فَصْلٌ فِي الْغُسْلِ. وَفَرْضُ الْغُسْلِ الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَغَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى هُمَا سُنَّتَانِ فِيهِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ“ أَيْ: مِنَ السُّنَّةِ، وَذَكَرَ مِنْهَا الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَلِهَذَا كَانَا سُنَّتَيْنِ فِي الْوُضُوءِ.
وضو کا بیان مکمل ہوا۔ وضو کے فرائض بھی ذکر ہوئے، سنتیں بھی، مستحبات بھی، اور وضو کو توڑنے والی چیزیں بھی ذکر ہوئیں۔ اب غسل کا ذکر آیا بھئی، غسل کا۔ ”فَصْلٌ فِي الْغُسْلِ“، ”أَيْ: هَذَا فَصْلٌ فِي الْغُسْلِ“، یہ فصل ہے غسل کے بیان میں۔ ”وَفَرْضُ الْغُسْلِ الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ“، یاد رکھیے! غسل کے اندر تین فرائض ہیں بھئی، تین فرض۔ تین چیزیں فرض ہیں: کلی کرنا اچھی طرح، ناک میں پانی ڈالنا، ناک کا جو نرم حصہ ہے اس سارے تک پانی اندر پہنچانا، اور سارے بدن پر پانی بہانا کہ بدن پر ایک بال کے برابر بھی جگہ خشک نہ رہے بھئی۔ یہ فرض ہے، فرض بھئی۔ تو اس میں خوب احتیاط ہونی چاہیے بھئی۔ کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور سارے بدن پر پانی کا بہانا بھئی، سارے بدن پر۔
تو اس میں خوب احتیاط کرے انسان، بدن کا کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے کہ وہ نہ دھلے۔ جب تک وہ حصہ... اگر کوئی حصہ رہ گیا ہے تو انسان جنابت ہی کی حالت میں ہے۔ کلی کرنا بھول گیا تو جنابت ہی کی حالت میں ہے، ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا تو جنابت ہی کی حالت میں ہے بھئی۔ تو پھر اگر کوئی حصہ یا کوئی چیز ان میں سے بھول گیا بعد میں یاد آیا، تو اب یہ نہیں کہ سارا غسل دوبارہ کرنا پڑے گا بھئی، بلکہ صرف اس حصے کو دھو لے تو غسل پورا ہو جائے گا بھئی، غسل پورا ہو جائے گا۔ کلی کرنا بھول گیا تھا، بعد میں یاد آیا کئی گھنٹوں بعد، تو بس ابھی تک جنابت میں تھا اب کلی کر لے، کیا ہو جائے گا؟ پاک۔ اور اس دوران اگر کوئی نماز وغیرہ پڑھی تھی تو وہ نماز نہیں ہوئی، اس کو بھی لوٹا لے بھئی۔ تو پھر سارا غسل نہیں کرنا پڑے گا۔ کوئی حصہ خشک رہ گیا تھا تو بعد میں پتہ لگا بھئی تو اس حصے کو دھو لے اور غسل جو ہے وہ پورا ہو جائے گا، تو سارا غسل دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو شریعت کے اندر بڑی آسانی ہے بھئی، بڑی آسانی ہے۔ فقہائے کرام پر اللہ تعالی کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں بھئی۔ مسائل کو کتنا آسان کر دیا! یہ ایک ایک مسئلہ اس پر انہوں نے کتنی کتنی محنت کی ہوگی، کتنا سوچا ہوگا، اور کتنی احادیث میں، آیات میں غور کیا ہوگا اور پھر جا کر یہ تمام مسائل نکالے اور پھر ان کو مرتب کر کے، ترتیب دے کر ایک آسان صورت میں ہمارے سامنے ذکر کر دیا بھئی، آسان صورت میں۔ تو کتنی آسانی کر دی بھئی، کتنی آسانی کر دی!
حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو فقہاء کو برا کہتے ہیں بھئی۔ اللہ تعالی ان کو صحیح سمجھ نصیب فرمائے بھئی۔ اللہ! خصوصاً بعض لوگ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں بھئی۔ امام صاحب کو کتنا عظیم مقام اللہ نے نصیب فرمایا، انسان سوچتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بھئی، سوچتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ بارہ تیرہ سو سال ہو گئے وہاں نا، لاکھوں کروڑوں لوگ امام صاحب کے مسلک کے مطابق زندگی گزار چکے اور گزار رہے ہیں، اور اندازہ لگائیے ثواب کے سمندر کے سمندر چل رہے ہیں جو سب ان کے حصے میں جا رہے ہیں بھئی۔ ثواب کے سمندر بھئی۔ کتنا اونچا مقام کہ انسان تصور نہیں کر سکتا اس کا بھئی۔
امام بخاری رحمہ اللہ بھئی، جنہوں نے بخاری شریف جیسی عظیم الشان کتاب لکھی اور اس سے ساری امت نفع اٹھا رہی ہے، ساری امت نفع اٹھا رہی ہے۔ وہ امام صاحب کو ”قَالَ بَعْضُ النَّاسِ“ کے ساتھ ذکر کرتے ہیں بخاری میں بھئی۔ ناراض ہیں، ان کا ذکر اچھے لفظوں سے نہیں کرتے بھئی، اچھے لفظوں سے۔ ان کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ کیا فرماتے ہیں: ”قَالَ بَعْضُ النَّاسِ“، بطورِ... اور یہ بطور تحقیر کے بھئی۔ لیکن والد صاحب رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً وہ ترمذی شریف کا جب درس ہوتا، احادیث پر بحث ہوتی تھی اور امام بخاری انہوں نے کہیں نام نہیں لیا امام صاحب کا، اور امام ترمذی وہ بھی ان کی صحبت میں رہے، تو وہ بھی امام صاحب کا کہیں نام نہیں لیتے بھئی۔ جہاں امام صاحب... باقی سب کا ائمہ کا تقریباً ہر صفحے پر امام ترمذی نام لیتے ہیں لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام نہیں لیتے بھئی۔ امام صاحب کی جہاں بات آتی ہے فرماتے ہیں: ”قَالَ أَهْلُ الْكُوفَةِ“، کوفہ والوں نے یوں کہا ہے، کوفہ والوں نے۔ ایک جگہ صرف انہوں نے ترمذی میں امام صاحب کا نام لیا ہے لیکن وہ بھی ناراضگی میں بھئی، وہاں بھی سمجھ... تو وہ بھی ذکر نہیں فرماتے۔
تو والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ امام بخاری کا بہت اونچا مقام ہے، انسان تصور نہیں کر سکتا، اتنا اونچا مقام ہے کہ اتنی عظیم الشان کتاب لکھ گئے کہ صدیوں سے، ہزار سے زیادہ سال گزر گئے اور ساری امت ان کی کتاب سے نفع اٹھا رہی ہے۔ اسی طرح امام ترمذی عظیم الشان کتاب لکھ گئے حدیث کی، لیکن فرماتے تھے ان کے مقابلے میں جب امام صاحب کی طرف نظر کی جائے تو فرماتے تھے: بے شک امام بخاری اور امام ترمذی کا بہت اونچا مقام، آج ہمیں وہ مل جائیں تو ان کے پاؤں کی خاک کو بھی ہم اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانا اپنی سعادت سمجھیں گے۔ سعادت سمجھیں گے لیکن وَاللهِ ثُمَّ وَاللهِ! ایک لاکھ امام بخاری بھی اکٹھے ہو جائیں تو ابو حنیفہ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ اسی طرح امام ترمذی کے بارے میں فرماتے کہ وَاللهِ! ایک لاکھ امام ترمذی اکٹھے ہو جائیں تو ابو حنیفہ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔
بے شک یہ عظیم ہستیاں ہیں سب، لیکن امام صاحب کا مقام بڑا اونچا بھئی۔ کروڑوں لوگ بھئی، اربوں لوگ ان کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق، جو انہوں نے قرآن حدیث وغیرہ سے سمجھا اور لوگوں کو بتلایا، پوری پوری زندگی ایک ایک مسئلے کے اندر ان کا اتباع کرتے ہوئے زندگیاں گزار رہے ہیں، ہر ہر چیز کا ثواب ان کے نامہ اعمال میں جا رہا ہے۔ ان کو اللہ نے مقتدا بنایا بھئی، لوگ کیا کر رہے ہیں ان کی؟ اقتدا کر رہے ہیں بھئی، اقتدا۔ قیامت کے دن لوگ یہ تو کہیں گے کہ اے اللہ! میں حنفی ہوں، میں حنفی ہوں، مجھے جنت میں داخل فرمائیے، میں نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اقتدا کی جنہوں نے ہر چیز قرآن و سنت کے مطابق ہمیں بتلائی۔ لیکن امام بخاری، امام ترمذی وہ مقتدا نہیں ہیں بھئی۔ مذاہب میں آپ تفصیل پڑھیں گے آگے بھی، تو کہیں بھی ان کا الگ مذہب نہیں ذکر ہوتا۔ تو وہ، انہوں نے حدیث کی عظیم کتابیں تو لکھیں لیکن مقتدا نہیں ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مقتدا نہیں ہیں۔
تو امام صاحب کا بڑا اونچا مقام، اور حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو امام صاحب کی شان میں گستاخی کرتے ہیں بھئی، حیرت ہوتی ہے۔ اور گستاخی عموماً وہی کرتا ہے جس کے پاس علم کچھ بھی نہیں ہوتا۔ گستاخی وہی کرتا ہے جس کے پاس علم نہیں ہوتا بھئی۔ دین سارا ادب کا نام ہے، دین سارا ادب کا نام ہے۔ بے ادبی سے انسان اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور کسی کا نہیں بھئی، اور کسی کا نہیں۔ عجیب لوگ ہوتے ہیں بھئی، علم کچھ بھی نہیں ہوتا اور انگلیاں اٹھاتے ہیں امام صاحب پر۔ حیرت ہوتی ہے بھئی، حیرت بھئی۔ یہ تو یوں ہی ہے جیسے چیونٹی یا چیونٹی سے بھی کوئی ادنیٰ ہو اور وہ آسمان کو برا بھلا کہے، ایک طرف آسمان، انتہائی بلندی اور عظیم چیز اور ایک طرف چیونٹی ہے بھئی۔ تو بس یہی... اللہ ان سب کو سمجھ دے بھئی، ان سب کو سمجھ دے۔
دیکھیے! یہ مسائل ہم پڑھ رہے ہیں، ایک ایک مسئلہ قرآن و حدیث دلائل ساتھ ذکر ہو رہے ہیں بھئی، اور یہ نہیں کہ ہمارے صرف یہی دلائل ہیں۔ صاحبِ ہدایت نے فرمایا کہ میں نے اسی جلدوں کو مختصر کر کے یہ چار جلدیں لکھی ہیں بھئی۔ اور یہاں چار جلدیں لکھنے کے لیے کیا کرنا پڑا؟ بس ایک ایک دلیل ذکر کرتے جا رہے ہیں بھئی، ایک دلیل ذکر کر دی مختصراً۔ یہ نہیں کہ ہمارے پاس یہی دلائل ہیں بھئی۔ قرآن سے، حدیث سے، اجماع وغیرہ، ہر مسئلے میں احناف کے پاس بڑے بڑے قوی دلائل ہیں، پہاڑ کی طرح مضبوط دلائل موجود ہیں بھئی۔ احناف جب کسی مسئلے پر آتے ہیں تو بال کی بھی کھال اتار دیتے ہیں بھئی، اتنی گہرائی تک چلے جاتے ہیں کہ انسان حیران رہتا ہے بھئی، اتنی گہرائی تک چلے جاتے ہیں۔ اور اس کا اندازہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے درس میں ہوتا تھا جب احناف کے دلائل چلتے تھے بھئی۔ دیگر ائمہ کے دلائل بھی ذکر ہوتے اور احناف کے دلائل بھی ذکر ہوتے تھے، لیکن وہاں پتہ چلتا تھا کہ احناف کے دلائل کتنے قوی ہیں، کتنے قوی ہیں۔
تو یاد رکھیے! ہمارے نزدیک چاروں ائمہ برحق ہیں: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ۔ ان کے عِنْدَ اللهِ مقبولیت کا اندازہ اسی سے لگا لو بھئی۔ فقہاء اولاً بہت زیادہ فقہاء تھے بھئی، فقہاء کی تعداد تو بہت زیادہ لیکن ان چار کو اللہ نے ایسی مقبولیت نصیب فرمائی کہ تمام دنیا کے اندر انہی کے پیروکار ہیں اس وقت اور فقہاء اور ان کے مذاہب ختم ہوئے بھئی۔ انہی چار کے متبعین ہیں بھئی، ان کے مسلک پر زندگی گزارتے ہیں، ان کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق جو انہوں نے قرآن و حدیث سے اخذ کیا۔ تو اتنا اونچا ان کا مقام ہے بھئی۔
یاد رکھیے! یاد رکھیے بھئی! اللہ آپ میں سے ہر ایک کو بڑا مدرس بنائے بھئی۔ درس کے اندر بھی کبھی کسی امام کی شان میں بے ادبی کا لفظ آپ کی زبان پر نہ آئے بھئی، درس کے اندر بھی۔ بعض مدرسین ان کی توجہ نہیں ہوتی، بعض اوقات بے ادبی والا انداز اختیار کر لیتے ہیں بھئی، وہ انداز آپ کبھی نہ اختیار کرنا۔ مثلاً امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دینے لگے ہیں، ان کی دلیل ذکر ہو جاتی ہے پھر ہماری دلیل ذکر ہونے لگتی ہے تو عجیب انداز بنا لیتے ہیں: اے امام شافعی رحمہ اللہ! آپ کو ہماری یہ دلیل نظر نہیں آئی؟ یہ دیکھیں حدیث کے اندر، فلاں حدیث میں یہ آ رہا ہے، آپ کے قیاس کا یہ جواب ہے۔ بھئی یہ کیا انداز ہے بات کرنے کا بھئی؟ کس کے بارے میں بات کر رہے ہو بھئی؟ امامِ دنیا کے بارے میں بات کر رہے ہو اور اتنا بے ادبی والا انداز؟ تو ہر چیز میں ادب ہو، ہر چیز میں بھئی۔ ہمارے نزدیک چاروں ائمہ برحق ہیں بھئی، ہاں صرف ہم ترجیح امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کو دیتے ہیں، ان کے مسلک پر عمل کرتے ہیں۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ حق پر نہیں ہیں بھئی، سب حق پر ہیں بھئی۔ تو ائمہ کا بے انتہا ادب ہو بھئی، بزرگوں کا بے انتہا ادب ہو بھئی، ادب ہو۔
والد صاحب درس میں جب بھی ائمہ کا ذکر آتا بڑے ان کی بڑی تعریف فرماتے جب بھی ذکر آتا تھا۔ اور کبھی بے ادبی والا لفظ ان کی زبان پر نہیں آتا تھا، ہمیشہ ائمہ کا انتہا درجے کا ادب و احترام اور ان کی بے انتہا تعریف و توصیف فرماتے۔ اور ایک مرتبہ طلبہ بتلاتے ہیں، طلبہ بتلاتے ہیں کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ سبق پڑھا رہے تھے، پڑھاتے پڑھاتے اچانک ان کو کیا خیال آیا کہ ان پر گریہ طاری ہو گیا۔ آواز حلق میں اٹک گئی، بولنا چاہتے ہیں، بولا ہی نہیں جا رہا بھئی جیسے رونے کی کیفیت انسان پر طاری ہو جاتی ہے۔ بڑی کوشش کی حضرت نے بولنے کی لیکن ایک دو لفظ ادا کرتے ہیں پھر وہی کیفیت بن جاتی ہے۔ آخر مجبور ہو کر سبق بند کیا، تشریف لے گئے بھئی۔ عجیب انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔ اگلے دن پھر اسی طرح یہی کیفیت سبق کے اندر، درمیان میں چلتے چلتے ایک دم سبق پھر وہی حالت آ گئی، اب بولنا چاہتے ہیں، بولا ہی نہیں جا رہا، پھر سبق چھوڑ کر چلے گئے۔ تیسرے دن آخر حضرت نے خود ذکر فرمایا سبق میں کہ بھئی میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے، مجھے جب اس خواب کا خیال ذہن میں آتا ہے تو بس پڑھانا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے، پڑھانا مشکل۔ فرمانے لگے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سبق ہو رہا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ، امامِ دنیا تشریف لائے ہوئے ہیں، اور مجھ سے کہنے لگے کہ آپ کا درس بڑا قیمتی ہوتا ہے، بڑا قیمتی ہوتا ہے، اور مزید فرمانے لگے کہ آپ سب ائمہ کا خیال رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں آخری جملہ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے عجیب ہی فرمایا، وہ جب میرے دل میں اس کا خیال آتا ہے تو مجھے اتنا رونا آتا ہے کہ میرے لیے سبق پڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ آخر میں فرمانے لگے کہ میں بھی کبھی کبھی آپ کے سبق میں آتا ہوں۔ میں بھی کبھی کبھی آپ کے سبق میں آتا ہوں۔ تو ائمہ کا ہمیشہ یاد رکھیے بھئی، بڑا ادب و احترام بھئی۔ یہ دنیائے علم کے آفتاب و ماہتاب ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، اور یہ جو میں نے حضرت کے الفاظ ذکر کیے امام بخاری، امام ترمذی بھئی، یہ کوئی تنقیص کے انداز میرا نہیں تھا، نہ... یہ بڑے بڑے جِبَالُ الْعُلُوم ہیں مولانا، اتنا اونچا مقام کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ان کے بارے میں۔ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ بس ویسے میں نے حضرت کا بتلایا کہ وہ فرماتے تھے کہ سب کا بڑا اونچا مقام، لیکن بہرحال امام صاحب کا تو بڑا اونچا مقام ہے، بڑا اونچا مقام ہے۔
تو یہ جو اتنا لمبا کلام کیا گیا اس کے ذریعے مقصد جو ہے دراصل مرتبوں کا فرق سمجھانا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو بے شک امام بخاری اور امام ترمذی رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً ان کا مقام بہت اونچا، ہمارے تصور سے بھی ان کا مقام اونچا ہے، لیکن بہرحال مرتبوں کا فرق کرنا پڑے گا۔ جیسے، جیسے کسی مسئلے میں صدیق و عمر رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں، ہم اور تو کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اتنا کہہ سکتے ہیں کہ صدیق کا مقام بہت اونچا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کلام کے ذریعے مقصد مرتبوں کا فرق بیان کرنا ہے بھئی، مرتبوں کا فرق بیان کرنا۔
اللہ! چلیے بھئی، بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ کیا بات ذکر ہو رہی تھی؟ غسل کے فرائض بھئی۔ تو غسل میں سارے بدن کو انسان دھوئے بھئی اور کوئی حصہ خشک نہ رہے۔ بالخصوص یہ کانوں کے اندر پانی اچھی طرح پہنچائے بھئی کانوں کے اندر، کان کا اندر والا حصہ یہ کبھی خشک رہ جاتا ہے تو یہاں انگلی وغیرہ سے پانی خوب اچھی طرح سارے حصے کو پہنچ جائے، اور اسی طرح ناف بھئی، ناف۔ ناف میں بھی بعض اوقات احتیاط نہ ہو تو پانی نہیں پہنچتا تو وہاں بھی خوب احتیاط سے پانی پہنچائے بھئی۔ تو یہ تین چیزیں فرض ہیں غسل میں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفَرْضُ الْغُسْلِ الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَغَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“، اور غسل کا فرض جو ہے وہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا، ”وَغَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“، بھئی غَسل پڑھا میں نے، غُسل نہیں پڑھا۔ کہاں غَسل پڑھیں گے، کہاں غُسل؟ غَسل کا معنی دھونا، اور غُسل نہانا بھئی۔ تو کہاں غَسل پڑھیں گے، کہاں غُسل پڑھیں گے؟ یاد رکھیے! جب ان کی اضافت ہو، مضاف بنیں، آگے مضاف الیہ آئے، تو اگر ان کی اضافت مغسول کی طرف ہو تو پھر غَسل پڑھیں گے، اگر غیر مغسول کی طرف ہو تو پھر غُسل پڑھیں گے۔ اگر اس غسل لفظ کی اضافت کس کی طرف ہو؟ مغسول کی طرف، تو پھر غَسل پڑھیں گے، اور اگر غیر مغسول کی طرف اضافت ہو تو کیا پڑھیں گے؟ غُسل پڑھیں گے۔ دیکھیے! آپ مجھے بتائیے بھئی، غَسل یا غُسل کا لفظ آیا اور اس کے آگے لکھا ہوا تھا ”الْمَيِّتِ“، یہ ہے مضاف مضاف الیہ: غسل اور المیت۔ تو کیا پڑھیں گے؟ ”غَسْلُ الْمَيِّتِ“ یا ”غُسْلُ الْمَيِّتِ“؟ جی؟ میت کیا ہے؟ مغسول ہے یا نہیں؟ اس کو دھویا جاتا ہے، تو یہاں جہاں مغسول ہو وہاں غَسل پڑھیں گے: ”غَسْلُ الْمَيِّتِ“، کیا پڑھیں گے؟ ”غَسْلُ الْمَيِّتِ“۔ اور اگر مضاف الیہ مغسول کے علاوہ کوئی ہو جیسے ”الْجُمُعَةِ“ کا لفظ آگے آ جائے، تو ”غَسْلُ الْجُمُعَةِ“ پڑھیں گے یا ”غُسْلُ الْجُمُعَةِ“ پڑھیں گے؟ ”غُسْلُ الْجُمُعَةِ“ پڑھیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہاں پر آگے آ رہا ہے ”سَائِرِ الْبَدَنِ“، سارا بدن۔ تو ”غَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“ پڑھیں گے یا ”غُسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“؟ ”غَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“، آگے مغسول کا ذکر آ رہا ہے بھئی، مغسول کا ذکر۔ اور سائر لفظ آیا، اس کے بارے میں بھی یاد رکھیے۔ سائر یہ پورے کے معنی میں بھی آتا ہے اور باقی کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اگر ہو یہ پورے کے معنی میں تو ”سَائِرُ الْبَدَنِ“ کا کیا معنی ہوگا؟ پورا بدن۔ ”سَائِرُ الْبَدَنِ“ کا کیا معنی؟ پورا بدن۔ اور اگر یہ باقی کے معنی میں ہو تو ”سَائِرُ الْبَدَنِ“ کا کیا معنی ہوگا؟ باقی بدن، کیا معنی ہوگا؟ باقی بدن بھئی۔ تو یہ دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ آپ نے موقع محل کو دیکھنا ہے، کہاں اس کا معنی پورے کے کرنے ہیں اور کہاں اس کا معنی باقی کے کرنے ہیں۔ تو یہاں آیا ”وَغَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“، کیا ترجمہ کریں گے؟ پورا بدن یا باقی بدن؟ پورا بدن، اس لیے کیونکہ کلی کی ہے، وہ تو منہ کے اندر والا حصہ ہے، ناک میں پانی پہنچایا، یہ تو ناک کے اندر والا حصہ ہے، معلوم ہوا سارا باہر کا بدن ابھی باقی ہے تو پورا کریں گے یہاں ترجمہ۔ تو کہتے ہیں: ”الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ“، کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا، ”وَغَسْلُ سَائِرِ الْبَدَنِ“، اور پورے بدن کا دھونا۔
”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً هُمَا سُنَّتَانِ فِيهِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دونوں یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ”سُنَّتَانِ فِيهِ“، یہ سنت ہیں ”فِيهِ أَيْ فِي الْغُسْلِ“، کس کے اندر؟ غسل۔ ہمارے نزدیک تو یہ دونوں فرض، ان کے نزدیک یہ دونوں سنت ہیں۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، آگے ان کی دلیل ذکر کر دی، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ“، دس چیزیں فطرت میں سے ہیں۔ فطرت میں سے۔ ”أَيْ: مِنَ السُّنَّةِ“، یہ صاحبِ ہدایت کی عبارت ہے، یہ حدیث نہیں، حدیث کا حصہ نہیں۔ دس چیزیں فطرت میں سے ہیں، فطرت کا لفظ آیا، کیا معنی؟ ”أَيْ: مِنَ السُّنَّةِ“ بھئی، کس میں سے ہیں؟ سنت میں، دس چیزیں سنت میں سے ہیں۔ ”وَذَكَرَ مِنْهَا الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ“، اور ذکر ان دس میں سے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مضمضہ اور استنشاق کو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس چیزیں سنت میں سے ہیں اور ان دس میں سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو بھی ذکر فرمایا، معلوم ہوا یہ دونوں کیا ہیں؟ سنت ہیں۔ ”وَلِهَذَا كَانَا سُنَّتَيْنِ فِي الْوُضُوءِ“، اور اسی وجہ سے یہ سنت ہیں کس کے اندر؟ وضو کے اندر بھی۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔
”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى“، اور ہماری دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے: ”وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا“، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو، ”فَاطَّهَّرُوا“، تو خوب پاکی حاصل کرو، خوب پاک ہو بھئی، خوب پاک ہو جاؤ۔ تو یہ ”أَمْرٌ بِالِاطِّهَارِ“، یہ جو آیت میں آیا ”وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا“، یہ کیا ہے ”فَاطَّهَّرُوا“؟ ”أَمْرٌ بِالِاطِّهَارِ“، یہ اطہار کا امر ہے، اطہار کا حکم دے رہے ہیں اللہ تعالی۔ اور اطہار کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ تَطْهِيرُ جَمِيعِ الْبَدَنِ“، وہ پورے بدن کو پاک کرنا ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ مَا تَعَذَّرَ إِيصَالُ الْمَاءِ إِلَيْهِ خَارِجٌ“، مگر یہ کہ وہ حصہ ”تَعَذَّرَ“ کہ مشکل ہو ”إِيصَالُ الْمَاءِ إِلَيْهِ“ اس کو پانی پہنچانا ”خَارِجٌ“، وہ اس سے خارج ہوگا۔ وہ اس پاک کرنے کے حکم سے خارج ہوگا بھئی، خارج ہوگا۔ تو پورے بدن کو پاک کیا جائے گا، مگر بدن کا وہ حصہ جہاں پانی پہنچانا مشکل ہو وہ اس حکم سے خارج، وہاں پانی پہنچانا فرض نہیں۔ پانی پہنچانا فرض نہیں۔ جیسے کان کے اندر والا حصہ بھئی، کان کے... بھئی ایک تو یہ باہر والا حصہ ہے جس کا میں نے ابھی بتایا احتیاط سے دھونا، یہ تو یہ باہر والا حصہ، ایک کان کا جو سوراخ ہے اس کے اندر پانی پہنچانا، وہ مشکل ہے بھئی۔ پہنچ تو جائے گا لیکن مشکل ہے، تکلیف کا باعث ہوگا۔ اسی طرح آنکھ کے اندر پانی کا پہنچانا، دیکھیے یہ مشکل ہے، تو اس طرح وہ جہاں جہاں پانی کا پہنچانا مشکل وہ اس حکم سے خارج ہیں بھئی۔ باقی پورے بدن کو پاک کرنے کا حکم، تو جہاں جہاں پانی آسانی سے پہنچ سکتا ہے ان کو دھویا جائے گا بھئی۔ اور آپ بتائیے، کلی کرنا، منہ کے اندر پانی پہنچانا، یہ مشکل ہے؟ نہیں، لہذا یہ بھی داخل ہوگا، اس کو بھی دھونا پڑے گا۔ ناک کے اندر یہ پانی پہنچانا، یہ بھی کوئی مشکل نہیں، لہذا یہ بھی داخل ہیں فرض کے اندر بھئی۔
”بِخِلَافِ الْوُضُوءِ“، بخلاف وضو کے۔ تو غسل کے اندر یہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا یہ فرض ہیں، بخلاف وضو کے، اس میں فرض نہیں۔ کیوں؟ ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِيهِ غَسْلُ الْوَجْهِ وَالْمُوَاجَهَةُ فِيهِمَا مُنْعَدِمَةٌ“، يَرْحَمُكَ اللهُ! ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِيهِ“، اس لیے کیونکہ وضو میں واجب جو ہے ”غَسْلُ الْوَجْهِ“، چہرے کا دھونا ہے بھئی، وجہ کا دھونا۔ تو آیت میں کس طرح آیا ہے؟ ”فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ“، دھو اپنے چہروں کو۔ اور تو چہرے کو دھونے کا حکم دیا گیا، وجہ کو دھونے کا حکم دیا گیا، اور آپ پڑھ چکے وجہ اس کی حد صاحبِ ہدایت نے بیان فرمائی تھی کہ ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک چوڑائی میں، اور پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک یہ سارا وجہ میں داخل ہے، اور یہ کس سے پتہ چلا تھا؟ کیونکہ وجہ مشتق ہے کس سے؟ مواجہہ سے۔ مواجہہ کا معنی آمنا سامنا کرنا کسی سے بھئی، اور سامنا اس سارے حصے کے ساتھ کیا جاتا ہے اس لیے یہ وجہ ہوا اور وجہ کے دھونے کا دھونا تو اس کا تو حکم دیا جا رہا ہے تو وہ فرض ہے۔ تو یہ وجہ، لیکن یہ جو ناک کا اندر والا حصہ ہے اور منہ کا اندر والا حصہ ہے، یہ وجہ سے خارج ہے۔ کیوں خارج ہے؟ کیونکہ وجہ مشتق ہے مواجہہ سے، سامنا کرنا، اور یہ جو کسی کا سامنا کسی کا کیا جاتا ہے تو منہ کے اندر والا حصہ اس کے سامنے ہوتا ہے؟ نہیں، وہ تو وہ تو چھپا ہوا ہے۔ ناک کے اندر والا حصہ بھی اس کے سامنے نہیں چھپا ہوا ہے۔ تو معلوم ہوا اس کے ساتھ مواجہہ نہیں ہوتی، جب مواجہہ نہیں ہوتی تو معلوم ہوا وہ وجہ میں داخل نہیں، جب وجہ میں داخل نہیں ہمیں تو وجہ کے دھونے کا حکم ملا ہے تو اس لیے جو سامنے کا ظاہر جتنا حصہ ہے اس سارے کو دھویا جائے گا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا یہ وضو میں فرض نہیں ہوگا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِيهِ غَسْلُ الْوَجْهِ“، اس لیے کیونکہ واجب جو ہے وضو کے اندر وہ چہرے کا دھونا ہے، وجہ کا دھونا ہے، ”وَالْمُوَاجَهَةُ فِيهِمَا مُنْعَدِمَةٌ“، اور مواجہہ جو ہے، سامنا کرنا، ”فِيهِمَا“، ان دونوں میں، کن دونوں میں؟ یہ جو ناک کا اندر والا حصہ ہے اور منہ کا اندر والا، ان دونوں میں مواجہہ جو ہے ”مُنْعَدِمَةٌ“، معدوم ہے، ان میں مواجہہ نہیں پائی جاتی۔
”وَالْمُرَادُ بِمَا رَوَى“، جی، اب جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث ذکر کی تھی، اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بِمَا رَوَى حَالَةُ الْحَدَثِ“، اور مراد اس حدیث سے جس کو روایت کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے، اس سے مراد ”حَالَةُ الْحَدَثِ“، بے وضو ہونے کی حالت ہے۔ اس حدیث میں جو کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو سنت قرار دیا گیا وہ کون سی حالت مراد ہے وہاں پر؟ وہ حدث یعنی بے وضو ہونے کی حالت مراد ہے، جنابت کی حالت وہاں مراد نہیں۔ بھئی دلیل کیا ہے اس بات کی کہ وہاں بے وضو ہونے کی حالت مراد ہے؟ کہتے ہیں: ”بِدَلِيلِ قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی دلیل سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس مضمضہ اور استنشاق کے بارے میں: ”إِنَّهُمَا فَرْضَانِ فِي الْجَنَابَةِ سُنَّتَانِ فِي الْوُضُوءِ“، یہ دونوں یعنی مضمضہ اور استنشاق یہ جنابت میں فرض ہیں اور وضو میں سنت ہیں، تو یہ حدیث میں آیا بھئی۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَسُنَّتُهُ أَنْ يَبْدَأَ الْمُغْتَسِلُ فَيَغْسِلَ يَدَيْهِ وَفَرْجَهُ وَيُزِيلَ النَّجَاسَةَ“، اب سنت طریقہ بیان کر رہے ہیں غسل کا، سنتیں یعنی اس کی۔ فرض بیان ہو گئے، تین فرض ہیں: ناک میں پانی ڈالنا، کلی کرنا، اور سارے بدن پر پانی بہانا۔ سنت طریقہ یاد رکھیے غسل کا یہ ہے کہ انسان پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لے، اس کے بعد استنجا کر لے خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو، مسنون ہے اس طرح، پہلے دونوں ہاتھوں کو دھو لے پھر استنجا کر لے، اس کے بعد اگر بدن پر کہیں نجاست لگی ہوئی ہے تو اس نجاست کو دھو لے۔
ڈالے، بدن سے دور کر دے۔ اس کے بعد پھر وضو کر لے جیسا کہ نماز کے لیے وضو کرتا ہے انسان جیسے پیچھے ذکر گزر گیا، پورا وضو کر لے اور پھر وضو کرنے کے بعد، اس کے بعد پورے بدن پر تین مرتبہ پانی بہا لے بھئی۔ کیا کرے؟ تین مرتبہ۔ یہ ہے مسنون طریقہ غسل کا۔ دیکھئے بھئی:
”وَسُنَّتُهُ“ اور غسل کی سنت جو ہے ”أَنْ يَبْدَأَ الْمُغْتَسِلُ“ یہ کہ ابتدا کرے غسل کرنے والا ”فَيَغْسِلَ يَدَيْهِ وَفَرْجَهُ“ پس دھوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو اور اپنی شرمگاہ کو۔ شرمگاہ کو دھوئے یعنی استنجا کر لے۔ ”وَيُزِيلَ النَّجَاسَةَ إِنْ كَانَتْ عَلَى بَدَنِهِ“ اور دور کرے نجاست کو اگر وہ اس کے بدن پر کہیں لگی ہوئی ہو، اس نجاست کو دھو ڈالے۔ ”ثُمَّ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ“ پھر وضو کرے اس کا وضو جو ہے نماز کے لیے، جو نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے وہ وضو کر لے۔ جی ”فَيَغْسِلَ“ میں نے اس کو منصوب پڑھا، ”وَيُزِيلَ“ منصوب پڑھا، ”يَتَوَضَّأَ“ یہ بھی منصوب۔ ان سب کا عطف پیچھے ”يَبْدَأَ“ پر ہو رہا ہے اور ”يَبْدَأَ“ پر ”أَنْ“ داخل ہے وہ نصب دے رہا ہے تو یہ سارے بھی منصوب ہوں گے۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ“ پھر وضو کرے جیسے کہ یہ نماز کے لیے وضو کرتا تھا ”إِلَّا رِجْلَيْهِ“ سوائے دونوں پاؤں کے، پاؤں نہ دھوئے۔ پاؤں ابھی مؤخر کر دے، مؤخر کر دے۔
”ثُمَّ يُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ“ پھر اس کے بعد پانی بہائے اپنے سر پر، بھئی سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہانا ہے، اب اس میں بتلا رہے ہیں آغاز کہاں سے کرے؟ کس طرح؟ کہتے ہیں: ”ثُمَّ يُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ“ پھر پانی بہائے اپنے سر پر ”وَسَائِرِ جَسَدِهِ“ کیا ترجمہ کریں گے؟ جی؟ ہاں باقی بدن پر، کیونکہ سر پر تو ڈال لیا بھئی، تو یہاں پورے کے معنی نہیں، پورے کے ساتھ ترجمہ نہیں ہوگا۔ ”وَسَائِرِ جَسَدِهِ“ اور اپنے باقی جسم پر ”ثَلَاثًا“ کتنی مرتبہ؟ تین مرتبہ بھئی، تین مرتبہ۔ اس میں بھی علماء فرماتے ہیں کہ پھر پہلے دائیں کندھے پر جو ہے تین دفعہ ڈالے، پھر اس کے بعد بائیں کندھے، اور پہلی مرتبہ جب پانی ڈالے تو اس وقت بدن کو اچھی طرح مل لے تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے، پھر دوسری اور تیسری دفعہ پانی ڈالے تاکہ پانی خوب اچھی طرح پہنچ جائے۔
”ثُمَّ يَتَنَحَّى عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ“ پھر ہٹ جائے اس جگہ سے ”فَيَغْسِلَ رِجْلَيْهِ“ تو دھو لے اپنے دونوں پاؤں بھئی۔ پاؤں رہ گئے تھے، ان کو چھوڑ دیا تھا، وضو باقی کیا تھا اور پاؤں نہیں دھوئے تھے، تو اب جب غسل باقی سارا کر لیا تو اب اس جگہ سے ہٹ جائے اور اپنے دونوں پاؤں دھو لے بھئی۔
بھئی یہ پاؤں کیوں چھوڑ دیے شروع میں؟ اور پھر آخر میں کیوں ان کو دھویا؟ یاد رکھئے، یہ اس لیے اس طرح ذکر فرمایا کہ حدیث میں اس طرح آتا ہے۔ مَیْمُونَۃ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا وہ فرماتی ہیں کہ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس طرح غسل فرماتے تھے، تو پاؤں جو تھے ان کو وضو کرتے ہوئے پاؤں نہیں دھوتے تھے اور پھر جب غسل کر لیتے تو اس جگہ سے ہٹ کر پھر پاؤں کو دھو لیا کرتے تھے، دھو لیا کرتے تھے۔
لیکن فقہائے کرام اس کی وجہ لکھتے ہیں بھئی، کہتے ہیں حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایسا اس لیے فرماتے تھے کیونکہ آپ جہاں پر وضو اور غسل فرماتے تھے پانی وہیں پر جمع ہوتا رہتا تھا، تو مَاءِ مُسْتَعْمَل کے اندر وہ پاؤں ہیں تو اب اگر پہلے ان کو دھو بھی لیا جائے تو فائدہ کوئی نہیں، بعد میں پھر کیا کرنا پڑے گا؟ دھونا تو پڑے گا، تو اس لیے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پہلے نہیں دھوتے تھے اور پھر بعد میں جب وہاں سے ہٹ جاتے اس پانی سے تو پھر پاؤں دھو لیا کرتے تھے۔ تو یہ وجہ تھی اس وجہ سے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایسا فرماتے تھے۔ چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر انسان ایسی جگہ پر غسل کرے جہاں پانی کھڑا نہیں رہتا بلکہ بہہ کر نکلتا جاتا ہے، کسی تختے پر وضو کر رہا ہے اور پانی بہتا جا رہا ہے یا کسی پتھر پر ہے اور پانی بہتا جا رہا ہے یا آج کل کے جیسے غسل خانے جس میں پانی بہتا جا رہا ہے اب نکلتا جا رہا ہے تو پھر پاؤں اسی وقت دھو لے بھئی۔
”هَكَذَا حَكَتْ مَيْمُونَةُ اغْتِسَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ اسی طرح حکایت کیا ہے یعنی نقل کیا ہے اُمّ المومنین حضرت مَیْمُونَۃ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا نے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے غسل کو۔ ”وَإِنَّمَا يُؤَخِّرُ غَسْلَ رِجْلَيْهِ لِأَنَّهُمَا فِي مُسْتَنْقَعِ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ“ اور مؤخر کرے غسل کرنے والا ”غَسْلَ رِجْلَيْهِ“ اپنے دونوں پاؤں کے دھونے کو ”لِأَنَّهُمَا فِي مُسْتَنْقَعِ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ“ اس لیے کیونکہ دونوں پاؤں جو ہیں مَاءِ مُسْتَعْمَل کے کھڑے ہونے کی جگہ میں ہیں۔ ”مُسْتَنْقَع“ کہتے ہیں پانی کے اکٹھا ہونے کی جگہ، مُسْتَنْقَع، قاف پر فتحہ ہے بھئی۔ مَاءِ مُسْتَعْمَل وہ پانی جو استعمال ہوتا جا رہا ہے، اس، جی۔ تو ”لِأَنَّهُمَا فِي مُسْتَنْقَعِ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ“ اس لیے کیونکہ دونوں پاؤں جو ہیں وہ مَاءِ مُسْتَعْمَل کے کھڑے ہونے کی جگہ میں ہیں ”فَلَا يُفِيدُ الْغَسْلُ“ لہٰذا دھونا فائدہ ہی نہیں دے گا، اگر ابھی دھو بھی لے فائدہ نہیں۔ ”حَتَّى لَوْ كَانَ عَلَى لَوْحٍ لَا يُؤَخِّرُ“ حتی کہ اگر یہ کسی تختے پر ہوا غسل کرنے والا ”لَا يُؤَخِّرُ“ تو یہ مؤخر نہ کرے بھئی۔ یہ کیا کر لے؟ اس جب وضو کر رہا ہے اسی وقت پاؤں دھو لے۔
”وَإِنَّمَا يَبْدَأُ بِإِزَالَةِ النَّجَاسَةِ“ بھئی اوپر آیا تھا متن میں کہ بدن وضو سے پہلے کیا کرے؟ بدن پر کوئی نجاست لگی ہے اس کو دھو ڈالے، تو یہ کیوں پہلے اس یہ کیا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے: بھئی تاکہ بعد میں جب غسل وغیرہ کرے گا، پانی ڈالے گا تو اگر نجاست بدن پر لگی ہوگی وہ تو اور پھیل جائے گی، لہٰذا پہلے کیا کر لے اس نجاست کو؟ بدن سے دور کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَبْدَأُ بِإِزَالَةِ النَّجَاسَةِ الْحَقِيقِيَّةِ“ اور ابتدا کرے وہ نَجَاسَتِ حَقِیقِیَّہ کو دور کرنے سے ”كَيْ لَا تَزْدَادَ بِإِصَابَةِ الْمَاءِ“ تاکہ کہیں وہ بڑھ نہ جائے پانی کے پہنچنے سے۔
نَجَاسَتِ حَقِیقِیَّہ کا لفظ آیا بھئی۔ بھئی ایک ہے نَجَاسَتِ حَقِیقِیَّہ جس کا ظاہری جسم ہوتا ہے، دکھائی دیتی ہے آنکھوں سے نجاست بھئی، وہ ہے نَجَاسَتِ حَقِیقِیَّہ۔ اور ایک نَجَاسَتِ حُکْمِیَّہ ہے، بے وضو ہونا، ایک آدمی کا وضو ٹوٹ گیا، اب دیکھئے بدن پر تو کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی لیکن شریعت نے کیا حکم دیا کہ طہارت زائل ہو چکی، نجاست آ چکی، تو یہ کونسی نجاست ہے؟ نَجَاسَتِ حُکْمِیَّہ، تو اس کا کوئی جسم نہیں وغیرہ اور نَجَاسَتِ حَقِیقِیَّہ جو دکھائی دے آنکھوں سے، جس کا ظاہری جسم ہو۔
”وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ تَنْقُضَ ضَفَائِرَهَا فِي الْغُسْلِ“ اور نہیں ہے عورت پر یہ کہ وہ کھولے، ”أَنْ تَنْقُضَ“ یہ کہ وہ کھولے ”ضَفَائِرَهَا“، ضفائر جمع ہے ضفیرہ کی، ”ضَفِيرَةٌ“ بھئی وہ جو عورتیں رسی کی طرح بال بنا لیتی ہیں، کیا کہتے ہیں بھئی؟ جی؟ مینڈھی اور چٹیا؟ ہاں مینڈھی یا چٹیا وغیرہ جو بنا لیتی ہیں یہ وہ اس کو ضفیرہ کہتے ہیں، تو یہ ضفائر اس کی جمع ہے۔ تو بتلا رہے ہیں کہ عورت پر اپنی مینڈھیاں کھولنا غسل میں یہ واجب نہیں ہے بھئی، غسل میں واجب نہیں ہے۔
یاد رکھئے اس سے عام جو چٹیا وغیرہ بنا لے وہ مراد نہیں ہے بھئی۔ میں نے ابھی بتلا دیا کہ غسل کے اندر سارے بدن پر پانی بہانا ضروری ہے، سارے بدن کا دھونا ضروری، جسم کے ایک ایک بال تک پانی پہنچنا چاہئے، سر کے بال، داڑھی کے بال، سارے، سب تک پانی کا پہنچانا اور ان پر پانی کا بہانا ضروری ہے، چاہے مرد ہو چاہے عورت ہو سب کے لیے یہی حکم۔ ہاں یہ ضفائر کی حالت یہ عورتوں کی آسانی کے لیے ہے بھئی۔ میں نے بتلایا شریعت کے ہر حکم میں شریعت میں بڑی آسانیاں ہیں، تو ضفائر وہ عام ایک دو چٹیا جو بنائی ہو، بھئی اس کا کھولنا کوئی مشکل کام ہے؟ اس کا کھولنا تو کوئی مشکل کام نہیں، کوئی مشقت والا نہیں ہے، لہٰذا اس کو کھولنا پڑے گا اور وہاں بالوں کی جڑوں کو بھی پانی پہنچانا پڑے گا اور سارے بالوں کو بھی ان پر بھی پانی بہانا پڑے گا اچھی طرح کہ کوئی بال خشک نہ رہے۔
ہاں البتہ ضفائر اگر زیادہ، آپ نے اگر کبھی دیکھا ہو دیہات وغیرہ میں کہ وہ عورتیں یہ باریک باریک مینڈھیاں بالوں کی بہت ساری بنا لیتی ہیں سر پر بھئی، بہت زیادہ بنا لیتی ہیں، وہ باریک باریک بھئی، وہ مینڈھیاں مراد ہیں۔ اب دیکھئے وہ تو بنانے میں بھی اس کو کم از کم ایک دو گھنٹے لگتے ہیں اور کھولنے میں بھی پھر اتنا، اب غسل کرنا ہے ان ساروں کو کھولنے کا حکم دیا جائے، اب پھر مشقت والا کام، ساروں کو کھولنا بڑا لمبا کام، پھر دوبارہ بنانا اور لمبا کام بھئی، تو شریعت نے آسانی دے دی کہ اگر اس طرح بال بنائے ہوئے ہیں تو اب کیا کر سکتی ہے عورت؟ اب ان سارے بالوں کو پانی پہنچانا ضروری نہیں بلکہ صرف بالوں کی جڑوں کو اچھی طرح پانی پہنچا دے تو کافی ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ وہ صورت مراد ہے بھئی، یہ عام ایک دو چٹیا ہوں وہ ان کا کھولنا کوئی مشکل نہیں ہے، تو یہ تو دَفْعِ حَرَج کے لیے یہ حکم دیا گیا بھئی، مشکل کو دور کرنے کے لیے۔
اور یہ حکم خاص ہے عورت کے لیے۔ لہٰذا آج کل کوئی فیشن کرتا ہے اور اس طرح کے بال بنا لیتا ہے، فیشن تو اسی طرح ہوتے ہیں بھئی الٹے سیدھے ہی ہوتے ہیں، تو کوئی مرد اس طرح کر لیتا ہے اور اس طرح بہت سے بال لمبے رکھتا ہے اور مینڈھیاں بنا لیتا ہے بہت ساری، لیکن یاد رکھئے اس کے لیے غسل میں تمام بالوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے بھئی، تمام بالوں تک بھی اور بالوں کی جڑوں تک بھی، اس کے لیے یہ حکم نہیں ہے کہ وہ کھولے بغیر ہی غسل کر لے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ تَنْقُضَ ضَفَائِرَهَا فِي الْغُسْلِ“ اور نہیں ہے عورت پر واجب یہ کہ وہ کھولے اپنی مینڈھیاں غسل کے اندر ”إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ أُصُولَ الشَّعْرِ“ جب پہنچ جائے پانی بالوں کی جڑوں کو۔ جڑوں تک تو ضرور پہنچانا پڑے گا، جب جڑوں تک پانی پہنچ جائے تو ان کو کھولنے کی ضرورت نہیں۔ دلیل اس کی کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے ”لِأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت اُمّ سَلَمَہ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا سے فرمایا: ”يَكْفِيكِ إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعْرِكِ“ کافی ہے تیرے لیے جب پہنچ جائے پانی تیرے بالوں کی جڑوں کو۔ تمہارے بالوں کی جڑوں کو پانی پہنچ جائے تو یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ تو عورتوں کے بال لمبے ہیں بھئی اور شریعت نے ان کو منع کیا ہے بال کاٹنے سے، تو وہ ان بالوں کو پھر سنبھالنا بھی کوئی آسان کام نہیں، تو وہ پھر یوں عرب میں یوں کرتی تھیں عورتیں کہ وہ مینڈھیاں بنا لیتیں اور اس طرح ان کو سمیٹ دیتیں پھر سارے بالوں کو اور پھر کئی کئی دن تک اسی طرح یہ رہتے تھے بھئی، تو اس وجہ سے شریعت نے آسانی فرمائی بھئی۔
”وَلَيْسَ عَلَيْهَا بَلُّ ذَوَائِبِهَا“ جی حدیث مکمل ہوئی، یہ اب صاحبِ ہدایہ کی عبارت ہے۔ ”وَلَيْسَ عَلَيْهَا“ اور نہیں ہے اس عورت پر ”بَلُّ“، بل کا معنی تر کرنا، ”ذَوَائِب“، ذوائب وہ لمبے بال بھئی، زلفیں زلفیں، ”وَلَيْسَ عَلَيْهَا بَلُّ ذَوَائِبِهَا“ اور عورت پر واجب نہیں ہے اپنی زلفوں کو تر کرنا، گیلا کرنا۔ عورت پر اپنی زلفوں کو یعنی لمبے بالوں کو گیلا کرنا ضروری نہیں۔ بھئی اس سے یہ نہ سمجھ جانا، میں نے ابھی آپ کو بتایا تمام بالوں کو پانی پہنچانا فرض ہے مرد ہو یا عورت، یہ وہی مینڈھیوں والی حالت بیان ہو رہی ہے، اس حالت کے اندر جب بال اس طرح بنائے ہوئے ہیں تو اب بالوں کی جڑوں کو پانی پہنچا دیا وہ کافی ہے اور جو لمبے بال ہیں جو زلفیں ہیں جن سے مینڈھیاں بنائی ہوئی ہیں ان سب کو پانی پہنچانا ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ نہ سمجھنا اس سے کہ عورت کے بال کھلے بھی ہوں تو بھی اس کے لیے سارے بالوں کو پانی پہنچانا ضروری نہیں، ویسے عام حالت میں تمام بالوں تک ایک ایک بال تک پانی پہنچانا فرض ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ عَلَيْهَا بَلُّ ذَوَائِبِهَا“ اور عورت پر واجب نہیں ہے اپنی زلفوں کو گیلا کرنا۔ ”وَالصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْحَرَجِ“ بوجہ اس میں حرج ہونے کے، اس میں کیا ہے؟ حرج ہے، تو عام کھلے بالوں اس میں تو پانی پہنچانے میں کوئی حرج نہیں، ہاں مینڈھیاں بنی ہوں تو اس وقت پانی پہنچانے میں حرج ہے، مشکل ہے بھئی۔ ”بِخِلَافِ اللِّحْيَةِ“ بخلاف کس کے؟ داڑھی کے، ہاں اس میں نے بتایا داڑھی کے بھی ایک ایک بال تک پانی پہنچے بھئی، ”لِأَنَّهُ لَا حَرَجَ فِي إِيصَالِ الْمَاءِ إِلَى أَثْنَائِهَا“ اس لیے کیونکہ کوئی حرج نہیں ہے، کوئی مشکل نہیں ہے پانی پہنچانے میں ”إِلَى أَثْنَائِهَا“ داڑھی کے بیچ میں، داڑھی کے بیچ میں بالوں تک پانی پہنچانے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔
”قَالَ: وَالْمَعَانِي الْمُوجِبَةُ لِلْغُسْلِ إِنْزَالُ الْمَنِيِّ عَلَى وَجْهِ الدَّفْقِ وَالشَّهْوَةِ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ حَالَةَ النَّوْمِ وَالْيَقَظَةِ“ جی غسل کے فرائض بھی بیان ہوئے، غسل کی سنتیں بھی بیان ہو گئیں، اب وہ چیزیں ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ جن کی وجہ سے غسل واجب ہوتا ہے، تو فرما رہے ہیں: ”وَالْمَعَانِي“، بھئی معانی معنی کی جمع ہے، میں پہلے بیان کر چکا معنی کا لفظ فقہ کی کتابوں میں آئے تو عموماً کس معنی میں ہوتا ہے؟ سبب اور علت کے معنی میں، تو معانی اسباب بھئی اسباب، ”وَالْمَعَانِي الْمُوجِبَةُ لِلْغُسْلِ“ اور وہ اسباب جو واجب کرنے والے ہیں غسل کو، پہلا سبب کیا ہے؟ ”إِنْزَالُ الْمَنِيِّ“ منی کا نکلنا ”عَلَى وَجْهِ الدَّفْقِ وَالشَّهْوَةِ“، دفق کہتے ہیں جوش کے ساتھ بھئی یعنی کود کر، منی کا نکلنا عَلَى وَجْهِ الدَّفْقِ کود کر ”وَالشَّهْوَةِ“ اور شہوت کے طریقے پر، شہوت سے، ”مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ“ مرد سے اور عورت سے، یعنی مرد یا عورت جس سے بھی انزالِ منی جس میں بھی پایا جائے اور وہ منی نکلے شہوت کے ساتھ بھئی، ”حَالَةَ النَّوْمِ وَالْيَقَظَةِ“ یہ حالتِ نوم میں ہو اور حالتِ بیداری میں، یعنی جس حالت میں بھی انزالِ منی ہوگا چاہے بیداری کی حالت میں، چاہے نیند کی حالت میں، چاہے مرد سے ہو، چاہے عورت سے ہو تو اس صورت میں غسل فرض ہو جائے گا، غسل فرض۔
اور ایک قیمتی بات یاد رکھنا، قیمتی بات، یہ شہوت کی قید عِنْدَ الْأَحْنَافِ معتبر ہے، انزالِ منی شہوت کے ساتھ ہو تو تب غسل واجب ہوگا۔ اگر انزالِ منی بغیر شہوت کے ہو تو پھر غسل واجب نہیں۔ اگر انزالِ منی شہوت کے ساتھ ہو تو پھر کیا واجب ہوگا؟ غسل، اور اگر بغیر شہوت کے ہو بھئی؟ تو پھر غسل واجب نہیں۔ مثلاً ایک آدمی ہے بڑا کمزور ہے، اس نے وزن زیادہ اٹھا لیا اور زیادہ وزن اٹھانے کی وجہ سے انزالِ منی ہوا، منی خارج ہو گئی یا کسی نے اس کو مارا یا وہ گر پڑا اور اس سے اس کی منی خارج ہو گئی تو یہ منی خارج ہوئی ہے بغیر شہوت کے، لہٰذا اس صورت میں غسل واجب نہیں ہوگا۔ تو انزالِ منی کے ساتھ کیا شرط ہے وہ کس حالت میں ہو؟ شہوت کے ساتھ ہو، پھر غسل فرض ہوگا بھئی، غسل فرض ہوگا۔ اسی لیے ”وَالشَّهْوَةِ“ کی قید لگائی متن میں۔ اور یہ جو کہا نا ”عَلَى وَجْهِ الدَّفْقِ“ کہ جوش کے ساتھ ہو یعنی کود کر نکلے، یہ کوئی قیدِ احترازی نہیں ہے کہ کود کر مطلب نہ نکلے تو پھر غسل فرض نہیں، یہ چونکہ ہوگا ہی عموماً اس طرح اس لیے اس قید کو ساتھ ذکر کر دیا، ہوگا ہی کہ انزالِ منی ہوگا ہی کس طرح؟ دفق کے ساتھ ہوگا تو اس لیے یہ ذکر کیا بھئی۔ تو بس ہمارے نزدیک معتبر کیا ہے؟ شہوت کی قید معتبر ہے۔
”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ خُرُوجُ الْمَنِيِّ كَيْفَمَا كَانَ يُوجِبُ الْغُسْلَ“ امام شافعی رَحِمَہُ اللَّہ فرماتے ہیں کہ منی کا خروج كَيْفَمَا كَانَ جیسے بھی ہو يُوجِبُ الْغُسْلَ یہ غسل کو واجب کر دے گا، چاہے شہوت ہو چاہے شہوت نہ ہو غسل واجب ہوگا۔ دلیل کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ“، الماء اول ماء سے مراد ہے غسل، دوسرے ماء سے مراد ہے منی، خود معنی کر رہے ہیں: ”أَيِ الْغُسْلُ مِنَ الْمَنِيِّ“ غسل کس سے ہوگا؟ منی سے، تو دیکھو اس حدیث کے اندر آیا کہ غسل منی سے ہوگا یعنی کہ منی خارج ہونے سے، اس میں کوئی شہوت کی قید نہیں ہے، مطلق منی کا ذکر آیا، معلوم ہوا منی کا خروج ہو چاہے شہوت کے ساتھ ہو چاہے بغیر شہوت کے، ہر صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ غسل، یہ کس سے معلوم ہوا؟ حدیث سے بھئی۔ یہ امام شافعی رَحِمَہُ اللَّہ کی دلیل۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَمْرَ بِالتَّطْهِيرِ يَتَنَاوَلُ الْجُنُبَ“ کہ اَمْر بِالتَّطْہِیر وہ جو پاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہ جنب کو شامل ہے۔ اَمْر بِالتَّطْہِیر بھئی، ابھی جو پیچھے گزرا تھا بھئی غسل کے شروع میں: ”وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا“ اگر تم جنابت میں ہو تو خوب پاک ہو جاؤ، خوب اپنے آپ کو پاک کر لو، تو یہ ”اطَّهَّرُوا“ امر آیا، تو یہ جو اَمْر بِالتَّطْہِیر تھا ”يَتَنَاوَلُ الْجُنُبَ“ یہ کس کو شامل ہے؟ جنب کو، کس کے بارے میں کہا جا رہا ہے؟ کس کو حکم دیا جا رہا ہے؟ جنبی کو، تو یہ جنب کو شامل ہے یعنی جو حالتِ جنابت میں ہے۔ ”وَالْجَنَابَةُ فِي اللُّغَةِ خُرُوجُ الْمَنِيِّ عَلَى وَجْهِ الشَّهْوَةِ“ اور جنابت کا جو ہے یہ عربی زبان میں یہ منی کا خارج ہونا عَلَى وَجْهِ الشَّهْوَةِ شہوت کے طریقے پر، اس کو کہتے ہیں بھئی۔ اس میں حکم کس کو دیا گیا خوب پاک ہونے کا؟ جنب کو، اور یہ جنابت سے ہے اور جنابت عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ جب شہوت کے ساتھ خروجِ منی ہو تو اس کے لیے جنابت کا لفظ عربی میں استعمال ہوتا ہے، معلوم ہوا یہاں شہوت کی قید، قرآن میں جنب کا لفظ آیا اور جنب کا لفظ کس سے ہے؟ جنابت سے، اور جنابت کسے کہتے ہیں عربی زبان میں؟ شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا، لہٰذا یہاں پر بھی یہ قید معتبر ہوگی، اگر تم جنبی ہو یعنی شہوت کے ساتھ منی خارج ہوئی ہو تو کیا کر لو؟ غسل کر لو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
”يُقَالُ“ مثال بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی، ”يُقَالُ“ کہتے ہیں یعنی عربی زبان میں یوں کہتے ہیں: ”أُجْنِبَ الرَّجُلُ“ یہ کب کہتے ہیں؟ ”إِذَا قَضَى شَهْوَتَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ“ جب وہ پوری کر لے اپنی شہوت مِنَ الْمَرْأَةِ اپنی بیوی سے بھئی۔ جب بیوی سے کیا کر لے؟ شہوت پوری کر لے تو عربی میں کہتے ہیں ”أُجْنِبَ الرَّجُلُ“، ”أُجْنِبَ الرَّجُلُ“، اور جب بیوی سے شہوت پوری کی، خروجِ منی ہوا، تو خروجِ منی شہوت کے ساتھ ہے یا بغیر شہوت کے؟ شہوت کے ساتھ ہے بھئی۔ جی تو یہ ہماری دلیل ہے بھئی۔
”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْخُرُوجِ عَنْ شَهْوَةٍ“ اور امام بھئی امام شافعی رَحِمَہُ اللَّہ نے تو حدیث ذکر کر دی: ”الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ“ غسل کس سے ہوگا؟ منی سے، اس میں تو کوئی شہوت کی قید نہیں، کہتے ہیں: ”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْخُرُوجِ عَنْ شَهْوَةٍ“ کہ حدیث محمول ہے منی کے شہوت کے ساتھ نکلنے پر، وہاں منی سے مراد کیا ہے؟ شہوت وہ منی جو شہوت کے ساتھ نکلے بھئی، حدیث سے وہ حالت مراد ہے، وہ حالت مراد ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
جی نیز ہم کہتے ہیں دلائل ہمارے پاس بڑے ہیں لیکن مختصراً بھئی، دلیل تو دے دی، قرآن سے ہی دلیل دے دی کہ ”إِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا“ آیا ہے اور جنب کا لفظ آیا، جنب کیا ہے؟ جنابت سے اور جنابت کہتے کس کو ہیں عربی زبان میں؟ منی کس کے ساتھ نکلی ہو؟ شہوت کے ساتھ نکلی ہو بھئی، تو وہاں وہ آیت دلیل ہے بھئی، اور نیز ہم کہتے ہیں ہم جواب دیتے ہیں کہ حدیث میں تو آیا تھا ”الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ“ اور ماءِ ثانی سے آپ نے کیا مراد لیا؟ منی مراد لی، منی مراد لی، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہاں منی مطلقاً ذکر ہے تو یہ شہوت کے ساتھ جو نکلے وہ بھی شامل، بغیر شہوت کے نکلے وہ بھی، ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں تو حدیث کو تو مطلق آپ نے بھی نہیں رکھا، حدیث میں تو ما کا لفظ آیا تھا اور ما کا لفظ پانی وہ تو پیشاب کو بھی شامل ہوا، وہ تو منی اس کو بھی شامل ہوا، وہ تو ودی اس کو بھی شامل ہوا، وہ تو مذی اس کو بھی شامل ہوا، ان کا بھی آگے ذکر آ رہا ہے، تو یہ بھی یہ چیزیں بھی خارج ہوتی ہیں، پیشاب بھی وہیں سے، منی بھی وہیں سے، مذی اور ودی، تو آپ نے تخصیص کی اور کیا کہا کہ یہ چاروں نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ منی مراد ہے، تو اب تخصیص تو آپ نے بھی کی ہے تو ہم بھی تخصیص کرتے ہیں اور دلیل کے ساتھ باقاعدہ کرتے ہیں ویسے تخصیص نہیں ہے بھئی۔ تو آپ کہتے ہیں اس سے پیشاب نہیں مراد، اس سے مذی نہیں مراد، ودی نہیں مراد، صرف کیا مراد ہے؟ منی، تو آپ نے تخصیص کر دی تو اسی طرح ہم بھی تخصیص کرتے ہیں کہ منی بھی مطلقاً نہیں مراد بلکہ جو کس کے ساتھ نکلے؟ شہوت کے ساتھ نکلے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى الْخُرُوجِ عَنْ شَهْوَةٍ“ اور حدیث جو ہے یہ محمول ہے شہوت سے خروج پر۔
”ثُمَّ الْمُعْتَبَرُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ جی آگے یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ ایک ہے منی کا اپنے مقام سے جدا ہونا یعنی پشت سے، کمر سے، تو وہاں سے منی جدا ہوگی چلے گی اور پھر اس کا خروج ہوگا، بدن سے خارج ہوگی۔ تو جدا ہونا یہ کس کے ساتھ ہے؟ شہوت کے ساتھ۔ جدا ہونا کس کے ساتھ ہوگا؟ شہوت کے ساتھ ہوگا بھئی، شہوت ہوگی بھئی تو پھر ہی ہمارے نزدیک وہ معتبر ہے، وہ خروجِ منی شہوت کے ساتھ ہو، آپ اوپر پڑھ چکے۔ تو اپنے محل سے منی جدا ہوئی شہوت کے ساتھ اور پھر نکلتی بھی ہے شہوت کے ساتھ، تو کیا شہوت دونوں جگہ شہوت کو دیکھا جائے گا یا صرف اپنے محل سے جب چلتی ہے اور جدا ہوتی ہے صرف اس وقت شہوت ہو وہ کافی ہے؟ انفصال ہے جدا ہونا اور ایک ہے خروج، تو انفصال اور خروج دونوں کے وقت شہوت ہونا ضروری ہے؟ بھئی شہوت ہونا تو ضروری ہے یہ تو ہم نے بتا دیا، تو شہوت انفصال اور خروج دونوں کے وقت ہونا ضروری ہے یا صرف انفصال کے وقت شہوت ہو خروج کے وقت نہ بھی ہو پھر بھی کیا کہا جائے گا کہ غسل واجب ہو گیا؟
تو یاد رکھئے یہاں اختلاف ہے۔ طرفین رَحِمَہُمَا اللَّہ یعنی امام ابو حنیفہ رَحِمَہُ اللَّہ اور امام محمد رَحِمَہُ اللَّہ فرماتے ہیں کہ انفصال شہوت کے ساتھ ہو تو بس یہ کافی ہے، خروج چاہے شہوت کے ساتھ نہ ہو پھر بھی غسل واجب ہو جائے گا۔ صرف کیا ہو؟ انفصال۔ مثلاً انفصال منی اپنے محل سے یعنی پشت سے چلی، جدا ہوئی شہوت کے ساتھ لیکن اس آدمی نے اس کو خروج سے روک دیا انگلی وغیرہ یا کسی چیز کے ذریعے اس کو خروج سے روک دیا، تو چلی تو تھی وہ شہوت کے ساتھ لیکن جب تھوڑی دیر جب شہوت ختم ہو گئی اب اس نے اس کو نکلنے دیا تو اب دیکھو خروج بغیر شہوت کے ہے۔ طرفین فرماتے ہیں اصل کیا ہے؟ انفصال، بس انفصال کے اندر جب شہوت تھی تو غسل واجب ہوگا چاہے خروج کے وقت شہوت نہ بھی ہو۔ جبکہ امام ابو یوسف رَحِمَہُ اللَّہ فرماتے ہیں نہیں، دونوں جگہ شہوت کے ساتھ ہو، انفصال بھی شہوت کے ساتھ اور خروج بھی شہوت کے ساتھ ہو پھر ہی غسل واجب ہوگا بھئی، اور فتویٰ طرفین کے قول پر ہے بھئی۔ انفصال شہوت کے ساتھ ہو تو بس کافی ہے چاہے خروج شہوت کے ساتھ نہ بھی ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْمُعْتَبَرُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ پھر معتبر جو ہے طرفین رَحِمَہُمَا اللَّہ کے نزدیک ”انْفِصَالُهُ عَنْ مَكَانِهِ عَلَى وَجْهِ الشَّهْوَةِ“ منی کا جدا ہونا ہے اپنے مقام سے شہوت کے طریقے پر، یہ اسی کا اعتبار ہے طرفین کے نزدیک۔ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ ظُهُورُهُ أَيْضًا“ اور امام ابو یوسف رَحِمَہُ اللَّہ کے نزدیک انفصال کے ساتھ ساتھ ظہور بھی معتبر ہے ”اعْتِبَارًا لِلْخُرُوجِ بِالْمُزَايَلَةِ“ قیاس کرتے ہوئے خروج کو مزایلت پر، جدا ہونے پر، مزایلت وہی انفصال بھئی، مزایلت کا معنی اپنی جگہ سے ہٹ جانا، جدا ہونا، تو وہ قیاس کرتے ہیں خروج کو کس پر؟ انفصال پر، کہ جیسے انفصال کے اندر شہوت ضروری تھی وہ فرماتے ہیں خروج کے اندر بھی کیا ضروری؟ شہوت ضروری ہے۔ ”إِذِ الْغُسْلُ يَتَعَلَّقُ بِهِمَا“ اس لیے کیونکہ غسل کا تعلق دونوں سے ہے، صرف انفصال سے نہیں بلکہ انفصال اور خروج دونوں کے ساتھ تعلق ہے غسل کے واجب ہونے کا، تو دونوں کے وقت شہوت ہو پھر ہی غسل واجب ہوگا۔
”وَلَهُمَا“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَتَى وَجَبَ مِنْ وَجْهٍ فَالِاحْتِيَاطُ فِي الْإِيجَابِ“ طرفین فرماتے ہیں کہ ٹھیک ہے شہوت دونوں جگہ ہونی چاہئے، انفصال کے وقت بھی اور خروج کے وقت بھی، لیکن انفصال کے وقت جب شہوت پائی گئی تو من وجہ غسل آ گیا یا نہیں؟ من وجہ بعض اعتبار سے کیا ہوا؟ غسل، تو احتیاط اسی میں ہے کہ غسل کو واجب قرار دیا جائے کیونکہ یہ باقی ناپاکی کا معاملہ ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ کیا کیا جائے؟ غسل کو واجب قرار دے دیا جائے انفصال عن شہوت پر ہی، چاہے خروج عن شہوت نہ بھی ہو۔ تو وہ فرماتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَتَى وَجَبَ مِنْ وَجْهٍ“ کہ جب غسل واجب ہو گیا من وجہ یعنی بعض اعتبارات سے ”فَالِاحْتِيَاطُ فِي الْإِيجَابِ“ تو احتیاط کس میں ہے؟ واجب کرنے میں ہے یعنی غسل کو واجب قرار دینے میں ہے۔
بھئی یہاں آپ نے پڑھا کہ وہ اسباب جو غسل کو واجب کرنے والے ہیں ان میں ایک انزالِ منی ہے جبکہ وہ شہوت کے طریقے پر ہو مرد سے یا عورت سے اور بیداری کی حالت میں ہو یا نیند کی حالت میں، تو ایک ضروری مسئلہ یاد رکھئے گا ہمیشہ بھئی جو اکثر پیش آتا ہے اور پریشانی ہوتی ہے پھر، کہ نیند کی حالت میں جو انزالِ منی ہو اس کو احتلام کہتے ہیں، احتلام، اور احتلام ہونے کے بعد بعض اوقات ایسا ہوتا ہے انسان غسل کر لیتا ہے اور پھر بعد میں کچھ قطرات منی وغیرہ کے خارج ہوتے ہیں، یاد رکھئے اس صورت میں دوبارہ غسل کرنا پڑے گا بھئی، کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ، ہاں اگر آپ نے غسل سے پہلے پیشاب کر لیا تھا اور پھر اس کے بعد غسل کیا ہے اب اگر اس کے بعد منی کے قطرات خارج بھی ہوں تو پھر دوبارہ غسل کی ضرورت نہیں۔ تو لہٰذا غسل سے پہلے انسان پیشاب کر لے تو پھر اس کے بعد نہا لے، پھر اگر اب منی کے قطرات خارج بھی ہوں گے تو فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ اب دوبارہ غسل واجب نہیں کیونکہ یہ خروجِ منی ہوا ہے بغیر شہوت کے اور اس صورت کے اندر غسل واجب نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔