فَإِنْ قَالَ بَدَلَ التَّكْبِيرِ: اللهُ أَجَلُّ، أَوْ أَعْظَمُ، أَوْ الرَّحْمَنُ أَكْبَرُ، أَوْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، أَوْ غَيْرَهُ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى، أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى. وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: إِنْ كَانَ يُحْسِنُ التَّكْبِيرَ لَمْ يَجُزْ إِلَّا قَوْلُهُ: اللهُ أَكْبَرُ، أَوْ اللهُ الْأَكْبَرُ، أَوْ اللهُ الْكَبِيرُ.
نماز کا طریقہ اور اس کی کیفیت ذکر ہو رہی ہے۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ نماز کے آغاز پر تکبیر کہی جائے گی اور تکبیرِ تحریمہ اس کو کہتے ہیں اور ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے گا بھئی، کانوں تک۔ جبکہ عورت جو ہے وہ اپنے ہاتھ جو ہے وہ کندھوں تک اٹھائے گی، کیونکہ اس میں اس کے لیے پردہ زیادہ ہے بھئی، پردہ زیادہ ہے۔ اور اس میں ایک مسئلہ یہ بھی یاد رکھیے کہ ہاتھ اٹھاتے ہوئے جب کانوں تک لے جاتے ہیں، تو ہتھیلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہونا چاہیے بھئی۔ بعض لوگ ہاتھ اٹھاتے ہیں، ہتھیلیوں کا رخ چہرے کی طرف رکھتے ہیں، نہیں بھئی، ہتھیلیوں کا رخ کس طرف ہونا چاہیے؟ قبلے کی طرف، صحیح طریقہ یہ ہے بھئی کہ ہتھیلی قبلے کی طرف ہو۔
آج آپ کے سامنے یہ مسئلہ ذکر کریں گے کہ اگر کوئی ”اللهُ أَكْبَرُ“ کے بجائے کوئی اور ایسا لفظ عربی کا ذکر کر دے جس میں اللہ کی عظمت بیان ہو رہی ہو تو بھی طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک جائز ہے یعنی اس کی نماز ہو جائے گی۔ یعنی ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہنے کے بجائے کوئی ”اللهُ أَجَلُّ“ کہہ دیتا ہے، ”أَجَلُّ“ کا بھی وہی معنی جو ”أَكْبَرُ“ کا ہے، اور ”اللهُ أَعْظَمُ“ کہہ دیتا ہے، یا ”الرَّحْمَنُ أَكْبَرُ“ کہہ دیتا ہے، یا اسی طرح ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ کہہ دیتا ہے، یا اسی طرح ”سُبْحَانَ اللهِ“ وغیرہ کہہ دیتا ہے، تو طرفین یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کافی ہے، نماز ہو جائے گی بھئی۔ نماز کیا ہے؟ ہو جائے گی بھئی، ہو جائے گی۔
البتہ یہ یاد رکھیے کہ یہ مکروہ ہے بھئی۔ ہاں، افتتاح صرف کس سے ہونا چاہیے؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“، کیونکہ حضور علیہ السلام سے یہی ثابت ہے، آپ نے ہمیشہ نماز کا آغاز کس سے فرمایا؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“ سے، ”اللهُ أَكْبَرُ“ سے۔ لیکن طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ“، کہ اللہ کی بڑائی بیان کرو، اور ”فَكَبِّرْ“ بمعنی ”عَظِّمْ“ کے ہے یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرو، تعظیم بیان کرو، تو تعظیم بیان کرو اور ان سب لفظوں سے بھی یہ سب لفظ بھی اللہ کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں، لہٰذا ان سب سے نماز ہو جائے گی، لیکن چونکہ ثابت صرف ”اللهُ أَكْبَرُ“ ہے تو ان سے نماز پڑھ لے ہو تو جائے گی لیکن کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ یا ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ کہے یا ”اللهُ الْكَبِيرُ“ کہے تو یہ کہنا جائز ہے، باقی اگر ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ کہتا ہے تو نہیں بھئی، پھر یہ جائز ہی نہیں ہے بھئی، اور تکبیرِ تحریمہ کیا ہے نماز کے لیے؟ شرط ہے، شرط ہے، تو معلوم ہوا پھر نماز ہی نہیں ہوگی۔
”فَإِنْ قَالَ بَدَلَ التَّكْبِيرِ: اللهُ أَجَلُّ“ اگر تکبیر کی جگہ پر ”اللهُ أَجَلُّ“ کہہ دیا، ”أَوْ أَعْظَمُ“ یا یعنی کہ ”اللهُ أَعْظَمُ“ کہہ دیا، ”أَوِ الرَّحْمَنُ أَكْبَرُ“ یا یہ کہہ دیا ”الرَّحْمَنُ أَكْبَرُ“، ”أَوْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ کہہ دیا، ”أَوْ غَيْرَهُ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى“ یا اس کے علاوہ اللہ کے اسماء میں سے کوئی نام ذکر کر دیا، ”أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ“ تو یہ کافی ہو جائے گا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو باقی انہوں نے حاشیے کے اندر انہوں نے دیا ہوا ہے کہ امام قدوری نے ذکر کیا ہے، تصریح ذکر کی ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ کے علاوہ کسی اور لفظ سے شروع کرنا، جو لفظ ہم نے ذکر کیے اس طرح تعظیم والا کوئی لفظ ہو، ہو تو جائے گی نماز، کیا ہے؟ نماز ہو تو جائے گی البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے بھئی۔
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ كَانَ يُحْسِنُ التَّكْبِيرَ لَمْ يَجُزْ إِلَّا قَوْلُهُ: اللهُ أَكْبَرُ، أَوْ اللهُ الْأَكْبَرُ، أَوْ اللهُ الْكَبِيرُ“ اگر وہ اچھے طریقے سے تکبیر کہہ سکتا ہے، تو پھر جائز نہیں ہے سوائے اس کے کہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہے، یا ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ کہے، یا ”اللهُ الْكَبِيرُ“ کہے۔ وہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص اچھے طریقے سے تکبیر کہہ سکتا ہے، ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہہ سکتا ہے، تو اس کے لیے صرف ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہنا جائز، اسی طرح ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ الف لام کے ساتھ یہ بھی جائز ہے، اور ”اللهُ الْكَبِيرُ“ یہ کہنا بھی جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ جبکہ نیز جامع صغیر کے اندر ذکر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے اور وہاں پر انہوں نے ”اللهُ كَبِيرٌ“ کو بھی ذکر کیا ہے۔ متن میں تو صرف کیا آیا؟ ”اللهُ الْكَبِيرُ“ الف لام کے ساتھ ہے ”الْكَبِيرُ“، لیکن جامع صغیر کے اندر ”اللهُ كَبِيرٌ“ یعنی بغیر الف لام کے بھی کبیر کا لفظ ذکر ہے، تو معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف ان چار لفظوں کے ساتھ تحریمہ کہہ سکتا ہے اور لفظ نہیں کہہ سکتا جبکہ وہ عربی اچھی طرح عربی کے یہ لفظ ادا کر سکتا ہو۔ اگر ادا کر ہی نہیں سکتا پھر تو الگ مسئلہ ہے، بات ہم کس کی کر رہے ہیں جو اب اچھے طریقے سے ادا کر سکتا ہے ان لفظوں کو، تو بھی وہ ان چار لفظوں کے ذریعے نماز ادا کرے تو ہو جائے گی۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالْأَوَّلَيْنِ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے مگر پہلے دو کے ساتھ ہی۔ پہلے دو کون سے؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“ اور ”اللهُ الْأَكْبَرُ“۔ تو اکبر پر الف لام ہو یا نہ ہو، یہ دو صورتیں ہیں، بس انہی کے ساتھ جائز ہے نماز اور باقیوں کے ساتھ جائز ہی نہیں ہے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالْأَوَّلِ“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے مگر پہلے کے ساتھ ہی یعنی اسی کے ساتھ نماز کا آغاز کر سکتا ہے۔ پہلا کون سا؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“، صرف یہ کہہ سکتا ہے، باقی ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ کہا، یہ جائز ہی نہیں ہے، نماز ہی نہیں ہوگی۔ دلیل کیا ان کی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ هُوَ الْمَنْقُولُ“ کیونکہ یہی منقول ہے، احادیث وغیرہ میں صرف کیا لفظ ذکر ہوتا ہے، حضور علیہ السلام نماز کی ابتدا کس لفظ سے فرماتے تھے؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“، صرف یہی منقول ہے، ”وَالْأَصْلُ فِيهِ التَّوْقِيفُ“ اور اصل اس کے اندر توقیف ہے، امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کیونکہ صرف ”اللهُ أَكْبَرُ“ کا لفظ یہی نقل ہوا ہے احادیث وغیرہ کے اندر اور اصل اس کے اندر توقیف ہے، توقیف میں نے بتلایا تھا نص سے کسی چیز کا ثابت ہونا، قرآن و حدیث میں کوئی چیز ہو تو اس کو کہتے ہیں توقیفی، یہ کیا ہے؟ توقیفی۔ تو کہتے ہیں اصل اس کے اندر توقیف ہے یعنی نص سے ثابت ہونا ہے، جو لفظ نص میں آیا ہے نص سے ثابت ہے، اسی سے نماز کا آغاز ہوگا اور کسی لفظ سے نماز کا آغاز جائز نہیں، اور نص میں احادیث میں تو صرف کیا آیا ہے؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“ آیا ہے اور کوئی لفظ نہیں آیا، معلوم ہوا صرف اسی کے ساتھ نماز جائز ہوگی، دلیل ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں کیونکہ یہی لفظ منقول ہے ”وَالْأَصْلُ فِيهِ التَّوْقِيفُ“ اور اصل اس کے اندر توقیف ہے۔
”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ: إِدْخَالُ الْأَلِفِ وَاللَّامِ أَبْلَغُ فِي الثَّنَاءِ“ امام شافعی رحمہ اللہ کا کیا مذہب ذکر ہوا تھا؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“ بھی اور ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ الف لام کے ساتھ بھی، وہ فرماتے ہیں: ”إِدْخَالُ الْأَلِفِ وَاللَّامِ أَبْلَغُ فِي الثَّنَاءِ“ الف لام کا داخل کرنا یہ زیادہ بلیغ ہے کس کے اندر؟ ثناء، یعنی یہ ثناء ہے، حمد کے اندر، اللہ کی تعریف کے اندر یہ زیادہ بلیغ ہے الف لام کے ساتھ، اس لیے یہ بھی جائز ہے۔ کہتے ہیں دیکھیے ”اللهُ أَكْبَرُ“ کا کیا معنی ہے؟ یعنی ”اللهُ أَكْبَرُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ“، اللہ سب سے بڑے ہیں یعنی ہر چیز سے بڑے ہیں۔ اور ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ کہیں تو پھر لفظِ اللہ تو ہوا مبتدا اور ”الْأَكْبَرُ“ ای خبر اور خبر بھی معرفہ ہے، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ خبر بھی معرفہ ہو تو وہ حصر کا فائدہ دیتی ہے، حصر، قصر اور تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، تینوں کا ایک معنی ہے تینوں لفظوں کا: حصر، قصر اور تخصیص۔
لہٰذا جیسے ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ“، یہاں ”إِيَّاكَ“ کو ”نَعْبُدُ“ پر مقدم کیا گیا کس لیے؟ تخصیص کے لیے، اگر مؤخر ہوتا اور یوں ہوتا ”نَعْبُدُكَ“ تو کیا ترجمہ ہوتا؟ اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، تو اللہ کے لیے عبادت کرنے کا اثبات تو ہو جاتا کہ ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں، لیکن کسی اور کی عبادت نہیں کرتے یہ نفی نہ ہوتی، لیکن جب ”إِيَّاكَ“ کو مقدم کر دیا گیا ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ تو اب تخصیص آ گئی، کیونکہ تقديم ما حقه التاخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص، تینوں لفظوں کا ایک معنی ہے اس لیے میں تینوں ہمیشہ ذکر کرتا ہوں تاکہ آپ کو یاد رہیں بھئی: حصر، قصر اور تخصیص۔ تو جب تقدیم کی، مقدم کیا ایسے لفظ کو جس کا حق مؤخر ہونا تھا تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ اب کیا ترجمہ ہوگا؟ اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، یہ دیکھو آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، یہ تخصیص آ گئی، اور تخصیص کہتے ہیں کہ اگر مذکور کے لیے ایک چیز کا اثبات ہو تو باقی سب سے نفی ہو، اور اگر مذکور سے ایک چیز کی نفی ہو تو باقی سب کے لیے کیا ہو؟ اثبات۔ تو یہاں پر کیا کہا گیا؟ اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، اللہ کے لیے عبادت ثابت کی تو باقی سب سے عبادت کی نفی کر دی، یہ ہے تخصیص۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں پر بھی جب خبر کیا آ گئی معرفہ ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ تو اب تخصیص آ گئی، کیا معنی ہوگا؟ اللہ ہی سب سے بڑے ہیں یا اللہ ہی بڑے ہیں بھئی، اللہ ہی سب سے بڑے ہیں، اللہ ہی سب سے بڑے ہیں، تو دیکھیے باقی سب سے بڑائی کی نفی ہو گئی۔ تو اس میں زیادہ مبالغہ ہے کس کے اندر؟ ثناء اور تعریف کے اندر، لہٰذا یہ بھی جائز ہے۔ ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ کہنا بھی جائز ہے۔ یہ معنی ہے ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: إِدْخَالُ الْأَلِفِ وَاللَّامِ أَبْلَغُ فِي الثَّنَاءِ“ الف اور لام کا داخل کرنا یہ زیادہ بلیغ ہے تعریف کے اندر، ”فَقَامَ مَقَامَهُ“ تو یہ اس کے قائم مقام ہو جائے گا یعنی ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ اس میں مبالغہ زیادہ اسی لیے یہ اس کے قائم مقام ہو جائے گا، لیکن باقی کوئی اور لفظ کہا جائے وہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ کے قائم مقام نہیں۔ ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ یہ تو قائم مقام ہو جائے گا، کس کا قائم مقام؟ ”اللهُ أَكْبَرُ“ کا، لیکن باقی کوئی اور لفظ اس کا قائم مقام نہیں ہوگا، اسی لیے صرف ”اللهُ أَكْبَرُ“ اس سے نماز جائز ہوگی کیونکہ یہ تو نصوص سے ثابت ہے، اور ”اللهُ الْأَكْبَرُ“ سے نماز جائز ہوگی کیونکہ اس میں مبالغہ زیادہ ہے۔
”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی، ان کے نزدیک کیا ان کا کیا مذہب تھا؟ تین لفظ متن میں ذکر ہوئے ہیں اور میں نے بتایا جامع صغیر کے اندر کیا آیا ہے؟ چوتھا لفظ بھی آیا، تو ان کے نزدیک گویا ”اللهُ أَكْبَرُ“، ”اللهُ الْأَكْبَرُ“، ”اللهُ كَبِيرٌ“ اور ”اللهُ الْكَبِيرُ“ ان سب کے ساتھ نماز جائز ہے۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو ایک ہے ”أَفْعَلُ“ ایک ہے ”فَعِيلٌ“، ”أَفْعَلُ“ ”أَكْبَرُ“، ”أَكْبَرُ“ کیا ہے؟ ”أَفْعَلُ“ اسمِ تفضیل کا صیغہ ہے، اور اسمِ تفضیل میں کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز پر دوسری چیز کی زیادتی کو بیان کیا جاتا ہے: ”زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو“، زید عمرو سے افضل ہے، یا یوں اور مثال بنا لو: ”زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو“، زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے کس کے مقابلے میں؟ عمرو کے مقابلے میں، تو دیکھو زیادتی بیان کی اور مطلق زیادتی نہیں بلکہ دوسری چیز کے مقابلے میں، اسمِ تفضیل میں کیا کیا جاتا ہے؟ دوسری چیز کے مقابلے میں زیادتی بیان کی جاتی ہے۔
اور ایک ہے ”فَعِيلٌ“، ”فَعِيلٌ“ میں ایک صفت دوسرے کے لیے ثابت کی جاتی ہے: ”زَيْدٌ سَمِيعٌ“، زید سننے والا ہے یعنی اس کے لیے سننے کا وصف ثابت ہے یعنی اس میں سننے کی صلاحیت ہے، کوئی بات کی جائے گی، کوئی آواز آئے گی تو وہ اس کو سن لے گا، تو یہ ہے ”فَعِيلٌ“، اس میں دوسرے کے ساتھ مقابلہ نہیں ہوتا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے لیے اللہ کی صفات میں اسمِ تفضیل یعنی ”أَفْعَلُ“ اور ”فَعِيلٌ“ یعنی صفتِ مشبہ یہ دونوں برابر ہیں۔ یہ دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ کیونکہ اسمِ تفضیل لایا جاتا ہے جب دوسری چیز کے مقابلے میں زیادتی بیان کرنا مقصد ہو اور اللہ کی شان تو اتنی اونچی، اللہ کی ذات تو اتنی عظیم ہے کہ وہاں برابری کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ برابری کا امکان ہی نہیں ہے کہ اس پر زیادتی کو بیان کیا جائے۔ تو وہاں ”اللهُ أَكْبَرُ“ اور ”اللهُ كَبِيرٌ“ دونوں برابر ہیں، تو چاہے ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہا جائے تو بھی وہی بات جیسے کس میں ہے ”اللهُ كَبِيرٌ“۔ بات سمجھ میں آئی؟ گویا ”اللهُ أَكْبَرُ“ کے اندر جو ”أَكْبَرُ“ آیا یہ کبیر کی طرح ہے، ”أَفْعَلُ“ ”فَعِيلٌ“ کی طرح ہے۔ کیونکہ ”اللهُ أَكْبَرُ“ کا کیا معنی؟ اللہ سب سے بڑے ہیں۔ اب اللہ کے یہاں کوئی مساوات یا برابری کا شبہ ہے؟ نہیں، تو لہٰذا ”اللهُ كَبِيرٌ“ بھی وہی فائدہ دے رہا ہے جو ”اللهُ أَكْبَرُ“ دے رہا ہے، کیونکہ یہاں ”أَكْبَرُ“ کوئی زائد فائدہ ہی نہیں دے رہا، کیوں فائدہ نہیں ہے زیادہ؟ یہاں کیونکہ یہاں برابری کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، جہاں برابری کا تصور ہو سکے وہاں کہا جاتا ہے یہ چیز اس سے بڑھ کر ہے، یہاں تو تصور ہی نہیں۔ لہٰذا یہاں ”أَكْبَرُ“ بھی کس کی طرح ہوا؟ کبیر، اور کبیر بھی کس کی طرح گویا ہو گیا؟ اکبر کی طرح ہو گیا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا اسی لیے وہ فرماتے ہیں دونوں طرح جائز ہے: ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہنا بھی اور ”اللهُ كَبِيرٌ“ بھی، اور نیز بغیر الف لام کے بھی اور الف لام کے بھی۔ ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: إِنَّ أَفْعَلَ وَفَعِيلًا فِي صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى سَوَاءٌ“ وہ فرماتے ہیں کہ ”أَفْعَلُ“ یعنی اسمِ تفضیل ”وَفَعِيلٌ“ یعنی صفتِ مشبہ اللہ کی صفات میں یہ دونوں وزن جو ہیں برابر ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ لَا يُحْسِنُ“ انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ جب تکبیر اچھی طرح کہہ سکے پھر بھی یہ چاروں کے ساتھ نماز جائز ہے، جائز ہے، اور باقی وہ فرماتے ہیں اگر وہ تکبیر ہی اچھی طرح نہیں کہہ سکتا زبان سے ادا ہوتی ہی نہیں ہے اس کے، پھر تو مجبوری آ گئی، پھر تو وہ لفظ پر قادر ہی نہ رہا، صرف کس پر قدرت ہے؟ معنی پر، اسی معنی کو کسی بھی لفظ کے ساتھ ادا کر دے، پھر چاہے ”سُبْحَانَ اللهِ“ کہہ دے، پھر چاہے کیا کہہ دے؟ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ وغیرہ کہہ دے، کیونکہ وہ تکبیر پر تو وہ قادر ہی نہیں۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ لَا يُحْسِنُ لِأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ إِلَّا عَلَى الْمَعْنَى“ بخلاف اس کے کہ جب وہ اچھے طریقے سے تکبیر نہ کہہ سکے اس سے کیونکہ پھر تو وہ قادر ہی نہیں ہے سوائے معنی کے۔
”وَلَهُمَا“ بھئی دیکھیے، میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ اقوال ذکر کرتے ہیں تو جو سب سے قوی قول ہوتا ہے اس کو پہلے ذکر کرتے ہیں اور جب دلائل ذکر کرتے ہیں تو جو مذہب راجح ہوتا ہے اس کی دلیل سب سے آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ وہ اس مذہب کی دلیل بھی ہو جائے اور باقی سب کا جواب بھی ہو جائے۔ تو یہاں پر اب سب سے آخر میں طرفین کا مذہب جو راجح ہے جو متن میں انہوں نے ذکر کیا اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا أَنَّ التَّكْبِيرَ هُوَ التَّعْظِيمُ لُغَةً“ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ تکبیر یہ تعظیم ہی ہے، تکبیر کا کیا معنی ہے؟ تعظیم، عظمت بیان کرنا یعنی بڑائی بیان کرنا، عربی زبان کے اعتبار سے، تکبیر کا کیا معنی ہوتا ہے؟ تعظیم کا، چنانچہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ“، دلیل میں کیا ذکر کر رہے ہیں طرفین؟ قرآن کو ذکر کر رہے ہیں اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ“، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، ”فَكَبِّرْ أَيْ فَعَظِّمْ“ اپنے رب کی عظمت بیان کرو کیونکہ تکبیر عربی زبان میں اس کا کیا معنی ہے؟ عظمت بیان کرنا۔ تو ان سب جو لفظ ہم نے ذکر کیے: ”اللهُ أَجَلُّ“ کہہ دیا جائے یا ”الرَّحْمَنُ أَكْبَرُ“ یا ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ یا ”سُبْحَانَ اللهِ“ وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب اللہ کی عظمت اور بڑائی پر دلالت کر رہے ہیں، لہٰذا قرآن میں بھی اللہ فرما رہے ہیں ”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ“ اللہ کی عظمت بیان کرو اور ان سب سے اللہ کی عظمت بیان ہو رہی ہے لہٰذا ان سب سے نماز جائز ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَهُمَا أَنَّ التَّكْبِيرَ هُوَ التَّعْظِيمُ لُغَةً وَهُوَ حَاصِلٌ“ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ تکبیر وہ جو ہے وہ تعظیم ہی ہے عربی زبان کے اعتبار سے اور وہ حاصل ہے یعنی ان میں سے جو بھی لفظ ذکر کیا جائے تعظیم تو حاصل ہے ان سب سے یعنی عظمت تو ان سب میں بیان ہو رہی ہے۔
”فَإِنِ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ بِالْفَارِسِيَّةِ، أَوْ قَرَأَ فِيهَا بِالْفَارِسِيَّةِ، أَوْ ذَبَحَ وَسَمَّى بِالْفَارِسِيَّةِ، وَهُوَ يُحْسِنُ الْعَرَبِيَّةَ، أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَا: لَا يُجْزِيهِ إِلَّا فِي الذَّبِيحَةِ، وَإِنْ لَمْ يُحْسِنِ الْعَرَبِيَّةَ أَجْزَأَهُ.“
بھئی ایک آدمی نماز کا آغاز کرتا ہے تو دو صورتیں ہیں: یا تو وہ عربی زبان میں تکبیر وغیرہ پر قادر ہوگا یا قادر نہیں ہوگا۔ اگر عربی زبان پر وہ قادر ہے پھر تو صاحبین فرماتے ہیں عربی ہی میں تکبیر کہنا پڑے گی، اور اگر وہ عربی پر قادر نہیں پھر تو مجبوری ہے لہٰذا فارسی زبان میں بھی کیا کر سکتا ہے؟ تکبیر کہہ سکتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تکبیر کہہ سکتا ہے۔ اسی طرح نماز میں قرأت بھی فرض ہے۔ اب ایک شخص اگر قرأت پر قادر ہے تو اس کو عربی ہی میں قرآن پڑھنا پڑے گا، وہ اس پر فرض ہے۔ ہاں اگر قادر ہی نہیں ہے پھر کس میں پڑھ سکتا ہے؟ فارسی میں یعنی ترجمہ بھی پڑھ سکتا ہے، اس آیت وغیرہ کا فارسی ترجمہ یا سورۂ فاتحہ کا فارسی ترجمہ بھی ادا کر لے، لیکن اس میں بھی یاد رکھیے تفسیر کی بات نہیں ہو رہی، نفسِ ترجمہ اگر ذکر کیا جائے، نفسِ ترجمہ، تفسیر نہ ہو، وضاحت وغیرہ زیادہ نہ ہو، بس لفظی جو قرآن میں جیسے عربی میں آیا اسی کا لفظی ترجمہ، با محاورہ یا لفظی جیسا بھی ہو لیکن ہے صرف ترجمہ، تفسیر میں تو ترجمہ اور لمبا ہو جائے گا، اس کی بات نہیں، اس صورت میں نماز فاسد ہو جائے گی، ہوگی نہیں بھئی۔ یہ ایک شخص ہے وہ عربی زبان پر قادر نہیں، اس کی زبان پر عربی لفظ جاری نہیں ہوتے تو پھر کیا کرے؟ فارسی میں انہی آیتوں کا ترجمہ کر دیا یا سورۂ فاتحہ کا ترجمہ وغیرہ، یہ پڑھ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز ہو جائے گی صاحبین، لیکن اگر قادر ہے تو پھر جائز نہیں۔ جبکہ امام صاحب کا قولِ اول یہ ہے وہ فرماتے ہیں کہ عربی آتی ہو پھر بھی فارسی میں قرأت کر لیتا ہے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔ یہ کیا ہے امام صاحب کا؟ قولِ اول ہے، اور بعد میں امام صاحب نے اس قول سے رجوع فرما لیا بھئی، رجوع فرما لیا اور صاحبین کے مذہب کی طرح کہ اگر کوئی قادر ہے تو عربی ہی میں قرأت کرنا پڑے گی، فارسی میں قرأت یا کسی اور زبان میں قرأت نہیں ہو سکتی، جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر قادر ہی نہیں ہے پھر تو الگ بات ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنِ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ بِالْفَارِسِيَّةِ“ اگر نماز کا آغاز کیا فارسی کے ساتھ یعنی فارسی میں تکبیر وغیرہ کہی، ”أَوْ قَرَأَ فِيهَا بِالْفَارِسِيَّةِ“ یا قرأت کی اس کے اندر بھئی فارسی میں، ”أَوْ ذَبَحَ وَسَمَّى بِالْفَارِسِيَّةِ“ یا کوئی جانور ذبح کیا بھئی اور اللہ کا نام لیا فارسی میں، ”وَهُوَ يُحْسِنُ الْعَرَبِيَّةَ“ حال یہ ہے کہ وہ اچھے طریقے سے عربی کہہ سکتا ہے، ان سب صورتوں میں عربی کہہ سکتا ہے پھر بھی فارسی میں یہ چیزیں کہتا ہے، ”أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک یہ اس کے لیے کافی ہے یعنی ہو جائے گا۔ اب آگے بتائیں گے ہو جائے گا اگرچہ سنت کو چھوڑنے کی وجہ سے اس نے برا کام کیا، گناہ گار ہوا، لیکن ہو جائے گا۔ تو امام صاحب کا قول یہ نہیں کہ ایسا کرے کوئی، ہاں اگر کسی نے کر لیا، نماز ہو جائے گی، البتہ پھر بھی اس نے برا کام کیا کہ سنت کی مخالفت کی، سنت طریقہ تو کیا ہے قرأت کس میں کی جائے؟ عربی زبان میں کی جائے، تو یہ قولِ اول ہے اور اس میں بھی وہ فرما رہے ہیں کہ اس نے برا کیا، جبکہ قولِ ثانی اور آخری قول تو کیا ہے امام صاحب کا کہ ہوگی نہیں نماز اس کی بھئی، ہوگی نہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ تو یہ اس کے لیے کافی ہوگا امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا: لَا يُجْزِيهِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ اس کے لیے کافی نہیں یعنی اگر اچھی طرح عربی جانتا ہے پھر فارسی میں قرأت پڑھے گا تو نماز ہوگی نہیں، ”إِلَّا فِي الذَّبِيحَةِ“ مگر کس کے اندر؟ ذبیحہ کے اندر۔ ذبیحہ کوئی جانور ذبح کرتا ہے اور فارسی میں اللہ کا نام تکبیر وغیرہ فارسی زبان میں کہتا ہے، تو اس میں صاحبین بھی فرماتے ہیں چاہے عربی اچھی طرح آتی ہو پھر بھی فارسی زبان میں تکبیر کہہ دیتا ہے بنامِ خدائے بزرگ و برتر وغیرہ لفظوں کے ساتھ تو بھی یہ ذبح درست ہو گیا بھئی، یہ ذبح کیا ہوا؟ درست ہو گیا۔ وجہ اس کی کیا وجہ ہے عربی پر قدرت کے باوجود؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ذبیحہ کے بارے میں اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: ”وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ“، کہ اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحہ کو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، تو قرآن میں کیا آیا: ”لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ“، سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا اللہ کا نام ذکر کرنا ضروری ہے، عربی زبان کا ہونا ضروری نہیں، تو فارسی میں بھی ذکر کر دے گا تو اللہ کا نام ذکر ہو گیا لہٰذا ذبح صحیح ہے۔ یہ معنی ہے کہ ”إِلَّا فِي الذَّبِيحَةِ“ سوائے ذبیحہ کے اندر، ”وَإِنْ لَمْ يُحْسِنِ الْعَرَبِيَّةَ أَجْزَأَهُ“ اور اگر وہ اچھے طریقے سے عربی نہیں کہہ سکتا تو پھر اس کے لیے کافی ہے صاحبین فرماتے ہیں۔
”أَمَّا الْكَلَامُ فِي الِافْتِتَاحِ“ اور باقی کلام جو ہے نماز کے آغاز کے بارے میں، بھئی دو تین باتیں ذکر ہوئیں یہاں پر: ایک بات ہوئی تکبیرِ تحریمہ کے بارے میں کہ وہ فارسی میں کہے گا تو جائز ہوگی یا جائز نہیں، دوسرا کلام ہوا قرأت کے بارے میں کہ فارسی میں کہے تو نماز جائز ہو جائے گی یا جائز نہیں، تیسری بات ہوئی کس کے بارے میں؟ ذبیحہ کے بارے میں، تو تینوں الگ الگ ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْكَلَامُ فِي الِافْتِتَاحِ فَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ مَعَ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الْعَرَبِيَّةِ وَمَعَ أَبِي يُوسُفَ فِي الْفَارِسِيَّةِ“ تو امام محمد رحمہ اللہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں عربی کے اندر اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں فارسی میں۔ صاحبِ ہدایہ بھئی ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں بھئی، کتنی لمبی بات کر گئے صاحبِ ہدایہ دو چار لفظوں کے اندر۔ عربی کے اندر امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں، اور فارسی میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، کیا معنی؟ بھئی دیکھیے، عربی کے اندر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، امام صاحب نے فرمایا تھا کہ تکبیر کے بجائے کوئی ایسا لفظ کہہ دے جو اللہ کی عظمت پر دلالت کر رہا ہو عربی زبان میں تو نماز ہو جائے گی، ”اللهُ أَكْبَرُ“ کہنے سے بھی، ”اللهُ أَجَلُّ“ کہنے سے بھی، ”اللهُ كَبِيرٌ“ سب اسی میں آ گئے، ”سُبْحَانَ اللهِ“ کہنے سے بھی، ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“، تو اس میں امام محمد رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں عربی ہونے میں کہ جس لفظ کے ساتھ بھی اللہ کی عظمت بیان کر دی جائے تکبیرِ تحریمہ ادا ہو جائے گی۔ اور فارسی ہونے میں امام محمد رحمہ اللہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ فارسی میں اگر تکبیر کہے گا جبکہ وہ اچھے طریقے سے عربی کہہ سکتا ہے تو جائز نہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں جب اچھی طرح عربی کہہ سکتا ہے تو فارسی میں تکبیر کہنا جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے عربیت کے اندر امام محمد رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، وہاں پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا تھا صرف چار لفظوں کے ساتھ تکبیر وغیرہ کہہ سکتے ہیں، باقی لفظوں سے نہیں، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرما رہے تھے ہر تعظیم والے لفظ کے ساتھ تحریمہ کو ادا کیا جا سکتا ہے، تو وہاں وہ عربیت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ اور دوسرے مقام پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فارسی میں بھی تکبیر کہنا صحیح نماز کے آغاز میں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں فارسی میں تکبیر کہنا صحیح نہیں، اس میں وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے کہ ”فَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ مَعَ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الْعَرَبِيَّةِ وَمَعَ أَبِي يُوسُفَ فِي الْفَارِسِيَّةِ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں عربی ہونے میں اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں فارسی ہونے میں۔
”لِأَنَّ لُغَةَ الْعَرَبِ لَهَا مِنَ الْمَزِيَّةِ مَا لَيْسَ لِغَيْرِهَا“ وہ دلیل اس لیے کیونکہ کہتے ہیں جو عربی زبان ہے لغت العرب عرب کی جو زبان ہے یعنی عربی، مزیت کہتے ہیں فضیلت کو، اس لیے کیونکہ عرب کی جو زبان ہے اس کو وہ فضیلت ہے جو اس کے علاوہ کسی اور زبان کو نہیں۔ عربی زبان کو اللہ نے فضیلت بخشی ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کیا ہے؟ عربی ہے، اسی طرح اہل جنت کی زبان بھی کیا ہوگی؟ عربی ہوگی، اور اسی طرح قرآن کو بھی کس زبان میں نازل کیا گیا؟ عربی زبان میں، تو لہٰذا عربی زبان کو فضیلت حاصل ہے جو کسی اور زبان کو نہیں۔ تو اسی لیے عربی زبان میں کہے اور کوئی بھی تعظیم والا لفظ کہے، اس سے نماز کا آغاز کرنا جائز ہوگا ان کے نزدیک۔
”وَأَمَّا الْكَلَامُ فِي الْقِرَاءَةِ فَوَجْهُ قَوْلِهِمَا أَنَّ الْقُرْآنَ اسْمٌ لِمَنْظُومٍ عَرَبِيٍّ“ اور باقی کلام قرأت کے بارے میں، تو صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قرآن نام ہے منظومِ عربی کا۔ منظوم یعنی نظم، آپ نے پڑھا ہے قرآن کے لیے نظم کا لفظ بولا جاتا ہے کہ قرآن کی نظم میں یوں ہے، لفظ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ نظم بطورِ ادب کے، کیونکہ لفظ کا معنی ہے عربی زبان میں پھینکنا اور نظم کا معنی ہے پرونا جیسے موتی وغیرہ لڑی میں پروئے جاتے ہیں، تو یوں کہتے ہیں یہ قرآن کی نظم ہے، یوں کہیں گے، یوں نہیں کہیں گے یہ قرآن کے الفاظ ہیں، کیونکہ لفظ کا کیا معنی؟ پھینکنا، تو یہ بے ادبی ہے اس کو قرآن کے لیے استعمال کیا جائے، تو قرآن کے لیے کہیں گے یہ قرآن کی نظم ہے یا قرآن کی نظم میں اس طرح آیا ہے۔ تو نظم میں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کے الفاظ اتنے حسین و جمیل ہیں جیسے لڑی میں پروئے ہوئے موتی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی لیے نظم کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْقُرْآنَ اسْمٌ لِمَنْظُومٍ عَرَبِيٍّ كَمَا نَطَقَ بِهِ النَّصُّ“ کہ قرآن نام ہے منظومِ عربی یعنی نظمِ عربی کا، جیسا کہ تکلم کیا ہے اس پر نص نے یعنی جیسا نص نے بتلایا ہے۔ قرآن نام ہے نظمِ عربی کا۔
بھئی ایک ہے لفظ، ایک ہوتا ہے اس کا معنی، تو قرآن کس کا نام ہے؟ لفظ کا نام ہے، یہ جو ہم پڑھتے ہیں: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“، یہ لفظ، ان کا نام قرآن ہے، یا جو ان کا معنی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے تمام جہانوں کا؟ تو قرآن لفظ کا نام ہے یا اس کے معنی کا نام ہے؟ اور آپ نے پڑھا نور الانوار وغیرہ کے اندر اصول الشاشی میں کہ قرآن نظم اور معنی دونوں کا نام ہے۔ قرآن صرف لفظوں کا نام بھی نہیں، صرف معنی کا نام بھی نہیں، بلکہ نظم اور معنی، یعنی قرآن نام تو نظم ہی کا ہے لیکن نظم بایں لحاظ کہ یہ ایک معنی پر دلالت کر رہی ہے بھئی، بغیر معنی کے نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قرآن نام ہے نظم اور معنی دونوں کا، اور نص کے اندر بھی اس کا ذکر آیا ہے، نص نے بھی ہمیں یہی بتلایا، چنانچہ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: ”إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا“، ہم نے قرآن کو کیا بنایا ہے؟ عربی بنایا ہے۔ اسی طرح قرآن میں آتا ہے: ”وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا“، اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کیا قرآن، معلوم ہوا قرآن کیا ہے؟ عربی ہے، عربی ہے۔ تو لہٰذا اور عربی یہ معنی کو کہتے ہیں یا لفظوں کو کہتے ہیں؟ لفظ کو کہتے ہیں نا، ہم بھی وہی معنی ادا کرتے ہیں اردو کے اندر، ہمیں عربی کوئی نہیں کہتا۔ وہی بات جو ایک عرب اپنی زبان میں کہے ہم اس کو کہتے ہیں یہ عربی ہے، وہی بات آپ بھی اپنی زبان میں کرتے ہیں لیکن آپ صرف معنی استعمال کر رہے ہیں، معنی، وہی بات کر رہے ہیں لیکن آپ کو کوئی عربی نہیں کہتا، معلوم ہوا عربی کس چیز کا نام ہے؟ لفظوں کا نام ہے، تو لفظوں کا صرف معنی نہیں بلکہ لفظ بھی ہوں، اسی لیے قرآن میں کیا آیا ہے: ”إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا“، ہم نے قرآن کو عربی بنایا ہے وغیرہ، تو نص کے اندر یہ لفظ آئے ہیں بھئی، اس سے پتہ چلا کہ قرآن صرف معنی کا نام نہیں بلکہ لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ تو لہٰذا عربی ہی میں قرأت کرنی پڑے گی۔
”إِلَّا أَنَّ عِنْدَ الْعَجْزِ يُكْتَفَى بِالْمَعْنَى كَالْإِيمَاءِ“ مگر یہ کہ عجز کے وقت اکتفاء کیا جائے گا معنی پر، یا یوں کہیں نماز پڑھنے والا اکتفاء کر لے گا کس پر؟ معنی پر۔ جب وہ عربی میں قرأت کر ہی نہیں سکتا تو عاجزی کے وقت کس پر اکتفاء کر لے؟ معنی پر، جیسے اشارہ کرنا۔ بھئی اصل تو نماز کے اندر قیام، رکوع، سجدہ کرنا فرض ہیں، لیکن ایک شخص قادر ہی نہیں ہے، بیمار ہے، مریض ہے، تو اس کے لیے شریعت نے رخصت دے دی وہ کیا کر سکتا ہے؟ بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔ تو جیسے دیکھیے یہاں پر اشارہ رکوع اور سجدے کے قائم مقام ہو گیا، عدمِ قدرت میں اشارہ قائم مقام جیسے ہو جاتا ہے، تو جب ایک شخص عربی قرأت پر قادر ہی نہیں ہے تو اس کے لیے بھی معنی کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟ نماز ادا کر سکتا ہے، وہ معنی فارسی زبان میں وہ ادا کر دے گا تو اس کی نماز ہو جائے گی، یہ اس کے قائم مقام ہو جائے گا، لیکن یہ کس وجہ سے؟ کیونکہ وہ اصل پر قادر نہیں، اصل تو یہ تھا جیسے وہ بیمار ہے، اصل تو یہ تھا وہ کھڑے ہو کر قیام، رکوع اور سجدہ وغیرہ کرتا، لیکن عاجزی کی وجہ سے اس کو اشارے کی اجازت دے دی گئی، اشارہ اس کے قائم مقام۔ یہاں پر بھی اصل تو یہ ہے کہ عربی زبان میں قرأت کرے، لیکن اگر عاجز ہے تو پھر کیا کر دے؟ اسی معنی کو ادا کر دے تو یہ اس کے قائم مقام ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّ عِنْدَ الْعَجْزِ يُكْتَفَى بِالْمَعْنَى كَالْإِيمَاءِ“ مگر یہ کہ عاجز ہوتے وقت وہ نماز پڑھنے والا اکتفاء کر لے گا معنی پر جیسے اشارہ کرنا ہے، ”بِخِلَافِ التَّسْمِيَةِ“ بخلاف اللہ کا نام لینے یعنی وہ جو ذبیحہ پر ہے، وہ عاجزی کے بغیر بھی صحیح ہو جائے گا، کیوں؟ ”لِأَنَّ الذِّكْرَ يَحْصُلُ بِكُلِّ لِسَانٍ“ کیونکہ ذکر وہ حاصل ہو جاتا ہے ہر زبان سے۔ قرآن میں بھی اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ“، اور تم اس چیز کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو، وہاں اللہ کا نام ذکر کرنے کا کہا گیا ہے اور اللہ کا نام تو کسی بھی زبان میں ذکر کر دیا جائے تو اللہ کا نام ذکر ہو گیا تو ذبیحہ کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا۔ تو اس میں عربی ہونے کی شرط نہیں ہے، اس میں صرف اللہ کا نام ذکر کرنا ضروری ہے جو کسی بھی زبان میں ہو جائے، جبکہ یہاں پر قرأت وغیرہ میں ایسا نہیں ہے، اس میں عاجز ہوتے وقت تو گنجائش ہوگی، اگر عاجز نہیں تو پھر گنجائش نہیں۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ﴾“ اب امام صاحب کی دلیل آئی، امام صاحب کی دلیل جو ہے: اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے اور یہ قرآن، ہا ضمیر کس کو راجع؟ ہا ضمیر راجع قرآن کو، اور یہ قرآن جو ہے پہلے پہلوں کی کتابوں میں تھا۔ زبر جمع ہے زبور کی، اور زبور کہتے ہیں کتاب کو، یہ قرآن جو ہے پہلوں کی کتابوں میں ہے یعنی ان کی کتابوں میں تھا بھئی، یعنی پہلے جو کتابیں دی گئیں تورات ہے، زبور ہے، انجیل وغیرہ، تو ان میں یہ قرآن تھا بھئی، ان میں بھی یہ قرآن ہے یعنی اس میں جو باتیں کی گئی ہیں وہ اس میں موجود ہیں۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ آیت ہے ”وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ“ کہ یہ قرآن پہلے لوگوں کی کتابوں میں ان کے صحیفوں میں موجود ہے۔ اور بھئی جو پہلی کتابیں تھیں وہ تو عربی زبان میں تھیں ہی نہیں، اور اللہ کیا فرما رہے ہیں یہ قرآن ان میں ہے، معلوم ہوا وہاں لفظ نہیں تھے ذکر، کیونکہ یہ لفظ تو عربی کے ہیں، وہاں معلوم ہوا معنی تھا، کیا تھا؟ معلوم ہوا قرآن معنی کا نام ہے، لفظوں کا نام نہیں، یہ امام صاحب کی دلیل ہے۔
”وَلَمْ يَكُنْ فِيهَا بِهَذِهِ اللُّغَةِ، وَلِهَذَا يَجُوزُ عِنْدَ الْعَجْزِ“ اور ان کتابوں کے اندر تو اس زبان میں یعنی عربی زبان میں نہیں تھا، اور اسی وجہ سے عاجزی کے وقت جائز ہے۔ اسی وجہ سے صاحبین کے نزدیک بھی جو عاجز ہے وہ کیا کر سکتا ہے؟ فارسی وغیرہ میں قرأت، دیکھو معلوم ہوا فارسی میں پڑھ رہا ہے، یہاں تو صرف وہ معنی ادا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی آپ کہتے ہیں ادا ہو جائے گی اس کی نماز یعنی اس نے قرأت کر لی، تو معلوم ہوا قرآن کس چیز کا نام ہے؟ معنی کا نام ہے، جبھی آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ معنی ادا ہو گیا۔ ”وَلِهَذَا يَجُوزُ عِنْدَ الْعَجْزِ، إِلَّا أَنَّهُ يَصِيرُ مُسِيئًا لِمُخَالَفَةِ السُّنَّةِ الْمُتَوَارَثَةِ“ اسی وجہ سے جائز ہے عاجزی کے وقت، مگر یہ کہ وہ شخص جو ہے وہ برا عمل کرنے والا ہے، را کے نیچے کسرہ پڑھیں بھئی، وہ سنت جس پر بتواتر عمل ہوتا چلا آیا ہے، اس کی مخالفت کرنے کی وجہ سے۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ دلیل ان کی کیا ذکر ہوئی کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”إِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ“، کہ یہ قرآن پہلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا اور وہ کتابیں تو عربی میں نہیں تھیں، تو معلوم ہوا ان میں قرآن تھا لیکن وہ عربی زبان میں نہیں، اس سے پتہ چلا کہ قرآن صرف کس چیز کا نام ہے؟ معنی کا، اور اسی وجہ سے تو آپ کہتے ہیں کہ اگر جو عربی پر قادر نہ ہو فارسی زبان میں معنی ادا کر دے گا تو اس کی نماز ہو جائے گی، معلوم ہوا آپ کے نزدیک بھی قرآن صرف کس چیز کا نام ہے؟ معنی کا، کیونکہ فارسی میں تو لفظ ادا نہیں ہو رہے، صرف کیا ادا ہو رہا ہے؟ صرف معنی ادا ہو رہا ہے، تو لہٰذا اسی لیے فارسی میں کوئی قرأت کرتا ہے اس کی نماز ہو جائے گی مگر یہ کہ وہ گناہ گار ہوگا، برا عمل کرنے والا ہے بوجہ مخالفت کرنے اس سنت کے جس پر عمل ہوتا چلا آیا ہے۔
”وَيَجُوزُ بِأَيِّ لِسَانٍ كَانَ سِوَى الْفَارِسِيَّةِ، هُوَ الصَّحِيحُ، لِمَا تَلَوْنَا“ آگے یہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ امام صاحب سے تو صرف فارسی کے بارے میں ذکر ہے کہ صرف فارسی میں صحیح ہے یا اور زبانوں میں بھی صحیح ہے، تو بعضوں نے کہا نہیں صرف فارسی میں اجازت دی ہے امام صاحب فرماتے ہیں اس میں جائز ہے، باقی کسی اور زبان میں جائز نہیں۔ لیکن بتلائیں گے کہتے ہیں نہیں صحیح قول یہ ہے کہ جس زبان میں بھی قرأت کرنا چاہے کیا کر سکتا ہے؟ قرأت کر سکتا ہے، کیونکہ معنی ہر زبان میں اسی طرح ادا ہوگا جس طرح کس میں ادا ہوتا ہے؟ فارسی میں۔ اور جائز ہے جس لسان میں بھی ہو فارسی کے علاوہ، یہی قول صحیح ہے اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی بھئی، کیونکہ قرآن پچھلے لوگوں کے صحیفوں میں ان کی کتابوں میں تھا اور وہ کتابیں تو فارسی زبان میں بھی نہیں ہیں، وہ تو اور زبانیں ہیں بھئی، تو معلوم ہوا فارسی کے علاوہ اور زبان میں بھی جائز ہے، اور میں نے بتلایا کہ امام صاحب نے پھر رجوع کیا کس کی طرف؟ صاحبین کے قول کی طرف۔ ہاں عاجز ہے وہ جس زبان میں بھی کرنا چاہے وہ لیکن نفسِ ترجمہ ہونا چاہیے، تفسیر وغیرہ نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ اور یہ بھی نہیں کہ اسی زبان پر پھر اکتفاء کر لے، نہیں، جب تک وہ فاتحہ وغیرہ کی قرأت بقدرِ ضرورت سیکھ نہیں لیتا تب تک کیا کر لے؟ اس کے لیے وہ اس میں کر سکتا ہے۔
اور یہاں آیا ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک لفظ آتا ہے ”أَصَحُّ“ اور ایک ہے ”صَحِيحٌ“، کس میں قوت زیادہ؟ صحیح میں قوت زیادہ ہے، اس لیے کیونکہ جب کہا یہی قول صحیح ہے معلوم ہوا دوسرا قول غیر صحیح ہے، وہ صحیح نہیں۔ لیکن جب کہا یہی قول اصح ہے، زیادہ صحیح ہے، معلوم ہوا یہ زیادہ صحیح ہے تو اس کے مقابلے میں کوئی صحیح قول بھی موجود ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
”وَالْمَعْنَى لَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ اللُّغَاتِ، وَالْخِلَافُ فِي الِاعْتِدَادِ، وَلَا خِلَافَ فِي أَنَّهُ لَا فَسَادَ“ اور معنی وہ تو بدلتا نہیں ہے زبانوں کے بدلنے سے، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک جو ان کا پہلا قول تھا اس کے مطابق امام صاحب کے نزدیک فارسی میں قرأت جائز ہے، صاحبین کے نزدیک فارسی میں قرأت جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں اختلاف اس کے معتبر ہونے میں ہے، مفسدِ صلاۃ ہونے میں کہ نماز کے لیے مفسد ہے یا مفسد نہیں، تو اس میں بالاتفاق مفسد نہیں، اگر کوئی شخص کیا کر لیتا ہے؟ ایک شخص عربی زبان پر قادر بھی ہے اور پھر وہ فارسی ترجمہ سورۂ فاتحہ کا پڑھ لیتا ہے تو اس پر تو اتفاق ہے نماز فاسد نہیں ہوگی، اس میں نہیں اختلاف، نماز فاسد نہیں۔ کہ اس کی وجہ سے فساد نہیں ائے گا اس میں کوئی اختلاف نہیں، صاحبین بھی فرماتے ہیں ہاں نماز فاسد نہیں ہوگی کیونکہ ادھر ادھر کی کوئی بات اس نے نہیں کی بلکہ وہی قرآن کا معنی پڑھا ہے اس نے۔ ہاں اس سے قرأت والا فرض ادا ہو گیا یا نہیں، معتبر ہے کہ معتبر نہیں، اس میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک یہ معتبر ہے، اس کا فرضِ قرأت ادا ہو گیا۔ صاحبین کے نزدیک فرضِ قرأت ادا نہیں ہوا۔ تو معتبر ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہے اور باقی اس کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی، اس میں کوئی اختلاف نہیں، بالاتفاق نماز فاسد نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اختلاف جو ہے اس کے معتبر ہونے میں ہے یعنی اس کو شمار کرنے میں ہے کہ اس کو شمار کیا جائے گا یا شمار نہیں کیا جائے گا، اور اس بات میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ اس میں فساد نہیں یعنی اس سے نماز فاسد نہیں، صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ نماز فاسد نہیں ہوگی۔
”وَيُرْوَى رُجُوعُهُ فِي أَصْلِ الْمَسْأَلَةِ إِلَى قَوْلِهِمَا، وَعَلَيْهِ الِاعْتِمَادُ“ اور روایت کیا گیا ہے امام صاحب کا رجوع کرنا اصل مسئلہ کے اندر یعنی قرأت والے مسئلہ میں صاحبین کے قول کی طرف، اور اسی پر کیا ہے؟ اسی پر اعتماد ہے، اسی قول پر اعتماد کیا جاتا ہے یعنی اسی پر فتویٰ ہے جو امام صاحب کا دوسرا قول ہے جو صاحبین کا قول ہے جس کی طرف امام صاحب نے رجوع کیا تھا، اسی پر اعتماد ہے۔ معلوم ہوا احناف کا مذہب کیا ہے؟ ایک شخص اگر عربی زبان پر قادر ہے تو اس کے لیے فارسی میں قرأت کہنا جائز نہیں ہے، اگر کہے گا تو فرض ادا نہیں ہوگا اور فرض نہ ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔
”وَالْخُطْبَةُ وَالتَّشَهُّدُ عَلَى هَذَا الِاخْتِلَافِ“ اور خطبہ اور تشہد بھی اسی اختلاف پر ہیں۔ یعنی خطبہ جو عیدین کا خطبہ ہے یا جمعہ کا خطبہ ہے، امام صاحب کے نزدیک عربی پر قدرت کے باوجود اور زبانوں میں جائز ہے، صاحبین کے نزدیک جائز نہیں۔ اسی طرح تشہد میں اختلاف بھی ہے، امام صاحب کے نزدیک اور زبانوں میں جائز ہے، صاحبین کے نزدیک جب عربی پر قادر ہو تو اور زبانوں میں جائز نہیں۔ خطبہ اور تشہد بھی اسی اختلاف پر ہیں۔
”وَفِي الْأَذَانِ يُعْتَبَرُ التَّعَارُفُ“ اور اذان کے اندر تعارف معتبر ہے یعنی جس طرح لوگوں میں متعارف ہو۔ اذان عربی ہی میں دی جائے گی یا کسی اور زبان میں بھی دی جا سکتی ہے؟ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ تعارف یعنی تعارف معتبر ہے، لوگوں میں جس طرح معروف ہو، رائج ہو بھئی۔ یعنی اگر ایک علاقے کے اندر فارسی زبان میں اذان دی جاتی ہے تو وہاں فارسی میں اذان دی جائے تو اذان کی سنت ادا ہو جائے گی بھئی، اذان کی سنت۔ اور ایک علاقے میں عادت نہیں ہے اس کی، عربی ہی میں اذان دی جاتی ہے، وہاں تو اگر کوئی فارسی میں اذان دے گا بھی تو سارے حیران ہوں گے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے بھئی، کیا کہنا چاہتا ہے، تو جہاں متعارف نہیں کوئی اس کو اذان سمجھے گا ہی نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس میں عرف کو دیکھا جائے گا۔
”وَإِنِ اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ بِـ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، لَا تَجُوزُ“ اور اگر آغاز کیا نماز کا ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي“، اے اللہ میری مغفرت فرما دے، پھر جائز نہیں۔ اب دیکھیے یہ عربی زبان میں ہی کہہ رہا ہے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي“، اور امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ کہ کوئی بھی عربی کا ایسا لفظ جو تعظیم پر دلالت کر رہا ہو اس کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز ہے، لیکن ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں اس سے جائز نہیں۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں بھئی ایسا لفظ ہونا چاہیے جس میں اللہ کی عظمت بیان تو ہو لیکن ساتھ بندے کی طرف سے کوئی سوال وغیرہ نہ ہو، کچھ مانگنا نہ پایا جائے، یہاں تو ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي“ وہ مانگ رہا ہے، سوال کر رہا ہے، کس چیز کا سوال کر رہا ہے؟ اپنی مغفرت کا سوال کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں ”لَا تَجُوزُ لِأَنَّهُ مَشُوبٌ بِحَاجَتِهِ، فَلَمْ يَكُنْ تَعْظِيمًا خَالِصًا“ پھر جائز نہیں ہے، مشوب کا معنی ملا ہوا ہونا، مخلوط ہونا، اس لیے کیونکہ یہ لفظ جو ہے یہ ملا ہوا ہے اس نمازی کی حاجت کے ساتھ، اس میں تو وہ اپنی حاجت بیان کر رہا ہے، اللہ سے درخواست کر رہا ہے مغفرت کی، تو یہ خالص تعظیم نہ ہوئی، ایسا لفظ ذکر ہو جس میں کیا ہو؟ خالص تعظیم ہو۔
”وَإِنِ اسْتَفْتَحَ بِقَوْلِهِ: اللَّهُمَّ، فَقَدْ قِيلَ: يُجْزِيهِ، لِأَنَّ مَعْنَاهُ: يَا اللهُ“ اور اگر افتتاح کیا نماز کا صرف ”اللَّهُمَّ“ کے ساتھ تو تحقیق کہا گیا ہے یہ کافی ہو جائے گا اس لیے کیونکہ اس کا معنی ہے ”يَا اللهُ“۔ ”اللَّهُمَّ“ کا کیا معنی ہے؟ ”يَا اللهُ“، اے اللہ۔ اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ ”يَا اللهُ“ بھی اگر شروع میں کہہ دے گا تو نماز جائز ہو جائے گی، اگرچہ مکروہ ہے لیکن نماز کیا ہے؟ ہو جائے گی۔ کیونکہ دلیل کیا ذکر کر رہے ہیں؟ بعض علماء فرماتے ہیں ”اللَّهُمَّ“ کے ساتھ بھی نماز جائز ہو جائے گی کیونکہ ”اللَّهُمَّ“ کا کیا معنی ہے؟ ”يَا اللهُ“، معلوم ہوا ”يَا اللهُ“ سے نماز ہوتی ہے جبھی تو کہہ رہے ہیں ”اللَّهُمَّ“ سے بھی نماز ہو جائے گی کیونکہ یہ بھی کس معنی میں ہے؟ ”يَا اللهُ“ کے معنی میں ہے۔
”وَقَدْ قِيلَ: لَا يُجْزِيهِ، لِأَنَّ مَعْنَاهُ: يَا اللهُ، أُمَّنَا بِخَيْرٍ، فَكَانَ سُؤَالًا“ اور تحقیق کہا گیا ہے کہ جائز نہیں ہوگی، اس سے ”اللَّهُمَّ“ کے ساتھ نماز نہیں ہوگی اس لیے کیونکہ اس کا معنی ہے ”يَا اللهُ، أُمَّنَا بِخَيْرٍ“، أمّ يؤمّ کے معنی ارادہ کرنے کے، اے اللہ آپ ہمارا ارادہ خیر کے ساتھ فرمائیے یعنی ہمارے ساتھ خیر والا معاملہ فرمائیے بھئی، تو یہ کیا ہوا؟ سوال ہوا، یہ تو اللہ سے سوال کر رہا ہے، دعا کر رہا ہے، اور ہم نے کہا تھا کہ خالص تعظیم والا لفظ ہونا چاہیے سوال نہیں ہونا چاہیے۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک ”اللَّهُمَّ“ کے ساتھ تحریمہ ادا نہیں ہوگی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔