فَصْلٌ
الْمَأْمُورُ بِهِ نَوْعَانِ: مُطْلَقٌ عَنِ الْوَقْتِ وَمُقَيَّدٌ بِهِ.
مامور بہ کی بحث اج ہم پڑھیں گے بھئی۔ مامور بہ وہ فعل جس کا امر دیا جائے بھئی، وہ فعل جس کا؟ میں نے اپ سے کہا پانی لاؤ، میں ہوا آمر، اپ ہیں مامور، اور یہ جو پانی لانے کا میں نے کہا، یہ کیا ہے؟ مامور بہ ہے۔ یہ جو حکم میں نے دیا، یہ کیا ہے مولانا؟ مامور بہ۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ حکم دینے والا آمر، جس کو حکم دیا مامور، اور جس چیز کا حکم دیا وہ کیا ہے؟ مامور بہ۔
تو مامور بہ، یعنی وہ فعل جس کا حکم دیا جائے، نوعان، وہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے۔ مطلق عن الوقت ومقيد به، ایک مطلق عن الوقت ہے اور ایک مقید بالوقت ہے مولانا۔ ایک مطلق عن الوقت ہے اور دوسرا؟
مطلق عن الوقت مامور بہ کونسا ہے بھئی؟ یاد رکھو، مامور بہ مطلق عن الوقت وہ ہے جس کے لیے شریعت نے کوئی ایسا وقت مقرر نہ کیا ہو، جلدی جلدی لکھو بھئی۔ مامور بہ مطلق عن الوقت وہ مامور بہ ہے جس کے لیے شریعت نے کوئی ایسا وقت مقرر نہ کیا ہو کہ جس کے فوت ہو جانے سے وہ مامور بہ بھی فوت ہو جائے، کہ جس کے فوت ہو جانے سے وہ مامور بہ بھی فوت ہو جائے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر نہ کیا ہو بھئی، مثلاً زکوۃ ہے مولانا، زکوۃ کیا ہے کہ سال کے بعد، سال گزر گیا اپ کے پاس اور اتنا مال تھا جو نصاب کے بقدر تھا تجارت وغیرہ کا اپ کے پاس اور سال گزر گیا تو اب اپ پر کیا واجب ہو گئی؟ زکوۃ واجب ہوئی، اور یہ زکوۃ کہ زکوۃ ادا کرو، اور یہ کیسا مامور بہ ہے بھئی؟ یہ مطلق عن الوقت ہے، اس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا، کوئی وقت مقرر نہیں، جب بھی اپ ادا کر دیں، ادا ہو جائے گی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کوئی ایسا وقت نہیں ہے کہ جس میں ادا کریں گے تو ادا کہلائے گی اور اس وقت میں ادا نہ کر سکیں تو پھر کیا کہلائے گی؟ قضا، بلکہ جب بھی ادا کریں یہ کیا کہلائے گی؟ ادا کہلائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اور دوسرا ہے مامور بہ مقید بالوقت، وہ اسی سے تعریف سے اپ پہلی تعریف سے ہی اپ کو پتہ چل گیا، جس کے لیے شریعت نے کوئی ایسا وقت مقرر کیا ہو کہ اس وقت کے فوت ہو جانے سے مامور بہ بھی کیا ہو جائے؟ فوت ہو جائے، یعنی اس وقت میں ادا کیا تو ادا کہلائے گا ورنہ اس وقت کے بعد ادا کیا تو اب وہ کیا کہلائے گا؟ قضا کہلائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ فوت ہو چکا، اب جو وقت کے بعد اپ ادا کر رہے ہیں تو وہ کیا کہلائے گا؟ قضا، جیسے مثلاً نمازیں ہیں، نمازوں کے اوقات مقرر ہیں، اس وقت کے اندر ادا کریں، شریعت نے وقت مقرر کیا ہے، اسی میں ادا کریں تو کیا کہلائے گی؟ ادا، لیکن اگر اس وقت میں ادا نہ کر سکے، وقت فوت ہو گیا تو مامور بہ بھی فوت ہو گیا، اب اپ اس کو ادا کریں گے تو وہ کیا کہلائے گی؟ قضا کہلائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مامور بہ دو قسم پر ہے، ایک مطلق عن الوقت اور ایک مقید بالوقت بھئی۔
وَحُكْمُ الْمُطْلَقِ، اب اس کا حکم بتلا رہے ہیں کہ مطلق عن الوقت کا کیا حکم ہے، کہتے ہیں: وَحُكْمُ الْمُطْلَقِ أَنْ يَكُونَ الأَدَاءُ وَاجِبًا، کہ ادا کیا ہے؟ ادا واجب ہوگی، عَلَى التَّرَاخِي، تراخی کے ساتھ، آرام سے یعنی، آرام سے، یعنی مہلت کے ساتھ بھئی۔ تراخی کا کیا معنی ہے مولانا؟ آرام سے، یعنی مہلت کے ساتھ بھئی، جس وقت بھی اپ ادا کر دیں یہ کیا کہلائے گا؟ ادا، اپ جب چاہیں ادا کرنا، زکوۃ اپ پر اج اس سال واجب ہو گئی، اپ چاہیں اسی وقت ادا کریں، اپ چاہیں چھ مہینے بعد ادا کریں، اپ چاہیں 10 سال بعد ادا کریں، یہ کیا کہلائے گی؟ ادا ہی کہلائے گی، قضا؟ تو ادا جب بھی اس کو اپ ادا، آسانی، آرام سے ادا کرنا چاہیں، ادا کر سکتے ہیں، بِشَرْطِ أَنْ لاَ يَفُوتَ فِي الْعُمْرِ، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ عمر بھر میں فوت نہ ہو جائے بھئی، عمر بھر میں فوت نہ ہو جائے، عمر میں ادا کرنا ضرور ہے اس کو اپ نے جس وقت بھی اب اپ اس کو ادا کر دیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
جب بھی ادا کر دیں، ہاں مستحب یہ ہے کہ جلدی ادا کرو، کیا کرو؟ جلدی ادا کرو بھئی، جلدی ادا کرو، ہاں واجب کیا ہے؟ واجب علی التراخی ہے، فوری طور پر واجب کرنا ادا کرنا ضروری نہیں۔
وَعَلَى هَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْجَامِعِ: لَوْ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ شَهْرًا لَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ أَيَّ شَهْرٍ شَاءَ، اور اسی بنا پر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع کبیر کے اندر کہ اگر کسی شخص نے منت مانی أَنْ يَعْتَكِفَ شَهْرًا، ایک ماہ اعتکاف بیٹھنے کی، یرحمک اللہ، ایک ماہ اعتکاف کرنے کی کسی نے منت مانی، لَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ أَيَّ شَهْرٍ شَاءَ، تو اس کے لیے جائز ہے اعتکاف کرنا کسی بھی مہینے، جس کسی بھی مہینے میں جس میں وہ چاہے بھئی، جس مہینے میں بھی وہ چاہے اس میں کیا کر سکتا ہے؟ اعتکاف بیٹھ سکتا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ یہ مطلق عن الوقت ہے بھئی۔
کہ میرا اے اللہ اگر فلاں کام ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ ایک ماہ اعتکاف بیٹھں گا، اعتکاف کروں گا، تو یہ اب نذر منت مانی اور کوئی وقت مقرر کیا اس نے کہ فلاں مہینے میں بیٹھں گا؟ تو یہ اس پر واجب ہوا اور کس قسم کا واجب ہے؟ مطلق عن الوقت ہے، کوئی وقت مقرر نہیں، تو جس مہینے میں بھی وہ بیٹھنا چاہے، اعتکاف کرنا چاہے، اعتکاف کر سکتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
ہاں رمضان میں نہیں بیٹھ سکتا، کیوں نہیں بیٹھ سکتا؟ اس لیے کہ مولانا اعتکاف کے لیے روزے کا ہونا ضروری، تو جب اس نے اعتکاف کی منت مانی تو روزے بھی خود بخود ساتھ اگئے، تو اس کو ساتھ کیا کرنا پڑیں گے؟ روزے بھی رکھنا پڑیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ اعتکاف بغیر روزوں کے نہیں، تو روزے بھی رکھنا پڑیں گے اور تو رمضان کے تو اپنے روزے ہیں، اس کے اعتکاف والے تو اس پر الگ واجب ہوئے ہیں، تو ان کو کیا کرنا پڑے گا؟ الگ بھئی، الگ ان کے علاوہ قسم۔
اسی طرح اگر یہ امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر کیا ہے کہ لَوْ نَذَرَ، کسی شخص نے یہ منت مانی، أَنْ يَصُومَ شَهْرًا، کس چیز کی منت بھئی؟ ایک مہینہ روزے رکھنے کی منت مانی، لَهُ أَنْ يَصُومَ أَيَّ شَهْرٍ شَاءَ، تو اس کے لیے جائز ہے مولانا کہ وہ روزے رکھے جس مہینے میں بھی وہ چاہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جس مہینے میں بھی چاہے روزے رکھ لے بھئی، یعنی رمضان کے علاوہ کیونکہ رمضان کے تو اپنے روزے ہیں بھئی، کیونکہ یہ مطلق عن الوقت ہے۔
ہاں اگر اس نے وقت مقید مقرر کیا تھا، اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ فلاں مہینے میں فلاں تاریخ کو سے فلاں تاریخ تک اتنے روزے رکھوں گا یا پورا مہینہ فلاں مہینہ پورا روزے رکھوں، پھر تو یہ مقید بالوقت ہوا، مطلق عن الوقت نہ ہوا، مطلق عن الوقت کی بات کر رہے ہیں، اس نے مطلق بات کی کہ میں کیا رکھوں گا؟ روزے رکھوں گا، تو یہ مطلق عن الوقت ہے مولانا، لہٰذا جب بھی ادا کرنا چاہے ان کو ادا کر سکتا ہے۔
وَفِي الزَّكَاةِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْعُشْرِ، اسی طرح مولانا زکوۃ میں، صدقہ فطر میں، اور عشر میں، الْمَذْهَبُ الْمَعْلُومُ، مذہب معلوم یہ ہے، أَنَّهُ لاَ يَصِيرُ بِالتَّأْخِيرِ مُفَرِّطًا، کہ وہ شخص وہ جو جس پر زکوۃ آئی ہے یا صدقہ فطر واجب ہوا ہے یا عشر واجب ہوا ہے، وہ لاَ يَصِيرُ بِالتَّأْخِيرِ مُفَرِّطًا، فرط يفرط تفریط کے معنی ہیں کوتاہی کرنا بھئی، کوتاہی کرنے کرنے والا کرنا، تو مفرط کوتاہی کرنے والا، کہ وہ تاخیر سے کوتاہی کرنے والا نہیں ہوگا بھئی، کوئی شخص کیا کرتا ہے؟
جی؟ زکوۃ فوری ادا نہیں کرتا، تاخیر سے ادا کرتا ہے، سال بعد ادا کرتا ہے مولانا، تو اس تاخیر کی وجہ سے وہ کوتاہی کرنے والا شمار یعنی گنہگار شمار نہیں ہوگا، گنہگار گناہ نہیں ہوگا بھئی، اس لیے کہ شریعت نے خود سہولت دی ہے اور اس کی ادا کا کیا رکھا ہے؟ وجوب کیسا آیا ہے؟ مطلق عن الوقت آیا ہے۔
فَإِنَّهُ لَوْ هَلَكَ النِّصَابُ سَقَطَ الْوَاجِبُ، کیا ہے اپ کی کتابوں میں بھئی؟ الواجب ہی ہے؟ جی واجب ہونا چاہیے، بعض نسخوں میں الحاجب ہے بھئی، غلط ہے بھئی، کتابت کی غلطی ہے، فَإِنَّهُ لَوْ هَلَكَ النِّصَابُ، پس یہ کہ بے شک اگر دلیل ذکر کر رہے ہیں مولانا، دلیل اب اس بات کی کہ وہ گنہگار اور کوتاہی کرنے والا شمار نہیں ہوگا، کہتے ہیں: کیونکہ اگر ہلاک ہو گیا سارا نصاب، سَقَطَ الْوَاجِبُ، تو واجب بھی اس سے کیا ہو جائے گا؟ ساقط، بھئی ایک شخص ہے اس پر زکوۃ واجب ہوئی مولانا، لیکن اس نے فوری ادا نہیں کی، تاخیر کرتا رہا، کرتا رہا، یہاں تک کہ اس کا سارا مال ختم ہوا، فقیر بن گیا، محتاج بن گیا، مسکین بن گیا، اب مولانا اس سے زکوۃ جو اس پر واجب تھی، ساقط ہو گئی، زکوۃ کیا ہوئی؟ ساقط ہو گئی۔
معلوم ہوا، یہ مامور بہ مطلق عن الوقت تھا، اگر یہ مطلق عن الوقت نہ ہوتا، پھر تو اس پر مال کا دینا واجب ہوا تھا اور جب تک یہ مال ادا نہ کر دے، اس سے وہ واجب ساقط لیکن یہاں پر مال کے ختم ہو جانے سے، مال ختم ہو گیا، اس نے مال ادا نہیں کیا، پھر بھی اس سے واجب ساقط ہو رہا ہے، اپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس سے واجب کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، معلوم ہوا یہ جو اس پہ وجوب آیا تھا، یہ کونسا تھا؟ مطلق عن الوقت تھا، اگر مطلق عن الوقت نہ ہوتا، پھر تو اس سے ادائیگی ساقط نہ ہوتی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بغیر ادائیگی کے۔
فَإِنَّهُ، دلیل ہے یہ، فَإِنَّهُ لَوْ هَلَكَ النِّصَابُ سَقَطَ الْوَاجِبُ، اس لیے کہ اگر ہلاک ہو جائے نصاب تو اس سے واجب کیا ہو جائے گا؟ معلوم ہوا یہ کس قسم کا واجب ہے؟ مطلق عن الوقت، اگر یہ مطلق عن الوقت نہ ہوتا تو واجب بغیر ادائیگی کے ساقط نہ ہوتا۔
اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، کہ اس سے واجب ساقط ہو جائے گا، کن چیزوں کی بات ہو رہی ہے بھئی؟ زکوۃ، صدقہ فطر اور عشر کی بات ہو رہی ہے، بھئی زکوۃ ساقط ہو جائے گی، یہ بات تو ٹھیک، عشر بھی ساقط ہو جائے گا فقیر ہو گیا، یہ بھی بات ٹھیک، لیکن صدقہ فطر علماء فقہاء لکھتے ہیں، وہ ساقط نہیں ہوتا، وہ پھر بھی اس پر کیا رہے گا؟ واجب رہے گا جب تک ادا نہیں کرتا، ادا نہیں کرتا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصنف کی عبارت پر اشکال ہوتا ہے بھئی، کہ اپ نے زکوۃ، صدقہ فطر اور عشر تینوں کو ذکر کیا اور ان میں سے زکوۃ اور عشر تو ساقط ہو جاتے ہیں، لیکن صدقہ فطر ساقط نہیں ہوتا، تو بعضوں نے جواب دینے کی کوشش کی اور کہا یہ جو آیا نا فَإِنَّهُ لَوْ هَلَكَ النِّصَابُ سَقَطَ الْوَاجِبُ، الواجب سے یہ تینوں مراد نہیں ہے بھئی، الواجب سے ان تینوں کی طرف اشارہ نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ ان دو کی طرف بھئی، زکوۃ اور کیونکہ اس پر الف لام کونسا ہے؟ عہد خارجی، اور الف لام عہد خارجی کس کو کہتے ہیں؟ جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے، تو اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ صرف زکوۃ اور عشر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ساقط ہو جائیں گے بھئی۔
وَالْحَانِثُ إِذَا ذَهَبَ مَالُهُ وَصَارَ فَقِيرًا كَفَّرَ بِالصَّوْمِ، اور حانث جو ہے بھئی، جب اس کا مال چلا جائے اور وہ فقیر ہو جائے تو وہ کفارہ دے گا، ادا کرے گا بِالصَّوْمِ، کس کے ساتھ بھئی؟ روزے کے ساتھ، بھئی ایک شخص ہے اس نے قسم اٹھائی کہ میں واللہ یہ کام ضرور کروں گا، وہ کام اس نے نہیں کیا، وہ کام نہیں کیا، تو حانث ہو گیا، قسم ٹوٹ گئی مولانا، اب اس پر کیا ائے گا؟ کفارہ ائے گا، اور کفارہ کیا ہے؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ.
پس کفارہ کیا ہے یمین کا؟ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، کتنے مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے؟ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، 10 مسکینوں کو، سمجھ میں آیا؟ اور دو وقت کا مراد ہے، دو وقت کا کیوں؟ ایک دن کی حاجت پوری کرنی ہے بھئی۔
مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ، اوسط درجے کا اس میں سے جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو، اپنے گھر والوں کو جیسے اوسط درجے کا کھانا کھلاتے ہو، اسی طرح اوسط درجے کا کھانا مراد ہے، نہ بہت اعلیٰ ہو کہ پھر تو، اور نہ ہی بہت ادنیٰ ہو، متوسط درجے کا کھانا کھلاؤ 10 مسکینوں کو۔
أَوْ كِسْوَتُهُمْ، یا کیا کرنا ہے اس کا کفارہ کیا ہے قسم کا؟ ان کو 10 مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے بھئی، أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ، یا ایک گردن کا آزاد کرنا ہے، جی یہ مال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ مال دینا پڑے گا قسم اپ نے توڑی ہے۔
فَمَنْ لَمْ يَجِدْ، پس جو نہ پائے ان کو، یعنی اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ یہ چیزیں کر سکے، فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، پھر وہ کتنے دن کے روزے رکھ لے؟ تین دن کے روزے ہیں بھئی، تین دن کے روزے۔
معلوم ہوا استطاعت ہے تو پھر روزے نہیں رکھ سکتا بھئی، روزے نہیں رکھ سکتا، یہ بات تو یہ تو آیت سے واضح سمجھ میں ارہی ہے کہ جب مال ہے کہ 10 مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا سکتا ہے یا کپڑے پہنا سکتا ہے یا رقبت آزاد کر سکتا ہے تو پھر صورت میں وہ روزے نہیں، لیکن اگر نہیں مال پاتا پھر کیا رکھنا کیا رکھے وہ؟ تین روزے رکھ لے، یہ کفارہ ہو جائے گا اس کی قسم کا۔
اس میں بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر ایک شخص حانث ہو گیا، اس پر مال آیا، کفارہ واجب ہوا اور یہ کفارہ مطلق عن الوقت ہے، شریعت نے اس کے لیے کوئی وقت مقرر کیا ہے؟ کوئی وقت مقرر نہیں کیا، تو یہ مطلق عن الوقت ہے، لہٰذا اس کو وہ جب بھی ادا کرے ادا ہو جائے گا، اس نے تاخیر کی یہاں تک کہ اس کا سارا مال چلا گیا، وہ فقیر ہوا، جب وہ فقیر ہوا تو اس سے کیا ہو گیا؟
اب اس سے وہ جو مال کا ادا کرنا اس پر واجب تھا، وہ ساقط ہوا اور وہ کیا کس چیز کے ذریعے کفارہ ادا کر سکتا ہے؟ روزے کے ساتھ، تو دیکھو کفارہ مالی جو ہے اس سے ساقط ہوا اور یہ ساقط ہونا دلیل ہے اس بات کی کہ یہ مامور بہ کس قسم کا تھا؟ مطلق عن الوقت، اگر یہ مطلق عن الوقت نہ ہوتا تو پھر بغیر ادائیگی کے ساقط نہ ہوتا۔
اس میں سہولت تھی جب مرضی ادا کرو اور اس وقت تو وہ فقیر ہو چکا، لہٰذا اس سے وہ واجب بھی کیا ہوا؟ ساقط ہوا، اب۔ تو یہ بھی دلیل ہے بھئی۔
اور یہ دیکھئے: والحانث إذا ذهب— اور اسی طرح حانث جو ہے جب وہ کیا ہو جائے؟ ذهب ماله، جب اس کا مال چلا جائے، وصار فقيراً، وہ فقیر بن جائے، كفر بالصوم، تو کفارہ دے گا روزوں کے، ادا کرے گا روزوں کے ساتھ۔ وعلى هذا لا يجب قضاء الصلوات في الأوقات المكروهة، اور اسی پر بنا پر مولانا لا يجب، یعنی لا يجوز، بھئی لا يجب یا لا يجوز ہونا چاہئے، یا لا يجب بمعنی لا يجوز کے ہے بھئی۔ لا يجب کس معنی میں ہے؟ لا يجوز، جائز نہیں ہے قضاء الصلوات، نمازوں کی قضا، في الأوقات المكروهة، مکروہ اوقات میں بھئی۔
مکروہ اوقات جانتے ہیں بھئی؟ کون کون سے ہیں؟ طلوعِ آفتاب ہے اور عینِ زوال کا وقت اور غروبِ آفتاب بھئی، یہ۔ تو ان میں قضا نماز ادا نہیں کر سکتا بھئی، اس لئے کہ آپ مثلاً ایک شخص نماز اس نے وقت پر ادا نہیں کی، تو ادا— تو وہ وقت فوت ہوا تو نماز بھی کیا ہو گئی؟ فوت ہو گئی، اب وہ اس کو— کیا— اب اس پر کیا آ گئی؟ قضا، اور قضا مطلق عن الوقت ہے، قضا کیا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے بھئی۔ تو یہ وجوب کیسا ہے؟ مطلق ہے، وجوب کیا ہے؟ مطلق ہے، مطلق عن الوقت ہے بھئی، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ قضا کیا ہے اس میں؟ اس کے لئے شریعت نے کوئی وقت مقرر کیا قضا نمازیں اس وقت پڑھنی ہیں بھئی؟ تو یہ کیا ہے؟ اس میں وجوب کس قسم کا ہے؟ مطلق عن الوقت۔ تو وجوب مطلق آیا، والمطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، معلوم ہوا وجوب کس قسم کا آیا؟ کامل آیا، جب وجوب کامل آیا تو ادا بھی کس قسم کی ہونی چاہئے؟ کامل ہونی چاہئے، اور اوقاتِ مکروہہ میں ادا کرتا ہے، وہ تو ادا کامل نہیں بلکہ وہ تو ادا ناقص ہے، ادا کیا ہے؟ تو لہٰذا اب وجوب اس پہ آیا کامل، اور ادا کر رہا ہے اوقاتِ مکروہہ میں ناقص، تو ادا وجوب کے مطابق نہ ہوئی بھئی۔ ادا ناقص اور وجوب کامل، تو ادا تو وجوب کے مطابق نہ، جب ادا وجوب کے مطابق نہیں تو یہ صحیح نہیں، لہٰذا اس پر وجوب کامل آیا ہے تو ادا بھی کس قسم کی چاہئے؟ کامل چاہئے، لہٰذا اوقاتِ مکروہہ کے علاوہ میں اس کو ادا کرے۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا بات میں نے کی؟ کہ قضا کیا ہے؟ قضا میں کیا ہے وجوب مطلق عن الوقت ہے، تو وجوب مطلق آیا، والمطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، تو وجوب کس قسم کا آیا؟ کامل آیا، جب کامل آیا تو ادا بھی کیسی چاہئے؟ کامل چاہئے، اور اوقاتِ مکروہہ میں ادا کرتا ہے یہ تو کیا ہے؟ ناقص ہے، لہٰذا اوقاتِ مکروہہ میں ادا کرنا صحیح نہیں بھئی۔
وعلى هذا، اور اسی بنا پر مولانا، لا يجب، أي لا يجوز قضاء الصلوات في الأوقات المكروهة، جائز نہیں ہے نماز کی قضا اوقاتِ مکروہہ کے اندر، لأنه لما وجب مطلقا، اس لئے کہ جب قضا واجب ہوئی ہے مطلق— جب قضا واجب ہوئی ہے اس حال میں کہ مطلقا، وہ کیا ہے؟ مطلق ہے، وجب كاملا، تو واجب ہوئی ہے اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ کامل ہے، فلا يخرج عن العهدة، تو وہ ذمہ داری سے نکلے گا نہیں، بآداء ناقص، ناقص کی— ناقص ادا کے ساتھ وہ ذمہ داری سے نہیں نکلے گا، یعنی ناقص ادا کے ساتھ وہ ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
فيجوز العصر عند الاحمرار أداء، ولا يجوز قضاء، پس جائز ہے عصر کی نماز ادا کرنا عند الاحمرار، سرخی کے وقت بھئی، سورج سرخ ہو جائے اس وقت ادا کرنا— ہاں، اسی عصر کی نماز جائز ہے، ولا يجوز قضاء، لیکن قضاءً جائز نہیں ہے۔ قضا کیوں نہیں جائز عصر کی جب بھئی سورج سرخ ہو جائے؟ بھئی آپ دیکھتے ہیں عصر کے بعد بھئی سورج افق کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس میں سرخی آنا شروع ہو جاتی ہے بھئی، جب بالکل افق کے قریب پہنچتا ہے تو کیا آ جاتی ہے اس میں؟ سرخی، یہ وقتِ مکروہ شروع ہو گیا بھئی۔ اب اس کے اندر مولانا عصر کی کئی دن پہلے کی، کل پرسوں کی قضا نماز اس کی باقی ہے اس کے ذمہ، تو کیا اس کو ادا قضا— اس کو پڑھ سکتا ہے اس وقت میں بھئی؟ نہیں پڑھ سکتا، کیوں؟ کیونکہ یہ وقتِ مکروہ ہے، اور اس پر وجوب کیسا آیا تھا؟ کامل، قضا میں تو وجوب کامل آتا ہے، اور جب کامل آیا تو ادا بھی کیسی چاہئے؟ کامل، لہٰذا عصر کی نماز قضا نہیں پڑھ سکتا، ہاں اسی دن کی عصر پڑھنا چاہے تو وہ پڑھ سکتا ہے، اسی دن کی عصر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی اسی دن کی عصر کیوں پڑھ سکتا ہے؟ یاد رکھو، جب نماز آپ پڑھتے ہیں تو نماز کے وجوب کا سبب وہ وقت ہوتا ہے جو متصل ہو اس نماز کے۔ مثلاً عصر— ظہر کا وقت آیا، جیسے ظہر کا وقت شروع ہوا نفسِ وجوب آپ پر آ گیا، کیا آ گیا؟ نفسِ وجوب آیا، نفسِ وجوب آیا تو اب وہ مولانا امر آپ کی طرف متوجہ ہوا کہ وہ اپنی ساری ظہر کی نمازیں کیا کرو؟ اپنی زندگی کی ساری نمازیں ادا کرو، اب وجوبِ ادا آ گیا، اب ادائیگی واجب ہو گئی، اس شخص نے پہلے جزء کے اندر نماز ادا نہیں کی تو اب اگلے جزء کیا ہے؟ اب وجوب کس سے آ رہا ہے مولانا؟ اگلے لمحے سے، اس میں بھی اس نے ادا نہیں کی تو وجوب اس سے اگلا لمحہ جیسے ہی آیا وجوب اس میں— وہ سبب بن گیا کس چیز کا؟ نفسِ وجوب کا، پھر اگلا لمحہ آیا مولانا، اب وہ بن گیا نفسِ وجوب کا سبب، تو یہ جو وقت ہے شروع کا یہ کامل ہے یا ناقص ہے؟ بھئی ظہر کا وقت تو کامل ہے، تو لہٰذا وجوب بھی کس قسم کا آ رہا ہے؟ کامل، وہ اس نے اور تاخیر کی، تو اس وقت میں ادا نہیں کی، اب اگلا وقت جیسے ہی آیا فوراً وہ کیا بن گیا؟ اس سے— وہ کیا بن گیا وجوب کا سبب، جزءِ آخر جو نماز کے ساتھ متصل ہے وہ کیا بن رہا ہے سبب کس چیز کا؟ نفسِ وجوب کا، کس چیز کا؟ اب اس نے اس میں بھی ادا نہیں کی، اگلا وقت آ گیا، جیسے ہی اگلا وقت آیا اب وہ نفسِ وجوب کا سبب بن رہا ہے اور وہ بھی کامل، لہٰذا نماز بھی کیسی واجب ہوئی؟ کامل، جب سبب کامل ہے تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل آئے گا، اس نے اس میں بھی ادا نہیں کی، تاخیر کرتا رہا کرتا رہا، اور وہ سبب کیا ہے؟ اگلا اگلا لمحہ بنتا رہا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہر جس میں ادا نہیں کی وہ گزر گیا اب اگلا وقت ہے وہ سبب بن رہا ہے، اس سے اگلا وقت سبب بن رہا ہے۔
تو اسی طرح عصر میں ہے بھئی، تو ہاں تو جب وہ نماز ادا کرے گا اس نے نماز شروع کی تو وہ جو آخری جزء نماز کے ساتھ ملا ہوا تھا اس— وہ کیا بن گیا وجوب کا سبب وہ بنا بھئی، کیا بنا؟ گزشتہ میں تو اس نے ادا نہیں کی تھی، تو وہ آخری جزء جو نماز کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے وہ نفسِ وجوب کا سبب ہوتا ہے، اور وہ سبب کامل ہو تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل آئے گا، تو ادا بھی کیسی کرنی پڑے گی؟ کامل کرنا پڑے گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ اب عصر کا وقت بھی اسی طرح ہے، عصر کا وقت شروع ہوا تو وقت آتے ہی فوراً کیا آ گیا؟ نفسِ وجوب، اور نفسِ وجوب کس کی وجہ سے آیا؟ اولِ وقت کی وجہ سے، اور اولِ وقت کس قسم کا ہے؟ کامل ہے، تو وجوب بھی کیسا آیا؟ کامل، تو ادا بھی کیسی چاہئے؟ کامل چاہئے، کامل چاہئے۔ لیکن وہ تاخیر کرتا رہا حتیٰ کہ احمرار کا وقت آ گیا، سورج— دھوپ میں کیا آ گئی؟ سرخی آ گئی، سورج سرخ ہو گیا، اب وقتِ مکروہ شروع ہوا لیکن ہے تو عصر ہی کا وقت، عصر کا وقت کب تک ہے؟ غروب تک ہے، تو لیکن— ہے عصر کا وقت، لیکن وہ جو نفسِ وجوب جس وقت کی وجہ سے آ رہا ہے وہ کس قسم کا ہے؟ ناقص، وقتِ مکروہ ہے نا، تو اس سے وجوب کی— جب وہ وقت کیا ہے ناقص ہے تو اس سے جو وجوب آ رہا ہے وہ بھی کس قسم کا ہے؟ ناقص ہے، لہٰذا اب اس وقت میں نماز ادا کرتا ہے عصر کی تو ادا بھی ناقص ہوئی، تو ہو جائے گی ادا کیونکہ وجوب ادا کے مطابق— ادا وجوب کے مطابق، وجوب بھی کیسا آیا تھا؟ ناقص، ادا بھی کیسی ہو رہی ہے؟ ناقص، تو لہٰذا ادا ہو جائے گی بھئی۔ کیونکہ وجوب— ادا کس کے مطابق ہے؟ وجوب کے، جیسا وجوب آئے ویسی ادا کرنا ضروری، اگر وجوب کامل ہے تو ادا بھی کیسی ہونی چاہئے؟ قضا کے اندر وجوب کامل تھا تو ادا بھی کیسی چاہئے تھی؟ کامل تھی، لیکن یہاں وجوب کیسا آ رہا ہے؟ ناقص آ رہا ہے، لہٰذا ادا بھی کیا ہوئی؟ تو اس کے مطابق ہو گئی، لہٰذا عصر کی نماز اس وقت میں ادا ہو جائے گی، لیکن قضا اگر پڑھتا ہے تو قضا نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو نماز کے وجوب کا سبب کون سا وقت ہوتا ہے بھئی؟ وہ آخری وقت جو اس نماز کے ساتھ ملا ہوا ہو، ملا ہوا ہو۔
فيجوز العصر عند الاحمرار، پس جائز ہے عصر احمرار کے وقت، أداء، کس طرح بھئی؟ کہ اس— احمرار کے وقت بھئی۔ اس طور پر کہ وہ ادا ہو، اس حیثیت سے کہ وہ ادا ہو، ولا يجوز قضاء، اور اس طور پر جائز نہیں کہ وہ کیا ہو؟ قضا ہو۔
وعن الكرخي، یہ تو ہمارا مذہب تھا، ہمارا کیا مذہب ہوا بھئی؟ کہ مامور بہ کتنی قسم پر تھا؟ دو، مطلق عن الوقت اور مقید بالوقت، جو مطلق عن الوقت ہے اس کا ہمارے نزدیک کیا حکم ہے؟ کہ تراخی کے ساتھ بھی وہ— واجب ہوتا ہے علی الفور یا علی التراخی؟ علی التراخی بشرطیکہ ساری زندگی میں فوت نہ ہو جائے۔ امام کرخی فرماتے ہیں کہ مطلق عن الوقت جو امر ہے اس کا وجوب اس میں جو آئے گا وہ کس طریقے پر آئے گا؟ علی الفور آئے گا، وہ واجب ہوگا علی الفور، فوری ادا کرنا ہوگا، اگر فوری ادا نہ کیا تو گنہگار ہوگا شخص بھئی۔ وہ شخص کیا ہوگا اگر فوری ادا نہ کیا تو؟ گنہگار ہوگا بھئی، زکوۃ جیسے ہی واجب ہوئی فوری طور پر ادا کریں، اگر ادا نہ کیا تو آپ کیا ہوں گے؟ لیکن فرماتے ہیں یہ گناہ موقوف ہے، یہ گناہ کس قسم کا ہوگا؟ موقوف رہے گا، جیسے ہی آپ ادا کر دیں گے جس وقت بھی ادا کر دیں گے یہ گناہ ختم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ امام کرخی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ مطلق عن الوقت جو ہے وہ واجب ہوتا ہے علی الفور، فوری طور پر ادا کرنا واجب، اگر آپ فوری ادا نہیں کرتے تو کیا ہوں گے؟ گنہگار ہوں گے، لیکن یہ گناہ کس قسم کا ہے؟ موقوف ہوگا، اگر ادا کر دیں گے تو یہ گناہ کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔
وعن الكرخي رحمه الله أن موجب الأمر المطلق، کہ موجِب— مقتضا، موجب کیا معنی؟ مقتضا، امرِ مطلق کا مطلق— جی، وہ امر جو مطلق ہے اس کا مقتضا کیا ہے؟ الوجوب على الفور، اس سے کیا آئے گا مولانا؟ اس کا مقتضا وجوب علی الفور ہے، اس سے وجوب علی الفور آئے گا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہمارے نزدیک وجوب علی التراخی، ان کے نزدیک وجوب علی الفور آئے گا، ان کی دلیل یہ ہے کہ بھئی ہو سکتا ہے یہ شخص فوری طور پر ادا اگر نہیں کرتا ہو سکتا ہے اس کو موت آ جائے بھئی، تو اس کے ذمہ واجب رہ جائے گا، تو لہٰذا اس کو کیا کرنا چاہئے؟ فوری طور پر کیا کرنا چاہئے؟ ادا کرنا چاہئے، ہم جواب دیتے ہیں کہ امام کرخی رحمہ اللہ— امام کرخی آپ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ جو مطلق عن الوقت ہے، آپ بھی کیا کہتے ہیں یہ مطلق عن الوقت— مثلاً جو بھی امر ہے، لیکن آپ کہتے ہیں وجوب علی الفور ہے، ہم کہتے ہیں وجوب علی التراخی ہے، اگر جواب ہم دے رہے ہیں کہ اگر وجوب علی الفور مان لیں پھر تو یہ مطلق عن الوقت نہ رہا، پھر تو یہ کیا بن گیا؟ مقید بالوقت رہ گیا، حالانکہ آپ بھی ہمارے ساتھ اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے، بات— جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ دوسرا یہ کہ شریعت نے جو اس کو مطلق عن الوقت قرار دیا ہے یہ بندے پر سہولت اور آسانی کے لئے ہے، تو آسانی کس کے اندر ہے؟ جب مرضی ادا کرے یا فوری ادا کرے بھئی؟ جب مرضی ادا کرے، تو پھر تو آسانی مشکل میں بدل جائے گی اور شریعت نے کس لئے اس کو مطلق عن الوقت رکھا ہے؟ آسانی کے لئے کہ جب بھی ادا کرو۔
تو جو— تو دو جواب ہم دیتے ہیں امام کرخی کو، ایک جواب تو یہ کہ اگر ہم اس کو کیا علی الفور مان لیں تو پھر یہ تو مطلق عن الوقت نہیں رہے گا بلکہ کیا بن جائے گا؟ مقید بالوقت، اور دوسرا یہ کہ پھر دوسری خرابی یہ کہ اس— یہ تو شریعت نے کیا کس لئے اس کو مطلق عن الوقت رکھا ہے؟ سہولت کے لئے، تو اگر آپ علی الفور کر کے کہہ دیں اس کے فوری ادائیگی اس کا— فورا ادا کرنا اگر اس کا واجب قرار دے دیں ہم تو اس صورت میں کیا خرابی ہوگی؟ وہ آسانی کس سے بدل جائے گی؟ تنگی سے بدل جائے گی۔
باقی کہتے ہیں اختلاف صرف وجوب میں ہے امام کرخی کے ساتھ، وہ کہتے ہیں وجوب علی الفور ہے، ہم کہتے ہیں وجوب علی الفور نہیں ہے، باقی اس بات— یہ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ علی الفور ادائیگی مستحب ہے، مستحب کیا ہے؟ علی الفور ادائیگی کرے، والخلاف معه في الوجوب، اور اختلاف ان کے ساتھ وجوب میں ہے، ولا خلاف في أن المسارعة إلى الائتمار مندوب إليها، اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ المسارعة معنی جلدی کرنا، ائتمار کا کیا معنی ہے؟ حکم ماننا، حکم ماننا کی طرف جلدی کرنا مندوب إليها— مندوب ہے بھئی۔
مندوب إلى المسارعة بھئی، اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حکم ماننے میں جلدی کرنا یہ کیا ہے؟ مستحب ہے، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں والخلاف معه في الوجوب، اختلاف ان کے ساتھ کس چیز میں ہے؟ وجوب میں ہے، ولا خلاف في أن المسارعة إلى الائتمار مندوب إليها، اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جلدی کرنا إلى الائتمار حکم ماننے کی طرف مندوب إليها، یہ مسارعت کیا ہے؟ مستحب ہے، مندوب ہے ہمارے نزدیک بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، یہ إليها، یہ ها ضمیر بھئی نائب فاعل ہے مندوب کے لئے بھئی، یہ راجع ہے مسارعت کو بھئی، کس کو راجع ہے؟ مسارعت کو راجع ہے، تو إلى جار ہے، ها ضمیر مجرور ہے، اور مجرور ہے اس— تو مجرور محلِ قریب اس کا کیا ہے؟ مجرور، اور محلِ بعید کیا ہے؟ مرفوع ہے، کیونکہ نائب فاعل ہے مندوب کے لئے، کیا ف— کیا ہے؟ جی۔
یہ نائب فاعل ہے اس کے لئے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ مندوب اسمِ مفعول کا صیغہ ہے نا، اور وہ کس کا تقاضہ کرتا ہےاس کے لیے کیا چاہیے نائب فاعل چاھیے اور وہ آگے آرہا ہے۔
چلیے۔ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام