Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الْأَنْجَاسِ وَتَطْهِيرِهَا: تَطْهِيرُ النَّجَاسَةِ وَاجِبٌ مِنْ بَدَنِ الْمُصَلِّي وَثَوْبِهِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْهِ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ}، وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ ثُمَّ اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ“، وَإِذَا وَجَبَ التَّطْهِيرُ فِي الثَّوْبِ وَجَبَ فِي الْبَدَنِ وَالْمَكَانِ؛ لِأَنَّ الِاسْتِعْمَالَ فِي حَالَةِ الصَّلَاةِ يَشْمَلُ الْكُلَّ. بَابُ الْأَنْجَاسِ وَتَطْهِيرِهَا: انجاث جمع ہے نجس کی، نجس کی۔ تو یہ باب ہے نجاستوں، وَتَطْهِيرِهَا اور نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں۔ اس باب میں نجاستیں اور ان کے پاک کرنے کا طریقہ بیان کیا جائے گا بھئی۔ ابھی تک جو تفصیل ذکر ہو رہی تھی، وہ نجاست حکمیہ کی تھی بھئی۔ اب صاحبِ ہدایہ نجاستِ حقیقیہ کو ذکر کریں گے بھئی۔ نجاستِ حقیقیہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الْأَنْجَاسِ وَتَطْهِيرِهَا، یہ باب ہے نجاستوں کے بیان میں اور ان کے پاک کرنے کے بیان میں۔ تو انجاث جمع ہے نجس کی، یاد رکھیے، نجس بھئی، مصدر ہے: نجس ہونا، نجس ہونا، ناپاک ہونا۔ اور اسی طرح یہ نجاست کو بھی کہتے ہیں۔ نجس کس کو کہتے ہیں؟ نجاست اور ناپاکی اس کو بھی کہتے ہیں، جیسے خون ہے، پیشاب ہے، تو یہ نجاستیں ہیں بھئی۔ اور جو چیز ناپاک ہو اس کو کہتے ہیں نجس، یعنی جس پر کوئی ناپاکی لگ گئی، وہ ہوگئی ناپاک، تو اس کو کیا کہیں گے؟ نجس۔ مثلاً خون تو ہے نجس، نجاست ہے، خون نجاست ہے، اور جب یہ کپڑے کو لگ گیا تو کپڑا خود تو نجس نہیں، لیکن خون کی وجہ سے اب کیا ہو گیا؟ ناپاک ہو گیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ نجس کہیں گے بھئی، نجس بھئی۔ تو عبارت میں اب یہ لفظ آئے گا تو آپ نے غور کرنا ہے کہ نجس پڑھنا ہے یا نجس پڑھنا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: تَطْهِيرُ النَّجَاسَةِ وَاجِبٌ مِنْ بَدَنِ الْمُصَلِّي وَثَوْبِهِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْهِ، نجاست کو پاک کرنا واجب ہے نماز پڑھنے والے کے بدن سے، یعنی اس کے جسم سے، وَثَوْبِهِ اور اس کے کپڑوں سے، وَالْمَكَانِ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْهِ اور اس جگہ سے جس پر وہ نماز پڑھ رہا ہے۔ تو ان تینوں چیزوں کا نجاست سے پاک ہونا ضروری ہے نماز کی حالت میں۔ بدن بھی انسان کا پاک ہو، اس پر کوئی نجاست نہ لگی ہو، اور اسی طرح اس کے کپڑے بھی پاک ہونے چاہئیں، اور اسی طرح وہ جگہ جس پر وہ نماز پڑھ رہا ہے، وہ بھی پاک ہونی چاہیے۔ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ}، بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ}، اور آپ اپنے کپڑے فَطَهِّرْ تو ان کو پاک رکھیے، ان کو پاک کیجیے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اور مراد اس سے نماز کی حالت ہے کہ نماز کی حالت میں کیا کیجیے اپنے کپڑوں کو؟ پاک رکھیے۔ پاک رکھیے کیونکہ نماز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات کی حالت ہے تو اس وقت انسان کو بہترین حالت پر ہونا چاہیے، اور بہترین حالت کون سی ہے کہ انسان کیا ہو؟ پاک ہو بھئی، ناپاکی وہاں کپڑوں وغیرہ پر نہ ہو۔ دوسری یہ تو آیت دلیل تھی، وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ“، حتّا یا حَتَّ يَحُتُّ کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو رگڑنا، رگڑنا، ملنا۔ ثُمَّ اقْرُصِيهِ، اور قَرَصَ يَقْرُصُ کے معنی ہوتے ہیں انگلیوں کے کناروں سے کسی چیز کو ملنا، یعنی کھرچنا، انگلیوں کے کناروں سے۔ تو حضور علیہ السلام، یہ حضور علیہ السلام کے پاس کوئی صحابیہ تشریف لائیں اور انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے کپڑوں پر حیض کا خون لگ جاتا ہے تو ہم کیا کریں؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”حُتِّيهِ“، اس کو کیا کرو؟ اس کو رگڑ دو، ”ثُمَّ اقْرُصِيهِ“، پھر اس کو کھرچ دو، یعنی انگلیوں کے کناروں سے اس کو کھرچ دو، ”ثُمَّ اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ“، پھر اس کو پانی سے دھو لو، ”وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ“، اور تجھے کوئی نقصان نہیں دے گا اس کا نشان بھئی۔ مثلاً تم نے اس کو رگڑ دیا، کھرچ دیا اور دھو لیا، پھر بھی اگر اس کا کوئی داغ وغیرہ باقی ہے تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہے بھئی، کپڑے پاک ہو جائیں گے بھئی۔ تو ”وَلَا يَضُرُّكِ“، یہ مؤنث کی ضمیر ہے بھئی کیونکہ پیچھے ”حُتِّيهِ“ اور ”ثُمَّ اقْرُصِيهِ“، یہ کون سے صیغے آ رہے ہیں؟ مؤنث کے صیغے آ رہے ہیں۔ ”وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ“، اور نقصان نہیں دے گا تجھے اس کا نشان۔ وَإِذَا وَجَبَ، جی تو یہ دلیل ذکر کر دی۔ معلوم ہوا کپڑوں کا نجاست سے پاک کرنا ضروری ہے بھئی۔ آیت بھی ذکر کر دی دلیل کے طور پر اور حدیث بھی۔ لیکن اس سے تو صرف کپڑوں کے پاک کرنے کا پتہ چلا، باقی بدن اور جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری، اس کی کیا دلیل ہے؟ تو وہ صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِذَا وَجَبَ التَّطْهِيرُ فِي الثَّوْبِ وَجَبَ فِي الْبَدَنِ وَالْمَكَانِ، جب تطہیر کا حکم واجب ہوا، پاک کرنا واجب ہوا فِي الثَّوْبِ کس کے اندر؟ کپڑے میں، وَجَبَ فِي الْبَدَنِ وَالْمَكَانِ تو پاک کرنا واجب ہوا بدن اور مکان میں بھی، جگہ کے اندر بھی، لِأَنَّ الِاسْتِعْمَالَ فِي حَالَةِ الصَّلَاةِ يَشْمَلُ الْكُلَّ، اس لیے کیونکہ استعمال کرنا نماز کی حالت میں وہ ان سب کو شامل ہے۔ کپڑوں کے پاک کرنے کا حکم دیا شریعت نے کس حالت کے اندر؟ نماز کی حالت میں۔ معلوم ہوا نماز کی حالت میں کپڑے صاف ہونے چاہئیں۔ تو جب کپڑے پاک ہونے چاہئیں تو اسی سے پتہ چل گیا کہ بدن اور جگہ بھی کیا ہونی چاہیے؟ پاک ہونی چاہیے کیونکہ نماز کی حالت میں صرف کپڑے نہیں استعمال ہوں گے بلکہ بدن بھی استعمال ہوگا، وہ جگہ بھی استعمال۔ تو جب کپڑوں کے پاک کرنے کا پتہ چل گیا تو اسی سے پتہ چل گیا کہ اور جو چیزیں نماز کی حالت میں استعمال ہوں گی، ان کا بھی پاک ہونا ضروری ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الِاسْتِعْمَالَ فِي حَالَةِ الصَّلَاةِ يَشْمَلُ الْكُلَّ، اس لیے کیونکہ استعمال کرنا نماز کی حالت میں وہ ان سب چیزوں کو شامل ہے، یعنی بدن کو بھی اور مکان کو بھی کپڑوں کے ساتھ ساتھ بھئی۔ وَيَجُوزُ تَطْهِيرُهَا بِالْمَاءِ وَبِكُلِّ مَائِعٍ طَاهِرٍ يُمْكِنُ إِزَالَتُهَا بِهِ: تطهير النجاسة، ها ضمیر کس کو راجع ہے؟ نجاست۔ وَيَجُوزُ تَطْهِيرُهَا، نجاست کو پاک کرنا جائز ہے بِالْمَاءِ پانی کے ساتھ، وَبِكُلِّ مَائِعٍ طَاهِرٍ، مائع کہتے ہیں بہنے والی چیز کو، اور ہر پاک بہنے والی چیز کے ساتھ، يُمْكِنُ إِزَالَتُهَا بِهِ، بھئی مائع لفظ آیا، بہنے والی چیز، اس کی ایک صفت آگئی طاهر بھئی کہ وہ بہنے والی چیز کیسی ہونی چاہیے؟ پاک ہونی چاہیے۔ تو مائع ہے نکرہ، آگے آ رہا ہے: يُمْكِنُ إِزَالَتُهَا بِهِ، یہ فعل آگیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہ صفتِ ثانی بنے گی مائع کے لیے، صفتِ ثانی۔ اور ترجمہ کرنے کا کیا طریقہ ہے پھر؟ ایک طریقہ تو میں ذکر کرتا ہوں کہ موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ۔ اسی طرح یہ بھی شاید میں آپ کو بتا چکا ہوں، عربی میں تو موصوف مقدم ہوتا ہے اور صفت مؤخر ہوتی ہے: رَجُلٌ شُجَاعٌ، رجل موصوف، شجاع اس کی صفت، تو موصوف مقدم ہے، صفت مؤخر۔ لیکن اسی کا اردو میں ترجمہ کریں، کیا ترجمہ آپ کرتے ہیں؟ بہادر آدمی۔ دیکھو بہادر کو مقدم کر دیا جو مؤخر تھا عربی میں، اور آدمی کا لفظ عربی میں مقدم تھا اس کو آپ نے مؤخر کر دیا۔ تو اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے اور موصوف مؤخر ہوتا ہے۔ تو دو طریقے ہیں موصوف صفت کے ترجمہ کرنے کے اردو میں بھئی، آسان طریقے: ایک طریقہ کیا ہے کہ اس صفت کو اردو میں مقدم کر دو۔ دوسرا طریقہ یہ کہ صفت کو مؤخر ہی رکھو لیکن موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی کا، ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ۔ تو یہاں پر اب دو صفات آگئیں، تو اس کا ترجمہ کرنے کا طریقہ پھر کیسے کریں گے ترجمہ؟ یوں کیجیے: ایک صفت کو اٹھا کر مقدم کر دیا کریں بھئی، ایک صفت کو مقدم کر دیں، اور دوسری کے لیے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں بھئی۔ تو کیسے ترجمہ کریں گے؟ وَبِكُلِّ مَائِعٍ طَاهِرٍ يُمْكِنُ إِزَالَتُهَا بِهِ، اور جائز ہے نجاست کو پاک کرنا پانی کے ساتھ اور ہر ایسی پاک بہنے والی چیز کے ساتھ کہ ممکن ہو اس نجاست کو دور کرنا اس سے، کہ اس کے ذریعے نجاست کو دور کرنا ممکن ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ہر ایسی پاک بہنے والی چیز، دیکھو پاک کو میں نے اس بہنے والی چیز پر کیا کر دیا؟ مقدم۔ اور دوسری صفت کے لیے شروع میں کیا لے آیا؟ ایسی۔ ہر ایسی پاک بہنے والی چیز کہ اس کے ذریعے نجاست کو دور کرنا ممکن ہو۔ كَالْخَلِّ جیسے سرکہ ہے، وَمَاءِ الْوَرْدِ اور گلاب کا پانی، یعنی عرقِ گلاب ہے، وَنَحْوِ ذَلِكَ اور اس جیسی چیزیں، مِمَّا إِذَا عُصِرَ انْعَصَرَ، ان چیزوں میں سے کہ جب ان کو نچوڑا جائے انْعَصَرَ تو وہ نچڑ جائیں۔ جب ان کو نچوڑا جائے تو وہ نچڑ جائیں۔ جیسے پانی ہے بھئی، کپڑے پر پانی لگایا ہے، آپ نے اس کو نچوڑیں گے، پانی اس سے نکل جائے گا۔ اور جیسے سرکہ ہے، کپڑے پر لگایا، اس کو نچوڑیں گے تو سرکہ کپڑے سے نکل جائے گا۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ وہ نچوڑنے سے نچڑتی نہیں ہیں بلکہ اور پھیل جائیں گی، جیسے گھی ہے بھئی۔ گھی اب کپڑے پر لگایا ہے، وہ نچوڑنے سے نکلے گا نہیں کپڑے سے، اسی طرح اور کپڑے کے اندر پھیل جائے گا بھئی۔ کچھ تو نکل آیا لیکن باقی تو اسی طرح نکلتا نہیں ہے نچوڑنے سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسی طرح دودھ ہے وغیرہ، تو وہ نکل گئے۔ جب یہ قید لگا دی: مِمَّا إِذَا عُصِرَ انْعَصَرَ، کہ جب اس کو نچوڑا جائے تو وہ چیز نچڑ جائے، کپڑے سے نکل جائے، تو گھی اور دودھ وغیرہ اس جیسی چیزیں نکل گئیں کیونکہ اگر ان کو نچوڑا بھی جائے، کچھ تو نکل جائے گا لیکن پھر بھی اسی طرح کپڑے کے اندر وہ چیز باقی رہے گی۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، یعنی وہ فرماتے ہیں کہ نجاست صرف پانی سے ہی نہیں صاف ہوتی بلکہ ہر ایسی پاک بہنے والی چیز سے نجاست پاک ہو جاتی ہے جس کے ذریعے اس کو دھویا جائے تو وہ نجاست کو ختم کر دے، اس کو دور کر دے، اور نیز وہ چیز نچوڑنے سے نچڑ بھی جاتی ہو، وہ ایسی بہنے والی چیز ہو۔ یہ کس کا مذہب ہے؟ شیخین رحمہما اللہ کا۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَزُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالْمَاءِ، جبکہ امام محمد اور امام زفر اور امام شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالْمَاءِ، کہ جائز نہیں ہے مگر پانی کے ساتھ۔ یعنی نجاست صرف کس چیز سے دھونے سے پاک ہوگی؟ پانی کے ساتھ دھونے سے پاک ہوگی، سرکے وغیرہ سے دھونے سے پاک نہیں ہوگی۔ لِأَنَّهُ يَتَنَجَّسُ بِأَوَّلِ الْمُلَاقَاةِ، اس لیے کیونکہ یہ چیز جو ہے نجس ہو جاتی ہے پہلی ملاقات سے ہی، وَالنَّجِسُ لَا يُفِيدُ الطَّهَارَةَ، اور جو چیز ناپاک ہو وہ پاک کرنے کا فائدہ نہیں دیتی، پاکی کا فائدہ نہیں دیتی، إِلَّا أَنَّ هَذَا الْقِيَاسَ تُرِكَ فِي الْمَاءِ لِلضَّرُورَةِ، مگر یہ کہ اس قیاس کو چھوڑ دیا گیا پانی کے اندر بوجہ ضرورت کے۔ امام محمد، امام زفر اور امام شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نجاست صرف پانی کے ساتھ دھونے سے پاک ہوگی، باقی چیزوں کے ساتھ دھونے سے پاک نہیں۔ وجہ اس کی یہ، وہ فرماتے ہیں کہ دوسری چیزیں جو ہیں وہ جیسے ہی نجاست کے ساتھ ملیں گی تو وہ چیزیں اولِ ملاقات کے ساتھ ہی نجس ہو جائیں گی، ناپاک ہو جائیں گی، اور جب خود ناپاک ہو گئیں تو ناپاک چیز سے تو کوئی چیز پاک نہیں ہوتی، تو اب وہ کپڑے کو بھی پاک نہیں کریں گی بھئی، کپڑے کو بھی اور اس چیز کو بھی۔ بھئی دیکھیے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایک چیز جب ناپاک ہو گئی، مثلاً کپڑا ہے، تو اب قیامت تک اس کو دھوتے رہیں، اس کو پاک نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے، کیوں؟ وجہ دیکھیے بھئی، کپڑے پر نجاست لگ گئی، مثلاً خون لگ گیا، آپ اس کو پانی سے دھوتے ہیں، جیسے ہی پانی اس کو لگے گا وہ پانی کیا ہو جائے گا؟ ناپاک ہو جائے گا۔ ناپاک ہو جائے گا۔ اب ٹھیک ہے، خون کے اجزاء تو سارے ختم ہو گئے، خون کے اجزاء تو سارے، لیکن وہ جو پانی رہ گیا، وہ کیا تھا؟ ناپاک۔ اگلا اور پانی ڈالیں، وہ بھی اس پانی ناپاک سے ملے گا، وہ بھی ناپاک ہو جائے گا۔ وہ دوسرا نکل گیا، دوسرا پانی رہ گیا، لیکن وہ بھی ناپاک ہے۔ اب تیسری دفعہ پھر پانی ڈالا، وہ بھی اس اگلے پانی کے ساتھ جب ملے گا، وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ ناپاک ہو جائے گا۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایک چیز جب ناپاک ہو گئی تو اب وہ دھونے سے پاک ہو ہی نہیں سکتی، لیکن اس قیاس کو پانی کے اندر ترک کر دیا گیا، چھوڑ دیا گیا ضرورت کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ ضرورت کی وجہ سے۔ کیونکہ اگر یہ، کیونکہ چیز کو پاک کرنے کی، کپڑے کو پاک کرنے کی لوگوں کو حاجت ہے اور ضرورت ہے بھئی، اور اگر یہ حکم لگا دیا جائے کہ یہ اب جتنی دفعہ بھی دھو لو، یہ پاک ہی نہیں ہوگی، پھر تو لوگ بڑی تنگی اور مشکل میں پڑ جائیں گے۔ ہر نماز کے لیے الگ کپڑے کہاں سے لے کر آئیں بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا پانی کے اندر اس ضرورت کی بنا پر اس قیاس کو چھوڑ دیا گیا، لیکن باقی چیزیں اسی طرح قیاس کے مطابق ان پر، ان میں عمل کیا جائے گا۔ اور قیاس کے مطابق تو جب سرکے سے بھی کسی کپڑے کو دھوئیں گے تو وہ اس پر نجاست لگی ہے، سرکہ جیسے ہی اس کے ساتھ لگے گا، وہ کیا ہو جائے گا؟ ناپاک، اور جب وہ ناپاک ہوا تو اب پاک کرنے کا فائدہ نہیں دے گا۔ اسی طرح عرقِ گلاب سے بھی دھوئیں گے، وہ جیسے ہی اس نجاست کے ساتھ ملے گا، وہ کیا ہو جائے گا؟ ناپاک، اس کے ساتھ اب جب وہ ناپاک ہوا تو اس کے ساتھ کپڑا صاف نہیں ہوگا۔ بھئی دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ يَتَنَجَّسُ بِأَوَّلِ الْمُلَاقَاةِ، اس لیے کیونکہ یہ چیز جو ہے، جو بہنے والی چیز ہے، یہ نجس ہو جائے گی پہلی ملاقات سے ہی، یعنی جب اس نجاست سے پہلی ملاقات کرے گی، اس سے ملے گی تو ساتھ ہی یہ نجس ہو جائے گی، وَالنَّجِسُ لَا يُفِيدُ الطَّهَارَةَ، اور جو چیز ناپاک ہوتی ہے وہ طہارت کا فائدہ نہیں دیتی، إِلَّا أَنَّ هَذَا الْقِيَاسَ تُرِكَ فِي الْمَاءِ لِلضَّرُورَةِ، مگر یہ کہ اس قیاس کو پانی کے اندر ترک کر دیا گیا، چھوڑ دیا گیا بوجہ ضرورت کے۔ وَلَهُمَا: اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمَائِعَ قَالِعٌ، کہ بہنے والی چیز جو ہے وہ قَالِعٌ اکھاڑنے والی ہے۔ کیا کرتی ہے وہ؟ اکھاڑ ڈالتی ہے چیز کو۔ جب نجاست کے اجزاء کپڑے وغیرہ کسی چیز پر لگے ہیں، اب آپ اس کو سرکے سے دھوئیں گے، یہ بہنے والی پاک چیز ہے تو یہ کیا کرے گی؟ اس نجاست کو جڑ سے ہی وہاں سے اکھاڑ دے گی، اس کے اجزاء وہاں سے ختم کر دے گی۔ یہ معنی ہے: قَالِعٌ، تو شیخین کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمَائِعَ قَالِعٌ، کہ بہنے والی چیز جو ہے وہ اکھاڑنے والی ہے، وَالطَّهُورِيَّةُ بِعِلَّةِ الْقَلْعِ، اور پاک کرنا کس وجہ سے ہوتا ہے؟ بِعِلَّةِ الْقَلْعِ، اکھاڑنے کی علت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کسی چیز کو مطہر کب قرار دیا جاتا ہے؟ پانی کو مطہر ہم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ وہ نجاست کو اکھاڑ دیتا ہے، اس کو جڑ سے ہی ختم کر دیتا ہے۔ تو یہ معنی ہے: وَالطَّهُورِيَّةُ بِعِلَّةِ الْقَلْعِ، اور پاک کرنا جو ہے وہ اکھاڑنے کی علت کی وجہ سے ہوتا ہے، بِعِلَّةِ الْقَلْعِ وَالْإِزَالَةِ، ازالہ کا عطف قلع پر ہے، اور پاک کرنا جو ہے وہ اکھاڑنے اور زائل کرنے کی علت کی وجہ سے ہوتا ہے، وَالنَّجَاسَةُ لِلْمُجَاوَرَةِ، اور نجس ہونا جو ہے وہ ملے ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نجس ہونا ملے ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، مجاورت: ملا ہونا، ساتھ ہونا کسی چیز کے، فَإِذَا انْتَهَتْ أَجْزَاءُ النَّجَسِ يَبْقَى طَاهِرًا، پس جب ختم ہو جائیں گے ناپاکی کے اجزاء تو وہ کپڑا پاک رہ جائے گا، پاک ہو کر باقی، وہ چیز پاک ہو کر باقی رہ جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی دیکھیے، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل ہے، وہ فرماتے ہیں کوئی بھی پاک بہنے والی چیز ہو جس سے، جو نجاست کو ختم کر سکے، اس کے ساتھ دھونے سے کپڑا کیا ہو جائے گا؟ کپڑا یا کوئی چیز جو بھی نجس ہے وہ پاک ہو جائے گا۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ کہ یہ جو بہنے والی چیز ہوتی ہے، یہ کیا ہے؟ اکھاڑنے والی ہے نجاست کو، اور وہ کپڑا کیا ہے؟ ناپاک ہے، کیوں ناپاک ہے؟ اس کے ساتھ نجاست ملی ہوئی ہے، نجاست اس کے ساتھ مجاور ہے، اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے، لگی ہوئی ہے۔ تو اس کپڑے کے ساتھ نجاست کی مجاورت ہے۔ تو جب اس کے اوپر یہ بہنے والی پاک چیز کے ساتھ اس کو دھویا تو یہ بہنے والی پاک چیز کیا کرے گی؟ اس نجاست کو اکھاڑ ڈالے گی، اور جب اس نجاست کو اکھاڑ دیا، اس کو زائل کر دیا، ختم کر دیا تو پھر اس کو کیا قرار دیں گے؟ پاک، کہ اس نے اس کو کیا کر دیا ہے؟ تو وہ کپڑا ناپاک کیوں تھا؟ نجاست کے ساتھ ملنے کی وجہ سے۔ اور پاک ہونا کس وجہ سے ہوتا ہے؟ جب اس نجاست کے اجزاء وہاں سے اکھڑ جائیں، ختم ہو جائیں۔ تو جب وہ مائع کے ذریعے، اس بہنے والی چیز کے ذریعے ہم اس کو دھوئیں گے تو وہ بہنے والی چیز کیا کرے گی؟ نجاست کو وہاں سے اکھاڑ ڈالے گی، اور جب نجاست وہاں سے اکھڑ گئی، زائل ہو گئی تو اب کیا حکم لگایا جائے گا؟ یہ کپڑا یا چیز کیا ہو گئی؟ پاک ہو گئی، پاک ہو گئی بھئی۔ حاصلِ دلیل یہ ہوا کہ پانی کو مطہر قرار دیا گیا کس وجہ سے؟ کہ یہ نجاست کو اکھاڑ ڈالتا ہے، اور یہی وصف ان چیزوں، بہنے والی چیزوں میں بھی موجود ہے۔ یہ بھی کیا کرتے ہیں؟ نجاست کو اکھاڑ ڈالتے ہیں، ختم کر دیتے ہیں۔ جب پانی نجاست کو اکھاڑ ڈالتا ہے اور ختم کر دیتا ہے تو اس کپڑے اور اس چیز کو کیا قرار دیا جاتا ہے؟ پاک قرار دیا، تو جب کوئی اور چیز بھی اس نجاست کو اکھاڑ ڈالے اور ختم کر دے تو کیا حکم لگایا جائے گا؟ کہ وہ کپڑا وغیرہ پاک ہو گیا۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی دیکھیے دوبارہ بھئی دلیل: وَلَهُمَا، شیخین کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمَائِعَ قَالِعٌ، کہ وہ پاک بہنے والی چیز جو ہے قَالِعٌ وہ اکھاڑنے والی ہے، کس کی طرح؟ پانی کی طرح۔ وَالطَّهُورِيَّةُ بِعِلَّةِ الْقَلْعِ وَالْإِزَالَةِ، اور مطہر ہونا کس وجہ سے ہوتا ہے؟ کسی چیز کو مطہر کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ طہوریت کا معنی کریں: مطہر ہونا، کیا ہونا؟ طہور کا کیا معنی تھا؟ مطہر نا، اور اس کے ساتھ یائے مشدد اور تا ساتھ ملا دی گئی، مصدر بن گیا اب یہ، طہوریت، کیا معنی؟ مطہر ہونا۔ مطہر ہونا کب ہوگا؟ کس وجہ سے کسی چیز کو مطہر قرار دیا جائے گا؟ جب وہ نجاست کو اکھاڑ ڈالتی ہو وہ چیز، نجاست کو ختم کر دیتی ہو تو اس کو کیا کہیں گے کہ یہ چیز کیا ہے؟ مطہر ہے۔ تو یہی ذکر کر رہے ہیں کہ یہ جو بہنے والی چیزیں ہیں یہ اکھاڑنے والی ہیں نجاست کو پانی کی طرح، اور مطہر ہونا کس وجہ سے ہوتا ہے؟ کسی چیز کو مطہر کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ بِعِلَّةِ الْقَلْعِ وَالْإِزَالَةِ، نجاست کو زائل کرنے اور اکھاڑنے کی علت کی وجہ سے۔ جو چیز بھی نجاست کو اکھاڑنے والی ہے وہ کیا اس کو کیا کہا جائے گا؟ مطہر۔ وَالنَّجَاسَةُ لِلْمُجَاوَرَةِ، اور اس چیز کا یا کپڑے وغیرہ کا نجس ہونا وہ کس وجہ سے ہے؟ نجاست کے ساتھ ملے ہونے کی وجہ سے ہے اس کا نجس ہونا۔ فَإِذَا انْتَهَتْ أَجْزَاءُ النَّجَسِ، پس جب اس چیز سے ہم اس کو دھوئیں گے اور تو یہ چیز کیا کرے گی یہ بہنے والی چیز؟ نجاست کے اجزاء کو اکھاڑ دے گی، ختم کرے گی۔ فَإِذَا انْتَهَتْ أَجْزَاءُ النَّجَسِ، جب ختم ہو جائیں گے اس نجاست کے اجزاء، يَبْقَى طَاهِرًا تو وہ چیز پاک ہو کر باقی رہ جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَجَوَابُ الْكِتَابِ لَا يُفَرِّقُ بَيْنَ الثَّوْبِ وَالْبَدَنِ، وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: اور یہ جو کتاب، یعنی قدوری کا جواب ہے، یعنی قدوری کے اندر جو عبارت آئی، یہ فرق نہیں کرتا بَيْنَ الثَّوْبِ وَالْبَدَنِ کپڑے اور بدن کے بیچ، کپڑے اور بدن۔ بھئی قدوری کی عبارت ذرا دیکھیے: وَيَجُوزُ تَطْهِيرُهَا بِالْمَاءِ، اور جائز ہے نجاست کو پاک کرنا پانی کے ساتھ، وَبِكُلِّ مَائِعٍ طَاهِرٍ، ہر پاک بہنے والی چیز۔ اب دیکھیے، یہاں یہ نہیں ذکر کہ کپڑے کو نجاست سے پاک کرنا جائز ہے پانی کے ساتھ اور ہر بہنے والی چیز کے ساتھ، بلکہ عبارت عام ہے۔ اس عبارت سے معلوم ہو رہا ہے کہ پانی اور بہنے والی چیز کے ساتھ نجاست کو پاک کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ کس پر لگی ہو؟ کپڑے پر، چاہے کس پر لگی ہو؟ بدن پر۔ کوئی یہاں تفرقہ کیا گیا؟ کہا گیا کہ کپڑے کی نجاست وہ صاف ہوگی پانی اور بہنے والی چیز سے؟ نہیں، کپڑے کا ذکر نہیں، تو یہ شامل ہوا کس کو؟ کپڑے کو بھی اور بدن کو بھی۔ یہ معنی ہے کہ اس نے کتاب کے جو جواب ہے اس نے فرق نہیں، وہ فرق نہیں کرتا بَيْنَ الثَّوْبِ وَالْبَدَنِ، کپڑے اور بدن کے درمیان۔ یعنی دونوں معلوم ہوا اس سے صاف ہو جائیں گے۔ پانی سے تو ہوتا ہی ہے بدن صاف، معلوم ہوا بہنے والی چیز سے بھی کیا ہو جائے گا؟ بدن پر نجاست لگی ہے، خون وغیرہ لگا ہے تو سرکے وغیرہ سے دھونے سے کیا ہو جائے گا وہ؟ پاک ہو جائے گا۔ وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، اور یہی قول ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا، وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہ ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے۔ وَعَنْهُ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے، فَلَمْ يُجَوِّزْ فِي الْبَدَنِ بِغَيْرِ الْمَاءِ، پس انہوں نے جائز قرار نہیں دیا بدن کے اندر پانی کے علاوہ کو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دوسری روایت کیا ہے؟ وہ فرق کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کپڑے وغیرہ جو ہیں ان میں تو ہر پاک بہنے والی چیز سے نجاست کو صاف کیا جا سکتا ہے، لیکن بدن پر اگر کوئی نجاست ہو تو وہ وہ پانی کے علاوہ اور دوسری چیزوں سے صاف نہیں ہوگی بھئی۔ وَإِذَا أَصَابَ الْخُفَّ نَجَاسَةٌ لَهَا جِرْمٌ كَالرَّوْثِ وَالْعَذِرَةِ وَالدَّمِ وَالْمَنِيِّ فَجَفَّتْ فَدَلَكَهُ بِالْأَرْضِ جَازَ: اور جب لگ جائے موزے کو کوئی ایسی نجاست لَهَا جِرْمٌ جس کا جسم ہو۔ نَجَاسَةٌ نکرہ آیا، اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ کیوں صفت بنتا ہے؟ کیونکہ وہ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں۔ تو نکرہ کے بعد نکرہ آتا ہے، اس لیے اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ صفت۔ اسی طرح ایک جملہ اسمیہ بھی ہوتا ہے جو مبتدا اور خبر سے مل کر بنتا ہے، تو وہ بھی جب مبتدا اور خبر سے مل کر کیا بن جائے گا؟ جملہ، اور جملہ تو کس کے حکم میں؟ نکرہ۔ تو لہٰذا اگر نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ بھی آ جائے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ جیسے یہاں پر ہے، نجاست کا لفظ ہے نکرہ، اور اس کے بعد آیا: لَهَا جِرْمٌ، لَهَا ہے خبرِ مقدم، جِرْمٌ ہے مبتدائے مؤخر، مبتدائے مؤخر اپنی خبرِ مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر یہ صفت ہوئی کس کی؟ نجاست کی۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ، کیا طریقہ بتلایا؟ موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آئیں گے؟ ایسا۔ اب دیکھیے ترجمہ: وَإِذَا أَصَابَ الْخُفَّ نَجَاسَةٌ لَهَا جِرْمٌ، اور جب لگے موزے کو ایسی نجاست جس کا جسم ہو، یعنی ظاہری جسم ہو، كَالرَّوْثِ جیسے کہ گوبر ہے، وَالْعَذِرَةِ اور جیسے پاخانہ ہے، عذرہ انسان کے فضلے کو کہتے ہیں بھئی۔ كَالرَّوْثِ جیسے گوبر ہے، وَالْعَذِرَةِ اور پاخانہ ہے، وَالدَّمِ اور خون ہے، وَالْمَنِيِّ اور جیسے کہ منی ہے، تو یہ ایسی نجاستیں ہیں جن کا جسم ہے، جن کا کیا ہے؟ جسم ہے۔ جسم، آگے بتلائیں گے کہ جس کا جسم نہ ہو، مراد یہ ہے کہ خشک ہونے کے بعد بھی اس کا جسم باقی رہتا ہے۔ اب جیسے پیشاب ہے، جسم تو پیشاب کا بھی ہے، اس کا بھی وجود ہے، لیکن خشک ہونے کے بعد اس کا کوئی جسم وغیرہ باقی نہیں رہتا، تو یہاں وہ مراد ہے کہ خشک ہونے کے بعد بھی ان کا جسم باقی رہتا ہے، جیسے یہ سب ذکر ہوئے۔ تو جب کوئی موزے کو ایسی کوئی نجاست لگ جائے جس کا کوئی جسم ہو، فَجَفَّتْ تو وہ نجاست کیا ہوئی؟ خشک ہو گئی، فَدَلَكَهُ بِالْأَرْضِ تو اس شخص نے کیا کیا اس کو؟ رگڑ دیا زمین کے ساتھ، زمین کے ساتھ اس کو مل دیا، رگڑ دیا اچھی طرح، جَازَ تو بھی یہ بھی جائز ہے، یعنی نماز کے حق میں یہ اب پاک ہو گیا۔ اب اس کے اندر نماز پڑھی جا سکتی ہے اس موزے کے اندر۔ معلوم ہوا، جب کوئی ایسی نجاست موزے وغیرہ کو لگے جس کا ظاہری جسم ہو، خشک ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، تو جب یہ نجاست خشک ہو جائے اور پھر اس کو کیا کر دیا جائے؟ زمین پر رگڑ دیا جائے، اچھی طرح اس جگہ سے ختم کر دیا جائے موزے پر سے، تو وہ موزہ پاک ہو جائے گا، اس کو پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے ساتھ نماز جائز ہے بھئی۔ یہ معنی ہے بھئی جَازَ کہ جائز ہے، یعنی نماز کے حق میں یہ صاف ہو گیا، پاک ہو گیا۔ وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ، اور یہ استحسان ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ اس کو جو جائز قرار دیا گیا یہ استحسان کی وجہ سے۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جائز نہیں، یعنی اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں، اس کو پاک نہیں کہیں گے، وَهُوَ الْقِيَاسُ، اور یہی قیاس ہے بھئی۔ قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ یہ پاک نہیں ہونا چاہیے، إِلَّا فِي الْمَنِيِّ خَاصَّةً، مگر منی کے اندر خاص طور پر بھئی، منی کے اندر، کہ وہ پاک ہو جاتی ہے جب اس کو کھرچ دیا جائے۔ وجہ کیا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُتَدَاخِلَ فِي الْخُفِّ لَا يُزِيلُهُ الْجَفَافُ وَالدَّلْكُ، اس لیے کیونکہ وہ جو داخل ہو گیا موزے کے اندر، بھئی وہ نجاست موزے پر لگی تو اس کے کچھ اجزاء موزے کے اندر جذب ہو گئے، کیا ہوئے؟ جذب۔ تو وہ جو اجزاء وہ موزے کے اندر داخل ہو گئے، لَا يُزِيلُهُ الْجَفَافُ، جفاف کا معنی خشک ہونا، دَلْك کا معنی ملنا، رگڑنا، تو اس کو، وہ جو جذب ہو گئے، جو داخل ہو گئے، ان کو خشک ہونا اور رگڑنا دور نہیں کرتا۔ خشک ہونے اور رگڑنے سے وہ دور نہیں ہوتے کیونکہ وہ تو اندر داخل ہو گئے موزے کے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منی کے علاوہ باقی چیزیں جو ہیں وہ منی جو ہے اس کا حکم الگ ہے، اس کی تفصیل آگے آ جائے گی۔ اس کے علاوہ باقی کوئی ایسی نجاست جس کا ظاہری جسم ہے، وہ موزے کو لگ گئی اور موزے کو موزہ خشک ہوا اور پھر زمین پر رگڑ دیا تو یہ صاف نہیں ہوگا، پاک نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اس نجاست کے اجزاء اس موزے کے اندر داخل ہو گئے اور خشک ہونے اور پاک ہونے سے تو وہ اجزاء نہیں نکلیں گے بھئی، لہٰذا یہ صاف نہیں ہوگا۔ یہ ہے قیاس بھئی، قیاس۔ لیکن شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ پاک ہو جائے گا جیسا متن میں آیا، اور یہ کس بنا پر؟ استحسان کی بنا پر، استحسان کی بنا پر بھئی۔ آپ کو میں نے بتلایا تھا: ایک ہے استحسان، ایک ہے قیاس۔ یاد رکھیے استحسان جو ہے ہر ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس کے مقابلے میں کیا ہو؟ قیاس موجود ہو۔ کیا موجود ہو؟ قیاس موجود ہو بھئی، ہر ایسی دلیل۔ لیکن زیادہ تر رائج اور شائع اس کا استعمال جو ہے قیاسِ خفی کے اندر ہے، قیاسِ خفی کے اندر۔ قیاسِ خفی کو زیادہ تر استحسان کہا جاتا ہے، لیکن دیکھیے قیاسِ خفی کو بھی استحسان تب کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی موجود ہو۔ اگر قیاس خفی ہے، قیاسِ خفی کا کیا معنی؟ یعنی ذرا گہری بات ہے، کیا ہے؟ ایک قیاسِ جلی ہوتا ہے کہ فوراً ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے، ایک قیاسِ خفی ہوتا ہے جس میں تھوڑا سا غور کرنا پڑتا ہے، کیا کرنا پڑتا ہے؟ غور کرنا پڑتا ہے۔ تو قیاس خفی ہو تو پھر بھی اس کو اس وقت تک استحسان نہیں کہیں گے جب تک اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی نہ ہو۔ تو ایک قیاس ہے وہ خفی ہے، ذہن فوراً وہاں نہیں پہنچتا بلکہ غور کے بعد پہنچتا ہے، تو بھی اس کو استحسان نہیں کہیں گے۔ ہاں، کب استحسان کہیں گے اس قیاسِ خفی کو؟ جب اس کے مقابلے میں کیا ہو؟ قیاسِ جلی موجود۔ تو مقابلے میں قیاسِ جلی کا ہونا ضروری ہے، پھر ہی قیاسِ خفی کو استحسان کہا جائے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے استحساناً اس کو کیا قرار دیا گیا؟ جائز قرار دیا گیا، اور قیاس تو کیا قیاسِ جلی تو کیا تقاضا کر رہا تھا جیسا امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ اس کو اس سے پاک خشک ہونے اور رگڑنے سے اس کو پاک نہیں ہونا چاہیے، قیاس تو یہ تقاضا کر رہا تھا قیاسِ جلی، لیکن قیاسِ خفی کی وجہ سے اس کو کیا قرار دیا گیا؟ پاک قرار دیا گیا تو یہ ہے استحسان کیونکہ اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی موجود ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا اس کو استحسان کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ مستحسن کسے کہتے ہیں؟ پسندیدہ کو۔ تو یہ بھی پسندیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہو جاتی ہے۔ اب دیکھیے کس میں آسانی ہے؟ موزے کے خشک ہونے کے بعد اس کو رگڑ دیا گیا، اب اس کو پاک قرار دینے میں لوگوں کے لیے آسانی ہے یا نجس قرار دینے میں آسانی ہے بھئی؟ پاک قرار دینے میں آسانی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے اس کو استحسان کہا گیا بھئی تو یہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ اور استحسان کیا ہے؟ آگے بتلائیں گے، استحسان یہ ہے کہ ہاں استحسان، استحسان کس کو کہتے ہیں؟ میں نے کیا بتلایا؟ کوئی بھی شرعی دلیل جس کے مقابلے میں کیا آ جائے؟ قیاسِ جلی آ جائے، کوئی بھی شرعی دلیل، جب اس کے مقابلے میں کیا آ جائے؟ قیاسِ جلی آ جائے، اس شرعی دلیل کو کیا کہیں گے؟ استحسان کہیں گے، چنانچہ آگے دیکھیں گے آپ، وہ دلیل کے طور پر حدیث ذکر کرتے ہیں شیخین رحمہما اللہ، تو اس حدیث پر عمل کیا جا رہا ہے اور اس دلیل کو کیا قرار دیا جا رہا ہے؟ استحسان قرار دیا جا رہا ہے، کیا کہا جا رہا ہے؟ استحسان۔ تو یہاں عمل حدیث پر کر رہے ہیں لیکن اس حدیث کو ہی کیا کہا جا رہا ہے کہ یہ استحسان ہے، کیوں استحسان ہے؟ کیونکہ اس کے مقابلے میں کیا آ رہا ہے؟ قیاسِ جلی۔ اور جس دلیل کے مقابلے میں بھی کیا آ جائے، قیاسِ جلی آ جائے، اس دلیل کو کیا کہتے ہیں؟ استحسان کہتے ہیں بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور آگے اس کا جواب بھی دیں گے ان کے قیاس کا اور یعنی قیاسِ خفی بتلائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ استحسان ہے، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے، وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی قیاس بھی ہے، إِلَّا فِي الْمَنِيِّ خَاصَّةً مگر منی کے اندر خاص طور پر، وہ بغیر دھوئے بھی پاک ہو جاتی ہے کھرچنے سے ہی، اور آگے اس کی تفصیل سے ذکر کریں گے۔ لِأَنَّ الْمُتَدَاخِلَ فِي الْخُفِّ لَا يُزِيلُهُ الْجَفَافُ وَالدَّلْكُ، اس لیے کیونکہ وہ جو داخل ہو گیا، وہ جو نجاست داخل ہو گئی کس کے اندر؟ موزے کے اندر، اس کے جو اجزاء داخل ہو گئے، لَا يُزِيلُهُ الْجَفَافُ وَالدَّلْكُ، ان اجزاء کو زائل نہیں کرتا خشک ہونا اور رگڑنا، بِخِلَافِ الْمَنِيِّ، بخلاف کس کے؟ منی کے، عَلَى مَا نَذْكُرُهُ، بوجہ اس کے جو ہم ذکر کریں گے، ہم آگے اس کو کیا کریں گے؟ ذکر کریں گے، وہ پاک ہو جائے گی۔ وَلَهُمَا: شیخین رحمہما اللہ کی دلیل جو ہے، قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”فَإِنْ كَانَ بِهِمَا أَذًى“، اگر ان جوتوں میں کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو، ”فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْأَرْضِ“، تو چاہیے اس شخص کو کہ وہ پونچھ دے ان کو، مل دے ان کو بِالْأَرْضِ کس کے ساتھ؟ زمین کے ساتھ، ”فَإِنَّ الْأَرْضَ لَهُمَا طَهُورٌ“، پس بے شک زمین جو ہے ان دونوں جوتوں کے لیے طَهُورٌ پاک کرنے والی ہے ان کو۔ بھئی یہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز ادا فرما رہے تھے، نماز شروع کی اور پھر آپ نے ایک طرف جوتے اتار دیے بھئی۔ یاد رکھیے، اس زمانے میں نماز جوتوں کے ساتھ ادا کی جاتی تھی، نماز کس کے ساتھ؟ جوتوں کے ساتھ۔ وجہ یہ کہ جوتے ان کی، جوتے وغیرہ پاک ہوتے تھے، نجاست وغیرہ وہاں کم ہوتی تھی، اس لیے کیونکہ ریتلا علاقہ تھا، ریتلا علاقہ۔ اور نیز آج کل کی طرح اس طرح بکثرت چیزیں وغیرہ اتنی نہیں تھیں، اور جیسے آج کل تعفن والی چیزیں، کوڑا وغیرہ آپ دیکھتے ہیں اس میں کتنا تعفن وغیرہ ہوتا ہے، پہلے تو لوگوں کو کھانے پینے کو ہی مشکل سے ملتا تھا، بس بقدرِ ضرورت چیزیں ہوا کرتی تھیں۔ اب تو ہر ہر چیز کی ہزارہا قسمیں آگئیں اور تو لہٰذا اس وقت ایسی چیزیں نہیں ہوتی تھیں، راستے گلیاں اس طرح تعفن سے بھرے نہیں ہوتے تھے، ریتلا علاقہ تھا۔ تو لہٰذا اگر نجاست کبھی کوئی لگ بھی جائے تو وہ بھی ریت کی وجہ سے کیا ہو جاتی تھی؟ جوتے کے ساتھ سے، جوتے سے صاف ہو جاتی۔ تو لہٰذا وہ جوتوں کے ساتھ ہی نماز ادا کی جاتی تھی بھئی، تو جوتے پاک ہوتے۔ نماز میں ان کے جب جوتے پاک ہوں نماز کے اندر اگر پہنے نماز ہو جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کس چیز سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے؟ ناپاک چیز سے، نجس چیز سے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے نماز کے اندر ہی جوتے اتار دیے بھئی۔ حضور علیہ السلام نے جوتے اتارے تو صحابہ جو پیچھے کھڑے تھے انہوں نے بھی سب نے اپنے جوتے اتار دیے۔ تو حضور علیہ السلام نے نماز مکمل کروانے کے بعد پوچھا بھئی کہ تم لوگوں نے جوتے کیوں اتارے؟ کس وجہ سے اتارے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے پیغمبر! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اتار لیے۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے آ کر مجھے بتایا تھا کہ آپ کے جوتے میں نجاست لگی ہے، میں نے تو اس لیے جوتے کو اتار دیا۔ پھر آپ فرمانے لگے: تم میں سے کوئی شخص جب مسجد میں آئے تو اسے چاہیے کہ دیکھ لے کہ اس کے جوتے میں کوئی نجاست تو نہیں لگی۔ اگر کوئی نجاست وغیرہ لگی ہوئی ہو تو کیا کر دیں ان کو؟ زمین کے ساتھ رگڑ دے، تو زمین کے ساتھ ان کو رگڑ دے، زمین ان کو پاک کرنے والی ہے۔ جب رگڑے گا تو جوتے کیا ہو جائیں گے؟ پاک ہو جائیں گے۔ تو یہ حدیث کے اندر آیا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے، یہ حدیث اس طرح ہے پوری بھئی: ”فَإِنْ كَانَ بِهِمَا أَذًى“، اگر ان جوتوں میں کوئی گندگی ہو، یعنی اس کو دکھائی دے، ”فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْأَرْضِ“، تو چاہیے کہ ان کو کس سے رگڑ دے؟ کس سے پونچھ ڈالے؟ زمین کے ساتھ، ”فَإِنَّ الْأَرْضَ لَهُمَا طَهُورٌ“، پس بے شک زمین ان کے لیے مطہر ہے، پاک کرنے والی ہے۔ یہ حدیث دلیل ہے شیخین کی۔ اور دوسرا اب دوسری دلیل، امام محمد رحمہ اللہ نے کس کو ذکر کیا تھا؟ قیاس کو، اس کا بھی جواب دیں گے۔ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، جب نجاست موزے پر لگے گی تو اس کے کچھ اجزاء موزے کے اندر جذب ہو جائیں گے، لیکن تھوڑے سے جذب ہوں گے زیادہ نہیں کیونکہ موزہ ٹھوس ہوتا ہے، سخت ہوتا ہے، چمڑا کیا ہوتا ہے؟ چمڑا سخت ہوتا ہے، زیادہ اجزاء اس میں جذب نہیں ہوں گے، تھوڑے سے جذب ہوں گے۔ اب کچھ اجزاء تو موزے کے اندر جذب ہو گئے، اور کون سی نجاست کی بات چل رہی ہے؟ وہ جو جس کا جسم ہوتا ہے باقاعدہ باہر۔ اب جب یہ باہر والا نجاست کا جسم خشک ہوگا تو وہ جو کچھ اجزاء موزے کے اندر جذب ہوئے تھے، یہ باہر والا نجاست کا جسم پھر ان کو اپنی طرف کھینچ لے گا۔ یہ جب خشک ہو رہا ہے تو جہاں سے بھی اس کو تری ملے گی یہ کیا کرے گا اس تری کو؟ اس تری اور ان اجزاء کو اپنی طرف کھینچ لے گا بھئی۔ جب کھینچ لے گا، اب وہ اجزاء اس باہر والے جسم میں آگئے موزے سے نکل کر، اور جب یہ باہر والا جسم زمین سے وہ رگڑے گا، یہ باہر والے اجزاء کیا ہو جائیں گے؟ زائل ہو جائیں گے، موزے سے الگ ہو جائیں گے۔ اور جب یہ اجزاء الگ ہوں گے تو جن اجزاء کو انہوں نے جذب کیا تھا وہ بھی ان کے ساتھ ہی کیا ہو جائیں گے؟ الگ ہو جائیں گے، تو موزہ پاک رہ جائے گا پیچھے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ یہی ذکر کر رہے ہیں: وَلِأَنَّ الْجِلْدَ لِصَلَابَتِهِ لَا يَتَدَاخَلُهُ أَجْزَاءُ النَّجَاسَةِ إِلَّا قَلِيلٌ، اور اس لیے کیونکہ چمڑا جو ہوتا ہے لِصَلَابَتِهِ اپنے ٹھوس ہونے کی وجہ سے، اپنے سخت ہونے کی وجہ سے لَا يَتَدَاخَلُهُ أَجْزَاءُ النَّجَاسَةِ إِلَّا قَلِيلٌ، اس میں داخل نہیں ہوتے نجاست کے اجزاء مگر تھوڑے سے، ثُمَّ يَجْتَذِبُهُ الْجِرْمُ، پھر ان اجزاء وہ جو داخل ہوئے تھے، ان کو جذب کر لے گا، کون جذب کر لے گا؟ الْجِرْمُ، وہ جو نجاست کا باہر ظاہری جسم ہے، وہ ان اجزاء کو واپس اپنی طرف جذب کر لے گا، إِذَا جَفَّ جب یہ کیا ہوگا؟ خشک۔ یہ ان اجزاء کو کب اپنی طرف جذب کرے گا؟ جب یہ خشک ہو جائے گا، فَإِذَا زَالَ، پھر جب یہ خشک نجاست کا جسم جو ہے یہ جب زائل ہوگا، یعنی ہٹ جائے گا، ادھر سے دور ہو جائے گا، زَالَ مَا قَامَ بِهِ، تو وہ اجزاء جو اس کے ساتھ قائم تھے، جو اس کے ساتھ لگے ہوئے تھے وہ بھی زائل ہو جائیں گے، دور ہو جائیں گے، یعنی موزے سے ختم ہو جائیں گے۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَفِي الرَّطْبِ لَا يَجُوزُ حَتَّى يَغْسِلَهُ: یہ تو وہ نجاست جس کا ظاہری جسم تھا اور وہ خشک ہو جاتی تھی اس کا حکم تھا۔ اور اگر وہ تر ہے، یعنی خون لگ گیا موزے کو اور ابھی وہ تر ہی ہے، گیلا ہی ہے، سمجھ میں آیا پھر کیا کریں گے؟ کہتے ہیں: وَفِي الرَّطْبِ، اور تر کے اندر، گیلے اس گیلے کے اندر، لَا يَجُوزُ اس میں جائز نہیں ہے، حَتَّى يَغْسِلَهُ یہاں تک کہ اس کو دھو لے۔ یہ نجاست خشک ہو جائے پھر تو زمین پر رگڑنا، مل دینا کافی ہے، لیکن اگر خشک نہیں ہوئی، گیلی ہی ہے تو پھر اس کے اندر دھونا ضروری ہے۔ گیلی ہے تو زمین پر رگڑ بھی دے پھر بھی اس کے ساتھ نماز جائز نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے اور تر کے اندر جائز نہیں ہے حتی یغسلہ یہاں تک کہ اس کو دھو لے، لِأَنَّ الْمَسْحَ بِالْأَرْضِ يُكَثِّرُهُ وَلَا يُطَهِّرُهُ، اس لیے کیونکہ زمین کے ساتھ پونچھنا، یعنی زمین کے ساتھ اس کو مل دینا يُكَثِّرُهُ، وہ تو اس تر کو کیا کر دے گا؟ اس کو زیادہ کر دے گا، اور پھیل جائے گی یہ نجاست تو، وَلَا يُطَهِّرُهُ اس کو پاک نہیں کرے گا۔ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: أَنَّهُ إِذَا مَسَحَهُ بِالْأَرْضِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ أَثَرُ النَّجَاسَةِ يَطْهُرُ، کہ جب اس نے اس کو پونچھ دیا زمین کے ساتھ یہاں تک کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہا، یعنی خوب اچھی گیلی نجاست تھی اور خوب اچھی طرح زمین کے ساتھ مل دیا یہاں تک کہ اس نجاست کا کوئی نشان وغیرہ باقی نہ رہا، يَطْهُرُ تو موزہ پاک ہو جائے گا، لِعُمُومِ الْبَلْوَى، عمومِ بلوی کی وجہ سے، یعنی بکثرت لوگوں کے اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے۔ لوگ بھئی لوگوں کو لوگ کثرت سے اس میں مبتلا ہیں، موزے پہنے ہوئے ہیں تو عموماً اس پر کیا ہوگی؟ نجاست لگ ہی جائے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس پر نجاست لگ ہی جائے گی تو اس میں بکثرت لوگ مبتلا ہیں تو ضرورت ہے کہ حکم میں آسانی ہونی چاہیے کیونکہ عمومِ بلوی کی وجہ سے بھی کیا ہوتا ہے؟ شریعت کے حکم میں نرمی آ جاتی ہے حکم میں، سختی باقی نہیں رہتی، تو یہاں بھی عمومِ بلوی ہے، لوگ بکثرت اس میں مبتلا ہوتے ہیں، اس وجہ سے، اور نیز وَإِطْلَاقِ مَا يُرْوَى، لِعُمُومِ الْبَلْوَى وَإِطْلَاقِ مَا يُرْوَى، اور اس حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے جس کو روایت کیا گیا۔ وہ حدیث میں مطلق ہے، حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”فَإِنْ كَانَ بِهِمَا أَذًى فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْأَرْضِ“، تو اس کو زمین کے ساتھ مل دے۔ بھئی وہاں پر خشک اور گیلی نجاست میں کوئی فرق کیا گیا؟ نہیں، وہ تو مطلق ہے، اور جب مطلق ہے تو وہ دونوں صورتوں کو شامل ہوئی، لہٰذا دونوں کو کیا ہونا چاہیے؟ پاک ہو جانا چاہیے جب زمین سے مل دیا۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب اس کو زمین سے مل دیا یہاں تک کہ اس کا نجاست کا اثر باقی نہ رہا، يَطْهُرُ تو یہ موزہ پاک ہو جائے گا لِعُمُومِ الْبَلْوَى وَإِطْلَاقِ مَا يُرْوَى، بوجہ عمومِ بلوی کے اور بوجہ اس حدیث کے مطلق ہونے کے جس کو ہم نے روایت کیا، وَعَلَيْهِ مَشَايِخُنَا، اور اسی پر ہمارے مشائخ یعنی فقہاء ہیں۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: اسی پر ہمارے فقہاء ہیں، اور یاد رکھیے اسی پر فتویٰ ہے کہ یہ جو نجاست جس کا جسم ہے، چاہے یہ خشک ہو، چاہے تر ہو، جب اس کو زمین کے ساتھ رگڑ دیا خوب اچھی طرح اور اس کو موزے وغیرہ سے ختم کر دیا اس کا نشان وغیرہ، تو وہ موزہ کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ فَإِنْ أَصَابَهُ بَوْلٌ فَيَبِسَ لَمْ يَجُزْ حَتَّى يَغْسِلَهُ: پس اگر موزے کو پیشاب لگ گیا فَيَبِسَ تو وہ پیشاب خشک ہو گیا، لَمْ يَجُزْ تو جائز نہیں ہے، حَتَّى يَغْسِلَهُ یہاں تک کہ اس کو دھو لے۔ بھئی اب اس نجاست کا ذکر آیا کہ جس کا خشک ہونے کے بعد کوئی ظاہری جسم باقی نہیں رہتا، جیسے پیشاب ہے اور جیسے شراب ہے کہ خشک ہونے کے بعد ان کا جسم باقی نہیں رہتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کے اندر یاد رکھیے، ان میں ان کو جب یہ کسی چیز پر لگ جائیں تو اس کا دھونا ضروری ہے، بغیر پانی یا کسی چیز سے دھوئے بغیر یہ پاک نہیں ہوں گے۔ تو ان کے اندر دھونا ضروری ہے، بغیر دھوئے وہ پاک نہیں ہوں گی موزہ وغیرہ رگڑنے سے۔ کہتے ہیں: فَإِنْ أَصَابَهُ بَوْلٌ، اگر اس کو موزے کو پیشاب لگا فَيَبِسَ تو وہ خشک ہو گیا، لَمْ يَجُزْ تو وہ تو پھر جائز نہیں ہے حَتَّى يَغْسِلَهُ یہاں تک کہ اس کو دھو لے، وَكَذَا كُلُّ مَا لَا جِرْمَ لَهُ كَالْخَمْرِ، اور اسی طرح ہر وہ نجاست کہ جس کا کوئی جسم نہ ہو جیسے کہ شراب ہے، لِأَنَّ الْأَجْزَاءَ تَتَشَرَّبُ فِيهِ، اس وجہ سے کہ ان ان کے جو اجزاء ہیں تَتَشَرَّبُ فِيهِ وہ اس موزے کے اندر جذب ہو جاتے ہیں، وَلَا جَاذِبَ يَجْذِبُهَا، اور کوئی ایسا جاذب بھی نہیں ہے کہ پھر ان کو واپس جذب کر لے بھئی۔ وہ نجاست جس کا ظاہری جسم تھا، مثلاً گوبر لگ گیا موزے پر، اب گوبر کا جو حصہ باہر لگا ہوا ہے تو اس کے کچھ نجاست کے کچھ اجزاء تو موزے میں جذب ہوئے تھے لیکن پھر جب باہر والا گوبر جو ہے وہ خشک ہوا تو جو موزے کے اندر اجزاء جذب ہوئے تھے اس کو اس نے واپس اپنی طرف کھینچ لیا تھا، اور پھر جب یہ باہر والا حصہ گرا تھا گوبر موزے سے الگ ہوا تھا تو وہ اجزاء بھی کیا ہو گئے موزے سے الگ ہو گئے۔ لیکن یہاں پر ایسا نہیں، یہ پیشاب لگا ہے یا شراب لگی موزے پر تو اس کے کچھ اجزاء موزے کے اندر جذب ہو جائیں گے، اب یہاں کوئی اور ایسا جاذب نہیں، کوئی چیز جذب کرنے والی نہیں ہے جو ان اجزاء کو واپس اپنی طرف کھینچ لے، تو وہ اجزاء اندر ہی رہ گئے۔ لہٰذا اب وہ رگڑنے اور ملنے سے پاک نہیں ہوں گے بلکہ کیا کرنا پڑے گا اس کو؟ پانی سے دھونا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْأَجْزَاءَ تَتَشَرَّبُ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اجزاء جو ہیں اس نجاست کے وہ ان کے اندر جذب ہو جاتے ہیں، وَلَا جَاذِبَ يَجْذِبُهَا اور کوئی ایسا جاذب بھی نہیں ہے جو ان کو جذب کر لے یعنی واپس کھینچ لے، وَقِيلَ: مَا يَتَّصِلُ بِهِ مِنَ الرَّمْلِ جِرْمٌ لَهُ، اور کہا گیا ہے کہ وہ جو اس کے ساتھ مل جائے ریت میں سے جِرْمٌ لَهُ وہ اس کا جرم ہے۔ بھئی پچھلی نجاست کا تو جرم تھا، ظاہری جسم تھا، لیکن اس کا جسم نہیں۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ یہ جو شراب ہے اور یہ جو پیشاب وغیرہ ہے یہ کپڑے یہ موزے کو لگ گیا تو ان کا جرم وہ جو ریت ان کے ساتھ لگ جائے گی وہی ان کا جرم ہے، وہی ان کا جسم ہے۔ تو یہ جو ریت وغیرہ ساتھ لگ جائے گی، یہ ریت جب خشک ہوگی تو کیا کرے گی؟ اس اندر کے اجزاء کو اپنی طرف کھینچ لے گی، لہٰذا اس کو جب وہ زمین سے یہ خشک ہو جائے اور زمین سے رگڑ کر اس اوپر والی ریت کو دور کر دے گا تو وہ نجاست بھی ختم ہو جائے گی اور موزہ پاک ہو جائے گا۔ جی، لیکن قِيلَ کے ساتھ ذکر کیا کہ یہ کمزور قول ہے بھئی۔ اصل مسئلہ وہی جو متن میں آیا کہ بغیر دھوئے یہ پاک نہیں ہوں گے۔ وَالثَّوْبُ لَا يُجْزِي فِيهِ إِلَّا الْغَسْلُ وَإِنْ يَبِسَ: اور کپڑا جو ہے اس کے اندر کافی نہیں ہے مگر دھونا ہی۔ کپڑے پر بھئی یہ تو موزے کا ذکر چل رہا تھا، اگر کپڑے پر یہ نجاست ان میں سے کوئی لگی ہے چاہے ظاہری جسم ہے اس کا چاہے چاہے ظاہری جسم نہ ہو، اس میں دھونا ہی کافی ہوگا اور کوئی چیز نہیں، وَإِنْ يَبِسَ اگرچہ وہ خشک ہی کیوں نہ ہو جائے۔ بھئی کیوں اس میں اور یہ مل دینا کافی کیوں نہیں؟ پانی کیوں ضروری ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الثَّوْبَ لِتَخَلْخُلِهِ يَتَدَاخَلُهُ كَثِيرٌ مِنْ أَجْزَاءِ النَّجَاسَةِ، اس لیے کیونکہ کپڑا جو ہے وہ اپنے تخلخل کی وجہ سے، تخلخل کا معنی ہے اجزاء کا ڈھیلا ہونا، یعنی آپس میں ملے نہ ہونا۔ موزہ تو ٹھوس تھا، سخت تھا، یعنی اس کے اجزاء آپس میں ملے ہوئے تھے، اس کے اندر کوئی چیز زیادہ داخل نہیں ہو سکتی بھئی، جبکہ کپڑا تو کیا ہے اس کے اجزاء آپس میں ملے ہوئے نہیں ہیں، جدا جدا ہیں، تو اس کے اندر چیز اچھی طرح جذب ہو جاتی ہے۔ جب اچھی طرح جذب ہو گئی، اب بغیر دھوئے وہ اجزاء اس سے نکلیں گے نہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الثَّوْبَ لِتَخَلْخُلِهِ، اس لیے کیونکہ کپڑا جو ہے وہ اپنے ڈھیلے ہونے کی وجہ سے یا یوں کہیں اپنے اجزاء کے درمیان اپنے اجزاء کے خوب ملے نہ ہونے کی وجہ سے يَتَدَاخَلُهُ كَثِيرٌ مِنْ أَجْزَاءِ النَّجَاسَةِ، اس میں داخل ہو جاتے ہیں نجاست کے بہت سے اجزاء، فَلَا يُخْرِجُهَا إِلَّا الْغَسْلُ، تو ان کو نہیں نکالے گا مگر دھونا ہی۔ پانی سے دھوئیں گے پھر ہی وہ وہ دھونے سے ہی دھونا ہی ان کو نکالے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
82 approved lectures · 35 of 82