Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 102
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! کل کا سبق سمجھ میں آگیا تھا اچھی طرح؟ تکرار کیا ہے بھئی؟ بھئی تکرار کرو، مشکل مباحث ہیں، نئی آپ کے لیے۔ خوب تکرار کرو، بار بار کرو بھئی تکرار۔ بھئی! گزشتہ سبق میں آپ نے ظاہر کے بارے میں پڑھا۔ وہ ظاہر کس کلام کو کہتے ہیں جس کی مراد ظاہر ہو نفسِ سماع سے ہی بغیر غور و فکر کے۔ اور نص کے بارے میں پڑھا، نص کس کو کہتے ہیں؟ وہ غرض جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو، اور ان دونوں کا حکم کیا ہے کہ ان پر عمل کرنا واجب ہے، البتہ ان میں تخصیص و تاویل کا احتمال ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد پھر آپ نے مفسر کے بارے میں پڑھا بھئی۔ مفسر وہ ہے جس کی مراد لفظوں سے ظاہر ہو ساتھ بیان کے، کس کی جانب سے؟ متکلم کی طرف سے بیان بھی ا جائے اس اور اس طور پر کہ اب اس میں تاویل اور تخصیص کا احتمال نہ رہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ظاہر اور نص کے اندر تخصیص اور تاویل کا احتمال تھا، مفسر کے اندر تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں ہوتا، نہیں ہوتا۔ اور جی اس کی کئی مثالیں گزری تھیں بھئی، وہ سب سمجھ میں آگئیں بھئی اچھی طرح؟ جی، آج ہم محکم کے بارے میں پڑھیں گے۔ اچھا جی! محکم بھی مفسر کی طرح ہے بھئی۔ محکم بھی کیا ہے؟ مفسر کی طرح ہے یعنی جس طرح مفسر میں تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں ہوتا، اسی طرح محکم کے اندر بھی تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں ہے۔ البتہ محکم کے اندر ظہور اس سے بھی زیادہ ہوگا، دیکھیے بھئی بتلا رہے ہیں: "واما المحكم فهو" "فهو" "ما" ہونا چاہیے بھئی۔ کیا "فهو"؟ جی؟ "ما" ہے؟ آپ کی کتابوں میں ہے؟ اچھا! ہونا چاہیے بھئی، ہونا چاہیے، ویسے عبارت نہیں بنتی۔ پس محکم وہ ہے "ما ازداد قوة على المفسر" جو کیا ہے؟ بڑھ جائے قوت کے اندر مفسر پر بھی، جو قوت کے اندر مفسر سے، کیونکہ بھئی محکم کیا ہے؟ ظہور میں سب سے اعلیٰ ہے، تو یہ مفسر سے اعلیٰ ہوا بھئی مفسر سے۔ تو یہ بڑھ گیا، وہ ہے جو بڑھ جائے قوت کے اندر مفسر پر "بحيث لا يجوز خلافه اصلا" کہ اس کے خلاف جائز ہی نہ ہو، "اصلا" ای "قطعا" قطعی طور پر، قطعی طور پر اس کے خلاف جائز ہی نہ ہو مولانا۔ بھئی یاد رکھو، مفسر کس کو کہتے ہیں جس میں بیان ا جائے کس کی جانب سے؟ متکلم کی جانب سے، متکلم کی جانب سے۔ اور یاد رکھو، یہ مفسر اس میں منسوخ ہونے کا بھی احتمال ہوتا ہے، یہ نسخ کے قبول، نسخ کو قبول کر لیتا ہے۔ مفسر کیا ہے؟ نسخ کو یعنی اس میں منسوخ ہونے کا بھی امکان ہے نزولِ وحی کے زمانے تک۔ اس میں منسوخ ہونے کا بھی احتمال ہوتا ہے نزولِ وحی کے زمانے تک۔ جبکہ محکم جو ہے اس میں منسوخ ہونے کا احتمال نہیں ہوتا نزولِ وحی کے زمانے میں بھی۔ جلدی لکھو بھئی۔ مفسر کیا ہے؟ کہ اس میں نسخ قبول کر لیتا ہے۔ وہ نسخ کو قبول کر لیتا ہے یعنی اس میں منسوخ ہونے کا احتمال، وہ منسوخ ہونے کا احتمال رکھتا ہے نزولِ وحی کے زمانے تک۔ بھئی قرآن کے الفاظ کی بحث کر رہے ہیں نا، کس کے؟ قرآن کے۔ تو مفسر کیا ہوا کہ جب تک وحی ہے یعنی حضور علیہ السلام کی زندگی تک اس میں نسخ کو اس کے منسوخ ہونے کی بھی اس میں احتمال ہے، سمجھ میں آیا؟ وحی ا جائے اور اس کو کیا کر دیا جائے؟ منسوخ کر دیا جائے۔ لیکن محکم اس میں منسوخ ہونے کا احتمال نہیں ہوتا مولانا، نزولِ وحی کے زمانے میں بھی اس کے منسوخ ہونے کا احتمال نہیں ہوتا، جیسے آگے مثالیں آ جائیں گی، آپ خود دیکھ لیجیے بھئی۔ اسی بات کی طرف اشارہ کیا کہ "بحيث لا يجوز خلافه اصلا" کہ اس کے خلاف کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں، ممکن نہیں ہوتا، یعنی اس کے خلاف، اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہوتا نزولِ وحی کے زمانے میں بھئی، یہ فرق ہے، سمجھ میں آیا؟ تو متشابہ اور محکم اوہ مفسر اور محکم، یہ دونوں نہ تاویل کا احتمال رکھتے ہیں اور نہ تخصیص کا احتمال، یعنی تغیر و تبدل سے محفوظ ہوتے ہیں، یہ کیا ہیں؟ تغیر و تبدل سے محفوظ ہوتے ہیں۔ اور ہاں! پھر محکم اس سے بڑھا ہوا ہے ظہور میں بایں لحاظ مولانا کہ اس میں نسخ، وہ نسخ کو قبول ہی نہیں کرتا، اس میں منسوخ ہونے کا احتمال ہی نہیں، نزولِ وحی کے، حضور علیہ السلام کی زندگی میں بھی اس کے منسوخ ہونے کا احتمال نہیں، جبکہ مفسر کے منسوخ ہونے کا احتمال ہوتا ہے نزولِ وحی کے۔ "مثاله في الكتاب" مثال دیکھنا بھئی، مثال اس کی کتاب اللہ کے اندر ہے: "ان الله بكل شيء عليم" یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، یہ محکم ہے مولانا محکم۔ اللہ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو ہو چکی ہے یا ہونے والی ہے، دنیا میں ہے، آخرت میں ہے، سب تمام ہر چیز اللہ کے علم میں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ محکم ہے بھئی۔ جیسے اللہ کی ذات تغیر و تبدل سے کیا ہے؟ پاک ہے، منزہ ہے، اسی طرح یہ علم اللہ کی صفت ہے، یہ بھی تغیر و تبدل سے کیا ہے؟ منزہ ہے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کوئی چیز ہو اور علمِ اللہ سے خارج ہو مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں منسوخ ہونے کا احتمال ہے؟ نزولِ وحی کے زمانے میں ہو سکتا ہے اس کے نسخ بھئی؟ نہیں، جو بھی چیز ہے علمِ اللہ میں ہے، تو جیسے ذاتِ باری تعالی میں تغیر و تبدل سے منزہ اور پاک ہے، علمِ اللہ صفتِ اللہ ہے مولانا، یہ بھی کیا ہے تغیر و تبدل سے پاک ہے، اس میں کوئی نسخ ہو نہیں سکتا۔ اور دوسری مثال: "وان الله لا يظلم الناس شيئا" یقیناً اللہ ظلم نہیں کرتے لوگوں پر "شيئا" ذرہ برابر بھی، کچھ بھی، تھوڑا سا بھی۔ اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں فرماتے، یعنی ظلم نہیں کیا جائے گا لوگوں پر کچھ بھی، یعنی ان کے اعمال کے اندر کوئی کمی، زیادی، کوئی کمی نہیں، جس نے جو عمل کیا ہوگا، اسی طرح وہ لے آئے گا بھئی، اللہ لے آئیں گے اس کو قیامت کے دن اس کے سامنے بھئی۔ اب یہاں صفتِ عدل ذکر ہو رہی ہے اللہ کی مولانا، اللہ ظلم نہیں فرماتے، عادل ہیں اور عدل اللہ کی صفت ہے اور صفاتِ اللہ کے اندر کوئی تغیر و تبدل کا امکان نہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ تو یہ محکم ہیں، یہ کیا ہیں؟ محکم ہیں۔ یہ تو قرآن سے بھئی، "وفي الحكميات" اور شرعی احکام کے اندر "ما قلنا" وہ جو ہم نے کہا "في الاقرار" اقرار کے اندر بھئی، پہلے بات گزری نہیں تھی "انه لفلان علي ألف من ثمن هذا العبد" ایک ہزار ہیں اس غلام کے ثمن میں سے۔ اس غلام کے ثمن میں سے، ایک شخص کہتا ہے "لفلان علي ألف" فلاں کے کیا ہیں مجھ پر؟ ایک ہزار ہیں "من ثمن هذا العبد" کس کے بدلے؟ اس غلام کے ثمن میں سے، اس غلام کے بدلے میں بھئی۔ کہتے ہیں: "فان هذا" تو یہ مولانا شرعی احکام میں مثال ہے محکم کی، "فان هذا اللفظ محكم" یہ لفظ کیا ہے؟ محکم ہے، "في لزومه" اس الف کے لازم ہونے میں، ایک ہزار اس پر کیا ہو جائیں گے اس شخص پر؟ لازم ہو جائیں گے "بدلا عنه" اس غلام کے بدلے میں، جب وہ غلام اس کے قبضے میں آ چکا ہے تو اس کے بدلے میں کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہو جائیں گے اس پر، سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر نہیں آیا تو جب قبضے میں آئے گا فوراً اس پر لازم ہو جائیں گے، تو یہ محکم ہے مولانا، کیا ہے؟ محکم ہے، بات سمجھ میں آئی؟ یہاں یہ نسخ کا احتمال نہیں رکھتا مولانا، اب وہ اس سے پھر نہیں سکتا، اپنی بات سے پھر سکتا ہے وہ؟ نہیں بھئی، اس نے ایک دفعہ یہ کلام کہہ دیا، اب وہ انکار نہیں کر سکتا، سمجھ میں آیا بھئی؟ رجوع نہیں، اقرار سے رجوع نہیں ہو سکتا آپ نے پڑھا ہے، یہ کیا کیا اس نے؟ اقرار، اور اس سے اب رجوع نہیں، جب رجوع نہیں ہو سکتا تو اس میں نسخ نہیں ہو سکتا، جب نسخ نہیں ہو سکتا تو یہ کیا ہے؟ محکم ہے، یہ کیا ہے؟ بات سمجھ میں آرہی ہے سب کو بھئی؟ یہ ذرا مشکل بات ہے، اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے مفسر کی بھی یہی مثال ذکر کی اور محکم کی بھی یہی مثال ذکر کی بھئی۔ مفسر حالانکہ محکم تو مفسر سے اعلیٰ ہوتا ہے اور اعلیٰ ادنیٰ سے غیر ہوگا، یہاں تو آپ نے ایک ہی مثال دونوں کے لیے ذکر کر دی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ مفسر کی بھی یہی مثال اور محکم کی بھی یہی مثال، تو جواب اس کا یہ مولانا۔ جواب یہ مولانا کہ بھئی عام شرعی معاملات میں محکم کی مثال مشکل ہے بھئی، کیا ہے؟ مشکل۔ تو یہی محکم کی مثال ہے اور یہی مفسر کی بھی مثال ہے۔ یہ مفسر کی بھی مثال ہے اور یہی محکم کی بھی مثال ہے، تو یہ محکم کے درجے میں ہے۔ تو یہ دراصل ہے تو یہ مفسر مولانا، یہ ہے کیا؟ مفسر، بایں لحاظ کہ اس میں تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں، تاویل، بھئی پہلے تاویل کا احتمال تھا، جب فلاں نے کہا: "لفلان علي ألف" فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار، پتا نہیں یہ ایک ہزار کس چیز کے ہیں، قرضے کے لیے ہیں تاویل کا امکان تھا یا نہیں مولانا؟ یہ اس نے قرضہ لیا ہے یا اس نے کیا کیا ہے؟ غصب کیے ہیں یا کوئی چیز خریدی ہے وغیرہ، کئی احتمال تھے تاویل کا احتمال تھا، لیکن جب بیان اگیا کہ "من ثمن هذا العبد" اس غلام کے ثمن میں سے، اب تاویل کا احتمال ہے؟ تاویل کا احتمال نہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ مفسر ہے بایں لحاظ مولانا، تو یہی مثال مفسر کی بھی ہے اور محکم کی بھی ہے، مفسر بایں لحاظ کہ متکلم نے خود اپنے کلام کی تفسیر کر دی۔ مفسر ہے کس اعتبار سے؟ کہ متکلم نے خود اپنے کلام کی کیا کر دی؟ تفسیر کر دی، احتمال خود ذکر کر دیا کہ کس وجہ سے ہیں مجھ پر اس کے ایک ہزار۔ اور یہی محکم بھی ہے بایں لحاظ کہ اس کا نسخ جائز نہیں، اس میں تغیر اور تبدیلی جائز نہیں، وہ اس سے رجوع نہیں کر سکتا قطعا کسی صورت میں بھئی، کیونکہ اقرار سے رجوع تو جائز ہی نہیں بھئی، ممکن ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ مفسر ہے کس لحاظ سے؟ متکلم نے اس کے تفسیر کر دی، تاویل کا اس میں احتمال نہیں، اور محکم ہے بایں لحاظ کہ اس میں تغیر اور تبدیلی کا امکان نہیں، اس میں نسخ کا امکان نہیں، جیسے محکم میں نسخ کا امکان نہیں، اس کے اندر بھی نسخ کا امکان نہیں، تو یہ محکم ہے تو نہیں لیکن محکم کے درجے میں ہے، کس کے درجے میں ہے؟ محکم کے درجے میں ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی آپ نے کہا، آپ نے کہا "لفلان علي ألف من ثمن هذا العبد" یہ محکم ہے کس اعتبار سے؟ اس میں تغیر اور تبدیلی کا امکان نہیں، اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، اس کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر صرف کوئی یوں کہہ دے "لفلان علي ألف" فلاں کے مجھ پر کیا ہیں؟ ایک ہزار ہیں۔ تو یہ بھی تو نسخ سے یہ بھی تو منسوخ نہیں ہو سکتا، فلاں پر فوراً کیا لازم ہو جائیں گے؟ ایک ہزار ہو جائیں گے، حالانکہ اس نے کہا ہے "من ثمن هذا العبد" جی! تو یہ بھی تو محکم ہو گیا، یہ بھی تو اقرار ہے اور اقرار سے تو رجوع جائز نہیں، تو لہٰذا اس کو بھی اس کو آپ محکم نہیں کہتے اور اس کو محکم کہتے ہیں، حالانکہ صرف یہ کہہ دے "لفلان علي ألف" یہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ محکم ہونا چاہیے، بات سمجھ میں ارہی ہے؟ اعتراض سمجھ میں ارہا ہے؟ یہ بھی تو اقرار ہے، کہتے ہیں: بھئی ہاں، یہ بات ٹھیک ہے آپ کی، یہ بھی بایں لحاظ تو محکم بن جاتا ہے، بنے گا، لیکن اس کو محکم اس لیے نہیں کہا مولانا کہ اس نے جب کہا فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں، رجوع تو نہیں ہو سکتا، ٹھیک ہے، لیکن تاویل کا احتمال ہے یا نہیں مولانا؟ یہ پیسے کس چیز کے ہیں؟ غصب کیے ہیں؟ قرضہ لیا ہے؟ کوئی چیز خریدی ہے؟ کس چیز کے پیسے ہیں؟ تو تاویل کا احتمال ہے اس میں، "لفلان علي ألف" کے اندر کس چیز کا احتمال ہے؟ تاویل کا، اور محکم کے اندر تو تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں ہوتا، اس لیے یہ محکم نہیں کہ اس میں تاویل کا احتمال ہے۔ بات سب کو سمجھ میں اگئی؟ "وعلى هذا نظائره" ای "قس على هذا نظائره" اور اسی پر قیاس کر لو اس کی نظیروں کو، یعنی محکم کی جو نظائر ہیں ان کو اسی پر قیاس کر لو۔ "وحكم المفسر والمحكم لزوم العمل بهما لا محالة" اور مفسر اور محکم کا حکم جو ہے وہ عمل کا لازم ہونا ہے ان دونوں پر "لا محالة" لا قطعی طور پر، "لا محالة" کا کیا معنی ہے؟ قطعی طور پر، ان دونوں پر عمل لازم ہے قطعی طور پر، عمل کیا ہے؟ لازم ہے قطعی طور پر۔ فرق یہ مولانا! عمل چاہے عملِ جوارح ہو، یا عملِ قلب ہو یعنی اعتقاد۔ بھئی دیکھو! نص اور ظاہر کے اندر بھی عمل کرنا واجب تھا، مفسر اور محکم کے اندر بھی عمل کرنا واجب، لیکن فرق یہ تھا کہ وہاں تخصیص اور تاویل کا احتمال تھا، یعنی وہاں اعتقاد، جی! اعتقاد کے اعتبار سے وہ واجب نہیں، ان کا اعتقاد رکھنا واجب نہیں، تو اعتقاد تو عمل کے اعتبار سے تو کیا تھا؟ وہ قطعی، لیکن اعتقاد کے اعتبار سے ظنی تھا، جبکہ یہ عمل کے اعتبار سے بھی کیا ہے؟ قطعی ہے اور اعتقاد کے اعتبار سے بھی کیا ہے؟ قطعی ہے، اعتقاد بھی ہوگا ان کا واجب۔ بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ "ثم لهذه الاربعة اربعة اخرى" پھر ان چار کے مقابلے میں، کے لیے، پھر "ثم لهذه الاربعة اربعة اخرى تقابلها" پھر ان چار کے لیے چار اور ہیں جو ان کے مقابل ہیں مولانا، جی! "فضد الظاهر الخفي" تو ظاہر کی ضد کیا ہے؟ خفی ہے، "وضد النص المشكل" اور نص کی ضد مشکل ہے، "وضد المفسر المجمل" اور مفسر کی ضد کیا ہے؟ مجمل ہے، "وضد المحكم المتشابه" اور محکم کی ضد کیا ہے؟ متشابہ ہے، سمجھ میں آیا؟ یہ خفاء کے اعتبار سے چار قسمیں ا گئیں اور ظہور کے اعتبار سے کیا تھی؟ ظاہر، نص، مفسر، محکم، اور فالخفي ما خفي المراد به بعارض لا من حيث الصيغة. پس خفی وہ ہے جس کی مراد خفی ہو بعارض، کسی عارض کی وجہ سے ہو، امرِ آخر خارجی کی وجہ سے ہو، لا من حيث الصيغة، صیغے کی وجہ سے نہ ہو۔ خفی کس کو کہتے ہیں؟ جس کی مراد کیا ہو؟ سمجھ میں آیا؟ کیا بات ہوئی بھئی؟ خفی کس کو کہتے ہیں؟ جس کی مراد پوشیدہ ہو کس وجہ سے؟ کسی عارض کی وجہ سے، صیغے کی وجہ سے نہیں، معنی تو اس کے صیغے کے اعتبار سے تو اس کا معنی ظاہر ہے لیکن کسی امرِ آخر کی وجہ سے، امرِ خارجی کی وجہ سے اس کی مراد کیا ہو جائے؟ پوشیدہ ہو جائے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اچھا! مثالہ في قوله تعالى، مثال اس کی اللہ کے اس قول کے اندر ہے، والسارق والسارقة فاقطعوا۔ اچھا! اس کا حکم بھی سن لیں بھئی، تین چار سطروں کے بعد آ رہا ہے، وحكم الخفي، مل گیا بھئی؟ اور حکم خفی کا کیا ہے؟ وجوب الطلب، طلب واجب ہے، طلب کا واجب ہونا، حتى يزول عنه الخفاء، یہاں تک کہ اس سے خفا کیا ہو جائے؟ زائل ہو جائے۔ بھئی خفی اس کو کہتے ہیں جس کے اندر خفا آئے گا، پوشیدہ ہوگی مراد کسی امرِ خارجی کی وجہ سے، کسی عارض کی وجہ سے، صیغے کی وجہ سے مراد پوشیدہ نہیں بلکہ کسی امرِ خارجی کی وجہ سے مراد پوشیدہ ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟ اس کے اندر کیا کی جائے گی؟ طلب، طلب کی جائے گی یہاں تک کہ وہ خفا کیا ہو جائے؟ زائل ہو جائے، حکم بھی معلوم ہو گیا، تعریف بھی معلوم ہو گئی۔ اب دیکھیے، مثالہ في قوله تعالى، مثال اس کی اللہ کے اس قول میں ہے، والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما، چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت پس کاٹ دو ان کے ہاتھ بھئی، ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، فإنه ظاهر في حق السارق، یہ آیت کیا ہے مولانا؟ یہ کلام اللہ، یہ قول اللہ ظاہر ہے مولانا سارق کے حق میں، خفي في حق طرار والنباش، طرار کہتے ہیں جیب کترے کو مولانا، نباش کس کو کہتے ہیں؟ کفن چور بھئی، کفن چور، طرار کہتے ہیں جیب کترا اور نباش کہتے ہیں کفن چور مولانا۔ اب دیکھیے مولانا! اس آیت میں حکم بیان ہوا، چوری کرنے والے کا حکم بیان ہوا کہ اس کا کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اب کوئی شخص چوری کرتا ہے، دس درہم سے زائد کی کرتا ہے تو اس کا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، چوری کرنے والے کے بارے میں تو یہ آیت ظاہر ہے مولانا، کسی قسم کا خفا نہیں، لیکن طرار اور نباش، جیب کترے اور کفن چور کے بارے میں یہ آیت خفی ہے۔ کیا ہے؟ خفی ہے، اور صیغے کی وجہ سے نہیں، کیونکہ صیغہ تو طرار اور یعنی صیغے طرار اور نباش جو ہے، ان کے صیغے میں کوئی ابہام ہے؟ ان کا معنی تو ظاہر ہے، طرار اور نباش کا معنی، طرار کس کو کہتے ہیں؟ جیب کترا، نباش کس کو کہتے ہیں؟ کفن چور، تو معنی تو ان کا ہمیں معلوم ہے تو صیغے کی وجہ سے مولانا ان میں خفا نہیں، البتہ خفا کس وجہ سے ہے کہ ان کا نام الگ ہے، خفا کس وجہ سے ہے؟ ان کا نام الگ ہے بھئی، ان کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں کاٹا جائے گا؟ اب آیت ان کے بارے میں خفی ہے، آیت ان کے بارے میں خفی ہے بھئی، چوری کرنے والے کا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، طرار کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ نباش کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس بارے میں کیا ہے؟ خفی ہے آیت، کیوں؟ خفی کیوں ہے؟ صیغے کی وجہ سے؟ نہیں صیغہ تو ان کا ظاہر ہے، طرار کا معنی بھی صیغے سے ہی معلوم اور نباش کا معنی بھی صیغے سے معلوم، البتہ امرِ خارجی کی وجہ سے اور وہ امرِ خارجی کیا ہے، وہ عارض کیا ہے کہ ان کا نام الگ ہے بھئی، ان کو کوئی سارق نہیں کہتا۔ اور قرآن میں تو کس کا حکم بیان ہو رہا ہے؟ سارق کا حکم اور ان کو تو کوئی بھی سارق نہیں کہتا، اس کا الگ نام ہے باقاعدہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جیب کترے کو کوئی چور کہتا ہے؟ جی؟ آپ بھی کسی کو آ کر بتلاتے ہیں فلاں جگہ بھئی ایک جیب کترا پکڑا گیا، اس کی بڑی زبردست پٹائی ہوئی، تو آپ کبھی کوئی یہ آ کر کہتا ہے چور پکڑا گیا؟ جی؟ کوئی بھی یہ آ کر نہیں کہتا، تو ان کا نام الگ ہے، عارض کیا آ گیا بھئی ان کا؟ معنی تو معلوم ہے ان کا لیکن ان کا نام، ان کو سارق کوئی نہیں کہتا، نام الگ ہے، یہ عارض ہے مولانا۔ اب اس کا حکم کیا ہے مولانا؟ جی؟ یہ خفی ہوئی ان کے حق میں آیت، تو اس کا کیا حکم ہے خفی کا؟ کہ اس کے اندر کیا کی جائے گی؟ طلب کی جائے گی کہ تاکہ وہ خفا کیا ہو جائے؟ دور ہو جائے، تو اب ہم ان کے معنی کے اندر غور کریں گے کہ ان میں سرقہ کا معنی کم پایا جاتا ہے یا زیادہ؟ سرقہ کا معنی کم پایا جاتا ہے یا زیادہ؟ تو سرقہ کا کیا معنی ہے؟ سرقہ کس کو کہتے ہیں؟ چوری، کیا چوری کا کیا معنی؟ کسی کا، غیر کا مالِ محترم محفوظ لے لینا خفیہ طور پر، چوری کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کسی غیر کا مالِ محترم یعنی جو قیمت والا ہے اور محفوظ ہے اور لے لینا اس کو کس طریقے پر؟ خفیہ طور پر بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایک شخص ہے اس نے گھر میں دینار رکھے ہوئے ہیں اور رات کو سویا ہے، اب دیکھیے یہ مال اس کا ہے اور تو ایک چور آتا ہے خاموشی سے وہ چیز اٹھا کر لے جاتا ہے، یہ سرقہ ہے، دیکھو اس نے کیا کیا؟ جی؟ خفتہً آ کر اٹھایا پہلی بات، اچھا، اچھا یہ مال کس کا تھا؟ اس چور کا ہے یا غیر کا ہے؟ غیر کا مال اٹھایا اور محترم ہے یعنی قیمت والا ہے، اس کی قیمت ہے اور تیسرا کیا ہے؟ محفوظ ہے، بیچارے نے حفاظت سے رکھے ہیں اپنے گھر کے اندر بھئی، اور اس نے کیسے اٹھایا؟ خفیہ طور پر اٹھایا، تو اس کو کہتے ہیں چوری کہ غیر کے مالِ محترم محفوظ کو خفیہً لے لینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ سرقہ، سمجھ میں آیا؟ ہم طلب کر رہے ہیں بھئی خفا تاکہ دور ہو جائے، طلب کر رہے ہیں بھئی ان کے معنی کے اندر غور کر رہے ہیں بھئی، اور پھر اب ہم دیکھیں گے کہ یہ چوری والا معنی، یہ طرار اور نباش میں پایا جاتا ہے یا پایا نہیں جاتا؟ پایا جاتا ہے تو کم پایا جاتا ہے یا زیادہ پایا جاتا ہے؟ ہم نے غور کیا تو طرار کے اندر چوری کے معنی زائد ہوا بھئی، چوری کے معنی میں زیادتی پائی گئی اور نباش کے حق میں چوری کے معنی میں کمی پائی گئی۔ طرار کے حق میں چوری کے معنی میں زیادتی اس لیے مولانا کہ دیکھو چور تو آتا ہے، وہ بھی کیا کرتا ہے؟ یہ نباش بھی کیا کرتا ہے؟ غیر کا مال لیتا ہے اور کس طرح لیتا ہے؟ مالِ محترم کو لیتا ہے اور وہ مال کیا ہوتا ہے؟ محفوظ ہوتا ہے، بھئی آدمی نے اپنی جیب میں رکھی ہوئی چیز محفوظ ہے یا نہیں مولانا؟ چیز کس لیے رکھی جاتی ہے جیب کے اندر؟ حفاظت کے لیے تو رکھی جاتی ہے، تو مسافر ہے بیچارہ تو اس کے پاس تو اور کوئی جگہ ہی نہیں ہے رکھنے کی یا کہیں جا رہا ہے تو اس کی جیب حفاظت کے لیے سب سے اچھی جگہ اس کے پاس وہی ہے، تو جیب میں حفاظت کے لیے رکھی ہوئی ہے اور یہ خفیہً بھی لے کر جاتا ہے، کس طریقے پر لے کر جاتا ہے؟ خفیہً، تو اس میں سرقہ کا معنی پایا جا رہا ہے لیکن زائد ہے مولانا اس سرقہ سے بھی، اس لیے کہ سرقہ کے اندر کیا تھا؟ وہ دوسرا شخص غفلت میں تھا، سویا ہوا تھا یا ادھر ادھر تھا، اس کی غفلت کے اندر وہ چیز لے جاتا ہے، جبکہ یہاں نباش تو دوسرے کی بیداری کے اندر اس کی جیب سے کاٹ کر لے جاتا ہے، تو اس کے اندر کیا ہوا؟ سرقہ کے معنی میں زیادتی پائی گئی، اور جب سارق کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو جس میں سرقہ کا معنی زیادہ پایا جائے تو ادنیٰ کا جب ہاتھ کاٹا گیا تو اعلیٰ کا ہاتھ بطریقِ اولیٰ کاٹا جائے گا، لہٰذا طرار کا بھی اگر دس درہم کا کر لیتا ہے، جیب کاٹ لیتا ہے تو کیا کیا جائے گا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور نباش، نباش کے معنی میں غور کیا تو سرقہ کے معنی میں کمی پائی گئی، وہ کس طرح؟ کہ نباش آتا ہے، وہ کفن چرا رہا ہے، اب یہاں بھی کیا کر رہا ہے؟ دوسرے کے مال کو لے کر جا رہا ہے مولانا، خفیہ طور پر لے کر جا رہا ہے، محترم کو لے کر جا رہا ہے لیکن یہ مال محفوظ نہیں، اس لیے کہ مردہ تو حفاظت نہیں کر سکتا، مردہ تو حفاظت نہیں کر سکتا، تو یہ مال ذو الید کا ہے، محترم ہے اور خفیہً لے کر جا رہا ہے لیکن وہ مالِ محفوظ نہیں، دیکھو طرار ان کے اندر سرقہ کے معنی کی زیادتی تھی کہ سارق تو غفلت میں مال لے کر جاتا ہے اور طرار تو بیداری کی حالت میں کیا کر لیتا ہے مال کو لے جاتا ہے جبکہ وہ شخص غافل بھی نہیں ہوتا بھئی، اور نباش، نباش کے اندر تو غفلت جو کفن لے کر جا رہا ہے، سویا ہوا ہے اس میں تو غفلت کا ادنیٰ درجہ ہے اور جو مرا ہے اس میں تو غفلت کا اعلیٰ درجہ پایا گیا، وہ تو کسی طرح بیدار ہی نہیں ہو سکتا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہاں غفلت کا اعلیٰ درجہ پایا گیا لہٰذا سرقہ کا، ہے تو سرقہ لیکن کم درجے کا ہے، کس درجے کا ہے؟ محفوظ نہیں مولانا، غفلت کا اعلیٰ درجہ پایا گیا وہ بیدار ہی نہیں ہو سکتا تو مال محفوظ نہیں مولانا، تو اب سرقہ کا معنی کم پایا گیا یا زیادہ پایا گیا؟ کم پایا گیا تو شبہ آ گیا، کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے الحدود تندرئ بالشبهات، شبہات سے حدود کیا ہو جایا کرتی ہیں؟ ساقط، اور ہاتھ کاٹنا بھی حد ہے چور کی، چور کا ہاتھ کاٹنا بھی حد ہے تو اب شبہ کی وجہ سے یہ حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ بات سب کو سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے، والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما، چوری کرنے والے مرد اور عورت ہیں ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، فإنه ظاهر في حق السارق، یہ آیت ظاہر ہے سارق کے حق میں، وخفي في حق الطرار والنباش، طرار اور نباش کے حق میں یہ آیت کیا ہے؟ خفی ہے، خفی کیوں ہے مولانا؟ کیونکہ ان کا نام الگ ہے، کوئی ان کو سارق نہیں، تو پھر ہم طلب کریں گے، ان کے معنی میں غور کریں گے کہ ان کے معنی میں سرقہ کا معنی کم پایا جاتا ہے یا زیادہ؟ ہم نے غور کیا تو طرار کے اندر کیا ہے؟ سرقہ کے معنی کی زیادتی ہے، کیونکہ وہ تو، چور تو غفلت میں لے کے جاتا ہے اور یہ تو بیداری میں لے کر جا رہا ہے تو لہٰذا اس کا، اس میں جب معنی زائد ہے تو اس کا ہاتھ بطریقِ اولیٰ کاٹا جائے گا، اور نباش کے اندر معنی کیا ہے؟ سرقہ کے معنی کی کمی ہے، کیونکہ چور تو غفلت میں، چور تو کیا ہے مالِ محفوظ، چوری کس کو کہتے ہیں جس میں مالِ محفوظ کو لے جایا جائے، اور یہ تو کیا ہے مالِ محفوظ ہی نہیں، لہٰذا اس کا ہاتھ، شبہ آ گیا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔ وكذلك قوله تعالى، اور اسی طرح اللہ کا یہ قول، الزانية والزاني، زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد، فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة، ان میں سے ہر ایک کو کتنے کوڑے لگاؤ؟ سو، تو یہ آیت ظاہر في حق الزاني، زانی کے حق میں تو یہ آیت ظاہر ہے، خفي في حق اللوطي، یہ خفی ہے کس کے حق میں؟ لوطی، لواطت کرنے والا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جو لواطت کرنے والا ہے اس کے حق میں خفی ہے، بھئی زنا کرنے والے کے بارے میں تو یہ ظاہر ہے مولانا، جو بھی زنا کرے گا کیا کیا جائے گا؟ غیر شادی شدہ ہے تو کیا کیے جائیں گے ان کو سو کوڑے لگائے جائیں گے، لیکن لواطت کرنے والا اس کے حق میں خفی ہے، اس کے حق میں کیا ہے؟ کہ اس پر بھی یہ حد جاری ہوگی یا حد جاری نہیں ہوگی؟ کیونکہ زنا کس کو کہتے ہیں مولانا؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، محلِ حرام میں کیا کرنا؟ وطی کرنا، اور یہی معنی کس میں پایا جا رہا ہے؟ لواطت میں بھی پایا جا رہا ہے، وہاں پر بھی وطی کہاں ہے؟ محلِ حرام کے اندر ہے، اب اس پر یہ حکم جاری ہوگا، اس کو کوڑے لگائے جائیں گے یا نہیں مولانا؟ تو اب یہ آیت زانی کے بارے میں تو ظاہر ہے لیکن لوطی کے بارے میں کیا ہے؟ خفی ہے، اب طلب کی جائے گی، اس کا حکم یہ ہے طلب کی جائے گی یہاں تک کہ اس کا خفا کیا ہو جائے؟ دور ہو جائے، چنانچہ غور کیا مولانا، امام ابو حنیفہ یہاں پھر اختلاف ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوطی کے اندر کمی ہے، کیا ہے؟ کمی ہے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ زنا کا کیا معنی تھا؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، اس معنی کی کمی ہے لوطی کے اندر، اور جب کمی آ گئی تو شبہ آ گیا اور شبہ کی وجہ سے حد کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ساقط ہو جایا کرتی ہے بھئی۔ کمی کس طرح ہے؟ کہ زنا کے اندر شہوت جانبین سے ہوتی ہے جبکہ لواطت میں شہوت جانبین سے نہیں ہوتی، فاعل کی طرف سے تو شہوت ہوگی، مفعول کی طرف سے شہوت نہیں ہوگی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس میں کیا ہے؟ شہوت جانبین سے نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ جی؟ فاعل کی طرف سے شہوت ہے مفعول کی طرف سے شہوت نہیں، اور زنا کے اندر شہوت کیا ہوتی ہے جانبین سے، تو یہاں پر مولانا اس معنی زنا کے معنی کی کمی پائی گئی یا زیادتی پائی گئی؟ کمی پائی گئی، جب کمی پائی گئی تو شبہ آ گیا اور شبہ کی وجہ سے حد کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ساقط ہو جایا کرتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں پر اس معنی کی زیادتی پائی جا رہی ہے اور جب زنا کے اندر کیا کیا جاتا ہے سو کوڑے لگائے جاتے ہیں وہاں حد ہے تو اس سے اعلیٰ کے اندر کیا ہے؟ بطریقِ اولیٰ کیا جاری کی جائے گی؟ حد جاری کی جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حد جاری، وہ کہتے ہیں اس کے اندر اس معنی کی زیادتی اس طرح، بھئی زنا کس کو کہتے ہیں؟ محلِ حرام میں وطی کرنا اور لواطت بھی کس کو لواطت میں بھی کیا ہوتی ہے؟ محلِ حرام کے اندر وطی، لیکن اس میں حرمت اس سے بڑھ کر ہے، کس اعتبار سے؟ کہ وہ زنا کا محل کبھی کبھی نکاح کی وجہ سے حلال بھی ہو جایا کرتا ہے، نکاح کی وجہ سے حلال ہو جاتا ہے یا نہیں ہو جاتا؟ جبکہ یہ جبکہ لواطت میں یہ محل تو اس کے تو حلال ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کے اندر اس معنی کی زیادتی آ گئی، لہٰذا اب جب ادنیٰ پر حد جاری کی تو اعلیٰ پر بطریقِ اولیٰ کیا ہوگی؟ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا! وكذلك قوله تعالى الزانية والزاني ظاہر في حق، یہ آیت ظاہر ہے زانی کے حق میں، خفي في حق اللوطي بھئی، لوطی کے حق میں خفی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو بھئی کیا ہوا اس میں اختلاف کیا ہوا؟ زنا کس کو کہتے ہیں محلِ حرام میں وطی کرنا اور لواطت میں بھی کیا ہے محلِ حرام میں وطی کرنا، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لواطت کے اندر یہ کیا ہے؟ معنی میں کمی پائی گئی، کمی اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ محلِ شہوت نہیں ہے اور شہوت جانبین سے نہیں ہوتی تو کمی آ گئی، شبہ آ گیا، شبہ کی وجہ سے حد کیا ہوئی؟ ساقط، صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ یہاں پر زیادتی پائی جا رہی ہے معنی کے اندر، اس لیے کہ زنا کے اندر وہ اس محل کے حالات اس محل کے نکاح کی صورت میں حلال ہونے کی بھی صورت ہوتی ہے بعض اوقات، لیکن یہاں پر تو اس کے حلال ہونے اور جائز ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں، تو لہٰذا یہاں حرمت اس سے بڑھ کر ہے، تو لہٰذا اس صورت میں، چلیے مولانا ھذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 39 of 123