خاص کی مثال ہے اللہ کے اس قول کے اندر
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ
کہ طلاق والی عورتیں روکے رکھیں اپنے نفسوں کو تین قروء تک۔
فَإِنَّ لَفْظَةَ الثَّلَاثَةِ خَاصٌّ فِي تَعْرِيفِ عَدَدٍ مَّعْلُومٍ
پس یقیناً ثلاثہ کا لفظ خاص ہے عدد معلوم کی پہچان میں۔
فَيَجِبُ الْعَمَلُ بِهِ
اور یہ خاص ہے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
وَلَوْ حُمِلَ الْأَقْرَاءُ عَلَى الْأَطْهَارِ كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَواسِعَةً
اگر محمول کیا جائے اقراء کو طہروں پر، جیسا کہ گئے ہیں اس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ۔
بِاعْتِبَارِ أَنَّ الطُّهْرَ مُذَكَّرٌ دُونَ الْحَيْضِ
باعتبار کہ طہر مذکر ہے نہ کہ حیض۔
وَقَدْ وَرَدَ الْكِتَابُ فِي الْجَمْعِ بِالَفْظِ التَّأْنِيثِ
اور نازل ہوئی ہے یا آئی ہے کتاب اللہ جمع کی تمیز میں لفظ تانیث کے ساتھ۔
دَلَّ عَلَى أَنَّهُ جَمْعُ الْمُذَكَّرِ وَهُوَ الطُّهْرُ
اس نے دلالت کی کہ یہ مذکر کی جمع ہے اور مذکر طہر ہے۔
لَزِمَ تَرْكُ الْعَمَلِ بِهَذَا الْخَاصِّ
تو اس خاص پر عمل کا ترک کرنا لازم آئے گا۔
لِأَنَّ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى الطُّهْرِ
اس لیے کہ جنہوں نے اس کو طہر پر محمول کیا ہے
لَا يُوجِبُ ثَلَاثَةَ أَطْهَارٍ
وہ تین طہر ثابت نہیں کرتے
بَلْ طُهْرَيْنِ وَبَعْضَ الثَّالِثِ
بلکہ دو طہر اور تیسرے کا بعض۔
وَهُوَ الَّذِي وَقَعَ فِيهِ الطَّلَاقُ
جس میں طلاق واقع ہوئی تھی۔
فَيُخْرَجُ عَلَى هَذَا حُكْمُ الرَّجْعَةِ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ
پس نکالا جائے گا اس اختلاف پر رجوع کرنے کا حکم تیسرے حیض میں۔
وَزَوَالُهُ
اور رجعت کے حکم کا زائل ہونا۔
وَتَصْحِيحُ نِكَاحِ الْغَيْرِ
اور غیر کے نکاح کے صحیح ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔
صحیح ہے۔
بھئی، یہ صحیح ہے، یہ کن کے نزدیک؟
وَتَصْحِيحُ نِكَاحِ الْغَيْرِ وَإِبْطَالُهُ
اور غیر کے نکاح کو صحیح قرار دینا۔ تصحیح کا عطف بھی حکم پر اور الرجعة پر ہو رہا ہے۔ حُکْمُ تَصْحِیحِ نِکَاحِ الْغَیْرِ۔ الرجعة مجرور تھا، تو تصحیح بھی کیا پڑھیں گے؟ مجرور پڑھیں گے۔ وَإِبْطَالِهِ، بھئی! اسی طرح اس کا بھی عطف ہے۔
پس نکالا جائے گا اسی پر غیر کے نکاح کے صحیح قرار دینے کا حکم بھی بھئی۔
بھئی، ہمارے نزدیک، بھئی اگر کوئی کیا کر لے؟ تیسرے حیض کے اندر عورت اگر کسی اور شخص سے نکاح کر لیتی ہے، تو اپ کیا حکم لگائیں گے بھئی؟ نکاح ہوا یا نہیں ہوا؟ نکاح نہیں ہوا بھئی، اس لیے کہ ابھی اس کی عدت ہی پوری نہیں ہوئی، جبکہ شوافع کے نزدیک صحیح ہو جائے گا بھئی، صحیح ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اس کی عدت کیا ہوئی ہے؟ پوری ہو چکی ہے، تو چنانچہ کہا: وَتَصْحِيحُ نِكَاحِ الْغَيْرِ، غیر کے نکاح کے صحیح، صحیح قرار دینے کا حکم بھی نکالا جائے گا۔ صحیح قرار دینے کا حکم، بھئی! یہ کس کے نزدیک ہے؟ شوافع کے نزدیک۔ وَإِبْطَالِهِ، ها ضمیر راجع ہے نکاح کو، اور اس نکاح کے باطل قرار دینے کا حکم بھی نکالا جائے گا، یہ کس کے نزدیک ہے بھئی؟ احناف کے نزدیک ہے بھئی۔
وَحُكْمُ الْحَبْسِ وَالْإِطْلَاقِ
جب تک عدت میں ہے، خاوند بیوی کو پابند کرے گا کہ گھر سے نہ نکلے، کیونکہ ابھی من وجہ کیا ہے؟ نکاح باقی ہے۔ لیکن جب عدت پوری ہو جائے گی، اب عورت اجنبیہ بن گئی، اس نے رجوع تو کیا نہیں مولانا، اجنبیہ بن گئی۔ اور اب خاوند اس کو گھر میں نہیں روک سکتا، وہ آزاد ہے، جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے۔
تو ہمارے نزدیک اس تیسرے حیض میں بھی عورت کو پابند کر سکتا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، پابند کرے، پابند ہو گی عورت گھر میں رہنے پر، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدت پوری ہو چکی، لہذا اس کو باہر جانے کی اجازت، اجازت ہے۔ یہ بات کر رہے ہیں۔ وَحُكْمُ الْحَبْسِ، اور پابند رہنے کا حکم ہو گا، لگایا جائے گا۔ وَالْإِطْلَاقِ، اور آزاد چھوڑنے کا، یعنی اجازت دینے کا۔
تو پابند رہنے کا، یہ کس کے نزدیک ہے؟ ہمارے نزدیک، اور آزاد چھوڑنے کا؟ شوافع کے نزدیک۔ کتنے مسئلے ذکر ہوئے؟ تین مسئلے بھئی، تین مسئلے۔
وَالْمَسْكَنِ وَالْإِنْفَاقِ
چاہے تو ایک مسئلہ، چاہے الگ الگ۔ مسکن، بھئی! عدت کے دوران رہائش اور نفقہ مہیا کرنا، یہ خاوند کی ذمہ داری ہے۔ عدت کے بعد اب اس کی ذمہ داری نہیں، تو ہمارے نزدیک عورت کو رہائش اور نفقہ مہیا کرنا کس کے ذمہ ہو گا؟ تیسرے حیض میں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نہیں ہو گا۔
وَالْمَسْكَنِ، اس کا عطف حبس پر ہو رہا ہے، اَیْ حُکْمُ الْمَسْکَنِ وَالْاِنْفَاقِ، اسی پر نکالا جائے گا رہائش اور خرچ کا حکم بھی اسی پر نکالا جائے گا۔ کتنے مسئلے ہوئے؟ چار کر لیں، یا دونوں کو مسکن اور انفاق کو الگ چاہے کر لیں، پانچ کر لیں، چار، چار کر لیں۔
وَالْخُلْعِ، اور خلع کا حکم بھی مولانا، بھئی خاوند نے ابھی صرف ایک طلاق دی ہے، طلاق رجعی، تو عورت کیا ہے؟ آخری حیض چل رہا ہے، ہمارے نزدیک ابھی عدت میں ہے، خاوند کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ تو رجوع کا امکان ہے۔ عورت اب من وجہ طلاق، من وجہ نکاح باقی ہے، تو ابھی جب من وجہ نکاح باقی ہے، تو عورت خاوند سے خلع کر سکتی ہے، خلع لے سکتی ہے۔
خلع کس کو کہتے ہیں؟ کہ کچھ پیسے، کہ تم مجھ سے کچھ، 10 ہزار یا 50 ہزار لے لو اور خلع کر لو بھئی میرے ساتھ، کیا کر لو؟ خاوند کہتا ہے مجھے قبول ہے، بس عورت کو طلاق بائن ہو گئی فوراً، سمجھ میں آیا؟ اب عورت کے ذمہ پیسے واجب ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو اب مولانا، چونکہ نکاح باقی ہے، تو ہمارے نزدیک خلع کر سکتا ہے اور شوافع کے نزدیک نکاح ختم ہو چکا، خلع نہیں، تو یہ وَالْخُلْعِ، یہ بھی اسی حکم کے تحت ہے، حُکْمُ الْحَبْسِ وَحُکْمُ الْخُلْعِ، تو حبس پر عطف ہے۔
وَالطَّلَاقِ، یہ بھی اسی کے تحت ہے، طلاق کا حکم بھی نکالا جائے، بھئی! ہمارے نزدیک ابھی نکاح باقی ہے، خاوند اگلی طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے، ان کے نزدیک اجنبیہ ہو گئی، طلاق نہیں دے سکتا۔
وَتَزَوُّجِ الزَّوْجِ بِأُخْتِهَا
بھئی، وہ نکاح والا کدھر گیا ہے؟ دیکھو! اس کے مسئلے چل رہے ہیں، وہ آ ہی نہیں رہا سب۔
بھئی! ایک آدمی ہے، اس نے ایک عورت کو طلاق دی ہے، آخری حیض چل رہا ہے، طلاق، وہ اس کی بہن کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے، وہ پسند آ گئی اس کو، اب میں اس سے نکاح کروں گا۔
تو مولانا! ہمارے نزدیک اس تیسرے حیض میں نکاح نہیں کر سکتا، کیوں؟ کیونکہ ابھی تو پہلی ہی کیا ہے؟ من وجہ اس کا ابھی نکاح باقی ہے اور دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں ہے، حرام ہے، تو اس لیے نہیں کر سکتا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدت گزر چکی، اب اس کے ساتھ نکاح، یہی بات کر رہے ہیں۔ اس کا عطف بھی حبس پر ہے مولانا، حُکْمُ تَزَوُّجِ الزَّوْجِ بھئی، بھئی! عطف سمجھ آ رہے ہیں یا نہیں آ رہے؟ تَزَوُّجِ الزَّوْجِ بِأُخْتِهَا، اور نکاح کرنا خاوند کا اس کی بہن کے ساتھ، اس کا حکم بھی اسی پر متفرع ہو گا اور نکالا جائے گا، نکالا گیا ہے، اس کا حکم بھی نکالا گیا ہے اسی اختلاف پر بھئی۔
وَأَرْبَعٍ سِوَاهَا
اس کا عطف أُخْتِهَا پر ہو رہا ہے، تَزَوُّجِ الزَّوْجِ بِأَرْبَعٍ سِوَاهَا۔
بھئی! وہ آیا ہی نہیں، یہ دیکھو اس کا مسئلہ پھر آ گیا۔ بھئی! اس نے کیا کیا مولانا؟ ایک بیوی تھی، اس نے اس کو کیا دی؟ طلاق دے دی، آخری حیض چل رہا ہے مولانا، وہ چار عورتوں سے بیک وقت نکاح کرنا چاہتا ہے بھئی، کس سے؟ چار عورتوں سے اب نکاح کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا، کیوں نہیں کر سکتا؟ ابھی تو یہ عدت میں ہے، تو کتنی بن جائیں گی؟ پانچ بن جائیں گی۔
لہذا، اس اور اسی طرح اگر پہلے سے چار تھیں، ایک کو اس نے طلاق دے دی، ابھی اس کی عدت پوری نہیں ہوئی، تو پانچویں سے نکاح نہیں کر سکتا۔
اور خاوند کا نکاح کرنا بِأَرْبَعٍ سِوَاهَا، اس کے علاوہ چار سے، یہ اس، یہ مسئلہ بھی ہمارے نزدیک نہیں کر سکتا، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کر سکتا ہے۔
وَأَحْكَامِ الْمِيرَاثِ، اور اسی سے میراث کے احکام بھی کیا ہوں گے؟ اَحْکَامُ الْمِیْرَاثِ ہونا چاہیے بھئی۔
اَحْکَامُ الْمِیْرَاثِ، فَيُخَرَّجُ عَلَى هَذَا أَحْكَامُ الْمِيرَاثِ، اسی پر نکالے جائیں گے، کس کے احکام مولانا؟ میراث کے بھی احکام نکالے جائیں گے۔ بھئی! دیکھو، خاوند فوت ہو جائے، تو بیوی وارثہ بنتی ہے یا نہیں بنتی؟ وارث، تو ہمارے نزدیک اب آخری حیض میں خاوند کا انتقال ہوا، تو بیوی کیا بنے گی؟ وارث بن جائے گی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وارث نہیں بنے گی۔
اسی طرح یہ بھی یاد رکھو ایک مسئلہ، جس نے وارث بننا ہے، اس کے لیے اپ وصیت نہیں کر سکتے۔ بھئی! ان کا حق تو شریعت نے مقرر کیا ہے کہ بیوی کو چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اب خاوند مرتا ہے، تو اس کو تو آٹھواں ملنا ہی ہے مولانا، یا چوتھا حصہ ملنا ہی ملنا ہے، یا جیسے مولانا بیٹا ہے یا بیٹی ہے، تو باپ کے مرنے پر ان کو بھی کیا ملے گا؟ حصہ تو ملنا ہی ہے، شریعت نے مقرر کیا ہے، کوئی شخص اس کو ختم نہیں کر سکتا، سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا یہ انگریزی قانون غلط ہے کہ بیٹے کو عاق کر دیا، عاق نہیں کر سکتا کوئی شخص شرعاً کسی کو بھی، مرنے کے بعد اس کی جائیداد بیٹوں میں تقسیم ہو گی، اور اور جو وارث ہیں مولانا۔
اور جب ان کا حصہ شریعت نے مقرر کر دیا ہے، تو اپ ساتھ وصیت بھی کرتے ہیں، جب میں مر جاؤں، تو میری فلاں گاڑی میرے اس بیٹے کو دے دینا، میں مر جاؤں، تو یہ فلاں بیوی مجھے بڑی عزیز ہے بھئی، فلاں میری کوٹھی اس کو دے دینا، وصیت بھی کر رہے ہیں، مولانا! وارث کے لیے وصیت نہیں کر سکتے اپ، کیونکہ اس کو تو ملنا ہی ہے اس کا حصہ شریعت نے مقرر کر دیا ہے، تو اب اس کے لیے وصیت کرنا درست نہیں، تو اب مولانا! خاوند نے بیوی کے لیے وصیت کر رکھی تھی کوئی، اب آخری حیض چل رہا تھا کہ خاوند کا انتقال ہو گیا، ہمارے نزدیک کیا ہے؟ وصیت نافذ ہو گی یا نہیں ہو گی نافذ؟ نہیں ہو گی، کیونکہ ابھی وہ اس کی وارث بن رہی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ہو جائے گی اس کی وصیت؟ اب وارث نہیں بن رہی، اجنبیہ بن چکی ہے، اور اجنبی کے لیے تو وصیت کرنا جائز ہے، تو اس کے لیے بھی وصیت کیا ہو جائے گی؟ نافذ ہو جائے گی اور اس کو وہ چیز دے دی جائے گی بھئی۔
سمجھ میں آئی بات سب کو بھئی؟
اور اسی پر نکالا، اسی اختلاف پر نکالے جائیں گے، نکالے جائیں گے أَحْكَامُ الْمِيرَاثِ، میراث کے احکام بھی مَعَ كَثْرَةِ تَعْدَادِهَا، باوجود اپنی کثرت تعداد کے، تَعْدَادِھَا، اَیْ تَعْدَادِ مَسَائِلِھَا، بھئی! میراث کی بڑی سینکڑوں، ہزاروں صورتیں بنتی ہیں، بھئی! ذرا ایک وارث ادھر زیادہ ہوا، اب صورت مسئلہ بدل گئی، فلاں وارث بیچ میں آ گیا، اب صورت مسئلہ بدل گئی مولانا، سمجھ میں آیا؟ بیٹا یا بیٹی آئیں گی، تو بیٹا یا صرف بیوی ہے، بیٹا بیٹی کوئی نہیں، اولاد کوئی نہیں مولانا، تو پھر صورت مسئلہ کچھ اور، وہ ہیں، تو صورت مسئلہ کچھ اور، اس طرح مولانا! وارثوں کے بدلنے سے کیا ہے؟ حصے بدلتے ہیں، بہت سے مسائل، اس کی حکم بہت زیادہ ہیں، لیکن وہ سارے جاری ہوں گے مولانا، باوجود اپنی کثرت تعداد کے، اس میراث کے سارے احکام کیا ہوں گے؟ جاری ہوں گے، جو بھی صورت بنتی ہو گی، اس کے مطابق معاملہ کیا جائے گا بھئی۔
بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
تو کتنے مسئلے نکلے بھئی اس اختلاف پر؟
نو مسئلے ہو گئے مولانا، نو مسئلے۔
سب کو سمجھ میں آ گئے؟ چلیے مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ