”فَإِنْ قَرَأَ الْإِمَامُ فِي الْأُولَيَيْنِ ثُمَّ قَدَّمَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ أُمِّيًّا فَسَدَتْ صَلَاتُهُمْ، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا تَفْسُدُ لِتَأَدِّي فَرْضِ الْقِرَاءَةِ“
”فَإِنْ قَرَأَ الْإِمَامُ فِي الْأُولَيَيْنِ“ اور اگر امام نے قراءت کی پہلی دو رکعتوں میں ”ثُمَّ قَدَّمَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ أُمِّيًّا“ پھر امام نے مقدم کر دیا آخری دو رکعتوں میں ایک امّی کو، یعنی ایسے شخص کو جس کو فرض کے بقدر بھی قراءت نہیں آتی جتنی مقدار فرض ہے نماز میں، ”فَسَدَتْ صَلَاتُهُمْ“ تو ان سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ان سب کی بھئی۔
”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا تَفْسُدُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں فاسد نہیں ہوگی ”لِتَأَدِّي فَرْضِ الْقِرَاءَةِ“ فرض قراءت ادا کرنے کی وجہ سے۔ امام زفر رحمہ اللہ... بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص ہے وہ جماعت کروا رہا ہے، امام ہے، پہلی دو رکعتوں میں قراءت تھی، وہ قراءت گزر چکی ہے، دو رکعتوں کے بعد اس کو حدث لاحق ہوا، تو لہٰذا اس نے کسی کو اپنا خلیفہ اور نائب بنایا اور خود نکل گیا، چلا گیا بھئی وضو کے لیے۔ تو اب اگر اس نے امّی کو خلیفہ بنایا ہے، ایسے شخص کو جس کو فرض کے بقدر قراءت بھی نہیں آتی، یعنی اتنی قراءت بھی نہیں آتی جس سے نماز کا فرض ادا ہو جائے، تو اس صورت میں ان سب کی نماز فاسد ہو جائے گی بھئی سب۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں فاسد نہیں ہوگی نماز، وہ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قراءت پہلی دو رکعتوں میں فرض تھی اور وہ دو رکعتیں تو گزر چکی ہیں، اس میں تو امام نے قراءت کی تھی، تو قراءت کا فرض ادا ہو چکا ہے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے: ”أَنَّ كُلَّ رَكْعَةٍ صَلَاةٌ“ کہ ہر رکعت جو ہے وہ نماز ہے۔ نماز کی ہر رکعت کیا ہے؟ وہ پوری نماز ہے ”فَلَا تَخْلُو عَنِ الْقِرَاءَةِ“ تو لہٰذا وہ قراءت سے خالی نہیں ہوگی ”إِمَّا تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا“ یا تحقیقاً یا تقدِیراً بھئی، تقدِیراً یعنی فرض کر لیا جائے گا اس میں قراءت کو۔ تو یاد رکھیے بھئی! نماز کی ہر رکعت، ہر رکعت ایک پوری نماز ہے۔ ہر رکعت کیا ہے؟ ایک پوری نماز ہے۔ تو ہر رکعت میں قراءت ہونی چاہیے، نماز کی ہر رکعت جو ہے وہ ایک پوری نماز کی طرح ہے تو ہر ایک میں کیا ہونا چاہیے؟ قراءت ہونی چاہیے، لیکن حدیث میں آیا ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں قراءت وہ آخری دو میں بھی قراءت ہے، یعنی یہ پہلی دو میں قراءت آخری دو کی بھی قراءت کی طرح ہے۔ تو لہٰذا، تو آخری دو میں تحقیقاً تو قراءت نہیں ہے لیکن تقدِیراً قراءت ہے، کیا ہے؟ تقدِیراً قراءت ہے، تقدِیراً قراءت ہے۔ یعنی پہلی دو میں قراءت کی گئی ہے تو یوں سمجھا جائے گا، یوں فرض کر لیا جائے گا کہ گویا آخری دو میں بھی کیا ہو گئی؟ قراءت ہے۔ تو آخری دو میں قراءت تحقیقاً تو نہیں لیکن کیا ہے؟ لیکن تقدِیراً ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیونکہ پہلی دو کی قراءت یہ اسی طرح ہے جیسے آخری دو رکعتوں کی بھی، یہ آخری دو رکعتوں کی بھی قراءت ہے تو گویا آخری دو رکعتوں میں تقدِیراً قراءت ہے، کیا ہے؟ تقدِیراً قراءت ہے۔
اور یہاں صورت یہ ہے کہ امام کو حدث لاحق ہوا اور اس نے امّی کو خلیفہ بنا دیا، نائب بنا دیا۔ اب اگرچہ وہ پہلی دو رکعتوں میں قراءت کر چکا ہے اور دوسری دو رکعتوں میں تو تقدِیراً قراءت ہے لیکن یہاں اس نے خلیفہ کس کو بنایا؟ امّی کو بنایا جس کو قراءت آتی نہیں، تو لہٰذا یہاں تقدِیراً بھی قراءت نہیں ہو سکتی یعنی قراءت کو ہم فرض بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ امّی کے اندر صلاحیت ہی نہیں ہے قراءت کی بھئی۔ اگر صلاحیت ہوتی تو ہم کیا کر لیتے؟ فرض کر لیتے کہ وہی قراءت کیا ہے، یہاں پر بھی موجود ہے، لیکن اب ہم فرض بھی نہیں کر سکتے کیونکہ امّی کے اندر تو صلاحیت ہی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ... تو پہلی دو رکعتوں میں قراءت کیا ہوتی ہے؟ حقیقت، اور آخری دو میں بھی قراءت ہونی چاہیے تھی لیکن حدیث میں کیا آگیا؟ پہلی دو کی قراءت آخری دو کی بھی قراءت، تو گویا آخری دو میں قراءت کو فرض کر لیا گیا۔ پہلی دو میں ہو چکی، آخری دو میں فرض کر... لیکن جب امّی کو کیا بنا دیا؟ امام اور خلیفہ بنا دیا، تو اب قراءت کو ہم فرض بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس آدمی جس کو امام بنایا گیا اس میں صلاحیت ہی نہیں ہے قراءت کی، قراءت کی صلاحیت ہوتی تو ہم فرض کر لیتے کہ وہی قراءت یہاں بھی موجود لیکن اس کو تو ہم فرض بھی نہیں، لہٰذا اس وجہ سے نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَلَنَا أَنَّ كُلَّ رَكْعَةٍ صَلَاةٌ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر رکعت نماز کی وہ نماز ہے ”فَلَا تَخْلُو عَنِ الْقِرَاءَةِ“ تو وہ قراءت سے خالی نہیں ہوگی ”إِمَّا تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا“ یا تو تحقیقاً وہ خالی نہیں ہوگی یا تقدِیراً، یعنی اس میں قراءت ہوگی یا تو تحقیقاً قراءت ہوگی یا کیا ہوگی؟ تقدِیراً ہوگی جیسے آخری دو میں تقدِیراً ہے۔ ”وَلَا تَقْدِيرَ فِي حَقِّ الْأُمِّيِّ“ اور امّی کے حق میں تو ہم، امّی کے بارے میں تو ہم وہ فرض بھی نہیں کر سکتے ”لِانْعِدَامِ الْأَهْلِيَّةِ“ اس لیے کیونکہ اہلیت ہی معدوم ہے، اس میں اہلیت ہی نہیں ہے۔
”وَكَذَا عَلَى هَذَا لَوْ قَدَّمَهُ فِي التَّشَهُّدِ“ اور اسی طرح ہے، اسی اختلاف پر ہے اگر مقدم کر دیا امام نے امّی کو ”فِي التَّشَهُّدِ“ کس کے اندر؟ تشہد میں۔ اب دوسری صورت کہ آخری قعدے میں جب امام بیٹھا یعنی آخری سجدے سے جب اس نے سر اٹھا لیا، اب یہ آخری قعدہ میں تشہد کی مقدار تو یہ فرض ہے، تو اس میں سجدے سے سر اٹھاتے ہی امام کو حدث لاحق ہوا، اس نے امّی کو اپنا خلیفہ بنا دیا، تو اس صورت میں بھی امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک تو نماز دو رکعتوں کے بعد اگر امّی کو خلیفہ بنا دیا جائے تو بھی نماز فاسد نہیں ہوتی، تو یہاں پر بھی نماز ان کے نزدیک فاسد نہیں، جبکہ ہمارے باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک نماز کے اندر جیسے امّی کو خلیفہ بنایا جاتا تھا تو نماز فاسد ہو جاتی تھی، تو یہاں تشہد کے اندر بھی جب اس کو خلیفہ بنائیں گے تو نماز فاسد ہو جائے گی بھئی، فاسد ہو جائے گی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر کیوں نماز فاسد ہوگی؟ پہلے تو قراءت کی بات تھی اور قراءت کی تو امّی میں صلاحیت نہیں تھی، لہٰذا ہم قراءت کو فرض بھی نہ کر سکتے... نہیں کر سکتے تھے وہاں، لیکن اب تو جو دو رکعتیں گزری ہیں ان میں وہ قاری ہی امام تھا، قراءت کو بھی فرض کرنا بھی ممکن ہوا تو قراءت فرض کر لی گئی، تو گویا چاروں رکعتوں میں قراءت پائی گئی اور اب تو تشہد ہے، آخری نماز کا رکن ہے بھئی، آخری رک... آخری فرض ہے بھئی، آخری کیا ہے؟ فرض ہے۔ تو پھر اس اب تو قراءت کی ضرورت ہی نہیں ہے، قراءت کا محل تو گزر چکا ہے، پھر امّی کو مقدم کرنے سے نماز فاسد کیوں ہوگی؟ تو جواب یہ کیونکہ امّی کے اندر امامت کی اہلیت ہی نہیں ہے، امّی کے اندر... تو ایسے شخص کو امام بنا دیا جس میں اہلیت امامت ہی نہیں ہے، لہٰذا وہ نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ تو اگر دو رکعتوں کے بعد مقدم کیا امّی کو، تو پھر نماز کیوں فاسد ہوگی؟ کیونکہ اس کے بعد... اس میں قراءت کی اہلیت ہی نہیں ہے تو ہم قراءت فرض ہی نہیں کر سکتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ قراءت، امامت کی اہلیت بھی نہیں اور قراءت کی اہلیت بھی نہیں، اور اب تشہد میں آگے کیا تو اب اگرچہ قراءت کا تو محل بھی گزر چکا لیکن پھر بھی بہرحال امامت کی اہلیت تو اس میں نہیں ہے، تو ایسے آدمی کو امام بنا دیا جس میں امام ہونے کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں، تو نماز فاسد ہو جائے گی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَكَذَا عَلَى هَذَا“ اور اسی طرح اسی اختلاف پر ہے ”لَوْ قَدَّمَهُ فِي التَّشَهُّدِ“ اگر امّی کو مقدم کر دیا تشہد میں، ”وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ ہی درست کو خوب جاننے والے ہیں۔
”بَابُ الْحَدَثِ فِي الصَّلَاةِ“ یہ باب ہے نماز میں حدث کے بارے میں کہ اگر نماز میں کسی شخص کو حدث لاحق ہو جائے یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے، تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَبَقَهُ الْحَدَثُ فِي الصَّلَاةِ انْصَرَفَ، فَإِنْ كَانَ إِمَامًا اسْتَخْلَفَ وَتَوَضَّأَ وَبَنَى“ اور جس کو حدث پیش آ جائے نماز کے اندر ”انْصَرَفَ“ تو وہ پلٹ جائے، پھر جائے، پلٹ جائے، ”فَإِنْ كَانَ إِمَامًا“ تو اگر وہ امام تھا ”اسْتَخْلَفَ“ کیا کرے؟ خلیفہ اپنا بنا دے، کسی کو اپنا نائب بنا دے۔ مثلاً امام نماز پڑھا رہا ہے اور اس کو حدث لاحق ہوا، وضو ٹوٹ گیا تو وہ فوراً پلٹ جائے اور جو اس کے پیچھے کھڑے ہیں ان میں سے کسی ایک کو آگے ہونے کا اشارہ کر دے یا اس کو کپڑے سے کھینچ کر، اس کے کپڑے سے کھینچ کر آگے کر دے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے خلیفہ بنانا، پھر وہ آگے نماز مکمل کروائے گا اور امام پھر نکل گیا، وضو کرنے کے لیے چلا گیا۔
بھئی بناء والا مسئلہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، پھر یاد رکھیے کہ اگر کسی شخص کو نماز میں حدث لاحق ہو جائے یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ پلٹ جائے اور جا کر وضو کر کے آئے اور پھر آ کر یہ اسی نماز پر بناء کر سکتا ہے۔ یعنی دو رکعتیں پڑھ چکا تھا تو اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے بقیہ دو رکعتیں مکمل کر لے، یعنی اب دوبارہ نئے سرے سے چار پڑھنا لازم نہیں۔ ہاں، نئے سرے سے نماز پڑھ لے تو یہ افضل ہے، افضل کیا ہے؟ نئے سرے سے نماز پڑھ لے، لیکن اگر یہ اسی پر بناء کرنا چاہے تو بناء کر سکتا ہے۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا جب اس کو حدث لاحق ہوا یہ واپس پلٹا اور جا کر وضو کر کے آیا، تو یاد رکھیے یہ جو واپس پلٹ کر گیا ہے اس دوران بھی من وجہ گویا یہ نماز ہی میں ہے۔ کس میں ہے؟ نماز، تو نماز وہ جو نماز گزر چکی ہے اس کو وہ درست کرنا چاہتا ہے کہ وہ بھی وہ پوری ہو جائے، وہ کیا ہو؟ پوری ہو جائے، تو اصلاح کا ارادہ ہے اس کا، لہٰذا اب یہ پلٹنا اور قبلے سے رخ کا پھرنا یہ اس کو نقصان نہیں دے گا، جائے، جا کر وضو کرے اور پھر سیدھا آئے اور آ کر نماز پڑھ لے، لیکن اس دوران جب یہ واپس گیا ہے اور وضو کیا اور آیا ہے، اس دوران بھی یہ گویا من وجہ نماز ہی میں ہے تو باقی کوئی منافیِ صلاۃ عمل نہیں کرنا، یعنی کسی سے کلام نہیں کرنا کیونکہ کلام تو نماز کے منافی ہے، اگر کسی سے کلام کیا تو بس نماز ٹوٹ گئی پھر بناء نہیں کر سکتا اس پر، یا اگر درمیان میں کچھ کھا پی لیا تو کھانا پینا تو نماز کے منافی ہے تو اس صورت میں بھی پھر بناء جائز نہیں ہوگی، صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ وہی اب ذکر کر رہے ہیں: ”وَمَنْ سَبَقَهُ الْحَدَثُ فِي الصَّلَاةِ انْصَرَفَ“ اور جس کو حدث لاحق ہوا نماز میں ”انْصَرَفَ“ تو وہ پلٹ جائے، لوٹ جائے، ”فَإِنْ كَانَ إِمَامًا اسْتَخْلَفَ“ پس اگر یہ امام تھا تو خلیفہ بنا دے ”وَتَوَضَّأَ“ اور وضو کرے ”وَبَنَى“ اور پھر کیا کرے؟ اسی نماز پر بناء کرے، اسی پر اگلی باقی حصے کی بنیاد رکھے۔ ”وَالْقِيَاسُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ“ بھئی ”اِسْتَقْبَلَ يَسْتَقْبِلُ“ کا ایک معنی ہے نئے سرے سے کرنا، ایک چیز کو نئے سرے سے کرنا اور وہی معنی یہاں مراد ہے بھئی۔ ”وَالْقِيَاسُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ“ اور قیاس تو یہ تھا کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے۔ بناء جائز قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے کہ اسی نماز پر بناء جائز نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ اس کو حدث لاحق ہوا ہے اور حدث تو کیا ہے؟ نماز کے منافی ہے اور حدث نماز کے منافی ہے تو جب حدث لاحق ہوا تو نماز فاسد ہو جانی چاہیے اور اس پر بناء درست نہیں ہونی، نیز وہ پلٹ گیا، قبلے سے پلٹ گیا ہے اور قبلے سے پلٹنے سے بھی نماز کیا ہے؟ فاسد ہو جا... تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ نماز کو نئے سرے سے پڑھنا چاہیے کیونکہ حدث نماز کے منافی ہے اور نیز چلنا اور قبلے سے پھرنا اور پلٹنا یہ بھی کیا ہے؟ اس سے بھی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْقِيَاسُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ“ اور قیاس یہ تھا کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، وہ بھی یہی فرماتے ہیں جو قیاس تقاضا... تو وہ فرماتے ہیں قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ نماز کیا ہو جانی چاہیے؟ فاسد ہونی چاہیے، اس پر بناء جائز نہیں ہونی چاہیے، نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے۔ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحَدَثَ يُنَافِيهَا“ اس لیے کیونکہ حدث نماز کے منافی ہے، اس کو حدث لاحق ہوا ہے، وضو ٹوٹا ہے اور وہ تو نماز کے منافی ہے تو اس سے تو نماز پھر فاسد ہو جانی چاہیے، نیز ”وَالْمَشْيَ وَالانْحِرَافَ يُفْسِدَانِهَا“ چلنا اور چلنا اور پلٹنا ”يُفْسِدَانِهَا“ یہ دونوں بھی کیا کرتے ہیں؟ نماز کو فاسد کر دیتے ہیں ”فَأَشْبَهَ الْحَدَثَ الْعَمْدَ“ تو یہ مشابہ ہو گیا حدثِ عمد کے، جان بوجھ کر وضو توڑنے کے، یہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ بھئی یاد رکھیے، یاد رکھیے یہ جو نماز پر بناء کرتا ہے اس میں ضروری ہے کہ وضو غیر اختیاری طور پر ٹوٹا ہو پھر بناء کر سکتا ہے، اگر کوئی جان بوجھ کر وضو توڑتا ہے پھر اس پر بناء نہیں کر سکتا پھر اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، پھر نئے سرے سے نماز پڑھنا پڑے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ نماز نئے سرے سے پڑھنی چاہیے کیونکہ حدث لاحق ہوا ہے اور حدث نماز کے منافی ہے، اور نیز اس لیے کیونکہ چلنا اور قبلے سے پلٹنا پایا گیا ہے اور یہ دونوں کیا کر دیتے ہیں؟ نماز کو فاسد کر دیتے ہیں، تو لہٰذا یہ، یہ جو حدث تھا غیر اختیاری یہ حدثِ عمد کے مشابہ ہو گیا اور حدثِ عمد یعنی جان بوجھ کر جو انسان حدث لاحق کرے خود وضو توڑے اپنے ارادے سے، اس میں تو بالاتفاق بناء نہیں کر سکتا، تو لہٰذا یہاں حدثِ غیر اختیاری بھی جب اس کی طرح ہوا تو اس میں بھی بناء جائز نہیں ہونی چاہیے بھئی، نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے، دلیل سمجھ میں آئی؟
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ أَوْ أَمْذَى فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“ جس نے قے کی یا جس کو نکسیر آئی یعنی ناک سے خون بہہ نکلا یا جس کی مذی خارج ہوئی نماز میں تو اس کو چاہیے کہ پلٹ جائے، لوٹ جائے اور چاہیے کہ وضو کرے اور وہ بناء کرے اپنی نماز پر جب تک وہ کلام اس نے نہ کیا ہو، جب تک اس نے کلام نہ کیا ہو۔ یہ تو دلیل تھی بناء کی، کس چیز کی؟ بناء کی، بناء کی۔ آگے اوپر متن میں یہ بھی ذکر ہوا تھا کہ اگر امام ہو تو کیا کر دے گا؟ خلیفہ بنائے گا، اس کی بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَقَاءَ أَوْ رَعَفَ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فَمِهِ وَلْيُقَدِّمْ مَنْ لَمْ يُسْبَقْ بِشَيْءٍ“ تم میں سے جس ایک نے نماز پڑھی تو اس کو قے آئی یا اس کو نکسیر اس کی پھوٹ پڑی تو اس کو چاہیے کہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے، اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ اس کا قے آئی ہے یا اس کی نکسیر پھوٹی ہے، اور اس کو چاہیے کہ آگے کر دے، یہ جو واپس پلٹ رہا ہے منہ پر ہاتھ رکھا ہے جس کو عذر لاحق ہوا، اس کو چاہیے کہ آگے کرے اس شخص کو جس پر کوئی چیز مقدم نہیں ہوئی، جس پر... یعنی جس سے کوئی نماز باقی نہیں رہی، یعنی مدرک مراد ہے، مدرک کو آگے کر دے، یعنی مسبوق کو آگے نہ کرے، مسبوق جس کی جو نماز میں شامل ہوا لیکن ایک یا زیادہ رکعتیں اس کی رہ چکی ہیں، تو وہ کون ہوا؟ ”يُسْبَقْ بِشَيْءٍ“، جس پر کیا ہے؟ کچھ نماز کا حصہ مقدم ہو چکا ہے۔ تو حدیث میں کیا آیا؟ چاہیے مقدم کرے جس پر کوئی حصہ مقدم نہیں ہوا، یعنی غیر مسبوق کو آگے کر دے۔ تو یہ دلیل ذکر ہو گئی کہ خلیفہ بنا سکتا ہے جب امام کو حدث لاحق ہو جائے، کسی دوسرے کو خلیفہ بنا دے۔
آگے جو اوپر امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آئی تھی، دلیل آئی تھی، اس میں انہوں نے اس حدثِ غیر اختیاری کو کس کے مشابہ قرار دیا تھا؟ حدثِ عمد کے، جان بوجھ کر جو حدث لاحق کرے انسان، اس کے مشابہ قرار دیا تھا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی اس یہ حدث غیر اختیاری ہے اس کو اس حدثِ عمد کے ساتھ ملحق کرنا اور ملانا ٹھیک نہیں کیونکہ دونوں میں فرق ہے بھئی، کہتے ہیں: ”وَالْبَلْوَى فِيمَا يَسْبِقُ دُونَ مَا يَتَعَمَّدُهُ فَلَا يُلْحَقُ بِهِ“ اور ابتلاء جو ہے، بلویٰ مبتلا کرنا، ابتلاء یعنی، اور مبتلا کرنا اس حدث کے اندر ہے جو خود پیش آیا، جو کیا ہے؟ ترجمے پہ نظر ہے؟ اور ابتلاء اس حدث کے اندر ہے جو خود پیش آیا ہے نہ کہ وہ جس کا اس نے ارادہ کیا ہے، تو لہٰذا اس کو اس کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ غیر اختیاری طور پر آیا ہے، اسی لیے حدیث میں بھی کیا آیا؟ ”مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ أَوْ أَمْذَى“ جس کو قے آئے یا نکسیر پھوٹے یا مذی خارج ہو، تو دیکھیے یہ سب کس قسم کے حدث ہیں؟ غیر اختیاری حدث ہیں، تو غیر اختیاری حدث میں معلوم ہوا بناء کر سکتا ہے، تو ایک انسان کو غیر اختیاری حدث میں مبتلا کیا گیا وہ اس کے اختیار کے بغیر، اور ایک ہے خود اپنے آپ کو حدث میں مبتلا کرنا، تو اس کو اس پر قیاس یعنی اس کو اس کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالْبَلْوَى فِيمَا يَسْبِقُ دُونَ مَا يَتَعَمَّدُهُ فَلَا يُلْحَقُ بِهِ“ اور مبتلا کرنا اس حدث کے اندر ہے جو پیش آیا ہے نہ کہ وہ جس کے اندر جس کا اس نے ارادہ کیا ہے، تو لہٰذا اس کو اس حدثِ عمد کے ساتھ یعنی اس حدثِ غیر اختیاری کو حدثِ عمد کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔
”وَالِاسْتِئْنَافُ أَفْضَلُ“ اور نئے سرے سے نماز پڑھنا افضل ہے، استئناف کا معنی بھی نئے سرے سے پڑھنا۔ بھئی اور نئے سرے سے پڑھنا افضل ہے کیوں؟ کہتے ہیں: ”تَحَرُّزًا عَنْ شُبْهَةِ الْخِلَافِ“ اختلاف کے شبہے سے بچنے کے لیے، اختلاف کے شبہے سے... تاکہ اختلاف کے شبہے سے بھی بچ جائے کیونکہ ہمارے نزدیک اگر بناء جائز ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بناء جائز نہیں، تو جب نئے سرے سے پڑھے گا تو اختلاف کا شبہ پیش ہی نہیں آئے گا کیونکہ ان کے نزدیک تو کرنا ہی کیا پڑے گا؟ استئناف ہی کرنا پڑے گا تو اختلاف سے نکل جائے گا بھئی۔
”وَقِيلَ: الْمُنْفَرِدُ يَسْتَقْبِلُ وَالْإِمَامُ وَالْمُقْتَدِي يَبْنِي صِيَانَةً لِفَضِيلَةِ الْجَمَاعَةِ“ اور کہا گیا کہ اکیلا نماز پڑھنے والا نئے سرے سے پڑھے اور امام اور مقتدی جو ہیں وہ بناء کریں گے جماعت کی فضیلت کو بچانے کے لیے، اس کی حفاظت کے لیے۔ اکیلا آدمی نماز پڑھ رہا تھا اس کو حدث پیش آ گیا تو اب وہ کیا کرے؟ اسے بناء نہیں کرنی چاہیے بلکہ نئے سرے سے پڑھنا چاہیے، اور اگر امام تھا یا مقتدی تھا تو وہ بناء کر سکتا ہے کیونکہ اگر وہ نئے سرے سے پڑھیں گے تو جب تک تو جماعت نکل چکی ہوگی، ان کی نماز اکیلی ہو جائے گی اور وہ جماعت کی فضیلت ان سے رہ جائے گی، اور اگر اسی پر بناء کریں گے تو وہ تو کچھ حصہ جماعت کے ساتھ تھا تو ان کو بھی کیا مل جائے گی؟ جماعت کی فضیلت، تو لہٰذا یہ بناء کریں۔
”وَالْمُنْفَرِدُ إِنْ شَاءَ أَتَمَّ فِي مَنْزِلِهِ وَإِنْ شَاءَ عَادَ إِلَى مَكَانِهِ“ اور منفرد جو ہے، اکیلا نماز پڑھنے والا ”إِنْ شَاءَ“ اگر وہ چاہے تو ”أَتَمَّ فِي مَنْزِلِهِ“ نماز کو پورا کر لے اپنے ٹھکانے پر ہی ”وَإِنْ شَاءَ عَادَ إِلَى مَكَانِهِ“ اور اگر چاہے تو لوٹ آئے اپنی جگہ پر۔ بھئی اکیلا نماز پڑھنے والا ہے جو جماعت میں نہیں تھا، اکیلے نماز پڑھ رہا ہے، اس کو حدث لاحق ہوا اور وہ گیا اور اس نے جا کر کیا کیا؟ وضو کیا۔ تو اب اگر وہ چاہتا ہے، اس کو اختیار ہے، چاہے تو پھر اسی جگہ لوٹ آئے اور آ کر یہاں نماز پوری کرے، اور چاہے تو وہیں جہاں وضو کیا ہے وہاں نماز کی جگہ ہے تو وہیں پر کیا کر سکتا ہے؟ نماز کو پورا کر سکتا ہے، یہ معنی ہے: اور منفرد اگر چاہے ”أَتَمَّ فِي مَنْزِلِهِ“ چاہے تو اپنے ٹھکانے پر ہی نماز کو پورا کر لے، ٹھکانے سے کیا مراد ہے؟ جہاں اس نے وضو کیا ہے بھئی، ”وَإِنْ شَاءَ عَادَ إِلَى مَكَانِهِ“ اور اگر چاہے تو اپنی جگہ لوٹ آئے بھئی، جگہ لوٹ آئے، وہیں پر نماز پوری کرے گا تو اس میں چلنا کم ہے، لہٰذا وہاں پوری کر سکتا ہے، اور واپس آتا ہے تو یہاں بھی پڑھ سکتا ہے کیونکہ یہیں پر تو وہ نماز اس نے شروع کی تھی جس پر وہ بناء کر رہا ہے۔
”وَالْمُقْتَدِي يَعُودُ إِلَى مَكَانِهِ“ اور مقتدی وہ اپنی جگہ واپس لوٹے گا۔ مقتدی کو کیا کرنا پڑے گا؟ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا اب اس کا وضو ٹوٹا ہے اور وہ بناء کرنا چاہتا ہے تو وہ کیا کرے گا؟ اپنی جگہ پر اس کو واپس آنا پڑے گا ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِمَامُهُ قَدْ فَرَغَ“ مگر یہ کہ اس کا امام فارغ ہو چکا ہے یعنی نماز سے سلام پھیر چکا ہے، تو اب تو واپس آنے کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا اب جہاں وضو کیا ہے وہاں بھی کیا کر سکتا ہے؟ نماز کو پورا کر سکتا ہے، اور چاہے تو اپنی جگہ پر بھی آ کر نماز پوری کر سکتا ہے۔ ”أَوْ لَا يَكُونُ بَيْنَهُمَا حَائِلٌ“ یا یہ کہ اس کے اور امام کے درمیان کوئی آڑ اور کوئی رکاوٹ نہ ہو، کوئی حائل نہ ہو تو پھر جہاں وضو کیا ہے وہیں پر نماز پڑھ سکتا ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی، ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ مقتدی ہے، وہ پلٹا بھئی اور صف کے آخری کنارے پر اسی صف کے اندر آخری کنارے پر مسجد سے باہر پانی موجود ہے تو وہیں پر اس نے کیا کر لیا؟ وضو کر لیا اور وہیں پر صف کے ساتھ جگہ موجود تھی، وہیں پر اس نے اقتداء شروع کر دی، کیا کر دی؟ اقتداء، اب اس کے اور امام کے درمیان کوئی حائل نہیں ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو لہٰذا یہ کیا کر سکتا ہے؟ یہیں پر بھی اقتداء کر سکتا ہے۔ ہاں، اگر اس کے اور امام کے درمیان حائل آ جائے مثلاً بیچ میں کھلا راستہ ہے، کیا ہے؟ کھلا راستہ ہے، یا بیچ میں کوئی دیوار ہے یا کوئی درخت وغیرہ ہے یا کوئی نہر وغیرہ ہے تو پھر تو اقتداء صحیح نہیں ہے کیونکہ اقتداء میں آپ جانتے ہیں کہ صفوں کا آپس میں ملا ہونا ضروری ہوتا ہے، اگر اگلی صف اور پچھلی صف میں یا صفوں کے دائیں بائیں بھئی، صف دائیں طرف لمبی گئی ہوئی ہے اور درمیان میں راستہ ہے، کھلا راستہ ہے اور پھر باقی صف راستے کے اس طرف ہے تو یاد رکھیے یہ اقتداء درست نہیں ہے، صفوں کے اندر اتصال ہونا ضروری ہے، کیا ضروری ہے؟ اتصال۔ پچھلی صفیں بھی اگلی صفوں کے ساتھ ملی ہوئی ہوں، اگر درمیان میں اگر ایک راستے کے بقدر، کھلے راستے کے بقدر بیچ میں سے جگہ ہے اور وہاں صفیں نہیں بنی ہوئیں تو اتصال نہیں آیا، جب اتصال نہیں آیا تو نماز نہیں ہوگی۔ تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ مقتدی جو ہے وہ اپنی جگہ پر واپس آئے گا مگر یہ کہ اس کا امام نماز سے فارغ ہو چکا ہے تو بھی کیا کر سکتا ہے؟ اب تو واپس آنا لازمی نہیں تو لہٰذا وہیں پر کیا کر سکتا ہے؟ نماز، اور یا یہ کہ اس کے اور امام کے درمیان کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہے، وہیں ساتھ ہی اس نے وضو کر لیا ہے تو اب واپس اپنی جگہ پہ آنا ضروری نہیں ہے، وہیں پر اگر وہ صف کے ساتھ شامل ہو کر نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔
”وَمَنْ ظَنَّ أَنَّهُ أَحْدَثَ“ اور جس شخص کو یہ گمان ہوا کہ اس کو حدث لاحق ہوا، صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی ہے وہ نماز پڑھ رہا تھا اور نماز میں اس کا خیال ہوا کہ شاید میرا وضو ٹوٹ گیا ہے اور وہ واپس پلٹا بھئی اور مسجد سے نکل گیا وضو کرنے کے لیے، پھر اس کو پتہ چلا کہ اس کا تو وضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً بھئی اس کے زخم تھا اور اس نے نماز کے اندر اس کا خیال ہوا شاید زخم سے خون بہنا شروع ہو گیا ہے، چنانچہ اس وہ وہاں سے پلٹ پڑا اور نکلا، مسجد سے نکلتے ہوئے اس نے دیکھا تو وہ خون نہیں نکلا تھا، تو اب تو اس نے اگر وہ مسجد سے نکل گیا ہے تو یاد رکھیے پھر وہ بناء نہیں کر سکتا، بناء نہیں کر، اور اگر وہ مسجد سے نہیں نکلا تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر سکتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ وہ پلٹا ہے کیا سمجھ کر کہ شاید میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، اور پلٹنے کے بعد اس نے دیکھا کہ میرا وضو نہیں ٹوٹا، تو پھر اب بناء کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ تو بتلا دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر مسجد سے نکل گیا ہے تو بناء نہیں کر سکتا بلکہ نئے سرے سے نماز پڑھے کیونکہ بغیر عذر کے اس کا پلٹنا پایا گیا، حدث ہوتا پھر تو عذر تھا پھر تو جا، پھر تو وضو بھی کر کے آتا، نماز پر بناء کر سکتا تھا، لیکن اب پلٹا ہے اور پلٹا بھی کس طرح ہے؟ بغیر عذر کے پلٹا ہے، تو لہٰذا اگر مسجد سے نکل آیا تو جگہ بدل گئی اور بغیر عذر نماز تو ایک ہی جگہ پر ہونی چاہیے، جگہ اس میں بدلنے کی اجازت نہیں، تو جگہ بدل گئی لہٰذا بناء نہیں کر سکتا، بغیر عذر کے جگہ بدل لی اس نے، نماز حالانکہ ایک ہی جگہ ہونی چاہیے تھی، اور اگر مسجد سے نہیں نکلا، پلٹا بھی ہے، کئی قدم چلا بھی ہے لیکن مسجد سے نہیں نکلا تو بھی ہم یوں سمجھیں گے کہ یہ ایک ہی جگہ پر ہے کیونکہ ساری مسجد زمین ایک ہی جگہ کی طرح ہے بھئی، ساری مسجد کیا ہے؟ ایک ہی جگہ کی طرح ہے، تو جب مسجد سے نہیں نکلا تو گویا وہیں پر ہے اور وہیں پر ہے تو کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر سکتا ہے، بناء کر سکتا ہے۔
دیکھیے دلیل آگے مزید تفصیل سے اور احسن طریقے سے صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَمَنْ ظَنَّ أَنَّهُ أَحْدَثَ فَخَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُحْدِثْ اسْتَقْبَلَ الصَّلَاةَ“ اور جس شخص کا یہ گمان ہوا کہ اس کو حدث لاحق ہو گیا ہے تو وہ مسجد سے نکل گیا، پھر اس کو معلوم ہوا کہ اس کو حدث لاحق نہیں ہوا، تو وہ کیا کرے گا؟ نئے سرے سے نماز پڑھے گا ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ يُصَلِّي مَا بَقِيَ“ اور اگر وہ مسجد سے نہیں نکلا تو پڑھ لے وہ نماز جو باقی ہے یعنی اسی پر بناء کر لے گا۔ ”وَالْقِيَاسُ فِيهِمَا الِاسْتِقْبَالُ“ اور قیاس تو ان دونوں صورتوں میں استقبال کا تقاضا کرتا ہے کہ نئے سرے سے پڑھنی چاہیے کیونکہ وہ پلٹا ہے بغیر عذر کے، کیونکہ وہ پلٹا ہے بغیر عذر کے، تو قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام محمد رحمہ اللہ سے بھی ”لِوُجُودِ الِانْصِرَافِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ“ اس لیے کیونکہ پلٹنا پایا گیا ہے بغیر کسی عذر کے، تو کیا کرنا چاہیے؟ نئے سرے سے نماز کو پڑھنا چاہیے تو عذر کی وجہ سے تو پلٹنے کی اجازت ہے، بغیر عذر کے تو پلٹنے کی اجازت نہیں۔ لیکن استحساناً اسی پر بناء کر سکتا ہے اگر مسجد سے نہ نکلا ہو۔ ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّهُ انْصَرَفَ عَلَى قَصْدِ الْإِصْلَاحِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ وہ پلٹا ہے اصلاح کے ارادے سے، کس ارادے سے؟ اصلاح کے ارادے سے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ تَحَقَّقَ مَا تَوَهَّمَهُ بَنَى عَلَى صَلَاتِهِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر پائی جاتی وہ چیز جس کا اس نے وہم کیا ہے تو وہ بناء کر سکتا تھا اپنی نماز پر۔ اگر حقیقتاً حدث ہوا ہوتا تو وہ بناء کر سکتا تھا یا نہیں کر سکتا تھا؟ تو اس صورت میں تو جو بناء کر سکتا تھا، تو لہٰذا اصلاح کی صورت میں وہ بناء کر سکتا ہے تو قصدِ اصلاح کی صورت میں بھی کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر سکتا ہے جب تک مسجد سے نہ نکلا ہو۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ تَحَقَّقَ مَا تَوَهَّمَهُ بَنَى عَلَى صَلَاتِهِ فَأُلْحِقَ قَصْدُ الْإِصْلَاحِ بِحَقِيقَتِهِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر پائی جاتی وہ چیز جس کا اس نے وہم کیا یعنی وہ حدث پایا جاتا تو یہ بناء کر سکتا تھا اپنی نماز پر، تو ملا دیا گیا اصلاح کے ارادے کو بھی حقیقتِ اصلاح کے ساتھ، حقیقتِ اصلاح میں بناء کر سکتا تھا تو قصدِ اصلاح کی صورت میں بھی کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر سکتا ہے بشرطیکہ مسجد سے نہ نکلا ہو۔ ”مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْمَكَانُ بِالْخُرُوجِ“ جب تک جگہ نہ بدل جائے نکلنے کی وجہ سے، ہاں جب جگہ بدل جائے گی پھر اس صورت میں بناء کی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔
”وَإِنْ كَانَ اسْتَخْلَفَ فَسَدَتْ“ اور اگر اس نے خلیفہ بنایا تو پھر اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ صورت یہ: ایک آدمی ہے وہ امامت کروا رہا ہے، اس کا خیال ہوا شاید میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، زخم تھا وہ سمجھا شاید اس سے خون بہنے لگ پڑا ہے، اس نے دوسرے کو کیا بنایا؟ خلیفہ بنایا اور خود پلٹ گیا بھئی، خود پلٹ گیا، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس کی نماز فاسد ہو گئی اور یہ اب نماز پر بناء نہیں کر سکتا کیونکہ جب پلٹنے کے بعد اس نے دیکھا تو پتہ لگا حدث تو اس کو لاحق ہی نہیں ہوا۔ تو اب اس صورت میں کیوں نماز فاسد ہوگی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے خلیفہ بنایا ہے اور یہ عملِ کثیر ہے بغیر عذر کے، لہٰذا اس وجہ سے اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ اسْتَخْلَفَ فَسَدَتْ لِأَنَّهُ عَمَلٌ كَثِيرٌ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ“ اور اگر اس نے خلیفہ بنایا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ یہ عملِ کثیر ہے بغیر کسی عذر کے۔
”وَهَذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ افْتَتَحَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَانْصَرَفَ ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ عَلَى وُضُوءٍ حَيْثُ تَفْسُدُ“ اور یہ بخلاف اس صورت کے ہے کہ جب اس نے یہ گمان کیا کہ اس نے نماز کا آغاز کیا ہے بغیر وضو کے، پھر وہ پلٹ گیا، پھر اس کو یہ معلوم ہوا کہ وہ تو وضو پر تھا، کیونکہ اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ بھئی دیکھیے، انہوں نے کہا ایک آدمی ہے اور اس کا خیال ہوا نماز میں کہ شاید مجھے کیا لاحق ہوا ہے؟ حدث لاحق ہوا ہے، اور وہ پلٹ گیا اور پھر مسجد کے اندر ہی تھا کہ اس کو پتہ چلا کہ میرا تو وضو نہیں ٹوٹا، تو انہوں نے کہا وہ بناء کر سکتا ہے، کیا کر سکتا ہے؟ بناء۔ لیکن بخلاف اس صورت کے کہ ایک آدمی نے نماز شروع کی، نماز شروع کی، پھر اس کو خیال آیا کہ اوہو! میں نے تو بغیر وضو ہی کے نماز شروع کر دی ہے، اور وہ پلٹ پڑ گیا، پلٹ گیا، اور پلٹنے کے بعد پھر اس کو معلوم ہوا کہ نہیں بھئی میرا تو وضو تھا! مثلاً نماز سے پہلے اس کا خیال تھا زخم تھا اور اس کا خیال تھا زخم سے کیا نکلا ہے؟ خون نکل آیا ہے، اس کو محسوس ہوا کہ خون نکل آیا ہے، لیکن پھر بھول گیا اور نماز شروع کر دی، اور نماز شروع کرنے کے بعد اس کو خیال آیا اوہو! میں نے تو بغیر وضو کے ہی نماز شروع کر دی، میرا تو ابھی خون نکلا تھا، ابھی اس نے دیکھا نہیں لیکن اس کا خیال تھا، چنانچہ وہ پلٹ گیا اور پلٹنے کے بعد اس نے جب دیکھا تو خون نہیں نکلا تھا، وضو نہیں ٹوٹا تھا بھئی، وضو نہیں ٹوٹا تھا، تو اب یہ مثلاً دو رکعتیں پڑھ چکا تھا تو کیا ان پر بناء کر سکتا ہے یا نہیں؟ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا نہیں، اس کی نماز فاسد ہو گئی، یہ چاہے مسجد سے نہ نکلا ہو پھر بھی یہ بناء نہیں کر سکتا، پھر بھی یہ بناء نہیں کر سکتا۔
تو بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ وہ جو پہلا شخص پلٹا تھا جس کو نماز میں خیال ہوا کہ میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، وہ پلٹا تھا اصلاح کے ارادے سے اور یہ شخص جو پلٹا ہے یہ اصلاح نہیں، نماز کے چھوڑنے کے ارادے سے پلٹا ہے۔ اس کا تو کیا خیال ہے؟ میں نے نماز شروع ہی کس طرح کی ہے؟ بغیر وضو کے شروع کی ہے، تو یہ جب واپس پلٹا اس کا کیا ارادہ تھا میں آ کر اس پر بناء کروں گا؟ نہیں، اس کا تو بناء کا ارادہ ہی نہیں تھا، تو اس میں اور اس آدمی میں فرق ہے، اس کا ارادہ تھا کہ وہ کیا تھا نماز کی اصلاح اور اس کے پلٹنے کا ارادہ مقصد کیا تھا نماز کو چھوڑنا تھا، لہٰذا یہ اس پر بناء نہیں کر سکتا، اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، دلیل سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا بِخِلَافِ مَا إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ افْتَتَحَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَانْصَرَفَ ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ عَلَى وُضُوءٍ حَيْثُ تَفْسُدُ“ اور یہ بخلاف ہے اس صورت کے کہ جب گمان کیا نماز پڑھنے والے نے کہ اس نے شروع کیا ہے نماز کو بغیر وضو کے، پھر وہ پلٹ گیا، پھر اس کو علم ہوا کہ وہ تو وضو پر ہی ہے، کیونکہ اس کی نماز فاس... تو یہ مسئلہ، وہ جو ماقبل میں گزرا وہ مسئلہ اس مسئلے کے خلاف ہے حیث تفسد کیونکہ یہاں پر نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ ”وَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ“ اگرچہ یہ مسجد سے نہ نکلا ہو، پلٹا ہی ہے صرف مسجد سے نہ نکلے پھر بھی بناء نہیں کر سکتا، ”لِأَنَّ الِانْصِرَافَ عَلَى سَبِيلِ الرَّفْضِ“ رفض کا معنی ہے چھوڑنا، اس لیے کیونکہ پلٹنا جو ہے یہاں چھوڑنے کے طریقے پر ہے، یہ نماز چھوڑنے کے ارادے سے پلٹا ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ تَحَقَّقَ مَا تَوَهَّمَهُ يَسْتَقْبِلُهُ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر وہ چیز پائی جاتی جس کا اس کو وہم ہوا تھا تو وہ کیا کرتا؟ نئے سرے سے پڑھتا، کیا کرتا؟ نئے سرے سے پڑھتا، تو معلوم ہوا یہ نماز چھوڑنے ہی کے ارادے سے پلٹا ہے۔ ”فَهَذَا هُوَ الْحَرْفُ“ حرف کہتے ہیں کنارے کو، تو یہ وہی کنارہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہی کنارہ ہے، یعنی اگر حقیقتاً، حقیقتاً اس نے بغیر وضو کے شروع کی ہوتی تو پھر یعنی جو اس کا وہم تھا وہ حقیقتاً ہوتا، اس کا وہم کیا ہے؟ میں نے تو نماز بغیر وضو کے شروع کی، اگر یہ وہم حقیقتاً ہوتا یعنی یہ چیز حقیقتاً پائی جاتی تو پھر کیا کرتا؟ نئے سرے سے پڑھتا، اور اب جو یہ پلٹا ہے لیکن پھر پتہ چلا کہ میں تو کس پر تھا؟ وضو پر تھا، تو یہ بھی کہتے ہیں ”فَهَذَا هُوَ الْحَرْفُ“ یہ بھی وہی کنارہ ہے، جیسے وہاں پر اگر حقیقتاً وہ چیز پائی جاتی تو وہ نئے سرے سے پڑھتا تو یہاں پر بھی کیا کرنا پڑے گا؟ نئے سرے سے ہی پڑھنا پڑے گا کیونکہ وہ نماز چھوڑنے کے ارادے سے پلٹا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَمَكَانُ الصُّفُوفِ فِي الصَّحْرَاءِ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ“ بھئی یہ تو وہ صورت تھی کہ ایک شخص مسجد میں ہو اور اس کا یہ خیال ہوا میرا وضو ٹوٹ گیا ہے اور پھر وہ پلٹا اور پھر پتہ چلا کہ میرا وضو تو نہیں ٹوٹا، تو مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ اگر مسجد کے اندر ہی ہے تو بناء کر سکتا ہے، استحساناً بناء کر سکتا ہے، اور اگر مسجد سے نکل گیا ہے پھر بناء نہیں... یہ تو تھا جب مسجد ہو پھر تو آسانی سے پتہ لگ جائے گا کہ مسجد سے نکلا ہے یا نہیں نکلا، لیکن اگر ایک ایسے مقام پر نماز پڑھ رہا تھا جہاں مسجد ہے ہی نہیں مثلاً صحراء ہے یا کسی اور جگہ نماز پڑھ رہا ہے، تو پھر اس صورت میں کیا کریں گے؟ کب بناء کر سکتا ہے اور کب بناء نہیں کر سکتا؟ تو بتلائیں گے آپ کو تفصیل کہ بھئی اگر امام ہے، امام، تو یہ امام پیچھے کی طرف پلٹے گا یا دائیں یا بائیں جائے گا یا آگے کی طرف جائے گا، انہی چار طرفوں میں سے کسی طرف جائے گا، تو اگر پیچھے کی طرف پلٹا ہے تو جہاں تک صفیں ہیں وہاں تک اس جگہ سے نکلنے سے پہلے پہلے اگر واپس آتا ہے تو بناء کر سکتا ہے، اگر اس سے آگے نکل گیا تو پھر بناء نہیں کر سکتا، وہی جیسے مسجد سے جیسے نکل جاتا تھا تو بناء نہیں کر... صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ امام کا کیا خیال ہوا؟ شاید میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، پلٹ گیا پھر پتہ لگا کہ وضو نہیں ٹوٹا، تو اگر آخری صف سے پیچھے نکل چکا ہے تو پھر اب بناء نہیں، اور اگر آخری صف سے پیچھے نہیں نکلا تو کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر سکتا ہے، جیسے مسجد کے اندر ہوتا تھا تو کیا کر سکتا تھا؟ بناء کر سکتا تھا، اور مسجد سے باہر نکل جاتا تھا تو بناء نہیں کر سکتا تھا، اور اگر دائیں طرف گیا ہے یا بائیں طرف گیا ہے تو جہاں تک صف ہے اس صف سے آگے نہیں نکلا تو کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر، اور صف کے آخری کنارے سے آگے نکل گیا تو پھر بناء نہیں کر سکتا، اور اگر آگے کی طرف گیا ہے، آگے کی طرف بھئی، تو اگر آگے اس کے دیکھیں گے سترہ ہے یا سترہ نہیں، بھئی سترہ وہ جو امام اپنے آگے کوئی چیز کھڑی کر دے تاکہ کوئی آگے سے گزرنا چاہے تو اس کے آگے سے پھر گزر سکے، وہ رکاوٹ وہ آڑ جو کھڑی کرتا ہے اس کو سترہ کہتے ہیں، تو اگر امام کے آگے سترہ ہے تو آگے کی حد یہ سترہ ہے۔ اس سترے سے آگے نکل گیا تو بناء نہیں کر سکتا، اس سترے سے پیچھے ہی ہے تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ بناء کر سکتا ہے، اور اگر آگے سترہ نہیں پھر؟ کہتے ہیں پھر پچھلی صفوں کی مقدار دیکھ لے۔ پچھلی صفیں اگر پانچ گز تک پھیلی ہوئی ہیں تو آگے بھی پانچ گز تک کے اندر اندر اگر اس کو خیال یہ واپس آگیا تو بناء کر سکتا ہے ورنہ بناء نہیں کر سکتا، صورت سمجھ میں آگئی؟
اور اگر اکیلا تھا نماز پڑھنے والا، امام نہیں تھا، وہ کہاں تک واپس آئے تو بناء کر سکتا ہے مسجد کے باہر؟ کہتے ہیں اس کے لیے سجدے کی جگہ ہے چاروں طرف، جہاں کھڑا ہے اس کے چاروں طرف جو اس کے سجدے کی جگہ بنتی ہے، اس جگہ کے اندر اندر سے اگر وہ واپس پلٹ آیا تو بناء کر سکتا ہے، اس سے آگے نکل گیا تو پھر بناء نہیں کر سکتا، مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟
یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَمَكَانُ الصُّفُوفِ فِي الصَّحْرَاءِ لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ“ اور صفوں کی جو جگہ ہے صحراء کے اندر ”لَهُ حُكْمُ الْمَسْجِدِ“ اس کے لیے مسجد ہی کا حکم ہے یعنی جہاں تک صفیں ہیں۔ ”وَلَوْ تَقَدَّمَ قُدَّامَهُ فَالْحَدُّ السُّتْرَةُ“ اور اگر آگے بڑھا امام یعنی آگے کی طرف گیا، اور اگر آگے کی طرف وہ اپنے آگے کی طرف امام بڑھ گیا ”فَالْحَدُّ السُّتْرَةُ“ تو حد کیا ہے؟ سترہ ہے ”وَإِنْ لَمْ تَكُنْ فَمِقْدَارُ الصُّفُوفِ خَلْفَهُ“ اور اگر سترہ نہیں ہے آگے تو ان صفوں کی مقدار جو اس کے پیچھے ہیں، اتنی مقدار آگے کی طرف بھئی، یہ حد ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مُنْفَرِدًا فَمَوْضِعُ سُجُودِهِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ“ اور اگر نماز پڑھنے والا اکیلا ہو تو اس کے سجدے کی جو جگہ ہے ہر جانب سے، اس کے اندر رہتا ہے تو کیا کرے گا؟ بناء کر سکتا ہے ورنہ بناء... یعنی یوں کہیں اس کے سجدے کی چاروں طرف جو جگہ ہے یہ گویا اس کے لیے مسجد کا حکم ہے، باقی کیا ہے؟ مسجد سے خارج کا حکم۔ امام ہے تو پچھلی صف تک اور صفوں کے اطراف تک اور آگے سترے تک یہ مسجد کے حکم میں ہے اور باقی مسجد کے حکم میں نہیں، اور اگر آگے سترہ نہیں تو پچھلی جتنی صفوں کی مقدار ہے اتنی مقدار آگے تک، یہ ہے مسجد، یہ مسجد کے حکم میں ہے، اس کے اندر ہے تو بناء کر سکتا ہے، اس سے باہر نکلے گا تو بناء نہیں کر سکتا۔
”وَإِنْ جُنَّ أَوْ نَامَ فَاحْتَلَمَ أَوْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ“ اور اگر کوئی شخص مجنون ہو گیا، نماز پڑھ رہا تھا اور اس پر جنون طاری ہو گیا، پاگل ہو گیا، دورہ پڑ گیا، ”أَوْ نَامَ“ یا کیا ہوا؟ سو گیا ”فَاحْتَلَمَ“ تو اس کو احتلام ہو گیا نیند میں ”أَوْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ“ یا اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی ”اسْتَقْبَلَ“ تو نئے سرے سے نماز پڑھے گا ان سب صورتوں میں، مجنون ہو جائے یا نیند میں احتلام ہو گیا یا بے ہوشی طاری ہو گئی۔
اچھا اس کی کیا وجہ ہے؟ ان میں بناء کیوں نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَنْدُرُ وُجُودُ هَذِهِ الْعَوَارِضِ“ اس لیے کیونکہ ان عوارض کا وجود نادر ہے، شاذ و نادر ہی اس طرح کا عارض پیش آتا ہے کہ کوئی مجنون ہو جائے یا نماز میں سو جائے، احتلام ہو جائے یا اس پر کیا طاری ہو جائے؟ بے ہوشی، تو یہ چیزیں نادر ہیں بہت کم ان کا، یہ کم پائی جاتی ہیں، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَى مَا وَرَدَ بِهِ النَّصُّ“ تو یہ اس، اس عذر کے معنی میں نہیں ہے، اس کے حکم میں نہیں ہے جس کے ساتھ نص وارد ہوئی ہے بھئی۔ یعنی نص کے اندر جو قے، نکسیر اور، اور مذی کے خارج ہونے کا جو عوارض ذکر تھے نص کے اندر، وہ تو عام پیش آ سکتے ہیں، یہ کیا ہیں؟ نادر ہیں، اور نادر چیز جو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا، لہٰذا ان کو ان کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا، ان کا وہ حکم نہیں ہوگا، ان میں تو بناء کر سکتا تھا لہٰذا ان کے اندر بناء نہیں کر سکتا۔
”وَكَذَلِكَ إِذَا قَهْقَهَ“ اور اسی طرح جب وہ قہقہہ لگائے، نماز میں کیا کرے؟ قہقہہ لگائے۔ آپ نے پڑھا ہے نماز میں کوئی قہقہہ لگائے نماز بھی فاسد اور وضو بھی فاسد، تو اب بناء نہیں کر سکتا۔ بھئی کیوں قہقہے کی صورت میں بناء کیوں نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلَامِ“ اس لیے کیونکہ قہقہہ کلام کے درجے میں ہے ”وَهُوَ قَاطِعٌ“ اور کلام تو کیا ہے؟ نماز کو توڑنے والا ہے، یہ حدیث جو پیچھے آئی اس میں بھی کیا آیا تھا؟ ”وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“ جب تک اس نے کلام نہیں کیا، کلام تو منافیِ صلاۃ ہے، وہ تو نماز کو فاسد کر دیتا ہے، وہ تو ان ٹھیک عذروں کے ہوتے ہوئے اس صورت میں بھی جب کلام پایا جائے تو بناء کرنا صحیح نہیں، تو قہقہہ بھی کلام کے درجے میں ہے اور کلام کی صورت میں نماز فاسد ہو جاتی ہے، بناء صحیح نہیں۔
”وَإِنْ حُصِرَ الْإِمَامُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فَقَدَّمَ غَيْرَهُ أَجْزَأَهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: لَا يُجْزِيهِمْ“ ”وَإِنْ حُصِرَ الْإِمَامُ عَنِ الْقِرَاءَةِ“ اور اگر امام عاجز آ گیا قراءت سے، امام کیا ہوا؟ عاجز آ گیا۔ بھئی ایک شخص ہے امام بنا، نماز شروع کروائی لیکن قراءت پر قدرت نہ رہی، قراءت پر قدرت نہ رہی، مثلاً اس پر خوف طاری ہو گیا یا رعب طاری ہو گیا یا زبان بند ہو گئی یا بھول جاتا ہے، تھوڑا سا یاد تھا اور وہ بھی اس کو بھول گیا، تو، تو امام اگر عاجز آ گیا قراءت سے ”فَقَدَّمَ غَيْرَهُ“ تو اس نے اپنے علاوہ کسی کو مقدم کر دیا ”أَجْزَأَهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ کافی ہے ان کے لیے امام صاحب کے نزدیک، یعنی اس کا خلیفہ بنانا صحیح ہو جائے گا، نماز سب کی ٹھیک ہو جائے گی، ”وَقَالَا: لَا يُجْزِيهِمْ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ ان کے لیے کافی نہیں۔ بھئی کیوں نہیں کافی ہوگا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَنْدُرُ وُجُودُهُ“ اس لیے کیونکہ اس چیز کا پایا جانا شاذ و نادر ہے، یہ چیز بہت کم ہوتی ہے کہ کوئی شخص قراءت سے کیا ہو جائے؟ عاجز ہو جائے، اس لیے کیونکہ اس کا وجود نادر ہے ”فَأَشْبَهَ الْجَنَابَةَ“ تو یہ کس کے مشابہ ہوا؟ جنابت کے مشابہ ہوا اور اوپر ہم ذکر کر چکے جنابت پیش آ جائے تو وہاں بناء نہیں کر... تو یہاں بھی بناء نہیں کر سکتا۔
”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الِاسْتِخْلَافَ بِعِلَّةِ الْعَجْزِ“ کہ خلیفہ بنانا وہ عاجز ہونے کی علت کی وجہ سے ہوتا ہے، خلیفہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ عاجز ہونے کی وجہ سے۔ جب ایک شخص نماز پڑھانے سے عاجز آ جائے کوئی حدث پیش آیا یا کوئی حالت پیش آئی تو وہ کیا کرتا ہے؟ خلیفہ بناتا ہے، تو خلیفہ بنانا عاجز ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ”وَهُوَ هُنَا أَلْزَمُ“ اور وہ عجز یہاں پر زیادہ لازم ہے، وہ عجز یہاں پر زیادہ لازم ہے۔ بھئی زیادہ لازم کیسے ہے؟ بھئی کہتے ہیں دیکھیے اگر کسی کو حدث پیش آ جائے، حدث پیش آ جائے امام کو مثلاً، اور وہ کسی کو خلیفہ بناتا ہی نہیں، وہ ساتھ ہی صف کے کنارے پر پانی موجود ہے وہ جاتا ہے وضو کرتا ہے اور آ کر پھر کیا کر دیتا ہے؟ بناء کر، پھر امامت کروا دیتا ہے، تو کسی کو خلیفہ بنایا ہی نہیں، خلیفہ بنایا ہی نہیں وہیں پر ساتھ ہی پانی تھا گیا فوراً وضو کیا اور پھر کیا کیا؟ نماز پڑھا دی، تو یعنی دیکھو وہاں پر وہ قادر ہو گیا، وہ نماز پڑھانے پر قادر ہو گیا، عجز اس کا ختم ہو گیا، لیکن یہاں پر تو عجز کے ختم ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے تو یہاں عجز زیادہ لازم ہے۔ وہ تو دیکھو پاس پانی تھا وضو اس نے کر لیا، اپنے حدث سے جان چھڑا لی یا نہیں چھڑا لی؟ جان چھڑا لی، حدث کو اپنے سے دور کر دیا، لیکن یہاں وہ قراءت سے عاجز ہو گیا ہے، اب تو قراءت پر قدرت کی کوئی صورت ہی نہیں ہے الا یہ کہ دوبارہ پھر سیکھے اور اس کو یاد کرے بھئی، تو یہاں وہ عجز زیادہ لازم ہے، حدث والی صورت سے بھی بڑھ کر زیادہ لازم ہے۔ یہ معنی ہے ”وَهُوَ هُنَا أَلْزَمُ“ تو ہِنا پڑھ لیں یا ہُنا پڑھ لیں دونوں طرح، اور وہ یہاں پر زیادہ لازم ہے۔ ”وَالْعَجْزُ عَنِ الْقِرَاءَةِ غَيْرُ نَادِرٍ“ اور باقی صاحبین نے کیا ذکر کیا تھا کہ عجز عن القراءۃ، قراءت سے عاجز ہونا نادر نادر ہے، امام صاحب فرما رہے ہیں نہیں، قراءت سے عاجز ہونا غیر نادر ہے، یہ یہ صورت پیش آتی ہے لوگوں کو ”فَلَا يُلْحَقُ بِالْجَنَابَةِ“ لہٰذا اس کو جنابت کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائے گا۔
”وَلَوْ قَرَأَ مِقْدَارَ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ لَا يَجُوزُ بِالْإِجْمَاعِ“ اسی مسئلے میں ایک شخص قراءت سے عاجز ہوا امام، لیکن عاجز ہوا جبکہ وہ بقدرِ فرض قراءت کر چکا ہے اب عاجز ہوا، فرض کے بقدر قراءت کر چکا ہے اب عاجز ہوا، اب وہ کسی کو خلیفہ بناتا ہے تو پھر یاد رکھیے اگر کسی کو اس نے خلیفہ بنایا تو نماز فاسد ہو جائے گی بھئی، نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ فرض ادا ہو چکا ہے اب ضرورت نہیں ہے خلیفہ بنانے کی، اب رکوع کر دے بھئی، کسی اور کو آگے کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ قَرَأَ مِقْدَارَ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ“ اور اگر وہ قراءت کر چکا ہے اتنی مقدار جس سے نماز جائز ہو جاتی ہے ”لَا يَجُوزُ بِالْإِجْمَاعِ“ تو خلیفہ بنانا جائز نہیں بالاجماع ”لِعَدَمِ الْحَاجَةِ إِلَى الِاسْتِخْلَافِ“ کیونکہ حاجت... ضرورت نہیں ہے خلیفہ بنانے کی۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.