اچھا مولانا! ہم وضع کے اعتبار سے لفظ کی قسمیں پڑھ رہے تھے بھئی۔ بتلایا تھا وضع کے اعتبار سے لفظ چار قسم پر ہے: خاص، عام، مشترک اور مؤول۔ سب سے پہلے خاص اور عام کی فصل ذکر کی مولانا۔ بتلایا خاص ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کسی معنی معلوم کے لیے یا مسمائے معلوم کے لیے کس طور پر؟ انفرادی طور پر۔ یعنی وہ معنی اور یہ اور وہ مسمیٰ کیا ہو؟ اکیلا ہو۔ اس کے ساتھ افراد نہ ہوں بھئی۔ یہ عام سے احتراز اور عام وغیرہ سے اکیلا ہو مولانا، کئی معانی وغیرہ نہ ہوں بھئی۔ اکیلا ہو۔
اور بتلایا تھا معنیٰ سے کیا مراد ہے؟ وصف ہے جو خود قائم نہ رہ سکے بلکہ کس کے ساتھ قائم ہو؟ غیر کے ساتھ۔ ایسا معنیٰ ہو، ایسی ایک صفت ہو، ایک صفت پر دلالت کرے۔ یا مسمائے معلوم مولانا۔ مسمائے معلوم سے کیا مراد ہے؟ اس میں ذات بھی آ گئی، شخص بھی آ گیا۔ شخص معلوم جیسے زید ہیں مولانا، اب وہ ایک ذات کے لیے وضع ہے۔ اور ذات معلوم جیسے انسان اور رجل مولانا۔ انسان اور رجل کو میں نے کیا بنایا تھا؟ جنس اور نوع کے اعتبار سے، افراد کے اعتبار سے نہیں مولانا۔ تو یہاں انسان مفہوم کے اعتبار سے ہیں، یوں سمجھیں، کس کے اعتبار سے؟ مفہوم کے اعتبار سے، قطع نظر افراد کے مولانا۔ قطع نظر افراد کے، تو یہ خاص، الجنس الخاص میں نے اسی لیے کہا، النوع الخاص میں نے اسی لیے کہا مولانا۔ الفرد الخاص میں سے نہیں بنایا اس کو مولانا، کیونکہ یہ فرد خاص میں سے نہیں ہے مولانا، کیونکہ اس کے تو بہت افراد ہیں۔ ہاں مفہوم کو دیکھو انسان کس کو کہتے ہیں مولانا؟ مفہوم کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے، تو ایک معلوم ذات ہے بھئی اور وہ کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو پھر بتلایا تھا اس کے تین افراد ہیں: الفرد الخاص، تین قسمیں ہیں: الفرد الخاص، الجنس الخاص اور النوع الخاص۔ اور پھر میں نے بتایا تھا کہ جنس اور نوع کی وہ تعریف جو آپ نے منطق میں پڑھی، وہ یہاں نہیں ہو گی بلکہ یہاں اور تعریف ہو گی۔ وجہ یہ کہ منطق والے بحث کرتے ہیں حقیقت سے اور اصولِ فقہ والے بحث کرتے ہیں اغراض و مقاصد سے بحث کرتے ہیں۔ تو منطق کے اندر آپ نے جنس کی تعریف پڑھی تھی: وهو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق، کیونکہ وہ حقیقت سے بحث کرتے ہیں، جن کی حقیقتیں مختلف ہوں جیسے حیوان مولانا۔ حیوان کے افراد کیا ہیں؟ انسان ہیں اور جانور ہیں اور ہر ایک کی حقیقت کیا ہے؟ مختلف ہے۔ مختلف ہے۔ اور جبکہ کس کی بات چل رہی ہے؟ جنس کی۔ اور جبکہ اصولِ فقہ میں تعریف یہ کریں گے: وهو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض، لہٰذا انسان جو ہے وہ اصولِ فقہ میں آ کر کیا ہو گا؟ جنس بن جائے گا، اس لیے کہ اس کے افراد دو قسم پر ہیں: مرد ہیں اور عورتیں۔ اور مردوں کے اغراض و مقاصد ان کی تخلیق کے اغراض و مقاصد الگ، عورتوں کی تخلیق کے اغراض و مقاصد الگ الگ ہیں۔ تو لہٰذا یہ کیا ہوا؟ اصولِ فقہ کے اعتبار سے جنس ہوا بھئی، مختلف ہوئے ان کے اغراض و مقاصد۔
اور پھر اس کے بعد نوع کی تعریف کی تھی، تو مناطقہ نوع کی تعریف کرتے تھے: وهو كلي مقول على كثيرين متفقين بالحقائق، جن کی حقیقت ایک ہو، تو انسان ان کے نزدیک کیا ہوا؟ نوع، اور اصولِ فقہ میں کیا ہوا؟ جنس ہوا مولانا۔ تو ان کے نزدیک نوع اس لیے کہ مرد ہو یا عورت سب کی حقیقت کیا ہے؟ سب حیوانِ ناطق ہیں، ان کی ایک ہی حقیقت ہے۔ اور جبکہ اصولِ فقہ والے تعریف کرتے ہیں: وهو كلي مقول على كثيرين متفقين بالأغراض، لہٰذا اب ان کے نزدیک نوع کیا ہوئی؟ رجل۔ اس رجل کے افراد سب کے اغراض کیا ہیں؟ ایک ہیں۔ اسی طرح اور کیا ہوئی؟ امرأة، کیونکہ اس کے اغراض بھی سب کے ایک ہیں مولانا۔ ایک ہیں۔
اس کے بعد عام کی تعریف پڑھی تھی مولانا کہ ہر ایسا لفظ ہے جو مجموعے کو شامل ہو افراد کے۔ پھر یہ مجموعے کو شامل یا تو لفظوں کے اعتبار سے ہو گا یا معنیٰ کے اعتبار سے۔ لفظوں کے اعتبار سے جیسے مشركون اور مسلمون وغیرہ مولانا۔ تو مسلمون جمع ہے کس کی؟ مسلم کی، اور جب واؤ نون آپ نے لگا دیا اب یہ کم از کم کتنے افراد پر دلالت کرے گا؟ تین افراد ہونے چاہئیں، پھر مسلمون کہیں گے مولانا۔ تو دیکھو اب افراد آ گئے بھئی، افراد کے مجموعے کو، پر یہ بولا جاتا ہے، لہٰذا یہ خاص ہوا یا عام ہوا مولانا؟ عام ہوا۔ اور کبھی معناً، لفظوں کے اعتبار سے تو جمع نہیں ہے، مجموعے پر جمع نہیں ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے کیا ہے؟ کس پر بولا جاتا ہے؟ مجموعے پر مولانا، جیسے مَن اور مَا۔ اب یہ مَن اور مَا لفظوں کے اعتبار سے تو مفرد، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے جمع ہیں۔ مَن سے کیا مراد ہیں؟ ذوی العقول، کن پر بولا جاتا ہے؟ ذوی العقول پر۔ ذوی العقول کیا ہیں مولانا؟ انسان، جنات اور فرشتے۔ اور مَا کس پر بولا جاتا ہے؟ غیر ذوی العقول پر بولا جاتا ہے۔
یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ کوئی مشکل تو نہیں ہے؟ کوئی اشکال بھئی؟ سب کو اچھی طرح سبق سمجھ میں آیا؟ جی۔
اب خاص کا حکم بتلانے لگے ہیں مولانا، کہتے ہیں: وحكم الخاص من الكتاب وجوب العمل به لا محالة، اور خاص کا حکم کتاب اللہ میں سے جو ہے، اس خاص کا حکم کیا ہے؟ وجوب العمل به، کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے، لا محالة، اي قطعا ويقينا، قطعی طور پر اور یقینی طور پر مولانا، قطعی ہے مولانا، خاص کیا ہے؟ قطعی ہے، اس پر عمل کرنا واجب۔
فإن قابله خبر الواحد أو القياس، اگر اس کا مقابلے میں کرے کون مولانا؟ خبرِ واحد یا قیاس۔ بھئی کتاب اللہ کا خاص آیا اس کے مقابلے میں خبرِ واحد آ گئی یا قیاس۔ خبرِ واحد کسے کہتے ہیں، جانتے ہو بھئی؟ حدیث کی قسم ہے۔ یاد رکھو حدیث عند الفقهاء فقہاء کے نزدیک حدیث تین قسم پر ہے۔ فقہاء کے نزدیک حدیث تین قسم پر ہے: خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ واحد۔ خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ واحد۔
خبرِ متواتر وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے، جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے کثیر افراد ہوں، اتنے کثیر افراد ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے، کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے۔ سمجھ میں آئی تعریف؟ خبرِ متواتر کس کو کہتے ہیں؟ یعنی وہ ایسی حدیث ہے کہ ہر ہر زمانے میں اتنے اتنے لوگ اس کو روایت کر رہے ہیں کہ عقل یہ تسلیم ہی نہیں کرتی کہ اتنے لوگ کبھی جھوٹ پر جمع ہو جائیں۔ یہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے، معلوم ہوا یہ حدیث کیا ہے؟ قطعی ہے، قطعی ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ ہر لحاظ، ہر حال میں یہ سچی خبر ہے بھئی۔
اور دوسری ہے مولانا خبرِ مشہور۔ خبرِ مشہور وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے، جس کے روایت کرنے والے صحابہ کے بعد، جس کے روایت کرنے والے صحابہ کے بعد کسی بھی زمانے میں تین سے کم نہ ہوں۔ تین سے کم نہ ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی، خبرِ مشہور کسے کہتے ہیں بھئی؟ صحابی کی بات نہیں کر رہا، صحابی چاہے ایک بھی ہو مولانا، صحابی کیا ہے؟ چاہے ایک بھی ہو، ہمارے نزدیک معتمد ہے مولانا۔ ہاں بعد کے کسی زمانے میں بھی اس کے روایت کرنے والے تین سے کم، تابعین بھی کم از کم تین ہوں یا تین سے زیادہ، تبع تابعین بھی کم از کم تین یا تین سے، اسی طرح بعد کے کسی زمانے میں بھی تین سے کم نہ ہوں تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ خبرِ مشہور۔
اور خبرِ واحد، اور اگر کسی، صحابہ کے بعد، اور اگر صحابہ کے بعد کسی زمانے میں روایت کرنے والے تین سے کم ہوں، یعنی دو یا ایک ہوں، یعنی دو یا ایک ہوں، تو پھر اسے خبرِ واحد کہتے ہیں۔ تو پھر اسے خبرِ واحد یا خبرِ آحاد کہتے ہیں۔ تو پھر اسے خبرِ واحد یا خبرِ آحاد کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ خبرِ متواتر جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے، کہ اتنے لوگ کبھی بھی جھوٹ پر جمع نہیں، معلوم ہوا یہ خبر ہر حال میں سچی ہے۔ اور خبرِ مشہور کیا ہے کہ جس کے راوی صحابہ کے بعد تابعین، تبع تابعین یا بعد کے کسی زمانے میں بھی تین سے کم نہ ہوں۔ کم سے کم اگر کسی زمانے میں ہوں تو تین ہوں، اس سے کم نہ ہوں، اس سے زیادہ ہوں۔ اور پھر خبرِ واحد ہے جس کے راوی روایت کرنے والے صحابہ کے زمانے کے بعد کسی زمانے میں بھی، مثلاً تابعین صرف دو ہیں یا ایک ہے یا تبع تابعین صرف اس کو روایت کرنے والے دو ہیں یا ایک ہے، تو پھر یہ کیا کہلائے گی؟ خبرِ واحد یا خبرِ آحاد کہلائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ خبرِ آحاد کہلائے گی، خبرِ آحاد کہلائے گی بھئی۔
تو اب مولانا، ایک بات قرآن سے معلوم ہو رہی ہے مولانا اور کتب قرآن سے، اور قرآن کے کس سے؟ خاص سے، کس سے؟ خاص سے۔ تو اب اس کے مقابلے میں بظاہر حدیث آ گئی، کتاب اللہ کے خاص سے ایک بات کا پتہ چل رہا ہے ایک حکم کا اور حدیث سے بظاہر دوسرے حکم کا، دوسرا حکم معلوم ہو رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ہی مسئلے کے اندر بھئی، ایک حدیث سے کچھ اور معلوم ہو رہا ہے بظاہر اور قرآن سے کچھ اور، تو اور کیا آیا مولانا؟ قرآن کے مقابلے میں خبرِ واحد، تو اس کے مقابلے میں خبرِ واحد آ جائے یا قیاس آ جائے مولانا، کیا آ جائے؟ قیاس آ جائے، قیاس آگے ہم بحث پڑھیں گے مولانا، بڑا طویل باب ہے۔ قیاس بھئی۔
قیاس کہتے ہیں اندازہ لگانا، ایک چیز کا اندازہ لگانا دوسری سے مولانا، ایک چیز کا حکم معلوم کرنا دوسری چیز سے مولانا۔ مثلاً آپ جانتے ہیں بھئی، شراب حرام ہے، شراب کیا ہے؟ حرام ہے۔ اور اس کے اندر اس میں غور کیا آپ نے کیوں حرام ہے شراب؟ تو پتہ چلا اس میں نشہ ہے، اس میں کیا ہے؟ نشہ ہے۔ اب آپ نے اور ہیروئن میں غور کیا مولانا، دیکھا ہیروئن میں بھی وہی علت پائی جا رہی ہے یعنی نشے کی، تو جو حکم شراب کا تھا، جو علت شراب میں تھی وہی علت کس میں ہے؟ کس میں؟ ہیروئن میں بھی، تو جو حکم شراب کا تھا وہ آپ نے کس پر لگا دیا؟ ہیروئن، ہیروئن تھی پہلے زمانے میں؟ نہیں، اس کا حکم تو نہیں ہے مولانا، نص تو اس میں نہیں موجود، اب ہم قیاس کریں گے اس کو، اس جیسی اور چیز کو دیکھیں گے اور اس کا جو حکم ہو گا وہی حکم اس پر لگائیں گے۔ ہم نے دیکھا کہ شراب میں بھی اس کی طرح اس میں بھی کیا ہے؟ نشہ، اس میں بھی کیا ہے؟ نشہ، اور شراب کا حکم تو ہمیں معلوم وہ کیا ہے؟ حرام، معلوم ہوا ہیروئن بھی کیا ہے؟ تو یہ آپ نے قیاس کیا مولانا، اندازہ لگایا، ایک چیز کے حکم کا پتہ لگایا دوسری چیز کے، سے دوسری چیز سے۔ اس کو کیا کہتے ہیں مولانا؟ قیاس کہتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اب مولانا کتاب اللہ کے خاص کے مقابلے میں کیا آ گئی؟ خبرِ واحد آ گئی یا کیا آ گیا؟ قیاس۔ کتاب اللہ کے خاص سے ایک بات معلوم ہو رہی ہے اور خبرِ واحد سے دوسرا حکم، دوسری بات معلوم ہو رہی ہے بھئی، کتاب اللہ میں مثلاً یوں کرو اور حدیث میں کسی دوسری طرح کہ یوں کرو اس میں بھئی، اس مسئلے میں۔ یا مولانا قیاس ہے آپ کا، کتاب اللہ کے خاص سے ایک مسئلہ معلوم ہو رہا ہے اور قیاس سے بھی وہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے کیا ہے؟ اس کے مطابق نہیں ہے، اس کے جو حدیث سے معلوم ہوا وہ کتاب اللہ کے خاص کے مطابق نہیں ہے، جو قیاس سے معلوم ہوا وہ کتاب اللہ کے خاص کے مطابق نہیں ہے، اب کیا کریں گے مولانا؟ تو بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ کتا- کت- جو کتاب اللہ کا خاص ہے وہ قطعی ہے اور خبرِ واحد اور قیاس کا درجہ کم ہے، وہ ظنی ہیں مولانا، کیا ہیں؟ ظنی ہیں، ان میں خطا کا بھی احتمال ہے۔ کس چیز کا احتمال ہے؟ خطا کا۔ بھئی خبرِ واحد ہے نا اتنے زیادہ لوگ روایت کرنے والے نہیں ہیں مولانا، جب اتنے زیادہ لوگ روایت کرنے والے نہیں ہیں تو خطا کا امکان آ گیا یا نہیں آ گیا بیچ میں؟ جی، کہیں کسی سے روایت میں خطا ہوئی ہو یا کچھ۔ یا قیاس آپ نے کیا اور قیاس میں بھی تو کیا کرتے ہیں؟ ایک چیز کا اندازہ لگاتے ہیں، تو اس میں بھی خطا کا امکان ہے یا امکان نہیں اس کے اندر بھئی؟ اس میں بھی خطا کا امکان ہے۔ تو یہ یقینی ہوا یا ظنی ہوا مولانا؟ کیا ہوا؟ ظنی ہوا۔
یعنی غالب گمان ٹھیک کا ہے لیکن بہرحال اس میں کیا ہے؟ خطا کا بھی امکان، تو قطعی نہ رہی بات بھئی، جبکہ خبرِ متواتر بھی قطعی ہوتی ہے مولانا۔ خبرِ متواتر کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ لوگ ہوتے ہیں اتنے زیادہ کہ عقل تصور ہی نہیں کر سکتی کہ اتنے لوگ جھوٹ پر کم از کم جمع، ہر زمانے کے اندر اتنے روایت کرنے والے ہیں کہ وہ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے، معلوم ہوا یہ بات ٹھیک ہے، قطعی طور پر، اس میں کسی قسم کی خطا نہیں ہے۔
اب کتاب اللہ کے مقابلے میں کیا ہے مولانا؟ خبرِ واحد آ گئی یا قیاس، کتاب اللہ سے پتہ چل رہا ہے ایک مسئلے کا کہ اس طرح ہے، حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ دوسری طرح ہے یا قیاس، کتاب اللہ سے پتہ چل رہا ہے اس طرح ہے اور قیاس کیا کہتا ہے؟ دوسری طرح ہے، اب کیا کریں؟ یہ تو مقابلہ آ گیا، بیچ میں ٹکراؤ آ گیا مولانا، تو کہتے ہیں اب ان کو جمع کرنے کی کوشش کرو بھئی، کوئی ایسی صورت دیکھو کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔
اس کو کہتے ہیں جمع اور تطبیق، کیا کہتے ہیں؟ جمع اور تطبیق۔ آپ نے دونوں کو جمع کر دیا، دونوں میں تطبیق دے دی مولانا، ایسی صورت نکال لی کہ اس پہ بھی عمل ہو رہا ہے اور اس پر بھی عمل ہو رہا ہے۔ تو اگر تطبیق ممکن ہو، جمع ممکن ہو تو تطبیق کر لی جائے گی، اگر تطبیق اور جمع ممکن نہ ہو مولانا، تو پھر چونکہ کتاب اللہ کا درجہ ہے
اور اس کے مقابلے میں آئے خبرِ واحد او القياس یا قیاس فإم امكان الجمع بينهما پس اگر اگر ممکن ہو جمع کرنا ان کے بیچ بدون تغيير في حكم الخاص کہ خاص کے حکم میں تبدیلی کیے بغیر وہی خاص کے حکم میں بھئی ایسے طور پہ جمع کرنا ہے کہ خاص کے حکم میں کوئی تبدیلی نہ آئے، ہاں اس کو نہیں بدلنا، اس کو اسی طرح برقرار رکھنا ہے۔ کوئی صورت نہیں، تو اگر بغیر تبدیلی کیے خاص کے حکم میں جمع کرنا ممکن ہو يعمل بهما تو پھر دونوں پر عمل کیا جائے گا، خاص پر بھی اور خبرِ واحد پر بھی یا خاص پر بھی اور قیاس پر بھی دونوں پر عمل کیا جائے گا۔
وإلا يعمل بالكتاب ورنہ عمل کیا جائے گا کتاب اللہ پر و يترك ما يقابله اور ترک کر دیا جائے گا اس کو جو اس کے مقابلے میں ہے، اس کے مقابلے میں کیا ہے؟ خبرِ واحد یا قیاس ہے مولانا۔
مثاله في قوله تعالى: يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء، وإن لفظة الثلاثة خاص في تعريف عدد معلوم فيجب العمل به۔
یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ کتاب اللہ کے خاص پر عمل کرنا واجب ہے قطعی طور پر۔ اگر اس کے مقابلے میں خبرِ واحد اور قیاس آئے مولانا، تو اگر کیا ممکن ہو دونوں میں؟ تطبیق ممکن ہو خاص میں تبدیلی کیے بغیر، تو پھر تطبیق دے دی جائے گی اور دونوں پر عمل کیا جائے گا، ورنہ کس پر عمل کیا جائے گا؟ خاص پر وہی عمل کیا، کتاب اللہ پر عمل کیا جائے گا۔
مثاله اس کی مثال في قوله تعالى اللہ کے اس قول میں ہے: يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء روکے طلاق والی عورتیں جو ہیں جن کو طلاق ہوئی روکے بأنفسهن اپنے نفسوں کو ثلاثة قروء تین قروء۔ تین قروء تک اپنے آپ کو روکیں بھئی، تین قروء۔
اجمالاً مسئلے کے اشارات لکھ لیں مولانا، سارا لکھنا مشکل ہے اشارات لکھ لیں اس سے بھی آپ کو مسئلہ کافی حد تک یاد رہے گا۔ سب سے پہلے کیا آئے گی؟ آیت اور قروء کا معنی آئے گا بھئی، جلدی جلدی لکھیں۔ آیت و قروء کا معنی۔
اچھا نہ پھر اس کے بعد آئے گا مولانا فقہی مسئلہ آ جائے گا۔ فقہی مسئلہ، اس میں مسلکِ احناف بھی آ جائے گا، مسلکِ شوافع بھی آ جائے گا۔ مسلکِ احناف آئے گا اور مسلکِ شوافع۔
اس کے بعد آئے گی مولانا احناف کی دلیل، احناف کی دلیل۔ اس کے بعد آئے گی مولانا شوافع کی دلیل، اس کے بعد آئے گی شوافع کی دلیل، دو تقریریں ہوں گی اس کی۔ دو تقریریں ہوں گی۔
اس کے بعد شوافع کی دلیل کا جواب دیں گے از جانبِ احناف۔ اس کے بعد شوافع کی دلیل کا جواب دیں گے از جانبِ احناف۔
اس کے بعد شوافع کا ایک اعتراض ذکر کیا جائے گا احناف پر، اس کے بعد شوافع کا ایک اعتراض ذکر کیا جائے گا احناف پر۔ احناف پر۔
پھر احناف کی طرف سے اس کے جوابات ذکر ہوں گے۔ پھر احناف کی طرف سے اس کے جوابات ذکر ہوں گے۔
پھر اس اختلاف پر مرتب ہونے والے کچھ مسئلے ذکر ہوں گے۔ پھر اس اختلاف پر مرتب ہونے والے کچھ مسئلے ذکر ہوں گے۔
لکھ لیا بھئی؟ اب دیکھیے اب مسئلہ سمجھتے جائیے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء طلاق والی عورتیں روکیں بأنفسهن اپنے نفسوں کو ثلاثة قروء کتنے قروء وہاں ذکر ہوئے؟ تین۔ اب قروء کے بارے میں یاد رکھو قروء جمع ہے قرء ان کی اور قرء ان حیض کو بھی یہ حیض کو بھی کہتے ہیں اور طہر کو بھی کہتے ہیں۔ یہ حروفِ اضداد میں سے ہے مولانا جس کا اطلاق حیض پر بھی ہوتا ہے اور طہر پر بھی، جیسے باعَ کس میں سے ہے مولانا؟ کلماتِ اضداد میں سے ہے اس کا معنی بیچنے کے لیے بھی آتے ہیں اور اس کے معنی خریدنے کے بھی آتے ہیں، لیکن زیادہ کس میں اب استعمال ہے؟ بیچنے میں۔ تو یہ اضداد میں سے ہے۔ اسی طرح حیض اور طہر ایک دوسرے کی ضد ہیں جیسے خریدنا اور بیچنا ایک دوسرے کی ضد ہیں، تو یہ قرء ان دونوں پر بولا جاتا ہے اس کے معنی حیض کے بھی آتے ہیں عربی میں اور طہر کے بھی آتے ہیں۔
اب فقہی مسئلہ سمجھو مولانا، اس بات میں شوافع اور احناف کا اختلاف ہے کہ جب عورت کو طلاق دی جائے تو وہ عدت جو گزارے گی وہ طہر کے ساتھ شمار کرے گی یا حیض کے ساتھ شمار کرے گی؟ احناف کہتے ہیں عورت کی عدت تین حیض ہیں۔ تین حیض جب گزر جائیں گے عورت کی عدت کیا ہو جائے گی؟ پوری ہو جائے گی۔ جبکہ شوافع فرماتے ہیں کہ عورت کی عدت کا حساب طہر سے لگایا جائے گا، وہ طہر جس میں طلاق دی گئی وہ طہر اور اس کے علاوہ دو مزید طہر ہو جائیں گے، تو یہ کیا ہوا؟ تقریباً تین طہر تین طہر بن گئے بھئی، یہ عورت کی عدت ہے۔ تو اس طہر کے گزرنے کے بعد اور اگلے دو طہر مزید جب گزر جائیں تو عورت کے کیا ہو جائے گی عدت؟ پوری ہو جائے گی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا؟ مسئلہ کیا کہ اگر عورت کو طلاق دی جائے مولانا، تو احناف کے نزدیک عدت کس چیز کے ساتھ شمار کی جائے گی؟ حیض کے ساتھ، اور شوافع کے نزدیک؟ طہر کے ساتھ بھئی، طہر۔ تو احناف کے نزدیک تین حیض جب گزر جائیں عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ شوافع کے نزدیک بھی تین طہر مولانا، تقریباً تین طہر بن جاتے ہیں، ایک وہ طہر جس کے اندر کیا ہوئی؟ طلاق دی گئی، اور دوسری دوسرا اگلا اور اس سے اگلا، تو جب تیسرا طہر گزر جائے گا تو عورت کی عدت کیا ہو جائے گی؟ پوری ہو جائے گی بھئی۔
؟ اور یاد رکھو طلاق دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ طہر میں طلاق دی جائے یا حیض میں طلاق دی جائے؟ طہر میں طلاق دی جائے، اس لیے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حیض میں بیوی کو طلاق دی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کرنے کا حکم دیا بھئی کہ رجوع کرو، اور پھر اگر ارادہ بنے تو کس میں طلاق دو؟ طہر میں طلاق دو۔
یہ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ اب اس مسئلے میں احناف کی دلیل یہ آیت ہے مولانا، آیت میں اللہ فرماتے ہیں: يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء، کتنے قروء وہاں ذکر ہوئے؟ تین قروء ذکر ہوئے، اور ثلاثة کا اب قروء میں احتمال حیض کا بھی ہے، طہر کا بھی ہے بھئی، احناف کہتے ہیں کہ ثلاثة کا لفظ خاص ہے مولانا، اور خاص پر عمل کرنا، دیکھو استاد آگے... آ گئے؟
چلیے مولانا باقی کل پڑھیں گے، هذا واللہ المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔