Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 131
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی مولانا! گزشتہ سبق میں ہم بحث کر رہے تھے استعارہ کے بارے میں بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا استعارہ جو ہے علماء اصولِ فقہ کے نزدیک مترادف ہے مجاز کے اور مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کا استعمال کرنا معنی غیر موضوع لہ کے اندر بھئی، تو یہی استعارہ ہے بھئی استعارہ۔ اور پھر معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ کے درمیان کوئی علاقہ ہو گا، کوئی نسبت ہو گی، کوئی اتصال ہونا ضروری ہے، بغیر اتصال کے نہیں؟ تو جیسے کبھی مولانا علاقہ تشبیہ کا ہوتا ہے، کبھی علاقہ کیا ہوتا ہے؟ کلیت جزئیت کا ہوتا ہے یا علاقہ ظرفیت کا ہوتا ہے یا علاقہ علیت کا ہوتا ہے یا علاقہ سببيت کا ہوتا ہے، مثلاً ایک کل ہے، دوسرا معنی موضوع، کل بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ جز یا جز بول کر کل مراد لیتے ہیں، سبب بول کر مسبب، مسبب بول کر سبب، علت بول کر معلول، معلول بول کر علت اور اسی طرح ظرف بول کر مظروف، مظروف بول کر ظرف وغیرہ، یہ مختلف قسم یہ سارے دیکھو سب کا آپس میں اتصال ہے، سبب کا مسبب سے اتصال ہے، علت کا معلول سے اتصال ہے، ظرف کا مظروف سے اتصال ہے وغیرہ۔ اب احکامِ شریعت میں بھی جو استعارہ استعمال ہوتا ہے وہ دو طریقوں سے ہے بھئی، دو چیزوں، ایک علت، وہ اتصال جو پایا جاتا ہے علت اور معلول کے درمیان تو اس کی وجہ سے استعارہ کیا جاتا ہے اور وہ اتصال جو کس کے درمیان پایا جاتا ہے؟ سبب اور مسبب کے درمیان پایا جاتا ہے، تو ان میں اتصال ہے تو یہاں مولانا علت بول کر کیا کر سکتے ہیں؟ معلول مراد لیتے البتہ سبب بول اور اسی طرح سبب بول کر مسبب بھی مراد لے سکتے ہیں۔ لیکن علت میں استعارہ طرفین سے جائز ہے یعنی علت بول کر معلول بھی مراد ہو سکتا ہے اور معلول بول کر علت، معلول یعنی وہ حکم، تو علت بول کر حکم بھی مراد لے سکتے ہیں اور حکم بول کر علت بھی، لیکن جہاں ہے علاقہ سببيت کا، وہاں پر مولانا سبب بول کر حکم تو مراد لیا جا سکتا ہے یعنی مسبب تو مراد لیا جا سکتا ہے لیکن مسبب بول کر سبب نہیں، یعنی حکم بول کر سبب مراد نہیں نہیں لیا جا سکتا، نہیں لیا جا سکتا۔ اور پھر اس کے بعد اس کی مثال آئی تھی مولانا، مثال آئی تھی۔ پہلے کی مثال، جب ایک شخص نے کیا کہا؟ "إن ملكت عبداً فهو حر"، تو یہاں ملک کا ذکر کیا اور ملک تقاضا کرتی ہے اجتماعِ عرف کے اندر، عرف میں، عرف میں مالک کسی چیز کا مالک اسی کو کہا جاتا ہے جب کہ اس کا پورا مالک ہو۔ تو ایک شخص کہتا ہے "إن ملكت عبداً فهو حر"، اگر میں غلام کا مالک بنا تو وہ آزاد ہے، اب اس نے غلام آدھا خریدا اور پھر اس تو پورا تو نہ ہوا، وہ آزاد نہیں، اس کو وہ آگے بیچ دیتا ہے، پھر بقیہ بقیہ آدھے کا بھی وہ مالک بن جاتا ہے مولانا، تو اب باقی آدھا اس کی ملک میں تو آیا لیکن اس نے لفظ بولا تھا "ملكت"، غلام کا مالک پورا بن گیا ایک لحاظ سے لیکن جو پہلا نصف تھا وہ اب اس کے حصے میں نہیں، اب پورا غلام اس کی ملک میں اکٹھا نہیں ہوا اور اس نے لفظِ ملک بولا ہے، بولا ہے اور ملکیت کیا تقاضا کرتی ہے؟ اجتماعِ مملوک کا، لہٰذا پورا غلام اس کی ملک میں جمع نہیں ہوا، اس لیے غلام آزاد بھی نہیں ہو گا۔ اس کے بجائے اگر ایک شخص کہتا ہے "إن اشتريت عبداً فهو حر"، اگر میں نے غلام خریدا تو وہ آزاد ہے، تو شراء کہا اور شراء تقاضا نہیں کرتا اجتماعِ مشترى کا اجتماعِ مشترى کا ملک میں، بلکہ وہ تقاضا کرتا ہے اجتماعِ مشترى کا عقد میں، کہ عقد میں پوری چیز جمع ہونی چاہیے، اگرچہ متفرق ہی کیوں نہ ہو، تو اب اس شخص نے آدھا غلام خریدا تو وہ اور پھر اس آدھے کو بیچ دیا آگے، پھر باقی آدھا بھی خرید لیا، تو اب دیکھو پورے غلام کا وہ مالک تو نہیں اس وقت، لیکن کوئی بات نہیں کیونکہ شراء تقاضا نہیں کرتا اجتماعِ مشترى کا ملک میں، البتہ پورے عقد میں پورا غلام جمع ہو گیا ہے اور شراء جب پورا عقد میں جمع ہو گیا تو اب یہ نصف کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، کیونکہ وہ اب پورا غلام خریدنے والا ہے، پورا غلام خریدنے اور اس نے بھی کہا تھا، اگر میں نے پورا غلام خریدا تو وہ کیا ہے؟ آزاد، تو آدھا نصف تو اب اس کے قبضے میں ہی نہیں ہے، اس کی تو بات نہیں، لیکن جو اس کے قبضے میں آیا وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ "ولو عنى بالملك الشراء أو بالشراء الملك صحت نيته بطريق المجاز" اب دیکھو یہاں شراء اور ملک ذکر ہوئے، یاد رکھو یہ شراء علت ہے اور ملکیت اس کا حکم ہے، جب بھی کوئی چیز خریدیں گے آپ اس کے کیا بن جائیں گے؟ مالک بن جائیں گے، تو شراء علت ہے اور ملکیت اس کا حکم، تو یہ علت معلول ہوئے مولانا اور علت اور معلول کے درمیان استعارہ دونوں جانب سے جائز ہے، ملک بول کر شراء بھی مراد لے سکتے ہیں اور شراء بول کر ملک بھی مراد لے سکتے ہیں بھئی۔ تو یہاں پر اگر ایک شخص وہ یہ کہتا ہے "إن ملكت عبداً" کہا "إن ملكت عبداً فهو حر"، اگر میں غلام کا مالک بنا تو وہ آزاد ہے، اب وہ کہتا ہے، میں نے "ملكت" سے کس چیز کا ارادہ کیا تھا؟ "اشتريت" کا ارادہ کیا تھا، تو اس کی تصدیق کی جائے گی، کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی، دیانتاً تصدیق کی جائے گی، لیکن اگر یہ اس میں اس کے لیے تخفیف تھی تو پھر قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی بھئی، قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، مثلاً بھئی صورت دیکھو۔ ایک آدمی نے کہا "إن ملكت عبداً فهو حر"، "فهو حر"، تو اس نے ملک کہا، اب اس کو کسی نے غلام ہبہ کر دیا بھئی، غلام ہبہ کر دیا، جب اس کو غلام ہبہ کیا تو اس نے کیا کہا تھا؟ کہ اگر میں غلام کا مالک بنا تو وہ کیا بن جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، تو یہ مالک تو بن گیا، لہٰذا اب کیا کہا جائے گا کہ غلام آزاد ہو گیا، لیکن وہ کہتا ہے نہیں، میں نے تو کس چیز کا ارادہ کیا تھا "ملكت" سے؟ "اشتريت" کا ارادہ کیا تھا اور یہ استعارہ صحیح ہے مولانا، کیونکہ ملک حکم ہے اور شراء اس کی علت ہے، تو میرا مطلب یہ تھا اگر میں نے غلام خریدا تو وہ آزاد ہے، تو استعارہ صحیح ہے، استعارہ صحیح ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی یعنی مفتی کے پاس جائے گا اور مفتی سے فتویٰ لے گا اور کہے گا میری نیت کیا تھی؟ ملک بول کر کیا مراد تھی؟ شراء، تو مفتی اس کی تصدیق کرے گا، اس کی نیت کے مطابق فتویٰ دے دے گا کہ غلام آزاد نہیں ہے، تو دیانتاً تصدیق ہوئی، البتہ یہ اس کے بندے کے اور اللہ کے درمیان معاملہ ہے، ہم اس کی نیت کو نہیں جانتے، اس نے جو ظاہر کیا اور جو بات بتلائی ہم اس کے مطابق کیا کریں گے؟ فتویٰ دے دیں گے، اب یہ اس کا بندے کا اور اللہ کا معاملہ ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے۔ لیکن اگر قاضی کے پاس چلا جاتا ہے یہ مسئلہ اور تو قاضی اس صورت، ویسے تو تصدیق کرے گا لیکن اگر یہ ایسی صورت اختیار کر رہا ہے جس میں اس کی سہولت ہے، آسانی ہے، تو اس صورت میں فیصلہ قاضی اس کے خلاف دے گا، اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔ مثلاً اس نے کیا کہا تھا؟ "إن ملكت عبداً فهو حر" اور ملکیت تو عام ہے، جیسے بھی مالک بن جائے کسی بھی صورت میں، چاہے خرید کر بنے، چاہے کوئی اس کو ہبہ کرے، چاہے کیا کرے، ہر صورت میں غلام کیا ہو جاتا ہے؟ آزاد ہو جاتا ہے، لیکن اب یہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے تو کیا ارادہ کیا تھا؟ "اشتريت" کا ارادہ کیا تھا اور یہ غلام تو مجھے ہبةً ملا ہے، یہ تو میں نے خریدا نہیں، لہٰذا غلام آزاد، تو دیکھو اس صورت میں اگر یہ استعارہ اس کا مان لیتے ہیں تو اس کے لیے آسانی ہو گئی یا نہیں؟ غلام اس کے ہاتھ سے نہیں نکلا، اسی کے پاس رہے گا، تو اس صورت میں قاضی اس کے خلاف تصدیق نہیں کرے گا اور اس کے خلاف کیا کرے گا؟ فیصلہ، کیوں؟ تهمت کا خدشہ ہے، کس چیز کا؟ تهمت کا خدشہ ہے، وہ ایسے طریقے کو اختیار کر رہا ہے جس میں اس کے لیے تخفیف ہے، تو قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا، ہاں البتہ مفتی کے پاس جاتا ہے کہ یہ غلام آزاد ہوا یا آزاد نہیں ہوا، تو مفتی اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی نیت کے مطابق کیا کرے گا؟ فتویٰ دے گا، تو دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی، لیکن قضاءً اس کی تصدیق کیوں؟ تهمت کے خدشے کی وجہ سے، تهمت کی علت کی وجہ سے۔ سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح یا ایک شخص کہتا ہے "إن اشتريت عبداً فهو حر"، اگر میں نے غلام خریدا تو وہ آزاد ہے، اب اس نے آدھا خریدا اور بیچ دیا، دوسرا آدھا خریدا، اب فوراً اس کے پاس جائیں گے، لو بھئی تمہارا یہ آدھا غلام تو کیا ہو گیا؟ آزاد، کیونکہ پورا غلام تمہارے عقد میں جمع ہو گیا اور جب پورا غلام عقد میں جمع ہوا تو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ آزاد ہو جانا چاہیے، اگرچہ ملک میں پورا جمع نہیں، لیکن کوئی بات نہیں، شراء ملک میں اجتماع کا تقاضا نہیں کرتی، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو آپ اس کو کہتے ہیں بھئی لو بھئی یہ نصف غلام تو کیا ہوا؟ آزاد ہوا، وہ فوراً کہتے ہیں نہیں بھئی، میں نے "اشتريت" بول کر کیا مراد لیا تھا؟ "ملكت" اور شراء علت ہے اور ملک اس کا حکم ہے اور علت بول کر حکم اور معلول مراد لینا استعارہ صحیح ہے، تو مولانا اب دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی تهمت کی وجہ سے، معلوم ہوا جب اگر ملک اس نے مراد لی ہے، پھر تو ملک پورے غلام کا وہ مالک بنا ہے؟ جب اس نے ملک مراد لی ہے تو پورے غلام کا مالک بنا ہے اس وقت؟ جب پورا نہیں بنا تو غلام آزاد ہو گا؟ نہیں، لیکن اگر "اشتريت" سے "اشتريت" ہی مراد ہو، پھر تو غلام کیا ہونا چاہیے؟ آزاد ہونا چاہیے، معلوم ہوا یہ ایسی صورت اختیار کر رہا ہے جس میں اس کے لیے کیا ہے؟ سہولت ہے اور آسانی ہے، یرحمک اللہ، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی، قضاءً اس کی تصدیق اس صورت میں جس میں اس کے لیے تخفیف ہو، جس میں کیا ہو؟ تخفیف ہو تهمت کے خدشے کی وجہ سے۔ "ولو عنى بالملك الشراء أو بالشراء الملك" اور اگر ارادہ کیا ملکیت کے ساتھ شراء کا یا شراء سے ملکیت کا، "صحت نيته" تو اس کی نیت کیا ہے مولانا؟ صحیح ہے، "بطريق المجاز" کس طریقے پر براب بھئی؟ مجاز کے طریقے پر، "لأن الشراء علة الملك" اس لیے کہ شراء کیا ہے؟ ملکیت کی علت ہے، "والملك حكمه" اور ملکیت اس شراء کا حکم ہے یعنی اس کا معلول ہے، جب بھی کوئی چیز خریدیں گے کیا آ جائے گی فوراً؟ ملکیت، تو یہ معلول اور اس کا حکم ہے۔ "فعمت الاستعارة بين العلة والمعلول من الطرفين" تو عام ہوا استعارہ علت اور معلول کے درمیان "من الطرفين" دونوں طرف سے، علت بول کر معلول بھی مراد اور معلول بول کر تو شراء بول کر ملک مراد لے تو بھی صحیح، ملک بول کر شراء مراد لے تو بھی صحیح۔ "إلا أنه فيما يكون تخفيفاً في حقه" مگر اس صورت میں جس کے کہ تخفیف ہو اس کے حق کے اندر، "لا يصدق" اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، "في حق القضاء خاصة" خاص طور پر قضاء کے حق میں یعنی قضاء کے اعتبار سے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، البتہ دیانتاً کیا کی جائے گی اس کی؟ جی۔ "لمعنى التهمة" یعنی تهمت کی علت کی وجہ سے، تهمت کے معنی کا ترجمہ یہاں کرو علت کے مولانا، علت اور سبب کے۔ عجیب نقطہ آپ کو بتلائیں بھئی! عجیب نقطہ! یاد رکھو! معنی کا لفظ قديم کتابوں میں، فقہ وغیرہ میں، ہدایہ وغیرہ میں آئے گا اور وہاں اس کا ترجمہ علت اور سبب کے، علت کے ساتھ کریں گے بھئی۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ عموماً علت کا معنی ہو گا اس کا۔ کیوں؟ علت کا معنی کیوں کریں گے؟ علت کا معنی کیوں کریں گے بھئی؟ بھئی دراصل یاد رکھو! ہمارے قدیم علماء جو تھے وہ علت کے لفظ کو استعمال کرنا ناپسند کرتے تھے، کہتے تھے یہ تو وہ لفظ ہے جو مناطقہ اور فلسفی بہت استعمال کرتے ہیں، منطقی اور فلسفی کیا کرتے ہیں؟ علت اور معلول سے بڑی بحث کرتے ہیں بھئی۔ تو وہ علت، تو کہتے تھے یہ لفظ منطقی اور فلسفی لوگ استعمال کرتے ہیں، وہ اس کو پسند نہیں کرتے تھے، اس کو اپنی کتابوں میں بھی، اپنے تکلم میں بھی استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ کیا لفظ بولا کرتے تھے اس کی جگہ؟ معنی کا لفظ، معنی کا لفظ۔ ہاں بعد میں امام طحاوی رحمہ اللہ سب سے پہلے آئے جنہوں نے اس لفظ کو اپنی کتابوں میں استعمال کیا۔ اور فرمایا کہ اتنا اچھا لفظ ہے بھئی تو کیا ضرورت ہے اس کو ترک کرنے کی بھئی، اگر منطقی اور فلسفی استعمال کرتے ہیں تو کیا ہوا بھئی؟ ایک لفظ ہے اور تو استعمال کی ضرورت ہے تو اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، لہٰذا ہدایہ وغیرہ میں معنی کا لفظ آئے گا، وہاں پر اس کا معنی کیا کرنا ہے آپ لوگوں نے؟ علت کے، اکثر جگہ، اکثر جگہ کیا ہو گا؟ علت کے معنی میں ہو گا بھئی۔ تو مولانا تصدیق نہیں کی جائے گی "في حق القضاء خاصة" خاص طور پر قضاء کے حق میں یعنی قضاء کے اعتبار سے، "لمعنى التهمة أي لعلة التهمة" تهمت کی علت کی وجہ سے اس کی تصدیق، "لا لعدم صحة الاستعارة" استعارے کے صحیح نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بھئی۔ اس وجہ سے نہیں قاضی فیصلہ اس کے خلاف دے رہا کہ استعارہ نہیں صحیح ہو مولانا، استعارہ تو صحیح ہے لیکن کیا ہے؟ تهمت کا خدشہ ہے، وہ اپنے آپ کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے، اس لیے کیا کیا جائے گا؟ اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا اور قاضی فیصلہ کرے گا، وہ تو کہہ رہا ہے کہ میں نے شراء بول کر کیا کیا تھا؟ ملک مراد لی تھی، جب شراء بول کر ملک مراد لی ہے تو جو باقی بعد میں آدھا غلام خریدا ہے وہ آزاد نہیں ہونا چاہیے، لیکن قاضی کیا فیصلہ کرے گا؟ آزاد ہو گیا بھئی، کیونکہ وہ اپنے آپ کو کیا کرنا چاہتا ہے نقصان سے؟ تهمت کے خدشے۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اب اگلی بات سے پہلے چند باتیں سمجھ لیں بھئی اچھی طرح، آپ جانتے ہیں آسان باتیں ہیں بھئی، آپ پڑھ چکے ہیں قدوری وغیرہ میں۔ یاد رکھو! طلاق دو قسم پر ہے، ایک طلاقِ رجعی ہے، ایک طلاقِ بائن ہے، بھئی جانتے ہو طلاقِ رجعی اور طلاقِ رجعی وہ ہوتی ہے کہ جس کے اندر خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، خاوند نے اپنی بیوی سے کہا کہ "تجھ کو طلاق ہے"، تو اب عدت جب تک نہیں گزری وہ کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، رجوع کا حق۔ پھر اس نے اس عدت میں رجوع کر لیا مولانا، رجوع کرنا بھی عام ہے، چاہے بالفعل رجوع ہو یا چاہے بالقول ہو، قول کے ساتھ یوں کہتا ہے: "میں رجوع کرتا ہوں"، بس مولانا، رجوع ہو گیا۔ یا مولانا بالفعل، سمجھ میں آیا؟ بوس و کنار کے ذریعے یا کوئی ایسا فعل ظاہر جس سے کیا، رجوع ثابت ہوتا ہو، تو اس صورت میں کیا ثابت ہو جائے گا؟ رجوع ہو جائے گا، رجوع ہو جائے گا۔ اور اگر طلاقِ رجعی میں وہ رجوع نہیں کرتا تو عدت کے گزرنے کے بعد عورت کیا ہو جایا کرتی ہے؟ بائن ہو جائے گی، خاوند سے جدا ہو جائے گی، اب اس کے بعد وہ کسی اور سے نکاح کرنا چاہے تو آزاد ہے بھئی، کر سکتی ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ اچھا! مثلاً تو اس نے رجوع کر لیا طلاقِ رجعی کے اندر، اب خاوند کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہے؟ دو، پھر اس نے ایک اور رجعی دے دی، ایک اور طلاق دی، پھر طلاقِ رجعی ہوئی، اب پھر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے، لیکن اگر عدت میں رجوع نہ کیا تو عورت کیا ہو جائے گی؟ بائن ہو جائے گی، جدا ہو جائے گی، کسی اور سے نکاح کرنا چاہے نکاح، اسی خاوند سے بھی نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، لیکن خاوند کے پاس کتنا حق رہے گا؟ ایک۔ تو خاوند چاہے رجوع کر لے یا عدت کے بعد نکاح کر لے۔ اب خاوند کے پاس کتنا کتنی طلاقیں باقی ہیں؟ ایک۔ اب جب یہ ایک دے دے گا تو اب طلاق مغلظہ ہوئی مولانا۔ اب بغیر حلالہ شرعی کے دوبارہ اس خاوند کے نکاح میں نہیں آ سکتی۔ یہ تھی طلاق رجعی۔ ایک ہے طلاق بائن۔ مثلاً خاوند یہ پہلی صورت میں تو خاوند نے یہ کہا کہ مثلاً تجھے طلاق ہے۔ دوسری صورت میں کیا کہتا ہے؟ تجھے طلاق بائن ہے، تجھے طلاق بائن ہے۔ یا یوں کوئی صفت بڑھاتا ہے تجھے سخت طلاق ہے، تجھے میری طرف سخت طلاق ہے، تو اس صورت میں اب طلاق رجعی نہیں ہو گی، بلکہ کون سی ہو گی؟ طلاق بائن۔ پہلی طلاق دے رہا ہے اور کون سی دے دی؟ بائن دے دی، سمجھ میں آیا؟ بائن دے دی۔ بائن دے دی۔ تو جب طلاق بائن دے دی، اب مولانا عورت کے ساتھ تعلق ختم ہوا، اب رجوع خاوند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ طلاق رجعی نہیں ہے بلکہ کون سی ہے؟ طلاق بائن ہے۔ ہاں اور عورت آگے خاوند نکاح کرنا چاہتی ہے کسی اور سے، عدت گزارنا پڑے گی، عدت گزار لے، اس کے بعد جس سے مرضی۔ ہاں اگر اسی خاوند سے کرنا، اسی خاوند کے پاس واپس آنا ہے تو ابھی تو اس نے ایک طلاق دی ہے، اگرچہ وہ طلاق بائن ہے، لیکن دی کتنی ہے؟ ایک، تو اس خاوند کے پاس بھی آنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔ چاہے عدت، ہاں اس خاوند سے عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتی ہے اور عدت کے بعد، لیکن کسی اور سے کرنا ہو تو عدت کے بعد، تو اس خاوند سے دوبارہ نکاح کر لیا، چاہے عدت میں کرے، چاہے بعد میں کرے۔ اب کتنے کا حق رہ گیا؟ دو کا۔ پھر خاوند ایک اور طلاق بائن دے دیتا ہے تو پھر بھی یہی صورت عدت کے اندر کیا کرے؟ اسی سے نکاح کرنا چاہے ہو جائے گا، چاہے عدت کے بعد اسی سے نکاح کرے تو پھر بھی نکاح لیکن اب کتنی رہ گئیں؟ ایک، اب ایک رہ گئی، اب وہ تیسری دے گا تو پھر کیا ہو جائے گی؟ مغلظہ ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو پہلی اور دوسری طلاق رجعی ہو سکتی ہیں مولانا، تیسری رجعی نہیں ہو سکتی کیونکہ کل طلاقیں تین ہیں۔ طلاق رجعی اور طلاق بائن کا آپ کو پتہ لگ گیا بھئی۔ طلاق رجعی کس کو کہتے ہیں؟ کہ جس میں عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ اور طلاق بائن وہ ہے کہ جس میں خاوند عدت کے اندر رجوع نہیں کر سکتا بلکہ نکاح ٹوٹ چکا ہے، اب پھر اگر وہ عورت اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو پھر اس کے ساتھ دوبارہ اس خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا بھئی۔ عدت کے اندر بھی چاہے تو اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے، عدت کے بعد بھی چاہے تو اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ تین طلاقیں پوری نہ ہوئی ہوں بھئی۔ البتہ کسی اور سے وہ عورت نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے گزرنے کے بعد نکاح کر سکتی ہے، عدت کے گزرنے سے پہلے نکاح نہیں کر سکتی۔ اب یاد رکھیے طلاق کے جو الفاظ ہیں وہ دو قسم پر ہیں بھئی۔ ایک صریح ہے اور ایک ہے کنایہ۔ صریح وہ لفظ ہے جس میں طلاق کا معنی واضح ہو، اس میں اور کوئی احتمال اور کوئی معنی نہ نکلتا ہو۔ مثلاً ایک شخص وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: انت طالق، تجھے طلاق ہے۔ تو اب دیکھیے اس کلام کے اندر انت طالق، اس میں کسی قسم کا کوئی اور معنی نکلتا ہے بھئی؟ نہیں، اس کا ایک ہی معنی ہے کہ وہ طلاق دینا چاہتا ہے اپنی بیوی کو بھئی۔ تو یہ کہلاتا ہے صریح بھئی، سمجھ میں آیا؟ صریح کا معنی واضح، تو اس لفظ کا معنی بھی واضح ہے، اس کے اندر اور کسی قسم کا کوئی احتمال نہیں۔ تو یہ لفظ صریح کہلاتا ہے طلاق کے اندر۔ اور اسی طرح کچھ الفاظ ہیں جن کے ذریعے طلاق ہوتی ہے لیکن وہ کنایہ کہلاتے ہیں۔ کیونکہ وہاں صرف طلاق کا معنی ہی نہیں نکلتا بلکہ اور معانی بھی نکلتے ہیں۔ مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: انت بائن، تو جدا ہے۔ اب اس کے اندر طلاق کے معنی کا بھی طلاق کا معنی بھی نکلتا ہے، گویا خاوند یہ کہنا چاہتا ہے بیوی سے کہ تو مجھ سے جدا ہے، تو یہ طلاق ہے مولانا۔ اور ہو سکتا ہے خاوند کے کہنے کا یہ مطلب ہو کہ تو اپنی صفات میں باقی سب عورتوں سے جدا ہے، تیرے جیسے صفات کسی اور کے اندر نہیں ہوئے، یا تو حسن و جمال میں جدا ہے تیرے جیسی اور کوئی نہیں، تو دیکھو یہاں اور معانی بھی آ گئے۔ اس کو کہتے ہیں کنایہ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ کنایہ۔ اور کنائے کے اندر یاد رکھیے نیت ضروری ہوتی ہے بھئی، کیونکہ یہاں دوسرے معنی کا بھی احتمال ہے تو اب پتہ نہیں بھئی اس نے طلاق کی نیت کی ہے یا دوسرے معنی کی نیت کی تھی، تو اب اس نیت سے طلاق ہو گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ نیت کے ذریعے پتہ لگایا جائے گا، تفصیل آگے آ جائے گی بھئی۔ یا اسی طرح کنایہ ہے مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: انت واحدۃ، تو ایک ہے۔ تو اس میں طلاق کا معنی بھی نکلتا ہے، غیر طلاق کا معنی بھی نکلتا ہے۔ انت واحدۃ، تو ایک ہے، طلاق کا معنی بھی نکلا جیسے تو ایک ہے کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، مجھ سے الگ ہے، اکیلی ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور دوسرا معنی بھی نکلتا ہے کہ تو اکیلی ہے کس چیز کے اندر مثلاً؟ حسن و جمال میں اکیلی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا اس طرح کوئی اور معنی نکل آتا ہے، لیکن انت واحدۃ سے کیا فوراً ذہن طلاق ہی کی طرف جاتا ہے؟ نہیں، اس میں اور معانی کا بھی احتمال ہے۔ تو صریح وہ الفاظ ہیں جس میں اور معنی کا احتمال ہی نہیں ہوتا، بس صرف طلاق کے معنی کا احتمال، اور کنایہ وہ ہے جس کے اندر طلاق کے علاوہ دوسرا احتمال بھی موجود ہوتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یاد رکھیے یہ صریح بھی دو قسم پر ہے، کنایہ بھی دو قسم پر ہے۔ صریح کے ذریعے طلاق دی جائے تو یاد رکھیے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔ لیکن اگر ساتھ کوئی صفت بڑھا دی، مثلاً اگر صرف یہ کہا: انت طالق، تو یہ لفظ صریح ہے، کوئی اور صفت ساتھ نہیں بڑھائی، صرف طالق کہا ہے تو طلاق رجعی ہو گی بھئی، کون سی طلاق ہو گی؟ لیکن اگر خاوند نے بیوی سے یہ کہا: انت طالق بائن بھئی، تجھے طلاق بائن ہے۔ اب دیکھیے یہ لفظ صریح ہے، اس میں طلاق کے علاوہ اور کوئی معنی نکل رہا ہے بھئی؟ نہیں، معنی صرف طلاق ہی کا ہے، لیکن کون سی طلاق ہے؟ رجعی ہے یا بائن ہے بھئی؟ بائن ہے، خاوند خود ساتھ بائن کا لفظ ملا رہا ہے۔ تو انت طالق بائن یہ لفظ صریح ہے اور لیکن ہے بائن بھئی، اس کے ذریعے طلاق کون سی واقع ہو گی؟ طلاق بائن۔ تو صرف انت طالق کہے تو طلاق رجعی واقع ہو گی، لیکن اگر کوئی صفت ساتھ بڑھا دی جیسے میں نے بائن کی مثال ذکر کی، یا یوں کہا خاوند نے بیوی سے کہ تجھے سخت ترین طلاق ہے، یا تجھے بد ترین طلاق ہے، یا تجھے پہاڑ جتنی طلاق ہے وغیرہ بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایسی صفات بڑھا دیں جو زیادتی پر دلالت کرتی ہیں بھئی۔ دیکھو ایک تھا ویسے کہتا تجھے طلاق ہے، اب کہہ رہا ہے سخت ترین طلاق ہے بھئی، یہ تو زیادتی آ گئی اس کے معنی کے اندر بھئی۔ تو اب اس کے ذریعے طلاق رجعی واقع نہیں ہو گی بلکہ کون سی طلاق واقع ہو گی؟ طلاق بائن۔ لیکن لفظ وہی صریح ہے، کسی اور معنی کا احتمال نکل رہا ہے یہاں بھئی؟ کسی اور معنی کا احتمال نہیں۔ تو معلوم ہوا صریح دو قسم پر ہے، کبھی صریح کے ذریعے طلاق رجعی واقع ہو گی اور کبھی صریح کے ذریعے طلاق بائن واقع ہو گی۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ انت طالق کہا یہ صریح ہے لیکن اس کے ذریعے کون سی طلاق ہے؟ رجعی، اور کہا انت طالق بائن یہ بھی لفظ صریح ہے لیکن اس کے ذریعے کون سی طلاق واقع ہوئی؟ طلاق بائن واقع ہوئی، تو معلوم ہوا صریح دو قسم پر ہے، بعض اوقات صریح سے طلاق رجعی ہوتی ہے اور بعض اوقات صریح سے طلاق بائن۔ اسی طرح یاد رکھیے کنایہ بھی دو قسم پر ہے۔ چند کنایات ہیں ان کے ذریعے طلاق رجعی ہوتی ہے، باقی تمام کنایات کے ذریعے طلاق بائن ہوا کرتی ہے۔ کنایہ بھئی گول مول لفظ بولے جس میں طلاق کا معنی بھی نکلتا ہے اور غیر طلاق کا معنی بھی نکلتا ہے۔ تو یاد رکھیے کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاق بائن ہوتی ہے، لیکن چند کنایات ہیں جن کے ذریعے طلاق بائن نہیں ہوتی بلکہ کون سی ہوتی ہے؟ طلاق رجعی ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کنایہ بھی کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ بعض سے کون سی طلاق ہوئی؟ طلاق رجعی، اور باقی سب سے کون سی ہوئی؟ طلاق بائن۔ تو صریح بھی دو قسم پر، اس کے ذریعے یا طلاق رجعی ہو گی یا طلاق بائن، کنایہ بھی دو قسم پر، اس کے ذریعے طلاق رجعی ہو گی یا طلاق بائن، تو کل کتنی قسمیں ہو گئیں طلاق کی؟ چار قسمیں۔ پہلی قسم: صریح رجعی، دوسری: صریح بائن، تیسری قسم: کنایہ رجعی، چوتھی قسم: کنایہ بائن بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو چار قسمیں ہوئیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ خاوند ایک طلاق اپنی بیوی کو دے دے ان چاروں میں سے کوئی ایک قسم، اس کے بعد عدت کے اندر اندر دوسری طلاق دیتا ہے تو وہ دوسری طلاق پہلی طلاق کے ساتھ ملے گی یا نہیں ملے گی بھئی؟ پہلے ایک دی تھی، عدت کے اندر دوسری دے دی تو کیا یہ دو ہو جائیں گی؟ یا دوسری لغو ہو جائے گی؟ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ عدت کے اندر دوسری طلاق دیتا ہے خاوند، تو وہ اس پہلی طلاق کے ساتھ جمع ہو گی یا جمع نہیں ہو گی؟ تو یاد رکھنا یہاں کل 16 صورتیں بنتی ہیں۔ کتنی صورتیں بنیں گی؟ 16 صورتیں۔ دیکھو پہلی طلاق صریح رجعی بھی ہو سکتی ہے، صریح بائن بھی ہو سکتی ہے، کنایہ رجعی بھی ہو سکتی ہے، کنایہ بائن بھی ہو سکتی ہے، تو چار صورتیں ہوئیں۔ پھر پہلی صورت پکڑو بھئی، پہلی کون سی صورت تھی؟ کون سی طلاق دی؟ صریح رجعی بھئی۔ دوسری طلاق بھی وہی چاروں اس کے ساتھ لگیں گی، دوسری طلاق ہو سکتا ہے صریح رجعی ہو، ہو سکتا ہے صریح بائن ہو، ہو سکتا ہے کنایہ رجعی ہو، ہو سکتا ہے کنایہ بائن ہو۔ تو پہلی طلاق طلاق رجعی ہو اس میں کتنی دوسری میں چار صورتیں آ گئیں تو کل چار صورتیں ہوئیں اس پہلی میں۔ دوسری طلاق کون سی قسم تھی؟ صریح بائن، اس میں بھی چار صورتیں ہو سکتی ہیں کہ خاوند نے پہلی طلاق کون سی دی ہے؟ صریح بائن، دوسری طلاق وہ دیتا ہے عدت کے اندر ہو سکتا ہے صریح رجعی دے، ہو سکتا ہے صریح بائن دے دے دوسری بھی، ہو سکتا ہے کنایہ رجعی دے دے، ہو سکتا ہے کنایہ بائن دے دے، تو اس میں بھی کتنی صورتیں؟ چار، کل کتنی ہو گئیں؟ اٹھ۔ تیسری قسم کہ پہلے طلاق دی کنایہ رجعی، دوسری طلاق صریح رجعی بھی ہو سکتی ہے، صریح بائن بھی ہو سکتی ہے، کنایہ رجعی بھی ہو سکتی ہے، کنایہ بائن بھی ہو سکتی ہے، کتنی ہو گئیں؟ 12۔ اور چوتھی صورت کہ پہلے کنایہ بائن دی، اس کے بعد دوسری طلاق دے رہا ہے صریح رجعی، یا دوسری دے رہا ہے صریح بائن، یا دوسری دے رہا ہے کنایہ رجعی، یا کنایہ بائن، تو ہر ایک میں کتنی کتنی صورتیں بنیں؟ چار چار، تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ 16 صورتیں ہو گئیں بھئی، 16 صورتیں۔ تو کب طلاق اپنی سے پچھلی طلاق کے ساتھ ملے؟ یہ پہلی میں نہیں صورت ضروری، ہو سکتا ہے پہلی ایک قسم کی دی ہے دوسری کوئی اور دے دی، اس کے بعد یہ دوسری تو ساتھ مل گئی مثلاً، تیسری ساتھ ملے گی یا نہیں ملے گی؟ اب دوسری کو دیکھنا پڑے گا، یا پہلی کو بھی دیکھنا پڑے گا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یعنی بعد والی طلاق پہلے والی طلاق کے ساتھ عدت کے اندر ملے گی یا نہیں ملے گی؟ مسئلہ یہ ہے۔ تو کل کتنی صورتیں ہو گئیں؟ 16۔ یاد رکھیے، یاد رکھنا بڑا آسان ہے بھئی، آسان ضابطہ ہے۔ کہ 16 میں سے 14 صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے مل جائے گی۔ 16 میں سے 14 صورتوں میں دوسری طلاق پہلی طلاق کے ساتھ مل جائے گی۔ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں بعد والی طلاق پہلی طلاق سے نہیں ملتی، صرف دو صورتیں۔ وہ دو صورتیں یہ کہ پہلی طلاق مثلاً ہے طلاق صریح بائن، پہلی طلاق کون سی ہے؟ صریح بائن ہے اور دوسری طلاق دی کنایہ بائن کے ذریعے، پہلی کس کے ذریعے؟ صریح بائن، اور دوسری کون سی دی؟ کنایہ بائن، تو مولانا اب یہ کنایہ بائن اس صریح بائن کے ساتھ نہیں ملے گا۔ لغو ہوجائے گا صورت سمجھ میں آگئی؟ تو 16 میں سے کتنی صورتوں کے اندر دوسری طلاق پہلی طلاق سے ملے گی؟ 14 صورتوں میں، اور دو صورتوں میں دوسری طلاق پہلی طلاق کے ساتھ نہیں ملے گی۔ وہ دو صورتیں کون سی ہیں؟ پہلی صورت اول طلاق کون سی؟ صریح بائن، دوسری؟ کنایہ بائن۔ اچھا دوسری صورت کون سی ہے؟ کہ پہلی کون سی ہو؟ کنایہ بائن ہو اور دوسری کون سی ہو؟ وہ کنایہ بائن ہو۔ اب خلاصہ یہ نکل آیا کہ کنایہ بائن اگر دوسری کنایہ بائن ہو تو پہلی اگر بائن ہے تو اس کے ساتھ نہیں ملے گی۔ دوسری کون سی ہے؟ یا یوں کہو، پہلی طلاق اگر بائن ہو اور دوسری کنایہ بائن ہو تو کنایہ بائن، بائن کے ساتھ نہیں ملے گا بھئی۔ پہلی طلاق کون سی؟ بائن، چاہے صریح بائن ہو چاہے کنایہ بائن ہو، لیکن دوسری کون سی ہے؟ کنایہ بائن، تو یہ کنایہ بائن صریح بائن کے ساتھ بھی نہیں مل سکتی اور کنایہ بائن کنایہ بائن کے ساتھ بھی نہیں مل سکتی۔ یاد رہے گا یہ ضابطہ؟ چنانچہ فقہائے کرام ضابطہ ذکر فرماتے ہیں اب کتابوں میں بھئی، شامی وغیرہ کتابوں کے اندر لکھا ہے بھئی۔ آپ بھی لکھ لیجیے ضابطہ بھئی: الصريح يلحق الصريح والبائن الصريح ص کے ساتھ بھئی، الصريح يلحق الصريح والبائن والبائن لا يلحق البائن والبائن لا يلحق البائن ضابطہ لکھ لیا بھئی؟ "الصريح يلحق الصريح والبائن، والبائن لا يلحق البائن" ضابطہ یہ ہوا بھئی۔ کیا معنی ہوا؟ صریح جو ہے وہ مل جائے گی، یعنی دوسری طلاق صریح ہو تو وہ پہلی کے ساتھ مل جائے گی بشرطیکہ پہلی چاہے صریح ہو چاہے بائن ہو۔ اور بائن، بائن کے ساتھ نہیں ملے گا، کیا معنی؟ بائن کنایہ بائن کے ساتھ نہیں ملے گا، یعنی ثانی جب کون سی ہو؟ بائن کنایہ ہو تو پہلی بائن کے ساتھ نہیں ملے گا چاہے پہلی بائن صریح ہو چاہے پہلی بائن کون سی ہو؟ کنایہ ہو۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ خلاصۂ کلام ہوا بھئی۔ اب آپ مجھے صورتیں بتلاتے جائیں بھئی۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو صریح رجعی طلاق دی۔ عدت کے اندر اندر بھئی، اب وہ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے "انت طالق"، یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ ہوگی، کیوں؟ کیونکہ الصريح يلحق الصريح، پہلی صریح ہے تو دوسری صریح اس کے ساتھ مل جائے گی۔ اسی عدت میں وہ پھر تیسری بھی دے دیتا ہے "انت طالق"، کیا یہ پچھلی دو کے ساتھ ملے گی یا نہیں؟ وہ دونوں مل کر کیا بن گئیں؟ وہ اسی طرح صریح رجعی رہیں نہ بھئی، تو یہ کیا ہوئی؟ اس کے ساتھ مل گئی بھئی، تو تینوں واقع ہو جائیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ کیونکہ صریح کے ساتھ کیا ضابطہ آپ نے پڑھا؟ صریح کے ساتھ صریح مل جایا کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھا دوسری صورت بنائیں، ایک خاوند نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق ان لفظوں سے دی: "انت طالق بائن"، تجھے طلاق بائن ہے یا یوں کہا بھئی تجھے سخت ترین طلاق ہے، کون سی طلاق واقع ہوئی؟ طلاق بائن، اور یہ کون سی بائن ہے، صریح ہے یا کنایہ ہے؟ صریح، تو یہ صریح بائن ہوئی مولانا۔ اب عدت کے اندر اندر خاوند بیوی سے کہتا ہے "انت طالق"، یہ کون سی طلاق ہے؟ یہ صریح رجعی ہے، اب یہ صریح رجعی، صریح بائن کے ساتھ ملے گی یا نہیں ملے گی؟ مل جائے گی، کیونکہ ابھی ضابطہ پڑھا: "الصريح يلحق الصريح" کہ صریح، صریح کے ساتھ بھی مل جائے گی اور "والبائن" بائن کے ساتھ بھی مل جائے گی، تو یہ صریح اس کے ساتھ مل گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کتنی طلاقیں پڑ گئیں عورت کو؟ دو۔ اچھا پہلی طلاق کیا دی تھی؟ خاوند نے بیوی سے کیا کہا تھا؟ پہلی صریح بائن دی تھی، پہلی کون سی تھی؟ دوسری پھر صریح بائن دے دی، پہلی کو کہا تھا "انت طالق بائن"، عدت کے اندر اندر خاوند پھر کہتا ہے "انت طالق بائن"، یہ ساتھ ملے گی یا نہیں ملے گی؟ مل جائے گی، کیونکہ یہ بھی صریح، پہلی بھی صریح، اور صریح کے ساتھ صریح مل جاتی ہے۔ ہاں یہ صریح بائن ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چاہے صریح ہو بھئی، چاہے وہ بائن ہو چاہے رجعی ہو، وہ صریح کے ساتھ مل جاتی ہے۔ اچھا تیسری طلاق اسی عدت میں خاوند نے بیوی سے کہا "انت بائن"، یہ کنایہ بائن ہے مولانا، اس نے نیت بھی طلاق کی کی، پہلی دو کون سی ہوئیں؟ صریح بائن، اور تیسری کون سی دے رہا ہے؟ کنایہ بائن، اور آپ نے ضابطہ پڑھا تھا: "والبائن لا يلحق البائن" بائن، بائن کے ساتھ ملحق... کیا معنی تھا اس کلام کا؟ کہ بائن کنایہ جو ہے وہ بائن کے ساتھ نہیں ملتی چاہے بائن صریح ہو چاہے بائن... یعنی پہلی طلاق چاہے کون سی ہو؟ صریح بائن ہو، کنایہ بائن اس کے ساتھ بھی نہیں ملے گا۔ اور پہلی طلاق کون سی ہو؟ کنایہ بائن ہو، اس کے ساتھ بھی دوسری طلاق کنایہ بائن آکر کبھی بھی نہیں ملے گی، تو یہ لغو ہو جائے گی۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح طلاق رجعی اور بائن کا سمجھ میں آیا؟ اب ایک اور بات یاد رکھو، طلاق بائن، مثلاً میں تجھے، وہ عورت کو کیا کہتا ہے؟ میں تجھے طلاق بائن دیتا ہوں، یا یہ کہتا ہے میں تجھے سخت طلاق دیتا ہوں وغیرہ ذالک۔ اب پھر یاد رکھو، طلاق کے الفاظ دو قسم پر ہیں: ایک صریح اور ایک کنایہ۔ ایک صریح اور صریح۔ صریح وہ جس کا معنی ظاہر ہو، کنایہ وہ جس کا معنی پوشیدہ ہو، جس کا معنی پوشیدہ ہو۔ مثلاً خاوند نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے، اب اس لفظ کا معنی ظاہر ہے، اس میں کوئی اور احتمال ہے؟ نہیں، یہ صریح لفظ ہے۔ اور ایک ہے کنایہ، کنایہ میں مثلاً کہتا ہے تو آزاد ہے، یہ کنایہ ہے۔ اس میں اور بھی احتمال آگئے، ایک تو یہ طلاق کا بھی احتمال، تو آزاد ہے یعنی مجھ سے جدا ہے، مجھ سے الگ ہے مجھ سے، آزاد ہے تو، میرے نکاح سے آزاد۔ اور دوسرا معنی کیا؟ تو میری خدمت سے آزاد ہے، آج کے بعد تجھے میری خدمت کی ضرورت نہیں۔ تو دیکھو، کنایہ جو ہوگا اس میں دوسرے معنی کا احتمال بھی پایا جائے گا۔ طلاق کا بھی احتمال ہے جو طلاق والے کنایات ہیں، اور غیر طلاق کا بھی احتمال ہے۔ تو لہٰذا کنائے میں نیت کی... کسی دلیل کی ضرورت ہوگی مولانا، کس چیز کی؟ بھئی صریح کے اندر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے ہی خاوند "انت طالق" کہے گا فورا بیوی کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، نیت ہو یا نیت نہ ہو مولانا، کسی نیت کی ضرورت نہیں بھئی، کیونکہ یہ لفظ ہی کس کے لیے وضع ہے؟ طلاق، اس میں کوئی اور احتمال ہی نہیں، لہٰذا لفظ کا معنی خود بخود ثابت ہو جائے گا عورت کو طلاق، سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ ذکر کر رہے ہیں، ذکر کرتے کرتے زبان پہ آگیا "انت طالق" بھئی، فوراً کیا ہو جائے گی بیوی؟ طلاق بھئی، بیوی کو طلاق ہو گئی۔ سمجھ رہے ہیں؟ بیوی بیٹھی ہوئی ہے اور آپ ذکر کر رہے ہیں، ذکر کرتے کرتے زبان پہ آگیا "انت طالق"، فوراً کیا ہو جائے گی؟ کیونکہ یہ صریح ہے، اس میں کسی نیت کسی دلیل کی ضرورت... یہ لفظ کا ایک ہی معنی ہے، احتمال اور ہے ہی نہیں۔ اور ایک ہے کنایہ بھئی کنایہ، کنایہ میں تو اور معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے، لہٰذا وہاں دلیل چاہیے جس سے متعین ہو جائے کہ طلاق ہی مراد ہے۔ اور وہ دلیل کیا ہوگی؟ یا تو نیت ہوگی یا دلالتِ حال بھئی، یا تو انسان کی نیت کیا ہوگی کس چیز کی؟ طلاق کی، تو اس کنائے سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق، دیکھو اس میں دو معنی کا احتمال تھا لیکن نیت کیا تھی؟ طلاق کی، تو اب اس سے کیا ہو جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو اس نے اس کو کہا "حررتک" میں نے تجھے آزاد کیا اور نیت کس چیز کی کر دی؟ طلاق کی، تو عورت کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر یا دلالتِ حال اس پہ ہوگی، دلالتِ حال، مثلاً مذاکرۂ طلاق چل رہا تھا، بھئی خاوند اور بیوی، اور خاوند سے مطالبہ کر رہی ہے کہ مجھے طلاق دو، جھگڑا ہے اس بات پہ، بحث ہو رہی ہے، اس دوران بیچ میں خاوند نے کہا "حررتک" میں نے تجھے کیا کیا؟ آزاد کیا، اب یہ کنایہ تھا، کنائے میں اور معنی کا بھی احتمال تھا لیکن دلیل آگئی کہ یہ بات کس کی، مقام کون سا ہے؟ مذاکرۂ طلاق کا، اور یہ دلالت کر رہا ہے اس بات پر کہ یہاں پر "حررتک" سے کیا مراد ہے؟ طلاق ہی مراد ہے۔ سمجھ میں آگئی یہ بات بھی؟ تو صریح میں طلاق کے لیے نیت کی ضرورت نہیں اور کنائے کے اندر نیت کی ضرورت ہوگی یا دلالتِ حال کی۔ پھر ایک بات یہ بھی رکھو، لفظِ صریح سے طلاقِ رجعی ہوا کرتی ہے، خاوند نے کہا "انت طالق"، کون سی طلاق ہوئی؟ رجعی ہوگی، سمجھ میں آیا؟ اور ایک ہی ہوگی، جبکہ کنائے کے اندر طلاقِ بائن ہوا کرتی ہے۔ کنائے میں کیا ہوتی ہے ہمیشہ؟ طلاقِ بائن۔ رجعی میں ہمیشہ... صریح کے اندر ہمیشہ کون سی ہوگی؟ صریح میں ہمیشہ طلاقِ رجعی، اور کنائے کے اندر ہمیشہ طلاقِ بائن ہوگی بائن ہوگی۔ لیکن دو تین کنائے ایسے ہیں جن میں طلاقِ رجعی ہوتی ہے، باقی کنائے کے جتنے الفاظ آپ پڑھیں گے سب میں طلاقِ بائن۔ دو تین لفظ ہیں: ایک "اعتدي" جو آپ نے قدوری میں پڑھے ہیں مولانا، "اعتدي" اس سے بھی کون سی... یہ کنایہ ہے لیکن کون سی طلاق ہوگی اگر نیت کر لی؟ رجعی ہوگی۔ "استبرئي رحمک" یہ بھی کون سا ہے مولانا؟ کنایہ ہے لیکن اس سے بھی کون سی ہوگی؟ رجعی ہوگی۔ "انت واحدة" یہ بھی مولانا کنایہ ہے لیکن اس سے بھی اگر طلاق کی نیت کر لی تو کون سی ہوگی؟ تو یہ تین کنایات ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ باقی جتنے کنایات ہیں ان سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاقِ بائن ہوا کرتی ہے۔ یہ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اچھا جی، رجعی اور بائن کا بھی آپ کو پتہ چل گیا، اور صریح اور کنائے کا بھی آپ کو پتہ چل گیا۔ اب یاد رکھو، جی؟ جو آگے مسئلہ آرہا ہے اس کی بحث کے لیے یہ یاد رکھو کہ شراء جو ہے، شراء سبب ہے ملکِ متعتہ کے لیے۔ شراء سبب ہے کس کے لیے؟ ملکِ متعتہ کے لیے۔ دیکھو، میں نے کہا تھا ایک ہے سبب، ایک ہے علت۔ علت جو مفضی الی الشیء ہو بغیر واسطے کے، بغیر واسطے کے کسی چیز تک پہنچائے، اور سبب وہ ہوتا ہے جو واسطے کے ساتھ پہنچائے۔ تو شراء سے بھی ملکِ متعتہ حاصل ہوتا ہے، ملکِ متعتہ کہتے ہیں عورت سے نفع اٹھانے کا مالک ہونا، عورت سے نفع اٹھانے کا مالک ہونا۔ آپ مثلاً ایک شخص نے ایک باندی خریدی، تو دیکھو شراء پایا گیا، کیا پایا گیا؟ خریدنا، اس شراء کی وجہ سے اس کو ملکِ رقبہ حاصل ہوا، باندی کا کیا بن گیا وہ؟ مالک بن گیا۔ اور پھر اس ملکِ رقبی کی وجہ سے اس کو کیا حاصل ہوا؟ ملکِ متعتہ بھی حاصل ہوا، سمجھ میں آیا؟ تو شراء سے حاصل ہوا ملکِ رقبہ، اور ملکِ رقبہ سے حاصل ہوا ملکِ متعتہ، تو شراء اور ملکِ متعتہ کے درمیان واسطہ آگیا۔ تو شراء سے کیا حاصل ہو رہا ہے مولانا؟ ملکِ متعتہ، لیکن واسطے کے ساتھ یا بغیر واسطے کے؟ واسطے کے، شراء سے حاصل ہو رہا ہے ملکِ متعتہ کس کے واسطے سے؟ ملکِ رقبہ کے واسطے سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو شراء ملکِ متعتہ کے لیے کیا ہوئی؟ سبب، سبب ہوئی کیونکہ اس کی وجہ سے ملکِ متعتہ ہے لیکن درمیان میں واسطہ آگیا تو یہ کیا ہے؟ سبب۔ تو شراء ہے سبب اور ملکِ متعتہ ہے اس کا حکم، اس کا حکم۔ اور اسی طرح یاد رکھو، تحریر، تحریر کا معنی ہے آزاد کرنا۔ آزاد کرنا سبب... آزاد جب آپ نے کسی کو آزاد کیا، تو اس آزاد کرنے کی وجہ سے کیا آئے گا؟ زوالِ ملکِ رقبہ۔ ملکِ رقبی کیا ہو جائے گی؟ زائل۔ بھئی آپ مالک تھے غلام کے، آپ نے اس کو آزاد کیا تو آپ کے ہاتھ سے کیا نکل گئی؟ ملکِ رقبی نکل گئی، باندی کو آزاد کیا تو آپ کے ہاتھ سے ملکِ رقبی ختم ہوئی، زائل ہوئی۔ اور ملکِ رقبی جب ختم ہو گئی تو ملکِ متعتہ بھی کیا ہو گئے؟ زائل ہو گئے۔ تو دیکھا، تحریر یعنی آزاد کرنا، آزاد کرنے سے کیا آئی؟ زوالِ ملکِ رقبی، اور زوالِ ملکِ رقبی سے پھر آگے کیا حاصل ہوا؟ زوالِ ملکِ متعتہ بھی۔ تو تحریر سبب ہے کس چیز کا؟ زوالِ ملکِ متعتہ کا، کس کے واسطے سے؟ زوالِ ملکِ رقبہ کے واسطے سے۔ تو تحریر سبب ہے اور زوالِ ملکِ متعتہ اس کا حکم ہے، کیا ہے اس کا؟ حکم ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اب یہ جو سبب جب بھی پایا جائے تو سبب، علت جب بھی پائی جائے، معلول ضرور پایا جاتا ہے۔ شراء جب بھی پائی جائے ملکِ رقبی ضرور پائی جائے گی، ملک ضرور پائی جائے گی۔ اور تحریر جب بھی پائی جائے، بانِدی یا غلام میں ملکِ رقبی ضرور پائی جائے گی، زوالِ ملکِ رقبی ضرور پائی جائے گی۔ لیکن سبب جب بھی پایا جائے، مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں۔ کبھی ہوگا اور کبھی... بھئی سبب کیا تھا؟ شراء، سبب کیا تھا؟ شراء، شراء سے کیا آیا؟ ملکِ رقبی اور اس ملکِ رقبی سے کیا ائی؟ ملکِ متعہ۔ تو شراء سبب ہے کس کے لیے؟ ملکِ متعہ کے لیے اور سبب جب بھی پایا جائے مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں، کبھی پایا جائے گا اور کبھی نہیں پایا جائے گا۔ مثلاً مولانا اگر باندی کو آزاد کیا، باندی کو خریدا، شراء کیا، کیا پایا گیا؟ ملکِ رقبی اور ملکِ رقبی سے کیا ایا؟ ملکِ متعہ۔ تو دیکھو شراء کے ساتھ سبب پایا گیا تو مسبب بھی پایا گیا لیکن کبھی نہیں بھی ہوگا۔ مثلاً آپ نے غلام کو خریدا، اب یہاں شراء ہے مولانا! لیکن ملکِ متعہ نہیں، کیونکہ ملکِ متعہ تو صرف کس کے اندر ہے؟ باندی کے اندر۔ تو سبب جب بھی پایا جائے مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں، کبھی ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح مولانا! تحریر، تحریر جو ہے سبب ہے کس کے لیے؟ زوالِ ملکِ متعہ کے لیے اور سبب جب بھی پایا جائے مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں، کبھی ہوگا اور کبھی نہیں جیسے باندی کو آزاد کیا تحریر کی تو کیا پایا گیا؟ زوالِ ملکِ متعہ پایا گیا لیکن جب غلام کو آزاد کیا تو تحریر تو ہے لیکن زوالِ ملکِ متعہ نہیں، کیونکہ غلام میں تو ملکِ متعہ ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب مسئلہ یہ ہے کتاب میں آپ کو بتلائیں گے ایک ا... کس کی؟ سبب کی مثال بھئی علت کی وہ مثالیں ذکر ہوئیں، إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ، إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ۔ اب مولانا سبب، مسبب والی جو استعارۃ ہے اس کی مثال دے رہے ہیں بھئی۔ مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا حَرَّرْتُكِ، میں نے تجھے کیا کر دیا؟ اب آپ بتائیے، یہ استعارۃ ہے، یہ صریح ہے یا کنایہ ہے؟ کنایہ ہے اور کنایہ کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے طلاق میں؟ دلیل یا وہ نیت ہوگی یا دلالتِ... اور اس نے نیت بھی کس چیز کی کر لی؟ طلاق کی نیت کر لی۔ جب طلاق کی نیت کر لی تو اس سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق اور یہ کنایہ ہے اور کنایہ سے کون سی طلاق واقع ہوا کرتی ہے؟ بائن، بائن۔ تو معلوم ہوا حَرَّرْتُكِ، حَرَّرْتُكِ، تحریر، تحریر سبب ہے زوالِ ملکِ متعہ کے لیے۔ ابھی تک کیا بات ہو رہی تھی؟ تحریر سے کیا ہوتا ہے؟ زوالِ ملکِ رقبی اور زوالِ ملکِ رقبی سے کیا ہوتا ہے؟ زوالِ ملکِ متعہ، تو تحریر سبب ہے زوالِ ملکِ متعہ کے لیے، زوالِ ملکِ متعہ کے لیے۔ تو تحریر سبب ہے زوالِ ملکِ متعہ کے لیے۔ تو جیسے مولانا! طلاق جو ہے طلاق، طلاق سے زوالِ ملکِ متعہ پایا جاتا ہے ہوگا، اسی طرح تحریر سے بھی کیا ہوگا؟ زوالِ ملکِ متعہ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں تحریر مستعار ہوئی طلاق سے۔ کس معنی میں استعمال ہوئی ہے بھئی؟ طلاق کے معنی میں، تو یہ مستعار ہوئی کس کے لیے؟ طلاق کے لیے، طلاق میں بھی جیسے زوالِ ملکِ متعہ ہوتا ہے اسی طرح تحریر میں بھی کیا آ گیا زوالِ ملکِ متعہ۔ لہٰذا تحریر کو استعمال کرنا طلاق کے لیے صحیح ہے اور اس سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ وَمِثَالُ الثَّانِي اور ثانی کی مثال، یعنی وہ استعارۃ جو کس کے درمیان ہو؟ سبب اور حکم، مسبب، مسبب، سبب اور حکم کے درمیان۔ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ، جب ایک شخص نے کہا اپنی بیوی سے حَرَّرْتُكِ، میں نے تجھے آزاد کیا، وَنَوَى بِهِ الطَّلَاقَ اور ارادہ اس سے کس چیز کا کیا؟ طلاق کا دیکھا؟ حَرَّرْتُكِ مولانا کنایہ ہے اور کنایہ کے لیے کیا چاہیے؟ نیت چاہیے تھی، یا دلالتِ حال، تو اس لیے آگے بتلایا وَنَوَى بِهِ الطَّلَاقَ اور نیت کس چیز کی کی؟ طلاق کی، يَصِحُّ صحیح ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیوں؟ کیونکہ تحریر سبب ہے اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ... بھئی تحریر سبب ہے کس چیز کا؟ زوالِ ملکِ متعہ کا اور سبب مسبب کے درمیان اصل بول کر فرع کا ارادہ کیا جا سکتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تحریر سبب ہے کس کے لیے مولانا؟ زوالِ ملکِ متعہ کے لیے، لہٰذا تحریر بول کر زوالِ ملکِ متعہ کا ارادہ کرنا طلاق اور طلاق کا ارادہ کرنا... کیونکہ طلاق میں بھی زوالِ ملکِ متعہ ہے۔ لِأَنَّ التَّحْرِيرَ بِحَقِيقَتِهِ اس لیے، اس لیے کہ تحریر جو ہے اپنے معنی حقیقی کے اعتبار سے يُوجِبُ أَيْ يُثْبِتُ، وہ ثابت کرتی ہے زَوَالَ مِلْكِ الْبُضْعِ کس چیز مولانا؟ ملکِ بضع کے زوال کو، سمجھ میں آیا؟ ملکِ بضع سے مراد ملکِ متعہ ہے مولانا، ملکِ متعہ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اچھا جی، ملکِ بضع کو۔ بضع مولانا فرج المراءۃ کو کہتے ہیں بھئی، تو يُوجِبُ زَوَالَ مِلْكِ الْبُضْعِ یہ ثابت کرتا ہے زوال کس چیز کو؟ ملکِ متعہ کے... بھئی تحریر مولانا! تحریر سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ زوالِ ملکِ... سب سے پہلے تحریر سے کیا آئے گا؟ زوالِ ملکِ رقبہ اور زوالِ ملکِ رقبہ سے پھر آگے کیا آئے گا؟ زوالِ ملکِ... دیکھو یہی بات کرنے لگے ہیں اس لیے کہ تحریر جو ہے اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے يُوجِبُ زَوَالَ مِلْكِ الْبُضْعِ وہ ثابت کرتی ہے زوالِ ملکِ بضع کو بِوَاسِطَةِ زَوَالِ مِلْكِ الرَّقَبَةِ کس کے واسطے سے؟ زوالِ ملکِ رقبہ، فَكَانَ سَبَبًا مَحْضًا تو یہ سببِ محض ہے مولانا، سببِ... بھئی سببِ محض کی قید محض کی قید کیوں لگائی؟ میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا کیونکہ کبھی کبھار سبب بول کر کیا مراد لے لیتے ہیں؟ علت، سبب بول کر... تو علت ہو تو پھر تو علت اور معلول میں دونوں طرف سے استعارۃ جائز ہے لیکن ایک ہے سببِ محض، سببِ محض کی قید بڑھائی کہ وہ مجازاً جو اس سے علت والا معنی مراد لیتے ہیں وہ والا سبب مراد نہیں بلکہ جو محضِ سبب ہو علت نہ ہو کسی بھی اعتبار سے۔ تو فكان سببًا محضًا لِزَوَالِ مِلْكِ الْمُتْعَةِ زوالِ ملکِ متعہ کے لیے، فجَازَ أَنْ يُسْتَعَارَ عَنِ الطَّلَاقِ تو جائز ہے کہ اس کو مستعار لیا جائے یعنی اس لفظِ حَرَّرْتُكِ کو مستعار لیا جائے عَنِ الطَّلَاقِ کس سے؟ طلاق سے مستعار لیا جائے، الَّذِي هُوَ مُزِيلٌ لِمِلْكِ الْمُتْعَةِ جو کہ زائل کرنے والی ہے ملکِ... تو جیسے مولانا طلاق ملکِ متعہ کو زائل کرنے والی ہے اسی طرح حَرَّرْتُ بھی کیا ہے؟ بواسطةِ زوالِ ملکِ رقبی کو کیا ثابت کرتا ہے؟ ثابت کرتا ہے، تو لہٰذا طلاق سے مستعار کرنا صحیح ہے بھئی مستعار لینا ا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی سب کو؟ وَلَا يُقَالُ یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں، اعتراض یہ: کہ آپ نے کہا حَرَّرْتُكِ یہ مجاز ہے طلاق سے، حَرَّرْتُكِ مجاز کس سے ہے؟ طلاق سے، کیونکہ جیسے طلاق کے اندر زوالِ ملکِ متعہ ہوتا ہے اسی طرح تحریر سے بھی کیا ہوتا ہے؟ زوالِ ملکِ متعہ ہوتا ہے، تو معلوم ہوا یہ طلاق تو ہے اصل اور تحریر کیا ہے؟ اس کا نائب بن گیا اور جو اصل کا حکم ہوتا ہے وہی کس کا حکم ہوتا ہے؟ نائب، اور لفظِ طلاق جو ہے وہ صریح ہے اور صریح سے کون سی طلاق واقع ہوا کرتی ہے؟ رجعی، لہٰذا اس حَرَّرْتُكِ سے بھی کون سی طلاق واقع ہونی چاہیے؟ رجعی ہونی چاہیے بھئی، رجعی طلاق بھئی۔ ہاں تو آپ نے اس کو کیا بنایا مولانا؟ آپ نے اس کو مجاز بنایا کس سے؟ حَرَّرْتُكِ کو طلاق سے مجاز بنایا تو معلوم ہوا اور جو اصل کا حکم ہوتا ہے وہ کس کا ہونا چاہیے؟ فرع کا ہونا چاہیے تو اصل کون ہے مولانا؟ طلاق، تو طلاق سے، لفظِ طلاق سے کون سی طلاق واقع ہوتی ہے؟ طلاقِ رجعی، لہٰذا حَرَّرْتُكِ سے بھی کون سی طلاق واقع ہونی چاہیے؟ رجعی طلاق ہونی چاہیے، لیکن آپ کیا حکم لگاتے ہیں کہ اس سے کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟ طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے بھئی۔ جی، تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی ہم اس کو مجاز طلاق سے نہیں بناتے، لفظِ طلاق سے، بلکہ ہم اس کو بناتے ہیں مجاز ایسے لفظ سے جو طلاق کو زائل کر دے، جو ملکِ متعہ کو زائل کر دے۔ ہم اس کو طلاق سے مجاز نہیں بناتے بلکہ کس چیز سے بناتے ہیں مولانا؟ ایسے لفظ سے جو ملکِ متعہ کو کیا کر دے؟ زائل کر دے، زائل کر دے کیونکہ اس سے کیا آ رہا تھا؟ زوالِ ملکِ متعہ، تو بھئی طلاقِ رجعی میں زوالِ ملکِ متعہ ہے؟ طلاقِ رجعی میں تو کیا کر سکتا ہے خاوند؟ رجوع کر سکتا ہے، تو البتہ کس کے اندر زوالِ ملکِ متعہ ہے؟ طلاقِ بائن میں ہے اور ہم نے بھی مولانا حَرَّرْتُكِ کو کنایہ بنایا کس سے؟ ایسے لفظ سے جو زائل کرنے والا ہے کس چیز کو؟ ملکِ متعہ کو زائل کرنے والا ہے اور ملکِ متعہ کو زائل کرنے والی طلاقِ رجعی نہیں ہے بلکہ کون سی طلاق ہے؟ طلاقِ بائن ہے، اسی لیے ہم اس سے کون سی طلاق ثابت کرتے ہیں؟ طلاقِ بائن ہے۔ فَلَا يُقَالُ اور یہ اعتراض نہ کیا جائے، لَوْ جُعِلَ مَجَازًا عَنِ الطَّلَاقِ کہ اگر تحریر کو مجاز بنایا گیا ہے کس سے؟ مجاز سے طلاق سے مجاز بنایا گیا ہے، لَوَجَبَ أَنْ يَكُونَ الطَّلَاقُ الْوَاقِعُ بِهِ رَجْعِيًّا تو واجب ہوتا ہے کہ جو وہ طلاق جو وہ طلاق جو اس سے واقع ہو کون سی ہونی چاہیے؟ رجعی ہونی چاہیے، كَصَرِيحِ الطَّلَاقِ جیسے کیا ہوتی ہے؟ صریح طلاق وہ بھی رجعی ہوتی ہے، لِأَنَّا نَقُولُ جواب دینے، اس لیے کہ ہم کہتے ہیں لَا نَجْعَلُهُ مَجَازًا عَنِ الطَّلَاقِ ہم اس کو طلاق سے مجاز نہیں بناتے، بَلْ عَنِ الْمُزِيلِ لِمِلْكِ الْمُتْعَةِ أَيْ اللَّفْظِ الْمُزِيلِ بلکہ اس لفظ سے مجاز بناتے ہیں، الْمُزِيلِ لِمِلْكِ الْمُتْعَةِ جو ملکِ متعہ کو کیا کرنے والا ہے؟ زائل کرنے والا ہے۔ وَذَلِكَ فِي الْبَائِنِ اور وہ کس کے اندر ہے مولانا؟ زوالِ ملکِ متعہ بائن میں ہے، إِذِ الرَّجْعِيُّ لَا يُزِيلُ مِلْكَ الْمُتْعَةِ عِنْدَنَا اس لیے کہ طلاقِ رجعی تو زائل نہیں کرتی ملکِ متعہ کو ہمارے نزدیک بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ کنایاتِ طلاق... یہ کیا ہوا مولانا؟ مجاز ہوا طلاقِ بائن سے، نہ کہ طلاقِ صریح طلاق سے، طلاقِ رجعی سے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اچھا! اب آپ بتائیے مولانا! کہ سبب اور مسبب میں دونوں طرف سے استعارۃ صحیح ہے یا سبب بول کر مسبب مراد لے سکتے ہیں؟ اور مسبب بول کر سبب... مراد نہیں لے سکتے، بھئی دونوں طرف سے استعارۃ صحیح نہیں، سبب بول کر مسبب تو مراد لیں گے لیکن مسبب بول کر سبب... وَلَوْ قَـ... اسی لیے دیکھا، وَلَوْ قَالَ لِأَمَتِهِ اگر آقا نے اپنی باندی سے کہا طَلَّقْتُكِ، میں نے تجھے کیا دی؟ طلاق دی، وَنَوَى بِهِ التَّحْرِيرَ اور نیت کس چیز کی کی؟ تحریر کی کہ مولانا! تو دیکھا لفظ بولا زوالِ ملکِ متعہ والا اور ارادہ کس چیز کا کیا؟ تحریر کا اور تحریر تو اس کا کیا تھا؟ زوالِ ملکِ متعہ کا سبب تھا اور مسبب بول کر کس چیز کا ارادہ کیا جا رہا ہے؟ سبب کا اور یہ استعارۃ صحیح نہیں، لہٰذا اس سے باندی آزاد نہیں ہوگی۔ وَنَوَى بِهِ التَّحْرِيرَ اور ارادہ کیا اس سے آزاد کرنے کا، لَا يَصِحُّ یہ صحیح نہیں ہے، لِأَنَّ الْأَصْلَ جَازَ أَنْ يَثْبُتَ بِهِ الْفَرْعُ وَأَمَّا الْفَرْعُ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَثْبُتَ بِهِ الْأَصْلُ اس لیے کہ اصل اصل جو ہے جائز ہے کہ اس کے ذریعے ثابت کیا جائے فرع کو یعنی سبب بول کر حکم کو، وَأَمَّا الْفَرْعُ باقی فرع جو ہے یعنی حکم، فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَثْبُتَ بِهِ الْأَصْلُ تو جائز نہیں ہے کہ اس کے ذریعے ثابت کیا جائے کس کو؟ اصل کو یعنی سبب کو یعنی مسبب بول کر سبب مراد... ہاں البتہ سبب بول کر مسبب مراد لے... وَعَلَى هَذَا نَقُولُ اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں، يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِلَفْظِ الْهِبَةِ وَالتَّمْلِيكِ وَالْبَيْعِ کہ نکاح کا لفظ منعقد ہو... کہ نکاح منعقد ہو جائے گا کس لفظ سے؟ ہبہ کے لفظ سے بھی، تملیک کے لفظ سے بھی اور بیع کے لفظ سے بھی۔ بھئی دیکھو کسی چیز کو آپ ہبہ کریں کسی شخص کو، کوئی چیز ہبہ کریں۔ باندی مثلاً ہبہ کی، تو جب باندی ہبہ کی تو کیا حاصل ہوئی دوسرے کو؟ ملکِ رقبی حاصل ہوئی، کیا حاصل ہوئی؟ اور ملکِ رقبی حاصل ہونے کے اس سے پھر آگے کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ متعہ بھی۔ تو ہبہ سبب ہے کس چیز کا؟ ملکِ متعہ... ملکِ متعہ کا، سمجھ میں آیا؟ تو جیسے نکاح سے ملکِ متعہ حاصل ہوتا ہے اسی طرح ہبہ سے بھی کیا حاصل ہوتا ہے؟ ملکِ... البتہ ہبہ سبب ہے، علت نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص ہبہ بول کر اس سے کس چیز کا ارادہ کرتا ہے؟ نکاح کا تو یہ مجاز صحیح ہے کیونکہ نکاح سے جیسے کیا حاصل ہوتا ہے؟ ملکِ متعہ، ہبہ سے بھی کیا حاصل ہوتا ہے؟ تو یہ کنایہ... یہ استعارۃ ہوا اور سبب بول کر کس چیز کا ارادہ کیا جا رہا ہے؟ مسبب کا تو یہ صحیح ہے۔ اسی طرح مثلاً... تو ہبہ میں مثلاً کیا کہا؟ ایک عورت نے ایک شخص سے کہا دو گواہوں کی موجودگی میں وَهَبْتُ لَكَ نَفْسِي، میں نے تجھے اپنا نفس کیا کر دیا؟ ہبہ کر دیا اور اس نے کہا قَبِلْتُ، میں نے کیا کر دیا؟ قبول کر دیا، تو مولانا کیا بات ہو جائے گا؟ نکاح ہو جائے گا۔ نکاح کیا ہے؟ کیونکہ ہبہ بول کر کس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے؟ نکاح کا اور ہبہ بول کر نکاح صحیح کیونکہ ہبہ کیا ہے؟ سبب سبب ہے اس کے لیے۔ اسی طرح تملیک ہے مولانا، کسی کو مالک بنانا۔ جب کسی کو آپ مالک بنائیں گے تو اس کو کیا حاصل ہوگی؟ ملکِ رقبی۔ باندی آپ نے دوسرے، زید کو کہا: میں نے تمہیں اپنی باندی کا مالک بنایا، اسے کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ رقبہ اور ملکِ رقبی سے پھر آگے کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ متعہ، تو تملیک بھی سبب ہے کس چیز کا؟ ملکِ متعہ کا، لہٰذا تملیک کا لفظ بول کر تملیک کو نکاح سے مجاز بنانا بھی جائز ہے۔ اسی طرح بیع ہے مولانا! آپ نے باندی دوسرے کو بیچی، اس کو کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ رقبہ اور ملکِ رقبہ کے واسطے سے پھر کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ متعہ، تو بیع بھی سبب ہے کس کے لیے؟ ملکِ متعہ کے لیے، لہٰذا بیع بول کر نکاح مراد لینا بھی، ہبہ بول کر نکاح مراد لینا صحیح، اسی طرح تملیک بول کر نکاح مراد لینا صحیح، کیونکہ یہ سارے سبب ہیں۔ اسی لیے ہم ہم کہتے ہیں کہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے لفظِ ہبہ اور تملیک اور بیع کے ساتھ، لِأَنَّ الْهِبَةَ بِحَقِيقَتِهَا اس لیے کہ ہبہ اپنے حقیقت کے اعتبار سے یعنی معنی حقیقی کے اعتبار سے تُوجِبُ مِلْكَ الرَّقَبَةِ ثابت کرتا ہے کس چیز کو؟ ملکِ رقبہ کو، وَمِلْكُ الرَّقَبَةِ يُوجِبُ مِلْكَ الْمُتْعَةِ اور ملکِ رقبہ ثابت کرتا ہے يُثْبِتُ مِلْكَ الْمُتْعَةِ ثابت کرتا ہے کس کو؟ ملکِ متعہ کو، فِي الْإِمَاءِ باندیوں کے اندر۔ فكانت الهبة سببا محضا، تو هبہ کیا ہوا مولانا سبب محض، لثبوت ملک المتعة، کس کے لیے ثبوت ملک متعة کے لیے۔ فجاز أن يستعار عن النكاح، لہذا جائز ہے کہ اس کو مجاز بنایا جائے کس سے؟ لفظِ نكاح سے مولانا، وكذلك لفظ التمليك والبيع، اور اسی طرح کیا ہے تملیک کا لفظ بھی ہے اور بیع کا لفظ بھی ہے، ولا ينعكس، اور اس کا عکس نہیں ہے مولانا، یعنی نکاح بول کر بیع مراد نہیں لے سکتے، نکاح بول کر تملیک مراد نہیں لے سکتے، نکاح بول کر ہبہ مراد، اس لیے کہ نکاح مسبب ہے اور ہبہ اور تملیک اور بیع کیا ہیں؟ نہیں، نکاح مسبب ہے اور تملیک اور ہبہ اور بیع کیا ہیں؟ سبب ہیں، تو مسبب بول کر تو نکاح مراد ہو سکتا ہے، اصل بول کر فرع تو مراد ہو سکتے ہیں لیکن فرع، نکاح بول کر اصل مراد نہیں ہو سکتے، ولا ینعكس، اس کا عکس نہیں ہے حتّى لا ینعقد البيع والهبة بلفظ النكاح، یہاں تک کہ منعقد نہیں ہوگی بیع اور ہبہ کس لفظ سے؟ لفظ، اپ نکاح کا لفظ بولتے ہیں اور ارادہ کس کا کرتے ہیں؟ ہبہ کے، تو ہبہ منعقد نہیں اور اسی طرح مولانا اپ نکاح کا لفظ بولتے ہیں اور بیع کا ارادہ کرتے ہیں، اس سے بیع منعقد نہیں ہوگی۔ سمجھے؟ ثم فی كل موضع، پھر ہر ایسے مقام کے اندر، یہ ایک ضابطہ بتلا رہے ہیں، یہ ضابطہ یاد رکھو، پھر ہر ایسے جگہ مقام کے اندر، يكون المحل متعینًا، کہ محل کیا ہو؟ متعین ہو، لنوع من المجاز، مجاز کی ایک نوع کے لیے، لا یحتاج فیہ إلى النية، اس میں نیت کی احتیاج نہیں ہوگی، نیت کی احتیاج نہیں ہوگی۔ یاد رکھو ضابطہ یہ ہے مولانا: ہر وہ مقام جہاں حقیقت سے کوئی مانع ہو۔ ہر وہ مقام جہاں حقیقت کے لیے کوئی مانع ہو۔ لکھ لو بھئی، یہ ضابطہ لکھ لو۔ ہر وہ مقام جہاں حقیقت کے لیے کوئی مانع ہو۔ ہر وہ مقام جہاں حقیقت کے لیے کوئی مانع ہو اور مجاز میں بھی صرف ایک ہی احتمال ہو۔ اور مجاز میں بھی صرف ایک ہی احتمال ہو۔ اور مجاز میں بھی صرف ایک ہی احتمال ہو۔ وہاں نیت شرط نہیں، وہاں نیت شرط نہیں، بلکہ وہی مجازی معنی خود بخود متعین ہو جائے گا، بلکہ وہی مجازی معنی خود بخود متعین ہو جائے گا۔ لکھ لیا بھئی ضابطہ؟ ہر وہ مقام، ہر وہ محل جہاں پر کیا ہو؟ حقیقت سے کوئی مانع موجود ہو اور مجاز میں بھی صرف ایک ہی احتمال ہو، تو لفظ سے وہی مجازی معنی خود بخود کیا ہو جائیں گے؟ متعین ہو جائیں گے بھئی، کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں بھئی، نیت کی ضرورت، بھئی حقیقت، لفظ کا ایک حقیقی معنی، ایک مجازی معنی۔ حقیقی معنی سے تو مانع موجود ہے، حقیقی معنی کا تو ارادہ کر ہی نہیں، جیسے ایک آزاد عورت نے کیا کہا؟ وہبت لك نفسی، یا ملکتك نفسی، میں نے تجھے اپنے نفس کا کیا بنایا؟ مالک بنایا، یا مولانا کیا کہتی ہے؟ بعت منك نفسی، میں نے تجھ پر اپنے نفس کو بیچا، حقیقی معنی ممکن ہے یہاں پر؟ جی، وہ آزاد عورت ہبہ ہو سکتی ہے؟ بیع ہو سکتی ہے؟ تملیک ہو سکتی ہے؟ نہیں، تو حقیقی معنی تو معنی تو کیا ہوا ہے؟ مانع، اور مجازی معنی کیا ہے؟ نکاح کے، اور وہ ایک ہی ہے، اور کوئی احتمال ہے مجاز میں؟ جب احتمال اور ہوئی اور کوئی ہے ہی نہیں، تو لہٰذا وہ خود بخود متعین ہو گیا، اور اب نیت کی کوئی ضرورت نہیں، نیت کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہے جہاں اور احتمالات ہوں، یہاں تو اور کوئی احتمال ہے ہی نہیں، ایک حقیقی معنی تھا، ایک مجازی معنی تھا، حقیقی معنی مانع اگیا اور مجازی معنی ایک ہی ہے، کوئی دو تین ہیں؟ نہیں، لہٰذا وہ خود خود بخود متعین ہوا، وہاں کسی قسم کی کی نیت کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ ثم فی كل موضع، پھر ہر ایسے مقام کے اندر، يكون المحل متعینًا لنوع من المجاز، جہاں مقام متعین ہو ایک نوع مجاز کے لیے، لا یحتاج فیہ إلى النية، وہاں احتیاج نہیں ہوتی کس چیز کی؟ نیت کی، لا یقال، یہاں سے اعتراض کر رہے ہیں مولانا صاحبین پر، صاحبین نے کیا کہا تھا؟ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا، صاحبین نے کیا کہا تھا؟ کس چیز میں؟ حکم میں، حکم میں، یعنی حقیقت فی نفسہ ممکن ہو تو پھر معنی مجازی مراد لیا جا سکتا ہے، اگر حقیقت فی نفسہ ممکن ہی نہ ہو تو مجازی معنی بھی مراد نہیں لے سکتے، نہیں لے سکتے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہاں ایک آزاد عورت کہہ رہی ہے وہبت لك نفسی، یا ایک آزاد عورت کہہ رہی ہے ملکتك نفسی، یا ایک آزاد عورت کیا کہہ رہی ہے بعت منك نفسی، صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ بعت کا صلہ من آتا ہے من، بعت منك میں نے تجھ پر بیچا نفسی اپنے نفس کو، تو ایک آزاد عورت کہہ رہی ہے، اب اے صاحبین! اپ اسے مجازی معنی کا ارادہ کرتے ہیں کہ بعت بول کر کیا مراد ہے؟ نکاح، تملیک بول کر کیا مراد ہے؟ نکاح، ہبہ بول کر کیا مراد ہے؟ نکاح، بھئی مجازی معنی تو تب صحیح ہوتا ہے جبکہ حقیقی معنی اپ کے نزدیک کیا ہو؟ ممکن، اور یہاں تو حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ آزاد عورت کے ہبہ بھی نہیں، تملیک بھی نہیں اور بیع بھی نہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ جواب دیتے ہیں کیوں نہیں بھئی! ممکن ہے حقیقی معنی بھی، کسی نہ کسی لحاظ سے ممکن ہونا چاہیے بس، اور ہو سکتا ہے یہ عورت ہے یہ کیا ہو جائے؟ مرتد ہو جائے، مرتد ہوئی تو دار الحرب چلی گئی، یہاں نہیں رہے گی، یہاں رہے گی تو ہم تو فوراً قید میں ڈالیں گے اس کو، یا اسلام واپس قبول کرو یا قید میں رہو ہمیشہ، سمجھ میں آیا؟ مرد ہوگا تو اس کو تین دن کی مہلت دے کر قتل کر دیا جائے گا اگر تین دن میں اسلام دوبارہ نہیں لاتا، عورت ہو تو اس کو قید ہی میں رکھیں گے، سمجھ میں آیا؟ تو اب وہ مرتد ہوئی، مرتد ہو کر کدھر چلی گئی بھئی؟ دار الحرب بھاگ گئی، اب پھر مسلمانوں کی جنگ ہوئی، مسلمانوں نے وہاں قبضہ کیا، عورت قیدی بن گئی، قیدی بن کر اب مولانا اس کی بیع بھی صحیح، اس کی تملیک بھی صحیح اور اس کی ہبہ بھی صحیح، تو کسی نہ کسی صورت میں ممکن ہو گیا یا نہیں بھئی؟ تو حقیقت کا فی الجملہ ممکن ہونا کافی ہے، کسی نہ کسی صورت میں ممکن ہونا جب کافی ہے، تو اب مجازی معنی صحیح، نکاح کا معنی اس سے مراد لینا صحیح۔ لا یقال، یہ نہ کہا جائے، ولما، واؤ نہیں ہونا چاہیے مولانا، یہ واؤ غلط، کتابت کی غلطی ہے، لما كان امکان الحقيقة شرطًا، کہ جب حقیقت کا امکان شرط تھا کس کے لیے؟ لصحة المجاز، مجاز کے صحیح ہونے کے لیے، حقیقت کا ممکن ہونا شرط تھا، عندہما، کس کے نزدیک؟ صاحبین کے نزدیک، کیف یصار إلى المجاز، کیسے کیسے رجوع کیا جائے گا؟ کیسے جایا جائے گا مجاز کی طرف؟ فی صورت النكاح، نکاح کی اس صورت میں، بلفظ الهبة، لفظ ہبہ کے ساتھ، مع أن تمليك الحرة بالبيع والهبة محال، باوجود اس کے کہ آزاد کا کی عورت کی تملیک بیع اور ہبہ کے ساتھ کیا ہے؟ محال ہے، لہٰذا جب حقیقی معنی ممکن نہیں، محال ہوئے، تو مجازی معنی بھی مراد نہیں لے سکتے۔ لأنا نقول، کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں، ذلك ممكن فی الجملة، کہ یہ ممکن ہے فی الجملہ، یعنی من حیث المجموع یہ ممکن ہے، کسی نہ کسی فی الجملہ کا کیا معنی؟ کسی نہ کسی صورت میں، کسی نہ کسی لحاظ سے، کسی نہ کسی لحاظ سے یہ ممکن ہے، کیسے؟ بأن ارتدت، کہ وہ کیا ہو گئی؟ مرتد ہو گئی، ولحقت بدار الحرب، اور مل گئی کس کے ساتھ؟ دار الحرب، یعنی دار الحرب چلی گئی، ثم سبيت، پھر قیدی بنا لی گئی، قیدی بنا لی گئی، تو یہ کیا ہے؟ ممکن ہے، وصار هذا نظير مس السماء وأخواتها، اور یہ نظیر ہو گئی مسِ السماء اور اس کے مشابہ کے مثال مشابہ ہو گئی۔ مسِ السماء اور اس کے مشابہ کے یہ نظیر ہے، نظیر ہو گئی۔ یاد رکھو قسم کی تین قسمیں ہیں مولانا: ایک یمین لغو ہے، ایک یمین غموس ہے، ایک یمین منعقدہ ہے۔ یمین لغو کس کو کہتے ہیں؟ یمین لغو مولانا جو عام طور پر قسم آدمی ویسے بات بات قسم اٹھاتا ہے، تکیہ کلام ہے، ہر بات پہ کیا کرتا رہتا ہے وہ؟ قسم اٹھاتا رہتا ہے، یہ یمین لغو ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ یمین لغو ہے۔ یا ایک آدمی ہے ماضی کی کسی بات پر قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ اس طرح ہوا تھا، اب اپنے علم میں وہ سچا ہے، وہ کیا سوچ رہا ہے؟ کہ شاید اسی طرح تھا، اس کو اسی طرح یاد پڑ رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ صحیح نہیں، تو اس پر کوئی حرج نہیں مولانا، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، نہ دنیا میں اس کی کوئی سزا ہے اور نہ آخرت میں اس پر کوئی مؤاخذہ ہے، کیونکہ وہ اپنے علم کے مطابق بیچارہ کیا کر رہا ہے؟ ہاں، وہ تو غلطی سے ہے، غلطی ہوئی اس سے، سمجھے؟ تو یہ جو تکیہ کلام کے طور پر عام قسمیں کھائی جاتی ہیں یا یہ ماضی کی کسی بات پر اپنے علم کے مطابق کیا کھا رہا ہے؟ سچی قسم، لیکن درحقیقت وہ سچی نہیں، یہ کیا کہلاتی ہے؟ یمین لغو، اور اس یمین لغو کا کیا حکم ہے؟ نہ دنیاوی سزا ہے اور نہ آخرت میں کوئی پکڑ ہوگی، مؤاخذہ ہوگا، سمجھ میں آیا؟ نہ گناہ بھی کوئی نہیں، نہ وہ دنیاوی سزا ہے اور نہ گناہ ہے۔ اور دوسری ہے یمین غموس، یمین غموس اس کو کہتے ہیں کہ ماضی کی کسی بات پر جھوٹی قسم اٹھانا، پتہ ہے ایسا نہیں ہوا تھا، پھر آدمی قسم اٹھا کے کیا کہہ رہا ہے؟ ایسا ہوا تھا، سمجھ میں آیا؟ جھوٹی قسم اٹھانا ماضی پر، یہ کیا کہلاتا ہے؟ یمین غموس، اور یمین غموس کے بارے میں یاد رکھو اس پر دنیاوی سزا تو کوئی نہیں، کفارہ نہیں ہے، لیکن اخروی سزا ہے، گناہ ہے، کیا ہے؟ گناہ ہے، مؤاخذہ ہوگا اس پر جھوٹی قسم اٹھانے پر، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دنیا، تو یمین لغو پر نہ دنیاوی سزا ہے اور نہ اخروی سزا ہے۔ یمین لغو میں نہ دنیاوی سزا ہے اور نہ آخرت میں مؤاخذہ ہے، اور یمین اگلی کونسی ہے؟ یمین غموس کے اندر مولانا دنیاوی سزا تو نہیں، لیکن آخرت میں کیا ہو گئی؟ پکڑ ہوگی، مؤاخذہ ہے، گناہ ہے، اور تیسری ہے یمین منعقدہ، یمین منعقدہ اس کو کہتے ہیں مولانا کہ جو مستقبل کے کسی کام کے بارے میں آدمی قسم اٹھائے کہ یہ کام میں نے کرنا ہے یا یہ کام نہیں کرنا، اس کو پورا کرنا اس کا ضروری ہے، اگر پورا کر لیا فبہا بڑی اچھی بات ہے، اور اگر پورا نہیں کیا، قسم کو توڑ دیا تو اس صورت میں مولانا کفارہ دینا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ کفارہ دینا پڑے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ کفارہ دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ اب یاد رکھو قسم میں کفارہ تب آیا کرتا ہے جب اس کو پورا کرنا ممکن ہو، اگر اس کو پورا کرنا ممکن ہی نہ ہو تو کفارہ نہیں آتا، اپ قسم اٹھاتے ہیں کہ واللہ، ہاں؟ کیا قسم اٹھاتے ہیں مثلاً؟ تو مولانا یاد رکھو قسم کے اندر مولانا کفارہ تب آیا کرتا ہے جب اس کو پورا کرنا ممکن ہو، اگر پورا کرنا ممکن ہی نہ ہو تو پھر وہ قسم لغو ہو جایا کرتی ہے، بات سمجھ میں آئی؟ یمین منعقدہ کے اندر کیا آیا کرتا ہے اگر پورا نہ کریں؟ کفارہ، اور یہ کفارہ تب ائے گا جب اس کو پورا کرنا ممکن بھی ہو، اگر پورا اگر ایسا ہے کہ اس کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر قسم کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی۔ اب ایک شخص کہتا ہے: واللہ! میں آسمان کو ہاتھ لگاؤں گا آج، کیا؟ وہ آسمان کو ہاتھ لگاؤں گا۔ سمجھ میں آیا؟ اب مولانا، یہ قسم ممکن ہے یا ممکن نہیں ہے؟ فقہاء فرماتے ہیں: وہ شخص حانث ہو گیا، فوراً کفارہ ادا کرو، جاؤ بھئی! اپ کے سامنے کوئی قسم اٹھا لے، فوراً اسے اس کو حانث بھی ہو گئے، جاؤ اب کفارہ دو بھئی! بھئی کیسے؟ قسم تو تب وہ کہے گا تب منعقد ہوتی ہے جب کیا ہو اس کا پورا کرنا؟ اپ کہیں گے پورا کرنا ممکن ہے فی الجملہ، کسی نہ کسی لحاظ سے پورا کرنا ممکن ہے، وہ کیسے؟ کہ اپ کیا ہوں؟ ولی اللہ بن جائیں اور کرامت کے طور پر اڑیں اور جا کر آسمان کو ہاتھ لگا کر ا جائیں، ممکن ہے یا نہیں ممکن کسی صورت میں؟ بطور کرامت کے یہ ممکن ہے۔ یا ایک شخص کہتا ہے کہ واللہ! میں یہ یہ جو سامنے بڑا سا پتھر پڑا ہوا ہے، اس کو سونے کا بنا دوں گا، اب مولانا فوراً اپ حکم لگائیں، حانث ہو گئے، جاؤ بھئی! کیا کرو؟ کفارہ ادا کرو، کیوں؟ کیونکہ فی الجملہ ممکن ہے کہ بطور کرامت کے کیا کر دیں اس کو؟ ولی اللہ بن جائیں اور بطور کرامت کے اس کے کیا کر دیں؟ پتھر سونے کا بنا دیں، ایک آدمی کہتا ہے: واللہ! میں کیا کروں گا؟ ہوا میں اڑوں گا، اپ فوراً کیا حکم لگائیں؟ لو بھئی حانث ہو گئے، جاؤ، تو فی الجملہ ممکن ہے یا نہیں اس قسم کا پورا کرنا؟ فی الجملہ تو ممکن ہے، لیکن فی الحال عاجز ہے یا نہیں؟ عادتاً عاجز ہے یا نہیں؟ تو عجزِ حالی کی وجہ سے فوراً حانث ہونے کا ہم حکم لگا دیں گے، تو قسم میں کفارہ تب آتا ہے جب اس کا پورا کرنا ممکن ہو، اور یہاں پورا کرنا ممکن تھا، لیکن فی الحال عاجز ہے، فی الحال کیا ہے؟ عاجز ہے، جب عاجز تو عجزِ حالی کیا ہوا؟ کہ سبب سے وہ حانث قرار دیا گیا، سمجھ میں آیا؟ تو جیسے صاحبین نے کہا تھا کہ حقیقت کا فی الجملہ ممکن ہونا کافی ہے کس کے لیے؟ معنیِ مجازی کی طرف جانے کے لیے، کیا کہا تھا؟ حقیقت کا فی الجملہ، حقیقت فی الجملہ کیا ہو؟ ممکن ہو، تو پھر کس کی طرف جا سکتے ہو؟ معنیِ مجازی کی طرف جا سکتے ہو، اسی طرح یہاں پر بھی مولانا کیا ہے؟ قسم کا پورا ہونا فی الجملہ کیا ہے؟ ممکن ہے، لہٰذا کیا حکم لگایا جائے گا؟ حانث ہونے کا حکم لگایا جائے گا، اسی لیے کہا وصار هذا نظير مس السماء وأخواتها، اور یہ نظیر ہے کس کی مولانا؟ مسِ آسمان کو چھونے اور اس کے جو مشابہ ہیں اور چیزیں، مثلاً میں نے ذکر کر دیا ہوا میں اڑنا ہے، پتھر کو سونے کا بنانا ہے، یہ ان کی نظیر ہے، یہ جو اوپر والا مسئلہ ذکر ہوا، یہ اس کی نظیر ہے ، چلیے مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 33 of 123