Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-078

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 26 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 77
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل حَتَّىٰ للغایة كـ "إِلَىٰ"، فإذا كان ما قبلها قابلاً للامتداد، وما بعدها يصلح غايةً له، كانت الكلمة عاملةً بحقيقتها. جی! اس فصل میں حروفِ معانی میں سے ساتواں حرف "حتی" اس کے بارے میں مصنف آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ "حتی" کے یہاں پر تین معانی بیان کریں گے اس فصل کے اندر۔ پہلا معنی: کہ "حتی" غایت کے لیے آئے، یعنی انتہا بتلانے کے لیے آئے بھئی۔ کسی چیز کی انتہا بتلانے کے لیے ائے۔ یہ ایک معنی اور یہ "حتی" کا حقیقی معنی ہے۔ "حتی" کیا بیان کرنے کے لیے آئے؟ غایت اور انتہا بیان کرنے کے لیے آئے بھئی۔ اور دوسرا: "حتی" کبھی "کَیْ" کے معنی میں آتا ہے بھئی۔ "حتی" کبھی "کَیْ" کے معنی میں آتا ہے، یعنی یہ بتلاتا ہے کہ ماقبل سبب ہے اور مابعد مسبب ہے بھئی، مابعد اس کی جزا ہے اور اس کا مسبب ہے۔ تو سببیت بیان کرنے کے لیے آتا ہے جیسے "کَیْ" کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ سببیت بیان کرنے کے لیے آتا ہے مولانا بھئی، سمجھ میں آیا؟ مثلاً میں نے کہا: "اَسْلَمْتُ كَیْ اُدْخَلَ الْجَنَّةَ" "اَسْلَمْتُ كَیْ اُدْخَلَ الْجَنَّةَ" میں اسلام لایا، میں مسلمان ہوا تاکہ جنت میں داخل کیا جاؤں۔ تو مسلمان ہونا سبب ہے دخولِ جنت کا، تو ماقبل میں سبب ہے اور مابعد میں کیا ہے؟ مسبب ہے، جزا ہے اس کی جزا ہے مولانا۔ ماقبل میں سبب اور مابعد میں اس کی جزا ہے، اس کا مسبب ہے۔ تو کبھی "حتی" "کَیْ" کے معنی میں آئے گا بھئی۔ اور کبھی "حتی" عطفِ محض کے لیے آئے گا مولانا، کس کے لیے آئے گا؟ صرف عطف کا فائدہ دے گا بھئی۔ تو "حتی" کا حقیقی معنی پہلا ہے بھئی، غایت کے لیے، انتہا بتلانے کے لیے آئے گا۔ اور دوسرا معنی کیا بتلایا؟ "کَیْ" کے معنی میں آئے گا سببیت بتلانے کے لیے بھئی، اور تیسرا معنی کیا بتلایا؟ عطفِ محض کے لیے آئے گا، صرف عطف کا فائدہ دے گا، اور ان میں سے حقیقی معنی کون سا ہے؟ غایت کے لیے آئے، انتہا بتلانے کے لیے آئے۔ لیکن اس حقیقی معنی کے لیے اس میں "حتی" تب ہوگا جب دو شرطیں پائی جائیں مولانا۔ ایک تو یہ کہ "حتی" سے ماقبل جو فعل ہو اس میں امتداد ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ امتداد یعنی طول ہو، طول ہو، لمبائی ہو بھئی، آنی نہ ہو، ایک آن میں، ایک لمحے میں ہونے والا نہ ہو بھئی۔ کیا پہلی شرط کیا ہے؟ کہ "حتی" کے ماقبل فعل میں کیا ہونا چاہیے؟ امتداد۔ کا کیا معنی؟ طول اور لمبائی بھئی، لمبا ہو سکے بھئی وہ فعل، اور آنی نہ ہو، یعنی ایک آن میں ہونے والا نہ ہو، ایک لمحے میں ہونے والا نہ ہو۔ اور دوسری شرط یہ کہ مابعد جو "حتی" کا ہے، اس میں انتہا بننے کی، غایت بننے کی صلاحیت بھی ہو بھئی۔ مابعد میں غایت اور انتہا بننے کی صلاحیت بھی ہو، یعنی مابعد ایسی چیز ذکر ہو جس کی وجہ سے کسی فعل کو بس کر دیا جاتا ہو۔ مابعد میں ایسی چیز ذکر ہو جس کی وجہ سے کسی فعل کو کیا کر دیا جاتا ہو؟ روک دیا جاتا ہو، اس کی انتہا کر دی جاتی ہو، اس کو روک دیا جاتا ہو بھئی، یہ دو شرطیں ہیں۔ تو پہلی شرط یہ کہ ماقبل میں ایسا فعل ذکر ہو جس میں امتداد طول پایا جائے، اور مابعد ایسی چیز ذکر ہو جس میں انتہا بننے کی صلاحیت بھی ہو مولانا، اس کی وجہ سے کسی فعل کو روک، کی انتہا بھی کر دی جاتی ہو اس کے رو، ختم کر دیا جاتا ہو۔ دیکھیے بھئی، آسان باتیں ہیں۔ "حَتَّىٰ لِلْغَايَةِ" "حتی" غایت یعنی انتہا کے لیے آتا ہے "كـَ إِلَىٰ" جیسے کہ "إِلَىٰ" انتہا بیان کرنے کے لیے آتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ "ذَهَبْتُ" یا "سِرْتُ"، "سِرْتُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَى الْمَسْجِدِ" میں چلا مسجد سے کہاں تک؟ گھر تک بھئی، گھر کا... گھر سے میں چلا کہاں تک؟ مسجد تک، تو یہ چلنے کی انتہا کہاں پر ہو رہی ہے؟ مسجد پر، یہ کس نے بتلایا؟ "إِلَىٰ" نے بتلایا۔ تو "حتی" انتہا بتلانے کے لیے آتا ہے جیسے "إِلَىٰ" انتہا کے کے لیے آتا ہے۔ جی! جیسے کہ "إِلَىٰ" ہے "فَإِذَا كَانَ مَا قَبْلَهَا قَابِلاً لِلإِمْتِدَادِ" پس جب "مَا قَبْلَهَا"، یہ "هَا" ضمیر راجع ہے "حتی" کو، جب "حتی" کا ماقبل جو ہے "قَابِلاً لِلإِمْتِدَادِ" وہ قبول کرنے والا ہو امتداد کو، کس کو؟ امتداد، طول، لمبائی کو، یعنی اس وہ لمبائی کے قابل ہو "وَمَا بَعْدَهَا يَصْلُحُ غَايَةً" اور "حتی" کا مابعد وہ صلاحیت رکھتا ہو "غَايَةً لَهُ" اس امتداد کے لیے غایت اور انتہا بننے کی "كَانَتِ الْكَلِمَةُ عَامِلَةً بِحَقِيقَتِهَا" تو کلمہ عمل کرنے والا ہوگا اپنی حقیقت کے ساتھ، یعنی حقیقی معنی کے ساتھ بھئی۔ یعنی ماقبل میں ایسا ہو فعل جس میں کیا ہو؟ امتداد ہو، اور مابعد ایسا ہو جس میں غایت بننے کی صلاحیت ہو بھئی۔ مثالاً دیکھیے بھئی، "مثالُهٗ" مثال اس کی "ما قال محمدٌ رحمه الله" وہ جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے "إِذَا قَالَ" جب کہا کسی شخص نے، آقا نے کہا "عَبْدِي حُرٌّ" میرا غلام آزاد ہے "إِنْ لَمْ أَضْرِبْكَ" اگر میں تیری پٹائی نہ کروں "حَتَّىٰ يَشْفَعَ فُلاَنٌ" یہاں تک کہ فلاں سفارش کرے، یوں کہا بھئی، سمجھ میں آیا؟ میرا غلام آزاد ہے اگر میں اس وقت تک تیری پٹائی نہ کروں جب تک کہ فلاں سفارش نہ کر لے "أَوْ حَتَّىٰ تَصِيحَ" "صَاحَ يَصِيحُ" کے معنی چیخنا، اس کا عطف بھی اسی ماقبل "حتی"، "يَشْفَعَ" پر ہو رہا ہے۔ میرا، یوں کہا یا یوں کہا مولانا: میرا غلام آزاد ہے اگر میں اس وقت تک تیری پٹائی نہ کروں جب تک تو چیخنے نہ لگے، جب تک تو چیخنے لگے اس وقت تک میں اگر میں تیری پٹائی نہ کروں تو پھر میرا غلام آزاد ہے۔ "أَوْ حَتَّىٰ تَشْتَكِيَ بَيْنَ يَدَيَّ" یا یہاں تک کہ تو شکایت کرنے لگے میرے سامنے، شکوہ و شکایت کرنے لگے، فریاد کرنے لگے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میرا غلام آزاد ہے اگر میں اس وقت تک تیری پٹائی نہ کروں جب تک کہ تو میرے سامنے فریاد کرنے لگے، یعنی اتنی پٹائی میں تیری کروں گا کہ تو میرے سامنے فریاد، رو، رونے لگے گا بھئی، معافیاں مانگنے لگے گا، چھوڑنے کی درخواست کرے گا، پھر تجھے میں چھوڑ دوں گا، اس وقت تک میں تجھے چھوڑوں گا، اگر اس سے پہلے میں نے تجھے چھوڑ دیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ تو تھا یہاں تک کہ تو فریاد کرنے لگے "بَيْنَ يَدَيَّ" میرے سامنے "أَوْ حَتَّىٰ يَدْخُلَ اللَّيْلُ" یا میں یا یہاں تک کہ رات داخل ہو جائے۔ اگر میں تیری پٹائی نہ کروں یہاں تک کہ رات داخل ہو جائے تو میرا غلام آزاد ہے۔ اب دیکھیے مولانا! کہتے ہیں "كَانَتِ الْكَلِمَةُ عَامِلَةً بِحَقِيقَتِهَا" کلمہ جو ہے وہ عمل کرنے والا ہے اپنے حقیقت کے حقیقت کے ساتھ، یعنی اپنے حقیقی معنی کے ساتھ، کیوں؟ کیونکہ وہ دونوں شرطیں پوری ہو رہی ہیں، خود بتلا رہے ہیں۔ "لِأَنَّ الضَّرْبَ بِالتَّكْرَارِ يَحْتَمِلُ الْإِمْتِدَادَ" اس لیے کہ ضرب تکرار کی وجہ سے احتمال رکھتی ہے امتداد کا۔ بھئی ضرب تو آنی چیز ہے، ضرب کیا ہے؟ آنی چیز ہے، ایک لمحے میں، ایک تھپڑ لگایا، ضرب ہو گئی یا نہیں بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو ایک جوتا لگایا، ایک لمحے میں جوتا لگ گیا بھئی، آنی چیز ہے بھئی، تو آن... لیکن تکرار کے ساتھ اس میں کیا آ جاتا ہے؟ امتداد، جوتے مارتے چلے جاؤ، مارتے چلے جاؤ بھئی امتداد آ گیا۔ تو امتداد ہے، ماقبل میں امتداد بھی ہے، اور مابعد میں غایت بننے کی صلاحیت بھی ہے۔ یعنی مابعد والے جو چیزیں ذکر ہیں، ان کی وجہ سے کسی فعل، ضرب وغیرہ کو مثلاً ترک بھی کر دیا جاتا ہے۔ کوئی کام آپ کسی کی پٹائی کر رہے ہوں، کوئی سفارش کر دے تو پھر کیا کر دیا جاتا ہے؟ پٹائی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ پٹائی کر رہے ہیں کسی کی، وہ چیخنا شروع کر دے تو اس کی وجہ سے بھی پٹائی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یا آپ کسی کی پٹائی کرتے کریں بھئی اور وہ معافیاں مانگنے لگے، رو، رونے لگے بھئی شکوہ و شکایت اس کی زبان پر آ جائے تو بھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ پٹائی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یا مولانا پٹائی کرتے جا رہے ہیں یہاں تک کہ رات آ گئی تو بھی اس کی وجہ سے کیا کر دیا جاتا ہے؟ پٹائی کو چھوڑ دیا، تو یہ مابعد میں غایت بننے کی صلاحیت ہے، یعنی ان کی وجہ سے ماقبل کے فعل کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تو دونوں شرطیں پوری ہوئیں اور جب دونوں شرطیں پوری ہوں تو "حتی" کس معنی میں ہوگا؟ غایت کے معنی۔ "لِأَنَّ الضَّرْبَ بِالتَّكْرَارِ يَحْتَمِلُ الْإِمْتِدَادَ" اس لیے کہ ضرب تکرار کی وجہ سے احتمال رکھتی ہے امتداد، طول کا، لمبائی کا "وَشَفَاعَةُ فُلَانٍ وَأَمْثَالُهَا" اور فلاں کی سفارش اور اس کے جو مثل چیزیں ذکر ہوئی ہیں یعنی فلاں کی سفارش اور اس کے مثل چیزیں "تَصْلُحُ غَايَةً لِلضَّرْبِ" وہ صلاحیت رکھتی ہیں غایت بننے کی ضرب کے لیے "فَلَوْ امْتَنَعَ عَنِ الضَّرْبِ قَبْلَ الْغَايَةِ حَنِثَ" پس اگر وہ شخص رک گیا ضرب سے غایت سے پہلے ہی، حنث ہو جائے گا۔ یعنی اگر فلاں کے سفارش کرنے سے پہلے ہی اس نے اس کو مارنا چھوڑ دیا تو پھر تو حانث ہو جائے گا، اس نے تو کہا تھا میں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک فلاں سفارش نہ کر لے۔ یا مولانا رات کے آنے سے پہلے ہی اس نے پٹائی کرنا چھوڑ دی تو بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث، کیونکہ "حتی" یہاں کس چیز کے لیے فائدہ دے رہا ہے؟ غایت کا، معلوم ہوا یہ پٹائی کرنے کی انتہا کب ہوگی؟ جب رات داخل ہو جائے، تو پھر اس وقت اس کی قسم پوری ہو جائے گی ورنہ تو قسم ٹوٹ جائے گی اور غلام کیا ہو جائے گا؟ جی، غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو حانث ہو جائے گا۔ تو ان تمام صورتوں میں اسی طرح ہے بھئی، تو یہ سب صلاحیت رکھتی ہیں غایت بننے کی ضرب کے لیے "فَلَوْ امْتَنَعَ عَنِ الضَّرْبِ قَبْلَ الْغَايَةِ حَنِثَ" پس اگر وہ رک گیا پٹائی کرنے سے غایت انتہا سے پہلے ہی، انتہا کے آنے سے پہلے، "حَنِثَ" تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، حانث ہو جائے گا۔ اسی طرح "وَلَوْ حَلَفَ" اگر قسم اٹھائی کسی شخص نے "لاَ يُفَارِقُ غَرِيمَهُ" کہ وہ جدا نہیں ہوگا اپنے مقروض سے "حَتَّىٰ يَقْضِيَهُ دَيْنَهُ" یہاں تک کہ وہ اس کو ادا کر دے اس کا قرضہ "فَفَارَقَهُ" ایک شخص نے قسم اٹھائی: واللہ لا أفارق غریمی، واللہ میں اپنے مقروض سے جدا نہیں ہوں گا "حَتَّىٰ يَقْضِيَنِي دَيْنِي"، "حَتَّىٰ يَقْضِيَنِي دَيْنِي" واللہ لا أفارق غریمی حتی یقضینی دینی، میں واللہ میں اپنے مقروض سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے ادا نہ کر دے میرا قرضہ۔ وہ مجھے ادا نہ کر دے میرا قرضہ، تو اب دیکھیے مولانا! اب وہ کیا لے کر آیا؟ "حتی" اور "حتی" کو حقیقی معنی پر محمول کریں گے یعنی غایت کے معنی پر، جب اس میں کتنی شرطیں پائی جائیں؟ دو شرطیں۔ تو یہاں دونوں شرطیں پوری ہیں: "لا أفارق" میں جدا نہیں ہوں گا، اور جدا نہ ہونا اس کے اندر طول ہے، آپ ایک کے ساتھ 10 گھنٹے ساتھ لگے رہیں بھئی، ایک گھنٹہ لگے رہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو ساتھ... تو جدا نہ ہونے میں کیا ہے؟ امتداد ہے۔ اور مابعد میں غایت بننے کی صلاحیت بھی ہے کہ قرض ادا کرنے پر کیا کیا جاتا ہے؟ کسی کا سے کسی کا پیچھا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب یہ عمل کرے گا اپنے حقیقی معنی سے اور غایت کا معنی ہوگا، تو معنی یہ ہے کہ: میں اپنے مقروض سے ادا جدا نہیں ہوں گا اس وقت تک جب تک کہ وہ میرا قرضہ ادا نہ کر دے۔ تو لہٰذا اگر وہ قرضہ ادا کرنے سے پہلے ہی اس سے جدا ہو گیا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث، اور اگر قرضہ ادا کرنے کے بعد اس سے جدا ہوا تو اب حانث نہیں۔ "فَفَارَقَهُ قَبْلَ قَضَاءِ الدَّيْنِ حَنِثَ" پس اگر اس سے جدا اگر اس سے جدا ہو گیا ادائے دین سے پہلے ہی "حَنِثَ" تو حانث ہو جائے گا۔ یہاں تک یہ بات چلی کہ جب دو شرطیں پائی جائیں تو "حتی" کس معنی میں آئے گا؟ غایت کے معنی میں آئے گا۔ یہ اب آگے ایک اشکال کا جواب ذکر کر رہے ہیں کہ اے صاحبِ کتاب! آپ نے تو یہ ضابطہ ذکر کیا، آپ ہم آپ کو ایسی مثال دکھاتے ہیں جہاں دونوں شرطیں پوری ہیں لیکن اس کے باوجود "حتی" غایت کے معنی میں نہیں ہے، "حتی" غایت... مثال: بھئی دیکھو! ایک شخص نے کہا، قسم اٹھائی: "وَاللَّهِ لأَضْرِبَنَّكَ حَتَّىٰ تَمُوتَ" واللہ میں کیا کروں گا؟ تیری پٹائی کروں گا یہاں تک کہ تو مر جائے۔ یا "وَاللَّهِ لأَضْرِبَنَّكَ حَتَّىٰ أَقْتُلَكَ" میں تیری پٹائی کروں گا یہاں تک کہ میں تجھے قتل کر دوں، قتل کر دوں۔ اب اس صورت میں ماقبل میں امتداد ہے، پٹائی کرنے میں کیا ہے؟ امتداد، اور مابعد میں غایت بننے کی صلاحیت ہے، کسی کی موت پر یا کسی کے قتل ہو جانے پر کیا کر دیا جاتا ہے؟ پٹائی کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو اس میں غایت بننے کی بھی صلاحیت ہے، لیکن اس کے باوجود فقہائے کرام لکھتے ہیں: اگر وہ اس کے مرنے سے پہلے ہی اس کو چھوڑ دے یا اس کے قتل ہو جانے سے پہلے ہی اس کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے، تو بھی قسم پوری ہو جائے گی اور وہ حانث نہیں ہوگا، حانث نہیں ہوگا۔ تو دیکھیے، یہاں "حتی" کے حقیقی معنی پر عمل ترک کر دیا گیا۔ "حتی" کو تو یہاں کس لیے ہونا چاہیے تھا؟ غایت پر، لہٰذا ضرب کی انتہا کس پہ ہونی چاہیے تھی؟ موت پر یا اس کے قتل ہو جانے پر، اس سے پہلے اگر ہو جائے تو پھر تو اس کی قسم پوری نہ ہوئی، کہتے ہیں: نہیں بھئی! یہ اگر کوئی ایسی دلیل قائم ہو جائے جس کی وجہ سے عمل حقیقت پر عمل کرنا کوئی مانع آ جائے مولانا، یوں کہیں۔ کوئی مانع آ جائے حقیقت پر عمل کرنے سے تو حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے۔ اور حقیقت سے ایک مانع عرف ہے مولانا، آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں، کبھی عرف کی وجہ سے بھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ حقیقی معنی کو چھوڑ دیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حقیقی معنی کو چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ آپ پڑھ چکے ہیں یا نہیں بھئی؟ تو حقیقی معنی کو عرف... تو یہاں بھی عرف کی وجہ سے حقیقی معنی کو چھوڑ دیا گیا، اس لیے کہ عرف میں اگر کسی کو یہ کہا جائے تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ اس کو موت تک اس کو چھوڑے گا ہی نہیں یا قتل ہو جانے تک اس کو چھوڑے گا ہی نہیں، بلکہ اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ میں تیری زبردست پٹائی کروں گا، کیا کروں گا؟ میں تجھے اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تو مر نہ جائے، کیا معنی ہوتا ہے؟ میں تیری زبردست شدید پٹائی کروں گا، اور اسی طرح یہاں تک کہ تو قتل ہو جائے، اس سے بھی کیا مراد ہوتا ہے؟ میں تیری شدید پٹائی کروں گا، زبردست پٹائی کروں گا۔ تو اب یہاں پر عرف کی وجہ سے حقیقی معنی کو کیا کر دیا گیا؟ تو یہ مانعِ عرف بنا ورنہ تو "حتی" نے عمل کرنا تھا اپنے حقیقی معنی کی وجہ سے۔ تو یہ جواب دے رہے ہیں صاحب کتاب کہ کہتے ہیں "فَإِذَا تَعَذَّرَ الْعَمَلُ بِالْحَقِيقَةِ" جب متعذر ہو جائے ممکن نہ رہے عمل حقیقت پر، حقیقت پر "لِمَانِعٍ" کسی مانع کی وجہ سے "كَالْعُرْفِ" جیسے کہ عرف ہے "كَمَا لَوْ حَلَفَ" جیسے کسی شخص نے قسم اٹھائی "أَنْ يَضْرِبَهُ" کہ وہ پٹائی کرے گا اس کی، کسی دوسرے کی یعنی کہ کہ وہ پٹائی کرے گا اس کی "حَتَّى يَمُوتَ" یہاں تک کہ وہ مر جائے "أَوْ حَتَّى يَقْتُلَهُ" یا یہاں تک کہ اسے قتل کر دے "حُمِلَ عَلَى الضَّرْبِ الشَّدِيدِ" تو اس کو محمول کس پر کیا جائے گا؟ ضرب شدید پر "بِاعْتِبَارِ الْعُرْفِ" عرف کے اعتبار سے۔ تو اب موت سے پہلے بھی اس کو چھوڑ دے تو پھر حانث نہیں ہو گا۔ اور قتل اس کے ہو جانے سے پہلے بھی اس کو چھوڑ دے تو حانث نہیں، ہاں ضرب شدید ہونی چاہیے۔ دو، تین، چار جوتے مار دیے یہ نہیں مراد بھئی۔ بات سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھی خاصی پٹائی ہونی چاہیے اس کی۔ پھر قسم پوری ہوگی۔ "وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْأَوَّلُ قَابِلًا لِلِامْتِدَادِ وَالْآخِرُ صَالِحًا لِلْغَايَةِ" جی بھئی اب بتلا رہے ہیں دوسرا معنی کہ کبھی "حَتَّى" کس معنی میں آئے گا؟ "كَيْ" کے معنی میں آئے گا بھئی "كَيْ" کے معنی میں۔ یعنی یہ بتلائے گا کہ ماقبل سبب ہے اور مابعد مسبب اور جزا ہے جزا ہے۔ یہ کب؟ کہتے ہیں جب پہلی دو شرطیں پوری نہ ہوں جو ہم نے ذکر کیں۔ پہلی شرط کیا تھی؟ اول میں امتداد جب پہلی شرط پوری نہ ہو یعنی اول میں امتداد نہ ہو اور ثانی شرط کیا تھی؟ غایہ بننے کی صلاحیت، تو یہاں وہ بھی پوری نہ ہو یعنی مابعد میں غایہ بننے کی صلاحیت بھی، تو اول میں امتداد بھی نہ ہو اور ثانی میں غایہ بننے کی صلاحیت بھی نہ ہو تو پھر اس کو کیا کریں گے؟ کس معنی پر محمول کریں گے؟ مجازی معنی یعنی "كَيْ" کے معنی میں ہوگا سببیت بتلائے گا۔ لیکن اس کے لیے بھی پھر دو اور شرطیں ہیں۔ سببیت کے لیے بنے گا لیکن کب؟ جبکہ ماقبل میں سبب اور مابعد میں جزا بننے کی صلاحیت ہو۔ بھئی کیا بتلانا ہے اس نے کہ ماقبل سبب ہے اور مابعد کیا ہے اس کی؟ جزا ہے۔ تو یہ ہوگا بھی جب ماقبل میں سبب بننے کی صلاحیت ہو اور مابعد میں جزا بننے کی، تو پھر یہ "كَيْ" کے معنی میں ہوگا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر تو اس کا ماقبل میں سبب اور مابعد میں جزا بننے کی صلاحیت بھی، تو پھر تو "كَيْ" کے معنی میں بھی نہیں لے سکتے، پھر اس وقت یہ عطف محض کے لیے ہوگا، کس کے لیے ہوگا؟ یہ آگے جا کر بتلائیں گے۔ "وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْأَوَّلُ قَابِلًا لِلِامْتِدَادِ" اور اگر پہلا امتداد کے قابل بھی نہ ہو "وَلَا الْآخِرُ صَالِحًا لِلْغَايَةِ" آخر کا عطف کس پر ہے؟ اول پر "أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْآخِرُ صَالِحًا لِلْغَايَةِ" اور اگر نہ ہو دوسرا غایہ غایہ کی صلاحیت رکھنے والا نہ ہو، تو یعنی دونوں شرطیں نہ پائی گئیں۔ البتہ "وَصَلُحَ الْأَوَّلُ سَبَبًا وَالْآخِرُ جَزَاءً" اور صلاحیت رکھتا ہو پہلا سبب بننے کی اور دوسرا جزا بننے کی "يُحْمَلُ عَلَى الْجَزَاءِ" تو ثانی کو، "حَتَّى" کو محمول کریں گے کس پر؟ جزا پر محمول کریں گے۔ جی، سمجھ میں آیا؟ یا جزا، دوسرے کو کس پر محمول کریں گے؟ جزا پر، دوسرے کو جزا پر محمول کریں گے۔ یعنی تو تو یہ "كَيْ" کے معنی میں ہو گا۔ "وَمِثَالُهُ" مثال اس کی "مَا قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ" وہ جو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے "إِذَا قَالَ لِغَيْرِهِ" جب کسی آقا نے غیر سے کہا، کسی دوسرے سے کہا "عَبْدِي حُرٌّ" میرا غلام آزاد ہے "إِنْ لَمْ آتِكَ" اگر میں تیرے پاس، ترجمہ غور سے سنو، اگر میں تیرے پاس اس لیے نہ آؤں، اگر میں تیرے پاس اس لیے نہ آؤں "حَتَّى تُغَدِّيَنِي" تاکہ تو مجھے ناشتہ کروا دے۔ غدا میں نے بتلایا چاشت کا کھانا ہے مولانا۔ عرب قدیم بھئی یہ لوگ یہ ناشتہ وغیرہ نہیں جانتے تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں صبح صبح کام وغیرہ پر نکل جاتے اور نو بجے کے لگ بھگ یہ ان کے دوپہر کا کھانا ہوتا تھا بھئی، اسے چاشت غدا کہتے تھے اور پھر دوپہر کو کھانا نہیں ہوتا تھا شام کے وقت ہوتا تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اب ناشتہ مراد لے لو اس سے اب، اب تو تین وقت کا کھانا ہو گیا ہے بھئی۔ تو کیا کہا اس نے؟ میرا غلام آزاد ہے اگر میں تیرے پاس اس لیے نہ آؤں تاکہ تو مجھے ناشتہ کروا دے۔ تو تو مجھے، تو دیکھو یہاں "حَتَّى" کا ترجمہ میں نے "تاکہ" سے کیا۔ اس لیے نہ آؤں تاکہ تو مجھے کیا کروا دے؟ ناشتہ کروا دے۔ یعنی آنا سبب ہے اور اس کی جزا اور بدلہ کیا ہے؟ ناشتہ کروانا ہے۔ تو سببیت کا فائدہ دیا، کس کا فائدہ دیا؟ سببیت کا فائدہ۔ یہ ہم ترجمہ کیا، "حَتَّى" کو "كَيْ" کے معنی میں لیا۔ کیوں لیا بھئی "كَيْ" کے معنی میں؟ اس لیے کہ پہلی دونوں شرطیں پوری نہیں۔ آنا، ماقبل میں امتداد نہیں مولانا۔ اتیان ذکر ہے، آنا، اور آنے میں امتداد نہیں، آنا تو ایک آنی چیز ہے، ایک آن میں، ایک لمحے کی چیز ہے۔ آپ زید کے انتظار میں ہیں، جیسے ہی زید پہنچا، آپ کہتے ہیں زید آ گیا۔ اب اس میں طول ہو سکتا ہے؟ طول نہیں۔ یا آپ انتظار میں کھڑے ہیں، جیسے ہی زید آپ کو نظر آتا ہے، آپ فوراً کہتے ہیں زید آ گیا، زید آ گیا۔ تو ایک نظر پڑتے ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ آ گیا، پہنچ گیا، تو یہ ایک لمحے میں ہے، اس میں امتداد طول نہیں۔ تو اول میں امتداد کی صلاحیت، امتداد نہیں مولانا، اور ثانی میں جزا، ثانی میں غایہ بننے کی صلاحیت نہیں۔ ثانی کیا ہے؟ ناشتہ کروانا، اور ناشتہ کروانا یہ آنے، اس پر آنے کی انتہا ہو سکتی ہے؟ ناشتہ کروانے کی وجہ سے کوئی آنا چھوڑتا ہے؟ ناشتہ کرواؤ گے تو اگلے دن تو وہ دوبارہ پہنچ جائے گا، تیسرے دن پھر پہنچ جائے گا بھئی! تو ناشتہ کروانے کی وجہ سے آنے کو چھوڑا نہیں جاتا بلکہ آنا اور زیادہ، تو کھانا وغیرہ کھلاؤ گے تو پھر تو آنا اور۔ تو اول میں امتداد نہیں اور ثانی میں غایہ بننے کی صلاحیت نہیں۔ لہٰذا اب "حَتَّى" کو کس معنی پر محمول کریں گے؟ "كَيْ" کے معنی پر، یعنی یہ بتلائے گا کہ ماقبل سبب ہے اور مابعد، لیکن اس کے لیے بھی پہلے کیا دیکھنا پڑے گا؟ کہ اول میں سبب اور ثانی میں جزا بننے کی صلاحیت ہو، اور یہاں صلاحیت ہے کہ آنا وہ سبب ہو سکتا ہے کس چیز کا؟ ناشتہ کروانے کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ناشتہ کہ آئے تو وہ جزا بدلے میں اس کو کیا کروائے؟ ناشتہ کروائے۔ تو کسی نے غیر سے کہا "عَبْدِي حُرٌّ" میرا غلام آزاد ہے "إِنْ لَمْ آتِكَ" اگر میں تیرے پاس اس لیے نہ آؤں "حَتَّى" تاکہ تو مجھے ناشتہ کروائے "فَأَتَاهُ" پس وہ اس کے پاس آیا "فَلَمْ يُغَدِّهِ" اس نے اس کو ناشتہ نہیں کروایا "لَا يَحْنَثُ" وہ حانث نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہاں "حَتَّى" غایہ کے لیے نہیں ہے، غایہ کے بغیر، سمجھ میں آیا؟ بھئی اوپر والی مثالوں میں آپ نے دیکھا تھا، بغیر غایہ کے پائے جائے، غایہ کے پائے جانے کے بغیر ہی اگر اس نے فعل کو روک دیا تھا تو کیا ہو جاتا تھا؟ حانث۔ اور یہاں پر کیا ہے؟ غایہ نہیں، جب غایہ نہیں پایا جاتا تھا تو کیا ہو جاتا تھا وہ؟ حانث، تو یہاں بھی غایہ نہیں پایا گیا لیکن پھر بھی وہ حانث نہیں، کیونکہ یہاں "حَتَّى" غایہ کے معنی میں ہے ہی نہیں، ہے ہی نہیں۔ "فَأَتَاهُ" پس وہ اس کے پاس آیا "فَلَمْ يُغَدِّهِ" پس اس نے اس کو ناشتہ، ناشتہ نہیں کروایا "لَا يَحْنَثُ" وہ حانث نہیں ہو گا "لِأَنَّ التَّغْدِيَةَ لَا تَصْلُحُ غَايَةً لِلْإِتْيَانِ" اس لیے کہ ناشتہ کروانا یہ صلاحیت نہیں رکھتا غایہ بننے کی "لِلْإِتْيَانِ" کس کے لیے؟ آنے کے لیے "بَلْ هُوَ الدَّاعِي إِلَى زِيَادَةِ الْإِتْيَانِ" بلکہ وہ تو دعوت دینے والا ہے زیادہ آنے کی "وَصَلُحَتْ جَزَاءً" ہاں وہ صلاحیت رکھتا ہے جزا بننے کی، جی جزا بننے کی، سمجھ میں آیا؟ ناشتہ کیا ہے؟ جزا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے "فَيُحْمَلُ عَلَى الْجَزَاءِ" تو اس کو محمول کس پر کیا جائے گا؟ جزا پر محمول کیا جائے گا "فَيَكُونُ بِمَعْنَى لَامِ كَيْ" تو یہ کس معنی میں ہو گا؟ "حَتَّى" لام کی کے معنی میں ہو جائے گا "فَصَارَ" پس ہو گیا "كَمَا لَوْ قَالَ" جیسے کہ اس نے کہا ہو، گویا کہ اس نے یہ یوں کہا ہے، یوں کلام اس طرح ہوا گویا کہ اس نے یہ کہا ہو "إِنْ لَمْ آتِكَ إِتْيَانًا جَزَاؤُهُ التَّغْدِيَةُ" اگر میں تیرے پاس، یعنی میرا غلام آزاد ہے "إِنْ لَمْ آتِكَ إِتْيَانًا" اگر میں تیرے پاس نہ آؤں ایسا آنا "جَزَاؤُهُ التَّغْدِيَةُ" جس کی جزا کیا ہو؟ ناشتہ ہو۔ اگر میں تیرے پاس ایسا آنا نہ آؤں جس کی جزا کیا ہو؟ ناشتہ ہو تو میرا غلام آزاد ہے، تو وہ تو اس کے پاس آیا ہے ایسے آنے کے ساتھ جس کی جزا کیا ہو سکتی ہے؟ ناشتہ، یعنی تعظیم کے طریقے پر آیا ہو مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ لڑنے کے لیے نہ پہنچا ہو، گالیاں دینے کے لیے نہ پہنچا ہو، کیونکہ گالیاں دینے پہنچے یا لڑنے پہنچے یہ تو ایسا آنا نہیں ہے جس کی جزا کیا ہو؟ ناشتہ کروانا ہو، تو گالیاں دینے پہنچے، لڑنے مارنے پہنچے تو کیا اس کو ناشتہ کروائے گا کوئی؟ جس کی اس آنے کی جزا ناشتہ کروانا نہیں ہو سکتا، تو عزت کے اچھے طریقے سے آئے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جس کی جزا ناشتہ بن سکے۔ بات سمجھ میں آئی سب کو؟ "وَإِذَا تَعَذَّرَ هَذَا" اور اگر یہ بھی متعذر ہو جائے، یہ بھی ممکن نہ رہے مولانا، "حَتَّى" کو لام کی کے معنی میں بھی نہ لے سکیں۔ بھئی پہلی دو شرطیں نہ پائی گئیں کہ ماقبل میں امتداد نہیں، ثانی میں ثانی میں غایہ بننے کی صلاحیت نہیں، تو پھر اسے لے جائیں گے لام کی کی طرف، لیکن اس میں پھر پہلے کیا دیکھیں گے کہ اول میں سبب اور ثانی میں جزا بننے کی، اگر ایسا بھی نہ ہو سکے تو پھر "حَتَّى" کس لیے آئے گا؟ عطف محض "وَإِذَا تَعَذَّرَ هَذَا" اور جب یہ معنی بھی متعذر ہو جائے یعنی ہم جزا پر محمول کرنا بھی ممکن نہ رہے "بِأَنْ لَا يَصْلُحَ الْآخِرُ جَزَاءً لِلْأَوَّلِ" "بِأَنْ لَا يَصْلُحَ الْآخِرُ جَزَاءً لِلْأَوَّلِ" کہ اول، کہ ثانی صلاحیت نہ رکھے اول کے لیے جزا بننے کی "حُمِلَ عَلَى الْعَطْفِ الْمَحْضِ" تو اس کو محمول کیا جائے گا کس پر؟ عطف محض پر، یعنی یہ صرف فاء یا ثم کے معنی میں ہو جائے گا، فاء یا جیسے فاء اور ثم عطف کا فائدہ دیتے ہیں۔ "مِثَالُهُ" مثال اس کی "مَا قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ" وہ جو ذکر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے "إِذَا قَالَ" ایک شخص نے کہا "عَبْدِي حُرٌّ" میرا غلام آزاد ہے "إِنْ لَمْ آتِكَ حَتَّى أَتَغَدَّى عِنْدَكَ الْيَوْمَ" آپ کا "عَبْدِي حُرٌّ إِنْ لَمْ آتِكَ حَتَّى أَتَغَدَّى عِنْدَكَ الْيَوْمَ" جی، اب یہاں پر دیکھو مولانا! ماقبل میں اتیان کا ذکر ہے "حَتَّى" سے پہلے، اس میں امتداد ہے؟ نہیں، اور مابعد میں ناشتے کا ذکر ہے، اور ناشتہ اتیان، آنے کے لیے غایہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ نہیں، تو پھر اس کو اب لام کی کے معنی میں لیں گے، لیکن اس کے لیے شرط تھی کہ اول کیا ہو؟ سبب ہو اور ثانی کیا ہو؟ اول میں سبب اور ثانی میں جزا بننے کی صلاحیت ہو، لیکن یہاں پر یہ بھی نہیں ہے، کیوں؟ اس لیے کہ ماقبل میں اتیان کا ذکر ہے، کس کا؟ اتیان، اور یہ اتیان کس کی طرف منسوب ہے؟ متکلم کی طرف، اتیان کس کا آنا ذکر ہو رہا ہے؟ متکلم کا، اور مابعد میں ناشتہ کرنے کا ذکر ہو رہا ہے اور وہ ناشتہ کرنا بھی کس کی طرف منسوب ہے؟ متکلم کی طرف منسوب ہے، تو تو ماقبل اور مابعد کے دونوں دونوں فعل ایک ہی ذات کی طرف منسوب ہیں۔ کیا ہیں؟ ایک ہی ذات کی طرف منسوب ہیں، اور تو گویا اپنے فعل کا بدلہ خود ہی دے رہا، خود ہی دے آدمی، معنی یہ ہوا، اپنے فعل کا بدلہ اور اس کی جزا خود ہی دے، اور حالانکہ ایسا نہیں ہوتا، اپنے آپ کو کوئی بدلہ نہیں دیتا، اپنے ہی فعل کو کے لیے کس کو جزا بنائے؟ اپنے ہی فعل کو، یعنی اپنے فعل کا بدلہ خود ہی دے، ایسا نہیں ہوتا، تو یہاں چونکہ دونوں ایک ہی ذات کی طرف منسوب ہیں تو لہٰذا ثانی جزا بننے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، جب جزا بننے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا تو غایہ کا معنی بھی ممکن نہ رہا، کی کا معنی بھی ممکن نہ رہا، تو یہ اب کس لیے آئے گا؟ عطف محض کے معنی، اور ترجمہ یوں ہو گا مولانا: میرا غلام آزاد ہے اگر میں تیرے پاس نہ آؤں پھر "أَتَغَدَّى" یہ بھی ماقبل کی طرح منفی کر لیں، ترجمہ کرنے میں کیا کر لیں؟ منفی، پھر معنی واضح ہو گا، اگر میں تیرے پاس نہ آؤں پھر آج کے دن تیرے پاس ناشتہ نہ کروں، پھر آج کے دن میں تیرے پاس "حَتَّى" یہاں تک کہ ناشتہ "لَمْ أَتَغَدَّى" تیرے پاس میں ناشتہ، میں ناشتہ نہ کروں "عِنْدَكَ" تیرے پاس آج کے دن، اگر میں تیرے پاس نہ آؤں پھر تیرے پاس ناشتہ آج کے دن نہ کروں تو میرا غلام آزاد ہے، اب دونوں فعلوں کا پایا جانا ضروری ہے تو پھر یہ کیا ہو گا؟ حانث نہیں ہو گا، ورنہ کیا ہو جائے گا؟ حانث، آئے بھی اور اس کے پاس کیا کرے؟ اس نے خود تو کہا ہے، اگر میں تیرے پاس نہ آؤں اور پھر تیرے پاس ناشتہ نہ کروں تو میرا غلام کیا ہے؟ آزاد ہے، تو اب آئے بھی اور ناشتہ بھی کرے تو حانث ہونے سے بچ جائے گا، ورنہ کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ یا یوں کہا کسی نے یا "عَبْدِي حُرٌّ إِنْ" اگلی عبارت دیکھیں، اس کے ساتھ بھی "عَبْدِي حُرٌّ" کو ملا لیں، "عَبْدِي حُرٌّ إِنْ لَمْ تَأْتِنِي حَتَّى تَغَدَّى عِنْدِي الْيَوْمَ" جی "حَتَّى تَغَدَّى عِنْدِي الْيَوْمَ" غدا یغدی کا معنی ناشتہ کروانا اور تغدا یتغدا کا معنی ناشتہ کرنا، تو یہاں ناشتہ کرنا ہی کے معنی ہے، تو باب تفعل بناؤ۔ میرا غلام آزاد ہے "إِنْ لَمْ تَأْتِنِي" اگر تو میرے پاس نہ آئے پھر، اسی معنی، وہی معنی کرو، پھر "تَغَدَّى" پھر تو ناشتہ نہ کرے "عِنْدِي" میرے پاس "الْيَوْمَ" آج کے دن، میرا غلام آزاد ہے اگر تو میرے پاس نہ آئے پھر میرے پاس ناشتہ آج کے دن نہ کرے، تو دونوں دیکھو بھئی، فعل ایک ہی کی طرف منسوب ہیں، دونوں فعل مخاطب کی طرف یہاں منسوب ہیں، لہٰذا مابعد جزا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تو لہٰذا اس صورت میں عطف محض کا فائدہ دے گا اور دونوں فعلوں کا پایا جانا ضروری، تو اب وہ مخاطب اس کے پاس آئے بھی اور اس کے پاس ناشتہ بھی کر لے، پھر یہ حانث ہونے سے بچے گا ورنہ کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ "فَأَتَاهُ" پس وہ اس کے پاس آیا "فَلَمْ يَتَغَدَّ عِنْدَهُ" پس اس کے پاس ناشتہ نہیں کیا "فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ" اس دن کے اندر "حَنِثَ" تو کیا ہو جائے گا؟ دونوں کا پایا جانا ضروری تھا، ایک تو پایا گیا لیکن دوسرا نہیں پایا گیا۔ "وَذَلِكَ" اور یہ اس وجہ سے، عطف محض پر کیوں محمول کیا؟ کہتے ہیں "لِأَنَّهُ لَمَّا أُضِيفَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الْفِعْلَيْنِ إِلَى ذَاتٍ وَاحِدَةٍ" جب نسبت کر دی گئی ہر ایک کی دونوں فعلوں میں سے "إِلَى ذَاتٍ وَاحِدَةٍ" کس کی جانب؟ جب دونوں فعلوں میں سے ہر ایک کی نسبت کر دی گئی ایک ہی ذات کی طرف "لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ فِعْلُهُ جَزَاءً لِفِعْلِهِ" تو یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ ہو اسی کا فعل بدلہ اسی کے فعل کے لیے، اسی کا فعل جزا ہو اسی کے، اس کا اپنا فعل جزا ہو اس کے اپنے فعل کے لیے "فَيُحْمَلُ عَلَى الْعَطْفِ" تو اس کو محمول کیا جائے گا کس پر؟ "عَلَى الْعَطْفِ الْمَحْضِ" عطف محض پر "فَيَكُونُ الْمَجْمُوعُ شَرْطًا لِلْبِرِّ" تو دونوں کا مجموعہ کیا ہو جائے گا؟ شرط ہو جائے گا "لِلْبِرِّ" قسم کے پورا ہونے کے لیے، بر کا کیا معنی؟ قسم کا پورا ہونا بھئی، سچا ہونا، تو دونوں فعلوں کا مجموعہ شرط ہو گا قسم کے پورا ہونے کے لیے، دونوں میں سے اگر ایک نہ پایا گیا تو بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 78 of 123