Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-036

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَالْمَنِيُّ نَجَسٌ يَجِبُ غَسْلُهُ رَطْبًا، فَإِذَا جَفَّ عَلَى الثَّوْبِ أَجْزَأَ فِيهِ الْفَرْكُ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: ”فَاغْسِلِيهِ إِنْ كَانَ رَطْبًا، وَافْرُكِيهِ إِنْ كَانَ يَابِسًا“، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْمَنِيُّ طَاهِرٌ، وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَا. نجاستوں کا اور ان کے پاک کرنے کا بیان چل رہا ہے۔ آپ نے کل پڑھا کہ نمازی کا بدن، اس کے کپڑے اور وہ جگہ جس پر وہ نماز پڑھ رہا ہے اس کو پاک ہونا چاہیے بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ نجاست جو ہے اس کو پانی کے ساتھ پاک کرنا بھی جائز ہے اور اسی طرح ہر ایسی پاک بہنے والی چیز جس کے ذریعے اس نجاست کا ازالہ کیا جا سکے، اس کو دور کرنا ممکن ہو، اس کے ذریعے بھی چیز کو پاک کیا جا سکتا ہے، دھویا جا سکتا ہے جیسے سرکہ ہے اور عرقِ گلاب وغیرہ کہ وہ چیز جو نچوڑنے سے نچڑ جائے۔ اور اس کے بعد پھر آپ نے یہ مسئلہ بھی پڑھا کہ اگر موزے کو نجاست لگ جائے ایسی نجاست جس کا کوئی جسم ہے۔ یعنی سوکھنے کے بعد بھی اس کا جسم باقی رہتا ہے۔ یعنی یوں کہیے کوئی گاڑھی نجاست لگ جائے۔ کس قسم کی؟ گاڑھی نجاست لگ جائے اور وہ خشک ہو جائے تو اس موزے کو زمین کے ساتھ اچھی طرح رگڑ دینے سے وہ موزہ پاک ہو جائے گا، اس میں نماز جائز ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جائز نہیں ہے بھئی، جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ موزے کے اندر کچھ اجزاء داخل ہو گئے اور اب خشک ہونے سے اور رگڑنے سے وہ دور نہیں ہوں گے، دھونا پڑے گا، دھونا پڑے گا۔ اور پھر آپ نے یہ مسئلہ بھی پڑھا کہ اگر یہ گاڑھی نجاست اگر تر ہو تو پھر اس کو دھونا پڑے گا۔ اس میں صرف زمین کے ساتھ رگڑ دینا اور مل دینا کافی نہیں ہے۔ لیکن میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے بھئی، چاہے یہ گاڑھی نجاست خشک ہو، چاہے تر ہو، دونوں صورتوں میں جب زمین کے ساتھ اچھی طرح مل دیا، اس نجاست کو ختم کر دیا تو موزہ کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں جو پتلی نجاست ہے، جس کا سوکھ جانے کے بعد کوئی جسم نہیں رہتا جیسے پیشاب وغیرہ، تو اس کے اندر دھونا ضروری ہے بھئی، دھونا ضروری ہے۔ اور یہ تو موزے کا حکم تھا، اب کپڑے کا حکم جو ہے اس کی تفصیل شروع ہوئی، انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ کپڑا جو ہے اس کے اندر دھونا ہی ضروری ہے، بغیر دھوئے کپڑا پاک نہیں ہوگا بھئی۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں: ”وَالْمَنِيُّ“ جی اس کو کیا پڑھیں گے؟ نَجَسٌ پڑھیں گے یا نَجِسٌ پڑھیں گے؟ نَجَسٌ۔ جی؟ نَجَسٌ۔ نَجَسٌ کا کیا معنی میں نے بتلایا تھا؟ نَجَسٌ نجاست بھئی، ناپاکی۔ اور نَجِسٌ؟ جو چیز ناپاک ہو۔ جی اب کیا پڑھیں گے؟ ”وَالْمَنِيُّ نَجَسٌ“ شاباش! منی نجاست ہے۔ ترجمہ تو یوں ہی کر لیں گے، منی ناپاک ہے۔ لیکن نَجِسٌ وہ چیز جس پر نجاست لگی تو وہ کیا ہو گئی؟ ناپاک۔ اور منی پر کوئی چیز لگی ہے وہ ناپاک ہوئی ہے یا اس کی ذات ہی نجس ہے؟ ذات ہی نجس ہے تو یہاں نَجَسٌ پڑھیں گے کہ منی نجاست ہے۔ منی کیا ہے؟ نجاست ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَنِيُّ نَجَسٌ“ اور منی جو ہے نجاست ہے۔ اور ترجمہ کیا کر لیں گے؟ ترجمہ وہی منی ناپاک ہے۔ ”يَجِبُ غَسْلُهُ رَطْبًا“ واجب ہے اس کا دھونا تر ہونے کی حالت میں۔ جب منی تر ہو، گیلی ہے تو اس کو دھونا واجب ہے، بغیر دھوئے پاک نہیں ہوگی۔ ”فَإِذَا جَفَّ عَلَى الثَّوْبِ أَجْزَأَ فِيهِ الْفَرْكُ“ پس جب وہ خشک ہو جائے کپڑے پر تو کافی ہے اس کے اندر کھرچ دینا۔ فَرك کا کیا معنی؟ کھرچنا، کھرچنا۔ تو اس کے اندر کھرچ دینا بھی کافی ہے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہ جب تر ہو، گیلی ہو منی تو اس کا دھونا کیوں ضروری اور خشک ہو جائے تو اس کے اندر کھرچنا کافی کیوں ہے؟ کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے ”لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا۔ حضور نے فرمانے لگے حضرت عائشہ سے: ”فَاغْسِلِيهِ إِنْ كَانَ رَطْبًا، وَافْرُكِيهِ إِنْ كَانَ يَابِسًا“ کہ تو اس کو دھو ڈال اگر یہ تر ہو۔ یہ منی اگر تر ہو، گیلی ہو تو اس کو کیا کر دے؟ دھو لے، اور تو اس کو کھرچ دے اگر خشک ہو۔ تو لہٰذا منی تر ہو تو اس کو دھونا واجب ہے اور خشک ہو جائے تو اچھی طرح کھرچ دینے سے بھی کپڑا پاک ہو جائے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْمَنِيُّ طَاهِرٌ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منی پاک ہے بھئی، منی پاک ہے۔ تو ہمارے نزدیک منی نجس ہے، نجاستِ مغلظہ ہے، نجاستِ غلیظہ ہے، سخت نجاست ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منی پاک ہے بھئی، پاک ہے۔ ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَا“ اور دلیل ان کے خلاف وہ حدیث ہے جو ہم نے روایت کر دی، اس حدیث میں کیا آیا؟ ”فَاغْسِلِيهِ إِنْ كَانَ رَطْبًا“ دیکھیے حضور علیہ السلام دھونے کا حکم دے رہے ہیں گیلی ہونے کی صورت میں، معلوم ہوا یہ نجاست ہے جبھی دھونے کا حکم دے رہے ہیں، اور خشک ہونے کی صورت میں اس کے کھرچنے کا حکم دے رہے ہیں بھئی، معلوم ہوا یہ نجاست ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے اپنے دلائل، ہمارے اپنے دلائل۔ تو ایک وہ یہ بھی ذکر فرماتے ہیں شوافع یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ دیکھیے کھرچنے کا حکم دیا گیا خشک ہونے کی صورت میں، خشک ہونے کی صورت میں۔ معلوم ہوا نجس نہیں نجس نہیں ہے، ناپاک نہیں ہے، کیونکہ کھرچنے سے سارے اجزاء تو نہیں نکلیں گے، کچھ اجزاء تو رہ جائیں گے، معلوم ہوا پاک ہے بھئی۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ اگر پاک ہوتی تو کھرچنے کا حکم بھی نہ ہوتا۔ پاک چیز کپڑے پر لگی ہے تو اس کو کھرچ کر دور کرنے کی کیا ضرورت ہے بھئی؟ یہ کھرچنے کا حکم دینا ہی کس بات کی علامت ہے، کس بات کی دلیل ہے؟ یہ ناپاک ہے بھئی ناپاک۔ اور یاد رکھیے بھئی! یہ کھرچنا یہ بھی تطہیر کا طریقہ ہے، پاک کرنے کا طریقہ ہے۔ شامی وغیرہ میں اگر آپ دیکھیں تو وہاں پر تیس سے زیادہ تطہیر کے طریقے ہیں عِندَ الْأَحْنَافِ۔ تیس سے زیادہ طریقے جس سے چیزیں پاک ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف دھونے سے ہی چیزیں پاک نہیں ہوتیں اور بھی طریقے ہیں۔ مثلاً ایک تو یہ دھونا ہے، پانی وغیرہ یا کسی پاک بہنے والی چیز سے اس نجاست کو دھو دیا جائے کہ اس کا نشان اثر وغیرہ ختم ہو جائے تو چیز کیا ہو جاتی ہے؟ پاک ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مسح بھی، مسح۔ مسح بھی تطہیر کا ایک طریقہ ہے، جیسے ابھی آپ نے پڑھا کہ موزے پر اگر نجاست لگ جائے تو اس کو زمین کے ساتھ کیا کر دیا جائے؟ مل دیا جائے، پونچھ دیا جائے تو وہ کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا مسح بھی تطہیر کا ایک طریقہ ہے۔ اسی طرح خشک ہونا یہ بھی تطہیر کا طریقہ ہے، زمین جو ہے اس پر اگر نجاست لگی اور پھر وہ زمین دھوپ سے یا ہوا وغیرہ سے یا آگ سے خشک ہو گئی اور نجاست کا اثر ختم ہوا تو وہ زمین کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی۔ معلوم ہوا خشک ہونا بھی کیا ہے؟ تطہیر کا ایک طریقہ ہے۔ اسی طرح عین یعنی ذات کا بدل جانا یہ بھی تطہیر کا ایک طریقہ ہے۔ ایک شخص ہے اس کے پاس شراب ہے، اب شراب نجس ہے ناپاک ہے، لیکن یہ شراب اگر وہ کسی طریقے سے کس میں بدل دیتا ہے؟ سرکے کے اندر بدل دیتا ہے، بعض طریقے ہیں نمک وغیرہ یا ڈالتے ہیں یا اور طریقے، تو وہ شراب کس میں بدل جاتی ہے؟ سرکے کے اندر بدل جاتی ہے، تو جب سرکے کے اندر بدلے گی تو اس کی ذات ہی بدل گئی، عین ہی بدل گئی تو یہ قلبِ عین جو ہے یہ ذات کا بدل جانا، پلٹ جانا یہ بھی کیا ہے؟ تطہیر کا ایک طریقہ ہے۔ اب جب وہ سرکہ بن گیا تو اب پاک ہے بھئی، اب ناپاک نہیں بھئی۔ اسی طرح دباغت بھی آپ نے پڑھا ہے تطہیر کا ایک طریقہ ہے، کھال کو اگر دباغت دے دی جائے تو کھال کیا ہو جاتی ہے؟ پاک ہو جاتی ہے، تو یہ مختلف طریقے ہیں۔ انہی میں سے ایک طریقہ یہ فرک بھی ہے، کھرچنا بھی ہے، کھرچنا بھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کھرچ دینا بھی کافی ہے۔ اور اس سے بھی وہ کپڑا پاک ہو جائے گا۔ منی ہے تو نجس بھئی، نجاستِ مغلظہ ہے، لیکن اس کے اندر، اس کے اندر شریعت کی جانب سے حکم میں تخفیف آ گئی بھئی، کہ صرف کھرچ دینے ہی کو کیا قرار دے دیا گیا؟ تطہیر قرار دے دیا گیا۔ تو یہ دراصل اس کے حکم میں نرمی آ گئی بھئی حاجت اور ضرورت کی بنا پر، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَا“ اور دلیل جو ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف وہ حدیث ہے رَوَيْنَاهُ جس کو ہم نے روایت کیا، جو ابھی اوپر ذکر ہوئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ نیز اور حدیث بھی ذکر کر رہے ہیں: ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّمَا يُغْسَلُ الثَّوْبُ مِنْ خَمْسٍ، وَذَكَرَ مِنْهَا الْمَنِيَّ“ کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کپڑے کو تو پانچ چیزوں ہی کی وجہ سے دھویا جائے گا، ”وَذَكَرَ مِنْهَا الْمَنِيَّ“ اور ان پانچ میں سے حضور نے منی کو ذکر فرمایا، کہ اس صورت میں بھی کیا کیا جائے گا؟ کپڑے کو دھویا جائے گا۔ معلوم ہوا منی نجس ہے بھئی۔ ”وَلَوْ أَصَابَ الْبَدَنَ“ اور اگر منی بدن کو لگ جائے، یہ تو تھا کپڑے پر لگ جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے، اگر جسم پر لگ جائے بدن پر لگ جائے، ”قَالَ مَشَايِخُنَا: يَطْهُرُ بِالْفَرْكِ“ تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں یعنی ماوراء النہر کے فقہاء ”يَطْهُرُ بِالْفَرْكِ“ تو بھی پاک ہو جائے گی کھرچ دینے سے، ”لِأَنَّ الْبَلْوَى فِيهِ أَشَدُّ“ اس لیے کہ ابتلاء جو ہے اس کے اندر زیادہ شدید ہے۔ بھئی منی کے اندر چونکہ عمومِ بلویٰ ہے، لہٰذا اس کے حکم میں شریعت کی جانب سے تخفیف آ گئی اور خشک ہونے پر صرف کھرچ دینے ہی کو تطہیر قرار دے دیا گیا کہ اس سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔ تو ماوراء النہر کے فقہاء فرماتے ہیں کہ کپڑے کے اندر جب کھرچ دینا کافی ہے حالانکہ ابتلاء بدن کے اندر زیادہ ہے، کس کے اندر زیادہ ہے؟ بدن کو اس کا لگنا زیادہ ہے کیونکہ کپڑے کو تو انسان دور بھی کر سکتا ہے لیکن بدن تو ساتھ ہی ہے، اس کو تو ہٹانا ممکن نہیں، تو اس کے اندر ابتلاء زیادہ ہے، اس میں زیادہ کثرت سے لوگ مبتلا ہوتے ہیں، تو لہٰذا جب اس کے اندر ابتلاء زیادہ ہے تو اس کے اندر بطریقِ اولیٰ کھرچ دینا کافی ہوگا جب خشک ہو جائے۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَطْهُرُ إِلَّا بِالْغَسْلِ“ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بدن جو ہے وہ پاک نہیں ہوگا مگر صرف دھونے سے ہی۔ بدن میں کھرچنا کافی نہیں بلکہ دھونا ضروری ہے۔ دلیل کیا؟ وجہ کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حَرَارَةَ الْبَدَنِ جَاذِبَةٌ“ اس لیے کیونکہ بدن کی جو حرارت ہے، بدن کی جو حرارت ہے اور گرمی ہے ”جَاذِبَةٌ“ یہ چیز کو کھینچنے والی ہے۔ بدن کی حرارت کیا کرتی ہے؟ چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے، یعنی کوئی چیز لگے اس پر تو یہ اس کو کھینچتی ہے، وہ چیز اس پر اچھی طرح لگ جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چیز کو اپنے ساتھ یہ کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیتی ہے، حرارت کی وجہ سے وہ چیز اس کے ساتھ لگ جاتی ہے۔ تو بدن کی جو حرارت ہے وہ جاذبہ ہے، وہ کھینچنے والی ہے چیز کو، ”فَلَا يَعُودُ إِلَى الْجِرْمِ“ تو وہ واپس اس جسم کی طرف نہیں لوٹے گی۔ وہ اس نجاست کے جسم کی طرف واپس نہیں لوٹے گی بھئی۔ بھئی دیکھیے موزے کے مسئلے میں آپ نے پڑھا تھا، اگر گاڑھی نجاست لگی تو اس کے کچھ اجزاء موزے کے اندر جذب ہو جائیں گے، لیکن باہر جو گاڑھی نجاست لگی ہوئی ہے وہ جب خشک ہوگی تو وہ اندر والے اجزاء کو واپس اپنی طرف کھینچے گی، واپس اپنی طرف کھینچے گی، جبکہ یہاں پر بدن کی حرارت وہ چیز کو اپنی طرف کھینچنے والی ہے، جب وہ کھینچ رہی ہے اپنی طرف تو وہ جو اجزاء جسم کے ساتھ لگ گئے نجاست کے، واپس اس جسم کی طرف، اس نجاست کی طرف واپس نہیں جائیں گے، بدن کے ساتھ ہی لگے رہیں گے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو یہ ”فَلَا يَعُودُ إِلَى الْجِرْمِ“ تو وہ اس جسم کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے، ”وَالْبَدَنُ لَا يُمْكِنُ فَرْكُهُ“ اور بدن اس کو تو کھرچنا ممکن نہیں ہے بھئی۔ ”وَالنَّجَاسَةُ إِذَا أَصَابَتِ الْمِرْآةَ أَوِ السَّيْفَ اكْتُفِيَ بِمَسْحِهِمَا، لِأَنَّهُ لَا تَتَدَاخَلُهُمَا النَّجَاسَةُ“ بھئی نجاست، ”وَالنَّجَاسَةُ إِذَا أَصَابَتِ الْمِرْآةَ أَوِ السَّيْفَ“ اور نجاست جب وہ لگ جائے آئینے کو، مرآة کہتے ہیں آئینہ بھئی شیشہ جس میں آپ صورت دیکھتے ہیں، ”أَوِ السَّيْفَ“ یا نجاست لگ جائے تلوار کو، ”اكْتُفِيَ بِمَسْحِهِمَا“ تو اکتفاء کیا جائے گا ان کو پونچھنے کے ساتھ۔ یعنی ان کو کسی کپڑے وغیرہ سے کیا کر دیا جائے؟ پونچھ دیا جائے تو یہ صاف ہو جائیں گے، پاک ہو جائیں گے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا تَتَدَاخَلُهُمَا النَّجَاسَةُ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر نجاست داخل نہیں ہو سکتی، ان کی سطح تو ٹھوس ہے، سخت ہے اور خوب ہموار ہیں۔ تو لہٰذا نجاست اندر داخل نہیں ہوگی، صرف اوپر لگ گئی، اور اوپر والا حصہ بڑا ہموار ہے، جب کپڑے سے پونچھ دیں گے تو نجاست اچھی طرح صاف ہو جائے گی بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا تَتَدَاخَلُهُمَا النَّجَاسَةُ“ اس لیے کیونکہ نجاست ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی، ”وَمَا عَلَى ظَاهِرِهِ يَزُولُ بِالْمَسْحِ“ اور وہ جو ان کے ظاہر پر لگے گی ”يَزُولُ بِالْمَسْحِ“ وہ کس وجہ سے ختم ہو جائے گی؟ مسح، پونچھ دینے کی وجہ سے وہ زائل ہو جائے گی، ختم ہو جائے گی۔ تو لہٰذا اس میں یہ ضروری ہے بھئی کہ وہ تلوار بالکل ہموار ہو پھر پاک ہوگی، اور اگر تلوار جو ہے وہ کھردری ہے اور تو پھر اس صورت میں پونچھ دینے سے اگر وہ نجاست کے اجزاء اس کے اندر رہتے ہیں تو پھر درست نہیں ہے بھئی، پھر پاک نہیں ہوگی، لیکن اگر ہموار ہے، اس کو کپڑے سے پونچھ دیا تو پھر تلوار کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی اور لہٰذا کوئی شخص ایسی تلوار لٹکا کر نماز پڑھتا ہے تو نماز پڑھنا جائز ہے، صحیح ہے بھئی۔ ”وَإِنْ أَصَابَتِ الْأَرْضَ نَجَاسَةٌ فَجَفَّتْ بِالشَّمْسِ وَذَهَبَ أَثَرُهَا جَازَتِ الصَّلَاةُ عَلَى مَكَانِهَا“ اور اگر زمین کو نجاست لگ جائے ”فَجَفَّتْ بِالشَّمْسِ“ تو وہ خشک ہو گئی سورج کی وجہ سے یعنی دھوپ لگنے سے زمین خشک ہو گئی ”وَذَهَبَ أَثَرُهَا“ أَيْ أَثَرُ النَّجَاسَةِ اور نجاست کا اثر چلا گیا ختم ہو گیا ”جَازَتِ الصَّلَاةُ عَلَى مَكَانِهَا“ تو نماز پڑھنا جائز ہے اس نجاست کے مکان پر یعنی جہاں پر کیا لگی تھی پہلے؟ نجاست۔ بھئی یاد رکھیے سورج کو جو ذکر کیا متن کے اندر، یہ کوئی قیدِ احترازی نہیں ہے بلکہ ویسے ذکر کیا کہ زمین خشک ہو جائے اور بطورِ مثال کہ کس سے خشک ہو جائے؟ سورج کی وجہ سے۔ اسی طرح حکم ہے چاہے ہوا وغیرہ یا آگ کی وجہ سے وہ زمین خشک ہو جائے اور نجاست کا اثر اس پر سے ختم ہو گیا تو اس جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ نجاست کا اثر ختم ہوا، رنگ، بو وغیرہ وہاں سے ختم ہو گئی تو اس جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ زمین کا خشک ہو جانا یہ اس کا پاک ہو جانا ہے۔ زمین کا پاک ہو جانا ہے، یہ آگے حدیث کے اندر دلیل کے طور پر حدیث ذکر کریں گے بھئی صاحبِ ہدایہ۔ تو لہٰذا ایسی جگہ سے ایسی جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ أَصَابَتِ الْأَرْضَ نَجَاسَةٌ فَجَفَّتْ بِالشَّمْسِ وَذَهَبَ أَثَرُهَا“ اور اگر زمین کو نجاست لگ جائے تو وہ سورج کی وجہ سے خشک ہو گئی اور اس نجاست کا اثر ختم ہو گیا، یعنی رنگ، بو وغیرہ وہاں سے ختم ہو گئی ”جَازَتِ الصَّلَاةُ عَلَى مَكَانِهَا“ تو جائز ہے نماز اس جگہ پر۔ ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا تَجُوزُ، لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُزِيلُ“ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ایسی جگہ پر نماز پڑھنا جائز نہیں، ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُزِيلُ“ اس لیے کیونکہ کوئی مزيل، کوئی زائل کرنے والی چیز نہیں پائی گئی۔ نجاست وہاں پر خشک ہوئی ہے لیکن کوئی نجاست کو ختم کرنے والی چیز وہاں پر نہیں پائی گئی، لہٰذا یہ زمین اب بھی نجس ہے بھئی نجس ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہاں اگر کوئی مزيل پایا جائے، کوئی زائل کرنے والی چیز پائی جائے، مثلاً پانی سے آپ سے آپ نے پانی کے ساتھ اس جگہ کو دھو دیا تو اب مزيل پایا گیا، پانی سے کیا ہوتی ہے؟ نجاست ختم ہو جاتی ہے، پانی نجاست کو بہا کر لے جاتا ہے پھر تو اس جگہ پر نماز جائز ہے، لیکن اگر صرف خشک ہوئی ہے تو اس سے وہ جگہ پاک نہیں ہوگی، لہٰذا اس پر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُزِيلُ“ اس لیے کیونکہ کوئی زائل کرنے والی چیز نہیں پائی گئی، ”وَلِهَذَا لَا يَجُوزُ التَّيَمُّمُ بِهَا“ اور اسی وجہ سے اس جگہ کے ساتھ تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ۔ وہ فرماتے ہیں اسی وجہ سے اس جگہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے بھئی جائز۔ یاد رکھیے ہمارے نزدیک بھی ایسی جگہ سے تیمم جائز نہیں۔ ہاں نماز کا پڑھنا جائز، جب زمین خشک ہو گئی، نجاست کا اثر وغیرہ ختم ہو گیا تو اس پر نماز تو اس جگہ پر پڑھ سکتے ہیں لیکن اس جگہ سے تیمم کرنا صحیح نہیں۔ لیکن پھر اس میں یہ یاد رکھنا ویسے وہم نہیں کرنا چاہیے، ہاں اگر آپ کو یقینی طور پر پتہ ہے کہ اس مقام پر کیا لگی، گری تھی؟ نجاست گری تھی اور کوئی مزيل بھی نہیں ہے تو لہٰذا اس جگہ سے تیمم نہ تیمم نہیں تیمم کرنا جائز نہیں ہے، تیمم کریں گے بھی تو ہوگا ہی نہیں، ہوگا ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر علم یقینی طور پر نہیں ہے تو پھر بلا وجہ شک نہیں کرنا چاہیے بھئی۔ تو وہ امام شافعی اور امام زفر رحمہما اللہ کی دلیل ذکر ہو رہی ہے، وہ فرماتے ہیں اس جگہ پر نماز بھی جائز نہیں کیونکہ کوئی مزيل نہیں پایا گیا، کوئی زائل کرنے والی چیز نہیں پائی گئی اور اسی وجہ سے اس سے تیمم کرنا بھی جائز نہیں ہے جیسا کہ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں بھئی۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: زَكَاةُ الْأَرْضِ يُبْسُهَا“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”زَكَاةُ الْأَرْضِ يُبْسُهَا“ زمین کا پاک ہونا اس کا خشک ہو جانا ہے۔ یعنی زمین کی پاکی اس کا خشک ہو جانا ہے، زمین خشک ہو جائے تو کیا ہو جاتی ہے؟ پاک ہو جاتی ہے، یہ حدیث کے اندر آیا، یہ ہماری دلیل ہے بھئی دلیل۔ تو اس حدیث سے معلوم ہوا زمین پاک ہو جائے گی، جب پاک ہو گئی تو اس پر نماز کا پڑھنا جائز ہے بھئی جائز ہے۔ اور نیز امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ نے یہ ذکر کیا تھا کہ اسی وجہ سے تیمم بھی اس سے جائز نہیں ہے، اس کا اب جواب دینے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا لَا يَجُوزُ التَّيَمُّمُ، لِأَنَّ طَهَارَةَ الصَّعِيدِ ثَبَتَتْ شَرْطًا بِنَصِّ الْكِتَابِ، فَلَا تَتَأَدَّى بِمَا ثَبَتَ بِالْحَدِيثِ“ اور تیمم جائز اس سے جائز نہیں ہے ”لِأَنَّ طَهَارَةَ الصَّعِيدِ ثَبَتَتْ شَرْطًا بِنَصِّ الْكِتَابِ“ اس لیے کیونکہ مٹی کی طہارت، مٹی کا پاک ہونا وہ ثابت ہے شرط ہو کر کتاب اللہ کی نص سے۔ کس سے؟ کتاب اللہ کی نص سے وہ شرط ہو کر ثابت ہے، ”فَلَا تَتَأَدَّى بِمَا ثَبَتَ بِالْحَدِيثِ“ لہٰذا وہ طہارتِ ارض ادا نہیں ہوگی اس چیز سے جو حدیث سے ثابت ہے۔ بھئی دیکھیے انہوں نے کہا کہ طہارتِ صعید، مٹی کی کا پاک ہونا یہ شرط ہو کر ثابت ہے کتاب اللہ کی نص سے۔ کتاب اللہ میں کس طرح آیا ہے؟ ”فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا“ بھئی، کتاب اللہ میں ”صَعِيدًا طَيِّبًا“ آیا پاک مٹی، صعید کی صفت طیب آئی ہے اور طیب کا کیا معنی بیان کیا تھا؟ پاک بھئی۔ تو مٹی کا پاک ہونا ضروری ہے۔ آپ کے ذہنوں میں اشکال پیدا ہوگا کہ کتاب اللہ کے اندر تو طیب وہ صعید کی صفت کے طور پر ذکر ہوئی ہے، شرط کے طور پر تو ذکر نہیں اور یہاں صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں کہ مٹی کا پاک ہونا شرط ہے، تو یاد رکھیے بھئی صفت بھی شرط کے درجے میں ہوتی ہے۔ کتاب اللہ میں کیا آیا: تم لوگ تیمم کرو، کس سے؟ ”صَعِيدًا طَيِّبًا“ کس سے؟ پاک مٹی سے۔ معلوم ہوا مٹی کا پاک ہونا ضروری ہے، مٹی کا پاک ہونا اور جو چیز ضروری ہو وہ شرط ہوتی ہے، اسی لیے اس کو کس لفظوں کے ساتھ ذکر کر دیا صاحبِ ہدایہ نے؟ شرط، کہ شرط ہے یعنی ضروری ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں، امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ نے ذکر کیا تھا کہ اسی وجہ سے یہ زمین پاک نہیں، اسی وجہ سے اس سے تیمم کرنا بھی جائز نہیں، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ مٹی کی جو طہارت ہے وہ کتاب اللہ سے شرط ہو کر ثابت ہوئی ہے، لہٰذا وہ مٹی کی طہارت اس سے ادا نہیں ہوگی جو حدیث سے ثابت ہے۔ کیا معنی؟ بھئی دیکھیے کتاب اللہ ہے قطعی، آپ جانتے ہیں بھئی، کتاب اللہ کیا ہے؟ قطعی۔ بھئی ایک ہے خبرِ متواتر اور ایک ہے خبرِ واحد۔ خبرِ متواتر آپ نے پڑھا کسے کہتے ہیں؟ وہ حدیث جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے کے اندر اتنے زیادہ لوگ ہوں کہ عقل ان کے اِجْتِمَاعٌ عَلَى الْكَذِبِ کو محال سمجھے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبرِ متواتر۔ جیسے قرآن ہے بھئی قرآن، قرآن بھی کیا ہے؟ متواتر ہے۔ قرآن کو نقل کرنے والے ہر زمانے میں لاکھوں لوگ ہیں اور اسی طرح ہم تک پہنچا ہے اور یہ بات محال ہے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر اکٹھے ہو جائیں، معلوم ہوا قرآن بعینہٖ اسی صورت میں ہے جس طرح یہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا، کیونکہ یہ کیا ہے کس طرح منقول ہے؟ تواتر کے طریقے پر منقول ہے، تواتر کے طریقے پر۔ جبکہ خبرِ واحد جو ہے جو جس کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہ ہوں، اور یہ حدیث جو ہے یہ جو ذکر ہوئی: ”زَكَاةُ الْأَرْضِ يُبْسُهَا“ یہ خبرِ واحد ہے۔ یہ کیا ہے؟ خبرِ واحد۔ تو جو چیز تواتر کے طریقے پر منقول ہو وہ یقین کا فائدہ دیتی ہے کہ یقیناً بات ایسی ہی ہے۔ قرآن تواتر کے طریقے پر منقول ہے تو معلوم ہوا یقیناً قرآن اسی شکل میں ہے جس طرح حضور علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، اتنے لوگ جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے بھئی، تو قرآن کیا ہے؟ قطعی ہے، یقینی ہے بھئی، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، جبکہ خبرِ واحد جو ہے اس کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں تو وہ ظن کا فائدہ دیتی ہے یعنی غالب گمان یہ ہے کہ بات اسی طرح ہوگی۔ اتنے زیادہ لوگ روایت کرنے والے نہیں، ہاں البتہ کچھ لوگ روایت کرنے والے ہیں، قابلِ اعتماد لوگ ہیں، تو بات کیا ہوگی؟ غالب گمان ہے کہ بات اسی طرح ہوگی، اگرچہ تھوڑا سا وہم اور شبہ یہ بھی دل میں آتا ہے شاید کسی نے اپنی طرف سے یہ بات کر دی ہو حدیث بنا کر یا شاید کسی سے بھول میں غلطی سے اس طرح بیان کر دیا ہو انہوں نے، شبہ تو آتا ہے لیکن معمولی سا ہے، البتہ غالب گمان کیا ہے؟ کہ یہ کیا ہوگی؟ بات اسی طرح ہوگی۔ تو خبرِ واحد ہے ظنی اور کتاب اللہ ہے قطعی۔ اور کتاب اللہ سے کیا پتہ چلا؟ مٹی کو پاک ہونا چاہیے، اس سے پھر کیا کر لو؟ تیمم کر لو۔ تو کتاب اللہ جب قطعی ہے تو اس سے جو چیز ثابت ہوگی وہ بھی قطعی ہوگی۔ معلوم ہوا مٹی کا پاک ہونا بھی قطعی ہونا چاہیے، پھر اس سے کیا کرو؟ تیمم کرو۔ اور حدیث خبرِ واحد سے پتہ چلا کہ زمین جب مٹی جو ہے وہ خشک ہو جائے گی تو پاک ہو جائے گی۔ تو اس سے پتہ چلا مٹی پاک ہو جائے گی لیکن یہ حدیث ہے خبرِ واحد اور خبرِ واحد ہوتی ہے ظنی اور ظنی کے ذریعے جو چیز ثابت ہوگی وہ بھی کیا ہوگی؟ ظنی ہی ہوگی بھئی۔ معلوم ہوا کہ غالب گمان یہ ہے کہ زمین کیا ہو جائے گی جب خشک ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی بھئی، کیونکہ یہ خبرِ واحد کے ذریعے ثابت ہے اور وہ بھی کیا ہے؟ ظنی ہے، غالب گمان کا فائدہ دیتی ہے۔ تو کتاب اللہ سے پتہ چلا کہ تیمم کس مٹی سے جائز؟ جس مٹی کا پاک ہونا قطعی ہو یقینی ہو، اور حدیث سے پتہ چلا جب زمین خشک ہو جائے گی تو وہ پاک ہو جائے گی، لیکن یہ پاک ہونا زمین کا کس طریقے پر ہے؟ ظنی ہے، ظنی ہے۔ تو کتاب اللہ سے پتہ چلا کہ مٹی کا قطعی یقینی پاک ہونا ضروری ہے اور حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ ظنی طور پر پاک ہو گئی ہے۔ جب کتاب اللہ سے پتہ چل گیا کہ مٹی کا قطعی طور پر پاک ہونا ضروری تو اس کے لیے قطعی طور پر مٹی پاک ہوگی تبھی تیمم جائز ہوگا، ورنہ تیمم جائز نہیں۔ حدیث سے ظنی طور پر تو مٹی کے پاک ہونے کا پتہ چلا لیکن یقینی طور پر پتہ نہیں، لہٰذا اس وجہ سے وہ جو کتاب اللہ کے ذریعے مٹی کا پاک ہونا ثابت ہے، حدیث کے ذریعے وہ مٹی کے پاک ہونا اس درجے کا ثابت نہیں، لہٰذا اس سے تیمم جائز نہیں ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ طَهَارَةَ الصَّعِيدِ ثَبَتَتْ شَرْطًا بِنَصِّ الْكِتَابِ، فَلَا تَتَأَدَّى بِمَا ثَبَتَ بِالْحَدِيثِ“ اس لیے کیونکہ مٹی کی پاکی جو ہے وہ ثابت ہے شرط ہو کر کتاب اللہ کی نص سے، پس لہٰذا یہ مٹی کی پاکی ادا نہیں ہوگی اس چیز کے ساتھ جو ثابت ہے کس سے؟ حدیث سے جو ثابت ہے، اس سے طہارتِ صعید ثابت نہیں ہوگی، اس سے ادا نہیں ہوگی کیونکہ وہ ظنی ہے اور ضروری کس قسم کی طہارت ہے؟ قطعی طہارت ضروری ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ”فَلَا تَتَأَدَّى“ تتأدیٰ کی ضمیر کس کو لوٹائیں گے؟ طہارتِ صعید کو۔ کس کو؟ تو مٹی کی طہارت اس سے نہیں ہوگی جو حدیث سے ثابت ہے، کس کے لیے؟ تیمم کے حق میں خاص طور پر، تیمم کے حق میں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا۔ ”وَقَدْرُ الدِّرْهَمِ وَمَا دُونَهُ مِنَ النَّجَسِ الْمُغَلَّظِ كَالدَّمِ وَالْبَوْلِ وَالْخَمْرِ وَخُرْءِ الدَّجَاجِ وَبَوْلِ الْحِمَارِ جَازَتِ الصَّلَاةُ مَعَهُ، وَإِنْ زَادَ لَمْ تَجُزْ“ اب آگے نجاستِ خفیفہ اور نجاستِ غلیظہ ان کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے ایک وہ نجاست ہے جو بڑی سخت ہے، اس کے حکم میں بڑی شدت اور سختی ہے، اسے نجاستِ غلیظہ کہتے ہیں۔ اور دوسری نجاست وہ ہلکے درجے کی نجاست ہے، اس کے حکم میں تخفیف ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نجاستِ خفیفہ کہتے ہیں۔ نجاستِ غلیظہ کے سلسلے میں یاد رکھیے کہ وہ درہم کی مقدار تک معاف ہے، ایک درہم یا اس سے کم ہو تو معاف ہے یعنی اس کے ساتھ نماز ادا کی تو نماز ہو جائے گی۔ نماز ہو جائے گی، اگرچہ بہتر یہ نہیں ہے کہ اسی کے ساتھ نماز ادا کی جائے، اگر پانی وغیرہ ہے انسان کو اس سے بدن یا کپڑے کو صاف کرنا چاہیے، لیکن اگر پانی وغیرہ نہیں ملتا اور وہ اسی طرح نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز ہو جائے گی بھئی، جبکہ مقدار کتنی ہو؟ ایک درہم یا ایک درہم سے کم ہو۔ یہ نجاستِ غلیظہ میں ہے۔ جبکہ نجاستِ خفیفہ کے اندر یاد رکھیے وہ ربعِ ثوب تک ہو تو ربعِ ثوب سے کم ہو تو معاف ہے، ربعِ ثوب کو پہنچ جائے تو معاف نہیں۔ یعنی کپڑے کے چوتھائی حصے تک پہنچ جائے تو معاف نہیں، اس سے کم کم ہے تو معاف ہے۔ اور کس کپڑے تک؟ کیا سارے کپڑوں کے اعتبار سے دیکھا جائے گا؟ پھر تو چوتھا حصہ بہت بڑا بن جائے گا۔ تو یاد رکھیے فقہاء فرماتے ہیں سارا کپڑا مراد نہیں ہے بلکہ جس حصے پر کپڑے کے لگی ہے اس کا اس کے چوتھے حصے کو دیکھا جائے گا۔ مثلاً آستین پر نجاستِ خفیفہ لگی ہے تو آستین کے چار حصے کیجیے اور غور کیجیے یہ چار حصے کریں تو اس سے یہ کم ہے یا اس کے برابر ہے؟ اگر اس چوتھے حصے سے یہ کم ہے تو اس کے ساتھ نماز جائز ہو جائے گی اور اگر چوتھے حصے کے برابر ہے یا اس سے زائد ہے تو اس صورت میں پھر نماز اس کے ساتھ جائز نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَدْرُ الدِّرْهَمِ وَمَا دُونَهُ مِنَ النَّجَسِ الْمُغَلَّظِ“ اور درہم کی مقدار اور جو اس سے کم ہو، درہم اور درہم سے جو کم ہو، کس میں سے؟ ”مِنَ النَّجَسِ الْمُغَلَّظِ“ نجاستِ مغلظہ میں سے، نجاستِ غلیظہ میں سے، ”كَالدَّمِ“ جیسے کہ خون ہے، ”وَالْبَوْلِ“ اور پیشاب ہے، ”وَالْخَمْرِ“ اور شراب ہے، ”وَخُرْءِ الدَّجَاجِ“ اور مرغی کی بیٹ ہے، ”وَبَوْلِ الْحِمَارِ“ اور گدھے کا پیشاب ہے، ”جَازَتِ الصَّلَاةُ مَعَهُ“ تو اس کے ساتھ نماز جائز ہے۔ کتنی مقدار میں؟ درہم اور درہم سے کم مقدار میں۔ ”وَإِنْ زَادَ لَمْ تَجُزْ“ اور اگر اس سے زیادہ ہو یعنی درہم کی مقدار سے یہ نجاستِ غلیظہ زیادہ ہے ”لَمْ تَجُزْ“ تو اس کے ساتھ نماز جائز نہیں بھئی، جائز نہیں۔ یہاں ایک دو باتیں اور بھی یاد رکھیے بھئی۔ انہوں نے ذکر کر دیا کہ خون یہ بھی نجاستِ غلیظہ ہے، پیشاب بھی نجاستِ غلیظہ ہے، شراب بھی نجاستِ غلیظہ ہے، اسی طرح مرغی کی بیٹ جو ہے وہ بھی نجاستِ غلیظہ ہے بھئی۔ یاد رکھیے پرندوں کے اندر مرغی، بطخ اور مرغابی ان تین کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے بھئی۔ مرغی، بطخ اور مرغابی ان کی بیٹ جو ہے وہ نجاستِ غلیظہ ہے غلیظہ ہے۔ اور اس کے ان کے علاوہ باقی جو حلال پرندے ہیں ان کی بیٹ پاک ہے۔ وہ نجاست ہی نہیں سرے سے بلکہ پاک ہے، جیسے کبوتر ہے، چڑیا ہے، مینا ہے وغیرہ بھئی، ان کی بیٹ کیا ہے؟ پاک ہے بھئی پاک ہے۔ جبکہ وہ پرندے جو حرام ہیں ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے، آگے تفصیل آ جائے گی بھئی، صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے۔ جو حرام پرندے ہیں ان کی بیٹ کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے بھئی، نجاستِ خفیفہ ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی یاد رکھیے، یہ آگے بھی آ جائے گا، کہ جو فضلہ ہے یعنی پاخانہ ہے تمام جانوروں کا، چاہے وہ ماکول اللحم ہیں چاہے غیر ماکول اللحم ہیں، یعنی چاہے ان کا گوشت کھایا جاتا ہے یا گوشت نہیں کھایا جاتا، یا یوں کہیے مختصر لفظوں میں، چاہے وہ جانور حلال ہیں چاہے حرام ہیں، سب کا جو فضلہ ہے پاخانہ ہے وہ نجاستِ غلیظہ ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا یہ گوبر یہ بھی کیا ہے؟ نجاستِ غلیظہ ہے بھئی نجاستِ غلیظہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی دیکھیے اب دوبارہ ذرا: ”وَقَدْرُ الدِّرْهَمِ وَمَا دُونَهُ مِنَ النَّجَسِ الْمُغَلَّظِ كَالدَّمِ وَالْبَوْلِ وَالْخَمْرِ وَخُرْءِ الدَّجَاجِ وَبَوْلِ الْحِمَارِ جَازَتِ الصَّلَاةُ مَعَهُ، وَإِنْ زَادَ لَمْ تَجُزْ“ اور درہم اور اس سے کم مقدار جو ہے نجاستِ مغلظہ میں سے جیسے کہ خون ہے اور پیشاب ہے اور شراب ہے اور مرغی کی بیٹ ہے اور گدھے کا پیشاب ہے، ”جَازَتِ الصَّلَاةُ مَعَهُ“ تو یہ ان میں نماز جائز ہے یعنی درہم یا درہم سے کم مقدار جب ہو، ”وَإِنْ زَادَ لَمْ تَجُزْ“ اور اگر اس سے زیادہ ہو تو جائز نہیں ہے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: قَلِيلُ النَّجَاسَةِ وَكَثِيرُهَا سَوَاءٌ“ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نجاست تھوڑی ہو یا زیادہ، تھوڑی اور زیادہ نجاست دونوں جو ہیں ”سَوَاءٌ“ برابر ہیں، ”لِأَنَّ النَّصَّ الْمُوجِبَ لِلتَّطْهِيرِ لَمْ يَفْصِلْ“ اس لیے کیونکہ وہ نص جو تطہیر کو واجب کرنے والی ہے ”لَمْ يَفْصِلْ“ وہ فرق نہیں کرتی۔ وہ نص، وہ آیت جو تطہیر کو واجب کرنے والی ہے اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا اور وہ کیا نص تھی؟ ”وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ“ تو اس کے اندر یہ نہیں ذکر کہ درہم یا درہم سے کم ہو تو... کوئی حرج نہیں۔ بلکہ یہ عام ہے کہ کپڑے کو کیا کیجیے؟ پاک رکھیے! معلوم ہوا تھوڑی نجاست سے بھی پاک ہونا ضروری اور زیادہ نجاست سے بھی پاک ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو اس نص نے کوئی فرق نہیں کیا۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْقَلِيلَ لَا يُمْكِنُ التَّحَرُّزُ عَنْهُ فَيُجْعَلُ عَفْوًا“ کہ ہم کہتے ہیں کہ تھوڑی نجاست جو ہے، ممکن نہیں ہے اس سے بچنا، ”فَيُجْعَلُ عَفْوًا“ تو اس کو معاف قرار دیا گیا۔ تھوڑی نجاست سے تو بچنا ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے تھوڑی نجاست کو ”فَيُجْعَلُ عَفْوًا“ تو اس کو معاف قرار دیا جائے گا۔ ”وَقَدَّرْنَاهُ بِقَدْرِ الدِّرْهَمِ“ اور ہم نے اس کا اندازہ لگایا ہے ایک درہم کی مقدار سے۔ کتنی مقدار سے؟ ایک درہم کی مقدار سے اندازہ لگایا ہے، کیونکہ تھوڑی نجاست سے تو بچنا ممکن ہی نہیں ہے انسان کے لیے بھئی، تھوڑی بہت نجاست تو لگ ہی جاتی ہے، تو لہٰذا تھوڑی نجاست کو معاف قرار دیا جائے گا۔ اور ہم نے اس کا اندازہ کس سے لگایا؟ ایک درہم سے۔ بھئی یہ ایک درہم سے کیسے اندازہ لگایا؟ جو آگے بتلا رہے ہیں: ”أَخْذًا عَنْ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ“ اخذ کرتے ہوئے استنجا کے مقام سے۔ کس سے؟ استنجا کے مقام سے اخذ کرتے ہوئے، یعنی پاخانے کا جو مقام ہے، وہ کتنا ہے تقریباً؟ ایک درہم۔ بھئی دیکھیے، مسنون طریقہ کیا ہے؟ استنجا کس سے کیا جائے؟ جی؟ مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کیا جائے، ہاں پانی سے، اس کے بعد پانی سے بھی کر لے تو یہ افضل ہے، تو ورنہ کس سے کافی ہے؟ مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کر لیا تو کافی ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے، مٹی کے ڈھیلے سے جب کوئی شخص استنجا کرے گا، تو کیا نجاست کے اجزا پورے طور پر صاف ہو جاتے ہیں یا معمولی سے پھر بھی رہ جائیں گے؟ ہاں، کچھ نہ کچھ تو رہ جائیں گے، ظاہر سی بات ہے، جو پاکی پانی سے حاصل ہوتی ہے وہ مٹی کے ڈھیلے سے تو حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو دیکھو پھر بھی شریعت کی طرف سے رخصت آئی ہے کہ اس نے ڈھیلے سے استنجا کی اجازت دی اور وہ مسنون ہے، حالانکہ تھوڑی نجاست رہ جاتی ہے، معلوم ہوا تھوڑی نجاست معاف ہے۔ معلوم ہوا تھوڑی نجاست کیا ہے؟ معاف ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ”وَقَدَّرْنَاهُ بِقَدْرِ الدِّرْهَمِ“ اور ہم نے اس کا اندازہ لگایا ہے ایک درہم کی مقدار کے ساتھ، ”أَخْذًا عَنْ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ“ اخذ کرتے ہوئے اس کو استنجا کے مقام سے۔ ”ثُمَّ يُرْوَى اعْتِبَارُ الدِّرْهَمِ مِنْ حَيْثُ الْمَسَاحَةِ“ اب یہ جو متن میں آیا، کتنی نجاستِ غلیظہ معاف ہے بھئی، جس میں نماز ہو جائے گی؟ ایک درہم یا ایک درہم سے کم۔ اب یہ ایک درہم سے کیا مراد ہے؟ درہم کا وزن مراد ہے یا درہم جتنا کی پیمائش مراد ہے کہ جتنا درہم کا پھیلاؤ ہوتا ہے؟ تو یاد رکھیے اس میں دو روایتیں ہیں۔ بعض نے کہا: درہم سے درہم کی پیمائش مراد ہے۔ کتنی مراد ہے؟ درہم کی پیمائش مراد ہے، اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ درہم کی مقدار سے درہم کا وزن مراد ہے۔ دونوں روایتیں آئی ہیں پھر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب پھر یہ بھی یاد رکھیے آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کرنے لگے ہیں، درہم کی پیمائش کتنی ہے؟ یعنی چوڑائی وغیرہ کتنی ہے؟ لمبائی چوڑائی میں کس طرح اندازہ لگایا جائے گا؟ تو یاد رکھیے، یہ اپنی ہتھیلی کو ذرا اپنے سامنے پھیلائیے بھئی، اور پھر انگلیوں کو خوب سخت کر لیجیے جس حد تک سخت کر سکتے ہیں، بالکل سخت ہو جائے ہتھیلی بھئی۔ انگلیاں بالکل سیدھی تا کہ نیچے کی طرف اگر مڑ رہی ہیں، جتنی مڑ سکتی ہیں موڑیں۔ اب اس ہتھیلی، بھئی اس ہتھیلی میں تھوڑا پانی لیں اور پھر اس کو اس طرح پھیلا دیں جیسے میں نے ابھی بتایا۔ آپ دیکھیں گے سارا پانی گر جائے گا، ہتھیلی کے بیچ میں یہ جو تھوڑا سا گہرا حصہ رہ گیا اس کے اندر تھوڑا سا پانی رک جائے گا۔ یہ ہے درہم کے پھیلاؤ کی مقدار بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہے کتنے؟ درہم کے پھیلاؤ کی مقدار۔ جب ہتھیلی پر پانی ڈالیں اور پھر اس کو خوب سخت کر لیں، تو بس یہ تھوڑا سا گہرا حصہ رہ جائے گا، یہ آپ اس کا باقاعدہ تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں، یہ درمیان والے تھوڑے سے حصے میں پانی رہ جائے گا، یہ ہے ایک درہم کے پھیلاؤ کی مقدار بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعضوں فقہاء فرماتے ہیں: یہ مقدار پھیلاؤ، پیمائش کے اندر مراد ہے، اور بعضوں نے کیا کہا؟ وزن مراد ہے، وزن مراد ہے۔ وہ دونوں صاحبِ ہدایہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ يُرْوَى اعْتِبَارُ الدِّرْهَمِ مِنْ حَيْثُ الْمَسَاحَةِ“ پھر روایت کیا گیا ہے درہم کے اعتبار کو کس حیثیت سے؟ پیمائش کی حیثیت سے، کہ پیمائش کے اعتبار سے درہم کا اعتبار کیا جائے گا۔ ”وَهُوَ قَدْرُ عَرْضِ الْكَفِّ“ اور وہ، عرض کہتے ہیں چوڑائی کو، اور وہ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار ہے۔ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار، اور میں نے بتا دیا، پوری ہتھیلی نہیں مراد بلکہ ہتھیلی کا درمیان والا گہرا حصہ مراد ہے۔ تو یہ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار ہے۔ ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق۔ بھئی دو روایتیں، متن میں تو صرف آیا کہ درہم کی مقدار، اب اس سے کیا مراد ہے؟ پیمائش مراد ہے یا وزن مراد ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کس کی ہے؟ پیمائش مراد ہے، دوسری روایت کیا ہے؟ کہ وزن مراد ہے۔ صاحبِ ہدایہ ”فِي الصَّحِيحِ“ کے ذریعے بتلا رہے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے بھئی، اس صحیح قول کے مطابق۔ تو ”فِي الصَّحِيحِ“ کا تعلق ”قَدْرُ عَرْضِ الْكَفِّ“ سے نہیں ہے کہ صحیح قول کیا ہے؟ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار۔ یہ ”فِي الصَّحِيحِ“ کا تعلق اس سے نہیں ہے، ”فِي الصَّحِيحِ“ کا تعلق ”اعْتِبَارُ الدِّرْهَمِ مِنْ حَيْثُ الْمَسَاحَةِ“ سے ہے۔ صحیح قول کے مطابق کیا مراد ہے درہم کی؟ پیمائش مراد ہے، اور وہ پیمائش کتنی ہے؟ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَيُرْوَى“ اب دوسری روایت ذکر کرنے لگے ہیں، اور روایت کیا گیا ہے کہ درہم کی مقدار جو ہے وہ ”مِنْ حَيْثُ الْوَزْنِ“ کس حیثیت سے ہے؟ وزن کی حیثیت سے ہے۔ یاد رکھیے، ایک ہے درہم، ایک ہے دینار۔ درہم ہوتا تھا چاندی کا اور دینار ہوتا تھا سونے کا، اور درہم کا وزن تھا تین ماشے ایک رتی اور خمسِ رتی، رتی کا پانچواں حصہ۔ تین ماشے ایک رتی اور خمسِ رتی، خمسِ رتی۔ یہ اوزانِ شرعیہ ہیں، انشاء اللہ یہ یہاں بھی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہے، یہ وہاں ہمیں ضرورت پیش آئے گی زکوٰۃ کے باب میں، زکوٰۃ پہ، وہاں انشاء اللہ پھر میں آپ کو تفصیل لکھوا دوں گا سب کی، اور اگر کہیں بیچ میں زیادہ ضرورت پڑ گئی تو وہاں آپ کو لکھوا دوں گا۔ تو یہ درہم کا وزن کتنا ہوتا تھا؟ تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی، رتی کا پانچواں حصہ، پانچواں حصہ۔ جبکہ دینار جو ہے وہ ساڑھے چار ماشے کا ہوتا تھا۔ تو دیکھو درہم چھوٹا ہوا، تین ماشے ایک رتی بلکہ سوا رتی سے تھوڑا سا کم، تین ماشے اور سوا رتی سے تھوڑا سا کم، جبکہ دینار کتنا ہے؟ ساڑھے چار ماشے کا، وہ بڑا ہوتا ہے۔ اور اسی دینار وزن جو ساڑھے چار ماشے ہیں، اس کا دوسرا نام ہے مثقال بھئی۔ مثقال بھی کس وزن کو کہتے ہیں؟ ساڑھے چار ماشے۔ لہٰذا کہیں آ جائے دینار، کہیں آ جائے مثقال، کہیں آ جائے ساڑھے چار ماشے، یہ سب ایک ہی چیز ہیں۔ دینار بھی کتنے کا؟ ساڑھے چار، مثقال بھی کتنے کا؟ ساڑھے چار ماشے کا۔ تو یہاں درہم کی مقدار ذکر ہوئی بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَيُرْوَى مِنْ حَيْثُ الْوَزْنِ“ اور روایت کیا گیا ہے کہ درہم جو ہے وزن کی حیثیت سے مراد ہے، لیکن درہم کا جو عام وزن ہوتا ہے تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی، وہ درہم مراد نہیں ہے، ”وَهُوَ الدِّرْهَمُ الْكَبِيرُ الْمِثْقَالُ“ بڑا درہم مراد ہے، اور بڑا درہم کتنے کا ہوتا تھا؟ ایک مثقال کا ہوتا تھا اور وہ کتنا ہے؟ ساڑھے چار ماشے، یعنی ایک دینار کے برابر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں درہم جو ہے وزن کی حیثیت سے مراد ہے، ”وَهُوَ الدِّرْهَمُ الْكَبِيرُ الْمِثْقَالُ“ اور وہ بڑا درہم ہے مثقال جو ہے، ”وَهُوَ مَا يَبْلُغُ وَزْنُهُ مِثْقَالًا“ بڑا درہم مثقال جو ہے، وہ کتنا ہے؟ وہ خود بتلا رہے ہیں: ”وَهُوَ مَا يَبْلُغُ وَزْنُهُ مِثْقَالًا“ وہ درہم ہے کہ جس کا وزن ایک مثقال کو پہنچے۔ ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا، پھر بعض فقہاء نے ان دونوں روایتوں کے اندر تطبیق دی۔ بظاہر دونوں روایتیں اب ایک دوسرے کے معارض ہو گئیں۔ کہ قدرِ درہم سے کیا مراد ہے؟ بعضوں نے کیا کہا؟ پیمائش مراد، بعضوں نے کیا کہا؟ وزن مراد ہے، تو بعض علماء، ائمہ نے پھر ان کے اندر تطبیق دی، ایسی صورت بیان کر دی کہ ان کا جو آپس کا ٹکراؤ بظاہر نظر آ رہا تھا وہ ختم ہو گیا۔ وہ کس طرح؟ وہ فرماتے ہیں کہ جو پتلی، بہنے والی نجاست ہے، نجاستِ غلیظہ، اس کے اندر پھیلاؤ کو دیکھیں گے کہ ایک درہم تک تو نہیں لگ گئی؟ جیسے پیشاب ہے۔ پیشاب میں اب کیا دیکھا جائے گا؟ پیشاب کپڑے پر لگے گا اس کا تو الگ وزن کوئی ہے ہی نہیں، کپڑے میں ہی بس جذب ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ اس میں پیمائش کو دیکھیں گے کہ یہ ایک درہم کی مقدار تو نہیں پھیل گیا؟ اگر اس کے برابر ہے یا اس سے کم ہے تو نماز اس میں جائز، اگر اس سے زائد ہے تو نماز جائز نہیں۔ اور جو گاڑھی نجاست ہو گی جس کا باقاعدہ اپنا وزن ہو، جیسے گوبر ہے، وہ لگ گیا اگر کپڑے پر تو اس کے اندر پھر کیا دیکھیں گے؟ وزن دیکھیں گے۔ اب چاہے درہم کے برابر نہ پھیلا ہو لیکن وزن اتنا ہے، وزن اس درہم سے زائد ہے تو اس میں نماز جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اس میں بھی پھر، اگر وزن اس کا کیا ہے؟ کم ہے، لیکن وہ پھیل گیا درہم سے زیادہ، تو بھی وہی حکم آ جائے گا، پھر بھی اس میں نماز جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تطبیق آ گئی یا نہیں آ گئی؟ کہ پھیلاؤ کس نجاست میں دیکھا جائے گا؟ پتلی، بہنے والی میں، اور گاڑھی نجاست میں کس کو دیکھا جائے گا؟ وزن۔ تو معلوم ہوا وہ روایت جو پھیلاؤ کے بارے میں آئی وہ بہنے والی نجاست کے بارے میں آئی، اور وہ روایت جو وزن کے بارے میں آئی ہے وہ کس کے بارے میں آئی ہے؟ وہ گاڑھی نجاست کے بارے میں آئی ہے، تو دیکھو اب تعارض ہی نہ رہا۔ اس کا محل ہی اور، اس کا محل ہی اور، تعارض ہی نہیں۔ تو یہ معنی ہے: ”وَقِيلَ فِي التَّوْفِيقِ بَيْنَهُمَا“ اور کہا گیا ہے ان دونوں میں توفیق کے طور پر، توفیق دیتے ہوئے یعنی تطبیق دیتے ہوئے۔ تطبیق کا معنی میں نے بیان کیا تھا، توفیق اور تطبیق کا کیا معنی؟ اقوال کو ایک دوسرے کے مطابق کر دینا، ان کو ایک دوسرے کے موافق کر دینا۔ بظاہر تو کیا تھا؟ تعارض، لیکن اب اس قول سے دونوں میں کیا آ گئی؟ تطبیق آ گئی، پتہ چلا ایک دوسرے کے موافق ہیں، ایک دوسرے کے مقابل نہیں ہیں بھئی۔ تو ان میں توفیق دیتے ہوئے کہا گیا کہ ”إِنَّ الْأُولَى فِي الرَّقِيقِ“ کہ پہلی روایت کس نجاست میں ہے؟ رقیق پتلی نجاست کے بارے میں ہے، ”وَالثَّانِيَةَ فِي الْكَثِيفِ“ اور دوسری روایت جو ہے ”فِي الْكَثِيفِ“ گاڑھی نجاست کے بارے میں ہے۔ ”وَإِنَّمَا كَانَتْ نَجَاسَةُ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ مُغَلَّظَةً“ بھئی ان اشیاء کی نجاست کو مغلظہ کیوں قرار دیا گیا؟ یہ خون ہے، پیشاب ہے، شراب وغیرہ، ان کو نجاستِ مغلظہ کیوں قرار دیا گیا؟ تو اس میں قیمتی ضابطہ یاد رکھنا، آگے صاحبِ ہدایہ خود بھی اس کو ذکر کریں گے۔ امام صاحب کا ضابطہ الگ ہے، صاحبین کا ضابطہ الگ ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نجاستِ غلیظہ وہ ہو گی جس میں نص آ جائے جس سے پتہ چلے کہ یہ چیز نجس ہے۔ کیا آ جائے؟ جس چیز کے بارے میں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جس چیز کے بارے میں نص آ جائے یعنی قرآن یا حدیث، اس میں نص آ جائے کہ یہ چیز کیا ہے؟ نجس ہے، اور کوئی مقابلے میں ایسی نص نہ ہو جس سے اس کے پاک ہونے کا پتہ چلے۔ تو ایک ہی مثلاً قسم کی نص آئی ہے جس سے صرف کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ یہ چیز نجس ہے، تو دوسری اس کے مقابل کوئی نص ہے؟ جب مقابل کوئی نص نہیں تو اس کو نجاستِ غلیظہ قرار دیں گے۔ اور اگر نص جو ہے وہ دو قسم کی آ رہی ہیں ایک چیز کے بارے میں، بعض سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چیز پاک ہے، بعض سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چیز ناپاک ہے، جیسے پیشاب کے بارے میں، آپ اصولِ فقہ میں پڑھ چکے ہیں، حدیثِ عُرَنِیِّیْن سے کیا پتہ چلا؟ حضور علیہ السلام نے ان کو اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب کیا ہے؟ پاک ہے، پینے کا حضور علیہ السلام حکم دے رہے ہیں، اور جبکہ دوسری طرف حدیث آتی ہے: ”اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ“ پیشاب سے بچو، کیونکہ عام طور پر عذابِ قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے، اس سے پتہ چلا کہ پیشاب نجس ہے بھئی، نجس ہے۔ تو اس میں کوئی تفصیل نہیں کہ کس چیز کے پیشاب سے بچو، وہ سب کو شامل ہوا، تو اس میں ماکول اللحم بھی آ گئے۔ تو گویا ماکول اللحم جو جانور ہیں ان کے پیشاب کے بارے میں دو قسم کی نصوص آ گئیں، کچھ نصوص سے، احادیث سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ وہ پاک ہے، اور کچھ سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ ناپاک ہے، تو دیکھو نصوں میں تعارض آ گیا۔ تو جب دو نصوں میں تعارض آ جائے ایک چیز کے نجس اور پاک ہونے کے سلسلے میں، تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے، اس کو پھر نجاستِ غلیظہ نہیں قرار دیں گے، نجاستِ خفیفہ قرار دیں گے۔ کیونکہ ایک نص سے اگر اس کے نجس ہونے کا پتہ چل رہا ہے، تو دوسری نص سے اس کے پاک ہونے کا پتہ چل رہا ہے، تو اس سے اس کے حکم میں سختی نہ رہی، معلوم ہوا حکم میں نرمی ہے، تو اس کو کیا قرار دیں گے؟ نجاستِ خفیفہ قرار دیں گے۔ امام صاحب کا ضابطہ سمجھ میں آیا؟ تو وہ نجاستِ غلیظہ کس کو قرار دیتے ہیں؟ جہاں نصوں میں تعارض نہ ہو بلکہ صرف نجس ہونے کی نص آئی ہو۔ اور وہ نجاستِ خفیفہ کب قرار دیتے ہیں؟ جب نصوں میں کیا آئے؟ تعارض آئے، ایک نص سے پتہ چل رہا ہے کہ نجس ہے، دوسری سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ پاک ہے، تو پھر اس کو وہ کیا قرار دیتے ہیں؟ نجاستِ خفیفہ قرار دیتے ہیں۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ جبکہ صاحبین کا اور ضابطہ ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جس نجاست کے سلسلے میں اجتہاد کی گنجائش ہو گی وہ نجاستِ خفیفہ ہے، اور جہاں اجتہاد کی گنجائش نہیں وہ نجاستِ غلیظہ ہے۔ کیا فرماتے ہیں؟ جس نجاست میں اجتہاد کی گنجائش ہے، یعنی فقہاء دونوں طرف گئے ہیں، بعض نے ایک چیز کو پاک قرار دیا ہے، بعض نے کیا قرار دیا ہے؟ نجس قرار دیا ہے، دیکھو معلوم ہوا اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، جبھی بعض فقہاء ایک طرف چلے گئے، بعض دوسری طرف چلے گئے۔ تو جس نجاست کے اندر بھی اجتہاد کی گنجائش ہو گی یعنی فقہاء کا اختلاف ہو گا، وہ نجاستِ خفیفہ ہے، اور جہاں پر فقہاء کا اختلاف نہیں وہ نجاستِ غلیظہ ہے بھئی۔ تو امام صاحب دیکھتے ہیں تعارضِ نصین کو، کس کے اندر؟ نجاستِ خفیفہ اور غلیظہ میں، اور صاحبین دیکھتے ہیں تعارضِ مجتہدین کو، کس کو؟ یا یوں کہیں تعارضِ مذہبین کو دیکھتے ہیں، دو مذہبوں کے تعارض کو دیکھتے ہیں۔ ضابطے اچھی طرح سمجھ میں آ گئے؟ اب یہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَإِنَّمَا كَانَتْ نَجَاسَةُ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ مُغَلَّظَةً“ کہ ان اشیاء کی نجاست نجاستِ مغلظہ ہے، ”لِأَنَّهَا ثَبَتَتْ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ“ اس لیے کیونکہ ان کی نجاست ثابت ہے ایسی دلیل سے، ”مَقْطُوعٍ بِهِ“ جو قطعی ہے، یقینی ہے۔ کیونکہ ان کی نجاست کس سے ثابت ہے؟ قطعی دلیل سے ثابت ہے۔ کس سے ثابت ہے؟ قطعی دلیل سے ثابت ہے۔ اس کا معنی یہ نہ سمجھ لینا کہ خبرِ متواتر، یعنی دلیلِ قطعی کیا کیا چیزیں ہیں؟ جیسے قرآن ہے، قرآن قطعی ہے، کیوں قطعی ہے؟ کیونکہ یہ متواتر ہے، تواتر کے طریقے پر نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ ہر زمانے کے اندر سینکڑوں، لاکھوں لوگ اس کو نقل کرنے والے ہیں، معلوم ہوا یہ جیسا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آج سے چودہ صدیاں قبل نازل ہوا تھا، آج بھی بعینہٖ اسی حالت کے اندر ہے، کہیں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ اتنے لوگ جھوٹ پر کبھی جمع نہیں ہو سکتے بھئی۔ اسی طرح حدیث کے اندر بھی ایک قسم ہے خبرِ متواتر بھئی، تو اس میں بھی اس کو روایت کرنے والے بہت زیادہ راوی ہوتے ہیں، تو یہ جو متواتر ہے، خبرِ متواتر، یہ یقین کا فائدہ دیتی ہے۔ جبکہ خبرِ واحد جو ہے اس کے مقابلے میں جس کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہ ہوں، وہ ظن کا فائدہ دیتی ہے کہ غالب گمان یہ ہے بات اسی طرح ہو گی، یقین کا فائدہ نہیں دیتی۔ تو یہاں جو آیا نا کہ یہ ثابت ہے قطعی دلیل سے، تو آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ثابت ہے قرآن سے یا خبرِ متواتر سے، یہ مراد نہیں ہے، بلکہ کیا مراد ہے؟ مراد یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیک ان کی نجاست قطعی ہے کیونکہ نجاست کی احادیث تو ہیں ان کے بارے میں، پاک ہونے کی کوئی حدیث نہیں۔ اور صاحبین کے نزدیک بھی ان کی نجاست قطعی ہے، اس لیے کیونکہ اس میں فقہاء کا اختلاف نہیں۔ جب اختلاف نہیں ہے معلوم ہوا قطعی طور پر یہ نجس ہی ہے۔ جب نصوں کے اندر تعارض نہیں ہے تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ قطعی طور پر نجس ہی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے کہ ”لِأَنَّهَا ثَبَتَتْ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ“ اس لیے کیونکہ ان کی نجاست ثابت ہے قطعی دلیل سے، یعنی جس میں تعارضِ نصوص بھی نہیں اور جس میں مجتہدین کا اختلاف بھی نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَتْ مُخَفَّفَةً“ اور اگر وہ نجاست کیا ہو؟ مخففہ نجاستِ خفیفہ ہو، ”كَبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ“ جیسے پیشاب ان جانوروں کا جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، یعنی حلال جانوروں کا پیشاب، ”جَازَتِ الصَّلَاةُ مَعَهُ حَتَّى يَبْلُغَ رُبْعَ الثَّوْبِ“ تو اس کے ساتھ نماز جائز ہے یہاں تک کہ یہ کپڑے کے چوتھائی حصے کو پہنچ جائے۔ چوتھائی حصے کو پہنچ جائے پھر جائز نہیں ہے، اس سے کم کم میں جائز ہے، تو جائز ہے ان میں نماز یہاں تک کہ یہ کہاں پہنچ جائے؟ چوتھائی کپڑے کو، پھر جائز نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ ”بَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ“ یعنی حلال جانوروں کا پیشاب جو ہے، حلال۔ اسی طرح میں نے آپ کو بتا دیا حرام پرندوں کی بیٹ جو ہے وہ بھی کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے۔ اور نیز اسی طرح یاد رکھیے گھوڑے کا پیشاب جو ہے وہ بھی کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے، نجاستِ خفیفہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ یہ روایت کیا گیا ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کہ نجاستِ مخففہ وہ جب تک ربعِ ثوب کو نہ پہنچ جائے اس میں نماز جائز ہے۔ تو یہ امام صاحب سے نقل کیا گیا ہے، ”لِأَنَّ التَّقْدِيرَ فِيهِ بِالْكَثِيرِ الْفَاحِشِ“ اس لیے کیونکہ اندازہ اس کے اندر جو ہے لگایا گیا ہے کثیرِ فاحش کے ساتھ، یعنی بہت زیادہ ہو۔ جب یہ نجاست خفیف ہے، تھوڑی لگ جائے تو معاف ہے، ہاں جب بہت زیادہ ہو جائے تو معاف نہیں، اور وہ بہت زیادہ کتنی ہو جائے؟ ربعِ ثوب، کتنا؟ ہاں، دلیل ذکر کر رہے ہیں یہ ربعِ ثوب کو کیوں قرار دیا؟ تو اس میں اندازہ لگایا جائے گا کثیرِ فاحش کے ساتھ، بہت زیادہ کے ساتھ، جب یہ بہت زیادہ لگ جائے گی تو نماز جائز نہیں ہو گی۔ اور پھر ربع کیوں قرار دیا گیا؟ بہت زیادہ کا اندازہ کس سے لگایا گیا؟ ربع، معلوم ہوا ربع ہو گیا چوتھائی وہ لگ گیا، چوتھائی یہ نجاست لگ گئی تو معلوم ہوا بہت زیادہ لگ گئی ہے۔ بھئی ربع کے ساتھ کیوں اندازہ لگایا گیا؟ وہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالرُّبْعُ مُلْحَقٌ بِالْكُلِّ فِي بَعْضِ الْأَحْكَامِ“ اور ربع جو ہے وہ ملایا گیا ہے اس کو کل کے ساتھ بعض احکام میں۔ ربع پر ہی کل کا حکم لگا دیا گیا ہے بعض احکام کے اندر، جیسے آپ جانتے ہیں سر کے چوتھائی حصے پر ہی مسح کو پورے سر پر مسح کے قائم مقام قرار دیا گیا، تو ربعِ رأس کو دیکھیے، کل رأس کے قائم مقام قرار دیا گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص حج کے اندر حلق کرواتا ہے، بال یا بال کٹواتا ہے، تو اس میں بھی چوتھائی سر کے بال کٹوا لے تو یہ کیا ہے؟ کافی ہے، گویا کل سر کے بال ہی اس نے کٹوا، تو معلوم ہوا شریعت نے بعض احکام میں چوتھائی کو کس کے قائم مقام کیا ہے؟ کل کے قائم مقام کیا ہے، اس لیے ہم نے بھی کثیرِ فاحش کا اندازہ کس سے لگایا؟ ربع کے ساتھ۔ ”وَعَنْهُ“ اور امام صاحب سے ایک روایت ہے کہ ”رُبْعُ أَدْنَى ثَوْبٍ تَجُوزُ فِيهِ الصَّلَاةُ“ وہ کم سے کم کپڑا اس کم سے کم کپڑے کا چوتھائی جو ہے جس میں نماز جائز ہو، ”كَالْمِئْزَرِ“ جیسے تہبند ہے، جیسے کیا ہے؟ بھئی وہ کم سے کم کپڑا جس کے اندر نماز جائز ہو جیسے تہبند ہے، یعنی دھوتی بھئی۔ اب دھوتی صرف پہن کر کوئی شخص، کوئی مرد نماز ادا کرتا ہے تو ستر ڈھانپا ہوا ہے یا ستر نہیں ڈھانپا ہوا؟ ستر ڈھانپا ہوا ہے، تو نماز ہو جائے گی بھئی، نماز ہو جائے گی۔ یعنی مثلاً مجبوری ہے، اور کوئی کپڑا ہی نہیں ہے، تو صرف اتنا کپڑا ہے اس سے اس نے کیا کیا؟ ستر ڈھانپ لیا، نماز ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا جو کم سے کم کپڑا جس کے اندر نماز جائز ہو جاتی ہے اس کا چوتھائی مراد ہے، یہ ایک روایت ہے امام صاحب سے۔ ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا ہے ”رُبْعُ الْمَوْضِعِ الَّذِي أَصَابَهُ“ اس جگہ کا چوتھائی مراد ہے جس کو وہ نجاستِ خفیفہ لگی ہے، اس کپڑے کا چوتھائی مراد ہے، ”كَالذَّيْلِ وَالدِّخْرِيصِ“ ذیل کہتے ہیں دامن کو دامن کو۔ دامن، یہ قمیص کا نچلا حصہ بھئی نچلا حصہ۔ تو دامن پر اگر لگی ہے نجاستِ خفیفہ تو اس کا چوتھا حصہ مراد، چوتھے حصے سے کم کم معاف ہے، چوتھے حصہ یا اس کے زائد معاف نہیں، اس میں نماز جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”كَالذَّيْلِ وَالدِّخْرِيصِ“ جیسے کہ دامن ہے اور دخریص۔ دخریص بھئی انہوں نے لکھا ہے کپڑے کا وہ حصہ جس کے ذریعے کپڑوں کو کھلا کیا جاتا ہے۔ کپڑوں کو کیا کیا جاتا ہے؟ کھلا کیا جاتا ہے۔ تو غالباً شاید یہ مراد ہو یہ جو قمیص شلوار قمیص آپ پہنتے ہیں اس میں تو پتہ نہیں چلے گا، کرتا اگر آپ نے پہنا ہو، کرتے میں آپ دیکھتے ہیں اطراف میں وہ پٹی سی جوڑتے ہیں کنار سائیڈوں پر، لمبائی میں اوپر سے نیچے تک۔ ہوتا ہے یا نہیں بعض؟ جی، بعض اوقات تو پورا ایک کپڑا لگا ہوتا ہے، بعض اوقات وہ کناروں پر دونوں طرف دامن کے دونوں طرف آخر نیچے تک ایک پٹی جا رہی ہوتی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ شاید غالباً وہ مراد ہے، تو بہرحال یا کوئی قدیم کپڑوں میں ہوتا ہو گا اس طرح کی کوئی چیز، تو یہ مراد، بس یہ تو بطورِ مثال کے ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ ہر کپڑے کا چوتھائی اس سے کم کم معاف ہے، اس کے برابر یا اس سے زائد معاف نہیں، لہٰذا آستین ہے، آستین کے چوتھائی تک پہنچ جائے تو معاف نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ شِبْرٌ فِي شِبْرٍ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ایک بالشت ضربِ ایک بالشت، ”شِبْرٌ فِي شِبْرٍ“ ایک بالشت، شبر کہتے ہیں بالشت کو۔ بالشت جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ بالشت نہیں جانتے؟ بھئی یہ جو آپ ناپتے ہیں کسی چیز کو ہاتھ سے تو دیکھیے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کو خوب پھیلا کر ان کے ذریعے ماپتے ہیں کہ ایک بالشت ہے چیز یا دو بالشت ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کا اندازہ کس سے لگایا جائے گا؟ ایک بالشت، ایک بالشت ہو جائے تو یہ کثیرِ فاحش ہو گئی، بہت زیادہ ہو گئی، لہٰذا اب اس میں نماز جائز نہیں، اس سے کم ہونی چاہیے۔ ”وَإِنَّمَا كَانَ مُخَفَّفًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ“ اچھا بھئی اس کو نجاستِ خفیفہ قرار دیا گیا حلال جانوروں کے پیشاب کو، نجاستِ خفیفہ، کیوں بھئی نجاستِ خفیفہ کیوں قرار دیا گیا؟ امام صاحب نے اپنے ضابطے پر چلتے ہوئے نجاستِ خفیفہ قرار دیا کہ اس کے اندر نصوص کا تعارض ہے، اس میں کیا ہے نصوص کا؟ تعارض، اس لیے نجاستِ خفیفہ، اور صاحبین نے اپنے مسلک پر چلتے ہوئے اس کو نجاستِ خفیفہ قرار دیا اور وہ کیا؟ کہ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے، معلوم ہوا اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، بعض نے اس کو پاک قرار دیا بعض نے نجس قرار دیا ہے، تو یہ اختلافِ فقہاء جو ہے اس سے اس کے نجاست میں کمی آ گئی، معلوم ہوا حکم میں سختی نہیں۔ یہ معنی ہے، تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا كَانَ مُخَفَّفًا“ اور یہ بولِ ما یوکل لحمہ یہ جو ہے نجاستِ مخففہ ہے امام صاحب کے نزدیک اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”لِمَكَانِ الِاخْتِلَافِ فِي نَجَاسَتِهِ“ مکان یہ لفظ اس طرح پہلے بھی ایک دو جگہ آ چکا ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ مصدرِ میمی یہ وجود کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ یعنی ”لِوُجُودِ الِاخْتِلَافِ فِي نَجَاسَتِهِ“، تو نجاستِ مخففہ ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی، ”لِمَكَانِ الِاخْتِلَافِ فِي نَجَاسَتِهِ“ ترجمہ کیا کریں گے؟ اس کے نجس ہونے میں اختلاف پائے جانے کی وجہ سے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں: ”لِمَكَانِ الِاخْتِلَافِ فِي نَجَاسَتِهِ“ اس بولِ ما یوکل لحمہ کے نجس ہونے میں اختلاف پائے جانے کی وجہ سے، یہ کس کی دلیل ہوئی؟ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی اصل ہے، ان کے نزدیک جب فقہاء کا اختلاف پایا جائے تو یہ کس چیز کی دلیل ہوتا ہے؟ خفیف ہونے کی، نجاستِ خفیفہ ہونے کی دلیل ہوتا ہے، تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ ”لِمَكَانِ الِاخْتِلَافِ فِي نَجَاسَتِهِ“ اس وجہ سے کہ اس کے نجس ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے یعنی فقہاء کا اختلاف ہے، ”أَوْ لِتَعَارُضِ النَّصَّيْنِ“ یا کس وجہ سے یہ نجاستِ خفیفہ ہے؟ دو نصوں کے آپس میں تعارض کی وجہ سے۔ یہ کس کے مطابق؟ امام صاحب کے مطابق، تو دونوں کو ذکر کر دیا اور ساتھ ساتھ ہر ایک کی دلیل بھی ذکر کر دی۔ ”عَلَى اخْتِلَافِ الْأَصْلَيْنِ“ بوجہ دونوں اصلوں کے مختلف ہونے کے۔ بوجہ دونوں اصلوں کے؟ دونوں کی اصل ہی الگ ہے، امام صاحب کی اصل اور ضابطہ الگ، صاحبین کی اصل اور ان کا ضابطہ الگ۔ تو اب دوبارہ ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں: یہ بولِ ما یوکل لحمہ یعنی حلال جانور کا جو پیشاب ہے وہ نجاستِ خفیفہ ہے امام صاحب کے نزدیک بھی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے دونوں کے نزدیک، کیونکہ ”لِمَكَانِ الِاخْتِلَافِ فِي نَجَاسَتِهِ أَوْ لِتَعَارُضِ النَّصَّيْنِ“ بوجہ اس کے نجس ہونے میں اختلاف پائے جانے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اس میں نصوں کا تعارض ہے، اس وجہ سے ”عَلَى اخْتِلَافِ الْأَصْلَيْنِ“ بوجہ دونوں اصلوں کے مختلف ہونے، اس وجہ سے کہ دونوں کی اصلیں مختلف ہیں، امام صاحب کی اصل اور تو ان کے نزدیک تعارضِ نصین کی وجہ سے یہ نجاستِ مخففہ ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی اصل اور تو ان کے نزدیک اختلافِ نجاست کی وجہ سے کیا ہے یہ نجاستِ خفیفہ ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔ گھوڑے کا پیشاب نجاستِ خفیفہ ہے۔ آگے یہ آگے ہدایہ میں بھی یہ آپ کو بتائیں گے، کیونکہ گھوڑا حلال ہے۔ صاحبین کے نزدیک تو حلال ہے، امام صاحب کے نزدیک مکروہ ہے، اور مکروہ بھی عزت کی وجہ سے ہے، نجس ہونے کی وجہ سے نہیں، کیونکہ یہ آلۂ جہاد ہے، تو یہ حلال ہوا، اور ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب ابھی بتایا کیا ہے؟ خفیفہ ہے۔ جی؟ جی، ابھی جو میں نے آپ کو بتلایا نا کہ مرغی، بطخ اور مرغابی کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے، اسی طرح متن میں آیا خون وغیرہ، یہ نجاستِ غلیظہ ہیں، پھر کچھ ذکر ہوئے نجاستِ خفیفہ والی چیزیں میں نے ذکر کیں کہ حرام پرندوں کی بیٹ کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے، گھوڑے کا پیشاب کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے، تو یہ میں آپ کو مفتیٰ بہٖ اقوال بتلا رہا تھا جن پر فتویٰ ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ یہ مفتیٰ بہٖ اقوال میں ذکر کر رہا تھا۔ جی؟ بھئی گھوڑا حلال ہے، امام صاحب بھی مکروہ جو قرار دیتے ہیں صرف آلۂ جہاد ہونے کی وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں، ورنہ فی نفسہٖ وہ نجس نہیں ہے بھئی، نجس نہیں ہے۔ جی؟ طوطا حلال ہے، حرام ہے؟ حلال ہے تو بس پاک ہے، میں نے ضابطہ بتا دیا، تین ہیں تین: مرغی، حلال پرندوں میں صرف تین ہیں جن کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے، باقی پاک ہیں۔ نجاست کھاتا ہے یا نہیں؟ یہ مرغی وغیرہ نجاستیں کھاتی پھرتی ہیں، سمجھ میں آیا؟ طوطا نجاست نہیں کھاتا۔ جی؟ سب سب نجاستِ غلیظہ کا سب کا حکم آپ کو بتا دیا۔ اچھا، شاباش! انہوں نے سوال کیا کہ منی کو نجاستِ غلیظہ قرار دیا گیا، کیا قرار دیا گیا؟ نجاستِ غلیظہ قرار دیا گیا، اور حالانکہ اس کے اندر بھی نصوص کے درمیان تعارض ہے بھئی۔ بھئی امام صاحب نصوص کے اندر جب تعارض ہو تو اس کو نجاستِ خفیفہ قرار دیتے ہیں اس وقت جب کوئی ترجیح وغیرہ کی صورت نہیں ہوتی بھئی، ترجیح کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ جبکہ وہاں منی کے اندر بھئی وہاں پر بہت احادیث ہمارے ادلہ اور نصوص وغیرہ بہت زیادہ ہیں جن سے واضح طور پر پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ نجس ہے بھئی، نجس، اس لیے وہاں پر انہوں نے اس کو نجاستِ غلیظہ قرار دیا بھئی۔ چلیے بس بھئی۔ یاد رکھیے یاد رکھیے، یہ جو راستوں میں پانی ہو، راستے میں کہیں پڑا ہے اور اس کے چھینٹے آپ پر پڑتے ہیں، تو اس میں شک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ پاک ہے، فقہاء فرماتے ہیں۔ الا یہ کہ اس کے اندر نجاست کا اثر ظاہر ہو، پھر وہ نجس ہے، ورنہ کیا ہے؟ پاک ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جہاں کہیں پانی کھڑا ہوا ہے، آپ گزر رہے ہیں آپ پر چھینٹے پڑ گئے، تو اب وہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کپڑے ناپاک ہو گئے، بلکہ فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ کپڑے آپ کے پاک ہیں، الا یہ کہ اس پانی میں نجاست کا اثر دکھائی دے رہا ہے، پھر اس صورت میں اب نجاست کا اثر دکھائی دے رہا ہے پھر کپڑے نجس ہوں گے بھئی۔ تو اگر اس جگہ ایسی جگہ سے آنا جانا ہوتا ہی رہتا ہے اور اس طرح چھینٹے پڑتے ہی رہتے ہیں، تو پروا کرنے کی ضرورت نہیں، بچنے کی کوشش کرتا رہے اور اس میں شک کرنے کی ضرورت نہیں، اور اگر ایسی جگہ جانا کم ہوتا ہے تو پھر احتیاط یہ ہے دھو لے اس کو، کیا کر لے؟ دھو لے۔ جی؟ اس کی بات نہیں کر رہا بھئی، اس کی بات نہیں کر رہا۔ بھئی بارش کے پانی کی بات کر رہے ہیں، بارش کا پانی راستوں میں کھڑا ہوتا ہے، گٹر کے پانی کی… ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ اس میں تو اتنی سخت بدبو ہوتی ہے، قریب سے آدمی نہیں گزر سکتا۔
82 approved lectures · 36 of 82