Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-099

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
البحث الثالث في الإجماع. فصل: إجماع هذه الأمة بعد ما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم في فروع الدين حجة موجبة للعمل بها شرعاً كرامة لهذه الأمة. ثم الإجماع على أربعة أقسام. جی، بھئی آپ نے شروع میں پڑھا تھا کہ ادلۂ شرعیہ چار ہیں، بھئی: کتاب الله، سنت رسول صلی الله علیہ وسلم، إجماع اور قياس، بھئی۔ کتاب الله کی بحث بھی ختم ہوئی، سنت رسول صلی الله علیہ وسلم کی بحث بھی ختم ہوئی، آج تیسری بحث ہوگی إجماع کے بارے میں، بھئی۔ کہتے ہیں: "البحث الثالث في الإجماع" تیسری بحث إجماع کے بارے میں ہے۔ اور إجماع یاد رکھو، بھئی! إجماع کا معنی لغت میں ہے: عزم کرنا، پختہ ارادہ کرنا اور اتفاق کرنا۔ لغت میں إجماع کسے کہتے ہیں؟ عزم کرنا یعنی پختہ ارادہ کرنا اور اتفاق کرنا، اور اتفاق کرنا۔ اور اصطلاح میں إجماع کہتے ہیں: "الإجماع هو اتفاق علماء كل عصر من أهل السنة ذوي العدالة والاجتهاد على حكم". "الإجماع هو اتفاق علماء كل عصر من أهل السنة ذوي العدالة والاجتهاد على حكم". تو اصطلاح میں کسے کہتے ہیں إجماع؟ "هو اتفاق علماء كل عصر من أهل السنة ذوي العدالة والاجتهاد على حكم". وہ اتفاق کرنا ہے کسی زمانے کے علماء کا، کسی زمانے کے علماء کا کسی حکم پر، علماء کا کسی حکم پر۔ ایسے علماء جو کیا ہوں؟ "من أهل السنة" اہل سنت میں سے ہوں، بھئی، اہل سنت والجماعت میں سے، اور "ذوي العدالة" عادل ہوں، مولانا، عدالت والے ہوں یعنی عادل ہوں علماء، "والاجتهاد" یعنی "ذوي الاجتهاد" اجتہاد والے ہوں، بھئی، مجتہدین ہوں، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو کسی زمانے کے تمام علماء کا کسی حکم پر متفق ہو جانا یہ کیا کہلاتا ہے؟ إجماع کہلاتا ہے، بھئی۔ جی، آگے دیکھیے۔ "إجماع هذه الأمة بعد ما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم في فروع الدين حجة موجبة للعمل بها شرعاً كرامة لهذه الأمة". إجماع اس امت کا بعد وفات پا جانے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے "في فروع الدين" دین کے فروع میں، بھئی، دین کے فروع میں یعنی فروعی مسائل، بھئی، جن کا تعلق عمل سے ہے، جن کا تعلق کس سے ہے؟ عمل سے ہے، بھئی۔ کچھ ہوتے ہیں اصولی مسائل، اصول، بھئی، یعنی جن کا تعلق عقیدے سے ہوتا ہے، اور کچھ ہیں فروع جن کا تعلق کس سے ہے؟ عمل سے ہے، بھئی۔ ایک ہے عقیدہ، ایک عمل، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، بھئی۔ تو "في فروع الدين حجة" بھئی، تو اس امت کا إجماع نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد دین کے فروع میں، فروعات میں کیا ہے؟ حجة ہے، "حجة موجبة للعمل بها" ایسی حجة ہے جو واجب کر دینے والی ہے عمل کو اپنے اوپر، بھئی۔ اپنے اوپر کیا ہے عمل کو؟ واجب کر دینے والی ہے "شرعاً"، شرعاً یعنی اس پر عمل کرنا واجب ہے، سمجھ میں آیا؟ تو دین کے فروعی مسائل کے اندر بھئی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد إجماع جو ہے وہ حجة ہے اور ایسی حجة ہے "موجبة للعمل بها" کہ جس پر عمل کرنا واجب ہے، جو اپنے اوپر عمل کو واجب کرنے والی ہے یعنی اس پر عمل کرنا واجب ہے شرعاً، شرعی اعتبار سے اس إجماع پر عمل کرنا واجب ہے "كرامة لهذه الأمة" اس امت کی عزت کی وجہ سے، "كرامة لهذه الأمة" اس امت کی عزت کی وجہ سے، بھئی۔ تو دیکھیے مصنف نے کیا کہا؟ "إجماع هذه الأمة" بھئی، فوائد قیوّد سنتے جائیے۔ اس امت کا إجماع، بھئی، اس امت کا إجماع، تو اس کے ذریعے باقی امتوں کو خارج کر دیا، مولانا، کیونکہ ان کا إجماع حجة نہیں تھا، اس امت کا إجماع حجة ہے، واجب ہے عمل کرنا۔ اور کہا: "بعد ما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم" حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد، بھئی، حضور کی وفات کے بعد إجماع ہوگا، حضور کی زندگی میں نہیں، بھئی۔ حضور کی زندگی میں تو ہر مسئلے کے اندر حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا ضروری تھا، ان سے پوچھنا ضروری ہے، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ ان کی وفات کے بعد، بھئی۔ پھر کہا: "في فروع الدين" دین کے فروعی مسائل کے اندر، بھئی، نہ کہ دین کے اصولی مسائل۔ میں نے بتایا اصولی مسائل کیا ہیں جن کا تعلق کس سے ہے؟ عقیدے سے ہے، مثلاً الله ایک ہے، محمد صلی الله علیہ وسلم الله کے رسول ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت ہے، جہنم ہے، فرشتے ہیں، وغیرہ، یہ عقائد ہیں، مولانا، سمجھ میں؟ تو دین کے جو عملی مسائل، عمل سے جن کا تعلق ہے، بھئی، سمجھ میں آیا؟ ان میں یہ حجة ہے، بھئی، دین کے اصولی مسائل میں یہ حجة نہیں، اس لیے کہ جو اصولی مسائل ہیں جن کا تعلق عقیدے سے ہے وہ تو پہلے ہی دلائل نقلیہ قطعیہ سے ثابت ہو چکے ہیں، وہ تو پہلے ہی قرآن و حدیث کے قطعی دلائل سے کیا ہو چکے ہیں، بھئی؟ ثابت ہو چکے ہیں، بھئی۔ تو فروع دین میں، اور ایسی حجة ہے "موجبة للعمل بها" جن پر عمل کرنا کیا ہے شرعاً؟ واجب ہے، بھئی، شرعاً عمل کرنا واجب ہے، بھئی۔ بھئی، آگے إجماع کی چار قسمیں آپ کو بتلائیں گے، اور ان چاروں پر عمل واجب ہے، البتہ اعتقاد دو میں واجب ہے، دو میں اعتقاد واجب نہیں۔ تو لہٰذا اعتقاد کو یہاں ذکر نہیں کیا کیونکہ اعتقاد تو چاروں کے اندر واجب، البتہ عمل چاروں قسموں کے اندر واجب ہے، اس لیے اس کو ذکر کیا، بھئی۔ اور اس امت کی عزت کی وجہ سے، بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ بہترین امت ہے، قرآن میں الله کیا فرماتے ہیں: "كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر"، تو یہ بہترین امت ہے، تو اس امت کی عزت کی وجہ سے اس امت کو یہ اعزاز دیا گیا کہ اس کا إجماع حجة ہے، اس سے پہلے والی امتوں کو یہ اعزاز نہیں دیا کہ ان کا إجماع حجة ہو، بھئی۔ "ثم الإجماع على أربعة أقسام" پھر إجماع چار قسم پر ہے۔ یہاں ایک بات یاد رکھو، بھئی! کہ إجماع دو قسم پر ہے: ایک إجماع سندی ہے اور ایک إجماع مذہبی ہے۔ اگلے صفحے کے حاشیے میں یہ بات دی ہوئی ہے، وہیں پر نشان لگا لیجیے، بھئی۔ اگلا صفحہ 79 کا حاشیہ نمبر 6، بھئی۔ صفحہ 79 کا حاشیہ نمبر 6، دیکھیے کیا لکھا ہے، بھئی؟ "ثم بعد ذلك الإجماع على نوعين"، دو نوعوں پر ہے، مولانا، "اعلم أن الإجماع على نوعين" جان لے تو کہ إجماع دو قسم پر ہے: "سندي" ایک إجماع سندی ہے، وہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "وهو إجماع علماء كل عصر من أمة محمد صلى الله عليه وسلم على حكم"، وہ إجماع ہے کسی زمانے کے علماء کا یا ہر زمانے کے علماء کا حضور علیہ السلام کی امت میں سے "على حكم" کسی حکم پر، یہ إجماع سندی ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور آگے ہے: "ومذهبي" اور دوسرا إجماع کیا ہے؟ إجماع مذہبی ہے، "وهو إجماع بعض المجتهدين على حكم"، اور وہ إجماع ہے بعض مجتہدین کا کسی حکم پر، بعض مجتہدین کا کیا کر لینا کسی حکم پر؟ إجماع کر لینا، اتفاق کر لینا، بھئی۔ جی، تو إجماع کتنی قسم پر ہوا؟ دو، ایک کیا ہے؟ إجماع سندی، اور ایک کیا ہے؟ إجماع مذہبی، اور یہ اب جو ہے إجماع سندی کی چار قسمیں بیان ہونے لگی ہیں، بھئی، اور إجماع مذہب اگلے صفحے پر آئے گا، بھئی۔ کہتے ہیں: "ثم الإجماع على أربعة أقسام" پھر إجماع چار قسم پر ہے، یہ کون سا إجماع ہے، بھئی؟ إجماع سندی، بھئی۔ تو پہلی قسم: "إجماع الصحابة رضوان الله تعالى عليهم على حكم الحادثة نصاً". حادثہ کا معنی ہے واقعہ۔ پہلی قسم کیا ہے کہ إجماع کر لینا تمام صحابہ رضی الله تعالى عنہم کا "على حكم الحادثة" کسی واقعے کے حکم پر "نصاً" تصریح کرتے ہوئے۔ سمجھ میں آیا؟ إجماع کی پہلی قسم کیا ہے کہ تمام صحابہ کا کسی واقعے کے حکم پر تصریح کے ساتھ إجماع کر لینا یعنی ہر صحابی کی جانب سے تصریح آ جائے کہ یہ مسئلہ اسی طرح ہے، یا ہر صحابی کی طرف سے تصریح آ جائے کہ ہم نے اس مسئلے پر کیا کر لیا ہے؟ إجماع کر لیا ہے، صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ ہر صحابی کی طرف سے تصریح آ جائے، بھئی، کہ ہم نے اس پر إجماع کر لیا ہے، بھئی، یہ پہلی قسم ہے إجماع سندی کی، بھئی۔ جی۔ "ثم إجماعهم بنص البعض وسكوت الباقين عن الرد"، پھر دوسری قسم بھی صحابہ ہی کا إجماع ہے "بنص البعض" بعض کی تصریح کے ساتھ "وسكوت الباقين عن الرد" اور باقیوں کے سکوت عن الرد کے ساتھ، بھئی، یعنی باقی تردید کرنے سے سکوت اختیار کر لیں۔ بعض صحابہ کی طرف سے تصریح آ جائے کہ یہ مسئلہ اس طرح ہے اور باقی صحابہ جو ہیں ان کی طرف سے تصریح تو نہیں آئی لیکن انہوں نے تردید کرنے سے سکوت کر لیا، بھئی، تردید نہیں کی، تردید نہیں کی، تو بعض کی طرف سے تصریح آنا اور باقی سارے صحابہ کی طرف سے تردید نہ کرنا یہ إجماع کی دوسری قسم ہے، بھئی، اسے إجماع سكوتی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ إجماع سكوتی کہتے ہیں کہ بعض صحابہ نے تصریح کی اور باقی ساروں نے کیا کر لیا؟ سکوت اختیار کر لیا، تردید نہیں کی، اس کو رد نہیں کیا، مولانا۔ جی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ بھی دوسری قسم ہے۔ پہلی اور اس قسم میں کیا فرق ہوا؟ پہلی قسم میں ہر صحابی کی طرف سے تصریح کا ہونا ضروری اور اس کے اندر بعض صحابہ کی طرف سے تصریح کا ہونا ضروری اور باقیوں کی طرف سے سکوت کا پایا جانا۔ جی، تو یہ إجماع سكوتی ہے، مولانا۔ باقی صحابہ نے جب تصریح کی اور باقیوں نے تردید نہیں کی، اس کو رد نہیں کیا، تو معلوم ہوا وہ بھی اس مسئلے پر متفق ہیں کہ یہ مسئلہ کیا ہے؟ اسی طرح ہے، اسی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ امام شافعی رحمہ الله کے نزدیک یہ إجماع کی یہ قسم حجة نہیں ہے، ہمارے نزدیک یہ قسم بھی کیا ہے؟ حجة ہے، امام شافعی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ باقی بعض کی تصریح ہو اور باقی خاموش ہو جائیں یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ باقی صحابہ بھی اس مسئلے میں متفق ہیں اسی کہ یہ مسئلہ اسی طرح ہے۔ ہو سکتا ہے وہ کسی خوف کی وجہ سے خاموش ہوں، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ یا ہو سکتا ہے ان پر مسئلہ مشتبہ ہو گیا اور وہ کوئی فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے کہ یہ اس طرح مسئلہ ہے یا اس طرح نہیں، اس لیے وہ خاموش، انہوں نے سکوت اختیار کر لیا۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، بھئی! جب غور و فکر کی مدت مل گئی یعنی تین دن تک انہوں نے کوئی، تین دن ان کو مل گئے، بھئی، اس کے بعد جب مسئلہ ان کے سامنے ذکر ہوا، بعض صحابہ کا قول اور مسئلہ جو انہوں نے ذکر کیا اور پھر انہوں نے اس تین دن کے اندر اس کو اس کی تردید نہیں کی، تو معلوم ہوا وہ اس مسئلے کے اندر کیا ہیں؟ متفق ہیں، اس لیے کہ صحابہ پیغمبر کے شاگرد ہیں، مولانا، سمجھ میں آیا؟ اور وہ کسی خوف کی وجہ سے تردید ہی نہ کریں ایسا نہیں ہو سکتا، ان کے بارے میں تو الله فرماتے ہیں قرآن میں: "لا يخافون في الله لومة لائم"، بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ الله کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے، تو وہ تو کسی چیز کی پروا نہیں کرتے، پیغمبر کے شاگرد ہیں، اگر یہ بات ناحق ہوتی تو وہ کیا کرتے؟ یقیناً اس کا رد کرتے، اور اتنی مدت ملی جس میں انہوں نے غور و فکر بھی کیا اور پھر بھی اس مسئلے کو رد نہیں کیا، تو معلوم ہوا وہ اس مسئلے میں ان کے ساتھ، باقیوں کے ساتھ متفق ہیں، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو یہ دوسرے درجے کا إجماع ہے، بھئی، اور میں نے بتایا امام شافعی رحمہ الله کے نزدیک یہ حجة نہیں ہے، البتہ ہمارے نزدیک یہ حجة ہے۔ "ثم إجماع من بعدهم فيما لم يوجد فيه قول السلف"، پھر إجماع ان علماء کا، ان مجتہدین کا "بعدهم" جو کس کے بعد آئے؟ صحابہ کے بعد، صحابہ کے بعد جو علماء و مجتہدین آئے، مولانا، ان کا إجماع کر لینا "فيما" اس مسئلے کے اندر، اس حادثے کے اندر "لم يوجد فيه قول السلف" جس کے اندر سلف یعنی پچھلوں کا کوئی قول نہ پایا جائے، جس میں پچھلوں کا کوئی قول نہ پایا جائے یعنی صحابہ کا کوئی قول نہ پایا جائے۔ کوئی واقعہ پیش آیا تابعین میں کے زمانے میں یا تبع تابعین یا ان کے بعد والوں کے زمانے میں کوئی مسئلہ پیش آیا، کوئی واقعہ پیش آیا۔ اور اس واقعے کے بارے میں صحابہ کا کوئی قول نہیں ملتا۔ اور پھر اس زمانے کے تمام مجتہدین کیا ہو جائیں، علماء اس مسئلے پر متفق ہو جائیں، اکٹھے ہو جائیں، تو یہ بھی حجت ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تیسری قسم ہے اجماع کی مولانا، اجماعِ سندی کی۔ ثم الإجماع على أحد أقوال السلف، پھر اجماع کر لینا سلف کے اقوال میں سے کسی ایک قول پر۔ چوتھی قسم اجماعِ سندی کی یہ ہے کہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جس میں صحابہ کے کئی اقوال ہیں مولانا۔ اور بعد میں کسی زمانے کے علماء و مجتہدین کیا ہیں، ان میں سے کسی ایک قول پر سارے متحد، متفق ہو جاتے ہیں اور اجماع کر لیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ چوتھی قسم ہے۔ تو پہلی قسم کیا تھی اجماعِ سندی کی؟ سارے صحابہ کی تصریح آ جائے کسی مسئلے میں اجماع کرتے ہوئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہر صحابی کی طرف سے تصریح آ جائے۔ دوسری قسم کیا تھی اجماع کی؟ بعض صحابہ کی طرف سے تصریح آ جائے اور باقی اس کی تردید کرنے سے خاموشی اختیار کریں، تردید نہ کریں۔ تو یہ اجماعِ سکوتی۔ تیسری قسم یہ کہ صحابہ کے بعد والے زمانے کے مجتہدین، علماء جو ہیں کسی ایک مسئلے پر سارے اتفاق کر لیں۔ ایسا مسئلہ جس میں صحابہ سے کوئی قول مروی نہ ہو بھئی۔ اور چوتھی قسم یہ کہ صحابہ ہی سے مروی ہونے والے کسی قول پر بعد والے کئی اقوال ہیں ایک مسئلے میں صحابہ کے، تو بعد والے کیا کر لیتے ہیں ان اقوال میں سے کسی ایک قول پر کسی زمانے کے تمام علماء و مجتہدین اکٹھے ہو جاتے ہیں، تو یہ اجماع کی چوتھی قسم ہے۔ اور ان سب کے درجے الگ الگ ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ ہر ایک کا الگ حکم ہے۔ اب صاحبِ کتاب آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ أما الأول، اجماع کی پہلی قسم جو ہے، فهو بمنزلة آية من كتاب الله تعالى، وہ کتاب اللہ کی آیت کے درجے میں ہے۔ کتاب اللہ میں سے کوئی آیت جو ہے اس کی طرح ہے بھئی۔ جیسے کتاب اللہ کی کوئی آیت کیا ہوتی ہے؟ قطعی ہوتی ہے، اس کا اعتقاد بھی واجب، اس کا اعتقاد بھی واجب ہے اور اس پر عمل کرنا بھی واجب ہے۔ اسی طرح صحابہ کی طرف سے جب تصریح آ جائے کسی مسئلے میں اجماع کی، تو پھر اس کے بعد یہ بھی کس کی طرح ہے؟ کتاب اللہ کی آیت کی طرح ہے یہ اجماع، اور اس کے پر اعتقاد بھی واجب ہے اور عمل کرنا بھی واجب ہے، اور اس کا انکار جیسے کتاب اللہ کی آیت کا انکار کفر ہے، اسی طرح اس کا انکار بھی کیا ہے؟ کفر ہے۔ جب تمام صحابہ کی طرف سے تصریح آ گئی اور وہ ایک مسئلے میں اکٹھے ہو گئے، معلوم ہوا یہی حق ہے مولانا۔ اس لیے کہ صحابہ کے لیے حق پر ہونے کے اسباب سب سے زیادہ تھے۔ کسی مسئلے میں مصیب ہونے کے سب سے زیادہ اسباب کس کے پاس تھے؟ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے پاس بھئی۔ اس لیے کہ وہ شب و روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، حضور علیہ السلام کے تمام افعال کو دیکھا کرتے تھے، حضور علیہ السلام کی باتوں کو سنا کرتے تھے۔ تو لہذا ان کے پاس سب سے زیادہ اسباب تھے جو براہِ راست پیغمبر سے کیا کر رہے تھے؟ فیض حاصل کر رہے تھے۔ تو اب کسی مسئلے میں حق پر ہونے کے اسباب سب سے زیادہ بھی انہی کے پاس ہو سکتے ہیں۔ دن شب و روز قرآن انہی کے سامنے نازل ہوا کرتا تھا بھئی۔ تو وہ جب وہ سارے ایک مسئلے پر اکٹھے ہو گئے، معلوم ہوا یہی حق ہے، اس کے سارے اس پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ تو یہ اس کا انکار بھی کفر ہو گا۔ ثم الإجماع بنص البعض وسكوت الباقين، پھر دوسری قسم اجماع جو ہے جس میں بعض کی طرف سے تصریح تھی اور باقیوں کی طرف سے سکوت تھا، فهو بمنزلة المتواتر، تو وہ کس کے درجے میں ہے؟ خبرِ متواتر کے درجے میں ہے بھئی۔ جیسے خبرِ متواتر میں بھی اعتقاد بھی واجب ہوتا ہے، وہ عقیدہ رکھنا بھی فرض ہوتا ہے اور عمل کرنا بھی فرض ہوتا ہے، اسی طرح یہ جو اجماعِ سکوتی ہے اس کا اعتقاد بھی فرض ہے اور اس پر عمل کرنا بھی فرض ہے۔ البتہ یہ قسم پہلی سے کچھ کم ہے۔ اس اجماع کا درجہ اجماع کی پہلی قسم سے کم ہے، تو اس میں انکار کرنے والے کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ پہلی قسم کے انکار کرنے والے کو کیا کہیں گے؟ کافر بھئی۔ اور اس قسم کا انکار کرنے والے کو کافر نہیں کہیں گے، یہ فرق ہے۔ یہ جو اجماع کی پہلی دو قسمیں ہیں مولانا، ان میں آپ دیکھ رہے ہیں اعتقاد بھی واجب اور عمل بھی واجب۔ اگلی دو قسمیں اب ہم پڑھیں گے، ان کا حکم اب بتلانے لگے ہیں مصنف۔ ان میں عمل تو واجب ہے، اعتقاد واجب نہیں۔ دیکھیے بھئی۔ ثم إجماع من بعدهم بمنزلة المشهور من الأخبار، پھر اجماع ان مجتہدین کا بعدہم جو کس کے بعد آئے ہیں؟ صحابہ کے بعد آئے ہیں۔ صحابہ کے بعد بھئی کسی زمانے کے مجتہدین، بمنزلة المشهور من الأخبار، یہ مشہور کے درجے میں ہے اخبار میں سے، خبروں میں سے، یعنی خبرِ مشہور کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ صحابہ کے کسی مسئلے میں صحابہ کا کوئی قول نہیں اور بعد والے زمانے کے تمام علماءِ مجتہدین کسی مسئلے پر اکٹھے ہو جائیں اس کے حکم میں، تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ خبرِ مشہور کے درجے میں ہے۔ اور آپ نے پڑھا تھا، خبرِ مشہور جو ہے وہ علمِ یقینی کا فائدہ نہیں دیتی۔ اس سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا، ہاں مفیدِ ظن ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جب وہ مفیدِ ظن ہے تو لہذا علمِ یقین کا فائدہ نہیں دیتی، تو لہذا یہاں پر اعتقاد واجب نہیں۔ ہاں البتہ عمل کیا ہو گا؟ واجب ہو گا، جیسے خبرِ مشہور پر عمل واجب تھا۔ ثم إجماع المتاخرين على أحد أقوال السلف بمنزلة الصحيح من الآحاد، پھر اجماع متاخرین کا، بعد والوں کا، على أحد أقوال السلف، سلفِ صالحین یعنی صحابہ کے اقوال میں سے کسی ایک قول پر، بمنزلة الصحيح من الآحاد، یہ خبرِ آحاد میں سے جو صحیح ہو اس کے درجے میں ہے۔ بھئی خبرِ واحد کے صحیح ہونے کی کئی شرطیں انہوں نے بیان کی تھیں۔ کچھ شرطیں کیا تھیں؟ خبر کے اندر ضروری تھیں، نفسِ خبر میں، اور کچھ شرطیں راوی کے اندر پائی جائیں گی، پایا جانا راویوں میں ان کا ضروری تھا۔ پھر عمل واجب ہوتا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا یا نہیں بھئی کہ خبر کا، خبرِ واحد کا راوی مسلمان ہو، عاقل ہو، اور قوی حافظے والا ہو، اور عادل ہو۔ اور نیز وہ خبرِ واحد جو ہے اس میں اتصال ہو، درمیان میں انقطاع نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ بعض راوی بیچ میں ذکر ہی نہ ہوں بھئی۔ نیز وہ کتاب اللہ کے خلاف بھی نہ ہو، اور خبرِ مشہور کے خلاف بھی نہ ہو، اور ظاہر کے خلاف بھی نہ ہو۔ تو یہ ساری شرطیں جب پوری ہوئیں تو معلوم ہوا یہ خبرِ واحد صحیح ہے۔ اور جب خبرِ واحد صحیح ہو تو اس پر بھی عمل کرنا کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے۔ تو یہ جو اجماع کی چوتھی قسم ہے جس میں صحابہ کے اقوال میں سے کسی ایک قول پر بعد والے علماء کیا کر لیتے ہیں؟ اجماع کر لیتے ہیں، یہ بھی صحیح خبرِ واحد کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ صحیح، باللہٰذا اس پر بھی عمل واجب، اعتقاد واجب نہیں۔ تو دیکھا؟ آخری دو قسموں میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ عمل تو واجب ہے، اعتقاد واجب نہیں۔ تو خلاصہ یہ حاصل یہ ہوا کہ اجماع کی چاروں قسموں میں عمل ضرور واجب ہے۔ عمل کیا ہے؟ واجب ہے۔ البتہ پہلی دو میں پھر اعتقاد بھی واجب، جبکہ آخری دو میں اعتقاد واجب نہیں ہے۔ والمعتبر في هذا الباب، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ اس اجماع میں کن لوگوں کا معتبر ہے اور کن لوگوں کا معتبر نہیں ہے، یہ بات بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں والمعتبر في هذا الباب، اور اس باب کے اندر یعنی فقہ کے اندر معتبر جو ہے، إجماع أهل الرأي والاجتهاد، اہل الرائے اور اہل الاجتہاد جو ہیں ان کا اجماع معتبر ہے۔ جو صاحبِ رائے لوگ ہیں جو یعنی اجتہاد کرنے والے علماء ہیں، مجتہدین ہیں، ان کا قول معتبر ہے۔ باقیوں کا قول معتبر نہیں ہے۔ تو لہذا اس باب کے اندر جو ہے اہل الرائے بھئی اور اہل الاجتہاد جو ہیں ان کا قول معتبر ہے۔ فلا يعتبر بقول العوام، لہذا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا عوام کے قول کا۔ والمتكلم، اور کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا کس کا؟ متکلم کے قول کا۔ عوام کے قول کا کوئی اعتبار نہیں، عوام کے اجماع کا کوئی اعتبار نہیں مولانا۔ عوام کسی ایک مسئلے میں ساری اکٹھی ہو جائے، جس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، بلکہ کس کا اعتبار ہے؟ مجتہدین کا اعتبار ہے، مجتہدین اکٹھے ہو جائیں بھئی۔ اسی طرح متکلم کے قول کا بھی کوئی اعتبار نہیں، کسی ایک مسئلے میں تمام متکلمین اجماع کر لیں، تو ان کا یہ اجماع حجت نہیں۔ کیوں؟ بھئی متکلم کہتے کسے ہیں، پہلے تو یہ سمجھو۔ متکلم اسے کہتے ہیں جو علمِ کلام کا ماہر ہو بھئی۔ علمِ کلام، علمِ کلام آپ پڑھیں گے بھئی، اور علمِ کلام کے اندر عقیدے کی بحث ہوتی ہے کہ اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، قیامت قائم ہو گی، جنت ہے، دوزخ ہے، جی، فرشتے ہیں، جی، اور قرآن اللہ کی کتاب ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے عقیدوں سے بحث ہوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تو متکلم جو ہوتا ہے یہ تو عقیدوں کا ماہر ہے بھئی، عقیدوں میں بحث کرتا ہے۔ اور آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ اجماع تو کس کے اندر ہوتا ہے؟ فروعی مسائل کے اندر اجماع ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ اصولی مسئلے جو ہیں یعنی عقائد جو ہیں، وہ تو پہلے ہی کس سے ثابت ہو چکے؟ قرآن و حدیث سے۔ تو لہذا متکلم کا قول بھی، ان کا قول اور ان کے اجماع کا کوئی اعتبار نہیں بھئی، اس لیے کہ وہ عقائد کے ماہر ہیں اور یہاں بات کس کی چل رہی ہے؟ فروعی مسائل کی جن کا تعلق عمل سے ہے۔ والمحدث الذي لا بصيرة له في أصول الفقه، فلا يعتبر بقول المحدث، سمجھ میں آیا؟ محدث کا عطف بھی کس پر ہے؟ عوام پر ہو رہا ہے۔ اور کوئی اعتبار نہیں ہے اس محدث، ایسے محدث کے قول کا بھی الذي لا بصيرة له في أصول الفقه، جسے اصولِ فقہ کے اندر کوئی بصیرت نہیں، فقہ کے قوانین وغیرہ میں جسے کوئی بصیرت حاصل نہ ہو بھئی، ان کے قول کا بھی کوئی اعتبار نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ محدث جو اصولِ فقہ کا ماہر نہیں ہے، فقہ کے قوانین کا ماہر نہیں ہے اور قرآن و حدیث سے مسئلے نکالنے کا، استنباط کا ملکہ اس کے پاس نہیں ہے، اس کے بھی قول کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ محدث وہ ہیں مولانا جو حدیث سے بحث کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث کے دو حصے ہوتے ہیں، ایک سند کہلاتا ہے، ایک متن۔ متن وہ جو قول ہو گا آگے، حدیث ہو گی۔ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثلاً کوئی قول ذکر ہوا، یہ متن کہلاتا ہے۔ اور اس سے پہلے جو راویوں کا ذکر ہوتا ہے، مثلاً زید کہتا ہے کہ میں نے کس سے سنا؟ عمر سے سنا، عمر نے کس سے سنا؟ بکر سے سنا، بکر نے کس سے سنا؟ خالد سے سنا مثلاً، اور خالد کہتا ہے کہ میں نے صحابی سے سنا، اور صحابی کیا فرماتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ السلام سے سنا، یہ مثلاً کیا سنا؟ مثلاً إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، اعمال کا دارومدار کس پر ہے؟ تو یہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، یہ متنِ حدیث کہلاتا ہے۔ اور اس سے پہلے جو راوی ہے فلاح سے فلاح اور فلاح سے فلاح روایت کر رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سند کہتے ہیں۔ تو محدث ان سے بحث کیا کرتے ہیں، سند اور متن سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو محدث کے، محدثین کے اجماع کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ محدثین کے اجماع کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ہاں وہ محدثین جو اجتہاد کا ملکہ بھی رکھتے ہیں، وہ محدثین جو اجتہاد کا ملکہ بھی رکھتے ہیں، ان کا قول معتبر ہے بھئی۔ جی، تو کہتے ہیں فلا يعتبر بقول العوام والمتكلم والمحدث الذي لا بصيرة له في أصول الفقه، پس کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا عوام کے قول کا اور متکلم کے قول کا اور اس محدث کے قول کا جسے کوئی بصیرت حاصل نہ ہو اصولِ فقہ کے اندر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا جی مولانا، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الحال۔
123 approved lectures · 99 of 123