Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-123

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 25 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 89
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فإن قيل: قد روي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه قال: لا خمس في العنبر؛ لأن الأثر لم يرد به، وهو التمسك بعدم الدليل. قلنا: إنما ذكر ذلك في بيان عذره في أنه لم يقل بالخمس في العنبر. أچھا بھئی! بحث یہ چل رہی تھی کہ استدلال کرنا بغیر دلیل کے درست نہیں، بھئی، اور اس کی کئی قسمیں بتلائی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ عدمِ علت سے استدلال کرنا عدمِ حکم پر، کہ علت نہیں پائی جا رہی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا، بتلایا تھا یہ استدلال فاسد ہے، صحیح نہیں۔ اسی طرح استصحابِ حال کے ذریعے استدلال کرنا، یہ بھی درست نہیں ہے۔ جی! اس لیے کہ وہ بھی عدمِ دلیل کے ساتھ استدلال ہے۔ تو معلوم ہوا، عدمِ دلیل سے عدمِ حکم پر استدلال صحیح نہیں، کہ دلیل نہیں تو حکم بھی نہیں۔ یہ بات بیان ہوئی۔ اب اس پر کوئی قائل اعتراض کرتا ہے کہ بھئی، آپ تو کہہ رہے ہیں عدمِ دلیل سے عدمِ حکم پر استدلال نہیں کیا جا سکتا، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ آپ کے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے عدمِ دلیل کے ذریعے استدلال کیا ہے، کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ عنبر بھئی، عنبر ایک خوشبو ہے بھئی جو سمندر سے حاصل ہوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ تو یہ خوشبو ہے ایک بھئی۔ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس عنبر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس عنبر کے اندر خمس نہیں ہے ”لأن الأثر لم يرد به“، اثر ویسے تو حدیث یہاں نص کے معنی میں ہے، اس لیے کہ نص وارد نہیں ہوئی اس کے بارے میں بھئی۔ یعنی عنبر میں خمس کے ہونے کے بارے میں نص وارد نہیں ہوئی۔ تو دیکھا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ استدلال کر رہے ہیں کہ چونکہ اس کے بارے میں، عنبر میں خمس کے بارے میں نص وارد نہیں، تو اس میں خمس بھی نہیں۔ تو دیکھا عدمِ دلیل کے ذریعے استدلال کیا، کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ تو آپ کے امام تو استدلال کر رہے ہیں عدمِ دلیل سے عدمِ حکم پر، اور آپ تقریر کر رہے ہیں کہ عدمِ دلیل سے عدمِ حکم پر استدلال صحیح نہیں۔ تو جواب ہم دیتے ہیں بھئی کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ یہ دلیل نہیں ذکر کر رہے، یہ اپنا عذر ذکر کر رہے ہیں۔ امام صاحب یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ عنبر میں خمس نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کہ خمس آیا کرتا ہے مالِ غنیمت کے اندر جو دشمن سے قوتِ بازو کے ذریعے چھینا جائے۔ اور عنبر تو دریا، سمندر سے حاصل ہوتا ہے، اس میں تو یہ تو مالِ غنیمت نہیں۔ اور خمس آیا کرتا ہے مالِ غنیمت میں، اور عنبر مالِ غنیمت نہیں، تو اس کے اندر خمس بھی واجب نہیں ہونا چاہیے۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اندر خمس واجب نہیں ہونا چاہیے، اور کوئی اس کے بارے میں کوئی ایسی حدیث بھی نہیں آئی جس میں خلافِ قیاس عنبر کے اندر خمس کا حکم دیا جاتا۔ اگر کوئی ایسی حدیث آ جاتی جس میں عنبر میں خمس کا حکم ہوتا تو وہ حدیث خلافِ قیاس ہوتی، لیکن ہم اس حدیث پر عمل کرتے اور قیاس کو کیا کر دیتے؟ ترک کر دیتے! لیکن چونکہ اس قسم کی کوئی حدیث نہیں آئی، لہذا قیاس کے مطابق میں نے عنبر میں کس چیز کا حکم لگایا؟ خمس کے نہ ہونے کا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ اپنا عذر ذکر کر رہے ہیں کہ میں اس لیے قائل نہیں ہوں کیونکہ خلافِ قیاس کوئی حدیث بھی نہیں آئی۔ کوئی حدیث آتی خمس کے بارے میں کہ عنبر میں خمس ہے، تو وہ حدیث خلافِ قیاس ہوتی، لیکن ہم اس حدیث پر عمل کرتے کیونکہ حدیث کو قیاس پر کیا ہے؟ ترجیح ہے۔ لیکن چونکہ اب کوئی ایسی حدیث نہیں جس سے عنبر میں خمس کا ثبوت ملے، تو لہذا اب قیاس کے مطابق میں نے فیصلہ کیا، اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ عنبر کے اندر خمس نہیں ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ جی! اور دلیل کہتے ہیں یہ اپنا عذر ذکر کیا انہوں نے جو انہوں نے کہا نہ: ”لا خمس في العنبر لأن الأثر لم يرد به“، عنبر میں خمس نہیں ہے اس لیے کہ کوئی اس کے بارے میں نص وارد نہیں، یہ اپنا عذر ذکر کر رہے ہیں، یہ بطورِ دلیل کے نہیں ذکر کر رہے! اس لیے کہ دوسرے مقام پر آتا ہے، ایک مرتبہ امام محمد رحمہ اللہ نے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا بات ہے یہ عنبر کے اندر خمس کیوں نہیں ہے، بھئی؟ عنبر کے اندر خمس کیوں نہیں ہے؟ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، اب دیکھو قیاس کرتے چلے جائیں گے، جواب دیں گے۔ امام صاحب نے فرمایا: اس لیے کہ عنبر مچھلی کی طرح ہے، جیسے مچھلی پانی سے حاصل ہوتی ہے اور اسی طرح عنبر بھی کس سے حاصل ہوتا ہے؟ سمندر سے، پانی سے حاصل ہوتا ہے، اور جیسے وہ کسی کی ملکیت نہیں، یہ بھی کسی کی ملکیت نہیں۔ پھر امام محمد رحمہ اللہ نے پوچھا: تو پھر مچھلی کی میں کیا وجہ ہے، اس کے اندر خمس کیوں نہیں ہے؟ تو امام صاحب نے فرمایا: اس لیے کہ یہ پانی کی طرح ہے اور پانی کے اندر خمس نہیں ہے، تو مچھلی میں بھی خمس نہیں ہے، اور جب مچھلی میں خمس نہیں ہے تو عنبر کے اندر بھی خمس نہیں ہے۔ دیکھا؟ معلوم ہوا امام صاحب جو عنبر میں خمس کے نہ ہونے کے قائل ہیں، وہ قیاس کے ذریعے ہیں، عدمِ دلیل کے ذریعے نہیں ہیں۔ اور یہ قیاس ان کا دوسری جگہ پر کتابوں میں مذکور ہے۔ معلوم ہوا وہ جو ان کا پہلا کلام آیا تھا: ”لا خمس في العنبر لأن الأثر لم يرد به“، یہ دلیل نہیں ہے بلکہ کیا ذکر کر رہے ہیں؟ اپنا عذر ذکر کر رہے ہیں کہ خلافِ قیاس کوئی حدیث ہی نہیں آئی، کوئی خلافِ قیاس آتی تو ہم اس کو لے لیتے، جب آئی ہی نہیں تو ہم نے بھی کس کے مطابق فیصلہ کیا؟ قیاس کے مطابق فیصلہ کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو کہتے ہیں: فإن قيل، اگر یہ اعتراض کیا جائے: قد روي عن أبي حنيفة رحمه الله، روایت کیا گیا ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے: أنه قال، وہ فرماتے ہیں: لا خمس في العنبر، عنبر میں خمس نہیں ہے: لأن الأثر لم يرد به، اس لیے کہ کوئی اثر، کوئی حدیث یا کوئی نص، کوئی نص لم يرد به، کوئی وارد نہیں ہوئی اس کے ساتھ، یعنی عنبر میں خمس ہونے کے بارے میں۔ وهو تمسك بعدم الدليل، کہتے ہیں: دیکھا، یہ امام صاحب کا قول کیا ہے؟ تمسک، استدلال ہے بعدمِ الدلیل، کس کے ساتھ؟ عدمِ دلیل، خود فرما رہے ہیں کہ حدیث نہیں، نص نہیں، تو خمس بھی نہیں۔ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: إنما ذكر ذلك في بيان عذره، کہ امام صاحب نے یہ جو ذکر کیا کہ نص نہیں ہے، یہ فی بیانِ عذره، اپنے عذر کے بیان میں ذکر کیا ہے: في أنه لم يقل بالخمس، اس عذر اس چیز میں کہ انھوں نے خمس کا قول نہیں کیا: في العنبر، کس کے اندر؟ عنبر کے اندر، اس کا عذر بیان کر رہے ہیں کیوں یہ خمس کا قول کیوں نہیں کیا، کیونکہ کوئی خلافِ قیاس حدیث ہی نہیں آئی۔ ولهذا، اور اسی وجہ سے کہ یہ قیاس کو دلیل بناتے ہیں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ روي، روایت کیا گیا ہے: أن محمداً رحمه الله تعالى، امام محمد رحمہ اللہ: سأله عن الخمس، انہوں نے امام صاحب سے سوال کیا خمس کے بارے میں: في العنبر، عنبر میں خمس کے بارے میں۔ فقال، امام محمد نے سوال کیا اور پوچھا، یہ پوچھا بھئی: ما بال العنبر لا خمس فيه، بال بمعنی حال، حال، شان۔ ما بال العنبر، عنبر کی کیا شان ہے: لا خمس فيه، کہ اس کے اندر خمس نہیں ہے؟ کیا وجہ ہے استادِ محترم کہ عنبر کے اندر کیا ہے؟ خمس نہیں ہے! قال، امام صاحب فرمانے لگے: لأنه كالسمك، اس لیے کہ یہ کس کی طرح ہے؟ مچھلی کی طرح ہے۔ فقال: فما بال السمك لا خمس فيه، کیا شان ہے مچھلی کی، کیا حال ہے مچھلی کا کہ اس کے اندر خمس نہیں ہے؟ کیا وجہ ہے یعنی اس میں خمس نہیں ہے؟ قال: لأنه كالماء، فرمایا: اس لیے کہ وہ مچھلی پانی کی طرح ہے: ولا خمس فيه، اور پانی کے اندر کوئی خمس نہیں ہے۔ دیکھا بھئی؟ یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، عجیب عجیب بھئی! قیاس کے اتنے ماہر، اتنے ماہر کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے بھئی! چلیے مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ آئیے بھئی، دعا کر لیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بھئی دعا کا طریقہ یہ ہے بھئی، میں ہمیشہ بتلاتا ہوں، یاد رکھو ہمیشہ شروع میں الحمد للہ پڑھ لو، اللہ کی حمد و ثنا کچھ ہو جائے، پھر اس کے بعد درود شریف پڑھو، اور دعا کے آخر میں بھی درود شریف اور آمین بھئی، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے بھئی۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اس مجلس میں اللہ تیرے دین کی دو کتابیں ختم کی گئیں۔ اے اللہ! ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس پڑھنے اور پڑھانے میں کئی مرتبہ کوتاہی ہوئی ہوگی، اے اللہ! کتاب کا ہم نے صحیح حق ادا نہیں کیا ہوگا، بے ادبی ہوئی ہوگی، اے اللہ! ہماری ان غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری ان غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے لیے حصولِ علم کو آسان فرما۔ اے اللہ! ہمارے لیے حصولِ علم کو آسان فرما۔ اے اللہ! علم کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دیجیے۔ اے اللہ! علم کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دیجیے۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کے سینوں کو علم کے لیے کھول دیجیے۔ اے اللہ! سب کو قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اللہ، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، اللہ آپ تو سب کچھ جانتے ہیں، اے اللہ! جس جس کی جو جو حاجتیں ہیں اللہ، سب کو پورا فرما۔ اے اللہ! سب کی حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ! کسی کے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! جن کی سب کی جو پریشانیاں ہوں یا گھروں میں کوئی پریشانی ہو، اے اللہ! ان پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جو بھی پریشانیاں اور مسائل ہوں، اے اللہ! ان کو حل فرما۔ اے اللہ! ان کے حل کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! آپ تو ارحم الراحمین ہیں۔ اے اللہ! آپ تو ارحم الراحمین ہیں۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! اے اللہ! آپ تو حیا والے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ حیا دار ہیں، اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں تو اللہ کو حیا آتی ہے کہ ان ہاتھوں کو خالی لوٹا دے۔ اے اللہ! آج ہم نے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! جس کے گھروں میں جو کوئی پریشانی اور تکلیف ہے اللہ، ان سب تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان میں سے جو کوئی بیمار ہے، اے اللہ! اس کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! جو بھی حاضرین میں سے جو بھی بیمار ہے، سب کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہے، اس کو بھی صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! حصولِ علم کے راستے میں اگر کوئی رکاوٹیں ہیں، ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! حصولِ علم کے راستوں کو ہمارے لیے آسان فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! اس علم پر ہم عمل کرنے والے ہوں۔ اے اللہ! اے اللہ! ایسے علم سے ہماری حفاظت فرما جو آخرت میں خسارے کا باعث بنے۔ اے اللہ! اس تحصیلِ علم اور اشاعتِ علم کے ذریعے ہمارا مقصد صرف آپ کی رضا ہو۔ اے اللہ! ریاکاری سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ریاکاری سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! اخلاص کے ساتھ صرف اپنی رضا کے لیے علم کو طلب کرنے اور علم کی اشاعت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام مسائل کو حل فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! آپ تو بڑے وسیع خزانوں والے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے خزانے تو اتنے وسیع ہیں کہ آپ فرماتے ہیں کہ جب سے یہ کائنات بنی ہے اور میں اپنے خزانے تقسیم کر رہا ہوں، میرے خزانوں کے اندر مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئی۔ اے اللہ! ہماری تو یہ بڑی مختصر سی جماعت ہے۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام مسائل حل فرما۔ اے اللہ! ہماری ساری مشکلات دور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اللہ، اے اللہ! سب کی تمام دعائیں قبول فرما۔ جن کے دلوں میں جو جو دعائیں ہیں اللہ، سب کو قبول فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے اندر مسلمان بڑی تکلیف میں ہیں۔ اے اللہ! ان مسلمانوں کی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! پورے عالم کے، دنیا کے ہر ہر کونے میں، اے اللہ! اے اللہ! تمام مسلمان تکلیف میں ہیں اللہ، ان سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ان کو صرف اس بات کی سزا دی جا رہی ہے اے اللہ! کہ وہ تیرے نام کو لینے والے ہیں، اے اللہ! تیرے کلمے کو پڑھنے والے ہیں، اے اللہ! تیرے پیغمبر کو ماننے والے ہیں، اے اللہ! تیری کتاب پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم کمزور سہی، اے اللہ! ہم بڑے گناہگار و خطا کار سہی، لیکن اے اللہ! آپ کے نام کو لینے والے ہیں۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری مدد فرما، اے اللہ! ہماری نصرت فرما۔ اے اللہ! دنیا میں جہاں مسلمان تکالیف اور پریشانی میں ہیں اللہ، ان کی تکالیف اور مصائب کو دور فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو پھر ایک ہونے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری صفوں میں پھر اتحاد قائم فرما۔ اے اللہ! ہمیں پھر اپنے دین کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ! ہمیں اپنے دین پر عمل کرنے والا بنا دے، اے اللہ! عبادات کے اندر بھی، معاملات کے اندر بھی، معاشرت کے اندر بھی، اے اللہ! مکمل طور پر دین پر چلنے والا بنا دے۔ اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو تباہ و برباد فرما، اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! جو جس انداز میں بھی دین کے کام میں لگا ہوا ہے اس زمانے کے اندر اے اللہ، سب کی نصرت فرما، اے اللہ! سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی حفاظت و نصرت فرما۔ اے اللہ! جو دشمن کی قید میں ہیں اللہ، پریشانی میں ہیں، تکلیف میں ہیں یا اللہ، ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان کی تکلیف اور پریشانی دور کر دیجیے۔ اے اللہ! بہت تکلیف میں ہے آج کے زمانے کا مسلمان، اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! آج تک مسلمانوں پر اتنا کڑا وقت کبھی نہیں آیا، اے اللہ! آپ تو اپنے اے اللہ، مسلمانوں سے ان تکالیف کو دور فرما دیجیے۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو تباہ و برباد فرما، اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما، اے اللہ! ان کے مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دے، اے اللہ! ان کی جمعیت کو پارہ پارہ کر دے، اے اللہ! ان کے اندر نفرتیں پیدا فرما دے، اے اللہ! ان میں ٹوٹ پھوٹ پیدا فرما دے، اے اللہ! ان کو اے اللہ، ان کو تباہ و برباد فرما، اے اللہ! مجاہدین کا ان پر رعب طاری فرما، اے اللہ! مجاہدین کا ان پر رعب طاری فرما۔ اے اللہ! اور بھی جو مسلمان جس انداز میں دین کا کام کر رہے ہیں اللہ، سب کی مدد فرما، اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہر شر سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں اللہ، سب کو خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما، اے اللہ! ہر شر اور تکلیف سے ان کی حفاظت فرما، فرما، اپنوں کے شر سے بھی حفاظت فرما، غیروں کے شر سے بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، اے اللہ! تمام دعائیں ہماری قبول فرما۔ اے اللہ! آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ روایات میں آتا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ جنت کو طلب کرے، جنت خود کہتی ہے: اے اللہ! اس شخص کو میرے اندر لے آ۔ اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگے، جہنم خود کہتی ہے کہ: اے اللہ! اس کو مجھ سے دور رکھ۔ اے اللہ! ہم آپ سے آج جنت کو مانگ رہے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہماری قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرما۔ یا اللہ! اپنے محبوب اور مکرم بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! دنیا میں بھی معزز لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! آخرت میں بھی معزز لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! ان کو میرے لیے، اساتذہ کے لیے اور اے اللہ! اپنے والدین کے لیے عظیم صدقہ جاریہ بنا۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک سے دین کا کام لے لے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو دین کے لیے قبول کر لے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! صحیح سمجھ اور فہم نصیب فرما۔ اے اللہ! دین کی اشاعت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! بدعتوں اور گمراہیوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں بدعتوں اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے سینوں کو قرآن و حدیث کے نور سے منور فرما۔ اے اللہ! ہمارے گھروں کو بھی قرآن و حدیث کے نور سے منور فرما۔ اے اللہ! ہمارے خاندان والوں کو بھی قرآن و حدیث کے نور سے منور فرما۔ اے اللہ! قرآن و حدیث کا علم بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! اس پر مکمل اخلاص کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ عمل بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے سینوں میں، دلوں میں آپ کی محبت ہو۔ اے اللہ! آپ کے پیغمبر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو۔ اے اللہ! اور انبیاء کی محبت ہو۔ اے اللہ! صحابہ کرام کی محبت ہو۔ اے اللہ! فقہاء کرام کی محبت ہو۔ اے اللہ! ائمہ محدثین کی محبت ہو۔ اے اللہ! علماء و اولیاء کی محبت ہو۔ اے اللہ! طلباء کی محبت ہو۔ اے اللہ! نیک اعمال کی محبت ہو۔ اے اللہ! قرآن و حدیث کی محبت ہو۔ اے اللہ! ہمیں، اے اللہ! ہماری محبت بھی آپ کے لیے ہو، ہماری نفرت بھی آپ کی وجہ سے ہو۔ کسی سے ہم محبت بھی کریں تو آپ کی وجہ سے کریں، اے اللہ! کسی سے ہم نفرت بھی کریں تو آپ کی وجہ سے کریں۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمیں بغض للہ اور حب للہ والی صفت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بغض للہ اور حب للہ والی کامل صفت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! یہ جو پڑھا اور پڑھایا اس کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس کو عظیم صدقہ جاریہ بنا دے۔ اے اللہ! آپ تو، اے اللہ! اے اللہ! ہماری دعاؤں پر کن فرما دیجیے۔ اے اللہ! آپ کو تو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا، صرف کن کہنا پڑتا ہے۔ اے اللہ! ہماری یہ مختصر سی جماعت ہے۔ اے اللہ! ہماری دعا پر کن فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہماری دعا پر کن فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہماری دعا پر کن فرما دیجیے۔ روایات میں آتا ہے: نیک فرشتے، اللہ کے فرشتے، نیک مجالس کی تلاش میں دنیا کے اندر گھومتے ہیں۔ جہاں کہیں نیک مجلس دکھائی دیتی ہے، اس مجلس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں، اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اور فرشتوں کو بھی آواز دے کر بلاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی صفیں آسمان تک پہاڑ کی صورت میں بن جاتی ہیں۔ اے اللہ! ہماری مجلس کو بھی ان مجالس میں بنا۔ اے اللہ! جہاں پر اس وقت فرشتے موجود ہوں۔ اے اللہ! ہماری اس مجلس کو بھی ان مجالس میں سے بنا۔ اے اللہ! ہم نے اس مجلس کے اندر، اے اللہ! آپ کے دین کی دو کتابیں ختم کی ہیں۔ اے اللہ! دو عظیم الشان کتابیں ختم کی ہیں۔ اے اللہ! ہماری مجلس کو بھی ان مجالس میں سے بنا دیجیے جہاں آپ کے وہ نیک فرشتے موجود ہوں۔ اور یقیناً اس مجلس کے اندر اللہ کے وہ نیک فرشتے موجود ہوں گے۔ یقیناً اس سے مبارک مجلس کون سی ہوگی کہ جہاں پر آپ کے، اے اللہ! آپ کے اولیاء، طلباء جمع ہوں۔ اور اے اللہ! سارا سال محنت کر کے انہوں نے یہ کتابیں ختم کی ہیں۔ یقیناً وہ فرشتے وہ موجود ہیں۔ اے فرشتو! للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ کے وہ نیک فرشتو! ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ آپ کے آمین کہہ دینے سے اللہ ہماری یقیناً دعائیں قبول فرما لیں گے۔ اے اللہ کے نیک فرشتو! للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! آپ کے خزانے تو اتنے وسیع ہیں کہ آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اور ان کا قول یقیناً آپ ہی کا قول ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے، اللہ فرماتے ہیں کہ: میرے خزانے اتنے وسیع ہیں کہ اگر تمام جنات اور انسان جمع ہو جائیں اور اپنی اپنی دعائیں مانگیں، اور میں ہر ایک کی منہ مانگی مرادیں پوری کر دوں، تو پھر ان سب کی مرادیں پوری کرنے کے باوجود بھی میرے خزانے اتنے وسیع ہیں کہ ان کے اندر مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئے گی۔ اے وسیع خزانوں والے! اے، یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! یا اکرم الاکرمین! یا اکرم الاکرمین! یا اکرم الاکرمین! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول، دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! یہ طلباء کا سال ختم ہو رہا ہے۔ اے اللہ! آنے والے سال کو ان کے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ! اس میں، اے اللہ! تعلیم میں کوئی رکاوٹ ہو اس کو دور فرما۔ اے اللہ! اخلاص و استقامت کے ساتھ پڑھنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر شر، فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! بلند ہمت، بلند عزم نصیب فرما۔ اے اللہ! اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے جو عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! ان کی مغفرت فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہمارے جو عزیز و اقارب اور اساتذہ رخصت ہو چکے، اس دنیا سے چلے گئے، اے اللہ! ان کی مغفرت فرما دیجیے۔ اے اللہ! ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیے۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرمائیے۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرمائیے۔ اے اللہ! ان کے جو پس ماندگان، اولاد اور اہل و عیال باقی ہوں، اے اللہ! ان کو خوش، ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اور اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ! ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ، تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر خوشی، مسرت اور عافیت کے ساتھ قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ان کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! ان سب کو، اے اللہ! وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو، اے اللہ! وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری بھی حفاظت فرما، ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرما اور قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اپنے اس، اس دین کے وسیلے، اے اللہ! آپ کے جو دین کی دو مبارک کتابیں ختم ہوئیں، اس کے وسیلے ہم آپ سے سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! کفر، گمراہی اور بدعتوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں سے بنا دیجیے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا دیجیے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں پر استقامت، اخلاص سے عمل کرنے والا بنا دیجیے۔ اے اللہ! سنتوں کو ہماری طبیعت بنا دیجیے۔ اے اللہ! مکروہات شرعیہ کو مکروہات طبعیہ بنا دیجیے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس وطن کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! یہاں پر اسلام کی حفاظت فرما۔ خصوصاً اس خطے میں، اے اللہ! اسلام کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جو سازشوں میں مصروف ہیں، یا اللہ! اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! مدارس، مساجد پر بڑا سخت تکلیف کا وقت آیا ہے۔ اے اللہ! اس تکلیف اور پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ! پھر یسر والا، اے اللہ! یسر والا زمانہ عطا فرما۔ اے اللہ! آسانی والا زمانہ عطا فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور بہت سے لوگوں نے بھی دعاؤں کا کہا ہے۔ بہت سے بیچارے کئی پریشانیوں اور مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور بعض کی بعض حاجات ہیں، ان کا کہا ہے۔ اے اللہ! آپ عالم الغیب ہیں۔ اے اللہ! آپ کے یہ طلباء، اولیاء اللہ بیٹھے ہیں۔ اے اللہ! ان کے وسیلے سے، اے اللہ! اے اللہ! ہمارے، جنہوں نے دعاؤں کا کہا ہے ان کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ان کی سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے۔ دعا فرمائیں، اللہ تعالی صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! مسرت، عافیت اور معافات نصیب فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں بھی مسرت، عافیت اور معافات نصیب فرما۔ صحت و تندرستی نصیب فرما۔ اے اللہ! تکلیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جو مقاصد ذہن میں ہیں، اے اللہ! ان تمام مقاصد کو احسن طریقے سے پورا کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اوقات میں برکت نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! گھر میں، اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کے گھروں میں اطمینان و سکون نازل فرما۔ اے اللہ! پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گھروں میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کی پریشانی اور مسائل کو دفع فرما۔ اور میری والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے۔ دعا فرمائیں، اللہ ان کا تا دیر ان کا سایہ ہمارے سروں پر صحت اور عافیت اور مسرت سے قائم و دائم رکھے۔ اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر صحت اور عافیت اور مسرت سے قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! جتنے میرے تلامذہ موجود ہیں یا جتنے حاضرین موجود ہیں، اے اللہ! ان میں سے بھی جن کے والدین زندہ ہیں، یا اللہ! ان کو، اے اللہ! ان کے والدین کو صحت اور عافیت اور مسرت کے ساتھ ان کے سروں پر ان کا سایہ تا دیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! احسن طریقے سے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنی خیر ہم نے مانگ لی، اے اللہ! وہ سب ہمیں نصیب فرما۔ اور جو چیزیں ہم بھول گئے، اے اللہ! وہ تمام خیریں بھی ہمیں نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر شر سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جن شرور سے پناہ مانگی ان سے بھی بچا لے۔ اے اللہ! جن کو ہم نہیں جانتے، اے اللہ! ان سے بھی ہمیں بچا لے۔ اے اللہ! جن کی دعا ہم نے نہیں مانگی، ان شرور سے بھی ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میری ہمشیرہ کے لیے بھی دعاؤں کی درخواست ہے، والد صاحب کی وفات کے بعد سے وہ بڑی پریشان رہتی ہیں۔ آپ سب سے دعا کی درخواست ہے کہ اے اللہ! ان کو، دعا کریں، اللہ ان کو صحت اور عافیت اور مسرت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت اور مسرت نصیب فرما۔ اے اللہ! اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی صحت، عافیت اور مسرت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کے بچوں کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو باعمل عالم بنا دے۔ اے اللہ! ان کو باعمل عالم بنا دے۔ اے اللہ! ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میرے والد محترم حضرت شیخ التفسیر رحمہ اللہ کے لیے بھی دعا فرمائیں۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی جو کتابیں ابھی تک طبع نہیں ہو سکیں، اے اللہ! ان کو احسن طریقے سے طبع کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اور ان کی جن کتابوں، سوانح اور تقاریرِ کاشف المجدِی وغیرہ پر اور تقاریرِ بیضاوی پر جو کام ہو رہا ہے، اے اللہ! اس کو جلد سے جلد احسن طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام رکاوٹیں دور فرما۔ صلی اللہ تعالی۔ چلیے جی، مبارک ہو بھئی آپ سب کو۔
123 approved lectures · 123 of 123
⏮ First ◀ Previous
Current dars-123