فصلٌ۔ الواجب بحكم الأمر نوعان: أداءٌ وقضاءٌ۔ فالأداء عبارة عن تسليم عين الواجب إلى مستحقه، والقضاء عبارة عن تسليم مثل الواجب إلى مستحقه۔
جی، آج ادا اور قضا کے بارے میں ہم پڑھیں گے بھئی۔ ادا کسے کہتے ہیں؟ قضا کسے کہتے ہیں؟ آپ نماز ادا کرتے ہیں، کبھی وہ ادا کہلاتی ہے اور کبھی وہی نماز پڑھتے ہیں وہ کیا کہلاتی ہے؟ قضا کہلاتی ہے۔ آج ان کی تفصیل آپ کو بتلائیں گے ادا کسے کہتے ہیں، قضا کسے کہتے ہیں۔
کہتے ہیں الواجب بحكم الأمر نوعان کہ وہ چیز جو الواجب جو ہے بحكم الأمر کس کے حکم سے؟ امر کے حکم سے۔
الواجب بحكم الأمر واجب جو ہے بحكم الأمر کس کے حکم سے؟ امر کے حکم سے نوعان وہ دو قسم پر ہے أداءٌ وقضاءٌ۔ ایک ادا ہے اور ایک قضا۔ وہ چیز جو واجب ہوئی ہے امر کے حکم سے وہ دو قسم پر ہے، ادا ہے اور قضا۔ وہ جو واجب ہے بحكم الأمر امر کے حکم سے، حکم مضاف الأمر مضاف الیہ اور یہ اضافت بیانی ہے مولانا، اضافت بیانیہ جانتے ہو؟ جی؟ جی، اضافت بیانیہ اسے کہتے ہیں جس میں مضاف الیہ مضاف کا بیان کرے بھئی، اس کی وضاحت کرے بھئی۔ مضاف الیہ کیا کرے؟ مضاف کی وضاحت کرے، اس کا بیان کرے۔ واجب جو ہے بحکم کس کے ساتھ؟ حکم سے، وہ حکم کیا ہے؟ امر ہے، کیا ہے؟ تو امر اسی حکم کی وضاحت کر رہا ہے کہ حکم سے کیا مراد ہے؟ امر مراد ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو امر کے حکم سے جو واجب ہے وہ دو قسم پر ہے، ایک ادا اور ایک قضا ہے بھئی۔
فالأداء عبارة عن تسليم عين الواجب إلى مستحقه، پس ادا عبارت ہے کس چیز سے؟ عینِ واجب کو سپرد کرنا، تسلیم کا کیا معنی ہے؟ سپرد کرنا۔ عینِ واجب کو سپرد کرنا إلى مستحقه اس کے مستحق کے، اس کے حق دار کے۔ حق دار کے سپرد کرنا عینِ واجب کو، یہ کیا کہلاتا ہے؟ ادا کہلاتا ہے۔
والقضاء عبارة عن تسليم مثل الواجب إلى مستحقه، اور قضا کسے کہتے ہیں بھئی؟ مثلِ واجب کو حق دار کے سپرد کرنا، مثلِ واجب کو مستحق کے سپرد کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ قضا۔ تعریف سمجھ میں آئی بھئی؟ عینِ واجب کو سپرد کرنا یہ کیا کہلاتا ہے مستحق کے؟ یہ ادا۔ اور مثلِ واجب کو سپرد کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ قضا۔ دیکھو آپ نے نماز کو وقت کے اندر ادا کیا تو یہ آپ نے عینِ واجب کو اس کے مستحق کو ادا کے سپرد کر دیا۔ عینِ مستحق کو کیا کر دیا؟ عینِ واجب کو اس کے مستحق کے سپرد کر دیا۔
لیکن اگر آپ نے وقت کے اندر نماز ادا نہیں کی، مثلاً ظہر کی نماز تھی ظہر کا وقت گزر گیا۔ اب آپ عینِ واجب کو تو نہیں ادا کر سکتے کیونکہ جو وقت تھا وہ تو گزر گیا اس کا، تو وقت گزرا تو نماز کا بھی وقت فوت ہو گیا تو نماز بھی کیا ہو گئی؟ فوت۔ ہاں، اس کے مثل کو اب سپرد کرتے ہیں، اسی جیسی نماز پڑھتے ہیں۔ اسی جیسی نماز پڑھتے ہیں۔ تو یہ عینِ واجب نہیں بھئی بلکہ یہ تو کیا ہے؟ مثلِ واجب ہے کیونکہ عینِ واجب تو وہ تھی جو وقت کے اندر پڑھتے اور وقت فوت ہونے سے نماز بھی کیا ہو چکی ہے؟ فوت۔ اب عینِ واجب کو سپرد کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر اب کیا کیا جائے گا؟ مثلِ واجب کو سپرد کیا جائے گا اور یہ مثلِ واجب کیا کہلائے گا؟ قضا کہلائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
یا جیسے مولانا، تو حق اللہ ہو تو اللہ کے سپرد کرنا اور حق العبد ہو تو بندے کے سپرد کرنا۔ تو نماز کیا ہے؟ حق اللہ ہے بھئی۔ اور حق العبد ہے مثلاً ایک آدمی ہے اس کی دوسرے نے کوئی چیز غصب کر لی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ غصب کرنے کے بعد لے گیا اس کی چیز، بعد میں وہی چیز بعینہ اس نے اس شخص کو واپس کر دی، یہ کیا کہلائے گا؟ ادا، کیونکہ اس نے عینِ واجب کو اس کے مستحق کے کیا کر دیا ہے؟ جو چیز لے کر گیا تھا بعینہ اسی چیز کو کیا کر رہا ہے؟ واپس کر رہا ہے، اس کے مستحق کے حوالے کر رہا ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ ادا۔
لیکن وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی، اب وہ عینِ واجب کو سپرد کر سکتا ہے مستحق کے؟ نہیں، عینِ مستحق کو تو حوالے نہیں کر سکتا۔ اب مثلِ واجب کو کیا کرے گا؟ اس کے حوالے کرے گا یعنی اس کی قیمت دے گا، کیا کرے گا؟ اس کی قیمت دے گا، اس لیے کہ اس کی قیمت بھی کیا ہے اس چیز کے مثل ہے، صورۃً تو نہیں لیکن معنًى کیا ہے اس کے مثل ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دوبارہ دیکھیے فالأداء عبارة عن تسليم عين الواجب إلى مستحقه پس ادا وہ عبارت ہے عینِ واجب کو سپرد کرنے سے إلى مستحقه اس کے مستحق کو، والقضاء عبارة عن تسليم مثل الواجب إلى مستحقه اور قضا عبارت ہے مثلِ واجب کو سپرد کرنا إلى مستحقه اس کے مستحق کے بھئی، اس سے عبارت ہے۔
ثم الأداء نوعان پھر ادا کتنی قسم پر ہے بھئی؟ دو قسم پر ہے۔ كاملٌ وقاصرٌ ایک کامل اور ایک کیا ہے؟ قاصر ہے۔
کامل کی انہوں نے تعریف نہیں کی لیکن آگے قاصر کی تعریف کی ہے، اگلے صفحے میں آپ دیکھیے صفحہ 42 پر بھئی، آٹھویں سطر میں دیکھیے بھئی: وِأما الأداء القاصر فهو تسليم عين الواجب مع النقصان في صفته، بات ادا کی چل رہی ہے، ادا میں عینِ واجب کو سپرد کیا جاتا ہے یا مثلِ واجب کو؟ عينِ واجب، تو اداۓ قاصر میں بھی عینِ واجب ہی کو سپرد کیا جاتا ہے، البتہ مع النقصان في صفته ساتھ اس کی صفت میں کیا آ جاتا ہے؟ نقصان آ جاتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
تو عینِ واجب، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہاں، عینِ واجب کو سپرد کر رہا ہو لیکن اس کی صفت میں کوئی نقصان آ جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اداۓ قاصر۔ اور اگر صفت میں کوئی نقصان نہیں، جس طریقے سے شریعت نے واجب کیا ہے انہی صفات کے ساتھ ادا کرتا ہے یعنی کامل صفات کے ساتھ جس طرح دینا چاہیے تھا اسی طرح ادا کرتا ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اداۓ کامل۔ صفت میں نقصان آ جائے تو یہ کیا ہے؟ اداۓ قاصر۔ اور اگر نقصان نہ آئے، جیسا حوالے کرنا چاہیے تھا ویسا ہی حوالے کرتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اداۓ کامل۔ دیکھیے اب مثالیں دیں گے مصنف آپ کو۔
فالكامل مثل أداء الصلاة في وقتها بالجماعة، پس اداۓ کامل کی مثال جیسے نماز کا ادا کرنا اس کے وقت کے اندر جماعت کے ساتھ بھئی۔ شریعت نے بھی کیا حکم دیا ہے کہ نماز کو ادا کرو اور کس طرح ادا کرنا ہے؟ وقت کے اندر اور کس کے ساتھ؟ جماعت کے ساتھ، تو یہ اداۓ کامل ہے جس صفت پر واجب ہوئی تھی اسی صفت پر کیا کرنا؟ ادا کرنا، یہ کیا ہے؟ اداۓ کامل ہے۔
یا اسی طرح أو الطواف متوضئًا یا طواف کرنا اس حال میں کہ یہ باوضو ہو بھئی، کرنے والا۔ باوضو ہو۔ بھئی دیکھو، طواف واجب ہوا بھئی کس صفت کے ساتھ ہے؟ وضو کے ساتھ، تو یہ وضو کے ساتھ طواف کرتا ہے تو پھر کیا ہے یہ؟ اداۓ کامل ہے، جس صفت کے ساتھ واجب ہے اسی صفت کے ساتھ اس کو کیا کر رہا ہے؟ ادا کر رہا ہے۔
صورت سمجھ میں آئی؟ وجہ یہ مولانا، دیکھیے حاشیہ نمبر 12 میں انہوں نے کچھ تفصیل لکھی ہے یہ بھی آپ یاد کر لیں بھئی۔ کس لیے کہ حضور علیہ السلام کا قول ہے: الطواف بالبيت صلاةٌ بھئی، بیت اللہ کا طواف نماز ہے بھئی، بیت اللہ کا طواف بھی کیا ہے؟ نماز ہے۔ اور نماز تو بغیر طہارت کے نہیں ہوتی تو طواف کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ بغیر طہارت کے نہیں، لیکن یہ مسئلہ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قرآن میں مطلق آیا ہے: وليطوفوا بالبيت العتيق اور چاہیے کہ طواف کریں کس کا؟ بیتِ عتیق قدیم گھر کا بھئی، تو یہاں پر وليطوفوا آیا، مطلق طواف آیا، طوافِ زیارت مراد ہے یہاں، مطلق طوافِ زیارت کا ذکر آیا، وضو کے ساتھ ذکر ہوا؟ نہیں، جی؟ نہیں، جی۔ تو لہٰذا ہم نے مسئلہ پڑھا تھا کہ وضو کرنا واجب ہو گا اور جس نے وضو کے بغیر کیا طواف تو ہو جائے گا لیکن اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ دم دینا پڑے گا، قربانی کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو طواف جیسے واجب ہوا اسی صفتِ مشروع طریقہ کیا ہے طواف وضو کے ساتھ ہونا چاہیے یا بغیر وضو کے؟ وضو کے ساتھ، تو وضو کے ساتھ طواف کرتا ہے تو یہ مشروع طریقے پر ہی ادا کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اداۓ کامل کی آسان تعریف یہ ہے کہ مشروع طریقے کے مطابق ادا کرنا۔ مشروع طریقے کے مطابق ادا کرنا، یہ کیا ہے؟ اداۓ کامل۔
وتسليم المبيع سليمًا كما اقتضاه العقد إلى المشتري، اور سپرد کرنا مبیع کو اس حال میں کہ وہ سلامت ہو بھئی، کیا ہو؟ سلامت ہو، كما اقتضاه العقد جیسے کہ تقاضا کیا تھا اس کا عقد نے، عقد کیا تقاضا کرتا ہے مبیعہ کیسے سپرد کیا جائے؟ کہ وہ سلامت ہو، اس میں کوئی عیب وغیرہ نہ ہو۔ کس کے سپرد کرنا یہ مبیعہ کو؟ إلى المشتري مشتری کے سپرد کرنا، یہ کیا ہے؟ اداۓ کامل ہے۔ بھئی، آپ نے ایک شخص سے بیع کی بھئی اور اس کو کیا کہا؟ کوئی چیز فروخت کی۔ تو اب یہ عقد کیا تقاضا کرتا ہے کہ مبیعہ اس کے سپرد کیا جائے بغیر کسی عیب کے بھئی، بغیر کسی عیب کے۔ تو بغیر کسی عیب کے سپرد کرنا یہ اداۓ کامل ہے بھئی، جیسا واجب ہوا جیسا جس صفت کے ساتھ واجب ہوا اسی صفت کے ساتھ آپ اس کو حوالے بھی کر دیں، یہ کیا کہلائے گا؟ اداۓ کامل۔
وتسليم الغاصب، یہ مجرور پڑھیں سارے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مثل أداء الصلاة نہیں گزرا اوپر؟ یہ ادا پر عطف ہو رہے ہیں سب کے بھئی۔
وتسليم الغاصب العين المغصوبة كما غصبها، اور سپرد کرنا غاصب غصب کرنے والے کا کس چیز کو؟ العين المغصوبة وہ عین جس کو اس نے کیا کیا تھا؟ وہ چیز جس کو اس نے غصب کیا تھا، كما غصبها جیسا کہ اس کو غصب کیا تھا۔ 'ہا' ضمیر راجع ہے عین کو، جیسے وہ عین کو غصب کیا تھا اسی صفت پر اس کو واپس کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ اداۓ کامل۔
وحكم هذا النوع اور اس نوع کا حکم یہ ہے کہ أن يحكم بالخروج عن العهدة به کہ حکم لگایا جائے گا بالخروج عن العهدة خروج عن الذمہ، ذمہ داری سے نکلنے کا، عہدا کیا معنی؟ ذمہ داری۔ ذمہ داری سے نکلنے کا حکم لگایا جائے گا بہ بھئی، کس کے ساتھ؟ اداۓ کامل کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ جب اداۓ کامل کوئی کر دے گا تو ذمہ داری سے نکل جائے گا بندہ، اس کی ذمہ داری کیا ہو جائے گی؟ پوری ہو جائے گی، ذمہ داری سے وہ سبکدوش ہو جائے گا، عہدا براء ہو جائے گا بھئی۔
حکم سمجھ میں آیا بھئی؟ آسان سی بات ہے، جب اداۓ کامل کرے گا تو ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا۔
وعلى هذا قلنا، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں الغاصب إذا باع المغصوب بحکم، جب غصب کرنے والا جب بیچ دے، کس چیز کو بیچے؟ المغصوبة وہ چیز جس کو اس نے کیا کیا ہے؟ غصب کیا ہے۔ کس پر بیچے؟ یہ 'من' صلہ ہے 'باع' کا، 'باع' کا صلہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا 'من' آیا کرتا ہے، جس پر چیز کو بیچا جائے جس شخص پر اس پر کیا داخل کرتے ہیں؟ 'من'۔ تو یہ مشتری ہوا مالک بھئی، اگر بیچ دے غاصب مغصوب چیز کو مالک پر بھئی۔
صورت یہ ہے بھئی، ایک شخص نے غصب کی دوسرے کی چیز بھئی، اب غصب کرنے کے بعد وہ اسی چیز کو مالک پر بیچ دیتا ہے بھئی، مالک پر کیا کرتا ہے؟ بیچ دیتا ہے یا مالک کے پاس رہن رکھوا دیتا ہے کسی قرض کے بدلے میں بھئی، قرض وغیرہ لیتا ہے اور اس کے پاس کیا کرواتا ہے؟ یا اس کو ہبہ کر دیتا ہے وہی چیز جو اسی کی غصب کی ہے اس کو ہبہ کر دیتا ہے کہ یہ میں تمہیں ہبہ کرتا ہوں یا میں تمہارے پاس رہن رکھواتا ہوں یا میں تم پر تمہیں یہ چیز بیچتا ہوں اور پھر وہ چیز اس کے سپرد بھی کر دے، کہتے ہیں بس، جب چیز اس کے بعینہ وہی چیز سپرد کر دی تو یہ اداۓ کامل ہوئی، یہ کیا ہوئی اداۓ؟ بعینہ وہی چیز جو جس صفت پر اس کے ذمے واجب تھی اس نے بعینہ اسی صفت پر مالک کے سپرد کر دی۔ کہتے ہیں بھئی اس نے تو بیچنے کا ذکر کیا یا اس نے تو رہن رکھوائی ہے یا اس نے کیا کیا ہے؟ ہبہ کیا، کہتے ہیں یہ ساری تصریحات جو اس نے کی یہ لغو ہو جائیں گی، یہ کیا ہو جائیں گی؟ لغو ہو جائیں گی۔ عینِ واجب کو اسی صفت کے ساتھ کس کے سپرد کر دیا اس نے؟ مستحق کے، جو اس چیز کا مستحق تھا اسی کے سپرد کر دیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ جو اس نے تصریحات کی وہ لغو ہو جائیں گی بھئی، تو مالک نے اگر ثمن وغیرہ دیے تھے بیچ خرید و فروخت میں وہ ثمن کیا کرنے پڑیں گے اس کو واپس دینے پڑیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
أو راهنه عنده یا مالک کے پاس اس نے وہ چیز رہن رکھوا دی أو وهبه له یا اسے ہبہ کر دی وسلمه إليه اور اس کے سپرد کر دیا يخرج عن العهدة، وہ تو ذمہ داری سے نکل جائے گا ويكون ذلك أداءً لحقه، اور یہ سپرد کرنا یہ ادا کرنا ہے کس چیز کو؟ اس کے حق کو۔ ويلغو ما صرح به، اور لغو ہو جائے گا اس وہ چیز لغو ہو جائے گی صرح به جس کی اس نے کیا کی ہے؟ تصریح کی ہے۔ کس چیز کی بھئی؟ آگے بیان آ رہا ہے ما صرح کا: من البيع والهبة یعنی کہ بیع اور ہبہ۔
ولو غصب طعامًا، اسی طرح بھئی، ایک شخص نے دوسرے کی کوئی کھانے کی چیز غصب کر لی اور پھر وہی چیز مالک کو کھلا بھی دی۔ آؤ بھئی، آپ کی دعوت کریں بھئی مالک کو کہا، سمجھ میں آیا؟ مالک کھانا بیچارے نے لا کر رکھا تھا بھئی اور اس نے غصب کر لیا، بعد میں کہتا ہے آؤ بھئی آپ کی دعوت کریں وہی کھانا اس کو کھلا دیتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں یہ ادا اس کا حق کیا ہو گیا؟ ادا ہو گیا کیونکہ اس نے عینِ واجب کو کیا کر دیا اس کے مستحق کے سپرد کر دیا اسی صفت پر بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اگرچہ مالک کو پتہ نہ چلے کہ یہ میرا ہی کھانا مجھے کھلا رہا ہے۔ یا اس کا کوئی کپڑا وغیرہ غصب کیا اور پھر اسی کو کیا کر دیا وہ کپڑا پہنا دیا، مالک کو اگرچہ پتہ نہ ہو پھر بھی کیا ہو گا؟ اس کے حق کو اس نے کیا کر دیا ہے؟ کیونکہ اس
اس نے عینِ واجب کو اس کے سپرد کر دیا ہے۔ ہاں، یہ بات یاد رکھنا کہ اس میں تغیرِ فاحش نہ آئے بھئی۔ کیونکہ غصب کی ہوئی چیز میں اگر تغیرِ فاحش آ جائے جس کی وجہ سے اس کے بڑے منافع فوت ہو جائیں یا نیا نام آ جائے تو پھر اس صورت میں یہ غاصب ہی اس کا کیا بن جایا کرتا ہے؟ مالک بن جایا کرتا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اس پر پھر ضمان واجب ہوا کرتا ہے۔ تو کھانا غصب کیا پھر کھلایا بغیر تبدیلی زیادہ کیے، سمجھ میں آیا؟ اگر اس نے زیادہ تبدیلی کی، مثلاً گندم غصب کی تھی اس کو پیسا، پیس کر آٹا بنایا، آٹے سے پھر روٹی بنائی پھر اس کو کھلائی یہ تو اس نے کیا کر دیا؟ تغیرِ فاحش کر دیا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ پھر ادائے کامل نہ رہی بھئی۔
ولو غصب طعاماً اگر کسی نے غصب کر لیا طعام کو فاطعمه مالكه پھر پس وہ طعام کھلا دیا اس کے مالک ہی کو وہو لا يدري اس حال میں کہ وہ مالک نہیں جانتا انه طعامه کہ یہ اسی کا کھانا ہے او غصب ثوباً یا کسی نے کوئی کپڑا غصب کیا فالبسه مالكه پس اڑھا دیا وہ مالک ہی کو، پہنا دیا اس نے پہنا دیا اس نے وہ مالک کو ہی وہو لا يدري اس حال میں کہ مالک نہیں جانتا انه ثوبه کہ یہ اسی کا کپڑا ہے يكون ذلك اداءً لحقه تو یہ کیا ہے اس کے حق کو ادا کرنا ہے، جی۔
والمشتري في البيع الفاسدِ اسی طرح آپ نے بیعِ فاسد پڑھا ہے کے بارے میں پڑھا۔ بیعِ فاسد بھئی، بیعِ فاسد کسے کہتے ہیں؟ جی، جس میں کوئی ایسی شرط لگا، جس میں ذات کے اعتبار سے تو وہ مشروع ہو لیکن وصف کے اعتبار سے مشروع نہ ہو۔ مثلاً کوئی ایسی شرط لگا دی عقد کے اندر جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو یا اس میں مالک یہ بائع کا نفع ہو یا مشتری کا نفع ہو یا معقود علیہ کا نفع ہو بھئی۔
مالک کا نفع ہو مثلاً آپ نے ایک چیز دوسرے پر بیچی، سائیکل بیچی بھئی اپنے ساتھی پر اور اسے کیا کہا کہ یہ سائیکل میں تمہیں بیچتا ہوں، میں سائیکل میں نے تمہیں بیچ دی، اس نے کہا میں نے خرید لی۔ لیکن آپ نے کہا ایک شرط ہے یہ کہ میں ایک مہینے تک میں ٹیوشنیں پڑھاؤں گا اس پر، مہینے کے بعد سے تمہیں تمہارے حوالے کروں گا پھر تم پڑھانا بھئی۔ تو یہ کیا صورت ہے؟ یہ شرط ہے جس میں بائع کا نفع ہے تو لہٰذا یہ بیع کیا ہوئی؟ فاسد۔
یا مشتری کے ایسی شرط لگانا جس میں مشتری کا نفع ہو، مثلاً کیا کہا مشتری نے کہ یہ سائیکل میں تمہاری تم سے خرید لوں گا لیکن شرط کیا ہے کہ فلاں ٹیوشن تم مجھے دو گے، فلاں ٹیوشن کیا کرو گے؟ مجھے دو گے۔ یہ اس نے ایک زائد شرط لگائی جس میں مشتری کا نفع ہے تو یہ بیع کیا ہو گئی؟ فاسد۔
یا ایسی شرط لگائی جس میں معقود علیہ وہ چیز جس پر عقد ہوا ہے اس کا نفع ہو، مثلاً مثلاً غلام بیچا بھئی اور آپ نے غلام بیچا دوسرے شخص پر لیکن شرط لگا دی کہ میں اس شرط پہ تمہیں بیچتا ہوں غلام کہ اس غلام کو تم آزاد کرو گے یا اس کو مدبر بناؤ گے یا مکاتب بناؤ گے، تو یہ اب اس میں نہ بائع کا نفع ہے نہ مشتری کا نفع ہے، البتہ کس کا نفع ہے؟ معقود علیہ وہ چیز جس پر عقد ہوا ہے، یہ بھی کیا ہے شرطِ فاسد۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اب یہ بیعِ فاسد کا حکم کیا ہے آپ نے پڑھا ہے؟ کہ اس میں بیع کو فسخ کرنا دونوں پر واجب ہوتا ہے، دونوں پر کیا ہوتا ہے؟ بیع کا فسخ کرنا واجب ہوتا ہے کہ مبیع واپس کیا جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ثمن کو کیا کیا جائے؟ واپس کیا جائے۔
تو لہٰذا اب ایک شخص نے دوسرے سے بیعِ فاسد کر لی تو بیعِ فاسد کے حکم کیا ہے؟ مبیع کو واپس کیا جائے، کیا کیا جائے؟ بیع کو فسخ کیا جائے، مبیع کو واپس کیا جائے، اب یہ مبیع جس سے خریدا تھا اسی کو کہتا ہے یہ میں تمہیں عاریتاً دیتا ہوں۔
عاریتاً کسے کہتے ہیں بھئی؟ ویسے استعمال کے لیے کسی کو کوئی چیز دینا بھئی، آپ اپنے ساتھی کو سائیکل دیتے ہیں لو بھئی پانچ چھ دن آپ ٹیوشنیں پڑھاؤ اس پہ، یہ کیا ہے؟ عاریت ہے، تو کوئی بھی چیز استعمال کے لیے دوسرے کو دینا یہ عاریت کہلاتا ہے۔
تو اب اس نے وہ چیز جو خریدی تھی بیعِ فاسد کے ذریعے وہ اس کو عاریتاً دے دی کہ لو بھئی یہ کیا کرو اس سے؟ کچھ دن آپ نفع اٹھا لو۔
یا مولانا اس کو اس کے پاس رہن رکھوا دیا اسی مشتری جو وہ بائع ہی کے پاس، یا اس کے اجرت کرائے پر اس کو دے دیا کہ کرائے پر میں تمہیں یہ سائیکل دیتا ہوں، یا اس پر بیچ دیا بھئی، کیا کر دیا؟ بیچ دیا اور سپرد کر دیا اس کے، تو ان تمام صورتوں کے اندر کیا ہو جائے گا؟ وہ اپنے ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا، اس کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی کیونکہ اس نے وہ چیز کیا کر دی؟ مالک کے سپرد کر دی، اور یہ جو اس نے تصریح کی تھی کہ میں تمہیں عاریتاً دیتا ہوں یا تمہیں بیچتا ہوں یا تمہارے پاس رہن رکھواتا ہوں یا تمہیں ہبہ کرتا ہوں، یہ ساری تصریحات کیا ہو جائیں گی؟ لغو ہو جائیں گی۔
والمشتري في البيع الفاسدِ اور مشتری نے بیعِ فاسد کے اندر لو اعار المبيعَ اگر اس نے عاریتاً مبیع دے دیا من البائعِ کس کو بھئی؟ بائع کو او رهنه عنده یا اس کے پاس رہن رکھوا دیا او اجره منه یا اجرت پر کرائے پر اس کو دے دیا منه اس کو بھئی، اعار کا صلہ بھی من آتا ہے اجرہ کا صلہ بھی من، جیسے باعَ کا صلہ من، یا اس کو مولانا اور کرائے پر دے دیا اسی مالک کو او باعه منه یا بیچ دیا اس چیز کو من اس مالک پر، اس بائع پر جس نے بیچا تھا اس کو بیعِ فاسد کے ساتھ او وهبه له یا اس کو کیا کر دیا؟ ہبہ کر دیا وسلمه اور سپرد کر دیا ان تمام صورتوں میں، سپرد کرنا ضروری ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ سپرد کر دیا يكون ذلك اداءً لحقه تو یہ کیا ہے؟ اس کے حق کو ادا کرنا ہے ويلغو ما صرح به اور لغو ہو جائے گی وہ چیز جس کی مشتری نے تصریح کی ہے، کیا؟ یا من البيعِ بیان آیا، یعنی کہ بیع، ہبہ ونحوه، بیع، ہبہ وغیرہ جن کا اس نے کیا کیا تھا؟ کی تصریح کی تھی وہ سارے کیا ہو جائیں گے؟ لغو ہو جائیں گے۔
واما الاداء القاصرُ یہ تو تھا ادائے کامل، اب ادائے قاصر آیا۔ ادائے قاصر جو ہے فهو تسليم عين الواجبِ وہ سپرد کرنا ہے عینِ واجب کو مع النقصان في صفته ساتھ اس کی صفت میں نقصان کے۔
نحو الصلاةِ بدون تعديل الاركانِ جیسے کہ نماز ہے بغیر تعدیلِ ارکان کے، تعدیلِ ارکان جانتے ہو بھئی؟ بھئی اطمینان سے ارکانِ صلاۃ کو ادا کرنا کہ اعضاء اپنی جگہ پر کیا ہو جائیں؟ ساکن ہو جائیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ آپ رکوع کرتے ہیں اطمینان سے کہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر ساکن ہو جائیں، پھر اس کے بعد واپس رکوع سے اٹھتے ہیں، قومے کے اندر اطمینان سے کھڑے ہوتے ہیں کہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر ساکن ہو جائیں، پھر کس کے اندر جاتے ہیں؟ سجدے میں، سجدہ اطمینان سے ادا کرتے ہیں اور اسی طرح سجدوں کے مابین جلسہ بھی کیا کرتے ہیں؟ اطمینان سے کہ تمام اعضاء ساکن ہو جائیں، یہ تعدیلِ ارکان کہلاتا ہے، اور آپ نے پڑھا تعدیلِ ارکان نماز میں کیا ہے؟ واجب ہے، تو نماز مشروع ہے کس طریقے پر؟ کس طریقے پر ادا کی جائے؟ تعدیلِ ارکان کے ساتھ بھئی۔
تعدیلِ ارکان کے ساتھ، اب ایک شخص نماز بڑی تیزی سے پڑھتا ہے بھئی بغیر تعدیلِ ارکان کے، تو یہ کیا ہوئی؟ ادائے کامل ہوئی یا قاصر ہوئی بھئی؟ ادائے قاصر، کیونکہ سپرد تو عینِ نماز کو کر رہا ہے اس کے وقت کے اندر، لیکن اس کی صفت میں کیا آ گیا؟ نقصان آ گیا، کمی آ گئی۔
تو جیسے نماز ہے بغیر تعدیلِ ارکان کے او الطواف محدثاً یا طواف بھئی بے وضو ہونے کی حالت میں، طواف اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ بے وضو۔
احدث الرجل کا معنی ہے بے وضو ہونا آدمی کا، یعنی اس سے طہارت کا زائل ہو جانا۔
تو محدث اسمِ فاعل ہے، وہ شخص جو کیا ہو؟ بے وضو۔
اس حال وہ طواف کرنا اس حال میں کہ بے وضو ہو تو طواف مشروع کس طریقے پر ہے؟ کس صفت پر ہے؟ وضو کے ساتھ، تو یہ صفت میں کمی آ گئی ادائے قاصر ہے۔
ورُد المبيعِ مشغولاً بالدينِ او بالجنايةِ
تو ادائے قاصر کی بات چل رہی ہے مولانا، ورد المبیع مشغولاً بالدین او بالجنایۃ، اور مبیع کو واپس کرنا اس حال میں کہ وہ مشغول بالدین ہو یا مشغول بالجنایۃ ہو۔
اوپر والی صورت بنائیں بھئی دیکھیے، اوپر بیعِ فاسد کے اندر آپ نے کیا پڑھا تھا؟ کہ مشتری پر کیا واجب ہوتا ہے؟ کہ مبیع کو بائع کے کو واپس لوٹائے بھئی، یہ بیعِ فاسد کے اندر ضروری ہے کہ بیع کو فسخ کریں اور مبیع کو مالک کے سپرد کر دیا جائے۔
اب بیعِ فاسد کی تھی اور اس میں اب مبیع واپس لوٹاتا ہے مالک کو تو کس قسم کا مبیع واپس لوٹانا چاہیے؟ سلامت ہونا چاہیے ہر عیب سے یا نہیں ہونا چاہیے بھئی؟ ہر عیب سے سلامت ہونا چاہیے، سلیم مبیع کو سپرد کرنا چاہیے، لیکن بھئی وہ کس قسم کا مبیع لوٹاتا ہے؟ مثلاً بھئی میں نے آپ کو غلام بیچا کس کے ساتھ؟ بیعِ فاسد کے ساتھ غلام بیچا بھئی، اب آپ پر کیا واجب ہے؟ کہ وہ غلام مجھے واپس لوٹائیں، تو میں نے آپ کو سلیم غلام سپرد کیا تھا، اس پر دین نہیں تھا، اس نے کوئی کسی قسم کی جنایت نہیں کی تھی بھئی، تو اب آپ کو بھی مجھے کس قسم کا غلام واپس لوٹانا چاہیے بھئی؟ وہی غلام ہو اسی صفت کے ساتھ ہو، سلیم ہونا چاہیے، اس پر کوئی دین بھی نہیں ہونا چاہیے، اس پر کوئی جنایت بھی لیکن اس غلام نے آپ کے پاس آ کر کسی سے دین وغیرہ لیا، اس پر کیا آ گیا بھئی؟ دین آ گیا، دین آ گیا۔ یا بھئی اس نے کیا کیا؟ کسی کا ہاتھ وغیرہ کاٹ دیا بھئی جنایت کر لی، تو یہ غلام جب آپ مجھے واپس کر رہے ہیں تو یہ مشغول بالدین ہے یا مشغول بالجنایۃ ہے، تو اس آپ عینِ واجب کو سپرد کر رہے ہیں، وہی غلام دے رہے ہیں یا کوئی اور غلام دے رہے ہیں بھئی؟ وہی غلام دے رہے ہیں تو ہے تو عینِ واجب بھئی۔
اور حقدار کو دے رہے ہیں، مجھے یعنی میں مالک ہوں میرے ہی سپرد کر رہے ہیں، لیکن اسی صفت کے ساتھ جس صفت کے ساتھ لیا تھا یا اس کی صفت میں کچھ کمی آ گئی بھئی؟ اس کی صفت میں کیا ہوئی؟ کمی آ گئی، تو یہ ادائے قاصر ہے۔ یہ معنی ہے ورد المبیع اور مبیع کو واپس لوٹانا مشغولاً بالدین او بالجنایۃ اس حال میں کہ وہ مشغول ہو دین کے ساتھ یا جنایت کے ساتھ، ورد المغصوبِ اور اسی طرح مغصوب شے کو واپس کرنا۔
دیکھیے بھئی صورت یہ ہے بھئی، ایک آدمی ہے وہ آپ کا غلام غصب کر کے لے گیا بھئی، چھین کر لے گیا آپ سے زبردستی لے گیا، اب وہ ہوا غاصب بھئی، اب اسے کیا کیا واجب ہے اس پر؟ کہ اسے غلام کو جیسا غصب کیا تھا ویسا ہی آپ کو واپس لوٹا دے، اگر اس غلام کو اسی صفت کے ساتھ وہ واپس لوٹا دیتا ہے تو یہ کیا ہو گی؟ ادائے کامل، لیکن اگر وہ غلام لے گیا اس وقت تو غلام سلیم تھا لیکن اس کے پاس جا کر غلام پر کچھ قرضہ چڑھ گیا، تو غلام مشغول بالدین ہوا، اب وہ غلام واپس کرتا ہے تو یہ غلام سلیم نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مشغول بالدین ہے، تو اس نے مبیع وہ جو مغصوبہ شے تھی اس کو اسی صفت کے ساتھ واپس کیا یا اب اس کی صفت میں کچھ کمی آ گئی بھئی؟ اس کی صفت میں کمی آ گئی تو یہ مشغول بالدین ہوا، یا وہ غلام جب اس نے غصب کیا تھا اس وقت تک اس نے کوئی جنایت نہیں کی تھی لیکن غاصب کے پاس جا کر غلام نے کیا کی؟ کوئی جنایت کی مولانا، اور کوئی جرم کیا کسی کا ہاتھ کاٹ دیا وغیرہ تو یہ غلام مشغول بالجنایۃ ہوا، اور اب وہ غلام واپس کرتا ہے مالک کو تو یہ سلیم غلام واپس کر رہا ہے یا مشغول بالجنایۃ غلام واپس کر رہا ہے؟ مشغول بالجنایۃ، تو صفت میں کیا آ گئی؟ کمی، تو یہ ادا کون سی ہوئی؟ کامل ہوئی یا قاصر ہوئی؟ قاصر ہوئی، واپس تو عینِ واجب کو کر رہا ہے اسی غلام کو کر رہا ہے لیکن اس کی صفت میں کیا آ چکی ہے؟ کمی آ چکی ہے بھئی۔
یا غلام کیا تھا؟ اس غلام نے کسی کو قتل کر دیا بھئی تو غلام اب کیا بن گیا؟ مباح الدم بن گیا بھئی، اس کا خون کیا ہوا؟ مباح ہو چکا۔
اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا یا نہیں کیا جائے گا قتل بھئی؟ قصاص میں قتل کیے جانے کا امکان بھئی، تو پہلے تو غلام جب اس نے غصب کیا تھا اس وقت وہ مباح الدم نہیں تھا، اس کا خون قتل کا اور خون کرنا جائز نہیں تھا، لیکن اب وہ غلام جب لے گیا اور غلام نے غاصب کے پاس کوئی قتل کر دیا، اب وہی غلام وہ مالک کو واپس کرتا ہے تو اب وہ سلیم غلام واپس کر رہا ہے یا مباح الدم غلام واپس کر رہا ہے؟ تو یہ صفت میں کمی آ گئی، لہٰذا یہ کون سی ادا ہوئی؟ ادائے قاصر ہوئی بھئی، یہ معنی ہے ورد المغصوبِ اور مغصوب شے کو واپس لوٹانا مباح الدمِ اس حال میں کہ وہ کیا ہو بھئی؟ مباح الدم ہو۔
بالقتلِ بوجہِ قتل کے، اس قتل کی وجہ سے اس کا خون کیا ہو چکا؟ مباح ہو چکا، او مشغولاً بالدينِ او بالجنايةِ یا اس حال میں کہ وہ مغصوب شے کیا تھی؟ مشغول بالدین ہے واپس کرتے ہوئے او بالجنایۃ یا مشغول بالجنایۃ ہے بسبپٍ عند الغاصبِ ایسے سبب کی وجہ سے عند الغاصبِ جو کس کے پاس پایا گیا؟ غاصب کے پاس پایا گیا، تو یہ سارے کیا ہیں مولانا؟
جی؟
یہ ادائے قاصر ہے۔ واداء الزيوفِ مكان الجيادِ اور اسی طرح
ایک شخص نے دوسرے سے کیا کیا؟
مثلاً قرض لیا۔
مثلاً قرض لیا اور قرض میں اس نے کھڑے دراہم و دنانیر لیے، لیکن جب واپس کرتا ہے کس قسم کے کرتا ہے؟ کھوٹے کرتا ہے، یعنی ایسے ہیں بازار میں تو چل جاتے ہیں اتنے کھوٹے نہیں ہیں لیکن بازار میں لیکن ایسے ہیں جن میں کیا ہے؟ صفت میں کچھ کمی ہے، تو اس صورت میں یہ کیا ہے؟ ادائے قاصر ہے، کیونکہ دینے تو ایسے چاہیے تھے جو کیا ہوں؟ کھڑے ہوں۔
زیوف معنی کھوٹے۔
لیکن جن جو کیا ہیں؟ جس کو تاجر قبول کر لیتے ہوں، سمجھ میں آیا بھئی؟ بیت المال تو قبول نہ کرے لیکن تاجر آپس میں وہ اس قسم کے کیا کر لیتے ہوں؟ دراہم و دنانیر قبول کر لیتے ہوں، چلاتے ہوں بھئی۔
اسی طرح واداء الزيوفِ مكان الجيادِ اور کھوٹے ادا کرنا کس کی جگہ میں؟ جیاد، کھڑوں کی جگہ میں، اذ کب؟ اذا لم يعلم الدائن ذلك جبکہ قرض دینے والا نہیں جانتا اس کو۔
قرض دینے والا نہیں جانتا۔
یہ قیدِ واقعی ہے مولانا، واقع میں وہ جب آپ اس کو دے رہے ہیں تو وہ اسی وقت لے گا ان کھوٹوں کو جبکہ اس کو پتہ نہیں ہو گا، اگر اس کو پتہ ہو گا تو پھر تو وہ یقیناً وہ کھوٹے کھڑوں کے بدلے لے گا ہی نہیں۔
وحكم هذا النوعِ اور اس نوع کا حکم یہ ہے ان امكن جبر النقصان بالمثلِ ينجبر به یا ینجبر بہ، اس نوع کا حکم یہ ہے کہ اگر ممکن ہو جبر النقصانِ نقصان کی تلافی بالمثلِ کس کے ساتھ؟ مثل کے ساتھ، مثل کے ساتھ اگر نقصان کی تلافی ممکن ہو ینجبر بہ تو اس کی کیا کی جائے گی؟ تلافی مثل کے ساتھ کی جائے گی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ینجبر بہ بھئی مجہول پڑھو، ای یقع الجبرُ، ینجبر کس معنی میں ہوا بھئی؟ ای یقع الجبر بہ ای بالمثلِ، تو واقع ہو گی جبیرا کس کے ساتھ بھئی؟ تلافی کی واقع ہو گی کس کے ساتھ؟ مثل کے ساتھ۔
بھئی دیکھو ادائے قاصر میں عینِ واجب کو سپرد کیا لیکن اس کے وصف میں کیا آ گئی؟ کمی آ گئی، تو اب اگر یہ جو کمی آ گئی اس کمی کو اسی کے مثل کے ساتھ پورا مم کرنا ممکن ہو تو اس کی تلافی کی جائے گی مثل کے ساتھ، کیا کی جائے گی؟ مثل کے ساتھ۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب وہ مثل دو قسم پر ہے، یا مثل ہو گا عقلاً یا مثل ہو گا شرعاً بھئی، صورت
سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ مثل۔ مثلاً
مثلاً ایک شخص ہے،
نماز ادا کرتا ہے تعدیلِ ارکان کے بغیر، بھئی۔ جلدی جلدی نماز پڑھتا ہے، بھئی۔ اب یہ اداءِ قاصر ہوئی، اور اداءِ قاصر کا حکم کیا ہے؟ کہ مثل کے ساتھ تلافی کرنا ممکن ہو تو تلافی کی جائے گی۔ تو یہاں کیا مثل تعدیلِ ارکان میں کیا آ گئی؟ تعدیلِ ارکان کا وصف نہ تھا، اب اس کی تلافی مثل کے ساتھ اگر اس کا مثل ہے، تو مثل کے ساتھ کیا کی جائے گی؟ لیکن اس کا مثل ہی کوئی نہیں۔ شریعت نے اس کا کوئی مثل ہی نہیں رکھا، لہذا اس کی تلافی بھی اب نہیں ہو سکتی، بندہ گناہ گار ہو گا۔
اس کی تلافی کرنا ممکن نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ انہوں نے کہا نہ اگر مثل کے ساتھ تلافی ممکن ہو، یہ کب ہو گا؟ جب کہ اس کا مثل پایا جائے، اگر مثل پایا ہی نہ جائے پھر تو تلافی بھی ممکن نہیں۔ تو یہاں اس کا مثل ہی نہیں ہے، نہ عقلاً مثل ہے نہ شرعاً مثل ہے۔ عقلاً اس کا مثل کیا ہے؟ کہ تعدیلِ ارکان کا مثل کیا ہونا چاہیے؟ تعدیلِ ارکان ہی ہو، یہ اس کا مثل ہے۔ اور تعدیلِ ارکان کو اپ الگ سے ادا کر سکتے ہیں؟ وہ تو اسی سجدے کو اطمینان سے کر لو، الگ تو اس کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں، اسی سجدے کو اطمینان سے کیا تو تعدیلِ سجدہ آ گئی بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو عقلاً اس کا مثل الگ سے اپ دے سکتے ہیں؟ اس کی تلافی ہو سکتی ہے؟ الگ سے تلافی، اپ کہتے ہیں دوبارہ نماز پڑھ لے اور اس میں کیا کر لے تعدیلِ ارکان کر لے، بھئی یہ تو اس نماز میں تعدیلِ ارکان ہوئے، اس نماز کے تعدیلِ ارکان کی تلافی ہوئی؟ اس کی تو تلافی پھر بھی نہیں ہو سکتی، شریعت نے بھی کوئی اس کا مثل مقرر نہیں کیا کہ یہاں کیا کر لو، سجدہٴ سہو کر لو۔
صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہذا گناہ گار ہو گا بندہ، صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ ہاں، توبہ استغفار کرے، بھئی۔
لیکن بعض اوقات اس کا مثل ہوتا ہے، مثلاً شریعت نے مقرر کر دیا، مثلاً اپ سے کیا ہوا؟ نماز شروع کی، بھولے سے فاتحہ پڑھنا پہلی رکعت میں رہ گیا۔ شریعت اب نماز یہ ادا ہوئی ہے کامل یا قاصر، بھئی؟ قاصر ہوئی، صفت میں نقصان آ گیا اور اس نقصان کی تلافی کس کے ساتھ شریعت نے بنائی ہے؟ سجدہٴ سہو۔ معلوم ہوا سجدہٴ سہو کو اس کا مثل قرار دیا ہے شریعت نے، بھئی۔
اگرچہ صورتاً نہیں ہے یہ اس کا مثل لیکن شریعت نے کیا قرار دیا اس کا؟ اس کے مثل، اپ دیکھتے ہیں بھئی؟ بتلائیے، فاتحہ میں اور سجدہٴ سہو میں کوئی مماثلت ہے؟ نہیں، لیکن شریعت نے اس کو کیا قرار دیا ہے اس کا؟ مثل قرار دیا ہے، تو جس کی، حاصل یہ نکل آیا کہ اداءِ قاصر میں اس وصف کی تلافی اگر ممکن ہو مثل کے ساتھ، تو مثل سے اس کی تلافی کی جائے گی بھئی، ورنہ نہیں ہو سکے گی۔
تو کہتے ہیں حکم اس نوع کا یہ ہے کہ اگر ممکن ہو نقصان کی تلافی مثل کے ساتھ، يُنْجَبَرُ بِهِ، تو اس مثل کے ساتھ کیا کی جائے گی اس کی؟ تلافی کی جائے گی، وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، يَسْقُطُ حُكْمُ النُّقْصَانِ، تو نقصان، اس کمی کا حکم کیا ہو جائے گا؟ کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، إِلَّا فِي الْإِثْمِ، مگر کس کے اندر؟ گناہ میں، یعنی گناہ رہے گا۔
وَعَلَى هَذَا، اور اسی بنا پر إِذَا تَرَكَ تَعْدِيلَ الْأَرْكَانِ فِي بَابِ الصَّلَاةِ، جب ایک شخص نے چھوڑ دیا تعدیلِ ارکان کو نماز کے باب میں، لَا يُمْكِنُ تَدَارُكُهُ بِالْمِثْلِ، تو اس کی تدارک کرنا، اس کی تلافی کرنا بالمثل، مثل کے ساتھ ممکن نہیں، إِذْ لَا مِثْلَ لَهُ عِنْدَ الْعَبْدِ، اس لیے کہ بندے کے پاس اس کا کوئی مثل ہی، نہ عقلاً مثل ہے اور نہ شرعاً مثل ہے۔
فَسَقَطَ، تو یہ کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، وَلَوْ تَرَكَ الصَّلَاةَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، تشریق، بھئی، یاد رکھو ایامِ تشریق جو ہیں، 11، 12 اور 13 ذوالحج کو کہتے ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ ایامِ تشریق کہتے ہیں۔ شَرَّقَ يُشَرِّقُ تَشْرِیق کے معنی ہیں گوشت کو چیرنا، کاٹنا اور اس کو سکھانا بھئی دھوپ میں، اس کو دھوپ میں سکھانا۔ تو ان ایام کو ایامِ تشریق اس لیے کہتے ہیں کہ عرب ان ایام کے اندر گوشت کو چیرتے، کاٹتے تھے اور اس کو دھوپ میں کیا کیا کرتے تھے؟ خشک کرتے تھے۔ بھئی یہ تو آج کل بجلی آ گئی، فریج آ گئے، فریج میں گوشت محفوظ کر لیا جاتا ہے، پرانا طریقہ یہ تھا کہ اس کے ٹکڑے کر کے اس کو دھوپ میں کیا کرتے تھے؟ سکھاتے تھے، لٹکا دیتے تھے اور خشک کر لیا کرتے تھے، خاص طریقہ ہوا کرتا تھا اور پھر بڑے عرصے تک اس کو کیا کرتے تھے؟ استعمال کرتے تھے، پھر وہ خراب نہیں ہوتا تھا، جی، تو ایامِ تشریق ان کو کہتے ہیں، بھئی۔
تو ایامِ تشریق کے اندر، ایامِ تشریق میں شریعت نے کیا حکم دیا ہے؟ کہ نماز کے بعد تکبیرات کو بلند آواز سے پڑھا جائے، تو یہ واجب ہے بھئی پڑھنا۔ اب ایک شخص ہے، اس کی ایامِ تشریق میں کوئی نماز رہ گئی، اب انہی ایام کے اندر اگر وہ اس کی قضا کرتا ہے تو ابھی بھی وقت باقی ہے تشریق کے ایام ہیں، تو لہذا اب بھی کیا کرے گا؟ جی؟ اب تکبیرات بلند آواز سے پڑھے گا اس قضا نماز کے بعد بھی، لیکن اگر ایامِ تشریق کے بعد وہ ان کو ادا کرتا ہے تو اب وقت گزر چکا ہے، لہذا اب ان کے ساتھ تکبیرات کو نہیں پڑھے گا۔ تو دیکھو، نماز جو جس صفت پر تھی، اس صفت پر اس نے ادا نہیں کی کہ اس کے بعد کیا تھیں بھئی، تکبیراتِ تشریق بھی تھیں بھئی، تو اب بعد میں وہ ادا کر رہا ہے تو بعد میں تو وقت ہی نہیں ہے، شریعت نے تو صرف انہی ایام میں کیا ہے بلند آواز سے تکبیر پڑھنے کا حکم دیا، تو اب اس کی تلافی، تو یہ اداءِ قاصر ہوئی، اور اس کی تلافی کیا ہے؟ جی؟
اس کی تلافی مثل کے ساتھ ممکن ہی، کیونکہ اس کا مثل ہی کوئی نہیں رکھا شریعت نے، نہ مثل، نہ مثلِ عقلی ہے اور نہ مثل ہے شرعاً، بھئی۔
وَلَوْ تَرَكَ الصَّلَاةَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، اگر چھوڑ دیا نماز کو ایامِ تشریق کے اندر، فَقَضَاهَا فِي غَيْرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، پس قضا کی اس نماز کی کس میں؟ ایامِ تشریق کے علاوہ میں، لَا يُكَبِّرُ، تکبیر نہیں کہے گا، لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ التَّكْبِيرُ بِالْجَهْرِ شَرْعًا، اس لیے کہ اس کے لیے جائز نہیں ہے تکبیر جہراً کہنا شرعی طور پر، بھئی، شریعت کے اعتبار سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں مثل نہیں، تو لہذا یہ بھی اسی کی مثل۔
وَقُلْنَا، اور ہم کہتے ہیں فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ وَالْقُنُوتِ وَالتَّشَهُّدِ وَتَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ أَنَّهُ يَنْجَبِرُ بِالسَّهْوِ، اور ہم اسی کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں بھئی؟ جی؟ کہ کیا کرے گا؟ اگر کسی نے چھوڑ دیا بھئی، وَقُلْنَا، اور ہم کہتے ہیں فی ترکِ قراءةِ، ہم نے کہا فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ، قراءتِ فاتحہ کو ترک کرنے کی صورت میں، وَالْقُنُوتِ، اور قنوت کو ترک کرنے کی صورت میں، وَالتَّشَهُّدِ، اور تشہد کے چھوڑنے کی، ترک کرنے کی صورت میں، وَتَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ، اور دونوں عیدوں کی تکبیرات کے چھوڑنے میں کیا؟ أَنَّهُ يَنْجَبِرُ، إِنَّهُ يَنْجَبِرُ بِالسَّهْوِ، إِنَّهُ، قُلْنَا کا مقولہ ہے یہ بھئی، اِنَّ پڑھیں اس کو، إِنَّهُ يَنْجَبِرُ بِالسَّهْوِ، کہ وہ کیا کرے گا اس نقصان کی تلافی کرے گا کس کے ساتھ؟ سجدہٴ سہو کے ساتھ، بھئی، کیونکہ شریعت نے سجدہٴ سہو کو اس کا کیا قرار دیا ہے ان چیزوں کا؟ فاتحہ کا، دعا قنوت کا، تشہد کا اور تکبیراتِ عیدین۔
اسی طرح وَلَوْ طَافَ طَوَافَ الْفَرْضِ مُحْدِثًا، اگر طواف کیا فرض طواف اس حال میں کہ وہ کیا تھا؟ بے وضو تھا، يَنْجَبِرُ ذَلِكَ بِالدَّمِ، تو اس کی تلافی کرے گا اس نقصان کی بالدم، کس کے ساتھ؟ دم کے ساتھ، یعنی قربانی کرے گا ایک جانور کی، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فرض طواف اگر جو حج میں فرض طواف ہے، طوافِ زیارت، اس نے کیا کر لیا؟ بے وضو کر لیا، تو اس صورت میں کیا کرنا پڑے گی؟ ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی، وَهُوَ مِثْلٌ لَهُ شَرْعًا، اور یہ جو ہے، یہ دم جو ہے، یہ اس کے لیے کیا ہے؟ مثل ہے شرعاً، بھئی، شریعت نے اس کو مثل قرار دیا ہے۔ چلیے مولانا، ھَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔