والطَّرِيقُ الثَّانِي أَنْ يُجْعَلَ كُلُّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْوَقْتِ سَبَبًا لَا عَلَى طَرِيقِ الْإِنْتِقَالِ، فَإِنَّ الْقَوْلَ بِهِ قَوْلٌ بِإِبْطَالِ السَّبَبِيَّةِ الثَّابِتَةِ بِالشَّرْعِ وَلَا يَلْزَمُ عَلَى هَذَا… جی!
بھئی! بحث چل رہی ہے اسباب کے متعلق بھئی۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ احکامِ شرعیہ کا تعلق اسباب سے ہوتا ہے بھئی اسباب سے۔ تو خطاب کی وجہ سے وجوبِ ادا آتی ہے بھئی، نفسِ وجوب کس کی وجہ سے آتا ہے؟ سبب کی وجہ سے، اور وجوبِ ادا کس کی وجہ سے؟ خطاب کی وجہ سے۔
مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی پہلا جز جو ہے وہ سبب بنتا ہے وجوب کا، وقت کا جو پہلا جز ہے سبب بنتا ہے نفسِ وجوب کا۔ پھر باقی اجزا کیسے سبب بنتے ہیں؟ اس کے بتلایا تھا دو طریقے ہیں بھئی۔ ایک طریقہ ذکر کر دیا کہ سببيت پہلے جز سے منتقل ہوتی ہے دوسرے کی طرف، اگر اس کے بعد بھی ادا نہ کرے تو پھر تیسرا جز آئے گا تو سببيت منتقل ہو جائے گی تیسرے جز کی طرف، یہاں تک کہ آخری جز آ جائے، جب آخری جز آ جائے تو وہ واجب کیا ہو جائے گا؟ پکا ہو جائے گا، وجوب پختہ ہو جائے گا اور اس وقت کے اندر بندے کی حالت کا بھی اعتبار کیا جائے گا اور وقت کی صفت کا بھی۔ اگر بندہ بندے میں اس وقت اہلیت ہے تو وجوب آئے گا، بندے میں اہلیت نہیں تو وجوب بھی نہیں آئے گا۔
اور وقت کی صفت کا بھی لحاظ رکھا جائے، اعتبار کیا جاتا ہے اس کا لحاظ رکھا جائے گا۔ یعنی اگر وقت کامل ہوگا تو وجوب بھی کامل آئے گا، لہٰذا اس کو ادا بھی کیسے وقت میں کرنا پڑے گا؟ کامل وقت میں، اور اگر وہ وقت ناقص تھا تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ ناقص آئے گا، تو اس کو ناقص وقت میں ادا کرنا بھی جائز ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اگر وجوب کامل آیا ہے تو ناقص وقت میں اس کو ادا نہیں کر سکتا، اور اگر وجوب ناقص آیا ہے تو ناقص وقت میں اس کو ادا کر سکتا ہے نماز کو، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو یہ پہلا طریقہ تھا جس میں سببيت، باقی اجزا میں سببيت کس طریقے پر ثابت ہوتی تھی؟ انتقال کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ انتقال۔ اب دوسرا طریقہ بتلا رہے ہیں کہ باقی اجزا کیسے سبب بنیں گے۔
والطَّرِيقُ الثَّانِي اور دوسرا طریقہ یہ ہے أَنْ يُجْعَلَ كُلُّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْوَقْتِ سَبَبًا کہ ہر جز کو اجزائے وقت میں سے اس کو سبب بنایا جائے۔ اس کو کیا قرار دیا جائے؟ بھئی ہر جز سبب بنے گا لَا عَلَى طَرِيقِ الْإِنْتِقَالِ انتقال کے طریقے پر نہیں، ہر جز سبب تو بنے گا لیکن انتقال کے طریقے پر نہیں، انتقال کے طریقے پر۔
یہ بھئی پہلے قول کے مطابق کیا تھا؟ سببيت کیا ہو رہی تھی؟ ایک جز سے منتقل ہو رہی تھی کس کی جانب؟ تو ہر جز سبب تو بن رہا ہے لیکن انتقال کے طریقے پر بن رہا ہے، جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر جز سبب بنے گا لیکن انتقال کے طریقے پر نہیں بنے گا انتقال کے طریقے پر، بلکہ ہر ایک مستقلاً کیا ہوگا؟ سبب بنے گا۔ پہلا جز بھی سبب بن رہا ہے، دوسرا بھی سبب بن رہا ہے، تیسرا بھی سبب، چوتھا جز بھی سبب بن رہا ہے، تمام اجزا سبب بن رہے ہیں وجوب کے بھئی۔
اور مصنف کو کے نزدیک پسندیدہ قول یہی ہے بھئی کہ ہر جز کیا ہونا چاہیے؟ مستقل سبب بننا چاہیے، انتقال کے طریقے پر سبب بننا ان کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔ چنانچہ اسی کے لیے اس کے ساتھ وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ یہ قول پسندیدہ ہے، دوسرا پسندیدہ نہیں، کیوں نہیں پسندیدہ؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر ہم پہلے قول کو لیں تو اس صورت میں پہلے قول میں کیا کہا تھا؟ کہ جزِ اول سبب بنا اور پھر سبب بھی جب اس میں ادا نہیں کیا نماز کو اس کے فوراً بعد تو پھر دوسرا جز آ گیا، تو سببيت منتقل ہو گئی کس کی جانب؟ دوسرے جز کی جانب، تو وہاں اور تو پہلا جز سبب نہ رہا، پہلا جز سبب نہ رہا۔
تو حالانکہ پہلے جز کی سببيت تو شریعت سے ثابت ہوئی تھی، کس نے ثابت کیا تھا پہلے جز کی سبب ہونے کو بھئی؟ شریعت نے اس کے پہلے اس پہلے جز کے سبب ہونے کو شریعت نے ثابت کیا تھا، اور جو چیز شریعت نے ثابت کی ہو اس کو باطل کرنا ٹھیک نہیں، تو اگر پہلے قول کو لیا جائے انتقال کے طریقے والے کو کہ پہلا جز سبب تھا پھر سببیت منتقل ہوئی کس کی طرف؟ ثانی کی طرف، تو پہلے جز کی سببیت تو کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی، پھر دوسرے سے منتقل ہوئی کس کی طرف؟ تیسرے کی طرف، تو دوسرے کی سببیت تو کیا ہوئی؟ باطل، تیسرے سے پھر کس کی طرف منتقل ہوگی؟ چوتھے کی طرف، تو تیسرے کی سببیت بھی کیا ہو گئی؟ تو اگر اس قول کو اختیار کیا جائے تو پھر تو ان اجزا کی سببیت کا باطل ہونا لازم آتا ہے، اور حالانکہ ان کی سببیت تو کس سے ثابت ہے؟ شریعت سے ثابت ہے، اور جو چیز شریعت سے ثابت ہو اس کی اس کی سب جس چیز کا سبب ہونا، جس چیز کا سبب ہونا شریعت سے ثابت ہو اس کی سببیت کو باطل قرار دینا پسندیدہ درست نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو لہٰذا ہر جز مستقلاً سبب بنے گا، انتقال نہیں بھئی، پہلا پہلا جز بھی سبب بنے گا، دوسرا بھی بنے گا، تیسرا بھی، جبکہ پہلے طریقے کے مطابق تو پہلے کی سببیت ختم ہو جاتی تھی، پھر دوسرے کی بھی ختم ہو جاتی تھی، تو جو جز متصل ہوتا تھا نماز کے ساتھ وہ سبب قرار دیا جاتا تھا اور ماقبل والوں کی سببیت کیا ہوتی تھی؟ باطل، لیکن کہتے ہیں ان کی سببیت تو شریعت نے ثابت کی ہے، لہٰذا جو چیز شریعت نے ثابت کی ہے اس کو باطل قرار دینا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
والطَّرِيقُ الثَّانِي دوسرا طریقہ یہ ہے أَنْ يُجْعَلَ كُلُّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْوَقْتِ سَبَبًا کہ قرار بنایا جائے وقت کے اجزا میں سے ہر جز کو کیا بنایا جائے؟ سَبَبًا سبب بنایا جائے لَا عَلَى طَرِيقِ الْإِنْتِقَالِ انتقال کے طریقے پر نہیں فَإِنَّ الْقَوْلَ بِهِ قَوْلٌ بِإِبْطَالِ السَّبَبِيَّةِ الثَّابِتَةِ بِالشَّرْعِ اس لیے فَإِنَّ الْقَوْلَ بِهِ بِهِ یہ ضمیر راجع ہے انتقالِ سببیت کو، کس کو راجع ہے؟ اس لیے کہ انتقالِ سببیت کا قائل ہونا قَوْلٌ بِإِبْطَالِ السَّبَبِيَّةِ یہ قائل ہونا ہے ابطالِ سببیت کا، انتقالِ سببیت کا قائل ہونا دراصل یہ کیا ہے؟ ابطالِ سببیت کا بات قائل ہونا ہے کہ سببیت کو باطل کرنا پڑے گا، سببیت کو جی سببیت کو باطل کرنے کا قائل ہونا پڑے گا وہ سببیت الثَّابِتَةِ بِالشَّرْعِ جو کس سے ثابت ہے؟ شریعت سے، تو شریعت سے ثابت شدہ سببیت کے باطل ہونے کا قائل ہونا پڑے گا بھئی، اس کے باطل کرنے کا اس سببیت کے باطل کرنے کا قائل ہونا پڑے گا بھئی، باطل کرتے تھے یا نہیں بھئی اس میں اول جز کی سببیت؟ تو باطل کرنے کا قائل ہونا پڑے گا، اور یہ تو درست نہیں۔
وَلَا يَلْزَمُ عَلَى هَذَا یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں، اشکال یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ نے ثانی قول کو پسند کیا لیکن ثانی قول پر بھی تو اشکال لازم آتا ہے، وہ یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ ہر جز سبب بنے گا، ہر جز جب ہر جز سبب بنا تو کئی سبب آ گئے، پہلے قول کے مطابق تو سببیت سببیت منتقل ہو جاتی تھی ایک ہی جز سبب بنتا تھا، اور وہ اس نے نہیں ادا کی تو اگلا بن گیا، وہ نہیں اس میں ادا نہیں کی تو اگلا بن گیا، تو ایک ہی جز سبب بنتا تھا، اور یہاں تو آپ کہہ رہے ہیں ہر جز مستقلاً سبب بنے گا، جب ہر جز مستقلاً سبب بنے گا تو کئی سبب جمع ہو گئے، کیا جمع ہو گئے؟ کئی سبب جمع ہو گئے یعنی کئی علتیں جمع ہو گئیں، کیونکہ سبب کس معنی میں میں نے بتایا یہاں پر؟ علت، تو کئی علتیں جمع ہو گئیں، اور ہر علت کی وجہ سے معلول کا وجود آئے گا، تو ہر سبب کی وجہ سے وجوب آئے گا، تو کئی وجوب آ گئے، کیا آ گئے؟ کئی وجوب، تو پھر تو ظہر کی نماز مثلاً ہے تو اس کے وجوب متعدد ہے، تو پھر ادا بھی کیا ہوگی؟ متعدد ہوگی، تو بار بار اس کو ادا کرنا پڑے گا، حالانکہ اس کا قائل کوئی بھی کہتے ہیں نہیں بھئی، اسباب کے تعدد سے واجب میں تعدد لازم نہیں آتا، اسباب کے تعدد سے واجب میں تعدد کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی چیز کی بہت سی علتیں جمع ہو جائیں، تو علتیں کئی جمع ہو جائیں تو معلول پھر بھی ایک رہتا ہے، عِنْدَ الْفُقَهَاءِ بھئی عام بھئی دیگر علوم میں آپ نے پڑھا ہے کہ تعددِ علل درست نہیں بھئی، ایک معلولِ واحد کے لیے متعدد علتیں ہوں یہ صحیح نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک علت سے ایک معلول آئے گا، لیکن عِنْدَ الْفُقَهَاءِ یہ جائز ہے بھئی کہ معلول کئی ہوں اور علتیں علتیں کئی ہوں اور معلول کیا ہو؟ ایک ہو، یعنی حکم ایک ہی ہو، جیسے دیکھیے بھئی ایک ہی شخص ہے اس کو حدث بھی لاحق ہوا، سمجھ میں آیا؟ مثلاً اس نے پیشاب وغیرہ کیا، اسی طرح اس کو قے بھی آئی، اسی طرح اس کو نکسیر بھی آئی، اسی طرح اس نومِ کامل بھی اس نے کی ایسی نیند کی جس کے اندر استرخائے مفاصل پایا گیا، تو دیکھو کئی علتیں ہیں، لیکن معلول ایک ہی پایا جائے گا، نقضِ وضو کیا ہے؟ ایک ہی نا حکم معلول پایا جائے گا، ہر ایک کے لیے الگ وضو بلکہ ایک ہی وضو کر لے گا، تو دیکھو علتیں متعدد ہیں اور معلول کیا ہے؟ نقضِ وضو کیا ہے؟ ایک ہی ہے۔
صورت سمجھ میں آئی؟ یا یہ اسی طرح ہے جیسے خصومات مقدمات کے اندر بھئی، دو گواہ ہوں گے دو گواہوں پر قاضی فیصلہ کر دیتا ہے جب عادل گواہ ہوں، اب اگر ایک آدمی کے پاس 100 گواہ ہیں تو بھی قاضی ایک ہی فیصلہ کرے گا، یہ تو نہیں کہ ہر دو کے بعد ایک فیصلہ ہو اور کتنے فیصلے کرنا پڑیں اس کو؟ 50، جتنے مرضی گواہ لے آئے بھئی، دو ہوں یا دو سے زائد ہوں ایک ہی فیصلہ کرتا ہے، تو دو گواہ ہیں دو گواہوں کا ہونا یہ علت ہے قاضی کے فیصلے کے لیے بھئی، دو گواہوں کا ہونا علت ہے اور قاضی کا فیصلہ معلول ہے، اب 100 گواہ ہوں تو 50 علتیں جمع ہو گئیں لیکن معلول پھر بھی ایک ہی ہے ایک ہی فیصلہ کرے گا قاضی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو لہٰذا اسباب کے تعدد سے مسبب میں تعدد لازم نہیں آتا، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ جزِ اول نے جس واجب کو ثابت کیا، جزِ ثانی بھی بعینہٖ اسی واجب کو کیا کر رہا ہے؟ ثابت، جزِ ثالث بھی بعینہٖ اسی واجب کو کیا کر رہا ہے؟ ثابت کر رہا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ جیسے دو گواہ جس فیصلے کو ثابت کر رہے ہیں بھئی اسی باقی گواہ بھی سارے کیا ہیں؟ بعینہٖ اسی فیصلے کو کیا کر رہے ہیں؟ ثابت کر رہے ہیں، تو معلول، مسبب ایک ہی رہے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
وَلَا يَلْزَمُ عَلَى هَذَا تَضَاعُفُ الْوَاجِبِ اور لازم نہیں آتا اس پر جی! کیا لازم نہیں آتا؟ تَضَاعُفُ الْوَاجِبِ واجب کا کئی گنا ہونا کہ کئی گنا ہو جائے واجب، کئی دفعہ ادا کرنا پڑے، فَإِنَّ الْجُزْءَ الثَّانِيَ إِنَّمَا أَثْبَتَ عَيْنَ مَا أَثْبَتَهُ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ اس لیے کہ جزِ ثانی نے تو ثابت کیا ہے بعینہٖ اسی چیز کو جس کو ثابت کس نے کیا تھا؟ جزِ اول نے، فَكَانَ هَذَا مِنْ بَابِ تَرَادُفِ الْعِلَلِ تو یہ کس باب سے ہوا؟ جی؟ ہاں ہاں ہر جز کو علت بنانا یہ بابِ ترادفِ العلل ترادفِ العلل کے باب سے ہوا، ترادفِ العلل کے باب سے ہوا علتوں کے مترادف ہونے کے، یعنی کئی علتیں جمع ہو جائیں بھئی، تو یہ ترادفِ العلل کے باب سے ہوا، وَكَثْرَةِ الشُّهُودِ اور کس باب سے ہوا؟ كَثْرَةِ الشُّهُودِ گواہوں کی کثرت کے باب سے ہوا فِي بَابِ الْخُصُومَاتِ مقدمات کے باب میں، مقدمات کے باب میں گواہ باکثرت بھی ہوں پھر بھی فیصلہ کتنا ہوگا؟ ایک ہی فیصلہ ہوگا۔
جی، یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب نماز کی بات ختم ہوئی، اب روزہ بھئی، پھر آئے گا اس کے بعد زکوۃ، پھر حج بھئی۔
وَسَبَبُ وُجُوبِ الصَّوْمِ شُهُودُ شَهْرٍ شُهُودُ الشَّهْرِ اور روزے کے وجوب کا سبب مہینے کا حاضر ہونا ہے یعنی رمضان کے مہینے کا آنا ہے، رمضان کے مہینے کا آنا ہے لِتَوَجُّهِ الْخِطَابِ عِنْدَ شُهُودِ الشَّهْرِ اس لیے کہ وہ خطاب جو ہے اللہ تعالیٰ کا جو خطاب ہے وہ متوجہ ہوتا ہے عِنْدَ شُهُودِ الشَّهْرِ اس مہینے کے حاضر ہونے کے وقت میں، جب وہ مہینہ حاضر ہوتا ہے وہ رمضان کا مہینہ آتا ہے تو پھر اللہ کا حکم متوجہ ہوتا ہے کہ روزہ رکھو، ادا پھر وجوبِ ادا آ جاتا ہے اور ادائیگی کیا ہو جاتی ہے؟ واجب، اس سے پہلے ادائیگی واجب نہیں، معلوم ہوا کہ روزے کا کیا ہے؟ روزے کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ اس مہینے کا حاضر ہونا، اس مہینے کا رمضان کے مہینے کا آنا ہے، ایک دلیل، دوسری: وَإِضَافَةِ الصَّوْمِ إِلَيْهِ ایک تو دلیل یہ ذکر کی لِتَوَجُّهِ الْخِطَابِ عِنْدَ شُهُودِ الشَّهْرِ اس لیے کہ خطاب متوجہ ہوتا ہے اس مہینے کے حاضر ہونے کے وقت، اور دوسری اس وجہ سے کہ وَإِضَافَةِ الصَّوْمِ إِلَيْهِ کہ صوم کی اضافت بھی اس مہینے کی طرف ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمُ رَمَضَانَ بھئی، رمضان کا روزہ، دیکھا صوم کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ روزے کی طرف، اور اصل بھی یہی ہے کہ حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ جی سبب کی طرف، حکم کی اضافت کس کی طرف کی جائے؟ سبب کی طرف، تو معلوم ہوا صوم کا سبب کیا ہے؟ رمضان ہے، صَوْمُ رَمَضَانَ، صوم مضاف رمضان مضاف الیہ اور اصل بھی یہ ہے کہ حکم کی اضافت کس کی طرف کی جائے؟ سبب کی طرف، تو معلوم ہوا اس صوم کا سبب کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
جیسے نمازوں کے اندر بھی اسی طرح تھا، آپ کہتے ہیں صَلَاةُ الْفَجْرِ بھئی، صَلَاةُ الظُّهْرِ بھئی، صلاۃ کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ وقت کی طرف ظہر، عصر، مغرب جو وقت ہے، تو وہ اور سبب تو معلوم ہوا یہ وقت کیا ہیں اس کے لیے؟ سبب ہیں، صورت دو دلیلیں سمجھ میں آ گئیں؟ پہلی دلیل کیا ذکر کی؟ اس لیے کہ خطاب کا متوجہ ہوتا ہے جب وہ وقت آ جائے، اور دوسری دلیل کیا ذکر کی؟ کہ اس کی طرف صوم کی اضافت ہو رہی ہے اور اصل کیا ہے اضافت کس کی طرف ہونی چاہیے؟ سبب کی طرف، تو معلوم ہوا یہ رمضان کا جو وقت ہے یہ سبب ہے کس چیز کا؟ روزے کے واجب ہونے کا۔
وَسَبَبُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ مِلْكُ نِصَابٍ نَامٍ حَقِيقَةً أَوْ حُكْمًا اور وجوبِ زکوۃ کا سبب وہ مالک ہونا ہے نصابِ نامی کا، نامی بڑھنے والا بڑھنے والا، وجوبِ زکوۃ کا سبب کیا ہے؟ نصابِ نامی ہے بھئی اس کا مالک ہونا، انسان کی ملکیت میں کیا پایا جائے؟ نصاب کے بقدر مال ہو اور وہ مال نامی ہو بڑھنے والا ہو بھئی بڑھنے والا ہو، اب چاہے اس کے اندر جو نما ہے وہ حقیقتاً یہ بڑھوتری نما کا معنی ہے بڑھوتری افزائش بھئی، چاہے اس کے اندر یہ بڑھوتری جو ہے حقیقتاً پائی جائے چاہے حکماً پائی جائے، حقیقتاً پائی جائے گی جیسے تجارت کا مال ہے، سال کے اندر کیا ہے اس کے اندر کیا پائی جاتی ہے؟ بڑھوتری زیادتی پائی جاتی ہے یا نہیں پائی جاتی بھئی؟ جی! انسان تجارت کرتا ہے سارے گھر کا خرچ اس سے چلا رہا ہے یا نہیں چلا رہا بھئی؟ تو اس کے اندر حقیقتاً سال کے اندر نما نما پائی جاتی ہے، اور کبھی حقیقتاً نما نہیں ہوتی لیکن حکماً نما بڑھوتری ہوتی ہے بھئی، وہ جیسے سونا چاندی آپ کے پاس پڑا ہوا ہے یا روپیہ پڑا ہوا ہے، اب پورا سال اس پر گزر گیا نصاب کے بقدر ہے، اب اس میں کوئی زیادتی ہوئی ہے؟ سال کے اندر کوئی زیادتی نہیں ہوئی لیکن حکماً زیادتی ہو چکی ہے، یعنی اس کے اندر صلاحیت ہے حکماً زیادتی کا یہ معنی ہے کہ اس میں صلاحیت ہونی چاہیے بڑھوتری کی، اگر اس مال کو تجارت میں لگاتے تو زیادتی ہوتی یا نہ ہوتی بھئی؟ جی! تو حقیقتاً نما کس میں ہے؟ تجارت میں مال میں، اور حکماً نما کس میں ہے؟ تجارت کے علاوہ جو مال پڑا ہوا ہے انسان کے پاس جسے تجارت میں اس نے نہیں لگایا بھئی۔
تو کہتے ہیں وَسَبَبُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ مِلْكُ نِصَابٍ نَامٍ وجوبِ زکوۃ کا سبب وہ نصابِ نامی کا مالک ہونا ہے، بڑھنے والا ہونا چاہیے بھئی، حَقِيقَةً أَوْ حُكْمًا چاہے وہ نامی ہو حقیقتاً یا حکماً ہو، جی!
وَبِاعْتِبَارِ وُجُودِ السَّبَبِ بھئی آپ کی کتابوں میں وجوب لکھا ہوگا، وجوب لکھا ہے؟ یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، یہ با نہیں ہے دال ہے دال۔
وَبِاعْتِبَارِ وُجُودِ سَبَبِ
بھئی آپ کی کتابوں میں وجوب لکھا ہوگا۔ وجوب لکھا ہے؟ یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی یہ با نہیں ہے دال ہے، دال۔ وباعتبار وجود السبب جاز التعجيل في باب الاداء، اور وجودِ سبب کے اعتبار سے یعنی سبب کے پائے جانے کے اعتبار سے جاز التعجیل جائز ہے جلدی کرنا فی باب الاداء ادا کے باب میں۔
بھئی دیکھیے بھئی ابھی آپ کو بتلایا بھئی، زکوۃ کا سبب کیا ہے؟ وہ نصابِ نامی ہے، وہ سبب ہے۔ اور جب سبب پایا جاتا ہے تو کیا آ جایا کرتا ہے؟ نفسِ وجوب آ جایا کرتا ہے۔ تو یاد رکھو اس میں حولانِ حول شرط ہے، حولانِ حول کیا ہے؟ شرط ہے، جی۔ حولانِ حول کا کیا معنیٰ؟ سال کا گزرنا بھئی، سال کا نصابِ نامی ہو اور اس پر پورا سال گزر جائے یعنی سال کے شروع میں وہ نصاب تھا پورا، تو سال کے آخر میں بھی کیا ہو؟ نصاب پورا ہو، یہ حولانِ حول، پورے سال کا گزرنا حولانِ حول کہلاتا ہے، یہ اس کے لیے شرط ہے، شرط ہے۔
تو بھئی حولانِ حول پایا جائے گا تو پھر تو وجوبِ ادا بھی آ جائے گا، کیا آ جائے گا؟ وجوبِ ادا۔ تو سبب کیا ہوا بھئی؟ وجوبِ زکوۃ کا سبب کیا ہوا؟ نصابِ نامی، کیا سبب ہے؟ تو لہٰذا ایک شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہے، ابھی سال نہیں گزرا وہ پہلے سے ہی پیشگی زکوۃ ادا کر دیتا ہے اپنے مال کی، تو فقہاء کرام لکھتے ہیں بھئی کہ زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ زکوۃ کیا ہوگی؟ ادا ہو جائے گی۔ کیوں ادا ہوئی بھئی؟ اس لیے کہ سبب پہلے سے پایا جا رہا ہے۔ سبب کیا تھا؟ نصابِ نامی، اور سبب جب پایا جائے تو کیا آ جایا کرتا ہے؟ نفسِ وجوب آ جایا کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو سبب جب پایا جا رہا ہے تو اس کو پہلے سے ادا بھی، اگر سبب پہلے نہ ہوتا تو پھر ادا بھی جائز نہ ہوتی۔ لہٰذا ایک شخص کے پاس اتنا مال نہیں ہے نصاب کے بقدر، پھر کچھ تھوڑا سا مال ہے، وہ پھر بھی اس میں سے زکوۃ ادا کر دیتا ہے کہ چلو کبھی تو آئے گا میرے پاس مال، میں ابھی سے کیا کر دیتا ہوں اس کی زکوۃ ادا، فقہاء کرام لکھتے ہیں بھئی ادا نہیں ہوگا۔ ادا کیوں نہیں ادا ہوگا؟ اس لیے کہ سبب ہی نہیں پایا گیا، جب سبب ہی نہیں تو اس پر نفسِ وجوب بھی نہیں، لہٰذا ادا کی کوئی صورت نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
وباعتبار وجود السبب اور اس سبب کے پائے جانے کے اعتبار کرتے ہوئے جاز التعجيل في باب الاداء جلدی کرنا جائز ہے ادا کے باب میں۔ وسبب وجوب الحج البيت اور وجوبِ حج کا سبب البيت بیت اللہ ہے مولانا، کیا ہے؟ کعبہ ہے کعبہ، تو بیت اللہ حج کے وجوب کا سبب ہے۔ دلیل کیا ہے؟ لاضافته الى البيت، بوجہ حج کی اضافت کرنے کے بیت اللہ کی طرف۔ کیا کہتے ہیں؟ حجِ بیت اللہ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں یا نہیں کہتے بھئی؟ جی، اضافت کرتے ہیں حجُ بیت اللہ۔ تو لہٰذا اور اصل کیا ہے؟ سبب کی اضافت کس کی طرف، حکم کی اضافت کس کی طرف ہو؟ سبب، تو یہاں معلوم ہوا اس کا سبب کیا ہے؟ بیت اللہ ہے۔
ایک دلیل، لاضافته الى البيت بوجہ اس کی حج کی اضافت ہونے کے الی البیت بیت اللہ کی طرف۔ دوسری دلیل، وعدم تكرار الوظيفة في العمر اور اس فرض کے اندر تکرار کا نہ ہونا عمر بھر میں، عمر بھر میں اس میں تکرار کا نہ پایا جانا۔ بھئی عمر بھر میں انسان پر کتنے حج فرض ہوتے ہیں؟ ایک ہی حج فرض ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا سبب بیت اللہ ہے اور بیت اللہ ایک ہی ہے اور اس کے اندر تکرار نہیں تو حج کے اندر بھی تکرار نہیں، تو عمر بھر میں ایک حج کا فرض ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا سبب کیا ہے؟ بیت اللہ ہے، جیسے بیت اللہ میں تکرار نہیں تو حج کے اندر بھی تکرار نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟
وعدم تكرار الوظيفة في العمر اور اس فرض کے، اس حکم کے اندر تکرار کا نہ ہونا فی العمر عمر بھر کے اندر۔ وعلى هذا اور اسی بناء پر، لو حج قبل، جی، اب ایک آدمی ہے بھئی، یاد رکھو حج کے وجوب کا سبب بیت اللہ ہے۔ حج کے وجوب کا سبب بیت اللہ اور زاد اور راہلہ اس کے لیے شرط ہے۔ زادِ راہ بھی ہو بھئی اور سواری بھی میسر ہو یہ شرط ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خرچہ وغیرہ بھی ہو اور سواری بھی میسر ہو، یہ اس کے لیے کیا ہے؟ شرط ہے۔
اب ایک آدمی ہے اس کے پاس زاد بھی نہیں ہے، سواری وغیرہ کا نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شرط نہیں پائی جا رہی، جب شرط نہیں تو مشروط بھی، تو ابھی حج اس پر فرض نہیں، فرض نہیں۔ لیکن کوئی اور شخص اس کو مثلاً دے دیتا ہے مال دے کر بھجوا دیتا ہے، جاؤ بھئی حج کر کے آؤ بھئی، کوئی اور اس کو حج کروا دیتا ہے، اپنے ساتھ لے گیا وغیرہ۔ تو اب جب اس نے حج ادا کر دیا تو سوال پیدا ہوا کیا اس کا فرض حج ادا ہو گیا یا فرض حج ادا نہیں ہوا؟ کیا مالدار ہونے کے بعد اس پر دوبارہ حج فرض ہوگا، اس کو دوبارہ کرنا پڑے گا یا دوبارہ نہیں کرنا پڑے گا؟ فقہاء کرام لکھتے ہیں بھئی اس کا فرض حج ادا ہو گیا بھئی، اب یہ مالدار بھی ہو جائے اس کا فرض ادا ہو چکا، دوبارہ کرنے کی حاجت نہیں۔ فرض نہیں ہے فرض نہیں ہے، ویسے تو کرے بڑی فضیلت ہے بھئی، فرض نہیں۔
کیوں؟ ادا کیوں ہو گیا بھئی؟ کیا وجہ ہے؟ ابھی تو اس کے پاس زاد بھی نہیں تھا، راہلہ بھی نہیں تھی، تو کہتے ہیں بھئی دراصل ہم نے بتایا آپ کو کہ حج کا سبب کیا ہے؟ بیت اللہ ہے اور بیت اللہ تو، سبب تو پایا جا رہا ہے لہٰذا اب کیا ہو جائے گا؟ ادا جلدی بھی ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اگر سبب ہی نہ پایا جاتا تو پھر ادا بھی نہیں ہو سکتی تھی۔
وعلى هذا اور اسی بناء پر لو حج قبل وجود الاستطاعة اگر حج کر لیا استطاعت کے پائے جانے سے پہلے ہی ينوب ذلك عن حجة الاسلام تو قائم ہو، نائب ہو جائے گا یہ، یہ جو اس نے حج کیا ہے پہلے، یہ نائب ہو جائے گا عن حجة الاسلام، حجِ اسلام کے بھئی، یہ نائب ہو جائے گا کس کے؟ حجِ اسلام یعنی فرض حج کے نائب ہو جائے گا لوجود السبب سبب کے پائے جانے کی وجہ سے۔ وبه فارق اداء الزكاة قبل وجود النصاب لعدم السبب، اور اس دلیل سے بھئی، اور جی، فارق اداء الزكاة، جدا ہو گیا حج بھئی، کون جدا ہوا؟ فارق کے اندر ضمیر کس کو راجع ہے؟ حج کو۔ حج جدا ہو گیا، کس سے جدا ہوا؟ اداء الزكاة قبل وجود النصاب، زکوۃ کی ادائیگی سے جو نصاب کے پائے جانے سے پہلے ہو جائے۔ ایک شخص نے کیا کر دی؟ نصاب کے پائے جانے سے پہلے ہی کیا کر دی؟ زکوۃ ادا کر دی، تو فقہاء کیا کہتے ہیں؟ زکوۃ ادا نہیں، اور حج ابھی فرض نہیں ہوا اس پر اور اس نے کیا کر لیا؟ حج کر لیا تو اس کا حج فرض کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ کیوں، فرق آپ کو سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے کہ وہاں سبب موجود تھا پہلے سے اور یہاں زکوۃ کے باب میں تو نصابِ نامی سبب تھا وہ پایا ہی نہیں ہے لہٰذا ادا بھی پہلے نہیں کر سکتا۔
لعدم السبب سبب کے نہ پائے جانے کے وجہ سے۔ وسبب وجوب صدقة الفطر رأس يمونه ويلي عليه، اور صدقۂ فطر کے وجوب کا سبب جو ہے، رأس ایسا رأس ہے یعنی ایسا شخص ہے يمونه جس کی وہ انسان کیا کرتا ہو؟ کفالت کرتا ہو، ويلي عليه اور اس پر کیا ہو؟ ولی ہو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ صدقۂ فطر کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ ایسا رأس ہے جس کی انسان کیا کرتا ہو؟ کفالت کرتا ہو اور اس پر کیا ہو؟ ولی ہو، ولی ہو بھئی۔ تو ایسا رأس پایا جائے۔
تو لہٰذا اب اگر کوئی عید کے دن سے پہلے کیا ادا کر دے؟ صدقۂ فطر ادا کر دے، آپ بتلائیے بھئی صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا یا ادا نہیں ہوگا بھئی؟ جی؟ کیوں؟ کیونکہ وہ رأس وہ سبب کیا ہے؟ پہلے پایا جا رہا ہے اور سبب پہلے پایا جا رہا ہو تو ادا بھی پہلے کی ہو سکتی ہے، جی۔
وباعتبار سببه يجوز التعديل، يجوز التعجيل، اور سبب کے اعتبار کرتے ہوئے تعجیل بھی جائز ہے، حتى جاز اداؤها قبل يوم الفطر، یہاں تک کہ اس صدقۂ فطر کی ادائیگی جائز ہے یوم الفطر سے پہلے ہی۔ اس پر اشکال ہوگا کہ بھئی یہ صدقة الفطر، صدقہ کی اضافت کس کی طرف ہے؟ فطر کی جانب ہے اور سبب کی اضافت کس کی طرف، مسبب حکم کی اضافت کس کی طرف ہوا کرتی ہے؟ سبب کی طرف ہوتی ہے، معلوم ہوا کہ یہاں پر اس کا سبب کیا ہے؟ فطر ہے اور آپ نے تو سبب کس کو قرار دیا؟ ایسا رأس بھئی جی جس کی انسان کفالت کرتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو آپ نے تو رأس کو قرار دیا اور اضافت تو کس کی طرف ہو رہی ہے؟ فطر کی طرف۔ ہم جواب دیتے ہیں، یہ فطر اس کے لیے شرط ہے بھئی، فطر کیا ہے؟ شرط ہے اور کبھی کبھار حکم کی اضافت شرط کی طرف بھی کر دیتے ہیں، تو یہاں اضافت کس کی جانب ہو رہی ہے؟ شرط کی جانب ہو رہی ہے، ہاں اصل یہ ہے کہ اضافت کس کی طرف ہونی چاہیے؟ سبب کی طرف، لیکن کبھی کبھار کس کی طرف کر دیتے ہیں؟ سبب کے بجائے غیر کی طرف بھی مجازاً نسبت کر دیا کرتے ہیں، جیسے آپ نے پڑھا تھا یا نہیں بھئی؟ کفارے کا سبب کیا کہلاتا ہے؟ کفارۃ یمین، کفارے کا سبب کسے کہتے ہیں؟ یمین کی طرف اضافت کر دی مجازاً حالانکہ یہ یمین تو اس کا سبب نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں بھی جو اضافت ہو رہی ہے وہ مجاز کے قبیل سے ہے، سبب کی طرف نہیں ہے بلکہ شرط کی طرف ہے۔
چلیے بس مولانا، هذا هو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔