کل مولانا! ہم نے مشترک اور مؤول کی بحث ہم نے شروع کی تھی، بھئی۔ مشترک مصنف نے آپ کو بتایا تھا، مشترک وہ لفظ ہے جس کو دو مختلف حقائق... مختلف حقیقتوں والے معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو يا کئی مختلف حقیقتوں والے معانی کے لیے وضع... کئی معانی کے لیے وضع ہے، اور وضع ہے اور ہر معنی کی حقیقت کیا ہو؟ مختلف ہو، اور اس کی دو تین مثالیں ذکر کی تھیں: جاریہ کا لفظ، جیسے کس کے لیے وضع ہے؟ باندی کے لیے بھی وضع ہے اور جاریہ کا لفظ کشتی کے لیے بھی وضع ہے اور دونوں کی حقیقتیں مختلف۔ اسی طرح مشتری کا لفظ، ستارے کے لیے بھی وضع ہے اور عقل کو قبول... عقد کو قبول کرنے والے کے لیے بھی، اور دونوں کی حقیقتیں مختلف ہیں۔ اسی طرح بین کا لفظ، یہ بھی مولانا کس سے؟ بانَ يبينُ بيناً سے بھی ہو سکتا ہے اور بانَ يبينُ بياناً سے بھی ہو سکتا ہے، تو اس کے معنی جدا کے بھی آ سکتے... ہو سکتے ہیں اور ظاہر، تو جدا اور ہونے ان دونوں معانی میں یہ مشترک ہے، مولانا۔
اور میں نے بتایا تھا کہ تین مثالیں ذکر کیں: دو جواہر کے قبیل سے ہیں اور ایک اعراض کے قبیل سے۔ جاریہ با... جاریہ کیا ہے؟ اعراض کے قبیل سے ہے مولانا، نام ہے کشتی کا اور باندی کا، اور دونوں اپنے وجود میں کسی کے محتاج نہیں، اور مشتری نام ہے عقد قبول کرنے والے کا اور سیارے کا، اور دونوں اپنے وجود میں کسی چیز کے محتاج نہیں، لیکن جدا یہ یہ وصف بنے گا، جدا ہونے والا۔ کوئی ذات ہو گی تو وہ جدا ہونے والی ہو گی، ذات جُد... سمجھ میں آیا؟ وصف ہے۔ اسی طرح ظہور، کوئی ذات اس کے لیے کیا چاہیے؟ کسی ذات کے ساتھ قائم ہو، کوئی ذات ظا... ہو گی تو ظہور اس میں پایا جائے گا، ذات ہی نہیں تو اس میں ظہور اکیلا بھی نہیں۔ جیسے اس واضح مثال سفیدی اور بہادری سے دی تھی، زید ہے تو بہادری ہے، بہادری کا الگ اپنا کوئی وجود نہیں، اسی طرح سفیدی کا اپنا کوئی الگ وجود نہیں، کوئی ذات ہے جو محل ہو جس کے ساتھ وہ قائم ہو تو سفیدی کا بھی وجود، ورنہ الگ اس کا اپنا کوئی وجود نہیں۔
اور مشترک کا حکم بتایا تھا مولانا کہ احناف کے نزدیک مولانا عمومِ مشترک جائز نہیں ہے، عمومِ مشترک کس کو کہتے ہیں؟ کہ ایک ہی وقت میں مشترک کے تمام معانی کا ارادہ کر لیا جائے، اور تمام معانی کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا، ایک ہی معنی مراد ہو گا، اور جب ایک معنی مراد ہو جائے تو باقی معانی کے ارادہ نہیں... اس ارادے کا احتمال کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، باقی معانی کا ارادہ نہیں ہو سکے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمومِ مشترک جائز ہے، بشرطیکہ ان معانی کے درمیان آپس میں تضاد نہ ہو، آپس میں ضدین نہ ہوں، اگر ضد ہوں تو پھر تو عمومِ مشترک نہیں، دونوں معانی مراد نہیں لے سکتے، اور اگر ضد نہ ہو تو پھر دونوں معانی مراد لے سکتے ہیں۔
اور اس پر کئی پھر مثالیں ذکر کیں مولانا، جیسے قروء کا لفظ ذکر کیا، کہ قروء کا لفظ مشترک ہے، کس کے درمیان؟ حیض اور طہر میں، تو اس سے ایک وقت میں ایک ہی معنی مراد ہو گا، چنانچہ احناف اس کا معنی کس کے کرتے ہیں؟ حیض کے، اور شوافع اس کا کیا معنی کرتے ہیں؟ طہر کے معنی کرتے ہیں، دونوں معنی مراد لینے کے قائل کوئی بھی نہیں ہے، کوئی بھی نہیں ہے، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی ضدین ہیں مولانا، تو یہاں شوافع بھی کیا کہتے ہیں؟ عمومِ مجاز ممکن ہی نہیں ہے۔
اور اسی پر تفریع کرتے ہوئے امام محمد رحمہ اللہ کا ایک مسئلہ بھی ذکر کیا، اسی وجہ سے امام محمد فرماتے ہیں: ایک شخص نے وصیت کی کہ بنو فلاں یعنی بنو زید کے موالی کو میرا مال دے دینا، اور بنو زید کے موالیِ اعلٰى بھی ہیں اور موالیِ اسفل بھی ہیں، تو یہاں پر اب مولانا وصیت باطل ہو... وہ شخص مر گیا اور اس نے بتایا نہیں کہ موالیِ اعلٰى مراد ہیں یا موالیِ اسفل، تو پھر وصیت کیا ہو جائے گی؟ باطل، کیونکہ مولى معتق کو بھی کہتے ہیں اور معتق کو بھی، اور معتق... تو فرق درمیان میں کرنے کے لیے پھر کیا لگا دیتے ہیں؟ مولائے اعلٰى معتق کو کہہ دیتے ہیں اور مولائے اسفل کس کو کہہ دیتے ہیں؟ معتق کو کہہ دیتے ہیں، تو اب مولانا عمومِ مشترک ہمارے نزدیک تو جائز ہی نہیں، لہٰذا دونوں مراد نہیں ہو سکتے، مولائے اعلٰى اور موالیِ اعلٰى اور موالیِ اسفل دونوں مراد لے لیں یہ تو ممکن نہیں، اور نیز دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں مراد لے سکتے، کیوں آپ ایک مراد لیتے ہیں بھئی؟ کوئی دلیل ہے؟ کوئی دلیل بھی... تو جب دونوں میں سے ایک بھی نہیں... کوئی ایک بھی مراد نہیں ہو سکتا اور دونوں اکٹھے بھی نہیں مراد ہو سکتے تو پھر وصیت ہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔
اور اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی شخص نے اگر اپنی بیوی سے کہا: "أنتِ عليَّ كـمثلِ أُمِّي" (تو مجھ پر کس کے مثل ہے؟ میری ماں کے مثل ہے، میری ماں کے مثل ہے)۔ اب یہ مولانا لفظ مشترک ہوا "مثل" یہاں پر: حرمت میں اور کرامت میں۔ حرمت، یعنی جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے تو بھی مجھ پر... یہ احتمال بھی ہے، اور یا جیسے میری ماں میرے نزدیک محترم اور عزت والی ہے تو بھی میرے نزدیک عزت والی ہے، تو یہ عزت میں اور حرمت میں یہ لفظ کیا ہوا؟ مشترک ہوا، تو لہٰذا اب اس کو ظہار کرنے والا نہیں کہا جائے گا جب تک کہ اس کی نیت نہ معلوم کر لی جائے، نیت کا پتہ چلے گا تو پھر ایک جانب کو ترجیح دے دی جائے گی، اگر اس کی نیت ظہار کی تھی تو ظہار ثابت ہو جائے گا اور اگر اس کی نیت نہیں تھی تو ظہار ثابت نہیں ہو گا۔
اور اسی پر کہتے ہیں مولانا کہ نظیر سے واجب نہیں ہو گی شکار کے بدلے میں، بھئی۔ بھئی اللہ تعالی نے حالتِ احرام میں محرم کے لیے شکار کرنا حرام ہے، اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾، تمہارے اوپر خشکی کا شکار حرام ہے جب تک کہ تم کس حالت میں ہو؟ حالتِ احرام میں ہو، حالتِ احرام میں معلوم ہوا خشکی کا شکار حرام، تو معلوم ہوا بحری شکار کیا ہے؟ حلال ہے، بحری شکار کیا ہے؟ حلال ہے۔
اب اگر کوئی شخص شکار... تو شکار حرام ہے حالتِ احرام میں، اگر کوئی کر لیتا ہے پھر اس کی سزا کیا ہے؟ اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾، تو بدلہ ہے مثل اسی کے جو اس نے قتل کیا من النعم (یعنی کہ جانور)۔ جو جانور اس نے قتل کیا ہے اسی کا مثل دینا پڑے گا، اور مثل کا لفظ مشترک ہے، یہ مثلِ صوری کو بھی شامل ہے اور مثلِ معنوی... مثلِ صوری یہ کہ جس قسم کا جانور ہے اسی قسم کے جانور کی قربانی کی جائے، مثلاً ہرن شکار کیا تو اس کی مثل کیا ہے؟ بکری، نیل گائے شکار کی تو اس کی مثل کیا ہے؟ گائے، خرگوش شکار کیا تو اس کی مثل کیا ہے؟ بکری کا بچہ، اگر شتر مرغ شکار کیا تو اس کی مثل کیا ہے؟ اونٹ۔ تو مثل... یہ ہے مثلِ صوری، اور ایک ہے مثلِ معنوی، اور وہ کیا ہے؟ قیمت ہے، کیونکہ قیمت بھی کیا ہے؟ اس کے مثل ہے، صورتاً تو نہیں اس کے مثل لیکن معنی کے اعتبار سے اس کے مثل۔ تو مثل قرآن میں آیا ہے، اس کے مثل واجب ہے تم پر، اس کا مثل تمہیں بدلے میں دینا پڑے گا، تو اب اس مثل سے مثلِ صوری اور مثلِ معنوی دو دو معنی ہو گئے اس کے، اور جب کبوتر یا چڑیا یا اس جیسے کوئی چھوٹی چیز کا شکار کر لے، تو ان کا تو مثلِ صوری ممکن نہیں۔ مثلِ صوری ممکن نہیں، کوئی ایسا ہے ان کے جتنا کوئی جانور جس کی قربانی کی جاتی ہو؟ چڑیا یا کبوتر کے برابر؟ تو ان کا مثلِ صوری دینا تو ممکن نہیں، تو ان میں تو بالاتفاق کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی، یعنی ان کی قیمت واجب ہو جائے گی وہ دینی پڑے گی، تو البتہ جن میں مثلِ سو... تو ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ بھی کہ جن میں مثلِ صوری دینا ممکن وہاں کیا دیا جائے گا؟ مثلِ صوری، اور جن میں مثلِ صوری ممکن نہیں ہے جیسے کبوتر، چڑیا وغیرہ وہاں کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی۔ احناف کہتے ہیں: یہ تو آپ نے عمومِ مشترک کر... لے لیا، مراد... عمومِ مشترک تو جائز نہیں، یہاں یا تو اس سے مثلِ صوری مراد لو یا اس سے کیا مراد لو؟ مثلِ معنوی، اور کبوتر اور چڑیا کی صورت میں تو بالاتفاق کیا لینا پڑے گا؟ مثلِ صوری ہی لی... مثلِ معنوی ہی لینا پڑے گا، مثلِ صوری ممکن ہی نہیں، جب ان میں مثلِ صوری... مثلِ معنوی ہی لینا پڑے گا تو باقیوں کے اندر بھی کیا لینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی ہی مراد لیں گے، ورنہ اگر یہاں مثلِ صوری مراد لیں اور باک... مثلِ معنوی مراد لیں اور باقیوں میں کیا مراد لیں؟ مثلِ صوری، تو پھر تو کیا لازم آئے گا؟ عمومِ... عمومِ مشترک، اور وہ تو جائز نہیں، لہٰذا اب احناف کے نزدیک یہ جو مثل آیا اس سے کون سا مثل مراد ہے؟ مثلِ معنوی، مثلِ صوری چاہے ہو چاہے نہ ہو اب ہم اس کو نہیں دیکھیں گے بلکہ کیا دینا پڑے گا سب میں؟ معنوی، بکری میں بھی... ہرن میں بھی کیا دینا پڑے گا؟ قیمت واجب ہو گی۔ سمجھ میں آیا؟ قیمت واجب ہو گی۔ ہاں پھر اس قیمت کے ذریعے اگر قربانی ہو سکتی ہے کہ جانور خرید کر تو پھر کیا کر لے؟ کوئی جانور خرید کر اس کی قربانی کر دے بھئی، یہ بھی ٹھیک ہے۔
آج مؤول کے بارے میں پڑھیں گے، بھئی۔
کہتے ہیں: "ثُمَّ إِذَا تَرَجَّحَ بَعْضُ وُجُوهِ الْمُشْتَرَكِ بِغَالِبِ الرَّأْيِ يَصِيرُ مُؤَوَّلًا"۔ وجوہ المشترک... جب ترجیح پا جائے مشترک کی بعض وجوہ، وجوہ سے مراد ہے معانی، وجوہ سے کیا مراد ہے؟ معانی۔ جب ترجیح پا جائے مشترک کے بعض معانی، تو وجوہ... بعض کی اضافت ہوئی وجوہ کی طرف، اور وجوہ کیا ہے؟ جمع، وجوہ کیا ہے؟ اور لفظِ بعض کی اضافت جب جمع کی طرف ہو جائے تو اس سے ایک فرد مراد ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں: کیا؟ "جاءني بعضُ الرجالِ"، کیا معنی؟ یا کہتے ہیں: "قالَ بعضُ الرجالِ"، کیا معنی؟ بعض آدمی نے کہا، کیا معنی؟ ایک آدمی نے کہا، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی بعض کی اضافت ہوئی وجوہ جمع کی طرف تو مراد ایک معنی ہے۔ جب ترجیح پا جائے کوئی ایک معنی مشترک کا "بغالبِ الرأيِ" کس کے ساتھ؟ غالب... بھئی مشترک کے کئی معانی تھے، جب ایک معنی ترجیح پا جائے غالبِ رائے کی وجہ سے، غالبِ رائے کا کیا مطلب؟ غالب... رائے سے مراد ظن ہے، غالبِ ظن کی وجہ سے، یعنی کوئی دلیل قائم ہو گئی۔ کیا قائم ہو گئی؟ دلیل کی وجہ سے... بھئی مشترک کے کئی معانی تھے لیکن ایک دلیل قائم ہوئی جس کی وجہ سے کیا مراد لے لیا؟ کوئی ایک معنی کا ترجیح دے دی، ایک معنی کو۔
تو یہ اب مؤول کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ مؤول کہلائے گا۔ ترجیح دے دی غالبِ رائے کے ساتھ مولانا، یعنی کوئی دلیل آئی، یعنی خبرِ واحد آ گئی، یا قیاس آ گیا، یا کوئی قرینہ قائم ہوا، خبرِ واحد بھی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ظن کا، قیاس بھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ظن کا، تو خبرِ واحد سے کیا آ جائے گا؟ غالبِ ظن یہ ہو جائے گا کہ یہ مراد ہے، قیاس سے بھی کیا پتہ چل جائے گا کہ غالبِ گمان یہ ہے، یہ مراد ہے، جیسے مولانا وہ قروء بھئی، قروء کے لفظ سے امام شافعی رحمہ اللہ کیا مراد لیتے ہیں؟ طہر، اور احناف کیا مراد لیتے ہیں؟ حیض مراد لیتے ہیں، اور دلیل کیا بناتے ہیں؟ احناف بناتے ہیں لفظِ ثلاثہ کو، کس کو بناتے ہیں؟ لفظِ ثلاثہ کو، اور امام شافعی رحمہ اللہ ثلاثہ کی تا کو، اس کی تا... اس کے ساتھ جو تا آئی ہے اس کو کیا بناتے ہیں؟ دلیل بناتے ہیں، کہ معلوم ہوا اس سے طہر مراد ہے کیونکہ طہر مذکر آیا، مذکر ہے۔ سمجھ میں آیا؟
تو یہ جو انہوں نے دلیل قائم کی، یہ کوئی قط... احناف کی دلیل کوئی قطعی ہے بھئی؟ جی؟ قطعی نہیں ہے، شوافع کی دلیل کوئی قطعی ہے بھئی؟ قطعی نہیں ہے مولانا، البتہ دلیل ہے، اس دلیل نے غالبِ ظن کا فائدہ دیا کہ غالبِ گمان یہی ہے کہ یہاں احناف کہنے لگے کہ قروء سے کیا مراد ہے؟ حیض، شوافع کہنے لگے کہ غا... ہماری یہ دلیل ہے اور اس دلیل سے غالبِ گمان یہی بنتا ہے کہ قروء سے کیا مراد ہے؟ طہر مراد ہے، کیا مراد ہے؟ قطعی نہیں مولانا، کتاب اللـ... قطعی ہوتا پھر تو اختلاف ہی نہ ہوتا، دونوں کا اختلاف ہوتا پھر؟ نہیں، تو یہاں دلیل سے ہم نے... اور وہ دلیل بھی کس چیز کا فائدہ دے رہی ہے؟ ظنِ غالب کا، سمجھ میں آیا؟
تو اب مولانا جب ایک معنی کو احناف نے ترجیح دے دی تو اب یہ کیا بن گیا؟ مؤول بن گیا، کیا بن گیا؟ مؤول بن گیا۔
"ثُمَّ إِذَا تَرَجَّحَ بَعْضُ وُجُوهِ الْمُشْتَرَكِ بِغَالِبِ الرَّأْيِ يَصِيرُ مُؤَوَّلًا"، پھر جب ترجیح پا جائے مشترک کا کوئی ایک معنی غالبِ رائے کے ساتھ یعنی غالبِ گمان کے ساتھ، "يَصِيرُ مُؤَوَّلًا" تو مشترک کیا بن جائے گا؟ مؤول بن جائے گا۔ "وَحُكْمُ الْمُؤَوَّلِ وُجُوبُ الْعَمَلِ بِهِ مَعَ احْتِمَالِ الْخَطَإِ"، اور حکم مؤول کا: اس پر عمل کا... کرنا واجب ہے ساتھ احتمالِ خطا کے۔ عمل کرنا واجب لیکن خطا کا بھی احتمال ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو احناف عمل کریں گے کس پر؟ کس کو شمار کریں گے عدت؟ حیض کو عدت شمار کریں گے، تو اس پر عمل کرنا واجب، لیکن غلطی کا امکان بھی ہے۔ کیونکہ یہ اجتہاد کیا ہے مجتہد نے، مجتہدین نے، اور مجتہد جو ہے وہ اپنے اجتہاد میں کبھی حق کو پہنچتا ہے تو کبھی اس سے غلطی بھی ہوتی ہے، وہ الگ بات ہے اس غلطی کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ آپ پڑھا تھا یا نہیں؟ "المجتهدُ يخطئُ ويصيبُ"، کبھی کیا کرتا ہے؟ غلطی کرتا ہے اور کبھی حق تک پہنچتا ہے، اگر غلطی کرے تو ایک ثواب اور حق تک پہنچے تو لازمی بات ہے حق بات یا ہماری ہے یا امام شافعی رحمہ اللہ کی ہے مولانا، تو لازمی بات ہے ایک حق پر ہے اور ایک کون ہے؟ وہ غلطی کرنے والا ہے، تو جو حق پر ہے اس کو دو ثواب ملیں گے اور جو غلطی پر ہے اس کو... کیونکہ دونوں نے اخلاص سے کوشش کی، ہمارے ائمہ نے بھی اور امام شافعی رحمہ اللہ نے، ہاں اب ان میں سے کون حق پر ہے؟ کون غلطی پر ہے؟ اس کا پتہ نہیں چل سکتا، دنیا کے اندر اس کا پتہ نہیں چل سکتا۔
تو حکم مؤول کا ہے: "وُجُوبُ الْعَمَلِ بِهِ" اس پر عمل کا واجب ہونا "مَعَ احْتِمَالِ الْخَطَإِ" ساتھ غلطی کے احتمال کے، یعنی قطعی نہیں ہے، یعنی قطعی نہیں ہے ظنی ہے یہ بھئی۔
"وَمِثْلُهُ فِي الْحُكْمِ حُكْمِيَّاتٌ"، اور اسی کے مثل ہے مولانا مؤول کے حکمیات، حکمیات یعنی معاملات، حکمیات: معاملات شریعت کا، اور اسی کے مثل ہے معاملات کے اندر "مَا قُلْنَا" وہ جو ہم نے کہا ہے "إِذَا أَطْلَقَ الثَّمَنَ"، دیکھو بھئی صورتِ مسئلہ یہ: آپ کی ایک شخص سے بیع ہوئی ایک شہر لاہور میں مثلاً، لاہور میں ایک شخص کو آپ نے اپنا قلم بیچا اور بیع کتنے میں ہوئی؟ ایک ہزار روپے میں، آپ... کیا کہا؟ میں یہ قلم تمہیں ایک ہزار روپے میں بیچتا ہوں، لیکن یہ لاہور مثلاً ایسا شہر ہے جو سرحد پر واقع ہے ہندوستان کی، تو یہاں پاکستانی روپیہ بھی چلتا ہے عام مارکیٹ میں اور ہندوستانی روپیہ بھی عام چلتا ہے۔ اب آپ نے صرف مقدار تو ذکر کر دی کتنے روپے ہیں؟ ایک ہزار، لیکن وصف ذکر نہیں کیا کہ اس روپے سے کون سا مراد ہے؟ ہندوستانی روپیہ مراد ہے يا پاکستانی روپیہ مراد ہے؟ اور دونوں شہر میں چلتے ہیں عام چلتے ہیں بھئی، آپ کسی دکاندار کے پاس مثلاً ہندوستانی لے جائیں وہ دیکھ کر چیزیں دیتا ہے، پاکستانی لے جائیں کوئی فرق نہیں کرتے بھئی لوگ، سمجھ میں آیا؟ اور ان کی مالیت بھی ایک ہے، ویسے تو مالیت مختلف ہے لیکن فرض کرو ان کی مالیت بھی ایک ہو، تو اب مولانا اب بیع تو کر لی آپ نے اس شخص کے ساتھ، لیکن ثمن کو مطلق رکھا اس کا وصف نہیں بیان کیا کہ یہ روپیہ پاکستانی ہے یا ہندوستانی ہے، تو پھر اس سے کون سی کرنسی مراد لی جائے گی؟ کہتے ہیں بھئی: شہر کی جو غالب نقدی ہے وہ مراد لی جائے گی۔ شہر میں اگر پاکستانی روپیہ زیادہ چلتا ہے تو پاکستانی روپیہ مراد ہو گا، اگر ہندوستانی زیادہ چلتا ہے تو پھر کیا مراد ہو گا؟ ہندوستانی مراد ہو گا، لیکن میں نے بتایا بشرطیکہ مالیت کیا ہو دونوں کی؟ برابر ہو، مالیت برابر ہو۔ سمجھ میں آیا؟
کو ترجیح دے دی۔ اور اسی کی مثال ہے فی الحکمیات معاملات کے اندر معقول نہ وہ جو ہم نے کہا ہے اذا اطلق الثمن فی البیع، جب مطلق چھوڑ دیا بائع نے ثمن کو فی البیع کس کے اندر؟ بیع میں۔ یعنی مقدار تو بیان کی وصف بیان نہیں کیا۔ کان علی غالب نقد البلد، تو ثمن کس پر محمول ہوں گے؟ غالب نقد شہر کی ہوگی اس پر محمول کیے جائیں گے۔ وذلک بطریق التاويل، اور یہ جو آپ نے مولانا یہ معنی مراد دیا، غالب نقد مراد دی، یہ کس طریقے پر ہے؟ تاویل کے طریقے پر ہوا ہے۔ ولو کانت النقود مختلفۃ، اور اگر نقود مختلف ہوتیں مختلف ہوتیں، ففسد البیع، تو بیع کیا ہو جاتی؟ یعنی اگر ان کی مختلف ہوتیں کیا معنی؟ ان کی مالیت کیا ہوتی؟ مختلف۔ یعنی ایک پاکستانی روپیہ کتنے ہندوستانی کے برابر؟ دو کے برابر ہوتا۔ کتنے کے برابر ہوتا؟ دو کے برابر شمار ہوتا، تو پھر تو مالیت کیا ہو گئی؟ مختلف ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اگر نقود مختلف ہوتیں، ففسد البیع، تو بیع کیا ہو جاتی؟ فاسد ہو جاتی لما ذکرنا، اسی وجہ سے جو ہم نے ذکر کی، کیا وجہ ہم نے ذکر کی تھی؟ وہ جو اوپر ذکر ہوا تھا۔ کیا؟ لاستحالۃ الجمع بينہما وعدم الرجحان، کیونکہ جمع کرنا تو محال، جمع کرنا پاکستانی بھی مراد لے لیں اور ہندوستانی بھی مراد لے لیں، یہ تو محال، کیونکہ عموم مشترک جائز نہیں، وعدم الرجحان، اور رجحان بھی نہیں ہے مولانا، کوئی چیز ترجیح دینے والی بھی نہیں ہے، تو لہذا بیع فاسد ہو جاتی۔ جیسے وہاں پر مولانا وصیت کیا ہو گئی تھی؟ باطل ہو گئی تھی۔
وحمل الاقراء علی الحیض، اور محمول کرنا اقراء کو حیض پر، وہ جو قروء آیا تھا اس کو محمول کیا کس پر ہم نے؟ حیض پر۔ محمول کرنا اقراء کو حیض پر، وحمل النکاح فی الایۃ علی الوطی، اور محمول کرنا نکاح کو آیت کے اندر وطی پر، وہ کیا آیا تھا مولانا، حتی تنکح زوجا غیرہ، یہاں تنکح کو ہم نے کس پر محمول کیا تھا، کیا معنی لیا تھا؟ وطی، حالانکہ نکاح عقد کو بھی پر بھی بولا جاتا ہے اور وطی پر بھی، یہ تو یہ محمول کرنا آیت میں نکاح کو وطی پر، سمجھ میں آیا؟ یہ معطوف ہوا اس پر، آگے ایک اور معطوف آ رہا ہے مولانا، اور خبر آخر میں ہے، من هذا القبیل، خبر ایک سطر نیچے آ رہی ہے، یہ محمول کیا جو ہم نے قروء کو حیض پر اس سے حیض مراد ہے، یہ کس طریقے پر ہے؟ یہ کس قبیل سے ہے؟ یہ بھی اسی اسی مؤول کی قبیل سے ہے، ان میں بھی تاویل ہے، اور یہ جو نکاح سے ہم نے وطی مراد لی، یہ بھی کس طریقے پر ہے؟ تاویل کے طریقے پر، یہ بھی کس یعنی مؤول میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مؤول میں سے ہے، اور اسی طرح وحمل الکنایات حال مذاکرۃ الطلاق علی الطلاق، مذاکرہ طلاق جانتے ہو بھئی؟ جی، کسے کہتے ہیں مذاکرہ طلاق؟ طلاق پر بحث ہو رہی ہے، بیوی کیا کر رہی ہے؟ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، خاوند کے ساتھ بحث ہو رہی ہے، اس دوران خاوند کہتا ہے، انت بائن۔
اب یہ انت بائن، بائن کا ایک مولانا طلاق صریح ہوتی ہے ایک کنایہ، صریح وہ ہے جس میں اور معنی کا احتمال نہ ہو، مثلاً بیوی کو کہتا ہے انت طالق، اب اس میں کوئی اور معنی کا احتمال ہے؟ نہیں، یہ تو طلاق کا معنی سیدھا، لیکن کہتا ہے انت بائن، اس میں اور معنی کا بھی احتمال ہے، بائن کا ایک معنی تو جدا ہے مجھ سے یعنی تجھے طلاق ہے، اور ایک معنی اس کا کیا ہے؟ جدا ہے، تو جدا ہے کس چیز میں؟ حسن و جمال میں جدا ہے، ایک جدا ہے کس اعتبار سے؟ طلاق ہے تجھے، تو اس اعتبار سے مجھ سے جدا، اور ایک ہے جدا ہے کہ تیرے جیسی حسین تو کوئی دنیا میں ہے ہی نہیں، تو جدا ہے سب سے، تو بائن میں دونوں احتمال آ گئے، سمجھ میں آیا؟ تو اس کو کہتے ہیں کنایہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ، کنایہ یعنی وہ لفظ ایسے لفظ جن میں طلاق کا بھی احتمال ہو اور غیر طلاق کا بھی احتمال ہو، تو اس قسم کا لفظ اگر خاوند بیوی سے کہہ دے تو اس میں پھر نیت کو دیکھا جائے گا، اگر نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی، اگر نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہو گی، سمجھ میں آیا؟
اب مولانا مذاکرہ طلاق ہو رہا ہے بیوی کے ساتھ اور اس میں خاوند کہتا ہے انت بائن، انت اب انت بائن تو کیا تھا مولانا؟ کنایہ تھا، اس میں طلاق کا بھی احتمال تھا اور غیر طلاق کا بھی، لیکن یہ مذاکرہ طلاق اس وقت بتلا رہا ہے کہ یہاں پر اس وقت کیا مراد ہے؟ طلاق مراد ہے، تو اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ طلاق پر محمول کیا جائے گا، وہ دوسرے معنی پر محمول نہیں کیا جائے گا، تو یہ کس طریقے پر ہے؟ تاویل، یہ مؤول کی قبیل سے ہے، یہ مذاکرہ طلاق نے اس کے اس معنی کو کیا دے دی؟ ترجیح دے دی بھئی۔
وحمل الکنایات حال مذاکرۃ الطلاق علی الطلاق، اور محمول کرنا کنایات کو مذاکرہ طلاق کی حالت میں کس پر محمول کرنا؟ علی الطلاق، طلاق پر محمول کرنا، من هذا القبیل، یہ بھی اسی قبیل یعنی مؤول کی قبیل سے ہیں، وعلی هذا قلنا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں الدین مانع من الزکوۃ يصرف الى ايسر المالين قضاء للدين۔ جی یہ ذرا تھوڑا سا مشکل مسئلہ ہے، توجہ سے سن لو بھئی۔
ایک بات یاد رکھو وہ مال جو مستغرق بالدین ہو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی، وہ مال جو مستغرق بالدین ہو اس پر زکوۃ واجب بھئی آپ کے پاس 40,000 روپے ہیں، اور آپ پر قرضہ بھی کتنا ہے؟ 40,000 ہے، تو اس قرضے نے اس آپ کے سارے مال کا احاطہ کر لیا، اس میں سے اتنا مال نہیں بچا کہ اس میں سے کیا ادا کر دی جائے؟ زکوۃ، تو یہ مال مستغرق بالدین ہوا، یہ مال کیا ہوا؟ اب آپ کے پاس یہ جو 40,000 ہیں یہ مستغرق بالدین ہیں، اب اگر آپ پر پورا سال بھی گزر جائے پھر بھی اس مال میں زکوۃ واجب نہیں، کیونکہ یہ مال کیا ہے؟ مستغرق بالدین ہے۔ یہ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
کیا ضابطہ ہوا؟ کہ وہ مال مستغرق بالدین ہو اس پر زکوۃ واجب نہیں، اب ایک شخص ہے مولانا دوسرا کہ اتنا دین جو مانع عن الزکوۃ ہو، دیکھیے کتاب میں، ادخلنا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں الدین المانع من الزکوۃ، وہ دین جو مانع ہو کس سے؟ زکوۃ سے، یعنی وہ کیا کر لے اس نصاب کا جو مال نصاب تھا اس کا کیا کر لے؟ احاطہ کر لے، يصرف، وہ پھیرا جائے گا، الى ايسر المالين، دو مالوں میں سے زیادہ آسان کی طرف، قضاءً، باعتبار ادا کرنے کے، باعتبار ادا کرنے کے اعتبار سے جس سے ادائیگی زیادہ آسان ہو اس کی طرف پھیرا جائے گا اس کو، کیا معنی اس کی طرف پھیرا جائے گا؟ صورت سمجھو۔
آپ کے پاس مولانا 40,000 روپے ہیں اور اس 40,000 پر سال گزر جائے تو کیا اس پر آیا کرتی ہے؟ زکوۃ آتی ہے، یہ نصاب سے زائد ہے، نصاب پورا ہے اس میں، نصاب تو سات آٹھ ہزار یہ کتنا بنے گا، تو یہ نصاب پورا ہے، تو سال گزرے گا اس میں کیا آئے گی؟ زکوۃ آئے گی، اسی طرح آپ کے پاس 40 بکریاں بھی ہیں سائمی، 40 سائمی بکریاں ہوں تو ان میں بھی سال گزر جائے تو کیا واجب ہوتی ہے؟ زکوۃ، یعنی سائمی کسے کہتے ہیں جو سال کا اکثر حصہ کیا ہوں؟ جنگل میں کیا ہوں؟ چَرتی ہوں، خود چَرتی ہوں۔
تو 40 سائمی بکریاں ہوں ان پر سال گزرے ان میں بھی زکوۃ واجب ہوتی ہے، یہ 40,000 آپ کے پاس ہے اس پر یہ بھی نصاب پورا ہے اس پر بھی سال گزرے گا تو اس میں بھی کیا ہوگی؟ زکوۃ واجب ہوگی، اب فرض کرو ان 40 جو بھی قیمت ہو اس وقت چلو فرض کر لو ان 40 بکریوں کی قیمت بھی کتنی بن رہی ہے؟ 40,000 ہی بن رہی ہے، کیا بن رہی ہے؟ 40,000 فرض کرو، اب آپ پر قرضہ ہے 40,000 روپے، 40,000 روپے آپ پر قرضہ ہے۔
اچھا اب وہ جو آپ کے پاس مولانا 40,000 ہیں تو یہ اگر وہ قرضہ بھی آپ پر کتنا ہے؟ 40,000، تو یہ مال بھی کیا ہو رہا ہے؟ مستغرق بالدین، یہ والا نصاب بھی کیا ہو رہا ہے؟ مستغرق بالدین، ادھر 40 بکریوں کی قیمت بھی کتنی ہے؟ وہ بھی کیا بن رہا ہے؟ مستغرق بالدین، اب کس کو مستغرق بالدین فرض کریں گے بھئی؟ کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ کیونکہ جس کی طرف بھی آپ اس کو کیا کر دیں گے؟ پھیر دیں گے، اس مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی، اگر ہم اس کیا حکم لگائیں کہ یہ 40,000 مستغرق بالدین ہیں تو سال کے بعد ان میں زکوۃ نہیں، اور اگر ہم یہ کہیں کہ یہ 40 بکریاں مستغرق بالدین ہیں تو پھر اس صورت میں سال کے بعد ان میں زکوۃ نہیں، کس کی طرف پھیرا جائے گا اس دین کو؟ کہتے ہیں اس دین کو اس مال کی طرف پھیرا جائے گا جس سے ادائیگی آسان ہو۔
اس دین کو کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ اس مال کی طرف پھیریں گے جس سے ادائیگی آسان ہو، سمجھ میں آیا؟ اور ادائیگی کس سے آسان ہے؟ پیسوں سے، آپ پر قرضہ بھی کتنا؟ 40,000 روپے، اور آپ کے پاس رقم بھی کتنی؟ 40,000، آپ آرام سے ادائیگی کر دیں گے، اور اگر بکریوں سے کرتے ہیں تو پھر آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ پہلے بکریوں کو بیچنا پڑے گا، بیچیں گے تو آپ کے پاس 40,000 روپے آئیں گے، پھر ان پیسوں کو کیا کریں گے؟ ادا، تو قرض کا ادا کرنا کس سے آسان؟ پیسوں سے، تو لہذا اس صورت میں وہ دین جو مانع عن الزکوۃ تھا اس کو پھیرا جائے گا اس مال کی طرف جس سے ادائیگی کیا تھی؟ آسان، اور وہ کیا ہے؟ روپے، تو معلوم ہوا یہ روپے مستغرق بالدین ہیں لہذا ان پر سال گزر جائے تو ان میں زکوۃ نہیں، لیکن وہ بکریاں مستغرق بالدین نہیں، ان پر سال گزرے گا تو ان میں کیا دینا پڑے گی؟ زکوۃ دینا پڑے گی، یہ مسئلہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ دیکھیے۔
وعلی هذا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ الدین المانع من الزکوۃ يصرف الى ايسر المالين قضاءً، کہ وہ کہ وہ دین جو مانع ہو زکوۃ سے اس کو پھیرا جائے گا دو مالوں میں سے زیادہ آسان کی طرف، زیادہ آسان کس اعتبار سے؟ قضاءً، ادا کرنے کے اعتبار سے، یعنی جس سے ادا کرنا آسان ہو اس کی طرف اس کو پھیرا جائے گا، وفرع محمد رحمہ اللہ تعالیٰ علی هذا، اور تفریع کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے اسی پر یعنی اس سے مسئلہ نکالا، فقال، وہ فرماتے ہیں، اذا تزوج امراۃ علی نصابٍ، جب نکاح کیا ایک شخص نے ایک عورت سے نصاب پر، نکاح کیا ایک شخص نے ایک عورت سے کہ میں تجھے کیا دوں گا؟ مہر میں نصاب دوں گا، کیا دوں گا؟ نصاب دوں گا۔
ولہ نصاب من الغنم ونصاب من الدراہم، اور اس شخص کے پاس یہ بھیڑ بکریوں کا بھی نصاب ہے اور دراہم کا بھی نصاب ہے، بھیڑ بکریاں بھی 40 ہیں مولانا اور اسی طرح دراہم بھی اتنے ہیں جن پر سال میں کیا آ جایا کرتی ہے؟ زکوۃ آ جاتی ہے، تو اب مولانا اب اس پر اس شخص، تو یہ مہر، اور مہر کیا ہوتا ہے؟ قرض کی طرح واجب ہوتا ہے شخص کو، اس کو ادا کرنا ضروری ہے، ادا کرنا ضروری، تو اب یہ مہر کیا ہوا؟ قرض ہوا اور کیسا قرض ہوا؟ دین ہوا، دین، اور یہ کیسا دین ہوا؟ مانع عن الزکوۃ ہے، مانع عن الزکوۃ، کیوں؟ اس شخص کے پاس نصاب ہے دراہم کا اور اس نے بھی کیا کہا ہے؟ میں تمہیں کیا دوں گا؟ نصاب دوں گا، اور بکریوں کا بھی نصاب ہے اور اس نے تو کیا کہا ہے؟ میں تجھے کیا دوں گا؟ نصاب، تو وہ دراہم دے دے تو بھی بات درست، اگر وہ بکریاں دے دے تو بھی بات درست، اب یہ نصاب جو ہے جو اس پر دین ہے اس کو کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ کون سا مستغرق بالدین شمار، وہ دراہم مستغرق بالدین شمار ہوں گے یا وہ نصاب بکریوں والا وہ مستغرق بالدین شمار ہوگا؟ تو کہتے ہیں اس کو کس کی طرف پھیریں گے؟ دراہم کی طرف، تو دینے بھی اس نے نصاب اور اس کے پاس دراہم بھی کتنے؟ نصاب، تو یہ نصاب دراہم کا کیا ہوا؟ مستغرق بالدین ہوا، لہذا اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ کا ادا کرنا واجب نہیں، لیکن وہ جو بکریاں ہیں وہ تو مستغرق بالدین نہیں، لہذا ان میں سال گزر جائے تو اس کو کیا دینی پڑے گی؟ زکوۃ، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں ایک شخص نے نکاح کیا ایک عورت سے نصاب پر، ولہ نصاب من الغنم، غنم مولانا بھیڑ بکری کو کہتے ہیں، بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے مذکر مؤنث پر بھئی، اسی طرح شاة کا لفظ ہے مولانا، شاة صرف بکری کو نہیں کہتے بلکہ کس کو کہتے ہیں؟ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے بھئی، اس کا ترجمہ صرف بکری کے کرتے ہیں عموماً، یہ صحیح نہیں بھئی، عام اس میں جنس ہے دونوں کو شامل ہے۔
اور ایک شخص ہے ولہ نصاب من الغنم، اس کے لیے نصاب ہے غنم میں سے بھی بھیڑ بکری میں سے بھی، ونصاب من الدراہم، اور نصاب ہے کس میں سے؟ دراہم میں سے بھی، یعنی 200 درہم ہے اس کے پاس، يصرف الدين الى الدراہم، تو دین کو کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ دراہم کی طرف، حتی لو حال عليهما الحول، یہاں تک کہ ان دونوں نصابوں پر اگر سال گزر گیا، تجب الزکوۃ عنده في نصاب الغنم ولا تجب في الدراہم، تو زکوۃ واجب ہو جائے گی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک غنم کے نصاب میں، ولا تجب في الدراہم، اور دراہم میں واجب نہیں، کیونکہ وہ تو کیا ہوا؟ مستغرق بالدین ہوا۔
ولو ترجح بعض وجوہ المشترک ببيان من قبل المتکلم كان مفسراً، بھئی دیکھیے مشترک بھئی، مشترک کے معنی کو آپ نے ترجیح دی کسی دلیل کی وجہ سے تو یہ کیا کہلایا؟ کیا کہلایا؟ مؤول کہلایا، لیکن اگر متکلم کی طرف سے خود ہی اس کا بیان آ گیا تو پھر یہ مفسر کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ متکلم نے خود اس کی تفسیر بیان کر دی، مثلاً وہی صورت بناؤ بھئی، ایک شخص نے کیا کہا؟ مثلاً دوسری صورت چلو یہ جو انہوں نے متن میں ذکر کی ہے متن بھی حل ہو جائے گا، ایک شخص کہتا ہے، لفلان علی عشرۃ دراہم، فلاں کے مجھ پر کتنے دراہم ہیں؟ اقرار کر لیا فلاں کے مجھ پر 10 درہم ہیں، اب بھئی درہم تو کئی طرح کے ہیں، بخارا کے بھی ہیں مثلاً سمرقند کے بھی ہیں، فلاں علاقے کے بھی ہیں فلاں علاقے کے بھی ہیں، کون سے درہم مراد ہیں؟ آپ کیا مراد لیں گے؟ اس شہر میں اگر چلتے ہیں تو شہر اور اس سب کی مالیت ایک جیسی ہے تو پھر کیا مراد لیں گے؟ جو غالب چلتے ہیں، جو غالب چلتے ہیں۔
تو یہ کیا بن جائے گا؟ مؤول، کیا بن جائے گا؟ لیکن اس نے لفلان علی عشرۃ دراہم کے ساتھ ہی کہہ دیا، من نقد بخارای، کس کی نقدی میں سے؟ بخارا کی نقدی میں سے، بیان ساتھ لگا دیا، کیا لگا دیا؟ بیان، تفسیر آ گئی کہ ان دراہم سے کون سے دراہم مراد ہیں؟ بخارا کے دراہم مراد ہیں، تو یہ اب مفسر کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ کیونکہ اس کا بیان کس کی طرف سے آ گیا؟ متکلم کی طرف سے، اور یہ قطعی ہے، یہ کیا ہے؟ قطعی ہے، اور وہ مؤول کیا تھا؟ ظنی تھا، اور قطعی کو ظنی پر کیا ہوتی ہے؟ ترجیح، تو مفسر کو مؤول پر کیا ہوگی؟ ترجیح دی جائے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اب اس میں غلطی کے مؤول میں تو غلطی کا امکان تھا، اب غلطی کا امکان ہے؟ نہیں، اب تو اس نے خود ہی بیان کر دیا کہ یہی مراد ہے بھئی۔
ولو ترجح بعض وجوہ المشترک ببيان من قبل المتکلم كان مفسراً، اور اگر ترجیح پا جائے مشترک کا کوئی ایک معنی ببیان، کس کے ساتھ ترجیح پائے؟ بیان کے ساتھ، من قبل المتکلم، جو کس کی طرف سے ہو؟ متکلم کی طرف سے ہو، كان مفسراً، تو یہ کیا ہوگا؟ مفسر ہوگا، وحکمہ، حکم یہ، انہ يجب العمل به يقيناً، کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے یقینی طور پر، یعنی اس میں غلطی کا امکان اب نہیں، پہلے تو آپ غالب نقدی دے رہے تھے لیکن پھر بھی غلطی کا امکان تھا کہ ہو سکتا ہے کوئی اور مراد ہو، لیکن اب تو اس نے خود ہی بیان کر دیا، اب غلطی کا کوئی امکان ہے؟ نہیں، تو یہ قطعی ہے۔
کو ترجیح دے دی۔ اور اسی کی مثال ہے فی الحکمیات معاملات کے اندر معقول نہ وہ جو ہم نے کہا ہے إذا أطلق الثمن في البيع، جب مطلق چھوڑ دیا بائع نے ثمن کو فی البيع کس کے اندر؟ بیع میں۔ یعنی مقدار تو بیان کی، وصف بیان نہیں کیا۔ كان على غالب نقد البلد، تو ثمن کس پر محمول ہوں گے؟ غالب نقد شہر کی ہوگی، اس پر محمول کیے جائیں گے۔ وذلك بطريق التأويل، اور یہ جو آپ نے مولانا یہ معنی مراد دیا، غالب نقد مراد دی، یہ کس طریقے پر ہے؟ تاویل کے طریقے پر ہوا ہے۔ ولو كانت النقود مختلفةً، اور اگر نقود مختلف ہوتیں، مختلف ہوتیں، ففسد البيع، تو بیع کیا ہو جاتی؟ یعنی اگر ان کی مختلف ہوتیں کیا معنی؟ ان کی مالیت کیا ہوتی؟ مختلف۔ یعنی ایک پاکستانی روپیہ کتنے ہندوستانی کے برابر؟ دو کے برابر ہوتا۔ کتنے کے برابر ہوتا؟ دو کے برابر شمار ہوتا، تو پھر تو مالیت کیا ہو گئی؟ مختلف ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اگر نقود مختلف ہوتیں، ففسد البيع، تو بیع کیا ہو جاتی؟ فاسد ہو جاتی لما ذكرنا، اسی وجہ سے جو ہم نے ذکر کی۔ کیا وجہ ہم نے ذکر کی تھی؟ وہ جو اوپر ذکر ہوا تھا۔ کیا؟ لاستحالة الجمع بينهما وعدم الرجحان، کیونکہ جمع کرنا تو محال، جمع کرنا پاکستانی بھی مراد لے لیں اور ہندوستانی بھی مراد لے لیں، یہ تو محال، کیونکہ عموم مشترک جائز نہیں، وعدم الرجحان، اور رجحان بھی نہیں ہے مولانا، کوئی چیز ترجیح دینے والی بھی نہیں ہے، تو لہذا بیع فاسد ہو جاتی۔ جیسے وہاں پر مولانا وصیت کیا ہو گئی تھی؟ باطل ہو گئی تھی۔
وحمل الأقراء على الحيض، اور محمول کرنا اقراء کو حیض پر، وہ جو قروء آیا تھا اس کو محمول کیا کس پر ہم نے؟ حیض پر۔ محمول کرنا اقراء کو حیض پر، وحمل النكاح في الآية على الوطء، اور محمول کرنا نکاح کو آیت کے اندر وطی پر، وہ کیا آیا تھا مولانا، حتى تنكح زوجا غيره، یہاں تنكح کو ہم نے کس پر محمول کیا تھا، کیا معنی لیا تھا؟ وطی، حالانکہ نکاح عقد پر بھی بولا جاتا ہے اور وطی پر بھی، یہ تو یہ محمول کرنا آیت میں نکاح کو وطی پر، سمجھ میں آیا؟ یہ معطوف ہوا اس پر، آگے ایک اور معطوف آ رہا ہے مولانا، اور خبر آخر میں ہے، من هذا القبیل، خبر ایک سطر نیچے آ رہی ہے، یہ محمول کیا جو ہم نے قروء کو حیض پر اس سے حیض مراد ہے، یہ کس طریقے پر ہے؟ یہ کس قبیل سے ہے؟ یہ بھی اسی مؤول کی قبیل سے ہے، ان میں بھی تاویل ہے، اور یہ جو نکاح سے ہم نے وطی مراد لی، یہ بھی کس طریقے پر ہے؟ تاویل کے طریقے پر، یہ بھی کس یعنی مؤول میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ مؤول میں سے ہے، اور اسی طرح وحمل الكنايات حال مذاكرة الطلاق على الطلاق، مذاکرہ طلاق جانتے ہو بھئی؟ جی، کسے کہتے ہیں مذاکرہ طلاق؟ طلاق پر بحث ہو رہی ہے، بیوی کیا کر رہی ہے؟ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، خاوند کے ساتھ بحث ہو رہی ہے، اس دوران خاوند کہتا ہے، أنت بائن۔
اب یہ أنت بائن، بائن کا ایک مولانا طلاق صریح ہوتی ہے ایک کنایہ، صریح وہ ہے جس میں اور معنی کا احتمال نہ ہو، مثلاً بیوی کو کہتا ہے أنت طالق، اب اس میں کوئی اور معنی کا احتمال ہے؟ نہیں، یہ تو طلاق کا معنی سیدھا، لیکن کہتا ہے أنت بائن، اس میں اور معنی کا بھی احتمال ہے، بائن کا ایک معنی تو جدا ہے مجھ سے یعنی تجھے طلاق ہے، اور ایک معنی اس کا کیا ہے؟ جدا ہے، تو جدا ہے کس چیز میں؟ حسن و جمال میں جدا ہے، ایک جدا ہے کس اعتبار سے؟ طلاق ہے تجھے، تو اس اعتبار سے مجھ سے جدا، اور ایک ہے جدا ہے کہ تیرے جیسی حسین تو کوئی دنیا میں ہے ہی نہیں، تو جدا ہے سب سے، تو بائن میں دونوں احتمال آ گئے، سمجھ میں آیا؟ تو اس کو کہتے ہیں کنایہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ، کنایہ یعنی وہ لفظ ایسے لفظ جن میں طلاق کا بھی احتمال ہو اور غیر طلاق کا بھی احتمال ہو، تو اس قسم کا لفظ اگر خاوند بیوی سے کہہ دے تو اس میں پھر نیت کو دیکھا جائے گا، اگر نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی، اگر نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی، سمجھ میں آیا؟
اب مولانا مذاکرہ طلاق ہو رہا ہے بیوی کے ساتھ اور اس میں خاوند کہتا ہے أنت بائن، اب أنت بائن تو کیا تھا مولانا؟ کنایہ تھا، اس میں طلاق کا بھی احتمال تھا اور غیر طلاق کا بھی، لیکن یہ مذاکرہ طلاق اس وقت بتلا رہا ہے کہ یہاں پر اس وقت کیا مراد ہے؟ طلاق مراد ہے، تو اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ طلاق پر محمول کیا جائے گا، وہ دوسرے معنی پر محمول نہیں کیا جائے گا، تو یہ کس طریقے پر ہے؟ تاویل، یہ مؤول کی قبیل سے ہے، یہ مذاکرہ طلاق نے اس کے اس معنی کو کیا دے دی؟ ترجیح دے دی بھئی۔
وحمل الكنايات حال مذاكرة الطلاق على الطلاق، اور محمول کرنا کنایات کو مذاکرہ طلاق کی حالت میں کس پر محمول کرنا؟ علی الطلاق، طلاق پر محمول کرنا، من هذا القبیل، یہ بھی اسی قبیل یعنی مؤول کی قبیل سے ہیں، وعلى هذا قلنا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں الدين مانع من الزكاة يصرف إلى أيسر المالين قضاءً للدين۔ جی یہ ذرا تھوڑا سا مشکل مسئلہ ہے، توجہ سے سن لو بھئی۔
ایک بات یاد رکھو وہ مال جو مستغرق بالدین ہو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی، وہ مال جو مستغرق بالدین ہو اس پر زکوۃ واجب بھئی آپ کے پاس 40,000 روپے ہیں، اور آپ پر قرضہ بھی کتنا ہے؟ 40,000 ہے، تو اس قرضے نے اس آپ کے سارے مال کا احاطہ کر لیا، اس میں سے اتنا مال نہیں بچا کہ اس میں سے کیا ادا کر دی جائے؟ زکوۃ، تو یہ مال مستغرق بالدین ہوا، یہ مال کیا ہوا؟ اب آپ کے پاس یہ جو 40,000 ہیں یہ مستغرق بالدین ہیں، اب اگر آپ پر پورا سال بھی گزر جائے پھر بھی اس مال میں زکوۃ واجب نہیں، کیونکہ یہ مال کیا ہے؟ مستغرق بالدین ہے۔ یہ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
کیا ضابطہ ہوا؟ کہ وہ مال مستغرق بالدین ہو اس پر زکوۃ واجب نہیں، اب ایک شخص ہے مولانا دوسرا کہ اتنا دین جو مانع عن الزکوۃ ہو، دیکھیے کتاب میں، ادخلنا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں الدين المانع من الزكاة، وہ دین جو مانع ہو کس سے؟ زکوۃ سے، یعنی وہ کیا کر لے اس نصاب کا جو مال نصاب تھا اس کا کیا کر لے؟ احاطہ کر لے، يصرف، وہ پھیرا جائے گا، إلى أيسر المالين، دو مالوں میں سے زیادہ آسان کی طرف، قضاءً، باعتبار ادا کرنے کے، باعتبار ادا کرنے کے اعتبار سے جس سے ادائیگی زیادہ آسان ہو اس کی طرف پھیرا جائے گا اس کو، کیا معنی اس کی طرف پھیرا جائے گا؟ صورت سمجھو۔
آپ کے پاس مولانا 40,000 روپے ہیں اور اس 40,000 پر سال گزر جائے تو کیا اس پر آیا کرتی ہے؟ زکوۃ آتی ہے، یہ نصاب سے زائد ہے، نصاب پورا ہے اس میں، نصاب تو سات آٹھ ہزار یہ کتنا بنے گا، تو یہ نصاب پورا ہے، تو سال گزرے گا اس میں کیا آئے گی؟ زکوۃ آئے گی، اسی طرح آپ کے پاس 40 بکریاں بھی ہیں سائمی، 40 سائمی بکریاں ہوں تو ان میں بھی سال گزر جائے تو کیا واجب ہوتی ہے؟ زکوۃ، یعنی سائمی کسے کہتے ہیں جو سال کا اکثر حصہ کیا ہوں؟ جنگل میں کیا ہوں؟ چَرتی ہوں، خود چَرتی ہوں۔
تو 40 سائمی بکریاں ہوں ان پر سال گزرے ان میں بھی زکوۃ واجب ہوتی ہے، یہ 40,000 آپ کے پاس ہے اس پر یہ بھی نصاب پورا ہے اس پر بھی سال گزرے گا تو اس میں بھی کیا ہوگی؟ زکوۃ واجب ہوگی، اب فرض کرو ان 40 جو بھی قیمت ہو اس وقت چلو فرض کر لو ان 40 بکریوں کی قیمت بھی کتنی بن رہی ہے؟ 40,000 ہی بن رہی ہے، کیا بن رہی ہے؟ 40,000 فرض کرو، اب آپ پر قرضہ ہے 40,000 روپے، 40,000 روپے آپ پر قرضہ ہے۔
اچھا اب وہ جو آپ کے پاس مولانا 40,000 ہیں تو یہ اگر وہ قرضہ بھی آپ پر کتنا ہے؟ 40,000، تو یہ مال بھی کیا ہو رہا ہے؟ مستغرق بالدین، یہ والا نصاب بھی کیا ہو رہا ہے؟ مستغرق بالدین، ادھر 40 بکریوں کی قیمت بھی کتنی ہے؟ وہ بھی کیا بن رہا ہے؟ مستغرق بالدین، اب کس کو مستغرق بالدین فرض کریں گے بھئی؟ کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ کیونکہ جس کی طرف بھی آپ اس کو کیا کر دیں گے؟ پھیر دیں گے، اس مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی، اگر ہم اس کیا حکم لگائیں کہ یہ 40,000 مستغرق بالدین ہیں تو سال کے بعد ان میں زکوۃ نہیں، اور اگر ہم یہ کہیں کہ یہ 40 بکریاں مستغرق بالدین ہیں تو پھر اس صورت میں سال کے بعد ان میں زکوۃ نہیں، کس کی طرف پھیرا جائے گا اس دین کو؟ کہتے ہیں اس دین کو اس مال کی طرف پھیرا جائے گا جس سے ادائیگی آسان ہو۔
اس دین کو کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ اس مال کی طرف پھیریں گے جس سے ادائیگی آسان ہو، سمجھ میں آیا؟ اور ادائیگی کس سے آسان ہے؟ پیسوں سے، آپ پر قرضہ بھی کتنا؟ 40,000 روپے، اور آپ کے پاس رقم بھی کتنی؟ 40,000، آپ آرام سے ادائیگی کر دیں گے، اور اگر بکریوں سے کرتے ہیں تو پھر آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ پہلے بکریوں کو بیچنا پڑے گا، بیچیں گے تو آپ کے پاس 40,000 روپے آئیں گے، پھر ان پیسوں کو کیا کریں گے؟ ادا، تو قرض کا ادا کرنا کس سے آسان؟ پیسوں سے، تو لہذا اس صورت میں وہ دین جو مانع عن الزکوۃ تھا اس کو پھیرا جائے گا اس مال کی طرف جس سے ادائیگی کیا تھی؟ آسان، اور وہ کیا ہے؟ روپے، تو معلوم ہوا یہ روپے مستغرق بالدین ہیں لہذا ان پر سال گزر جائے تو ان میں زکوۃ نہیں، لیکن وہ بکریاں مستغرق بالدین نہیں، ان پر سال گزرے گا تو ان میں کیا دینا پڑے گی؟ زکوۃ دینا پڑے گی، یہ مسئلہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ دیکھیے۔
وعلى هذا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ الدين المانع من الزكاة يصرف إلى أيسر المالين قضاءً، کہ وہ دین جو مانع ہو زکوۃ سے اس کو پھیرا جائے گا دو مالوں میں سے زیادہ آسان کی طرف، زیادہ آسان کس اعتبار سے؟ قضاءً، ادا کرنے کے اعتبار سے، یعنی جس سے ادا کرنا آسان ہو اس کی طرف اس کو پھیرا جائے گا، وفرع محمد رحمه الله تعالى على هذا، اور تفریع کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے اسی پر یعنی اس سے مسئلہ نکالا، فقال، وہ فرماتے ہیں، إذا تزوج امرأةً على نصابٍ، جب نکاح کیا ایک شخص نے ایک عورت سے نصاب پر، نکاح کیا ایک شخص نے ایک عورت سے کہ میں تجھے کیا دوں گا؟ مہر میں نصاب دوں گا، کیا دوں گا؟ نصاب دوں گا۔
وله نصاب من الغنم ونصاب من الدراهم، اور اس شخص کے پاس یہ بھیڑ بکریوں کا بھی نصاب ہے اور دراہم کا بھی نصاب ہے، بھیڑ بکریاں بھی 40 ہیں مولانا اور اسی طرح دراہم بھی اتنے ہیں جن پر سال میں کیا آ جایا کرتی ہے؟ زکوۃ آ جاتی ہے، تو اب مولانا اب اس پر اس شخص، تو یہ مہر، اور مہر کیا ہوتا ہے؟ قرض کی طرح واجب ہوتا ہے شخص کو، اس کو ادا کرنا ضروری ہے، ادا کرنا ضروری، تو اب یہ مہر کیا ہوا؟ قرض ہوا اور کیسا قرض ہوا؟ دین ہوا، دین، اور یہ کیسا دین ہوا؟ مانع عن الزکوۃ ہے، مانع عن الزکوۃ، کیوں؟ اس شخص کے پاس نصاب ہے دراہم کا اور اس نے بھی کیا کہا ہے؟ میں تمہیں کیا دوں گا؟ نصاب دوں گا، اور بکریوں کا بھی نصاب ہے اور اس نے تو کیا کہا ہے؟ میں تجھے کیا دوں گا؟ نصاب، تو وہ دراہم دے دے تو بھی بات درست، اگر وہ بکریاں دے دے تو بھی بات درست، اب یہ نصاب جو ہے جو اس پر دین ہے اس کو کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ کون سا مستغرق بالدین شمار، وہ دراہم مستغرق بالدین شمار ہوں گے یا وہ نصاب بکریوں والا وہ مستغرق بالدین شمار ہوگا؟ تو کہتے ہیں اس کو کس کی طرف پھیریں گے؟ دراہم کی طرف، تو دینے بھی اس نے نصاب اور اس کے پاس دراہم بھی کتنے؟ نصاب، تو یہ نصاب دراہم کا کیا ہوا؟ مستغرق بالدین ہوا، لہذا اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ کا ادا کرنا واجب نہیں، لیکن وہ جو بکریاں ہیں وہ تو مستغرق بالدین نہیں، لہذا ان میں سال گزر جائے تو اس کو کیا دینی پڑے گی؟ زکوۃ، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں ایک شخص نے نکاح کیا ایک عورت سے نصاب پر، وله نصاب من الغنم، غنم مولانا بھیڑ بکری کو کہتے ہیں، بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے مذکر مؤنث پر بھئی، اسی طرح شاة کا لفظ ہے مولانا، شاة صرف بکری کو نہیں کہتے بلکہ کس کو کہتے ہیں؟ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے بھئی، اس کا ترجمہ صرف بکری کے کرتے ہیں عموماً، یہ صحیح نہیں بھئی، عام اس میں جنس ہے دونوں کو شامل ہے۔
اور ایک شخص ہے وله نصاب من الغنم، اس کے لیے نصاب ہے غنم میں سے بھی بھیڑ بکری میں سے بھی، ونصاب من الدراهم، اور نصاب ہے کس میں سے؟ دراہم میں سے بھی، یعنی 200 درہم ہے اس کے پاس، يصرف الدين إلى الدراهم، تو دین کو کس کی طرف پھیرا جائے گا؟ دراہم کی طرف، حتى لو حال عليهما الحول، یہاں تک کہ ان دونوں نصابوں پر اگر سال گزر گیا، تجب الزكاة عنده في نصاب الغنم ولا تجب في الدراهم، تو زکوۃ واجب ہو جائے گی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک غنم کے نصاب میں، ولا تجب في الدراهم، اور دراہم میں واجب نہیں، کیونکہ وہ تو کیا ہوا؟ مستغرق بالدین ہوا۔
ولو ترجح بعض وجوه المشترك ببيان من قبل المتكلم كان مفسراً، بھئی دیکھیے مشترک بھئی، مشترک کے معنی کو آپ نے ترجیح دی کسی دلیل کی وجہ سے تو یہ کیا کہلایا؟ کیا کہلایا؟ مؤول کہلایا، لیکن اگر متکلم کی طرف سے خود ہی اس کا بیان آ گیا تو پھر یہ مفسر کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ متکلم نے خود اس کی تفسیر بیان کر دی، مثلاً وہی صورت بناؤ بھئی، ایک شخص نے کیا کہا؟ مثلاً دوسری صورت چلو یہ جو انہوں نے متن میں ذکر کی ہے متن بھی حل ہو جائے گا، ایک شخص کہتا ہے، لفلان علي عشرة دراهم، فلاں کے مجھ پر کتنے دراہم ہیں؟ اقرار کر لیا فلاں کے مجھ پر 10 درہم ہیں، اب بھئی درہم تو کئی طرح کے ہیں، بخارا کے بھی ہیں مثلاً سمرقند کے بھی ہیں، فلاں علاقے کے بھی ہیں فلاں علاقے کے بھی ہیں، کون سے درہم مراد ہیں؟ آپ کیا مراد لیں گے؟ اس شہر میں اگر چلتے ہیں تو شہر اور اس سب کی مالیت ایک جیسی ہے تو پھر کیا مراد لیں گے؟ جو غالب چلتے ہیں، جو غالب چلتے ہیں۔
تو یہ کیا بن جائے گا؟ مؤول، کیا بن جائے گا؟ لیکن اس نے لفلان علي عشرة دراهم کے ساتھ ہی کہہ دیا، من نقد بخارى، کس کی نقدی میں سے؟ بخارا کی نقدی میں سے، بیان ساتھ لگا دیا، کیا لگا دیا؟ بیان، تفسیر آ گئی کہ ان دراہم سے کون سے دراہم مراد ہیں؟ بخارا کے دراہم مراد ہیں، تو یہ اب مفسر کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ کیونکہ اس کا بیان کس کی طرف سے آ گیا؟ متکلم کی طرف سے، اور یہ قطعی ہے، یہ کیا ہے؟ قطعی ہے، اور وہ مؤول کیا تھا؟ ظنی تھا، اور قطعی کو ظنی پر کیا ہوتی ہے؟ ترجیح، تو مفسر کو مؤول پر کیا ہوگی؟ ترجیح دی جائے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اب اس میں غلطی کے مؤول میں تو غلطی کا امکان تھا، اب غلطی کا امکان ہے؟ نہیں، اب تو اس نے خود ہی بیان کر دیا کہ یہی مراد ہے بھئی۔
ولو ترجح بعض وجوه المشترك ببيان من قبل المتكلم كان مفسراً، اور اگر ترجیح پا جائے مشترک کا کوئی ایک معنی ببیان، کس کے ساتھ ترجیح پائے؟ بیان کے ساتھ، من قبل المتكلم، جو کس کی طرف سے ہو؟ متکلم کی طرف سے ہو، كان مفسراً، تو یہ کیا ہوگا؟ مفسر ہوگا، وحكمه، حکم یہ، أنه يجب العمل به يقيناً، کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے یقینی طور پر، یعنی اس میں غلطی کا امکان اب نہیں، پہلے تو آپ غالب نقدی دے رہے تھے لیکن پھر بھی غلطی کا امکان تھا کہ ہو سکتا ہے کوئی اور مراد ہو، لیکن اب تو اس نے خود ہی بیان کر دیا، اب غلطی کا کوئی امکان ہے؟ نہیں، تو یہ قطعی ہے۔
مثال، مثال اس کی: إذا قال، ایک شخص نے کہا: لفلان علي عشرة دراهم، فلاں کے مجھ پر 10 دراہم ہیں، من نقد بخارى، کس میں سے؟ بخارا کے نقد میں سے۔ فقوله: من نقد بخارى، تفسير له، پس اقرار کرنے والے کا من نقد بخارى کہنا، یہ تفسیر ہے کس کی مولانا؟ ان مذکورہ دراہم کی۔ فلولا ذلك لكان منصرفاً إلى غالب نقد البلد، اگر یہ مولانا یہ قید نہ ہوتی، یہ صفت، یہ تفسیر نہ ہوتی، لكان منصرفاً، تو پھر پھر جاتا یہ قول کس کی طرف؟ شہر کے غالب نقدی کی طرف۔ بطريق التأويل، کس طریقے پر پھرتا؟ تاویل کے طریقے پر۔ تو وہ مؤول بنتا، اور اس وقت تو یہ کیا بن رہا ہے؟ مفسر۔ فيترجح المفسر، تو ترجیح پا جائے گا کون مولانا؟ مفسر ترجیح پائے گا۔ فلا يجب نقد البلد، تو شہر کی نقدی واجب نہیں ہوگی۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔