ففضل ثم بعد ذلك نوع من الإجماع، وهو عدم القائل بالفصل، وذلك نوعان: أحدهما ما إذا كان منشأ الخلاف في الفصلين واحدا، والثاني ما إذا كان المنشأ مختلفا، والأول حجة والثاني ليس بحجة.
یہاں سے مولانا اجماعِ مرکب کی ایک اور قسم آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی۔
بھئی اجماعِ مرکب کے بارے میں بھی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا، اور اجماعِ غیرِ مرکب کے بارے میں بھی، یہاں سے اجماعِ مرکب کی ایک اور عجیب قسم آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی۔
جی تو کہتے ہیں: "ثم بعد ذلك نوع من الإجماع" پھر اس کے بعد بھئی ایک اور نوع ہے، ایک اور قسم ہے اجماع کی یعنی اجماعِ مرکب کی۔ "وهو عدم القائل بالفصل" اور وہ کیا ہے؟ عدم القائل بالفصل ہے بھئی، عدم القائل بالفصل ہے۔
فصل کا معنی فرق بھئی، فرق۔ یعنی فرق کا قائل نہ ہونا۔ فرق کا قائل نہ ہونا۔
تو یہ بھی اجماع ہے اس لیے کہ فرق کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
بھئی یہ تو ہے معنی بھئی اس کا۔ یہ کسے کہتے ہیں بھئی عدم القائل بالفصل؟ فرق کا قائل نہ ہونا۔ عدم القائل بالفصل اسے کہتے ہیں کہ دو اختلافی مسئلے ہوں بھئی، غور سے سمجھ لو مشکل بات ہے ذرا بھئی، کہ دو اختلافی مسئلے ہوں، تو ایک امام کے نزدیک جب ایک مسئلہ ثابت ہوگا تو ضرور اس کے نزدیک دوسرا مسئلہ بھی ثابت ہوگا۔ اور ایک امام کے نزدیک جب ایک مسئلہ ثابت نہیں ہے تو ضرور اس کے نزدیک دوسرا مسئلہ بھی ثابت نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ کوئی بھی امام اس بات کا قائل نہیں ہے کہ ان میں سے ایک مسئلہ تو ثابت ہو اور دوسرا مسئلہ ثابت نہ ہو، یا ایک مسئلہ تو ثابت نہ ہو اور دوسرا کیا ہو؟ ثابت ہو۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ عدم القائل بالفصل۔ کسے کہتے ہیں بھئی؟ دو اختلافی مسئلے ہوں اور اے تو ایک امام کے نزدیک جب ایک مسئلہ ثابت ہوگا تو اس کے نزدیک دوسرا مسئلہ بھی یقیناً ثابت ہوگا۔ اور جب ایک امام کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت نہیں ہے تو لازمی بات ہے اس کے نزدیک دوسرا مسئلہ بھی ثابت اس لیے کہ دونوں مسئلوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں ہے، کوئی امام ان میں سے ان دو مسئلوں میں فرق کا قائل نہیں ہے بھئی۔ ایک کے نزدیک جب ایک مسئلہ ثابت ہے تو دوسرا بھی ثابت ہے، ایک کے نزدیک جب ایک ثابت نہیں ہے تو دوسرا بھی ثابت تو دونوں میں سے اماموں میں سے کوئی بھی ان میں فرق کا قائل نہیں ہے کہ ایک امام ایک مسئلہ تو ثابت ہو اور دوسرا مسئلہ ثابت نہ ہو۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اسے کہتے ہیں عدم القائل بالفصل۔ معنی سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟ کہ دو اختلافی مسئلوں میں سے ایک مسئلہ جب ایک امام کے نزدیک ثابت ہے تو لازمی بات ہے دوسرا مسئلہ بھی اس کے نزدیک اور جب ایک امام کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت نہیں ہے تو دوسرا مسئلہ بھی ثابت نہیں اس لیے کہ ان میں کوئی فرق کا قائل نہیں کہ ایک مسئلہ تو کسی کے نزدیک ثابت ہو اور دوسرا اس کے نزدیک ثابت نہ ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وذلك نوعان" یہ دو قسم پر ہے، "أحدهما ما إذا كان منشأ الخلاف في الفصلين واحدا" ان میں سے ایک جو ہے جب کہ منشائے اختلاف بھئی، اختلاف کی بنیاد دونوں مسئلوں، "في الفصلين" أي فی المسألتين، جب کہ اختلاف کی بنیاد دونوں مسئلوں میں "واحدا" کیا ہو؟ ایک ہو۔
جب بھئی اختلاف کی بنیاد، کہ اختلاف کی بنیاد دونوں مسئلوں میں ایک ہو، "والثاني ما إذا كان المنشأ مختلفا" اور دوسری صورت یہ کہ جب کہ منشائے اختلاف دونوں مسئلوں میں مختلف ہو۔ منشائے اختلاف کیا ہو دونوں مسئلوں میں؟ مختلف ہو۔
تو دو قسم پر ہوا، جب کہ اختلاف کی بنیاد مولانا، منشائے اختلاف کا کیا معنی؟ اختلاف کی بنیاد۔ جب کہ اختلاف کی بنیاد یا تو اختلاف کی بنیاد دونوں مسئلوں میں ایک ہی اصول، ایک ہی ضابطہ ہوگا یا دو الگ الگ اصول ہوں گے۔
اختلاف کی بنیاد کیا ہوگی بھئی؟ دو مسئلوں کے اندر اختلاف ہیں مولانا، ان دونوں مسئلوں کی، یہ دونوں مسئلے یا تو ایک ہی اصول سے نکلتے ہوں گے یا دو الگ الگ اصولوں سے نکلتے ہوں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ضابطہ ایک ہی ہے، تو اسی ضابطے سے پہلا مسئلہ بھی نکل رہا ہے اور دوسرا مسئلہ بھی، تو جب جس امام کے نزدیک یہ قانون ہے اس کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت ہوا ہے تو لازمی بات ہے پھر دوسرا مسئلہ بھی کیونکہ اس کے نزدیک جب قانون اس طرح ہے اور اس سے ایک مسئلہ ثابت ہو رہا ہے تو اسی قانون سے لازمی بات ہے دوسرا مسئلہ بھی، اور جس امام کے نزدیک یہ قانون مسلم نہیں ہے اور جو اس قانون کو تسلیم نہیں کرتا اس کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت نہیں ہوگا، اور جب ایک نہیں ثابت ہوا تو لازمی بات ہے اس کے ساتھ کہ دوسرا بھی اس کے نزدیک ثابت نہیں کیونکہ وہ بھی تو اسی قانون سے نکل رہا ہے اور یہ قانون تو اس امام کے نزدیک درست نہیں، صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو اختلاف کی بنیاد ایک ہی ہے، دونوں مسئلوں میں اختلاف ہے لیکن اختلاف کی بنیاد کیا ہے؟ یعنی دونوں مسئلے ایک ہی ضابطے سے نکل رہے ہیں، تو جب ایک مسئلے کو ایک امام کے نزدیک ثابت ہے تو لازمی بات ہے پھر دوسرا جو اسی ضابطے سے دوسرا مسئلہ نکل رہا ہے وہ بھی کیا ہوگا؟ ثابت ہوگا۔ اور جس امام کے نزدیک یہ قانون نہیں ہے جو اس اصول کو تسلیم نہیں کرتا تو لازمی بات ہے اس کے نزدیک جب ایک مسئلہ نہیں صحیح تو دوسرا بھی، کیونکہ وہ بھی تو اسی قانون پر مرتب ہو رہا ہے مولانا اور اس قانون کو تو وہ امام تسلیم نہیں کرتے، تو دیکھو منشائے اختلاف ایک ہے، کبھی منشائے اختلاف مختلف ہوگا مولانا دو الگ الگ۔
یعنی ایک مسئلے کی بنیاد تو ایک قانون پر ہوگی اور دوسرے مسئلے کی بنیاد دوسرے قانون پر ہوگی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دوسرے قانون پر ہوگی۔
اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
دو اختلافی مسئلے ہوں تو ان میں سے ایک کسی ایک امام کے نزدیک ثابت ہوگا تو لازمی بات ہے دوسرا مسئلہ بھی ثابت ہوگا، اور اگر ایک مسئلہ کسی ایک امام کے نزدیک ثابت نہیں ہے تو دوسرا مسئلہ بھی ضرور اس کے نزدیک ثابت نہیں ہوگا، پھر بتایا اس کی دو قسمیں ہیں کہ ان دونوں میں اختلاف کی بنیاد یا تو کیا ہوگی؟ ایک ہوگی یا اختلاف کی بنیاد مختلف ہوگی، یعنی دونوں مسئلے یا تو ایک ہی اصول پر متفرع ہوئے ہوں گے یا دونوں مسئلے الگ الگ اصولوں پر متفرع ہوئے ہوں گے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"وذلك نوعان أحدهما ما إذا كان منشأ الخلاف في الفصلين واحدا" اور یہ دو قسم پر ہے، ایک وہ ہے مولانا جس میں اختلاف کی بنیاد دونوں مسئلوں کے اندر ایک ہی ہو یعنی ایک ہی اصول پر دونوں نکل رہے ہوں، "والثاني ما إذا" تو اس ایک ہی اصول کے اندر دونوں کا اختلاف ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ دونوں ایک، اسی اصول پر نکل رہے ہیں، ایک امام کے نزدیک وہ اصول ہے، دوسرے کے نزدیک وہ اصول نہیں۔ "والثاني ما إذا كان المنشأ مختلفا" دوسری صورت یہ کہ جب منشائے اختلاف کیا ہو؟ مختلف ہو، اختلاف کی بنیاد مختلف ہو دونوں مسئلوں میں اس لیے کہ ایک مسئلہ ایک اصول پر مرتب ہو رہا ہے اور دوسرا مسئلہ دوسرے اصول پر مرتب ہو رہا ہے، اور دونوں قوانین ہیں بھئی، تو دونوں ایک امام کے نزدیک دونوں قوانین، دونوں قوانین کو ایک امام ان کا قائل ہے، دوسرا امام ان قوانین کا قائل نہیں ہے۔
"والأول حجة والثاني ليس بحجة" اور اول جو ہے وہ تو حجت ہے، ثانی حجت، یعنی وہ صورت، وہ اجماع جس میں منشائے اختلاف ایک ہی ہو وہ تو حجت ہے، اور وہ اجماع جس میں منشائے اختلاف کیا ہوں؟ الگ، مختلف ہوں، وہ حجت نہیں ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ حجت شرعاً حجت ہے بھئی۔
حجت ہے۔
سمجھ میں آیا؟ اول حجت ہے، ثانی حجت نہیں، اول کونسا بھئی؟ جس میں منشائے اختلاف کیا ہو؟ ایک ہو، یعنی دونوں مسئلے کس پر متفرع ہو رہے ہوں؟ ایک ہی قانون پر، یہ حجت ہے مولانا، اور یہ قسم اجماع کی، اور دوسری قسم حجت نہیں ہے بھئی، وہ جس میں منشائے اختلاف کیا ہو؟ مختلف، یعنی وہ دو اختلافی مسئلے دو الگ الگ اصولوں پر کیا ہو رہے ہیں؟ مرتب ہو رہے ہیں بھئی۔
تو یہ شرعاً حجت نہیں ہے۔
شرعاً حجت نہیں ہے۔
شرعاً حجت اس لیے نہیں مولانا کہ ایک مسئلے کے صحیح ہونے سے، یہ جس میں منشائے اختلاف کیا ہے؟ مختلف ہے، یہ حجی، یہ والی قسم حجت نہیں، کیوں نہیں حجت؟ اس لیے کہ ایک مسئلے کے صحیح ہونے سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ یہ جس اصول پر مرتب ہے وہ اصول بھی صحیح ہے۔ جب یہ مسئلہ صحیح ہے تو یہ جس اصول پر مرتب ہوا معلوم ہوا وہ اصول بھی کیا ہے؟ صحیح ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا مسئلہ بھی صحیح ہو۔
دوسرا مسئلہ بھی صحیح ہو، اس لیے کہ دوسرے مسئلے کی بنیاد تو دوسرے قانون پر ہے، کس پر ہے؟ دوسرے قانون پر ہے، تو ایک مسئلے کے صحیح ہونے سے اس کے قانون کے صحیح ہونے پر تو استدلال کیا جا سکتا ہے مولانا، لیکن ایک مسئلے کے صحیح ہونے سے کسی دوسرے مسئلے کے صحیح ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا جو کسی اور قانون پر مبنی ہو بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
بھئی دیکھو، دو قلم دو بھئی، دو قلم۔
دیکھو بھئی! یہ دو مسئلے ہیں بھئی، یہ دو قلم دیکھ رہے ہو بھئی؟ یہ فرض کرو یہ دو مسئلے ہیں۔ اس مسئلے، ان میں سے یہ جو ایک مسئلہ ہے اس کی بنیاد اس قانون پر ہے مولانا، اور یہ جو دوسرا مسئلہ ہے اس کی بنیاد اس قانون پر ہے، تو جب یہ مسئلہ صحیح ثابت ہو گیا معلوم ہوا اس کی بنیاد جس قانون پر ہے وہ قانون بھی کیا ہے؟ صحیح ہے، لیکن اس، جب یہ صحیح ثابت ہو گیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ دوسرا اصول بھی کیا ہو؟ صحیح ہو، اور اس پر مرتب ہونے والا مسئلہ بھی صحیح ہو، سمجھ میں آیا؟ اس لیے یہ قسم جس میں منشائے اختلاف مختلف ہے یہ حجت، ہاں پہلی قسم حجت ہے، پہلی قسم کیا ہے؟ حجت ہے، اس لیے کہ وہاں جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ مسئلہ صحیح ہے معلوم ہوا کہ یہ قانون کیا ہے؟ صحیح ہے، اور جب قانون صحیح ہے تو اسی قانون پر یہ دوسرا مسئلہ بھی تو کیا ہوا تھا؟ مرتب ہوا تھا، لہٰذا یہ مسئلہ بھی صحیح ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ معنی ہے کہ "والأول حجة والثاني ليس بحجة" اول حجت ہے اور ثانی حجت نہیں ہے۔
سمجھ میں آیا؟ جب دونوں ایک ہی قانون پر مرتب ہو رہے ہیں مسئلے، تو جب امام کے، ایک مسئلے کا قائل ہے تو لازمی بات ہے دوسرا مسئلہ بھی تو اسی قانون پر مرتب ہو رہا ہے وہ یقیناً اس مسئلے کا بھی کیا ہوگا؟ قائل ہوگا، اور اگر ایک امام ایک مسئلے کا قائل نہیں تو لازمی بات ہے کہ وہ دوسرا مسئلہ جو اسی قانون پر مرتب ہو رہا ہے اس کا بھی قائل نہیں ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"مثال الأول" دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی، "مثال الأول فيما خرج العلماء من المسائل الفقهية على أصل واحد" اور پہلے کی مثال جس میں منشائے اختلاف ایک ہی ہو، "فيما" ان مسائل، دیکھیے "ما" ہے، آگے "من المسائل الفقهية" یہ اس کا بیان ہے، "من المسائل الفقهية" کیا ہے اس کا؟ "ما" سے کیا مراد ہے؟ "ما" کس چیز سے عبارت ہے مولانا؟ مسائل فقہیہ سے، آگے خود اس کا بیان آ رہا ہے، تو اس "ما" کی جگہ مسائل فقہیہ اٹھا کر رکھتے ہیں بھئی۔
تو، تو پہلے کی مثال "فيما" ان مسائلِ فقہیہ میں ہوگی "خرج العلماء على أصل واحد" جن کی تخریج کی ہے علماء نے ایک ہی قانون پر۔
پہلے کی مثال کیا ہوگی بھئی؟ میں نے کیا بتلایا بھئی؟ منشائے اختلاف ایک ہو یعنی دونوں مسئلے کیا ہوں؟ ایک ہی قانون پر مرتب ہو رہے ہوں، یہی بات تو کر رہے ہیں کہ وہ ان مسائل، وہ مسائلِ فقہیہ میں اس کی پہلے کی مثال ہوگی جن کی تخریج کی ہے یعنی جن کو نکالا ہے علماء نے "على أصل واحد" کس پر؟ اصلِ واحد، ایک ہی قانون پر نکالا ہے بھئی۔
معنی سمجھ میں آ رہا ہے سب کو بھئی؟
"ونظيره" اور اس کی نظیر بھئی کہ جو علماء نے ایک ہی قانون پر دو مسئلے جو مرتب کیے: "إذا أثبتنا أن النهي عن التصرفات الشرعية يوجب تقريرها، قلنا يصح النذر بالصوم يوم النحر والبيع الفاسد يفيد الملك لعدم القائل بالفصل."
بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا تھا نہی کی بحث کے اندر بھئی، کہ افعال دو قسم پر ہیں، کچھ افعالِ شرعیہ ہیں کچھ افعالِ حسیہ ہیں۔ افعالِ حسیہ وہ افعال ہیں کہ شریع، ورودِ شریعت کے بعد یعنی شریعت کے آنے کے بعد ان کے معنی میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو، اور افعالِ شرعیہ وہ ہیں کہ شریعت نے ان کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی ہو، جیسے روزہ ہے اور بیع ہے بھئی، روزہ بھی افعالِ شرعیہ میں سے ہے، اور بیع بھی افعالِ شرعیہ میں سے ہے بھئی۔ بیع پہلے مطلقاً کسی چیز کا کسی چیز سے مبادلے کو کیا کہتے تھے؟ بیع، لیکن شریعت نے کیا کر دیا کہ نہیں مطلق مبادلہ نہیں ہے بلکہ یہ مال کا کس کے ساتھ مبادلہ ہوگا؟ مال کے ساتھ ہوگا، اور اس کی شرائط وغیرہ ذکر کر دیں کہ ایجاب ہونا چاہیے، قبول ہونا چاہیے، اسی مجلس کے اندر ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ بھئی بڑی شرائط ذکر کیں، تو دیکھا شریعت نے بیع کے معنی میں کیا کر دی؟ تبدیلی پیدا کر دی، تو یہ فعلِ شرعی ہے بیع، اسی طرح روزہ، روزہ الصوم مولانا وہ تو مطلق امساک کو کہتے تھے، رکنا بس، چاہے تھوڑی دیر کے لیے بھی کوئی امساک ہو تو وہ کیا ہے؟ امساک تو پایا گیا، لیکن شریعت نے بتلایا نہیں بھئی، عام امساک نہیں ہے بلکہ کب سے کب تک ہے؟ صبحِ صادق سے لے کر، صبحِ صادق کے شروع ہونے سے لے کر غروبِ آفتاب تک کا زمانہ ہے، اور اس میں تین چیزوں سے رکنا ہے: کھانے سے، پینے سے اور جماع سے، یہ کیا ہے؟ صوم ہے، جی نیت کے ساتھ بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو شریعت نے کئی قیدیں لگا دیں بھئی، تو دیکھا معلوم ہوا صوم یعنی روزہ بھی کیا ہے؟ فعلِ، اور آپ نے ضابطہ پڑھا تھا۔
کہ فعلِ حسی کے اندر اگر نہی آ جائے تو وہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ قبیح لغیرہِ ہو بھئی۔
کیا ہو؟ قبیح لغیرہِ، نہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہے اور نہ وصف کے اعتبار سے مشروع ہے، جبکہ فعلِ شرعی کے اندر جب نہی آ جائے تو ہمارے نزدیک وہ نہی تقاضا کرتی ہے کہ یہ فعل، یہ فعلِ شرعی ذات کے اعتبار سے مشروع ہو، وصف کے اعتبار سے غیرِ مشروع ہو۔
ضابطہ یاد آ رہا ہے کچھ بھئی؟ تو نہ، افعالِ، افعالِ شرعیہ کے اندر جب نہی آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتے ہیں، البتہ وصف کے اعتبار سے غیرِ مشروع ہوتے ہیں، یعنی ذات کے اعتبار سے وہ جائز ہے، وصف کے اعتبار سے جائز، مشروع کا معنی جائز بھئی، ذات کے اعتبار سے جائز، وصف کے اعتبار سے غیرِ جائز بھئی، جائز نہیں ہے بھئی۔
تو لہٰذا
جب ہم یہ ثابت کر دیں کہ نہی جب کیا آ جائے تصرفاتِ شرعیہ کے بارے میں جب نہی آ جائے، تو یہ کیا، کس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ تصرفِ شرعی کیا ہونا چاہیے؟ جائز ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ ذات کے اعتبار سے جائز ہوگا، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں، تو اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ یوم النحر کے روزے کی منت ماننا صحیح ہے۔
قربانی کے دن کے روزے کی منت ماننا صحیح ہے، بھئی حدیث میں یوم النحر کے دن روزے سے کے بارے میں نہی آئی ہے،
حضور علیہ حدیث میں آتا ہے حضور نے منع فرمایا ان ایام میں روزہ رکھنے سے، اس لیے کہ یہ یہ کیا ہیں؟ اللہ کی مہمان نوازی کے دن ہیں، کس چیز کے دن ہیں؟ اللہ اپنے بندوں کی مہمان نوازی فرماتے ہیں، تو اس دن روزہ رکھے گا تو ضیافت اللہ سے اعراض لازم آتا ہے، اس لیے حدیث میں اس سے کیا کیا گیا؟ منع کیا گیا، تو یوم النحر کے دن روزے سے منع کیا گیا، اور روزہ تو کیا ہے؟ فعل شرعی، تو لہذا جب فعل شرعی میں نہی آئے تو وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ مشروع، وصف کے اعتبار سے؟ تو لہذا یوم النحر کے دن روزہ معلوم ہوا ذات کے اعتبار سے جائز ہے لیکن وصف کے اعتبار سے جائز نہیں، وہ اس لیے کہ اس میں کیا آ رہا ہے؟ ضیافت اللہ سے اعراض لازم آ رہا ہے بھئی، اعراض، تو معلوم ہوا یوم النحر کے دن روزہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا، یہ ثابت ہو گیا یا نہیں ہو گیا بھئی؟ یوم النحر کے دن روزہ کیا ہوا؟ ذات کے اعتبار سے مشروع، اور کسی مشروع چیز کی منت ماننا صحیح ہے بھئی، کسی مشروع چیز کی منت ماننا صحیح ہے، لہذا اگر کوئی شخص یوم النحر کے دن روزہ رکھنے کی منت مانے تو اس کی یہ منت کیا ہوگی؟ صحیح، کیوں؟ کیونکہ اس نے مشروع چیز کی منت مانی ہے یا غیر مشروع چیز کی بھئی؟ مشروع چیز کی منت مانی ہے اور مشروع چیز کی منت ماننا تو صحیح ہے، لہذا منت ماننا صحیح ہے، سمجھ میں آیا؟ اور یہ نذر منعقد ہو جائے گی۔
ہاں، البتہ پھر ہم اس کو یہ کہیں گے کہ منت تو منعقد ہو گئی ہے لیکن چونکہ اس دن روزہ رکھو گے تو ضیافت اللہ سے اعراض لازم آئے گا، آپ اگر کام ہو جائے تو روزہ اسی دن نہ رکھو بلکہ روزے کی بعد میں کیا کر لینا؟ قضا کر لینا، نذر منت تمہاری منعقد ہو گئی ہے اور جب تمہارا کام ہو جائے تو روزہ پھر کس دن رکھو؟ بعد میں قضا رکھو، سمجھ میں آیا؟
تو جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ یوم النحر کے روزے کی منت ماننا صحیح ہے، تو یہ بھی ثابت ہوا کہ بیع فاسد مفید للملک ہوتی ہے قبضے کے بعد، یہ بھی ثابت ہو گیا کہ بیع فاسد کیا ہوتی ہے؟ مفید للملک ہوتی ہے قبضے کے بعد، یعنی قبضے کے بعد ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، اس لیے کہ بیع کیا ہے؟ افعال شرعیہ میں سے ہے اور افعال شرعیہ میں جب نہی آ جائے، جب نہی آئے تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، تو لہذا اب مثلاً نہی آئی ہے بیع فاسد سے بھئی، روکا گیا ہے، اب کوئی اس قسم کی بیع کر لیتا ہے، مثلاً کیا کر لیتا ہے؟ کوئی شرط لگا دیتا ہے بیع کے اندر، تو بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد، ایسی شرط لگاتا ہے جس کا تقاضا عقد نہیں کر رہا تو بیع فاسد ہو جائے گی، اور بیع فاسد میں ملکیت حاصل ہوتی ہے قبضے کے بعد بھئی، سمجھ میں آیا؟
تو قبضے کے بعد، لہذا جب بائع وہ مبیعہ مشتری کے حوالے کر دے بیع فاسد میں اور مشتری اس مبیعہ پر قبضہ کر لے تو اب وہ اس کا کیا بن گیا؟ مالک، بھئی عام بیع کے اندر تو ایجاب و قبول کرتے ہی مشتری اس چیز کا مالک بن جاتا ہے، قبضے میں آئی ہو یا قبضے میں، بس ایجاب و قبول کرتے ہی وہ مالک، وہ اولاً، اب بائع اس کا مالک نہ رہا، لیکن بیع فاسد کے اندر چونکہ نہی آئی ہے تو اس میں مالک کب بنے گا؟ قبضے کے بعد بنے گا، قبضے سے پہلے مالک نہیں بنے گا، سمجھ میں آیا؟
تو لہذا جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ یوم النحر کے دن روزے کی منت ماننا صحیح ہے، تو یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ بیع فاسد وہ ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، کیونکہ اس کے اگرچہ اس کے بارے میں نہی آئی ہے کہ اس قسم کی بیع نہ کرو، لیکن یہ فعل شرعی میں نہی آئی، اور فعل شرعی میں نہی آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ مشروع، معلوم ہوا ذات کے اعتبار سے یہ بیع جائز ہے، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں، جب ذات کے اعتبار سے جائز ہے تو یہ ملکیت کا بھی فائدہ دے دے گی، لیکن پھر اس میں کیا ہے؟ ایک تو ملکیت کا فائدہ قبضے کے بعد ہو گا اس میں، اور نیز اس میں دونوں کو کیا کہا جائے گا؟ کہ یہ بیع چونکہ شرعاً فاسد ہے، لہذا تم پر واجب ہے کہ وہ چیزوں کو کیا کرو مبیعہ کو؟ واپس کرو، بیع کو ختم کرو بھئی، نئے सिरे سے بیع کرو اگر کرنی ہے آپ نے بھئی، دونوں پر واجب، لیکن بہرحال اگر وہ مبیعہ پر قبضہ کر لے تو وہ ملکیت کا فائدہ دے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ چونکہ اس اصول کے قائل نہیں، ان کے نزدیک افعال شرعیہ میں نہی آ جائے تو بھی وہ جیسے افعال حسیہ میں نہی آتی ہے تو وہ ذات کے اعتبار سے بھی غیر مشروع ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے بھی، تو اسی طرح افعال شرعیہ میں بھی جب نہی آ جائے تو ان کے نزدیک وہ ذات کے اعتبار سے بھی مشروع نہیں ہوتا اور وصف کے اعتبار سے بھی مشروع، جب وہ ذات کے اعتبار سے مشروع نہ وصف کے اعتبار سے مشروع، جائز ہی نہیں ہے، تو لہذا کسی نے یوم النحر کے دن روزے کی منت مانی تو یہ ایک غیر مشروع چیز کی منت مانی اور غیر مشروع چیز کی منت ماننا تو صحیح ہی، لہذا یہ منت ان کے نزدیک منعقد ہی نہیں ہوگی، اور اسی طرح بیع فاسد کہ جو ہے بیع جو ہے فعل شرعی ہے، اس کے بارے میں نہی آئی ہے تو اور نہی فعل شرعی شرعیہ میں آ جائے تو ان کے نزدیک وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ غیر مشروع ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے بھی غیر مشروع، تو یہ بیع فاسد ذات کے اعتبار سے بھی غیر مشروع اور وصف کے اعتبار سے بھی غیر مشروع، جب یہ غیر مشروع ہے ہر لحاظ سے تو یہ ملکیت کا فائدہ بھی نہیں دے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو ہمارے امام صاحب چونکہ اس ضابطے کے قائل ہیں کہ نہی افعال شرعیہ میں آ جائے تو وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ مشروع ہوتا ہے، لہذا وہ کس چیز کے قائل ہیں؟ کہ یوم النحر کے روزے کی منت صحیح ہے، اور جب اس مسئلے کے وہ قائل ہیں تو دوسرا مسئلہ جو اسی اصول پر مرتب ہو رہا ہے اس کے بھی کیا ہوئے؟ قائل ہوئے، اور وہ کیا؟ کہ بیع فاسد کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ملک کا، اور امام شافعی رحمہ اللہ چونکہ اس اصول کے قائل نہیں ہیں لہذا ان کے نزدیک وہ ان دونوں مسئلوں کے وہ قائل نہیں ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
مثال الاول پہلے کی مثال: ونظيره إذا أثبتنا، جب ہم یہ ثابت کر دیں: أن النهي عن التصرفات الشرعية، کہ نہی تصرفات شرعیہ سے نہی جو ہے: يوجب تقريرها، یہ نہی واجب کرتی ہے تقریرها، ان کے اثبات کو، يوجب أن يثبت، يوجب أن تصرفات شرعیہ سے نہی، يوجب أن يثبت، یہ نہی کیا کرتی ہے؟ ثابت کرتی ہے تقریرها، ان تصرفات شرعیہ کے کس کو؟ اثبات کو ثابت کرتی ہے، کہ وہ کیا ہو جائیں گے؟ ثابت ہو جائیں گے یعنی مشروع ہوں گے، کیا ہوں گے؟ مشروع ہوں گے بھئی، قلنا، جب یہ ہم نے ثابت کر دیا تو ہم کہتے ہیں، ہم کہیں گے: يصح النذر بصوم يوم النحر، صحیح ہے منت ماننا یوم النحر کے روزے کی، والبيع الفاسد يفيد الملك، اور اسی طرح بیع فاسد کس چیز کا فائدہ دے گی؟ ملک، یہ بھی ہم کہیں گے: لعدم القائل بالفصل، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی قائل نہیں ہے، جس امام کے نزدیک ایک مسئلہ ہے تو دوسرا بھی اسی طرح ہے، اور جس امام کے نزدیک ایک مسئلہ نہیں تو دوسرا بھی مسئلہ نہیں، کیونکہ دونوں کی بنیاد ایک ہی اصول پر ہے، ولو قلنا إن التعليق سبب عند وجود الشرط، قلنا تعليق الطلاق والعتاق بالملك وبلسان الملك وبلسان الملك صحيح.
بھئی آپ نے پڑھا تھا ضابطہ، کہ معلق بالشرط سبب بنتا ہے وجود شرط کے وقت، معلق بالشرط حکم کا سبب بنتا ہے وجود شرط کے وقت، بھول گئے ہیں ضابطہ بھئی؟ دیکھیے بھئی، دوبارہ سنو بھئی، ایک شخص ہے اپنی بیوی سے کہتا ہے: إن دخلت الدار فأنت طالق، اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، تو اب دیکھو اس شخص نے طلاق کو معلق کر دیا دخول دار کے ساتھ، کس چیز کے ساتھ معلق کیا طلاق کو؟ دخول دار کے ساتھ معلق کیا ہے، تو اب آپ بتائیے، کیا فی الحال اس عورت کو طلاق ہوگی؟ نہیں، کب ہوگی اسے طلاق؟ جب وہ گھر میں داخل ہو بھئی، تو گھر میں داخل ہو تو پھر اسے طلاق ہوگی، اور یہ طلاق کس وجہ سے ہوئی؟ اس شخص کے اس قول کی وجہ سے: فأنت طالق، فأنت، تو فأنت طالق طلاق کا سبب بنا بھئی، ہمارے نزدیک بھی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی کی وجہ سے طلاق ہو رہی ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ أنت طالق طلاق کا سبب بنتا ہے کب؟ وجود شرط کے وقت، جب شرط پائی جائے، شرط کیا تھی؟ دخول دار، جب دخول دار پایا جائے گا تو یہ أنت طالق سبب بنے گا اور اس سے عورت کو کیا ہو جائے گی؟ اس سے پہلے یہ طلاق کا سبب، اس سے پہلے تو گویا یوں سمجھیں اس کا وجود ہی نہیں ہے، دخول دار ہی کے وقت یہ قول پایا گیا: أنت طالق، اور عورت کو کیا ہو گئی؟ یہ مسئلہ ابھی یاد آیا کچھ بھئی؟ تو دیکھا ہمارے نزدیک معلق بالشرط جو ہوتا ہے، یہاں پر بھئی معلق بالشرط کون کیا ہے؟ طلاق، معلق بالشرط کیا ہے؟ تو معلق بالشرط سبب بنتا ہے حکم کا، کس وقت بنتا ہے؟ وجود شرط کے وقت، بھئی یہ أنت طالق، یہ طلاق کا سبب بنے گا، کس وقت؟ دخول دار کے وقت، اور تو یہ أنت طالق معلق ہے مولانا، کس چیز کے ساتھ معلق ہے؟ دخول دار، تو یہ معلق ہوا مولانا، کیا ہوا؟ یہ معلق بالشرط ہوا، تو یہ معلق بالشرط جو ہے، یہ أنت طالق، یہ طلاق کا سبب بنے گا ہمارے نزدیک کس وقت بنے گا؟ وجود شرط کے وقت، وجود معلق بالشرط طلاق کا سبب بنے گا وجود شرط کے وقت بھئی، جب شرط پائی جائے گی تو أنت طالق کس چیز کا سبب بن جائے گا؟ طلاق، اس سے پہلے نہیں، یہ ضابطہ سمجھ میں آیا؟
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق بالشرط حکم کا سبب بنتا ہے فی الحال، یہ أنت طالق فی الحال ہی طلاق کا سبب بن رہا ہے، تو بھئی پھر یہ طلاق واقع کیوں نہیں ہو رہی فی الحال؟ طلاق ہونی چاہیے، وہ کہتے ہیں مانع موجود ہے، اور وہ مانع کیا ہے؟ عدم شرط، کیا ہے؟ شرط نہیں پائی جا رہی بھئی، یہ تو چاہتا ہے فی الحال طلاق ہو جائے لیکن ایک مانع موجود ہے، اور وہ کیا؟ شرط کا نہ پایا جانا، چونکہ شرط نہیں پائی جا رہی اس لیے فی الحال طلاق بھی، ورنہ فی الحال یہ طلاق کا سبب بن رہا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو ایک شخص نے کہا اپنی بیوی سے، دوبارہ وہ مثال سمجھو: أنت طالق إن دخلت الدار، تو تجھے تو اگر گھر میں داخل ہوئی، فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے کیا ہے؟ طلاق ہے، تو اب آپ بتلائیے، معلق بالشرط یہاں پر کیا ہے؟ أنت طالق ہے، یہ معلق بالشرط ہے، کس چیز کے ساتھ معلق کیا گیا ہے؟ کون سی شرط کے ساتھ؟ دخول دار کے ساتھ، اور یہ کس چیز کا سبب بنے گا؟ طلاق کا سبب بنے گا، اور کس وقت بنے گا؟ شرط کے پائے جانے کے وقت، یعنی دخول دار کے وقت، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ أنت طالق طلاق کا سبب کس وقت بنے گا؟ فی الحال بنے گا، لیکن فی الحال حکم نہیں پایا جائے گا کس وجہ سے؟ مانع موجود ہے اور وہ کیا ہے؟ شرط کا نہ پایا جانا، یعنی ابھی دخول دار نہیں پایا گیا اس لیے یہ طلاق نہیں ہوگی۔
یہ تو تھا اس وقت جب ملکیت پائی جائے، جب ملکیت پائی جائے، اگر ملکیت نہ پائی جائے، ایک شخص ایک عورت سے کہتا ہے یا ایک غلام کو کہتا ہے: إن ملكتك فأنت حر، اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے، تو دیکھو اس غلام کے حریت کو معلق کر رہا ہے کس چیز کے ساتھ؟ اپنے، اپنے مالک ہونے کے، اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے بھئی، اب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فأنت حر فی الحال حریت کا سبب بنتا ہے، کس چیز کا سبب بنتا ہے؟ فی الحال حریت کا سبب بنتا ہے، اور فی الحال تو یہ غلام اس کا ہے ہی نہیں، فی الحال یہ اس کا غلام ہے؟ لہذا یہ تعلیق باطل، یہ تعلیق ہی صحیح نہیں ہے مولانا، اس نے تو فی الحال حریت کا سبب بننا ہے، البتہ مانع کی وجہ سے یہ پایا نہیں جائے گا، لیکن یہاں پر وہ غلام اس کا ہے ہی نہیں، لہذا وہ اس تعلیق کو قبول ہی نہیں کرتا، جبکہ ہمارے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہے بھئی، اس لیے کہ ہمارے نزدیک یہ حریت کا سبب کب بنے گا؟ فأنت حر یہ حریت کا سبب کب بنے گا؟ اس سے غلام کو آزادی کب ملے گی؟ جب شرط پائی جائے گی، اور جب شرط پائی جائے گی اس وقت تو یہ غلام کا کیا ہوگا؟ مالک ہوگا، سمجھ میں آیا؟
تو لہذا عدم ملک کی صورت میں امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تعلیق ہی باطل ہے، تعلیق ہی صحیح، لیکن ہمارے نزدیک عدم ملک کی صورت میں بھی تعلیق صحیح ہوگی، لیکن بشرطیکہ تعلیق کس کے ساتھ کی جائے؟ ملک کے ساتھ یا سبب ملک کے ساتھ، اس چیز کو کس چیز کے ساتھ معلق کیا جائے اس حکم کو؟ ملک کے ساتھ یا سبب ملک کے ساتھ، اور یہاں اس نے غلام کے حریت کو معلق کیا ہے کس چیز کے ساتھ؟ ملک کے ساتھ، اگر میں تیرا مالک بنا پھر تو پھر تو کیا ہے؟ آزاد، تو غلام اس کا اپنا نہیں، یہ عدم ملک ہے، غلام کیا ہے اس کا؟ تو عدم، اور عدم ملک کی صورت میں کس چیز کے ساتھ معلق کرنا ضروری ہے؟ ملک کے ساتھ معلقنا یا سبب ملک کے ساتھ، اور یہاں پر جب اس نے کہا: إن ملكتك فأنت حر، تو حریت کو کس چیز کے ساتھ معلق کر رہا ہے؟ ملک کے ساتھ، اور ملک کے ساتھ تو حریت کو معلق کرنا کیا ہے؟ صحیح ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ صحیح ہے۔
اسی طرح سبب ملک کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح ہے جب مالک نہ ہو، غلام کو یوں کہا: إن اشتريتك فأنت حر، اگر میں نے تجھے خریدا تو تو کیا ہے؟ آزاد ہے، آپ دیکھو حریت کو معلق ملک کے ساتھ نہیں کیا بلکہ سبب ملک کے ساتھ کیا ہے مولانا، بھئی کسی چیز کو خریدا جائے تو انسان اس کا کیا بن جاتا ہے؟ مالک بن جایا کرتا ہے، جب کسی چیز کو خریدے گا تو مالک، معلوم ہوا خریدنا یہ سبب ملک ہے، خریدنا کیا ہے؟ تو آپ یہاں پر اس کے حریت کو معلق کر رہے ہیں ملک کے ساتھ یا سبب ملک کے ساتھ؟ سبب ملک کے ساتھ، تو عدم ملک کی صورت میں بھی ہمارے نزدیک تعلیق صحیح ہوتی ہے بشرطیکہ تعلیق کس کے ساتھ کی جائے؟ ملک کے ساتھ یا سبب ملک کے ساتھ، اور یہاں پر جب اس نے کہا: إن اشتريتك فأنت حر، تو حریت کو کس کے ساتھ معلق کر رہا ہے؟ سبب ملک کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ کیونکہ نکاح سے بھی کیا، نکاح بھی سبب ہے کس چیز کا؟ ملک کا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہذا یہ تعلیق بھی صحیح اور نکاح کرتے ہی اگر اس عورت سے نکاح کرتا ہے تو نکاح کرتے ہی اسے فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
تو لہذا ضابطہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک تعلیق جو ہے وہ سبب بنتی ہے حکم کا۔ تعلیق کیا ہے؟ سبب بنتی ہے حکم کا، کس وقت؟ جب شرط پائی جائے۔ اور اس ضابطے پر یہ مرجع مسئلہ مرتبط ہوتا ہے کہ طلاق کو معلق کرنا ملک کے ساتھ یا سببِ ملک کے ساتھ صحیح ہے۔ ابھی ثابت ہوا یا نہیں؟ کہ عدمِ ملک کی صورت میں طلاق کو معلق کرنا ملک کے ساتھ یا سببِ ملک کے ساتھ صحیح ہے۔ جب طلاق کو ملک یا سببِ ملک کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے تو عتاق یعنی آزادی کو بھی ملک یا سببِ ملک کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہوگا۔ اس لیے کہ ان دونوں میں فرق کا کوئی بھی قائل نہیں۔ کہ نکاح کو تو معلق کرنا ملک یا سببِ ملک کے ساتھ جائز ہو اور آزادی کو ملک یا سببِ ملک کے ساتھ معلق کرنا جائز نہ ہو۔ ان میں دونوں میں فرق کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ دونوں مسئلے امام صاحب دونوں کے قائل ہیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک چونکہ یہ اصول نہیں، وہ اس اصول کو نہیں مانتے لہذا ان کے نزدیک یہ دونوں مسئلے اس طرح نہیں، وہ ان دونوں مسئلے ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جب طلاق کو معلق کرنا صحیح تو عتاق کو معلق کرنا بھی صحیح ملک یا سببِ ملک کے ساتھ۔ اس لیے کہ ان دونوں میں فرق کا کوئی قائل نہیں ہے۔ وَلَوْ قُلْنَا، اگر ہم یہ کہیں کہ إِنَّ التَّعْلِيقَ سَبَبٌ عِنْدَ وَجُودِ الشَّرْطِ، کہ تعلیق سبب بنتی ہے شرط کے پائے جانے کے وقت۔ فَقُلْنَا، ہم کہتے ہیں: تَعْلِيقُ الطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ بِالْمِلْكِ وَبِسَبَبِ الْمِلْكِ صَحِيحٌ، کہ طلاق کو معلق کرنا اور آزادی کو معلق کرنا ملکیت کے ساتھ اور سببِ ملکیت کے ساتھ صحیح ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مسئلہ اولٰی کیا ہے؟ طلاق کو معلق کرنا ملکیت کے ساتھ یا سببِ ملک کے ساتھ۔ اور مسئلہ ثانیہ کیا ہے؟ عتاق آزادی کو معلق کرنا۔ تو جب ایک کی تعلیق صحیح ہے تو دوسرے کی تعلیق بھی صحیح۔ اس لیے کہ ان دونوں میں فرق کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اور جب ایک کی تعلیق صحیح نہیں ہے جیسے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک کی تعلیق صحیح نہیں ہے تو دوسرے کی تعلیق بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ دونوں ایک ہی اصول پر نکلتے ہیں اور وہ اس اصول کو مانتے ہی نہیں، ان کے نزدیک وہ اصول ہی نہیں ہے۔ تو جب ایک مسئلہ ان کے نزدیک ثابت نہیں تو دوسرا مسئلہ بھی ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ اس لیے کہ ان دونوں میں فرق کا کوئی قائل نہیں کہ ایک مسئلہ تو ثابت ہو اور دوسرا مسئلہ ثابت نہ ہو۔ چلیے بس، وهذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔