Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الْإِمَامَةِ اَلْجَمَاعَةُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”اَلْجَمَاعَةُ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى لَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ“، وَأَوْلَى النَّاسِ بِالْإِمَامَةِ أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَقْرَؤُهُمْ لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ لَا بُدَّ مِنْهَا، وَالْحَاجَةُ إِلَى الْعِلْمِ إِذَا نَابَتْ نَائِبَةٌ۔ بَابُ الْإِمَامَةِ، اس باب میں امامت سے متعلقہ مسائل ذکر ہوں گے۔ فرماتے ہیں: ”اَلْجَمَاعَةُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ“، جماعت جو ہے وہ سنتِ مؤکدہ ہے بھئی، سنتِ مؤکدہ ہے۔ جبکہ بعض نے اس کو واجب لکھا بھئی، واجب لکھا۔ تو کہتے ہیں جماعت جو ہے سنتِ مؤکدہ ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”اَلْجَمَاعَةُ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى“، کہ جماعت کس میں سے ہے؟ سننِ ہدیٰ میں سے ہے۔ یاد رکھیے! حضور علیہ السلام کے اقوال و افعال جو ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ کو سننِ ہدیٰ کہتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ اور کچھ کو سننِ زوائد کہتے ہیں۔ سننِ ہدیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فعل جو حضور علیہ السلام نے جس کو کیا ہو بطورِ عبادت کے، اسے کیا کہتے ہیں؟ سننِ ہدیٰ۔ اور وہ فعل جسے حضور علیہ السلام نے بطورِ عادت کے کیا ہو، اسے سننِ زوائد کہتے ہیں، انہیں سننِ زوائد کہتے ہیں۔ تو سننِ ہدیٰ وہی جو تعریف آپ پہلے سنت کی پڑھ چکے ہیں بھئی، وہ سنت ہے بھئی۔ سنت کسے کہتے تھے؟ آپ نے کیا پڑھا تھا؟ کہ حضور علیہ السلام کا وہ طریقہ جس کو حضور علیہ السلام نے کیا ہو اور کبھی کبھار اس کو ترک بھی کر دیا ہو۔ جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی فرمائی لیکن کبھی کبھار اس کو کیا کر دیا؟ ترک بھی کر دیا جواز بتلانے کے لیے کہ یہ ترک بھی جائز ہے، یعنی واجب یا فرض نہیں ہے بھئی۔ تو اب جو حضور علیہ السلام کے افعال ہیں، تو یہ دو قسم کے ہوئے: کچھ وہ افعال جن کو حضور علیہ السلام نے بطورِ عبادت کے کیا، جیسے سنتیں ہیں بھئی، یہ نماز سے پہلے سنتیں آپ پڑھتے ہیں یا نماز کے بعد سنت پڑھتے ہیں یا اسی طرح اور جو افعال بتلائے حضور علیہ السلام نے۔ اور کچھ افعال وہ ہیں جن کو حضور علیہ السلام نے بطورِ عادت کے کیا، ان کو سننِ زوائد کہتے ہیں، سننِ زوائد کہتے ہیں۔ مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زلفیں رکھنا، یہ کیا ہے؟ یہ عادت۔ یا آپ نے بالوں کو تیل وغیرہ لگایا، تو یہ بطورِ عادت کے لگایا، بطورِ عبادت کے نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہبند استعمال فرماتے تھے، تو یہ تہبند کا استعمال کرنا یہ بطورِ عادت کے تھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب جو حضور علیہ السلام نے وہ افعال جو بطورِ عبادت کے کیے ہیں، ان میں حضور علیہ السلام کی پیروی کی جائے گی اور پیروی کی جائے گی، اور اس کے خلاف کوئی کرتا ہے تو کہیں گے اس نے خلافِ سنت کیا۔ کیا کہیں گے؟ خلافِ سنت۔ اور جو افعال حضور علیہ السلام سے بطورِ عادت کے ثابت ہیں، ان میں بھی کوئی اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے تو بڑی اچھی بات ہے اور اللہ کی طرف سے اس کو بڑی خیر کی توفیق ملی ہے، لیکن اس کے اندر دوسروں پر طعن کرنا یا ان پر اعتراض کرنا یہ صحیح نہیں ہے بھئی۔ یعنی اس میں شدت کرنا صحیح نہیں۔ ہاں! اگر کوئی عمل کرتا ہے اچھی بات ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپناتا ہے، ان کی عادت کو اپناتا ہے، لیکن اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فعل بطورِ عادت کے کیا، بطورِ عبادت کے نہیں کیا بھئی، نہیں کیا۔ تو لہٰذا سننِ زوائد کے اندر اگر کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی، عادت کا اتباع نہیں کرتا تو وہاں پھر آپ یہ نہیں کہیں گے یہ خلافِ سنت کر رہا ہے، بلکہ خلافِ سنت کا لفظ کہاں استعمال کریں گے؟ خلافِ سنت کوئی عام معمولی لفظ نہیں ہے بھئی، ایک بڑی بات آپ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں کہ آپ خلافِ سنت کر رہے ہیں یعنی حضور علیہ السلام کی سنت کے خلاف کر رہے ہیں، تو یہ صرف کہاں پر استعمال ہوگا؟ جب کوئی شخص کس چیز کو ترک کرے؟ سننِ ہدیٰ کو ترک کرے، پھر کہیں گے۔ سننِ زوائد کے ترک میں یہ لفظ نہیں بولا جائے گا اور اس میں کسی پر، کسی کو ملامت وغیرہ بھی نہیں کی جائے گی اگر وہ سننِ زوائد پر عمل نہیں کرتا بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دلیل ذکر ہو رہی ہے کہ جماعت جو ہے سنتِ مؤکدہ ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”اَلْجَمَاعَةُ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى“، کہ جماعت جو ہے سننِ ہدیٰ میں سے ہے، ”لَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ“، اس سے پیچھے نہیں رہتا مگر منافق ہی۔ ”وَأَوْلَى النَّاسِ بِالْإِمَامَةِ أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ“، اب آگے یہ بیان کر رہے ہیں کہ کون امامت کے زیادہ لائق ہے؟ کس کو امامت کے لیے آگے کرنا چاہیے؟ تو بتلا رہے ہیں ”وَأَوْلَى النَّاسِ بِالْإِمَامَةِ أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ“، اور لوگوں میں سے زیادہ لائق امامت کے وہ شخص ہے جو ”أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ“، جو زیادہ جاننے والا ہے سنت کو۔ لوگوں میں امامت کے زیادہ لائق کون شخص ہے؟ جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہے، سنت کو زیادہ جاننے والا ہے۔ تو سنت کو زیادہ جاننے والے سے مراد ہے جو احکامِ شرعیہ کو جاننے، پورے طور پر جاننے والا ہے، ان کو زیادہ جاننے والا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ احکامِ شرعیہ کو جو زیادہ جاننے والا ہے۔ اس لیے کیونکہ دین سارا سنت ہی کا نام ہے، یہ ساری چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؛ چاہے فرض ہے، چاہے واجب ہے، چاہے سنت ہے، چاہے مستحبات ہیں، یہ سب کس سے ثابت ہیں؟ سنت سے، حضور علیہ السلام سے ہی ثابت ہیں۔ تو یہاں سنت کو جاننے والے سے مراد جو احکامِ شریعت کو زیادہ جاننے والا ہے۔ یعنی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے کو جو زیادہ جاننے والا ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے میں فرائض ہیں یا نہیں ہیں؟ فرائض بھی ہیں، واجبات بھی ہیں، سنتیں بھی ہیں، مستحبات بھی ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح حرام سے بچنا بھی ہے، مکروہات سے بچنا وغیرہ، یہ سب چیزیں آ گئیں اس کے اندر بھئی، تو سارا دین اس کے اندر آ گیا۔ تو اعلم بالسنۃ سے کیا مراد ہے؟ جو احکامِ شریعت کو زیادہ جاننے والا ہے۔ تو سنت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، وہ سنت مراد نہیں جو واجب اور فرض کے مقابلے میں آتی ہے۔ بھئی! احکامِ شریعت آپ نے پڑھا ہے پانچ چھ قسم پر ہیں: کچھ کو فرض کہتے ہیں، کچھ کو واجب کہتے ہیں، کچھ کو سنت کہتے ہیں، کچھ کو مستحب کہتے ہیں، کچھ حرام ہے، کچھ چیزوں کا کرنا حرام ہے، کچھ چیزوں کا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، کچھ چیزوں کا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، تو ان میں سے ایک سنت بھی ہے، سنت بھی ہے اور یہ کس کے مقابلے میں؟ فرض اور واجب وغیرہ کے مقابلے میں ہے، تو وہ سنت یہاں نہیں مراد بلکہ سنت سے کیا مراد ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بتلایا ہوا طریقہ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے کو جو زیادہ جاننے والا ہے، اور اس کے اندر پھر سارا دین آ گیا، تمام مسائل آ گئے یعنی احکامِ شرعیہ کو جو زیادہ جاننے والا ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَقْرَؤُهُمْ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں زیادہ لائق امامت کے ”أَقْرَؤُهُمْ“، جو ان میں زیادہ بڑا قاری ہے بھئی، یعنی جو قرآن کے حروف کو اچھی طرح ادا کر سکتا ہے اور ان کا اچھی طرح تلفظ، صفات وغیرہ ہر چیز کا زیادہ جاننے والا ہے، اچھی طرح ادا کرنے والا ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قرات جو ہے اس کی نماز میں ضرورت ہے، ہر نماز میں قرات فرض ہے تو قرات تو کرنی ہی پڑے گی، تو قرات نماز کے لیے ضروری ہے، جبکہ باقی مسائل کا جاننا ان کی تو ضرورت کبھی کبھار پیش آئے گی، اگر نماز میں مثلاً بھول جائے یا کوئی غلطی ہو جائے یا کوئی واقعہ پیش آ جائے پھر باقی مسائل کی ضرورت پیش آئے گی، ویسے مسائل کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، لیکن قرات کی تو ہر نماز کے اندر ضرورت ہے۔ تو لہٰذا جو زیادہ بڑا قاری ہے اس کو کیا کیا جائے گا؟ امامت کے لیے مقدم کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ لَا بُدَّ مِنْهَا“، وہ دلیل دیتے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قرات جو ہے وہ ضروری ہے نماز کے لیے، ”وَالْحَاجَةُ إِلَى الْعِلْمِ إِذَا نَابَتْ نَائِبَةٌ“، اور ضرورت علم کی طرف یعنی مسائل کی طرف ”إِذَا نَابَتْ نَائِبَةٌ“، اس وقت ہے جب کوئی حادثہ پیش آ جائے، کوئی واقعہ پیش آ جائے۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ“، اور ہم کہتے ہیں۔ متن میں تو کیا آیا تھا؟ امامت کے زیادہ لائق کون سا شخص ہے؟ جو زیادہ سنت کو جاننے والا ہے، جو زیادہ احکامِ شریعت کو جاننے والا ہے۔ تو اب جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ صاحبِ ہدایہ، وہ فرماتے ہیں: ”وَنَحْنُ نَقُولُ“، اور ہم کہتے ہیں: ”اَلْقِرَاءَةُ مُفْتَقَرٌ إِلَيْهَا لِرُكْنٍ وَاحِدٍ“، کہ قرات جو ہے اس کی حاجت ہے ایک رکن کے لیے، ایک رکن میں اس کی حاجت ہے، یعنی ایک ہی رکن ہے قرات کا، اس کے لیے کس کی ضرورت ہے؟ قرات کی ضرورت ہے، ”وَالْعِلْمُ لِسَائِرِ الْأَرْكَانِ“، اور علم جو ہے اس کی حاجت ہے تمام ارکان کے اندر، لہٰذا اس لیے جو اعلم بالسنۃ ہے وہ مقدم ہوگا، ”فَإِنْ تَسَاوَوْا“، پس اگر سارے برابر ہوں احکامِ شریعت کے جاننے میں اگر سارے برابر ہوں، ”فَأَقْرَؤُهُمْ“، تو ان میں سے جو زیادہ بڑا قاری ہے اس کو مقدم، وہ زیادہ امامت کے لائق ہے بھئی۔ تو دوسرے نمبر پر ہمارے نزدیک بڑا قاری جو ہے وہ ہمارے نزدیک دوسرے نمبر پر ہے امامت کے لائق ہونے میں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ اس کا پہلا درجہ ہے۔ تو ”فَإِنْ تَسَاوَوْا فَأَقْرَؤُهُمْ“، اگر وہ سب برابر ہوں تو ان میں جو زیادہ قرات کو جاننے والا ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ آپ نے دوسرا درجہ کس کا بیان کیا؟ جو زیادہ بڑا قاری ہے۔ اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ“، کہ امامت کرے لوگوں کی وہ جو ان میں سے زیادہ بڑا قاری ہے کتاب اللہ کا، ”فَإِنْ كَانُوا سَوَاءً“، پس اگر وہ برابر ہوں، ”فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ“، تو کون امامت کروائے؟ جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ دلیل ہے جو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی۔ اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ پہلا درجہ کس کا؟ جو اعلم بالسنۃ ہے۔ دوسرا درجہ کس کا؟ جو ان میں سے اقرأ ہے، جو بڑا قاری ہے، جو بڑا قاری۔ اور دلیل صاحبِ ہدایہ کیا ذکر فرما رہے ہیں؟ حدیث۔ حدیث میں پہلے درجے میں اقرأ کا ذکر ہے اور اعلم بالسنۃ کا دوسرے درجے میں ذکر ہے، دوسرے درجے میں۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے، یہ کیسے آپ دلیل ذکر کر رہے ہیں؟ جو آپ کا دعویٰ ہے حدیث میں تو بالکل اس کا عکس آ رہا ہے۔ آپ کے نزدیک پہلا درجہ اعلم بالسنۃ کا اور دوسرا درجہ اقرأ کا، اور حدیث میں آیا پہلا درجہ اقرأ کا ہے اور دوسرا اعلم بالسنۃ کا۔ جی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ جواب دیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں فقاہت بھئی، فقہاء وہ دین کے معانی کو جاننے والے ہیں۔ اب اگر ظاہرِ حدیث کو دیکھا جائے تو اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ جو زیادہ بڑا قاری ہے اس کو پہلے، درجہ اس کا اور جو اعلم بالسنۃ ہے اس کا دوسرا درجہ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی مراد کیا ہے؟ وہ کیا فرمانا چاہتے ہیں؟ یہ صرف فقہاء ہی جانتے ہیں۔ اسی لیے ہم فقہاء کی تقلید کرتے ہیں اور ان کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق جس طرح انہوں نے قرآن اور سنت سے، قرآن اور حدیث سے دین کو سمجھا اور اس کی تشریح فرمائی، ہم بھی اسی طریقے کے مطابق ان کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق دین پر چلتے ہیں کیونکہ وہ دین، قرآن اور حدیث کو جاننے والے ہیں، اس کے معانی کو سمجھنے والے ہیں۔ اگر صرف ظاہری الفاظ کو دیکھا جائے تو ظاہر کے اعتبار سے تو جو متن میں مسئلہ بیان ہو رہا ہے وہ درست نہیں، لیکن اب دیکھیے صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں، فرماتے ہیں: ”وَأَقْرَؤُهُمْ كَانَ أَعْلَمَهُمْ“، اور جو ان میں زیادہ بڑا قاری ہوتا تھا وہ ان میں زیادہ بڑا عالم بھی ہوتا تھا۔ اس لیے حضور نے کیا فرمایا؟ جو ان میں اقرأ ہو، جو زیادہ بڑا قاری ہو وہ امامت کروائے۔ کیوں حضور نے اقرأ کو کیوں مقدم کیا؟ کیونکہ صحابہ میں جو زیادہ بڑا قاری ہوتا تھا وہ زیادہ احکامِ شریعت کو بھی جاننے والا ہوتا تھا، تو جو بڑا قاری ہے وہ احکامِ شریعت کو بھی زیادہ جاننے والا ہے تو لازمی بات ہے اس کا درجہ پہلے ہوگا اور جو قرات میں اس سے کم ہے اس کا پھر درجہ بعد میں آئے گا۔ تو حدیث میں اس لیے اقرأ کو مقدم کیا گیا کیونکہ اس زمانے میں جو زیادہ بڑا قاری ہوتا تھا وہ زیادہ بڑا عالم بھی ہوتا تھا، جبکہ آج کل ایسا نہیں ہے۔ ”وَأَقْرَؤُهُمْ كَانَ أَعْلَمَهُمْ“، اور ان میں جو زیادہ بڑا قاری ہوتا تھا وہ زیادہ بڑا عالم بھی ہوتا تھا، ”لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَتَلَقَّوْنَهُ بِأَحْكَامِهِ“، اس لیے کیونکہ صحابہ جو تھے وہ لیتے تھے قرآن کو ”بِأَحْكَامِهِ“ اس کے احکام کے ساتھ، یعنی قرآن کو یاد کرتے تھے اس کے احکام کے ساتھ یاد کرتے تھے، صرف قرآن کو نہیں یاد کرتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ اس کے احکام کو بھی سیکھتے تھے۔ چنانچہ اسی لیے روایات میں صحابہ کا ذکر آتا ہے کہ وہ مثلاً ایک ایک سورت کے بارے میں کہ ہم نے اتنے عرصے میں یہ سورت یاد کی یا اتنے عرصے میں اتنا حصہ ہم نے یاد کیا، جیسے انہوں نے حاشیے میں بھی دیا ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے بارہ سال میں سورۂ بقرہ یاد کی، بارہ سال میں۔ تو یہ کیوں، اتنا عرصہ کیوں لگا؟ کیونکہ پورے احکام کے ساتھ جاننا اور پورے احکام کے ساتھ اس کو وہ سیکھتے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”كَانُوا يَتَلَقَّوْنَهُ بِأَحْكَامِهِ“، وہ لیتے تھے قرآن کو اس کے احکام کے ساتھ، ”فَقُدِّمَ فِي الْحَدِيثِ“، تو حضور علیہ السلام نے حدیث میں ان کو مقدم کیا، ”وَلَا كَذَلِكَ فِي زَمَانِنَا“، اور ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہے، ”فَقَدَّمْنَا الْأَعْلَمَ“، تو ہم نے کس کو مقدم کیا؟ اعلم کو مقدم کیا۔ ”فَإِنْ تَسَاوَوْا فَأَوْرَعُهُمْ“، پس اگر وہ سارے برابر ہوں یعنی قرات میں بھی سارے برابر ہیں، ”فَأَوْرَعُهُمْ“، تو جو ان میں سے زیادہ ورع والا ہے۔ ایک ہے ورع، واؤ را عین، وَرَعٌ۔ ایک ہے ورع اور ایک ہے تقویٰ، تقویٰ۔ تقویٰ کہتے ہیں محرمات سے بچنا یعنی جن چیزوں سے شریعت نے منع کیا ہے ان چیزوں سے بچنا، یہ کیا ہے؟ تقویٰ۔ اور ایک ہے ورع، ورع اس سے بھی اونچا درجہ ہے بھئی ورع۔ ورع کسے کہتے ہیں؟ کہ انسان مشتبہات سے بھی بچے، جن چیزوں میں اشتباہ ہو ان سے بھی کیا کرنا؟ اپنے آپ کو بچانا۔ بھئی تقویٰ تو فرض ہے، حرام چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا تو فرض ہے، ورع اس سے اونچا مقام ہے کہ انسان صرف حرام سے نہیں بچتا بلکہ جن چیزوں میں شک اور شبہ ہوتا ہے ان سے بھی کیا کرتا ہے؟ اپنے آپ کو بچاتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا ”فَإِنْ تَسَاوَوْا فَأَوْرَعُهُمْ“، تو اگر وہ برابر ہوں تو جو ان میں زیادہ ورع والا ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”مَنْ صَلَّى خَلْفَ عَالِمٍ تَقِيٍّ فَكَأَنَّمَا صَلَّى خَلْفَ نَبِيٍّ“، جس نے کسی متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی گویا کہ اس نے پیغمبر کے پیچھے نماز پڑھی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جس نے متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی گویا اس نے پیغمبر کے پیچھے نماز پڑھی، اور نیز حدیث میں کیا آتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ ”عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ“، میری امت کے جو علماء ہیں وہ کس طرح ہیں؟ بنو اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں بھئی۔ ”فَإِنْ تَسَاوَوْا فَأَسَنُّهُمْ“، پس اگر وہ سارے برابر ہوں یعنی ورع کے اندر بھی سارے، ورع اور تقویٰ میں بھی سارے برابر ہوں، ”فَأَسَنُّهُمْ“، تو جو ان میں زیادہ عمر والا ہے، جو زیادہ عمر والا ہے وہ امامت کے زیادہ لائق ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، دلیل اس کی بھی ذکر کر رہے ہیں بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو آپ نے فرمایا لبنی ابی ملیکہ، ابن ابی ملیکہ کے بیٹوں سے: ”وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا سِنًّا“، اور چاہیے کہ تم میں سے دونوں میں سے جو ہے امامت کروائے اکبرکما جو تم دونوں میں سے بڑا ہے سنّاً باعتبار عمر کے۔ ”وَلِأَنَّ فِي تَقْدِيمِهِ تَكْثِيرَ الْجَمَاعَةِ“، اور نیز اس لیے کیونکہ جو بڑی عمر والا ہے اس کو مقدم کرنے میں جماعت کی بھی تکثیر ہے۔ بڑی عمر والے کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا پسند کرتے ہیں، تو بزرگ کو آگے کریں گے تو جماعت بھی زیادہ ہوگی، لوگ زیادہ اس میں شریک ہوں گے۔ ”وَيُكْرَهُ تَقْدِيمُ الْعَبْدِ“، اس کے بعد آگے ذکر نہیں کیا بھئی۔ زیادہ لائق امامت کے جو سنت کو یعنی احکامِ شریعت کو زیادہ جاننے والا ہے، اگر اس میں سارے برابر ہیں تو جو زیادہ بڑا قاری ہے ان میں، اگر اس میں برابر ہیں تو جو ان میں زیادہ متقی ہے، اگر اس میں بھی برابر ہیں تو پھر جو ان میں عمر میں بڑا ہے، اگر عمر میں بھی سارے برابر ہوں تو کہتے ہیں پھر ان میں سے جس کے اخلاق اچھے ہوں اس کو مقدم کیا جائے گا، پھر اگر اس میں بھی برابر ہوں سارے تو پھر جس کا حسب اونچا ہے، بڑے خاندان والا ہے اس کو مقدم کیا جائے گا۔ سمجھ رہے ہیں؟ پھر اگر اس میں بھی برابر ہوں تو کہتے ہیں ان میں سے پھر جو حسن و جمال میں زیادہ ہو اس کو آگے کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ کیا بنایا جا رہا ہے؟ امام مقرر کیا جا رہا ہے، اس کو تمام صفات میں باقیوں سے بڑھ کر ہونا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ تَقْدِيمُ الْعَبْدِ“، اور مکروہ ہے غلام کو آگے کرنا، ”لِأَنَّهُ لَا يَتَفَرَّغُ لِلتَّعَلُّمِ“، اس لیے کیونکہ وہ تعلیم کے لیے، سیکھنے کے لیے فارغ نہیں ہوتا۔ بھئی غلام کو آگے مقدم کرنا امامت کے لیے یہ مکروہ ہے، اس لیے کیونکہ غلام تو کام کاج میں، خدمت میں مشغول رہتا ہے، اس کے لیے تعلیم کے مواقع کم ہوتے ہیں، سیکھنے کے مواقع کم ہوتے ہیں، اس لیے اس کو آگے نہ کیا جائے، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ لوگ بھی اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں ناگواری محسوس کریں گے۔ ”وَالْأَعْرَابِيِّ“، اور اسی طرح مکروہ ہے دیہاتی کو آگے کرنا امامت کے لیے، ”لِأَنَّ الْغَالِبَ فِيهِمُ الْجَهْلُ“، اس لیے کیونکہ دیہاتیوں کے اندر جہالت غالب ہوتی ہے۔ دیہات بھئی دیہاتی ہے، دیہات میں سادہ زندگی گزارتے ہیں تو زیادہ چیزوں وغیرہ کا علم نہیں ہوتا، ان میں جہالت غالب ہوتی ہے، اس لیے اس کو بھی آگے مقدم کرنا مکروہ ہے بھئی، اور نیز اس لیے کیونکہ لوگ بھی اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں ناگواری محسوس کریں گے۔ ”وَالْفَاسِقِ“، اور اسی طرح فاسق کو مقدم کرنا بھی مکروہ ہے، ”لِأَنَّهُ لَا يَهْتَمُّ لِأَمْرِ دِينِهِ“، اس لیے کیونکہ وہ اہتمام نہیں کرتا اپنے دین کے معاملے کا، اپنے دین کے معاملے کا اہتمام نہیں کرتا یعنی اس کا خیال نہیں کرتا، اس کی پروا نہیں کرتا، گناہ وغیرہ کرتا رہتا ہے، تو جب وہ عام دین کے امور میں خیال نہیں رکھتا تو امامت جیسی بڑی ذمہ داری اس کو کیسے سونپی جائے بھئی؟ اور نیز وہی دلیل سب کے لیے: لوگ بھی اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں ناگواری محسوس کریں گے۔ ”وَالْأَعْمَى“، اور اسی طرح اندھا جو ہے اس کو بھی آگے کرنا یہ مکروہ ہے۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَتَوَقَّى النَّجَاسَةَ“، اس لیے کیونکہ یہ نجاست سے نہیں بچتا، یا یوں کہیں اس لیے کیونکہ یہ نجاست سے نہیں بچ سکتا کیونکہ یہ تو بیچارہ نابینا ہے، اس کو تو پتہ ہی نہیں چلتا، نجاست کہیں لگ بھی جائے اس کو پتہ نہیں چلے گا، تو لہٰذا اس لیے اس کو آگے کرنا مکروہ ہے۔ ”وَوَلَدِ الزِّنَا“، اور اسی طرح وہ ولد الزنا کو بھی نماز پڑھانے کے لیے، امامت کے لیے آگے کرنا مکروہ ہے۔ ولد الزنا وہ شخص جو زنا سے پیدا ہوا ہے، اس کو بھی آگے کرنا مکروہ ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ أَبٌ يُشْفِقُهُ“، اس لیے کیونکہ اس کا کوئی باپ نہیں جو اس پر کیا کرتا؟ شفقت کرتا، اس کو ادب سکھاتا، تعلیم دیتا وغیرہ بھئی، ”فَيَغْلِبُ عَلَيْهِ الْجَهْلُ“، تو اس پر کیا غالب ہوگا؟ جہل غالب ہوگا۔ ”وَلِأَنَّ فِي تَقْدِيمِ هَؤُلَاءِ تَنْفِيرَ الْجَمَاعَةِ فَيُكْرَهُ“، اور نیز اس لیے کیونکہ ان کو آگے کرنے میں جماعت کو نفرت دلانا ہے، ”فَيُكْرَهُ“، تو لہٰذا مکروہ ہوگا۔ بھئی یہ سب کے لیے اکٹھی علت ذکر کر دی، ویسے علیٰ ہر ایک کی الگ الگ وجہ بھی بیان کر دی اور اب یہ سب کی اکٹھی وجہ بھی بیان کر دی کہ یہ وجہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو جن کو ہم نے اوپر ذکر کیا یعنی یہ جو غلام ہے، یہ دیہاتی ہے یا فاسق ہے یا اعمیٰ ہے یا ولد الزنا ہے، اس کے اندر جماعت کو بھی نفرت دلانا ہے، لوگ کیا کرتے ہیں؟ اس سے لوگ ناگواری محسوس کریں گے اور جماعت کم ہو جائے گی، لوگ پھر آئیں گے نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ فِي تَقْدِيمِ هَؤُلَاءِ تَنْفِيرَ الْجَمَاعَةِ فَيُكْرَهُ“، اور اس لیے کیونکہ ان کو آگے کرنے میں جماعت کو نفرت دلانا ہے، تو مکروہ ہوگا۔ ”وَإِنْ تَقَدَّمُوا جَازَ“، اور اگر یہ لوگ آگے ہو گئے جاز تو پھر جائز ہے یعنی نماز پڑھائیں گے تو نماز ہو جائے گی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ“، پڑھو تم نماز ہر نیک اور بد کے پیچھے، ہر نیک اور بد کے پیچھے کیا کرو؟ نماز پڑھو، یعنی ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے تو نماز ہو جائے گی بھئی۔ ”وَلَا يُطِيلُ الْإِمَامُ بِهِمُ الصَّلَاةَ“، اور امام ان لوگوں کو لمبی نماز نہ پڑھائے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُصَلِّ بِهِمْ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ“، جس نے امامت کی لوگوں کی تو اس کو چاہیے کہ ان کو ان میں سے کمزور، جو سب سے کمزور ہے اس کی نماز پڑھائے، اس لیے کیونکہ ان میں مریض ہوگا، اور بڑی عمر والا ہوگا، اور ضرورت مند ہوگا۔ کیونکہ ان میں کیا ہوگا؟ ان لوگوں میں کوئی مریض ہوگا، کوئی بڑی عمر والا بوڑھا ہوگا اور کوئی ضرورت مند ہوگا، تو جو شخص بھی امامت کروائے اس کو ان میں سے سب سے کمزور کی جماعت کروانی چاہیے یعنی ہلکی اور مختصر جماعت کروانی چاہیے۔ اکیلا انسان پڑھے نماز، نوافل وغیرہ تو جتنی مرضی طویل پڑھے اچھی بات ہے، لیکن جب جماعت کروائے تو پھر وہاں پر لوگوں کا خیال کرے اور مختصر جماعت کروانی چاہیے بھئی، سنت کے مطابق بھئی۔ ”وَيُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُصَلِّينَ وَحْدَهُنَّ الْجَمَاعَةَ“، تو مکروہ ہے عورتوں کے لیے کہ وہ اکیلی جماعت کروائیں بھئی، اکیلی جماعت سے نماز پڑھیں، ”لِأَنَّهَا لَا تَخْلُو عَنِ ارْتِكَابِ مُحَرَّمٍ“، اس لیے کیونکہ یہ خالی نہیں ہے حرام کے ارتکاب سے۔ محرم سے مراد حرام نہیں ہے اس سے مراد مکروہِ تحریمی ہے۔ محرم یعنی جس کو منع کیا گیا ہے جس سے، تو مکروہِ تحریمی بھی حرام کے قریب ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ ان کی جماعت جو ہے وہ ارتکابِ محرم سے خالی نہیں یعنی اس میں مکروہِ تحریمی، دو مکروہِ تحریمی میں سے ایک ضرور پایا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ جب اکیلی جماعت کروائیں گی تو ان کی جو امام ہے وہ یا تو آگے کھڑی ہوگی یا صف پہلی صف کے اندر ہی کھڑی ہوگی بیچ میں۔ اگر بیچ میں کھڑی ہوتی ہے تو امام کو تو آگے ہونا چاہیے، یہ تو بیچ میں کھڑی ہو گئی صف کے درمیان میں تو یہ مکروہِ تحریمی ہے۔ یا اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ آگے کھڑا ہونا پڑے گا اور آگے کھڑا ہونا عورت کا یہ بھی مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ اس میں بے پردگی ہے، کیا ہے؟ بے پردگی، حالانکہ عورت کی تو نماز کس طرح ہونی چاہیے جس میں زیادہ سے زیادہ ستر ہو، زیادہ سے زیادہ پردہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا لَا تَخْلُو عَنِ ارْتِكَابِ مُحَرَّمٍ“، اس لیے کیونکہ یہ ان کی جماعت جو ہے وہ مکروہِ تحریمی کے ارتکاب سے خالی نہیں ہے، ”وَهُوَ قِيَامُ الْإِمَامِ وَسْطَ الصَّفِّ فَيُكْرَهُ كَالْعُرَاةِ“، اور وہ کیا ہے؟ امام کا صف کے بیچ میں کھڑا ہونا ہے تو یہ مکروہ ہوگا جیسے ننگے ہوتے ہیں۔ ننگے کیا ہے؟ ان میں بھی اگر کوئی جماعت کروائے تو امام کو کہاں کھڑا ہونا پڑتا ہے؟ درمیان میں، جی درمیان میں صف میں۔ ”وَإِنْ فَعَلْنَ قَامَتِ الْإِمَامُ وَسْطَهُنَّ“، اور اگر وہ کریں، ہے تو مکروہ عورتوں کی جماعت لیکن اگر وہ کریں یعنی جماعت کروائیں، ”قَامَتِ الْإِمَامُ وَسْطَهُنَّ“، تو ان کی امام جو ہے وہ ان کے بیچ میں درمیان میں کھڑی ہو، ”لِأَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا فَعَلَتْ كَذَلِكَ“، اس لیے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایسا کیا، انہوں نے ایسا ہی فرمایا، عورتوں کی جماعت کروائی تو خود درمیان ہی میں صف کے درمیان بیچ میں کھڑی ہوئیں۔ اب اشکال ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب یہ فعل کیا ہے تو اس کو مکروہ کیسے قرار دیا کہ عورتیں اکیلی جماعت کروائیں گی تو ان کا اکیلے جماعت کروانا مکروہ ہے؟ تو جواب دے رہے ہیں آگے صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”وَحُمِلَ فِعْلُهَا الْجَمَاعَةَ عَلَى ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ“، اور ان کا جماعت کا فعل جو ہے، جماعت جو انہوں نے کروائی اس کو محمول کیا گیا ہے ابتدائے اسلام پر۔ کس پر؟ ابتدائے اسلام میں یعنی پہلے جائز تھا پھر اس کو کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا۔ اس لیے کیونکہ بعد میں پھر عورتیں مسجد میں جماعت کے اندر حاضر ہوتی تھیں، تو یہ ابتدا کی بات ہے۔ ”وَلِأَنَّ فِي التَّقَدُّمِ زِيَادَةَ الْكَشْفِ“، اور نیز اس لیے کیونکہ آگے ہونے میں کشف کی زیادتی ہے۔ کشف کا معنی کھلنا یعنی بے پردگی۔ اگر درمیان میں کھڑی ہوں گی تو درمیان میں کھڑے ہونا تو اپنی جگہ کو چھوڑ کر امام کا بیچ میں کھڑا ہونا یہ بھی مکروہِ تحریمی، اور اگر آگے ہوگی امام تو پھر اس صورت میں بھی کیا ہوگا؟ کشف ہوگا یعنی بے پردگی ہوگی حالانکہ عورت کی نماز میں کیا ہونا چاہیے؟ ستر ہونا چاہیے۔ ”وَمَنْ صَلَّى مَعَ وَاحِدٍ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ“، اور جس شخص نے نماز پڑھی ایک کے ساتھ تو کھڑا کرے اس کو اپنے دائیں طرف۔ بھئی اب صرف دو آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتے ہیں ایک امام بنے گا اور ایک مقتدی، تو مقتدی کو کہاں کھڑا ہونا چاہیے؟ اس امام کے دائیں جانب کھڑا ہونا چاہیے، ”لِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“، بوجہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کی وجہ سے، ”فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَلَّى بِهِ وَأَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ“، پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی اور ان کو کھڑا کیا اپنے دائیں طرف، ان کو اپنے دائیں طرف کھڑا کیا۔ یہ روایات میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے، یہ بھی ساتھ شریک ہوئے اور بائیں طرف کھڑے ہو گئے، کہاں کھڑے ہو گئے؟ بائیں طرف کھڑے ہو گئے، چھوٹے تھے تو حضور علیہ السلام نے ان کو کان سے پکڑ کر دائیں طرف ان کو لے آئے بھئی، تو ان کو دائیں طرف کھڑا کیا۔ معلوم ہوا کہ جب ایک مقتدی ہو اس کو کس طرف کھڑا کرنا چاہیے؟ دائیں طرف کھڑا کرنا چاہیے بھئی۔ تو دیکھیے یہاں پر حدیث میں آیا ”صَلَّى بِهِ“، صلّٰی کے ساتھ با آئی بھئی با۔ اور یاد رکھیے جب صلّٰی کے ساتھ با آئے تو پھر اس کا معنی نماز پڑھنے کے نہیں بلکہ نماز پڑھانا ہے۔ کیا معنی ہے؟ تو یہ با متعدی بنانے کے لیے آتی ہے اور جس پر یہ با داخل ہوگی وہ مقتدی ہوگا۔ دوسرا ہے نماز پڑھانے والا، اور جس پر با داخل کی اس کو، مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں میں نے زید کو نماز پڑھائی... تو کیا کہیں گے؟ صَلَّيْتُ بِزَيْدٍ، صَلَّيْتُ بِزَيْدٍ، میں نے زید کو نماز پڑھائی۔ ”وَلَا يَتَأَخَّرُ عَنِ الْإِمَامِ“ اور وہ امام سے پیچھے نہ ہو، بھئی ایک شخص ہے تو امام اس کو کہاں کھڑا کرے؟ اپنے دائیں طرف کھڑا کرے اور وہ امام سے پیچھے نہ ہو یعنی پچھلی صف میں نہیں کھڑا ہوگا بلکہ دائیں طرف کھڑا ہوگا اس کے ساتھ ہی۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”أَنَّهُ يَضَعُ أَصَابِعَهُ عِنْدَ عَقِبِ الْإِمَامِ“ عقب کہتے ہیں ایڑی کو، ایڑی۔ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ رکھے گا اپنی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے تو کیا پتہ چلا؟ کہاں کھڑا ہو؟ دائیں طرف یعنی برابر میں۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کیا روایت فرماتے ہیں؟ کہ کہاں کھڑا ہو؟ ہاں یعنی دائیں طرف ہی ہو لیکن تھوڑا سا پیچھے ہو معمولی سا، کہ جو مقتدی ہے اس کی انگلیاں، پاؤں کی انگلیاں وہ امام کی ایڑی کے برابر میں ہوں بھئی، ایڑی کے برابر میں ہوں۔ ”وَالْأَوَّلُ هُوَ الظَّاهِرُ“ اور اول کیا ہے؟ وہ ظاہر ہے کہ ساتھ کھڑا ہو بھئی۔ ہاں تو بہرحال ساتھ کھڑا ہو یا تھوڑا سا اگر پیچھے ہو لیکن امام سے آگے نہ ہو، امام سے آگے نہ ہو۔ اور آگے ہونے کا پتہ ایڑی سے چلتا ہے، اگر مقتدی کی ایڑی امام کی ایڑی کے برابر ہے تو معلوم ہوا یہ اس کے برابر ہے، اور اگر مقتدی کی ایڑی امام کی ایڑی سے ذرا بھی آگے ہے تو پھر تو مقتدی آگے ہو رہا ہے تو پھر درست نہیں۔ تو یا برابر ہو یا اس سے پیچھے ہو۔ تو پاؤں یہ جو صفیں بھی ہم برابر کرتے ہیں، تو یاد رکھیے یہ صفوں کے برابر ہونے کا پتہ بھی ایڑیوں سے چلے گا، ایڑیاں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ برابر ہوں، ایڑی کا آخری کنارہ پچھلا کنارہ ایک دوسرے کے برابر کیا جائے، انگلیوں کی برابری سے صف نہیں سیدھی ہوگی، اس لیے کیونکہ کسی کا پاؤں لمبا ہوتا ہے کسی کا چھوٹا ہوتا ہے پھر تو صف برابر ہی نہیں رہے گی، تو صف کی برابری کا پتہ کس سے چلے گا؟ ایڑیاں برابر ہوں۔ ”وَإِنْ صَلَّى خَلْفَهُ أَوْ فِي يَسَارِهِ جَازَ“ اور اگر اس نے نماز پڑھی وہ جو ایک مقتدی ہے اس نے امام کے پیچھے نماز پڑھی یعنی پچھلی صف میں کھڑا ہو گیا ”أَوْ فِي يَسَارِهِ“ یا اس کے بائیں جانب ہوا تھا ”جَازَ“ تو بھی جائز ہے یعنی نماز ہو جائے گی ”وَهُوَ مُسِيءٌ“ اور وہ برا کرنے والا ہے ”لِأَنَّهُ خَالَفَ السُّنَّةَ“ اس لیے کیونکہ اس نے کیا کیا؟ سنت کی مخالفت کی ہے بھئی، تو نماز بہرحال ہو جائے گی۔ ”وَإِنْ أَمَّ اثْنَيْنِ تَقَدَّمَ عَلَيْهِمَا“ اور اگر امامت کروائی دو آدمیوں کی کسی نے ”تَقَدَّمَ عَلَيْهِمَا“ تو پھر ان پر وہ امام آگے ہو جائے گا، یعنی یہ دونوں پچھلی صف میں کھڑے ہوں گے، دائیں اور بائیں نہیں کھڑے ہوں گے بلکہ پچھلی صف میں۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ يَتَوَسَّطُهُمَا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام ان کے درمیان میں کھڑا ہو، یعنی ایک دائیں طرف کھڑا ہو جائے اور ایک بائیں طرف کھڑا ہو جائے۔ ”وَنُقِلَ ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ“ اور یہ نقل کیا گیا ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، روایات میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علقمہ اور حضرت اسود رحمہما اللہ کو نماز پڑھائی اور ان کے درمیان میں کھڑے ہوئے بھئی، درمیان میں کھڑے ہوئے، تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ دلیل ذکر فرماتے ہیں کہ درمیان میں کھڑا ہوگا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَقَدَّمَ عَلَى أَنَسٍ وَالْيَتِيمِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا حِينَ صَلَّى بِهِمَا“ کہ حضور علیہ السلام آگے ہوئے تھے حضرت انس اور یتیم پر جب ان کو نماز پڑھائی تھی، تو حضور آگے ہوئے تھے، معلوم ہوا آگے ہونا چاہیے۔ ”فَهَذَا لِلْأَفْضَلِيَّةِ“ تو یہ کس لیے ہے؟ افضل ہونے کے لیے ہے، یعنی افضل صورت یہ ہے کہ امام آگے ہو اور مقتدی جو دو ہیں وہ پیچھے ہوں۔ ”وَالْأَثَرُ دَلِيلُ الْإِبَاحَةِ“ اور اثر یعنی صحابی کا جو فعل ہے وہ مباح ہونے کی دلیل ہے یعنی جائز ہونے کی دلیل ہے۔ بھئی یاد رکھیے بھئی، جمہور کے نزدیک بھئی خبر، اثر، سنت، حدیث، چار نام ہیں حدیث کے، خبر بھی کہتے ہیں، اثر بھی کہتے ہیں، حدیث بھی کہتے ہیں اور سنت بھی کہتے ہیں، لیکن بعض علماء ان میں پھر بعض فرق کرتے ہیں جیسے صاحب ہدایہ، صاحب ہدایہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا فعل کو ذکر فرماتے ہیں تو حدیث کا لفظ ذکر کرتے ہیں، اور جب اثر کا لفظ ذکر کریں تو اس سے ان کی مراد صحابی کا قول یا فعل ہوتا ہے۔ اثر سے کیا مراد ہوتا ہے؟ صحابی کا قول یا فعل، جیسے یہاں پر آیا بھئی کہ یہ جو حدیث میں آیا یہ افضل ہونے کی علامت ہے ”وَالْأَثَرُ دَلِيلُ الْإِبَاحَةِ“ اور صحابی کا جو عمل ہے وہ کس چیز کی دلیل ہے؟ مباح ہونے یعنی جائز ہونے کی دلیل ہے، یعنی جو حدیث میں آیا وہ افضل صورت ہے کہ امام کو آگے ہونا چاہیے اور اگر امام درمیان میں بھی ہو تو نماز جائز ہو جائے گی ایسا کرنا بھی جائز ہے اور اس کا پتہ کس سے چلا؟ اثر سے یعنی صحابی کے فعل سے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا کیا۔ ”وَلَا يَجُوزُ لِلرِّجَالِ أَنْ يَقْتَدُوا بَامْرَأَةٍ أَوْ صَبِيٍّ“ اور جائز نہیں ہے مردوں کے لیے کہ وہ اقتداء کریں عورت کی یا بچے کی، یعنی عورت یا بچے کو امام بنائیں اور مرد پیچھے ہوں یہ جائز نہیں۔ ”أَمَّا الْمَرْأَةُ“ باقی عورت جو ہے ”فَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ تو وہ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے ”أَخِّرُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللَّهُ“ کہ ان عورتوں کو مؤخر کرو، پیچھے کرو، من حیث اخرھن اللہ، جہاں ان کو اللہ نے مؤخر کیا ہے، جہاں ان کو اللہ نے مؤخر فرمایا ہے تم بھی ان کو کیا کرو؟ ان کو مؤخر کرو، پیچھے کرو، اور اور تو کوئی مقام نہیں، معلوم ہوا یہ کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے؟ نماز کے بارے میں، کہ اس میں اللہ نے ان کو مؤخر فرمایا ہے کہ وہ پیچھے ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عورتیں پیچھے کھڑی ہوں گی۔ اور بعضوں نے کہا کہ حیث تعلیل کے لیے بھی یہاں، بھئی حیث کا ایک معنی تو ہے جگہ، مکان، تو حیث جگہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے تو پہلا ترجمہ کیا ہوا؟ ”أَخِّرُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللَّهُ“ ان کو مؤخر کرو من حیث، جس جگہ پر یعنی جہاں پر اللہ نے ان کو مؤخر فرمایا ہے اور وہ کیا ہے؟ معلوم ہوا نماز ہی ہے بھئی، نماز ہی ہے۔ اور بعضوں نے کہا حیث تعلیل کے لیے بھئی، کہ یعنی علت بیان کی جا رہی ہے، عورتوں کو مؤخر کرو کیونکہ اللہ نے ان کو مؤخر فرمایا ہے، اور اللہ نے عورتوں کو مؤخر فرمایا ہے، مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے، چنانچہ آپ اسی لیے دیکھتے ہیں احکام شریعت کے اندر پڑھتے ہیں کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے، دو عورتوں کی گواہی ایک مرد، معلوم ہوا مرد کو فضیلت ہے۔ اسی طرح وراثت کے مسئلے کے اندر دیکھ لیں، بھئی اور بہن ہوں تو بھئی کو بہن سے دگنا حصہ ملتا ہے، معلوم ہوا ہے مرد کو اللہ نے فضیلت دی ہے، اسی طرح عورت کے لیے قوم کی امیر بننا وغیرہ یہ درست نہیں ہے بھئی، تو ان سب سے پتہ چلا کہ اللہ نے ان کو مؤخر فرمایا ہے تو لہٰذا نماز میں بھی ان کو ان کا مقام مردوں کے بعد ہوگا تو یہ مردوں کے پیچھے ہوں گی۔ ”فَلَا يَجُوزُ تَقْدِيمُهَا“ تو ان کو مقدم کرنا جائز نہیں ہے۔ ”وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَلِأَنَّهُ مُتَنَفِّلٌ فَلَا يَجُوزُ اقْتِدَاءُ الْمُفْتَرِضِ بِهِ“ اچھا بھئی، عورت کی اقتداء تو درست نہیں، بچے کی اقتداء کیوں نہیں درست؟ اس کو امام بنانا کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں ”وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَلِأَنَّهُ مُتَنَفِّلٌ“ کیونکہ وہ تو نفل پڑھنے والا ہے، بھئی بچے پر تو نماز فرض ہی نہیں۔ بچے پر تو نماز فرض ہی نہیں ہے، تو لہٰذا بچے کی نماز کیا ہوئی؟ نفل ہوئی، اور دوسرا شخص کیا پڑھ رہا ہے اس کے پیچھے؟ فرض پڑھنا چاہتا ہے، تو بچے کی نماز نفل ہے اور یہ جو مقتدی ہے اس کی نماز فرض ہے، اور امام کی جو جماعت ہوتی ہے وہ شامل ہوتی ہے مقتدی کی جماعت کو، یعنی مقتدی کی نماز امام کی نماز کے اندر داخل ہوتی ہے، اس کی نماز میں داخل ہوتی ہے، یعنی یوں کہیں امام کی نماز مقتدیوں کی نماز کو اٹھائے ہوئے ہے، ان کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اپنے اندر لیے ہوئے ہے، تو اگر وہ قوی ہوگی تو اس کے اندر ضعیف آ جائے گا، لیکن اگر وہ ضعیف ہے تو ضعیف تو قوی چیز کو نہیں اٹھا سکتی بھئی، تو بچہ ہوا نفل پڑھنے والا اور مقتدی ہوا فرض پڑھنے والا، تو لہٰذا یہ اقتداء صحیح نہیں ہوگی کیونکہ اس صورت میں ضعیف پر قوی کی بناء کرنا، قوی کی بنیاد رکھنا لازم آئے گا اور ضعیف پر قوی کی بنیاد نہیں رکھی جاتی بلکہ قوی پر ضعیف کی بنیاد رکھی جاتی ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا: اچھا اگر نفل پڑھنا چاہتے ہیں، کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ نفل، اب تو بچے کی نماز تو نفل ہے ٹھیک ہے، تو پیچھے جو مقتدی ہے وہ بھی تو نفل پڑھنا چاہتا ہے تو اس صورت میں پھر اقتداء صحیح ہونی چاہیے، بچے کے پیچھے نماز درست ہونی چاہیے، تو یہ مسئلہ بھی آگے ذکر کریں گے بھئی، کہ صحیح قول کے مطابق اس صورت میں بھی اقتداء صحیح نہیں۔ بچہ نفل پڑھ رہا ہے اور جو مقتدی ہے وہ بھی کس میں شریک ہے ساتھ؟ وہ بھی نفل پڑھ رہا ہے، نفل کی نیت کے ساتھ شامل ہوا ہے، تو بھی اقتداء صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے نفل نفل ہیں جب تک شروع نہیں کیے لیکن جب شروع کر دیے تو وہ کیا بن گئے؟ واجب بن گئے، تو پیچھے جو مقتدی ہے اس نے جیسے ہی نفل شروع کیے کیا بن گئے؟ وہ تو واجب بن جائیں گے، اور بچہ، بچے پر اگر وہ نفلوں کو فاسد بھی کر دے اس پر ان کی قضاء نہیں، بچے پر ان کی قضاء نہیں، تو اس صورت میں بھی وہی خرابی لازم آئے گی کہ کیا کرنا پڑے گا؟ ضعیف پر قوی کی بنیاد رکھنا لازم آئے گا اور یہ تو صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَلِأَنَّهُ مُتَنَفِّلٌ فَلَا يَجُوزُ اقْتِدَاءُ الْمُفْتَرِضِ بِهِ“ اور باقی بچہ جو ہے تو وہ تو نفل پڑھنے والا ہے لہٰذا جائز نہیں ہے کہ اس کی اقتداء کرے فرض پڑھنے والا۔ ”وَفِي التَّرَاوِيحِ وَالسُّنَنِ الْمُطْلَقَةِ جَوَّزَهُ مَشَايِخُ بَلْخٍ وَلَمْ يُجَوِّزْهُ مَشَايِخُنَا“ اور تراویح کے اندر اور مطلق سنتوں کے اندر اس کو جائز قرار دیا ہے مشائخ بلخ نے ”وَلَمْ يُجَوِّزْهُ مَشَايِخُنَا“ اور اس کو جائز قرار نہیں دیا ہمارے مشائخ نے یعنی مشائخ ما وراء النہر، مشائخ ما وراء النہر۔ بھئی یاد رکھیے، یہ صاحب ہدایہ ما وراء النہر کے ہیں۔ آج کل یوں کہیے روس کے ہیں، کہاں سے تھے؟ کس علاقے سے ان کا تعلق تھا؟ روس۔ بھئی یہ جو افغانستان کا روس کی طرف کا جو کنارہ ہے، یہ آخری کنارہ اور اسی طرح آگے روس کا جو حصہ ہے یہ ہے ما وراء النہر، یہ بخارا، سمرقند یہ اس علاقے میں تھے اور یہ عجیب علم خیز علاقہ تھا، جتنے بڑے بڑے علماء کو دیکھیں قدیم اکثر اس علاقے کے ہیں، امام بخاری اس علاقے کے ہیں، امام ترمذی اس علاقے کے ہیں، صاحب ہدایہ اس علاقے کے ہیں وغیرہ، بڑے بڑے جبال، امام ترمذی ہیں وہ اس علاقے کے ہیں، بڑے بڑے جو جبال العلوم ہیں وہ اس علاقے کے ہیں، اور اب اللہ نے وہ برکات جو ہیں وہ سرزمین ہند میں منتقل فرما دی ہیں، اب آپ دیکھیں علمائے دیوبند کو دیکھ لیں کہ ان سے اللہ دین کی خدمات لے رہے ہیں اور وہ برکات ان کی طرف اللہ نے منتقل فرما دی ہیں اور علمائے دیوبند نے دین کی اتنی خدمت کی، اتنا کام ان سے اللہ نے لیا کہ انسان حیران رہتا ہے کہ یہ کیسے مبارک اور پیارے لوگ ہیں بھئی، کیسے مبارک۔ سمجھ میں آیا؟ بڑے بڑے علماء اور اتنی دین کی خدمت کی اور دین کی ایسی وضاحت، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ہی کو دیکھ لیجیے بھئی، کیسی دین کی عجیب ان کو اللہ نے ملکہ دیا، اتنی زیادہ تصانیف کیں اور پھر اتنی مقبولیت اللہ نے ان کو نصیب فرمائی، کوئی شخص کہہ دے آپ کو کہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے یوں فرمایا ہے، تو آپ فوراً تسلیم کر لیتے ہیں کہ اچھا اگر انہوں نے لکھا ہے تو مسئلہ ایسا ہی ہوگا، دیکھو کتنا اعتماد ہے کہ ان کا قول آ جاتا ہے تو پھر آپ کو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں بھئی، سمجھ؟ تو یہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ہیں اسی طرح، بلکہ دین کے ہر شعبے کے اندر علمائے دیوبند کی خدمات ہیں بھئی، چاہے سیاست میں دیکھ لیں، چاہے جہاد کے اندر دیکھ لیں، چاہے ختم نبوت کے اندر دیکھ لیں، چاہے تبلیغ کے میدان میں دیکھ لیں، چاہے مدارس کے میدان میں دیکھ لیں تعلیم کے اندر دیکھ لیں، ہر شعبے کے اندر علمائے دیوبند سے اللہ دین کا کام لے رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ان اہل حق میں سے پیدا فرمایا اور ہمیں پیدائشی طور پر ہی اللہ نے یہ عقیدہ نصیب فرما دیا جو علمائے دیوبند کا ہے بھئی، ورنہ عقیدے کو کون بدلتا ہے بھئی، آپ خود دیکھ لیں، کھلی نشانیاں سامنے آ جاتی ہیں کھلی نشانیاں، پھر بھی لوگ اپنے عقیدے کو نہیں چھوڑتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پھر کتنی نشانیاں، ابھی قریب میں آپ نے دیکھا، قریب میں، قریب میں مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کی قبر سے خوشبو جاری ہوئی، میرے والد حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ ان کی قبر سے اللہ نے خوشبو جاری فرمائی، غازی عبد الرشید جو لال مسجد کے اندر شہید جن کو کیا گیا ان کی قبر سے اللہ نے خوشبو جاری فرمائی، مولانا عبد اللہ رحمہ اللہ اسلام آباد میں جن کو شہید کیا گیا ان کی قبر سے اللہ نے خوشبو جاری فرمائی، اور اسی طرح کتنے ہی علماء قریب کے سالوں میں آپ دیکھ لیں کن کی قبروں سے، کسی کے خون سے خوشبو آ رہی ہے۔ اب یہ کتنی کھلی نشانیاں ہیں، کتنی کھلی نشانیاں، اور یہ جو قبروں سے خوشبو آتی ہے مجھے میں نے تو اپنے والد صاحب کی قبر سے خوشبو آئی اس کا مشاہدہ کیا، یہ نہیں کہ قبر کے پاس آپ کھڑے ہوتے ہیں پھر خوشبو آتی ہے، نہیں، پورا علاقہ معطر ہوتا ہے، پورا علاقہ۔ اب والد صاحب کی قبر میانی قبرستان میں ہے اور یہ حالانکہ ایشیا کا سب سے قدیم ترین قبرستانوں میں سے ہے اور کتنا ہی بڑا ہے پھیلا ہوا ہے، ارد گرد آبادی، تو جب والد صاحب کی قبر سے خوشبو شروع ہوئی تو پورا قبرستان اور اس کے ارد گرد کی جتنی آبادی ہے ان ساروں کی فضا ہر وقت معطر رہتی تھی، ہر وقت معطر، یہ نہیں کہ صرف قبر کے پاس خوشبو، نہیں نہیں، وہ سارا علاقہ معطر ہوتا ہے۔ اور جب تک خوشبو ہے وہ سارا علاقہ دن رات خوشبو سے معطر ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہاں بیچ میں سے جو گاڑیاں گزرتیں بھئی گاڑیاں، سڑک گزر رہی ہے وہاں تو گاڑی بھی گزر رہی ہے اگر شیشے کھلے ہوتے واضح گزرنے والے کو فوراً ہی تیز خوشبو کے جھونکے واضح محسوس ہوتے تھے، جیسے غازی عبد الرشید رحمہ اللہ جن کو شہید کیا گیا ان کی قبر سے خوشبو آئی تو یہ نہیں صرف قبر کے پاس خوشبو تھی، بلکہ کئی بستیوں تک وہ خوشبو پھیلی ہوئی تھی، ساری فضا ہر وقت معطر ہے ہر وقت معطر۔ بلکہ والد صاحب کی قبر کے پاس تو یہ بھی مشاہدہ کیا کہ وہاں کوئی شخص اگر پندرہ بیس منٹ یا ادھا گھنٹہ گزار لیتا تھا تو اس کے پورے کپڑے معطر ہو جاتے اور کئی کئی دن تک وہ جہاں جاتا اس کے کپڑوں سے خوشبو آتی رہتی، لوگ اس سے پوچھتے بھئی یہ کون سی خوشبو لگائی ہوئی ہے؟ اور ایسی خوشبو ایسی خوشبو، خوشبو ذرا تیز ہو انسان کو بعض اوقات ناگوار لگتی ہے، وہ جتنی زیادہ ہوتی اتنی ہی اس کی لذت بڑھتی چلی جاتی بھئی، تو پاس بھی لوگ جو ہوتے وہ بھی مٹی کو اٹھا کر بار بار سونگھتے تھے، جتنی زیادہ تیز خوشبو محسوس ہوتی اس کی اتنی لذت اور زیادہ اور زیادہ سرور محسوس ہوتا تھا، اور پھر ایسی خوشبو کہ تھوڑی سی ایک چٹکی کے برابر یا اس کے لگ بھگ اتنی سی مٹی اگر بڑے ہال میں رکھ دیتے تھے پورا ہال معطر ہو جاتا تھا، وہ ایک ایسی عجیب خوشبو تھی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو یہ کتنی کھلی نشانیاں اللہ کی طرف سے اللہ دکھلاتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور دیکھتے ہیں کہ یہ خوشبو اور خوشبو بھی ایسی کہ ایسی خوشبو سونگھی نہیں پہلے، اور پھر قبر سے آ رہی ہے مٹی سے آ رہی ہے، لوگ مٹی اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور مٹی ڈالتے ہیں وہ بھی اسی وقت اسی طرح خوشبودار ہو جاتی ہے، وہ ختم ہوتی ہے اور مٹی ڈال دیتے ہیں وہ بھی پھر پانچ دس منٹ کے اندر وہ بھی اسی طرح خوشبودار ہو جاتی ہے، اور سلسلہ چل رہا ہے، تو لیکن بہرحال ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ جس کو چاہتے ہیں ہدایت نصیب فرماتے ہیں، انسان جو عقیدہ بدلنا اس کے لیے سب سے مشکل کام ہوتا ہے بھئی، معمولی سی اس میں تبدیلی کرنا بھی اس کے لیے بڑا مشکل کام ہوتا ہے بھئی، بڑا مشکل کام ہوتا ہے، سمجھ میں آیا؟ بجائے اس کے کہ اس سے لوگ ہدایت پر آئیں، جو اپنے جس کا عقیدہ اور ہوگا اس کی کوشش یہ ہوگی کہ ہمارے لوگوں میں سے بھی کسی کی قبر سے خوشبو آ جائے، بھئی عجیب بات ہے یہ تو زبردستی والی بات ہے، بھئی اپنا عقیدہ کیوں نہیں ٹھیک کر لیتے جب آپ کو پتہ چل گیا ایک شخص کی قبر سے ایک بھی نہیں کئی افراد بار بار کبھی ایک کی کبھی دوسرے کی کبھی تیسرے کی قبر سے خوشبو آ رہی ہے، معلوم ہوا یہ اہل حق لوگ ہیں، یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ اہل حق ہیں، یہ حق پر ہیں، تو تم کیوں نہیں اسی راستے پر آ جاتے؟ بجائے اس کے کہ پھر بھی کوشش یہی ہے کہ ہمارا راستہ بھی کیا ہو جائے؟ ٹھیک ثابت ہو جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اللہ کا ہم پر خصوصی انعام ہے، خصوصی فضل و کرم ہے کہ ہمیں انہی لوگوں میں انہی کے گھرانوں میں پیدا فرمایا اور پیدائشی طور پر یہ عقیدہ ہمیں اللہ نے نصیب فرما دیا ورنہ عقیدہ بدلنا بڑا مشکل کام ہے، بڑا مشکل کام ہے بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ سب کو کامل ہدایت نصیب فرمائے بھئی، اللہ سب کو، اور اللہ ہمیں ان بزرگوں کے طریقے پر اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے استقامت کے ساتھ بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي التَّرَاوِيحِ وَالسُّنَنِ“ تو یہ ما وراء النہر کی بات میں کر رہا تھا، تو یہ افغانستان کا یہ دوسری جانب کا جو کنارہ ہے روس کی طرف کا یہ اور روس کا جو علاقہ ہے ساتھ سارا یہ کیا کہلاتا ہے؟ ما وراء النہر، اور صاحب ہدایہ یہاں کے تھے، تو چنانچہ جب وہ اپنے فقہاء اور مشائخ کا ذکر فرماتے ہیں تو فرماتے ہیں مشائخنا، کس کے نزدیک؟ عند مشائخنا ہمارے مشائخ کے نزدیک ہے، یا ہمارے مشائخ نے فرمایا ہے، تو یہ معنی ہے ”وَلَمْ يُجَوِّزْهُ مَشَايِخُنَا“ اور اس کو جائز قرار نہیں دیا ہمارے مشائخ نے یعنی ہمارے اساتذہ نے، ہمارے فقہاء نے۔ اچھا، تو مشائخ بلخ کیا فرماتے ہیں؟ تراویح اور سنن مطلقہ کے اندر بچے کی اقتداء کرنا مرد کے لیے انہوں نے جائز قرار دیا ہے۔ سنن مطلقہ اس سے کیا مراد ہے؟ سنن مطلقہ سے مراد ہیں حاشیے میں اپ کے تفصیل دی ہوئی ہے: أَيِ الرَّوَاتِبِ، یعنی کہ رواتب، رواتب یہ سنت مؤکدہ جو ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ رواتب کہتے ہیں، یہ بھئی جو نماز سے پہلے یا بعد میں جو سنتیں ہم ادا کرتے ہیں، یہ سنت مؤکدہ، ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ رواتب۔ اسی طرح ”وَصَلَاةِ الْعِيدِ عَلَى إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ“ اور عید کی نماز بھی دو روایتوں میں سے ایک روایت کے مطابق سنت ہے، ویسے تو واجب ہے جو صحیح روایت ہے لیکن ایک روایت کے مطابق کیا قرار دیا فقہاء نے اس کو؟ سنت۔ اسی طرح ”وَالْوِتْرِ عِنْدَهُمَا“ وتر جو ہے صاحبین کے نزدیک کیا ہے؟ سنت۔ ”وَصَلَاةِ الْكُسُوفِ وَالْخُسُوفِ وَالِاسْتِسْقَاءِ“ اور اسی طرح سورج گرہن، چاند گرہن وغیرہ اور استسقاء کی جو نمازیں ہیں یہ بھی یہ کیا ہیں؟ صاحبین کے نزدیک یہ سنت ہیں بھئی سنت ہیں۔ تو یہ اس میں دیکھو اوپر آیا سنن مطلقہ، مطلقاً جو سنتیں ہیں یہ ساری اس میں داخل ہو گئیں سنت مؤکدہ وغیرہ، تو مشائخ بلخ نے اس میں بچے کی اقتداء کرے کوئی بڑا آدمی اس کو جائز قرار دیا ہے، کیا قرار دیا ہے؟ جائز قرار دیا ہے۔ تو سنتیں ویسے تو الگ الگ ادا کرنی، سنت کا طریقہ تو یہی ہے جماعت کے ساتھ نہیں ہو بلکہ کس طریقے سے ہونی چاہیے؟ الگ ادا کرے انسان بھئی اکیلا، لیکن اگر کوئی دو تین اکٹھے ہو کر ادا کر لیتے ہیں تو اگرچہ مکروہ ہے صحیح قول کے مطابق لیکن بہرحال نماز ہو جائے گی، نماز کیا ہے؟ ہو جائے گی، پھر بالخصوص جب اس میں اہتمام نہ ہو، لوگوں کو بلایا نہ جائے بلکہ دو تین اکٹھے ہو گئے انہوں نے کیا کر لیا؟ کسی وقت ادا کر لیا تو نماز ہو جائے گی جیسے نفلوں کے اندر ہے، نفلوں کے اندر بھی یاد رکھیے جماعت نہیں، نفل اکیلے پڑھنے چاہییں، لیکن اگر کوئی دو چار اکٹھے ہو گئے انہوں نے کیا کر لیا؟ جماعت کروا لی، تو یاد رکھنا پھر ٹھیک ہے، نفل ہو جائیں گے اور اس صورت میں کراہت بھی نہیں ہے جب کہ اس کو وہ اپنا طریقہ ہی نہ بنا لیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں تو کبھی ہو گئے اکٹھے اور اکٹھے پڑھ لیے تو پھر ٹھیک ہے طریقہ اور اس صورت میں کراہت بھی نہیں ہے، لیکن اگر وہ باقاعدہ جمع ہوتے ہیں یا پڑھتے ہیں اس طرح نوافل کو جماعت کے ساتھ تو یہ مکروہ تحریمی ہے ہمارے نزدیک صحیح قول کے مطابق بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي التَّرَاوِيحِ وَالسُّنَنِ الْمُطْلَقَةِ جَوَّزَهُ مَشَايِخُ بَلْخٍ“ تراویح میں اور مطلق سنتوں کے اندر جائز قرار دیا ہے اس کو بلخ کے مشائخ نے ”وَلَمْ يُجَوِّزْهُ مَشَايِخُنَا“ اور ہمارے مشائخ نے یعنی ما وراء النہر کے مشائخ نے اس کو جائز قرار نہیں دیا۔ ”وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّقَ الْخِلَافَ فِي النَّفْلِ الْمُطْلَقِ بَيْنَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور ان میں سے بعضوں نے تو اختلاف کو ثابت کیا ہے نفل مطلق کے اندر بھی امام ابو یوسف اور امام محمد کے درمیان۔ بھئی تراویح اور سنتوں کے اندر تو اختلاف ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور کہتے ہیں بعضوں نے نفل مطلق یعنی غیر موقت نفل جو ہیں جو کسی بھی وقت پڑھے جائیں، یہ غیر موقت نفلوں کے اندر ان میں بھی اختلاف کو ثابت کیا ہے، کس کے درمیان ہے؟ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، یعنی انہوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے نفل مطلق میں، یعنی وہ نفل جو کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں، وقت کے ساتھ مقید۔ ”وَالْمُخْتَارُ“ آگے صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں، اور مختار اور پسندیدہ قول یہ ہے ”أَنَّهُ لَا يَجُوزُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا“ کہ یہ جائز نہیں ہے تمام نمازوں میں ہی، چاہے سنت ہوں، چاہے نفل ہوں، ان سب کے اندر بچے کو امام بنانا جائز نہیں۔ ”لِأَنَّ نَفْلَ الصَّبِيِّ دُونَ نَفْلِ الْبَالِغِ“ اس لیے کیونکہ بچے کے جو نفل ہیں وہ بالغ کے نفل سے کمتر ہیں ”حَيْثُ لَا يَلْزَمُهُ الْقَضَاءُ بِالْإِفْسَادِ بِالْإِجْمَاعِ“ کیونکہ بچے پر قضاء لازم نہیں ہوتی اس کو فاسد کرنے سے بالاجماع۔ اگر وہ نفلوں کو کیا کر دے؟ فاسد کر، درمیان میں نفل توڑ دیتا ہے تو اس پر قضاء نہیں، لیکن اگر کوئی بڑا نفل کو توڑ دے گا اس پر قضاء ہے، تو معلوم ہوا بچے کے نفل بھی ضعیف ہوئے اور بالغ کے نفل قوی ہوئے، تو ضعیف پر قوی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ ”وَلَا يُبْنَى الْقَوِيُّ عَلَى الضَّعِيفِ“ اور بنیاد نہیں رکھی جاتی قوی کی ضعیف پر۔ ”بِخِلَافِ الْمَظْنُونِ“ بخلاف کس کے؟ مظنون کے ”لِأَنَّهُ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مجتہد فیہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ بھئی مظنون یہ ہے، توجہ سے سننا بھئی مظنون: ایک آدمی ہے نماز پڑھ رہا ہے مثلاً ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے اور آخری قعدے پر بیٹھا، نماز مکمل ہو گئی لیکن اس کے بھول گیا، وہ سمجھا شاید میں نے ابھی صرف دو رکعت پڑھی ہیں، وہ پھر کھڑا ہو گیا۔ اب یہ جو اگلے دو رکعتیں ہیں یہ پڑھتا ہے یہ نفل ہوں گی، یہ کیا ہوں گی؟ نفل، اور یہ شخص یہ نفل جو پڑھ رہا ہے کس وجہ سے پڑھ رہا ہے؟ اپنے غلط گمان کی وجہ سے، اپنے گمان کی وجہ سے پڑھ رہا ہے، تو یہ شخص ہوا ظان، ظن کس کو کہتے ہیں؟ گمان کو، ظان کا کیا معنی؟ گمان کرنے والا، اور یہ نفل جو پڑھ رہا ہے یہ ہوئے مظنون جن کا اس نے کیا کیا ہے؟ گمان، اس نے تو کیا گمان کیا؟ میں شاید نماز ہی پڑھ رہا ہوں ابھی ظہر کی نماز پوری نہیں ہوئی، لیکن ہیں یہ نفل اور یہ کون سے نفل ہیں؟ نفل مظنون ہیں، کیا ہیں؟ نفل مظنون ہیں۔ یاد رکھیے یہ نفل ہیں اور یہ کیا کہلائیں گے؟ نفل مظنون۔ ان کو اگر یہ شخص فاسد کر دیتا ہے، توڑ دیتا ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پر قضاء نہیں۔ کیونکہ یہ تو اس نے اپنے گمان کی وجہ سے شروع کیے تھے، ایک عارض کی وجہ سے، ورنہ تو دراصل اس کا ارادہ نفل پڑھنے کا تھا ہی نہیں۔ ارادہ ہوتا خود ارادے سے کوئی نفل شروع کرتا ہے اس پر لازم ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں پر جو اس کا ارادہ تھا نفل کا؟ اس کا ارادہ تو نفل کا نہیں۔ لہٰذا اس کو پھر درمیان میں یاد آ گیا کھڑا ہو گیا، ایک رکعت یہ پڑھ بھی چکا ہے، اس نے پھر نماز توڑ ڈالی، نماز توڑ دی، نماز توڑ دی، تو اب اس پر قضاء ہوگی یا قضاء نہیں ہوگی؟ اس پر قضاء نہیں۔ تو مظنون جو نفل ہیں ان کی قضاء نہیں، تو وہ جو مشائخ بلخ وغیرہ ہیں انہوں نے قیاس کیا تھا کس پر؟ مظنون پر، کہ مظنون پر جیسے دیکھو اس پر ان نفلوں کی قضاء نہیں، اب یہ شخص دوسری رکعت نفلوں میں کھڑا ہے، مظنون نفل ہیں، ایک آدمی آ کر اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے، اقتداء کر لیتا ہے اس کی، تو یہ اقتداء صحیح ہے، یہ کیا ہے؟ اقتداء کرنا صحیح ہے یعنی اس کو اپنا امام بنا لیتا ہے اور خود کیا بن جاتا ہے اس کا؟ مقتدی بن جاتا ہے، آگے مسائل آئیں گے تفصیل سے، اس طرح کرنا درست ہے تو وہ لہٰذا اب دیکھو، جو مقتدی ہے اس نے ارادے کے ساتھ نفل شروع کیے ہیں اور آگے والا جو ہے اس نے تو اپنے ظن کی وجہ سے شروع کیے ہیں، وہ اگر اپنے نفل توڑ دے گا اس پر اس کی قضاء نہیں، لیکن مقتدی جو ہے اگر نفل توڑ دے گا تو اس پر اس کی قضاء اس پر لازم، تو دیکھو ضعیف پر کس کی بنیاد ہے؟ قوی کی بنیاد ہے، تو جیسے مظنون کی اقتداء کرنا جائز ہے عام نفل والے کے لیے، اسی طرح بچے کے اندر بھی ہے تو اس میں بھی اس کی اقتداء جائز ہوگی، دلیل سمجھ میں آئی ان کی بھئی؟ تو بچے میں بھی اقتداء جائز ہوگی جیسے مظنون میں قضاء اس پر لازم نہیں ہوتی بچے میں بھی قضاء لازم نہیں ہوتی۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی مظنون کے مسئلے میں امام زفر رحمہ اللہ نے اختلاف کیا ہے، وہ فرماتے ہیں مظنون پر بھی قضاء واجب ہوگی، اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ قضاء، باقی ہمارے تینوں ائمہ تو فرماتے ہیں مظنون پر قضاء نہیں ان نفلوں کی اگر توڑ دے گا لیکن امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ قضاء، معلوم ہوا یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے یعنی اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے جبھی تو بعض فقہاء ایک طرف گئے تو باقی دوسری طرف گئے، لہٰذا یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہوا اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ اور اس لیے بھی کیونکہ مظنون کا جو عارض ہے عارض پیش آیا اور وہ عارض کیا تھا؟ اس کا غلط گمان تھا، اور یہ غلط گمان ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا ہے یا اس وقت پیش آیا؟ اس وقت پیش آیا، جب کہ بچے کے ساتھ اس کا بچپنا ہر وقت لگا ہوا ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہوتا اس کے ساتھ وہ عارض رہے گا بھئی، تو اس عارض میں اور اس عارض میں فرق ہے، وہ بڑے لمبے عرصے تک رہنے والا ہے اور یہ عارض کیا ہے؟ تھوڑی دیر کے لیے ہے، تو اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے ”بِخِلَافِ الْمَظْنُونِ لِأَنَّهُ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ بخلاف مظنون کے کیونکہ وہ نفل مظنون کیا ہے؟ مجتہد فیہ ہیں ”فَاعْتُبِرَ الْعَارِضُ عَدَمًا“ تو اس عارض کو معدوم شمار کیا گیا ”بِخِلَافِ اقْتِدَاءِ الصَّبِيِّ بِالصَّبِيِّ لِأَنَّ الصَّلَاةَ مُتَّحِدَةٌ“ بخلاف بچے کی اقتداء کرنا بچے کی، اس لیے کیونکہ نماز متحد ہے تو جماعت ہو جائے گی۔ بخلاف کس کے؟ اگر بچہ بچے کی اقتداء کرے یعنی امام بھی بچہ اور پیچھے مقتدی بھی کون ہے؟ بچہ ہے، پھر نماز صحیح ہو جائے گی کیونکہ دونوں کی نماز متحد ہے ایک جیسی ہے بالکل بھئی، تو پھر نماز ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الصَّلَاةَ مُتَّحِدَةٌ“ کیونکہ نماز متحد ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 55 of 82