Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 118
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی۔ لیکن کس چیز میں خلیفہ ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا کس چیز میں؟ لفظ میں بھئی۔ یعنی وہ کلام وہ جس پر تکلم کیا گیا ہے، جس پر تلفظ کیا گیا ہے وہ عربی قوانین کے اعتبار سے نحوی ترکیب کے اعتبار سے وہ کلام کیسا ہونا چاہیے؟ صحیح ہونا چاہیے بس، حقیقت ممکن ہو یا حقیقت ممکن نہ ہو۔ بس کلام جب صحیح ہے تو اب مجازی معنی کی طرف جانا صحیح ہے۔ مجازی معنی کی طرف جانا صحیح ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا حکم کے اعتبار سے یعنی اگر حقیقی معنی لینا صحیح ہوگا تو پھر اور پھر کسی معنی کی وجہ سے اسے لے نہیں سکتے تو پھر مجازی معنی لیں گے اور اگر حقیقی معنی ہی لینا صحیح نہیں بنتے تو پھر مجازی معنی بھی نہیں لے سکتے، کیونکہ مجاز فرع ہے حقیقت کی اور حقیقی معنی جب ممکن نہیں ہے تو مجازی معنی بھی مراد نہیں لے سکتے اور کلام لغو ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس پر کئی مثالیں گزری تھیں بھئی۔ ایک مثال یہ گزری تھی ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا اور وہ اس سے عمر میں بڑا ہے کیا کہا؟ ھذا ابنی، یہ میرا بیٹا ہے اور ابنی کا ایک حقیقی معنی بیٹا ہونا اور ایک مجازی معنی کیا کہ یہ آزاد ہے، آزاد ہے بھئی۔ اب یہاں پر ھذا ابنی ترکیب صحیح نحوی اعتبار سے ھذا مبتدا، ابنی مضاف مضاف الیہ مل کر اس کی خبر۔ تو یہ تکلم اس پر صحیح ہے، یہ عربی عبارت صحیح، کلام صحیح، لہذا اور حقیقت تو ہو نہیں سکتی کہ وہ اس کا بیٹا ہو۔ تو لہذا اب کس کی طرف جائیں گے جب الفاظ صحیح؟ امام صاحب کے نزدیک مجاز کی طرف چلے جائیں گے اور وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں یہ حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے۔ جب حقیقی معنی ممکن نہیں ہے تو اب مجازی معنی کی طرف بھی جب یہ غلام اس سے بڑا ہے تو یہ اس کا بیٹا ہو سکتا ہے؟ بیٹا تو ہمیشہ کیا ہوتا ہے باپ سے چھوٹا ہوتا ہے تو یہ حقیقی معنی ممکن نہیں، جب حقیقی معنی ممکن نہیں تو مجازی معنی جو ہے آزادی وہ بھی اس سے مراد نہیں لی جا سکتی اور یہ غلام آزاد نہیں ہو گا۔ آزاد نہیں ہو گا۔ اس پر کہ اشکال کیا گیا تھا، اشکال ذکر ہوا تھا بھئی کہ امام صاحب کے نزدیک، امام صاحب پر اشکال ہوا کہ آپ نے کہا کہ اگر لفظ صحیح ہوں تو مجازی معنی مراد لیا جا سکتا ہے، ہم آپ کو مثال دکھاتے ہیں، آپ کا ضابطہ اپنا ضابطہ خود ہی توڑ رہے ہیں۔ ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے جس کا نسب معروف ہے ھذہ ابنتی، یہ کیا ہے؟ میری بیٹی ہے، میری بیٹی ہے۔ اب اس سے حقیقی معنی کیا ہے؟ بیٹی ہونا اور مجازی معنی اس کا کیا ہے؟ طلاق، مجازی معنی کیا ہے؟ طلاق۔ تو اب حقیقی معنی یہاں، حقیقی معنی یہاں پر عربی عبارت صحیح، ترکیب صحیح، ھذہ مبتدا، ابنتی اس کی خبر، تو عربی عبارت صحیح تو اور لیکن حقیقت ممکن نہیں تو کس کی طرف جانا چاہیے؟ مجاز کی طرف جانا چاہیے، لیکن آپ اس سے مجاز کی طرف نہیں جاتے اور طلاق کا حکم اس پر نہیں لگاتے، اس کی تو یہ آپ نے اپنے ہی قانون کو کیا کر دیا؟ توڑ دیا۔ اب ترکیب صحیح ہے، جواب کے مطابق ترکیب صحیح ہو تو پھر کیا لے سکتے ہیں؟ مجازی معنی کا ارادہ، مجازی معنی کا ارادہ کیا جا سکتا ہے اور یہاں پر ترکیب صحیح ہے لیکن آپ کہہ رہے ہیں مجازی معنی کا ارادہ صحیح، جواب کیا دیا تھا مولانا؟ اس لیے مجازی معنی کا ارادہ نہیں کہ اس کے لیے شرط یہ ہے مولانا کہ حقیقی معنی اور مجازی معنی کے درمیان منافات نہ ہو۔ اگر ان دونوں کے درمیان منافات ہو تو پھر مجازی معنی کا ارادہ نہیں کر سکتے، جیسے مولانا منافات ہے آگ اور پانی کے اندر بھئی، آگ بول کر پانی مراد نہیں لے سکتے اور پانی بول کر آگ نہیں، تو یہاں بھی بیٹی ہونا یہ منافی ہے طلاق کے، اس لیے بیٹی بول کر طلاق مراد، یہ منافی اس لیے ہے مولانا کہ بیٹی کے ساتھ طلاق حکم ہے نکاح کا، طلاق کب دی جائے گی؟ جبکہ پہلے کیا ہو؟ نکاح ہو اور بیٹی کے ساتھ تو نکاح ہی نہیں ہو سکتا تو بیٹی ہونا نکاح کے منافی، جب نکاح کے منافی ہے، نکاح ہی نہیں ہو سکتا تو پھر طلاق کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اس پر پھر اشکال ہوا کہ یہاں پر اگر ایسی بات ہے تو ھذا ابنی جو پہلا مسئلہ آپ نے ذکر کیا غلام والا، وہاں بھی تو آپ نے بیٹا بول کر کیا مراد لیے؟ آزادی مراد لی، حالانکہ آزاد، بیٹا ہونا اور آزادی ایک دوسرے کے منافی ہیں، اس لیے کہ آزادی حکم ہے مملوک ہونے کا، غلام ہونے کا اور بیٹا ہو تو غلام کسی کا، بیٹا غلام نہیں ہو سکتا، جب بیٹا غلام نہیں ہو سکتا تو پھر آزادی کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو جواب کیا دیا تھا؟ کہ نہیں بھئی! بیٹا ہونا مملوک ہونے کے منافی نہیں، جب مملوک ہونے کے منافی نہیں تو آزاد ہونے کے بھی منافی نہیں، مملوک ہونے کے منافی اس لیے نہیں کہ مثلاً بیٹا جنگ میں گیا بھئی، جنگ میں شرکت کی، مخالف نے پکڑ لیا، دشمن نے قیدی بنایا، غلام بنا دیا اور پھر وہ بکا اور باپ نے خرید لیا تو باپ کے لیے کیا ثابت ہوئی؟ ملکیت ثابت ہوئی اور لیکن پھر فوراً ہی وہ خود بخود آزاد ہو گیا اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے من ملک ذا رحم محرم فهو حر، یا من ملک ذا رحم محرم عتق علیہ، وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، تو دیکھو مالک بنا اگرچہ ایک آن کے لیے ہی بنا لیکن ملکیت ثابت ہوتے ہی حدیث کیا آئی؟ صادق آئی، جو مالک بن جائے اپنے ذو رحم محرم کا تو وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ تو یہ مالک بنا اور بنتے ساتھ ہی فوراً بیٹا کیا ہو گیا؟ تو دیکھا باپ بھی ہے اور کیا بیٹا اس کا مملوک بھی بن گیا، کیا بن گیا؟ مملوک بھی بن گیا، تو بیٹا ہونا مملوک ہونے کے منافی نہیں ہے۔ تکرار کرو بھئی، اچھی طرح تکرار کرو بھئی۔ فصل فی تعریف طریق الاستعارۃ، یہ فصل ہے مولانا استعارے کے طریقے کے پہچاننے کے بارے میں۔ استعارے کا طریقہ پہچاننے کے بارے میں۔ بھئی استعارہ، ایک ہے لفظ استعارہ، ایک ہے لفظ مجاز۔ یاد رکھو! علمائے اصول فقہ کے نزدیک استعارہ اور مجاز مترادف ہیں۔ مجاز کس کو کہا جاتا تھا بھئی؟ لفظ کو اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز، یعنی لفظ بولنا اور کون سا معنی مراد دینا؟ غیر موضوع لہ، کون سا معنی مراد لینا؟ یہ مجاز ہے اور یہی استعارہ بھی ہے۔ لفظ کو استعمال کرنا کس کے اندر؟ معنی غیر موضوع لہ میں، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز کہلاتا ہے، یہ کس کے نزدیک ہے؟ علمائے اصول فقہ کے نزدیک، علمائے اصول فقہ کے نزدیک۔ جبکہ علم بلاغت والے، جبکہ علم بلاغت والے، ان کے نزدیک استعارہ مجاز کی قسم ہے۔ استعارہ مجاز کی قسم ہے۔ استعارہ مجاز کی قسم ہے۔ بھئی علم بلاغت والے، علم معانی، علم بیان والے وہ کیا کہتے ہیں بھئی؟ استعارہ مجاز کی اور مجاز کی کیا تعریف پڑھی آپ نے؟ مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا مثلاً اسد بول کر کیا مراد لینا؟ بہادر آدمی، اسد تو وضع ہے حیوان مفترس کے لیے، شیر ایک درندہ ہے اس کے لیے وضع ہے، لیکن کس کے لیے آپ نے استعمال کر دیا؟ بہادر آدمی کے لیے، تو یہ لفظ کو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، تو یہ مجاز ہے، یہ کیا ہے؟ پھر یہ مجاز دو قسم پر ہے مولانا، دیکھو ایک ہے معنی موضوع لہ، ایک ہے معنی غیر موضوع لہ، آپ لفظ کو معنی موضوع لہ کے بجائے کس میں استعمال کر رہے ہیں؟ غیر موضوع لہ میں، تو دونوں میں کچھ اتصال ہونا چاہیے، کچھ مناسبت ہونی چاہیے، بغیر مناسبت کے کر سکتے ہیں؟ بغیر مناسبت کے؟ تو معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں ضرور کچھ نہ کچھ مناسبت اور کچھ اتصال ہوگا، اب اگر یہ اتصال اور یہ علاقہ جو ہے تشبیہ کا ہو تو یہ ہے استعارہ اور اگر یہ علاقہ تشبیہ کا نہ ہو تو یہ ہے مجاز مرسل ان کے نزدیک۔ کیا بات ہوئی؟ دوبارہ سن لو غور سے، مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو کس میں استعمال کرنا؟ معنی، بھئی اس کو تو وضع کیا گیا تھا اس معنی وہ کون سا معنی ہے؟ ہونا کس میں چاہیے؟ موضوع لہ میں، لیکن کر کس میں رہے ہیں آپ؟ غیر موضوع لہ میں، اس کے لیے تو اس کو وضع نہیں کیا گیا، تو جب ایک غیر معنی میں آپ استعمال کر رہے ہیں تو معنی حقیقی میں اور معنی مجازی میں کچھ تعلق ہونا چاہیے، بغیر تعلق کے تو ایسا آپ نہیں کر سکتے کہ ایک کا لفظ کس کے لیے استعمال کر لیں؟ دوسرے کے لیے استعمال، تو دونوں میں تعلق ہوگا، کچھ علاقہ ہوگا۔ اب وہ تعلق تشبیہ والا ہے تو پھر یہ والا مجاز کیا کہلائے گا؟ استعارہ، اور اگر تشبیہ کا علاقہ اور اتصال اور نسبت نہیں ہے تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ مجاز مرسل کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ مجاز مرسل کہلائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کس کے نزدیک ہے؟ علم بلاغت، تو ان کے نزدیک علم بلاغت والوں کے نزدیک استعارہ قسم ہے کس کی؟ مجاز، جبکہ علم اصول فقہ، اصولیین جو ہیں ان کے نزدیک کیا ہے؟ مجاز اور استعارہ کیا ہیں؟ مترادف ہیں، مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا اور استعارہ بھی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنی غیر، وہی ایک مترادف ہیں۔ دیکھیے بھئی! کتاب دیکھیے۔ فصل فی تعریف طریق الاستعارۃ، یہ فصل ہے مولانا استعارے کے طریقے کے پہچاننے میں کہ استعارہ کیسے کرنا ہے، کیسے ہوگا، اعلم ان الاستعارۃ فی احکام الشرع مطردۃ، مطردہ کا معنی عام بھئی، شائع، شائع، رائج، مستعمل۔ جان لے تو کہ استعارہ جو ہے احکام شریعت کے اندر مطردۃ عام ہے، شائع ہے، رائج ہے، بطریقین، دو طریقوں پر، احدهما لوجود الاتصال بین العلۃ والحکم، والثانی لوجود الاتصال بین السبب المحض والحکم، ایک بوجہ پائے جانے اتصال کے، اتصال پائے جانے کی وجہ سے بین العلۃ والحکم، کس کے درمیان؟ علت اور حکم کے درمیان، والثانی اور دوسرا لوجود اتصال بین السبب المحض والحکم، بوجہ اتصال کے پائے جانے کے سبب محض اور حکم کے درمیان۔ بھئی پہلے تو یہ سمجھ لو علت کسے کہتے ہیں؟ سبب کسے کہتے ہیں؟ علت وہ ہے جو مفضی الی الشیء ہو بغیر واسطے کے۔ علت وہ ہے جو مفضی الی الشیء ہو بغیر واسطے کے۔ علت وہ ہے جو مفضی الی الشیء ہو بغیر واسطے کے۔ اور وہ شئے اس کا معلول ہے بھئی، وہ شئے کیا کہلاتی ہے؟ معلول کہلائے گی اس کا۔ معلول ہے۔ مثلاً بھئی، سورج جب بھی نکلے گا دن ہوگا، تو سورج کا نکلنا ہے علت اور دن کا ہونا ہے معلول۔ سورج کا نکلنا کیا ہے؟ علت، سورج جب بھی نکلے گا کیا ہوگا؟ دن ہوگا۔ سورج سمجھ میں آرہی ہے؟ سورج جب بھی نکلے گا، دن۔ تو یہ سورج کا نکلنا ہے علت اور دن کا ہونا ہے معلول۔ سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا ہونا، تو جب بھی علت پائی جائے گی کیا پایا جائے گا؟ معلول بھی پایا جائے گا۔ ایسا ہو سکتا ہے علت تو پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے؟ ایسا، سورج نکلے اور دن نہ ہو؟ جب بھی علت پائی جائے گی فوراً کیا پایا جائے گا؟ معلول بھی پایا جائے گا۔ تو علت وہ ہے جو مفضی ہو الی الشیء بغیر واسطے کے، بھئی سورج کے نکلنے سے دن ہوتا ہے، درمیان میں کوئی واسطہ ہے؟ درمیان میں کوئی واسطہ، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں ہے، اور سبب وہ ہے جو مفضی الی الشیء ہو واسطے کے ساتھ۔ جو مفضی الی الشیء ہو واسطے کے ساتھ۔ جلدی جلدی لکھو بھئی۔ جو مفضی الی الشیء ہو واسطے کے ساتھ۔ اس کی مثال بہترین ایک شعر لکھ لیجیے بھئی: مگس کو باغ میں جانے نہ دینا مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا بھئی مگس کہتے ہیں شہد کی مکھی کو۔ اب سنو بھئی! شاعر کہتا ہے شہد کی مکھی کو باغ میں مت جانے دینا کہ ناحق بیچارے پروانے کا کیا ہو جائے گا؟ خون ہو جائے گا۔ اب بات کچھ سمجھ میں آرہی ہے شہد کی مکھی کے جانے سے کوئی پروانے کا خون ہوتا ہے بھئی؟ نہیں، لیکن سبب ہے، درمیان میں کئی واسطے آتے ہیں، دیکھو شاعر کہتا ہے یہ اس کی وجہ سے پروانے کی موت اس لیے آئے گی کہ شہد کی مکھی جب باغ میں جائے گی تو وہ کیا کرے گی بھئی؟ وہ باغ کے اندر جائے گی پھولوں کا رس چوسے گی وغیرہ تو شہد بنائے گی، اس کے لیے چھتا بنائے گی بھئی۔ کیا کرے گی؟ چھتا وغیرہ بنائے گی اور پھر پھولوں کا رس چوسے گی اور اس سے چھتے کے اندر شہد بنائے گی بھئی۔ جب شہد اس نے بنا لے گی، حضرت انسان کو پتہ چلے گا کہ فلاں جگہ شہد ہے بھئی۔ وہ فوراً پہنچے گا بھئی، چھتے کو اتارے گا بھئی۔ شہد کو نکال کر اس میں سے محفوظ کر لے گا اور جبکہ چھتے میں جو ہے اس سے وہ موم بنا لے گا۔ اور موم بنا لے گا پھر اس سے موم بتی بنا لے گا اور پھر اس موم بتی کو وہ جلائے گا اور جب جلائے گا، آگ ہوگی، شمع ہوگی، تو پروانے آئیں گے اور پھر سے وہ بیچارے کیا ہو جائیں گے؟ بیچارے اس میں جا کر مر جائیں گے۔ تو دیکھا، مکھی کا جانا سبب ہے کس چیز کا؟ پروانے کے۔ لیکن براہ راست ہے یا کئی واسطے ہیں بیچ میں؟ کئی واسطے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ دیکھو یہ سبب ہے پروانے کے جلنے کا۔ مکھی کا جانا سبب ہے کس کے لیے؟ پروانے کے جلنے کا سبب ہے۔ اور درمیان میں کئی واسطے ہیں۔ کتنی لمبی تفصیل میں نے بتائی، یہ ہوگا، پھر یہ ہوگا، پھر یہ ہوگا، پھر یہ ہوگا، آخر میں آکے جب آگ جلے گی اور پروانہ آکر کیا ہو جائے گا؟ جل جائے گا۔ تو کبھی سبب زیادہ ہوتے ہیں، واسطے زیادہ ہوتے ہیں، کبھی صرف ایک واسطہ ہوتا ہے بھئی۔ ہوتا واسطہ ضرور ہے۔ تو علت اور معلول میں کوئی واسطہ نہیں ہوتا، لیکن سبب اور مسبب کے درمیان کیا ہوتا ہے؟ واسطہ۔ تو یہ شہد کی مکھی کا جانا یہ ہے سبب اور وہ پروانے کا جلنا کیا ہے؟ مسبب۔ تو سبب اور مسبب میں واسطہ ہوگا بھئی ہمیشہ۔ اگر واسطہ درمیان میں نہ ہو تو وہ پھر سبب نہیں کہلانا، وہ تو کیا ہے؟ علت ہے، علت معلول ہیں اور اگر واسطہ ہے تو پھر وہ کیا ہیں؟ سبب مسبب ہیں بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب یاد رکھو، علت اور معلول میں استعارہ دونوں جانب سے جائز ہے، جبکہ سبب اور مسبب میں استعارہ ایک طرف سے جائز ہے۔ دونوں طرف سے کیسے جائز ہے؟ علت بول کر معلول بھی مراد لے سکتے ہیں اور معلول بول کر علت بھی مراد لے سکتے ہیں۔ اصل بول کر فرع بھی، اصل کون ہے؟ علت اور معلول کیا ہے اس کے فرع، تو اصل بول کر کیا مراد لے سکتے ہیں؟ فرع بھی اور فرع بول کر اصل بھی، علت بول کر معلول بھی اور معلول بول کر علت بھی مراد، لیکن سبب اور مسبب کے اندر ایسا نہیں، وہاں سبب بول کر مسبب تو مراد ہو سکتا ہے یعنی اصل بول کر فرع تو مراد لے سکتے ہیں، لیکن فرع بول کر اصل مراد نہیں لے سکتے۔ مسبب بول کر سبب مراد نہیں لے سکتے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کس طرح ہے استعارہ احکامِ شریعت کے اندر؟ علت اور معلول میں استعارہ دونوں طرف سے، علت بول کر کیا مراد ہو سکتا ہے؟ حالانکہ علت کا معنی کوئی معلول ہے؟ لیکن آپ علت سے کیا معنی کر رہے ہیں؟ معلول والا، کر سکتے ہیں بھئی۔ اور کیونکہ علت وضع ہی کس کے لیے ہے؟ اس معلول کے لیے۔ اور معلول بول کر کیا مراد لے رہے ہیں؟ علت مراد لے رہے ہیں کیونکہ اس کے لیے اصل ہے، وہ بھی مراد لے سکتے ہیں۔ لیکن سبب مسبب میں سبب بول کر مسبب تو مراد ہو سکتا ہے، لیکن مسبب بول کر سبب مراد نہیں ہو سکتا۔ دیکھیے مثالیں آئیں گی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں جان لے، استعارہ احکامِ شریعت کے اندر شائع ہے، عام ہے بطریقین، دو طریقوں پر۔ احدهما لوجود الاتصال بين العلة والحكم، ایک اتصال کی وجہ سے بالعموم، بوجہ اتصال کے پائے جانے کے، تعلق کے پائے جانے کے کس کے درمیان؟ علت اور حکم کے درمیان۔ جب بھی علت پائی جائے گی معلول یعنی اس کا حکم بھی پایا جائے گا۔ تو جب دونوں میں اتصال ہوا بھئی۔ والثاني، دیکھو میں نے کہا تھا معنی حقیقی اور معنی مجازی کے درمیان ہمیشہ کیا ہوگا؟ کچھ نہ کچھ تعلق ہوگا، مناسبت ہوگی، تو یہاں دیکھو مناسبت ہے یا نہیں؟ ایک علت ہے، دوسرا اس کے لیے کیا ہے؟ معلول، ایک سبب ہے، دوسرا اس کے لیے کیا ہے؟ مسبب ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مناسبت موجود ہے بھئی۔ تو ایک یہ کہ لوجود الاتصال بين العلة والحكم، بوجہ اتصال کے کس کے درمیان؟ علت اور حکم، حکم کیا ہے اس کا؟ معلول ہے۔ والثاني لوجود الاتصال بين السبب المحض والحكم، اور دوسرا بوجہ اتصال کے پائے جانے کے کس کے درمیان؟ سبب محض اور حکم، یعنی سبب اور مسبب کے، سبب اور مسبب کے۔ بھئی سبب محض کہا، اس لیے کہ کبھی کبھار علت کو بھی مجازاً سبب کہہ دیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں سورج کا نکلنا سبب ہے دن کے ہونے کا، حالانکہ سورج کا نکلنا یہ سبب تو نہیں ہے، یہ تو کیا ہے؟ علت ہے، یہ کیا ہے؟ لیکن علت کو کبھی مجازاً کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ سبب بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ تو سبب محض کہا تاکہ مجازی معنی مراد یہاں پر نہیں ہے، بلکہ سبب محض ہو جو علت نہ ہو۔ تو کبھی سبب محض اور مسبب میں بھی اتصال ہوتا ہے، اس کی وجہ سے استعارہ جائز ہے۔ کیا ہے استعارہ؟ جائز۔ استعارے کے لیے کیا چاہیے بھئی؟ دونوں میں مناسبت چاہیے، تو جیسے علت اور معلول میں مناسبت ہے، سبب اور مسبب میں بھی کیا ہے؟ فالأول منهما، پس ان دونوں میں سے جو پہلا ہے، وہ کون سا ہے؟ اتصال بين العلة والحكم، يوجب أن يثبت، وہ ثابت کرتا ہے صحة الاستعارة من الطرفين، استعارے کے صحیح ہونے کو من الطرفين، دونوں طرف سے۔ وہ ثابت کرتا ہے کیا؟ استعارے کا صحیح ہونا کس طرف سے؟ یعنی علت بول کر معلول بھی مراد لے سکتے ہیں اور معلول بول کر علت بھی مراد لے سکتے ہیں۔ والثاني يوجب صحتها من أحد الطرفين، جبکہ ثانی ثابت کرتا ہے استعارے کے صحیح ہونے کو ایک جانب سے۔ بھئی کون سی جانب ہے؟ خود بتلا رہے ہیں۔ وهو استعارة الأصل للفرع، اور وہ استعارہ ہے اصل کا کس کے لیے؟ یعنی اصل سے کیا مراد؟ سبب، فرع سے کیا مراد؟ مسبب، تو سبب بول کر مسبب تو مراد لے سکتے ہیں، لیکن مسبب بول کر سبب مراد نہیں لے سکتے۔ مثال الأول، پہلے کی مثال بھئی، جہاں اتصال بين العلة والحكم ہے، یعنی علت اور معلول میں جو۔ فيما، اس صورت میں إذا قال: ان ملكت عبداً فهو حر۔ ایک دو ضابطے لکھ لیں بھئی: ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعاتِ مملوک کا ملک میں۔ ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعاتِ مملوک کا ملک میں۔ لکھ لیا؟ جی، دوسرا ضابطہ لکھیں۔ شراء تقاضا کرتا ہے اجتماعاتِ مشترا کا۔ شراء تقاضا کرتا ہے اجتماعاتِ مشترا کا عقد میں، عقد میں۔ کہ ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعاتِ مملوک کا ملک میں، عرف کے اندر مولانا، عرف کے اندر کسی چیز کا مالک کسی شخص کو اسی وقت کہا جاتا ہے جب وہ پوری چیز اس کی ملک میں جمع ہو جائے۔ عرف میں کسی چیز کا مالک کسی شخص کو اسی وقت کہا جاتا ہے جب وہ پوری چیز اس کی ملک میں جمع ہو جائے۔ ایک شخص کہتا ہے: "میں غلام کا مالک ہوں"، کیا معنیٰ؟ پورا غلام اس کی ملکیت میں جمع ہے، پورا غلام اس کی ملکیت میں جمع ہے۔ اگر آدھے غلام کا مالک ہے، تو پھر وہ اس کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ "میں غلام کا مالک ہوں"، کیونکہ پورا غلام اس کی ملکیت میں جمع نہیں ہے۔ تو ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعاتِ مملوک کا کس میں؟ ملک میں۔ جبکہ ایک ہے شراء، خریدنا۔ شراء تقاضا نہیں کرتی اجتماعاتِ مشترا کا ملک میں، جو چیز خریدی گئی ہے بھئی وہ کیا ہے؟ آپ خریدنے والے، آپ کیا کہلائیں گے؟ مشتری، جس چیز کو خریدا ہے وہ کیا ہے؟ مشترا، تو شراء تقاضا نہیں کرتا اجتماعاتِ مشترا کا ملک میں۔ کسی چیز کا خریدار آپ کو خریدنے والا اسی وقت نہیں کہا جائے گا کہ جب وہ سارا مشترا آپ کی ملک میں جمع ہو جائے۔ بلکہ شراء تقاضا کرتا ہے اجتماعاتِ مشترا کا عقد میں، کس میں؟ عقد میں اس کو جمع ہونا چاہیے بھئی، عقد میں جمع ہونا، اگرچہ متفرق ہی کیوں نہ ہو۔ اگرچہ متفرق ہی کیوں نہ ہو، مثلاً آپ نے ایک غلام کو نصف خریدا، غلام کو نصف خریدا، پھر نصف خرید کر بیچ دیا، پھر باقی کا نصف بھی خرید لیا، تو اب سارا غلام آپ کے عقد میں جمع ہو گیا۔ اگرچہ متفرق طور پر ہوا ہے، لیکن کیا ہوا؟ پورا جمع، تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نہ ہو، لیکن کیا ہوا؟ پورا غلام آپ کے عقد میں، نصف پہلے آیا تھا اور نصف بعد میں، تو اب ملک وہ مشترا ملک کے اندر تو اس وقت پورا نہیں، کیونکہ آدھا تو آپ خرید کر کیا کر چکے ہیں؟ بیچ چکے ہیں، لیکن اور اس وقت صرف کتنے کے مالک ہیں؟ آدھے کے، لیکن شراء جو ہے، وہ تقاضا کس چیز کا کرتی ہے؟ اجتماعاتِ مشترا کا کس چیز میں؟ عقد میں، کہ عقد میں وہ چیز پوری جمع ہونی چاہیے، اگرچہ متفرق طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ تو یہاں پر بھی وہ پورا غلام آپ کے عقد میں جمع ہو چکا ہے، اگرچہ متفرق ہی ہے، پہلے صرف آدھا تھا اور باقی آدھا بعد میں آیا، لیکن عقد میں تو کیا ہوا؟ پورا غلام جمع ہو گیا، اگرچہ متفرق طور پر جمع ہوا، پورا اگرچہ متفرق طور پر۔ تو اب آپ کو غلام کو کیا کہا جائے گا؟ غلام خریدنے والا، کیا کہا جائے گا؟ غلام خریدنے والا کہا جائے گا، کہ یہ پورا غلام خریدنے والا ہے، پورا غلام خریدنے والا ہے۔ کیا ضابطہ ہوا پہلا؟ ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعاتِ مملوک کا ملک میں، کہ پورا مملوک ملک میں ہوگا، تو پھر آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں اس کا مالک ہوں۔ میں کہتا ہوں: میں ایک غلام کا مالک ہوں، میں غلام کا مالک ہوں، یہ اسی وقت میں کہہ سکتا ہوں جس وقت کہ وہ پورا غلام میرے مملوک ہو، پورا غلام کیا ہو؟ پورا غلام میری ملکیت میں جمع ہو، تو میں یوں کہوں گا: میں غلام کا مالک ہوں۔ اگر آدھا ہو، تو میں کہہ سکتا ہوں میں غلام کا مالک ہوں؟ نہیں، کیونکہ میں ملکیت کی بات کر رہا ہوں، مالک ہوں، اور مالک ہونا کب ہوگا؟ جب وہ مملوک پورا کا پورا کیا ہوگا؟ ہاں، اگر میں آدھے کا مالک ہوں، تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں غلام کا مالک ہوں؟ میں غلام کا مالک نہیں، کیونکہ وہ تو آدھا ہے اور میں بات کر رہا ہوں مالک ہونے کی، یعنی ملکیت کی، اور ملکیت کیا تقاضا کرتی ہے؟ کہ مملوک پورا کا پورا ملک میں جمع ہونا چاہیے، پھر آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں مالک ہوں۔ پھر کیا کہہ سکتے ہیں؟ مالک ہوں، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور شراء تقاضا کرتا ہے اجتماعاتِ مشترا کا عقد میں۔ میں نے کتاب خریدی، یہ میں اسی وقت کہوں گا جب میں نے پوری کتاب خریدی ہو۔ پوری کتاب، مشترا کیا ہے؟ میں ہوں مشتری اور کتاب کیا ہے؟ مشترا، اور یہ ہے شراء، میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں؟ خریدنے کی، شراء کی بات کر رہا ہوں، اور شراء کی بات کر رہا ہوں میں نے خریدا کس کو؟ کتاب کو، میں نے کتاب خریدی، یہ میں کب کہوں گا؟ جب پوری کتاب، جب پوری کتاب عقد میں آ جائے یعنی پوری کتاب کو میں خرید لوں تو پھر کیا کہلاؤں گا؟ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کتاب خریدی، اگر میں نے یا غلام کی مثال بناؤ، میں پورا غلام خریدوں گا تو اب میں کہہ سکتا ہوں میں نے غلام خریدا، لیکن اگر آدھا خریدا ہو تو میں کہہ سکتا ہوں میں نے غلام خریدا؟ نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شراء تقاضا کرتا ہے کیا؟ کہ وہ مشترا کیا ہونا چاہیے؟ جمع ہونا چاہیے کس کے اندر؟ عقد میں، اور عقد میں پورا غلام آیا نہیں، میں نے تو کتنا خریدا ہے؟ آدھا، تو لہٰذا اب میں شراء بھی اس کی نہیں کہہ سکتا کہ میں خریدنے والا ہوں، یہ نہیں کہہ سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے۔ مثال الأول، پہلے کی مثال مولانا، اور یہ یاد رکھو مولانا، یہ مثال پہلے کی ہے، کس کی؟ علت اور حکم کی مثال، یعنی علت اور معلول کی۔ مثال الأول، پہلے کی مثال فيما اس قول میں جب إذا قال، اس نے کہا: ان ملكت عبداً فهو حر، ایک شخص نے کیا کہا؟ "ان ملكت عبداً فهو حر"، اگر میں مالک بنا کسی غلام کا تو وہ آزاد ہے۔ کس چیز کی بات کی اس نے؟ مالک ہونے کی، سمجھ میں آیا؟ اور ملکیت تقاضا کس چیز کا کرتی ہے؟ اجتماعاتِ مملوک کا کس کے اندر؟ ملک میں۔ فهو حر، فملك نصف العبد، پھر یہ کہنے والا نصفِ غلام کا مالک ہوا کسی طرح، فباعه، اس نے اس کو بیچ دیا۔ پھر اس کو آدھے کو بیچ دیا، ثم ملك النصف الآخر، پھر اس نے باقی آدھے کا بھی وہ کیا بن گیا؟ مالک بن گیا کسی طرح، لم يعتق، تو غلام آزاد نہیں ہوگا، إذ لم يجتمع في ملكه، اس لیے کہ وہ غلام جمع نہیں ہوا اس کی ملکیت میں، إذ لم يجتمع في ملكه كل العبد، اس لیے کہ وہ سارا کا سارا غلام اس کی ملکیت میں جمع نہیں ہوا، اس نے کیا کہا تھا؟ "اگر میں غلام کا مالک بنا تو غلام کیا ہے؟" اور وہ غلام کا مالک بنا ہے، پہلے آدھا خریدا اور اس کو کیا کر دیا؟ بیچ دیا، پھر اگلا دوسرا آدھا خریدا، اب تو کیا ہوا مولانا؟ پورا غلام اس کے ملک میں ایک وقت میں اکٹھا، مالک تو پورے کا بن گیا، لیکن کیا اکٹھا ہوا؟ مالک، ملکیت تو کیا تقاضا کرتی ہے؟ کہ پورا کیا ہو؟ پورا مملوک اس کے ملک میں آ جائے، تو پھر کہا جاتا ہے کہ میں کیا ہوں اس کا؟ مالک ہوں۔ اب وہ غلام کا پہلا نصف بھی اس کی ملکیت میں آیا تھا، وہ چلا گیا، اور دوسرا بھی آ گیا، تو پورا غلام اس کی ملکیت میں آیا تو ہے لیکن اکٹھا آیا ہے؟ اکٹھا نہیں، اور اس نے تو بات کی ہے مالک ہونے کی، اور مالک ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سارا کا سارا غلام اکٹھا اس کی ملک میں آئے، پھر غلام آزاد ہوگا ورنہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اب یہ جو نصفِ ثانی اس کے پاس آیا، بھئی آدھے کا مالک پہلے بن چکا تھا، اب باقی آدھے کا اب مالک بن رہا ہے، تو کیا اب یہ آدھا آزاد ہو جائے گا؟ نہیں، کیونکہ اجتماع مملوک ملک کے اندر نہیں پایا گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس نے کیا کہا تھا؟ اگر میں نے کیا کیا؟ میں نے غلام خریدا تو وہ کیا ہے؟ اور اس نے بات کی شراء کی، اور شراء کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ اجتماعِ مشترا، عقد میں سارا مشترا جمع ہونا چاہیے۔ اب اس نے آدھا خریدا اور اس کو بیچ دیا۔ کیا کیا؟ اب پھر بقیہ آدھا خریدتا ہے، تو پورا غلام آ گیا یا نہیں عقد میں؟ جی؟ تو بھئی شراء خریدنے میں پورا غلام آ گیا ہے۔ خریدنے میں کیا آ گیا ہے؟ پورا غلام آ گیا ہے۔ اس نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ میں مالک بنوں، پورے غلام اکٹھا خریدوں، بس کیا کہا تھا؟ غلام خریدوں، غلام کیا کروں؟ نصف پہلے خرید لیا، بیچ دیا، اب باقی نصف بھی خرید لیا، تو کیا کہیں گے اس کو؟ یہ کیا ہے؟ غلام خریدنے والا ہے، یہ کیا ہے؟ غلام اس نے غلام خریدا ہے، تو بھئی اس نے کہا تھا اگر میں پورا غلام خرید لوں، غلام خرید لوں تو آزاد، تو اب کیا پایا گیا جب نصفِ ثانی کو بھی خرید لیا اس نے؟ پورے غلام کا خریدنا پایا گیا، اور جب پورے غلام کا خریدنا پایا گیا، تو اس وقت اس کے پاس کتنا ہے؟ آدھا، وہ آدھا آزاد ہو جائے گا۔ وہ آدھا کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ چلیے بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بالصواب۔
123 approved lectures · 31 of 123