Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-100

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 50
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی۔ میں نے اپ کو بتایا کہ اجماع دو قسم پر ہے: ایک اجماعِ سندی اور ایک اجماعِ مذہبی۔ اجماعِ سندی کسے کہتے ہیں؟ کہ کسی ایک زمانے کے تمام علماء کسی حکم پر اکٹھے ہو جائیں۔ اور اجماعِ مذہبی کسے کہتے ہیں؟ کہ بعض مجتہدین کسی حکم پر کیا ہو جائیں؟ اکٹھے ہو جائیں، اجماع کر لیں بھئی۔ ثم بعد ذلك الإجماع على نوعين مركب وغير مركب. پھر اس کے بعد اجماع دو قسم پر ہے۔ یہاں سے اجماعِ مذہبی کی بحث شروع کر دی بھئی۔ اجماعِ سندی بیان کر دیا، اس کی چار قسمیں اور ان چاروں قسموں کا حکم بھی بیان کر دیا۔ اب اجماعِ مذہبی کو بیان کرنے لگے ہیں۔ اجماعِ مذہبی کے بارے میں اپ نے پڑھا، وہ اجماع کرنا ہے بعض مجتہدین کا کسی حکم پر۔ کسی حکم پر بعض مجتہدین کا اجماع کر لینا بھئی۔ تو یہ اجماعِ مذہبی ہے۔ اب اس کی قسمیں بتلا رہے ہیں کہ وہ دو قسم پر ہے: مركب وغير مركب. ایک مرکب ہے اور ایک غیر مرکب ہے۔ فالمركب ما اجتمع عليه الآراء على حكم الحادثة مع وجود الاختلاف في العلة. کہتے ہیں: پس مرکب اجماع وہ ہے کہ جس میں اکٹھی ہو جائیں رائے بھئی۔ جس میں کیا ہو جائیں؟ آراء اکٹھی ہو جائیں، بعض مجتہدین کی رائے اکٹھی ہو جائیں على حكم الحادثة کسی واقعہ کے حکم پر مع وجود الاختلاف في العلة باوجود اختلاف کے پائے جانے کے فی العلة علّت کے اندر بھئی۔ علّت میں اختلاف پائے جانے کے باوجود حکم کے اندر بعض مجتہدین کیا کر لیں؟ کسی حادثے کے حکم میں کیا کر لیں؟ اتفاق کر لیں۔ کیا کہلاتا ہے؟ اجماعِ مرکب۔ مرکب ہے مولانا، دیکھا ہے تو اجماع مولانا، لیکن ہے مرکب کہ علّتیں کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ مثلاً بھئی، ایک شخص باوضو ہے، اس کو قے بھی آئی اور اس نے ایک عورت کو ہاتھ بھی لگایا۔ اب بالاجماع اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ ہمارے نزدیک بھی اس کا وضو ٹوٹ گیا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ لیکن اب حکم میں تو اتفاق ہے مولانا، اس واقعہ کے حکم میں دونوں کا اتفاق، ہمارے نزدیک بھی وضو ٹوٹ گیا، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وضو ٹوٹ گیا۔ البتہ علّت میں اختلاف ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک وضو ٹوٹنے کی علّت ہے قے کا آنا۔ قے کی وجہ سے ہمارے نزدیک کیا ہوتا ہے وضو؟ ٹوٹ جاتا ہے۔ مسِ امرأة سے ہمارے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وضو ٹوٹا ہے لیکن ان کے نزدیک وضو ٹوٹنے کی علّت کیا ہے؟ مسِ امرأة ہے، عورت کو ہاتھ لگانا۔ عورت کو ہاتھ لگانے سے ان کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ قے سے ان کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا۔ تو اب اس شخص نے قے بھی کی ہے، عورت کو ہاتھ بھی لگایا ہے تو اب بالاتفاق اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ بالاتفاق، اس پر اجماع ہے بھئی اس حکم کے اندر، وضو کے ٹوٹنے کے اندر دونوں کا اتفاق، لیکن علّت میں دونوں کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک وضو ٹوٹنے کی علّت قے کا آنا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وضو ٹوٹنے کی علّت مسِ امرأة ہے۔ تو یہ اجماعِ مرکب ہے بھئی۔ کیا ہے اجماعِ مرکب ہے جس کے اندر حکم میں اتفاق ہوتا ہے اور علّتوں میں کیا ہوتا ہے؟ اختلاف ہوتا ہے۔ یہی بات کر رہے ہیں، دیکھیے دوبارہ بھئی: فالمركب پس مرکب ما اجتمع عليه الآراء وہ اجماع ہے جس میں کیا ہو جائیں؟ جس میں رائے جمع ہو جائیں على حكم الحادثة کسی واقعہ کے حکم پر مع وجود الاختلاف في العلة باوجود اختلاف پائے جانے کے فی العلة، کس میں؟ علّت میں۔ ومثاله الإجماع على وجود الانتقاض عند القيء ومس المرأة. اور اس کی مثال اجماع کا ہونا ہے على وجود الانتقاض وضو ٹوٹنے کے، وضو ٹوٹنے پر۔ انتقاض کا کیا معنیٰ؟ ٹوٹنا۔ الانتقاض أي انتقاض الوضوء، وضو کا ٹوٹنا بھئی۔ الف لام عوض ہے کس سے؟ مضاف الیہ سے۔ تو اس کی مثال کیا ہے؟ اجماع کا ہونا کس چیز پر؟ وجودِ انتقاض پر یعنی وضو کے ٹوٹنے پر، وضو کے ٹوٹنے پر اجماع کا ہونا عند القيء ومس المرأة، قے اور مسِ امرأة کے وقت، کوئی شخص قے بھی کرتا ہے، باوضو تھا اور قے بھی کرتا ہے اور مسِ امرأة بھی کرتا ہے۔ اما عندنا ہمارے نزدیک کیا ہے؟ وضو کے ٹوٹنے پر اتفاق تو ہوا لیکن ہمارے نزدیک اس کی بناء کس پر ہے؟ فبناءً على القيء، وضو ٹوٹتا ہے بناء بر قے کے۔ واما عنده اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک فبناءً على المس، بناء بر مس کے یعنی مسِ امرأة کے، عورت کو ہاتھ لگانے کی وجہ سے وضو ٹوٹے گا۔ تو یہ کیا کہلاتا ہے مولانا؟ اجماعِ مرکب کہلاتا ہے۔ مصنف نے اجماعِ غیرِ مرکب کو ذکر نہیں کیا، اس لیے کہ اجماعِ مرکب کی تعریف سے اجماعِ غیرِ مرکب کی تعریف بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ بھئی، اجماع تو ہے، کسی واقعہ کے حکم پر کیا پایا جائے گا؟ اجماع پایا جائے گا بعض مجتہدین کا۔ البتہ مرکب میں جب یہ کہا کہ علّتوں میں اختلاف ہے تو غیرِ مرکب میں پتہ چلا کہ علّتوں میں اختلاف نہیں ہوگا۔ علّتوں میں اختلاف نہیں ہوگا۔ کسی واقعہ کے حکم پر ہمارا بھی مثلاً اتفاق ہو جاتا ہے اور شوافع کا بھی، امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی اتفاق ہو جاتا ہے اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا بھی اتفاق ہو جاتا ہے اور علّت میں بھی اتفاق ہوتا ہے، ان کے نزدیک بھی وہی علّت ہے، ہمارے نزدیک بھی وہی علّت ہے، وہی علّت ہے۔ اس کی مثال مولانا، اجماعِ غیرِ مرکب بھئی جس میں علّتوں میں بھی اتفاق ہوتا ہے۔ جیسے امامِ ابو حنیفہ اور امامِ شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ دونوں کے نزدیک ما خرج من السبيلين سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جو بھی چیز احد السبيلين سے خارج ہوگی بالاتفاق اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، امامِ شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ تو حکم میں اتفاق آیا اور علّت میں بھی اتفاق ہے مولانا، ان کے نزدیک بھی علّت خروجِ نجاست ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی کیا ہے اس کی علّت؟ خروجِ نجاست ہے۔ تو دیکھو یہ کیا ہے؟ اجماعِ غیرِ مرکب ہے کہ حکم کے اندر بھی اتفاق اور اس کی علّت کے اندر بھی اتفاق ہے۔ ثم هذا النوع من الإجماع لا يبقى حجة بعد ظهور الفساد في المأخذين. یعنی فی احد المأخذين ہونا چاہیے بھئی، مأخذين سے پہلے 'احد' کا لفظ بھئی، یہ کتابت کی غلطی سے شاید رہ گیا ہے بھئی۔ پھر اس نوع کا جو اجماع ہے وہ حجت بن کر باقی نہیں رہتا بعد ظهور الفساد بعد فساد کے ظاہر ہو جانے کے فی أحد المأخذين، مأخذ سے مراد علّت ہے۔ فی احد المأخذين، دونوں علّتوں میں سے کسی ایک میں۔ کہتے ہیں: دونوں علّتوں میں سے کسی ایک علّت کا بھی فساد ظاہر ہو گیا تو یہ اجماع حجت نہیں رہے گا۔ یہ اجماع حجت نہیں، یہ اجماعِ مرکب بھئی حجت نہیں رہا۔ بھئی، کسی بھی شرط ہم نے کیا، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کیا وضو ٹوٹنے کا حکم کیوں لگایا؟ وہ قے کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے اور امامِ شافعی رحمہ اللہ مسِ امرأة کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے۔ لیکن اگر کوئی ایسی شرعی دلیل قائم ہو جائے جس سے ان میں سے کسی ایک کی بھی علّت کا فاسد ہونا ظاہر ہو جائے تو پھر یہ اجماع باقی نہیں رہے گا۔ پھر یہ اجماع باقی نہیں رہے گا۔ بھئی، اجماع تو اس بات پہ ہے کہ وضو ٹوٹ گیا، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وضو کس سے ٹوٹا ہے؟ قے سے ٹوٹا ہے اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مسِ امرأة سے ٹوٹا ہے۔ اب کوئی ایسی شرعی دلیل قائم ہو گئی جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اگر ایسی کوئی شرعی دلیل قائم ہو جائے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹتا تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگائیں گے، کیونکہ مسِ امرأة سے تو ویسے ہی ان کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا اور قے سے وضو ٹوٹ رہا تھا لیکن شرعی دلیل سے کیا ثابت ہو گیا کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹتا، تو کیا اب وہ حکم لگائیں گے کہ اس شخص کا وضو ٹوٹا ہے؟ وہ اس حکم ہی نہیں لگائیں گے وضو ٹوٹنے کا، اور امامِ شافعی رحمہ اللہ تو وضو ٹوٹنے کا کیا کر رہے ہیں؟ حکم لگا رہے ہیں۔ تو اب حکم میں اتفاق رہا؟ اب تو حکم میں اتفاق رہا ہی نہیں، مثلاً امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علّت کیا ہوئی؟ اس کا فساد ظاہر ہو گیا کسی شرعی دلیل سے، انہوں نے تو کہا تھا قے سے وضو ٹوٹتا ہے لیکن شرعی دلیل سے کیا ثابت ہو گیا کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر وہ وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگائیں گے اور امامِ شافعی رحمہ اللہ تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگا رہے ہیں تو اب اتفاق رہا؟ ایک امام وضو ٹوٹنے کا حکم لگائے گا، دوسرا وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگائے گا، تو یہ اجماع ہی باقی نہیں رہے گا۔ جب اجماع ہی باقی نہیں رہا تو اس کا حجت ہونا، حجت اس کے حجت ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ حجت کہاں سے پھر رہے گا بھئی؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یا اس کا عکس کرو بھئی، مثلاً امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرمائیں گے کہ قے سے شخص کا وضو ٹوٹ چکا ہے اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کیا فرمائیں گے؟ مسِ امرأة سے وضو ٹوٹ چکا ہے، لیکن اگر کوئی ایسی شرعی دلیل قائم ہو جائے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ مسِ امرأة سے وضو نہیں ٹوٹتا تو کیا امامِ شافعی رحمہ اللہ مسِ امرأة سے وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے؟ نہیں، امام صاحب تو قے کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے لیکن امامِ شافعی رحمہ اللہ مسِ امرأة کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم ہی نہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو قے سے وضو ٹوٹتا ہی نہیں، صرف مسِ امرأة سے ٹوٹ رہا تھا اور شرعی دلیل سے ثابت ہو گیا کہ مسِ امرأة سے وضو نہیں، تو اب وہ اس سے وضو ٹوٹنے کا حکم بھی اس شخص پر نہیں لگائیں گے۔ تو اب اجماع ہی باقی نہ رہا، امام صاحب، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے اور امامِ شافعی رحمہ اللہ وضو نہ ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے، تو اجماع ہی باقی نہیں رہے گا جب علّت میں، ان کے علّت میں فساد ظاہر ہو گیا تو اجماع باقی نہیں رہا، جب اجماع باقی نہیں رہا تو اس کے حجت ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا؟ تو کسی بھی امام کے علّت میں اگر فساد ظاہر ہو جائے، یہ پتہ چل جائے کہ یہ علّت صحیح نہیں تو پھر وہ، یہ اجماع جو اجماعِ مرکب ہے یہ بھی حجت بن کر باقی نہیں رہے گا۔ جی، تو یہ ثم هذا النوع من الإجماع لا يبقى حجة بعد ظهور الفساد في أحد المأخذين، پھر یہ نوع جو ہے اجماع کی یہ باقی نہیں رہے گا حجت بن کر بعد ظهور الفساد، بعد فساد کے ظاہر ہو جانے کے فی أحد المأخذين، دونوں علّتوں میں سے کسی ایک، دونوں علّتوں میں سے کسی ایک کی علّت میں بھی فساد ظاہر ہوا تو یہ اجماع حجت بن کر باقی نہیں رہے گا۔ حتى لو ثبت، یہاں تک کہ اگر یہ ثابت ہو جائے، یہی بات اب صاحبِ کتاب کریں گے بھئی: حتى لو ثبت، اگر یہ ثابت ہو گیا أن القيء غير ناقض کہ قے ناقض، کسی شرعی دلیل سے یہ ثابت ہو کہ قے ناقضِ وضو نہیں، وضو کو توڑنے والی نہیں ہے، فأن أبا حنيفة رحمة الله لا يقول بالانتقاض فيه، تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فيه أي في القيء، یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ قے کو، وہ قے میں وضو ٹوٹنے کا قول نہیں کریں گے، لا يقول بالانتقاض فيه أي في القيء، وہ قے میں وضو ٹوٹنے کا قول نہیں کریں گے۔ اور اسی طرح ولو ثبت، اگر یہ ثابت ہو گیا أن المس غير ناقض کہ مسِ امرأة کیا ہے؟ وہ ناقض للوضوء، اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، فالشافعي رحمة الله لا يقول بالانتقاض فيه، فيه کی یہ ضمیر کس کو راجع؟ مس کو مس کو، تو اس صورت میں امامِ شافعی رحمہ اللہ مسِ امرأة سے وضو ٹوٹنے کا قول نہیں کریں گے، امامِ شافعی رحمہ اللہ مسِ امرأة سے وضو ٹوٹنے کا قول نہیں کریں گے۔ کیوں؟ لفساد العلة التي بني عليها الحكم، بوجہ فاسد ہونے اس علّت کے جس پر حکم کی بنیاد تھی۔ جس حکم پر علّت، جس علّت پر حکم کی بنیاد تھی جب وہی فاسد ہو گئی تو حکم بھی، امام صاحب کے نزدیک وضو ٹوٹنے کی بنیاد ہی کس پر تھی؟ اس کے علّت ہی کیا تھی؟ قے پر، تو جب قے کا ثابت ہو گیا قے ناقضِ وضو ہی نہیں تو پھر اب اس سے وضو ٹوٹنے کا حکم بھی نہیں لگائیں گے، اسی طرح امامِ شافعی رحمہ اللہ بھی حکم نہیں لگائیں گے اگر ان کے علّت کا فساد ظاہر ہو جائے۔ جی، یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ والفساد متوهم، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں یہاں سے بھئی۔ اعتراض بھئی، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہ اجماعِ مرکب، یہ اجماع ہی فاسد ہے۔ یہ اجماع ہی کیا ہے؟ فاسد ہے، اس کو حجت ہونا ہی نہیں چاہیے، یہ حجت ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ اجماع فاسد ہے۔ کیسے اجماع فاسد ہے؟ کہتے ہیں: دیکھیے، ایک ہی مسئلے کے اندر رائے مختلف ہیں۔ قے کے اندر امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے اور ہے، امامِ شافعی رحمہ اللہ کی رائے اور ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور عند اللہ یقیناً ان دونوں میں سے ایک حق ہے، دونوں حق پر نہیں ہو سکتے۔ تو یقیناً ایک امام کس پر ہیں؟ خطا پر ہیں اور ایک امام حق پر ہیں۔ اسی طرح مسِ امرأة کا مسئلہ ہے، اس میں بھی مسئلہ ایک ہے اور رائے دونوں کی الگ الگ ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ مسِ امرأة سے وضو نہیں ٹوٹتا جبکہ اسی مسئلے میں امامِ شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ اس سے کیا ہے؟ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ تو ایک ہی حادثہ ہے، ایک ہی واقعہ ہے اور رائے مختلف ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رائے مختلف ہیں، تو یقیناً اس مسئلے کے اندر بھی عند اللہ ایک حق پر ہے اور ایک کس پر ہے؟ خطا، قے کے مسئلے میں بھی ایک امام حق پر ہیں اور دوسرا خطا پر، اسی طرح مسِ امرأة کے مسئلے میں بھی ایک امام یقیناً حق پر ہیں عند اللہ اور دوسرا امام کیا ہے؟ خطا پر ہے، خطا پر ہے۔ تو دونوں اماموں کا خطا پر ہونے کا وہم آ گیا بھئی۔ دونوں ائمہ کی طرف خطا پر ہونے کا وہم آیا یا نہیں آیا؟ مسِ امرأة کے اندر ہی دیکھ لو، ہو سکتا ہے امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ خطا پر ہوں، ہو سکتا ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کس پر ہوں؟ خطا پر۔ قے کے مسئلے میں بھی دونوں طرف احتمال ہے، ہو سکتا ہے امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کس پر ہوں؟ خطا، ہو سکتا ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کس پر ہوں؟ خطا پر ہوں۔ تو خطا پر ہونے کا احتمال دونوں طرف آ گیا، دونوں علّتوں میں فساد کا وہم آ گیا۔ دونوں علّتوں میں فساد کا وہم آ گیا، فساد کا وہم آ گیا تو یہ اجماع علی الباطل ہوا، دونوں طرف کس کا احتمال آ گیا؟ خطا کا احتمال آیا، جب خطا کا احتمال آیا تو معلوم ہوا یہ اجماع علی الباطل ہے۔ دونوں طرف کیا آ گیا؟ بھئی دونوں طرف خطا کا احتمال، جب خطا کا احتمال آیا تو معلوم ہوا یہ اجماع کس پر ہے؟ باطل پر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں، جب یہ اجماع باطل پر ہے تو یہ اجماع فاسد ہوا، یہ سرے سے حجت بن ہی نہیں سکتا۔ اعتراض کی تقریر سمجھ میں آئی؟ کہ دونوں طرف خطا کا وہم ہے اور جب دونوں طرف خطا کا وہم ہے تو یہ اجماع علی الباطل ہوا اور اجماع علی الباطل جب یہ ہوا تو یہ اجماع فاسد ہے، لہٰذا یہ حجت بن ہی نہیں سکتا۔ جواب صاحبِ کتاب ذکر کریں گے۔ خلاصہ جواب یہ ہے مولانا، خلاصہ جواب پہلے سمجھ لیں کہ بھئی دونوں طرف خطا کا احتمال ہے، کسی ایک جانب میں بھی خطا متعین نہیں۔ مثلاً مسئلہ قے ہے، ٹھیک ہے اس میں امامِ شافعی رحمہ اللہ کا بھی خطا پر ہونے کا امکان، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی خطا پر ہونے کا امکان، احتمال ہے، لیکن حق پر ہونے کا بھی تو دونوں کا است، دونوں طرف احتمال ہے، ہو سکتا ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کس پر ہوں؟ حق پر، ہو سکتا ہے امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کس پر ہوں؟ حق پر ہوں۔ اسی طرح مسِ امرأة میں جیسے دونوں طرف خطا پر ہونے کا احتمال، اسی طرح حق پر ہونے کا بھی تو ایک دونوں طرف، مسِ امرأة میں ہو سکتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ حق پر ہوں، ہو سکتا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کس پر ہوں؟ حق پر ہوں۔ تو خطا کا دونوں طرف صرف احتمال ہے، کسی ایک طرف بھی خطا متعین نہیں ہے۔ متعین ہے کون سا امام خطا پر ہے کس مسئلے میں؟ یہ متعین نہیں، یہ تو صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ صرف اللہ جانتے ہیں۔ تو خطا کا دونوں طرف وہم آیا، کسی ایک جانب بھی خطا متعین نہ ہوئی۔ اور صرف وہم خطا کا وہم آنے سے اجماع کے صحیح ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صرف خطا کا بھئی، صرف خطا کا وہم ہے اور وہم کی وجہ سے اجماع کے صحیح ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اجماع صحیح ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو خطا کا صرف وہم آیا بھئی۔ جواب اچھی طرح سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا خطا کا صرف وہم ہے، جب خطا کا صرف وہم ہوا تو یہ اس بات کی طرف لے جانے والا نہیں ہے، اس بات تک پہنچانے والا نہیں ہے کہ یہ اجماع علی الباطل ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جس سے اجماع علی الباطل لازم نہیں آتا۔ اچھی طرح سب کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہتے ہیں: "والفساد متوہم فی الطرفین" اور فساد متوہم ہے دونوں طرف یعنی دونوں ائمہ کی علتوں میں فساد کا وہم ہے۔ دونوں ائمہ کی علتوں میں فساد کا وہم ہے۔ "لجواز ان یکون ابو حنیفۃ رحمہ اللہ مصیبا فی مسئلۃ المس مخطئا فی مسئلۃ القئی" اس لیے کہ جائز ہے، ممکن ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ مصیب ہوں مسئلہ مس میں، مصیب یعنی درستگی پر ہوں، حق کو پہنچنے والے ہوں مسئلہ مس میں۔ مسئلہ مس سے مراد کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، تو احتمال ہے کہ اس مسئلے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا ہوں؟ حق پر ہوں۔ اور "مخطئا فی مسئلۃ القئی" اور مسئلہ قے میں کس پر ہوں؟ خطا پر ہوں، مسئلہ قے میں خطا کرنے والے ہوں وہ بھئی، یہ احتمال بھی ہے۔ اور اسی طرح "والشافعی رحمہ اللہ مصیبا فی مسئلۃ القئی مخطئا فی مسئلۃ المس" ممکن ہے کہ وہ درستگی پر ہوں، حق تک پہنچنے والے ہوں مسئلہ قے کے اندر، خطا کرنے والے ہوں کس کے اندر؟ مسئلہ مس کے اندر۔ تو خطا کا صرف احتمال آیا "فلا یوادی هذا الى بناء وجود الاجماع على الباطل" تو یہ اس بات کی طرف پہنچانے والا نہیں، اس بات کی طرف لے جانے والا، یہ توہم فساد جو ہے، "هذا" سے کس کی طرف اشارہ ہے؟ توہم فساد کی طرف۔ یہ فساد کا وہم لے جانے والا نہیں ہے الی اس بات کی طرف، کس بات کی طرف؟ "بناء وجود الاجماع على الباطل" کہ اس اجماع کی بنا کس پر ہے؟ اس وجود اجماع کی بنا کس پر ہے؟ باطل پر ہے، اس طرف پہنچانے والا نہیں ہے، صرف وہم ہے متعین تو کسی ایک جانب میں بھی خطا نہیں ہے۔ جی۔ "بخلاف ما تقدم من الاجماع" بخلاف اس کے جو مقدم گزرا ہے اجماع میں سے۔ بخلاف اس کے جو مقدم گزرا ہے "من الاجماع" یعنی اجماع۔ یعنی جو وہ اجماع کی وہ قسم جو پہلے گزری بخلاف اس کے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی اس عبارت کا تعلق یہ ماقبل "فلا یوادی هذا الى بناء وجود الاجماع على الباطل" اس کے ساتھ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ جوڑو گے تو بھئی معاملہ بالکل عبارت بگڑ جائے گی، معنی بالکل خراب ہو جائے گا۔ اس دیکھو کیسے، اس سے ہم جوڑ کر ذرا دیکھتے ہیں، کہتے ہیں "فلا یوادی" دوبارہ دیکھو، پس نہیں ہے "فلا یوادی هذا" یہ توہم فساد پہنچانے والا نہیں ہے "الى بناء وجود الاجماع على الباطل" اس بات کی طرف کہ وجود اس وجود اجماع کی بنا کس پر ہے؟ باطل پر، اس تک پہنچانے والا نہیں ہے یہ "بخلاف ما تقدم" بخلاف اس کے جو پہلے گزرا "من الاجماع" وہ جو وہ اجماع جو پہلے گزرا وہ کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ کہ وجود اجماع کی بنا کس پر ہے؟ باطل پر۔ یہ والا اجماع تو باطل تک پہنچانے والا نہیں لیکن وہ جو پہلے گزرا تھا وہ کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ باطل تک۔ دیکھو معنی خراب ہوا یا نہیں ہوا؟ حالانکہ کوئی اجماع باطل تک پہنچانے والا نہیں، باطل پر کبھی اجماع نہیں ہوتا مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو پھر اس کا تعلق کس سے ہے؟ بھئی اس کا تعلق ہے "لا يبقى حجۃ" سے۔ "لا يبقى" جہاں آیا تھا بھئی "ثم هذا النوع من الاجماع لا يبقى حجۃ بعد ظهور الفساد فی احد الماخذین" اس سے تعلق ہے۔ یہاں بتلایا تھا بھئی کہ اجماع مرکب جو ہے، یہ حجت نہیں رہے گا جب دونوں علتوں میں سے کسی ایک علت میں کیا ظاہر ہو جائے؟ فساد ظاہر ہو جائے، تو یہ اجماع حجت نہیں رہے گا بخلاف اس اجماع کے جو پہلے گزر چکا ہے، اب اسی عبارت پہ آؤ "بخلاف ما تقدم" بخلاف اس اجماع کے جو پہلے گزر چکا ہے، کہ اس میں فساد علت کا امکان ہی نہیں۔ اجماع غیر مرکب بھئی، اجماع غیر مرکب کے اندر تو حکم میں بھی اتفاق تھا اور علت کے اندر بھی اتفاق، جب حکم میں بھی اتفاق، علت میں بھی اتفاق تو وہاں علت کے فساد کا وہم ہے؟ جی؟ یہاں تو دو دو رائے تھیں، وہاں تو ایک ہی رائے ہے، معلوم ہوا وہاں فساد کا خطرہ ہی نہیں۔ جب فساد کا خطرہ ہی نہیں تو وہاں پر ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اجماع حجت نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ کیا رہے گا؟ حجت ہی رہے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ کہ اس اجماع میں، یہ جو اجماع مرکب گزرا، اس کے اندر تو علتوں میں فساد کا امکان ہے، لہذا اگر علتوں میں سے کسی ایک علت میں فساد ظاہر ہو جائے تو یہ اجماع حجت بن کر باقی نہیں رہے گا، لیکن جب کہ وہ اجماع جو پہلے گزر چکا، غیر مرکب، وہاں علت کے اندر فساد کا وہم ہی نہیں ہے، لہذا وہاں پر یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ حجت بن کر باقی نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ کیا رہے گا؟ حجت رہے گا۔ "فالحاصل" حاصل بحث یہ مصنف فرماتے ہیں "انه جاز ارتفاع هذا الاجماع لظهور الفساد فیما بنی هو علیہ" کہ یہ جو اجماع ہے، حاصل یہ ہے کہ جائز ہے، حاصل یہ ہے کہ جائز ہے "ارتفاع هذا الاجماع" اس اجماع کا اٹھ جانا یعنی اس اجماع کا مرتفع ہو جانا، ختم ہو جانا۔ یہ جو اجماع مرکب ذکر ہوا بھئی ابھی، اس اجماع کا ختم ہو جانا اور اٹھ جانا ممکن ہے "لظهور الفساد" بوجہ فساد کے ظاہر ہونے کے "فیما" اس علت کے اندر، "ما" عبارت ہے کس سے؟ علت سے۔ اس علت کے اندر "بنی هو علیہ" جس پر بنا ہے اس کی، کس کی؟ اس اجماع کی۔ اس اجماع کی بنیاد ہے، جی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اجماع مرکب میں علتیں چونکہ الگ الگ، اب اگر وہاں کسی ایک علت میں بھی فساد ظاہر ہوا، تو پھر کیا رہے گا؟ یہ اجماع حجت نہیں، یہ اجماع اٹھ جائے گا، اجماع ختم ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اجماع کی بنیاد ہی کس پر تھی؟ وہ جو علتیں تھیں، ان کے نزدیک علت مس سے مراد سے وضو ٹوٹتا، ہمارے نزدیک قے سے وضو ٹوٹتا، تو امام شافعی اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اجماع اس لیے ہوا کہ دونوں کے نزدیک اس ان کی ذکر کردہ علت سے کیا ہو رہا تھا؟ وضو ٹوٹ رہا تھا، تو دونوں کے نزدیک وضو ٹوٹا۔ اب کسی ایک کے علت میں بھی فساد ظاہر ہو جائے تو اس تو وضو ٹوٹنے کے حکم کی بنیاد ہی کس پر تھی؟ علت پر تھی، تو اس امام کے نزدیک وضو ٹوٹے گا ہی نہیں، تو لہذا اجماع اٹھ جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ "فالحاصل انه جاز ارتفاع هذا الاجماع" حاصل یہ ہے کہ اس اجماع کا اٹھ جانا جائز ہے، ممکن ہے "لظهور الفساد فیما بنی هو علیہ" بوجہ فساد کے ظاہر ہو جانے کے اس علت کے اندر جس پر اس اجماع کی بنیاد ہے "ولهذا" اور اسی علت کی بنا پر "اذا قضى القاضی فی حادثۃ" بھئی ماقبل میں ایک ضابطہ بتلا دیا کہ جب علت ختم ہو جائے گی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ علت مرتفع ہوئی تو حکم بھی، یا یوں کہو علت فاسد ہوئی تو حکم کیا ہو جائے گا؟ مرتفع، حکم بھی فاسد۔ سمجھ میں آیا؟ تو علت کے ختم ہونے سے حکم ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ مولانا ایک قاضی ہے، اس نے کسی مسئلے کے، زید اور عمر کے درمیان جھگڑا ہوا، زید نے عمر پر دعویٰ کیا اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ جی، مسئلہ قاضی تک پہنچا، عمر انکار کر رہا ہے، زید نے دو گواہ پیش کر دیے بھئی، ان دونوں گواہوں نے گواہی دے دی کہ اس عمر نے ہمارے سامنے زید سے ایک لاکھ روپیہ مثلاً قرض لیا تھا، اس نے قرض لیا تھا، کیا کیا تھا؟ انہوں نے گواہی دے دی۔ جب گواہی دے دی تو قاضی فوراً کیا فیصلہ کر دے گا؟ عمر پر ایک لاکھ روپیہ لازم کر دے گا کہ یہ کس کو ادا کرو؟ زید کو ادا کرو۔ چنانچہ عمر کو اب ایک لاکھ روپیہ عمر نے ادا کر دیے بھئی۔ بعد میں بھئی قاضی کے سامنے ان دونوں گواہوں نے گواہی سے رجوع کر لیا، پتہ چلا انہوں نے جھوٹی گواہی دی تھی۔ کیا کی تھی؟ یا قاضی کو پتہ چلا کہ یہ جو دو گواہ تھے یہ تو غلام تھے بھئی، جن کی گواہی قبول ہی نہیں ہوتی۔ تو قاضی کے فیصلے کی بنیاد کس پر تھی مولانا؟ گواہی پر، یعنی قاضی کا فیصلے کی علت کیا تھی؟ وہ گواہی، اور وہ گواہی تو ہوئی باطل، ختم ہو گئی۔ اور آپ نے پڑھا جب علت ختم ہوتی ہے تو حکم بھی کیا ہو جاتا ہے؟ ختم۔ تو جب وہ گواہی باطل ہوئی تو قاضی کا حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ قاضی کا حکم بھی باطل ہو جائے گا۔ "ولهذا اذا" اور اسی علت کی بنا پر، یہی علت کہ جب علت ختم ہوگی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ "اذا قضى القاضی" جب فیصلہ کیا قاضی نے "فی حادثۃ" کسی واقعے میں "ثم ظهر رق الشهود" پھر گواہوں کا غلام ہونا ظاہر ہوا "او کذبهم" یا گواہوں کا جھوٹا کذب جھوٹا ہونا ظاہر ہوا "بالرجوع" بسبب رجوع کرنے کے، انہوں نے رجوع کر لیا معلوم ہوا وہ کیا تھے؟ جھوٹے تھے، تو کہتے ہیں "بطل قضاؤه" قاضی کا فیصلہ کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ "وان لم يظهر ذلك فی حق المدعی" اگرچہ یہ ظاہر نہیں ہوگا مدعی کے حق میں۔ یہ قاضی کے فیصلے کا بطلان باطل ہونا یہ مدعی کے حق میں ظاہر، یہ ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ ابھی آپ نے ہمیں بتلایا کہ جب علت ختم ہوگی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ لہذا جب پتہ چل گیا کہ گواہی باطل ہے تو قاضی کا فیصلہ بھی کیا ہو جائے گا؟ باطل، جب قاضی کا فیصلہ باطل ہوا تو قضا بالمال کے معاملے میں، قضا بالمال کے معاملے میں جو زید کو ہم نے ایک لاکھ روپیہ عمر سے لے کر دلوایا تھا، عمر سے لے کر اسے دیا تھا، وہ کیا کرنا چاہیے؟ زید سے واپس لے کر کیا کرنا چاہیے عمر کو؟ ہاں زید سے لے کر عمر کو واپس کرنا چاہیے۔ لیکن فقہائے کرام کیا لکھتے ہیں؟ کہ زید سے پیسے واپس نہیں لیے جائیں گے، وہ زید کے ہو چکے بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ نے تو کہا قاضی کا فیصلہ باطل ہو جائے گا، تو جب قاضی کا فیصلہ باطل ہوا تو زید سے بھی کیا کرنے چاہئیں؟ وہ ایک لاکھ روپیہ جو قاضی کے فیصلے کی وجہ سے اسے ملا ہے، اب وہ اسے واپس لے کر کس کو دینے چاہئیں؟ عمر کو واپس دے دینے چاہئیں۔ لیکن فقہائے کرام کیا لکھتے ہیں؟ کہ زید سے پیسے واپس نہیں لیے جائیں گے۔ کہتے ہیں بھئی وہ قاضی کا فیصلہ باطل ہوا ہے، لیکن اس کا بطلان مدعی کے حق میں نہیں ظاہر ہوگا، مدعی کے حق میں وہ فیصلہ نہیں باطل ہوا، صرف کس کے حق میں باطل ہوا ہے؟ جی؟ گواہوں کے حق میں اور مدعا علیہ کے حق میں بھئی۔ کس کے حق میں؟ مدعا علیہ کے حق میں۔ زید کے حق میں اس لیے نہیں ہوگا اس لیے کہ زید کا جو حق ثابت ہوا ہے وہ بینہ سے ثابت ہوا ہے۔ کس سے ثابت ہوا ہے؟ بھئی زید کے جو ہم نے ایک قاضی نے فیصلہ کروا کے کتنے پیسے دلوائے؟ ایک لاکھ روپے عمر سے دلوائے، یہ کس کے ذریعے ثابت ہوا تھا؟ دو گواہوں کے ذریعے، اور دو گواہ کیا ہیں؟ شرعاً حجت ہیں، شریعت نے کیا قرار دیا ہے ان کو؟ حجت قرار دیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہاں پر مولانا حق مدعی ثابت ہوا ہے حجت شرعیہ سے، حق مدعی کس کے ذریعے ثابت ہوا ہے؟ حجت شرعیہ سے، تو اگر ہم یہ کہیں کہ زید بھی ایک لاکھ روپیہ واپس کرے، اس کے حق میں بھی بطلان ظاہر ہو جائے، یہ تو حجت شرعیہ کو منسوخ کرنا لازم آئے گا۔ کیا لازم آئے گا؟ ایک چیز جسے شریعت نے حجت قرار دیا، شریعت نے دو گواہوں کو حجت قرار دیا اور وہ اس نے پیش کر دیے تھے جس کے ذریعے اس کا حق ثابت ہو گیا، اب اگر ہم کیا کریں کہ یہ ایک لاکھ واپس کرے تو ہم نے معلوم ہوا ہم نے کیا کر دیا حجت شرعیہ ہی کو منسوخ کر دیا، اور حجت شرعیہ کو تو منسوخ کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ شارع کی طرف سے تو منسوخ ہو سکتی ہے بندوں کی طرف سے منسوخ، لہذا یہاں اگر زید کے لہذا اب زید کے حق میں قاضی کے فیصلے کا بطلان ظاہر نہیں ہوگا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں "وان لم يظهر ذلك" اگرچہ ظاہر نہیں ہوگا یہ بطلان "فی حق المدعی" کس کے حق میں؟ مدعی کے حق میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ مدعی کے حق میں تو قاضی کے فیصلے کا بطلان اس لیے نہیں ظاہر ہوگا اس لیے کہ مدعی کا حق جو ہے وہ ثابت ہوا ہے بینہ سے یعنی حجت شرعیہ سے۔ مدعی کا حق کس چیز کے ذریعے ثابت ہوا ہے؟ حجت شرعیہ یعنی بینہ کے ذریعے ثابت ہوا ہے، اور اگر ہم اس کے حق میں بھی قاضی کے فیصلے کو باطل قرار دیں، اس کے حق میں بھی قاضی کے فیصلے کا بطلان ظاہر ہو اور اس سے وہ مال لے کر کس کو واپس دے دیں؟ مدعا علیہ کو واپس دیں، تو اس صورت میں حجت شرعیہ کو منسوخ کرنا لازم آئے گا اور حالانکہ حجت شرعیہ کو تو منسوخ کرنا بندوں، اس کا اختیار نہیں ہے، شارع کی طرف سے تو حجت شرعیہ منسوخ ہو سکتی ہے غیر شارع کی طرف سے اس کو منسوخ کرنا درست نہیں، لہذا چونکہ اس کا مدعی کا حق حجت شرعیہ سے ثابت ہوا ہے لہذا اس کے حق میں قاضی کے فیصلے کا بطلان ظاہر نہیں ہوگا بھئی۔ اس کے حق میں کیا ہوگا قاضی کے فیصلے کا بطلان ظاہر نہیں ہوگا، جبکہ مدعا علیہ کے حق میں اور گواہوں کے حق میں قاضی کے فیصلے کا بطلان ظاہر ہو گا۔ مدعی علیہ کے حق میں بطلان اس لیے ظاہر ہو گا تاکہ اسے ضرر سے بچایا جائے بھئی۔ کس سے بچایا جائے؟ بھئی قاضی نے فیصلہ کر دیا تھا کہ عمرو ایک لاکھ روپیہ کس کو ادا کر دے؟ زید کو ادا کر دے تو اس کو تو اب نقصان لازم آ رہا ہے بھئی۔ وہ ایک لاکھ روپیہ وہ ادا کر چکا ہے یا ادا کرے گا تو اس صورت میں کیا لازم آئے گا اس پر؟ ضرر لازم آئے گا تو اس کے حق میں کیا ظاہر ہو گا قاضی کے فیصلے کا؟ بطلان اس کے حق میں ظاہر ہو گا بھئی۔ تو لہذا اگر وہ ادا کر چکا ہے، تو اسے مال دلائیں گے ہم، اور اگر اس نے ادا نہیں کیا تو اس سے پھر مال وصول نہیں کیا جائے گا۔ اور گواہوں کے حق میں بھی بطلان ظاہر ہو گا اور وہ یہ کہ ان پر ضمان آ جائے گا بھئی۔ اگر عمرو ایک لاکھ روپیہ زید کو ادا کر چکا ہے، تو اب وہ گواہوں سے ضمان لے کر ایک لاکھ روپے کا وہ کس کو دیا جائے گا؟ عمرو کو دیا جائے گا۔ یا اگر ابھی عمرو نے ادا نہیں کیے تھے، پہلے سے بطلان کا ظاہر ہو گیا، بطلان کا پتہ چل گیا تو اس صورت میں اب گواہوں سے ایک لاکھ روپیہ لے کر کس کو دیا جائے گا؟ زید کو دلایا جائے گا، مدعی کو دلایا جائے گا۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مدعی علیہ کے حق میں فیصلے کا بطلان کیوں ظاہر ہو گا؟ تاکہ اسے کس سے بچایا جائے؟ اسے ضرر اور نقصان سے بچایا جائے بھئی۔ اور گواہوں کے حق میں قاضی کے فیصلے کا بطلان کیوں ظاہر ہو گا؟ تاکہ وہ آئندہ جھوٹی گواہی دینے سے باز رہیں، اوروں کو بھی نصیحت ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان پر ضمان واجب کر دیا جائے گا اور انہیں ادا کرنا پڑے گا وہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کہ اگر دیکھو عمرو کے خلاف فیصلہ ہوا، زید کے حق میں فیصلہ ہوا، اب دو صورتیں ہیں جب قاضی کے فیصلے کا بطلان ظاہر ہوا تو عمرو ایک لاکھ زید کو ادا کر چکا ہو گا یا ابھی اس نے ادا اگر ادا کر چکا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں، اب ہم وہ کس سے لے لیں گے؟ گواہوں سے لے کر وہ کس کو واپس کر دیں گے؟ عمرو کو واپس کر دیں گے۔ اور اگر عمرو نے ابھی نہیں دیے تو پھر اب اس سے وصول نہیں کیا جائے گا بلکہ کس سے لے لیا جائے گا وہ ایک لاکھ؟ گواہوں سے لے کر کس کو ادا کر دیا جائے گا؟ زید کو ادا کر دیا جائے گا۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تو ان دونوں کے حق میں بطلان کیوں ظاہر ہوا؟ کہ تاکہ مدعی علیہ کو کس سے بچایا جائے؟ ضرر سے، اور گواہوں کے حق میں بطلان کیوں ظاہر ہوا؟ تاکہ ان کو تنبیہ ہو جائے، آئندہ جھوٹی گواہی دینے سے باز رہیں بھئی، اور اوروں کو بھی نصیحت ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وباعتبار هذا المعنى سقطت المؤلفة قلوبهم عن الأصناف الثمانية لانقطاع العلة. اور اسی علت کا اعتبار کرتے ہوئے بھئی، وباعتبار هذا المعنى اسی علت کا اعتبار کرتے ہوئے کہ جب علت ختم ہو گی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ سقطت المؤلفة قلوبهم مؤلفة القلوب کی قسم جو ہے ساقط ہو گئی ہے عن الأصناف الثمانية اٹھ قسموں میں سے لانقطاع العلة بوجہ علت کے منقطع ہونے کے۔ علت کے منقطع ہونے کے۔ قرآن میں مولانا زکوٰۃ کے مصارف اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں بھئی، سورۃ التوبہ کے اندر آیت نمبر 60 کے میں بھئی۔ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم. زکوٰۃ کے مصارف اللہ نے اٹھ بیان فرمائے۔ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ إنما الصدقات للفقراء صدقات تو کس کے لیے ہیں؟ فقراء کے لیے ہیں والمساكين اور مساکین محتاجوں کے لیے ہیں والعاملين عليها اور جو اس پر عمل کرنے والے ہیں، جو اس پر کیا کرنے والے ہیں؟ یعنی جو کارکن ہیں، جو زکوٰۃ کو اکٹھے کرنے والے ہیں، حکومت کی جانب سے جو کیا ہیں؟ عمل کرنے والے ہیں، اس کو اکٹھے کرنے والے ہیں، ان کا حق ہے یہ۔ والمؤلفة قلوبهم اور مؤلفة القلوب جو ہیں، مؤلفة القلوب جن کی دلجوئی کرنا ہے، دلجوئی کرنا ہے۔ وفي الرقاب اور گردنوں کے چھڑانے میں، یعنی غلاموں کو آزاد کروانے میں لگائی جائے گی۔ والغارمين اور قرض داروں کے قرضے میں، یعنی ان کے قرضے کی ادائیگی میں۔ وفي سبيل الله اور اللہ کے راستے میں، یعنی جو جہاد میں ہیں مجاہد ان پر۔ وابن السبيل اور جو مسافر ہیں، فريضة من الله یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے، والله عليم حكيم اور اللہ خوب جاننے والے اور حکمت حكيم ہیں بھئی۔ تو دیکھا؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کے یہ اٹھ مصارف بیان فرمائے کہ ان ان کو زکوٰۃ دو بھئی۔ ان میں سے ایک قسم مؤلفة القلوب ہیں بھئی۔ مؤلفة القلوب، جن کی تالیفِ قلب کے لیے بھئی ان کو زکوٰۃ دی جاتی تھی۔ بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے زمانے میں ان کو دیتے تھے بھئی پھر۔ یہ کون لوگ تھے؟ بھئی یہ کچھ تو کفار ہی تھے۔ کفار ہی تھے، سردار وغیرہ کفار کے ہوتے تو ان کو کیا کیا کرتے؟ زکوٰۃ میں سے کچھ زکوٰۃ کا مال اکٹھا ہوتا، اس کا کچھ حصہ ان کو دیا جاتا تھا تاکہ یہ لوگ مسلمانوں کی طرف، اسلام کی طرف مائل ہو جائیں۔ کیا ہو جائیں؟ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں۔ ان کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے اور ان کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لیے زکوٰۃ میں کے مال میں سے کچھ حصہ ان کو دیا جاتا تھا۔ نیز اس لیے بھی تاکہ ان کے شر سے حفاظت ہو، یہ مسلمانوں کے لیے کسی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ ان کو مؤلفة القلوب کہتے تھے، ان کو تالیفِ قلب کے لیے دیا جاتا تھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کس لیے؟ دلجوئی کرنے کے لیے، ان کی دلجوئی کرنے کے لیے۔ اسی طرح بعض نئے مسلمان ہوتے تو ان کو بھی تالیفِ قلب کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیتے بھئی۔ یہ بھی مؤلفة القلوب میں داخل تھے بھئی۔ بھئی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں تاکہ اور اسلام کی طرف راغب ہوں، پکے ہو جائیں، جم جائیں بھئی اسلام پر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جہالت کا زمانہ تھا تو اسلام آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا تھا تو زکوٰۃ کے مصارف میں یہ ایک مصرف بھی بیان کیا اللہ تعالیٰ نے بھئی۔ پھر بعد میں حضور، تو یہ مصرف چلتا رہا، ان کو تالیفِ قلب کے لیے ان کو دیا جاتا تھا بھئی۔ کفار سردار وغیرہ بھی ہوتے تھے یا جو نئے مسلمان ہوتے تھے ان کو بھی دیا جاتا تھا۔ تو یہاں تک کہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا بھئی۔ تو ایک مرتبہ اسی طرح دو سردار آئے بھئی، بڑے سردار تھے، ایک کا نام اقرع تھا، ایک کا نام عین۔ یہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور یہ مؤلفة القلوب میں سے تھے بھئی، حضور ان کو دیتے تھے مال، اور آ کر ایک بڑی جاگیر مانگی بھئی۔ کوئی خاص جگہ تھی وہ کہ وہ جگہ ہمیں دے دیں، بڑی جاگیر تھی بھئی۔ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ کر دے دیا مولانا کہ ہاں ٹھیک ہے، وہ جاگیر کیا ہے؟ تمہاری ہو گئی، باقاعدہ لکھ کر دے دی، رسید بھی حوالے کر دی مولانا، خلیفۃ المسلمین نے بھئی۔ تو پھر انہوں نے حضرت صدیق سے تو لے لیا لکھا ہوا، سوچا کہ چلو حضرت عمر کے پاس بھی چلتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان سے بھی لکھوا لیں، وہ ذرا وہ بھی بڑے معتبر آدمی ہیں بھئی، تو ان کی جب وہ بھی کر دیں گے تو بات بڑی پکی ہو جائے گی بھئی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے بھئی۔ حضرت عمر کو بتلایا کہ ہم فلاں جاگیر ہم نے مانگی تھی حضرت صدیق نے ہمیں، حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں کیا کر دیا ہے؟ دے دی ہے، اب ہم آپ کے پاس بھی آئے ہیں کہ آپ بھی کیا کر دیں؟ جی ہمیں دے دیں لکھ کر۔ حضرت عمر نے فرمایا اچھا بھئی! لاؤ بھئی کدھر ہے؟ دکھاؤ ذرا کہاں لکھ کر دیا ہے؟ انہوں نے پکڑایا بھئی، وہ لکھا ہوا تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایات میں آتا ہے تھو تھو کرتے ہوئے حضرت عمر نے اس کے اوپر تھوک دیا اور اس کو آپس میں مل دیا کاغذ کو، وہ لکھائی ساری خراب کر دی۔ بعد میں آتا ہے پھاڑ دیا بھئی اس کو۔ سمجھ میں آیا؟ اس پر پہلے تھوک دیا اور اس کو آپس میں رگڑ دیا بھئی، ساری لکھائی خراب کر دی، پھاڑ دیا کاغذ کو اور کہا کہ کہ ہم پہلے کمزور تھے اور اس لیے تمہیں مال وغیرہ دیتے تھے، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت نصیب فرما دی ہے، اسلام قوت والا ہو گیا ہے، اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے تمہاری، جاؤ بھئی۔ یہ تھے مسلمان بھئی، اقرع و عینہ۔ بڑے ناراض ہوئے بھئی، یہ کیا بھئی؟ یہ تو سارا کام ہی خراب ہو گیا بھئی، اچھا بھلا خلیفہ نے ہمیں حکم لکھ کر دے دیا تھا، جو واپس چلے گئے بھئی حضرت صدیق کے پاس کہ اس طرح عمر نے کیا ہے، آپ خلیفہ ہیں یا عمر خلیفہ ہیں بھئی؟ حضرت صدیق نے جواب میں فرمایا: هو إن شاء الله بھئی، وہ ہوں گے انشاء اللہ، اگر چاہا تو۔ تو بس حضرت عمر نے یہ فیصلہ کر دیا ہے، بس بھئی میں نہیں دے سکتا، انکار کر دیا۔ بعد میں مشورہ وغیرہ ہوا تو چنانچہ اس کے بعد پھر کیا ہوا؟ اجماع ہوا صحابہ کا کہ اب مؤلفة القلوب کیا ہیں؟ ان کو مال دینے کی حاجت، زکوٰۃ کا مال دینے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کو مال دینے کی علت کیا تھی؟ ضعفِ اسلام، کیا علت تھی؟ ضعفِ اسلام، اسلام کمزور تھا اس لیے ان کو مال دیا جاتا تھا، اب اسلام کو اللہ نے قوت عطا فرما دی ہے، اب ان کو مال دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تو علت ختم ہوئی تو حکم بھی کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی کہ یہ عینہ پھر مرتد ہو گیا بھئی۔ اور بچے اس کا مذاق اڑاتے تھے اس کا بھئی، عینہ تو تو مرتد ہو گیا ہے، مرتد ہو گیا ہے۔ عینہ کہتا کہ واللہ میں مسلمان ہی کب ہوا تھا بھئی، میں مسلمان ہی کب ہوا، معلوم ہوا صرف دکھاوے کے لیے شاید مسلمان ہوا تھا پہلے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھا علت ختم ہوئی تو دیکھا اٹھ قسموں میں سے جو مؤلفة القلوب تھے وہ وہ قسم کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، علت ختم ہوئی تو حکم بھی ختم بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وباعتبار هذا المعنى اور اسی علت کا اعتبار کرتے ہوئے سقطت المؤلفة قلوبهم عن الأصناف الثمانية ساقط ہو گئے مؤلفة القلوب کس سے؟ عن الأصناف الثمانية اٹھ انواع میں سے یہ مؤلفة القلوب ساقط ہو گئے لانقطاع العلة علت کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی اس مسئلے کی؟ اسی طرح ہے وسقط سهم ذوي القربى لانقطاع علته اور ساقط ہو گیا حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا حصہ علت کے ختم ہو جانے کی وجہ سے، علت کے ختم ہو جانے کی وجہ سے بھئی۔ بھئی قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مالِ غنیمت کے بیان ہے بھئی۔ کہتے ہیں کیا قرآن میں اللہ فرماتے ہیں؟ واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسة وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل. اور جان لو أنما غنمتم من شيء کہ جو چیز بھی تمہیں بطورِ غنیمت کے حاصل ہو فأن لله خمسه تو یقیناً اللہ کے لیے ہے اس کا پانچواں حصہ وللرسول اور اللہ کے رسول کے لیے ہے ولذي القربى اور حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کے لیے ہے واليتامى اور یتیموں کے لیے ہے والمساكين اور مسکینوں کے لیے ہے وابن السبيل اور مسافروں کے لیے ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر دیکھو مالِ غنیمت جو حاصل ہوا جو جہاد کے اندر جتنا مال حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ الگ کر کے نکال لیا جاتا ہے اور اس پانچویں حصے کے مصرف پانچ اللہ نے قرآن میں گنوائے۔ کتنے جگہ پر یہ خرچ کیا جائے گا؟ پانچ جگہ، ایک کون؟ اللہ کے رسول ہیں۔ فإن اللہ کے لیے خمس ہے بھئی، یہ ذاتِ باری تعالیٰ کا ذکر صرف برکت کے لیے ہے یہاں پر بھئی، سمجھ میں آیا؟ اللہ کو کسی کے مال کی کوئی حاجت نہیں، تو پانچ خمس کے پانچ حصے ہوں گے بھئی، حضور علیہ السلام کا حصہ بھی ہو گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کا حصہ ہو گا، حضور علیہ اور اسی طرح یتیموں کا حصہ ہو گا اور مسکینوں کا حصہ ہو گا اور مسافروں کا، پانچ قسم کے لوگ ہیں بھئی۔ اب ان میں سے حضور علیہ السلام کا ایک حصہ اور ایک حصہ حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا، حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کو اس لیے دیا جاتا تھا خمس میں سے حصہ اس لیے کہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی بڑی مدد کی تھی بھئی، بڑی نصرت کرتے تھے حضور علیہ السلام کی، بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نیا دین پھیلا رہے ہیں، آپ کو پتہ ہے، آپ نے پڑھا، پورا عرب دشمن بنا ہوا تھا، لیکن حضور کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے تھے وہ۔ تکلیف تو پہنچاتے تھے مطلب حد سے، ایک حد سے تجاوز نہیں کر سکتے تھے، کیوں نہیں کر سکتے تھے؟ کہ ان کی ساری حضور کے رشتہ دار، ان کی قوم والے ان کے ساتھ ہوتے تھے بھئی۔ حضور کے رشتہ داروں کو اللہ نے حضور کی کا نصرت کرنے والا بنا دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی اس زمانے میں قومی غیرت ایک بڑی چیز تھی بھئی، ایک قوم والا یہ برداشت کبھی بھی نہیں کرتا تھا کہ میری قوم والے کو کوئی دوسرا شخص کیا کرے؟ تکلیف پہنچائے یا کوئی نقصان پہنچائے بھئی، اگر کسی نے کسی کا نقصان کیا ہے دوسری قوم والے کا تو وہ آ کر قوم کے سردار کو کہے، وہ اس سے کہے کہ ہم تمہیں خود انصاف دلوائیں گے، لیکن تم ایسا نہیں کر سکتے کہ براہِ راست ہمارے کسی آدمی پر ہاتھ اٹھاؤ اور اس کو نقصان پہنچاؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضور کی نصرت فرماتے تھے بھئی سارے۔ ان کا بھی حصہ رکھا گیا خمس میں، اور جب حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا تو حضور کا حصہ تو ساقط ہوا کیونکہ حضور ہی اس دنیا میں نہ رہے، اور اسی طرح حضور کے رشتہ داروں کا بھی حصہ ساقط ہوا، کیونکہ رشتہ داروں کا حصہ کس لیے تھا؟ کیونکہ وہ حضور کی نصرت فرماتے تھے، سمجھ میں آیا؟ تو جب حضور اس دنیا سے چلے گئے تو اب ان کی نصرت بھی کیا ہوئی؟ وہ علت ختم ہو گئی، حضور کی نصرت کرنا ختم ہو گیا، اور جب علت ختم ہوئی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم، لہذا اب ان کو خمس میں سے ایک کوئی حصہ نہیں، تو اب خمس کے صرف تین حصے ہوں گے یتیموں کو، مسکینوں کو اور مسافروں کو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو رشتہ دار ہیں، خاندان والے ہیں ان کو ان کا حصہ ساقط ہو چکا۔ ہاں اگر ان میں سے کوئی یتیم ہے، مسکین ہے یا مسافر ہے، تو یتیم ہونے کی حیثیت سے یا مسکین ہونے کی حیثیت سے یا مسافر ہونے کی حیثیت سے تو دیا جائے گا لیکن حضور کے رشتہ دار ہونے کی حیثیت سے خمس کا خمس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ تو یہی بات کر رہے ہیں وسقط سهم ذوي القربى اور ساقط ہو گیا حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا حصہ لانقطاع علته اس حصے کی علت کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے، اس حصے کی علت ہی کیا ہو گئی؟ منقطع ہو گئی تو اب وہ حصہ بھی نہیں رہے گا۔ وعلى هذا إذا غسل الثوب النجس بالخل فزالت النجاسة يحكم بطهارة المحل اور اسی بنا پر جب دھویا جائے کسی نجس کپڑے کو بالخل سرکے کے ساتھ فزالت النجاسة پس زائل ہو جائے نجاست يحكم بطهارة المحل تو حکم لگایا جائے گا اس محل کی طہارت۔ انے کی حیثیت سے خمس کا خمس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ وسقط سهم ذوي القربى اور ساقط ہو گیا حضور علیہ السلام کے رشتہ داروں کا حصہ لانقطاع علته اس حصے کی علت کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے۔ اس حصے کی علت ہی کیا ہو گئی؟ منقطع ہو گئی تو اب وہ حصہ بھی نہیں رہے گا۔ وعلى هذا إذا غسل الثوب النجس بالخل فزالت النجاسة يحكم بطهارة المحل اور اسی بنا پر جب دھویا جائے کسی نجس کپڑے کو بالخل سرکے کے ساتھ فزالت النجاسة پس زائل ہو جائے نجاست يحكم بطهارة المحل تو حکم لگایا جائے گا اس محل کی طہارت کا لانقطاع علتها بوجہ اس کی علت کے منقطع ہونے کے، اس نجاست جی۔ بھئی دیکھو صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک کپڑا ہے، وہ نجس ہوا، اس پر کوئی نجاست لگی ہوئی ہے۔ دیکھو ایک کپڑا ہے اس پر کیا لگی ہوئی ہے؟ نجاست لگی ہوئی ہے۔ جب نجاست لگی ہوئی ہے تو اب اپ اس کپڑے کو کیا کہیں گے؟ یہ کپڑا نجس ہے، یہ کپڑا ناپاک ہے۔ اب آپ نے سرکے کے ساتھ اس کپڑے سے نجاست کو دھو دیا، دور کر دیا۔ جب سرکے کے ساتھ دھویا تو وہ نجاست چلی گئی کپڑے سے۔ جب وہ نجاست چلی گئی، تو اب آپ اس کپڑے پر کیا حکم لگائیں گے کہ یہ کپڑا کیا ہو گیا؟ پاک ہو گیا۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ کپڑے کے ناپاک ہونے کی علت ختم ہو گئی۔ ناپاک کپڑا ہم اس کو کیوں کہہ رہے تھے؟ کیونکہ اس پر نجاست لگی ہوئی تھی، اور وہ نجاست سرکے کے دھونے کے ساتھ جب ہم نے دھویا تو وہ نجاست کیا ہوئی؟ زائل ہو گئی۔ جب نجاست زائل ہو گئی تو کپڑے کے ناپاک ہونے کی علت ختم ہو گئی۔ جب ناپاک ہونے کی علت ختم ہوئی، تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ اب اس پر ناپاک ہونے کا حکم بھی، جب ناپاک ہونے کا حکم نہیں لگے گا، تو ظاہری بات ہے پھر کیا حکم لگے گا؟ پاک ہونے کا حکم لگے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی: وعلى هذا اور اسی بنا پر إذا غسل الثوب النجس بالخل جب دھویا گیا نجس کپڑے کو بالخل کس کے ساتھ؟ سرکے کے ساتھ فزالت النجاسة اور زائل ہو گئی نجاست يحكم بطهارة المحل تو حکم لگایا جائے گا اس محل کی طہارت کا، یعنی یہ محل، یعنی یہ کپڑا کیا ہو گیا؟ پاک ہو گیا لانقطاع علتها بوجہ اس کی نجاست کے علت کے منقطع ہونے کے۔ علتها أي علت النجاسة، یعنی اس کپڑے کے نجاست کی علت کیا ہوئی؟ جب نجس ہونے کی علت ختم ہوئی، جب نجس ہونے کی علت ختم ہوئی تو کپڑا کیا ہوا؟ پاک ہوا۔ وبهذا ثبت الفرق بين الحدث والخبث اور کہتے ہیں ہاں، اس سے ثابت ہو گیا یہ جو علت کیا تھی؟ پاک ہونے کی علت کیا تھی؟ نجاست کا زائل ہو جانا۔ اس سے فرق بھی پتہ چل گیا حدث اور خبث کے درمیان۔ ایک ہے حدث مولانا، ایک ہے خبث۔ حدث کہتے ہیں نجاستِ حکمیہ کو، خبث کہتے ہیں نجاستِ حقیقیہ کو۔ خبث کسے کہتے ہیں؟ نجاستِ حقیقیہ، وہ نجاست جس کا جسم ہو بھئی، اور حدث کسے کہتے ہیں؟ نجاستِ حکمیہ۔ اور نجاستِ حکمیہ پھر دو قسم پر ہے: ایک ہے حدثِ اصغر، ایک ہے حدثِ اکبر۔ حدثِ اصغر کیا ہے؟ بے وضو ہونا، بے وضو ہونا۔ اور حدثِ اکبر کیا ہے؟ جنبی ہونا، جنابت کی حالت میں ہونا، بے غسل ہونا۔ جی۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ حدث کسے کہتے ہیں؟ نجاستِ حکمیہ۔ اور خبث کسے کہتے ہیں؟ نجاستِ حقیقیہ۔ اور نجاستِ حکمیہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر: ایک ہے بے وضو ہونا، اور ایک ہے جنبی ہونا۔ جی۔ تو کہتے ہیں اس سے کہ نجاست کے زائل ہو جانے سے کپڑا کیا ہو گیا؟ پاک ہو گیا۔ اس سے حدث اور خبث کے درمیان آپ کو فرق بھی پتہ چل گیا۔ اس لیے کہ وہ جو کپڑا تھا اس کو سرکے سے دھویا تو ہم نے اس پر پاک ہونے کا حکم کیوں لگایا تھا کہ وہاں پر نجاستِ حقیقیہ لگی ہوئی تھی، خبث وہاں موجود تھا۔ سرکے سے وہ خبث جب چلا گیا تو ہم نے کیا حکم لگا دیا؟ کپڑا پاک ہو گیا۔ لیکن ایک شخص کے ساتھ اگر نجاستِ حکمیہ ہو، اس کو کیا لاحق ہو؟ نجاستِ حکمیہ، یعنی اس کو حدث لاحق ہو، تو کوئی ظاہری نجاست تو لگی نہیں ہوئی بلکہ کیا ہے؟ نجاستِ حکمیہ ہے۔ تو یہاں بدن کو جو ہے نجاستِ حکمیہ لاحق ہے۔ اگر نجاستِ حقیقیہ ہوتی تو پھر ہم کیا کہتے کہ سرکے کے ساتھ دھونے سے یہ نجاست چلی گئی اور بدن کیا ہو گیا؟ پاک۔ لیکن یہاں پر جو نجاست کا حکم لگایا شریعت نے وہ کسی ظاہری نجاست کی وجہ سے نہیں لگایا، لہذا اب چونکہ یہاں پر جو نجاست بدن کو لاحق ہوئی ہے، وہ کسی نجس چیز کے لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ کس وجہ سے ہے؟ شریعت کے حکم کی وجہ سے۔ شریعت نے کیا حکم لگایا ہے کہ بدن کو کیا لاحق ہو چکی ہے؟ نجاست لاحق ہو چکی ہے۔ تو یہاں چونکہ بدن نجس ہوا ہے کسی ظاہری نجاست کی وجہ سے نہیں بلکہ کس وجہ سے؟ شریعت کے حکم کی وجہ سے بدن پر نجس ہونے کا ہم نے حکم لگایا ہے، لہذا اب یہ پاک صرف مطہر سے ہو گا، وہ چیز جسے شریعت نے پاک کرنے والا بنایا ہے، ہر پاک چیز کے ساتھ یہ پاک نہیں ہو گا۔ آپ سرکے سے وضو کر لیں تو ہم یہ نہیں کہیں گے آپ کا وضو ہو گیا اور بدن پاک ہو گیا، اس لیے کہ سرکہ مطہر نہیں۔ کوئی بھی پاک چیز ہو جس کے ذریعے نجاست زائل کی جا سکتی ہو، نجاست زائل کی جا سکتی ہو، وہ مطہر نہیں ہے بلکہ مطہر شریعت نے صرف پانی کو قرار دیا ہے۔ تو وہاں کپڑے کے اندر چونکہ اس پر نجاستِ ظاہری لگی ہوئی تھی اور وہاں اس پر پاک ہونے کا حکم تب لگے گا جب وہاں سے کیا چلی جائے؟ نجاستِ حقیقیہ چلی جائے، اور جب سرکے سے دھویا اب سرکہ مطہر نہیں، پیٹرول وغیرہ مثلاً اور کوئی چیز پاک ہے، وہ مطہر نہیں، تو اس سے آپ نے کپڑے کو دھویا تو اس کا سرکے نے نہیں کپڑے کو پاک کیا، اس پیٹرول نے نہیں کپڑے کو پاک کیا، اس نے صرف اتنا کام کیا کہ وہاں سے نجاست کو ختم کر دیا بس، اور جب نجاست ختم ہوئی تو کپڑے سے نجس ہونے کا حکم بھی خود بخود کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ جبکہ یہاں پر ہمارے بدن کو جو نجاست لاحق ہوئی ہے وہ کوئی ظاہری نجاست نہیں ہے کہ جو کسی پاک چیز سے کیا ہو جائے؟ ختم ہو جائے، بلکہ یہاں پر جو بدن پر نجس ہونے کا حکم ہے وہ کس وجہ سے آیا ہے؟ شریعت کی وجہ سے، شریعت نے یہ حکم لگایا کہ اس وقت آپ کا بدن کیا ہو چکا؟ نجس ہو چکا، لہذا اب بدن پاک بھی اسی چیز سے ہو گا جس کو شریعت نے مطہر قرار دیا ہے، اور شریعت نے مطہر صرف کس کو قرار دیا ہے؟ پانی کو قرار دیا ہے۔ لہذا اب پانی سے وضو کرے گا تو وہ نجاستِ حکمیہ جائے گی، اگر کسی اور چیز سے وضو کرے گا تو نجاستِ حکمیہ نہیں جائے گی، اس لیے کہ یہاں پر جو نجاستِ حکمیہ یا جو نجاست کا حکم لگایا گیا ہے وہ کسی نجاست کے لگنے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ شریعت کے حکم کی وجہ سے ہے، لہذا یہاں یہ نجاستِ حکمیہ دور بھی اسی چیز سے ہو گی جس کو شریعت نے مطہر قرار دیا ہو، کسی اور چیز سے یہ نجاست دور نہیں ہو گی۔ تو اور اس سے فرق بھی ثابت ہو گیا حدث یعنی نجاستِ حکمیہ والخبث اور نجاستِ حقیقیہ کے درمیان، فإن الخل يزيل النجاسة عن المحل اس لیے کہ سرکہ وہ تو دور کر دیتا ہے نجاست کو محل سے، اس جگہ سے، اس کپڑے سے، فأما الخل باقی جو سرکہ ہے لا يفيد طهارة المحل وہ تو محل کی طہارت کا فائدہ، ہاں محل کی طہارت کا فائدہ نہیں دیتا صرف اس نجاست کو دور کر دیتا ہے اس جگہ سے، وإنما يفيدها المطهر اور باقی محل کی طہارت کا فائدہ تو صرف کون دیتا ہے؟ مطہر دیتا ہے، اور وهو الماء اور وہ پانی ہی ہے، اور کوئی چیز نہیں ہے، لہذا پانی سے وضو کرو گے تو وہ یا پانی سے غسل کرو گے تو وہ نجاستِ حکمیہ جائے گی، اور کسی چیز سے نہیں جائے گی۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 100 of 123