Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-051

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 90
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں مولانا آپ نے امر کے بارے میں پڑھا۔ امر کی لغوی تعریف بھی پڑھ لی، اصطلاحی تعریف بھی پڑھ لی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا کہ امر 16 معانی کے لیے آیا کرتا ہے۔ اور امر جب مطلق ہو، یعنی اس کے ساتھ کوئی قرینہ نہ ہو لزوم یا عدم لزوم کا، تو اس صورت میں وہ کس کے لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا ہمارے نزدیک بھئی۔ آج بحث ہوگی کہ امر تکرار کا تقاضا کرتا ہے یا تکرار کا تقاضا نہیں کرتا بھئی؟ تکرار کا تقاضا کرتا ہے یا... مثلاً آپ کسی شخص کو ایک کام کا حکم کرتے ہیں، امر دیتے ہیں، تو کیا ایک مرتبہ وہ کام کو کر لے تو پھر دوبارہ امر اس سے وہی امر اس سے دوبارہ اس کام کے کرنے کا تقاضا کرتا ہے یا تقاضا نہیں کرتا؟ دوبارہ اس کے لیے وہ فعل کرنا لازم ہوگا یا لازم نہیں ہوگا؟ ایک ہی مرتبہ سے مامور بہ ادا ہو جائے گا یا نہیں ہوگا بھئی؟ تو یاد رکھو، ہمارے نزدیک امر کسی فعل کا امر نہ تکرار کا تقاضا کرتا ہے اور نہ ہی تکرار کا احتمال رکھتا ہے۔ ہمارے نزدیک امر کسی فعل کا امر نہ تو تکرار کا تقاضا کرتا ہے اور نہ تکرار کا احتمال رکھتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک امر تکرار کا تقاضا تو نہیں کرتا لیکن تکرار کا احتمال رکھتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں بھئی؟ کہ امر تکرار کا تقاضا تو نہیں کرتا لیکن تکرار کا احتمال رکھتا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک نہ امر تکرار کا تقاضا کرتا ہے اور نہ تکرار کا احتمال رکھتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تکرار کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک شخص کو کسی فعل کے بارے میں آپ نے حکم دیا، تو کیا اس کے لیے دوبارہ وہ فعل کرنا لازم ہوتا ہے یا ایک ہی مرتبہ کرنا کافی ہے بھئی؟ تو میں نے بتایا ہمارے نزدیک ایک ہی مرتبہ کرے، ایک ہی مرتبہ اس سے اس کام کے سرانجام دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ بار بار اس فعل کے سرانجام دینے کا تقاضا نہیں کرتا۔ ایک مرتبہ کرنا لازم ہے، دوسری مرتبہ دوسری مرتبہ وہ اس پر لازم نہیں ہے، بس ہو گیا ادا بھئی۔ دیکھیے بھئی، آسان باب ہے آج بھئی۔ فصلٌ۔ الأمر بالفعل لا يقتضي التكرار۔ کسی فعل کا امر وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا ہمارے نزدیک بھئی، اور نہ ہی اس کا احتمال رکھتا ہے۔ ولهذا قلنا... اسی بنا پر ہم کہتے ہیں، دیکھو مثالوں سے بات آپ کو اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی۔ ولهذا قلنا... اسی بنا پر ہم نے کہا ہے: لو قال... اگر کہا ایک شخص نے دوسرے سے: طلق امرأتي... طلاق دے دے تو میری بیوی کو، یعنی وکیل بنا دیا اس کو بھئی طلاق دینے کا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فطلقها الوكيل... پھر طلاق دے دی اس عورت کی بیوی کو وکیل نے، ثم تزوجها الموكل... پھر وکیل نے اس پھر موکل نے اس سے دوبارہ نکاح کر لیا۔ ایک طلاق کا اس سے کہا تھا، اس نے ایک طلاق اس کی طرف سے دے... تو دیکھو امر دیا: طلق امرأتي، طلق امرأتي، میری بیوی کو کیا کر؟ طلاق دے۔ تو اب ایک مرتبہ طلاق دے دی، بس اب یہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ اب اس نے دوبارہ اسی عورت سے نکاح کر لیا بھئی۔ نکاح کرنے کے بعد اب پھر وکیل کیا کرتا ہے کہ وہ دوبارہ اس کی بیوی کو طلاق دے دے اسی پہلے امر کی وجہ سے؟ ایسا وہ نہیں کر سکتا، کیونکہ امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ ایک مرتبہ اس پر فعل کا کرنا تھا، وہ اس کا سرانجام دے چکا ہے بھئی۔ فطلقها الوكيل... پس اس کی بیوی کو طلاق دے دی وکیل نے، ثم تزوجها الموكل... پھر اس سے نکاح کر لیا موکل نے، ليس للوكيل أن يطلقها بالأمر الأول ثانياً... تو وکیل کے لیے کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس کو طلاق دے دے امر اول کے سبب سے دوسری مرتبہ۔ دوسری مرتبہ اسی امر اول کی وجہ سے وہ اس کو طلاق نہیں دے سکتا۔ یا اسی طرح ایک شخص نے دوسرے سے کہا: زوجني امرأةً... میرا نکاح کروا دو کسی عورت سے بھئی۔ اس نے ایک نکاح کروا دیا بھئی۔ اب بعد میں بھئی دو چار دن گزرے، پتہ چلا ایک اور سے بھی نکاح کروا دیا ہے۔ پھر پتہ چلا ایک اور سے بھی نکاح کرواتا چلا جا رہا ہے بھئی۔ نہیں بھئی! ایک مرتبہ کروا سکتا ہے، دوبارہ نہیں کروا سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ ولو قال: زوجني امرأةً... کہ نکاح کروا دے میرا کسی عورت سے، لا يتناول هذا... تو یہ شامل نہیں ہے یہ قول، تزويجاً مرةً بعد أخرى... کس کو نہیں شامل؟ نکاح کروانے کو ایک مرتبہ کے بعد دوبارہ بھئی۔ ایک مرتبہ کے بعد دوبارہ نکاح کروانے کو شامل نہیں، لہٰذا وہ دوبارہ اس کا نکاح اسی امر کی وجہ سے نہیں کروا سکتا کسی... ولو قال لعبده: تزوج... اسی طرح ایک شخص تھا اس نے اپنے غلام سے کہا: نکاح... تزوج! کیا کر لے؟ نکاح کر لے، شادی کر لے۔ اس نے ایک شادی کر لی، بس۔ دوبارہ دوسری شادی اسی امر کی وجہ سے اب وہ نہیں کر سکتا اسی ایک... ولو قال لعبده: تزوج... کسی نے اپنے آقا نے اپنے غلام سے کہا: تزوج... تو نکاح کر لے۔ لا يتناول ذلك إلا مرةً واحدةً... تو یہ امر شامل نہیں ہے مگر ایک ہی مرتبہ کو، ایک ہی مرتبہ کو۔ دلیل کیا ہے بھئی امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا بھئی؟ اب دلیل شروع ہونے لگی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ابھی تک آپ کو مذہب بتلایا اور اس کے کچھ مثالیں ذکر کر دیں تاکہ بات آپ کو سمجھ میں آ جائے، کیا مطلب ہے تکرار کا تقاضا کیسے نہیں کرتا۔ اب اس کی کچھ دلیل ذکر کریں گے مولانا۔ دلیل یہ مولانا، کہ جب آپ مثلاً کسی کو کہتے ہیں: اضرب! مثلاً امر کیا کہتے ہیں؟ اضرب! تو دراصل آپ اس سے کس چیز کا حکم دے رہے ہیں؟ کیا طلب کر رہے ہیں؟ وجودِ فعل کو طلب کر رہے ہیں کہ فعل کو وجود دے دو، اس ضرب کے فعل کو کیا کرو؟ وجود دے دو۔ تو کسی بھی فعل کا امر دراصل اس کے اس کو وجود دینے کو طلب کیا جاتا ہے، امر کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی فعل کے وجود دینے کو طلب کیا جاتا ہے۔ تو "اضرب" اصل میں کیا ہے مولانا؟ یہ مختصر ہے مختصر۔ اصل میں یہ طویل کلام تھا مولانا۔ کیا معنیٰ؟ افعل فعل الضرب۔ اصل میں کیا ہے؟ افعل فعل الضرب۔ فعلِ ضرب کو سرانجام دو، فعلِ ضرب کو کیا کرو؟ سرانجام دو، اس کو وجود دو۔ تو اسی کو مختصراً آپ نے کیا کہہ دیا؟ اضرب۔ وہ تو لمبا کلام تھا: افعل فعل الضرب، اس کو مختصراً آپ نے کیا کہہ دیا؟ اضرب۔ تو وہی فعل کے وجود دینے کا جو تقاضا آپ کر رہے تھے کس کے اندر بھئی؟ لمبے کلام میں، وہی کس کے اندر ہے؟ مختصر کے اندر بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو مختصر... اور وہاں پر مولانا تکرار نہیں۔ طویل کلام جو تھا جس سے یہ آپ نے اختصار کیا اضرب، اصل میں کیا تھا؟ افعل فعل الضرب، وہاں پر تکرار نہیں تو یہاں پر اضرب کے اندر بھی تکرار نہیں۔ وہاں کیسے تکرار نہیں؟ وہ بات آگے آ رہی ہے بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آئی؟ کہ یہ امر جو ہوتا ہے یہ مختصر ہوتا ہے مطول سے، اور مطول کے اندر تکرار نہیں، وہاں تکرار کا تقاضا نہیں تو مختصر کے اندر بھی تکرار کا تقاضا نہیں ہوگا، یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے آگے اور بات مکمل پھر ہوگی بھئی۔ لأن الأمر بالفعل... اس لیے کہ کسی کام کا امر کرنا، طلب تحقيق الفعل... تحقیق کا معنیٰ وجود دینا، وجود دینا بھئی، ایجاد بھئی۔ طلب تحقيق الفعل... وہ فعل کو وجود دینے کو طلب کرنا ہے، فعل کے ایجاد کو کیا کرنا ہے؟ وہ فعل کو وجود دینے کو طلب کرنا ہے، على سبيل الاختصار... کس طریقے پر بھئی؟ اختصار کے طریقے پر بھئی! جب آپ کسی کو امر دیتے ہیں تو دراصل آپ اس فعل کے وجود کو طلب کر رہے ہیں، لیکن کس طریقے پر طلب کر رہے ہیں؟ مختصر طریقے پر۔ فإن قوله: اضرب مختصرٌ من قوله: افعل فعل الضرب... اس لیے کہ کہنے والے کا یہ کہنا "اضرب"، یہ مختصر ہے من قوله اس کے اس قول سے: افعل فعل الضرب، یہ اسی سے اختصار ہے بھئی۔ والمختصر من الكلام والمطول سواءٌ في الحكم... اور مختصر جو ہو کلام میں سے اور مطول جو لمبا ہو سواءٌ وہ برابر ہیں في الحكم حکم کے اندر بھئی۔ دونوں حکم میں کیا ہیں؟ بھئی اسی لمبے کو آپ نے مختصر کیا ہے، تو وہ جو لمبے کلام سے جو فائدہ آ رہا تھا وہی فائدہ کس کے اندر ہوگا؟ مختصر میں بھی، اور مطول کے اندر تو تکرار نہیں لہٰذا مختصر میں بھی تکرار نہیں۔ یہی معنی ہے کہ مختصر اور مطول جو ہیں کلام میں سے سواءٌ في الحكم وہ حکم میں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ جی، برابر ہیں۔ پھر، بھئی یہاں تک کیا بات ہوئی؟ کہ جب آپ کسی کو امر کرتے ہیں تو دراصل اس سے کیا طلب کرتے ہیں؟ وجودِ فعل کو طلب کرتے ہیں، کس طریقے پر؟ اختصار کے طریقے پر مولانا، اور اختصار کے طریقے پر، تو اضرب دراصل مختصر ہے کس سے؟ افعل فعل الضرب سے، اور افعل فعل الضرب کے اندر مولانا تکرار نہیں تو اضرب کے اندر بھی تکرار... اب یہ افعل فعل الضرب کے اندر تکرار کیوں نہیں؟ اس لیے کہ اس کے اندر ضرب آ رہا ہے: افعل فعل الضرب، کس کو طلب کیا جا رہا ہے؟ ضرب کو، اور ضرب کیا ہے؟ مصدر ہے، اور مصدر ہے اسمِ جنس، اور اسمِ جنس جو ہے یہ یاد رکھو مولانا! تو یہ اسمِ جنس جو ہے، اس کا اطلاق قلیل اور کثیر پر ہوتا ہے، سب پر ہوتا ہے، قلیل پر بھی اور... یعنی یہاں پر... یرحمک اللہ... یہاں پر جنسِ ضرب کو طلب کیا جا رہا ہے، کس چیز کو؟ افعل فعل الضرب، ضرب کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کیا ہے؟ مصدر جنس ہے مولانا اس میں جنس، تو یہاں اس سے جنس کو وجود دینے کو طلب کیا جا رہا ہے، اور اس میں جنس کسے کہتے ہیں مولانا؟ جس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہو کثیر۔ مثلاً آپ نے اس سے کہا کہ جنسِ ضرب کو وجود دو، جنس سے... اب یاد رکھو، یہ اسمِ جنس جب بولا جائے مطلق بھئی، تو اس سے ادنیٰ فرد تو قطعی طور پر مراد ہوتا ہے۔ ادنیٰ فرد کیا ہوتا ہے؟ یعنی ایک، ایک۔ ایک قطعی طور پر۔ میں کہتا ہوں: جاءني رجلٌ، یہ رجل کیا ہے مولانا؟ اسمِ جنس ہے، تو اس سے ادنیٰ فرد تو قطعی طور پر مراد ہے کہ میرے پاس کون آیا؟ ایک آدمی آیا، کیا آیا؟ ایک آدمی آیا، دو یا تین یا چار آدمی نہیں آئے، تو جنس کا ادنیٰ فرد کتنا ہے؟ ایک، تو ایک کو تو یہ قطعی طور پر... کیونکہ یہ اس کا فردِ حقیقی، لیکن یہ احتمال رکھتا ہے کل جنس کا بھی۔ کس کا؟ یعنی جنس مراد لے لو، رجل بول کر کیا مراد لے لو؟ جنسِ رجل، میرے پاس کون آئے؟ جنسِ رجل آئے، اور جنس تو کس کے ضمن میں؟ اپنے افراد کے ضمن میں۔ کس کے ضمن میں؟ بھئی حقیقت آپ کے پاس آئے گی کسی کی یا اس کے افراد آئیں گے آپ کے پاس؟ اس کے افراد آئیں گے، تو مراد جنس ہے لیکن کس کے ضمن میں؟ اپنے افراد کے ضمن میں، معنی میرے پاس جنسِ رجل آئی، یعنی اس کے تمام افراد آئے۔ جنس فی ضمن جمیع الافراد مولانا، تو وہ جیسے مولانا اس کا دو فرد ہو گئے مولانا، ایک فردِ حقیقی اور ایک فردِ... فردِ حکمی۔ فردِ حقیقی تو ہے ایک فرد۔ جاءني رجلٌ کا کیا معنیٰ؟ ایک فرد آیا، اور ایک ہے حکمی فرد کہ سارے جنس کے افراد من حيث المجموع ایک جنس ہیں یا نہیں مولانا؟ جی۔ ایک ہیں، سارے من حيث المجموع ایک مجموعہ ہے، کیا ہے ایک؟ وہ بھی مراد ہو سکتے ہیں مولانا، یعنی ساری جنس مراد لے لی جائے فی ضمن ال... فی ضمن جمیع الافراد بھئی، فی ضمن... جمیع الافراد مراد لے لی جائے، تو یہاں مولانا یہ بھی فرد ہے، وہ ایک فرد تھا، ایک فرد آئے، یہ تو حقیقتاً ہے مولانا، اور تمام افراد مراد لے لیے جائیں تو پھر یہ کیا ہے؟ فردِ حکمی ہے، حقیقتاً تو یہ ایک فرد نہیں، یہ تو بہت سے ہیں، لیکن من حيث المجموع یہ کیا ہیں؟ ایک ہیں، ایک جنس ہیں یعنی، ایک فرد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مجموعہ، سارا مجموعہ، بھئی سارا مجموعہ لے لیے تو مجموعہ ایک ہوا یا دو ہوئے؟ جی؟ ایک ہے نا، مجموعہ سارا بھئی، ساروں کی آپ نے گٹھڑی بنا کر سارے اکٹھے مراد لے لیے، ایک ہی مراد ہے۔ جنس ساری مراد ہے، اور جنس کس میں مراد ہے؟ اپنے اپنے افراد کے ضمن میں، ساری جنس مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جی۔ دیکھو! اس میں جنس کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا کہ اس میں جنس کے دو افراد ہوتے ہیں، ایک فردِ حقیقی اور ایک فردِ... حکمی۔ فردِ حقیقی تو کتنا ہے؟ ادنیٰ ہے ادنیٰ، اور ادنیٰ کیا ہے؟ ایک، ایک کو تو یہ قطعی طور پر شامل ہے، ہاں! کل کا بھی احتمال ہے، یعنی کل کی کل جنس مراد لے لی جائے، اب جنس ایک ہے یا دو ہیں یا تین ہیں مولانا؟ ایک جنس جو میں بول رہا ہوں، جو مثلاً رجل بول رہا ہوں، رجل ایک جنس ہے، دو جنس ہیں بھئی؟ ایک جنس ہے، تو میں کل جنس مراد لے لیتا ہوں، کیا مراد لے لیتا ہوں؟ اور کل جنس مولانا فی ضمن... تو کل جنس تمام افراد کے ضمن میں بھئی، کس کے ضمن میں؟ تمام افراد کے ضمن میں مراد لے لیتا ہوں، تو میں کہتا ہوں مثلاً میرے پاس تمام دنیا کے افراد آئے بھئی، کیا آئے میرے پاس؟ جنسِ رجل آئے، تمام دنیا کے رجل آئے مولانا، تو میں نے جنسِ رجل مراد لے لیا، اور جنسِ رجل کیا ہے؟ فردِ حکمی ہے، یہ کیا ہے فردِ... حکمی ہے۔ من حيث المجموع ایک ہی ہے، کیا ہے من حيث ال... مجموع ایک ہی، ایک ہی مجموعہ ہے بھئی۔ تو دیکھو! کیا بات ہوئی اب تک؟ بات یہ ہوئی ابھی تک کہ امر جب کسی چیز کا دیا جائے تو وہاں پر دراصل وجودِ فعل کو کیا کیا جاتا ہے؟ طلب کیا جاتا ہے، کس طریقے پر؟ مختصر طریقے پر۔ اور مولانا تو اِضْرِبْ دراصل یہ مختصر ہے کس سے؟ اِفْعَلْ فِعْلَ الضَّرْبِ اور اِفْعَلْ فِعْلَ الضَّرْبِ کے اندر مولانا تکرار نہیں تو اِضْرِبْ کے اندر بھی تکرار نہیں۔ اب یہ اِفْعَلْ فِعْلَ الضَّرْبِ کے اندر تکرار کیوں نہیں؟ اس لیے کہ اس کے اندر ضرب آ رہا ہے اِفْعَلْ فِعْلَ الضَّرْبِ، مصدر آیا ہے تو یہ مولانا دراصل یہ جو امر اِضْرِبْ کہا، تو آپ نے کس چیز کے وجود کو طلب کیا؟ ضرب اور ضرب کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کیا ہے؟ مصدر مولانا جنس ہے مولانا، تو یہاں پر جنس کے وجود کو طلب کیا جا رہا ہے۔ کس کو طلب کیا جا رہا ہے؟ جنس کے وجود کو طلب کیا جا رہا ہے، اور جنس کا جب اسمِ مطلق اس کو بولا جائے تو اس سے ایک فرد تو کیا ہے؟ قطعی طور پر مراد ہے، لیکن تمام افراد کا بھی اس میں احتمال ہے، اس لیے کہ جنس کے دو افراد دو قسم پر ہیں: ایک فردِ حقیقی اور ایک فردِ حکمی۔ فردِ حقیقی تو کون سا ہے؟ ایک، اور فردِ حکمی کیا ہے؟ تمام کی تمام جنس بھئی، یہ بھی تو ایک ہے یا نہیں بھئی تمام کی تمام جنس؟ تمام کی تمام جنس مراد لے لی جائے یعنی تمام افراد کے ضمن میں مراد لے لی جائے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تمام جنس مراد لے لیں یہ بھی ایک ہے لیکن فی ضمنِ جمیعِ الافراد بھئی۔ دیکھیے! ثُمَّ الْاَمْرُ بِالضَّرْبِ اَمْرٌ بِجِنْسِ تَصَرُّفٍ مَّعْلُوْمٍ پھر امر بالضرب جو ہے، جو ضرب کا حکم ہے، یہ حکم ہے ایک جنس کا، جو کیا ہے ایسی جنس کا جو تصرفِ معلوم ہے، معلوم تصرف ہے مولانا۔ ضرب جانتے ہیں یا نہیں مولانا؟ ضرب ایک معلوم، بھئی جس جنس کا بھی حکم دیں گے وہ ایک معلوم تصرف ہوگا بھئی۔ یہاں پر کس چیز کا اِضْرِبْ میں کس چیز کا حکم دیا جا رہا ہے؟ ضرب، اور ضرب کیا ہے؟ ایک معلوم جنس ہے کہ اس کا کیا معنی ہے۔ تو وہ امر ہوتا ہے مولانا بِجِنْسِ تَصَرُّفٍ مَّعْلُوْمٍ ایک معلوم تصرف کی جنس کا۔ وَحُکْمُ اسْمِ الْجِنْسِ اور اسمِ جنس کا حکم یہ ہے اَنْ یَّتَنَاوَلَ الْاَدْنٰی عِنْدَ الْاِطْلَاقِ کہ وہ شامل ہوتا ہے ادنیٰ فرد کو یعنی ایک کو عِنْدَ الْاِطْلَاقِ جب اس کو کیسے بولا جائے؟ مطلق بولا جائے وَیَحْتَمِلَ کُلَّ الْجِنْسِ، یَحْتَمِلَ کا عطف ہے یَّتَنَاوَلَ پر، اور احتمال رکھتا ہے کس چیز کا؟ کلِ جنس کا بھی، کس کا؟ کلِ جنس کا بھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو میں رجل بول کر یا تو فردِ رجل، تو رجل جب میں بولوں گا ایک آدمی مراد ہوگا، دو یا تین؟ ایک آدمی، لیکن مراد ہو سکتا ہے میں یہاں جنسِ رجل لے لوں، تو جنسِ رجل بھی ایک ہیں یا دو ہیں؟ ایک ہے، لیکن یہ ایک جنس میں کس کے ضمن میں مراد لے رہا ہوں؟ تمام افراد کے ضمن میں، کس کے ضمن میں؟ تمام افراد کے ضمن میں، تو یہ بھی فرد ہوا جنس، یہ بھی فرد ہوا اس جنس کا، لیکن وہ ایک فرد جو تھا وہ فردِ حقیقی اور یہ فرد جو ہے یہ فردِ حکمی، کیونکہ یہ حقیقتاً تو ایک نہیں بہت سے، سارے افراد کا مجموعہ میں نے مراد لے لیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وَعَلٰی ہٰذَا قُلْنَا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اِذَا حَلَفَ جب کسی قسم اٹھانے والے نے قسم اٹھائی لَا یَشْرَبُ الْمَاءَ کہ وہ پانی نہیں پیئے گا یَحْنثُ بِشُرْبِ اَدْنٰی قَطْرَۃٍ مِّنْہُ تو وہ حانث ہو جائے گا بشرب وَعَلٰی ہٰذَا قُلْنَا اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اِذَا حَلَفَ کسی نے قسم اٹھائی لَا یَشْرَبُ الْمَاءَ کہ وہ پانی نہیں پیئے گا، یہ ماء کیا ہے؟ جنس ہے۔ یہ ادنیٰ کا ہے، اس کو ادنیٰ کو کیا ادنیٰ کو یہ شامل ہے اطلاق کے وقت بھئی قطعی طور پر، لیکن تمام کا بھی اس میں احتمال ہے، لہٰذا اب وہ ایک قطرہ پانی کا بھی پیئے گا تو فوراً کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، سمجھ میں آیا؟ ادنیٰ فرد بھی پایا گیا اس نے پی لیا بس، لیکن اس جنس میں تمامِ جنس کا ارادہ بھی تو ہو سکتا ہے تمامِ افراد کے ضمن میں مولانا، جنسِ ماء سارا مراد لے لے ساری دنیا کا پانی، وہ کہتے ہیں میرا ارادہ تو کیا تھا؟ ساری دنیا کا جتنا پانی ہے وہ مراد لیا تھا میں نے، تو اب اس کی کیا کیا جائے گا مولانا؟ کل کا احتمال تو تھا اور نیت نے بتلا دیا کہ اس کا ارادہ بھی کس کا تھا؟ کل کا، لہٰذا اب وہ حانث نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں اگر اس نے قسم اٹھائی کہ وہ پانی نہیں پیئے گا یَحْنثُ بِشُرْبِ اَدْنٰی قَطْرَۃٍ مِّنْہُ تو وہ حانث ہو جائے گا ادنیٰ قطرہ پینے سے بھی۔ وَلَوْ نَوٰی بِہٖ جَمِیْعَ مَیَاہِ الْعَالَمِ اگر اس نے نیت کی وَلَوْ نَوٰی بِہٖ جَمِیْعَ مَیَاہِ الْعَالَمِ اس نے تمام عالم کے میاہ، جمع ہے ماء کی مولانا، تمام عالم کے پانیوں کی نیت کی، تمام عالم کا جو پانی ہے اس سارے پانی کی کیا کی اس نے؟ نیت کی، صَحَّتْ نِیَّتُہٗ تو اس کی نیت کیا ہے؟ صحیح ہے، دیکھا! اردو میں تو پانی کی کوئی جمع نہیں ہے نا؟ جی؟ نہیں، عربی میں ہے دیکھو بھئی۔ وَلِہٰذَا قُلْنَا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اِذَا قَالَ لَہَا ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا طَلِّقِیْ نَفْسَکِ تو اپنے نفس کو طلاق دے دے فَقَالَتْ طَلَّقْتُ اس نے کہا میں نے طلاق دے دی یَقَعُ الْوَاحِدَۃُ ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ کیونکہ طَلِّقِیْ امر ہے اور امر کیا ہے؟ مختصر ہوتا ہے مولانا، کس سے صيغہ امر؟ مختصر من المطول، تو یہاں دراصل کیا ہے؟ اِفْعَلِیْ فِعْلَ الطَّلَاقِ، تو طلاق آیا اور طلاق مصدر ہے اور مصدر کیا ہے؟ مصدر جنس ہے اور جنس کیا ہے؟ جب مطلق بولا جائے تو ایک فرد کو تو وہ کیا ہے؟ حتمی اور قطعی طور پر شامل، لیکن تمام افراد کا اس میں احتمال ہے، تو اب اس نے ایک طلاق دی تو ایک طلاق تو واقع ہو جائے گی جب خاوند نے ایک ہی نیت کی ہے یا کوئی بھی نیت نہیں کی۔ اور اگر اس نے تین کی نیت کی تو ایک عورت کی کل جنسِ طلاق، کیونکہ کل کتنے افراد ہیں بھئی؟ تین ہی ہیں، تو اگر کلِ جنس کا ارادہ بھی اور نیت کر لیتا ہے تو تین بھی کیا ہو جائیں گی؟ واقع ہو جائیں گی، اس لیے کہ ایک طلاق وہ فردِ حقیقی ہے اور یہ تین طلاقیں یہ کیا ہے؟ فردِ حکمی ہیں، تو جنس جب بولی جائے تو اس سے فردِ حقیقی تو قطعی طور پر مراد، لیکن فردِ حکمی کا اس میں مراد فرد ہی ہوگا، اس میں عدد کا احتمال نہیں ہے مولانا، عدد کا احتمال نہیں، فرد ایک ہی مراد ہوگا، ہاں کبھی وہ فردِ حقیقی ہوگا اور کبھی فردِ حکمی، فردِ حقیقی کتنا ہے؟ ایک، اور فردِ حکمی کیا ہے؟ پوری جنس، اور جنس بھی کیا ہے؟ ایک، تو ایک ہی جنس مراد لے لیں اور فی ضمنِ جمیعِ الافراد، کس کے ضمن میں؟ تمام افراد کے، وہ سارا مجموعہ کیا ہے؟ ایک، سارا مجموعہ کیا ہے؟ لہٰذا اب اگر خاوند دو کی نیت کرتا ہے تو یہ نیت کرنا صحیح نہیں، کیونکہ جنس کے ذریعے فردِ حقیقی تو قطعی طور پر مراد، فردِ حکمی کا اس میں احتمال ہے، لیکن عدد کا احتمال عدد کا اس میں احتمال نہیں، عدد نہیں بھئی۔ وَلَوْ نَوَی الثَّلٰثَ صَحَّتْ نِیَّتُہٗ اور اگر اس نے تین کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہے۔ وَکَذٰلِکَ لَوْ قَالَ لِاٰخَرَ اسی طرح اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا طَلِّقْہَا کیا کر تو میری بیوی کو؟ وکیل بنایا، تو طَلِّقْ امر کہا اور امر کیا ہوتا ہے؟ اختصار من المطول، مختصر من المطول اور مطول میں کس چیز کو طلب کیا گیا ہے؟ جنس کو، جنس کو وجود دینے کو طلب کیا یعنی مصدر کو بھئی اور جنس کو طلب کیا گیا ہے اور جنس کیا ہے؟ اس کا اطلاق جب مطلق بولا جائے اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فردِ حقیقی، لیکن فردِ حکمی کا بھی اس میں کیونکہ وہ بھی من حیث المجموع ایک فرد ہے، من حیث المجموع کیا ہے؟ ایک فرد ہے، تو لہٰذا ایک کی نیت کی تو ایک، اور اگر تین کی نیت ایک قطعی طور پر مراد اور اگر تین کی نیت کی تو تین بھی واقع۔ فَیَتَنَاوَلُ الْوَاحِدَۃَ عِنْدَ الْاِطْلَاقِ تو یہ شامل ہوگا ایک طلاق کو جب اس کو مطلق بولا جائے وَلَوْ نَوَی الثَّلٰثَ صَحَّتْ نِیَّتُہٗ اور اگر اس نے تین کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہے۔ وَلَوْ نَوَی اثْنَتَیْنِ لَا یَصِحُّ اور اگر اس نے کتنے کی نیت کی بھئی؟ دو کی نیت کی لَا یَصِحُّ تو پھر اس کی نیت صحیح تو یہ صحیح نہیں، اس لیے کہ دو کیا ہیں مولانا؟ نہ فردِ حقیقی ہے نہ فردِ نہ کلِ جنس ہے، نہ اس کا فردِ حقیقی ہے، یہ تو ایک محضِ عدد ہے تو عدد کا اس میں احتمال نہیں، تکرار کا تقاضا ہے ہی نہیں اس میں، تکرار کا تقاضا ہے ہی نہیں، ایک ہی چیز، تو بات کیا شروع کہاں سے ہوئی تھی بھئی؟ کہ امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، یہ ایک ہی مرتبہ فعل کو لازم کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ یہ تو یا تو یہ فردِ حقیقی کو لازم کرے گا یا اگر نیت کر لی جائے تو کس کو لازم کرے گا؟ فردِ حکمی کو، یہاں عدد کا احتمال بس فرد ہی آئے گا یعنی ایک ہی آئے گا، اب وہ چاہے ایک حقیقتاً ہو چاہے حکماً ہو، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ لہٰذا اب یہاں پر امر آیا اور امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، لہٰذا وہ ایک کے بعد دوسری طلاق دینا چاہتا ہے یہ تو مولانا وہ کیا کر رہا ہے؟ عدد لے رہا ہے وہ اس سے مراد اور عدد کا ارادہ کرنا اس سے صحیح نہیں ہے بھئی۔ وَلَوْ نَوَی اثْنَتَیْنِ لَا یَصِحُّ اور اگر اس نے دو کی نیت کی تو صحیح نہیں اِلَّا اِذَا کَانَتِ الْمَنْکُوْحَۃُ اَمَۃً مگر اس وقت جبکہ منکوحہ کیا ہو؟ باندی ہو۔ بھئی اس شخص نے کسی کی باندی سے نکاح کیا ہوا تھا، اب باندی کی کل طلاقیں کتنی ہیں؟ دو، اب دو کا ارادہ صحیح اس لیے نہیں کہ یہ دو عدد ہے بلکہ اس لیے کہ یہ دو اب کیا بن گیا ہے؟ کلِ جنس بن گیا ہے، کیا بن گیا ہے؟ تو یہ فردِ حکمی بن گیا ہے فردِ حکمی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو معلوم ہوا امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، اس سے فرد ہی مراد لیا جائے گا، ہاں فرد کبھی حکماً ہوگا اور کبھی حقیقتاً تو قطعی طور پر مراد ہے، ہاں فردِ حکمی کا بھی اس میں احتمال ہے۔ اِلَّا اِذَا کَانَتِ الْمَنْکُوْحَۃُ اَمَۃً مگر منکوحہ اگر باندی ہو فَاِنَّ نِیَّۃَ اثْنَتَیْنِ فِیْ حَقِّہَا نِیَّۃٌ بِکُلِّ الْجِنْسِ اس لیے کہ دو کی نیت کرنا اس باندی کے حق میں یہ نیت ہے مولانا کلِ جنس کی، کس کی؟ کلِ جنس کی، وَلَوْ قَالَ لِعَبْدِہٖ تَزَوَّجْ اگر کسی نے اپنے غلام سے کہا نکاح کر، امر آیا مولانا اور امر تکرار کا احتمال رکھتا ہے؟ نہیں، ہاں اس سے کیا مراد ہو جب مطلق بولا جائے؟ فردِ حقیقی، لیکن فردِ حکمی کا اس میں یعنی کل جنس سے تزوج جو اس غلام کے لیے جائز ہیں وہ کتنے ہیں؟ آزاد کا غلام کا حکم آزاد سے نصف ہوا کرتا ہے باندی کا بھی اسی طرح، تو آزاد کو کتنی نکاح کی اجازت ہے؟ آزاد آدمی کو چار، تو غلام کو کتنے کی اجازت ہوگی؟ دو کی، تو لہٰذا اگر ایک اس سے ایک نکاح کرنا تو اس کے لیے اجازت اس کے لیے ہو گئی، لیکن اگر آقا نے دو نکاحوں کی نیت کر لی جو کہ کلِ جنس ہے یعنی فردِ حکمی ہے تو بھی صحیح ہے۔ وَلَوْ قَالَ لِعَبْدِہٖ اگر کسی نے اپنے غلام سے کہا تَزَوَّجْ تو نکاح کر لے یَقَعُ عَلٰی تَزَوُّجِ امْرَاَۃٍ وَّاحِدَۃٍ تو یہ واقع ہوگا کس پر مولانا امر؟ تزوجِ امراۃِ ایک عورت سے نکاح پر بھئی، وَلَوْ نَوَی اثْنَتَیْنِ صَحَّتْ نِیَّتُہٗ اور اگر اس نے دو کی نیت کی تو بھی اس کی نیت صحیح ہے، اس لیے کہ یہاں دو عدد نہیں ہے مولانا بلکہ کیا ہے؟ کلِ جنس ہے لِاَنَّ ذٰلِکَ کُلُّ الْجِنْسِ فِیْ حَقِّ الْعَبْدِ اس لیے کہ یہ کلِ جنس ہے مولانا غلام کے حق میں۔ وَلَا یَتَاَتّٰی عَلٰی ہٰذَا جی یہاں اشکال ہوتا ہے، آپ نے کیا کہا اے صاحبِ کتاب! کہ امر جو ہے نہ تکرار کا تقاضا کرتا ہے نہ تکرار کا تکرار کا احتمال نہیں ہے، اس میں فردیت ہی فردیت ہے مولانا، ہاں فردیت کبھی حقیقتاً ہوگی اور کبھی حکماً ہوگی، یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو فردیت ہی ہے یہاں پر بس، ایک ہی مرتبہ آئے گا، اب سوال یہ کہ آپ نے تو کہا امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ امر آ گیا۔ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ اور زکوۃ کیا کرو؟ ادا کرو، سمجھ میں آیا؟ یا مولانا اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ نماز قائم کر لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ سورج ڈھلنے کے وقت میں، سورج ڈھلنے کے وقت کیا کر؟ نماز ادا کر، تو یہ تو ایک امر آ رہا ہے، سورج ڈھلنے کے وقت یعنی ظہر کی نماز مراد ہے، اور ہم تو ہر روز ظہر کی نماز پڑھتے ہیں، اور قرآن میں تو ہے اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ نماز قائم کرو، ایک امر آ رہا ہے، اور ہم تو روزانہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، تو تکرار آیا یا نہیں آیا؟ جی؟ تکرار، پھر یہ عبادات میں تکرار کس سبب سے اگر امر ایک دفعہ کا تقاضا کرتا ہے پھر تو ایک نماز پڑھ لی بس امر پر کیا ہو گیا؟ عمل ہو گیا، لہٰذا جب تو پھر تکرارِ عبادات کیوں ہے؟ زکوۃ ایک مرتبہ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ امر آیا اور امر تو تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، جب تکرار کا تقاضا نہیں کرتا تو ایک مرتبہ زکوۃ دے دو امر پر کیا ہو گیا؟ عمل ہو گیا، دوبارہ زکوۃ، لیکن یہاں تو ہر سال کیا کرنا پڑتی ہے؟ زکوٰۃ دینا پڑتی ہے۔ اسی طرح روزوں کا حکم آیا ہے تو ایک مرتبہ رمضان کے روزے رکھ لے تو مامور پر کیا... امر پر کیا ہو گیا؟ عمل ہو گیا، دوبارہ روزے واجب نہیں ہونے چاہئیں، لیکن پھر آپ کہتے ہیں کہ دوبارہ جب پھر رمضان آئے تو روزے کیا ہو جائیں گے؟ واجب ہو جائیں گے بھئی۔ تو یہ پھر عبادات میں تکرار کیوں آتا ہے اگر آپ کی بات صحیح ہے؟ کہتے ہیں بھئی بات ہم کر رہے ہیں امر کی۔ تو یاد رکھو پہلے دو چیزیں سمجھ لو، ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا۔ ایک کیا ہے مولانا؟ ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا۔ نفسِ وجوب یاد رکھو کہتے ہیں عبادات میں جو نفسِ وجوب ہوتا ہے وہ اسباب کی وجہ سے آیا کرتا ہے۔ جلدی لکھو بھئی جلدی۔ نفسِ وجوب کس کی وجہ سے آیا کرتا ہے؟ نفسِ وجوب اسباب کی وجہ سے آیا کرتا ہے۔ عبادات کا نفسِ وجوب ان کے اسباب کی وجہ سے آیا کرتا ہے۔ اور دوسرا کیا بتلایا میں نے؟ وجوبِ ادا۔ وجوبِ ادا امر سے آتی ہے مولانا۔ وجوبِ ادا، وجوبِ ادا امر سے آتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عبادات میں یہ ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا۔ نفسِ وجوب کس سے آیا کرتا ہے؟ اسباب سے اور وجوبِ ادا کس سے آیا کرتا ہے؟ امر سے۔ مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ دیکھو! میں آپ کے ساتھ بیع کرتا ہوں، میں نے کہا یہ کتاب میں نے آپ کو بیچ دی، کتنے کے؟ سو روپے کے بدلے میں۔ آپ نے کہا: میں نے مجھے... میں نے قبول کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب آپ کے اور میرے درمیان بیع منعقد ہو گئی، بیع کیا ہو گئی؟ ایجاب بھی پایا گیا، قبول بھی پایا گیا۔ اب مولانا! نفسِ وجوب سو روپے کا آپ پر آ گیا۔ نفسِ وجوب عقد کرنے والے پر بھئی کیا ہو گیا بھئی؟ نفسِ وجوب آ گیا نفسِ وجوب۔ تو واجب ہو گیا، آپ پر کتنے ادا کرنا؟ سو روپیا۔ اور مجھ پر کیا واجب ہو گیا؟ جی؟ بس... تو وجوبِ ادا... نفسِ وجوب آ گیا۔ اب وجوبِ ادا، ادائیگی کرنا واجب کب ہو گی؟ جب کہ میں تقاضا کروں، اس کو طلب کروں۔ کیا کروں؟ لاؤ بھئی مجھے ثمن ادا کر دو کتاب کے۔ اب کیا آ جائے گا؟ وجوبِ ادا۔ اب ادائیگی آپ پر کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی ادا کرنا فوراً بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو نفسِ وجوب ثمن کا تو کس سے آ گیا تھا آپ پر؟ سبب عقد سے ہی آ گیا تھا، سبب کیا تھا اس کا؟ عقد۔ عقد کرتے ہی آپ پر کیا آ گیا؟ ثمن کا نفسِ وجوب آ گیا، آپ کے ذمے واجب ہو گئے، لیکن یہ ادا کرنا واجب کب ہو جائیں گے؟ جب دوسرا تقاضا کرے گا، طلب کرے گا، امر کرے گا ”ادّ إلیّ ثمن المبیع“ مجھے کیا کرو؟ ادا کرو مبیع کے ثمن، تو پھر اس صورت میں اب آپ پر وجوبِ ادا آیا بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں کا بھئی؟ ایک ہے نفسِ وجوب اور ایک ہے وجوبِ ادا۔ یا اسی طرح ہے مولانا! کہ خاوند نکاح کرتا ہے تو نکاح کے کرتے ہی فوراً اس پر بیوی کا نفقہ واجب ہو جائے گا۔ تو نفسِ وجوب نفقے کا کس سے آیا؟ نکاح سے۔ لیکن نفقہ ادا کرنا کب واجب ہو گا؟ وجوبِ ادا کس سے آئے گا؟ جب وہ بیوی کیا کرے نفقے کو؟ طلب کرے کہ ”ادّ إلیّ نفقتی“ میرا نفقہ کیا کرو مجھے؟ ادا کرو۔ یا قاضی اس کو کہتا ہے ”ادّ إلی زوجتك“... ”زوجتك النفقۃ“ اپنی بیوی کو کیا کرو؟ نفقہ ادا کرو۔ تو نفسِ وجوب تو نکاح سے آیا تھا لیکن وجوبِ ادا کس سے؟ تو نفسِ وجوب یعنی وجوب آ گیا، اس پر وہ چیز واجب ہو گئی لیکن اس کی ادائیگی کب ہو گی؟ جب طلب... تو یہاں بھی عبادات کے اندر بھی ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا۔ یعنی نفسِ عبادت جو واجب ہوتی ہے بندے کے ذمہ میں وہ سبب کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن اس کی ادائیگی جو واجب ہوتی ہے وہ کس کی وجہ سے ہوتی ہے؟ امر کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ امر کی وجہ سے۔ اور یاد رکھو! عبادات میں جو نفسِ وجوب آیا کرتا ہے نمازوں کے اندر، یہ وقت سے آیا کرتا ہے۔ کس سے آتا ہے؟ جیسے ہی آج آپ ظہر کا وقت پائیں گے، آپ پر ظہر کی نماز واجب ہو جائے گی۔ جیسے ہی آج آپ عصر کا وقت پائیں گے، آپ پر عصر کی نماز... جیسے ہی آپ مغرب کا وقت پائیں گے، آپ پر مغرب کی نماز... ابھی واجب ہے آج مغرب کی نماز آپ پر؟ نہیں، ابھی آپ نے وقت ہی نہیں پایا، لیکن جیسے ہی وقت پائیں گے فوراً کیا آ جائے گا؟ نفسِ... پھر وجوبِ ادا امر کی وجہ سے آئے گا اور امر کیا تھا؟ ”أقيموا الصلاة“ نماز کیا کرو؟ ادا کرو۔ تو بھئی! نماز قائم کرو۔ تو أقیموا... عبادات کے اندر جو حکم دیا جاتا ہے، بھئی کیا بتلایا تھا؟ کہ جب امر کیا جائے کسی چیز کا، تو یہ امر ہے دراصل کس چیز کا؟ جنس کا۔ اور جنس کا جب مطلق بولا جائے تو کیا مراد ہوتا ہے اس سے؟ ایک فرد، لیکن احتمال کس کا ہوتا ہے؟ کل فرد کا یعنی کل جنس کا۔ تو جب کہا گیا ”أقيموا الصلاة“ کیا معنیٰ؟ کل جنس سے نماز ادا کرو جو آپ کے ذمے واجب ہے۔ کل جنس سے نماز کیا کرو؟ جو آپ کے ذمے... تمام زندگی میں جتنی جنس سے نماز, سارا مجموعہ، فردِ حکمی مراد ہے، کیا مراد ہے؟ فردِ حکمی۔ جتنی آپ کے ذمے نمازیں واجب ہیں وہ کیا کرو؟ ادا کرو۔ تو اب مولانا! جیسے ہی سبب آئے گا نفسِ وجوب آ جائے گا اور جب نفسِ وجوب آ جائے گا تو وہی امر جو پہلے تھا جس میں کیا کہا گیا تھا؟ اپنے اوپر واجب ہونے والی تمام نمازیں کیا کرو؟ ادا کرو۔ کیا کرو؟ ادا کرو۔ وہ اب متوجہ ہو گا اور آپ پر نماز کا ادا کرنا کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کل... جب عبادات کے اندر جو امر آتا ہے وہ شامل ہوتا ہے پوری جنسِ عبادت کو، کس کو شامل ہوتا ہے؟ پوری جنسِ عبادت کو۔ تو جب کہا گیا ”أقيموا الصلاة“ کیا معنیٰ؟ پوری جنس سے نماز جو آپ کے ذمہ واجب ہے کس کی وجہ سے واجب ہو چکی ہے؟ سبب کی وجہ سے، وقت کی وجہ سے، اس کو کیا کر دو؟ ادا کر دو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سارے کا تقاضا... ساری جنس کا تقاضا ہوا، اب جوں جوں وقت آتا جائے گا مولانا! نفسِ وجوب آئے گا اور نفسِ وجوب کے آتے ہی پھر جب آپ پر نفسِ وجوب آ گیا تو اس امر میں آپ کو کیا کہا گیا تھا؟ وہی امر متوجہ ہوا جس نے کس چیز کا تقاضا کیا تھا؟ ساری جنسِ نمازوں کا بھئی، تو یہ بھی اس میں داخل ہو گئی یا نہیں نماز بھئی؟ یہ بھی اس میں داخل ہوئی، اس کے افراد میں سے ایک فرد بن گئی لہٰذا اس کا ادا کرنا بھی آپ پر کیا ہوا؟ واجب ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھا! تو اسی طرح مولانا! زکوٰۃ کا سبب کیا ہے؟ مالِ نامی ہے بھئی، وہ مال جو بڑھنے والا ہو بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ وہ مال ہے، مالِ تجارت ہے، سونا چاندی ہے۔ تو یہ... اس کا زکوٰۃ کا سبب یہ ہے۔ جب آپ کے پاس نصاب کے بقدر یہ مالِ نامی پایا گیا، سال گزر گیا، تو نفسِ وجوب آ گیا۔ جب نفسِ وجوب آ گیا تو وہ جو امر آیا تھا ”وآتوا الزكاة“ نماز... زکوٰۃ کیا کرو؟ ادا کرو۔ کیا معنیٰ تھا اس امر کا؟ جی؟ جنسِ زکوٰۃ، تمام افرادِ زکوٰۃ جو آپ کے ذمے واجب ہیں ان کو کیا کرو؟ ادا کرو۔ تو یہ بھی اس کے افراد میں سے بن گیا یا نہیں بن گیا بھئی؟ تو یہ کل افراد میں سے بن گیا، لہٰذا اب اس کی ادائیگی بھی آپ پر کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اسی لیے... تو عبادات کا... عبادات کے وجوب کا سبب کیا... وجوب کس سے... ان کے اسباب سے آیا کرتا ہے نفسِ وجوب اور وجوبِ ادا کس سے آیا کرتا ہے؟ امر سے۔ اسی لیے حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، اس لیے کہ حج کا سبب ایک ہے، حج کا... وہ کیا ہے؟ بیت اللہ۔ کیا ہے؟ تو دیکھو نمازوں کے سبب کیا ہے؟ وقت۔ اور وقت میں تکرار آ رہا ہے، امر کے اندر تکرار... تو وقت تو بار بار آ رہا ہے اس لیے تکرارِ سبب کی وجہ سے کس میں... عبادات میں تکرار آ رہا... تکرار آ رہا ہے۔ ہر سال مولانا! ہر سال رمضان کا مہینہ پاتے ہیں تو رمضان کے روزے فرض ہیں، اس کا سبب کیا ہے؟ وقت۔ کیا سبب ہے؟ وقت۔ تو تکرار سبب کے اندر پایا گیا جس کی وجہ سے عبادات میں تکرار آیا، امر کی وجہ سے تکرار نہیں آیا۔ تو عبادات میں تکرار ان کے سبب کی وجہ سے آیا کرتا ہے اور اسی وجہ سے میں نے بتلایا کہ بھئی حج کا سبب کیا ہے؟ بیت اللہ، اور بیت اللہ میں تکرار ہے؟ وقت میں تو تکرار تھا، روز ظہر کا وقت آ جاتا ہے، روز مغرب کا وقت آ جاتا ہے تو نفسِ وجوب آ جایا کرتا ہے، لیکن یہاں سبب کیا ہے؟ بیت اللہ، اور بیت اللہ کے اندر تکرار ہے؟ ایک ہی بیت اللہ ہے، لہٰذا حج بھی زندگی میں کتنے فرض ہیں؟ ایک ہی فرض ہے۔ تو جہاں تکرارِ اسباب ہو گا وہاں تکرارِ عبادات، جہاں تکرارِ اسباب نہیں وہاں تکرارِ عبادات... معلوم ہوا یہ جو تکرارِ عبادات ہے یہ امر کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کے اسباب کی وجہ سے ہے۔ ”ولا يتأتى على هذا“ اور اس پر... آتا نہیں، حاصل نہیں ہوتا اس پر فصل... بحث مراد ہے۔ ”فصل تكرار العبادات“ عبادات کی تکرار کی بحث یا عبادات کی تکرار کا مسئلہ اس پر وارد نہیں ہوتا، یعنی اس پر یہ اشکال... ہم نے کیا کہا تھا؟ امر تکرار کا تقاضا... تو وہ اشکال اس پر وارد نہیں ہوتا، ”فإن ذلك لم يثبت بالأمر“ اس لیے کہ وہ تکرارِ عبادات جو ہیں وہ امر سے ثابت نہیں ہیں، ”بل بتكرار أسبابها“ بلکہ وہ اپنے اسباب کے سبب... کے ساتھ... کیا ہیں؟ ان کا... وہ ثابت ہیں، ”التي يثبت بها الوجوب“ وہ اسباب جن کے سبب سے کیا... جن کی وجہ سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ وجوب یعنی نفسِ وجوب، وہ اسباب جن کی وجہ سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ ”والأمر لطلب أداء ما وجب في الذمة بسبب سابق لا لإثبات اصل الوجوب“ اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ اس چیز کی ادائیگی کو طلب کرنے کے لیے ”ما وجب في الذمة“ جو اس شخص کے ذمہ میں واجب ہیں ”بسبب سابق“ کس کی وجہ سے؟ سببِ گزشتہ سبب بھئی! وقت پہلے آیا اس کے بعد امر متوجہ ہوا، تو نفسِ وجوب پہلے ہو چکا تھا ظہر کی نماز کا، پھر امر متوجہ ہوا کہ کیا کرو؟ نماز قائم کرو۔ تو کہتے ہیں: ”والأمر لطلب أداء ما وجب في الذمة“ تو امر آتا ہے طلب کرنے کے لیے ادائیگی کو ما اس چیز کی ادائیگی ”وجب في الذمة“ جو ذمہ میں واجب ہوئی ہے ”بسبب سابق“ کس کی وجہ سے؟ سابقہ سبب کی وجہ سے، ”لا لإثبات اصل الوجوب“ امر اصلِ وجوب کے اثبات کے لیے نہیں آتا۔ ”وهذا بمنزلة قول الرجل“ اور یہ کسی شخص کے اسی قول کے درجے میں ہے ”أدّ ثمن المبيع“ مبیع کے ثمن کیا کرو؟ تو نفسِ وجوب کس سے آیا تھا مولانا ثمن کا؟ نفسِ ثمن کا وجوب کس سے آیا تھا؟ عقد سے، کس سے؟ عقد سے نفسِ ثمن کا وجوب آپ پر آ گیا، لیکن وجوبِ ادا کس سے آیا؟ اس امر کی وجہ سے ”أدّ ثمن المبيع“۔ ”و أدّ نفقة الزوجة“ اور اسی طرح خاوند سے یہ کہنا: بیوی کا کیا کرو؟ نفقہ ادا کرو۔ تو نفسِ وجوب نفقے کا کس سے آیا تھا؟ نکاح کی وجہ سے، اور وجوبِ ادا کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ اس امر کی وجہ سے۔ ”فإذا وجبت العبادة بسببها“ پس جب عبادت واجب ہوئی ہے اپنے سبب کی وجہ سے ”فتوجه الأمر“ پس تو امر متوجہ ہوتا ہے ”لأداء ما وجب منها“ يرحمك الله، ”فتوجه الأمر لأداء ما وجب منها عليه“ تو امر متوجہ ہوتا ہے ادا کرنے کے لیے ما اس چیز کے ”وجب“ جو واجب ہوا تھا ”منها“ اس عبادت میں سے ”عليه“ اس شخص پر، اس... اس مامور پر جو عبادت سبب کی وجہ سے واجب ہوئی تھی اس کی ادائیگی کو طلب کرنے کے لیے۔ چلیے مولانا! ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔
123 approved lectures · 51 of 123