حروفِ معانی میں سے دوسرا حرف 'فا' ہے جس کی بحث ہم نے کل شروع کی تھی۔ فا کا ایک حقیقی معنی بتلایا اور ایک مجازی معنی۔ بھئی! حقیقی معنی کیا ہے؟ فا تعقیب کے لیے آئے گی تعقیب مع الوصل کے لیے۔ تعقیب کا کیا معنی تھا؟ پیچھے آنا یعنی فا کا مابعد جو ہے وہ ماقبل کے بعد آئے گا، بعد اس پر مرتب ہوگا مع الوصل، کس کے ساتھ؟ وصل کے ساتھ یعنی دونوں میں اتصال ہوگا مہلت اور تاخیر نہیں ہوگی۔
اسی وجہ سے اس کو استعمال کس میں کیا جاتا ہے؟ جزا میں، اس لیے کہ جزا بھی کس کے بعد آیا کرتی ہے؟ شرط کے بعد آیا کرتی ہے بھئی! اور اس پر پھر بہت سی مثالیں ذکر کی تھیں مثال کے طور پر: ایک شخص نے دوسرے سے کہا "میں نے یہ غلام تجھ پر بیچ دیا ایک ہزار کے بدلے میں" تو دوسرے نے کہا "فَهُوَ حُرٌّ"، وہ فا لے کر آیا اور فا کس لیے آیا کرتی ہے؟ تعقیب مع الوصل یعنی فا کا مابعد جو ہے وہ مرتب ہوتا ہے ماقبل پر، تو اس نے حریت کو مرتب کیا ماقبل پر اور ماقبل میں ہے بیع کا ذکر، تو معلوم ہوا اس نے بیع کو قبول کیا ہے اور پھر غلام کو تو یہاں پر فا کا معنی ہے تعقیب مع الوصل اور یہ معنی تقاضا کرتا ہے کہ ماقبل میں کس کو ثابت کیا جائے؟ قبول کو ثابت کیا جائے، اقتضاءً قبول کو پھر ہمیں ثابت کرنا پڑا تو قبولیت ثابت ہوگی اس نے بیع کو قبول کیا اور پھر غلام کو کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا، تو غلام اس کی طرف سے آزاد ہوا جب اس کی طرف سے آزاد ہوا تو اب وہ کیا کرے گا؟ اس کے غلام کے ثمن اس پر لازم ہوگئے، ثمن اس پر لازم ہوگئے۔
اور اس کے بجائے اگر اس نے "وَهُوَ حُرٌّ" یا "هُوَ حُرٌّ" کہا تو اس صورت میں یہ غلام آزاد نہیں ہوگا بلکہ یہ بیع کو رد کرنا ہوگا اس لیے کہ واؤ لایا ہے یا واؤ نہیں لایا اور تو اس صورت میں تعقیب مع الوصل والا فائدہ حاصل نہیں ہوگا بھئی! اسی طرح کسی شخص نے درزی سے کہا کہ "دیکھو کیا یہ کپڑا میری قمیض کے لیے کافی ہے؟" اس نے کہا "ہاں کافی ہے" تو اس نے پھر کہا "فَاقْطَعْهُ" پس اس کو تو کیا کر لے؟ کاٹ لے، تو فا لے کر آیا اور فا کا مابعد مرتب ہوتا ہے کس پر؟ ماقبل پر، معلوم ہوا اس نے قطعِ ثوب کو مرتب کیا ہے کس چیز پر؟ کافی ہونے پر، کفایت پر کہ اگر یہ قمیض کے لیے کافی ہے تو اس کو کاٹ دے۔ تو لہٰذا اب اگر درزی کاٹے اور وہ پورا نہ ہو تو اس صورت میں درزی کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا کیونکہ وہ فا لے کر آیا اپنے کلام میں، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر کافی ہے تو پھر کیا کر دے کپڑے کو؟ کاٹ دے، معلوم ہوا کاٹنے کی اجازت، حکم اسی صورت میں ہے جبکہ وہ کپڑا قمیض کے لیے کافی ہو ورنہ اجازت نہیں بھئی!
لیکن اگر اس کے بجائے اس نے "اقْطَعْهُ" یا "وَاقْطَعْهُ" کہہ دیا تو اس صورت میں درزی پر ضمان نہیں آئے گا اگر کافی نہ ہوا اس لیے کہ وہ فا نہیں لے کر آیا، فا ہوتی تو وہ تعقیب مع الوصل کا فائدہ دیتی، یہاں فا ہی نہیں تو تعقیب مع الوصل کا فائدہ بھی نہیں، لہٰذا درزی پر ضمان نہیں آئے گا بھئی! اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی درزی نے کہا تو تھا کہ "ہاں یہ کپڑا آپ کی قمیض کے لیے کافی ہے" اس پہ تو ضمان آنا چاہیے، کہتے ہیں نہیں بھئی! اس نے زیادہ سے زیادہ ایک جھوٹی خبر دی تھی اور جھوٹی خبر دینے کی وجہ سے کسی پر ضمان نہیں آیا کرتا۔
اسی طرح بھئی! کچھ اور مثالیں بھی ذکر کیں اور پھر بتلایا تھا فا کا دوسرا معنی، بھئی فا کا دوسرا معنی کیا ہے؟ فا علت کو بیان کرنے کے لیے آیا کرتی ہے بھئی! یہ فا کا مجازی معنی ہے۔ اور اس صورت میں ایک حکم ہوگا اور ایک علت ہوگی، تو فا کا کبھی ایسا ہوگا مابعد حکم ہوگا اور فا کے مابعد علت ہوگی اور کبھی اس کا عکس ہوگا ماقبل میں علت ہوگی اور فا کے مابعد حکم ہوگا اس لیے کہ کلامِ عرب میں اسی طرح ہے۔ فا کبھی حکم پر داخل ہوتی ہے اور کبھی علت پر داخل ہوتی ہے۔ اور یہ چونکہ فا کا مجازی معنی ہے اور ہر مجازی معنی کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری، پہلی شرط کیا؟ کہ وہ محل مجازی معنی کا احتمال رکھتا ہو اور ثانی یہ کہ وہاں تععینِ مجاز اور تعذرِ حقیقت پر کوئی دلیل بھی قائم ہو بھئی!
چنانچہ اس پر اب کچھ مثالیں پھر ذکر کی تھیں انہوں نے، پہلے وہ مثالیں ذکر کیں جن کے اندر مابعد فا کا علت ہے بھئی! فا کا مابعد کیا ہے؟ علت ہے۔ جیسے غلام سے کہا "أَدِّ إِلَيَّ أَلْفًا فَأَنْتَ حُرٌّ"، تو مجھے ایک ہزار ادا کر کیونکہ تو آزاد ہے، کیونکہ تو آزاد ہے۔ تو یہ "فَأَنْتَ حُرٌّ" یہ علت ہے بھئی! اور "أَدِّ إِلَيَّ أَلْفًا" یہ کیا ہے؟ حکم ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یہ حکم ہے بھئی! اور یہ حکم ہے بھئی! تو اب یہاں پر دیکھیے یہ میں نے کونسا معنی کیا؟ مجازی معنی اور مجازی معنی ٹھیک بنتا ہے معلوم ہوا یہ کیا محل کیا ہے مجازی معنی کا احتمال؟ کیا مجازی معنی کیا؟ "ادا کر تو مجھے ایک ہزار کیونکہ تو آزاد ہے"۔ اور نیز دوسری شرط تععینِ مجاز اور تعذرِ حقیقت پر دلیل بھی قائم ہے اور وہ کیا دلیل ہے؟ کہ پہلے جملہ انشائیہ ہے اور "فَأَنْتَ حُرٌّ" فا کے مابعد کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے، تو لہٰذا یہاں عطف نہیں ہو سکتا، جب عطف نہیں ہو سکتا تو فا تعقیب مع الوصل کے لیے نہ ہوئی بلکہ کس کے لیے ہوئی؟ بیانِ علت کے لیے ہوئی مجازی معنی کے لیے ہوئی بھئی! تو لہٰذا اس صورت میں کہتے ہیں غلام فی الحال آزاد ہو جائے گا اگرچہ وہ کچھ بھی ادا نہ کرے، البتہ اس پر ایک ہزار دین ہو جائے گا، قرض ہو جائے گا اسے ادا کرنے پڑیں گے۔
اسی طرح اگر کسی مسلمان نے حربی سے کہا "اِنْزِلْ فَأَنْتَ آمِنٌ"، تو کہتے ہیں وہ مامون ہوگا اگرچہ وہ قلعے سے نیچے نہ اترے بھئی! اس لیے کہ یہاں پر وہ فا لے کر آتا ہے آیا ہے اور فا کا یہاں حقیقی معنی ممکن نہیں ہے بھئی! اس لیے کہ "اِنْزِلْ" فعلِ امر ہے جملہ انشائیہ اور "أَنْتَ آمِنٌ" کیا ہے؟ جملہ خبریہ، تو لہٰذا عطف درست ہی نہیں بھئی! جملہ خبریہ کا عطف جملہ انشائیہ پر نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا مجازی معنی لینا پڑیں گے اور مجازی معنی کا احتمال بھی ہے، صحیح ہے یہاں پر بھئی! "تو اتر کیونکہ تو امن والا ہے، امان ہے تجھے بھئی!" صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "تجھے امان ہے"۔
اس کے بعد "وَفِي الْجَامِعِ" یہاں سے وہ کچھ مثالیں وہ مسئلے ذکر کریں گے جن کے میں فا کا مابعد حکم ہے اور ماقبل میں علت ہے، ماقبل میں علت ہے۔ "وَفِي الْجَامِعِ" اور جامع صغیر میں ہے "مَا إِذَا قَالَ أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ فَطَلِّقْهَا"، بھئی ایک شخص ہے اس نے دوسرے شخص کو وکیل بنایا بیوی کو طلاق دینے کا یا اس کو اختیار دیا، میں نے بتلایا اختیار مجلس تک ہوتا ہے اور توکیل مجلس کے بعد بھی رہتی ہے بھئی! تو اب دوسرے شخص کو کہا "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ"، "میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے فَطَلِّقْهَا، تو اس کو طلاق دے دے"۔ تو یہاں پر مولانا! اب یہاں فا کا حقیقی معنی یعنی تعقیب مع الوصل یعنی عطف کے لیے اس کو بنانا یہ درست نہیں ہے، کیوں درست نہیں ہے؟ اس لیے کہ "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ" یہ جملہ خبریہ ہے اور "فَطَلِّقْهَا" یہ "طَلِّقْهَا" جملہ انشائیہ ہے امر ہے اور چونکہ جملہ انشائیہ کا عطف جملہ خبریہ پر نہیں ہو سکتا تو مجازی حقیقی معنی متعذر ہوا تو کونسا معنی لیں گے؟ مجازی معنی اور مجازی معنی کیا ہے؟ فا کس لیے آیا کرتی ہے؟ بیانِ علت کے لیے آیا کرتی ہے، تو ترجمہ یہ ہوا "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ"، میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے "فَطَلِّقْهَا"، اس لیے تو اسے طلاق دے دے، اس لیے تو اسے طلاق دے دے۔
"فَطَلَّقَهَا فِي الْمَجْلِسِ"، پس وکیل نے طلاق دے دی اس کی بیوی کو "فِي الْمَجْلِسِ" اسی مجلس میں، دیکھا "فِي الْمَجْلِسِ" کہا اس لیے کہ اس نے وکیل نہیں بنایا تھا بلکہ کیا؟ اختیار دیا تھا، پہلا جملہ کیا تھا؟ "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ"، میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اس کو اختیار دیا ہے اور اختیار کب تک رہتا ہے؟ مجلس تک، اسی لیے کہا کہ "فَطَلَّقَهَا فِي الْمَجْلِسِ"، وکیل نے طلاق دے دی اسی مجلس کے اندر، "طُلِّقَتْ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً"، تو طلاق ہو جائے گی اس عورت کو ایک طلاقِ بائن۔ بھئی طلاقِ بائن کیوں ہوگی؟ اس لیے کہ اس نے کہا "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ"، میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو "أَمْرٌ بِالْيَدِ" کا لفظ استعمال کیا اور یہ کنایہ ہے طلاق کے باب میں بھئی! کیا ہے؟ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "أَمْرُكِ بِيَدِكِ"، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو یہ کنائی الفاظ ہیں لہٰذا جب وہ طلاق واقع کرے گی تو کونسی طلاق واقع ہوگی؟ بائن واقع ہوگی کیونکہ کنایات سے کونسی طلاق ہوا کرتی ہے؟ بائن، تو لہٰذا طلاقِ بائن ہوگی بھئی! صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو یہ معنی "وَلَا يَكُونُ الثَّانِي تَوْكِيلًا"، تو بھئی اب ایک طلاق واقع ہوگی حالانکہ اگر دیکھا جائے "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ"، میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے "فَطَلِّقْهَا"، ایک تو ایک اگر فا کو تعقیب کے لیے بناتے پھر تو کتنی طلاقیں ہونی چاہیے تھیں؟ دو، ایک کس سے؟ "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ"، میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، ایک یہ اور دوسرا کیا کہہ رہا ہے؟ "طَلِّقْهَا"، اس کو کیا کر دے؟ طلاق دے دے، تو دو طلاقیں ہونی چاہیے تھیں بھئی! دو طلاقوں کا اسے کیا دیا ہے؟ اختیار دیا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہاں پر فا تعقیب مع الوصل کے لیے ہے ہی نہیں، عطف کے لیے یہ ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو فا کس لیے ہے؟ بیانِ علت کے لیے ہے، لہٰذا اب یہ ایک ہی طلاق ہوگی اور یہ جو ثانی "فَطَلِّقْهَا"، یہ بیان ہے ماقبل کے لیے، کیا ہے؟ اسی طلاق جس کا اس نے اختیار دیا تھا اسی کا بیان ہے کہ "میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے اس لیے تو اسے طلاق دے دے"، وہی اسی طلاق کی بیان کر رہا ہے کہ وہ تو اسے دے دے بھئی!
تو کہتے ہیں اب دو نہیں ہوں گی بلکہ کتنی طلاقیں ہوں گی؟ ایک ہوں گی، یہی بات کر رہے ہیں صاحبِ کتاب بھی "وَلَا يَكُونُ الثَّانِي تَوْكِيلًا بِطَلَاقٍ غَيْرِ الْأَوَّلِ"، اور یہ ثانی جو ہے یعنی دوسرا جملہ جو ہے "فَطَلِّقْهَا"، یہ توکیل نہیں ہوگا وکیل بنانا نہیں ہوگا "بِطَلَاقٍ غَيْرِ الْأَوَّلِ"، ایسی طلاق کا جو اول کے علاوہ ہے یعنی یہ اول کے علاوہ دوسری طلاق کی توکیل نہیں ہے بھئی! سمجھ میں آیا کہ پہلے میں اختیار ہو جائے اور دوسرے میں کیا بنا دیا جائے؟ وکیل بنا دیا جائے تو دو طلاقوں کا اسے دو طلاقیں وہ دے سکتا ہو ایسا یہاں پر نہیں ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟
"فَصَارَ كَأَنَّهُ قَالَ"، یہ اسی طرح ہو گیا گویا کہ اس نے یوں کہا "طَلِّقْهَا"، تو طلاق دے دے میری بیوی کو، تو طلاق دے دے اس کو "بِسَبَبِ أَنَّ أَمْرَهَا بِيَدِكِ"، اس سبب سے کہ اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، گویا کہ اس نے یوں کہا بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ گویا کہ یوں کہا۔
تو دیکھا؟ وہ پہلے والا جملہ دیکھو ذرا "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ فَطَلِّقْهَا"، فا آئی اور فا کس لیے آیا کرتی ہے؟ بیانِ علت کے لیے، اب آپ مجھے بتلائیے کس کو میں نے علت بنایا اور کس کو حکم بنایا؟ ماقبل کو کیا بنایا؟ علت بنایا اور مابعد کو کیا بنایا؟ حکم بنایا، "میری بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے" یہ علت ہے "اس لیے تو اس کو کیا کر دے طلاق دے دے"، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں "طَلِّقْهَا"، تو میری بیوی کو طلاق دے دے "بِسَبَبِ أَنَّ أَمْرَهَا بِيَدِكِ"، اس سبب سے، دیکھا علت بتلا دی علت بنا دیا اول والے کو کہ "اس کا معاملہ تو فَطَلِّقْهَا تو اس کو طلاق دے دے بِسَبَبِ أَنَّ أَمْرَهَا بِيَدِكِ اس سبب سے کہ اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے"۔ "وَلَوْ قَالَ"، اور اگر وہ یوں کہے اگر اس نے یوں کہا "طَلِّقْهَا فَجَعَلْتُ أَمْرَهَا بِيَدِكِ"، "تو اس کو طلاق دے دے کیونکہ میں نے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں کر دیا"۔
"فَطَلَّقَهَا فِي مَجْلِسٍ"، تو اس نے اس کو طلاق دے دی مجلس کے اندر "طُلِّقَتْ تَطْلِيقَةً رَجْعِيَّةً"، تو طلاق ہو جائے گی اس عورت کو ایک طلاقِ رجعی بھئی! بھئی یہ اس کا عکس ہے، پہلے کیا کہا تھا پچھلی مثال میں؟ "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ فَطَلِّقْهَا"، تو "فَطَلِّقْهَا" بعد میں تھا اور "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ" یہ پہلے تھا، اب اس کا عکس کرو "طَلِّقْهَا" کو پہلے لے آؤ اور اور "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ" یا "فَجَعَلْتُ" اسی طرح کا جملہ "فَجَعَلْتُ أَمْرَهَا بِيَدِكِ" یہ جملہ کہاں پر لے آؤ؟ بعد میں لے آؤ، تو اب معاملہ الٹ ہو جائے گا مولانا! صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
کیسے؟ کہ تو "طَلِّقْهَا"، تو طلاق دے دے اس کو کیونکہ میں نے کر دیا ہے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں، تو یہاں بھی فا بیانِ علت کے لیے آئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہاں حقیقی معنی ممکن نہیں، کیونکہ پہلا جملہ انشائیہ ہے اور "جَعَلْتُ أَمْرَهَا بِيَدِكِ" یہ جملہ خبریہ ہے، تو عطف ممکن نہیں، جب عطف ممکن نہیں تو فا کا حقیقی معنی یہاں پر نہیں ہوگا بلکہ کونسا لیا جائے گا؟ مجازی معنی اور مجازی معنی ممکن بھی ہے اس مقام پر، کیا میں نے ترجمہ کیا؟ "تو طلاق دے دے کیونکہ اس کا معاملہ میں نے تیرے ہاتھ میں دے دیا"۔
اب اس صورت میں اس نے طلاق دے دی، تو کونسی طلاق ہوگی؟ کہتے ہیں طلاقِ رجعی ہوگی، کیوں رجعی ہوگی؟ کیونکہ "طَلِّقْهَا" یہ کیا ہے؟ صریح ہے اور صریح سے کون اللفاظ سے کونسی طلاق ہوا کرتی ہے؟ طلاقِ رجعی ہوتی ہے، جبکہ ماقبل میں تھا "أَمْرُ امْرَأَتِي بِيَدِكِ" وہ کیا تھا؟ کنایہ اور کنائے سے کونسی ہوا کرتی ہے؟ تو وہاں بائن ہوئی تھی اور یہاں پر کیا ہوئی ہے؟ رجعی ہوئی ہے، تو ایک رجعی طلاق ہوگی مولانا! سمجھ میں آیا؟ اگر فا عطف کے لیے ہوتی پھر تو کتنی طلاقیں ہونی چاہیے تھیں؟ دو ہونی چاہیے تھیں، ایک "طَلِّقْهَا" سے اور ایک "جَعَلْتُ أَمْرَهَا بِيَدِكِ" سے بھئی! صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
بھئی "فِي الْمَجْلِسِ" کی قید لگائی، کس کی قید لگائی؟ مجلس کی قید لگائی، کیوں؟ کس لیے کہ "جَععلْتُ أَمْرَهَا بِيَدِكِ" سے بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ کیا ملنا چاہیے؟ اختیار، کیا ملنا چاہیے؟ اختیار اور اختیار کب تک رہتا ہے؟ مجلس تک، تو اب یہ نہ آپ کہیں کہ مجلس کے اندر ہی طلاق دے دی پھر تو پہلے جملے میں تو ہے توکیل "تو کیا کر میری بیوی کو طلاق دے دے"، کوئی اختیار دے رہا ہے یا وکیل بنا رہا ہے؟ وکیل بنا رہا ہے اور دوسرے جملے سے کیا لگ رہا ہے؟ اختیار دے رہا ہے، تو اگر اسی مجلس میں دے گا تو وہ توکیل والی تو بعد میں بھی جاری ہو سکتی تھی لیکن وہ اختیار والی تو اسی مجلس تک رہے گی، تو لہٰذا اب اسی مجلس میں کہا تو اب بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں، ایک "طَلِّقْهَا" سے اور ایک "جَعَلْتُ أَمْرَهَا بِيَدِكِ" سے، سمجھ میں آیا؟ کیوں نہیں ہوئی؟ اس لیے کہ فا عطف کے لیے نہیں ہے، اگر عطف کے لیے ہوتی یہاں پر تو پھر کتنی ہونی چاہیے تھیں اسی مجلس میں؟ دو ہونی چاہیے تھیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو مجلس میں بھی دے دے پھر بھی کتنی واقع ہوگی؟ ایک ہوگی اور کونسی ہوگی؟ رجعی، کیوں ایک ہوگی؟ اس لیے کہ یہ فا عطف کے لیے، تعقیب مع الوصل کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ فا کس کے لیے ہے؟ بیانِ علت کے لیے ہے بھئی! صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی؟
ولوقال اور اگر یوں کہا: طلقها وجعلت أمرها بيدك، طلاق دے دے تو اس کو اور میں نے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں کر دیا۔ ف کے بجائے کس سے کہا؟ و کے ساتھ کہا۔ تو کہتے ہیں وطلقها في المجلس اور طلاق دے دی اس کو اس وکیل نے اس عورت کو في المجلس، کس میں؟ مجلس کے اندر، طلقت تطليقتين تو طلاقیں ہو جائیں گی اس کو کتنی مرتبہ طلاق؟ دو طلاق۔ تو دو طلاقیں اس کو ہو جائیں گی بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی دو طلاقیں کیوں ہوں گی؟ جی؟ کیونکہ و کس لیے آیا کرتا ہے؟ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ جمعِ مطلق کا، کس چیز کا؟ جمعِ مطلق کا۔ تو طلقها سے ایک طلاق کا وکیل بنا دیا اور جعلت أمرها بيدك اس سے دوسری طلاق کا اختیار، پہلی کا وکیل بنا دیا دوسری کا اختیار دے دیا بھئی۔ تو و جمعِ مطلق کے لیے آیا لہذا اب وہ طلاق دے گا وہ وکیل اسی مجلس کے اندر تو اب کتنی طلاقیں ہو جائیں گی؟ دو۔
اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے دو طلاقوں کا کیوں کہا؟ تو کہتے ہیں بھئی و کو ہم نے کس کے لیے بنایا؟ جمعِ مطلق کے لیے بنایا بھئی، اس لیے دو طلاقیں ہوں گی۔ کہتے ہیں بھئی آپ و کو یہاں عاطف کے لیے یعنی جمعِ مطلق کے لیے بنا ہی نہیں سکتے۔ کیوں نہیں بنا سکتے؟ اس لیے کہ حقیقی معنی متعذر ہے بھئی، ماقبل میں طلقها ہے جملہ انشائیہ اور جعلت أمرها بيدك یہ جملہ خبریہ ہے اور جملہ خبریہ کا عطف جملہ انشائیہ پر صحیح ہی، تو یہاں تو حقیقی معنی متعذر ہیں لہذا آپ کو اس و کو جمعِ مطلق کے لیے بنانا صحیح نہیں۔
تو جواب اس کا دیتے ہیں جواب اس کا یہ مولانا، کہ بھئی یہاں پر اگر و کو حقیقی معنی کے لیے آپ نہیں لیتے تو پھر کیا لینا پڑے گا و کو؟ مجازی معنی، اور مجازی معنی کیا ہے و کا؟ حال، اور حال اگر اس کو بنائیں تو معنی خراب ہو جاتے ہیں، یہاں یہ محل ہی مجازی معنی کا احتمال نہیں رکھتا۔ اور مجاز کیونکہ اور تو مجازی معنی کے لیے تو ہم نے کتنی شرطیں بتائی تھیں؟ دو، کہ محل کیا ہے مجازی معنی کا؟ احتمال رکھتا ہو اور یہ محل تو مجازی معنی کا احتمال ہی نہیں رکھتا، کیونکہ مجازی معنی کریں تو معنی خراب ہو جائے گا، کس طرح؟ دیکھو بھئی۔
مجازی معنی و کا کیا ہے؟ حال، اور حال کے لیے و کو بنائیں تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ شرط کا، شرط کا فائدہ دیتا ہے۔ تو یہاں پر شرط جزا والا معنی کرو ذرا، معنی خراب ہو جائے گا۔ شرط جزا کا معنی کرنے کی دونوں صورتیں آپ اختیار کر لیں بھئی۔ یا تو یوں کر لو، طلقها والے جملے کو شرط بنا لو اور جعلت أمرها بيدك اس کو کیا بنا لو؟ جزا، یا اس کا عکس کر لو، طلقها کو جزا بنا لو اور جعلت أمرها بيدك اس جملے سے کیا بنا لو؟ شرط بنا لو، دونوں صورتوں میں معنی خراب ہے چاہے آپ ثانی کو شرط بنائیں چاہے ثانی کو جزا بنائیں دونوں صورتوں میں کیا ہو جائے گا معنی خراب، کیسے خراب ہو گا؟ دیکھو بھئی، شرط والا معنی کرو۔
پہلے کو میں کیا بناتا ہوں؟ طلقها کو شرط اور ثانی کو کیا بناتا ہوں؟ جزا، دیکھو یوں ہو گا۔ اگر تم میری بیوی کو طلاق دے دو، اگر تم اس کو طلاق دے دو تو میں نے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں دے دیا۔ اگر تم میری بیوی کو طلاق دے دو تو میں نے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں، یہ کوئی بات بنتی ہے بھئی؟ اگر طلاق دے دو تو میں نے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں، بھئی ابھی معاملہ ہی نہیں دیا تو وہ طلاق دے سکتا ہے؟ جی؟ معنی ہی خراب ہو رہا ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟
اچھا اب ذرا اس کا عکس کر لو، ثانی کو شرط بنا لو اور اول کو جزا بنا لو۔ میں نے اپنی بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں دے دیا، اس کو ذرا شرط بناؤ، اگر میں نے اپنی بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں دے دیا ہے تو اس کو طلاق دے دو۔ اگر میں نے اپنی بیوی کا معاملہ تیرے ہاتھ میں دے دیا ہے تو اس کو کیا کر دو؟ طلاق دے دو۔ یہ بھی کوئی بات بنتی ہے؟ جی؟ پتہ چل رہا ہے طلاق اختیار دیا یا نہیں دیا؟ جی؟ کوئی پتہ نہیں چل رہا، اگر میں نے دیا ہے تو اس کو طلاق دے دو۔ سمجھ میں آیا؟ پھر تو کوئی اختیار ہی نہ رہا، کچھ بھی نہ رہا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ معنی ہی کیا ہو جائے گا؟ خراب ہو جائے گا۔
تو لہذا اگر و کو حال کے معنی کے لیے بنائیں تو پھر وہ شرط کا فائدہ دے گا اور شرط کی صورت میں کیا ہو جاتا ہے معنی؟ خراب ہو جاتا ہے، اس صورت میں آپ چاہے یہ جو و جعلت أمرها بيدك اس کو چاہے شرط بنا لو چاہے اس کو جزا بنا لو، دونوں صورتوں میں کیا ہے معنی؟ خراب ہو جائے گا، لہذا اب مجبوری ہوئی تو و کو کس کے لیے بنانا پڑا؟ حقیقی معنی کے لیے، عطف کے لیے بنانا پڑا۔ اور کبھی کبھار میں نے بتلایا تھا کہ جملہ خبریہ کا عطف جملہ وہ کس پر ہو جایا کرتا ہے؟ جملہ یا جملہ انشائیہ کا عطف کس پر ہو جاتا ہے جملہ؟ اور اس کو کیا کس کیا کہتے ہیں بھئی؟ عطف القصة على القصة کہتے ہیں بھئی۔
وكذلك لو قال اور اسی طرح اگر کہا: طلقها وأبنها، طلاق دے دے اسے اور وأبنها اور اسے بائنہ کر دے۔ طلقها پہلے کہا اور وأبنها و کے بعد کہا یا اس کا عکس کر لو، أبنها پہلے کہا اور طلقها یوں کہا: أبنها وطلقها، اسے بائنہ کر دے اور اسے طلاق دے دے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ دونوں صورتیں ذکر کر رہے ہیں متن میں، وكذلك لو قال طلقها وأبنها، اسے طلاق دے دے اور وأبنها اور اسے بائنہ کر دے، أو یا یوں کہا: أبنها وطلقها، اسے بائنہ کر دے اور اسے طلاق دے دے، فطلقها في المجلس بس وکیل نے طلاق دے دی اس عورت کو في المجلس مجلس ہی کے اندر، وقعت تطليقتان تو کتنی طلاقیں واقع ہو جائیں گی؟ دو طلاقیں واقع ہوں گی بھئی، دو طلاقیں واقع ہوں گی۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ بھئی دو طلاقیں کیوں؟ اس لیے کہ یہ و کے ساتھ لایا کلام، اور و کس چیز کا فائدہ دیا کرتا ہے؟ جمعِ مطلق کا، اور طلقها یہ بھی جملہ انشائیہ اور أبنها یہ بھی کیا ہے جملہ؟ انشائیہ، اور جملہ انشائیہ کا عطف جملہ انشائیہ پر ہوتا ہے، ہو سکتا ہے، تو لہذا اس و کو کس کے لیے بنائیں گے؟ جمعِ مطلق کے لیے بنائیں گے، تو لہذا عورت کو کتنی طلاقیں ہو جائیں گی؟ اب جب دے گا تو دو طلاقیں ہو جائیں گی بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ جی، اور یہ مولانا توکیل ہے، اختیار نہیں ہے، لہذا یہ مجلس کے بعد بھی دے گا تو کتنی ہوں گی؟ دو ہوں گی، تو لہذا فی المجلس کی قید یہ کون سی ہے؟ قیدِ اتفاقی ہے احترازی نہیں ہے کہ بعد میں دے تو نہیں دے گا، بس یعنی اگر اس مجلس میں دے دے تو بھی کتنی ہو جائیں گی؟ دو ہو جائیں گی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی طلاقِ بائن دینے کے بعد تو طلاقِ رجعی نہیں دی جا سکتی، اور طلقها یہ صریح ہے اور صریح سے کون سی طلاق ہوا کرتی ہے؟ رجعی، اور رجعی کے بعد بائن دی جا سکتی ہے یا نہیں دی جا سکتی؟ رجعی کے بعد تو بائن طلاق دی جا سکتی ہے، لہذا طلقها پہلے ہو اور وأبنها بعد میں ہو مولانا، اس صورت میں تو ٹھیک ہے مولانا، رجعی کے ساتھ کون سی طلاق مل جائے گی؟ بائن، تو کتنی طلاقیں ہو گئیں؟ دو، یہ تو ہو جائے گی، لیکن وأبنها وطلقها اس میں تو طلاقِ بائن کیا ہے؟ پہلے ہے، اور صریح کیا ہے؟ بعد میں، اور بائن دینے کے بعد تو دوسری طلاق طلاقِ رجعی نہیں ہو سکتی، تو اس صورت میں تو ایک ہونی چاہیے تھی، دو نہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ توکیل ہے، یہ أبنها وطلقها یہ طلاق کو واقع کر رہا ہے یا وکیل بنا رہا ہے؟ یہ وکیل ہے تنزیز نہیں، اگر تنزیز ہوتی پھر تو ہم بھی یہی کہتے کہ میں بائنہ کرتا ہوں تجھے اور تجھے طلاق دیتا ہوں، ہم کہتے ایک ہی بائنہ واقع ہو گئی، کیونکہ بائنہ کے بعد اب دوبارہ طلاق واقع، تو لہذا یہ توکیل ہے تنزیز ہے ہی نہیں، سمجھ میں آئی؟ یہ تو وکیل بنا رہا ہے، طلاق اب آگے جا کر کون دے گا؟ وکیل دے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اور نیز بھئی دونوں طلاقیں بائنہ ہو جائیں گی دونوں صورتوں میں، اس لیے کہ ایک لفظ طلقها صریح ہے، اس سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاقِ یہ طلاقِ رجعی کی توکیل ہے، اور أبنها اس سے کون سی طلاق کی توکیل ہے؟ طلاقِ بائن کی توکیل ہے، اور طلاقِ رجعی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ حلت کا، کہ طلاقِ رجعی کے بعد بھی بھئی بیوی حرام ہو جاتی ہے یا حلال رہتی ہے؟ حلال رہتی ہے، اور طلاقِ بائن کے بعد بیوی کیا ہو جایا کرتی ہے؟ حرام ہو جایا کرتی ہے، تو طلقها وأبنها، تو اب سوال پیدا ہوا کہ طلقها تقاضا کر رہا ہے کس چیز کا؟ حلت کا، اور أبنها تقاضا کس چیز کا کر رہا ہے؟ حرمت کا، تو وکیل جو دو طلاقیں دے گا وہ کون سی ہوں گی؟ دونوں رجعی ہو جائیں گی یا دونوں بائن ہو جائیں گی بھئی؟ ایک ایک طلاق کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ حلت کا، دوسری کس چیز کا؟ حرمت کا، تو جواب یہ مولانا دونوں بائن ہو جائیں گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کیونکہ جب حلت اور حرمت میں تعارض آ جائے تو حرمت کو ترجیح ہوا کرتی ہے۔
جواب کیا ہے؟ جب حلت اور حرمت میں تعارض آ جائے تو کس کو ترجیح ہوتی ہے؟ حرمت کو، تو طلاقِ صریح کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ حلت کا، اور أبنها طلاقِ بائن کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ حرمت کا، اور دونوں جمع ہو گئیں، تو ایک حلت کا تقاضا کر رہی ہے، حرمت کا، تو کس تو دونوں میں تعارض آیا اور تعارض کے وقت کس کو ترجیح ہوتی ہے؟ جانبِ حرمت کو ترجیح ہوتی ہے، لہذا بیوی کو جو طلاقیں ہوں گی وہ کون سی ہو جائیں گی؟ دونوں بائنہ ہو جائیں گی بھئی، دونوں طلاقیں بائنہ۔
وعلى هذا قال أصحابنا إذا أعتقت الأمة المنكوحة ثبت لها الخيار سواء كان زوجها عبدا أو حرا، لأنه عليه السلام لبريرة رضي الله تعالى عنها حين أعتقت: ملكت بضعك فاختاري۔
اس سے پہلے مسئلے سے پہلے ایک دو باتیں سمجھ لو بھئی۔
یاد رکھو، احناف کے نزدیک طلاق کا تعلق عورت کے ساتھ ہے، اگر عورت باندی ہے تو اس کی دو طلاقیں ہیں زیادہ سے زیادہ، اور اگر آزاد عورت ہو تو اس کی کتنی طلاقیں ہیں؟ تین طلاقیں ہیں زیادہ سے زیادہ بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ احناف کے نزدیک طلاق کا تعلق کس سے ہے؟ عورت سے ہے، اگر عورت باندی ہے تو کتنی طلاقیں؟ دو طلاقیں ہیں اس کی، اور اگر عورت آزاد ہے تو اس کی زیادہ سے زیادہ کتنی طلاقیں ہیں؟ تین ہیں۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مرد سے ہے، خاوند سے ہے، اگر خاوند غلام ہے تو وہ دو طلاقیں کا مالک ہے، اور اگر خاوند آزاد ہے تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہے بھئی۔
خاوند غلام ہو تو کتنی طلاقیں دے گا؟ دو دے سکتا ہے بس، دو سے اس کی بیوی کیا ہو جائے گی؟ مغلظہ ہو جائے گی، اور اگر آزاد ہے تو کتنی طلاقیں ہوں گی؟ پھر تین طلاقیں ہوں گی۔
تو احناف کے نزدیک طلاق کا تعلق عورت سے ہے اور شوافع کے نزدیک طلاق کا تعلق مرد سے ہے بھئی، مرد سے ہے۔
اب یاد رکھو، احناف کے نزدیک اگر عورت باندی تھی اور اس کا نکاح کسی سے ہو چکا ہے، چاہے اس کا نکاح کسی غلام سے ہوا ہے چاہے کسی آزاد سے، اس سے غرض نہیں، اس کا خاوند چاہے غلام ہو چاہے آزاد ہو، بس مسئلہ یہ ہے کہ عورت باندی تھی پہلے اور پھر اس کے مالک نے اس کو کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا، جب آزاد کیا تو اب عورت کو خیارِ عتق حاصل ہو گا بھئی، کیا حاصل ہو گا؟ خیارِ عتق حاصل ہو گا، یعنی اسے اختیار دیا جائے گا کہ وہ خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا اس سے جدائی اختیار کرتی ہے، سمجھ میں آیا؟ وہ اسے اختیار ہو گا بھئی۔
رہنا چاہتی ہے تو ساتھ رہے، جدائی اختیار کرتی ہے تو خاوند سے کیا ہو جائے گی؟ جدا ہو جائے گی، نکاح ختم مولانا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ نکاح ختم۔
تو احناف کے نزدیک باندی جب اس کا نکاح ہو چکا ہو کسی سے، تو جب بھی اسے آزاد کیا جائے گا اس کے لیے کیا ثابت ہو گا؟ خیارِ عتق ثابت ہو گا، چاہے خاوند اس کا آزاد ہو پھر بھی خیارِ عتق ثابت ہو گا، چاہے خاوند اس کا غلام ہو پھر بھی خیارِ عتق ثابت ہو گا بھئی۔
وجہ اس کی یہ مولانا، کہ طلاق کا تعلق کس سے ہے؟ عورت سے ہے، تو عورت باندی ہو تو اس کی کتنی طلاقیں؟ دو، اور اگر عورت آزاد ہو تو اس کی کتنی طلاقیں؟ تین ہیں، تو جب یہ باندی تھی تو اس کا خاوند کتنی طلاقوں کا مالک تھا؟ دو کا، اور جب یہ آزاد ہوئی تو اب خاوند کتنی طلاقوں کا مالک بن گیا؟ تین طلاقوں کا، تو خاوند کی ملکیت بڑھ گئی اس میں بھئی، خاوند کی ملکیت بڑھ گئی، تو لہذا اس ملکیت کا بڑھنا یہ سبب ہے اس کو اختیار دینے کا بھئی، یہ سبب ہے اس کو، بھئی پہلے بیچاری کے گلے میں کتنی رسیاں تھیں؟ دو رسیاں تھیں، اب آزادی کے بعد کتنی رسیاں ہو گئیں؟ تین رسیاں ہو گئیں، تو یہ کیسی آزادی ہے کہ بیچاری کے گلے میں رسیاں بڑھ گئیں، لہذا اس کو اختیار دیا جائے گا، اس ملکیت کے بڑھنے کی وجہ سے اسے کیا دیا جائے گا؟ اختیار دیا جائے گا۔
جبکہ شوافع کے نزدیک طلاق کا تعلق کس سے ہے؟ مرد سے ہے، اگر مرد غلام ہے تو کتنی طلاقیں دے سکتا ہے؟ دو دے سکتا ہے، بیوی چاہے آزاد ہو چاہے باندی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور مرد اگر آزاد ہے تو وہ کتنی طلاقیں دے سکتا ہے؟ تین دے سکتا ہے۔
تو لہذا ان کے نزدیک اگر ان کے نزدیک بھی عورت کے لیے جب باندی تھی اس کو آزاد کیا جائے تو اس کے لیے خیارِ عتق ثابت ہو گا، لیکن اس وقت جبکہ اس کا خاوند کیا ہو؟ غلام ہو، اس کا خاوند کیا ہو؟ غلام ہو، اگر اس کا خاوند آزاد ہو پہلے سے ہی تو اب اس کو خیارِ عتق حاصل نہیں ہو گا۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو خاوند جب غلام ہے اور بیوی تو کیا ہو گئی؟ آزاد ہو گئی، تو اب برابری نہ رہی دونوں میں،
بیوی آزاد ہے اور خاوند کیا ہے؟ غلام ہے۔ کفائت نہ رہی لہٰذا وہ کیا کہتے ہیں؟ بیوی کو اختیار حاصل ہو جائے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟
ہماری دلیل یہ حدیث ہے مولانا حدیث میں بھئی۔ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، ان کو حضرت یہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باندی تھیں۔ حضرت عائشہ نے انہیں آزاد کر دیا، ان کا نکاح ہو چکا تھا پہلے ہی۔ تو آپ جب ان کو آزاد کیا حضرت عائشہ نے، تو حضور نے فرمایا ان سے مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي۔ تو مالک بن گئی اپنے بضع کی فَاخْتَارِي تو اختیار کر لے، یعنی تجھے اختیار ہے۔ تجھے اختیار ہے۔ مالک بن گئی اپنے بضع کی بھئی۔ بضع کہتے ہیں فرج المرأة کو بھئی، عورت کی شرمگاہ کو۔ تو اپنے بضع کی مالک بن گئی ہے، فَاخْتَارِي تو کیا کر لے؟ اختیار کر لے۔
تو حدیث کے اندر کیا آیا مولانا؟ "فا" آئی بھئی، "فا" آئی بھئی، دیکھ رہے ہیں آپ بھئی؟ جو ہماری بحث چل رہی ہے "فا" کے بارے میں۔ تو حدیث میں "فا" آئی اور یہاں پر "فا" کا حقیقی معنیٰ ممکن نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ماقبل میں ہے مَلَكْتِ بُضْعَكِ، یہ جملہ خبریہ ہے اور فَاخْتَارِي "فا" کا مابعد جو ہے وہ امر ہے، جملہ انشائیہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جملہ انشائیہ کا عطف جملہ خبریہ پر نہیں ہو سکتا لہٰذا اب "فا" کا کون سا معنیٰ لیں گے؟ مجازی معنیٰ لیں گے اور مجازی معنیٰ "فا" کا کیا ہے؟ کس لیے آیا کرتی ہے؟ بیانِ علت کے لیے۔
لہٰذا ترجمہ یہ ہو گا مَلَكْتِ بُضْعَكِ تو اپنے بضع کی مالک ہو گئی ہے فَاخْتَارِي اس لیے تو اختیار کر لے، اس لیے تو اختیار کر لے۔ تو دیکھیے، ملکِ بضع کا مال، بضع کا مالک ہونے کی وجہ سے حضور علیہ السلام نے کیا دیا عورت کو؟ اختیار دیا۔ بضع کا مالک ہونے کی وجہ سے اس کو کیا دیا؟ اختیار دیا۔ معلوم ہوا عورت جب آزاد ہو گی تو وہ اپنے بضع کی مالک بنے گی۔ اور جب مالک بنے گی تو پھر اسے کیا حاصل ہو گا؟ اختیار حاصل ہو گا۔ چاہے خاوند اس کا آزاد ہو، چاہے خاوند اس کا غلام ہو۔ دونوں صورتوں میں جب بھی آزاد ہو گی، اپنے بضع کی مالک بنے گی۔ تو جب بضع کی مالک بنے گی دونوں صورتوں میں، دونوں صورتوں میں اس کے لیے ملکِ بضع کا ثبوت آئے گا۔ دونوں صورتوں میں اس کے لیے ثبوت آئے گا اور جب ثبوت آئے گا تو اس کے لیے کیا ثابت ہو جائے گا؟ اختیار ثابت ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکیھے متن میں، اب تفصیل ہے، آسان مسئلہ ہے۔ وَعَلَى هَذَا قَالَ أَصْحَابُنَا اور اسی بناء پر، کس بناء پر کہ "فا" کس لیے آیا کرتی ہے؟ بیانِ علت کے لیے۔ اسی بناء پر قَالَ أَصْحَابُنَا ہمارے فقہاء فرماتے ہیں إِذَا أُعْتِقَتِ الأَمَةُ المَنْكُوحَةُ جب آزاد کر دیا جائے منکوحہ باندی کو، یعنی وہ باندی جس نے کسی سے نکاح کیا ہوا ہے۔ ثَبَتَ لَهَا الخِيَارُ تو اس کے لیے کیا ثابت ہو جائے گا؟ خیار ثابت ہو جائے گا۔ سَوَاءٌ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا أَوْ حُرًّا برابر ہے کہ اس کا خاوند غلام ہو یا آزاد ہو۔ لِأَنَّ قَوْلَهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اس لیے کہ حضور علیہ السلام کا قول لِبَرِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حِينَ أُعْتِقَتْ جب وہ آزاد کی گئیں۔ اس لیے کہ حضور علیہ السلام کا قول ہے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب وہ آزاد کی گئیں، کیا قول ہے؟ یہ مولانا: مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي تو مالک بن گئی ہے اپنے بضع کی، اس لیے تو اختیار کر لے۔ یعنی تجھے، اس لیے تجھے اختیار ہے۔
أَثْبَتَ الخِيَارَ لَهَا ثابت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیار کو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے بِسَبَبِ مِلْكِهَا بُضْعَهَا بسب مالک بننے ان کے بضع کے۔ بِالعِتْقِ بسب العتق، آزاد ہونے کے سبب سے اپنے بضع کے مالک بننے کی وجہ سے حضور نے ان کے لیے کیا ثابت کیا؟ ترجمہ آخر سے کر لیں تو اور آسان ہو جائے گا۔ آزادی کے سبب سے اپنے بضع کا مالک بننے کی وجہ سے ثابت کیا ان کے لیے خیار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
وَهَذَا المَعْنَى، معنیٰ کا کیا ترجمہ کرتے ہیں بھئی عموماً؟ علت کے یہاں کریں گے۔ وَهَذَا المَعْنَى اور یہ علت جو ہے، یعنی ثبوتِ ملکِ بضع، بضع کے ملکیت کا ثبوت، لَا يَتَفَاوَتُ بَيْنَ كَوْنِ الزَّوْجِ عَبْدًا أَوْ حُرًّا اس میں یہ مختلف نہیں ہوتا خاوند کے غلام یا آزاد ہونے کی صورت میں۔ خاوند چاہے غلام ہو، پھر بھی کیا ہو جائے گا؟ ثبوتِ ملکِ بضع آئے گا۔ اور خاوند چاہے آزاد ہو، پھر بھی کیا آئے گا ثبوتِ ملکِ بضع؟ کوئی فرق پڑتا ہے اس سے بھئی؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
فَيَتَفَرَّعُ مِنْهُ مَسْأَلَةُ اعْتِبَارِ الطَّلَاقِ بِالنِّسَاءِ اور متفرع ہو گا اس سے بھئی مسئلہ اعتبارِ الطلاق بالنساء، عورتوں پر عورتوں کے ساتھ طلاق کے اعتبار کا۔ عورتوں کے ساتھ اعتبارِ طلاق کا جو مسئلہ ہے وہ اس سے متفرع ہو گا، یعنی طلاق کا اعتبار عورت کے ساتھ کیا جائے گا، مرد کے ساتھ نہیں کیا جائے گا۔ عورت باندی ہے تو کتنی طلاقیں ہیں؟ دو۔ آزاد ہے تو کتنی طلاقیں ہیں؟ تین۔ اس مسئلے کا، یہ بھی اس سے نکلے گا۔
فَإِنَّ بُضْعَ الأَمَةِ المَنْكُوحَةِ مِلْكُ الزَّوْجِ اس لیے کہ منکوحہ باندی کے بضع جو ہے مِلْكُ الزَّوْجِ وہ خاوند کی ملکیت ہے۔ وَلَمْ يَزُلْ، لَمْ يَزَلْ نہ پڑھنا مولانا۔ لَمْ يَزَلْ کا معنیٰ تو ہمیشہ، افعالِ ناقصہ میں سے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور لَمْ يَزُلْ زَال زُول سے ہے، زائل ہونا بھئی۔ وَلَمْ يَزُلْ اور زائل نہیں ہو گی عَنْ مِلْكِهِ اس کی ملکیت سے بِعِتْقِهَا بسب آزادی کے۔ بھئی اس لیے کہ منکوحہ باندی کے بضع کا مالک کون ہے؟ خاوند ہے۔ اور آزادی سے کیا اس کی یہ ملکیت زائل ہوتی ہے؟ نکاح ٹوٹتا ہے آزادی سے کوئی؟ آزادی سے نکاح تو نہیں ٹوٹتا، تو خاوند کی ملکیت زائل ہوئی آزادی کی وجہ سے؟ نہیں بھئی۔ تو بیوی، باندی کو آزاد کر دیا جائے، پھر بھی خاوند کی ملکیت اس سے زائل نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں وَلَمْ يَزُلْ اور زائل نہیں ہوتی...
اور وَلَمْ يَزُلْ زائل نہیں ہوتا اس کا بضع عَنْ مِلْكِهِ کس سے؟ خاوند کی ملکیت سے، بِعِتْقِهَا اس کی آزادی کے سبب سے۔ بھئی جب خاوند کی ملکیت، باندی کو کیا کر دیا گیا؟ اور خاوند کیا تھا اس کے بضع کا مالک تھا۔ اور آزادی کی وجہ سے یہ ملکیت زائل ہوئی؟ نہیں ہوئی زائل۔ جب زائل نہیں ہوئی تو اور یہ پہلے تھی باندی، اس کی کتنی طلاقیں تھیں؟ دو۔ اور اب آزاد ہو گئی تو کتنی طلاقیں ہونی چاہئیں؟ تین ہونی چاہئیں۔ معلوم ہوا خاوند کی ملکیت اس میں بڑھ گئی بھئی۔ خاوند کی ملکیت اس میں بڑھ گئی۔ کیونکہ آزادی کی وجہ سے وہ خاوند کی ملکیت تو زائل نہیں ہو رہی، جب زائل نہیں ہو رہی تو اب لازمی بات ہے آپ کو یہ کہنا پڑے گا، کیا کہنا پڑے گا؟ کہ خاوند کی ملکیت اس میں بڑھ گئی۔ کہنا پڑے گا یا نہیں؟ کیونکہ آزادی کی وجہ سے کیا ہے؟ ملکیت زائل ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی؟ نہیں ہو رہی، جب نہیں ہو رہی تو عورت آزاد ہو گئی اور آزاد کی کتنی طلاقیں ہوتی ہیں؟ تین طلاقیں ہوتی ہیں۔ تو لازمی بات ہے آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ خاوند کی ملکیت کیا ہو گئی؟ بڑھ گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہی بات کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں وَلَمْ يَزُلْ عَنْ مِلْكِهِ بِعِتْقِهَا اور وہ بضع زائل نہیں ہوا خاوند کی ملکیت سے بِعِتْقِهَا اس باندی کے آزاد کر دینے سے۔ فَدَعَتِ الضَّرُورَةُ ضرورت داعی ہوئی، ضرورت کیا ہوئی؟ تو ضرورت داعی ہوئی إِلَى القَوْلِ اس قول کی طرف۔ ضرورت داعی ہوئی اس قول کی طرف کہ یہ قول کیا جائے، کیا قول؟ بِزِيَادَةِ المِلْكِ بِعِتْقِهَا ملکیت کے بڑھ جانا بسب اس کی آزادی کے۔ آزادی کے سبب سے اس کی ملکیت کے بڑھ جانے کے قول کی طرف ضرورت داعی ہوئی بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ آخر سے کریں، آخر سے۔ اس منکوحہ باندی کی آزادی کے سبب سے ملکیت کے بڑھ جانے کے قول کی طرف ضرورت داعی ہوئی بھئی۔ ضرورت کیا ہے؟ داعی ہوئی کہ خاوند کی ملکیت کیا ہو گئی اس میں؟ بڑھ گئی۔ حَتَّى يَثْبُتَ لَهُ المِلْكُ فِي الزِّيَادَةِ یہاں تک کہ ثابت ہو جائے گی اس لَهُ أي للزوج، اس خاوند کے لیے، کیا ثابت ہو جائے گی؟ المِلْكُ ملکیت بھئی، فِي الزِّيَادَةِ اس زیادتی میں۔ جو زیادتی ہوئی ہے اس میں بھی خاوند کی کیا ہو جائے گی؟ ملکیت ثابت ہو جائے گی بھئی۔
وَيَكُونُ ذَلِكَ سَبَبًا لِثُبُوتِ الخِيَارِ لَهَا اور یہ ملکیت کا بڑھ جانا، یہ سبب ہے اس عورت کے لیے ثبوتِ خیار کے لیے۔ اس عورت کے لیے خیار کا ثبوت آئے گا، اس کے لیے سبب کیا ہے؟ ملکیت کا... بھئی ہم نے کیوں ثابت کیا عورت کے لیے خیار؟ کیونکہ خاوند کی ملکیت اس میں بڑھ رہی ہے۔ تو یہ کیسی آزادی ہے کہ اس کے گلے میں پہلے دو رسیاں تھیں، اب کتنی ہو گئیں؟ لہٰذا اس کو کیا دینا، کیا دیا جائے گا؟ اختیار دیا جائے گا۔
وَازْدِيَادُ مِلْكِ البُضْعِ بِعِتْقِهَا اور بڑھ جانا ملکیتِ بضع کا بِعِتْقِهَا اس عورت کی آزادی کے سبب سے، آزادی کے سبب سے بضع کی ملکیت کا بڑھ جانا، مَعْنَى یہ علت ہے۔ یہ کیا ہے؟ مضاف ہو رہا ہے معنیٰ۔ مَعْنَى مَسْأَلَةِ اعْتِبَارِ الطَّلَاقِ بِالنِّسَاءِ یہ کس چیز کی علت ہے؟ مَسْأَلَةِ اعْتِبَارِ الطَّلَاقِ بِالنِّسَاءِ عورتوں کے ساتھ طلاق کے اعتبار کے مسئلے کی یہ علت ہے۔ عورتوں کے ساتھ، ترجمہ آخر سے کرو۔ عورتوں کے ساتھ طلاق کے اعتبار کا جو مسئلہ ہے، اس مسئلے کی یہ علت ہے۔ کیا علت ہے؟ وہ جو پہلے مقتضیٰ آیا تھا، بضع کی ملکیت کا بڑھ جانا اس کی آزادی کے... تو آزادی کے سبب سے ملکیت کا بڑھ جانا، یہ علت ہے کس چیز کی؟ ہم عورتوں کے ساتھ طلاق کا اعتبار کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ آزادی کے سبب سے اس بضع کی ملکیت بڑھ رہی ہے۔ یہ معنیٰ ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟
فَيُدَارُ حُكْمُ مَالِكِيَّةِ الثَّلَاثِ عَلَى عِتْقِ الزَّوْجَةِ پس مرتب ہو گا، دائر ہو گا، حکم مرتب ہو گا۔ فَيُدَارُ حُكْمُ مَالِكِيَّةِ الثَّلَاثِ تین طلاقوں کے مالک ہونے کے حکم کا حکم مرتب ہو گا، یہ ترجمہ کر لیں۔ یا تین طلاقوں کے مالک ہونے کے حکم کا مدار ہو گا، عَلَى عِتْقِ الزَّوْجَةِ کس پر؟ زوجہ کی، بیوی کی آزادی پر، دُونَ عِتْقِ الزَّوْجِ نہ کہ خاوند کی آزادی پر۔ كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ جیسے کہ مذہب ہے کس کا؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ملکیت بڑھ رہی ہے بھئی کس کے سبب سے؟ آزادی کے سبب سے ملکیت بڑھ رہی ہے، لہٰذا یہ سبب ہے کہ اس کو کیا دیا جائے؟ اختیار دیا جائے بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا کہ مشکل ہے بھئی؟ آسان سا مسئلہ ہے بھئی۔ میں سمجھانے میں ذرا اس کو لمبا کر دیتا ہوں مسئلے کو، ورنہ اگر مختصر لفظوں میں بیان کیا جائے تو تین، چار منٹ لگیں گے۔ دیکھو، کیسے تین، چار منٹ لگتے ہیں یا نہیں۔
ہمارا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک طلاق کے مسئلے کا اعتبار عورت کے ساتھ کیا جائے گا۔ عورت باندی ہے تو دو طلاقیں ہیں، عورت آزاد ہے تو تین طلاقیں ہیں۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق کے اعتبار کس کے ساتھ ہے؟ مرد کے ساتھ۔ اگر وہ غلام ہے تو دو طلاقیں دے سکتا ہے، اگر آزاد ہے تو کتنی طلاقیں دے سکتا ہے؟ تین طلاقیں دے سکتا ہے بھئی۔ اور ہمارے نزدیک جب عورت باندی، منکوحہ باندی کو آزاد کیا جائے تو اس کو اختیار حاصل ہو گا۔ کیوں اختیار حاصل ہو گا؟ اس لیے کہ پہلے وہ باندی تھی، دو طلاقیں تھیں۔ اب آزاد ہوئی تو کتنی طلاقیں ہو گئیں؟ تین طلاقیں ہو گئیں۔ اور جب تین طلاقیں ہو گئیں تو یہ کیسی آزادی ہے جس کی وجہ سے اس کے اوپر خاوند کی ملکیت بڑھ گئی؟ جب خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے، لہٰذا اب ہم اس کو کیا دیں گے؟ اختیار دیں گے بھئی، اختیار دیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اختیار دیں گے۔
اور ہماری دلیل کیا ہے؟ حضور علیہ السلام نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا جب وہ آزاد کی گئیں، کیا؟ مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي تو اپنے بضع کی مالک ہو گئی ہے، لہٰذا تو کہ تجھے کیا ہے؟ اختیار ہے۔ تو یہاں پر مولانا "فا" کس لیے آئی؟ بیانِ علت کے لیے۔ ترجمہ یہ: تو اپنے بضع کی مالک ہے، اس لیے تو اختیار کر لے، یعنی تجھے اختیار ہے۔ تو اس کے لیے اختیار ثابت کر دیا اس وجہ سے کہ وہ اپنے بضع کی مالک... یہ معلوم ہوا باندی کو جب بھی آزاد کریں گے، وہ کیا بن جائے گی؟ اپنے بضع کی مالک بنے گی۔ چاہے اس کا غلام ہو، چاہے اس کا خاوند آزاد ہو۔ دونوں صورتوں میں اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ مالک بنے گی۔ اور جب وہ مالک بنے گی، مالک بنے گی تو اس کے لیے کیا ثابت ہو جائے گا؟ اختیار بھئی، مالک بنے گی، سمجھ میں آیا؟
اور کہتے ہیں اسی پر مولانا متفرع ہوتا ہے کہ عورتوں کی، کون سا مسئلہ؟ کہ طلاق کا اعتبار کس کے ساتھ ہے؟ عورتوں کے ساتھ، وہ اسی پر متفرع ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وجہ یہ مولانا کہ خاوند کیا ہے؟ اپنی بیوی کے بضع کا مالک ہے۔ اور جب وہ بیوی باندی تھی تو یہ مالک ہے اس بضع کا۔ اب بیوی کو جب آزاد کیا گیا تو اب بھی اس کی ملکیت زائل نہیں ہوئی۔ جب ملکیت زائل نہیں ہوئی تو لازمی بات ہے اب یہ کہنا پڑے گا کہ خاوند پہلے تو دو طلاقوں کا مالک تھا اور اب کتنے کا مالک بن گیا ہے؟ تین کا مالک بن گیا ہے۔ معلوم ہوا خاوند کی ملکیت اس کے اندر بڑھ گئی اور یہ خاوند کا اس میں ملکیت کا بڑھ جانا، یہ سبب ہو گا کہ اس کے لیے کیا ثابت کیا جائے؟ اختیار کو ثابت کیا جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا اب اختیار کا، اب طلاق کا تعلق کس سے ہو گا؟ عورت کی آزادی کے ساتھ ہو گا، تین طلاقوں کے مالک بننے کا حکم عورت کے آزادی سے اس کا تعلق ہو گا، خاوند کی آزادی سے اس کا تعلق نہیں ہو گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔