Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 24 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 92
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مامور بہ کی بحث چل رہی ہے۔ آپ کو صاحب کتاب نے بتلایا تھا، مامور بہ دو قسم پر ہے۔ ایک مطلق عن الوقت اور ایک مقید بالوقت۔ اور مطلق عن الوقت کا حکم بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک یہ واجب ہے علی التراخی بشرطیکہ عمر بھر میں فوت نہ ہو جائے۔ جبکہ امام کرخی کا مذہب اس سلسلے میں بتایا کہ ان کے نزدیک واجب ہے علی الفور، واجب ہے، اگر فوری ادا نہیں کرتا تو گنہگار ہوگا۔ باقی یہ صرف وجوب میں فوری ادائیگی کے اندر وجوب میں اختلاف ہے، وہ کہتے ہیں واجب ہے ہمارے نزدیک فوری ادا کرنا مستحب ہے۔ تو جلدی ہمارے نزدیک بھی ادا کرنا چاہیے لیکن واجب نہیں ہے۔ پھر کل ہم نے مؤقت کے بارے میں پڑھا بھئی۔ وہ جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر کیا ہو، بتلایا تھا یہ بھی دو قسم پر ہے۔ ایک وہ قسم ہے جس کے لیے وقت ظرف ہو، ایک وہ قسم ہے جس کے لیے وقت معیار ہو۔ وقت ظرف ہونے کا کیا معنی؟ کہ اس مامور بہ کو ادا کرنے کے بعد بھی زائد وقت بچ جاتا ہو، آسان سی بات ہے بھئی۔ اور وقت معیار ہو اس کے لیے وہ کون سی قسم ہے؟ کہ جس میں مامور بہ کو ادا کرنے کے بعد زائد وقت نہ بچتا ہو۔ مامور بہ جس کے لیے وقت ظرف ہو اس کی مثال جیسے نماز ہے بھئی۔ نماز ادا کرنے کے بعد بھی اس میں سے وقت بچ جاتا ہے تو وقت اس کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے۔ اور اس نوع کے پھر تین حکم انہوں نے آپ کو بتلائے تھے۔ ایک یہ حکم بتلایا تھا کہ چونکہ وقت بچ جاتا ہے، اس لیے اس وقت کے اندر اور بھی کسی کی جنس میں سے اپنے اوپر کوئی چیز واجب کر لینا بھی جائز ہے۔ تو آپ اپنے اوپر نذر وغیرہ کے نفل بھی کیا کر سکتے ہیں؟ واجب کر سکتے ہیں اسی وقت کے اندر۔ دوسرا حکم یہ بتلایا تھا کہ اور نمازیں بھی اس اسی وقت کے اندر کیا ہیں؟ پڑھنا صحیح ہیں۔ حتیٰ کہ اگر پورے وقت کا احاطہ کر لیں، وہ نفل پڑھتے رہیں یا کوئی اور چیز، تو بھی یہ صحیح ہو جائیں گی بھئی، اسی کی جنس میں سے۔ اور تیسرا یہ کہ چونکہ اور نمازیں پڑھنا بھی اس وقت میں صحیح ہو گیا تو مزاحم آ گیا، جب مزاحم آ گیا تو اب نیت کے ساتھ اس کا تعین کرنا ضروری ہے۔ آپ ظہر کی نماز ظہر میں ادا کر رہے ہیں بھئی، آپ کہیں گے یہ تو وقت شریعت نے اس کے لیے مقرر کیا، لہذا نیت کی کوئی ضرورت نہیں، نہیں بھئی ایسا نہیں، نیت کے ذریعے اس کی کیا کرنا پڑے گی؟ تعین کرنا پڑے گی کیونکہ اس وقت میں اور نمازیں بھی تو مشروع ہیں۔ جب اور بھی مشروع ہیں تو اب پتہ ہی نہیں چلے گا یہ کون سی نماز ادا کر رہا ہے، تو نیت کے ذریعے کیا کر لے اس کی؟ تعین کر لے بھئی۔ اور دوسری قسم جس کے لیے وقت معیار ہو بھئی، جیسے کہ روزہ ہے، اس لیے کہ اس کا اندازہ وقت سے لگایا جاتا ہے۔ وقت کم ہوگا تو روزہ بھی کم ہے، وقت زیادہ ہے تو روزہ بھی، دن چھوٹا ہے تو روزہ بھی چھوٹا، دن لمبا ہے تو روزہ بھی لمبا ہے بھئی۔ اور اس کا حکم بتلایا تھا کہ اس وقت کے اندر اس کی جنس میں سے کوئی اور چیز واجب کرنا جائز نہیں۔ جب شریعت نے اس کے لیے... ہاں، یہ بتلایا تھا یہ دو قسم پر ہے، ایک وہ جس کے لیے وقت معیار ہو، وہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے۔ ایک وہ جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت متعین کیا ہو، ایک وہ جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت متعین نہ کیا ہو۔ تو یہ بھی مولانا ایک مطلق عن الوقت ہوا اور ایک مقید بالوقت ہوا بھئی۔ تو مقید بالوقت جو ہے جس کے لیے شریعت نے وقت مقرر کیا جیسے رمضان کے روزے ہیں بھئی، ان کے لیے شریعت نے مہینہ مقرر کر دیا باقاعدہ کہ اسی میں روزے رکھو بھئی۔ تو اب اس کے اندر اسی جنس میں سے کوئی اور چیز اپنے اوپر آدمی واجب نہیں کر سکتا۔ آپ کہتے ہیں میں نذر کے روزے رکھوں گا رمضان میں بھئی اپنے اوپر واجب، نہیں بھئی، رمضان میں نہیں رکھ سکتے۔ رمضان میں اگر آپ ادا کریں گے بھی، روزہ رکھیں گے بھی تو کس چیز کا ادا ہوگا؟ رمضان ہی کا ادا ہوگا۔ تو کوئی اور چیز بھی اپنے اوپر واجب نہیں کر سکتا، اور ادھر پہلے میں کیا تھا؟ کوئی اور چیز اپنے اوپر واجب کر سکتا تھا۔ دوسرا وہاں پر غیر کو ادا کرنا جائز تھا اس وقت کے اندر، نفل بھی پڑھ سکتے تھے، لیکن یہاں پر غیر کو ادا کرنا جائز ہی نہیں اسی کی جنس میں سے، یعنی کوئی اور روزہ ادا نہیں کر سکتے اس کے اندر۔ حتیٰ کہ صحیح مقیم آدمی نے اگر اتنا امساک واقع کیا رمضان کے اندر بھئی، تین چیزوں سے رکا رہا نیت کے ساتھ رمضان میں، دن کے وقت میں، تو اس کا روزہ... اور اس نے نیت کس کی کی ہے؟ نذر کے روزے کی نیت کی ہے، تو وہ صومِ نذر واقع نہیں ہوگا بلکہ کونسا روزہ واقع ہوگا؟ رمضان ہی کا واقع ہوگا کیونکہ اس میں کسی اور کا ادا کرنا صحیح نہیں اور کوئی اور واجب بھی نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھو مصنف نے صحیح مقیم کی قید لگائی بھئی۔ کس کی قید لگائی؟ صحیح اور مقیم آدمی اگر وہ کوئی اور روزہ اپنے اوپر واجب کرنا چاہے یا کوئی اور ادا کرنا چاہے تو دوسرے کو ادا... اس لیے کہ اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر بیمار یا مسافر بھئی، صحیح کے ذریعے کس کو نکالا تھا؟ بیمار کو۔ اور مقیم کے ذریعے کس کو نکالا؟ مسافر کو۔ کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر مریض یا مسافر رمضان کے اندر کوئی اور واجب روزہ ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتا ہے۔ مثلاً وہ گزشتہ کوئی رمضان کا قضا اس پر باقی تھی، وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے تو اس وقت میں کر سکتا ہے، کیونکہ مریض ہے۔ تو مریض کو تو رخصت ہے بھئی کہ روزہ کیا کر سکتا ہے وہ ان دنوں میں؟ چھوڑ دے اور بعد میں اس کی کیا کرے گا؟ قضا کرے گا۔ اسی طرح مسافر ہے، اس کو بھی شریعت نے رخصت دی ہے کہ اس وقت میں وہ روزہ نہ رکھے، بعد میں کیا کرنا چاہیے؟ بعد میں روزہ رکھے بھئی۔ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی مریض ہو یا مسافر ہو، وہ اس رمضان کے اندر کسی دوسرے واجب روزے کو ادا کرنا چاہتا ہے تو ادا کر سکتا ہے۔ رمضان کا روزہ تو نہیں رکھا اس نے، شریعت کی طرف سے رخصت آ گئی، تو اس نے سوچا چلو میں کونسا روزہ رکھ لیتا ہوں جو مجھ پر نذر کا ایک روزہ میں نے منت مانی تھی، وہ روزہ میں آج رکھ لیتا ہوں۔ یا مریض نے رمضان کا نہیں رکھا، جو سوچا چلو آج میں کونسا روزہ رکھ لیتا ہوں وہ جو مجھ پر منت کا ایک روزہ واجب تھا وہ میں رکھ لیتا ہوں، تو ان کی طرف اب انہوں نے یہ نیت کی تو کہتے ہیں ٹھیک ہے، نذر کا روزہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ صحیح اور مقیم تو نہیں کر سکتا ایسا، لیکن مسافر اور بیمار کیا کر سکتا ہے؟ کر سکتا ہے۔ یہ کس کے نزدیک؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ اس لیے کہ ان کو شریعت نے رخصت دی ہے بیمار اور مسافر کو، اور کیوں رخصت دی ہے بھئی؟ مصلحتِ بدنی کی وجہ سے۔ بدن کی مصلحت کی وجہ سے بھئی، کیونکہ یہ ان کے لیے روزے رکھنے میں کیا ہوگی؟ مشقت ہوگی، تکلیف زیادہ ہوگی، سفر میں ہے یا بیمار ہے۔ تو شریعت نے مصالحِ بدنی کے لیے، مصلحتِ بدنی کے لیے ان کو کیا دے دی؟ رخصت دے دی۔ تو جب مصلحتِ بدنی کے لیے ان کو رخصت حاصل ہے تو مصلحتِ دینی کے لیے بطریقِ اولیٰ ان کو کیا حاصل ہوگی؟ رخصت حاصل ہوگی۔ تو مصلحتِ دینی اولیٰ ہے یا مصلحتِ بدنی اولیٰ ہے بھئی؟ مصلحتِ دینی اولیٰ ہے لازمی بات ہے۔ تو جب مصلحتِ بدنی کی وجہ سے ان کو شریعت نے رخصت دے دی تو مصلحتِ دینی کے لیے بطریقِ اولیٰ کیا ثابت ہوگی؟ رخصت ہوگی۔ مصلحتِ دینی کیا ہے بھئی؟ بھئی اس پہ ایک روزہ واجب ہے اس کو ادا کر دے گا، کیا کر دے گا؟ اس کو ادا کر دے گا بھئی، گناہ وغیرہ سے بچ جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصلحت بطریقِ اولیٰ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اور اس قسم کا پھر حکم بتلایا بھئی۔ کیا حکم بتلایا؟ کہ اس وقت میں چونکہ مزاحم کوئی نہیں، کیونکہ کسی اور کو اس قسم میں سے اس جنس میں سے اپنے اوپر واجب نہیں کر سکتا، تو لہذا تعینِ نیت بھی ضروری نہیں۔ ہاں نفسِ نیت کرنا ضروری ہے کہ میں روزے... تعین نہیں کیونکہ مقابل ہی نہیں کہ کسی اور روزے کا احتمال آئے، یہاں تو احتمال ہی صرف کس کا ہے؟ رمضان کے روزے کا ہے۔ تو لہذا اصلِ نیت ساقط نہیں ہوگی، تعینِ نیت ساقط ہو جائے گی۔ اصلِ نیت کیوں نہیں ساقط ہوگی؟ اس لیے مولانا کہ یہ عبادت ہے، روزہ کیا ہے؟ عبادت ہے۔ اور ایک ہے عادت، ایک ہے عبادت۔ تو نیت کے ذریعے عبادت ممتاز ہوتی ہے کس سے؟ عادت سے۔ ایک شخص کی ویسے عادت ہے نہ کھانا پینا دن میں، تو اس کو کوئی روزہ نہیں کہتا۔ ہاں نیت کر لے گا تو اب یہ کیا کہلائے گا؟ روزہ کہلائے گا بھئی، روزہ کہلائے گا۔ نیز مولانا، کہ عبادت کے اندر اخلاص ضروری ہے، اور اخلاص کس کے ذریعے آئے گا؟ نیت ہی سے آئے گا بھئی۔ اخلاص کس کو کہتے ہیں؟ کسی کام کو خالص اللہ کی رضا کے لیے کرنا بھئی، خالص اللہ کی رضا کے لیے کرنا۔ تو شرعاً روزہ وہ، یعنی شریعت میں روزہ کس کو کہتے ہیں؟ کھانے پینے اور جماع سے رکنا دن کے وقت میں نیت کے ساتھ۔ وَإِنْ لَمْ يُعَيِّنِ الشَّرْعُ لَهُ وَقْتًا، یہ دوسری قسم بتلا رہے ہیں بھئی۔ وہ مامور بہ جس کے لیے وقت معیار تھا وہ دو قسم پر تھا، ایک وہ جس کے لیے شریعت نے وقت مقرر کیا، ایک وہ جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔ وقت تو اس کے لیے معیار ہے لیکن یہ مطلق عن الوقت ہے، جب بھی چاہے اس کو ادا کر دو۔ مثلاً رمضان کا قضا روزہ ہے۔ اب قضا رمضان کے لیے کوئی وقت شریعت نے مقرر کیا ہے؟ نہیں، جب مرضی ادا کرو۔ تو وقت اس کے لیے معیار تو ہے لیکن یہ مطلق عن الوقت ہے، جب بھی چاہو اس کو ادا کر دو۔ تو صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں جو جب ایک چیز جس کے لیے یہ جو مامور بہ جس کے لیے وقت معیار ہے اور اس کے لیے شریعت نے کوئی وقت متعین نہیں کیا، تو بندہ بھی اس کے لیے کوئی وقت متعین نہیں کر سکتا۔ بندہ متعین... بندے نے متعین کر دیا کہ میں رمضان کے قضا روزہ پیر، منگل، بدھ یہ جو آ رہا ہے اسی کو رکھوں گا، یا اگلے مہینے کی 10، 11، 12 ہی کو رکھوں گا، اس نے اب کیا کر دیا؟ متعین کر دیا۔ کہتے ہیں متعین کرنے سے یہ متعین نہیں ہوگا، متعین نہیں ہوگا۔ لہذا وہ دن آیا اور اس میں اس نے نفل روزے رکھ لیے۔ تو آپ بتائیے نفل ہوں گے یا رمضان کے قضا ہوں گے بھئی؟ نفل ہی ہوں گے۔ معلوم ہوا اس کی تعین سے وہ دن متعین نہیں ہوئے۔ اگر وہ دن متعین ہو جاتے پھر تو کون سے ادا ہونے چاہیے تھے؟ رمضان کے ہونے چاہیے تھے۔ اور اس نے تعین بھی کر دی لیکن پھر بھی تعین نہیں ہوئی، اب اس نے نیت کس کی کر لی؟ نفل کی، تو نفل بھی اس میں ہو جائیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ یہ شریعت کا حکم ہے کہ یہ روزے کیا ہیں؟ یہ قضا روزے کیا ہیں؟ مطلق عن الوقت ہیں۔ تو اگر یہ ان کے لیے وقت کو متعین کر دیتا ہے تو یہ تو مقید بالوقت ہو گئے۔ کیا بن گئے؟ مقید بالوقت۔ اور حکمِ شرع کو، حکمِ شریعت کے اندر بندہ کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ حکمِ شریعت ہے، یہ حقِ شریعت ہے، حقِ شریعت کے اندر کوئی بندہ تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اپنے حق میں تو تبدیلی کر سکتا ہے، شریعت کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَإِنْ لَمْ يُعَيِّنِ الشَّرْعُ لَهُ وَقْتًا، اور اگر متعین نہیں کیا اس کے لیے شریعت نے کوئی وقت بھئی، فَإِنَّهُ لَا يَتَعَيَّنُ الْوَقْتُ لَهُ بِتَعْيِينِ الْعَبْدِ، تو اس کے لیے وقت متعین نہیں ہوتا بندے کے مقرر کر دینے متعین کرنے سے، حَتَّى لَوْ عَيَّنَ الْعَبْدُ أَيَّامًا لِقَضَاءِ رَمَضَانَ، حتیٰ کہ اگر بندے نے متعین کر دیے کچھ دن رمضان کی قضا کے لیے، لَا تَتَعَيَّنُ هِيَ لِلْقَضَاءِ، تو یہ دن قضا کے لیے متعین نہیں ہوں گے، وَيَجُوزُ فِيهَا صَوْمُ الْكَفَّارَةِ وَنَفْلٍ، اور اس دن کے اندر کفارے کا روزہ بھی اس کے لیے رکھنا جائز ہوگا اور نفل روزے رکھنا بھی جائز ہوگا، وَيَجُوزُ قَضَاءُ رَمَضَانَ فِيهَا وَغَيْرُهَا، اور رمضان کی قضا بھی اس کے اندر جائز ہوگی اور غیر اس کے علاوہ بھی روزے اس میں جائز ہوں گے۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا شریعت نے قضاِ رمضان کو مطلق عن الوقت رکھا ہے تو آپ اس کو مقید بالوقت... بندہ شریعت کے حق میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا اب آپ نے ایک دن مقرر کر دیا رمضان کے روزے کے لیے یا مقرر نہیں کیا، تو جب بھی آپ چاہیں قضا رکھ سکتے ہیں۔ تو اب آپ مجھے بتلائیے، نیت کے ساتھ متعین کرنا کہ میں قضاِ رمضان کا جو رمضان کا روزہ میرے ذمے باقی تھا اس کو میں کیا کر رہا ہوں؟ اس کے قضا کر رہا ہوں، اس کو میں ادا کر رہا ہوں، تو نیت کے ساتھ تعین کرنا ضروری ہوگا یا نہیں بھئی؟ ضروری ہوگا۔ اس لیے کہ مزاحم موجود ہے، آپ روزہ رکھنے لگے ہیں، ہاں ٹھیک ہے قضا جس دن بھی رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ تو اب پتہ نہیں چلے گا کہ یہ قضا روزہ رکھ رہا ہے یا نفل رکھ رہا ہے یا کیا رکھ رہا ہے؟ کفارے کا رکھ رہا ہے۔ تو جہاں مزاحم موجود، مقابل موجود، لہذا اب ان کے اندر اس کو کیا کرنی پڑے گی؟ نیت کے ساتھ تعین کرنا پڑے گی۔ بھئی رمضان میں تو تعین نہیں تھی ضروری، لیکن ان کے اندر قضاِ رمضان کے اندر کیا ہے؟ تعین ضروری ہے۔ وَ مِنْ حُكْمِ هٰذَا النَّوْعِ، اور اس نوع کے حکم میں سے ہے کہ شرط لگائی جائے گی نیت کے متعین کرنے کی لِوُجُودِ الْمُزَاحِمِ، بجہِ مزاحم یعنی مقابل کے ہونے کے بھئی۔ اچھا، تو بندہ یاد رکھو، ضابطہ کیا نکل آیا؟ ابھی تک جو باتیں ہم نے پڑھیں، دو باتیں معلوم ہوئیں کہ بندہ حقِ شریعت میں تبدیلی نہیں کر سکتا، ہاں اپنے حق میں کیا کر سکتا ہے؟ یہ آگے آنے والا ہے مسئلہ۔ اور دوسری بات کیا معلوم ہوئی کہ یہ جو قضاِ رمضان وغیرہ ہے جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا، ان کے لیے تعینِ نیت بھی ضروری ہے۔ پھر آگے اب آپ کو بتلا رہے ہیں: ثُمَّ لِلْعَبْدِ أَنْ يُّوْجِبَ شَيْئًا عَلٰى نَفْسِهٖ مُؤَقَّتًا أَوْ غَيْرَ مُؤَقَّتٍ، پھر بندے کے لیے جائز ہے کہ وہ واجب کرے اپنے اوپر کوئی چیز مؤقتاً أو غیر مؤقتٍ، چاہے وہ مؤقت ہو یا غیر مؤقت ہو۔ آپ اپنے اوپر کوئی چیز مطلق عن الوقت بھی واجب کر سکتے ہیں اور مقید بالوقت بھی۔ آپ نے منت مانی کہ میرا اے اللہ یہ کام ہو گیا تو میں اس ہفتہ، اتوار، پیر کو تین روزے رکھوں گا۔ تو یہ آپ نے اپنے اوپر اور وہ کام ہوا، تو آپ نے اپنے اوپر کیا کیے روزے... آپ خود واجب کر رہے ہیں اپنے اوپر، اور یہ مطلق عن الوقت ہیں یا مقید بالوقت ہیں؟ مقید بالوقت ہیں۔ تو یہ مقید بالوقت بھی اپنے اوپر واجب کر سکتے ہیں۔ ایک مطلق عن الوقت بھی کر سکتے ہیں: میں تین روزے رکھوں گا جب بھی رکھوں بھئی، تین روزے... تو کہتے ہیں بس تین روزے رکھوں گا تو اب آپ نے وقت متعین نہیں کیا تو یہ کیا ہوئے؟ مطلق عن الوقت۔ تو بندہ اپنے اوپر کوئی بھی چیز واجب کر سکتا ہے۔ ثُمَّ لِلْعَبْدِ أَنْ يُّوْجِبَ شَيْئًا عَلٰى نَفْسِهٖ مُؤَقَّتًا أَوْ غَيْرَ مُؤَقَّتٍ، پھر بندے کے لیے جائز ہے کہ وہ واجب کرے اپنے نفس پر بھئی کوئی بھی چیز، چاہے وہ مؤقت ہو یا غیر مؤقت ہو بھئی۔ یعنی اس کے لیے وقت متعین ہو یا وقت متعین نہ ہو۔ وَلَيْسَ لَهٗ تَغْيِيْرُ حُكْمِ الشَّرْعِ، ہاں اس کے لیے شریعت کے حکم کو بدلنا جائز نہیں۔ mِثَالُهٗ، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، دیکھیے بھئی کہ شریعت کا حکم کیسے نہیں بدل سکتا اور اپنے حق کو کیسے بدل سکتا ہے، دیکھیے بھئی: مِثَالُهٗ إِذَا نَذَرَ، کسی نے منت مانی أَنْ يَّصُوْمَ يَوْمًا بِعَيْنِهٖ، کہ وہ روزہ رکھے گا کسی معین دن میں، لَزِمَهٗ ذٰلِكَ، تو اس شخص پر کیا ہو جائے گا؟ وہ روزہ لازم ہو جائے گا۔ بھئی آپ نے کیا منت مانی؟ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو یہ جو مہینہ آ رہا ہے اس کی پہلی تاریخ کو میں کیا کروں گا؟ روزہ رکھوں گا۔ وہ کام آپ کا ہو گیا، یہ روزہ آپ پر کیا ہوا؟ واجب ہو گیا، واجب ہو گیا۔ اب سوال یہ، اسی دن آپ نے قضاِ رمضان کی نیت کر لی، تو کیا رمضان کا روزہ قضا اس میں ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے، کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس لیے کہ شریعت نے قضاِ رمضان کو مطلق عن الوقت رکھا ہے۔ جب بھی اس کو ادا کرو، ہو جائے۔ اب اگر ہم یہ حکم لگاتے ہیں کہ اس دن کے اندر تو اس نے اپنے اوپر منت کا روزہ واجب کر لیا ہے، لہذا قضا کا روزہ اس دن میں نہیں... تو قضا کے روزے کو آپ نے مقید کر دیا کہ اس دن میں نہیں رکھ سکتا، باقی دنوں میں رکھ سکتا ہے، مقید کیا یا نہیں؟ حالانکہ یہ تو حقِ شرع ہے، اور حقِ شرع میں بندہ کوئی تبدیلی کر سکتا ہے؟ تو وہ تو مطلق عن الوقت تھا تو آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ مقید بالوقت کر دیا۔ تو بندہ ایسا... لہذا قضاِ رمضان کا روزہ رکھے تو کیا ہو جائے گا؟ ہو جائے گا بھئی۔ مثال کے طور پر کسی نے منت مانی کہ وہ کسی متعین دن میں روزہ رکھے گا تو لازم ہو جائے گا اس پر وہ روزہ، بھئی، اس متعین دن کے اندر۔ ولو صامہ عن قضائی رمضان (اور اگر اس نے روزہ رکھ لیا قضائے رمضان سے) او عن کفارۃ یمینہ (یا کس کا مولانا؟ کفارۂ یمین، قسم کے کفارے کے طور پر تین روزے رکھنا تھے، اس دن میں بھی آپ نے ایک رکھ لیا بھئی، ایک رکھ لیا۔ تو یہ کفارۂ یمین بھی مطلق عن الوقت ہے)۔ تو کہتے ہیں: جاز (یہ بھی جائز ہے)۔ لان الشرع جعل القضاء مطلقا (اس لیے کہ شریعت نے قضا کو کیا قرار دیا ہے، کیا بنایا ہے؟ مطلق بنایا ہے)۔ فلا یتمکن العبد من تغییرہ بالتقیید (پس بندہ قادر نہیں ہے کس چیز پر؟ کہ اس کو من تغییرہ بالتقیید کہ اس کو تبدیل کر دے بالتقیید بغیر ذلک اليومِ، اس دن کے علاوہ کے ساتھ مقید کرتے ہوئے بھئی۔ اس دن کے علاوہ...)۔ فلا یتمکن العبد من تغییرہ، بندہ اس مطلق کو بدلنے پر قادر نہیں۔ بھئی، کس طرح بدلے گا؟ کہتے ہیں: بالتقیید بغیر ذلک اليومِ، اس دن کے علاوہ کے ساتھ مقید کرتے ہوئے۔ اس دن کے علاوہ کے ساتھ... اگر ہم یہ کہہ دیں کہ اس دن میں نہیں رکھ سکتا، تو آپ نے قضائے روزے کو مقید کر دیا اس دن کے علاوہ کے ساتھ، یہ نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ولا یلزم علی هذا، یہ وہ اشکال کا اب جواب دے رہے ہیں۔ بھئی، اچھا! آپ نے کہا اس دن کے اندر اگر قضائے رمضان رکھے تو قضا، وہ رمضان ہی کا قضا شمار ہو گا، وہ نذر کا روزہ شمار نہیں ہو گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس دن کے اندر کوئی آدمی نفل کا روزہ رکھے، تو پھر کون سا ادا ہونا چاہیے؟ نفل ہی کا روزہ ادا ہونا چاہیے۔ مثلاً، آپ ویسے ہی ایک نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں بھئی، وہ نذر والا روزہ نہیں رکھتے۔ تو نفلی روزہ آپ نے رکھا، تو نفلی روزہ بھی تو مطلق عن الوقت ہے۔ شریعت نے اجازت دی ہے یا نہیں، جب مرضی رکھو؟ یہ کیا ہے؟ تو وہ لہٰذا وہ نفلی روزہ ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر نفلی روزہ رکھا تو نفلی نہیں ہو گا، کون سا ہو جائے گا؟ وہی نذر والا ہو جائے گا۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو نفل بھی تو مطلق عن الوقت ہے، جب مرضی رکھو۔ تو یہاں اگر آپ... آپ نے کیا کہا؟ اس دن میں نفلی بھی رکھے گا تو کون سا ہو جائے گا؟ صومِ منذور ہو جائے گا، تو آپ نے نفلی روزے کو کیا کر دیا، مقید کر دیا اس دن کے علاوہ کے ساتھ کہ اس دن میں نہیں رکھ سکتا، باقی دنوں میں رکھ سکتا ہے۔ تو یہ تو آپ نے کیا کر دیا، مطلق کو بدل دیا کس سے؟ مقید سے بدل دیا حکم کو۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ جواب دیں گے آگے آپ کو کہ بھئی، نفل بھی حقِ شرع نہیں ہے، یہ حق العبد ہے۔ یہ کیا ہے؟ اور بندہ اپنے حق میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ بھئی، نفل میں تو آپ کو اجازت ہے، رکھو یا نہ رکھو، یہ تو آپ کا اپنا حق ہے۔ تو جب یہ آپ کا اپنا حق ہے، آپ اپنے حق میں تو تبدیلی کر سکتے ہیں، شریعت کے حق میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔ تو یہاں آپ نے خود ہی اپنے حق میں تبدیلی کر دی کہ اس دن کے اندر اپنے اوپر کیا واجب کر لیا؟ نذر کا، منت کا روزہ واجب کر لیا، تو آپ نے وہ نفل کو خود ہی کیا کر دیا، جو آپ کا حق تھا اور مطلق عن الوقت تھا، آپ نے اس کو کیا کر دیا، مقید بالوقت کر دیا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ولا یلزم علی هذا (اور اس پر لازم نہیں آتا) یہ بھی کہ جب اس نے اذا صامہ عن نفلٍ (کہ جب اس نے روزہ رکھا کس سے؟ نفل سے) حیث یقع عن المنذور لا عما نوى (تو اس طور پر کہ وہ واقع ہو گا کس سے بھئی؟ نذر سے ہی، وہ واقع ہو گا عن المنذور، منذور جس کی منت مانی گئی ہے وہ روزہ، تو وہ صومِ منذور سے ہی واقع ہو گا) لا عما (نہ کہ اس روزے سے، اصل میں ہے عن ما، لا عما) نہ کہ اس روزے سے، نوى (جس کی اس نے کیا کی ہے؟ یعنی نفلی نہیں ہو گا)۔ کہتے ہیں: لان النفل حق العبد (اس لیے کہ نفل بندے کا حق ہے) اذ هو یستبد بنفسہ (اس لیے کہ وہ مستقل ہے خود اس میں، وہ خود مستقل ہے اس میں)۔ سمجھ میں آیا؟ اذ هو یستبد بنفسہ، اس لیے کہ وہ مستقل ہے خود اس میں، من ترکہ وتھقیقہ (اس کے کرنے میں، اس کے چھوڑنے میں وتھقیقہ اور اس کے کرنے میں، اس کے وجود دینے میں)۔ تو اس کو ترک کرنے میں بھی خود مختار ہے اور اس کے وجود دینے میں بھی۔ تحقیق کا کیا معنی؟ وجود دینا بھئی۔ فجاز ان یوثر فعلہ فیما هو حقہ (پس جائز ہے کہ مؤثر ہو جائے اس کا فعل فیما اس چیز کے اندر هو حقہ جو اس کا اپنا حق ہے)۔ اپنا حق ہے بھئی، اس میں تو اس کا قول، اس کا فعل مؤثر ہو سکتا ہے۔ لا فیما هو حق الشرع (نہ کہ اس کے اندر جو کس کا حق ہے؟ شریعت کا حق ہے)۔ حقِ شرع تھا قضائے رمضان اس میں یا کفارۂ یمین، اس کے اندر تو اس کا فعل مؤثر نہیں۔ لیکن اپنے فعل، حق کے اندر اس کا فعل... اپنے حق کو وہ بدل سکتا ہے، شریعت کے حق کو نہیں بدل سکتا۔ وعلی اعتبار هذا المعنی (اور اسی علت کا اعتبار کرتے ہوئے) قال مشایخنا (فرماتے ہیں ہمارے مشائخ، ہمارے فقہاء) اذا شرطا فی الخلع (جب شرط لگا لی میاں بیوی دونوں نے خلع کے اندر) ان لا نفقۃ لها ولا سکنی ( کہ اس عورت کے لیے نہ تو نفقہ ہو گا اور نہ سکنیٰ ہو گا)۔ بھئی، خلع جانتے ہو؟ بیوی کیا کہتی ہے خاوند سے کہ "مجھ سے خلع کر لو اتنے مال کے بدلے، اتنا مال لے لو مجھے چھوڑنے پر بھئی۔" خاوند کیا کہتا ہے؟ "مجھے قبول ہے۔" کیا ہو جائے گا؟ فوراً عورت کو طلاقِ بائن ہو جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ خاوند نے کہا: "قبول ہے بس، مجھے منظور ہے۔" اب یاد رکھو، اس خلع کے اندر، خلع تو ہوا لیکن طلاقِ بائن آ گئی، اور طلاقِ بائن کے بعد عورت کیا گزارا کرتی ہے؟ عدت گزارتی ہے طلاق کے بعد۔ تو کتنی عدت گزارے گی؟ تین حیض۔ اب اس تین حیض کے اندر یاد رکھو، نفقہ بیوی کا خاوند کے ذمہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اگلے نکاح سے رکی ہوئی ہے، کس کی وجہ سے رکی ہے؟ خاوند کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ کہ خاوند کی اس کی وجہ سے کہیں حاملہ تو نہیں، یہ پتہ چل جائے گا۔ اور نیز کہاں رہے گی اس دوران بھئی؟ جی؟ خاوند کے گھر ہی کے اندر رہے گی بھئی۔ کہاں پر رہے گی؟ خاوند ہی کے گھر کے اندر رہے گی بھئی۔ صورت سمجھ... مسئلہ سمجھ میں آیا؟ عدت کے دوران نفقہ بھی کس پر؟ خاوند پر۔ اور اس خاوند ہی کے گھر میں عدت گزارے گی، یہ بھی رہائش بھی کس کے ذمہ ہو گی؟ خاوند کے ذمہ ہو گی۔ اب یاد رکھو، ان میں سے جو نفقہ ہے، وہ تو حق العبد ہے، جبکہ سکنیٰ (رہائش) یہ حق الشرع ہے۔ سکنیٰ کیا ہے؟ حق الشرع۔ بھئی، بیوی کو نفقہ دیا جاتا ہے، کیوں نفقہ دیا جاتا ہے؟ کیونکہ اس نے اپنے نفس کو کس کے سپرد کیا ہے؟ خاوند کے سپرد کیا ہے، تو نفقہ دینا پڑے گا، لیکن یہ حقِ شرع نہیں ہے بلکہ کس کا حق ہے؟ حق العبد ہے، بندے کا حق ہے، بیوی کا حق ہے۔ لیکن یہ جو رہائش ہے، یہ حق الشرع ہے۔ یہ شریعت نے مقرر کی ہے۔ کس طرح؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی: ولا تخرجوھن من بیوتھن (نہ نکالو تم ان کو ان کے گھروں سے) ولا یخرجن (اور وہ خود بھی نہ نکلیں) الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ (مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی والا کام کریں بھئی، کھلی بے حیائی والا)۔ تو دیکھو شریعت نے کہا ہے: ولا تخرجوھن من بیوتھن، ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ تو یہ کس نے مقرر کیا بھئی اسی گھر کے اندر رہنا؟ شریعت نے مقرر کر دیا، تو یہ حق الشرع ہوا۔ اب خلع کرتے ہوئے دونوں راضی ہو گئے۔ خاوند نے کہا بھئی کیا: "ٹھیک ہے، میں خلع کرنے کو تیار ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ تجھے میں خرچہ بھی نہیں دوں گا عدت کے دوران، میں تجھے اپنے رہائش بھی نہیں دوں گا، یہاں سے جاؤ کہیں اور عدت گزارو۔" دونوں متفق ہیں اس بات پر مولانا۔ کہتے ہیں بھئی: ٹھیک ہے، نفقہ تو ساقط ہو جائے گا کیونکہ وہ کیا تھا؟ حق العبد، اور بندہ اپنے حق میں کیا کر سکتا ہے؟ تبدیلی۔ بیوی کا حق تھا، وہ خود راضی ہے چھوڑنے پر، ٹھیک ہے نفقہ تو چلا جائے گا، لیکن سکنیٰ ختم نہیں ہو گا۔ سکنیٰ کو ساقط نہیں کر سکتے۔ کیوں نہیں کر سکتے؟ کیونکہ حقِ شرع ہے۔ بندہ اپنے حق میں تو تبدیلی کر سکتا ہے، حقِ شرع میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اسی لیے ہمارے مشائخ فرماتے ہیں: جب شرط لگا دی شرطا (میاں بیوی دونوں نے) فی الخلع (خلع کے اندر) ان لا نفقۃ لها ولا سکنی ( کہ اس کے لیے نہ نفقہ ہو گا بیوی کے لیے ولا سکنی اور نہ رہائش ہو گی) سقطت النفقة دون السكنى (نفقہ تو ساقط ہو جائے گا نہ کہ سکنیٰ) حتی لا یتمکن الزوج من اخراجھا عن بیت العدۃ (یہاں تک کہ خاوند قادر نہیں ہو گا کہ اس کو نکال دے عن بیت العدۃ، عدت کے گھر سے، یعنی جہاں وہ عدت گزارے گی، عدت گزارتی ہے) لان السکنی فی بیت العدۃ حق الشرع (اس لیے کہ عدت والے گھر کے اندر رہائش جو ہے، یہ حق الشرع، یہ کیا ہے؟ شریعت کا حق ہے) فلا یتمکن العبد من اسقاطہ (لہٰذا بندہ قادر نہیں ہے اس کو ساقط کرنے پر) بخلاف النفقة (برخلاف نفقہ کے) (کہ وہ کیا ہے؟ حق العبد ہے، اور جس کا حق ہے وہ خود کیا کر رہا ہے اس کو ساقط، یعنی بیوی کر رہی ہے)۔ چلیے مولانا! هذا هو المرام، والله اعلم بحقیقة الکلام۔
123 approved lectures · 55 of 123