Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 112
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل مولانا آپ نے پڑھا تھا ظاہر اور نص کا حکم بھئی۔ صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ ظاہر اور نص جو ہے، ان پر عمل کرنا واجب ہے، واجب ہے چاہے عام ہوں یا خاص ہوں۔ البتہ ان میں غیر کا ارادہ، غیر کے ارادے کا بھی احتمال ہو گا، یعنی تخصیص اور تاویل کا بھی احتمال ہو گا، کیونکہ عام کے اندر تخصیص کا احتمال ہو گا اور خاص کے اندر تاویل کا احتمال ہو گا، اور یہ اسی طرح ہے جیسے مجاز حقیقت کے ساتھ ہوتا ہے کہ حقیقت کے اندر کس کا احتمال ہوتا ہے؟ مجاز کا احتمال ہوتا ہے۔ جی، اور آپ کو بتلایا تھا کہ ان دونوں کے درمیان بھئی ظاہر اور نص کے درمیان مقابلہ آ جائے تو نص اعلیٰ ہے، لہٰذا ترجیح کس کو دی جائے گی؟ نص کو دی جائے گی۔ اب اگر ایک خاوند نے بیوی کو اختیار دیا طلاق کا اور کہا "طلقِی نفسَكِ" کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو بیوی نے کہا "أبنتُ نفسي" میں نے اپنے نفس کو کیا کر لیا؟ جدا کر لیا، بائن کر لیا بھئی۔ اب دیکھو یہ "أبنتُ" جو ہے، یہ یہ ظاہر ہے کس کے؟ بینونت کے بارے میں۔ یہ کس لیے لایا، ظاہر کیا ہے اس کلام سے کہ کیا آنی چاہیے؟ بینونت، جدائی آنی چاہیے اور جدائی کس سے آیا کرتی ہے؟ طلاقِ بائن سے۔ تو اس کلام کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے طلاقِ بائن واقع ہو، لیکن یہ کلام جو آیا ہے خاوند کے کلام کے جواب میں آیا ہے، اور خاوند نے کیا کہا تھا؟ "طلقِی نفسَكِ" اس نے اختیار کیا دیا تھا کہ اپنے آپ کو طلاق دے دے، "طلقِی" کہا اور "طلقِی" صریح لفظ ہے اور صریح سے کون سی طلاق واقع ہوا کرتی ہے؟ طلاقِ رجعی واقع ہوا کرتی ہے۔ تو خاوند نے اس کو اختیار کس چیز کا دیا ہے؟ "طلقِی"، کس چیز کا؟ طلاقِ رجعی کا اختیار دیا ہے۔ تو بیوی کا یہ جواب "أبنتُ نفسي" یہ کس غرض کے لیے ہوا؟ طلاقِ رجعی کے لیے، کیونکہ اختیار جس چیز کا ملا ہے اسی کو استعمال کرنا ہے، تو غرض کیا ہوئی اس کلام کی؟ طلاقِ رجعی کا واقع کرنا۔ تو نص ہے غرض، اور غرض کو کیا کہتے ہیں؟ نص۔ تو نص کیا ہے کہ یہ نص تقاضا کر رہی ہے کہ اس سے کون سی طلاق واقع ہو؟ رجعی، اور مولانا ظاہر کیا تقاضا کر رہا ہے کہ اس سے کیا واقع ہو؟ طلاقِ بائن، اور کس کو ترجیح دی جائے گی؟ نص کو، لہٰذا اس سے کون سی طلاق واقع ہو گی؟ طلاقِ رجعی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو نص کو ترجیح ہوئی۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کا وہ قول گزرا تھا، حضور علیہ السلام نے اہل عرینہ سے فرمایا تھا کہ تم پیو ان اونٹوں کے پیشاب میں سے بھی اور دودھ میں سے بھی بھئی۔ تو یہاں پر اس حدیث کا اس حدیث یہ نص ہے کس چیز کے اندر؟ سببِ شفاء میں، یہ کیوں فرمایا حضور نے؟ کیونکہ وہ بیمار تھے، تو سببِ شفاء بیان ہو رہا ہے، کیا بیان ہو رہا ہے؟ کہ شفاء تمہیں کس سے حاصل ہو گی۔ تو یہ نص ہے سببِ شفاء میں، اور ظاہر کیا ہے اس کلام کا؟ کہ پیشاب پینا ان کا جائز ہے، معلوم ہوا ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پینا جائز ہے، نجس نہیں، لیکن دوسری حدیث آتی ہے "استنزھوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه" کہ عام اکثر عذاب بچو تم پیشاب سے۔ ابھی مولانا البول آیا، یہ مطلق ہے، یہ ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو بھی شامل ہے اور غیر ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو بھی شامل ہے، تم بچو پیشاب سے اس لیے کہ اکثر عذابِ قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو یہاں نص کیا ہے؟ پیشاب سے پیشاب سے بچنے کا واجب ہو، پیشاب سے بچنا واجب ہے، کس لیے کلام کو چلایا گیا بھئی؟ یہ حدیث کیوں ذکر کی گئی؟ یہ بتلانے کے لیے کہ پیشاب سے بچنا واجب ہے۔ تو یہاں نص ہے کیا؟ کہ پیشاب سے بچنا واجب، اور ادھر تھا ظاہر کیا تھا کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب نجس نہیں، وہ کیا ہے؟ نجس نہیں، اور اس سے کیا معلوم ہو رہا ہے؟ کہ اس سے بچنا واجب ہے، معلوم ہوا وہ کیا ہے؟ نجس ہے۔ تو وہاں ہے ظاہر اور یہاں ہے نص، تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ نص کو ترجیح دی جائے گی، لہٰذا ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب جو ہے وہ بھی کسی صورت میں اس کے پینے کی اجازت نہیں، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح مولانا، حضور علیہ السلام کا یہ قول گزرا تھا "ما سقت السماء ففیہ العشر" وہ جس وہ زمین جس کو سیراب کرے بارش اس کے اندر عشر ہے۔ تو یہ احادیث کس لیے چلائی گئیں؟ اس کا غرض کیا ہے مولانا؟ کیوں ذکر کیا گیا اس کو؟ عشر کو بیان کرنے کے لیے، کس کو؟ کہ جو بھی پیداوار ہو گی اس میں کیا ہو گا؟ عشر ہو گا، جبکہ حضور علیہ السلام کی دوسری حدیث ہے "لیس فی الخضراوات صدقۃ" سبزیوں کے اندر صدقہ یعنی عشر نہیں، تو امام صاحب فرماتے ہیں بھئی کہ ہر جو بھی پیداوار ہو، تھوڑی ہو، زیادہ ہو، سبزی ہو، غیر سبزی ہو، ہر ایک کے اندر کیا دینا پڑے گا؟ اگر بارش والی زمین ہے، بارش سے سیراب ہوتی ہے تو عشر دینا پڑے گا اور اگر آپ خود آپ کنویں وغیرہ سے سیراب کرتے ہیں تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ نصفِ عشر دینا پڑے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ حدیث جو ہے، اس کے اندر مولانا، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے بھئی، وہ کیا فرماتے ہیں؟ سبزیوں کے اندر عشر نہیں، اور یہ مؤول ہے اس لیے کہ صدقہ کا لفظ مشترک ہے، یہ کس کو کہتے ہیں؟ زکوٰۃ کو بھی صدقہ کہتے ہیں، خیرات کو بھی صدقہ کہتے ہیں، اور عشر کو بھی کیا کہتے ہیں؟ صدقہ، یہ سب پہ مشترک ہے اور اس مشترک میں تاویل کر کے اس سے کون سا معنی مراد لیا امام شافعی رحمہ اللہ نے؟ جی؟ عشر مراد لیا، عشر، تو یہ مؤول ہوا، تو ماقبل کی حدیث نص ہے مولانا اور یہ کیا ہے؟ مؤول ہے، اور اس کے اس سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ کہ ہر ہر فصل میں، ترکاریوں میں بھی کیا ہو گا؟ عشر ہو گا، اور کس سے ثابت ہو رہا ہے یہ؟ نص سے، اور یہاں پر مولانا مؤول سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ کہ سبزیوں میں عشر نہیں، اور نص ہے قطعی اور مؤول ہے ظنی، لہٰذا نص کو کس پر ترجیح دی جائے گی؟ مؤول پر ترجیح دی جائے گی۔ واما المفسر، اب ظہور کی تیسری قسم مفسر اور چوتھی قسم محکم اس کو بیان کریں گے بھئی، کہتے ہیں واما المفسر، اور باقی مفسر جو ہے فھو وہ ہے ما ظھر المراد بہ من اللفظ کہ جس کی مراد ظاہر ہو لفظ سے، ببصات ببیان من قبل من قبل المتکلم، ساتھ بیان کے کس کی طرف سے؟ متکلم کی طرف سے، بحیث اس طور پر لا یبقی مع احتمال التأویل والتخصیص کہ اس کے ساتھ تاویل اور تخصیص کا احتمال باقی نہ رہے۔ مفسر کسے کہتے ہیں بھئی؟ جس کی مراد کیا ہو کلام سے؟ ظاہر ہو۔ ظاہر ہو، اور ساتھ کیا ہو؟ جی؟ متکلم کی طرف سے اس کا بیان آ جائے، ایسا بیان کہ اب اس میں تاویل اور تخصیص کا احتمال باقی نہ رہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بھئی یہ فرق ہے۔ کہ ظاہر اور جو نص تھا، ظاہر اور جو نص تھی اس میں تاویل کا بھی احتمال تھا اور تخصیص، کا حکم پڑھا ہے یا نہیں ان میں؟ کہ ان میں تاویل کا بھی احتمال ہے اور تخصیص کا، لیکن مفسر کے اندر یاد رکھو نہ تاویل کا احتمال ہوتا ہے اور نہ تخصیص کا، کیونکہ متکلم کی طرف سے بیان آ گیا، اس نے ایک ہی احتمال متعین کر دیا، اب نہ کسی تخصیص کا احتمال اور نہ کسی تاویل کا احتمال۔ سمجھ میں آیا؟ مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، دیکھیے بھئی، مثالہ فی قولہ تعالی، مثال اس کی اللہ کے اس قول کے اندر ہے "فسجد الملائكۃ کلہم اجمعون" اللہ فرما رہے ہیں بھئی فرشتوں نے سجدہ کیا بھئی "فسجد الملائكۃ" بھئی، حضرت آدم علیہ السلام کو کیا کیا فرشتوں نے؟ اللہ کا حکم فرمایا تو فرشتوں نے سجدہ کیا۔ اب الملائکۃ کا لفظ آیا، اس پر الف لام استغراقی آیا، کیا معنی؟ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ کس نے؟ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، تو یہ عام ہوا، یہ کیا ہوا؟ عام ہوا، لیکن اس کے اندر مولانا تخصیص کا احتمال تھا بھئی کہ ہو سکتا ہے بعض خاص فرشتوں نے سجدہ، تخصیص کا کیونکہ عام کے اندر کس کا احتمال ہوتا ہے؟ تخصیص کا احتمال تھا کہ ہو سکتا ہے بعض خاص فرشتوں نے، بڑے بڑے فرشتوں نے نہ کیا ہو، یا یہ کہ ہو سکتا ہے آسمان کے فرشتوں نے تو سجدہ کر لیا ہو، زمین کے فرشتوں نے سجدہ نہ کیا ہو، تو آگے اللہ نے فرمایا "کلہم" جنہوں نے کیا؟ سب کے سب نے کیا مولانا، تو تخصیص کا دروازہ بند ہو گیا۔ اب تخصیص کا امکان ہے؟ معلوم ہوا سب فرشتوں نے کیا، چاہے عام فرشتے تھے، چاہے بڑے تھے مولانا، چاہے زمین کے تھے، چاہے آسمان کے تھے، سب فرشتوں نے سجدہ کیا، لیکن پھر بھی ابھی تاویل کا احتمال تھا، تاویل ہو سکتی تھی، ہو سکتا ہے ایک بعض فرشتوں نے ایک وقت میں کیا ہو، بعض نے دوسرے وقت میں کیا ہو، تو اس کو بھی تاویل کے امکان کو بھی ختم کر دیا گیا اور آگے ذکر ہوا "اجمعون" کہ سب نے کیا کیا؟ اکٹھے کیا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو سب ایک تو یہ بات تو تخصیص کا بھی احتمال نہ رہا اور تاویل کا بھی احتمال نہ رہا، تو یہ کیا ہے؟ مفسر، دیکھا؟ بیان آ گیا متکلم کی طرف سے۔ کلہم، تخصیص ختم، اجمعون، تاویل بھی ختم، تو یہ کیا ہے؟ مفسر ہے۔ مثالہ فی قولہ تعالی، اس کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے "فسجد الملائكۃ کلہم اجمعون" سجدہ کیا سب کے سب فرشتوں نے اکٹھے، فاسم الملائكۃ ظاہر فی العموم، اسم ملائکہ جو ہے یہ ظاہر ہے اپنے عموم کے اندر، إلا أن احتمال التخصیص قائم، مگر تخصیص کا احتمال قائم تھا، فانسد باب التخصیص، پس بند ہو گیا تخصیص کا دروازہ، انسد کا معنی بند ہونا، پس بند ہو گیا تخصیص کا دروازہ بقولہ، اللہ کے اس قول کے ساتھ "کلہم"، ثم بقی احتمال التفرقۃ فی السجود، پھر باقی تھا احتمال مولانا تفرقہ فی السجود سجدوں میں متفرق ہونے کا امکان احتمال باقی تھا کہ الگ الگ اوقات میں کیے ہوں گے يا الگ الگ، فانسد باب التأویل، تو تاویل کا باب بھی بند ہو گیا بقولہ، اللہ کے اس قول کے ساتھ "اجمعون"، سمجھ میں آئی مثال بھئی؟ وفی الشرعیات، اور شرعیات یعنی شرعی احکام کے اندر اس کی مثال کیا ہے؟ إذا قال، جب کہا ایک شخص نے "تزوجت فلانۃ شھرا"، فلانۃ میں نے آپ کو بتلایا غیر منصرف ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس پر تنوین نہیں آیا کرتی، یہ کاپ کٹابت کی غلطی ہے، اس پر تنوین نہیں آئے گی، اس لیے کہ فلاں کے ذریعے کنایہ کیا جاتا ہے کسی علم سے، میں آپ کو کہتا ہوں فلاں نے یوں کہا، کیا مراد ہوتی ہے کہ کوئی غیر متعین ہے یا کوئی متعین شخص مراد ہوتا ہے؟ تو نام نہیں میں ذکر کرتا بلکہ کیا کہہ دیتا ہوں؟ فلاں، تو یہ کنایہ ہوتا ہے علم سے، لہٰذا یہ علم کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ علم کے، اور نیز یہاں تائے تانيث بھی آ گئی، تو علمیت بھی آ گئی، تانيث بھی آ گئی، دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہوئے تو یہ غیر منصرف ہو گیا، سمجھ میں آیا؟ اس نقطے کو یاد رکھو بھئی، ہمیشہ یاد رکھو۔ ایک شخص نے کہا "تزوجت فلانۃ" میں نے نکاح کیا فلانی سے "شھرا" کتنی مدت کے لیے؟ ایک مہینے کے لیے، ایک مہینے کے لیے۔ اب دیکھیے جب اس نے کہا "تزوجت فلانۃ" اب ظاہر کیا ہے مولانا تزوجت سے؟ کیا ظاہر ہو رہا ہے کہ نکاح کیا۔ کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے، لیکن احتمال تھا کہ شاید متصعہ ہو۔ متعہ اور نکاحِ موقت جانتے ہو بھئی؟ جی؟ متعہ اور نکاحِ موقت متعہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی عورت سے کہے "أتَمتّعُكِ" کے لفظوں کے ساتھ، کیا کہے؟ "میں أتَمتّعُكِ، میں تجھ سے نفع اٹھاؤں گا" یا "أستمتِعُ بكِ، میں تجھ سے نفع اٹھاؤں گا"، تو اس میں أتَمتّعُ اور أستمتِعُ کے لفظ ذکر ہوتے ہیں بھئی، اور اس میں گواہوں کا ہونا بھی ضروری نہیں، اور کچھ وقت کے لیے ہو گا، اور مال کے بدلے ہو گا۔ کیا ہو گا؟ "أتَمتّعُ بكِ مدۃ كذا" بھئی، ہاں "بكذا" اتنے مال کے بدلے۔ کیا کیا چیز ہوئی اس کے اندر مولانا؟ أتَمتّعُ اور أستمتِعُ وغیرہ کے لفظ ہوں، نفع اٹھاؤں گا، نفع اٹھاؤں گا، اور مولانا؟ مدت بھی متعین ہو، اور مولانا؟ مال کے بدلے، مال بھی ذکر ہوا، اور بھئی گواہ بھی نہیں ہوتے، گواہ بھی نہیں ہوتے، یہ متعہ ہے، نکاحِ متعہ۔ اچھا، اور ایک ہے نکاحِ موقت، نکاحِ موقت اس میں وہ اسی نکاح کی طرح ہوتا ہے لیکن بس اس میں وقت کی قید ہوتی ہے کہ میں تجھ سے تزوجتُ یا نکحتُ، میں تجھ سے کیا کرتا ہوں؟ نکاح کرتا ہوں، لیکن ایک ماہ کے لیے یا 10 دن کے لیے، تو وہ وقت موقت ہوتا ہے، وقت کے ساتھ مقید ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور تو یہ بھی جائز نہیں، نکاحِ موقت اور نکاحِ متعہ جائز، ابتدائے اسلام میں ان کی اجازت تھی، بعد میں ان کو چونکہ احکامِ اسلام آہستہ آہستہ تدریجاً آئے، تو ابتداء میں چونکہ ابتداء میں اجازت کچھ عرصہ رہی اور اس کے بعد کیا، خیبر کے موقع پر اس کو کیا کر دیا گیا؟ جی، خیبر کے۔ تو پھر اس کے یہ منسوخ ہوا بھئی۔ یہ حرام اس کو قرار دے دیا گیا، سمجھ میں آیا؟ اور نکاحِ موقت کو بھی متعہ کہہ دیتے ہیں، ہر نکاحِ موقت موقت کیا ہے؟ متعہ بھی ہے، کیا ہے؟ متعہ بھی کہلاتا ہے، اس کو بھی متعہ کہہ دیتے ہیں، تو یہاں پر متعہ سے مراد نکاحِ موقت ہے مولانا، کیونکہ تزوجتُ کا لفظ ذکر ہو رہا ہے اور متعہ میں تو کیا ذکر ہوتا ہے؟ أستمتِعُ اور أستمتِعُ بكِ، یا یا کیا کہتے ہیں؟ أتَمتّعُ بكِ مدۃ كذا بمال كذا۔ اچھا بھئی۔ اب ایک شخص نے کہا "تزوجت فلانۃ" میں نے نکاح کیا فلانی سے، اب اس سے ظاہر کیا ہے کلام سے کہ کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے، لیکن کیا لیکن متعہ یا نکاحِ موقت کا احتمال ابھی بھی باقی تھا، آگے اس نے "شھرا" کہہ کے کیا کر دی؟ بھئی دو احتمال تھے یا نہیں؟ ایک صحیح شرعی نکاح ہے یا نکاحِ موقت ہے، اس کا بھی احتمال آ گیا، تو اس نے اپنی مراد ظاہر کر دی، تفسیر کر دی "شھرا" کتنی مدت کے لیے کیا ہے؟ ایک مہینے کے لیے، معلوم ہوا تزوجتُ سے کون سا نکاح مراد ہے؟ نکاحِ موقت مراد ہے، حالانکہ نکاح تو تھوڑی مدت کے لیے نہیں ہوتا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیا جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تابیدی ہوتا ہے، نکاح تابیدی ہوتا ہے، موقت نہیں ہوتا بھئی۔ تو لہٰذا مدت کی قید لگائی اگر نکاح میں تو وہ نکاح نہیں بھئی سے۔ تو اب اس نے کہا جب "شھرا"، "شھرا"، "تزوجت فلانۃ شھرا بكذا" میں نے فلانی سے نکاح کیا، تو اب اس میں احتمال کس چیز کا، ظاہر تو کیا ہے؟ کیا کیا ہے؟ نکاح، لیکن احتمال کس چیز کا تھا؟ متعہ یا نکاحِ موقت کا بھی احتمال تھا، تو جب اس نے کہا "شھرا بكذا"، "شھرا" کہہ دیا تو اس نے اپنے کیا کر دی؟ اپنے کلام کی تفسیر کر دی کہ یہ تزوجتُ سے کون سا نکاح مراد ہے؟ نکاحِ موقت مراد ہے۔ تو اب ہم کہیں گے یہ تو متعہ ہے، نکاحِ شرعی صحیح نکاح نہیں، لہٰذا یہ باطل ہے بھئی۔ فقولہ تزوجت ظاہر، ایک تو "فلانۃ شھرا" ایک مہینے تک "بكذا" کتنے؟ اتنے مال کے بدلے، ای بمالِ كذا بھئی، اتنے مال کے بدلے۔ مہر جو ہو گا یا عوض جو ہو گا۔ فقولہ، پس کہنے والے کا یہ کہنا "تزوجت" یہ ظاہر ہے نکاح میں، نکاح میں کیا ہے؟ اس سے ظاہر کیا ہو رہا ہے کہ نکاح کیا ہے، إِلَّا أَنَّ احْتِمَالَ الْمُتْعَةِ قَائِمٌ مگر متعه کا احتمال کیا تھا؟ قائم تھا، یعنی نکاح متعه کا۔ فَبِقَوْلِهِ بھئی، متعه سے کیا مراد ہے؟ نکاح مؤقت مراد ہے۔ تو ہر نکاح مؤقت، وہ کیا ہے؟ متعه ہے۔ فَبِقَوْلِهِ شَهْرًا، پس اپنے اس قول ”شَهْرًا“ کے قول کے ساتھ فَسَّرَ الْمُرَادَ بِهِ، اس نے اپنے اس کلام کی مراد کیا کر دی؟ ظاہر کر دی۔ فَقُلْنَا، پس ہم کہیں گے: هَذَا متْعَةٌ، یہ تو متعه ہے، وَلَيْسَ بِنِكَاحٍ، اور نکاح نہیں ہے، یعنی نکاح صحیح شرعی نہیں ہے۔ لَيْسَ بِنِكَاحٍ صَحِيحٍ شَرَعِيٍّ عِنْدَنَا۔ وَلَوْ قَالَ، اور اسی طرح اگر کسی نے کہا: لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ، فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار ہیں۔ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْعَبْدِ، اس غلام کے ثمن میں سے۔ ایک غلام سامنے کھڑا ہے، اس نے کیا کہا؟ زید کے مجھ پر اس غلام کے، زید کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار ہیں، کس کے بدلے؟ اس متعین غلام کے بدلے۔ أَوْ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْمَتَاعِ، یا اس متعین سامان کے بدلے، سامان سامنے پڑا ہے، آپ نے کہا: زید کے میرے اوپر کتنے روپے ہیں؟ ایک ہزار، اور کس کس کے بدلے ہیں؟ اس سامان کے بدلے، وہ جو متعین سامان پڑا ہے۔ اب دیکھو، فَقَوْلُهُ عَلَيَّ أَلْفٌ، بھئی، میرے اوپر ایک ہزار ہیں، نَصٌّ فِي لُزُومِ أَلْفٍ، یہ نص ہے کس کے بارے میں؟ لزوم، بھئی، کوئی شخص اگر یہ کہے: فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں، تو یہ کیا کر رہا ہے؟ کیوں بولا یہ کلام اس نے؟ اپنے اوپر ایک ہزار لازم کرنے کے لیے۔ کیا کرنے کے لیے؟ لازم کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اقرار کر رہا ہے اس کے لیے۔ تو یہاں پر بھی مولانا، اس نے تو پوری بات تو یہ ہے: لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْعَبْدِ، یا یوں کہا: لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْمَتَاعِ۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اس میں سے جو پہلا حصہ ہے: لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ، یہ نص ہے کس چیز کے اندر؟ لُزُومِ أَلْفٍ کے بارے میں، اگر کوئی شخص صرف یہ کہے، تو اس پر کیا لازم ہو جائیں گے؟ ایک ہزار لازم ہو جائیں گے۔ لیکن اب اس نے آگے تفسیر کر دی، لیکن اس میں کیا احتمال تھا؟ تاویل کا احتمال، تفسیر کا احتمال باقی تھا، کہ بھئی، یہ ایک ہزار کس چیز کے ہیں؟ جی؟ قرض لیا ہے؟ کوئی چیز خریدی ہے؟ یا کیا کیا ہے؟ تو اس نے کیا کی؟ تفسیر کر دی آگے اپنے کلام کی، کہ کس چیز کے ہیں؟ اس غلام کے ہیں۔ کس کے ہیں؟ تو نص کے اعتبار سے اس پر کیا لازم آنے چاہئیں؟ ایک ہزار، کہ لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ، مجھ پر کتنے ہیں اس کے؟ ایک ہزار ہیں۔ اور تو یہ نص ہے لُزُومِ أَلْفٍ میں، اور مفسر ہے، بن گیا مولانا، جب اس نے تفسیر بیان کر دی، کہ یہ کس کے بدلے ہیں؟ اس غلام کے بدلے۔ اب دیکھا جائے گا، وہ غلام اگر اس کے قبضے میں ہے، تو اس پر کیا آ جائیں گے؟ بھئی، نص اور مفسر میں مقابلہ آ گیا، مولانا۔ نص کہہ رہی ہے، اس پہ ہزار فوراً لازم ہونے چاہئیں، اس نے کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ، اور اس کا کلام، یہ کلام جو بھی بولے، اس پر کیا آ جایا کرتے ہیں؟ ہزار لازم ہو جاتے ہیں۔ تو یہ نص ہے لُزُومِ أَلْفٍ کے بارے میں، لیکن آگے تفسیر آ گئی، جب تفسیر آ گئی، یہ کیا بن گیا؟ مفسر، اور مفسر کیا چاہتا ہے؟ کہ یہ اس پر ہزار تب آئیں، جبکہ یہ جو متعین غلام ہے، اس کے قبضے کے اندر، قبضے کے اندر ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ مولانا، نص ہے کس چیز کے بارے میں؟ یہ حدیث، یہ کلام اس کا، لُزُومِ أَلْفٍ کے بارے میں۔ لیکن جب آگے اس نے تفسیر بیان کر دی، کہ یہ ألف کس چیز کے ہیں؟ اس غلام کے، تو یہ کیا بن گیا؟ مفسر بن گیا، اور مفسر کو کیا، نص پر کیا ہوتی ہے؟ ترجیح ہوتی ہے۔ بھئی، کون قوی ہے؟ نص قوی ہے یا مفسر قوی ہے؟ مفسر قوی ہے، اور نص اور مفسر میں مقابلہ آ گیا، تو کیا، کس کو ترجیح دی جائے گی؟ مفسر کو۔ اب اگر، اور اس تو معلوم ہوا، یہ جو اس پر ہزار ہیں، کس کے بدلے ہیں؟ اس غلام کے بدلے، لہٰذا اب اس غلام کو دیکھا جائے گا، اگر یہ اس کے قبضے میں ہے، اقرار کرنے والے کے، تو اس پر کیا لازم ہو جائیں گے؟ ہزار۔ اگر اس کے قبضے میں نہیں، تو اس پر ہزار بھی لازم نہیں۔ اگر وہ سامان جو ہے، متعین دیکھا جائے گا، اگر وہ اس کے قبضے میں ہے، تو اس پر کیا لازم ہو جائیں گے؟ ہزار۔ اگر اس کے قبضے میں نہیں، تو اس پر ہزار لازم نہیں۔ نص تو تقاضا کر رہی تھی، فوراً ہزار لازم ہو جائیں، لیکن جب اس نے کہہ دیا، یہ اس کے بدلے ہیں، تو مفسر بن گیا، اور مفسر کے اعتبار سے اب کیا دیکھا جائے گا؟ کہ یہ چیز اس کے قبضے، یہ تو ہزار ویسے نہیں ہیں اس پر، بلکہ کس کے بارے میں، کس کے بدلے میں ہیں؟ اس چیز کے بدلے میں ہیں، تو اب اس چیز کو دیکھا جائے گا، اس کے قبضے میں ہے، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ اس پر ہزار ہوں گے، ورنہ ہزار نہیں ہوں گے۔ تو وہ نص کہہ رہی تھی، فوراً ہزار ہو جائیں، بغیر کچھ دیکھے، اور مفسر کیا کہہ رہا ہے؟ اس متعین چیز کو دیکھو، یہ اس کے قبضے میں ہے یا قبضے میں نہیں؟ بات سمجھ میں آئی سب کو؟ وَلَوْ قَالَ لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْعَبْدِ أَوْ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْمَتَاعِ، اگر کسی نے یہ کہا، فَقَوْلُهُ عَلَيَّ أَلْفٌ، تو ”عَلَيَّ أَلْفٌ“ کہنا، نَصٌّ، یہ نص ہے، فِي لُزُومِ أَلْفٍ، کس کے بارے میں؟ ہزار کے لازم ہونے کے حق میں یہ نص ہے، إِلَّا أَنَّ احْتِمَالَ التَّفْسِيرِ بَاقٍ، لیکن تفسیر کا احتمال باقی تھا، تاویل کا احتمال باقی تھا، کہ یہ کس لحاظ سے اس پر لازم ہو رہے ہیں بھئی؟ اس نے خریدے ہیں، یا اس نے قرضہ لیا ہے، یا ہزار یہ کیا کیا، غصب کیے ہیں؟ کیوں اس پر لازم ہیں؟ تو اس نے، فَبِقَوْلِهِ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْعَبْدِ أَوْ مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْمَتَاعِ بَيَّنَ الْمُرَادَ بِهِ، پس اس نے اپنے اس قول ”مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْعَبْدِ“ جب کہا، یا ”مِنْ ثَمَنِ هَذَا الْمَتَاعِ“ جب اس نے کہا، اس نے بیان کر دیا اپنے اس کلام کی مراد کو۔ فَيَتَرَجَّحُ الْمُفَسَّرُ عَلَى النَّصِّ، تو ترجیح پا جائے گا مفسر کس پر؟ نص پر، حَتَّى لَا يَلْزَمُهُ الْمَالُ إِلَّا عِنْدَ قَبْضِ الْعَبْدِ أَوْ الْمَتَاعِ، یہاں تک کہ اس پر لازم نہیں ہوگا مال، مگر کس وقت؟ جبکہ اس غلام، متعین غلام پر، یا اس سامان پر کیا، کیا ہو؟ اس پر قبضے کے وقت بھئی، اس پر قبضے کے وقت لازم ہوگا، ویسے نہیں۔ وَقَوْلُهُ لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ ظَاهِرٌ فِي الْإِقْرَارِ نَصٌّ فِي نَقْدِ الْبَلَدِ، اچھا، ایک آدمی نے کہا: لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ، لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ نَقْدِ بَلَدِي كَذَا، لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ نَقْدِ بَلَدِي كَذَا، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں۔ اب نص کیا ہے؟ اس پر لُزُومِ أَلْفٍ ہوں گے، اور کون سے ألف لازم ہوں گے؟ شہر کی غالب نقدی۔ جبکہ سب نقدیاں برابر ہوں، تو کون سی نقدی آ جائے گی اس پر؟ نص کیا ہے؟ کہ اس پر اس شہر کے غالب نقدی کیا ہو جائے؟ لازم ہو جائے، لیکن جب اس نے تفسیر کر دی: مِنْ نَقْدِ بَلَدِي كَذَا، فلاں شہر کی نقدی میں سے، اس کے مجھ پر ایک ہزار ہیں فلاں شہر کی نقدی میں سے، تو اس نے تفسیر کر دی مولانا، اپنے کلام کی مولانا، اور یہ مفسر بن گیا، تو نص سے تھا، اس شہر کی غالب نقدی آ رہی تھی، اور مفسر سے کیا آ رہی ہے؟ اس متعین شہر کی نقدی اس پر لازم ہو رہی ہے، اور نص اور مفسر میں تقابل آ گیا، تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ مفسر کو، لہٰذا اس پر کون سی نقدی لازم ہوگی؟ اس متعین شہر کی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفٌ، کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں، ظَاهِرٌ فِي الْإِقْرَارِ، دروازہ کھول دو، ظَاهِرٌ فِي الْإِقْرَارِ، یہ ظاہر ہے مولانا، اقرار کے بارے میں، یہ کیا ہے؟ ظاہر ہے، تو ظاہر یہ ہے مولانا، نَصٌّ فِي نَقْدِ الْبَلَدِ، اور نص ہے کس کے بارے میں؟ جی؟ ظاہر ہے اقرار کے بارے میں، اس ظاہر کیا ہو رہا ہے اس کلام سے؟ وہ اقرار کر رہا ہے، اور نص کیا ہے مولانا؟ کہ اس پر کون سے نقدی لازم کر رہا ہے اپنے اوپر؟ جی؟ اسی شہر کے غالب نقدی، تو یہ نص ہے مولانا نقد بلد کے اندر۔ فَإِذَا قَالَ مِنْ نَقْدِ بَلَدِي كَذَا، پس جب اس نے کہہ دیا کہ فلاں شہر کی نقدی میں سے، تو یہ مفسر بن گیا، فَيَتَرَجَّحُ الْمُفَسَّرُ عَلَى النَّصِّ، تو ترجیح پا جائے گا مفسر نص پر، فَلَا يَلْزَمُهُ نَقْدُ الْبَلَدِ، تو اس پر شہر کی نقدی غالب نہیں ہوگی، بَلْ نَقْدُ بَلَدِي كَذَا، بلکہ جی، تو اسی، بھئی، نص تھا اسی شہر کی نقدی کو وہ اپنے اوپر لازم کر رہا ہے۔ جی؟ نص کیا تھا؟ نص کیا تھی بھئی، اسی شہر کی نقدی کو اپنے اوپر لازم، اور مفسر سے کیا، کیا ہے معلوم ہوا؟ کہ وہ کسی اور شہر کی نقدی کو اپنے اوپر، اور نص اور مفسر میں تقابل آیا، کس کو ترجیح دیں گے؟ تو فَلَا يَلْزَمُهُ نَقْدُ الْبَلَدِ، تو اس پر شہر کی نقدی لازم نہیں ہوگی، بَلْ نَقْدُ بَلَدِي كَذَا، بلکہ فلاں شہر کی نقدی لازم ہوگی، وَعَلَى هَذَا نَظَائِرُهُ، اور اسی پر قیاس، یعنی قِسْ عَلَى هَذَا نَظَائِرَهُ، اور قیاس کر لو اسی پر بھئی، اس کی نظیروں کو، اس جیسی اس کی جو نظیریں ہیں، ان جیسے جو ہیں مسائل، احکام، ان کی ان کو کیا کر لو؟ اسی پر قیاس کر لو۔ آپ ادھر ہی آئیں گے؟ آئے تو نہیں؟ ہاں؟ اچھا، چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمُرَادُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
123 approved lectures · 38 of 123