Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-037

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 110
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا مولانا، گزشتہ سبق میں ہم نے متقابلات کی بحث شروع کی تھی، متقابلات سے کیا مراد ہے بھئی؟ وہ امور اور خفا کی قسمیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ امور کی بھی چار قسمیں آپ نے پڑھیں بھئی، ظاہر، نص، مفسر اور محکم، اور خفا کے اعتبار سے بھی چار قسمیں ہیں، خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ۔ متشابہ، تو پھر آپ کو بتلایا تھا ظاہر اس کلام کا نام ہے جس کی مراد سامع پر ظاہر ہو بغیر غور و فکر کے ہی، صرف سنتے ہی مراد کیا ہو اس پر ظاہر ہو، اور نص کس کو کہتے ہیں؟ جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نص ظاہر سے اعلیٰ ہے، اور مفسر نص سے اعلیٰ ہے، اور محکم مفسر سے اعلیٰ ہے، اور ہر اعلیٰ کے ضمن میں ادنیٰ موجود ہے بھئی، ہر اعلیٰ کے ضمن میں ادنیٰ موجود ہے۔ تو نص وہ غرض جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، پھر اس کی کئی مثالیں گزری تھیں بھئی، جس میں آپ کو بتلایا تھا کیا ظاہر ہے اور کیا نص ہے بھئی، اب آپ کو حکم بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وحكم الظاهر والنص وجوب العمل بهما“ ظاہر اور نص کا حکم کیا ہے؟ ان پر عمل کا واجب ہونا ہے، ”عامين كانا أو خاصين“ چاہے وہ دونوں عام ہوں یا خاص ہوں، ”مع احتمال إرادة الغير“ ساتھ غیر کے ارادے کے احتمال کے ساتھ، یعنی اس میں غیر کے ارادے کا بھی احتمال ہوگا، جیسے اب دیکھو مولانا، ہر عام کے اندر تخصیص کا بھی احتمال ہوتا ہے اور اسی طرح ہر خاص کے اندر تاویل کا احتمال ہوتا ہے۔ ہر عام کے اندر کس چیز کا احتمال ہے؟ تخصیص کا احتمال ہے، اور ہر خاص کے اندر تاویل کا احتمال ہے۔ ”وذلك بمنزلة المجاز مع الحقيقة“ اور یہ کس کے درجے میں ہے؟ جیسے کہ مجاز ہے حقیقت کے ساتھ، جیسے حقیقت کے اندر مجاز کا بھی احتمال ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی مولانا ظاہر اور نص پر عمل کرنا واجب ہے مولانا قطعی ہے، لیکن یہاں پر غیر کا بھی احتمال ہوگا، عام ہے تو تخصیص کا احتمال ہوگا اور خاص ہے تو تاویل کا احتمال ہوگا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی ان پر عمل کرنا واجب ہے، عمل کرنا واجب ہے لیکن اعتقاد رکھنا واجب نہیں۔ اعتقاد رکھنا، یعنی عمل تو کیا جائے گا وجوباً، اعتقاد کوئی نہ بھی رکھے تو اس کے اعتقاد نہ رکھنے والے کو کافر نہیں کہا جائے گا، اگر عمل بھی واجب ہو اعتقاد بھی واجب ہو تو پھر اس کا کوئی انکار کر دے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کافر، کیونکہ اعتقاد واجب تھا اور اس نے کیا کر دیا؟ انکار، لیکن یہاں ان کا عمل تو واجب ہوگا لیکن اعتقاد واجب، اعتقاد اس لیے نہیں واجب کیونکہ اس میں غیر کا بھی احتمال ہے آپ کو بتلا دیا بھئی، جب احتمال غیر کا بھی ہے تو یہ قطعی رہا یا ظنی بن گیا؟ ظنی، تو لہٰذا یہ عمل کے اعتبار سے قطعی ہیں البتہ، عمل کے اعتبار سے قطعی ہیں، اعتقاد رکھنا، تو ان کا اگر کوئی انکار کر دے بھئی تو اس کو کافر نہیں کہا جائے گا ہاں فاسق کہیں گے، کیا کہیں گے؟ فاسق کہیں گے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ان پر عمل واجب ہے لیکن اعتقاد واجب نہیں، کیونکہ بتلا دیا اعتقاد اس لیے نہیں کیونکہ اس میں غیر کا بھی احتمال ہے، ہر عام کے اندر کس کا احتمال ہے؟ تخصیص کا، اور ہر خاص کے اندر کس کا احتمال ہے؟ تاویل کا بھئی۔ ”وعلى هذا قلنا“ اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: ”إذا اشترى قريبه“ جب خریدا کسی شخص نے اپنے قریبی رشتہ دار کو، محرم کو، ”حتى عتق عليه“ یہاں تک کہ اس پر کیا ہو جائے؟ آزاد ہو جائے، ”يكون هو معتقاً“ تو یہ کیا ہوگا؟ معتق یہ بنے، کہلائے گا، یہ کیا ہوگا اس کا؟ معتق، اور وہ دوسرا اس کا معتق کہلائے گا، ”ويكون الولاء له“ اور ولاء اس کے لیے ہوگی، ولاء کہتے ہیں وراثت کا مال بھئی، بھئی آپ نے غلام آزاد کیا بھئی، اب اس غلام کو جب تو آپ اس کے مولا ہیں بھئی، کیا ہیں؟ مولا ہیں، تو اب جب وہ غلام آپ نے بعد میں کاروبار کیا بڑا پیسہ کما لیا مر گیا، مرنے کے بعد اب اس کے کوئی رشتہ دار ہیں ہی نہیں بھئی، کوئی رشتہ دار نہیں ہیں، تو اس صورت میں اب اس کا مال وراثت کس کو ملے گا؟ مولا کو ملے گا، یہ جو مال وراثت ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولاء، کیا کہتے ہیں؟ ولاء کہتے ہیں جس کے آپ مستحق ہوئے ہیں اس غلام کو آزاد کرنے کی وجہ سے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا مولانا غلام کے رشتہ دار تو ہیں لیکن ان میں مال کو تقسیم کیا تو کچھ بچ گیا، ہر ایک کو جتنا حصہ شریعت نے مقرر کیا وہ دے دیا کچھ مال بچ گیا، تو اب وہ پھر کس کو دیا جاتا ہے؟ آقا کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اب یہاں پر کسی نے اپنے قریبی عزیز کو خریدا، تو خریدتے ہی حدیث سے کیا ثابت ہوا تھا؟ اس کے لیے کیا آ جائے گی؟ ملکیت، اور ملکیت آتے ہی فوراً حدیث میں تھا جو مالک بنے فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد، تو مولانا آپ اس کے معتق ہوئے، وہ شخص جو آزاد وہ کیا ہوا اس کا؟ معتق، اور جب معتق بن گیا تو ولاء کیا ہوگی؟ اس کے لیے ہوگی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھا اب حدیث سے ثابت ہو گیا تھا یہ مالک بن جائے گا اور مالک بننے کے بعد اب یہ غلام جب آزاد ہوا ہے تو کیا ہے اس کا؟ جی؟ تو یہ مولا ہے اس کا، کیا ہے؟ مولا ہے، پہلے ملکیت آئی اور پھر وہ کیا ہوا؟ آزاد، پھر آزاد ہوا تو یہ مولا بن گیا اس کو اس کو ولاء اس کو ملے گی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ ”وإنما يظهر التفاوت بينهما عند المقابلة“ اور ان دونوں کے درمیان، یعنی ظاہر اور نص کے درمیان جو فرق ہے وہ ظاہر ہوگا مقابلے کے وقت بھئی، اگر ظاہر اور نص کا مقابلہ ہو جائے تو ان دونوں میں اعلیٰ کون ہے؟ ظاہر اعلیٰ ہے یا نص اعلیٰ ہے؟ نص اعلیٰ ہے، تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ نص کو ترجیح دی جائے گی، تو جب ان میں مقابلہ آئے گا تو پھر فرق ظاہر ہوگا، ”ولهذا لو قال لها“ اسی لیے اگر کسی شخص نے کہا اپنی بیوی سے: ”طلقي نفسك“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، تو اپنی بیوی کو اختیار دے دیا طلاق کا اس نے، کیا کیا؟ اختیار، ”طلقي نفسك“ طلاق نہیں دے رہا بلکہ طلاق کا اختیار، ”طلقي“ تو طلاق دے دے ”نفسك“ اپنے آپ کو، اپنے نفس کو، ”فقالت“ بیوی نے کہا: ”أبنت نفسي“ میں نے اپنے نفس کو کیا کیا؟ جدا بائن کیا، یعنی طلاق بائن دی میں نے اپنے نفس کو جدا کیا یعنی طلاق بائن، بھئی جدائی کس میں آیا کرتی ہے طلاق رجعی میں یا طلاق بائن میں؟ تو جدا کرنا کس کے اندر آئے گا؟ طلاق بائن کے اندر، تو اس نے کہا: میں نے اپنے آپ کو جدا کیا، یعنی اس نے اپنے آپ پر طلاق بائن واقع کی، تو کہتے ہیں: ”يقع الطلاق رجعياً“ طلاق واقع ہوگی اس حال میں کہ رجعی ہوگی، کیا ہوگی؟ رجعی ہوگی، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لأن هذا نص في الطلاق“ اس لیے کہ یہ نص ہے طلاق میں، ”ظاهر في البينونة“ بینونت میں ظاہر ہے، بھئی دیکھو، خاوند نے بیوی سے کہا: ”طلقي نفسك“ تو اپنے آپ کو کیا کر؟ طلاق دے دے، اختیار دے دیا، بیوی نے کہا: ”أبنت نفسي“ میں نے اپنے نفس کو کیا کیا؟ جدا کیا، بائن جدا کیا یعنی طلاق بائن دی، اب دیکھو، یہاں مقابلہ آ گیا ظاہر اور کس چیز کا؟ نص کا۔ ظاہر اور نص کا، عورت کے کلام سے ظاہر کیا ہو رہا ہے ”أبنت نفسي“ سے؟ کون سی طلاق ہو؟ طلاق بائن ہو، لیکن نص کیا ہے؟ کس غرض کے لیے یہ کلام لایا گیا؟ طلاق رجعی کے لیے، کس کے لیے لایا گیا؟ بھئی طلاق رجعی کے لیے کیسے لایا گیا؟ بھئی دیکھو، یہ کلام جو عورت نے کہا ”أبنت نفسي“ کس کے جواب میں آیا؟ خاوند کے لفظ ”طلقي نفسك“ کے جواب میں آیا، اور ”طلقي نفسك“ کا لفظ جو کہا خاوند نے وہ صریح ہے اور صریح سے کون سی طلاق واقع ہوتی ہے؟ رجعی، تو خاوند نے کون سی طلاق کا اختیار دیا تھا؟ رجعی کا، اور یہ اس کے جواب میں کلام آیا تو اس کلام کے لانے کی غرض کیا تھی؟ طلاق رجعی کو واقع کرنا، غرض کیا ہوئی؟ جس چیز کا اختیار دیا ہے اسی کو واقع کرنا ہے نا، وہی غرض ہے، اور خاوند نے تو کس چیز کا اختیار دیا تھا؟ طلاق رجعی، کیونکہ طلاق کا لفظ بولا تھا اور طلاق کا لفظ صریح ہے اور صریح سے کون سی واقع ہوا کرتی ہے؟ رجعی، تو اس نے کون سا اختیار دیا؟ طلاق رجعی، اب وہ اسی کے طلاق رجعی کو واقع کرنے کے لیے اسی غرض کے لیے لفظ بول رہی ہے ”أبنت نفسي“، تو غرض کیا ہوئی اس کی؟ طلاق رجعی، اور ظاہر اس کا کیا ہوا؟ طلاق بائن، تو ظاہر سے آ رہے ظاہر سے کیا ہو رہی ہے؟ طلاق بائن، اور نص سے کیا ثابت ہو رہی ہے؟ طلاق رجعی، تو مقابلہ آ گیا دونوں کے اندر اور ترجیح کس کو دی جائے گی؟ نص کو، لہٰذا کون سی طلاق واقع ہوگی؟ طلاق رجعی، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی سب کو؟ ”ولهذا لو قال لها: طلقي نفسك، فقالت: أبنت نفسي، يقع الطلاق رجعياً، لأن هذا نص في الطلاق، ظاهر في البينونة، فيترجح العمل بالنص“ ”وكذلك قوله عليه السلام لأهل عرينة: اشربوا من أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، نص في بيان سبب الشفاء“ اہل عرینہ مولانا، یہ مدینے کے قریب ایک جگہ تھی، یہاں کے کچھ لوگ آئے مسلمان ہوئے مدینے میں رہنے لگے بھئی، تو مدینے کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی، ان کے رنگ زرد ہو گئے، پیٹ پھول گئے، بیمار ہو گئے مولانا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا مسئلہ پریشانی ذکر کی، حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جنگل یہ ساتھ جنگل میں مسلمانوں کے صدقے وغیرہ کے اونٹ ہیں وہ چر رہے ہیں، تم بھی وہاں جا کر رہو بھئی، وہاں جا کر رہو، اور وحی کے ذریعے حضور کو بتلایا گیا کہ ان کا علاج کیا ہے کہ یہ کیا پیئیں؟ اونٹوں کا دودھ بھی پیئیں اور پیشاب بھی پیئیں، اس سے کیا ہوگی ان کی بیماری؟ ختم ہو جائے گی۔ تو حضور نے ان سے کیا فرمایا کہ جاؤ جنگل میں جا کر وہاں صدقے کے اونٹ ہیں ہمارے، ان کے پاس رہو اور وہاں مدینے سے باہر جنگل میں، اور وہاں ان اونٹوں کا دودھ بھی پیو اور پیشاب بھی پیو تو تمہیں کیا حاصل ہو جائے گی؟ شفا مل جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ وہاں جا کر رہنے لگے، چنانچہ بڑی جلدی ٹھیک ہو گئے بھئی، صحت مند ہو گئے مولانا ٹھیک ٹھاک ہوئے، لیکن خبیث بدبخت لوگ تھے مولانا، انہوں نے اور دیکھیے، چنانچہ کیا کیا؟ جب ٹھیک ہو گئے تو وہاں جو چرواہے وغیرہ تھے ان کو سب انہوں نے قتل کر دیا بھئی، ان کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو بھگا کر لے گئے بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، حضور نے صحابہ کو بھیجا، جاؤ بھئی پکڑ کر لاؤ، صحابہ گئے مولانا اور پکڑ کر لے آئے ان کو بھئی، چنانچہ حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ سلائیاں لوہے کی گرم کر کے ان کی آنکھوں میں پھیر دی جائیں، ان کے ناک، کان، ہاتھ، پاؤں کاٹ دیے جائیں اور ان کو گرم تپتی ہوئی ریت پر پھینک دیا جائے، چنانچہ اس طرح کیا گیا، ان کے ہاتھ، ناک، پاؤں وغیرہ، کان وغیرہ کاٹ دیے گئے، آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں اور وہی گرم ریت پر مولانا تڑپتے تڑپتے یہ مر گئے بھئی۔ مثلہ کیا، سمجھ میں آیا؟ مثلہ کیا۔ مثلہ بعد میں منسوخ ہو گیا بھئی، بعد میں مثلہ سے منع کر دیا گیا بھئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو بڑا سخت فیصلہ حضور نے فرمایا کہ اتنی سختی کی ان پر، جواب، جواب یہ مولانا کہ انہوں نے بھی چرواہے کو اسی طرح قتل کیا تھا، ظلم بڑے سخت اور ظلم کر کے اسی طرح قتل کیا تھا، معلوم ہوا بڑے بدبخت اور ظالم لوگ تھے، قتل بھی کیا، کتنی درندگی کے ساتھ اس کو قتل کیا، چنانچہ حضور نے بھی ان کو اسی طرح قتل کرنے کا حکم فرمایا اور ان کو وہاں ڈال دیا گیا۔ تو چنانچہ یہ لوگ مدینے میں آئے تو بیمار ہو گئے مولانا، تو کہتے ہیں بھئی یہ مدینے کی جو ہے، مدینہ بھٹی کی طرح ہے بھئی، بھٹی کی طرح، جیسے بھٹی کیا ہوتی ہے؟ گندگی کو، سونے کو سے کھوٹ وغیرہ کو نکال دیتی ہے، پھینک دیتی ہے، ختم کر دیتی ہے، اسی طرح مدینہ کے اندر بھی، مدینہ بھی اپنے اندر کھوٹ کو برداشت نہیں کرتا، اس کھوٹ کو اپنے اندر سے کیا کر دیتا ہے؟ نکال دیتا ہے، یہ بدبخت لوگ تھے، مدینے میں آ کر رہنے لگے تو مدینے نے ان کو کیا کر دیا؟ اپنے سے باہر نکال دیا بھئی۔ اب حضور علیہ السلام نے ان اہل عرینہ سے کیا فرمایا؟ ”اشربوا من أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا“ یہ جو صدقے کے اونٹ ہیں ان کے پیشاب پیو اور ان کے دودھ، تو بھئی یہاں نص کیا ہے؟ اس کلام کو لانے کی غرض کیا ہے؟ سبب شفا بتلانا ہے، تمہیں کس چیز سے شفا ملے گی؟ تو نص کیا ہے؟ سبب شفا ہے، اور ظاہر کیا ہے یہاں پر؟ کہ مأکول اللحم جانور کا پیشاب حلال ہے بھئی، کیا ہے؟ پینا حلال ہے بھئی۔ یہ ظاہر ہے یا نہیں؟ ان کو حکم دیا جا رہا ہے معلوم ہوا حلال، پینا جائز ہے، تو اس میں یاد رکھو، تین مذاہب ہیں مولانا، تین مذاہب، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مأکول اللحم وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے جو حلال ہیں، ان کا پیشاب پینا جائز ہے، پیشاب پینا جائز ہے، نجس نہیں ہے، حرام نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نجس نہیں ہے۔ جلدی لکھو بھئی جلدی۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ہے مأکول اللحم جانوروں کا؟ نجس نہیں، پینا جائز ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بیماری کے لیے استعمال کرنا پینا جائز ہے، ویسے نجس ہے۔ بیماری کے لیے استعمال کرنا جائز ہے ویسے نجس ہے۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہر لحاظ سے نجس ہے، نہ اس کو ویسے پینا جائز اور نہ اس کو بیماری کے لیے پینا جائز ہے ۔ دوا کے طور پر بھی اس کو پینا جائز نہیں ہے، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ الا یہ کہ طبیب سارے طبیب کہہ دیں کہ اس بیماری کا علاج اس کے علاوہ اور کسی چیز میں نہیں ہے پھر اضطراری حالت آ گئی پھر جائز ہے۔ پھر کیا آ گئی؟ پھر جائز ہے ورنہ کوئی صورت نہیں جواز کی بھئی۔ تی دونوں مذاہب سمجھ میں آئے بھئی؟ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ ان کا پیشاب نجس نہیں پینا کیا ہے؟ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ نجس ہے لیکن بیماری کے لیے پینا جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نجس ہے نہ ویسے پینا جائز اور نہ بیماری کے لیے پینا دوا کے طور پر پینا جائز نہیں بھئی۔ جائز نہیں۔ یرحمک اللہ۔ تو دیکھو حضور علیہ السلام نے اہل عرینہ سے فرمایا اشربوا من ابوالہا والبانہا پیو تم ان کے پیشاب میں سے بھی اور ان کے دودھ میں سے بھی۔ تو دیکھو نص کیا ہوئی مولانا؟ کس غرض کے لیے یہ کلام لایا گیا؟ سبب شفاء شفاء کا سبب بیان کرنا ہے اور ظاہر کیا ہے اس کلام سے؟ بغیر غور و فکر کے کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ پیشاب کیا ہے؟ جائز اس کے پیشاب کے پینا جائز ہے، پیشاب کا پینا جائز ہے۔ اور حضور علیہ السلام کی ایک اور حدیث ہے استنزہوا من البول بچو تم پیشاب سے فان عامۃ عذاب القبر منہ اس لیے کہ عام عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے۔ اکثر عذاب قبر کس سے ہوتا ہے؟ اسی کی وجہ سے ہوتا ہے یہ جو پیشاب کے چھینٹوں سے آدمی نہیں بچتا اس کے بدن پر پڑتے ہیں، کپڑوں پر پڑتے ہیں تو اسی کی وجہ سے اس کو کیا دیا جاتا ہے قبر میں؟ عذاب دیا جاتا ہے۔ یہ دوسری حدیث ہے مولانا۔ اس حدیث کے غرض کیا ہے؟ غرض کیا ہے؟ پیشاب سے بچنا۔ کس لیے یہ کلام ذکر فرمایا حضور علیہ السلام نے؟ پیشاب سے بچنے کے لیے کہ پیشاب سے بچو، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہاں ظاہر یہ تو اس حدیث سے ثابت کیا ہو رہا تھا؟ ظاہر کیا تھا؟ کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پینا جائز اور اس حدیث کے نص ہے کیا کہ پیشاب سے بچو۔ یہ عام ہے پیشاب ذکر ہوا چاہے وہ ماکول اللحم کا ہو چاہے غیر ماکول اللحم، ہر ایک کو شامل ہے حضور فرما رہے ہیں پیشاب سے بچو۔ تو یہ کیا ہے؟ البول شامل ہے کس کو؟ ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو بھی اور غیر ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو بھی شامل ہے۔ تو یہ نص ہوئی پیشاب سے بچنے کے بارے میں اور وہ ظاہر ہے پیشاب کے پینے کے جواز میں۔ تو ظاہر اور نص میں مقابلہ آ گیا مولانا۔ ایک کے ظاہر سے پیشاب کے حلت معلوم ہو رہی ہے اور دوسرے کے نص سے کیا ہے پیشاب کے حرمت اور نجاست ظاہر ہو رہی ہے تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ نص کو ترجیح دی جائے گی لہذا اس کا پینا پیشاب ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو گا جیسا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ وکذلک قولہ علیہ السلام اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول لاہل عرینۃ اہل عرینہ سے اشربوا من ابوالہا والبانہا پیو تم ان کے پیشابوں میں سے اور دودھ میں سے نص یہ نص ہے فی بیان سبب الشفاء کس چیز میں؟ سبب شفاء کے بیان میں و ظاہر فی اجازت شرب البول اور یہ ظاہر ہے مولانا کہ پیشاب کا پینا جائز ہونے میں کہ اجازت ہونے میں یہ کیا ہے؟ ظاہر ہے۔ و قولہ علیہ السلام اور حضور علیہ السلام کے یہ قول جو ہے استنزہوا من البول بچو تم پیشاب سے فان عامۃ عذاب القبر منہ اس لیے کہ اکثر عذاب قبر اسی کی وجہ سبب سے ہوتا ہے نص فی وجوب الاحتراز عن البول یہ نص ہے مولانا کس چیز کے بارے میں؟ کہ پیشاب سے بچنا واجب، پیشاب سے بچنے کے واجب ہونے کے بارے میں یہ نص ہے۔ فیرجح النص علی الظاہر ترجیح پا جائے گی نص ظاہر پر فلا یحل شرب البول اصلا لہذا حلال نہیں ہو گا البول پیشاب کا پینا اصلا ای قطعا کسی صورت میں بھی۔ وقولہ علیہ السلام اسی طرح حضور علیہ السلام کا قول ہے ما سقتہ السماء ففیہ العشر جس کو آسمان کیا کرے؟ سیراب کرے اس کے اندر عشر ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ما وہ جس کو وہ زمین سقتہ السماء جس کو السماء بول کر بارش مراد ہے۔ جس کو بارش سیراب کرے ففیہ العشر اس کے اندر کیا ہے؟ تو بارش کو السماء کہا کیونکہ بارش بھی آسمان کی طرف سے نازل ہوتی ہے اوپر سے۔ تو جس کو بارش سیراب کرے بارش کا پانی ففیہ العشر اس کے اندر کیا ہے؟ عشر ہے۔ تو ما عام ہے بھئی جس کو بھی سیراب کیا کرے جس کو بھی کون سیراب کرے؟ بارش۔ تو اس فصل میں عشر دینا پڑے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ بارش کا۔ ہاں اور اگر آپ کا بھی خرچہ ہوا ہے کنوئیں وغیرہ سے محنت مشقت کر کے پانی لگاتے ہیں، ٹیوب ویل سے لگاتے ہیں تو پھر عشر نہیں دینا پڑتا بلکہ نصف عشر دینا پڑتا ہے آپ پڑھ چکے ہوں گے بھئی۔ کتنا حصہ؟ بیسواں حصہ دینا پڑتا ہے ورنہ دسواں حصہ۔ اب مولانا، یہ حدیث نص ہے کس چیز کے لیے؟ کیا مقصد ہے اس کا؟ عشر کو بیان کرنا، کس چیز کو؟ عشر کو بیان کرنے میں۔ تو یہ حضور کا یہ قول نص فی بیان العشر یہ عشر کے بیان میں نص ہے۔ و قولہ علیہ السلام اور حضور علیہ السلام کا یہ قول لیس فی الخضروات صدقۃ موول کہ سبزیوں کے اندر صدقہ نہیں ہے یہ موول ہے۔ صدقۃ ہونا چاہیے بھئی۔ کیا ہونا چاہیے؟ صدقۃ۔ کیونکہ لیس کے بعد فی الخضروات آ رہا ہے جار مجرور اور جار مجرور کبھی بھی مبتدا یا اسم نہیں بنتے بلکہ یہ خبر بنا کرتے ہیں تو فی الخضروات خبر مقدم اور صدقۃ اسم مؤخر اور لیس کا اسم کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے اور خبر کیا ہوتی ہے؟ منسوب، معلوم ہوا یہ کتابت کی غلطی ہے جس پر نصب لگے ہوئے ہیں۔ تو خضروات کے اندر صدقہ نہیں ہے بھئی۔ خضروات سبزیاں ترکاری بھئی ترکاری، سبزی۔ بھئی یاد رکھو، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جو کچھ بھی زمین سے پیدا ہو۔ جو فصل بھی ہو اس کے اندر آپ کو عشر دینا پڑے گا۔ اگر وہ کیا ہے؟ بارانی پانی سے سیراب ہوتی ہے اور اگر کنوئیں وغیرہ سے ہے یا ٹیوب ویل سے ہے تو کتنا دینا پڑے گا؟ نصف عشر دینا پڑے گا۔ پیداوار تھوڑی ہو یا زیادہ، جس قسم کی بھی پیداوار ہو کیا کرنا پڑے گا؟ عشر یا نصف عشر آپ کو ہر حال میں دینا پڑے گا، جبکہ جبکہ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سبزیوں کے اندر عشر نہیں ہے بھئی۔ سبزیوں کے اندر عشر نہیں ہے سبزیوں میں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کیا فرمایا بھئی؟ جو بھی زمین سے پیدا ہو جو بھی فصل اس کے اندر کیا ہو گا؟ عشر ہو گا، دلیل ان کی یہی ہے ما سقتہ السماء ففیہ العشر وہ جس کو سیراب کرے کون؟ بارش، اس کے اندر کیا ہو گا؟ عشر، بس۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا کہ جو بھی فصل آئے گی یہ عام ہے مولانا چاہے سبزیاں ہوں ترکاریاں ہوں، جو بھی فصل ہے اس بس اس میں کیا آ جائے گا؟ عشر آ جائے گا عشر آ جائے گا۔ اور صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ حدیث ہے حضور نے فرمایا لیس فی الخضروات صدقۃ سبزیوں اور سبزیوں ترکاریوں کے اندر صدقہ نہیں ہے، صدقہ نہیں ہے۔ یاد رکھو ان کے نزدیک عشر کے لیے دو شرائط ہیں بھئی۔ وہ کیا فرماتے ہیں عشر کے لیے؟ عشر تب آئے گا جب دو شرائط پائی جائیں۔ اول شرط کیا ہے؟ کہ وہ فصل وہ پیداوار ایک سال تک باقی رہنے والی ہو۔ بھئی گندم میں آپ اس کو ایک سال تک نکال رکھیں خراب ہو گی؟ نہیں، چاول کو رکھ دیں خراب ہوں گے؟ نہیں، لیکن سبزی کو رکھیں ذرا چند دن تک بھئی رہے گی وہ سارے سال تک؟ وہ تو چند دن کے اندر خراب ہو جائے گی۔ تو عشر کے لیے پہلی شرط کیا ہے؟ پورے سال تک باقی رہنے والی ہو۔ اور یہ تو پورا سبزیاں تو پورا سال باقی نہیں رہتیں۔ اور دوسری شرط کیا ہے؟ کہ کم از کم پانچ وسق فصل ہو بھئی۔ کتنی فصل ہو؟ پانچ وسق فصل ہو تو پھر اس کے اندر عشر آیا کرتا ہے۔ کتنی شرائط ہوئیں مولانا؟ دو، اول کیا شرط ہو؟ ایک ایک سال تک باقی رہنے والی ہوں خراب نہ ہوں، دوسری شرط کیا؟ پانچ وسق ہوں کم از کم، تو پھر آئے گا۔ تو اب مولانا اور سبزیوں کے اندر کون سی شرط نہیں پائی جا رہی؟ پہلی، یہ پورا سال تک باقی نہیں، یہ تو چند دن میں خراب ہو جائیں گی آپ کاٹنے کا ہٹائیں، اتاریں گے تو بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو لہذا اس میں نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور وسق کس کو کہتے ہیں؟ پانچ وسق۔ یاد رکھو مولانا اوزان یاد ہونے چاہئیں آپ کو۔ آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ بنتا ہے ایک رتی۔ اور آٹھ رتی ہو تو یہ بن جاتا ہے ایک ماشہ۔ بارہ ماشے ہوں تو یہ بن جاتا ہے ایک تولہ۔ اور اسی تولے ہوں تو یہ بن جاتا ہے ایک سیر۔ اسی تولے ہوں تو کتنے؟ ایک سیر بنتا ہے۔ اور ایک صاع ہوتا ہے مولانا 270 تولے کا۔ ایک صاع کتنے کا ہوتا ہے؟ یہ کتنا بنتا ہے؟ تین سیر چھ چھٹانک بنتا ہے کیونکہ ایک سیر کتنے کا ہے؟ 80، تو 8-3-24، 240 تولے اور 30 تولے یہ چھ چھٹانک بن گئے۔ تین سیر اور ایک صاع کتنے کے برابر ہوا؟ تین سیر چھ چھٹانک۔ اور ایک وسق تو یہ ایک صاع ہوا اور ایک وسق 60 صاع کے برابر ہوتا ہے۔ ایک وسق کتنے کے برابر؟ 60 صاع۔ اور ایک صاع کتنے کے برابر تھا؟ تین سیر چھ چھٹانک۔ تو 60 صاع کتنے ہو گئے؟ یہ بن جاتے ہیں پانچ من اڑھائی سیر بھئی۔ ایک وسق کتنے کے برابر ہوا؟ پانچ من اڑھائی سیر بھئی، اڑھائی سیر۔ اور کتنے کے اندر آئے گا بھئی؟ کم از کم کتنا ہونا چاہیے انھوں نے کہا؟ پانچ وسق، تو پانچ کے ساتھ ضرب دو اس کو، یہ بن جائے گا 25 من اور ساڑھے بارہ سیر۔ کوئی فصل 25 من ساڑھے بارہ سیر ہو تو پھر اس کے اندر عشر آئے گا اس سے کم ہو تو عشر اگر گندم بھی ہے وہ تو پہلی شرط پائی جا رہی ہے سارا سال خراب نہیں ہوتی لیکن اگر وہ پانچ 25 من ساڑھے بارہ سیر سے کم فصل ہوئی تو اس کے اندر عشر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو ایک وسق کتنے کے برابر ہوتا ہے؟ 60 صاع کے، ایک صاع کتنے کے برابر؟ 270 تولے، یہ کتنا بن جاتا ہے؟ تین سیر چھ چھٹانک کے برابر۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ یہ ان کی دلیل ہے مولانا، ہماری حدیث کیا ہے؟ ما سقتہ السماء ففیہ العشر اور صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ کی کیا دلیل ہے؟ لیس فی الخضروات صدقۃ، خضروات سبزیوں ترکاریوں کے اندر صدقہ نہیں۔ اب یاد رکھو مولانا صدقہ کا لفظ مشترک ہے۔ زکوۃ پہ بھی بولا جاتا ہے، خیرات پر بھی بولا جاتا ہے اور عشر پر بھی بولا جاتا ہے۔ صدقہ کا لفظ کیا ہے؟ مشترک ہے مولانا، زکوۃ پر بھی بولا جاتا ہے، خیرات پر بھی بولا جاتا ہے اور عشر پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور تو مشترک ہے اور مشترک کے ایک معنی میں ترجیح دے دی۔ اور وہ کون سا؟ عشر، کہتے ہیں نہیں ہے ترکاریوں کے اندر عشر، کس معنی کو ترجیح دے دی انھوں نے؟ عشر کو، تو یہ موول بن گیا، کیا بن گیا؟ موول بن گیا، موول بن گیا۔ تو موول ہے ظنی اور نص ہے قطعی، پہلے کے اندر نص کیا ہے؟ کہ عشر ہے، جو بھی فصل زمین سے نکلے گی اس میں کیا ہے؟ عشر ہے اور دوسری کے اندر دوسرا دوسری حدیث موول، پہلی تو یہ موول ہے، تو نص کا دوسری حدیث سے ثابت ہو رہا ہے ہر فصل میں عشر ہے، دوسری سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ اس سے پتہ چلا ترکاریوں میں بھی ہے اور اس سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ ترکاریوں میں نہیں، تو وہاں پر کیا ہے؟ نص ہے اور یہاں پر کیا ہے؟ موول ہے، تو نص کا مقابلہ کس سے آیا؟ موول سے، اور نص ہوتی ہے قطعی اور موول کیا ہوتا ہے؟ ظنی، لہذا نص کو ترجیح دی جائے گی اور لہذا ترکاریوں کے اندر بھی کیا واجب ہو گی؟ عشر دینا واجب ہو گا ترکاریوں میں بھی، بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ ہے نص اور یہ ہے موول، اور نص قطعی اور موول ظنی اور قطعی کو ترجیح لہذا عشر ہو گا چاہے سبزی ہو، سال رہتی ہے یا نہیں رہتی، نہیں ہو، جی۔ اچھا بھئی۔ تو یہ مولانا، پہلی حدیث ما سقتہ السماء ففیہ العشر یہ نص ہے بیان عشر کے بارے میں اور حضور علیہ السلام کا یہ قول لیس فی الخضروات صدقۃ یہ موول ہے، کس چیز کے موول ہے؟ فی نفی العشر، نفی عشر کے بارے میں یہ موول ہے اس میں تاویل کی گئی ہے یعنی مشترک کے ایک معنی کو کیا دی گئی ہے؟ ترجیح، صدقہ کے کئی معانی تھے ان میں سے ایک معنی کو ترجیح دی گئی ہے لان الصدقۃ تحتمل وجوہا اس لیے کہ صدقہ احتمال رکھتا ہے کئی معانی کا فیرجح الاول علی الثانی تو ترجیح پا جائے گی اول ثانی پر یعنی نص کس پر؟ موول پر۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 37 of 123