ہو گئی تھی۔ تو ہمارے نزدیک دونوں رکعتوں میں قراءت فرض ہوتی ہے، ان کے نزدیک ایک رکعت میں قراءت فرض ہے، معلوم ہوا اس مسئلے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، کیا ہے؟ اجتہاد، جبھی تو حسن بصری رحمہ اللہ گئے کہ ایک رکعت میں قراءت فرض ہے جبکہ ہم نے کیا کہا؟ دونوں میں فرض ہے۔ تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ پہلی دونوں میں اگر قراءت چھوڑ دے گا تو پھر اس صورت میں تحریمہ باطل ہو جائے گی، اور اگر پہلی دو میں سے ایک کے اندر قراءت کو چھوڑا تو پھر اس صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہو گی، اس لیے کیونکہ کیونکہ ایک میں قراءت چھوڑنے کی وجہ سے نماز فاسد ہو گی یا فاسد نہیں ہو گی؟ یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، جبھی حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک میں قراءت کو چھوڑ بھی دے تو نماز فاسد نہیں ہو گی جبکہ ہمارے نزدیک فاسد، تو اس لیے ہم نے کہا ایک میں قراءت چھوڑے گا تو پھر نماز تحریمہ باطل نہیں، کیوں نہیں باطل؟ کیونکہ یہ مسئلہ کس قسم کا ہے؟ مجتہد فیہ ہے یعنی اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔
یہ معنی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ شَفْعٍ مِنَ التَّطَوُّعِ صَلَاةٌ عَلَى حِدَةٍ وَفَسَادُهَا بِتَرْكِ الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“، اس لیے کیونکہ ہر شفعہ یعنی ہر دو رکعت جو ہیں نفلوں میں سے وہ علیحدہ نماز ہیں، ”وَفَسَادُهَا بِتَرْكِ الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“، اور اس نماز کا فاسد ہونا قراءت چھوڑنے کی وجہ سے ایک رکعت میں مجتہد فیہ یہ یہ مجتہد فیہ ہے یہ اس کا فاسد ہونا، ”فَقَضَيْنَا بِالْفَسَادِ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْقَضَاءِ وَحَكَمْنَا بِبَقَاءِ التَّحْرِيمَةِ فِي حَقِّ لُزُومِ الشَّفْعِ الثَّانِي احْتِيَاطًا“، تو ہم نے احتیاط والا راستہ اختیار کیا، جیسے احناف کا طریقہ ہے، ہر مسئلے کے اندر احتیاط والی صورت کو اختیار کرتے ہیں بھئی احتیاط والی صورت۔ تو یہاں بھی امام صاحب فرماتے ہیں ہم نے احتیاط والی صورت اختیار کی، احتیاط والی صورت کیا؟ کہ ہم نے کہا تحریمہ باطل نہیں لہٰذا اگلی دو میں بھی شروع ہونا صحیح ہو جائے گا اور وہ بھی اس پر لازم ہو جائیں گی۔
بھئی دیکھیے نا، مسئلہ ذکر ہو رہا تھا کہ اگر کوئی قراءت چھوڑتا ہے، آٹھ صورتیں ذکر ہوئیں آٹھ صورتیں، ان میں قراءت چھوڑتا ہے اس رکعت میں چھوڑے گا تو کیا مسئلہ ہو گا، اس رکعت میں چھوڑے گا تو مسئلہ کیا ہو گا؟ اگر پہلی دونوں میں چھوڑ دے گا قراءت تو تحریمہ ہی باطل ہو جائے گی، جب پہلی تحریمہ ہی باطل ہو گئی تو اگلی دو میں شروع ہونا صحیح ہی نہیں ہو گا، اگلی دو میں شروع ہونا صحیح ہی نہیں۔ جب اگلی دو میں شروع ہونا ہی صحیح نہیں تو وہ ان کی قضا بھی اس پر نہیں آئے گی اور پہلی دو میں اس نے قراءت کو چھوڑا ہے صرف ان کی قضا اس پر آئے گی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن ایک دفعہ سمجھ میں آ گیا تو انشاء اللہ آخر تک پھر آسان ہے، سمجھ جائیں گے۔ امام صاحب فرماتے ہیں ہم نے احتیاط والی صورت یہاں پر اپنائی ہے اس لیے کیونکہ ایک رکعت میں قراءت کو چھوڑنے کی وجہ سے نماز کا فاسد ہونا یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، چنانچہ ہم نے احتیاط والی صورت اپنائی اور کہ ایک میں قراءت چھوڑے گا تو تحریمہ باطل نہیں ہو گی، تحریمہ باطل نہیں ہو گی۔ ہاں نماز فاسد ہو جائے گی، نماز فاسد ہو جائے گی اس کی بھی قضا کرنی پڑے گی یہ بھی احتیاط کے طور پر، اور اگلی دو رکعتیں بھی اگر وہ فاسد کرتا ہے ان کی بھی اس پر قضا آئے گی بطور احتیاط کے۔ دیکھو تفصیل سن لو۔ دیکھو ایک صورت مسئلہ بنا لیتے ہیں: ایک آدمی ہے اس نے چار رکعت نفل پڑھنا شروع کیے، پہلی دو میں اس نے ایک کے اندر قراءت کو چھوڑ دیا اور آخری دو میں بھی اس نے ایک کے اندر قراءت کو چھوڑ دیا، چھوڑ دیا۔ تو قراءت چھوڑنے کی وجہ سے پہلی دو رکعتیں کیا ہوئیں؟ فاسد، ان کی قضا کرنا پڑے گی۔ اور اگر کہہ دیا جائے کہ تحریمہ ہی باطل ہو گئی، تحریمہ ہی سرے سے ختم ہو گئی تو پھر تو اگلی دو کا شروع کرنا ہی صحیح نہیں۔ لہٰذا وہ اگلی دو اس نے پڑھی ہیں ایک میں قراءت کو چھوڑا ہے ایک میں قراءت کیا ہے لیکن ان کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے بس، کیونکہ تحریمہ پہلے سے ہی باطل ہو گئی۔ اگر کیا کہا جائے؟ ایک رکعت میں قراءت چھوڑنے سے تحریمہ کیا ہو جاتی ہے؟ اگر یہ کہا جائے ایک رکعت میں قراءت چھوڑنے سے تحریمہ باطل ہو جاتی ہے تو کہنا پڑے گا کہ اس آدمی پر اب صرف دو رکعتوں کی قضا ہے، کتنی رکعتوں کی؟ دو رکعتوں کی، کیونکہ جب پہلی دو میں سے ایک کے اندر اس نے قراءت کو چھوڑ دیا تو وہ تو فاسد ہو گئیں ان کی کیا آئے گی؟ قضا، اور ساتھ تحریمہ بھی باطل ہو گئی جب تحریمہ باطل ہو گئی تو اگلی کا اسی پر شروع کرنا صحیح نہیں، وہ ٹھیک ہے اٹھتا بیٹھتا رہے سجدے کرتا رہے رکوع کرتا رہے وہ سارا کچھ عمل بے شک کرتا رہے لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ اس میں شروع ہونا ہی صحیح نہیں، تحریمہ صحیح رہتی تو اس پر اگلی کی بنا بھی ہو سکتی تھی، تحریمہ ہی باطل ہو گئی تو اگلی کی بنا بھی صحیح نہیں۔ لہٰذا کتنے کی قضا کرنا پڑے گی؟ دو، یہ کس صورت میں؟ اگر ہم ایک پہلی میں سے اگر ایک رکعت میں قراءت کے چھوڑنے پر بطلان تحریمہ کا حکم لگا دیں، بطلان تحریمہ۔ اور اگر ہم بطلان تحریمہ کا حکم نہیں لگاتے تو پھر اگلی دو کا شروع کرنا صحیح ہو گا اور پہلی دو میں اس نے ایک کے اندر قراءت کو چھوڑا ہے لہٰذا پہلی دو ہیں تو فاسد البتہ تحریمہ باطل نہیں، تو فاسد ہیں پہلی دو ان کی اس کو قضا کرنا پڑے گی، اور اگلی دو کی بنیاد ان پر رکھنا بھی صحیح ہو گا کیونکہ تحریمہ باطل نہیں ہوئی، اور اگلی دو میں بھی اس نے ایک میں قراءت کی ہے ایک میں نہیں کی وہ بھی فاسد، تو اس کی بھی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، تو دیکھو اس صورت میں چار کی قضا اس پر کرنا پڑے گی، چار کی قضا اس پر لازم ہو گی۔ کس صورت میں؟ اگر پہلی میں سے اگر ایک رکعت میں قراءت کے چھوڑنے پر بطلان تحریمہ کا حکم نہ لگایا جائے تو کتنی قضا کرنا پڑیں گی؟ چار، اور اگر بطلان کا حکم لگایا جائے تو کتنی قضا کرنا پڑیں گی؟ دو، اور احتیاط کس میں زیادہ؟ کہ چار اس کو پڑھنی چاہییں، احتیاط اسی میں ہے، ہو سکتا ہے باطل ہو گئی ہو، ہم تو یہ تو اجتہادی مسئلہ ہے تو ہو سکتا ہے مجتہد سے کیا ہوئی ہو؟ خطا ہوئی ہو، تو احتیاط کس صورت میں ہے کہ اس پر چاروں کو واجب قرار دیا جائے۔ تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں ہم نے دونوں رکعتوں میں قراءت چھوڑ دے پہلی دو میں اس صورت میں تو تحریمہ باطل ہو جائے گی اس کی اگلی دو شروع کرنا صحیح ہی نہیں ہو گا، لیکن اگر دونوں میں سے پہلی دو پہلی دو رکعتوں میں سے ایک کے اندر اس نے قراءت کو چھوڑا ہے تو تحریمہ باطل نہیں ہو گی، تحریمہ باطل نہیں باطل، لہٰذا اگلی میں شروع ہونا صحیح ہو جائے گا، یہ بات ہم نے کس لیے کہا؟ بطور احتیاط کے۔ تو تحریمہ باطل نہیں ہو گی البتہ فساد آئے گا لہٰذا پہلی دو کی بھی اس کو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا، اور اگر اگلی دو میں فساد آیا تو ان کی بھی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: ”فَقَضَيْنَا بِالْفَسَادِ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْقَضَاءِ“، تو ہم نے فاسد ہونے کا فیصلہ کیا کہ فاسد ہو گئی ہیں یہ پہلی دو رکعتیں، جب کیا کیا ہے؟ ایک میں قراءت کو چھوڑ، بھئی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں فرض ہی ایک تھا فاسد ہی نہیں ہوئیں، صحیح ہو گئیں، لیکن ہم نے کیا فیصلہ کیا بطور احتیاط کے؟ کہ فاسد ایک تحریمہ تو باطل نہیں لیکن پہلی دو رکعتیں کیا ہو گئی ہیں؟ فاسد ہو گئی ہیں، احتیاط کس میں زیادہ ہے کہ اس پر قضا کو واجب قرار دیا جائے یا قرار نہ دیا جائے جس نے پہلی ایک رکعت میں قراءت کو چھوڑا ہے؟ پہلی دو میں سے کسی ایک آدمی ہے اس نے صرف پہلی دو میں سے ایک میں قراءت کو چھوڑا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی نماز ہو گئی اس پر قضا نہیں، اور ہمارے نزدیک اگر اس کو فاسد قرار ہاں فاسد قرار دیتے ہیں اور اس پر کیا لازم ہو جائے گی؟ قضا دو رکعت کی قضا کرنا پڑے گی، اور احتیاط کس میں زیادہ ہے؟ اسی میں زیادہ ہے کہ پہلی دو کو بھی کیا قرار دیا جائے؟ فاسد قرار۔ یہ معنی ہے: ”فَقَضَيْنَا بِالْفَسَادِ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْقَضَاءِ“، تو قضا کے واجب ہونے کے حق میں ہم نے فاسد ہونے کا فیصلہ کیا تو اس پر قضا واجب ہو گی پہلی دو کی قضا، ”وَحَكَمْنَا بِبَقَاءِ التَّحْرِيمَةِ فِي حَقِّ لُزُومِ الشَّفْعِ الثَّانِي“، اور ہم نے فیصلہ کیا تحریمہ کے باقی رہنے کا یعنی تحریمہ باطل نہیں، ”فِي حَقِّ لُزُومِ الشَّفْعِ الثَّانِي“، شفع ثانی کے لازم ہونے کے حق میں یعنی شفع ثانی میں شروع ہونا صحیح ہو جائے گا اور وہ اس پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہو جائیں گے، لہٰذا ان کو فاسد کرے گا تو اس کی بھی اس پر کیا آئے گی؟ قضا آئے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: ”فَقَضَيْنَا بِالْفَسَادِ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْقَضَاءِ وَحَكَمْنَا بِبَقَاءِ التَّحْرِيمَةِ فِي حَقِّ لُزُومِ الشَّفْعِ الثَّانِي احْتِيَاطًا“، پس ہم نے فاسد ہونے کا فیصلہ کیا قضا کے واجب ہونے کے حق میں اور ہم نے فیصلہ کیا تحریمہ کے باقی رہنے کا فی حق لزوم الشفع الثانی شفع ثانی کے لازم ہونے کے حق میں، ”احْتِيَاطًا“، بطور احتیاط کے۔
”إِذَا ثَبَتَ هَذَا“، جب یہ ثابت ہو گیا۔ تین ضابطے بن گئے، ہمارے ائمہ تینوں کے نزدیک الگ الگ ضابطے: امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ضابطہ تھا؟ پہلی دو میں دونوں میں یا دونوں میں سے ایک میں قراءت کو چھوڑے گا تو تحریمہ ہی باطل، وہ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تحریمہ باندھی جاتی ہے افعال کو ادا کرنے کے لیے اور قراءت کو چھوڑ کر اس نے افعال کو ہی فاسد کر دیا، جب افعال فاسد ہو گئے تو تحریمہ بھی کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی۔ اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلی دونوں میں ہی چاہے قراءت چھوڑ دے پھر بھی تحریمہ باطل نہیں، زیادہ سے زیادہ ادا کے اندر فساد آئے گا اور فساد ادا یہ ترک ادا سے کوئی بڑھ کر نہیں اور ترک ادا کی صورت میں تحریمہ باطل نہیں ہوتی تو فساد ادا کی صورت میں بھی تحریمہ باطل نہیں۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دونوں میں قراءت پہلی دونوں میں چھوڑ دے گا پھر تو تحریمہ باطل ہو جائے گی، لیکن اگر دونوں میں سے ایک کے اندر قراءت کی ہے اور ایک کے اندر قراءت کو چھوڑا ہے تو پھر اس صورت میں نماز کا فاسد ہونا مجتہد فیہ ہے اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، تو ہم نے احتیاط والا راستہ اختیار کیا اور وجوب قضا کے اعتبار سے ان پہلی دو کو فاسد قرار دیا اس پر قضا آئے گی، اور تحریمہ باقی ہم نے قرار دی کس اعتبار سے کہ شفع ثانی بھی اس پر کیا ہو جائے گا؟ لازم، تو شفع ثانی کے لازم ہونے کے اعتبار سے ہم نے تحریمہ کے باقی رہنے کا فیصلہ کیا فیصلہ کیا بھئی۔
”إِذَا ثَبَتَ هَذَا“، اب آئیے وہ متن والے مسئلے پر بھئی: ایک آدمی نے چار رکعت کی پڑھی تھیں ”وَلَمْ يَقْرَأْ فِيهِنَّ شَيْئًا“، اور اس نے اس میں کوئی قراءت نہیں کی کسی رکعت کے اندر، بتائیے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب کسی میں قراءت نہیں کی تو پہلی دو میں بھی نہیں کی، اور پہلی دو میں یا کسی ایک میں قراءت چھوڑیں تو تحریمہ باطل، تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل، لہٰذا اگلی دو میں شروع ہونا صحیح ہی نہیں، ہاں اور پہلی دو میں فساد آیا کس وجہ سے؟ قراءت چھوڑی ہے، تو ان دو کی قضا ہے، اگلی دو میں شروع ہونا ہی صحیح نہیں لہٰذا وہ اس پر لازم بھی نہیں، نفل میں انسان شروع ہو گا تو لازم ہوتے ہیں بغیر شروع ہوئے لازم نہیں، تو اگلے دو لازم نہیں صرف پہلی دو کی قضا، تو اس پر دو رکعت کی قضا آئے گی۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ وہ کیا فرماتے ہیں؟ پہلی دونوں میں اگر قراءت چھوڑ دے گا تو تحریمہ کیا ہو جائے گی؟ باطل، تو ان کے نزدیک بھی مسئلہ اسی طرح ہو گا، اس لیے متن میں آیا تھا کہ امام محمد اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس شخص پر دو رکعتوں کی قضا ہے۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں میں قراءت پہلی میں چھوڑ دے پھر بھی تحریمہ باطل نہیں، لہٰذا اگلی میں شروع ہونا صحیح، اور ان میں بھی اس نے قراءت نہیں کی ان کو بھی فاسد کیا تو پہلی دو بھی فاسد، دوسری دو بھی فاسد، اور تو دونوں کی کیا آئے گی اس پر؟ قضا، لہٰذا چار رکعت کی قضا کرنا پڑے گی۔ یہ معنی تھا متن میں: ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ يَقْضِي أَرْبَعًا“، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”إِذَا ثَبَتَ هَذَا نَقُولُ إِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي الْكُلِّ قَضَى رَكْعَتَيْنِ عِنْدَهُمَا“، جب یہ بات ثابت ہو گئی، ہم کہتے ہیں: ”إِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي الْكُلِّ“، کہ جب اس نے ساری رکعتوں میں ہی قراءت نہیں کی، ”قَضَى رَكْعَتَيْنِ عِنْدَهُمَا“، تو دو رکعت کی قضا کرے گا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّ التَّحْرِيمَةَ قَدْ بَطَلَتْ بِتَرْكِ الْقِرَاءَةِ فِي الشَّفْعِ الْأَوَّلِ عِنْدَهُمَا“، اس لیے کیونکہ تحریمہ جو ہے تحقیق وہ باطل ہو چکی ہے پہلی شفع کے اندر پہلے شفع کے اندر قراءت چھوڑنے کی وجہ سے عندہما طرفین کے نزدیک، ”فَلَمْ يَصِحَّ الشُّرُوعُ فِي الثَّانِي“، تو دوسرے شفعہ میں شروع ہونا ہی صحیح نہیں، ان کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔ ”وَبَقِيَتْ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور تحریمہ باقی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”فَصَحَّ الشُّرُوعُ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي“، تو شفع ثانی کے اندر شروع ہونا صحیح ہوا، ”ثُمَّ إِذَا فَسَدَ الْكُلُّ بِتَرْكِ الْقِرَاءَةِ فِيهِ“، پھر جب اس نے سب کو فاسد کیا ہے ان میں قراءت چھوڑنے کی وجہ سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”فَعَلَيْهِ قَضَاءُ الْأَرْبَعِ عِنْدَهُ“، تو اس پر چار رکعت کی قضا ہے کس کے نزدیک؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
اگلی صورت: ”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ لَا غَيْرُ“، اور اگر اس نے صرف پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی ان کے علاوہ میں قراءت نہیں کی یعنی آخری دونوں میں قراءت نہیں کی، ادھر دیکھیے بھئی، اب بتائیے مجھے مسئلہ: امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک چار رکعت اس نے پڑھنا شروع کیے ہیں، پہلی دونوں میں قراءت کی ہے آخری دو میں قراءت نہیں کی، تو پہلی دو میں جب قراءت کی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل ہوا؟ نہیں، تحریمہ باطل نہیں۔ لہٰذا اگلی دو میں شروع ہونا صحیح، اور اس میں اس نے قراءت کی نہیں تو وہ فاسد ہوئیں، لہٰذا اس کی دو کی اس پر کیا آئے گی؟ قضا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی طرح ہے اس پر کتنے کی قضا آئے گی؟ دو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس پر کتنے کی قضا آئے گی؟ دو، کیونکہ ان کے نزدیک تو قراءت چھوڑنے سے تحریمہ باطل ہوتا ہی نہیں، اور اس نے تو پہلی دونوں میں قراءت کی ہے تو پہلی دو تو بالکل صحیح ہیں، اور اگلی دو اس نے فاسد کی ہیں تو اس پر کتنے کی قضا آئے گی؟ دو۔ تو یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اس پر دو رکعت کی قضا آئے گی اس صورت میں۔
کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ لَا غَيْرُ“، اور اگر اس شخص نے قراءت کی پہلی دو رکعتوں میں نہ کہ ان کے علاوہ میں یعنی آخری دو میں نہیں کی، ”فَعَلَيْهِ قَضَاءُ الْأُخْرَيَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو اس پر آخری دو کی قضا ہے بالاجماع۔ بالاجماع سے سب تمام علماء کا اجماع نہیں مراد بلکہ ہمارے ائمہ ثلاثہ کا اجماع مراد، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک۔ ”لِأَنَّ التَّحْرِيمَةَ لَمْ تَبْطُلْ“، اس لیے کیونکہ تحریمہ باطل نہیں ہوئی، ”فَصَحَّ الشُّرُوعُ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي“، تو صحیح ہو گیا شفع ثانی میں شروع ہونا، ”ثُمَّ فَسَادُهُ بِتَرْكِ الْقِرَاءَةِ لَا يُوجِبُ فَسَادَ الشَّفْعِ الْأَوَّلِ“، پھر اس کا فاسد ہونا قراءت چھوڑنے کی وجہ سے یہ شفع اول کے فساد کو واجب نہیں کرتا۔ اچھا، تو سب کے نزدیک کتنی واجب ہوں گی؟ دو رکعت۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ“، اب ادھر دیکھیے بھئی، صرف آخری دو رکعت میں قراءت کی ہے، پہلی دو میں نہیں کی۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب پہلی دو میں قراءت نہیں کی، تحریمہ باطل، اور اگلی دو کا کوئی اعتبار ہی نہیں بے شک قراءت کی ہے ان میں لیکن ان کا کوئی اعتبار نہیں وہ نماز اگلی دو ہوئیں ہی نہیں، اور پہلی دو میں چونکہ قراءت چھوڑی ہے تو اس میں فساد آیا تھا، تحریمہ باطل ہوئی تھی، ان دو کی قضا اس پر ہے تو صرف دو رکعت کی قضا آئے گی اس پر۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی طرح ہے پہلی دو کی اس پر قضا آئے گی اور اگلی دو کا اعتبار ہی نہیں کیونکہ تحریمہ کیا ہو چکی؟ باطل ہو چکی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل نہیں، لہٰذا اگلی دو ان کے نزدیک ٹھیک ہو گئیں، ہاں البتہ پہلی میں فساد آیا ہے تو ان کی اس پر کیا آئے گی؟ قضا۔ تو گویا اس صورت میں بھی سب کے نزدیک قضا کتنے کی آئے گی؟ دو، پہلی دو کی قضا آئے گی، ہاں البتہ فرق یہ کہ آخری دو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہو گئیں جبکہ طرفین کے نزدیک وہ صحیح نہیں، وہ ہوئیں ہی نہیں سرے سے۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ لَا غَيْرُ“، اور اگر قراءت کی آخری دو رکعتوں میں نہ کہ ان کے علاوہ میں یعنی پہلی دو میں نہیں کی، ”فَعَلَيْهِ قَضَاءُ الْأُولَيَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو اس صورت میں بھی اس پر پہلی دو کی قضا ہے بالاجماع، بالاجماع یعنی ہمارے ائمہ کے نزدیک۔ ”لِأَنَّ عِنْدَهُمَا لَمْ يَصِحَّ الشُّرُوعُ فِي الشَّفْعِ الثَّانِي“، اس لیے کیونکہ طرفین کے نزدیک شفع ثانی میں شروع ہونا ہی صحیح نہیں ہوا، ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنْ صَحَّ فَقَدْ أَدَّاهُمَا“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگرچہ دوسرے شفعہ میں شروع ہونا وہ صحیح ہو چکا ہے ”فَقَدْ أَدَّاهُمَا“، تو اس نے ان کو ادا بھی کر لیا ہے، وہ تو پورے ہو گئے آخری دو، اگر دوسرے میں شروع ہونا صحیح تھا تو ان کو اس نے ادا بھی کیا کر لیا صحیح طریقے سے تو وہ ہو گئے، البتہ پہلے دو میں خرابی آئی ہے تو ان کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ وَإِحْدَى الْأُخْرَيَيْنِ“، ادھر دیکھیے بھئی، ”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ“، اگر قراءت کی پہلی دو رکعتوں میں ”وَإِحْدَى الْأُخْرَيَيْنِ“، اور آخر کی ایک رکعت میں، اب مجھے بتائیے: پہلی دو میں جب قراءت کی تو تحریمہ صحیح ہے لہٰذا آخری دو میں شروع ہونا صحیح سب کے نزدیک، پھر آخری دو کے اندر ایک میں قراءت چھوڑی ہے اس میں فساد آیا تو اسی آخری دو کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ“، اور اگر قراءت کی پہلی دو میں ”وَإِحْدَى الْأُخْرَيَيْنِ“، اور آخر کی دو رکعتوں میں سے ایک کے اندر، ”فَعَلَيْهِ قَضَاءُ الْأُخْرَيَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو اس پر بالاجماع آخری دو کی قضا واجب ہے۔
اگلی صورت: ”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَإِحْدَى الْأُولَيَيْنِ“، بھئی نماز پڑھی چار رکعت نفل پڑھے ہیں اس نے، پہلی دو میں سے ایک کے اندر قراءت کی ہے اور آخری دونوں میں کی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ کیا ہو گئی؟ باطل، لہٰذا اگلی میں شروع ہونا ہی صحیح نہیں ان کا کوئی اعتبار ہی نہیں، اور صرف پہلی فاسد ہوئی ہے تو ان کی دو رکعت کی قضا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل نہیں، تحریمہ باطل نہیں، ہاں فساد آیا ہے لیکن تحریمہ باطل نہیں، لہٰذا پہلی دو کی قضا آئے گی اس پر، اور آخری دو تو اس نے پوری کر لی ہیں لہٰذا وہ اس کی قضا نہیں، تو ان کے نزدیک بھی پہلی دو کی قضا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ان کے نزدیک بھی پہلی دو کی ہی صرف قضا آئے گی بھئی، کیونکہ آخری دو تو وہ پوری ادا کر چکا۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ قَرَأَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَإِحْدَى الْأُولَيَيْنِ“، اور اگر آخری دو میں قراءت کی اور پہلی دو میں سے ایک کے اندر، ”فَعَلَيْهِ قَضَاءُ الْأُولَيَيْنِ بِالْإِجْمَاعِ“، تو اس پر پہلی دو کی قضا ہے بالاجماع۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي إِحْدَى الْأُولَيَيْنِ وَإِحْدَى الْأُخْرَيَيْنِ“، اگلی صورت، ادھر دیکھیے بھئی، اگر پہلی رکعتوں میں دو میں سے ایک میں قراءت کی اور آخری دو میں سے بھی ایک کے اندر قراءت کی، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل، لہٰذا اگلی میں شروع ہونا صحیح نہیں صرف یہی دو رکعتوں کی اس پر قضا آئے گی پہلی دو کی۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل نہیں، لہٰذا اگلی میں شروع ہونا صحیح، اور پہلی کو بھی اس نے فاسد کیا ایک میں قراءت چھوڑی، دوسری میں بھی قراءت ایک کے اندر چھوڑی اس کو بھی فاسد، تو چار کی قضا آئے گی، چار کی قضا امام صاحب کے نزدیک۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی چار کی قضا آئے گی۔ یہ معنی ہے: تو اگر قراءت اگر قراءت کی پہلی دو میں ایک کے اندر اور آخری دو میں ایک کے اندر، ”فَعَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَضَى الْأَرْبَعَ“، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق کتنے کی قضا ہوگی؟ چار کی قضا ہوگی، ”وَكَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی، ”لِأَنَّ التَّحْرِيمَةَ بَاقِيَةٌ“، اس لیے کیونکہ تحریمہ باقی ہے، ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَضَى الْأُولَيَيْنِ“، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک صرف پہلی دو کی قضا ہوگی، ”لِأَنَّ التَّحْرِيمَةَ قَدِ ارْتَفَعَتْ عِنْدَهُ“، اس لیے کیونکہ تحریمہ تحقیق وہ اٹھ چکی ہے ان کے نزدیک یعنی باطل ہو چکی ہے۔
”وَقَدْ أَنْكَرَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ عَنْهُ“، جی عجیب بھئی! دیکھیے بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دو کی قضا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی چار کی قضا اس صورت میں، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی چار کی قضا اس شخص پر واجب ہوگی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ روایت کی تھی امام صاحب سے امام محمد رحمہ اللہ کے سامنے۔ امام صاحب کے نزدیک کتنی پڑھیں گے؟ چار پڑھیں گے، چار پڑھیں گے۔ یہ روایت کیا تھا امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے، کس کو روایت کیا؟ امام محمد کو، ان کو بتلایا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک اس مسئلے میں کتنی پڑھیں گے؟ چار پڑھیں گے، تو امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ براہ راست امام صاحب سے نہیں سنا بلکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کی اور ان کو بتایا۔ بتانے کے بعد امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو اپنی کتاب میں درج فرمایا، اور کچھ وقت گزر گیا ہو گا یا ہو سکتا ہے لمبا وقت گزر گیا ہو، کتاب میں جب اور مسائل کے ساتھ یہ مسئلہ بھی درج ہوا اور پھر بعد میں انہوں نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے سامنے کتاب پیش کی، اور مسائل ذکر کرتے ہوئے جب اس جگہ پر پہنچے اور کہنے تو اس میں تھا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کتنے کی قضا کرے گا؟ چار کی قضا کرے گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرمانے لگے: میں نے چار کی روایت کب کی تھی؟ میں نے تو دو کی روایت کی تھی، امام صاحب کے نزدیک اس مسئلے میں دو رکعت کی قضا کرے گا، کتنے کی؟ دو رکعت۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں نہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے آپ نے چار کی روایت کی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کو اپنے حافظے پر اتنا اعتماد تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے انکار کے باوجود انہوں نے مسئلے کو اسی طرح رکھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی، کہ امام صاحب کے نزدیک اس صورت میں کتنی قضا کرے گا؟ چار رکعت کی قضا کرے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ لوگ بھئی عجیب قوی حافظے اللہ نے نصیب فرمائے تھے، لیکن انسان ہے بعض اوقات کوئی بات ذہن سے نکل جاتی ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرما رہے ہیں کہ میں نے کتنے کی روایت تمہیں کی تھی؟ دو رکعت کی روایت کی تھی۔ امام محمد رحمہ اللہ اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ نہیں، آپ نے دو کی روایت نہیں کی تھی بلکہ چار کی روایت کی تھی، چنانچہ اس کو اسی طرح رکھا، اور یہ بھی فقہاء ساتھ اس واقعے کو بھی نقل کرتے ہیں، تفصیل بھی بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر اس طرح پیش آیا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ أَنْكَرَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ عَنْهُ“، اور تحقیق انکار کیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس روایت کا عنہ، کس سے؟ امام صاحب سے، ”وَقَالَ رَوَيْتُ لَكَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَلْزَمُهُ قَضَاءُ رَكْعَتَيْنِ“، اور وہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت کیا تھا امام صاحب سے کہ اس پر لازم ہے دو رکعتوں کی قضا، ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ رِوَايَةٍ عَنْهُ“، اور امام محمد رحمہ اللہ نے رجوع نہیں فرمایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی جو روایت تھی عنہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، اس سے امام محمد رحمہ اللہ نے رجوع نہیں فرمایا۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي إِحْدَى الْأُولَيَيْنِ لَا غَيْرُ“، اگلی صورت آئی بھئی ادھر دیکھیے، پہلی دو میں صرف ایک کے اندر قراءت کی، باقی کسی کے اندر قراءت نہیں کی، اگلی تینوں رکعتوں میں قراءت نہیں کی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل، لہٰذا اگلی دو میں شروع ہونا صحیح ہی نہیں لہٰذا وہ لازم نہیں اس پر، صرف پہلی دو ہی اس پر لازم ہیں ان کی قضا کرے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تحریمہ باطل نہیں لہٰذا اگلی میں شروع ہونا بھی صحیح، اور پہلی میں بھی فساد آیا کیونکہ ایک میں قراءت چھوڑ دی، اگلی میں دونوں میں چھوڑ دی اس میں بھی فساد آیا تو چار کی قضا کرے گا۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک میں قراءت چھوڑی ہے تحریمہ باطل نہیں، لہٰذا اگلی دو میں شروع ہونا صحیح، اور اسی طرح دونوں میں فساد ہے، پہلی میں بھی ایک میں قراءت چھوڑی ہے آخری میں دونوں میں قراءت چھوڑی ہے تو ان کے نزدیک بھی کتنے کی قضا کرے گا؟ چار کی۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي إِحْدَى الْأُولَيَيْنِ لَا غَيْرُ قَضَى أَرْبَعًا عِنْدَهُمَا“، اور اگر قراءت کی پہلی دو میں سے ایک کے اندر نہ کہ ان کے علاوہ میں یعنی باقی کسی میں قراءت نہیں کی، ”قَضَى أَرْبَعًا عِنْدَهُمَا“، تو چار کی قضا کرے گا عندہما، شیخان رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ قَضَى رَكْعَتَيْنِ“، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دو رکعت کی قضا کرے گا۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي إِحْدَى الْأُخْرَيَيْنِ لَا غَيْرُ قَضَى أَرْبَعًا“، اور صورت بھئی: آخری دو میں صرف ایک کے اندر کیا کیا؟ قراءت کی بھئی، پہلی دو میں قراءت کی ہی نہیں اور آخری دو میں سے بھی ایک کے اندر قراءت کو چھوڑ دیا۔ تو جب پہلی دونوں میں نہیں کی تو تحریمہ باطل، امام صاحب کے نزدیک بھی اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی، لہٰذا اگلی دو کا تو اعتبار ہی نہیں، صرف پہلی دو کے ہی فساد آیا اور اس میں قضا دو رکعت کی آئے گی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چاروں کی قضا آئے گی۔
”وَلَوْ قَرَأَ فِي إِحْدَى الْأُخْرَيَيْنِ لَا غَيْرُ قَضَى أَرْبَعًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور اگر قراءت کی آخری دو میں سے ایک کے اندر لا غیر نہ کہ اس کے علاوہ میں، ”قَضَى أَرْبَعًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ“، تو چار تو چار کی قضا کرے گا عند ابی یوسف رحمہ اللہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”وَعِنْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ“، اور طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک رکعتین، دو رکعت کی قضا کرے گا۔
”قَالَ: وَتَفْسِيرُ قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةٍ مِثْلَهَا“. اچھا، امام محمد رحمہ اللہ یہی مسئلہ کتاب میں ذکر کرنے کے بعد آگے فرماتے ہیں: ”وَتَفْسِيرُ قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، کہ حضور علیہ السلام کا جو قول ہے اس کی تفسیر یہ ہے۔ حضور علیہ السلام کا کون سا قول؟ کہتے ہیں حدیث میں آیا حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةٍ مِثْلَهَا“، یعنی نماز پڑھنے والا نہ پڑھے بعد صلاۃ نماز کے بعد مثلہا، اسی کا مثل۔ نماز پڑھنے کے بعد نماز پڑھنے والا اس جیسی نماز نہ پڑھے، نماز پڑھنے والا نماز پڑھنے کے بعد اس جیسی نماز نہ پڑھے۔ یعنی چار رکعت والے فرض کسی نے پڑھے ہیں اور ان چار رکعت والے فرضوں میں دو میں قراءت تھی دو میں قراءت نہیں تھی، تو ان چار رکعتوں کے بعد انہی جیسے چار رکعت اور نہ پڑھے کہ ان میں بھی دو میں قراءت کرے اور دو میں قراءت نہ کرے، معلوم ہوا ان میں پھر چاروں میں قراءت کرنا پڑے گی۔ جب چاروں میں قراءت کر لے گا تو یہ ان جیسے نہیں، تو یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ نفل کی چاروں رکعتوں میں قراءت فرض ہے، نفل کی کیونکہ حدیث میں کیا آیا؟ کوئی کوئی نماز پڑھنے کے بعد اس جیسی نماز نہ پڑھے، ان چار رکعت والی نماز پڑھنے کے بعد اسی جیسی چار رکعت نماز یعنی چار رکعت نفل نہ پڑھے جو اسی کی طرح ہو جس میں دو میں قراءت ہو دو میں قراءت نہ ہو، معلوم ہوا پھر کیا کرنا پڑے گا؟ چاروں میں قراءت کرنا پڑے گا، تو اس حدیث کو امام محمد رحمہ اللہ نے نفل کی چاروں رکعتوں میں قراءت کے فرض ہونے کے لیے بطور دلیل کے ذکر کیا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَتَفْسِيرُ قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةٍ مِثْلَهَا“، یا یہ مجہول ہوگا، مجہول پڑھ سکتے ہیں: ”لَا يُصَلَّى بَعْدَ صَلَاةٍ مِثْلُهَا“، نہ پڑھی جائے نماز کے بعد مثلہا، اسی جیسی نماز۔ تو حضور علیہ السلام کی اس قول کی تفسیر جو ہے وہ فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَعْنِي رَكْعَتَيْنِ“، یعنی کہ ”رَكْعَتَيْنِ بِقِرَاءَةٍ وَرَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ قِرَاءَةٍ“، یعنی دو رکعت قراءت کے ساتھ اور دو رکعت بغیر قراءت کے ایسا نہ کرے، ”فَيَكُونُ بَيَانَ فَرْضِيَّةِ الْقِرَاءَةِ فِي رَكَعَاتِ النَّفْلِ كُلِّهَا“، تو یہ قراءت کے فرض ہونے کا بیان ہے نفل کی ساری رکعتوں میں۔ اس حدیث میں کس چیز کا بیان ہے؟ نفل کی ساری رکعتوں میں قراءت کے فرض ہونے کا بیان ہے اس حدیث کے اندر۔ جی چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔