Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 19 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 129
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آئیے، پہلے دعا کر لیں۔ نئی کتاب ہے، نئی کتاب، نیا سال۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پڑھیے بھئی، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين، يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين، يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين، يا فتاح يا عليم۔ يا أکرم الأكرمين۔ يا أرحم الراحمين۔ اللهم يسر امورنا ولا تعسرها۔ اللهم اجعل حبك أحب الأشياء إلينا۔ اللهم اجعل حب نبيك صلى الله عليه وسلم أحب الأشياء إلينا۔ اللهم اجعل حب القرآن وحب الإسلام وحب صحابة نبيك صلى الله عليه وسلم۔ اللهم أجب دعاءنا، فإنك على كل شيء قدير وبالإجابة جدير۔ اللهم يسر امورنا ولا تعسرها وتممها بالخير۔ اللهم اجعلنا ممن أحيا سنة نبيك صلى الله عليه وسلم۔ اللهم اغفر ذنوبنا ببركة هذه العلوم۔ اللهم نقنا من الذنوب كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس۔ آمين، آمين ثم آمين۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم اجعلنا من المؤمنين الصالحين الصائمين الصابرين الشاكرين المحسنين المتقين۔ آمين يا رب العالمين۔ يا عزيز يا لطيف۔ يا الله۔ اللهم أعذنا من كل آفة ومن كل حادثة ومن كل معصية ومن كل حزن ومن كل خوف۔ آمين يا رب العالمين۔ اللهم وفقنا لمطالعة هذه الكتب، ويسر لنا فهم هذه الكتب وفهم أسرارها وفهم دقائقها وفهم حقائقها۔ اللهم اغفر ذنوبنا۔ اللهم تقبل أعمالنا ودرسنا ودراستنا۔ اللهم يسر امورنا ولا تعسرها وتممها بالخير۔ ربنا زدنا علما۔ اللهم أجب دعاءنا ولا تجعلنا محرومين۔ آمين يا رب العالمين، آمين ثم آمين۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ جی مولانا، تھوڑی سی کتاب کی عبارت بھی پڑھ لیجیے۔ "الحمد لله الذي أعلى مرتبة المؤمنين بشريف الخطاب، ورفع درجات العالمين بعالي الكتاب، وفضل المتفقهين في الدين بمزية الإفادة والاستفادة، والصلاة على النبي وأصحابه، والسلام على أبي حنيفة وأصحابه۔" ہاں، شاباش، شاباش، جزاک اللہ۔ اچھا مولانا، لکھیے بھئی۔ شریعتِ اسلامیہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کو ایسے اصول و ضوابط مہیا کرتی ہے جن کے مطابق وہ زندگی گزار سکے۔ شریعتِ اسلامیہ کے ان احکام اور اصول و ضوابط کا اصل مأخذ قرآن اور حدیثِ نبوی صلى الله عليه وسلم ہیں۔ مگر قرآن و حدیث میں تمام مسائل کی جزئیات صراحتًا مذکور نہیں، نیز نئے پیش آنے والے مسائل کی تفصیلات بھی مذکور نہیں۔ اللہ تعالی فقہائے کرام پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے قرآن و حدیث سے لاکھوں مسائل کا استخراج کر کے انہیں باقاعدہ ایک علم کی صورت میں مدون فرما دیا۔ یہ علمِ فقہ کہلاتا ہے۔ نیز فقہائے کرام نے مزید احسان فرماتے ہوئے مسائل کے استخراج کے لیے باقاعدہ ایک علم مدون فرمایا۔ یہ علمِ اصولِ فقہ کہلاتا ہے۔ مولانا، جب بھی لکھیں صفحے کے دونوں جانب تھوڑی تھوڑی جگہ چھوڑ کر مولانا لکھا کریں۔ اور پیرے بنایا کریں بھئی۔ مسلسل لکھنا اچھا نہیں لگتا بھئی، کلام کے حصے بن جائیں، ایک جیسی باتیں الگ الگ پیروں میں آ جائیں تو تحریر بھی بڑی خوشنما معلوم ہوتی ہے اور بات بھی آسانی سے سمجھ میں آتی ہے۔ تو مسلسل نہ لکھتے چلے جایا کریں، پیرے بنایا کریں بھئی۔ علمِ اصولِ فقہ کی تعریف: "هو علم بأصول يتوصل بها إلى استنباط الأحكام الشرعية من أدلتها التفصيلية" استنباط بھئی الف، سین، تا، نون، با، الف اور ط کے ساتھ۔ استنباط ط کے ساتھ۔ "إلى استنباط الأحكام الشرعية من أدلتها التفصيلية" ادلہ تفصیلیہ سے مراد ادلہ اربعہ یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس ہیں۔ یعنی علمِ اصولِ فقہ ایسے قواعد و ضوابط کے جاننے کا نام ہے جن کے ذریعے ادلہ اربعہ سے، ادلہ اربعہ سے، احکام شرعیہ، احکام شرعیہ، نکالنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے، نکالنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے، نکالنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، مثال کے طور پر اصول فقہ کا ضابطہ ہے، الامر للوجوب، الامر للوجوب۔ یعنی امر وجوب اور فرضیت کے لیے آتا ہے، یعنی امر وجوب اور فرضیت کے لیے آتا ہے۔ اب قرآن میں آیا ہے: "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ"، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ"۔ تو یہاں أَقِيمُوا اور آتُوا صیغہ امر ہیں۔ تو یہاں أَقِيمُوا اور آتُوا صیغہ امر ہیں۔ اور امر کس لیے آتا ہے بھئی؟ وجوب اور فرضیت کے لیے آتا ہے۔ معلوم ہوا نماز اور زکوٰۃ فرض ہیں، معلوم ہوا نماز اور زکوٰۃ فرض ہیں، یہ اس ضابطے سے معلوم ہوا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ الامر للوجوب بھئی، امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، اس سے کیا ثابت ہوتی ہے؟ فرضیت کسی چیز کی۔ تو یہاں بھی کیا آیا؟ أَقِيمُوا، أَقِيمُوا کون سا صیغہ ہے مولانا؟ امر کا۔ اور اسی طرح آتُوا، یہ بھی کیا ہے؟ امر ہے۔ اور امر آتا ہے وجوب کے لیے، معلوم ہوا أَقِيمُوا الصَّلَاةَ نماز کیا ہے؟ فرض ہے، نماز قائم کرنا۔ اور زکوٰۃ دینا بھی؟ فرض ہے۔ اصولِ فقہ کا موضوع، علمِ اصولِ فقہ کا موضوع۔ علمِ اصولِ فقہ کا موضوع ادلہ اربعہ ہیں، علمِ اصولِ فقہ کا موضوع، علمِ اصولِ فقہ کا موضوع ادلہ اربعہ ہیں۔ غرض و غایت، غرض و غایت یعنی اس علم کا مقصد کیا ہے؟ مقصد۔ تحصيل القدرة، تحصيل القدرة، على، استنباط الأحكام الشرعية، استنباط الأحكام الشرعية، عن أدلتها، من أدلتها التفصيلية۔ یعنی ادلہ شرعیہ سے، یعنی ادلہ شرعیہ سے، یعنی ادلہ شرعیہ جو ادلہ اربعہ ہیں، تو ادلہ اربعہ سے احکام شرعیہ سے احکام شرعیہ نکالنے پر قدرت حاصل کرنا، نکالنے پر قدرت حاصل کرنا۔ جی سب کو سمجھ میں آئی بھئی باتیں؟ مشکل تو نہیں ہیں؟ سب آسان باتیں ہیں بھئی انشاء اللہ۔ چلیے جی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 1 of 123
Current dars-001
Next ▶ Last ⏭