مولانا متقابلات کی بحث چل رہی ہے۔ متقابلات آپ نے پڑھے کیا ہیں؟ ظهور اور خفاء کے اعتبار سے قسمیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ ظهور کے اعتبار سے بھی چار قسمیں ہیں اور خفاء کے اعتبار سے بھی چار قسمیں ہیں۔ ظهور کے اعتبار سے کیا ہے؟ ظاہر، نص، مفسر اور محکم ہو گئی، اور خفاء کے اعتبار سے کیا ہے؟ خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ ہو گئی۔ جی اور یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں مولانا۔
ظاہر کس کو کہتے تھے؟ نام تھا ہر اس کلام کا جس کی مراد نفس سماع سے ہی کیا ہو جائے؟ ظاہر ہو جائے بغیر غور و فکر کے، اور نص کس کو کہتے تھے؟ جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، اور مفسر کس کو کہتے تھے؟ کہ جہاں پر اور ان دونوں کا ظاہر اور نص کا حکم کیا تھا؟ کہ ان دونوں پر عمل کرنا واجب ہے البتہ ان میں احتمال ہے تخصیص اور تاویل کا بھی، تخصیص اور تاویل کا بھی۔ جبکہ مفسر وہ ہے جس میں بیان متکلم کی طرف سے ا جائے بھئی۔
اور محکم وہ ہے مفسر اور محکم جو ہیں ان دونوں کے درمیان تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں ہوتا۔ جبکہ ظاہر اور نص میں کس چیز کا احتمال تھا؟ تخصیص اور تاویل کا بھی احتمال تھا بھئی۔
پھر مولانا مفسر اور محکم کے درمیان فرق یہ ہے کہ مفسر جو ہے محکم اس میں وہ قوت کے اندر مفسر سے بھی بڑا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی مفسر تو قبول نسخ کا احتمال رکھتا ہے لیکن محکم قبول نسخ کا احتمال نہیں رکھتا۔ یعنی مفسر جو ہے وہ منسوخ ہونے کا احتمال رکھتا ہے نزولِ وحی کے زمانے تک کہ ہو سکتا ہے یہ کیا ہو جائے؟ منسوخ ہو جائے۔ لیکن محکم وحی کے زمانے میں بھی منسوخ ہونے کا احتمال نہیں رکھتا، نہیں رکھتا۔
اچھا! اور پھر محکم کی مثالیں پڑھی تھیں آپ نے۔ پہلی مثال کیا ذکر کی تھی؟ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْﺀٍ عَلِیْمٌ۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، تو یہ علم کی صفت اللہ کی ذکر ہوئی اور یہ کیا ہے؟ محکم ہے، اس میں کسی قسم کے تغیر اور تبدل نہیں آ سکتا کیونکہ یہ صفت ہے ذاتِ اللہ کی اور جیسے ذاتِ باری تعالی کیا ہے؟ تغیر اور تبدل سے منزہ ہے، اسی طرح اللہ کی صفات بھی تغیر اور تبدل سے منزہ ہیں۔
اسی طرح دوسری کیا ذکر ہوئی مثال؟ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا۔ اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں فرمائیں گے، یعنی کسی کے اعمال میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی بھئی۔ تو یہاں پر بھی یہ صفتِ عدل ذکر ہوئی اللہ تعالی کی اور جیسے ذاتِ باری تعالی تغیر اور تبدل سے منزہ ہے، اسی طرح اللہ کی صفت بھی تغیر اور تبدل سے منزہ ہے۔
اور پھر حکمیات میں اس کی مثال ذکر کی شرعی احکامِ شرعیہ کے اندر، مثلاً ایک شخص کہتا ہے: لِفُلَانٍ عَلَیَّ اَلْفٌ مِنْ ثَمَنِ هٰذَا الْعَبْدِ، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں اس غلام کے ثمن میں سے، اس غلام کے ثمن میں سے۔ تو یہ محکم ہے مولانا، یہ لفظ کیا ہیں؟ محکم ہیں کیونکہ اس میں تغیر اور تبدل نہیں ہو سکتا، وہ اس سے رجوع نہیں کر سکتا، اس کو منسوخ نہیں کر سکتا۔
اس پر اشکال ہوا تھا مولانا کہ یہی مثال آپ نے مفسر میں بھی یہ ذکر کی اور محکم میں بھی یہی ذکر کر رہے ہیں، حالانکہ محکم تو آپ نے کہا قوت میں بڑا ہوا ہوتا ہے تو وہ تو اس سے غیر ہوا، کیا ہوا؟ غیر ہوا، تو آپ تو وہی مثال کہتے اس کے لیے ذکر کر رہے ہیں۔ تو جواب دیا مولانا، بتلایا تھا آپ کو کہ بھئی یہ دراصل عام احکام، شرعی احکام کے اندر مفسر اور محکم میں فرق کرنا، محکم کی علیحدہ کوئی مثال نہیں ہے بھئی، محکم کی علیحدہ کوئی مثال نہیں ملتی۔
تو یہ محکم کے درجے میں ہے، کس کے درجے میں ہے؟ محکم کے درجے میں ہے، تو یہ کلام مفسر بھی ہے اور محکم بھی ہے مولانا۔ مفسر بایں لحاظ کہ اس کی تفسیر کس کی طرف سے آ گئی؟ متکلم کی طرف سے کہ مِنْ ثَمَنِ هٰذَا الْعَبْدِ، اور محکم ہے بایں لحاظ کہ یہ تغیر اور نسخ کا احتمال نہیں رکھتا۔
اس پر اشکال ہوا کہ مِنْ ثَمَنِ هٰذَا الْعَبْدِ کو ذرا ختم کر دیں، لِفُلَانٍ عَلَیَّ اَلْفٌ، یہ بھی تو محکم ہے، یہ بھی تو نسخ کا احتمال نہیں رکھتا، آپ اس کو کیوں نہیں ذکر کر رہے مثال کے طور پر؟ تو جواب دیا تھا کہ ہاں یہ بھی محکم ہے لیکن، لیکن محکم کے بارے میں تو اور مفسر کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں رکھتے، جبکہ لِفُلَانٍ عَلَیَّ اَلْفٌ یہ تاویل کا احتمال رکھتا ہے کہ کس وجہ سے دینے ہیں، کسی نے قرض لیا ہے یا غصب کیے ہیں یا کسی چیز کے بدلے ہیں، تو تاویل کا احتمال تھا اس لیے یہ محکم نہیں ہے، یہ محکم نہیں۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟
اچھا! ان کا حکم کیا تھا مفسر اور محکم کا؟ میں نے بتلایا تھا کہ ان پر عمل کرنا لازم ہے اور عمل کرنا بھی لازم اور ان کا اعتقاد رکھنا بھی لازم ہے، جبکہ نص اور ظاہر اور نص کے اندر عمل کرنا تو واجب تھا لیکن اعتقاد رکھنا واجب نہیں، یہ دونوں اعتبار سے قطعی ہیں، اعتقاد کے اعتبار سے بھی یہ قطعی اور عمل کے اعتبار سے بھی قطعی، وہ عمل کے اعتبار سے تو قطعی لیکن اعتقاد کے اعتبار سے ظنی ہیں بھئی۔
پھر اس کے بعد ان کے چار جو دیگر مقابل ہیں وہ ذکر ہوئے تھے خفاء کے اعتبار سے کہ خفاء کے اعتبار سے کتنی قسمیں ہیں؟ چار: خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ۔ خفی کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ہاں! خفی کس کے مقابلے میں ہے؟ ظاہر کے مقابلے میں، اور مشکل کس کے مقابلے میں ہے؟ نص کے مقابلے میں، اور مجمل کس کے مقابلے میں ہے؟ مفسر کے مقابلے میں ہے، اور محکم کس کے مقابلے میں ہے؟ متشابہ کے مقابلے میں، یہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔
پھر خفی کی آپ نے تعریف پڑھی تھی، خفی کس کو کہتے ہیں؟ کہ جس کی مراد خفی ہو جائے کسی عارض کی وجہ سے، صیغے کی وجہ سے نہیں بھئی، صیغے کی وجہ سے نہیں بھئی۔ تو صیغے کے اعتبار سے تو اس کا معنی ظاہر ہوتا ہے لیکن کسی امرِ خارجی کی وجہ سے اس کی، اس کی مراد کیا ہو جاتی ہے؟ پوشیدہ ہو جاتی ہے اور اس کا حکم بھی بتلایا تھا، خفی کا کیا حکم ہے؟ کہ طلب واجب ہے یعنی اس کے معنی کے اندر طلب کی جائے گی کہ معنی کے اندر کمی پائی جا رہی ہے یا زیادتی پائی جا رہی ہے یہاں تک کہ خفاء دور ہو جائے اور پھر وہ حکم لگایا جائے بھئی کہ وہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ طلب، معنی کے اندر طلب کی جائے گی بھئی کہ معنی میں کمی پائی جا رہی ہے یا معنی کے اندر زیادتی پائی جا رہی ہے۔
اس پر ایک اشکال ہوتا ہے مولانا، اشکال پہلے سن لیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کہا کہ ظاہر کے مقابلے میں کیا ہے؟ خفی۔ ظاہر کے مقابلے میں کیا ہے؟ خفی ہے، تو پھر ان کی تعریف بھی ایک دوسرے کی ضد ہونی چاہیے تھی، حالانکہ ایسا نہیں۔ ظاہر کی تعریف ہوئی تھی کہ نفسِ سننے سے ہی معنی سمجھ میں ا جائے، نفسِ کلام کو سننے سے ہی معنی سمجھ میں ا جائے، تو خفی وہ ہونا چاہیے کہ نفسِ سننے سے معنی سمجھ میں نہ ائے، یہی ہونا چاہیے نا؟ مقابل تبھی بنیں گے کہ ایک میں صرف سننے سے کلام کی مراد کیا ہو جائے؟ ظاہر ا جائے، سمجھ میں ا جائے، تو دوسرے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہاں آپ الگ تعریف کر رہے ہیں کہ نہیں، یہاں بھی صیغے کے اعتبار سے تو معنی ظاہر ہے اور خفاء کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ کسی امرِ خارجی کی وجہ سے آ رہا ہے۔
تو یہ کیسے ایک دوسرے کی ضد ہوئیں؟ ایک دوسرے کے مقابل کیسے ہوئیں؟ ان کی تو تعریف ہی الگ الگ ہے۔ تو جواب یہ ہے مولانا کہ یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں بایں لحاظ کہ ایک قسم ہے ظهور کی اور ایک قسم ہے خفاء کی، اور ظهور کی سب سے ادنیٰ قسم کون سی ہے؟ ظاہر، اور خفاء کی سب سے ادنیٰ قسم کون سی ہے؟ خفی، تو یہ ادنیٰ دونوں ایک دوسرے، ادنیٰ قسم ظهور کی مقابل ہوئی ادنیٰ قسم خفاء کے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ ظهور کی ادنیٰ قسم، یہ خفاء کی ادنیٰ قسم، تو اس اعتبار سے یہ ایک دوسرے کے کیا ہیں؟ مقابل ہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
اچھا! اور پھر اس کی مثالیں گزری تھیں، پہلی مثال تھی: اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَیْدِیَهُمَا۔ اب یہ آیت مولانا ظاہر ہے، کس کے بارے میں؟ سارق کے بارے میں تو ظاہر ہے لیکن طرار اور نباش کے بارے میں کیا ہے؟ خفی ہے، طرار اور نباش۔ طرار کس کو کہتے ہیں؟ جیب قطرے کو، اور نباش کس کو کہتے ہیں؟ کفن چور کو۔
اب بھئی سارق کے بارے میں تو ظاہر ہے، جو بھی سرقہ کرے گا، 10 درہم سے زائد اس کا کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اب یہ طرار اور نباش اگر 10 درہم سے زائد کی چوری کر لیتے ہیں مولانا، ان کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ طرار نے جیب کاٹی، 10 درہم سے زائد تھے یا نباش نے کفن چرایا، 10 درہم سے زائد تھا، تو کیا اب ان کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں مولانا؟ جی؟ تو یہاں ان کے، اس میں خفاء آ گیا، کیا آ گیا؟ خفاء آ گیا، خفاء کیوں آیا؟
طرار اور نباش کا معنی تو ظاہر ہے، طرار کس کو کہتے ہیں؟ جیب کترا، اور نباش کس کو کہتے ہیں؟ کفن چور کو کہتے ہیں، معنی تو ظاہر ہے لیکن امرِ خارجی کی وجہ سے ان میں خفاء آ گیا اور وہ امرِ خارجی کیا ہے؟ کہ ان کا نام الگ ہے، ان کا، ان کو کوئی بھی سارق نہیں کہتا۔ قرآن میں تو آیا: اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ، ان کا ہاتھ کاٹو، اور ان کو تو کوئی سارق کہتا نہیں، تو اب مولانا خفاء آیا امرِ خارجی کی وجہ سے اور وہ امرِ خارجی کیا ہے؟ کہ ان کا نام الگ۔ اب اس میں کیا کرنا واجب ہے؟ طلب کرنا واجب تاکہ خفاء دور ہو جائے، تو اب ہم طلب کریں گے ان کے معنی کے اندر کہ ان کے اندر وہ سرقہ کے معنی کی کمی پائی جا رہی ہے یا سرقہ کے معنی کی زیادتی پائی جا رہی ہے۔
سرقہ کہتے کس کو ہیں؟ کسی غیر کے مالِ محترم محفوظ کو لے لینا خفیہ طور پر، کسی کے مالِ محترم، یعنی قیمت والا ہو، محترم سے کیا مراد ہو؟ مالِ محترم کو مولانا جو قیمت والا ہے، محفوظ ہے، اس کو خفیہ طور پر لے لینا، اب یہ معنی ہم دیکھیں گے طرار اور نباش میں کم پایا جا رہا ہے یا زیادہ؟
طرار میں ہم نے غور کیا تو اس میں اس سرقہ کے معنی کی زیادتی پائی گئی، زیادتی اس لیے پائی گئی کہ چور جو ہے وہ تو خفیہ، دوسرے کی غفلت کے اندر مال کو لے کر جاتا ہے مالِ محفوظ محترم کو، اور یہ کیا کرتا ہے؟ یہ بھی مالِ محفوظ محترم کو خفیہ طور پر لے کر جاتا ہے لیکن وہ تو غفلت کی صورت میں لے کر گیا تھا اور یہ، یہاں تو مالک جاگ رہا ہے، اس کی بیداری کی حالت میں کیا کرتا ہے اس کے مال کو لے جاتا ہے، تو یہاں سرقہ کے معنی کی زیادتی پائی گئی، لہذا اب طرار نے جیب کاٹی، 10 درہم سے زائد ہوئے، وہ، تو پھر کیا کیا جائے گا اس کے ہاتھ کو؟ اس پر ابھی حد جاری کی جائے گی، اور نباش کے اندر اس معنی کی کمی پائی گئی اس لیے کہ مردے وہ کفن چرا کر لے جا رہا ہے اور مردہ جو ہے وہ غفلت کے اعلیٰ درجے پر ہے کہ جہاں بیداری کا امکان ہی نہیں، تو مال محفوظ ہی نہ رہا، مال محفوظ ہی، تو مالِ محفوظ نہیں، مالِ غیر محفوظ کو وہ لے کر جا رہا ہے، لہذا وہاں سرقہ کے معنی کی کمی آ گئی اور کمی کی وجہ سے شبہ آ گیا، اور ضابطہ ہے: اَلْحُدُوْدُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ، حدود کیا ہو جاتی ہیں شبہات کی وجہ سے؟ ساقط ہو جاتی ہیں، لہذا اب اس سے بھی حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
وٰکَذٰلِکَ اور اسی طرح تھا: اَلزَّانِیَةُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ، ہر ایک کو کتنے کوڑے لگاؤ؟ 100 کوڑے لگاؤ۔ اب یہ آیت مولانا زنا کرنے والے کے حق میں تو ظاہر ہے لیکن لوطی کے حق میں کیا ہے؟ خفی ہے، خفی ہے، تو آپ کیا کہ، اور وہ کیا؟ خفی کس وجہ سے ہے؟ صیغے کی وجہ سے؟ نہیں، لوطی کا معنی کیا ہے؟ ظاہر ہے، لواطت کرنے والا، لیکن پھر خفاء آیا کس کی وجہ سے؟ امرِ عام، امرِ خارجی کی وجہ سے، اور وہ امرِ خارجی کیا ہے؟ کہ اس کا نام الگ ہے، اس لوطی کو کوئی بھی زانی نہیں کہتا، تو اب طلب کی جائے گی کہ اس کے اندر زنا کے معنی کم پایا جا رہا ہے یا زیادہ پایا جا رہا ہے؟ زیادہ پایا جا رہا ہے۔
تو یہاں پھر دو مذہب ہیں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے اندر زنا کا معنی کم پایا جا رہا ہے، اور صاحبین فرماتے ہیں اس میں زنا کا معنی کی زیادتی ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کمی ہے اور لہذا حد کیا ہو جائے گی؟ شبہ آ گیا تو حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، اور صاحبین فرما رہے ہیں زیادتی پائی جا رہی ہے معنی کی، تو جب ادنیٰ درجے کے اندر زنا کے اندر جب معنی کم تھا وہاں، کوڑے لگائے جاتے ہیں، تو اعلیٰ درجے میں جہاں حرمت زیادہ ہے وہاں بطریقِ اولیٰ کیا کیے جائیں گے؟ کوڑے لگائے جائیں گے۔
امام صاحب کہتے ہیں بھئی معنی کی کمی کیسے؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ زنا کہتے کس کو ہیں بھئی؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، زنا کس کو کہتے ہیں؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، اور یہی معنی وط، لواطت میں بھی پایا جا رہا ہے، یہاں بھی وطی محلِ حرام کے اندر ہے لیکن یہاں کمی ہے اس معنی کے اندر کہ یہ محلِ شہوت نہیں ہے، یہ محلِ شہوت نہیں، یہاں شہوت جانبین سے نہیں ہوتی جبکہ زنا میں شہوت جانبین سے ہوتی ہے، تو یہاں پر زنا کے معنی کی کمی پائی گئی اور شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے اب حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں زنا کے معنی کی زیادتی پائی جا رہی ہے بھئی، یعنی اس، کہ زنا کس کو کہتے تھے؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، تو وہ، تو یہاں پر حرمت اس سے بھی زیادہ ہے بھئی اس محل سے بھی زیادہ، کس لحاظ سے؟ کہ وہ جہاں وہ محلِ حرام زنا والا وہ تو کبھی کبھی حلت کو بھی قبول کر لیتا ہے، حلال بھی ہو جاتا ہے، کس صورت میں؟ نکاح، کبھی نکاح کی صورت میں وہ حلال بھی ہو جایا کرتا ہے لیکن یہاں تو حلال ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں، لہذا یہاں حرمت اس سے بھی بڑھ کر ہے تو معنی کی زیادتی ہوئی، تو جب ادنیٰ درجے کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ 100 کوڑے لگائے جاتے ہیں تو یہاں بطریقِ اولیٰ کیا لگائے جائیں گے؟ 100 کوڑے لگائے جائیں گے۔
سمجھ میں آیا؟ تو امام صاحب کے نزدیک نہیں لگائے جائیں گے، اس کے بارے میں چنانچہ مختلف روایات آتی ہیں کہ لوطی کو کیا اس کی، اس کی لوطی کی کیا سزا ہے؟ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کو پہاڑ پر سے گرا دیا جائے، مار دیا جائے، بعض میں آتا ہے کہ اس کو کھڑا کر کر اس پر دیوار گرا دی جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو دیوار گرا دی جائے، اور بعض میں آتا ہے کہ روایات میں آتا ہے کہ اس کو جلا دیا جائے بھئی، بعض روایات میں آتا ہے کہ ان دونوں فاعل اور مفعول دونوں کو کیا کر دیا جائے؟ قتل کر دیا جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو روایات کا اختلاف بھی بتلاتا ہے کہ ان پر حد جاری، 100 کوڑے نہیں لگیں گے بلکہ ان کے لیے اور کوئی سزا ہو گی بھئی۔
وَلَوْ حَلَفَ لَا یَاْکُلُ فَاکِهَةً کَانَ ظَاهِرًا فِیْمَا یُتَفَکَّهُ بِهٖ خَفِیًّا فِیْ حَقِّ الْعِنَبِ وَالرُّمَّانِ۔
ایک شخص نے قسم اگر اٹھائی: لَا یَاْکُلُ فَاکِهَةً، کہ وہ فاکہہ نہیں کھائے گا، کیا نہیں کھائے گا؟ فاکہہ।
کَانَ ظَاهِرًا، تو یہ قول ظاہر ہے فِیْمَا، ان پھلوں کے بارے میں یُتَفَکَّهُ بِهٖ، جن سے لذت حاصل کی جاتی ہے، جن سے کیا حاصل کی جاتی ہے؟ خَفِیًّا فِیْ حَقِّ الْعِنَبِ وَالرُّمَّانِ، لیکن خفی ہے یہ قول انگور اور انار کے حق میں، انگور اور، انار کے حق میں۔
ایک شخص نے قسم اٹھائی: لَا اٰکُلُ فَاکِهَةً، میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا، فاکہہ نہیں کھاؤں گا۔
اب وہ اور پھل کھائے گا تو بالاتفاق حانث ہو جائے گا لیکن رمان، انگور اور، انار اور انگور، عنب اور رمان میں خفاء آیا اس، خفی ہے یہ قول اس کے بارے میں بھئی۔
چنانچہ طلب کی جائے گی، کیا کی جائے گی؟ طلب کی جائے گی، طلب کی جائے گی، طلب کی جائے گی۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر اس نے انگور یا انار کھا لیا تو حانث نہیں ہو گا، صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر اس نے انگور یا انار کھایا تو حانث ہو جائے گا۔
اختلاف سمجھ میں آیا؟ ایک شخص نے کیا کہا تھا؟ فاکہہ نہیں کھاؤں گا۔ اب اس نے انگور اور انار کھایا تو امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ حانث ہو جائے گا، صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں حانث نہیں ہو گا، صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ حانث ہو جائے گا۔
بھئی وجہ یہ کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ رمان اور عنب کے بارے میں خفاء آ گیا اس لیے کہ اس نے کیا کہا ہے؟ فاکہہ نہیں کھاؤں گا، کیا نہیں کھاؤں گا؟ اور فاکہہ اس پھل کو کہتے ہیں جس کو لذت کے طور پر کھایا جائے۔
فاکہہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ پھل جس کو کس لیے کھایا جائے؟ لذت کے لیے کھایا جائے، لذت کے لیے کھایا جائے۔
جبکہ یہ انگور جو ہیں بعض علاقوں میں بطورِ غذا کے بھی ان کو کھایا جاتا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ بطورِ، بطورِ غذا کے بھی کھا لیا کرتے ہیں، جہاں انگور زیادہ ہوں تو بھئی کھانے کے بجائے اس کیا کر لیتے ہیں؟ اسی کو بطورِ غذا کے کھا لیا کرتے ہیں۔
اور انار جو ہے اس کو بطورِ لذت کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے جیسے انگور کو، انگور کو لذت کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے لیکن ساتھ ساتھ بعض علاقوں میں اس کو بطورِ غذا کے بھی کھایا جاتا ہے، اور انار اس کو لذت کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے اور اس کو دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، کس طور پر؟ دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوا کے طور پر۔
تو فاکہہ کے تو یہ انگور اور رمان کے انگور اور انار کے حق میں یہ قول خفی ہوا۔ اس لیے کہ اس نے تو کہا تھا: "میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا"۔ فاکہہ تو وہ پھل ہیں جن کو صرف لذت کے طور پر کھایا جاتا ہے اور یہ انگور اور انار کو تو صرف لذت کے طور پر نہیں کھایا جاتا بلکہ ان کو تو غذا اور تداوی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تو لہذا ان کے اندر فاکہہ کے معنی کی کمی پائی گئی۔ کیا پائی گئی؟ فاکہہ تو وہ پھل جو صرف کس لیے کھایا جائے گا؟ لذت کے لیے۔ تو ان کو تو بطور غذا کے بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا کے بھی استعمال کیا جاتا ہے تو ان میں فاکہہ کے معنی کی کیا آ گئی؟ کمی آ گئی۔ کیا آ گئی؟ کمی آ گئی بھئی۔
جب ایک آدمی بھئی غذا کے طور پر کھا رہا ہے تو وہ لذت کے لیے کھا رہا ہے یا غذا کے طور پر کھا رہا ہے؟ غذا کے طور پر۔ یا انار کھا رہا ہے، دوا کے طور پر کھا رہا ہے۔ تو ان میں کیا ہوئی؟ فاکہہ کے معنی کی کمی آ گئی۔ جب کمی آ گئی تو اب مولانا! اب وہ اس کو کھا لے گا تو اس صورت میں حانث نہیں ہو گا، حانث۔ تو یہ اس کے حکم میں داخل نہیں ہوا۔
اور جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ان کے اندر فاکہہ تفکہ کے معنی کی زیادی ہے۔ تفکہ کس کو کہتے ہیں؟ لذت حاصل کرنا۔ ان میں تفکہ کے معنی کی زیادی ہے۔ تفکہ کے معنی کی زیادی اس لیے، کہتے ہیں: یہ ان میں سب سے پاکیزہ ہیں، پھلوں میں کیا ہیں؟ ان میں سب سے پاکیزہ ہیں، سب سے زیادہ لذیذ تر ہیں بھئی۔ تو ان میں تفکہ کے معنی کی کیا پائی گئی؟ زیادی پائی گئی۔ لہذا ان کے کھانے والا بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی؟ اختلاف سمجھ میں آ گیا؟ جی۔
تو کہتے ہیں: "ولو حلف لا يأكل فاكهة" اگر قسم اٹھائی کسی نے، وہ فاکہہ نہیں کھائے گا۔ تو فاکہہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ پھل جس کو بطور تفکہ کے کھایا جائے، تفکہ کے طور پر، لذت کے طور پر۔ "كان ظاهراً" تو یہ قول ظاہر ہو گا "فيما" ان پھلوں کے حق میں "يتفكه به" جن سے لذت حاصل کی جاتی ہے۔ "خفياً في حق العنب والرمان" اور خفی ہو گا کس کے حق میں؟ انگور اور انار کے حق میں۔ "وحكم الخفي" اور خفی کا حکم کیا ہے؟ "وجوب الطلب" طلب طلب کرنا واجب ہے۔ "حتى يزول عنه الخفاء" یہاں تک کہ خفا کیا ہو جائے؟ "حتى يزول عنه الخفاء" زائل ہو جائے۔
"وأما المشكل" بھئی! دوسری قسم بھئی، خفا کے اعتبار سے پہلی قسم خفی تھی، دوسری کیا ہے؟ مشکل۔ "وأما المشكل فهو ما ازداد خفاء على الخفي" وہ ہے جو بڑھ جائے بطور، بھئی لحاظ سے خفا کے، وہ بڑھ جاتا ہے "على الخفي" خفی پر بھی۔ "كأنه بعد ما خفي على السامع حقيقته" گویا کہ وہ بعد اس کے کہ خفی ہو گئی سامع پر اس کی حقیقت، "دخل في أشكاله وأمثاله" وہ داخل ہو گیا اپنے ہم شکلوں اور ہم مثلوں میں، "حتى لا ينال" حتى "لا ينال المراد إلا بالطلب" یہاں تک کہ مراد کو پایا نہیں جا سکتا مگر کس کے ساتھ؟ طلب کے ساتھ، "ثم بالتأمل" پھر غور و فکر کے ساتھ، "حتى يتميز عن أمثاله" یہاں تک کہ وہ جدا ہو جائے کس سے؟ اپنے ہم مثلوں سے، اپنے ہم۔ یاد رکھو مولانا! مشکل کے اندر انہوں نے کیا بتلایا؟ خفی سے بھی بڑھ کر خفا ہوتا ہے۔ خفی کے اندر تو، یعنی اس میں ایک درجے کا خفا ہے، اس میں کتنے درجے کا خفا ہے؟ دو درجے کا خفا ہے مولانا، دو درجے کا خفا ہے۔ دو درجے کا خفا ہے۔
وہاں کیا تھے؟ وہاں جی؟ وہاں خفا آیا تھا امر خارجی کی وجہ سے، جی؟ تو وہاں صرف کیا کرنا پڑے؟ طلب کرنا پڑے، تو یہاں اس کی حقیقت بھی خفی ہو جاتی ہے اور پھر وہ اپنے ہم شکلوں میں بھی چھپ جاتا ہے۔ تو اس کو طلب بھی کرنا پڑے گا جیسے اس میں طلب تھی، لیکن یہاں وہاں صرف طلب تھی خفی کے اندر، یہاں پھر غور و فکر بھی کرنا پڑے گا۔ تو یہاں دو کام وہاں ایک کام تھا صرف کیا کرنا پڑے گی؟ خفی میں طلب۔ یہاں پر طلب کے ساتھ ساتھ غور و فکر بھی کرنا پڑے گا۔
مثال: دیکھو بھئی! آپ کا ایک ساتھی ہے، وہ کمرے خالی پڑے ہوئے ہیں، آپ کا ساتھی آپ سے چھپ گیا۔ کیا ہوا؟ کسی ایک کمرے میں جا کر چھپ گیا۔ اب آپ کیا کریں گے؟ صرف کمروں میں جا کر طلب کریں گے، کیا کریں گے؟ طلب، تو کسی ایک کمرے میں وہ آپ کو مل جائے گا۔ غور و فکر کرنا پڑے گا؟ غور و فکر نہیں کرنا پڑے گا، صرف طلب کرنا پڑے گی۔
اور ایک صورت یہ ہے کہ آپ کا ساتھی آپ سے چھپا اور پھر کسی ایسے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا جہاں اس جیسے اور بھی طالب علم بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب یہاں آپ کو دو کام کرنا پڑیں گے؛ پہلے اس کی طلب کرنا پڑے گی کس کمرے میں ہے؟ اور پھر جب وہاں پہنچے تو پھر اب آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ غور و فکر بھی کرنا پڑے گا کہ کون سا والا ہے یہ آٹھ، دس، پندرہ، بیس جو بیٹھے ہیں ان میں سے کون سا والا ہے؟ سمجھ میں آیا؟ تو خفی میں صرف طلب تھی اور یہاں پر طلب کے ساتھ بعد پھر کیا کرنا پڑے گا؟ غور و فکر بھی کرنا پڑے گا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی! دوبارہ دیکھیے۔ "وأما المشكل" مشکل جو ہے، "فهو ما ازداد خفاء" وہ ہے جو بڑھ جائے بااعتبار خفا کے "على الخفي" کس پر بڑھ جائے؟ خفی پر بھی بڑھ جاتا ہے۔ "كأنه بعد ما خفي على السامع حقيقته" گویا کہ بعد اس کے کہ جب مخفی ہو گئی تھی سامع پر اس کی حقیقت، سامع پر کیا ہو گئی تھی حقیقت؟ مخفی ہو گئی تھی، "دخل في أشكاله وأمثاله" یہ اپنے ہم شکلوں اور ہم مثلوں میں بھی داخل ہو گیا، "حتى" یہاں تک "لا ينال المراد" نہیں پایا جا سکتا مراد کو "إلا بالطلب" مگر طلب کے ساتھ، "ثم بالتأمل" پھر طلب بھی کی جائے گی اور اس کے بعد غور و فکر بھی ہو گا، "حتى يتميز عن أمثاله" یہاں تک کہ وہ ممتاز ہو جائے، جدا ہو جائے اپنے ہم شکلوں، ہم مثلوں سے۔ "ونظيره" نظیر اس کی یہ مولانا!
سمجھ میں آیا بھئی؟
تو خفی میں مولانا! خفا آئے گا عارض کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ عارض کی وجہ سے، یاد رکھو یہ بات۔ خفی میں خفا آئے گا عارض کی وجہ سے، جبکہ مشکل میں خفا آئے گا دقتِ معنی کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ دقتِ معنی کی وجہ سے، معنی بڑا دقیق ہو گا، باریک، گہرا گہرائی میں بھئی۔ معنی بڑا دقیق ہو گا۔
تو خفی میں صرف طلب ہو گی جبکہ مشکل میں طلب اور تأمل دونوں ہوں گے۔ خفی میں خفا کس کی وجہ سے مولانا؟ عارض کی وجہ سے، اور مشکل میں خفا کس کی وجہ سے؟ دقتِ معنی کی وجہ سے بھئی۔ دیکھیے بھئی!
"ونظيره" اور اس کی نظیر "في الأحكام" احکام کے اندر وہ ہے کہ "حلف" قسم اٹھائی کسی شخص نے "لا يأتدام" ادام کہتے ہیں مولانا سالن کو، کس کو کہتے ہیں؟ سالن۔ "لا يأتدام" وہ سالن نہیں کھائے گا، ایک شخص نے قسم اٹھائی: "میں سالن نہیں کھاؤں گا"۔ "فإنه ظاهر في الخل والدبس" تو یہ قول اس کا، یہ قسم اس کی ظاہر ہے سرکے کے بارے میں اور کھجور کے شیرے کے بارے بارے میں۔ دبس کس کو، خل کس کو کہتے ہیں؟ سرکہ۔ اور دبس کس کو کہتے ہیں؟ کھجور کا شیرہ بھئی، کھجور کا شیرہ۔ "فإن" تو یہ ان کے بارے میں تو اس کا قول ظاہر ہے، سرکے کو بھی کھا لے گا تو حانث، انگور کے شیرے، کھجور کے شیرے کو بھی کھایا تو حانث۔ "فإنما هو مشكل في اللحم والبيض والجبن" ہاں، اس کا یہ قول مشکل ہے کس کے بار، کس کے حق میں؟ لحم گوشت، بھنا ہوا گوشت مراد ہے، "والبيض" اور انڈے کے بارے میں، "والجبن" اور پنیر کے بارے میں۔
"حتى" یہاں تک کہ "يطلب" طلب کی جائے گی "في معنى الإتدام" کس کے اندر؟ ایقدام کے معنی کے اندر بھئی، سالن کے ایقدام بھئی۔ "ثم يتأمل" پھر کیا کیا جائے گا؟ غور و فکر کیا جائے گا "أن ذلك المعنى هل يوجد في اللحم والبيض والجبن أم لا" کہ کیا یہ سالن والا معنی گوشت، بھنے ہوئے گوشت اور انڈے میں اور پنیر میں پایا جاتا ہے یا پایا "أم لا" یا نہیں پایا جاتا بھئی؟ لحم سے کیا مراد ہے میں نے بتلایا؟ لحمِ مشوی مراد ہے، بھنا ہوا گوشت بھئی۔
ایک آدمی نے قسم اٹھائی، کیا قسم اٹھائی؟ کہ میں سالن نہیں کھاؤں گا۔ اب سب سے پہلے تو ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ سالن کے معنی میں طلب کرنی پڑے گی کہ سالن کہتے کس کو ہیں؟ کس کو کہتے ہیں سالن؟ بتاؤ بھئی!
شوربہ کس کو کہتے ہیں؟
جی؟
بھئی سالن ادام کہتے ہیں وہ چیز جو روٹی کے تابع رکھ کر جسے کھایا جائے اور روٹی پر اس کا رنگ چڑھے۔ سالن کس کو کہتے ہیں؟ جسے روٹی کے تابع رکھ کر کھایا جاتا ہے روٹی کے ساتھ، اور روٹی پر اس کا رنگ چڑھتا ہے، اس کو کہتے ہیں ادام۔
تو دیکھو، اس شخص نے قسم اٹھائی تھی کہ میں سالن نہیں کھاؤں گا۔ سب سے پہلے ہمیں کیا کرنا پڑا؟ سالن کے معنی میں غور کرنا پڑا، طلب کرنی پڑی کہ سالن کہتے کسے ہیں؟ تو کیا پتہ چلا؟ سالن کس کو کہتے ہیں؟ جس کو روٹی کے تابع رکھ کے کھایا جائے اور روٹی پر اس کا رنگ چڑھے۔
طلب کر لی، اب مولانا! غور و فکر کرنا پڑے گا کہ یہ سالن والا معنی بھنے ہوئے گوشت، انڈے اور پنیر میں پایا جا رہا ہے یا نہیں؟ پنیر میں پایا جا رہا ہے یا نہیں؟ چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، حضرت شیخین رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سالن، کہ یہ جو ہے اب ہمیں سالن کے معنی میں غور کر لیا مولانا! سالن کس کو کہتے ہیں؟ جس کو روٹی کے تابع رکھ کر، روٹی کے ساتھ کھایا جائے تبعاً، اور روٹی پر اس کا رنگ بھی چڑھے۔ اب معنی غور کریں گے کہ لحم میں، بیض میں اور جبن کے اندر اس کا معنی پایا جاتا ہے یا معنی نہیں پایا جاتا بھئی؟ تو امام حضرت شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اگر اس شخص نے گوشت، لحم، بیض اور جبن کھایا تو حانث نہیں ہو گا، اس لیے کہ ان کے اندر ادام کے معنی کی کمی پائی جا رہی ہے۔ ادام کے معنی کی، سالن کے معنی کی کمی پائی جا رہی ہے۔ کمی کیوں پائی جا رہی ہے؟ اس لیے کہ ان کو ہمیشہ روٹی کے تابع تبعاً روٹی کے تابع رکھ کر نہیں کھایا جاتا بلکہ ویسے بھی کھا لیا جاتا ہے۔ ویسے بھی کھا لیا جاتا ہے، اور سالن تو کس کو کہتے ہیں جو روٹی کے تابع، روٹی کے ساتھ تبعاً کھایا جائے اور یہ تو بغیر روٹی کے بھی کھائے جاتے ہیں۔
سمجھ میں آیا؟ اور روٹی پر ان کا رنگ بھی نہیں چڑھتا، لہذا ان کے اندر سالن ادام کے معنی کی کمی آ گئی، جب کمی آ گئی تو یہ اس میں داخل، اس سے حانث نہیں ہو گا، اس کے کھانے سے حانث نہیں ہو گا۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی بھی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے کھانے سے حانث ہو جائے گا۔
حانث کیوں ہو گا؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ یہ بھی ادام ہیں، یہ بھی کیا ہیں؟ ادام ہیں، سالن ہیں۔ دلیل کیا ہے؟ دلیل وہ دیتے ہیں کہ ادام ماخوذ ہے معادمت سے، کس سے؟ معادمت سے۔ معادمت کا معنی ہے موافقت، موافقت، معادمت۔ تو موافقت، اور یہ چونکہ اور جو چیز بھی روٹی کے ساتھ کھائی جائے اس کی روٹی کے ساتھ موافقت ہے بھئی۔ جو چیز بھی روٹی کے ساتھ کھائی جائے اس کی روٹی کے ساتھ موافقت ہے، تو ان کو بھی روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے تو روٹی کے ساتھ ان کی کیا آ گئی؟ موافقت آ گئی، لہذا یہ بھی ادام ہوئے، لہذا ان کے، یہ اس کو کھانے، اس سے قسم والا شخص اگر ان کو کھا لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ نیز کہتے ہیں: حدیث میں بھی تو آتا ہے، حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "سيد إدام أهل الجنة اللحم"۔
جی؟ "سيد إدام أهل الجنة اللحم" جنت والوں کے سالنوں کا سردار لحم ہو گا، گوشت ہو گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا ہو گا جنت کے سالنوں کا سالن کیا، سردار کیا ہو گا؟ گوشت ہو گا بھئی۔
کہتے ہیں: دیکھا! معلوم ہوا لحم ادام ہے، ادام ہے بھئی، حدیث میں آ گیا، بلکہ ادام کا سردار ہے بھئی، جنت کے جو ادام ہوں گے ان کا سردار ہے۔
جواب ہم دیتے ہیں مولانا! جواب مولانا! کیا آپ نے کیا ذکر کیا کہ ادام کس سے ماخوذ ہے؟ معادمت سے، اور معادمت کس کو کہتے ہیں؟ موافقت کو، اور جو چیز بھی روٹی کے ساتھ کھائی جائے اس کی روٹی کے ساتھ کیا آ گئی؟ موافقت، اور ان کو بھی کیا کیا جاتا ہے؟ روٹی کے ساتھ کھا لیا جاتا ہے، تو ان کی بھی روٹی کے ساتھ موافقت آ گئی، لہذا یہ بھی ادام ہوئے۔ جواب یہ کہ ٹھیک ہے، ہم مانتے ہیں کہ ادام کس سے ماخوذ ہے؟ معادمت سے۔
لیکن ان کے، اور معادمت کا کیا معنی ہے؟ موافقت، لیکن یہاں موافقت کامل طور پر نہیں پائی جا رہی، موافقت کامل طور پر تب ہے کہ جب ہمیشہ روٹی کے تابع رکھ کر کھایا جائے، ان کو ہمیشہ روٹی کے ساتھ تابع رکھ کر نہیں کھایا جاتا۔ نیز، موافقت کامل تب آئے گی جب روٹی پر ان کا رنگ بھی چڑھتا ہو اور ان کا روٹی پر رنگ نہیں چڑھتا، تو یہاں موافقت کامل طور پر نہیں آئی، تو معنی میں کمی آ گئی، معنی میں کیا آ گئی؟ کمی آ گئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ نیز آپ نے حدیث پیش کی۔
حدیث کا جواب کہ ہم دنیا کی بات کر رہے ہیں اور آپ نے کہاں کی بات شروع کر دی؟ آخرت کی بات کر دی بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو دنیاوی چیزوں کو آخرت کی چیزوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی، آخرت کا معاملہ اور ہے، دنیا کا معاملہ اور ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ جی؟ سب کو؟ جی۔
تو دوبارہ دیکھیے مولانا! "ونظيره في الأحكام" احکام میں اس کی نظیر جو ہے: "حلف" ایک شخص نے قسم اٹھائی "لا يأتدام" وہ سالن نہیں کھائے گا، "فإنه ظاهر في الخل والدبس" یہ قسم ظاہر ہے مولانا سرکے کے بارے میں بھی اور انگور کے، کھجور کے شیرے کے بارے میں بھی۔ "فإنما هو مشكل في اللحم والبيض والجبن" یہ مشکل ہے مولانا کس کے بار، کس کے حق میں؟ گوشت، انڈے اور پنیر میں۔ جبن، اس میں دو تین لغت ہیں: جُبْن، جُبْن بھی کہنا جائز ہے، یہ بھی ایک لغت ہے۔ جُبُن بغیر شد کے بھی ہے، اور جُبُنِّي نون کے شد کے ساتھ بھی، تینوں لغتیں ہیں بھئی۔
حتیٰ تو یہ مشکل ہے، "حتى يطلب في معنى الإتدام" یہاں تک کہ طلب کی جائے گی کس کے اندر مولانا؟ ایقدام کے معنی کے اندر، "ثم يتأمل" پھر غور و فکر کیا جائے گا "أن ذلك المعنى هل يوجد في اللحم والبيض والجبن أم لا" کہ یہ معنی لحم کے اندر مولانا، بیض اور جبن کے اندر پایا جاتا ہے یا نہیں پایا جاتا؟
چلیے مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔...