Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-113

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
و أَمَّا الْقَوْلُ بِمُوجَبِ الْعِلَّةِ فَهُوَ التَّسْلِيمُ كَوْنِ الْوَصْفِ عِلَّةً وَ بَيَانُ أَنَّ مَعْلُولَهَا غَيْرُ مَا ادَّعَاهُ الْمُعَلِّلُ. وَ مِثَالُهُ الْمِرْفَقُ حَدٌّ فِي بَابِ الْوُضُوءِ فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْغَسْلِ لِأَنَّ الْحَدَّ لَا يَدْخُلُ فِي الْمَحْدُودِ. قُلْنَا الْمِرْفَقُ حَدُّ السَّاقِطِ فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ حُكْمِ السَّاقِطِ لِأَنَّ الْحَدَّ لَا يَدْخُلُ فِي الْمَحْدُودِ. آج دوسرا اعتراض جو قیاس پر وارد ہوتا ہے اس کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ دوسرا اعتراض کیا ہے قیاس پر وارد ہونے والا؟ القول بموجب العلة. قول بموجب العلة، بھئی! بس قول بموجب العلة کہتے ہیں کہ دیکھو معلل نے ایک علت بیان کی اور اس علت پر ایک حکم کو ثابت کیا۔ اس علت کے ذریعے کیا کیا؟ حکم کو ثابت کیا۔ آپ معلل... یا معترض... معترض جو ہے وہ معلل کی علت کو تو تسلیم کر لیتا ہے کہ یہ وصف علت ہے، لیکن حکم کا انکار کر دیتا ہے کہ اس علت سے یہ حکم ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس سے دوسرا حکم ثابت ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ قول بموجب العلة کسے کہتے ہیں؟ کہ معلل نے ایک علت... ایک حکم ثابت کیا تھا، ایک علت کے ذریعے، آپ اس کی علت کو تو تسلیم کر لیتے ہیں لیکن اس کے حکم کو تسلیم... آپ کہتے ہیں: اس وصف سے، اس علت سے یہ حکم نہیں ثابت ہوتا جو آپ نے ثابت کیا ہے، بلکہ اس کے ذریعے تو دوسرا حکم ثابت ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ آسان سی بات ہے۔ اس پر اشتقاق... حکم کا انکار کر دیتے ہیں آپ۔ اس پہ اشکال ہوتا ہے بھئی کہ بھئی! پھر کیا فرق ہوا ممانعت میں اور قول بموجب العلة میں؟ ممانعت میں بھی حکم کا انکار کرتے تھے، یہاں پر بھی کس کا انکار کر رہے ہیں؟ حکم کا انکار۔ و منع الحكم قسم پڑھی تھی یا نہیں بھئی؟ جس میں حکم کا انکار کرتے تھے بھئی۔ تو جواب یہ کہ بھئی وہاں پر حکم کا انکار ہوتا تھا، علت سے تعرض نہیں ہوتا تھا۔ علت کے تسلیم کرنے وغیرہ کا وہاں ذکر نہیں، جبکہ یہاں پر کیا کیا جائے گا؟ علت کو تسلیم کریں گے آپ، اس کے بعد کس کا انکار کریں گے؟ حکم کا۔ وہاں علت کے تسلیم کرنے کا... علت کا تسلیم کرنا نہیں ہوگا، بلکہ صرف کیا کیا جائے گا؟ حکم کا انکار کیا جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی: وَ أَمَّا الْقَوْلُ بِمُوجَبِ الْعِلَّةِ فَهُوَ التَّسْلِيمُ كَوْنِ الْوَصْفِ عِلَّةً. قول بموجب العلة جو ہے وہ تسلیم کرنا ہے کون الوصف علة، وصف کے علت ہونے کو. وصف کے علت ہونے کو کیا کر لینا؟ تسلیم کر لینا. اور وَ بَيَانُ أَنَّ مَعْلُولَهَا اور یہ بیان کرنا کہ ان معلولها کہ اس علت کا معلول... معلول سے مراد حکم ہے بھئی، معلول سے کیا مراد ہے؟ علت پائی جائے تو معلول... جو چیز جس کا سبب بنتی ہے، علت کی وجہ سے جو چیز پائی جاتی ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ معلول کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ ایک ہے علت، ایک معلول. علت ہوگی تو کیا پایا جائے گا؟ معلول. اور وہ یہاں پر کیا ہے بھئی؟ حکم ہے، حکم بھئی. اور یہ بیان کرنا ان معلولها کہ اس علت کا معلول جو ہے، یعنی اس علت کا حکم غير ما ادعاه المعلل، غیر ہے اس کا جس کا دعویٰ معلل نے کیا ہے. جس حکم کا دعویٰ معلل نے کیا ہے اس کے علاوہ ہے حکم، وہ حکم نہیں ہے بھئی. علت کو تسلیم کر لینا اور یہ بیان کرنا کہ اس کا حکم وہ نہیں ہے جو معلل نے بیان کیا ہے بلکہ اس کا حکم تو اور ہے. یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وَ مِثَالُهُ اور مثال اس کی الْمِرْفَقُ حَدٌّ. دیکھیے بھئی! امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو کہنیاں ہیں، ان کا دھونا فرض نہیں ہے. ہمارے نزدیک تو کہنیوں کا دھونا فرض ہے، لیکن ہمارے ایک امام امام زفر رحمہ اللہ وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہنیوں کا دھونا فرض نہیں ہے. کیا وجہ ہے؟ وہ کہتے ہیں: دیکھو بھئی! یہ کہنیاں حد ہیں. قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یا ایها الذین آمنوا اذا قمتم الى الصلاة فاغسلوا وجوهكم و ایدیکم... الى المرافق بھئی، الى... "ہاتھوں کو دھوؤ کہنیوں تک." تو کہنیاں ہوئیں حد، اور حد محدود میں داخل نہیں ہوتی. حد محدود کے اندر داخل نہیں ہوتی، تو لہٰذا یہ دھونے کے حکم میں داخل نہیں، ان کا دھونا فرض نہیں ہے. جی! تو انہوں نے کیا علت بیان کی بھئی؟ کہ حد محدود کے اندر داخل نہیں ہوتی. اس لیے کہنیاں ہیں حد اور حد محدود میں داخل نہیں ہوتی، لہٰذا اس سے کیا حکم ثابت کیا کہ کہنیوں کا دھونا فرض بھی نہیں. ہم کہتے ہیں: ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، کہنیاں ہیں حد بھئی، اور حد کیا ہوا کرتی ہے؟ محدود میں داخل نہیں ہوتی، لیکن یہ مغسول کی حد نہیں ہے بلکہ یہ ساقط کی حد ہیں. کس کی حد ہیں؟ ساقط کی حد ہیں. دیکھو بھئی! ید کا اطلاق عربی میں انگلیوں سے لے کر کندھے تک، پورے بازو پر... اس کو کیا کہتے ہیں پورے بازو کو؟ ید کہتے ہیں. اور اس میں سے... ید پورے کو کہتے ہیں، تو جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: و ایدیکم "اور اپنے ہاتھوں کو دھو لو"، "اپنے ہاتھوں کو..." تو پھر تو ید کا اطلاق تو پورے بازو پر ہوتا ہے، تو اگر الى المرافق نہ ہوتا تو پھر کیا کرنا پڑتا؟ پورے بازو کو کندھے تک دھونا پڑتا. لیکن الى المرافق کے ذریعے کچھ حصہ اللہ نے ساقط فرما دیا. کچھ حصے کو کیا فرما دیا؟ ساقط فرما دیا. تو الى المرافق یہ حد ہوئی ساقط کی، کس کی حد ہوئی؟ ساقط کی. وہ حصہ جس کا دھونا ضروری نہیں، جو ساقط ہے دھونے سے، اس کی حد ہوئی. اور حد محدود کے اندر داخل... تو باقی حصہ تو ساقط ہے، لیکن کہنیاں ساقط... بلکہ ان کو کیا کرنا پڑے گا؟ جب وہ ساقط نہیں ہیں تو لازمی بات ہے ان کو کیا کرنا پڑے گا؟ دھونا پڑے گا. صورت سمجھ میں آئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے... امام زفر رحمہ اللہ نے کہنیوں کو کیا قرار دیا تھا؟ حد قرار دیا تھا، اور حد کیا ہوتی ہے محدود کے اندر داخل... اس کو علت بنایا تھا کہ کہنیاں ہیں حد اور حد ہوتی ہے محدود کے اندر داخل نہیں. تو حکم کیا نکالا تھا اس سے؟ جی، تو کہنیوں کا حد ہونا یہ تھی علت، اور حکم کیا نکالا تھا؟ کہ ان کا دھونا فرض... ہم نے ان کی علت کو تسلیم کر لیا کہ واقعی کہنیاں ہیں حد، لیکن ان کا حکم کیا تھا کہ فرض نہیں، ہم نے کیا کہا: ان کا دھونا فرض ہے. تو دیکھو وہ حکم جو انہوں نے ثابت کیا تھا اس کے علاوہ ہم نے کیا کر دیا دوسرا حکم ثابت کر دیا. صورت سمجھ میں آئی؟ کہ انہوں نے اس کو بنایا تھا حد مغسول کے لیے، ہم نے کس کے ذریعے کس کا... کس کی حد بنا دیا؟ ساقط کی. وَ مِثَالُهُ اور مثال اس کی کہ الْمِرْفَقُ حَدٌّ فِي بَابِ الْوُضُوءِ کہنی جو ہے حد ہے وضو کے باب میں فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْغَسْلِ تو یہ داخل نہیں ہوگی غسل کے تحت بھئی، یعنی اس کو دھونا نہیں پڑے گا لِأَنَّ الْحَدَّ لَا يَدْخُلُ فِي الْمَحْدُودِ اس لیے کہ حد داخل نہیں ہوتی محدود میں، یعنی غایہ مغیا کے اندر داخل نہیں ہوتا. قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: الْمِرْفَقُ حَدُّ السَّاقِطِ کہ کہنی کس کی حد ہے؟ ساقط کی حد ہے فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ حُكْمِ السَّاقِطِ تو یہ ساقط کے حکم میں داخل نہیں ہوگی. اور جب ساقط کے حکم میں نہیں داخل، تو معلوم ہوا کس کے حکم میں داخل ہے؟ مغسول کے، تو اس کو بھی دھویا جائے گا. لِأَنَّ الْحَدَّ لَا يَدْخُلُ فِي الْمَحْدُودِ اس لیے کہ حد محدود میں داخل نہیں ہوتی. وَ كَذٰلِكَ يُقَالُ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمُ فَرْضٍ فَلَا يَجُوزُ بِدُونِ التَّعْيِينِ كَالْقَضَاءِ. جی! دوسری مثال بھئی قول بموجب العلة کی. امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے قضا کا روزہ فرض ہے، قضا کا روزہ آپ کا رمضان کا کوئی روزہ مثلاً رہ گیا تو اس کی قضا کیا ہے؟ فرض ہے مولانا! تو وہ رمضان کی قضا ہے، وہ بھی فرض ہے بھئی. تو قضا کا روزہ فرض ہے اور اس کے لیے تعیین ضروری ہے. جب وہ روزہ رکھنے لگیں تو وہ متعین کرنا ضروری ہے کہ یہ میں فلاں قضا کا روزہ کیا کرنے لگا ہوں؟ رکھنے لگا ہوں. تو جب قضا کے روزے میں تعینِ نیت ضروری ہے تو اسی پر وہ قیاس کرتے ہیں رمضان کے روزے کو کہ رمضان کا روزہ بھی فرض ہے تو اس میں بھی تعینِ نیت ضروری ہوگی. روزہ رکھتے ہوئے یہ نیت کرنا ضروری ہوگا کہ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ رمضان کا روزہ رکھنے لگا ہوں. تو انہوں نے کس پر قیاس کیا اس کو؟ قضا روزے پر، اور وہاں پر تعینِ نیت ضروری کیونکہ وہ فرض ہے، کیونکہ وہ... تو اسی طرح رمضان کا روزہ بھی فرض ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی کیا ضروری ہے؟ تعینِ نیت ضروری. تو علت کس کو قرار دیا انہوں نے؟ روزے کا فرض ہونا. روزے کا... اور حکم کیا لگایا؟ تعیینِ نیت کا. کس چیز کا؟ تو روزہ فرض ہوگا تو تعیینِ نیت ضروری ہوگی. جیسے قضا کا روزہ فرض تھا وہاں تعیینِ نیت ضروری تھی، تو یہاں پر بھی رمضان کا روزہ بھی فرض ہے تو یہاں پر بھی تعیینِ نیت ضروری. ہم جب تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی یہ علت تو ہمیں تسلیم، لیکن اس کا یہ حکم ہمیں تسلیم نہیں. علت کیا ذکر کی؟ کہ روزے... روزے کا فرض ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ تعیینِ نیت کی. تو روزے کا فرض ہونے کے لیے... روزہ فرض ہوگا تو تعیینِ نیت ضروری، یہ بات تو ہمیں بھی تسلیم. لیکن آپ نے اس سے جو حکم ثابت کیا کہ رمضان کے روزے میں بھی تعیینِ نیت ضروری ہوگی، ہمیں یہ بات تسلیم نہیں، یہ حکم تسلیم نہیں. بلکہ رمضان کے روزے میں تعیین ضروری نہیں ہے بھئی، اس لیے کہ تعیین شریعت کی جانب سے آ چکی ہے. شریعت نے ہی اس کی... یہ وقت کس کے لیے مقرر کر دیا ہے؟ روزے کے لیے مقرر کر دیا ہے. حدیث کے اندر آتا ہے بھئی: إذا انسلاخ شعبان فلا صوم إلا عن رمضان. یہ حاشیہ نمبر ایک اگلے صفحے پر، صفحہ 94 پر حاشیہ نمبر ایک کے آخر میں حدیث دی ہوئی ہے بھئی، اس پر نشان لگا لیجیے. إذا انسلاخ شعبان فلا صوم إلا عن رمضان، بھئی! مل گئی حدیث بھئی؟ "جب گزر جائے شعبان کا مہینہ تو کوئی روزہ نہیں مگر رمضان کا." کیا معنی ہوا حدیث کا بھئی؟ کہ شعبان کے مہینے کے بعد صرف کس کا روزہ ہوگا؟ رمضان کا. تو شریعت نے وقت مقرر کر دیا کہ اس وقت میں اب اور کوئی روزہ نہیں ہوگا. جب تعیین شریعت کی طرف سے آ گئی تو اب بندے کی طرف سے تعیین کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ شرعیت... اس لیے کہ شریعت کی تعیین بندے کی تعیین سے بالاتر ہے بھئی. بندے کی تعیین سے شریعت کی تعیین کیا ہے؟ بالاتر ہے، اس سے بڑھ کر ہے. تو جب شریعت کی طرف سے تعیین آ چکی ہے کہ شعبان کے بعد صرف کس کے روزے رکھو گے؟ رمضان ہی کے، تو اب بندے کو تعیین کرنے کی ضرورت نہیں. تو دیکھا! امام شافعی رحمہ اللہ نے علت کسے بنایا تھا؟ روزے کا فرض ہونا، اور حکم کیا نکال تھا اس سے؟ تعیینِ نیت. جب بھی روزہ فرض ہوگا، تعیینِ نیت فرض ہوگی. ہم کہتے ہیں: آپ کی علت ہمیں تسلیم ہے کہ روز... روزہ کیا ہے؟ روزہ جب بھی فرض ہوگا، کیا ضروری ہے اس کے لیے؟ تعیین ضروری ہے. لیکن یہ جو حکم آپ نے اس سے... آپ نے نکالا کہ رمضان کے روزے میں بھی تعیینِ نیت، یہ حکم ہمیں تسلیم نہیں، کیونکہ یہاں کس کی جانب سے آ چکی ہے تعیین؟ شریعت کی جانب سے تعیین آ چکی ہے. تو ہماری طرح احناف کے نزدیک تعیینِ نیت ضروری نہیں کہ میں رمضان کا روزہ رکھتا ہوں. ہاں مطلق... یہ نہیں معنی کہ نیت کرنی نہیں ہے. مطلق روزے کی تعیین... مطلق روزے کی نیت کرنا ضروری ہے کہ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ روزہ رکھنے لگا ہوں، بس روز... میں نے روزہ رکھا اللہ کے لیے، بس یہ نیت ہی کافی ہے، میں روزہ رکھتا ہوں. صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ نیت ضروری ہے دل کے اندر بھئی. تا کہ عبادت اور عادت میں فرق ہو جائے. نیت اس... مطلق نیت کس لیے ضروری ہے؟ عادت اور عبادت میں فرق ہو جائے. ایک آدمی ویسے ہی صبح سے شام تک نہیں کھاتا پیتا، اس کو ہم روزہ کہیں گے؟ اس... اس کے اس امساک کو ہم روزے کا نام نہیں دیں گے. رک دیے اس کے... بلکہ روزہ اس وقت کہیں گے جب کیا ہو؟ نیت ہو. تو لہٰذا مطلق نیت ضروری ہے تا کہ عادت اور عبادت میں کیا ہو جائے؟ فرق ہو جائے. پتہ چلے یہ عبادت کر رہا ہے بھئی، عبادت کی. وَ كَذٰلِكَ يُقَالُ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمُ فَرْضٍ اور اسی طرح کہا جاتا ہے، امام شافعی شوافع کہتے ہیں، یعنی صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمُ فَرْضٍ رمضان کا روزہ فرض ہے... فرض رمضان کا روزہ فرض روزہ ہے فَلَا يَجُوزُ بِدُونِ التَّعْيِينِ کَالْقَضَاءِ تو یہ جائز نہیں ہے بغیر تعیین کے، جیسے کہ قضا. تو اس رمضان کے روزے کو وہ قیاس کرتے ہیں قضا روزے پر، اور دونوں میں علتِ جامعہ کیا ہے؟ فرض ہونا. دونوں روزے کیا ہیں؟ فرض. فرض ہونا علت، اور حکم کیا نکالا اس سے؟ تعیینِ نیت. قُلْنَا ہم جواب میں کہتے ہیں: صَوْمُ الْفَرْضِ لَا يَجُوزُ بِدُونِ التَّعْيِينِ یہ بات ہمیں بھی تسلیم ہے کہ فرض روزہ بغیر تعیین کے جائز نہیں، إِلَّا أَنَّهُ وُجِدَتِ التَّعْيِينُ هَاهُنَا مِنْ جِهَةِ الشَّرْعِ مگر یہاں پر پائی گئی ہے تعیین شریعت کی جانب سے. جب شریعت کی جانب سے تعیین آ چکی تو بندے کی تعیین کی کوئی حاجت نہیں رہی، وہ کرے یا نہ کرے تعیین. وَ لَئِنْ قَالَ اور اگر کوئی یہ کہے، یعنی شوافع میں سے کوئی یہ کہے: صَوْمُ رَمَضَانَ لَا يَجُوزُ بِدُونِ... بھئی! اعتراض یہ کرتے ہیں شوافع میں سے اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ہم نے تو اس رمضان کے روزے کو کس پر قیاس کیا تھا؟ قضا روزے پر، اور قضا روزے کے اندر بندے کی طرف سے تعیینِ نیت ضروری ہے، تو رمضان کے روزے میں بھی بندے کی طرف سے تعیینِ نیت ضروری ہونی چاہیے. قضا روزے میں کس کی جانب سے تعیین ضروری؟ بندے کی جانب سے، تو رمضان میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ بندے کی... ہم کہتے ہیں: ہاں ٹھیک ہے، بندے کی طرف سے ہونی چاہیے تھی بھئی تعیین، لیکن جب شریعت کی طرف سے آ گئی تو اب ضرورت نہ رہی. صورت سمجھ میں آئی؟ وَ لَئِنْ قَالَ اور اگر کہا شوافع میں سے کسی نے: صَوْمُ رَمَضَانَ لَا يَجُوزُ بِدُونِ التَّعْيِينِ مِنَ الْعَبْدِ کہ رمضان کا روزہ جائز نہیں ہوگا بغیر تعیین کیے بندے کی طرف سے، کَالْقَضَاءِ جیسے کس میں ہوتا ہے؟ اس میں بھی بندے کی طرف سے تعیین ہوتی ہے۔ تو جب ہم نے اس پر قیاس کیا تھا تو وہاں بندے کی طرف سے تعیین ضروری تھی تو یہاں بھی تعیین ہونی چاہیے۔ قلنا ہم کہتے ہیں لا يجوز القضاء بدون التعين کہ قضا جائز نہیں ہے بغیر تعیین کے إلا أن التعين إلا أن التعين لم يثبت من جهت من جهت الشرع في القضاء فلذلك يشترط تعين العبد۔ جی، کہ قضا روزہ جائز نہیں ہوگا بغیر تعیین کے، مگر چونکہ وہاں تعیین ثابت نہیں ہوئی ہے شریعت کی جانب سے قضا میں، فلذلك اسی لیے يشترط تعين العبد وہاں پر شرط لگائی جائے گی بندے کے تعیین کی۔ و ههنا یا هنا وجدت التعين من جهت الشرع فلا يشترط تعين العبد اور وہاں یہ رمضان کا روزہ جو ہے اس کے اندر تعیین پائی گئی ہے شریعت کی جانب سے لہذا بندے کی تعیین کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ و أما القلب، تیسرا اعتراض قیاس پر وارد ہوتا ہے وہ ذکر کریں گے بھئی۔ قلب، قلب لغت میں کہتے ہیں الٹنا کسی چیز کو۔ کیا کر دینا؟ الٹ دینا، الٹ دینا۔ یہ قلب دو قسم پر ہے بھئی، دونوں متن کے اندر تعریف کو کریں گے بھئی۔ آسان لفظوں میں آپ سمجھ لیجیے پہلے بھئی۔ دیکھو، قلب کی ایک قسم یہ ہے کہ علل نے جس کو علت بنایا تھا معترض اسے حکم بنا دے اور جسے اس نے حکم بنایا تھا اسے علت بنا دے۔ علل نے کیا کیا تھا بھئی؟ ایک حکم ایک چیز کو ایک وصف کو علت بنایا تھا اور اس سے ایک حکم ثابت کیا تھا، تو ایک ہوئی علت، ایک ہوا حکم۔ آپ کیا کرتے ہیں معترض کیا کرتا ہے کہ دونوں کو الٹ دیتا ہے، علت کو حکم بنا دیتا ہے اور اس کے حکم کو علت بنا دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو قلب کر دیا۔ اس نے جس کو علت بنایا تھا آپ نے معترض نے اس کو کیا بنا دیا؟ حکم اور جس کو اس نے حکم بنایا تھا معترض نے اسے کیا بنا دیا؟ علت، تو قلب کر دیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور قلب کی دوسری قسم، اس کی بھی تعریف کو کریں گے بھئی آگے چل کر۔ قلب کی دوسری قسم یہ ہے کہ علل نے ایک علت ایک وصف کو علت بنایا تھا ایک حکم کے لیے۔ کیا کیا تھا؟ ایک وصف کو علت بنایا تھا حکم کے لیے، معترض بتلاتا ہے کہ یہ علت، یہ وصف، یہ وصف جو ہے اس حکم کے لیے علت نہیں ہے بلکہ اس حکم کی ضد کے لیے علت ہے۔ اس حکم کی مثلاً اس نے ایک علت کے ذریعے حرمت ثابت کی تھی بھئی، کیا ثابت کی تھی؟ حرمت ثابت کی تھی، آپ کہتے ہیں کہ یہ علت حرمت کی نہیں ہے بلکہ یہ تو علت ہے کس چیز کی؟ خلت کی، تو دیکھا آپ نے اسی علت کے ذریعے کس کو ثابت کر دیا؟ اس کی ضد کو۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو قلب دو قسم پر ہوا اب۔ دیکھیے بھئی، و أما القلب فنوعان اور باقی قلب جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ أحدهما ایک قسم یہ أن يجعل ما جعله العلل علة للحكم معلولا لذلك الحكم کہ بنا دیا جائے مع وہ اس چیز کو جعل العلل علة جس کو علل نے کیا بنایا تھا؟ جس کو علل نے علت بنایا تھا اس کو کیا بنا دیا جائے؟ جی؟ جی ہاں، علت بنایا تھا للحكم حکم کے لیے۔ دوبارہ ترجمہ سنو: أن يجعل کہ بنا دیا جائے مع اس چیز کو جعل العلل علة للحكم جس کو علل نے کیا بنایا تھا حکم کے لیے علت، جس کو علل نے علت بنایا تھا آپ اس کو کیا بنا دیں؟ معلولاً، کیا بنا دیں؟ معلول یعنی حکم بنا دیں لذلك الحكم اس حکم کے لیے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی حکم کو علت اور علت کو حکم بنا دیں۔ و مثاله في الشرعيات اور اس قلب کی مثال شرعیات کے اندر، قلب کی اس قسم کی مثال شرعی مسائل کے اندر جو یہ وہ یہ ہے کہ جريان الربا في الكثير يوجب جريانه في القليل كالأثمان۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر مال میں، کثیر کے اندر ربا کا جاری ہونا یہ علت ہے قلیل میں ربا کے جاری ہونے کے لیے۔ کثیر کے اندر کیا؟ کثیر میں ربا کا جاری ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ قلیل میں ربا کے جاری ہونے کی۔ جب کثیر میں ربا جاری ہوتا ہے تو لازمی بات ہے پھر قلیل میں بھی کیا جاری ہوگا؟ ربا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں ثمن جو ہیں ثمن، سونا، چاندی، درہم، دنانیر وغیرہ بھئی، ان کے اندر کثیر میں ربا جاری ہوتا ہے۔ کثیر میں کیا ہوتا ہے؟ اگر کمی بیشی کرو گے تو کیا آ جائے گا؟ ربا، تو ان کی کثیر مقدار میں ربا جاری ہوتا ہے اور کثیر میں ربا جاری ہو تو پھر یہ علت ہے کہ قلیل میں بھی کیا ہوتا ہے ربا؟ لہذا ان کی قلیل مقدار، تھوڑی سی مقدار ہو اس کے اندر بھی کیا جاری ہوگا؟ ربا جاری ہوگا، لہذا وہاں بھی کمی بیشی کرنا صحیح نہیں۔ تو سونا چاندی جب بھی بیچیں گے بھئی، کیسے کریں گے؟ سونے کے بدلے سونا ہے وغیرہ، تو کیا کریں گے بھئی؟ برابری کی جائے گی، کیا کی جائے گی؟ برابری۔ جب کثیر کے اندر ربا جاری ہوتا ہے تو قلیل میں بھی کیا جاری ہوگا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے علت کسے بنایا؟ کثیر میں ربا کا جاری ہونا یہ علت، اور حکم کیا ہے؟ قلیل میں بھی ربا کا جاری ہونا۔ اسی پر اب وہ قیاس کرتے ہیں غلے کو بھی کہ غلے کے کثیر میں ربا جاری ہوتا ہے تو قلیل کے اندر بھی کیا جاری ہوگا؟ ربا، لہذا ایک مٹھی گندم کی بیع کرنا دو مٹھی گندم کے ساتھ یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں بھی کیا جاری ہوگا؟ ربا جاری ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس میں بھی کیا جاری ہوگا؟ ربا جاری ہوگا بھئی، کیونکہ جب کثیر غلے میں ربا جاری ہوتا ہے تو قلیل میں بھی ربا جاری، اور ایک مٹھی دو مٹھی قلیل ہے، لیکن کثیر میں چونکہ ربا جاری ہوتا ہے اس میں بھی ربا آئے گا، لہذا برابری نہیں پائی گئی تو ایک مٹھی گندم کو دو مٹھی گندم کے بدلے بیچنا جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہم اس کا قلب کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا علت کسے بنایا تھا؟ کثیر میں ربا کا جاری ہونا، ہم اس کا قلب کرتے ہیں۔ جی، علت کسے بنایا تھا انہوں نے؟ کثیر میں ربا کا جاری ہونا، اور حکم کیا بنایا تھا؟ قلیل میں ربا کا جاری ہونا، ہم عکس کر دیتے ہیں۔ ان کے علت کو ہم حکم بنا دیتے ہیں اور ان کے حکم کو کیا بنا دیتے ہیں؟ علت، ہم کہتے ہیں بلکہ قلیل میں ربا کا جاری ہونا یہ علت ہے کس کی؟ کثیر میں ربا کے جاری ہونے کی۔ کثیر میں ربا، تو قلیل میں چونکہ ربا جاری ہوتا ہے اس لیے کثیر میں بھی کیا ہوگا ربا؟ جاری ہوگا۔ سونے چاندی کی تھوڑی مقدار کے اندر کمی بیشی ہو اس میں بھی ربا جاری ہوتا ہے، اس لیے کثیر میں بھی کیا ہوگا ربا؟ جاری، اور غلے کے اندر قلیل مقدار کے اندر ربا جاری ہوتا ہے اس لیے کثیر کے اندر بھی کیا جاری ہوگا؟ ربا جاری ہوگا۔ ربا جاری ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن ایک مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے ساتھ کرنا جائز ہے اس لیے کہ یہ جو غلہ ہے اس کی کم چھوٹے سے چھوٹا پیمانہ جو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ کتنا ہے؟ نصف صاع ہے۔ صدقہ فطر وغیرہ کتنی مقدار واجب ہے بھئی؟ نصف صاع گندم دینی پڑتی ہے بھئی، تو شریعت نے جو واجب کیا ہے کم سے کم چھوٹا پیمانہ وہ نصف صاع ہے، تو نصف صاع قلیل ہے بھئی اقل، اس میں ربا جاری ہوگا اور اس کی یہ علت ہے تو کثیر میں بھی ربا جاری ہوگا، اس سے جو کم ہے وہ تو محل بحث سے ہی خارج ہے، لہذا اس میں ربا جاری، ایک مٹھی کے بدلے دو مٹھی گندم کی بیع جائز ہوگی۔ جبکہ سونے چاندی وغیرہ میں تو ان کے پیمانے بنے ہوئے بھئی، چھو معمولی سے معمولی معمولی مقدار کو بھی وہ کیا کر لیتے ہیں اس سے؟ ماپ لیتے ہیں تو وہاں ربا آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ و مثاله في الشرعيات اور اس نوع کی، قلب کی اس نوع کی مثال شرعی مسائل کے اندر، جریان الربا في الكثير يوجب جريانه في القليل ربا کا جاری ہونا کثیر کے اندر یوجب جاری ہونا ربا کے فتحے کے ساتھ پڑھیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ فعلان وزن ہے، فعلان وزن بھئی۔ چونکہ اس کے اندر حرکت پائی جاتی ہے تو عین پر بھی حرکت پڑھی جاتی ہے بھئی۔ دیکھا حیوان بھئی، حیوان، یا پر کیا پڑھنا ہے؟ فتحہ، کیونکہ حیوان میں بھی کیا پائی جاتی ہے؟ حرکت پائی جاتی ہے، تو یا پر بھی کیا پڑھیں گے؟ حرکت پڑھیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جریان کا کیا معنی؟ بہنا، بہنے کے اندر کیا پائی جاتی ہے؟ حرکت پائی جاتی ہے۔ عطشان، پیاسا بھئی، جو پیاسا ہوگا وہ بھی مضطرب ہوگا، بے چین ہوگا، اس میں حرکت پائی جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ پانی تلاش کرے گا۔ غضبان، اس میں بھی دیکھو حرکت پائی جائے گی، جو غصے میں ہوگا، غضب میں ہوگا، اس کو بھی سکون نہیں آئے گا، کیا کرے گا؟ حرکت میں آئے گا۔ اچھا بھئی! کیا بات ہو رہی تھی؟ جی، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جریان الربا في الكثير يوجب جريانه في القليل کہ کثیر کے اندر ربا کا جاری ہونا یہ واجب کرتا ہے قلیل میں بھی ربا کے جاری ہونے کو كالأثمان جیسے کس میں ہوتا ہے؟ ثمن، تو ثمن ہوئے مقیس علیہ اور یہ غلہ کیا ہوا؟ مقیس۔ فيحرم بيع الحفنة من الطعام بالحفنتين منه پس حرام ہوگا بیع کرنا ایک حفنہ کی من الطعام غلے میں سے بالحفنتين دو دو حفنہ کے ساتھ، دو مٹھی کے ساتھ منه غلے میں سے۔ قلنا ہم جواب دیتے ہیں: لا بل جريان الربا في القليل يوجب جريانه في الكثير بلکہ ربا کا جاری ہونا قلیل کے اندر یہ واجب کرتا ہے کثیر کے اندر بھی ربا کے جاری ہونے کو كالأثمان جیسے کس کے اندر ہے؟ ثمن میں بھئی، سونے چاندی میں قلیل کے اندر چونکہ ربا جاری ہوتا ہے اس لیے کثیر میں بھی کیا ہے ربا جاری ہوگا، غلے کے اندر بھی قلیل کے اندر ربا جاری ہوتا ہے اس لیے کثیر میں بھی کیا ہوگا ربا؟ جاری ہوگا، اور وہ قلیل اس قلیل مقدار کتنی ہے؟ نصف صاع جو شریعت نے بتلائی ہے بھئی، سب سے چھوٹا پیمانہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَكَذَلِكَ فِي مَسْأَلَةِ الْمُلْتَجِئِ بِالْحَرَمِ اسی طرح مسئلہ ہے، کس مسئلے میں ہے؟ الْمُلْتَجِئِ بِالْحَرَمِ حرم کے ذریعے پناہ لینے والے کے مسئلے میں بھی ہے کہ حُرْمَةُ إِتْلَافِ النَّفْسِ، اتلاف کا معنی ہلاک کرنا۔ حُرْمَةُ إِتْلَافِ النَّفْسِ نفس کو ہلاک کرنے کی حرمت، نفس کو ہلاک کرنا کیا ہے؟ حرام ہے حرم میں، تو یہ يُوجِبُ حُرْمَةَ إِتْلَافِ الطَّرَفِ، یہ واجب کرتا ہے حرمت اتلاف طرف کو بھی، یعنی عضو کے ہلاک کرنے کے حرمت کو بھی۔ اس کو ہلاک کرنا بھی کیا ہو جائے گا؟ جیسے نفس کا ہلاک کرنا حرم میں کیا ہے؟ حرام، تو اسی طرح عضو کا تلف کرنا بھی حرام ہے۔ وہی بات کر رہے ہیں، میں نے آسان لفظوں میں آپ کو بتلایا تھا کہ حرمت نفس، اتلاف کو ذرا بیچ سے نکال دو۔ حرمت نفس یہ کس کو ثابت کرتی ہے؟ حرمت اطراف کو، حرمت طرف کو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ كَالصَّيْدِ جیسے کہ شکار میں ہے، تو شکار مقیس علیہ ہے۔ قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: بَلْ حُرْمَةُ إِتْلَافِ الطَّرَفِ تُوجِبُ حُرْمَةَ إِتْلَافِ النَّفْسِ کہ عضو کے ہلاک کرنے کی حرمت، یہ واجب کرتی ہے حُرْمَةَ إِتْلَافِ النَّفْسِ نفس کے تلف کرنے کی حرمت کو، یعنی حرمت اطراف یہ علت ہے کس چیز کی؟ حرمت نفس کی۔ كالصَّيْدِ جیسے شکار میں۔ فَإِذَا جُعِلَتْ دیکھئے، اب نتیجہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ آپ معلل نے کیا کیا تھا؟ ایک چیز کو علت بتلایا تھا، دوسری کو حکم بتلایا تھا، آپ نے قلب کر دیا، حکم کو علت بنا دیا اور علت کو حکم بنا دیا۔ تو جب آپ نے اس کی علت کو کیا بنا دیا؟ اس نے جس کو علت بنایا تھا، آپ نے اس کو کیا بنا دیا؟ حکم بنا دیا، تو اس کا حکم بغیر علت کے رہ گیا۔ اس کا حکم کیا ہوا؟ بغیر علت کے رہ گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اس حکم کو تو آپ نے کیا بنا دیا ہے؟ جس کو انہوں نے حکم بنایا تھا اس کو معترض کیا بنا دیتا ہے؟ علت بنا دیتا ہے، تو آپ جب وہ علت بن گئی تو حکم نہ رہا، کیونکہ اگر حکم بھی ہو اور علت بھی ہو ایک وقت میں، یہ محال ہے کہ ایک ہی چیز اپنے نفس کے لیے کیا بن جائے؟ حکم بھی خود ہی ہو اور اپنے لیے علت بھی خود ہی ہو، یہ ہونا... یہ تو محال ہے، تو لہٰذا وہ ب... اس کی دلیل ہی ختم ہو جائے گی۔ تو دیکھئے: فَإِذَا جُعِلَتْ عِلَّتُهُ مَعْلُولَةً لِذَلِكَ الْحُكْمِ جب بنا دیا گیا اس کی علت کو کیا بنا دیا گیا؟ معلول بنا دیا گیا لِذَلِكَ الْحُكْمِ اس حکم کے لیے، لَا تَبْقَى عِلَّةٌ لَهُ تو اس کی علت باقی نہیں رہی، لِاسْتِحَالَةِ أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ الْوَاحِدُ عِلَّةً لِلشَّيْءِ بجہت محال ہونے اس بات کے کہ ایک ہی چیز علت ہو اسی چیز کے لیے، اپنے ہی لیے کیا ہو جائے؟ علت ہو جائے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک ہی چیز علت ہو اس چیز کے لیے وَمَعْلُولًا لَهُ اور اسی کے لیے کیا ہو؟ معلول بھی ہو، علت بھی وہی، معلول یعنی حکم بھی وہی، ایسا ہونا تو محال ہے، تو بھئی اس کے پاس اس کی دلیل ہی ختم ہو جائے گی، جب دلیل ہی ختم ہو جائے گی تو آپ کا قیاس ثابت ہو جائے گا، ان کا تو دوسرے کا قیاس ثابت نہیں ہو گا۔ بھئی دیکھو مولانا! معلل نے کیا کیا تھا؟ ایک چیز کو علت قرار دیا تھا اور دوسری چیز کو حکم۔ بھئی، ہم نے اس کا عکس کر دیا، ہم نے اس کی علت کو کیا قرار دے دیا؟ حکم، اور اس کے حکم کو علت۔ تو بات اب علت پہ صرف رکھو ذرا۔ اب اس نے ایک چیز کو کیا قرار دیا تھا؟ علت قرار دیا تھا، ہم نے اسی کو کیا قرار دے دیا؟ حکم قرار دے دیا، کیا قرار دے دیا؟ تو جب جس چیز کو اس نے کیا قرار دیا تھا؟ علت، ہم نے اسے کیا بنا دیا؟ حکم بنا دیا، تو اس کا حکم بغیر علت کے رہ گیا۔ کیا رہ گیا؟ بھئی! اس نے جس چیز کو علت بنایا تھا، ہم نے اسے کیا قرار دے دیا؟ حکم قرار دے دیا، تو اس کا حکم کیا ہوا؟ بغیر علت کے رہ گیا، اور اس نے جس کو حکم قرار دیا تھا، ہم نے اسے کیا قرار دے دیا؟ علت قرار دے دیا مولانا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا جب ہم نے اس کی علت کو کیا قرار دے دیا؟ حکم قرار دے دیا، تو اب اس کے حکم کے لیے کوئی علت ہی باقی نہ رہی، اس لیے کہ یہ بات محال ہے کہ ایک چیز اپنے ہی لیے علت ہو مولانا۔ ایک چیز اپنے ہی لیے کیا بن جائے؟ علت بن جائے، بھئی دیکھو مولانا! یہ اول ہے، یہ ثانی ہے، اول کو اس نے کیا برقرار دیا تھا؟ علت، ثانی کو اس نے کیا قرار دیا تھا؟ حکم۔ ہم نے اس اول ہی کو کیا قرار دے دیا؟ حکم قرار دے دیا، اور جو ثانی جس کو اس نے کیا بنایا تھا؟ جس کو اس نے حکم بنایا تھا، ہم نے اسے کیا قرار دے دیا؟ علت قرار دے دیا، تو اس کا حکم علت کے بغیر رہ گیا۔ اس کی جو علت تھی، اس کو تو ہم نے کیا بنا دیا؟ اس کے علت کو ہم کیا بنا چکے؟ حکم، اور اس کا حکم اب بغیر علت کے باقی ہے اور اس کے اسی حکم کو ہم نے کیا بنایا تھا؟ علت، تو وہ خود اپنے لیے علت ہو سکتا ہے؟ ایک چیز خود ہی... خود ہی حکم بھی ہے اور خود ہی اپنے لیے علت بھی ہے، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں، اس کے حکم کو ہم نے علت قرار دے دیا مولانا۔ تو وہی چیز جو... جس کو وہ حکم قرار دے رہا تھا، بعینہٖ اسی چیز کو ہم نے علت قرار دے دیا، تو ایک ہی چیز، ایک ہی آن کے اندر حکم بھی ہو، علت بھی ہو، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا اس کا حکم بغیر علت کے رہ گیا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی کہ نہیں آئی؟ نہیں آئی؟ اچھا، تو پوچھا کرو پھر۔ اچھا، تو بھئی دیکھو! معلل نے ایک چیز کو علت قرار دیا تھا، دوسرے کو حکم قرار دیا تھا، ہم نے اسی کی علت کو کیا قرار دے دیا؟ حکم قرار دے دیا، جب اس کی علت کو ہم نے حکم قرار دے دیا، تو جو اس کا حکم تھا، اس کی کوئی علت باقی رہی؟ اس کی علت کو تو ہم نے کیا بنا دیا؟ حکم بنا دیا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس کا حکم بغیر علت کے رہ گیا۔ بغیر... اچھا، اب آگے چلو، ہم نے جس کو اس نے حکم قرار دیا تھا، ہم نے اس کو کیا بنایا ہے؟ علت، تو اس کا حکم ہے بغیر علت کے، تو چلو بھئی اب ایک صورت یہ رہ گئی کہ جس کو ہم نے علت بنایا ہے، اسے بنا دو اس کے لیے علت، لیکن ہم نے تو علت اسی حکم کو بنایا ہے، تو ح... حکم بھی وہی، علت بھی وہی، تو ایک ہی حکم کے لیے اب خود حکم ہی کیا بن رہا ہے؟ علت، ایک چیز کے لیے خود اپنی ذات ہی علت بن رہی ہے، ایک ہی چیز خود حکم بھی ہو، علت بھی ہو، ایسا تو صحیح نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فَإِذَا جُعِلَتْ عِلَّتُهُ مَعْلُولَةً لِذَلِكَ الْحُكْمِ جب اس کی علت کو معلول یعنی حکم بنا دیا گیا بھئی، بس جب اس کی علت کو معلول بنا دیا گیا اس حکم کے لیے لَا تَبْقَى عِلَّةٌ لَهُ تو اس حکم کے لیے کوئی علت باقی نہ رہی، لِاسْتِحَالَةِ أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ الْوَاحِدُ عِلَّةً لِلشَّيْءِ وَمَعْلُولًا لَهُ اس لیے کہ یہ بات محال ہے کہ ایک ہی چیز اس چیز کے لیے علت بھی ہو وَمَعْلُولًا لَهُ اور اس کے لیے معلول بھی ہو، کہ یعنی اپنے لیے ایک چیز خود ہی کیا ہو مولانا؟ علت ہو، خود ہی حکم، خود ہی علت، یہ محال ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ ہمیشہ علت اور معلول ایک دوسرے سے غیر ہوا کرتے ہیں، لیکن یہاں پر کیا خرابی لازم آئے گی؟ اس نے ایک چیز کو علت بنایا تھا اور دوسری چیز کو اس نے کیا بنایا؟ حکم بنایا تھا، اور ہم نے اس کی علت کو تو کیا قرار دے دیا؟ حکم، علت کا تو مسئلہ ختم ہوا۔ اب اس کا صرف کیا باقی ہے؟ حکم، اور اسی حکم کو ہم نے کیا قرار دے دیا ہے؟ علت، تو گویا اس حکم کے لیے وہی علت بن گئی، اور حالانکہ اسی حکم کے لیے تو وہی علت نہیں، ہمیشہ معلول اور علت ایک دوسرے سے غیر ہوا کرتے ہیں، معلول بھی وہی چیز، علت بھی وہی چیز، ایسا کبھی بھی نہیں، یہ محال ہے مولانا۔ جی، تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَالنَّوْعُ الثَّانِي مِنَ الْقَلْبِ اور نوع ثانی قلب کی جو ہے، بھئی کیا قسم لکھوائی تھی قلب کی قسم ثانی بھئی؟ کہ معلل نے کیا کیا تھا؟ ایک چیز کو علت قرار دیا اور اس کے لیے کیا ثابت کیا؟ ایک حکم ثابت کیا۔ آپ علت کو تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ یہ اس حکم... اس علت سے یہ حکم نہیں ثابت ہوتا، بلکہ اس کی ضد ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً اس نے ایک وصف کے ذریعے کیا ثابت کیا تھا؟ حلت کو، آپ کیا بتلاتے ہیں؟ یہ حلت کی علت... علت تو ہمیں تسلیم ہے، لیکن یہ حلال ہونے کی علت نہیں ہے، بلکہ یہ تو کس چیز کی علت ہے؟ حرام ہونے کی، تو دیکھا اسی کی ضد کو ثابت کر دیا۔ سمجھ میں آیا؟ حلال اور حرام کیا ہیں ایک دوسرے کی؟ ضد ہیں۔ وَالنَّوْعُ الثَّانِي قلب کی یہ ہے: أَنْ يَجْعَلَ السَّائِلُ کہ بنا دے سائل یعنی معترض بنا دے، کس چیز کو؟ مَا وہ چیز جَعَلَهُ الْمُعَلِّلُ عِلَّةً جسے معلل نے کیا بنایا تھا؟ علت بنایا تھا لِمَا ادَّعَاهُ مِنَ الْحُكْمِ اس کے لیے جس کا اس نے حکم میں دعویٰ کیا تھا، یعنی کہ حکم کا۔ جس کو اس نے حکم بنایا تھا کس کے لیے؟ جس کو اس نے علت بنایا تھا لِمَا اس حکم کے لیے ادَّعَاهُ جس کا اس نے کیا کیا تھا؟ دعویٰ کیا تھا، یہ مِنَ الْحُكْمِ بیان ہے مَا کا بھئی۔ جی، اس... اس اس کو کیا بنا دے؟ عِلَّةً لِضِدِّ ذَلِكَ الْحُكْمِ اس حکم کی ضد کے لیے علت بنا دے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فَيَصِيرُ حُجَّةً لِلسَّائِلِ بَعْدَ أَنْ كَانَ حُجَّةً لِلْمُعَلِّلِ تو یہ اب کس کی دلیل بن جائے گی؟ جی؟ اب تو یہ معترض کی دلیل بن جائے گی، انہوں نے تو اس سے اس علت سے کیا ثابت کیا؟ علت، معترض اس سے کیا ثابت کر دیتا ہے؟ حرمت، تو یہ تو معترض کی دلیل بن گئی، اس کی دلیل نہ رہی۔ فَيَصِيرُ حُجَّةً لِلسَّائِلِ تو یہ دلیل بن جائے گی سائل یعنی معترض کے لیے بَعْدَ أَنْ كَانَ حُجَّةً لِلْمُعَلِّلِ بعد اس کے کہ یہ دلیل تھی کس کے لیے؟ معلل کے لیے۔ مِثَالُهُ مثال اس کی جیسے ہے کہ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمُ فَرْضٍ، رمضان کا روزہ کیا ہے؟ فرض ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ رمضان کا روزہ فرض ہے، اور فرض روزے کے لیے کیا ہونا ضروری؟ تعینِ... تعینِ نیت ضروری ہے، تو لہٰذا یہ رمضان کا روزہ فرض، تو اس سے کیا سا... اس کے لیے تعینِ نیت بھی ضروری ہے۔ ہم کہتے ہیں رمضان کا روزہ فرض اسی لیے اس کے لیے تعینِ نیت ضروری نہیں۔ دیکھا، انہوں نے کہا تھا تعین ہے، ہم نے کہا تعین نہیں، تو اس کی ضد کے لیے اسی کو علت بنا دیا۔ کیوں نہیں؟ کہ کیوں تعین ضروری نہیں؟ اس لیے کہ تعین کس کی جانب سے آ چکی ہے؟ شریعت کی جانب سے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ مِثَالُهُ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمُ فَرْضٍ رمضان کا روزہ فرض ہے فَ يُشْتَرَطُ التَّعْيِينُ لَهُ تو تعین اس کے لیے ضروری شرط ہو گی كَالْقَضَاءِ جیسے کس کے اندر ہے؟ قضا میں ہے، قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: لَمَّا كَانَ صَوْمًا فَرْضًا جب روزہ فرض تھا... فرض ہے تو لَا يُشْتَرَطُ التَّعْيِينُ لَهُ تو اس کے لیے تعین کی شرط نہیں لگائی جائے گی بَعْدَ مَا تَعَيَّنَ الْيَوْمُ لَهُ بعد اس کے جبکہ اس کے لیے کیا دی... ہو چکا ہے متعین؟ دن اس کے لیے جب شریعت کی طرف سے متعین ہو چکا ہے تو اب آپ کی طرف سے تعین کرنے کی ضرورت نہیں، تو تعین ایک مرتبہ چاہیے، جب تعین آ چکی ہے شریعت کی طرف سے تو اب بندے کی طرف سے تعین ضروری نہیں، جیسے قضا کے اندر ہے کہ قضا کے اندر بھی اگر آپ پہلے سے تعین کر دیتے ہیں تو دوبارہ تعین کی ضرورت نہیں، قضا میں تعینِ نیت ضروری ہے کہ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ قضا کا روزہ رکھ رہا ہوں، اور رمضان میں جو میرا روزہ قضا ہوا تھا وہ رکھ رہا ہوں، تعین ضروری ہے، لیکن اگر آپ نے پہلے ہی تعین کر دی، آج ہی آپ نے کہہ دیا کہ میں کل یا پرسوں جو ہے میں کیا کروں گا؟ یا فلاں دن میں کیا کروں گا؟ قضا روزہ رکھوں گا، تو اس دن صرف مطلق روزے کی نیت ضروری ہو گی، تعین کی ضرورت... کیونکہ تعین ایک دفعہ آ چکی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہم نے کہا: قُلْنَا لَمَّا كَانَ صَوْمًا فَرْضًا جب روزہ فرض ہے تو لَا يُشْتَرَطُ التَّعْيِينُ لَهُ تو اس کے لیے تعین کی شرط نہیں لگائی جائے گی بَعْدَ مَا تَعَيَّنَ الْيَوْمُ لَهُ بعد جبکہ اس کے لیے دن متعین ہو چکا ہے شریعت کی جانب سے كَالْقَضَاءِ جیسے کس میں ہے؟ قضا کے، قضا کے اندر بھی جب دن متعین ہو جائے تو پھر دوبارہ تعین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تو دیکھو بھئی، شوافع نے تعینِ نیت کے لیے علت کیا ذکر کی تھی؟ فرض روزہ ہونا۔ کیا ہونا؟ کہ چونکہ روزہ فرض ہے، یہ علت اور حکم کیا؟ تعینِ نیت بھئی۔ روزہ جب بھی فرض ہوگا، تعینِ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ تو دیکھ کس چیز کو انہوں نے علت قرار دیا؟ فرض روزے کے... فرض روزے کو علت بنایا، کس چیز کی؟ علت کیا ہوئی؟ فرض روزہ۔ اور حکم کیا ہوا؟ تعینِ نیت مولانا۔ تو ہم نے اسی فرض روزے کو علت بنایا، تعینِ نیت کے لیے نہیں، بلکہ عدمِ تعینِ... انہوں نے کہا تھا فرض روزہ ہے تو تعین ہونی چاہیے۔ ہم نے کہا فرض روزہ ہے تو تعین نہیں ہونی چاہیے، جب ایک دفعہ تعین ہو چکی مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھو، انہوں نے اس کو فرض روزے کو علت بنایا تھا، تعینِ نیت کے لیے، ہم نے اس کی ضد کے لیے یعنی عدمِ تعین کے لیے کیا بنا دیا؟ اس کو علت بنا دیا، علت بنا دیا کہ جب ایک دفعہ تعین ہو چکی ہے تو دوبارہ تعین نہیں کی جائے گی جیسے... جیسے رمض... قضا کے اندر ایک دفعہ پہلے سے ہی تعین کر لی جائے تو دوبارہ تعین کی ضرورت نہیں ہوتی، تو یہاں پر بھی پہلے سے شریعت کی جانب سے تعین ہو چکی ہے تو دوبارہ بندے کی طرف سے تعین کی کوئی ضرورت نہیں بھئی۔ تو اس کے ذریعے بھئی دیکھا، روزے کا فرض ہونا اس کو علت بنایا تھا اور اس کے لیے حکم کیا ثابت کیا تھا انہوں نے؟ تعینِ نیت کا، اور ہم نے اسی علت کے ذریعے کس کو ثابت کیا؟ اس کی ضد کو، یعنی تعینِ نیت کا نہ ہونا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ قلب کی دوسری قسم تھی۔ چلیے بس مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
123 approved lectures · 113 of 123