Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 108
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا آپ نے پڑھا تھا، کچھ اعتراضات ذکر کیے گئے تھے احناف پر کہ آپ نے بعض جگہ کیا کیا ہے، آپ کا ضابطہ ہے کہ حقیقت اور مجاز دونوں جمع نہیں ہو سکتے ایک ہی لفظ سے، لیکن بعض صورتوں میں آپ نے حقیقت اور مجاز دونوں کو کیا کیا ہے؟ جمع کیا ہے اور ان کا جواب بتلایا تھا بھئی۔ جواب ذکر کیا تھا صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں پر جمع بین الحقیقۃ والمجاز نہیں ہے بلکہ یہاں پر کیا ہے؟ عموم مجاز ہے۔ عموم مجاز کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کہ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی لے لینا جو حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو جائے، شامل ہو جائے۔ آج ہم مولانا حقیقت کی انواع پڑھیں گے بھئی۔ بھئی یاد رکھو حقیقت تین قسم پر ہے: ایک متعذره، ایک مہجورة اور ایک مستعملہ۔ حقیقت متعذره وہ ہے جو مولانا جس پر عمل مشکل ہو۔ سمجھ میں آیا؟ محال مولانا نہ کرنا یہاں پر، متعذر کا کیا معنی؟ جس پر عمل کرنا مشکل ہو، مشکل ہو، اس کو کہتے ہیں حقیقت متعذره۔ ایک ہے حقیقت مہجورة، وہ ہے کہ حقیقت پر عمل کرنا مشکل تو نہ ہو لیکن عرف اور عادت میں وہاں حقیقت چھوڑ دی گئی ہو، حقیقت مراد نہ لی جائے اس سے، حقیقت مراد نہیں ہوتی بھئی، شرعاً یا عادتاً بھئی۔ اور تیسری قسم ہے مستعمل، کہ جہاں کیا ہے حقیقت اپنے معنی میں وہ لفظ استعمال ہوتا ہو عرف اور عادت میں، مستعمل بھی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھئے مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی بھئی۔ دیکھو ایک شخص نے قسم اٹھائی بھئی: "واللہ لا آكل من هذه الشجرة"، میں اس درخت سے نہیں کھاؤں گا، واللہ میں اس درخت میں سے نہیں کھاؤں گا۔ اب یہاں اکل شجر، درخت کا کھانا یہاں حقیقت پر عمل کرنا مشکل ہے کیونکہ اکل شجر کا کیا معنی ہے؟ اس کے پتے، اس کے تنے وغیرہ کو کھانا، تو یہاں پر حقیقت کیا ہے؟ اس پر عمل کرنا مشکل ہے، مشکل ہے۔ اور ایک ہے مولانا کہ مشکل تو نہیں لیکن عرف میں وہ معنی متروک ہو مولانا۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے: "واللہ لا اضع قدمي في دار فلان"، واللہ میں فلان کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا۔ اب قدم رکھنے کا تو یہ معنی ہے کہ آپ اس کے گھر میں قدم رکھ دیں، کیا رکھ دیں؟ قدم رکھ دیں اور یہ آسان ہے یا مشکل ہے؟ مثلاً آپ خود باہر کھڑے رہتے ہیں، صرف اپنا پاؤں اندر داخل کر کے اندر پاؤں رکھ دیتے ہیں، تو وضع قدم آیا یا نہیں آیا مولانا؟ لیکن عرف میں یہ استعمال ہے، اس سے یہ مراد لیتے ہیں؟ نہیں، یہ اب آسان ہے عمل کرنا، آپ دروازے میں کھڑے ہوئے، قدم اندر کیا اور اندر رکھ دیا بھئی، لیکن عرف میں یہ حقیقت مہجورہ ہے، اس سے یہ مراد نہیں لیا جاتا بلکہ کیا مراد لیا جاتا ہے؟ داخل ہونا، یعنی میں اس کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ کیا ہے؟ حقیقت مہجورة ہے، حقیقت مہجورة۔ تو پہلی مثال کیا تھی؟ حقیقت متعذره کہ لفظ کا وہاں حقیقی معنی پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری کہ عمل کرنا مشکل تو نہیں، آسان ہے عمل کرنا، لیکن عرف میں حقیقی معنی وہاں پر مراد یعنی مہجور ہوتے ہیں، متروک ہوتے ہیں مولانا۔ اور تیسرا ہے کہ حقیقی معنی میں استعمال ہوتا ہو بھئی وہ لفظ، کیا ہو حقیقی معنی میں؟ تو یہ تین قسمیں ہوئیں بھئی۔ کہتے ہیں: "ثم الحقيقة انواع ثلاثة"، پھر مولانا حقیقت تین قسم پر ہے، کتنی قسم پر ہے؟ یعنی معنی حقیقی یعنی تین قسم پر ہے: "متعذرة"، ایک متعذرہ ہے یعنی جس پر عمل کرنا کیا ہو؟ مشکل ہو، "ومہجورة"، اور دوسری کیا ہے؟ مہجورہ ہے یعنی متروک ہے، اس پر عمل کرنا عرف و عادت اور شرع میں کیا ہے؟ متروک ہے، اس کے حقیقی معنی مراد نہیں لیے جاتا، "ومستعملة"، اور تیسری کیا ہے؟ جو مستعمل ہے حقیقی معنی کے اندر بھئی، حقیقی معنی مراد ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وفي القسمين الأولين يصار الى المجاز بالاتفاق"، اور پہلی دو صورتوں کے اندر جایا جائے گا مجاز کی طرف بالاتفاق بھئی، اس کو کس کی طرف لے جایا جائے گا؟ مجاز کی طرف بالاتفاق، بالاتفاق مجاز کی طرف جائیں گے بھئی، اس لیے کہ مولانا پہلی صورت میں عمل کرنا مشکل ہے، جب مشکل ہے تو آپ اس سے حقیقت مراد نہیں، اور دوسری صورت میں مشکل تو نہیں، آسان تو ہے حقیقت پر عمل لیکن عرف اور عادت میں اور شریعت میں اس سے کیا ہے؟ متروک ہے، حقیقی معنی کیا ہے وہاں پر؟ حقیقی معنی مراد نہیں لیا جاتا، تو جب حقیقی معنی مراد نہیں لیا جاتا یا حقیقی معنی پر عمل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں بالاتفاق کس معنی کی طرف جائیں گے ہم؟ مجازی معنی، اور وہاں پر کون سا معنی مراد لیا جائے گا؟ مجازی معنی مراد لیا جائے گا، اور جب مجازی معنی مراد لے لیے تو پھر حقیقی معنی کا ارادہ وہاں پر صحیح نہیں ہوگا، ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: "وفي القسمين الأولين يصار الى المجاز بالاتفاق"، اور پہلی دو صورتوں میں یعنی پہلی دو قسموں میں یعنی حقیقت متعذرہ اور مہجورہ کے اندر کس کی طرف جایا جائے گا؟ مجاز کی طرف بالاتفاق۔ مثالیں ذکر کریں گے، آپ کو بات پوری سمجھ میں آ جائے گی۔ "ونظير المتعذرة"، متعذرہ کی نظیر ہے: "إذا حلف لا ياكل من هذه الشجرة"، ایک شخص نے جب قسم اٹھائی "لا ياكل من هذه الشجرة" کہ جب اس، کہ وہ اس درخت میں سے نہیں کھائے گا، "او من هذا القدر"، یا وہ اس ہنڈیا میں سے، ایک شخص کہتا ہے: واللہ! میں اس درخت میں سے نہیں کھاؤں گا، یا قسم اٹھاتا ہے: واللہ! میں اس ہنڈیا میں سے نہیں کھاؤں گا۔ اب ایک ہنڈیا کا حقیقی معنی، ایک اس کا مجازی معنی۔ حقیقی معنی کیا؟ عین ہنڈیا، کیا ہے؟ یعنی میں ہنڈیا میں سے نہیں کھاؤں گا، یعنی اس کو کسی صورت میں، یعنی اس کا کوئی ٹکڑا وغیرہ یا ہنڈیا میں سے نہیں کھاؤں گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو عین ہنڈیا کو یعنی نہیں کھاؤں گا، یہ ہے اس کا حقیقی معنی، اور کیا بتائیے عين ہنڈیا کو کھانا آسان ہے یا مشکل ہے؟ مشکل ہے۔ اسی طرح میں اس درخت میں سے نہیں کھاؤں گا یعنی اس درخت کو نہیں کھاؤں گا، تو عين درخت کو کھانا آسان ہے یا مشکل ہے؟ مشکل ہے، تو یہاں حقیقت پر عمل مشکل ہوا، تو لہٰذا بالاتفاق کس کی طرف جائیں گے؟ مجاز کی طرف جائیں گے، اور درخت سے مراد اس کا پھل ہوگا، درخت سے کیا مراد لیا جائے گا؟ یعنی اب اس کا پھل وہ کھا لے گا تو وہ کیا ہو جائے گا؟ حانث، پھل کھانے سے حانث ہو جائے گا، اور یہ پھل جو لیا درخت سے یہ حقیقی معنی ہے یا مجازی معنی؟ مجازی معنی، اور جب مجازی معنی مراد لے لیے تو اب حقیقی معنی مراد نہیں، جب حقیقی معنی مراد اب نہیں لے سکتے تو اب اگر اس نے بتکلف اسی طرح درخت کی تھوڑی سی لکڑی، کوئی چھال وغیرہ یا پتے کھا لیے، تو حانث ہوگا یا حانث نہیں ہوگا؟ اب حانث نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے کیا مراد لے لیا ہے؟ مجازی معنی بالاتفاق مراد لے لیا ہے، اور جب مجازی معنی مراد لے لیا تو حقیقی معنی مراد، لہٰذا اب حقیقت پر عمل کر بھی لے تو بھی حانث نہیں، ہاں پھل کھائے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث، بشرطیکہ وہ درخت پھل دار ہو، وہ درخت کیا ہو؟ اگر درخت ہی پھل دار نہیں ہے تو اس درخت میں سے نہیں کھاؤں گا، کیا معنی؟ یعنی اس کے ثمن نہیں کھاؤں گا، اس درخت کو بیچ دو اور اس کے ثمن آ جائیں تو وہ ثمن میں سے میں کچھ حصہ نہیں کھاؤں گا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ چیز جو درخت سے حاصل ہو رہی ہے، وہ مراد ہوئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چاہے وہ پھل والا ہے تو پھل کی صورت میں يا اگر غیر پھل دار ہے تو مراد اس کی ثمن، یعنی اس کی ثمن میں سے میں کچھ نہیں کھاؤں گا بھئی۔ اسی طرح مولانا ہنڈیا ہے۔ تو ہنڈیا کا ایک حقیقی معنی اور وہ کیا؟ عین ہنڈیا، اور ایک مجازی معنی: وہ چیز جو ہنڈیا میں ہے، سالن وغیرہ یا گوشت وغیرہ۔ اور حقیقی معنی پر یہاں عمل کرنا کیا ہے؟ مشکل ہے، تو کس کی طرف جایا جائے گا؟ مجازی معنی کی طرف، اور جب مجازی معنی کی طرف چلے گئے تو اب حقیقی معنی مراد ہو سکتا ہے؟ نہیں، لہٰذا اب ہنڈیا کے اندر جو چیز ہے وہ مراد ہوئی، اب وہ چیز اگر سالن ہے یا گوشت وغیرہ، آدمی اس کو کھا لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث، تو لیکن اب کوئی بتکلف اس ہنڈیا سے تھوڑا سا ٹکڑا کاٹتا ہے، ٹھیکری کاٹتا ہے، توڑتا ہے اور اس کو کھا لیتا ہے، تو اب آپ کیا حکم لگائیں گے؟ حانث ہوا یا نہیں ہوا؟ نہیں ہوا، کیوں؟ کیونکہ مجازی معنی مراد لے چکے، اب حقیقی معنی مراد نہیں لے۔ "ونظير المتعذرة"، اور متعذرہ کی مثال ہے: "إذا حلف لا ياكل من هذه الشجرة او من هذا القدر"، ایک شخص نے جب قسم اٹھائی "لا ياكل من هذه الشجرة او من هذا القدر" کہ وہ نہیں کھائے گا اس درخت میں سے یا اس ہنڈیا میں سے، "فإن أكل الشجرة أو القدر متعذر"، اس لیے کہ درخت کا کھانا یا ہنڈیا کا کھانا متعذر ہے، وہ کیا ہے؟ مشکل ہے، "فينصرف ذلك إلى ثمرة الشجرة"، تو پھر جائے گی یہ قسم درخت کے پھل کی طرف، کس کی طرف پھر جائے گی؟ یعنی کیا مراد لیا جائے گا؟ درخت کا پھل، "وإلى ما يحل في القدر"، اور اس چیز کی طرف جو نازل ہے، موجود ہے "في القدر" کس میں مولانا؟ ہنڈیا، ہنڈیا میں جو چیز موجود ہے اس کی طرف قسم پھر جائے گی، تو اب عین ہنڈیا کو کھا لے یا عین درخت کو کھا لے تو حانث، "حتى لو أكل من عين الشجرة أو من عين القدر بنوع تکلف لا يحنث"، حتیٰ کہ اگر اس نے کھا لیا عين شجرہ میں سے یا عین قدر میں سے "بنوع تکلف" ایک نوع کے تکلف کے ساتھ "لا يحنث" تو حانث نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہاں حقیقی معنی کا مراد نہیں بالاتفاق۔ "وعلى هذا وقلنا"، اور اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: "إذا حلف لا يشرب من هذه البئر"، جب ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ "واللہ! لا اشرب من هذه البئر"، بئر مونث سماعی ہے، واللہ! میں اس کنویں میں سے نہیں کھاؤں گا، اس کنویں میں سے نہیں پیوں گا۔ اب کنویں سے پینا حقیقی معنی کیا ہے؟ براہِ راست منہ لگا کے پیو، اب ہم کہیں گے یہ کنویں سے پی رہا ہے براہِ راست، اور ایک ہے مجازی معنی کہ کنویں کا پانی نہیں پیوں گا، کنویں میں سے پانی لے کر نہیں پیوں گا، تو یہ آپ چلو کے ذریعے پانی لے لیتے ہیں، اب آپ حقیقۃً کنویں سے پی رہے ہیں یا اپنے چلو سے پی رہے ہیں؟ یا برتن میں لے لیتے ہیں، اب حقیقۃً آپ برتن سے پی رہے ہیں یا کنویں سے پی رہے ہیں؟ لیکن مجازاً یہ کنویں سے ہی پی رہے ہیں کیونکہ یہ پانی آپ نے کہاں سے لیا ہے؟ کنویں سے، تو کنویں سے پینے کا حقیقی معنی ہے براہِ راست منہ لگا کر پانی میں پینا کہ اب آپ کنویں سے پی رہے ہیں، اور ایک اس کا مجازی معنی ہے کہ برتن یا چلو کے ذریعے اس کا پانی لے کر پینا، اور یہاں پر مولانا حقیقت پر عمل کرنا مشکل ہے، یہ حقیقت متعذرہ ہے، کیسے؟ مشکل کیوں نہیں ہے بھئی؟ کنویں کے اندر پانی گہرائی میں ہے، آپ کیسے اتر کے منہ لگائیں گے اس کو؟ مشکل ہے کہ آسان ہے بھئی؟ مشکل ہے، ہاں تو اب یہاں پر پھر کون سا معنی مراد لیا جائے گا؟ مجازی معنی مراد لیں گے کہ میں تو یہ قسم پھر جائے گی کس کی طرف؟ چلو یا برتن کے ساتھ پانی پینے کی طرف، تو اب کوئی چلو میں پانی پیتا ہے یا برتن وغیرہ میں پانی پیتا ہے تو اس کو ہم کیا قرار دیں گے؟ وہ حانث ہو جائے گا، اگر اس نے اس صورت میں پانی پیا تو وہ حانث ہو جائے گا، لیکن اور جب مجازی معنی مراد لے لیے ہیں تو اب حقیقی معنی مراد نہیں، لہٰذا وہ بتکلف کسی طرح نیچے اترتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور جا کر منہ لگا کر پی لیتا ہے الٹا لٹک کے مثلاً، تو اب کیا کہیں گے آپ؟ حانث ہوا یا حانث نہیں ہوا؟ کیونکہ اب مجازی معنی مراد نہیں لیے جائیں گے، سمجھ میں آیا؟ ہاں! اگر کنواں لبا لب بھرا ہو، اوپر تک بھرا ہوا ہے مولانا، اوپر تک، اب مشکل ہے یا آسان ہے؟ پھر یہ حقیقتِ کس کی طرف چلا جائے گا؟ مستعملہ کی طرف چلا جائے گا، سمجھ میں آیا؟ پھر تو لوگ پیتے ہوں، پیتے ہیں، جب لبا لب ایک تالاب یا کنواں بھرا ہو تو اس سے لوگ منہ لگا کر بھی پی لیتے ہیں۔ "يسقط"، جبکہ نیچے ہو پانی۔ "وعلى هذا وقلنا"، اور اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: "إذا حلف لا يشرب من هذه البئر"، جب کسی شخص نے قسم اٹھائی "لا يشرب من هذه البئر" کہ وہ اس کنویں میں سے نہیں پیے گا، "ينصرف ذلك إلى الاغتراف"، تو پھر جائے گی وہ قسم کس کی طرف مولانا؟ اغتراف کہتے ہیں چلو کے ساتھ پینا، چلو کے ساتھ پینے کی طرف یہ قسم پھر جائے گی، "حتى لو فرضنا"، حتیٰ کہ اگر ہم فرض کر لیں "أنه لو كرع بنوع تکلف"، كرع کا معنی ہوتا ہے منہ لگا کر پینا براہِ راست بھئی، كرع کا کیا معنی؟ اور اغتراف کا کیا معنی؟ چلو کے ساتھ، تو یہ قسم پھر جائے گی چلو کے ساتھ پینے کی طرف، "حتى لو فرضنا أنه لو كرع بنوع تکلف"، حتىٰ کہ اگر ہم فرض کر لیں کہ وہ اگر اس نے بتکلف منہ لگا کر پیا، "لو كرع بنوع تکلف"، اگر كرع کا کیا معنی؟ منہ لگا کر، اگر اس نے منہ لگا کر پیا "بنوع تکلف" ایک نوعِ تکلف کے ساتھ "لا يحنث بالاتفاق"، تو بالاتفاق وہ حانث نہیں، کیونکہ ہم مجازی معنی مراد لے چکے، جب مجاز مراد ہوا تو حقیقت مراد نہیں، "ونظير المهجورة"، اور اسی پر مولانا مہجورہ کی نظیر، مولانا! یعنی جس پر عمل تو آسان ہوگا لیکن عرف اور عادت میں اور شریعت میں اس کا حقیقی معنی کیا ہے؟ متروک ہے، مہجور ہے، چھوڑ دیا گیا ہے۔ مہجورہ کی مثال: "لو حلف لا يضع قدمه في دار فلان"، ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ! وہ قسم، کہ وہ قدم نہیں رکھے گا فلان کے گھر میں۔ اب یہاں مولانا قدم رکھنے کا حقیقی معنی کیا ہے؟ صرف قدم رکھا جائے، اور مجازی معنی کیا ہے؟ داخل ہونا، اور یہ حقیقی معنی پر عمل کرنا آسان ہے، کیا ہے؟ لیکن عرف میں متروک ہے، حقیقی معنی کوئی مراد، جب بھی کوئی شخص کہے: میں واللہ اس کے گھر قدم نہیں رکھوں گا، تو کیا معنی مراد لیا جاتا ہے؟ میں اس کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا، لہٰذا اب یہاں مجازی معنی ہی مراد ہوں گے کیونکہ مہجورہ میں بھی بالاتفاق کیا مراد لیے جاتے ہیں؟ مجاز، جب مجازی معنی مراد لے لیے تو حقیقی معنی مراد نہیں، لہٰذا اب اگر وہ اس کے گھر میں داخل ہوگا تو کیا کہیں گے؟ حانث ہوا، لیکن اگر وہ دروازے میں کھڑا ہوتا ہے، پاؤں اندر داخل کرتا ہے اور رکھ دیتا ہے، تو اب اس نے حقیقت پر تو عمل کر دیا، تو کیا حانث ہوگا؟ حانث نہیں، کیونکہ حقیقی معنی متروک ہے، مجاز ہم نے مراد لے لیا تو اب حقیقی معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ "لو حلف لا يضع قدمه في دار فلان"، کہ کسی نے قسم اٹھائی کہ واللہ! وہ قدم نہیں رکھے گا فلان کے گھر میں، "فإن إرادة وضع القدم مهجورة عادة"، اس لیے کہ قدم رکھنے کا ارادہ یہ مہجور ہے شرعاً، "وعلى هذا وقلنا"، اور اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: "التوكيل بنفس الخصومة ينصرف إلى مطلق جواب الخصم"، توکیل بال، ایک ہوتا ہے وکیلِ خصومت مولانا، وکیلِ... بھئی آپ کا کسی شخص کے ساتھ مقدمہ ہے، جھگڑا ہے، تو ایک کسی کو آپ مقرر کرتے ہیں اپنی طرف سے وکیل کہ: میری طرف سے تم اس جھگڑے میں وکیل ہو، کیا ہو؟ وکیل ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وکیلِ خصومت، کیا کہتے ہیں؟ وکیلِ خصومت۔ اور وکیل خصومت کا معنی ہے جھگڑا کرنا، حقیقی معنی کیا ہے؟ جھگڑا کرنا، تو وکیلِ خصومت توکیلِ خصومت کا حقیقی معنی یہ کہ مخالف جو بھی بات کرے تم نے اس کو رد کرنا ہے، کیا کرنا ہے؟ جھگڑا کرنا ہے اس کے ساتھ اس بات میں، وہ چاہے حق کہے تو بھی رد کرنا ہے، وہ چاہے صحیح بات کہے، غلط بات کہے پھر بھی کیا کرنا ہے؟ خصومت کا یہی معنی ہے نا کہ ہر چیز میں کیا کرنا ہے؟ جھگڑا کرنا ہے، ہر چیز میں اس کو رد کرنا ہے، میری طرف لینی ہے اور اس کو کیا کرنا ہے؟ رد کرنا ہے، یہ ہے توکیل بالخصومت کا حقیقی معنی، کیا ہے؟ لیکن یہ توکيل حقیقی معنی اور اس پر عمل کیا ہے؟ آسان بھی ہے، ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ لیکن یہ حقیقی معنی متروک ہے، مہجور ہے، شرعاً بھی اور عرفاً بھی، شریعت میں بھی جھگڑنے سے منع کیا گیا ہے اور عرف و عادت کے اندر بھی جھگڑنے کو پسند، توکیل بالخصومت کا یہ معنی نہیں لیا جاتا عرف میں کہ ہر چیز میں تم نے جھگڑنا ہے بلکہ کسی کو جب آپ وکیلِ خصومت بنائیں تو معنی یہ ہوتا ہے کہ تم میری طرف سے جھگڑے میں وکیل ہو، جو ناحق بات کرے تم نے جواب دینا ہے، ہاں جو حق بات کرے تو اس کو کیا کر لینا؟ قبول کر لینا۔ حق بات کیا کرے؟ قبول کر لینا۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ کسی کو جب وکیل بنا کر آپ کسی معاملے میں بھیجتے ہیں تو کیا وہ ہر بات میں جھگڑا کرتا ہے یا بعض باتیں قبول کرتا ہے بعض کو رد کرتا ہے؟ بات کو قبول کرتا ہے بات کو کیا کرتا ہے؟ رد کرتا ہے، معلوم ہوا توکیل بالخصومت کا حقیقی معنی عرف میں متروک ہے، عرف میں یہ معنی مراد نہیں لیے جاتے کہ ہر بات میں رد و کد کرتے رہو بلکہ عرف میں اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جو ناحق ہو اس کو کیا کرو؟ رد کرو، اور جو حق پر ہو اس کو کیا کر لینا؟ قبول کر لینا۔ جو تم کرو گے مجھے منظور ہوگا تو میری طرف سے کیا ہو؟ وکیل ہو۔ اور شرعاً بھی بولنا جھگڑے سے، تو شرعاً بھی مہجور اور عرفاً بھی کیا ہے؟ لہذا اگر کسی کو توکیل، وکیل بالخصومت بنایا تو جیسے اس کو 'لا' کہنے کی گنجائش ہے، اجازت ہوگی، ہوتی ہے، اسی طرح 'نعم' کہنے کی بھی کیا ہوگی؟ اجازت ہوگی، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں حقیقی معنی آسان تو ہے عمل کرنا لیکن متروک ہے، مہجور ہے جب محجور ہوا تو کون سا معنی مراد لیا جائے گا؟ مجازی معنی، اور وہ کیا ہے؟ کہ حق بات کو قبول بھی کر سکتے ہو، جیسے ناحق کو رد کرنا ہے حق بات کو قبول بھی، مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو؟ وعلى هذا قلنا، اور اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: التوكيل بنفس الخصومة ينصرف إلى مطلق جواب الخصم، کہ توکیل نفسِ خصومت کے ساتھ بھئی نفسِ جھگڑے کے لیے کسی کو وکیل بنانا، یہ پھر جائے گا إلى مطلق جواب الخصم، کس کی طرف؟ خصم کے جواب دینے کی طرف، مطلقا خصم کے جواب کی طرف کیا ہو جائے گا؟ مطلقا جواب دے سکتے ہو، یعنی ناحق میں جیسے نہیں کرو گے، کہو گے، اسی طرح حق بات میں تمہیں کیا کہنے کی گنجائش ہے؟ ہاں کہنے کی بھی گنجائش ہے۔ حتى يسع للوكيل، یہاں تک کہ گنجائش ہو گی وکیل کے لیے أن يجيب بنعم، کہ وہ جواب دے کس کے ساتھ؟ نعم کے ساتھ، كما يسعه أن يجيب بلا، جیسے اس کو گنجائش ہوتی ہے کہ کس کے ساتھ وہ جواب دے؟ ہاں، یعنی جیسے تو اس کے لیے جائز ہو گا وکیل کے لیے کہ وہ نعم کے ساتھ جواب دے، جیسے اس کے لیے جائز ہوتا ہے کس کے ساتھ جواب دینا؟ لا کے ساتھ، لأن التوكيل بنفس الخصومة محظور شرعا وعادة، اس لیے کہ وکیل بنانا نفسِ خصومت کے ساتھ، نفسِ خصومت کے لیے محظور، یہ کیا ہے؟ محظور ہے شرعا بھی، شریعت نے بھی جھگڑے سے منع کیا گیا ہے، اور عادة، عادة بھی کیا ہے؟ محظور ہے۔ یہاں تک تو مثالیں اور بات چل رہی تھی حقیقتِ متعذرہ اور حقیقتِ مہجورہ کی، اور اگر حقیقتِ مستعملہ ہو، یعنی حقیقی معنی بھی عرف و عادت اور شریعت میں استعمال ہوتا ہو اور مجازی معنی بھی ہو، کیا ہو؟ مجازی معنی نہیں ہے، پھر تو پھر تو مراد ہی کیا لیں گے؟ حقیقت، اس کی تو بات ہی چھوڑیں۔ اگر مجازی معنی بھی ہے اور حقیقت بھی کیا ہے؟ حقیقی معنی بھی استعمال ہوتا ہے، اب کیا کریں گے؟ یاد رکھو، پھر یہاں تین صورتیں ہیں۔ حقیقی معنی زیادہ استعمال ہوتا ہو گا اور مجازی معنی کم، دوسری صورت: حقیقی اور مجازی دونوں معنی برابر استعمال ہوتے ہوں گے، یہ تیسری صورت: حقیقی معنی کم استعمال ہو گا اور مجاز زیادہ استعمال ہو گا، کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین۔ حقیقی اور مجازی معنی میں سے دونوں استعمال ہوتے ہیں، لیکن حقیقی معنی زیادہ اور مجازی معنی کم، دوسری صورت: حقیقی معنی اور مجازی معنی دونوں برابر، تیسری صورت: حقیقی معنی کم اور مجازی معنی زیادہ، زیادہ۔ تو یاد رکھو، ان میں سے جو دو صورتیں ہیں، اگر حقیقی معنی زیادہ استعمال ہوتا ہے يا حقیقی معنی مجاز کے برابر استعمال ہوتا ہے، تو اس صورت میں بھی حقیقت اولىٰ ہے بالاتفاق۔ اگر حقیقی معنی زیادہ ہے استعمال اور مجازی معنی کیا ہے؟ کم، تو کیا مراد ہو گی بالاتفاق؟ حقیقت ہی مراد ہو گی، کیونکہ وہ زیادہ استعمال ہے بھئی، اور الحقيقة اولى من المجاز ویسے بھی ہے۔ نیز اگر دونوں برابر ہیں، حقیقی معنی بھی برابر استعمال ہوتا ہے اور مجازی معنی بھی، تو پھر پھر بھی حقیقی معنی اولىٰ، کیونکہ الحقيقة اولى من المجاز، حقیقی معنی مجاز سے اولىٰ ہے۔ تیسری صورت: حقیقی معنی استعمال تو ہے لیکن کم، اور مجازی معنی زیادہ ہے، تو یہ مجازِ متعارف ہے، یعنی مشہور ہے، یہ مجاز کیا ہے؟ حقیقت سے زیادہ مشہور ہے، کیونکہ زیادہ استعمال ہو رہا ہے، تو یہ مجازِ متعارف ہے۔ تو مجازِ متعارف ہو اگر ہے، تو اب اس میں اختلاف ہے۔ اس صورت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمل حقیقت پر کیا جائے گا، کیونکہ الحقيقة اولى من المجاز، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر حقیقت کے لیے کوئی مجازِ متعارف ہو، تو اس صورت میں عمومِ مجاز پر عمل کیا جائے گا۔ کیا صورت ہوئی بھئی؟ یوں سمجھو آسان لفظوں میں جو صاحبِ کتاب بھی بیان کریں گے، میں نے تین صورتیں بتا دیں، صاحبِ کتاب آسان لفظوں میں کہتے ہیں کہ حقیقت کے لیے کوئی مجازِ متعارف ہو گا یا مجازِ متعارف نہیں ہو گا، مجازِ متعارف کا کیا معنی میں نے کیا؟ جو حقیقت سے زیادہ مشہور ہو، تو اگر مجازِ متعارف نہیں ہے، اس میں دو صورتیں آ گئیں، یا تو ہے تو لیکن کم ہے، یا ہے لیکن اس کے برابر ہے۔ اور تو اس صورت میں مولانا بالاتفاق کس پر عمل کیا جائے گا؟ حقیقت پر، کیونکہ الحقيقة اولى من المجاز، لیکن اگر اس کے لیے کوئی مجازِ متعارف ہے، پھر اختلاف ہے۔ اس صورت میں امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کس پہ عمل کیا جائے گا؟ حقیقت پر، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ عمومِ مجاز پر، کس پر؟ عمومِ مجاز پر عمل کیا جائے گا۔ دیکھیے بھئی، متن میں سب باتیں آ رہی ہیں۔ ولو كانت الحقيقة مستعملة، اور اگر حقیقت مستعمل ہوئی، فإن لم يكن لها مجاز متعارف، پس اگر اس کے لیے مجازِ متعارف نہ ہو، فالحقيقة اولى بلا خلاف، تو حقیقت اولىٰ ہے بغیر کسی اختلاف کے، وإن كان لها مجاز متعارف فالحقيقة اولى، اور اگر اس کے لیے کوئی مجازِ متعارف ہے، تو پھر، کہتے ہیں: فالحقيقة اولى عند أبي حنيفة رحمه الله، تو حقیقت اولىٰ ہے کن کے نزدیک؟ امام ابو حنیفہ کے نزدیک، وعندهما العمل بعموم المجاز اولى، اور صاحبین کے نزدیک عمومِ مجاز پر عمل کرنا اولىٰ ہے، مثاله، مثال اس کی: ایک شخص نے قسم اٹھائی: والله لا آكل من هذه الحنطة، واللہ! میں اس گندم میں سے نہیں کھاؤں گا۔ اب حنطہ کا حقیقی معنی بھی استعمال ہے، لوگ عینِ گندم کو بھی کھاتے ہیں بھون کر یا پکا کر، گندم کے دانوں کو بھی کیا کرتے ہیں؟ کھاتے ہیں پکا کر یا بھون کر کھاتے ہیں، اور اس کا مجاز بھی ہے مولانا، کیا؟ آٹا، گندم کو پیس لیتے ہیں اور اس سے بنا کیا بنا کر کھاتے ہیں؟ روٹی، تو وہ روٹی بھی دراصل کس سے بنی ہے؟ گندم سے، تو یہ روٹی کھانا بھی گویا دراصل کس کو کھانا ہے؟ گندم ہی کو کھانا ہے، تو یہ مجازی معنی ہے، کیا ہے؟ مجازی معنی ہوا اس کا۔ تو یہاں پر مولانا حقیقی معنی بھی استعمال ہو رہا ہے، لیکن مجازی معنی زیادہ استعمال ہوتا ہے، بھون کر یا پکا کر زیادہ کھاتے ہیں یا روٹی کی صورت میں زیادہ کھاتے ہیں؟ تو مجازِ متعارف ہے، کیا ہے؟ اور جب حقیقت اور مجاز کے لیے مجازِ متعارف ہو، تو امام صاحب کے نزدیک کس پر عمل اولىٰ؟ حقیقت پر عمل، تو امام صاحب فرماتے ہیں حقیقت اولىٰ ہے، لہذا اب اس نے جو کہا: میں اس گندم سے نہیں کھاؤں گا، اس سے مراد کیا ہے؟ کہ وہ عینِ گندم کھا لے، پھر حانث ہو گا، حقیقت مراد لیں گے، روٹی وغیرہ کھا لے تو حانث نہیں ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، یہاں عمومِ مجاز لو، یعنی کوئی ایسی چیز نہیں کھاؤں گا جو اس گندم پر مشتمل ہو، کوئی ایسی چیز اب یہ معنی عام ہوا، عینِ گندم کو کھا لے، پھر بھی اس نے کس کو کھا لیا؟ گندم کو، اور اگر گندم سے بنی ہوئی کسی چیز کو کھا لے، تو بھی کس کو کھا لیا؟ گندم کو، تو دونوں صورتوں میں وہ فرماتے ہیں حانث ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ عمومِ مجاز لیا جس میں حقیقت بھی داخل ہوئی اور مجاز بھی داخل ہوا، صورت سب کو سمجھ میں آ گئی جی؟ جی۔ مثاله لو حلف لا يأكل من هذه الحنطة، مثال اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گندم میں سے نہیں کھائے گا، ينصرف ذلك إلى عينها، تو پھر جائے گی یہ قسم کس کی طرف امام صاحب کے نزدیک؟ إلى عينها، عینِ گندم کی طرف، عنده، کن کے نزدیک؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، حتى لو أكل من الخبز الحاصل منها، حتی کہ اگر اس نے اس روٹی کو کھا لیا جو حاصل ہو رہی ہے منها اس گندم سے، لا يحنث عنده، تو امام صاحب کے نزدیک حانث نہیں، کیونکہ سچ میں معنی اولىٰ ہے، حقیقی معنی مراد لے لیا اور اب مجازی معنی نہیں لے سکتے۔ وعندهما ينصرف، اور ان کے نزدیک یہ قسم پھر جائے گی إلى ما تتضمنه الحنطة، اس چیز کی طرف جس کو شامل ہو کون؟ جس کو متضمن ہو کون؟ گندم، یعنی جو گندم جس میں گندم آ جائے، چاہے عینِ گندم بھی اس میں آ گئے اور جو اس سے بنی ہوئی چیزیں ہیں، وہ بھی آ گئیں، بطريق عموم المجاز، کس طریقے پر بھئی؟ عمومِ مجاز، جس کو گندم شامل ہو، تو بطریق یہ وہ مراد ہے، عمومِ مجاز کے طریقے پر، فيحنث بأكلها بأكل الخبز الحاصل منها، تو وہ شخص حانث ہو جائے گا گندم کے کھانے سے بھی، ها ضمیر راجع حنطہ کو، وبأكل الخبز، اور اس روٹی کو کھانے سے بھی جو حاصل ہو رہی ہے کس سے؟ اس گندم سے، صورت سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ اسی طرح وكذا لو، ایک شخص کہتا ہے: والله لا أشرب من الفرات، واللہ! میں اس فرات، دریا، نہر سے فرات سے خاص دریا ہے مولانا، سمجھ میں آیا عراق میں، اور مراد یہاں عام دریا ہے، ایک شخص قسم اٹھاتا ہے کوئی متعین دریا کوئی بھی، کہ واللہ! میں اس دریا میں سے نہیں پیوں گا، اب یہ اس کی حقیقت ہے، اور حقیقت کیا ہے؟ منہ لگا کر پینا براہِ راست، اور مجازی معنی کیا ہے اس کا؟ کسی برتن وغیرہ میں لے کر پینا، حقیقی معنی کیا؟ اور مجازی معنی؟ اور یہاں حقیقت مستعمل ہے یا مستعمل نہیں ہے؟ مستعمل ہے، دریاؤں سے عموما لوگ کیا کر لیا کرتے ہیں ساتھ رہنے والے؟ بغیر برتن کے منہ لگا کر ہی کیا کر لیا کرتے ہیں؟ پی لیا کرتے ہیں، تو یہ حقیقت مستعمل، لیکن اس کا مجاز زیادہ متعارف ہے، زیادہ تر کس طرح پیتے ہیں لوگ؟ کسی برتن وغیرہ میں لے جاتے ہیں، اس میں پیتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ برتن میں پیتے ہیں۔ تو اب یہاں پر مولانا اس نے قسم اٹھائی، تو امام صاحب کے نزدیک حقیقت اولىٰ، لہذا براہِ راست منہ لگا کر پیے گا تو پھر حانث ہو گا، اور برتن وغیرہ، جب حقیقت مراد لے لی تو مجازی معنی مراد نہیں لے سکتے، برتن وغیرہ میں پیے گا تو حانث نہیں، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ عمومِ مجاز کے طریقے یہاں لیا جائے گا، اور عمومِ مجاز کیا ہے کہ یعنی میں نے اس دریا کا پانی میں کسی صورت میں نہیں پیوں گا، منہ لگا کر بھی نہیں پیوں گا اور برتن وغیرہ میں بھی، تو اب جس صورت میں بھی وہ پی لے گا، کیا ہو جائے گا؟ حانث، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وكذا لو حلف لا يشرب من الفرات، اسی طرح اگر کسی نے قسم اٹھائی: لا يشرب من الفرات، کہ وہ فرات دریا سے نہیں پیے گا، ينصرف إلى الشرب منها كرعا عنده، تو یہ قسم پھر جائے گی کس چیز کی طرف؟ پینا اس دریا سے كرعا منہ لگا کر، تو منہ لگا کر پینے کی طرف یہ قسم پھر جائے گی عنده امام صاحب کے نزدیک، وعندهما إلى المجاز المتعارف، اور ان کے نزدیک کس طرف پھر جائے گی؟ مجازِ متعارف، وهو شرب مائها بأي طريق كان، اور وہ پینا ہے اس دریا کے پانی کو کسی بھی طریقے سے، کسی بھی طریقے سے، چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 29 of 123