Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 94
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا آپ نے امر کی تعریف پڑھی، لغوی تعریف بھی پڑھی اور اصطلاحی تعریف بھی پڑھی بھئی۔ لغت میں امر کس کو کہتے ہیں؟ غیر کو کیا کہنا؟ افعل کہنا علی سبیلِ علی سبیل الاستعلاء۔ بلند اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے بلندی کے طریقے پر کہنا۔ اور اگر تساوی کے طریقے پر کہا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ التماس کہلاتا ہے۔ اور اگر عاجزی کے طریقے پر افعل کہا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ دعا۔ اور پھر اس کے بعد ذکر کیا تھا بعض ائمہ کے اس قول کو، بعض ائمہ نے کیا لکھا تھا بھئی؟ کہ ان المراد بالامر یختص بہذہ الصیغۃ کہ امر کی جو مراد ہے وہ خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ۔ اس کی تین تشریحات گزریں، دو کو رد کیا مصنف نے اور ایک کو ترجیح دی مولانا کہ یہ معنی ٹھیک ہے۔ تو پہلا معنی کسی نے کیا کیا بعض شارحین نے اس کا؟ کہ امر کی حقیقت خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ مولانا۔ یہ یہ صیغہ ہے تو امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو امر، یعنی یہ صیغہ ہے تو طلب ہے، یہ صیغہ نہیں تو طلب بھی، نہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی یہ معنی محال ہے اس لیے کہ اللہ متکلم ہیں ازل میں ہمیشہ سے اور کلام اللہ کی صفت ہے اور اللہ کے کلام میں امر بھی ہے، کیا ہے؟ اور امر بھی ہے۔ اور یہ افعل کا صیغہ ازل میں تو ثابت نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی جو صفت ہے کلام ہے مولانا وہ وہ بھی کیا ہے؟ ازلی ہے، کیا ہے؟ ذاتِ باری تعالی قدیم تو اللہ کی صفات بھی قدیم اور یہ افعل کا صیغہ یہ تو مولانا حادث ہے، یہ تو کس سے مرکب ہے؟ حروف اور اصوات سے مرکب ہے، حروف اور اصوات سے مرکب ہے تو یہ حادث ہے بھئی۔ تو یہ معنی محال۔ دوسرا معنی بعضوں نے اور شرح کی کہ امر کی مراد جو ہے وہ خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ یعنی وجوب۔ آمر کی امر سے کیا مراد ہوتی ہے؟ وجوب۔ وجوب خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ، یہ صیغہ ہے تو وجوب آئے گا، یہ صیغہ نہیں تو وجوب بھی نہیں آئے گا۔ اس کو بھی رد کیا، یہ معنی محال ہے اس لیے کہ ایمان باللہ جو ہے جس تک یہ صیغہ امر نہ پہنچا ہو دعوت کے ذریعے آمِنُوا کا، اس پر بھی کیا ہے ایمان لانا؟ واجب۔ تو دیکھو وجوب آ رہا ہے اور یہ صیغہ موجود نہیں ہے تو اس کو بھی رد کر دیا تھا، رد کیا مولانا۔ پھر کہا کیا اس کی تشریح ہے؟ بتلایا کہ معنی یہ ہے کہ وجوب خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ بندوں کے حق میں اور شرعی فرعی مسائل کے اندر بھئی، شرعی فرعی مسائل۔ تو بندوں کے حق کی جب قید لگا دی تو وہ جو اعتراض آ رہا تھا کہ ازل کے صفت تو ہے کلام تو صفت ہے کس کی؟ اللہ کی اور اللہ کے کلام میں امر بھی ہے اور وہ امر جو ہے وہ تو کیا ہے؟ وہ تو حادث ہے تو بتلایا کہ تو لہذا ازل میں یہ نہیں ہو سکتا تو بتلایا بھئی بندوں کے حق میں ہم بات کر رہے ہیں، کس کے حق میں؟ بندوں کے حق میں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نیز اگلی دوسرا کی دوسری شرح پر کیا اعتراض وارد ہوا تھا؟ کہ وجوب اس کے بغیر بھی آ رہا ہے، تو بتلایا اس کا کہ فی الشرعیات مولانا فرعی مسائل کے اندر ہم بات کر رہے ہیں اعتقادی مسائل کے اندر نہیں، اعتقادی مسائل میں اس کے بغیر وجوب آیا جو آپ نے دلیل دی تو وہ تو اعتقادی مسئلے کے اندر وجوب آ رہا ہے، ہاں فرعی مسائل کے اندر جن کا تعلق عمل سے ہے نماز، روزہ، زکوۃ وغیرہ یہ جو ہیں ان کے اندر جو وجوب آیا کرتا ہے وہ کس سے آئے گا؟ اسی صیغہ سے آئے گا کسی اور سے نہیں آئے گا بھئی۔ اور فعلِ رسول سے بھی وجوب آیا کرتا ہے میں نے بتلایا ہمارے نزدیک بھئی اور دلیل اس کی کیا ذکر کی تھی؟ اور کیا اس کی کتنی شرائط ذکر کی تھیں؟ دو شرائط، ایک حضور نے مواظبت فرمائی ہو بغیر ترک کے بھئی، سمجھ میں آیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ترک کے مواظبت فرمائی ہو اور نیز کوئی اختصاص کی دلیل بھی نہ ہو کہ یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، بعض چیزیں خاص ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، مثلاً حضور کے نکاح میں بیک وقت نو ازواجِ مطہرات جمع تھیں بھئی حالانکہ امت کے لیے چار سے زیادہ بیک وقت نکاح کرنا جائز نہیں ہے بھئی، تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا اس پہ اشکال ہوتا ہے بھئی کہ یہ دیکھا فعلِ رسول سے وجوب تو آ گیا اور آپ نے تو کیا کہا تھا؟ وجوب خاص ہے کس کے ساتھ؟ اسی صیغہ کے ساتھ بندے کے حق میں فرعی مسائل میں، تو وجوب تو یہاں آ گیا، نیز قرآن میں آتا ہے کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ، کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ وہاں بھی کیا آ رہا ہے؟ وجوب آ رہا ہے حالانکہ کُتِبَ یہ کوئی، یہ تو ماضی کا صیغہ ہے، یہ تو امر کا صیغہ نہیں۔ تو میں نے بتلایا تھا امر عام ہے چاہے حقیقۃً امر ہو چاہے حکماً امر ہو، حکماً امر ہو۔ تو یہاں حقیقۃً امر تو نہیں لیکن حکماً کیا ہے؟ امر ہے مولانا، امر ہے بھئی۔ دیکھیے آگے بھئی، فصْلٌ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی الأَمْرِ المـُطْلَقِ أَيِ المـُجَرَّدِ عَنِ القَرِينَةِ الدَّالَّةِ عَلَى اللُّزُومِ وَعَدَمِ اللُّزُومِ۔ یاد رکھو امر علماء لکھتے ہیں، علماءِ اصول، کہ امر 16 معانی کے لیے آیا کرتا ہے۔ کتنے معانی کے لیے؟ 16 معانی کے لیے آیا کرتا ہے بھئی، 16 معانی۔ 16 معانی۔ 16 معانی جی۔ مثلاً یہ آپ اپنی کتاب میں حاشیہ نمبر 8 میں دیکھیے کہ امر کئی معانی کے لیے آتا ہے، ان معانی کو ذکر کیا ہے بہت سوں کو اور ان کے مثالیں بھی ذکر کی ہیں، مثلاً وَہِیَ النَّدْبُ بھئی، کن معانی کے لیے آیا کرتا ہے؟ ندب ہے، استحباب کے لیے امر آتا ہے مولانا کبھی کبھار۔ مستحب کام جانتے ہو بھئی کسے کہتے ہیں مستحب بھئی؟ جی، جس کے کرنے پہ تو ثواب ہو اور نہ کرنے پر عقاب نہ ہو۔ تو ندب کے لیے کبھی آتا ہے امر جیسے اللہ کا قول ہے فَكَاتِبُوهُمْ، ان کو کیا بنا دو؟ اگر ان میں کوئی خیر دیکھو تو وہ جو کتابت کا جو غلام ہیں اور وہ کیا تمھارے بعض غلام ہیں اور وہ کس چیز کا تقاضا کریں تم سے؟ کہ انہیں کیا بنا دو؟ مکاتب بنا دو، تو ان میں اگر تم کیا کرو کوئی خیر پاؤ فَكَاتِبُوهُمْ ان کو کیا بنا دو؟ مکاتب بنا دو بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ مکاتب بنا دو، تو یہ امر ندبت کے لیے ہے بھئی مندوب ہے مکاتب، مستحب ہو گیا مکاتب بنانا، کوئی واجب نہیں، واجب نہیں۔ وَالتَّوْبِیخُ، کبھی کبھار امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ توبیخ، ڈانٹ ڈپٹ کے لیے آیا کرتا ہے مولانا، جیسے اللہ فرماتے ہیں اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، جو چاہو کرو تم، جو چاہو تم کرو، تو یہ ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر ہوتا ہے، اس کا یہ معنی نہیں کہ جو چاہو کرو بلکہ یہ کس لیے آتا ہے اس قسم کا امر؟ ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہا جاتا ہے۔ وَالتَّعْجِیزُ، اور کبھی کبھار امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ تعجیز، عاجز کرنے کے لیے بھئی، عاجز کر دینے کے لیے جیسے اللہ فرماتے ہیں بھئی: فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ کہ لے آؤ تم بھئی کوئی ایک سورت اس کے مثل بھئی، اس قرآن کی سورت کے مثل کوئی ایک سورت کیا کرو؟ لے آؤ بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ان کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے، تو یہ تعجیز کے لیے ہے بھئی، عاجز کرنے کے لیے۔ وَالْإِرْشَادُ، ارشاد مولانا رہنمائی کے لیے، دنیاوی مصلحت میں مولانا، وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ، کیا کر لو؟ گواہ بنا لو دو عادل کو بھئی، یہ دنیاوی مصلحت۔ وَالْإِمْتِنَانُ، احسان بتلانے، بتلانے جتانے کے لیے، نحو كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ بھئی، احسان کے بتلانے کے لیے جیسے کھاؤ تم جو تمھیں اللہ نے دیا ہے۔ اکرام کے لیے کبھی امر آتا ہے جیسے ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ، داخل ہو جاؤ اس جنت کے اندر کس کے ساتھ؟ سلامتی کے ساتھ بھئی، اس جنت میں داخل، جنت میں قیامت کے دن جنت میں داخل ہوتے وقت کیا کہا جائے گا؟ اس میں داخل ہو جاؤ سلامتی کے ساتھ، تو یہ کیوں کہا جائے گا؟ یہ امر کیوں ہوگا؟ اکراماً، اکراماً، عزت کے طور پر کہا جائے گا بھئی جنت میں چلے جاؤ بھئی۔ اسی وَالتَّأْدِیبُ، کبھی ادب سکھانے کے لیے امر آتا ہے مولانا جیسے كُلْ مِمَّا يَلِيكَ بھئی، حضور علیہ السلام نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کیا فرمایا؟ وہ کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے غالباً فرمایا کہ وہ برتن میں کھانا کھا رہے تھے، ان کا ہاتھ برتن میں ہر طرف گھوم رہا تھا، حضور نے فرمایا كُلْ مِمَّا يَلِيكَ اپنے سامنے سے کھاؤ بھئی، ادھر ادھر باقیوں کے سامنے سے اور ادھر ادھر برتن کی دوسری طرف سے نہ کھاؤ، تو یہ ادب سکھانے کے لیے تھا، جی وَغَیْرُ ذٰلِکَ مولانا، یہ کئی معانی لکھے ہیں، بس آپ کو یہ بتلانا تھا 16 معانی کے لیے آتا ہے، چند ایک مثالیں گزر گئیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کبھی تسخیر کے لیے آتا ہے، مسخر کرنے کے لیے، اہانت کے لیے کبھی آتا ہے بھئی، تسخیر مسخر کرنے کے لیے جیسے كُونُوا قِرَدَةً کہ ان کو وہ کیا بنا دیا گیا بھئی؟ جی؟ بندر بنا دیا گیا وہ جو بنی اسرائیل والے بعض لوگ تھے بھئی، کبھی اہانت کے لیے مولانا آئے گا مولانا، ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْکَرِیمُ، جہنم میں بھئی کہا جائے گا کہ کیا تو اب کیا تھا؟ چکھ تو، تو ہی بڑا معزز اور مکرم تھا بھئی، تو کیا تھا اپنے آپ کو، تو تو بڑا دنیا میں بڑا معزز اور مکرم تھا، اب چکھ اس عذاب کو بھئی، وَغَیْرُ ذٰلِکَ بھئی، چلیے بس یہ بات یاد رکھنا بھئی یہ چند مثال، چند معانی یاد رکھ لینا کہ امر کبھی کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، کبھی اباحت کے لیے آتا ہے، کبھی ندب کے لیے آتا ہے، کبھی تسخیر کے لیے آتا ہے، کبھی تعجیز کے لیے آتا ہے، کبھی توبیخ کے لیے آتا ہے وغیرہ بھئی 16 معانی ہیں، بس یہ یاد رکھیں۔ اب اختلاف کیا ہے مولانا، اب یاد رکھو امر پھر دو قسم پر ہے، ایک امرِ مطلق ایک امرِ مقید۔ جی، جی کتاب میں بھی یہ بات آ جائے گی مولانا لیکن یہ دو نام لکھ لیں، امرِ مطلق اور امرِ مقید بھئی۔ یاد رکھو امر کو اب 16 معانی کے لیے ہے، کس معنی کے لیے کہاں پر آیا ہے؟ قرینہ بتلا دیتا ہے کہ یہ امر کس لیے ہے، ادب سکھانے کے لیے ہے، تادیب کے لیے ہے، قرینہ بتلاتا ہے یہ امر ڈانٹ ڈپٹ کے لیے ہے، قرینہ بتلاتا ہے یہ امر وجوب کے لیے ہے، قرینہ بتلاتا ہے یہ امر ندب کے لیے ہے، قرینہ بتلاتا ہے یہ امر کس لیے ہے؟ اباحت کے لیے ہے، قرینہ بتلاتا ہے کہ یہ امر تسخیر کے لیے ہے یا تعجیز کے لیے ہے، تو قرینہ ساتھ امر کے ہوگا بھئی، قرینہ کیا ہے امر کے ساتھ ہوگا، تو تو اگر امر کے ساتھ لزوم یا عدمِ لزوم وغیرہ کا قرینہ ہو تو اس کو کہتے ہیں امرِ مقید، کیا کہتے ہیں امرِ مقید۔ امر کے ساتھ کس چیز کا قرینہ ہو؟ لزوم یا عدمِ لزوم وغیرہ جس چیز کے لیے آیا ہے اس کا قرینہ ساتھ موجود ہو تو یہ امرِ مقید کہلاتا ہے، امرِ مقید کہلاتا ہے، اور اگر امر کے ساتھ لزوم یا عدمِ لزوم کا کوئی قرینہ نہ ہو تو یہ امرِ مطلق کہلاتا ہے، اور اگر امر کے ساتھ کوئی نہ لزوم نہ نہ لزوم کا کوئی قرینہ ہے نہ عدمِ لزوم کا کوئی قرینہ ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ امرِ مطلق کہلاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ ابھی تک صرف یہ بات ہوئی کہ امر 16 معانی کے لیے آتا ہے، چند مثالیں، تحدید ہے، وجوب ہے، ندب وغیرہ اور پھر بتلایا کہ امر دو قسم پر ہے، ایک امرِ مقید اور ایک امرِ مطلق مولانا، امرِ مقید وہ ہے جس کے ساتھ کوئی قرینہ موجود ہو جو بتلائے یہ کس لیے ہے امر، اور ایک امرِ مطلق جس کے ساتھ کوئی قرینہ لزوم یا عدمِ لزوم وغیرہ کا نہ ہو۔ اب یاد رکھو وہ امر جو مطلق ہو جس کے ساتھ کوئی قرینہ نہ ہو وہ کس لیے آئے گا؟ تو علماء کے کئی مذاہب ہیں بھئی، فقہاء کی مختلف اقوال ہیں اس بارے میں، یاد رکھو بھئی۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں بھئی جب امرِ مطلق آئے یعنی نہ اس کے ساتھ لزوم کا قرینہ ہو اور نہ عدمِ لزوم کا قرینہ، تو وہ اباحت کے لیے ہوگا، اباحت کے لیے ہوگا۔ بعض کہتے ہیں مولانا وہ ندب کے لیے ہوگا، ندب کے لیے مولانا، استحباب کے لیے ہوگا۔ بعض کہتے ہیں اس میں توقف کیا جائے گا، بعض کیا کہتے ہیں اس میں توقف کیا جائے گا مولانا، جب تک مراد معلوم نہ ہو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، جب تک مراد متعین نہ ہو جائے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں امرِ مطلق کس لیے آیا کرتا ہے؟ اباحت کے لیے، اباحت کا معنی جانتے ہو بھئی؟ جس کا کرنا بھی جائز نہ کرنا بھی جائز، جس میں جس کا کرنا جائز ہوتا ہے، جس کا کرنا جائز ہے، تو کرنا بھی جائز نہ کرنا بھی، نہ کرنے کی صورت میں بھی کوئی کرنے پر بھی کوئی ثواب نہیں عقاب نہیں، نہ کرنے پر بھی کوئی ثواب نہیں عقاب نہیں۔ تو بعض کہتے ہیں بھئی جب مطلق امر ہو وہ اس اباحت کے لیے آئے گا، بعض کیا کہتے ہیں وہ ندب کے لیے آئے گا، بعض کیا کہتے ہیں اس میں توقف کیا جائے گا بھئی توقف کیا جائے گا، جبکہ جمہور کے نزدیک جبکہ جمہور اور احناف کے نزدیک امرِ مطلق وجوب کے لیے آئے گا، امرِ مطلق کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا بھئی۔ دیکھو سنو بھئی باقی آسان سبق ہے آج کا مولانا، اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي الأَمْرِ المـُطْلَقِ، اختلاف کیا ہے مولانا لوگوں نے یعنی فقہاء نے مراد ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ فقہاء نے اختلاف کیا ہے فِی الأَمْرِ المـُطْلَقِ امرِ مطلق کے اندر، بھئی کیا معنی امرِ مطلق؟ خود بتلا رہے ہیں، أَيِ المـُجَرَّدِ عَنِ القَرِينَةِ وہ امر جو خالی ہو کس سے؟ قرینے سے، ایسا قرینہ الدَّالَّةِ عَلَى اللُّزُومِ وَعَدَمِ اللُّزُومِ جو دلالت کر رہا ہو لزوم یا لزوم اور عدمِ لزوم پر، اس قسم کا کوئی قرینہ نہ ہو جو یہ بتلائے یہ لزوم آ رہا ہے، یہاں لزوم مراد ہے یا عدمِ لزوم مراد ہے بھئی، کوئی مشکل بات تو نہیں بھئی؟ نحو قوله، اب دو مثالیں ذکر کریں گے بھئی، دو ایسے امر ذکر کریں گے جن کے ساتھ نہ کس چیز کا قرینہ ہے، نہ لزوم کا اور نہ عدمِ لزوم کا، نحو قوله تعالى جیسے اللہ کا یہ قول ہے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اور جب قرآن پڑھا جائے فَاسْتَمِعُوا لَهُ تو اس کو توجہ سے سنو وَأَنصِتُوا اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے، تو دیکھو فَاسْتَمِعُوا لَهُ توجہ سے سنو وَأَنصِتُوا اور خاموش رہو یہ دو امر آ رہے ہیں اور اور یہاں کوئی قرینہ لزوم کا نہیں، نہ کوئی قرینہ عدمِ لزوم کا ہے، تو یہ مطلق امر ہوا اور مطلق امر کس سے آیا کرتا ہے؟ ہمارے نزدیک وجوب کے لیے آیا کرتا ہے، تو معلوم ہوا جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے اس کا سننا اور خاموش رہنا واجب ہوا۔ خاموش رہنا کیا ہوا؟ واجب ہوا بھئی، واجب ہوا، فرض ہوا بھئی۔ اسی طرح وَقَوْلُهُ وَقَوْلُهِ تَعَالَى وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ، حضرت آدم اور حضرت حوا سے خطاب ہوا، تم دونوں قریب نہ جاؤ اس درخت کے فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ پس ہو جاؤ گے تم دونوں کس میں سے؟ ظالموں میں سے اگر گئے۔ تو وَلَا تَقْرَبَا اس درخت کے قریب نہ جاؤ بھئی۔ تو یہاں دیکھا اس پر اشکال ہوا فوراً کہ بھئی بات چل رہی ہے امر کی، وَلَا تَقْرَبَا آپ تو نہی لے آئے بطورِ مثال کے بھئی۔ کیا لے آئے؟ نہی۔ تو وَلَا تَقْرَبَا تو نہی ہے، تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی۔ تو جواب یہ مولانا یاد رکھو نہی دراصل نہی عن الشئی دراصل امر ہوتا ہے بضد الشئی بھئی۔ نہی عن الشئی امر ہوتا ہے بضد الشئی۔ جواب نے ایک چیز سے دوسرے کو روکا تو گویا اس کا مطلب ہے آپ اس کی ضد کا حکم دے رہے ہیں۔ النَّهْيُ عَنِ الشَّيْءِ أَمْرٌ بِضِدِّهِ۔ النَّهْيُ عَنِ الشَّيْءِ أَمْرٌ بِضِدِّهِ، نہی عن الشئی امر بضدہ یعنی امر بضد الشئی ہوتی ہے بھئی۔ بھئی میں آپ کو کہتا ہوں لا تضرب زیداً، کیا معنی ہے؟ یہ ہے تو نہی لیکن دراصل امر ہے ضدِ ضرب کا۔ ایک ہے ضرب، ایک ہے ضدِ ضرب، وہ کیا ہے؟ ترکِ ضرب۔ ایک ہے ضرب اور اس کی ضد کیا ہے؟ ترکِ ضرب مولانا۔ تو یہاں حکم ہے ترکِ ضرب کا، کس چیز کا حکم ہو رہا ہے؟ ترکِ ضرب کا۔ میں کہتا ہوں کل، کھانا کھاؤ، یہ کھانے کا حکم دے میں دے رہا ہوں۔ اور میں کہتا ہوں لا تأکل، تو مت کھا، یہ نہی ہے، لیکن نہی دراصل اس چیز کی ضد کا حکم ہوتا ہے۔ کیا معنی، کیا حکم دے رہا ہوں میں؟ ترکِ اکل کا۔ کس چیز کا حکم دے رہا ہوں؟ ترکِ اکل کا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب کسی چیز کے سے آپ نہی کرتے ہیں تو دراصل کس چیز کا حکم دے رہے ہیں آپ؟ دے اب بھی آپ حکم رہے ہیں لیکن کس چیز کا؟ جی، اس چیز کی ضد کا یعنی ترک کا بھئی۔ تو یہاں پر بھی ایا اس کے قریب نہ جاؤ یعنی کس چیز کا حکم دیا جا رہا ہے؟ ترکِ قرب کا، ترکِ قرب کا کہ اس کے قریب نہ جاؤ، ترکِ قرب کا امر ہو رہا ہے یعنی، یعنی وَلَا تَقْرَبَا بمعنی اجتنبا کے ہے۔ اجتنبا، تم دونوں اجتناب کرو، دور رہو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وَلَا تَقْرَبَا کس معنی میں ہوا؟ اجتنبا، تم دونوں دور رہو۔ جی۔ تو یہ بھی امر مولانا کس لیے آیا؟ قرینہ سے خالی ہے اور قرینہ سے خالی امر ہو وہ کس سے آیا کرتا ہے؟ معلوم ہوا یہ امر کس لیے ہے؟ یہ امر بھی وجوب کے لیے تھا، اسی لیے جب اس پر عمل نہیں کی کیا گیا تو کیا کیا گیا؟ حضرت آدم حضرت حوا ع علیہما السلام کو کیا کیا گیا؟ دنیا میں بھیج دیا گیا پھر بھئی۔ وَالصَّحِيحُ مِنَ الْمَذْهَبِ اور صحیح مذہب میں سے یہ ہے، صحیح مذہب یہ ہے کہ أَنَّ مُوجَبَهُ الْوُجُوبُ کہ امر کا مقتضا کیا ہے بھئی؟ وجوب ہے۔ امر کا مقتضا، موجب کا کیا معنی بھئی؟ موجب مقتضا کا ایک معنی ہے۔ امر کا مقتضا، امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ وجوب کا، وجوب کا۔ تو امر کا مقتضا وجوب ہے۔ جی۔ إِلَّا إِذَا، اذا ہے یہاں الف اور ہونا ایک اور ہونا چاہیے۔ إِلَّا إِذَا قَامَ الدَّلِيلُ عَلَى خِلَافِهِ، مگر یہ کہ کوئی دلیل اس کے خلاف قائم ہو جائے مولانا، خلافِ وجوب کے کیا ہو جائے؟ کوئی دلیل قائم ہو جائے۔ بھئی امر مطلق ہو تو کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا، مگر اگر کوئی وجوب کے خلاف دلیل آ گئی تو پھر ہو سکتا ہے وہ کس کے لیے آئے؟ اباحت کے لیے یا ندب کے لیے یا کسی اور چیز کے لیے بھی ہو سو جس چیز کے لیے بھی ہو۔ لِأَنَّ تَرْكَ الْأَمْرِ مَعْصِيَةٌ، جی، یہاں سے دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ یاد رکھو مصنف دو دلیلیں ذکر کریں گے۔ مصنف رحمہ اللہ دو دلیلیں ذکر کریں گے، ایک عرفی دلیل، عرفی دلیل، ایک عقلی دلیل۔ مصنف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ بھئی امرِ مطلق، امر جو ہے کس سے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے بھئی، کس سے آتا ہے؟ وجوب کے لیے۔ تو یہاں عرف کے اندر بھی امر کو کس سے سمجھا جاتا ہے؟ وجوب کے لیے سمجھا جاتا ہے، وجوب کے لیے۔ اور پھر ایک عقلی دلیل دیں گے کہ عقلاً بھی کیا ہے؟ جو امر آئے وہ کس لیے ہوگا؟ وجوب کے لیے ہونا چاہیے۔ دیکھیے مولانا، پہلے عرفی دلیل کہ عرف میں بھی امر وجوب کے لیے سمجھا جاتا ہے، دیکھو، لوگ، لوگوں میں۔ لِأَنَّ تَرْكَ الْأَمْرِ مَعْصِيَةٌ، اس لیے کہ امر کا چھوڑنا کیا ہے؟ بھئی امر وجوب کے لیے آئے گا۔ مصنف کتنی دلیلیں ذکر کریں گے؟ دو، ایک کون سی؟ عرفی، اور دوسری عقلی۔ پہلے نقلی دلیل بھی سن لیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ نقلی۔ نقلی دلیل یعنی نص سے مولانا، قرآن و حدیث سے بھئی، جو منقول ہو منقول ہو، سمجھ میں آیا؟ ایک تو عقل کے ذریعے دلیل بنانا اور ایک جو منقول ہوئی ہے قرآن و حدیث سے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ۔ نہیں ہے کسی مومن مرد کے لیے اور نہ کسی مومن عورت کے لیے إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ جب فیصلہ فرما دیں اللہ اور اس کے رسول أَمْرًا کسی معاملے کا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ کہ ان کے لیے اختیار ہو مِنْ أَمْرِهِمْ ان کے معاملے میں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی مطلب یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، کسی بات کا حکم دے دیں مولانا، تو پھر اس کے بعد کسی مومن عورت مرد اور کسی مومن عورت کو ان کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ معلوم ہوا امر کس لیے آئے جب امرِ الٰہی آ گیا تو کیا آ گیا؟ وجوب آ گیا بھئی، کیونکہ اب ان کو کوئی اختیار نہیں، اور اختیار کس چیز میں نہیں ہوتا بھئی؟ وجوب کے اندر بھئی، ندب وغیرہ اباحت میں تو اختیار باقی رہتا ہے، معلوم ہوا اب اختیار نہیں، جب اختیار نہیں تو وہ کب ہوا کرتا ہے؟ کب اختیار کی نفی کب ہوتی ہے؟ جب امر کو وجوب کے لیے مانا جائے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ امر وجوب کے لیے۔ تو یہ عقلی، یہ نقلی دلیل ہے۔ اب مولانا عرفی دلیل سنیں۔ لِأَنَّ تَرْكَ الْأَمْرِ مَعْصِيَةٌ، اس لیے کہ امر کا ترک کرنا کیا کہلاتا ہے؟ معصیت ہے، امر کا ترک کرنا معصیت ہے، كَمَا أَنَّ الْإِئْتِمَارَ طَاعَةٌ، ائتَمار کا معنی ہے حکم ماننا۔ ائتِمار کا کیا معنی ہے؟ حکم ماننا۔ اس لیے کہ امر کا ترک کرنا معصیت ہے جیسے کہ حکم کا ماننا اطاعت ہے۔ بھئی حکم، عرف کے اندر مولانا، عرفی دلیل ہے بھئی، عرف میں عوام کے اندر کوئی کیا کرے؟ حکم مان لے، تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ اطاعت بھئی کہ اس نے اطاعت کی ہے۔ اور کوئی حکم نہ مانے تو کیا کہا جاتا ہے؟ اس نے معصیت کی ہے، نافرمانی کی ہے۔ نافرمانی کی ہے۔ تو جب امر کو ترک کرنا معصیت کہلاتا ہے، معلوم ہوا امر وجوب کے لیے آتا ہے، ورنہ اس کا ترک معصیت نہ کہلاتا۔ امر کس سے آیا کرتا ہے؟ کیونکہ اس کے ترک کو کیا کہا جاتا ہے؟ معصیت کہا جاتا ہے، نافرمان بھئی، اگر امر وجوب کے لیے نہ ہوتا تو نہ ماننے والے کو کوئی نافرمان کہتا؟ جی؟ کوئی اس کو نافرمان، لیکن یہاں دیکھنا اشعار کے اندر دیکھنا مولانا، امر نہ ماننے والے کو کیا کہا گیا ہے؟ عاصی کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا جو امر کو چھوڑ دے، اس پر عمل نہ کرے، اس کو نافرمان کہتے ہیں۔ معلوم ہوا امر وجوب کے لیے آیا کرتا ہے، اگر امر وجوب کے لیے نہ ہوتا تو امر کو چھوڑنے والے کو کوئی نافرمان نہ کہتا، وہ تو اختیار تھا اس کی مرضی تھی کرے یا نہ کرے۔ قَالَ الْحَمَاسِيُّ، حماسی شاعر کہتا ہے، حماسہ مولانا ایک کتاب ہے اشعار کی آپ پڑھیں گے، یہ سادِسہ میں آپ پڑھیں گے بھئی، اشعار کی کتاب۔ اس میں جنگوں سے متعلق بہادری اور شجاعت سے متعلق اشعار جمع کیے گئے ہیں، اور اس میں تمام شعرا قدیم ہیں، اور ان کا کلام حجت ہے عربی کی زبان کے اندر بھئی۔ بھئی آپ جانتے ہیں نحوی قوانین، عربی زبان کے قوانین وغیرہ کے لیے بطورِ دلیل کو کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ اشعار کو، لیکن یہ اشعار کس کے ہونے چاہئیں؟ قدما کے ہوں، متاخرین کا قول حجت، وہاں سے دیکھ کے کہتے ہیں دیکھو اس پرانے شاعر نے اس لفظ کے ذریعے اس طرح استعمال کیا، معلوم ہوا اس کو اس طرح استعمال کرنا پڑے گا، اس کی وجہ سے نصب آیا ہے، معلوم ہوا اس کی وجہ سے نصب آئے گا، اس کی وجہ سے جر آیا ہے، معلوم ہوا اس کی وجہ سے کیا آئے گا؟ ایک ایک قانون، ایک ایک ضابطہ ان کے ان کے کلام کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ حماسہ کے اندر جتنے اشعار، بھئی وہ یہ ایک کتاب جمع کی ہے، اشعار بہت سے شاعروں کے کلام کو جمع کیا ہے کسی نے، لیکن وہ سارے کیا ہیں؟ قدیم ہیں اور ساروں کا کلام کیا ہے؟ حجت ہے۔ تو جب کہا جائے قَالَ الْحَمَاسِيُّ، یہ معنی نہیں حماسی کوئی خاص آدمی ہے، اس کے اشعار، معنی ہے اس حماسہ کتاب کے اندر آنے والا کوئی بھی شاعر ہو، وہ کیا کہلاتا ہے؟ حماسی کہلاتا ہے۔ یعنی ان شاعروں میں سے کسی ایک نے کہا ہے، اس کا یہ شعر ہے بھئی۔ أَطَعْتِ لِآمِرِيكِ بِصَرْمِ حَبْلِي اطاعت کی ہے تو نے، بھئی شاعر اپنی معشوقہ سے کہہ رہا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، شاعر کی شاعر ہو اور معشوقہ نہ ہو، ایسا بڑا قلیل ہوتا ہے بھئی۔ اچھا، أَطَعْتِ لِآمِرِيكِ، تو نے اطاعت کی ہے بھئی لِآمِرِيكِ، اب آمر کس کو کہتے ہیں؟ حکم دینے والے کو۔ تو آمر، جمع کیا آئے گی؟ جمع مذکر سالم بھئی، آمرون، کیا آئے گی؟ اور اس کو حالتِ نصبی، جری میں لے جاؤ، آمرین، پھر کاف کی طرف اضافت کر دو، آمریکِ، سمجھ میں آیا؟ أَطَعْتِ لِآمِرِيكِ، تو نے اطاعت کی ہے اپنے حکم دینے والوں کی، اپنے جو تجھے حکم دینے والے ہیں، تو نے ان کی کیا کی ہے؟ اطاعت کی ہے بِصَرْمِ حَبْلِي، صرم کا معنی ہے کاٹنا، حبل کہتے ہیں رسی کو۔ حبل کس کو کہتے ہیں؟ تو نے اپنے تو نے اپنے حکم دینے والوں کی اطاعت کی ہے بِصَرْمِ حَبْلِي، میری رسی کاٹنے کے ساتھ۔ میری رسی کاٹنے کے ساتھ۔ یاد رکھو یہ حَبْلِي، حبل مضاف ہے اور یا مضاف الیہ، لیکن درمیان میں ایک اور مضاف محذوف ہے۔ حَبْلِ مَحَبَّتِي بھئی، کیا مراد ہے؟ حبلِ محبت۔ تو نے اپنے حکم دینے والوں کی اطاعت کی ہے میری محبت کی رسی کاٹنے کے ساتھ۔ انہوں نے تجھے میری محبت کی رسی کاٹنے کا حکم دیا اور تو نے ان کی اطاعت کرتے ہوئے میری محبت کی رسی کو کیا کر دیا؟ کاٹ دیا اور مجھ سے تو نے بے وفائی شروع کر دی ہے بھئی۔ مُرِيهِمْ، تو بھی حکم دے ان کو، یہ مونث کا صیغہ، مونث امر ہے بھئی۔ مُرِيهِمْ، تو بھی ان کو حکم دے فِي أَحِبَّتِهِمْ اپنے دوستوں کے بارے میں، احبہ جمع ہے حبیب کی، اپنے ان کے محبوبوں کے بارے میں بِذَاكِ، اسی چیز کی۔ تو بھی ان کو ذرا اسی بات کا حکم دے، انہوں نے تجھے تو کہا کہ تو مجھ سے کیا کر لے؟ اپنے دوست سے محبت کی دوست رسی کو کاٹ لے، محبت ختم کر دے۔ تو بھی ذرا ان تو نے اطاعت کر لی، تو بھی ان کو یہ حکم کر کہ وہ بھی اپنے دوستوں سے کیا کر لیں؟ محبت کی رسی کاٹ دیں، ان سے تعلق ختم کر دیں۔ فَهُمْ إِنْ طَاوَعُوكِ، پس اگر انہوں نے اگر تیری اطاعت کی فَقَاطِعِيهِمْ، تو تو بھی کیا کر؟ ان کی اطاعت کر، فَقَاطِعِيهِمْ امر کا صیغہ آ گیا۔ وَإِنْ عَصَوْكِ اور اگر وہ تیری کیا کرتے ہیں؟ نافرمانی کرتے ہیں، یعنی تو حکم دے اور تو پھر اگر وہ تیری نافرمانی کرتے ہیں فَاعْصِي مَنْ عَصَاكِ، تو تو بھی کیا کر؟ نافرمانی کر جو تیری کیا کرے؟ نافرمانی کرے۔ مفہوم سمجھ میں آیا سب کو؟ تو نے اپنے حکم دینے والوں کی اطاعت کی ہے میری محبت کی رسی کاٹنے کے ساتھ، تو بھی ان کو حکم دے اپنے دوستوں کے بارے میں اسی چیز کا، پس اگر وہ تیری اطاعت کریں تو تو بھی ان کی اطاعت کر اور اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو تو بھی ان کی نافرمانی کر جو تیری نافرمانی کرے۔ تو شعر کا مفہوم یہ ہوا کہ شاعر اپنی معشوقہ سے کہتا ہے کہ تجھے بہت سے لوگ میرے خلاف آ کر ورغلاتے ہیں، میری چغلی کرتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ میرے ساتھ اپنی محبت ختم کر دے۔ تو ان کی باتوں میں آ کر کیا کر دیتی ہے؟ میرے ساتھ اپنے محبت کو ختم کر دیتی ہے، مجھ سے ناراض ہو جاتی ہے۔ لیکن تجھے ان لوگوں کے بارے میں پہلے جانچ لینا چاہیے، یہ لوگ تیرے مخلص نہیں ہیں، یہ صرف شر پھیلانے کے لیے آتے ہیں۔ اگر تو ان کو جانچنا چاہتی ہے تو تو بھی ان کو ایسی بات کا حکم دے کہ یہ بھی اپنے محبوبوں اور معشوقوں سے کیا کر لیں؟ اپنی محبت ختم کر، ختم کر لیں۔ تو تو ان کے کہنے پر جیسے محبت ختم کر لیتی ہے تو ان کو بھی حکم ذرا اس بات کا دے کہ یہ بھی کیا کر لیں؟ اپنی محبتوں کو ختم کر لیں۔ تو تو ان کو حکم دے کر جانچ لے، اگر تو نے ان کو حکم دیا اور انہوں نے تیرے حکم کی تعمیل کر لی تو سمجھنا یہ تیرے کیا ہیں؟ مخلص ہیں، یہ تیرے مخلص ہیں، تو تو بھی ٹھیک ہے انہوں نے تیرے کہنے پر محبت ختم کی تو تیرے لیے بھی اب ٹھیک ہے، ان کے کہنے پر محبت ختم کر لیا، ختم کر لے۔ لیکن اگر یہ تیرے کہنے پر محبت ختم نہیں کرتے تو تجھے بھی ان کے کہنے پر میرے ساتھ اپنی محبت کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ مفہوم سمجھ میں آیا شعر کا بھئی؟ تو شاعر یہ کہہ رہا ہے بھئی۔ تو دیکھا؟ امر پر حکم، عمل کرنے کو کیا قرار دیا؟ اطاعت۔ حکم ماننے کو کیا قرار دیا؟ اطاعت قرار دیا اور آگے بھی فَهُمْ إِنْ طَاوَعُوكِ فَقَاطِعِيهِمْ تو کیا اطاعت قرار دیا۔ اور نافرمانی کو کیا قرار دیا؟ ترکِ امر کو کیا قرار دیا؟ معصیت، وَإِنْ عَصَوْكِ اگر وہ تیری کیا کریں؟ امر کو چھوڑ دیں، اس پر عمل نہ کریں یعنی نافرمانی کریں۔ کیا کریں؟ تو ترکِ امر کو کیا قرار دیا؟ معصیت۔ معلوم ہوا امر وجوب کے لیے آتا ہے، ورنہ ترکِ امر کو معصیت کوئی بھی قرار نہیں دیتا، یہ عرف میں ہے مولانا۔ چلیے بس مولانا۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
123 approved lectures · 49 of 123