وَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَتَحَرَّى الْقِبْلَةَ وَصَلَّى إِلَى الْمَشْرِقِ وَتَحَرَّى مَنْ خَلْفَهُ فَصَلَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ إِلَى جِهَةٍ وَكُلُّهُمْ خَلْفَهُ وَلَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ الْإِمَامُ أَجْزَأَهُمْ۔
نماز کی شرائط بیان ہو رہی ہیں، اور شرائط میں سے آخری شرط جو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی وہ استقبالِ قبلہ ہے، کہ نماز پڑھنے والے کے لیے فرض ہے کہ اس کا رخ کس طرف ہونا چاہیے؟ قبلے کی طرف ہونا چاہیے، یہ شرط ہے بھئی۔
اور گزشتہ سبق کے آخر میں یہ ذکر ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص ایسی جگہ پر ہو جہاں قبلے کی سمت کا اس کو پتہ نہیں ہے اور کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے، تو اس کو تحری کرنی چاہیے بھئی، یعنی خود غور و فکر کرے کہ قبلہ کس طرف ہوگا، اور پھر یہ تحری کے بعد جو ذہن جس طرف بتلا دے کہ فلاں طرف قبلہ ہوگا، تو یہ تحری ہے، اور پھر اس کے مطابق عمل کرے اور اس رخ پر نماز پڑھ لے، اور بعد میں اگر پتہ چل بھی جائے کہ نماز تو اس نے صحیح رخ پر نہیں پڑھی، تو بھی نماز صحیح ہو گئی، اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں بھئی۔
اور اگر نماز کے اندر ہی کسی نے اس کو بتایا کہ قبلہ فلاں طرف ہے، تو یہ اس طرف کو گھوم جائے اور اسی قبلے کی طرف اپنا رخ کر لے نماز کے اندر ہی۔ اسی طرح اگر نماز کے اندر اس کی تحری بدل گئی، اس کا غالب گمان اب یہ ہوا کہ دوسری طرف، اس طرف کو ہے قبلہ، تو اس طرف کو گھوم جائے اور اس طرف رخ کر کے اب نماز پڑھے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اب آئندہ زمانے میں، مستقبل کے اندر اس کے لیے اس نئی تحری پر، یعنی یہ جو نیا اجتہاد ہوا، اس پر اس کے لیے عمل واجب ہو گیا۔ اب اگر وہ تاخیر کرتا ہے اور اسی پہلی سمت پر ہی نماز پڑھتا ہے تو اب نماز نہیں ہوگی بھئی۔ تو اس دوسری تحری پر عمل کیا ہوا؟ واجب ہوا، تو یہ پہلی تحری کے لیے ناسخ کے درجے میں ہے، گویا وہ کیا ہو گئی؟ منسوخ ہو گئی، یعنی اس کا حکم منسوخ ہو گیا۔ اور اگر اس نے تاخیر کی تو اس کی نماز نہیں ہوگی، کتنی تاخیر سے نہیں ہوگی؟ تو علماء لکھتے ہیں، فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر تین مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ کہنے کی مقدار تک اس نے اپنا رخ اس نئی تحری والی جانب نہ بدلا تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ اس سے پہلے بدل لیا تو نماز نہیں ٹوٹے گی، صحیح ہو جائے گی۔
اب صورت ذکر کر رہے ہیں کہ کچھ افراد تھے اور تاریک رات کے اندر انہوں نے ایک مقام پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔ اب اتنی تاریکی ہے کہ کوئی شخص کسی کو دکھائی نہیں دے رہا، پتہ نہیں چل رہا، اور ہر ایک نے اپنی تحری کے مطابق عمل کیا بھئی، ہر ایک نے اپنی تحری کے مطابق عمل کیا کہ قبلہ اس طرف ہوگا۔ تو یاد رکھیے، اس صورت میں مثلاً امام کی تحری کسی اور طرف ہے، اس کا رخ کسی اور طرف ہے، باقیوں کا رخ دوسری طرف ہے، تو اس صورت میں نماز ٹھیک ہو جائے گی بھئی، سب کی نماز صحیح ہو جائے گی بشرطیکہ کہ کسی کی پشت امام کی طرف نہ ہو، یعنی امام کے چہرے کی طرف، کسی کی پشت امام کے چہرے کی طرف نہ ہو بھئی، بس، باقی جس طرف بھی جس کا رخ ہے نماز ہو جائے گی بھئی، نماز ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
وَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، اور جس نے امامت کی کچھ لوگوں کی فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، تاریک رات میں، اندھیری رات میں، فَتَحَرَّى الْقِبْلَةَ، تو اس جس نے امامت کی ہے اس نے تحری کی قبلے کی، وَصَلَّى إِلَى الْمَشْرِقِ، اور نماز پڑھی مثلاً مشرق کی طرف رخ کر کے، اس طرف اس کی تحری واقع ہوئی۔ وَتَحَرَّى مَنْ خَلْفَهُ، اور انہوں نے بھی تحری کی جو اس کے پیچھے تھے، فَصَلَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ إِلَى جِهَةٍ، تو ان میں سے ہر ایک نے ایک رخ پر نماز پڑھ لی، وَكُلُّهُمْ خَلْفَهُ، اس حال میں کہ وہ سب اس کے پیچھے ہیں، وہ سب کیا ہیں؟ اس کے پیچھے۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ کسی کی پشت امام کے چہرے کی طرف نہ ہو، یعنی امام سے آگے نہ ہو، امام سے آگے نہ، اسی لیے انہوں نے قید بڑھائی: وَكُلُّهُمْ خَلْفَهُ، اس حال میں کہ وہ سب اس کے پیچھے ہیں، وَلَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ الْإِمَامُ، اور ان کو علم نہیں ہے کہ امام نے کیا کیا ہے، یعنی امام نے کس طرف رخ کیا ہے۔ امام نے؟ ہاں، یہ قید اس کا بھی اعتبار ضروری ہے کہ ان کو علم نہیں ہے۔ اب وہ کوئی کس طرف رخ ہے، کسی کا کس طرف رخ ہے، کوئی ایک صورت کوئی ایسی جگہ جہاں کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا، اتنی تاریکی ہے بھئی۔ تو أَجْزَأَهُمْ، تو یہ ان کے لیے کافی ہو جائے گا بھئی، یہ ان کے لیے کافی ہو جائے گا یعنی ان کی نماز ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ ان کو امام کا علم نہیں ہے کہ امام کا رخ کس طرف کو ہے تو ہر ایک پھر اپنی تحری پر عمل کرتا ہے۔ اور اگر امام کا ان کو پتہ چل رہا ہے، امام کا ایک طرف کو رخ ہے، اور ان کی تحری یہ ہے کہ قبلہ دوسری طرف کو ہے، تو پھر ان کی نماز نہیں ہوگی اس کے پیچھے، کیونکہ ان کا اعتقاد تو کیا ہوا؟ امام غلط پڑھ رہا ہے، غلط رخ پر نماز پڑھ رہا ہے، تو لہٰذا اس کی اقتداء ان کے لیے کرنا صحیح ہی نہیں، تو اس صورت میں پھر علیحدہ ہی اپنی نماز پڑھنا بہتر ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: وَلَا يَعْلَمُونَ مَا صَنَعَ الْإِمَامُ أَجْزَأَهُمْ، اور وہ نہیں جانتے کہ امام نے کیا کیا ہے، أَجْزَأَهُمْ تو یہ ان کے لیے کافی ہے، لِوُجُودِ التَّوَجُّهِ إِلَى جِهَةِ التَّحَرِّي، اس وجہ سے کہ تحری کی جہت پر جو ہے توجہ پائی گئی ہے، ہر ایک نے اپنی تحری کی طرف توجہ کی ہے۔ وَهَذِهِ الْمُخَالَفَةُ غَيْرُ مَانِعَةٍ كَمَا فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، اور یہ مخالفت جو ہے امام کی یہ مانع نہیں، یعنی اقتداء کے صحیح ہونے سے یہ مانع نہیں، كَمَا فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، جیسے خانہ کعبہ کے اندر بھئی، خانہ کعبہ کے اندر جیسے، بھئی بیت اللہ سے باہر نماز پڑھیں تو رخ بیت اللہ کی طرف، خانہ کعبہ کی طرف کرنا ضروری ہے، اور بیت اللہ کے اندر جو نماز پڑھنا چاہتا ہے تو وہ جس طرف کو بھی رخ کرنا چاہے بھئی، بیت اللہ کی جس جانب کی دیوار کی طرف بھی رخ کرنا چاہے رخ کر سکتا ہے۔ اب بیت اللہ کے اندر اگر کوئی امامت کرواتا ہے اور کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں تو وہ جس طرف بھی رخ کر لیں ان کی نماز ہو جائے گی، نماز ہو جائے گی بشرطیکہ وہ امام کے پیچھے ہوں بھئی، کیونکہ جس طرف بھی رخ کریں گے اس طرف بیت اللہ کی دیواریں ہیں بھئی، بشرطیکہ پیچھے ہوں امام کے، یعنی جس دیوار کی طرف امام کا رخ ہے اس دیوار کی طرف کوئی امام سے زیادہ قریب نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جیسے وہاں جائز تھا یہاں بھی اسی طرح سب کے لیے جائز ہے بھئی، یہ مخالفت اقتداء کے مانع نہیں بھئی۔
وَمَنْ عَلِمَ مِنْهُمْ بِحَالِ إِمَامِهِ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ، اور جس نے جان لیا ان لوگوں میں سے امام کے حال کو تَفْسُدُ صَلَاتُهُ، اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ اندھیری رات ہے، سب نماز پڑھ رہے ہیں، ہر ایک امام کے حال کا پتہ ہی نہیں ہے کسی کو، تو ہر ایک کیا کر رہا ہے؟ اپنی اپنی تحری پر عمل کر رہا ہے۔ اب ان میں سے جس کو امام کے حال کا پتہ چل گیا اور امام کا رخ اس کی تحری کے رخ پر نہیں ہے، تو اس شخص کی نماز فاسد ہو جائے گی، اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد، یعنی اس کے لیے اقتداء صحیح نہ رہے گی بھئی، اس لیے کیونکہ جب جان لیا تو پتہ لگ گیا امام کا رخ تو دوسری طرف کو ہے، اور اس کی تحری تو ہے مثلاً کہ قبلہ ہے شمال کی طرف اور امام تو کس رخ پر نماز پڑھ رہا ہے؟ مشرق کی طرف، تو اس نے کیا اعتقاد کیا کہ امام غلط رخ پر نماز پڑھ رہا ہے، جب غلط رخ پر پڑھ رہا ہے تو اس کے لیے اس کی اقتداء صحیح نہیں، جب اقتداء صحیح نہیں تو اس کی نماز اس کے پیچھے صحیح نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے جس نے جان لیا ان میں سے امام کے حال کو، اپنے امام کے حال کو، تَفْسُدُ صَلَاتُهُ، اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، لِأَنَّهُ اعْتَقَدَ إِمَامَهُ عَلَى الْخَطَإِ، اس لیے کیونکہ اس نے اعتقاد کر لیا اپنے امام کے غلطی پر ہونے کا، کہ اس کا امام کس پر ہے؟ غلطی پر ہے۔ وَكَذَا لَوْ كَانَ مُتَقَدِّمًا عَلَى الْإِمَامِ، اور اسی طرح اگر وہ مقدم ہوا امام پر، امام کا پتہ چلا اور اندازہ ہوا کہ میں تو امام سے آگے ہوں بھئی، تو بھی اس کی نماز نہیں، کیوں نہیں ہوگی؟ کہتے ہیں: لِتَرْكِهِ فَرْضَ الْمَقَامِ، اس لیے کیونکہ اس نے مقام کے فرض کو چھوڑ دیا، اس کا تو فرض کیا تھا؟ پیچھے کھڑا ہو کیونکہ اقتداء کر رہا ہے، تو لہٰذا اس نے اپنے مقام کے فرض کو چھوڑ دیا تو لہٰذا اس کی نماز نہیں ہوئی، کیونکہ جب اقتداء کر رہا ہے تو اس کے لیے پیچھے ہونا ضروری ہے، اس سے آگے ہونا اس کے لیے جائز نہیں بھئی۔
بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ۔
فَرَائِضُ الصَّلَاةِ سِتَّةٌ: التَّحْرِيمَةُ۔
بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ، یہ باب ہے نماز کی صفت کے بارے میں، یعنی نماز کی کیفیت کے بارے میں، نماز کی ہیئت کے بارے میں، یعنی کس کیفیت پر نماز ادا کی جائے گی، نماز پڑھنے کا کیا طریقہ ہے وہ اس میں بیان ہوگا بھئی۔ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ، یہ باب ہے نماز کی صفت کے بیان میں، یعنی اس کی کیفیت کے بیان میں، فَرَائِضُ الصَّلَاةِ سِتَّةٌ، تو بھئی اب تک تو شرائطِ صلاۃ ذکر ہو رہی تھیں تو اب مقصود شروع ہو گیا، طہارت وغیرہ بھی بیان ہو گئی اور نماز کی شرطیں بھی بیان ہو گئیں، اب نماز کا ذکر شروع ہوا بھئی۔
تو کہتے ہیں: فَرَائِضُ الصَّلَاةِ سِتَّةٌ، نماز کے فرائض چھ ہیں: التَّحْرِيمَةُ، نمبر ایک کیا ہے؟ تحریمہ ہے، تکبیرِ تحریمہ بھئی، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ}، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر، {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} اپنے رب کی بڑائی بیان کر، اور یہاں پر "كَبِّرْ" امر کا صیغہ آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، تو معلوم ہوا تکبیرِ تحریمہ واجب ہے، فرض ہے بھئی۔ وَالْمُرَادُ بِهِ تَكْبِيرَةُ الِافْتِتَاحِ، اور اس سے مراد افتتاح کی تکبیر ہے، نماز شروع کرنے کی تکبیر ہے، اس لیے کیونکہ بالاجماع اس کے علاوہ اور کوئی تکبیر واجب نہیں ہے، معلوم ہوا یہی تکبیر مراد ہے۔ تو معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
بھئی، نماز کے فرائض ذکر ہو رہے ہیں بھئی، نماز کے فرائض، اور گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے رکنِ شے اور ایک ہے شرطِ شے، شرطِ شے، شے سے خارج ہوتی ہے، رکنِ شے، شے کا جو رکن ہوتا ہے وہ اس کے اندر داخل ہوتا ہے، تو یہ تکبیرِ تحریمہ یہ نماز کے لیے میں نے آپ کو بتلایا تھا شرط ہے، نماز کے اندر داخل نہیں عِنْدَ الْأَحْنَافِ بھئی، احناف کے نزدیک یہ نماز کے اندر داخل نہیں بلکہ یہ نماز کے لیے شرط ہے، لیکن اس کو نماز کے ارکان کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ اس کا اتصال نماز کے ساتھ بڑا قوی ہے، تکبیرِ تحریمہ کی جیسے ہی "را" تک، اللهُ أَكْبَرُ آپ نے کہا اور "را" کا لفظ جیسے ہی مکمل ہوا ساتھ ہی نماز شروع ہو گئی، ساتھ ہی نماز کیا ہوئی؟ شروع، تو چونکہ اس کا اتصال نماز کے ساتھ بڑا شدید ہے لہٰذا اس، اور نیز اس کے لیے وہی شرطیں ہیں جو نماز کے لیے شرطیں ہیں، اس میں بھی استقبالِ قبلہ ضروری، اس میں بھی قیام ضروری، اس کے اندر بھی سترِ عورت ضروری، اس کے اندر بھی طہارت وغیرہ ضروری، تو اس کا چونکہ اتصال بڑا قوی ہے اور اس کے لیے وہی شرطیں ہیں اس لیے اس کو کس میں، ساتھ ذکر کرتے ہیں؟ نماز کے ارکان کے ساتھ ذکر کرتے ہیں لیکن یہ ہے، رکنِ صلاۃ نہیں۔ اسی لیے صاحبِ قدوری نے کہا: فَرَائِضُ الصَّلَاةِ سِتَّةٌ، نماز کے فرائض چھ ہیں، ارکان نہیں کہا کیونکہ تحریمہ تو ارکان میں سے نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: فَرَائِضُ الصَّلَاةِ سِتَّةٌ: التَّحْرِيمَةُ، نماز کے فرائض چھ ہیں، ایک تحریمہ ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر، وَالْمُرَادُ بِهِ تَكْبِيرَةُ الِافْتِتَاحِ، اور اس سے مراد نماز کے شروع کی تکبیر ہے۔ وَالْقِيَامُ، اور دوسرا فرض کیا ہے؟ قیام، کھڑے ہونا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ}، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} اور تم لوگ کھڑے ہو اللہ کے لیے فرماں برداری کرتے ہوئے، یا تم لوگ کھڑے ہو اللہ کے لیے خشوع کرتے ہوئے یعنی عاجزی کرتے ہوئے۔ تو یہاں دیکھیے "قُومُوا" امر آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، کہ چیز معلوم ہوا فرض ہے، تو معلوم ہوا قیام فرض ہے۔ وَالْقِرَاءَةُ، اور قراءت بھئی، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ}، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} پس تم پڑھو وہ جو آسان ہو قرآن میں سے، یعنی جو میسر ہو کس میں سے؟ قرآن میں سے، جو بھی میسر ہو جو بھی پڑھنا چاہو قرآن میں سے وہ پڑھ سکتے ہو، تو "فَاقْرَءُوا" امر آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، معلوم ہوا قراءت فرض ہے بھئی، تو قیام بھی فرض اور قراءت بھی فرض کیونکہ امر کے صیغے آ رہے ہیں، اور بالاجماع نماز سے باہر تو کوئی قیام فرض نہیں، نماز سے باہر تو کوئی قراءت فرض نہیں، معلوم ہوا یہ کون سی قراءت ہے؟ نماز کی قراءت اور اس میں نماز کا قیام ذکر ہو رہا ہے۔
وَالرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ، اور اسی طرح رکوع کرنا اور سجدہ کرنا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا}، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا} اور تم رکوع کرو اور سجدہ کرو، تو یہاں بھی امر کے صیغے آئے اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، معلوم ہوا یہ بھی فرض ہیں۔ وَالْقَعْدَةُ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، اور قعدہ جو ہے یعنی بیٹھنا نماز کے آخر میں تشہد کی مقدار، بھئی نماز کے آخر میں جو ہم التحیات کے لیے بیٹھتے ہیں یہ فرض ہے فرض۔ کتنی مقدار؟ کہتے ہیں: تشہد کی مقدار یعنی جس میں تشہد پڑھا جاتا ہے اتنی مقدار بیٹھنا فرض ہے، اور تشہد کہاں تک؟ یعنی عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ تک بھئی، عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ تک یہاں اتنی مقدار بیٹھنا فرض ہے، تشہد پڑھنا فرض نہیں بلکہ بیٹھنا اتنی مقدار فرض ہے۔ دلیل اس کی کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ عَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ: ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے جو آپ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا جس وقت کہ آپ نے ان کو تشہد سکھایا، حضور علیہ السلام نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس وقت تشہد سکھایا تو اس وقت آپ نے فرمایا ان سے: ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“، جب تو نے یہ کہہ لیا یا یہ کر لیا تو تحقیق تیری نماز پوری ہو گئی۔ حضور، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تشہد سکھایا بھئی اور پھر کیا فرمایا؟ جب تو یہ کہہ لے یعنی یہ پڑھ لے، یا یہ کر لے یعنی تشہد کی اتنا یہ بیٹھ جائے، تو تحقیق تیری نماز پوری ہو گئی، تو حضور علیہ السلام نے: عَلَّقَ التَّمَامَ بِالْفِعْلِ، معلق کر دیا پورا ہونے کو یعنی نماز کے پورا ہونے کو بالفعل کس کے ساتھ؟ فعل، اس قعدے کے کرنے کے ساتھ معلق کر دیا نماز کے پورا ہونے کو، قَرَأَ أَوْ لَمْ يَقْرَأْ، چاہے قراءت اس میں یعنی یہ تشہد پڑھے یا نہ پڑھے، تشہد پڑھے یا نہ پڑھے۔
دلیل بھی سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ حضور علیہ السلام نے نماز کے پورا ہونے کو کس کے ساتھ معلق کیا؟ فعلِ قعدہ کے ساتھ، قعدے کا فعل کر لے یعنی وہ بیٹھ جائے اتنی دیر۔ بھئی کس طرح؟ حدیث میں تو آیا: ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا“، جب تو یہ تشہد پڑھ لے یا یہ کر لے یعنی اس میں اس کی یہ جو بیٹھنے والا عمل ہے تشہد کے لیے یہ عمل کر، پڑھ لے یا اس طرح کر لے تو تمہاری نماز کیا ہوئی؟ پوری۔ اس میں تو یہ تو نہیں آیا اس سے کہ تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض ہے، اس سے تو یہ پتہ چلا کہ یا تو تشہد کا پڑھنا فرض ہے یا اتنا بیٹھنا فرض ہے۔ سمجھ میں آ رہی ہے؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ حدیث سے تو کیا ثابت ہو رہا ہے؟ ان دو میں سے ایک چیز فرض ہے، جو بھی کر لے گا نماز کیا ہو جائے گی؟ پوری۔ پڑھ لے گا تو بھی نماز کیا ہو جائے گی؟ پوری۔ بیٹھ جائے گا، یہ فعل بیٹھنے کا کر لے گا تو بھی نماز کیا ہو جائے گی؟ معلوم ہوا ان دونوں میں سے ایک فرض ہے، دونوں فرض نہیں، نہیں بھئی، حدیث سے یہ پتہ نہیں چل رہا بلکہ حدیث سے یہ علم ہو رہا ہے کہ بیٹھنا فرض ہے، پڑھنا فرض نہیں۔ کس طرح؟ دیکھو بھئی، حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ جب تو یہ تشہد پڑھ لے یا یہ والا عمل کر لے یعنی بیٹھ جائے اتنی دیر، تو تیری تمہاری نماز کیا ہوئی؟ تو دیکھو، بعد میں کیا ذکر ہوا؟ جب تو یہ کر لے، اس میں فعل کا ذکر ہے یعنی بیٹھنے کا ذکر ہے، اور ماقبل میں کس کا ذکر ہے؟ پڑھنے کا، جب تو یہ پڑھ لے، اور جب پڑھے گا تو یہ بیٹھنا پایا جائے گا یا نہیں؟ پایا جائے گا۔ تو بیٹھنا دونوں صورتوں میں پایا جا رہا ہے، لیکن پڑھنا ایک صورت میں، اور اس میں بھی پڑھے یا دوسری صورت میں پڑھنا نہیں، پہلی صورت میں پڑھنے کا ذکر ہے دوسری صورت میں "أَوْ" کے بعد "فَعَلْتَ" کے اندر پڑھنے کا ذکر نہیں، معلوم ہوا پڑھنا فرض نہیں تشہد کا، لیکن بیٹھنا دونوں صورتوں میں آ رہا ہے۔ صرف اکیلے خالی بیٹھے تو بھی بیٹھنا تو پایا گیا، اور تشہد پڑھے تو بھی بیٹھنا تو پایا گیا، تو بیٹھنا دونوں صورتوں میں پایا جا رہا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ بیٹھنا اتنی دیر وہ فرض ہے، پڑھنا فرض نہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے صاحبِ ہدایہ کا کہ: عَلَّقَ التَّمَامَ بِالْفِعْلِ قَرَأَ أَوْ لَمْ يَقْرَأْ، حضور علیہ السلام نے نماز کے پورا ہونے کو معلق فرما دیا اس قعدے کے کرنے کے ساتھ، پڑھے یا نہ پڑھے یعنی تشہد پڑھے یا نہ پڑھے تو وہ فرض نہیں۔
قَالَ: وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ سُنَّةٌ، قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ سُنَّةٌ، اور اس کے علاوہ جو ہے تو وہ سنت ہے، یعنی یہ فرائض ہم نے ذکر کر دیے اس کے علاوہ نماز میں جو ہے وہ کیا ہے؟ سنت ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ نماز کے اندر فرائض کے علاوہ صرف سنتیں تو نہیں ہیں، بلکہ وہاں تو واجبات بھی ہیں بھئی، واجبات بھی ہیں، تو ان کو ذکر نہیں فرمایا صاحبِ قدوری نے، ان کو کیسے سنت کہہ دیا؟ وہ تو واجبات ہیں بھئی۔ تو جس کا جواب آگے صاحبِ ہدایہ بھی دیں گے بھئی کہ سنت سے مراد، سنت سے مراد وہ وہ قسم نہیں جو فرض اور واجب کے مقابلے میں آتی ہے۔ کسی چیز کے بارے میں ہم کہتے ہیں یہ فرض ہے، کسی چیز کے بارے میں ہم کہتے ہیں واجب ہے، کسی چیز کے بارے میں ہم کیا کہتے ہیں؟ یہ سنت، تو یہ سنت کس کے مقابلے میں ہے؟ فرض، واجب اور معلوم ہوا یہ فرض بھی نہیں، یہ واجب بھی نہیں، یہ نفل بھی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ سنت ہے، تو یہ ان کے مقابلے میں آتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سنت کا لفظ کبھی استعمال ہوتا ہے اور یہ وہ پانچ چھ قسموں میں سے ایک قسم ہے جو احکامِ شریعت کی ہم بیان پڑھتے ہیں کتابوں کے اندر: فرض ہے، واجب ہے، سنت ہے، مستحب ہے اور مباح ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وہ والی سنت مراد نہیں صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، بلکہ یہاں سنت سے مراد ہے: مَا ثَبَتَ بِالسُّنَّةِ، وہ چیز جو سنت سے ثابت ہو، تو اس کے علاوہ جو ہے وہ سنت سے ثابت ہے، اور واجبات بھی کس سے ثابت ہیں؟ سنت سے، یعنی حدیث سے، حضور علیہ السلام نے ان کو کیا ہے نماز کے اندر، تو اس میں واجب بھی داخل اور سنتیں وغیرہ بھی داخل اور مستحبات بھی داخل۔
تو کہتے ہیں: وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ سُنَّةٌ، اور اس کے علاوہ جو ہے تو وہ سنت ہے، أَطْلَقَ اسْمَ السُّنَّةِ وَفِيهَا وَاجِبَاتٌ، دیکھو پہلے اعتراض ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ صاحبِ قدوری نے اطلاق کیا سنت کے نام کا، یعنی اس نام کو بولا، اس کو اطلاق کیا، وَفِيهَا وَاجِبَاتٌ، اور حال یہ ہے کہ نماز میں تو واجبات بھی ہیں، كَقِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ، جیسے فاتحہ کا پڑھنا، بھئی یاد رکھیے، عِنْدَ الْأَحْنَافِ قرآن کی ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں یہ پڑھنا نماز میں فرض ہے، تو یہ آیت کوئی بڑی آیت پڑھ لے یا تین چھوٹی آیتیں پڑھ لے تو فرض ادا ہو جائے گا، لیکن بالخصوص فاتحہ ہی کو پڑھنا یہ واجب ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ واجب ہے، اور آپ جانتے ہیں فرض چھوٹ جائے تو نماز ہوگی ہی نہیں، اور اگر واجب چھوٹ جائے تو پھر اس کے چھوٹ جائے تو وہ سجدۂ سہو کرنے سے نماز ہو جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ انہوں نے آپ کا حاشیہ دیکھ لیجیے ذرا بڑا قیمتی حاشیہ، نمبر سولہ ہے بھئی میری کتاب میں، سولہ نمبر حاشیہ۔ وہ کہتے ہیں واجبات، قَوْلُهُ وَاجِبَاتٌ، اَلْمُرَادُ مِنْ وَاجِبَاتِ الصَّلَاةِ مَا تَجُوزُ الصَّلَاةُ بِدُونِهَا وَتَجِبُ سَجْدَتَا السَّهْوِ بِتَرْكِهَا سَاهِيًا، نماز کے واجبات سے مراد جو ہے وہ کہ ان کے نماز بھی جائز ہو جاتی ہو اور سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، سہو کے سجدے واجب ہوتے ہیں دو اس کو چھوڑنے کی وجہ سے بھولے سے۔ بھئی یاد رکھیے، واجب وہ ہے کہ جس کے جو بھول کر رہ جائے، بھولے سے رہ جائے تو سجدۂ سہو کرنا پڑے گا اور اس صورت میں نماز مکمل ہو جائے گی، لیکن یہ صورت ہے کہ جب واجب بھولے سے رہ جائے، اگر کوئی شخص جان بوجھ کر واجب کو چھوڑتا ہے تو یاد رکھیے، یاد رکھیے نماز تو اس کی ٹھیک ہے ہو گئی، فرض اس کے ذمے سے ساقط ہوا لیکن بڑی ہی خراب نماز اس نے ادا کی، اس نے شریعت کے ایک حکم کو معمولی سمجھ لیا تو وہ گنہگار ہوا اور اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے، یہ نماز اس کو پھر لوٹانی چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر نہیں لوٹاتا تو گنہگار ہوگا۔ تو بھولے سے واجب رہ جائے تو سجدۂ سہو سے تلافی ہو جائے گی، لیکن جان بوجھ کر چھوڑتا ہے واجب کو تو سجدۂ سہو سے بھی تلافی نہیں ہوگی بلکہ کیا کرنا چاہیے اسے؟ اس پر نماز کا پھر پڑھنا واجب ہے بھئی واجب ہے۔
اور سنت جو ہے، سنت کے بارے میں بتلا رہے ہیں: وَالسُّنَنُ أَيْ مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِ الْمُوَاظَبَةِ وَلَمْ يَتْرُكْهَا إِلَّا بِعُذْرٍ، سنت وہ ہے جس کو حضور علیہ السلام نے مواظبت کے طریقے پر کیا ہو، پابندی سے کیا ہو، وَلَمْ يَتْرُكْهَا إِلَّا بِعُذْرٍ، اور اس کو نہ چھوڑا ہو مگر کسی عذر کی وجہ سے، یعنی اس پر سنت، بھئی یاد رکھیے حضور علیہ السلام کا وہ فعل جس پر آپ نے پابندی فرمائی ہو لیکن کبھی کبھار چھوڑ بھی دیا ہو، کبھی کبھار کیا کیا ہو؟ لیکن ویسے عام معمول ہمیشہ اس کو ادا کرتے ہیں لیکن کبھی بتلانے کے لیے کہ یہ سنت ہے فرض یا واجب نہیں، اس کو آپ نے چھوڑ بھی دیا ہو، تو یہ کیا ہے؟ سنت ہے سنت ہے۔
اور اسی طرح آگے آداب کو بھی ذکر کیا، بعض چیزیں آداب ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ آداب ہیں، یعنی مستحبات ہیں، اور وہ ہے جس کو حضور علیہ السلام نے کبھی کبھار کیا ہو اور اس پر پابندی نہ فرمائی ہو، کبھی کبھار کیا ہو۔
جی، تو اب دیکھیے میں نے کیا بتلایا آپ کو کہ واجب اگر بھولے سے رہ جائے تو سجدۂ سہو سے تلافی ہو جائے گی، لیکن اگر جان بوجھ کر چھوڑا تو نماز کا اعادہ واجب ہے، نماز پھر پڑھنی چاہیے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: كَقِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ، تو لہٰذا ایک آدمی نے قرآن کی سے کسی مقام سے ایک بڑی آیت پڑھ لی یا تین چھوٹی آیتیں پڑھ لیں تو فرض ادا ہو گیا اور اسی طرح وہ نماز پڑھ لے گا تو نماز اس کی ہو جائے گی اگرچہ کہ اس نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، کیونکہ بالخصوص سورۂ فاتحہ کا پڑھنا تو کیا ہے؟ واجب ہے۔ ہاں، قراءت فرض تھی اور فرض تو اس نے پورا کر لیا ہے، قرآن سے کہیں سے بھی وہ پڑھ لے: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} جہاں سے بھی میسر ہو جہاں سے بھی آسانی سے ہو سکے پڑھ لو، تو وہ فرض تھا، فرض اس نے کر لیا تو نماز ہو گئی، لیکن واجب کو اس نے جان بوجھ کر چھوڑا ہے تو اس صورت میں نماز اس کی بڑی ہی خراب ہوئی، اس کو اعادہ کرنا چاہیے بھئی۔
تو کہتے ہیں وہ نماز میں واجبات بھی ہیں: كَقِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ، جیسے سورۂ فاتحہ کا پڑھنا، وَضَمِّ السُّورَةِ مَعَهَا، اور اس کے ساتھ ایک سورت کا ملانا، پہلی رکعتوں میں کیا کیا جاتا ہے کہ سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملا کر پڑھی جاتی ہے یا کوئی سورت کا حصہ پڑھا جاتا ہے بھئی، تو یہ ملانا واجب، سورۂ فاتحہ کا پڑھنا یہ الگ واجب، اس کے ساتھ سورت کا ملانا یہ الگ واجب، وَمُرَاعَاةِ التَّرْتِيبِ فِيمَا شُرِعَ مُكَرَّرًا مِنَ الْأَفْعَالِ، اور ترتیب کی رعایت رکھنا فیما ان افعال کے اندر شُرِعَ مُكَرَّرًا، جو مکرر مشروع ہوئے ہیں، جو مکرر کیا ہیں؟ مشروع ہوئے ہیں، مِنَ الْأَفْعَالِ، افعال میں سے، یہ "مِنْ" بیان ہے "مَا" کا بھئی، "مَا" کا، یعنی کہ وہ افعال، تو ترتیب کی رعایت رکھنا وہ افعال جو مکرر مشروع ہوئے ہیں یعنی جن کا تکرار ہے نماز کے اندر ان افعال میں ترتیب کی رعایت رکھنا، ترتیب کی رعایت رکھنا۔ کیا مکرر افعال ہیں نماز کے اندر بھئی؟ ہر رکعت کے اندر قیام ہے بھئی، ہر رکعت کے اندر کیا ہے؟ رکوع ہے، ہر رکعت کے اندر سجدے ہیں، تو یہ مکرر ہیں بھئی، چیزیں کیا ہیں نماز کے اندر؟ مکرر ہیں، ہر رکعت میں بار بار قیام بھی آتا ہے، رکوع بھی آتا ہے، سجدے بھی آتے ہیں، تو ان یہ جو مکرر افعال ہیں ان کے اندر ترتیب یہ کیا ہے؟ واجب ہے، ترتیب واجب ہے بھئی۔
وَالْقَعْدَةِ الْأُولَى، اور اسی طرح پہلا قعدہ، بھئی آخری قعدہ ابھی آپ نے پڑھ لیا کہ وہ تو فرض ہے، تو پہلا قعدہ مثلاً چار رکعت والی نماز ہے تو آخری قعدہ تو چار رکعتوں کے بعد آئے گا، یہ جو دو رکعتوں کے بعد بیٹھنا ہے تشہد کے لیے یہ واجب ہے یا فرض ہے؟ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا: وَالْقَعْدَةِ الْأُولَى، یہ بھی کس میں سے ہے؟ واجبات میں سے ہے۔ وَقِرَاءَةِ التَّشَهُّدِ فِي الْأَخِيرَةِ، اور تشہد کا پڑھنا آخری قعدے کے اندر بھئی، آخری قعدہ خود بیٹھنا تو فرض ہے لیکن اس کے اندر تشہد کا پڑھنا واجب ہے بھئی واجب۔ وَالْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ، اور اسی طرح وتر کے اندر جو دعائے قنوت ہے وہ بھی کیا ہے؟ واجب ہے بھئی واجب، تو اگر بھول جائیں انسان تو کیا کرنا پڑے گا؟ سجدۂ سہو، اور اسی طرح یاد رکھیے وتروں کے اندر جس طرح دعائے قنوت واجب ہے اسی طرح دعائے قنوت پڑھنے سے پہلے جو اللهُ أَكْبَرُ کہا جاتا ہے یہ اللهُ أَكْبَرُ کہنا بھی واجب ہے، اور اس اللهُ أَكْبَرُ کے کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں یہ ہاتھوں کا اٹھانا بھی واجب ہے بھئی عِنْدَ الْأَحْنَافِ بھئی۔ وَتَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ، اور اسی طرح دونوں عیدوں کی جو تکبیریں ہیں جو اس میں زائد تکبیریں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ بھی کیا ہیں؟ واجبات میں سے ہیں، وَالْجَهْرِ فِيمَا يُجْهَرُ فِيهِ وَالْمُخَافَتَةِ فِيمَا يُخَافَتُ فِيهِ، اور جہر کرنا یعنی بلند آواز سے قراءت کرنا فیما یجہر فیہ جن نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے، کون سی نمازیں ہیں جن میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے؟ فجر ہے، مغرب ہے اور عشاء، تو ان میں جہراً قراءت کرنا، اونچی آواز سے قراءت کرنا جبکہ کیا ہو؟ امام ہو، یہ واجب ہے بھئی، اور وَالْمُخَافَتَةِ فِيمَا يُخَافَتُ فِيهِ، اور آہستہ کرنا آواز کو ان نمازوں میں جن میں آواز کو آہستہ کیا جاتا ہے یعنی قراءت کو آہستہ کیا جاتا ہے تو یہ بھی واجب ہے بھئی، اور کن قراءت، کن نمازوں کے اندر قراءت آہستہ آواز سے کی جاتی ہے؟ ظہر اور عصر بھئی، تو ان کے اندر آہستہ آواز سے قراءت کرنا واجب ہے بھئی۔
وَلِهَذَا يَجِبُ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ بِتَرْكِهَا، اور اسی وجہ سے واجب ہو جاتے ہیں اس شخص پر جو نماز پڑھنے والا ہے سَجْدَتَا، تثنیہ سجدتانِ نون اضافت سے گر گیا بھئی، تو اس پر واجب ہو جاتے ہیں سَجْدَتَا السَّهْوِ، سہو کے دو سجدے بِتَرْكِهَا، ان چیزوں کے چھوڑنے کی وجہ سے، تو معلوم ہوا یہ سب چیزیں واجب ہیں۔ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، یہی قول صحیح ہے بھئی صحیح۔ بھئی یاد رکھیے، بعض جگہ آتا ہے صَحِيحٌ، بعض جگہ قول آتا ہے أَصَحُّ، زیادہ صحیح ہے، تو بتائیے کس میں قوت زیادہ ہے؟ أَصَحُّ میں؟ نہیں بھئی نہیں، صَحِيحٌ کے اندر قوت زیادہ ہے، کیونکہ جب صَحِيحٌ کہہ دیا معلوم ہوا جو دوسرا قول ہے وہ صحیح ہے ہی نہیں۔ جو دوسرا قول اس سلسلے میں آیا وہ صحیح ہے ہی نہیں، اور جب کہا أَصَحُّ تو اصح کا مطلب ہے زیادہ صحیح ہے، معلوم ہوا ایک اور بھی کم صحیح قول بھی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اصح کے مقابلے میں صحیح قول موجود ہوگا، لیکن صحیح جب کہہ دیا تو معلوم ہوا دوسرا قول غیر صحیح ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو قوت کس کے اندر زیادہ؟ صحیح کے اندر زیادہ ہے۔
کہتے ہیں: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، یہی قول صحیح ہے، وَتَسْمِيَتُهَا سُنَّةً فِي الْكِتَابِ، اور اس کا نام سنت رکھنا کتاب میں، بھئی اوپر قدوری، صاحبِ قدوری نے کیا کہا تھا؟ فَهُوَ سُنَّةٌ، باقی چیزیں کیا ہیں؟ وہ سنت ہیں، تو کہتے ہیں کتاب میں ان کا نام سنت رکھا گیا کیوں؟ لِمَا أَنَّهُ ثَبَتَ وُجُوبُهَا بِالسُّنَّةِ، اس وجہ سے کہ ان کا واجب ہونا سنت سے ثابت ہے، کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے، کہ حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی ہے اور کبھی ان کو چھوڑا نہیں ہے بھئی۔
وَإِذَا شَرَعَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ، اور جب شروع کرے شروع ہو نماز کے اندر نماز پڑھنے والا كَبَّرَ، تو تکبیر کہے گا، لِمَا تَلَوْنَا، اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی، اور وہ کون سی آیت تھی؟ {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} تو اس شروع میں تکبیرِ تحریمہ کہے گا، یہ ایک دلیل تو وہ آیت ہوئی، وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، دوسری دلیل حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ“، نماز کی تحریم جو ہے وہ تکبیر ہے۔ نماز کی تحریم جو ہے وہ تکبیر ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھیے، تکبیرِ تحریمہ کو تحریمہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ حَرَّمَ يُحَرِّمُ تَحْرِيمٌ کا معنی ہے حرام کرنا، حرام کرنا، تو چونکہ یہ تکبیر بھی نماز کے منافی جتنی چیزیں ہیں ان کو حرام کر دیتی ہے انسان پر، اس تکبیر سے پہلے آپ کسی سے بات کرنا چاہتے تھے بات بھی کر سکتے تھے، کھانا کچھ کھانا چاہتے تھے کھا بھی سکتے تھے، لیکن جیسے ہی تکبیرِ تحریمہ کہی اب یہ نماز کے منافی چیزیں یعنی کسی سے بات کرنا بھی منع اور کھانا پینا بھی منع کیونکہ اب نماز شروع ہو گئی ہے، تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تکبیرِ تحریمہ، کیونکہ یہ اور چیزوں کو، نماز کے منافی چیزوں کو حرام کرنے والی ہے۔ تو یہ دلیل ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ“، نماز کی تحریم کیا ہے؟ تکبیر ہے، وَهُوَ شَرْطٌ عِنْدَنَا، اور یہ ہمارے نزدیک شرط ہے، میں نے ابھی بتلایا تھا آپ کو ہمارے نزدیک تکبیرِ تحریمہ نماز کا رکن نہیں بلکہ کیا ہے؟ شرط ہے، یہی ذکر کر رہے ہیں: وَهُوَ شَرْطٌ عِنْدَنَا، اور یہ ہمارے نزدیک شرط ہے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں رکن ہے، تکبیرِ تحریمہ کیا ہے؟ نماز کا رکن ہے بھئی۔ حَتَّى أَنَّ مَنْ يُحَرِّمُ لِلْفَرْضِ كَانَ لَهُ أَنْ يُؤَدِّيَ بِهَا التَّطَوُّعَ، حتی ہمارے نزدیک یہ شرط ہے بھئی، یہاں تک کہ: أَنَّ مَنْ يُحَرِّمُ لِلْفَرْضِ، جو شخص تکبیرِ تحریمہ کہتا ہے فرضوں کے لیے، ایک آدمی ہے اور کیا پڑھنا چاہتا ہے؟ فرض پڑھنا چاہتا ہے اور وہ تکبیرِ تحریمہ کہتا ہے...
ہے تکبیرِ تحریمہ۔ اور تحریمہ تو نماز کا رکن نہیں۔ لہٰذا تحریمہ تکبیرِ تحریمہ کہتے ہی، اللہ اکبر کہتے ہی اس کی نیت بدل گئی، اس نے کہا میں نفل پڑھ لیتا ہوں۔ کیا پڑھتا ہوں؟ فرض نہیں پڑھتا بلکہ ابھی نفل پڑھ لیتا ہوں، تو بھئی وہ اسی تحریمہ کے ساتھ اب نفل پڑھ سکتا ہے۔ نماز کو جاری رکھے اور نفل پڑھ لے۔
تحریمہ کے بعد اس کی کیا نیت بنی؟ میں نفل پڑھتا ہوں، تو نفل ہو جائیں گے، وہ نفل پڑھ لے بھئی۔ بھئی کیوں، نفل کیوں ہو جائیں گے؟ وجہ یہ کہ تحریمہ شرطِ صلاۃ ہے، رکنِ صلاۃ نہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر تحریمہ رکن ہوتا تو پھر تو آپ کہتے ایک رکن ادا ہو گیا ہے فرض کا اب جا کر نیت بدل رہی ہے تو اب کیا اعتبار۔ ہمارے نزدیک تو کیا ہے تحریمہ؟ شرط ہے۔ جب شرط ہے تو اب نماز تو اب شروع ہو رہی ہے آگے، لہٰذا اس میں وہ کیا کر سکتا ہے؟ نفل پڑھنا چاہے تو نفل بھی نہیں۔ کیونکہ ابھی فرضوں کا کوئی رکن ادا ہی نہیں ہوا، کوئی رکن ادا ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد ہم کہیں گے اب نہیں بدل سکتا کیونکہ کیا کر دیا اس نے، ایک رکن کو ادا کر لیا۔ اور ابھی تک تو کوئی رکن ادا نہیں ہوا، ابھی تو صرف شرط پوری ہوئی تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: حَتَّى أَنَّ مَنْ يُحَرِّمُ لِلْفَرْضِ كَانَ لَهُ أَنْ يُؤَدِّيَ بِهَا التَّطَوُّعَ، یہاں تک کہ جو شخص تکبیرِ تحریمہ کہہ لے فرضوں کے لیے، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ادا کر دے اس تحریمہ کے ساتھ التَّطَوُّعَ کس کو؟ نفل کو۔ جی۔
وَهُوَ يَقُولُ، اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں: إِنَّهُ يُشْتَرَطُ لَهَا مَا يُشْتَرَطُ لِسَائِرِ الْأَرْكَانِ، بھئی امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ تکبیرِ تحریمہ رکن ہے، نماز کا جز ہے۔ نماز کا جز۔ وہ دلیل دیتے ہیں، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ تکبیرِ تحریمہ کے لیے وہ تمام شرائط ہیں جو نماز کے باقی ارکان کے لیے شرطیں ہیں۔ جیسے نماز کے باقی ارکان میں استقبالِ قبلہ ضروری تھا، تحریمہ میں بھی استقبالِ قبلہ ضروری ہے۔ نماز کے باقی ارکان کے اندر وضو کا ہونا ضروری تھا، تحریمہ کے لیے بھی وضو کا ہونا ضروری ہے۔ نماز کے باقی ارکان کے اندر کپڑوں کا پاک ہونا ضروری تھا، تحریمہ کے اندر بھی کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے۔ اور اسی طرح نماز کے باقی ارکان پر نیت کا مقدم ہونا ضروری تھا اور یہاں پر بھی آپ پڑھ چکے، نیت کا تحریمہ پر مقدم ہونا، وہ ساری چیزیں جو باقی ارکان کے لیے ضروری ہیں وہ ساری کس کے لیے ضروری؟ تحریمہ کے لیے بھی ضروری۔ معلوم ہوا یہ بھی نماز کا رکن ہے۔ یہ کیا ہے نماز کا؟ رکن۔ اس کے لیے بھی وہی شرطیں ہیں جو کس کے لیے تھیں؟ باقی نماز کے ارکان کے لیے شرطیں تھیں بھئی۔
وَهُوَ يَقُولُ، اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں: إِنَّهُ يُشْتَرَطُ لَهَا مَا يُشْتَرَطُ لِسَائِرِ الْأَرْكَانِ، کہ اس کے لیے بھی وہی شرطیں ہیں جو شرطیں ہیں باقی ارکان کے لیے، وَهَذَا آيَةُ الرُّكْنِيَّةِ، اور یہ رکن ہونے کی نشانی ہے۔ معلوم ہوا یہ بھی کیا ہے؟ رکن ہے بھئی۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ عُطِفَ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، کہ اس پر صلاۃ کا عطف کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى، وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى، اور جس نے اللہ کا نام لیا فَصَلَّى پھر نماز پڑھی۔ اور اللہ کا نام لیا اور پھر نماز پڑھی، تو دیکھیے بھئی: وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ، اللہ کا نام لیا، اپنے رب کا نام ذکر کیا، فَصَلَّى، پھر نماز پڑھی۔ تو صَلَّى، نماز کا عطف ہو رہا ہے کس پر؟ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ، اپنے پروردگار کا نام ذکر کرنا جو ہے اس پر نماز کا عطف ہو رہا ہے، اور عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے کہ معطوف جو ہے وہ معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے۔ معطوف کیا ہوتا ہے؟ غیر۔ بھئی میں آپ سے کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو۔ یہ زید پر کس کا عطف کیا گیا؟ عمرو کا۔ یہ عطف کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ کہ معلوم ہوا کہ عمرو زید کے علاوہ ہے، اور ہے کوئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ ایک دوسرے سے غیر ہیں، الگ الگ ہیں۔ ایک ہی چیز ہو تو پھر تو عطف ہی درست نہیں ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَزَيْدٌ۔ بھئی یہ عطف ہی درست نہیں ہے کیونکہ یہ تو کیا کر رہے ہیں آپ؟ عَطْفُ الشَّيْءِ عَلَى نَفْسِهِ کر رہے ہیں، ایک چیز کو اپنی ہی ذات پر عطف کر رہے ہیں اور اپنی ہی ذات پر عطف صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ عطف کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے بھئی مغایرت کہ دونوں ایک دوسرے سے معطوف اور معطوف علیہ ایک دوسرے سے غیر ہیں الگ الگ ہیں۔ تو یہاں پر بھی اللہ کے نام کا ذکر کرنا یعنی وہ تکبیر ہے، اور آگے فَصَلَّى نماز کا ذکر ہے اور دونوں میں عطف کیا گیا فا کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ فا کے ذریعے عطف کیا گیا، تو یہ عطف تقاضا کرتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں۔ معلوم ہوا نماز الگ چیز ہے اور تکبیرِ تحریمہ الگ چیز ہے، یعنی تکبیرِ تحریمہ نماز کے اندر داخل نہیں، ورنہ عطف نہ کیا جاتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو بھئی یہاں پر اگر تکبیرِ تحریمہ وہ نماز کا رکن قرار دیا جائے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ تکبیرِ تحریمہ کو اگر نماز کا رکن قرار دیا جائے، تو معلوم ہوا فَصَلَّى، اس صلاۃ میں بھی تکبیرِ تحریمہ آ گئی۔ کیا آ گئی؟ تکبیرِ تحریمہ۔ کیونکہ تکبیرِ تحریمہ کو رکن قرار دیا معلوم ہوا وہ نماز کا جز ہے، تو آگے صلاۃ کا ذکر ہے جب کل کا ذکر ہے تو کل کے اندر کون داخل ہوتا ہے؟ جز بھی داخل ہوتا ہے۔ تو لہٰذا مابعد میں بھی تکبیرِ تحریمہ کا ذکر، ماقبل میں بھی تکبیرِ تحریمہ کا ذکر، تو گویا عَطْفُ الشَّيْءِ عَلَى نَفْسِهِ لازم آیا، چیز کا اپنی ہی ذات پر عطف کرنا لازم آیا اور چیز کا اپنی ذات پر تو عطف کرنا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور نیز عطف بھی واؤ کے ذریعے نہیں ہو رہا، فا کے ذریعے ہو رہا ہے عطف بھئی، فا کے ذریعے عطف۔ تو لہٰذا آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ چلو ماقبل میں جز ذکر ہے، مابعد میں کل ذکر ہے، تو جز اور کل کیا ہوتے ہیں؟ ایک دوسرے سے غیر ہوتے ہیں، جز ایک ہے اور کل اور بھی چیزیں اس میں شامل ہوتی ہیں۔ لہٰذا مغایرت تو پھر بھی آ گئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جز کے اندر تو صرف ایک حصہ اور کل کے اندر اور بھی حصے آ گئے، الگ الگ چیزیں ہو گئیں یا نہیں گویا؟ ایک طرف ایک چیز کا ذکر ہے، ایک طرف کل چار چیزوں کا ذکر آ گیا تو پھر بھی مغایرت تو ہے، جو جز ہے وہ کل نہیں اور جو کل ہے وہ جز نہیں۔ تو جواب یہ: وہ تعبیر بھی یہاں نہیں چلتی، اس لیے کیونکہ یہاں عطف ہو رہا ہے فا کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ فا کے ذریعے عطف ہو رہا ہے۔ اگر ماقبل میں جز ذکر ہے اور مابعد میں صلاۃ کے اندر بھی وہ جز کیا ہے؟ داخل ہے فرض کر لیں، کیا ہے؟ آپ یہ تاویل کر اگر یہ کہیں کہ ماقبل میں جز ذکر ہے مابعد میں کل، تو جب کل ذکر ہے اس کل کے اندر بھی وہ جز آیا یا نہیں آیا؟ وہ جز آ گیا۔ اور فا کس لیے آتی ہے؟ تَعْقِيبٌ مَعَ الْوَصْلِ کے، ایک چیز دوسری چیز کے بعد آئے، اور ماقبل میں بھی تکبیرِ تحریمہ ہے اگر آپ کی بات مان لی جائے، اور مابعد میں بھی کیا ہے؟ تکبیرِ تحریمہ ہے، تو پھر فا کے ذریعے تو عطف ہو ہی نہیں سکتا بھئی، کیونکہ فا تو کیا بتلاتی ہے؟ ایک چیز دوسری چیز کے بعد ہو، تحریمہ کے بعد تحریمہ ہو وہی تحریمہ؟ اسی تحریمہ کے بعد پھر یہی تحریمہ ہو، وہ اور تحریمہ تو آ سکتی ہے وہی والی تحریمہ تو دوبارہ نہیں آ سکتی بھئی۔ صورتِ خرابی سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اگر یہاں پر اس کو فَصَلَّى کے اندر مانا جائے تو پھر اس صورت کہ اس کے اندر تکبیرِ تحریمہ داخل ہے، رکن ہے، تو عَطْفُ الشَّيْءِ عَلَى نَفْسِهِ کی خرابی لازم آتی ہے بھئی۔
تو کیا دلیل ذکر کر رہے ہیں: وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ عُطِفَ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ، کہ عطف کیا گیا ہے نماز کا عَلَيْهِ اس تکبیر پر، نماز کا عطف کیا گیا ہے اس تکبیر پر فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى، اور اپنے رب کا نام لیا، فَصَلَّى پھر نماز پڑھی، وَمُقْتَضَاهُ الْمُغَايَرَةُ، اور اس عطف کا تقاضا کیا ہے؟ مقتضا کیا ہے؟ مغایرت ہے، یعنی دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں الگ ہیں، تکبیرِ تحریمہ اور نماز، وَلِهَذَا لَا يَتَكَرَّرُ كَتَكْرَارِ الْأَرْكَانِ، اور اسی وجہ سے تکبیرِ تحریمہ مکرر نہیں ہوتی جیسے کہ ارکان کا تکرار ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے... یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ پہلی دلیل تو یہ آیت آ گئی، دوسری دلیل یہ ذکر کر رہے ہیں کہ تکبیرِ تحریمہ نماز کے اندر داخل نہیں، اگر نماز کے اندر داخل ہوتی تو نماز کے جو ارکان ہیں ان سب کا تکرار ہے۔ ہر رکعت میں قیام بھی ہے، ہر رکعت کے اندر قراءت بھی ہے، ہر رکعت کے اندر رکوع بھی ہے، سجدہ بھی ہے، تو جیسے ان میں تکرار تھا اگر یہ تحریمہ نماز کا رکن ہوتی تو اس میں بھی کیا ہوتا؟ تکرار ہوتا بھئی، لیکن اس کے اندر تکرار نہیں، معلوم ہوا یہ نماز کا رکن نہیں۔ تو یہ دوسری دلیل آ گئی۔ یہ معنی ہے: وَلِهَذَا لَا يَتَكَرَّرُ كَتَكْرَارِ الْأَرْكَانِ، اور اسی وجہ سے یہ تکبیر جو ہے مکرر نہیں ہوتی جیسے کہ اور ارکان کا تکرار ہوتا ہے۔
وَمُرَاعَاةُ الشَّرَائِطِ، اب یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے قیاس کا، انہوں نے کیا فرمایا تھا کہ یہ بھی رکن ہے تکبیرِ تحریمہ بھی، کیونکہ اس کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو باقی ارکان کے لیے ہیں یعنی استقبالِ قبلہ، طہارت وغیرہ سب چیزیں شرط ہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں: وَمُرَاعَاةُ الشَّرَائِطِ، اور ان شرطوں کی رعایت رکھنا، لِمَا يَتَّصِلُ بِهِ مِنَ الْقِيَامِ، اس وجہ سے ہے جو اس کے ساتھ قیام ملا ہوا ہے، وہ چیز جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی کہ قیام۔ تو باقی شرطوں کی رعایت کیوں رکھی جاتی ہے؟ کیونکہ تکبیرِ تحریمہ کے فوراً بعد کیا شروع ہو جائے گا؟ نماز شروع ہوگی، قیام شروع ہو جائے گا بھئی۔ جیسے ہی را پر تلفظ مکمل ہوگا ساتھ ہی نماز شروع، قیام اس کا شروع ہو گیا۔ قیام کیا ہوا؟ شروع۔ اور اس ارکانِ صلاۃ فوراً شروع ہو رہے ہیں اور ان کے لیے تو یہ ساری چیزیں شرط تھیں، تو تحریمہ ساتھ ملی ہوئی ہے لازمی بات ہے اس کے لیے شرط ہوں گی ہی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دراصل یہ شرط تحریمہ کے لیے نہیں بلکہ دراصل کس کی وجہ سے ہیں؟ اس قیام کے لیے جو اس کے ساتھ ہی ملا ہوا ہے، بیچ میں فصل ہے ہی نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ تحریمہ میں یہ شرطیں پوری نہ ہوں اور بعد میں کیا کر لے؟ پوری کر لے، کیونکہ بعد میں بیچ میں تو وقت ہی نہیں ہے فصل ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: وَمُرَاعَاةُ الشَّرَائِطِ لِمَا يَتَّصِلُ بِهِ مِنَ الْقِيَامِ، اور ان تمام شرائط کی رعایت رکھنا جو ہے اس چیز کی وجہ سے ہے يَتَّصِلُ بِهِ جو اس تکبیر کے ساتھ ملی ہوئی ہے، وہ کیا چیز ہے؟ مِنَ الْقِيَامِ یعنی کہ قیام ہے، میں نے بتلایا یہ جگہ جگہ مِن کے ساتھ مَا کا بیان کیا جاتا ہے بھئی۔
وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ، اور ہاتھوں کو اٹھائے تکبیر کے ساتھ بھئی۔ ہاتھوں کو اٹھائے تکبیر... تکبیر بھئی تکبیرِ تحریمہ تو فرض ہے یعنی اللہ اکبر شروع میں کہنا تو فرض اور اس کے ساتھ کیا کرے گا انسان؟ ہاتھ بھی اٹھاتا ہے کانوں تک بھئی، تو یہ ہاتھوں کا اٹھانا یہ آپ کو بتلائیں گے یہ سنت ہے۔ یہ کیا ہے؟ سنت ہے۔
اور البتہ ہاتھ اٹھانے کب ہیں؟ کہتے ہیں: وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ، مَعَ آیا، ہاتھ اٹھائے اپنے دونوں، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ اور نمازی اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے مَعَ التَّكْبِيرِ تکبیر کے ساتھ بھئی، یعنی ادھر تکبیر کہہ رہا ہے تو ادھر ہاتھ بھی اٹھا کر کانوں تک لے جا رہا ہے۔ دونوں کام اکٹھے ہونے چاہئیں۔ ادھر تکبیر کہہ رہا ہے تو ساتھ ہی کانوں تک ہاتھ بھی اٹھاتا جا رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی تکبیر کے ساتھ ہی ہاتھ اٹھائے وہ، تکبیر کے ساتھ ہی، کیونکہ مَعَ کا لفظ آیا۔
وَهُوَ سُنَّةٌ، اور یہ ہاتھوں کا اٹھانا سنت ہے، لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس پر پابندی فرمائی ہے۔ یہ کس چیز کی دلیل ذکر ہو رہی ہے؟ ہاں کہ یہ جو ہاتھوں کا اٹھانا ہے یہ سنت ہے، اور کیا دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ؟ کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے اس پر پابندی فرمائی ہے، مواظبت فرمائی ہے۔ اور ابھی گزشتہ حاشیہ میں نے آپ کو پڑھایا تھا اس میں کیا آیا تھا؟ جس چیز پر حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے پابندی فرمائی ہو وہ تو واجب ہونے کی دلیل ہے، ایک چیز کی پابندی فرمائی ہو اور چھوڑا نہ ہو، یہ کس چیز کی دلیل ہے؟ واجب ہونے کی۔ اور کبھی چھوڑ دیا ہو، پابندی فرمائی لیکن کبھی بہت کم بیشک، لیکن کبھی چھوڑ بھی دیا ہے تو وہ کس چیز کی نشانی ہے؟ سنت ہونے کی نشانی ہے۔ تو یہاں پر صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے اس پر پابندی فرمائی ہے، تو اس کو تو کیا قرار دینا چاہیے؟ واجب۔ اور نیز اس سلسلے میں جتنی احادیث آتی ہیں کسی کے اندر یہ نہیں کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے ہاتھ اٹھانے کو چھوڑ دیا ہو نماز کے شروع میں۔ جب بھی نماز کا ذکر آتا ہے ساتھ کیا ذکر ہوتا ہے؟ کہ ہاتھ بھی اٹھائے۔ تو اس کو تو کیا کہنا چاہیے؟ واجب کہنا چاہیے، تو پھر اس کو سنت کیسے قرار دیا؟ تو وجہ اس کی یہ بھئی، حاشیے میں آپ کی دلیل دی ہوئی ہے کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے ایک مرتبہ ایک دیہاتی کو نماز کے واجبات ذکر کیے اس کے سامنے، اس کو واجبات سکھائے بھئی اور ان واجبات کے اندر آپ نے نماز کے ابتدا میں تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانے کو ذکر نہیں فرمایا، باقی واجبات ذکر فرمائے لیکن ہاتھ اٹھانے کو ذکر نہیں فرمایا، معلوم ہوا یہ واجب نہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو بعض علماء یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے پابندی فرمائی ہے لیکن ترک بھی ثابت ہے۔ کیا ہے؟ ترک بھی ثابت ہے۔ یہ دلیل نہ دینا بھئی، یہ دلیل درست نہیں، ترک ثابت ہی نہیں ہے۔ جب بھی نماز کا ذکر آیا ہے ساتھ کس کا ذکر آیا ہے؟ ہاتھ اٹھانے کا ضرور ذکر ہے، تو ترک تو ثابت ہی نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہمارے نزدیک یہ کیا ہے؟ سنت ہے۔ ہونا کیا چاہیے تھا؟ واجب۔ کیوں سنت ہے؟ دلیل ذکر کر دی، کیونکہ ایک حدیث میں کیا آیا، حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ واجبات شمار کروا رہے ہیں اور وہاں پر آپ نے ہاتھ اٹھانا، ہاتھ اٹھانے کو ذکر نہیں فرمایا، معلوم ہوا یہ ہاتھوں کا اٹھانا واجب نہیں ہے، سنت ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: وَهُوَ سُنَّةٌ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ، کیونکہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس پر پابندی فرمائی ہے۔
وَهَذَا اللَّفْظُ يُشِيرُ إِلَى اشْتِرَاطِ الْمُقَارَنَةِ، بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ متن میں آپ نے غور کیا، متن کے الفاظ بھئی، متن میں مَعَ کا لفظ ذکر کیا، مَعَ کا کیا معنی؟ ساتھ، یعنی یہ ہاتھوں کا اٹھانا تکبیر کے ساتھ ہوگا، جیسے میں نے ابھی ذکر کیا، ادھر تکبیر پر تکلم کر رہا ہے، تکبیر کہہ رہا ہے تو ساتھ ہی ہاتھوں کو بھی اٹھاتا جا رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: متن سے یہ معلوم ہوا ہے، متن سے یہ معلوم ہوا اور یہی نقل کیا امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ سے بھی اور امام طحاوی رَحِمَهُ اللهُ سے بھی، لیکن اصح قول یہ ہے کہ ہاتھ پہلے اٹھائے اور تکبیر بعد میں کہے۔ ہاتھ اٹھاتے ہوئے تکبیر نہیں کہنی بلکہ پہلے ہاتھ اٹھا لے اس کے بعد کیا کہے؟ تکبیر کہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟
کہتے ہیں: وَهَذَا اللَّفْظُ يُشِيرُ إِلَى اشْتِرَاطِ الْمُقَارَنَةِ، مقارنت کا معنی ملے ہونا، ملے ہونا، اور یہ جو لفظ ہے جو متن میں آیا ہے یعنی مَعَ کا جو لفظ آیا، يُشِيرُ یہ اشارہ کر رہا ہے إِلَى اشْتِرَاطِ الْمُقَارَنَةِ مقارنت کے شرط ہونے کی طرف۔ مقارنت یعنی ملے ہونا شرط ہے، کون سا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟ مَعَ کا لفظ اشارہ کر رہا ہے کہ مقارنت شرط ہے۔ مقارنت یعنی ملے ہونا، کن چیزوں کا ملے ہونا شرط ہے؟ ہاتھوں کا اٹھانا اور تکبیر کا کہنا ان دونوں کو ملے ہونا چاہیے کہ ادھر ہاتھ اٹھاتا جا رہا ہے تو ساتھ کیا کہتا جا رہا ہے؟ تکبیر پر بھی تلفظ کرتا جا رہا ہے۔
وَهَذَا اللَّفْظُ يُشِيرُ إِلَى اشْتِرَاطِ الْمُقَارَنَةِ، اور یہ لفظ جو ہے یہ اشارہ کر رہا ہے مقارنت کے شرط ہونے کی طرف، وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اور یہی روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ سے، وَالْمَحْكِيُّ عَنِ الطَّحَاوِيِّ، اور یہی حکایت کیا گیا ہے امام طحاوی سے بھئی، یہی حکایت کیا گیا ہے امام طحاوی سے بھئی۔ تو یہاں امام ابو یوسف کے لیے صاحبِ ہدایہ نے مَرْوِيٌّ کا لفظ استعمال کیا اور امام طحاوی کے لیے حِكَايَةٌ کا لفظ استعمال کیا، تو یہ محشی بیان کرتے ہیں بھئی کہ مَرْوِيٌّ سے مراد ہے، مروی سے اشارہ ہے کس کی طرف؟ قول کی طرف، کس کی طرف؟ قول کی طرف، یعنی امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ سے یہ قول روایت کیا گیا ہے، اور امام طحاوی کے ساتھ حکایت کا لفظ ذکر کیا، اس کے ذریعے اشارہ ہے فعل کی طرف، کس کی طرف؟ فعل کی طرف، یعنی امام طحاوی سے قول نہیں ذکر کہ ہاتھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ کیا کرے؟ تکبیر کہے، یہ قول نہیں، ہاں ان سے یہ فعل منقول ہے کہ وہ اس طرح انہوں نے کیا، ادھر ہاتھ اٹھا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کیا کہہ رہے ہیں؟ تکبیر بھی کہہ رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ فرق سمجھ میں آ گیا دونوں میں؟ تو یہ معنی ہے: وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ اور یہی روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ سے یعنی ان کا قول ہے، وَالْمَحْكِيُّ عَنِ الطَّحَاوِيِّ اور یہی حکایت کیا گیا ہے امام طحاوی سے یعنی ان کا فعل نقل کیا گیا ہے۔
وَالْأَصَحُّ، اور زیادہ صحیح قول یہ ہے: أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ أَوَّلًا، کہ وہ نماز پڑھنے والا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے گا أَوَّلًا پہلے، ثُمَّ يُكَبِّرُ، پھر تکبیر کہے، پھر کیا کرے؟ پھر تکبیر، تو پہلے ہاتھ اٹھائے گا پھر تکبیر کہے گا، یہ قول زیادہ صحیح ہے بھئی۔
لِأَنَّ فِعْلَهُ نَفْيُ الْكِبْرِيَاءِ عَنْ غَيْرِ اللهِ تَعَالَى، اس لیے کیونکہ ان دونوں ہاتھوں کا فعل کر کے، اٹھانے کا فعل کرنا یہ بڑائی کی نفی کرنا ہے غیر اللہ سے بھئی۔ عبارت پر نظر ہے؟ لِأَنَّ فِعْلَهُ، اس لیے کیونکہ اس کا کرنا، کس کا کرنا؟ رفعِ یدین کا کرنا، اس لیے کیونکہ رفعِ یدین کا کرنا یہ کیا ہے؟ نفی ہے، بڑائی کی نفی کرنا ہے عَنْ غَيْرِ اللهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے غیر، یعنی غیر اللہ سے بڑائی کی نفی کرنا ہے، یعنی اللہ کے سوا اور بڑائی کسی کے لیے بڑائی نہیں ہے بھئی، کسی کے لیے بڑائی نہیں۔
یہ کس سے ثابت ہوتا ہے؟ ہاتھ اٹھانے سے ہی۔ ہاتھ اٹھا... بھئی جب آپ یہ یاد رکھیے گا بھئی، یہ جب آپ یہ جب آپ ہاتھ اٹھاتے ہیں تو یہ آپ غیر اللہ کی بڑائی کی نفی کر دیتے ہیں۔ غیر اللہ کی بڑائی کی نفی کر دیتے ہیں۔ کس طرح بھئی غیر اللہ کی بڑائی کی نفی؟ بھئی آپ ذرا تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، اٹھائیے کس طرح اٹھاتے ہیں؟ غور کرتے جائیں، آہستہ آہستہ ذرا اپنے ہاتھوں کو نیچے رکھیں اور آہستہ آہستہ آہستہ اوپر لائیں لائیں بھئی کانوں تک لے کر آئیں۔ غور کیا کسی چیز پر؟ یہ آپ یہ جو ہاتھ پیچھے کی طرف لا رہے ہیں، پیچھے کی طرف آ رہے ہیں یا نہیں؟ ہاں جب آپ اٹھاتے ہیں دیکھو ہاتھ کہنی سے آگے کی طرف آتا ہے اور پھر آگے سے گھومتا ہوا کانوں تک جاتا ہے۔ یہ جو آپ اس طریقے سے ہاتھ یوں لاتے ہیں تو گویا ساری دنیا کو اللہ کے علاوہ باقی سب چیزوں کو آپ نے پشت کی طرف پھینک دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو آپ ہاتھ اٹھا کر لاتے ہیں آپ غور کریں، آگے سے ہاتھ آتے ہیں آپ کے کہنی سے مڑ جاتے ہیں اور پھر آگے کی طرف سے پیچھے کی طرف پہنچتے ہوئے کانوں تک جاتے ہیں، تو یہ گویا آپ نے اللہ کے علاوہ باقی تمام دنیا کو اپنی پشت کی جانب پھینک دیا اور پھینکنے کا کیا معنی ہے؟ کہ ان میں کوئی عظمت ہے یا عظمت نہیں ہے؟ ان میں کوئی عظمت نہیں ہے، ان سب چیزوں سے آپ نے بڑائی کی نفی کر دی، اور پھر نفی کرنے کے بعد آپ نے کہا: اللہ اکبر، بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے۔
یہ معنی ہے: لِأَنَّ فِعْلَهُ نَفْيُ الْكِبْرِيَاءِ عَنْ غَيْرِ اللهِ تَعَالَى، اس لیے کیونکہ رفعِ یدین کا کرنا یہ بڑائی کی نفی کرنا ہے اللہ کے علاوہ سب سے، تو یہ ہوئی نفی، وَالنَّفْيُ مُقَدَّمٌ، اور نفی مقدم ہوتی ہے۔ نفی کیا ہوتی ہے؟ مقدم ہوتی ہے۔ بھئی یہ جو آپ ہاتھ اٹھاتے ہیں اس کے ذریعے اللہ کے علاوہ سب چیزوں سے بڑائی کی نفی کر دی اور پھر اللہ اکبر کہہ کر اللہ کے لیے بڑائی ثابت کریں گے، کیا کریں گے؟ اللہ کے لیے بڑائی ثابت کریں گے۔ تو اولاً باقیوں سے بڑائی کی نفی کی جائے گی اور پھر اللہ کے لیے بڑائی ثابت کی جائے گی، تو یہ ہاتھوں کا اٹھانا ہے نفی اور یہ تکبیر ہے اثبات اور نفی مقدم ہوتی ہے اثبات پر۔ یا یوں کہو آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ ایک ہے تخلیہ، ایک ہے تحلیہ۔ تخلیہ خا کے ساتھ، اور ایک ہے تحلیہ حا کے ساتھ۔ تخلیہ کا معنی ہے خالی کرنا، تخلیہ کا کیا معنی؟ خالی کرنا، اور تحلیہ حِلیۃ سے ہے، حِلیۃ زیور کو کہتے ہیں تو تحلیہ کا معنی ہے مزین کرنا، زیور پہنانا۔ تو ایک ہے تخلیہ، ایک ہے تحلیہ، اور تخلیہ مقدم ہوتا ہے تحلیہ پر۔ تخلیہ مقدم ہوتا ہے؟ تحلیہ پر۔ آپ نے کہیں جانا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ نئے کپڑے پہلے پہنتے ہیں پھر نہاتے ہیں، یا پہلے نہاتے ہیں پھر نئے کپڑے پہنتے ہیں؟ پہلے نہاتے ہیں پھر نئے کپڑے پہنتے ہیں، تو یہ جو پہلے نہانا ہے یہ ہے تخلیہ، یعنی میل کچیل کو دور کر رہے ہیں، اپنے آپ کو اس سے خالی کر رہے ہیں اور پھر اس کے بعد تحلیہ، اپنے آپ کو مزین کر رہے ہیں نئے کپڑے پہن رہے ہیں۔ تو تخلیہ مقدم ہوتا ہے کس پر؟ تحلیہ پر مقدم ہوتا ہے۔ آپ کمرے میں سفیدی کرنا چاہتے ہیں تو اسی طرح میلی دیواروں پر سفیدی شروع کر دیں گے یا پہلے دیواروں کو صاف کیا جاتا ہے؟ پہلے دیواروں کو صاف کیا جاتا ہے، یہ کیا ہے؟ تخلیہ ہے، اور پھر اس کے بعد کیا کیا جاتا ہے؟ ان کو مزین کیا جاتا ہے، سفیدی کی جاتی ہے، یہ تحلیہ ہے، اور یہی نکتہ ہے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کے اندر بھئی۔ لَا إِلٰهَ، پہلے سارے معبودوں کی کیا کر دی؟ نفی کر دی، تو یہ ہے تخلیہ، اور پھر اس کے بعد معبود ہونا کس کے لیے ثابت کیا؟ معبود صرف اللہ ہی ہیں، تو دیکھو یہ ہے کیا ہے؟ تحلیہ، تو پہلے تخلیہ ہو پھر کیا ہوتا ہے؟ تحلیہ۔ تو میں نے یہاں دو لفظ بتلا دیے آپ کو بھئی، ایک ہے تحلیہ حا کے ساتھ، اور ایک ہے تخلیہ خا کے ساتھ۔ تخلیہ خا کے ساتھ جو ہے اس کا معنی ہے خالی کرنا، اور تحلیہ حا کے ساتھ جو ہے اس کا معنی ہے مزین کرنا، مزین۔ تو پہلے تخلیہ ہوتا ہے خا کے ساتھ اور پھر تحلیہ ہے حا کے ساتھ۔ بلکہ آسان لفظوں میں یوں ہی کہیے، پہلے نفی ہوتی ہے پھر کیا ہوتا ہے؟ اثبات۔ دیکھو پہلے انسان نہاتا ہے پھر نئے کپڑے پہنتا ہے، تو یہ نہانا یہ ہے نفی، جسم سے میل کچیل کو دور کر رہا ہے یہ ہے نفی، اور نئے کپڑے پہننا یہ ہے اثبات، مزین کر رہا ہے اپنے آپ کو، تو نفی کیا ہوتی ہے؟ مقدم ہوتی ہے اثبات پر۔ کمرے میں سفیدی کرنے لگیں تو پہلے دیواروں کو صاف کرتے ہیں پھر سفیدی کرتے ہیں، تو یہ دیواروں کو صاف کرنا، میل کو دور کرنا، گندگی کو دور کرنا یہ ہے نفی، یہ ہے نفی، اور سفیدی کرنا یہ ہے اثبات۔ اسی طرح کلمۂ توحید کے اندر: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلٰهَ یہ ہے نفی، اور إِلَّا اللهُ یہ ہے اثبات، سمجھ میں آیا؟ تو ہر جگہ نفی مقدم ہوتی ہے اور اثبات مؤخر ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی دو چیزیں ہیں، ایک ہے ہاتھوں کا اٹھانا یہ ہے تخلیہ، اور ایک ہے تکبیر کا کہنا یہ ہے تحلیہ، اور تخلیہ مقدم ہوتا ہے کس پر؟ تحلیہ پر۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: لِأَنَّ فِعْلَهُ نَفْيُ الْكِبْرِيَاءِ عَنْ غَيْرِ اللهِ تَعَالَى، اس لیے کیونکہ رفعِ یدین کا کرنا یہ اللہ کے علاوہ سے بڑائی کی نفی کرنا ہے، تو یہ ہوئی نفی، وَالنَّفْيُ مُقَدَّمٌ، اور نفی کیا ہوتی ہے؟ مقدم ہوتی ہے، کیونکہ آگے تکبیر اس میں تو اثبات ہے بھئی تو وہ مؤخر ہوگی۔
وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِإِبْهَامَيْهِ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، اور اٹھائے نمازی، نماز پڑھنے والا بلند کرے يَدَيْهِ اپنے دونوں ہاتھوں کو، حَتَّى يُحَاذِيَ یہاں تک کہ محاذی کر دے یعنی برابر کر دے، بِإِبْهَامَيْهِ اپنے دونوں انگوٹھوں کو، شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ اپنی دونوں کانوں کی لو کے۔ شَحْمَةُ الْأُذُنِ یہ جو کان کی لو ہے، یہ جو کان کا نرم حصہ ہے نیچے والا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شحمۃ الاذن۔ تو نمازی اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ برابر کر دے اپنے دونوں انگوٹھے شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ اپنی دونوں کانوں کی لو کے، وَعِنْدَ شَافِعٍ رَحِمَهُ اللهُ اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک: يَرْفَعُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ، اٹھائے گا دونوں ہاتھ إِلَى مَنْكِبَيْهِ کہاں تک؟ اپنے دونوں کندھوں تک۔ اپنے کندھوں تک ہاتھ اٹھائے گا، تو ہمارے نزدیک سنت طریقہ کیا ہے؟ ہاتھوں کو کہاں تک اٹھایا جائے؟ کانوں کی لو تک، جبکہ امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ سب سنتیں ہیں سرورِ کونین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی، دونوں کا ثبوت ہے حدیث سے بھئی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی تمام سنتوں کی حفاظت فرمائی اور اس پر لوگوں کو تقسیم فرما دیا، تو کچھ لوگ جو ہیں وہ کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہیں تو اس سنت کو برقرار رکھا گیا بھئی، لوگ اس پر عمل کر رہے ہیں، اور حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ سے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا بھی ثابت ہے تو اس پر بھی بعض لوگوں کو اس پر عمل کی توفیق اللہ نے دے دی وہ اس پر عمل کر رہے ہیں، تو مقصد کیا ہے وہی حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ کی ایک ایک سنت کی اللہ نے حفاظت فرمائی ہے بھئی۔
تو امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں: يَرْفَعُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ، ہاتھ اٹھائے گا اپنے دونوں کندھوں تک، وَعَلَى هَذَا تَكْبِيرَةُ الْقُنُوتِ وَالْأَعْيَادِ وَالْجَنَازَةِ، اور اسی اختلاف پر ہیں بھئی قنوت کی تکبیر بھی، یعنی دعائے قنوت کے لیے تکبیر کہتے ہوئے اس میں جو ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اس میں بھی یہی اختلاف ہے، وَالْأَعْيَادِ، اور اسی اختلاف پر ہیں بھئی عیدوں کی تکبیریں بھی یعنی اس میں بھی یہی اختلاف ہے، وَالْجَنَازَةِ، اور اسی اختلاف پر ہے جنازے کی تکبیر جو ہے اس میں بھی یہی۔ تو ہمارے نزدیک ان سب میں کہاں تک ہاتھ اٹھائیں گے؟ کانوں تک بھئی، اور ان کے نزدیک؟ کندھوں تک۔
لَهُ، ان کی دلیل جو ہے: حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، حضرت ابو حمید ساعدی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کی حدیث ہے، قَالَ وہ فرماتے ہیں: كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى مَنْكِبَيْهِ، کہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب تکبیر فرماتے، تکبیر کہتے تھے، رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى مَنْكِبَيْهِ تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے اپنے دونوں کندھوں تک، یہ ان کی دلیل ہے، اس میں کیا کہاں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر آیا؟ کندھوں تک۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے: رِوَايَةُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَالْبَرَّاءِ وَأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، اور ہماری دلیل جو ہے وہ روایت ہے حضرت وائل بن حجر رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ان کی بھی حدیث ہے، اسی طرح حضرت براء رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کی بھی حدیث ہے اور اسی طرح حضرت انس رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے بھی حدیث روایت کی گئی ہے: أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ، کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے حِذَاءَ أُذُنَيْهِ اپنے دونوں کانوں تک، یعنی اپنے دونوں کانوں کے برابر یعنی ان تک ہاتھ اٹھاتے تھے۔ یہ ایک دلیل بھئی۔
تو ہماری دلیل کیا ہوئی؟ یہ احادیث بھی ہیں، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں عقلی دلیل: وَلِأَنَّ رَفْعَ الْيَدِ لِإِعْلَامِ الْأَصَمِّ، اور اس لیے کیونکہ ہاتھ کا اٹھانا یہ بہرے کو اطلاع دینے کے لیے ہے۔ ہاتھوں کا اٹھانا کیا ہے؟ اصم کہتے ہیں بہرا شخص جسے سنائی نہیں دیتا اس کو اطلاع دینے کے لیے ہے، اطلاع دینے کے لیے۔ بھئی جیسے یہ ہاتھوں کا اٹھانا یہ غیر اللہ سے بڑائی کی نفی ہے اس کے اندر، اسی طرح یہ ہاتھوں کے اٹھانے میں بہرے شخص کو اطلاع دینا بھی ہے کہ نماز شروع ہو گئی۔ نماز کیا ہوئی؟ شروع ہو گئی، اس لیے کیونکہ وہ بہرا ہے، اللہ اکبر کہنے تو یہ تو اس کو سنائی تو دیتا نہیں، تو اس کو کس سے پتہ چلے گا نماز شروع ہو گئی ہے؟ ہاتھ اٹھانے سے اس کو پتہ چلے گا بھئی۔ اور ہاتھ کندھے تک اٹھائے جائیں اور وہ پیچھے کھڑا ہو تو اسے تو پتہ ہی نہیں چلے گا، تو کس صورت میں اسے پتہ چلے گا کہ کہاں تک ہاتھ اٹھائے جائیں؟ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھائے جائیں تو اب وہ اوپر صاف واضح اس کو ہاتھ دکھائی دیں گے اور وہ بھی سمجھ جائے گا کہ نماز شروع ہو رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دوسری دلیل آئی۔
وَلِأَنَّ رَفْعَ الْيَدِ لِإِعْلَامِ الْأَصَمِّ، اور اس لیے کیونکہ ہاتھ کا اٹھانا یہ بہرے کو اطلاع دینے کے لیے ہے، وَهُوَ بِمَا قُلْنَا، اور یہ کس کے ساتھ ہوگا بہرے کو اطلاع دینا؟ اس صورت کے ساتھ ہوگا جو ہم نے کہی یعنی کانوں تک ہاتھ اٹھانے سے ہوگا۔
وَمَا رَوَاهُ يُحْمَلُ عَلَى حَالَةِ الْعُذْرِ، یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ نے جو حدیث ذکر کی تھی بھئی، کہ وہ حدیث جس کو انہوں نے روایت کیا: يُحْمَلُ عَلَى حَالَةِ الْعُذْرِ، اس کو محمول کیا جائے گا عذر کی حالت پر۔ یعنی حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ کی عام عادت تو یہ تھی کہ آپ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھاتے تھے، لیکن اس حدیث میں جو آیا کہاں تک ہاتھ اٹھاتے؟ تو وہ کسی عذر کی وجہ سے ہوگا۔ جیسا کہ اور احادیث میں بھی آتا ہے، یہی حضرت وائل بن حجر رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فرماتے ہیں کہ میں آیا مدینہ منورہ میں اور میں نے دیکھا کہ حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ اور صحابہ جو ہیں وہ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھاتے ہیں بھئی تکبیر کہتے ہوئے، اور پھر اگلے سال میں پھر آیا تو سردی کا زمانہ تھا، چادریں اوڑھی ہوئی تھیں، چادریں وغیرہ اور گرم چیزیں پہنی ہوئی تھیں تو اسی کے اندر ہاتھ کندھوں تک اٹھا لیتے تھے، کیونکہ کانوں تک اب ہاتھ اٹھانا مشکل تھا، ہاتھ چادر کے اندر لپٹے ہوئے ہیں تو کندھوں تک ہاتھ اٹھا لیتے تھے۔ تو معلوم ہوا یہ کندھوں تک ہاتھ اٹھانا یہ کس حالت میں ہے؟ عذر کی حالت میں، جب اس طرح کوئی چیز وغیرہ پہنی ہو۔
یہ معنی ہے: وَمَا رَوَاهُ يُحْمَلُ عَلَى حَالَةِ الْعُذْرِ، اور وہ حدیث جس کو انہوں نے روایت کیا اس کو محمول کیا جائے گا عذر کی حالت پر۔
وَالْمَرْأَةُ تَرْفَعُ يَدَيْهَا حِذَاءَ مَنْكِبَيْهَا، اور عورت جو ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے گی اپنے کندھوں کے برابر تک۔ عورت کے لیے یاد رکھیے نماز اس طرح نہیں ہے جس طرح مردوں کے لیے نماز ہے۔ افعال تو وہی ہیں سارے، افعال تو سارے وہی ہیں، لیکن ان کو کرنا اس طریقے سے ہے جس میں ستر ہو، جس میں پردہ ہو۔ کیا ہو؟ پردہ زیادہ ہو، لہٰذا عورت کانوں کی لو تک نہیں اٹھائے گی بلکہ کہاں تک اٹھائے گی؟ کندھوں تک اٹھائے گی، کیونکہ اس میں اس کے لیے پردہ زیادہ ہے بھئی۔
وَهُوَ صَحِيحٌ، یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّهُ أَسْتَرُ لَهَا، کیونکہ یہ اس کے لیے زیادہ اس میں ستر ہے یعنی زیادہ پردہ ہے عورت کے لیے اس میں۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔