مولانا! وہ قرائن ہم پڑھ رہے ہیں جن کی وجہ سے کبھی کبھار لفظ کے حقیقی معنیٰ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ تر ک کر دیا جاتا ہے اور وہ پانچ ہیں مولانا! پہلا کیا تھا؟ دلالتِ عرف؛ کہ کبھی عرف میں ایک لفظ ایک معنیٰ میں مشہور ہو جاتا ہے تو وہی معنیٰ مراد لیا جائے گا جب اہل عرف میں سے کوئی اس پر تکلم کرے بھئی۔ حقیقی معنیٰ کو ترک کیا جائے گا۔
اور دوسرا کبھی کبھار کہ ترک کیا جاتا ہے حقیقت کو بدلالۃٍ فی نفس الکلام کہ نفسِ کلام ہی میں دلالت ہوتی ہے اس بات پر کہ یہاں حقیقی معنیٰ حقیقی معنیٰ مراد نہیں لیا جائے گا بھئی۔
بھئی، اس میں پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا تا کہ بھئی، پہلے تین قسمیں غلاموں کی جان لیں؛ ایک مکاتب ہے، ایک مدبر ہے، ایک ام ولد ہیں۔ مکاتب وہ ہے جس کو آقا نے کہا: بدلِ کتابت لے آؤ تو تو آزاد ہو... اور دو ایک مدبر ہے جس کو آقا نے کہا: میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، اور ایک ام ولد ہے وہ باندی جس سے آقا کا بچہ پیدا ہو اور آقا بھی اقرار کر لے کہ یہ کیا ہے؟ میرا بچہ ہے، تو وہ ام ولد بن گئی اور اب آقا کے مرنے کے بعد وہ یقیناً کیا ہو جائے گی؟ آزاد ہو جائے گی۔
پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا مولانا! کہ مکاتب کے اندر رقیت کامل ہے، جب کہ ملکیت کامل نہیں، اس لیے رقیت کامل اس لیے ہے کہ یہاں پر ہو سکتا ہے ایسا کہ وہ غلام ہی رہے ہمیشہ بھئی، عاجز آ جائے کہ میں تو بدلِ کتابت نہیں لا سکتا، تو کتابت وہ عقد وہ ختم ہوا، یا مولانا! آقا اس کو کیا کر دے؟ اس کو اس عقد کو کیا کر دیں آپس میں فسخ کر دیں بھئی، فسخ کر دیں۔
تو رقیت کامل ہے، رقیت کامل ہے۔ لیکن ملکیت، ملک کامل نہیں ہے، اس تو یہ آزاد آدمی کی طرح ہے، آقا اس میں کوئی تصرف وغیرہ نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اگر مکاتبہ باندی ہے تو اس کے ساتھ وطی بھی نہیں کر سکتا بھئی۔
جب کہ اس کے مقابلے میں مدبر اور ام ولد ہیں، ان کے اندر رقیت ناقص ہے اور ملک کامل ہے، رقیت ناقص اس لیے ہے کہ اب انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر حال میں آزاد ہونا ہے، کوئی صورت نہیں کہ جس میں ان کی آزادی کو فسخ کیا جا سکے بھئی۔
اور البتہ ملکیت کامل ہے، آقا ان میں تصرف کر سکتا ہے، ان سے خدمت وغیرہ لے سکتا ہے، اور اگر ان میں یہ مدبر باندی ہو تو اس سے وطی بھی کر سکتا ہے جیسے ام ولد سے کر سکتا ہے۔
اب ایک شخص نے کہا بھئی، اور پھر ایک ضابطہ بھی میں نے آپ کو لکھوایا تھا، ضابطہ کیا تھا؟ المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، کہ مطلق جب بولا جائے اور اس کے افراد کے اندر کمی بیشی ہو معنیٰ کے اعتبار سے، تو پھر کون سا فرد مراد لیا جائے گا؟ فرد کامل مراد لیا جائے گا، فرد کامل۔
تو ایک آدمی نے کہا: كل مملوك لي فهو حر، میرا جو بھی مملوک ہے وہ آزاد ہے مولانا! اب یہاں مملوک مولانا! ایک وہ ہے جس میں ملکیت کامل ہے، ایک وہ ملکیت ایک وہ جس کے اندر ملکیت کامل نہیں، ملکیت کس کے اندر کامل ہے؟ مدبر اور ام ولد کے اندر، اور کس کے اندر کامل نہیں ہے؟ مکاتب کے اندر کامل نہیں ہے، لہٰذا اس کے جو مدبر ہوں گے اور ام ولد جو ہوگی اور یا کوئی عام غلام ہے، وہ تو آزاد ہو جائیں گے اس کلام کے کہتے ہی، لیکن جو غلام کیا ہے؟ مکاتب ہے، وہ آزاد نہیں، اس لیے کیونکہ اس نے لفظ مملوک بولا ہے، اور مملوک کا لفظ مطلق ہے، اور المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، تو اس سے فرد کامل مراد ہوتا ہے، اور کامل غلام کون کون سے ہیں؟ یا عام غلام ہے، یا مدبر ہے، یا جی؟ ہاں، اب جو کامل مملوک ہیں، اور کامل مملوک کون کون سے ہیں؟ مدبر ہے، ام ولد ہیں، اور عام غلام ہیں بھئی، تو لہٰذا مکاتب آزاد نہیں ہوں گے بھئی۔
اور اگر اسی طرح مولانا! قرآن میں جو ہے کفارہِ ظہار اور کفارہِ یمین کا ذکر آتا ہے: فتحرير رقبة، یہاں تحریر مطلق آیا، اور المطلق إذا يطلق يراد به المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل الفرد الكامل، اور فرد کامل کیا ہے تحریر کا؟ کہ تحریر کامل ہو، ہر اعتبار سے تحریر ہو، اور ہر اعتبار سے تحریر، آزادی وہی پائی جائے گی جہاں پر ہر کیا ہو؟ ہر اعتبار سے رقیت ہو، یعنی رقیت کامل ہو۔ تو تحریر کامل مراد ہوئی، اور تحریر کامل وہاں ہوگی جہاں رقیت کامل ہو، اور رقیت کامل کس کے اندر ہے؟ مکاتب کے اندر ہے، لہٰذا مکاتب کو آزاد کرتا ہے پھر تو صحیح، عام غلام آزاد کرتا ہے پھر تو صحیح، لیکن اگر مدبر اور ام ولد کو کرنا چاہے آزاد کفارہِ ظہار اور یمین میں تو یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہاں پر تحریر کامل نہ پائی گئی، کیونکہ رقیت کامل نہیں ہے بھئی۔ یہ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ جی۔
جی۔
اس پر ایک اشکال ہوتا ہے مولانا! اشکال یہ ہوتا ہے کہ پہلے تو آپ نے ہمیں اور ضابطہ لکھوایا تھا، بتلایا تھا، اور اب اور ضابطہ بتلا رہے ہیں۔ پہلے تو ضابطہ تھا: المطلق يجري على إطلاقه، مطلق کیا ہوگا؟ وصفِ اطلاق پر جاری ہوگا، یعنی کوئی بھی فرد مراد دیا جا سکتا ہے مطلق پر کا، سمجھ میں آیا؟ اور اب کیا کہہ رہے ہیں؟ المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، يراد به الفرد الكامل، کہ اب اس سے کون سا مراد لیا جائے گا؟ فرد کامل، یہ تو دونوں ایک دوسرے کے منافات آ گئے، مقابل ہو گئے بھئی۔
اطلاق، مطلق ایک قانون کیا ہے؟ المطلق يجري على إطلاقه، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے، کوئی بھی مملوک ہو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ آزاد ہونا چاہیے۔
کوئی بھی غلام تحریرِ رقبہ، کوئی بھی غلام آزاد کرے اسے کیا ہونا چاہیے؟
تو يجري اس قانون کا تو یہ تقاضا ہے، اور آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ دوسرا ضابطہ: المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، تو یہ تو سمجھ میں آیا بھئی؟
تو جواب یہ مولانا! یاد رکھنا ہمیشہ۔
یہ ضابطہ جو ہے نہ: المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، یہ اس وقت لگایا جاتا ہے جب مطلق کے افراد آپس میں مساوی نہ ہوں۔
آپس میں مساوی نہ ہوں بھئی۔ اگر افراد آپس میں مساوی ہیں، پھر تو وہی ضابطہ جاری ہوگا: المطلق يجري على إطلاقه، کوئی بھی فرد لے لیں وہاں پر صحیح، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوگا۔ یہ کب ہے؟ جب کہ افراد آپس میں کیا ہوں؟ مساوی ہوں، لیکن اگر افراد آپس میں مساوی نہیں ہیں، وہ معنیٰ ان میں کمی بیشی کے ساتھ پایا جا رہا ہے، پھر تو معلوم ہوا اس صورت میں المطلق يجري على إطلاقه والا قائدہ نہیں لگے گا بلکہ کیا لگے گا؟ المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، جیسے دیکھیے ابھی اس نے کیا کہا؟
كل مملوك لي فهو حر، میرا ہر مملوک کیا ہے؟ اور مملوکیت کے اندر مولانا! تمام افراد برابر ہیں؟ جی؟ نہیں، غلام کئی قسم کے ہیں؛ عام غلام ہے، مدبر ہے، ام ولد ہے، مکاتب ہے، تو ان ساروں میں مملوکیت کیا برابر ہے؟ معلوم ہوا تمام افراد مملوکیت میں مساوی نہیں، جب مساوی نہیں تو کون سا قانون لگے گا؟ المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، کمی بیشی ہے تو کامل مراد لینا پڑے گا، اور کامل جس میں مملوکیت ہے وہ آزاد ہو جائیں گے۔
اور جب تمام افراد برابر ہوں، پھر کون سا ضابطہ لگتا ہے؟ المطلق يجري على إطلاقه، معلوم ہوا اب وہ مملوک جو ہے، یا عام غلام ہے مثلاً، تو چاہے کافر ہے، چاہے مومن ہے، چاہے مرد ہے، چاہے عورت ہے، سارے برابر مملوکیت میں۔ کافر ہو تو وہ اس میں بھی مملوکیت عام غلام کامل، مسلمان ہے تو اس میں بھی مملوکیت عام غلام برابر ہے مملوکیت، باندی ہے اس کے اندر بھی مملوکیت برابر، غلام ہے مرد ہے اس کے اندر بھی مملوکیت، تو ان ساروں میں برابر۔ تو اب ان کے سلسلے میں المطلق يجري على إطلاقه، یہ سارے آزاد ہو جائیں گے۔ چاہے کافر ہو، چاہے مومن ہو، چاہے مرد ہو، چاہے عورت ہو، اطلاق اسی طرح پر اطلاق پر رہے گا۔
اسی طرح کون سے آزاد ہونے تھے؟ مدبر، جی؟ اور ام ولد؟ جی، تو مدبر وہ چاہے کیا ہو؟ مومن ہو، چاہے کافر ہو۔
کیا چاہے کیا ہو؟
مرد ہو، چاہے عورت ہو۔ عورت ہو، ان ساروں کے اندر مملوکیت کیا ہے؟
کامل ہے، برابر ہے، سب کے اندر مملوکیت برابر ہے، اور جب برابر ہو تو کون سا قائدہ لگا کرتا ہے؟ المطلق يجري على إطلاقه، تو یہ سارے مولانا! آزاد ہو جائیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔
اور جی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو وہ ضابطہ اس وقت لگتا ہے جب تمام افراد مساوی ہوں، اب تمام افراد مساوی لے آئیں، مطلق کو اپنے اطلاق پر جاری کر دیں۔ اور اگر مولانا! کمی بیشی ہے ان افراد کے اندر معنیٰ کے اندر، پھر کیا کیا جائے گا؟
پھر پھر دوسرا قانون لگے گا: المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل۔
والثالث قد تترك الحقيقة بدلالة سياق الكلام، اور کبھی کبھار حقیقت کو ترک کیا جاتا ہے سیاقِ کلام کی دلالت کے ساتھ، سیاقِ کلام کہتے ہیں کلام کا چلناو چلاؤ، کلام کا چلاؤ۔
یعنی کلام کے اندر آگے پیچھے کسی جگہ پر اس میں سے پتہ چل رہا میں دلالت ہوتی ہے کہ یہاں حقیقی معنیٰ مراد نہیں ہے۔
قال في السير الكبير، سیرِ کبیر میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إذا قال المسلم للحربي، جب مسلمان نے حربی سے کہا: انزل كان آمنا، تو وہ مامون ہوگا۔ بھئی، مسلمانوں نے کفار کے قلعے کا محاصرہ کر لیا، حربی ہیں مولانا! جنگ ہے ان کے ساتھ، بھئی سمجھ میں آیا؟ کافروں کے وطن پر حملہ کیا اور قلعے کا محاصرہ کر لیا، اب اس قلعے کے اوپر کفار ہیں، نیچے مسلمانوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے، ایک کافر کو مسلمان کیا کہتا ہے؟ انزل، نیچے اتر آ، کہتے ہیں: وہ نیچے اتر آیا تو اس کو امان حاصل ہوگی، کیا حاصل ہوگی؟ امان حاصل ہوگی بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ کلام اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کو امان دے دی جائے کہ آ جاؤ بھئی، آ جاؤ، معلوم ہوا اب اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، اس کو امان ہوگی۔
لیکن اگر مسلمان نے یہ کہا: انزل إن كنت رجلا، اگر تو مرد ہے تو نیچے اتر، ابھی وہی انزل کہہ رہا ہے، اور انزل کی وجہ سے کیا حاصل ہوتا تھا؟ امان، لیکن اب مولانا! آگے إن كنت رجلا کلام کا چلاؤ بتلا رہا ہے کہ یہاں وہ امان نہیں دے رہا بلکہ اس کو کیا کر رہا ہے؟ دھمکی دے رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ دھمکی دے رہا ہے۔
تو مسلمان نے حربی سے کہا: انزل، نیچے اتر آ، كان آمنا، وہ مامون ہوگا، امن والا ہوگا، ولو قال: انزل إن كنت رجلا، تو نیچے اتر اگر تو مرد ہے، تو دیکھو انزل کیا کر رہا تھا؟ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ مامون ہو، اس کو امن دیا جائے، لیکن إن كنت رجلا آگے سیاقِ کلام کیا بتلا رہا ہے بھئی؟ حقیقی معنیٰ یہاں مراد امن نہیں مراد بھئی۔
فنزل، وہ اتر آیا، لا يكون آمنا، تو وہ مامون نہیں ہوگا۔ ولو قال الحربي: الأمان الأمان، حربی نے کہا: الأمان الأمان، کیا طلب کر رہا ہے مولانا! حربی؟
امن طلب کر رہا ہے، کہہ رہا ہے: أي أعطوني الأمان أعطوني الأمان، مجھے امن دے دو، امن دے دو، فقال المسلم: مسلمان نے کہا: الأمان الأمان، میں نے أعطيتك الأمان، میں نے تجھے کیا دے دیا؟ تقدیرِ کلام میں نے بتلا دی: الأمان الأمان کہہ دیا، كان آمنا، تو وہ کیا ہوگا؟
مامون ہوگا، امن والا ہوگا، ولو قال: الأمان ستعلم ما تلقى غدا ولا تعجل حتى ترى، الأمان، عن قریب تو جان لے گا جو تو جو تیرے ساتھ کیا جائے گا کل، کل جو تیرے ساتھ ہوگا وہ تو جان لے گا، تو جلدی نہ کر یہاں تک کہ تو دیکھ لے بھئی، تو اس صورت میں اس کو امان حاصل، اگرچہ وہی لفظ اس نے شروع میں کہا: الأمان، اور اسی سے پہلے کیا آ رہا تھا؟ اس کو کیا حاصل ہو رہا تھا؟ امن حاصل ہو رہا تھا، لیکن اب چوں کلام کا چلاؤ بتلا رہا ہے، وہ کہہ رہا ہے: ستعلم ما تلقى غدا، تو عن قریب جان لے گا ما اس چیز کو تلقى جس سے تو ملاقات کرے گا غدا، کل۔
یعنی جو کچھ تیرے ساتھ پیش آئے گا اس کو تو دیکھ لے گا، معلوم ہوا وہ دھمکی دے رہا ہے، معلوم ہوا دھمکی دے رہا ہے، ولا تعجل، اور جلدی نہ کر حتى ترى، یہاں تک کہ تو دیکھ لے، تیرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ تو میری بہادری دیکھ لے وغیرہ، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہ معلوم ہوا بھئی، اب امان نہیں ہے بھئی، چلاؤ کلام کا سیاقِ کلام کیا بتلا رہا ہے بھئی؟
حقیقی معنیٰ مراد نہیں ہے بھئی۔
فنزل، پس وہ اتر آیا، لا يكون آمنا، تو وہ مامون نہیں ہوگا۔ ولو قال: اشتر لي جارية لتخدم ني، بھئی، آپ نے ایک آدمی کو کہا بھئی: میرے لیے ایک باندی خرید کر لاؤ، اشتر لي جارية، میرے لیے جا تو ایک باندی خرید لتخدم ني، تاکہ وہ میری کیا کرے؟ خدمت کرے، وہ گیا مولانا! آپ کے لیے ایک اندھی باندی خرید کر لے آیا بھئی۔
یا مولانا! اپاہج باندی خرید کر لے آیا، کہتے ہیں: یہ موکل کی طرف سے نہیں ہوگی، موکل پر یہ لازم نہیں ہوگی، بلکہ یہ کس کی طرف سے شمار ہوگی؟ وکیل کی طرف سے شمار ہوگی، کیوں؟
آپ نے تو مطلق کہا تھا: اشتر لي جارية، میرے لیے ایک... تو اندھی بھی باندی ہے یا نہیں؟ اپاہج بھی باندی ہے، لیکن یہ معلوم ہوا حقیقی معنیٰ مراد نہیں، کوئی بھی باندی مراد نہیں بلکہ مقصد کیا ہے باندی کے خریدنے کا؟ خدمت ہے، اور خدمت صحیح باندی ہو اس سے تو لی جا سکتی ہے، اپاہج یا اندھی سے خدمت نہیں، بلکہ ان کی تو خدمت کرنا پڑے گی الٹا بھی۔
تو سیاقِ کلام نے بتلا دیا بھئی۔
ولو قال: اشتر لي جارية، خرید لے تو میرے لیے باندی، لتخدم ني، تاکہ وہ میری خدمت کرے، فاشترى، تو وکیل نے خرید لیا العمياء، اندھی کو، أو الشلاء، یا اپاہج کو، لا يجوز، تو یہ جائز نہیں، موکل کی طرف سے نہیں ہوگی۔ ولو قال، اگر آپ نے بھئی، آپ نے کہا ایک آدمی کو بھئی: میرے لیے ایک باندی خرید کر لاؤ تاکہ میں اس سے وطی کر سکوں بھئی، وہ آپ کی رضاعی بہن باندی تھی، اس کو خرید کر لے آیا، تو اس صورت میں یہ اب آپ کی طرف سے نہیں شمار ہوگی بلکہ کس کی طرف سے ہے؟ یہ وکیل ہی پر رہے گی، وکیل کے لیے شمار ہوگی، اس لیے کہ آگے کلام کا چلاؤ بتلا رہا ہے، سیاقِ کلام بتلا رہا ہے کہ یہاں اگرچہ وہ بھی باندی ہے، لیکن یہاں مقصد کیا ہے خریدنے کا؟ وطی، اور جو رضاعی بہن ہے وہ تو کیا ہے؟ حرام ہے آدمی پر۔
ولو قال: اشتر لي جارية حتى أطأها، خرید لے میرے لیے تو ایک باندی تاکہ میں اس سے وطی کروں، فاشترى أخته من الرضاع، اس نے اس کے لیے رضاعی بہن خرید لی، یعنی ایک ہی عورت کا دودھ پیا تھا دونوں نے بچپن میں، لا يكون عن الموكل، تو یہ شراء مولانا! موکل کی طرف سے نہیں ہوگی، یہ باندی اس پر لازم نہیں ہوگی۔
وعلى هذا قلنا، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ کیا بھئی؟ ہم نے کیا کہا؟ سیاقِ کلام کی وجہ سے کبھی حقیقت کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ ترک کر دیا جاتا ہے۔
حدیث آتی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
وعلى هذا قلنا في قوله عليه السلام، کہ حضور ہم کہتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول میں، حدیث ہے بھئی: إذا وقع الذباب في طعام أحدكم، جب واقع ہو جائے مکھی تم میں سے کسی ایک کے کھانے کے اندر، فامقلوه، تو اس کو ڈبو دو،
کھانے میں واقع ہو تو کیا کرو اس کو؟ ڈبو دو، ڈبو دو، ثم انقلوه، پھر اس کو کیا کر دو؟
نقل منتقل کر دو، یعنی نکال دو۔ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً اس لیے کہ اس کے پروں میں سے، دونوں پروں میں سے ایک میں مرض ہے۔ وَفِي الأُخْرَى شِفَاءً اور دوسرے کے اندر کیا ہے؟ دوا ہے۔ ایک میں مرض ہے، ایک میں دوا ہے اس کے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
وَإِنَّهُ لَيُقَدِّمُ الدَّاءَ عَلَى الدَّوَاءِ اور یہ جو مکھی ہے یہ آگے مقدم کرتی ہے کس کو؟ بیماری کو کس پر؟ دوا پر۔ یعنی اس پر کو مقدم کرتی ہے جس میں بیماری ہے۔ اس پر پر جس میں کیا ہے؟ جس میں دوا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو اب دیکھو، حدیث کے اندر کیا آیا؟ کہ جب مکھی کھانے میں آئے اس کو کیا کرو؟ اچھی طرح ڈبو دو۔ ایک پر میں کیا ہے اس کے؟ بیماری ہے، اور وہ کیا کرتی ہے؟ اس پر کو ڈبوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو تم اچھی طرح ڈبو دو تاکہ دوسرا پر بھی ڈوب جائے جس کے اندر اس کی دوا ہے، دوا ہے بھئی۔ اچھا جی۔
اب یہاں حدیث کے اندر کیا آیا؟ فَانْقُلُوہُ امر آیا۔ پھر کیا آیا؟ ثُمَّ انْقُلُوہُ یہ بھی کیا آیا؟ امر آیا، اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے مولانا۔ آپ آگے پڑھیں گے بھئی، کسی چیز کو واجب کر دیتا ہے مولانا دوسرے پر، لازم کر دیتا ہے۔ لیکن سیاقِ کلام بتلا رہا ہے کہ یہاں امر وجوب کے لیے نہیں۔ کیونکہ یہ جو امر آ رہا ہے، یہ امرِ تعبدی نہیں ہے۔ بطورِ عبادت کے اس کا حکم نہیں دیا جا رہا، کیونکہ اس میں کوئی تعظیم، معبود کی تعظیم نہیں ہے۔ تعظیم نہیں ہے۔ بلکہ یہ بطورِ شفقت کے دیا جا رہا ہے۔ حضور خود آگے سیاقِ کلام بتلا رہے ہیں یہ شفقت کے لیے امر دیا جا رہا ہے، کیونکہ حضور کیا بتلا رہے ہیں کہ اس کے ایک پر میں کیا ہوتی ہے؟ بیماری ہوتی ہے، اور وہ بیماری والے پر کو کیا کرتی ہے؟ ڈبوتی ہے۔ تو تم کیا کرنا اس کو اچھی طرح ڈبو دینا تاکہ دوسرے پر جس کے اندر اس کی دوا ہے، وہ بھی اس میں ڈوب جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ امرِ تعبدی نہیں ہے، بلکہ کس لیے دیا جا رہا ہے؟ شفقت کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ اب جب یہ امرِ تعبدی نہیں، تو معلوم ہوا یہ امر وجوب کے لیے بھی نہیں۔ بلکہ یہ شفقت کے طور پر ہے اور یہ استحباب کے لیے ہوگا۔ کر لیا تو ٹھیک، نہ کیا تو گناہ کوئی نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ کس چیز سے پتہ چلا آپ کو بھئی؟ سیاقِ آگے علّت حضور نے کی کہ اس کے ایک پر میں کیا ہوتی ہے؟ بیماری بھئی۔ معلوم ہوا یہ کس لیے حضور حکم فرما رہے ہیں؟ شفقت کے طور پر بھئی۔ کہ بیماری سے تاکہ تم بچ جاؤ بھئی۔
تو کہتے ہیں: دَلَّ سِيَاقُ الْكَلَامِ دلالت کی سیاقِ کلام نے عَلَى أَنَّ الْمَقْعَلَ لِدَفْعِ الأَذَى کہ یہ ڈبونا جو ہے، اذیت تکلیف کو دور کرنے کے لیے ہے، بیماری کی تکلیف، عَنْهَا ہم سے۔ لَا لِأَمْرٍ تَعَبُّدِيٍّ یہ کسی امرِ تعبدی کی وجہ سے نہیں۔ امرِ تعبدی جس کو بطورِ عبادت کرنے کا حکم دیا جائے۔ یہ امرِ تعبدی کے طور پر نہیں ہے۔ حَقًّا لِلشَّرْعِ کہ یہ حق ہو کس کا؟ شریعت کا۔ کہ امرِ تعبدی کے طور پر بطورِ حقِ شرع کے نہیں ہے بھئی۔ فَلَا يَكُونُ لِلْإِيجَابِ تو یہ لہٰذا ایجاب کے لیے نہیں ہوگا، یعنی واجب کرنے کے لیے نہیں ہے یہ امر بھئی۔
وَقَوْلُهُ تَعَالَى اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے بھئی: کیا؟ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ عَقِيبَ قَوْلِهِ تَعَالَى جی، یہ آیت ہے مولانا سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بھئی۔ آیت نمبر 58 ہے جی۔
اللہ فرماتے ہیں: وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ۔ بھئی، حضور علیہ السلام کیا فرماتے تھے؟ زکوٰۃ وغیرہ تقسیم فرماتے تھے، تو یہ منافقین عیب اعتراض کیا کرتے تھے کہ آپ نے صحیح تقسیم نہیں فرمائی۔ یعنی ان کو یہ امید اور لالچ ہوتا تھا کہ ہمیں بھی اس میں سے کیا ملنا چاہیے؟ کچھ حصہ اور مال ملنا چاہیے۔ تو چنانچہ حضور پر آ کر اعتراض کرتے کہ یہ حضور نے تقسیم صحیح نہیں فرمائی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اللہ نے آگے اس زکوٰۃ کے مصارف بیان کر دیے کہ زکوٰۃ ان ان لوگوں کا حق ہے۔ ان ان لوگوں کا حق ہے، اور تم ان میں سے کوئی بھی نہیں، لہٰذا تمہارا تو حق ہی... تو ان کی امید ختم کرنے کے لیے اللہ نے زکوٰۃ کے مصارف بیان کر دیے۔ تاکہ جب انہیں پتہ ہے ہم مصرف ہی نہیں ہیں، ہمیں تو حق، ہم، ہمیں تو دی ہی نہیں جا سکتی، تو لہٰذا ان کی وہ طمع اور امید بھی کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ دیکھیے بھئی!
اللہ فرماتے ہیں: وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ اور ان میں سے بعض منافقین میں سے بعض وہ ہیں جو آپ پر عیب لگاتے ہیں، طعنہ طعن کرتے ہیں آپ پر فِي الصَّدَقَاتِ کس میں؟ صدقات میں، یعنی زکوٰۃ میں۔ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا اگر ان کو کچھ دے دیا جائے اس میں سے تو یہ راضی ہوتے ہیں، وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا اور اگر ان کو کچھ بھی نہ دیا جائے اس میں سے، إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ تو یہ کیا ہوتے ہیں؟ ناراض ہوتے ہیں۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ اور اگر یہ راضی ہو جاتے اس پر جو ان کو دیا ہے اللہ نے اور ان کے رسول نے، وَقَالُوا اور یوں کہہ دیتے: حَسْبُنَا اللَّهُ اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے، سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ عنقریب ہمیں دے دے گا اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ یقیناً ہم اللہ ہی کی طرف کیا ہیں؟ رغبت رکھنے والے ہیں۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ یہ آیت ہے مولانا۔ صدقات جو ہیں، وہ فقراء ہی کے لیے ہیں۔ وَالْمَسَاكِينِ اور جو مساکین ہیں، وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا اور صدقات سے مراد زکوٰۃ ہے، زکوٰۃ کس کے لیے ہے؟ فقراء کے لیے ہے، مساکین کے لیے ہے، وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا اور جو اس پر عامل ہیں، جو اس پر عامل ہیں۔ کیا معنی عامل ہیں؟ جو اس کو وصول کرنے والے ہیں۔ جو اس کو وصول کرنے والے ہیں، ان کا حق ہے۔ وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ اور مؤلفۃ القلوب کے لیے ہے۔ مؤلفۃ القلوب وہ لوگ جن کو تالیفِ قلب کے لیے دی جاتی تھی، کچھ مال وغیرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرماتے تھے۔ تاکہ اسلام کی طرف یہ لوگ راغب ہو جائیں۔ اسلام کی طرف کیا ہو جائیں؟ راغب ہو جائیں۔ مال دیتے تھے، ہدیہ وغیرہ تاکہ یہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں، اسلام لے آئیں بھئی۔ یا کچھ نو مسلم ہوتے تھے، نیا نیا اسلام لاتے تو ان کو کیا کرنے کے لیے؟ اسلام کی طرف مزید پختہ ہو جائیں تاکہ اسلام پر، حضور کیا کرتے تھے؟ کچھ مال وغیرہ دیا کرتے تھے۔ یہ مؤلفۃ القلوب ہیں۔ یعنی ان کی دلجوئی کے لیے دیا جاتا تھا۔
اور مؤلفۃ القلوب کے، اس کے حقدار ہیں۔ وَفِي الرِّقَابِ اور کس کے اندر دی جائے گی مولانا زکوٰۃ؟ رقاب، گردنیں، گردنیں چھڑانے کے اندر بھئی، یعنی غلاموں کو آزاد کروانے کے لیے۔ وَالْغَارِمِينَ اور کس کے اندر بھئی؟ قرض داروں میں، یعنی قرض داروں کے قرضے کی ادائیگی میں یہ صدقات دیے جائیں گے۔ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ اور وہ جو کس میں ہیں مولانا؟ اللہ کے راستے میں، یعنی وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں ہیں، ان کا حق ہے۔ وَابْنِ السَّبِيلِ اور جو مسافر ہیں۔ ابن السبیل کس کو کہتے ہیں؟ مسافر کو کہتے ہیں بھئی۔ یہ کنیت ہے مسافر کی عربی میں۔ اور مسافروں کے لیے ہے۔ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے، حکم ہے۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ اور اللہ خوب جاننے والے اور خوب حکمت والے ہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو، یہاں پر یہ منافقین کیا تھے؟ امید اور طمع رکھتے تھے اس کے اندر کہ ہمیں بھی کیا ملے گی؟ یہ صدقات وغیرہ ملیں گے۔ اور جب ان کو نہ ملتا تو وہ حضور پر طعن کیا کرتے تھے، اعتراض کیا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف ہی بتلا دیے کہ زکوٰۃ تو ان لوگوں کا حق ہے، تو اب ان کی امید ہی کیا ہو گئی؟ ختم۔ اعتراض کرنے کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہی۔
اب یہ آیت ہے، اس میں مولانا جو زکوٰۃ، زکوٰۃ کے مصارف بیان ہوئے وہ آٹھ ہوئے۔ کتنے بیان ہوئے؟ آٹھ قسم کے افراد ہیں، آٹھ قسم کے بھئی۔ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ یہ آٹھ ہیں بھئی۔
تو ان اور ان آٹھ پر لامِ استحقاق آیا، لام بھئی۔ یہ لوگ، یہی لوگ کیا ہیں؟ مستحق ہیں۔ یہی لوگ کیا ہیں؟ مستحق ہیں۔ اور درمیان میں واؤ آیا۔ میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو۔ واؤ کس لیے آتا ہے؟ جمعیت کا فائدہ دیتا ہے۔ معلوم ہوا آنے کے اندر زید اور عمرو دونوں جمع ہیں، یعنی دونوں آئے ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ آئے ہیں۔ تو یہاں پر بھی واؤ آیا اور واؤ کس لیے آیا کرتا ہے؟ جمع کرنے کے لیے۔ معلوم اور نیز جمع کے صیغے آئے۔ کیا آئے؟ جمع کے صیغے۔ اور جمع کے کم از کم کتنے افراد ہوں گے؟ تین افراد۔ تو چنانچہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں لامِ استحقاق آیا ہے، واؤِ جمع آیا ہے، اور جمع کے صیغے آئے ہیں۔ اور آٹھ قسمیں بیان ہوئیں، تو ہر قسم کے کم از کم کتنے افراد؟ تین افراد۔ اور واؤِ جمع آیا۔ یعنی ہر قسم کو دینا پڑے گا، اور ہر ایک میں سے کم از کم کتنے افراد کو دینا پڑے گا؟ تین۔ تو معلوم ہوا کتنے افراد کم از کم؟ 24 کو دینا پڑے گا۔ کم از کم کتنے کو؟ 24 کو دینا پڑے گا۔ یہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
ہم احناف جواب دیتے ہیں کہ یہاں سیاقِ کلام بتلا رہا ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں۔ تو لامِ استحقاق آیا ہے، اس کا حقیقی معنی تو یہ ہے کہ یہ سارے مستحق ہوں۔ اور واؤِ جمع آیا ہے اور کتنے آئے ہیں؟ جمع کے صیغے۔ تو ہونے تو تین تین چاہئیں، واقعی 24 افراد ہونے چاہئیں۔ لیکن کلام کا چلاؤ، سیاقِ کلام بتلا رہا ہے مولانا کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں۔ بلکہ یہ مصارف کس لیے بیان ہو رہے ہیں؟ تو یہاں پر مولانا تو یہ لامِ استحقاق کے حقیقی معنی کو کیا کیا جائے گا؟ ترک کیا جائے گا سیاقِ کلام کی وجہ سے۔ کیونکہ سیاقِ کلام بتلا رہا ہے کہ یہ مصارف کس لیے بیان ہو رہے ہیں؟ ان کی امید کو، وہ جو منافقین طمع اور امید رکھتے تھے، ان کی امید کو ختم کرنے کے لیے یہ آٹھ مصارف بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے نہیں بیان ہوئے کہ ان آٹھ میں سے ہر ایک کو اور ہر ایک میں سے کم از کم تین کو دیا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ سیاقِ کلام نے بتلایا بھئی، سیاقِ کلام نے۔ لہٰذا ان میں سے کسی ایک صنف کو دے دیا جائے تو بھی کافی ہے۔ اور اس ایک صنف کے بھی تین فرد نہیں، کسی ایک فرد کو بھی دے دیا جائے تو بھی کیا ہو جائے گی زکوٰۃ؟ ادا ہو جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ بڑا مشکل ہے بھئی۔ کہاں تلاش کرے آدمی تین تین تلاش کرے اور ان کو پھر ادا کرے بھئی۔
وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ اور اللہ کا یہ قول جو ہے کہ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ آخر تک یہ آیت، عَقِيبَ قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ کے اس قول کے عقب میں: وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ اور ان منافقین میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو کیا ہیں؟ آپ پر اعتراض کرتے ہیں، طعن کرتے ہیں، عیب لگاتے ہیں فِي الصَّدَقَاتِ صدقات کے بارے میں۔
تو اللہ کا یہ قول، کون سا قول بھئی؟ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ۔ یہ، یہ دلالت کرتا ہے أَنَّ ذِكْرَ الأَصْنَافِ لِقَطْعِ طَمَعِهِمْ مِنَ الصَّدَقَاتِ کہ اصناف کا ذکر کس لیے ہوا ہے؟ تاکہ ان منافقین کی طمع اور امید کو کاٹ دیا جائے مِنَ الصَّدَقَاتِ کس سے؟ صدقات سے، بِبَيَانِ الْمَصَارِفِ لَهَا اس کے مصارف کے بیان کرنے کے ساتھ۔ جب اس کے مصارف بیان ہو گئے اور یہ تو ان میں سے کوئی بھی نہیں تو ان کی امید کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ فَلَا يَتَوَقَّفُ الْخُرُوجُ عَنِ الْعُهْدَةِ عَلَى الأَدَاءِ تو لہٰذا خروج عن العہدہ، یعنی ذمہ داری سے نکلنا، خروج عن العہدہ نکلنا، یہ موقوف نہ رہے گا عَلَى الأَدَاءِ إِلَى الْكُلِّ ان سب کی طرف پر ادائیگی، سب کے، سب کو ادائیگی کرنے پر۔
عَلَى الأَدَاءِ إِلَى الْكُلِّ بھئی، سب کو ادائیگی کرنے سے ہی ذمہ داری سے نہیں نکلے گا، بلکہ ان میں سے کسی ایک کو بھی ادا کر دے تو ذمہ داری سے نکل جائے گا، یعنی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ فریضہ کیا ہے؟ ادا ہو جائے گا۔ تو ذمہ داری جو زکوٰۃ کی ہے، جو فریضہ ہے اس سے نکلنا ان سب کو ادا کرنے پر موقوف نہیں ہے، بلکہ کسی ایک کو بھی ادا کر دے تو کیا ہو جائے گی ذمہ داری سے؟ عہدہ برآ ہو جائے گا بھئی۔
بات سمجھ میں آئی؟ کوئی مشکل بات تو نہیں؟ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی؟ جی؟ اچھا۔
وَالرَّابِعُ اور چوتھی جگہ مولانا: قَدْ تُتْرَكُ الْحَقِيقَةُ بِدَلَالَةٍ مِنْ قِبَلِ الْمُتَكَلِّمِ کبھی کبھی حقیقت کو ترک کیا جاتا ہے بِدَلَالَةٍ ایسی دلالت کے ساتھ مِنْ قِبَلِ الْمُتَكَلِّمِ جو کس کی طرف سے ہے؟ یعنی متکلم کی ذات میں ہی اس بات پر دلالت ہے کہ حقیقی معنی مراد نہیں۔ یا متکلم کا حال اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ حقیقی معنی مراد نہیں۔ تو اس کی ذات یا اس کا حال دلالت کرے گا۔ مثال دیکھیے: مِثَالُهُ قَوْلُهُ تَعَالَى اس کی مثال اللہ کا یہ قول ہے: فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ پس جو، پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے فَلْيَكْفُرْ وہ کیا کرے؟ کفر کرے۔ تو دیکھو، فَلْيَكْفُرْ امر کا صیغہ آیا، اور امر کیا، کس لیے آیا، آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، لیکن ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ اباحت، یعنی مباح ہے، جائز ہے یہ کام کرنا۔ تو امر کا اعلیٰ درجہ ہے وجوب، اور ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ اباحت، یعنی کسی چیز کی اجازت دینا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس سے کیا معلوم ہو رہا ہے، گویا کفر کرنا بھی مباح ہوا، اس کی بھی کیا ہو گئی؟ اجازت ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ کفر کی بھی اجازت ہو گئی۔ لیکن مولانا، دلالت ہے متکلم کی طرف سے، اللہ جو اس کلام کے متکلم ہیں، ان کی ذات اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ یہاں امر کا صیغہ اباحت کے لیے نہیں ہے مولانا۔ بلکہ زجر اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے ہے بھئی۔ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے سب کچھ بتلا دیا، اور اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ ہم نے بتلا دیا آخرت میں ایمان والے ہی کامیاب ہوں گے، کفر والے جہنم میں ڈالے جائیں گے، اب جس کا دل چاہتا ہے ایمان لائے، جس کا دل چاہتا ہے؛ تو یہ ڈانٹ کے طور پر کہا جاتا ہے، اس قسم کا کلام، اجازت دینا مقصد نہیں ہے۔
مثلاً بھئی، استاد پڑھاتے پڑھاتے تھک گیا، منتیں کرتا رہا بھئی سبق یاد کر لو، امتحان کی تیاری کر لو، کر لو؛ لیکن کوئی طالب علم ہے وہ پھر بھی تیاری نہیں کرتا، استاد اسے کیا کہتا ہے؟ تم پڑھو یا نہ پڑھو، تمہاری مرضی ہے۔ تو کیا معنی؟ اس کا یہ معنی ہے کہ تم نہ پڑھنے کی اب اجازت ہے؟ نہیں بھئی، بلکہ یہ تو کیا ہے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جاتا ہے بھئی، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔
وذلك بھئی، و وذلك لأن الله تعالى حكيم، اور یہ اس وجہ سے مولانا، یہ حقیقت کو ترک کیا گیا مولانا، کیوں؟ کیونکہ اللہ تعالی حکیم ہیں، حکمت والے ہیں۔ اور حکمت والا ہمیشہ اسی چیز کا حکم کیا کرتا ہے جس کے اندر فائدہ اور نفع اور مصلحت ہو۔ کیا ہو؟ فائدہ، نفع اور مصلحت ہو۔ اور کسی ایسی، یہاں پر حکم ہو رہا ہے کفر کا، اور کفر کے اندر کوئی مصلحت فائدہ نہیں ہے، کفر کے اندر کوئی بھی اس کو پسند نہیں کرتا مولانا کفر کو، کیونکہ اس کے اندر تو کیا ہے مالک کی نافرمانی ہے، مالک کی؛ اور مالک کی نافرمانی کو کوئی شخص پسند کرتا ہے؟ ہر ایک اس کو برا سمجھتا ہے، معلوم ہوا یہاں حقیقی معنی مراد نہیں ہے۔
تو اللہ تعالی حکمت والے ہیں، والكفر قبيح، اور کفر کیا ہے؟ قبیح ہے، والحكيم لا يأمر به، اور حکیم تو قبیح کام کا حکم نہیں کیا کرتا، فيترك دلالة اللفظ، پس ترک کر دیا جائے گا لفظ کی دلالت کو، على الأمر، امر پر، جو امر پر لفظ دلالت کر رہا ہے اس کو ترک کیا جاتا ہے، کیا جائے گا، بحكمة الآمر، أي بسبب جی؟ امر دینے والے کی حکمت کے سبب سے، یعنی اس کے حکیم ہونے کے سبب سے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ وعلى هذا قلنا، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں، إذا وکل بشراء اللحم فإن كان مسافرا نزل على الطريق فهو على المطبوخ أو على المشوي، بھئی ایک آدمی نے وکیل کو کسی کو وکیل بنایا، پیسے دیے، جاؤ میرے لیے گوشت خرید کر لاؤ مولانا، اب یہ گوشت مطلق بولا مولانا، چاہے وہ پکا ہوا لائے، کچا لائے، اور ویسے پکا ہوا ہو یا بھنا ہوا ہو، ہر قسم کا گوشت شامل ہے، کوئی بھی خرید کر لائے تو کیا ہونا چاہیے؟ کس کی طرف سے ہونا چاہیے؟ موکل کی طرف سے ہونا چاہیے، لیکن کبھی موکل کا حال دلالت کر رہا ہوتا ہے کہ فلاں قسم کا گوشت مراد ہے، فلاں قسم کا مراد نہیں، مثلاً منگوانے والا مسافر ہے، راستے میں اس نے پڑاؤ ڈالا ہے، اب یقیناً جب اس نے کسی کو وکیل بنایا تو کس قسم کا گوشت منگوائے گا؟ کچا یا پکا؟ پکا منگوائے گا، اس کے پاس اسباب ہی نہیں ہیں پکانے کے، تو اب آپ مولانا، آپ کو اس نے وکیل بنایا تھا اور آپ اس کے پاس کچا گوشت لے گئے تو یہ موکل کی طرف سے نہیں، بلکہ یہ محمول ہوگا کس پر یہاں بھئی؟ تو یہ دیکھا متکلم کے حال نے دلالت کر دی، وہ مسافر ہے اس نے دلالت کر دی مولانا کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں۔ يا مولانا، اگر گھر والا ہے کوئی وہ آپ سے منگواتا ہے گوشت، تو اس صورت میں یہ کون سا گوشت مراد ہوگا؟ کچا گوشت، تاکہ وہ گھر لے جائے، اس کو گھر میں پکائے اور خود بھی کھائے اور سب کو بھی کھلائے، تو حال دلالت کر دیتا ہے، دیکھا بھئی۔
وعلى هذا قلنا، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں، إذا وکل بشراء اللحم فإن كان مسافرا، اگر وکیل بنایا گوشت خریدنے کے لیے، فإن كان مسافرا، اگر وہ مسافر تھا موکل، ایسا مسافر نزل على الطريق، جو راستے پر نازل اترا ہے، نازل ہوا ہے، فهو، یعنی پڑاؤ ڈالا ہے اس نے کہیں، فهو على المطبوخ، تو یہ توکیل محمول ہوگی کس پر؟ پکے ہوئے پر، أو على المشوي، یا بھنے ہوئے گوشت پر، وإن كان صاحب منزل، اور اگر موکل گھر والا ہے، فهو على النيئ، تو یہ محمول ہوگا کس پر بھئی؟ یہ توکیل بشراء اللحم محمول ہوگی کچے گوشت پر۔
ومن هذا النوع يمين الفور، اور اسی نوع سے ہے یمینِ فور بھئی۔ یمینِ فور یاد رکھو وہ قسم ہے جو اسی حالت اور اسی وقت سے متعلق ہوتی ہے جب وہ قسم اٹھانے والا وہ قسم اٹھائے، جب متکلم وہ قسم اٹھائے۔ یمینِ فور بھئی، اسی حالت اور اسی وقت سے متعلق ہوتی ہے، جلدی جلدی لکھو بھئی، یمینِ فور اسی وقت اور اسی حالت سے متعلق ہوتی ہے جب متکلم نے قسم کھائی، جب متکلم نے قسم کھائی۔
سمجھ میں آیا؟ تو یمینِ فور بھی اسی قبیل سے ہے مولانا۔ مثلاً ایک آدمی کو آپ نے دعوت دی، آؤ بھئی میرے ساتھ ناشتا کرو، اس نے کہا: واللہ لا أتغذى، غدا یاد رکھو مولانا، غدا چاشت کے کھانے کو کہتے ہیں، کس کو؟ جب سورج تھوڑا سا بلند ہو جائے، یہ آٹھ نو بجے کا وقت بھئی دس، سمجھ میں آیا؟ یہ وقت کیا کہلاتا ہے؟ چاشت کا وقت کہلاتا ہے، قدیم مولانا، پہلے یہ ناشتا وغیرہ نہیں ہوا کرتا تھا بھئی، ہم تو اب ایک ناشتا کرتے ہیں، ایک دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، پھر ایک رات کا کھانا کھاتے ہیں، نہیں؛ صبح صبح کام پر نکل جاتے، آٹھ نو بجے واپسی ہوتی، چاشت کا وقت ہوتا، دوپہر کا کھانا تیار ہوتا تھا اس وقت۔ یہی کھانا کھا لیا اور پھر دوسرا کھانا مغرب سے پہلے پہلے کیا کر لیا؟ مغرب کے وقت رات کا کھانا تیار، وہ بھی کھا لیا۔ تو یہ چاشت کا کھانا ہوتا تھا، تو آج کل یوں کہو ناشتا کہہ لو بھئی، آٹھ نو بجے تو آج کل ناشتا ہی ہوتا ہے بھئی، تو اس نے کیا کہا؟ آؤ میرے ساتھ ناشتا کرو، آپ کے ساتھی نے کہا، آپ نے کہا: واللہ لا أتغذى، واللہ میں ناشتا نہیں کروں گا، یہ یمینِ فور ہے، معلوم ہوا یہ اسی وقت اور اسی موقع سے متعلق ہے، یہ معنی نہیں، معنی تو حقیقی یہی ہے کہ اب زندگی بھر آپ کبھی بھی ناشتا کر لیں فوراً کیا ہو جائیں گے؟ کیونکہ آپ نے کہا، کیا کہا ہے؟ واللہ لا أتغذى، واللہ میں ناشتا نہیں کروں گا، لیکن یہ یمینِ فور ہے مولانا، اسی وقت اور اسی حالت سے متعلق ہے، یعنی ابھی یہ جس ناشتے کی طرف آپ نے مجھے بلایا ہے یہ میں نہیں، لہذا اگر آپ بعد میں جاتے ہیں، اپنے گھر ناشتا کر لیتے ہیں تو حانث نہیں، یا کسی اور کے ساتھ جا کر ناشتا کر لیتے ہیں تو حانث نہیں، کیونکہ یہ یمینِ فور تھی، یہ اسی ناشتے سے متعلق ہے جس پر قسم اٹھائی۔
یا مولانا، ایک شخص ہے مولانا، اس کی بیوی گھر سے نکلنے لگی کسی کام کے لیے، اس نے کہا، منع کیا، نہ جاؤ باہر، بیوی پھر باہر جا رہی ہے کہ میں تو شاپنگ کرنے ضرور جاؤں گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس نے کہا واللہ، اس نے کیا کہا؟ إن خرجت فأنت طالق، اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے، بڑے غصے میں آیا بھئی، تو یہ یمینِ فور ہے مولانا، کلام کا تقاضا تو یہ ہے، اس نے کیا کہا: إن خرجت، اگر تو نکلی، فأنت طالق، تجھے، جب بھی وہ نکلے فوراً کیا ہونی چاہیے؟ طلاق، لیکن یہ یمینِ فور ہے، یہ اسی وقت، اسی حالت سے متعلق ہے، غضب کی حالت میں وہ قسم کھا رہا ہے، تو لہذا اب بیوی اگر اسی وقت رک جائے اور تھوڑی دیر ٹھہر جائے، غصہ وغیرہ ختم ہوا اور پھر نکل کے چلی جائے تو اب کیا ہوگی؟ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔
اور اسی نوع سے ہے یمینِ فور، مثاله، مثال اس کی، إذا قال، ایک شخص نے دوسرے سے کہا: تعال تغذ معي، تو ناشتا چاشت کا کھانا کھا لے میرے ساتھ، فقال، اس نے کہا: والله لا أتغذى، میں تو چاشت کا کھانا نہیں کھاؤں گا، ينصرف ذلك إلى الغداء المدعو إليه، تو پھر جائے گی یہ قسم مولانا کس کی طرف؟ جی؟ اس غدا اس چاشت کے کھانے کی طرف، المدعو إليه، جس کی طرف اس کو دعوت دی گئی ہے، حتى لو تغذى بعد ذلك، اگرچہ اس نے چاشت کا کھانا کھا لیا اس کے بعد، في منزله، اپنے گھر میں، اپنے گھر میں، اپنے گھر میں کھا لیا، معه، اسی دعوت دینے والے کے ساتھ، تو بھی حانث نہیں، أو مع غيره، یا کسی غیر اس داعی کے علاوہ کسی اور کے ساتھ اس نے چاشت کا کھانا کھا لیا، في ذلك اليوم، اسی دن کے اندر، لا يحنث، تو پھر وہ حانث نہیں ہوگا، وكذا إذا قامت المرأة تريد الخروج، اسی طرح اگر ایک عورت کھڑی ہوئی باہر نکلنا چاہتی ہے، فقال الزوج، تو خاوند نے کہا اس سے: إن خرجت فأنت كذا، اگر تو نکلی تو تجھے ایسا ہے، یعنی طلاق مراد ہے، کنایہ کیا بھئی، فأنت طالق مثلاً کہا، كان الحكم مقصورا على الحال، تو یہ طلاق کا حکم بند ہوگا اسی حال پر، حتى لو خرجت بعد ذلك، یہاں تک کہ اگر وہ نکلی اس کے بعد، اس وقت کے بعد بھئی، لا يحنث، تو قسم وہ وہ حانی وہ شخص حانث نہیں، یعنی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔...