ومثال العلة المعلومة بالسنة في قوله عليه الصلاة والسلام: ليس الوضوء على من نام قائماً أو قاعداً أو راكعاً أو ساجداً، إنما الوضوء على من نام مضطجعاً، فإنه إذا نام مضطجعاً استرخت مفاصله. استرخت مفاصله.
اب اس علت کی مثال ذکر کر رہے ہیں جو سنت سے، یعنی حدیث سے معلوم ہوئی ہے بھائی। تو کہتے ہیں: ومثال العلة المعلومة بالسنة، اور مثال اس علت کی جو معلوم ہوئی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے، في قوله عليه الصلاة والسلام، حضور علیہ السلام کے اس قول میں ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ليس الوضوء على من نام قائماً أو قاعداً أو راكعاً أو ساجداً، نہیں ہے وضو اس شخص پر جو سو گیا کھڑے ہوئے، أو قاعداً یا بیٹھے ہوئے، أو راكعاً یا رکوع میں رکوع کرتے ہوئے، أو ساجداً یا سجدہ کرتے ہوئے. جو شخص کھڑے ہونے کی حالت میں یا بیٹھنے کی حالت میں یا رکوع کی حالت میں یا سجدے کی حالت میں سو گیا اس پر وضو نہیں، یعنی اس کا وضو نہیں ٹوٹتا تو اس پر وضو واجب نہیں۔ إنما الوضوء على من نام مضطجعاً، وضو تو اس شخص پر ہے جو پہلو پر سو جائے، من نام مضطجعاً، جو کیا ہے؟ جو سو جائے پہلو پر، کروٹ پر سو جائے۔ فإنه إذا نام مضطجعاً، اس لیے کہ جب وہ پہلو پر سویا، استرخت مفاصله، تو ڈھیلے پڑ گئے، مفاصله، اس کے جوڑ بھائی। مفاصل اس کے جوڑ بھئی، جوڑوں کو کہتے ہیں۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ کہ جو شخص کھڑے کھڑے یا بیٹھے بیٹھے یا رکوع کی حالت میں یا سجدے کی حالت میں سو جائے اس پر وضو نہیں، یعنی اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، وضو تو اس شخص کا ٹوٹتا ہے جو پہلو کے بل سو جائے، اس لیے کہ جب وہ پہلو کے بل سویا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے۔ اس کے جوڑ کیا ہوئے؟ ڈھیلے پڑ گئے۔
فجعل، فجعل استرخاء المفاصل علة، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استرخائے مفاصل کو علت قرار دیا، علت بنایا وضو کے ٹوٹنے کی، وضو کے ٹوٹنے کی علت کسے بنایا؟ استرخائے مفاصل کو بنایا۔ کہ ہر وہ نیند تو تو ہر وہ نیند جس کے اندر استرخائے مفاصل پایا جائے گا اس صورت اس میں کیا حکم لگایا جائے گا؟ وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔
وجہ یہ مولانا کہ استرخائے مفاصل، جب انسان سو جاتا ہے ایسی نیند جس میں استرخائے مفاصل پایا جائے، انسان کے اعضا وغیرہ ڈھیلے پڑ جائیں تو اس صورت میں خروجِ نجاست ہونے کا احتمال ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ خروجِ نجاست کا احتمال ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ تو لہذا، ہر وہ نیند جس میں استرخائے مفاصل پایا جائے اس پر کیا حکم لگایا جائے گا؟ اس میں وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔
تو حضور علیہ السلام نے استرخائے مفاصل کو علت بنایا، فيتعدى الحكم بهذه العلة إلى النوم مستنداً أو متكئاً إلى شيء لو أزيل عنه لسقط، پس حکم کو متعدی کیا جائے گا اسی علت کی بنا پر إلى النوم، اس نیند کی طرف جو کس حال میں ہو؟ مستنداً، أو متكئاً إلى شيء لو أزيل عنه لسقط. بھئی ایک ہے استناد، ایک ہے اتکاء۔
استناد میں بھی کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگایا جائے اور اتکاء میں بھی کیا ہے؟ کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگایا جائے بھائی। لیکن فرق ہے دونوں میں، استناد میں ٹیک لگانا اس طریقے پر ہو کہ کمر لگے اس ٹیک والی چیز کے ساتھ، کیا لگے؟ سیدھی یعنی انسان ٹیک لگائے بھئی، ٹیک لگائے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کمر کے ساتھ۔ اور اتکاء میں بھی ٹیک لگائے گا لیکن اس میں ٹیک لگائے گا پہلو پر، سیدھی کمر کے ساتھ ٹیک نہیں لگا رہا بلکہ ایک پہلو کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی ہے کسی چیز کے ساتھ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سیدھا میں بیٹھا ہوں اس وقت، میں نے ٹیک لگائی ہوئی ہے، یہ کون سی صورت ہے؟ استناد، اور اگر ذرا پہلو پر ٹیک لگا لوں تو یہی کیا کہلائے گا؟ اتکاء کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ جی۔
تو اسی علت کی بنا پر وہ نیند جس میں وہ استناد کی حالت میں ہو یا اتکاء کی حالت میں ہو اس پر بھی فقہاء نے کیا حکم لگایا کہ اس میں بھی استرخائے مفاصل پایا جاتا ہے، اس لیے اس قسم کی نیند پر بھی کیا ہوگا اس میں؟ وضو ٹوٹ جائے گا، وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ جب انسان کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر سوئے گا، کمر کے ساتھ یا پہلو کے بل، تو اس صورت میں چونکہ سارا وزن اور بوجھ پڑ جاتا ہے اس چیز پر تو اعضا کیا ہیں؟ جوڑ اور اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، جبکہ قیام، رکوع، قیام کی صورت میں، قعود کی صورت میں، رکوع کی صورت میں جب انسان سوتا ہے تو کسی چیز پر ٹیک نہیں تو بوجھ کس پر ہے؟ اعضا پر ہی ہے، تو اعضا ڈھیلے نہیں پڑیں گے بھئی۔
تو لہذا فقہاء نے حکم کو متعدی کیا بھئی، تو حکم پس متعدی ہوا اسی علت کی بنا پر إلى النوم مستنداً أو متكئاً إلى شيء، اس نیند کی طرف جو کس حالت میں ہو؟ استناد کی حالت میں ہو، یعنی کمر کے ساتھ ٹیک لگانے کی صورت میں ہو، أو متكئاً یا پہلو کے ساتھ ٹیک لگانے کی حالت میں ہو، إلى شيء یہ استناد اور اتکاء کیا ہے؟ ٹیک کس کے ساتھ لگائی گئی ہے؟ إلى شيء کسی چیز کے ساتھ جب ٹیک لگائی گئی ہو، اس طور لو أزيل عنه کہ اگر اس کو ہٹا دیا جائے، لسقط تو وہ سونے والا کیا ہے؟ گر جائے، سمجھ میں آیا؟ اس طور پر سوئے ٹیک لگائے ہوئے کہ اگر اس چیز کو ہٹائیں تو وہ گر جائے، تو پھر بھئی اب معلوم ہوا کہ یہ ایسی نیند ہے جس میں کیا ہے؟ استرخائے مفاصل پایا جا رہا ہے کہ اس نے ٹیک لگایا ہوا ہے اور سو گیا ہے، اتنی گہری نیند ہو گئی ہے کہ اگر اب ہم اس چیز کو ہٹا دیں تو وہ کیا ہے؟ گر جائے گا، معلوم ہوا سارا بوجھ اب کس پر ہے؟ ان چیزوں پر ہے تو اور جسم کے اعضا کیا ہیں؟ ڈھیلے پڑ چکے ہیں، استرخائے مفاصل والی علت پائی گئی اور جہاں استرخائے مفاصل والی علت پائی جائے وہاں کیا طہارت کے زائل ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔
وكذلك يتعدى الحكم بهذه العلة إلى الإغماء والسكري، اور اسی طرح حکم متعدی ہوگا اسی علت کی وجہ سے إلى الإغماء بے ہوشی کی طرف، والسكري اور نشے کی طرف بھئی، مدہوشی ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر کسی پر اغماء بے ہوشی آ جائے یا وہ نشے میں مدہوش ہو جائے تو اب اس کی حالت تو سونے والے سے بھی بڑھ کر ہے، سونے والا تو غافل ہے لیکن اس کو اگر جگائیں گے تو فوراً جاگ جائے گا، لیکن اس ان میں غفلت اس سے بھی زیادہ ہے کہ جگانے سے بھی تنبیہ کرنے سے بھی ان کی غفلت دور جب تک اس اغماء اور سکر ہے وہ ٹھیک نہیں ہوتے، تو ان جب اس میں استرخائے مفاصل والی علت ہے تو ان میں تو کیا ہوگی؟ جب ان میں غفلت ان سے بڑھ کر ہے تو ان میں تو بطریقِ اولیٰ کیا ہوگی؟ استرخائے مفاصل والی علت پائی جائے گی، تو ان کے لیے بھی یہی حکم کیا ہو جائے گا؟ ثابت ٹوٹ جائے گا، لہذا اگر کسی شخص پر کیا ہوا؟ کوئی شخص بے ہوش ہوا یا مدہوش ہوا تو اس پر بھی کیا حکم لگایا جائے گا؟ وضو کے زائل ہونے کا، طہارت زائل ہو گئی۔
تو دیکھا یہ اس علت کی مثال تھی جو کس سے معلوم ہوئی ہے؟ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ وكذلك، اسی طرح دوسری مثال اب ذکر کر رہے ہیں، وكذلك قوله عليه السلام، اور اسی طرح حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا قول ہے: توضئي وصلي وإن قطرت الدم على الحصير قطراً، فإنما هو دم عرق انفجر.
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ ایک صحابیہ عورت تھیں اور ان کو استحاضہ کی بیماری تھی بھئی، کیا تھی؟ استحاضہ۔ استحاضہ تو جانتے ہیں اپ بھئی، حیض تو ہے عورت کو مہینے میں چند مقررہ دن خون آتا ہے، جبکہ استحاضہ میں کوئی رگ وغیرہ کٹ جاتی ہے تو وہ خون مسلسل جاری رہتا ہے، مسلسل ہر وقت جاری رہتا ہے، اس کو استحاضہ کہتے ہیں بھئی۔ استحاضہ کا حکم یہ ہے کہ چونکہ اس کے یہ جو ہے ہر نماز کے لیے کیا کرے گی؟ وضو کرے گی، کیا کرے گی؟ وضو کرے گی، ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے گی اور پھر اس سے کیا کرے گی؟ اس نماز کو ادا کرے گی۔
تو یہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بتلایا اپنے بارے میں کہ مجھے کیا ہے؟ استحاضہ ہے، ہر وقت خون بہتا رہتا ہے، میں کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ تو غسل کر لے اور پھر فرمایا: توضئي وصلي، تو کیا کر لیا کر؟ وضو کر لیا کر، وصلي اور نماز پڑھ لیا کر، وإن قطرت الدم اگرچہ خون ٹپکے، على الحصير خون ٹپک رہا ہو کس پر؟ على الحصير چٹائی پر، قطراً ٹپکنا، فإنما هو دم عرق اس لیے کہ یہ رگ کا خون ہے، ایسی رگ انفجر جو بہہ پڑی ہے۔ جو اس لیے کہ یہ ایسی رگ کا خون ہے جو بہہ پڑی ہے بھئی۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضور نے فرمایا: تو وضو کر لیا کر اور نماز پڑھ لیا کر، اگرچہ خون ٹپک رہا ہو چٹائی پر، اس لیے کہ یہ ایسی رگ کا خون ہے جو بہہ پڑی ہے۔
تو یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفجارِ دم کو علت قرار دیا وضو ٹوٹنے کی، کس چیز کی علت قرار دیا؟ وضو ٹوٹنے کی علت قرار دیا، یعنی خون کے بہنے کو، خون کے بہنے کو وضو کے ٹوٹنے کی علت قرار دیا، تو جہاں بھی انفجارِ دم یعنی خون کا بہنا پایا جائے گا وہاں ہم کیا لگا دیں گے؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگا دیں گے۔ یہاں بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو: جعلاً انفجار الدم علة، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفجارِ دم کو علت بنایا، فتعدى الحكم بهذه العلة إلى الفصد والحجامة، پس متعدی ہوگا حکم اسی علت کی بنا پر إلى الفصد والحجامة فصد اور حجامت کی طرف، فصد اور...
بھئی فصد کہتے ہیں یہ پرانے قدیم زمانے میں طریقہ علاج تھا بھئی، جسم میں مخصوص حصے پر رگ کو کاٹ کر خون نکالا جاتا تھا بھئی، کیا فاسد خون کو بھئی، جسم سے کیا کر دیا جاتا تھا؟ نکال دیا جاتا تھا جس سے وہ مرض کیا ہوتا تھا؟ ختم، وہ بیماری وغیرہ کوئی ہوتی وہ ختم ہو جاتی، رگ کاٹ کر کیا کیا جاتا تھا؟ خون نکالا جاتا تھا بھئی، اج کل تو یہ طریقہ علاج ختم ہو چکا بھئی۔
ہاں ہندوستان میں سنا ہے بھئی ابھی بھی کوئی شخص اس کا ماہر موجود ہے بھئی، غالباً دہلی وغیرہ یا کس شہر میں ہے، وہاں کہیں جامع مسجد کے پاس وہ اس طریقے سے رگ کاٹتا ہے پاؤں میں ایڑی کے قریب بھئی، پاؤں میں کوئی رگ وغیرہ کاٹتا ہے اور خون بدن سے نکل آتا ہے کافی سارا اور وہ مریض کیا ہو جاتا ہے؟ صحتیاب ہو جاتا ہے اور سنا ہے بڑے سینکڑوں لوگ اس کے پاس جاتے ہیں اور بڑی شفاء حاصل ہوتی ہے لوگوں کو، کوئی مسلمان ہے ابھی بھی وہاں پر وہ علاج کرتا ہے اس طرح۔
تو یہ جو رگ کاٹ کر خون نکالا جاتا ہے اور علاج کیا جاتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصد، کیا کہتے ہیں؟ فصد۔ اور حجامت بھئی حجامت، بكسر الحاء، ح کے نیچے کسرہ ہے، حجامت جو ہے یہ ہے پچھنے لگوانا یا سینگی لگوانا بھئی، سینگی لگوانا۔ اس میں بھی زائد خون بدن سے نکالا جاتا ہے لیکن اس میں کوئی سینگ کی طرح یا سینگ کوئی آلہ ہوتا تھا، یہ بدن پر میں لگا کر بدن پر چبھو کر منہ کے ذریعے کھینچ کر کیا کرتا تھا؟ وہ علاج کرنے والا خون نکالتا تھا بدن سے دوسرے کے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کھینچ کر بدن سے خون، فصد میں تو رگ کاٹتے تھے بس سیدھا خون خود ہی نکل آتا، اس میں وہ خود کھینچ کھینچ کر منہ سے کیا کرتا تھا؟ خون نکالتا تھا اور اس سے بھی بیماری ختم ہو جاتی تھی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پچھنے لگوائے بھئی اور یہ بڑا مفید طریقہ علاج تھا بھئی، حدیث میں آتا ہے فرشتے بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر عرض کرتے تھے کہ اپنی امت کو بھی اس کا حکم دیں بھئی، اپنی امت کو بھی یعنی اتنا مفید ہے یہ بھئی، یا جیسے اج کل یوں دیکھ لیں مولانا خون دیتے ہیں بھئی، خون کیا کرتے ہیں؟ خون دیتے ہیں تو معلوم ہوا یہ بھی اسی کی طرح ہے، بدن سے کیا ہو جائے گا؟ خون نکل جائے گا، خون نکل جائے گا۔
تو اب دیکھیے فصد اور حجامت کے اندر بھی انفجارِ دم والا وصف پایا گیا، اس میں بھی کیا ہے؟ خون کا بہنا پایا گیا بھئی، فصد کے اندر بھی اور حجامت کے اندر بھی، لہذا ان پر بھی وہی حکم لگایا جائے گا کہ ان کی وجہ سے اب کیا ہوا ہے؟ وضو ٹوٹ گیا ہے۔ تو کہتے ہیں دیکھا بھئی: جعلاً انفجار الدم علة، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفجارِ دم کو علت قرار دیا، فتعدى الحكم بهذه العلة، پس حکم متعدی ہو جائے گا اسی علت کی وجہ سے، إلى الفصد والحجامة، فصد اور حجامت کی طرف بھی۔
اشکال پیدا ہوا، اعتراض مولانا کہ آپ نے کہاں سے حدیث میں کہاں حضور نے فرمایا کہ خون کے بہنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا ہے؟ حدیث میں کوئی آیا؟ حضور حدیث میں تو یہ آیا: تم وضو کر لیا کر، نماز پڑھ لیا کر اگرچہ خون کیا ہے؟ چٹائی پر ٹپک رہا ہو اس لیے کہ یہ ایسی رگ کا خون ہے جو بہہ پڑی ہے، تو حدیث میں تو کوئی نہیں آیا کہ انفجارِ دم کیا ہے؟ علت ہے کس چیز کی؟ وضو ٹوٹنے کی۔ جواب یہ مولانا کہ حدیث میں حضور فرما نہیں رہے توضئي، تو کیا کر لیا کر؟ وضو کر لیا کر۔ معلوم ہوا کہ انفجارِ دم کی وجہ سے کیا ہو چکی ہے؟ طہارت زائل ہو چکی ہے، اسی لیے تو حضور کیا فرما رہے ہیں؟ توضئي، تو کیا کر لیا کر؟ وضو۔ اگر وضو نہ ٹوٹتا انفجارِ دم کی وجہ سے تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کا حکم دیتے؟ وضو کرنے کا حکم ہی نہ دیتے۔ تو یہ توضئي سے پتہ چلا کہ انفجارِ دم سے کیا ہو چکا ہے؟ وضو ٹوٹ چکا ہے۔
ومثال العلة المعلومة بالإجماع۔ بھئی اب اس علت کی مثال ذکر کریں گے جو کس سے معلوم ہوئی ہے؟ اجماع سے۔ تو کہتے ہیں مثال اس علت کی جو معلوم ہوئی ہے اجماع سے فيما، اس صورت میں مسئلے میں ہے، فيما قلنا، ہمارے اس قول کے اندر ہے، کس میں ہے؟ جی، ما مصدریہ بنا لیں، ہمارے اس قول کے اندر ہے۔ کیا ہمارا قول کیا ہے؟ الصغر علة لولاية الأب في حق الصغير، فيثبت الحكم في حق الصغيرة لوجود العلة، لوجود العلة۔
یاد رکھو مولانا صغیر پر باپ کو ولایت حاصل ہے۔ صغیر پر باپ کو کیا حاصل ہے؟ ولایت حاصل ہے، اس لیے کہ وہ صغیر ہے، چھوٹا ہے، اس کو اپنی مصلحت کے امور کا پتہ نہیں۔ اپنی مصلحت کے امور کا پتہ نہیں، تو شریعت نے باپ کو ولایت دی تاکہ یہ کیا کرے اس کی مصلحت سے متعلقہ امور کو سر انجام دے سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ تو عاجز ہے بھئی اپنی مصلحت کے امور کو سر انجام دینے سے، تو شریعت نے کس کو ولایت دے دی؟ باپ کو ولایت دی، اور اس باپ کو ولایت دینے کی علت کیا ہے؟ صغر ہے، اس کا چھوٹا ہونا ہے۔ کیا ہے اس کی علت؟ صغر اس کا چھوٹا ہونا ہے۔ وبالإجماع یہ صغر علت ہے صغیر پر باپ کی ولایت کے لیے۔ صغیر پر باپ کی ولایت کے لیے بالاجماع کیا علت ہے؟ صغر ہے۔ تو اجماع سے صغر علت معلوم ہوئی ولایتِ اب کے لیے۔
تو اب یہ علت جہاں پائی جائے گی وہاں پر حکم بھی اس کا آ جائے گا۔ حکم کیا علت کیا ذکر ہوئی؟ صغر، اور حکم اس پر کیا مرتب ہوا؟ ولایتِ اب۔ تو جہاں بھی صغر پایا جائے گا وہاں کیا آ جائے گا حکم بھی، یعنی ولایتِ اب۔ یہی علت ہمیں صغیرہ میں بھی ملی۔ صغیرہ، بھئی چھوٹی بچی کے اندر بھی ہمیں یہ علت ملی، تو اس میں جب صغر حکم پایا علت پائی گئی تو حکم بھی آ گیا۔ کیا حکم آئے گا؟ ولایتِ اب کا، باپ کو اس پر کیا حاصل ہوگی؟ ولایت حاصل ہوگی۔ تو اس صغیر کے اندر باپ کو ولایت حاصل ہے، کس علت کی بنا پر؟ صغر، اور یہ صغر کے علت ہونے کا پتہ ہمیں کس سے چلا؟ اجماع سے، کس سے؟ کہ تمام علماء نے اس پر کیا کیا ہے؟ اجماع کیا ہے۔ تو اب یہ علت جہاں پائی جائے گی وہاں پر ولایتِ اب کا حکم بھی۔ تو صغیرہ میں بھی یہی علت صغر والی پائی گئی تو اس پر بھی باپ کو کیا حاصل ہوگی؟ ولایت حاصل ہوگی۔
کہتے ہیں: ہمارے اس قول میں ہے کہ الصغر علة لولاية الأب، کہ چھوٹا ہونا جو ہے یہ علت ہے باپ کی ولایت کی في حق الصغير، کس کے حق میں؟ صغیر کے حق میں۔ تو یہ جو صغر کا علت ہونا ہے یہ ہونے کا پتہ کس سے چلا ہے؟ اجماع سے۔ فيثبت الحكم في حق الصغيرة، تو یہی حکم یعنی ولایتِ اب والا یہ ثابت ہو جائے گا في حق الصغيرة، صغیرہ کے حق میں بھی لوجود العلة، اس علت کی بنا پر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہمارے نزدیک صغیر پر بھی علتِ باپ کی ولایت کی کیا علت ہے؟ صغر، اور صغیرہ میں بھی باپ کو ولایت حاصل ہے اس کی کیا علت ہے؟ اس میں بھی صغر ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صغیرہ کے اندر باپ کو ولایت حاصل ہے لیکن اس کی علت صغر نہیں ہے بلکہ بکارۃ ہے۔ کیا علت ہے؟ یعنی اس کا باکرہ ہونا، باکرہ ہونے کی وجہ سے صغیرہ پر کیا ہے باپ کو ولایت حاصل ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک صغر کی وجہ سے ہے۔ تو صغیر میں باپ کو ولایت حاصل ہے اور وہاں بالاجماع کیا ہے؟ باپ کو ولایت حاصل ہے کس کی وجہ سے؟ صغر کی وجہ سے، تو صغیرہ میں بھی تو یہی علت ہے جو اجماع سے ہمیں معلوم ہو چکی، لہذا یہاں پر بھی معلوم ہوا ولایتِ اب کی علت کیا ہے؟ صغر ہی ہے۔
والبلوغ عن عقل علة لزوال... جی، یہاں سے اب یہ بتلا رہے ہیں بھئی۔ بھئی صغیر پر باپ کو ولایت حاصل ہے کس وجہ سے؟ صغر کی وجہ سے، تو جب یہ صغر کی علت ختم ہوگی باپ کی ولایت بھی کیا ہو جائے گی؟ یعنی جب بچہ بالغ ہوگا عقل کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ یعنی عقل مند بھی ہو بھئی، پاگل نہ ہو بھئی پاگل۔ تو عقل کے ساتھ جب بھی بالغ ہوگا تو صغر گیا، جب صغر گیا تو اب کیا ہوا؟ علت ختم ہوئی تو حکم بھی ختم ہوا، اب باپ کو اس پر ولایت حاصل نہیں، لہذا جب بچہ بالغ ہو جائے گا تو اب باپ کی ولایت اس سے ختم ہو گئی۔ تو بالغ ہونا عقل کے ساتھ، بالغ ہونا عقل کے ساتھ بالغ ہونا یہ علت ہے زوالِ ولایتِ اب کی۔ کیا؟ عقل کے ساتھ بالغ ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ زوالِ ولایتِ اب کی، باپ کی ولایت کیا ہو جائے گی؟ زائل ہو جائے گی، جی۔ اور یہی علت ہمیں کس کے اندر ملی؟ صغیرہ میں، جب وہ بھی بالغ ہوگی کس کے ساتھ؟ عقل کے ساتھ۔ بھئی عقل کے ساتھ بالغ ہونا یہ علت ہے، جب عقل کے ساتھ بچہ کیا ہو جائے گا بالغ ہو جائے گا تو اس پر کیا حکم لگائیں گے؟ زوالِ ولایتِ اب کا حکم لگائیں گے، تو صغیرہ بھی جب بالغة ہو جائے گی عقل کے ساتھ تو اس پر بھی کیا حکم لگایا جائے گا؟ زوالِ ولایتِ اب کا۔ تو بھئی معلوم ہوا جب لڑکی بھی بالغ ہو گئی تو باپ کو اب اس پر ولایت حاصل نہیں ہے، ولایت حاصل نہیں ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صغیرہ کے اندر تو علت کیا صغر تھی نہیں بلکہ کیا تھی؟ بکارۃ تھی، تو بالغة بھی ہو گئی لیکن بکارۃ تو اب بھی موجود ہے، لہذا باپ کو ابھی بھی کیا ہے اس پر ولایت حاصل ہے۔ والبلوغ عن عقل، عن بمعنے مع کے ہے بھئی، عن کس معنی میں ہے؟ مع کے۔ یہ ساتھ لکھ لو مولانا ورنہ بڑا اشکال ترجمہ مشکل ہو جاتا ہے بھئی۔ البلوغ عن عقل، أي البلوغ مع عقل، اور بالغ ہونا عقل کے ساتھ علة یہ علت ہے لزوال ولاية الأب، باپ کی ولایت کے زائل ہونے کی في حق الغلام، لڑکے کے حق میں، فيتعدى الحكم، غلام لڑکے کو بھی کہتے ہیں بھئی، لڑکے کے حق میں، فيتعدى الحكم إلى الجارية، پس حکم متعدی ہوگا إلى الجارية، لڑکی کی طرف بهاءذه العلة، اسی علت کی وجہ سے۔ جاریہ جیسے باندی کو کہتے ہیں، لڑکی کو بھی کہتے ہیں بھئی۔
وانفجار الدم علة علة علة لانتفاض الطهارة في حق المستحاضة فيتعدى الحكم إلى غيرها لوجود العلة۔ اسی طرح انفجارِ دم، خون کا بہنا علة لانتفاض الطهارة، یہ طہارت کے ٹوٹنے کی علت ہے في حق المستحاضة، کس کے حق میں؟ مستحاضہ کے حق میں، فيتعدى الحكم إلى غيرها، تو حکم متعدی ہوگا اس مستحاضہ کے علاوہ کو بھی لوجود العلة، کس وجہ سے؟ علت کی وجہ سے، کہیں اور بھی جب انفجارِ دم کی علت پائی جائے گی تو انتقاضِ طہارت کا حکم بھی پایا جائے گا، جیسے کس کے اندر ہے؟ فصد کے اندر اور حجامت کے اندر ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟
تو یہ جو تین مثالیں ذکر کیں مصنف نے بھئی۔ ایک کیا؟ کہ صغیر کے اندر باپ کو ولایت حاصل ہے، اس کی علت کیا ہے؟ صغر ہے، تو یہ صغر کا علت ہونا یہ ہمیں کہاں سے پتہ چلا؟ اجماع سے۔ اسی طرح عقل کے ساتھ بالغ ہونا یہ علت ہے زوالِ ولایتِ اب کی، یہ بھی ہمیں کہاں سے پتہ چلا؟ اجماع سے۔ اسی طرح انفجارِ دم سے طہارت زائل ہو جائے گی، یہ بھی ہمیں کہاں سے پتہ چلا؟ اجماع سے۔
صورت سمجھ میں آئی؟ اس پر اشکال ہوا، اعتراض مولانا کہ انفجارِ دم سے وضو ٹوٹ جائے گا اس کا پتہ تو ہمیں حدیث سے چلا۔ کس سے چلا؟ حدیث سے چلا ہے تو آپ نے اس کو اجماع کی مثال میں ذکر کر دیا۔ جواب یہ مولانا کہ جیسے اس کا علت ہونے کا پتہ حدیث سے چلا ویسے ہی اجماع سے بھی چلا۔ اس پر پھر کیا ہوا؟ اجماع بھی ہے، تو جیسے حدیث سے پتہ چل رہا ہے اسی طرح اس کا اجماع سے بھی پتہ چل رہا ہے۔ چلیے مولانا، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔