Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-119

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا بھئی کہ احکام شرعیہ جو ہیں، ان کا تعلق اپنے اسباب سے ہوتا ہے بھئی۔ ان کا تعلق اپنے اسباب سے ہوتا ہے اس لیے کہ وجوب ہم سے غائب ہے، لہذا کوئی علامت ہونی چاہیے جس کے ذریعے ہمیں پتہ چلے کہ ہم پر کیا آگیا ہے اب؟ وجوب آگیا ہے، تو اس کے لیے شریعت نے اسباب پیدا فرمائے بھئی۔ تو لہذا احکام کی نسبت اس وجہ سے سبب کی طرف کی جائے گی کہ سبب کے ذریعے اس کی پہچان ہوتی ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد مصنف بعض احکام شرعیت کے اسباب کو بیان کرنے لگے بھئی۔ سب سے پہلے نماز کے بارے میں بتلایا کہ نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے وقت ہے۔ اور اس پر پھر دو دلیلیں ذکر کیں: ایک یہ دلیل کہ اس سے پہلے خطاب، متوقع کے آنے سے پہلے خطاب بندے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور بندے پر ادائیگی واجب نہیں ہوتی۔ اگر وقت سبب نہ ہوتا تو خطاب پہلے ہی متوجہ ہو جاتا اور پہلے ہی بندے پر کیا ہو جاتی؟ ادائیگی بھی واجب ہو جاتی، اس لیے کہ خطاب سے وجوبِ ادا آ رہا ہے بھئی۔ اور دوسری دلیل یہ ذکر کی کہ اس لیے کہ وجوب ان پر بھی آیا کرتا ہے جن کو خطاب شامل ہی نہیں، جیسے بے ہوش ہے یا سویا ہوا بھئی۔ 24 گھنٹے سے جو کم جس پر بے ہوشی طاری ہوئی، تو ان پر بھی وجوب آ جایا کرتا ہے اور ان کو بعد میں قضا کرنا پڑتی ہے، حالانکہ خطاب تو ان کی طرف متوجہ ہی نہیں تھا، ان کو شامل ہی نہیں تھا، اس لیے کہ یہ خطاب کو سمجھنے کی سمجھ ہی اس حالت میں خطاب کو یہ سمجھ ہی نہیں سکتے بھئی۔ پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ بھئی وقت کا جو جزِ اول ہے، وہ سبب بنتا ہے اور پھر اس سے آگے باقی اجزا کیسے سبب بنتے ہیں؟ اس کے دو طریقے ذکر کیے: پہلا طریقہ یہ کہ سببيت منتقل ہوتی ہے جزِ ثانی کی طرف۔ پہلا جز سبب بنا نماز کے وجوب کا اور اس میں جب ادا نہیں کی تو پھر اگلا جز آیا، تو وہ سبب بن گیا، پھر اس کے فوراً بعد بھی ادا نہیں کی تو پھر تیسرا جز آیا، وہ کیا بن گیا؟ سبب بن گیا، تو یہ سببيت منتقل ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ آخری جز آ جاتا ہے اور جب آخری جز آ جائے تو پھر وہ واجب کیا ہو جاتا ہے؟ پختہ ہو جاتا ہے بھئی، پختہ ہو جاتا ہے، وجوب پختہ ہو جاتا ہے۔ اور اس وقت پھر بندے کی حالت کا بھی اعتبار کیا جائے گا اس آخری جز میں اور اسی طرح اس وقت کی صفت کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ بندے کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا بایں لحاظ، یہ دیکھا جائے گا کہ اس میں اہلیت ہے یا اہلیت نہیں، اگر اہلیت ہے تو اس پر وجوب آئے گا، اگر اہلیت نہیں تو وجوب بھی نہیں آئے گا۔ اور اسی طرح صفت اس آخری جز کی صفت بھی دیکھیں گے کہ یہ کامل ہے یا ناقص۔ اگر وہ کامل ہے تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل، اگر وہ وقت ناقص ہے تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ ناقص۔ لہذا اب اگر کوئی شخص فجر کی نماز ادا کرتا ہے اور دورانِ نماز سورج طلوع ہو جاتا ہے تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ نماز اس کی باطل ہو جائے گی بھئی، ٹوٹ جائے گی، کیوں؟ اس لیے کہ فجر کی نماز کا آخری وقت کیا ہے؟ طلوعِ فجر سے پہلے پہلے اور یہ وقت کامل ہے، لہذا وجوب کیسا آیا؟ کامل آیا، اب کامل آیا تو ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے اور دورانِ نماز سورج طلوع جب ہوا، تو اب بغیر نقصان کے نماز کو پورا کرنا ممکن نہیں، تو نماز ناقص ادا ہوگی اور وجوب کامل آیا تھا، لہذا اب ناقص ادا صحیح نہیں۔ جبکہ عصر کی نماز کا آخری وقت ناقص ہے، اس لیے کہ وہ سورج کے سرخ ہونے کا وقت ہے بھئی، سورج کی عبادت کرنے والے اس وقت سورج کو سجدہ کرتے ہیں بھئی اور اسی لیے اس وقت کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے حدیث کے اندر بھئی۔ تو چنانچہ اس وقت یہ وقت ناقص ہے، تو وجوب بھی کیسا آیا عصر کی نماز کا؟ ناقص، تو لہذا ادا بھی ناقص کر لے تو ٹھیک ہو جائے گی، تو اسی وقت میں اگر کوئی ادا کر لے تو ادا ہو جائے گی اور اگر دورانِ نماز سورج غروب ہو گیا تو پھر بھی کیا ہو جائے گی اس کی نماز؟ ادا ہو جائے گی، اس لیے کہ وجوب بھی ناقص آیا تھا اور یہ ادا بھی کیسی کر رہا ہے؟ ناقص کر رہا ہے، تو ٹھیک ہو جائے گا بھئی۔ پھر دوسرا طریقہ یہ بتلایا تھا کہ بھئی اول سبب جز بنتا ہے، باقی اجزا کیسے سبب بنیں گے؟ بتلایا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر سبب جو ہر جز جو ہے مستقل سبب بنے گا، پہلے سے سببيت منتقل نہیں ہوگی، ہر ایک مستقل سبب بنے گا بھئی، اس لیے کہ اگر پہلے قول کو اختیار کیا جائے کہ سببيت منتقل ہوتی چلی جاتی ہے ایک دوسرے سے دوسرے اور تیسرے اور چوتھے کو، تو اس صورت میں پہلے کی سببيت باطل کرنا لازم آئے گی، پھر جب دوسرے سے تیسرے کی طرف منتقل ہوگا، تیسرا سبب ہم قرار دے دیں گے تو دوسرے کی سببيت کیا ہو گئی؟ باطل قرار دینا لازم آیا اور اسی طرح تیسرے سے پھر جب چوتھے کی طرف منتقل ہوگی تو سبب چوتھا بن گیا اور تیسرے کی سببيت کیا ہو جاتی تھی؟ باطل، تو اس صورت میں حالانکہ ان کی سببيت تو شریعت نے ثابت کی ہے اور جس چیز کو شریعت نے ثابت کیا ہو اس کو باطل کرنا تو درست نہیں، باطل کرنا درست نہیں۔ لہذا کہتے ہیں مناسب یہ ہے کہ ہر جز کو مستقل سبب قرار دیا جائے اور کہتے ہیں یہ اشکال پھر آپ کے ذہن میں نہ آئے کہ یہ تو سبب بہت سارے آ گئے، ہر جز سبب ہے، تو وجوب بھی کیا آنے چاہییں؟ متعدد آنے چاہییں، تو پھر تو بہت نمازیں ادا کرنی چاہییں بھئی، حالانکہ وجوب تو ایک نماز کا ہوتا ہے۔ تو جواب دیا اس لیے کہ وہ ہر ہر جز بعینہِ اسی ایک واجب کو کیا کر رہا ہے؟ ثابت کر رہا ہے، کوئی الگ واجب ثابت پہلے جز نے جس ظہر کی نماز کو واجب کیا ہے، دوسرا جز بھی بعینہِ اسی کو واجب کر رہا ہے، تیسرا بھی بعینہِ اسی کو کیا کر رہا ہے؟ واجب کر رہا ہے بھئی۔ تو یہ گویا اس طرح ہو گیا جیسے ایک چیز کی بہت سی علتیں جمع ہو جائیں یا جیسے مقدمے کے اندر بہت سے گواہ جمع ہو جائیں بھئی، تو علتیں متعدد ہوئیں لیکن اس کے باوجود معلول پھر بھی کیا رہا؟ ایک ہی رہا بھئی۔ اور اس کے بعد بتلایا تھا کہ بھئی روزے کے وجوب کا سبب وہ مہینہ ہے، وہ وقت ہے بھئی مہینے، وہ جب آئے گا تو پھر روزے کیا ہو جائیں گے؟ واجب۔ اور دوسری وجہ یہ کہ دلیل یہ کہ جی واجب ہوں گے، دلیل یہ اس کی ذکر کی، پہلی دلیل، پہلی دلیل یہ اس لیے کہ اس سے پہلے خطاب متوجہ نہیں ہوتا، اس سے پہلے خطاب متوجہ، اس سے پہلے ادائیگی نہیں ہو سکتی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ورنہ تو پہلے ہی ادائیگی کرنا پڑے۔ اور دوسری دلیل یہ کہ اضافت بھی اس کی طرف ہوتی ہے روزے کی اور اضافت ہمیشہ حکم کی کس کی طرف ہونی چاہیے؟ اصل کیا ہے؟ سبب کی طرف ہونی چاہیے، کہتے ہیں "صوم رمضان"، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا "قیام رمضان"، تو رمضان کی جانب اس کی اضافت ہوتی ہے، معلوم ہوا رمضان کا مہینہ کیا ہے اس کے لیے؟ سبب۔ پھر اس کے بعد بتلایا کہ وجوبِ زکوۃ کا سبب وہ نصاب ہے، وہ کیا ہے؟ اس نصاب کا مالک ہونا ہے اور وہ نصاب بھی نامی ہو، اس میں نما پائی جائے، بڑھنا پایا جائے، کیا پایا جائے؟ بڑھنا پایا جائے، پھر یہ بڑھنا کبھی حقیقتاً ہوگا جیسے مالِ تجارت اور کبھی بڑھنا کیا ہوگا؟ حکماً ہوگا جیسے آپ کے پاس مال پڑا ہوا ہے، تجارت میں تو نہیں لگایا لیکن حکماً اس میں کیا ہے؟ نما ہے، بڑھنا ہے کہ اگر آپ اس کو تجارت میں لگا دیتے تو اس میں صلاحیت تھی کہ کیا ہو سکتا تھا؟ بڑھ سکتا تھا۔ لہذا اسی وجہ سے کہ زکوۃ کے وجوب کا سبب وہ نصابِ نامی ہے، اگر کسی کے پاس نصاب موجود ہے اور وہ وقت سے پہلے زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو ادا ہو جائے گی، اس لیے کہ سببِ وجوب کیا ہے؟ سببِ وجوب موجود ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی، اور اس کے بعد بھئی حج کے بارے میں بتلایا کہ حج کے وجوب کا سبب بیت اللہ ہے، بیت اللہ ہے۔ اور اس کی کیا دلیل ہے؟ دو دلیلیں ذکر کیں: پہلی دلیل یہ اس لیے کہ حج کی اضافت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ بیت اللہ کی طرف، "حج بیت اللہ" کہتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، اور دوسری دلیل یہ ذکر کی کہ اس میں حج کے اندر عمر بھر میں تکرار بھی نہیں بھئی، تکرار بھی نہیں، معلوم ہوا اس کا سبب بیت اللہ ہے اس لیے کہ بیت اللہ میں تکرار نہیں، وہ ایک ہے، تو حج بھی عمر بھر میں کتنی مرتبہ فرض ہے؟ ایک ہی مرتبہ فرض ہے بھئی۔ تو اب کوئی شخص کسی پر اگر ابھی اور ہاں، حج کے اندر میں نے بتایا زاد اور راہلہ کا ہونا کیا ہے؟ شرط ہے بھئی، شرط ہے۔ اب اگر کوئی شخص کے پاس زاد اور راہلہ نہیں، کوئی اس کو حج کروا دیتا ہے یا وہ کسی طرح حج کر لیتا ہے، تو کیا اس کا حجِ فرض ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ تو کہتے ہیں حجِ فرض کیا ہو جائے گا؟ اس لیے کہ سبب پایا جا رہا ہے، وجوب کا سبب موجود ہے، تو لہذا اب اس کو ادا بھی جلدی کر سکتا ہے۔ اور کہتے ہیں اس کے ذریعے یہ ممتاز ہوا حج کس سے؟ زکوۃ سے۔ اگر زکوۃ کسی کے پاس نصاب نہیں ہے اور وہ پہلے سے ہی دینا چاہتا ہے آنے والے سالوں کی زکوۃ، تو یہ زکوۃ ادا نہیں، اس لیے کہ نصاب ہی نہیں ہے، سبب بھی نہیں پایا جائے گا۔ پھر بتلایا صدقہ فطر کا سبب وہ ایسا رأس ہے جس کی انسان کفالت کرتا ہے اور اس پر سرپرست ہوتا ہے، نگران ہوتا ہے، نگہبان ہوتا ہے، ولی ہوتا ہے بھئی۔ اور اس سبب کے اعتبار سے جائز ہے جلدی ادا کرنا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ عید کے دن سے پہلے اگر کوئی شخص کیا کرنا چاہتا ہے؟ صدقہ فطر ادا کرنا چاہتا ہے، تو صدقہ فطر کا سبب تو رأس ہے، وہ شخص ہے اور وہ شخص موجود ہے تو ادا جلدی بھی کر سکتا ہے، کیونکہ وجوب کا سبب کیا ہے؟ پایا جا رہا ہے، تو نفسِ وجوب آ چکا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَسَبَبُ وُجُوبِ العُشْرِ الأَرَاضِي النَّامِيَةُ بِحَقِيقَةِ الرَّئِ وَسَبَبُ وُجُوبِ الخَرَاجِ الأَرَاضِي الصَّالِحَةُ لِلزَّرَاعَةِ فَكَانَتْ نَامِيَةً حُكْمًا جی، یہاں سے عشر اور خراج کے اسباب ذکر کر رہے ہیں، عشر اور خراج کے۔ یاد رکھو ایک ہے عشر، ایک ہے خراج بھئی۔ عشر وہ ہے جو مسلمان سے پیداوار پر لیا جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس کی زمین سے جب فصل پیدا ہوئی، کوئی بھی فصل سال میں دو ہوں یا تین ہوں بھئی، اسے شکر کے طور پر دسواں حصہ کیا کرنا پڑتا ہے؟ جو عشر کہلاتا ہے بھئی، تو دسواں حصہ عشر، یہ دینا پڑتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور خراج جو مشرک وغیرہ ہیں ان کی زمین مسلمانوں کے مثلاً مسلمانوں نے قبضہ کیا کسی علاقے پر اور مشرکین جو تھے ان سے ان کی زمین لی نہیں، انہی کے پاس رہنے دی، تو اس پر پھر عشر نہیں آتا بلکہ اس پر کیا آتا ہے؟ خراج آتا ہے اور یہ ان سے سال بھر میں ایک دفعہ لیا جاتا ہے بھئی، زمین کی پیداوار کے مطابق۔ تو عشر یاد رکھو ہر فصل پر دیا جائے گا، سال میں تین فصلیں ہوں یا چار فصلیں ہوں یا ایک ہو، جتنی فصلیں ہوں اس کے مطابق عشر ہوگا اور اگر کوئی فصل نہیں اگائی تو پھر اس صورت میں عشر بھی نہیں ہوگا۔ جبکہ خراج یاد رکھو سال میں ایک ہی مرتبہ دینا پڑے گا خواہ دو فصلیں اگائے، خواہ تین، خواہ چار اگائے بھئی، ایک دفعہ خراج دینا پڑے گا اور اس کے اندر فصل کا اگانا ضروری نہیں بھئی، فصل اگائے اس پر زمین قابلِ کاشت ہونی چاہیے یعنی اس میں کاشتکاری کے قابل ہو وہ فصل دینے والی زمین ہو۔ اب وہ چاہے جس کے پاس ہے اس نے کیا کیا بھئی؟ کوئی فصل ہی نہیں کاشت کی، پھر بھی اس کو خراج دینا پڑے گا۔ فرق پتہ چلا دونوں میں بھئی؟ عشر ہر فصل پہ آئے گا اور خراج کیا ہوگا؟ سال میں دینا پڑے گا چاہے پیداوار ہو یا پیداوار نہ ہو۔ جی، تو عشر کے اندر پیداوار کا حقیقتاً ہونا ضروری اور خراج کے اندر پیداوار کا حکماً ہونا کافی ہے، جب زمین قابلِ کاشت ہے اب وہ چاہے کاشت کرے یا کاشت نہ کرے پیداوار کیا ہے گویا حکماً موجود ہے، زمین حکماً نامی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ قابلِ کاشت ہونا ضروری ہے۔ تو دیکھیے بھئی، کہتے ہیں وَسَبَبُ وُجُوبِ العُشْرِ اور عشر کے وجوب کا سبب الأَرَاضِي النَّامِيَةُ وہ زمین ہے جو نامی ہو، جس میں نما پائی جائے، بڑھنا پایا جائے اور کیسے بڑھنا؟ کہتے ہیں بِحَقِيقَةِ الرَّئِ، رئ کہتے ہیں خارج کو، خارج من الارض یعنی پیداوار، پیداوار بھئی۔ بِحَقِيقَةِ الرَّئِ، حقیقتِ پیداوار کے ساتھ یعنی حقیقتاً پیداوار پائی جائے اس میں بھئی، تو بھئی عشر کے وجوب کا سبب کیا آیا بھئی؟ جی؟ زمین ہے، زمین ہے، کہتے بھی ہیں عشر الارض بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ نسبت ہو رہی ہے، اضافت ہو رہی ہے سبب کی طرف بھئی۔ تو وجوبِ عشر کا سبب کیا ہے؟ زمین ہے، لیکن کس طریقے پر؟ کہ اس میں نما کیسی ہو؟ حقیقی ہو، نما کیسی ہو؟ حقیقی ہو۔ تو سبب وہ زمین ہی ہے البتہ اس میں حقیقتاً نما کا ہونا ضروری بھئی۔ وَسَبَبُ وُجُوبِ الخَرَاجِ الأَرَاضِي الصَّالِحَةُ لِلزَّرَاعَةِ اور خراج کے وجوب کا سبب وہ بھی زمین ہے، لیکن اس میں نما حقیقتاً نہیں ہونا ضروری بلکہ الصَّالِحَةُ لِلزَّرَاعَةِ وہ زمین کیا ہونی چاہیے؟ اس میں صلاحیت ہو زراعت کی، قابلِ کاشت ہونی چاہیے، بس کاشت کرے یا کاشت نہ کرے، فَكَانَتْ نَامِيَةً حُكْمًا تو کیا ہوئی؟ وہ زمین نامی ہوئی، بڑھنے والی ہوئی حکماً۔ تو پہلی زمین کیا تھی؟ بڑھنے والی تھی حقیقتاً اور یہ کیا تھی؟ بڑھنے والی ہے حکماً جو ہو بڑھنے والی، بس اس زمین پر خراج آئے گا اور عشر کس پر آئے گا؟ وہ زمین جو حقیقتاً کیا ہو جس میں نما پایا جائے۔ صورت، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ عشر کے وجوب کا سبب بھی زمین، خراج کے وجوب کا سبب بھی زمین، لیکن ایک میں آپ نے شرط لگا دی حقیقتاً پیداوار ہونی چاہیے، حقیقتاً نما ہونی چاہیے، بڑھنا حقیقت میں پایا جائے اور دوسرے میں آپ نے کیا شرط لگائی؟ کہ حکماً نمائی کافی ہے چاہے وہ کاشت کرے یا کاشت، بس زمین قابلِ کاشت ہونی چاہیے۔ تو جواب یہ مولانا، یاد رکھو یہ جو عشر ہے، یہ بطورِ یہ کون ادا کرتا ہے؟ مسلمان، تو یہ بطورِ عبادت کے ہے، اس میں کون سا پہلو مدِ نظر ہے؟ عبادت والا پہلو ہے اور جبکہ عشر جو لیا جاتا ہے مشرک سے اس کی زمین سے، اس میں عقوبت کا پہلو ہے۔ اس میں کون سا پہلو ہے؟ عقوبت، تو یہ عشر کے اندر عبادت ہے اور خراج کے اندر عقوبت یعنی سزا ہے، کیا ہے؟ سزا ہے کہ وہ اسلام نہیں لاتا، تو بطورِ سزا کے اس کی زمین پر کیا لگایا گیا ہے؟ خراج بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو عشر ہے عباد، اس میں ہے عبادت اور خراج کے اندر کیا ہے؟ عقوبت ہے، سزا ہے۔ تو اس لیے عشر آیا مسلمان پر، اس میں عبادت کا پہلو، تو مسلمان کے لیے تخفیف کی گئی کہ حقیقتاً پیداوار ہو تو دے دو، حقیقتاً پیداوار نہیں تو عشر بھی نہیں اور کافر کے مسئلے میں چونکہ سزا والا سزا ہے، تو لہذا وہاں شدت کی گئی کہ پیداوار ہو یا پیداوار نہ ہو تمہیں کیا دینا پڑے گا؟ خراج دینا پڑے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ اس کے معاملے میں کیا کی گئی؟ شدت کی گئی کہ تو یہ اس کی، جب زمین قابلِ کاشت ہے تو پھر اس کا فصل نہ اگانا یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے، اب اس پہ کیا آئے گا؟ خراج آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَسَبَبُ وُجُوبِ الوُضُوءِ الصَّلاَةُ عِنْدَ البَعْضِ وَلِهَذَا وَجَبَ الوُضُوءُ عَلَى مَنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ جی، یرحمک اللہ۔ اور وضو کے وجوب کا سبب نماز ہے عند البعض، بعض علماء کے نزدیک۔ بھئی وضو کے وجوب کا کیا سبب ہے؟ بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ نماز ہے، جب بھی ارادہِ نماز کرو گے کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا بشرطیکہ حدث لاحق ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ وَلِهَذَا وَجَبَ الوُضُوءُ عَلَى مَنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ اسی وجہ سے وضو واجب ہوگا علیٰ من اس شخص پر وجبت علیہ الصلاۃ جس پر نماز واجب ہوگی۔ وَلَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ لَا صَلَاةَ عَلَيْهِ اور وضو نہیں ہوگا اس شخص پر جس پر نماز واجب نہیں، جس پر نماز واجب ہے اس پر وضو بھی واجب، جس پر نماز واجب نہیں اس پر وضو بھی واجب نہیں، یہ تو بعض علماء نے کہا تو وضو کے وجوب کا سبب انہوں نے کسے قرار دیا؟ نماز کو۔ وَقَالَ البَعْضُ سَبَبُ وُجُوبِهِ الحَدَثُ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ وضو کے وجوب کا سبب حدث ہے بھئی۔ کیا ہے؟ حدث کا لاحق ہونا ہے، وَوُجُوبُ الصَّلاَةِ شَرْطٌ اور وجوبِ صلاۃ اس کے لیے شرط ہے بھئی، حدث لاحق ہوگا تو وضو واجب ہو جائے گا۔ بشرطیکہ نماز کیا ہو؟ واجب ہو، نماز اس پر واجب ہو رہی ہو۔ وقد روی عن محمد رحمہ اللہ تعالیٰ ذلك نصا اور تحقیق روایت کیا گیا ہے امام محمد سے اس بات کو یعنی کہ یہ سبب کیا ہے وجوب وضو کا؟ حدث کیا ہے وجوب وضو کا؟ سبب ہے، جی نصاً تصریح کرتے تصریح کرتے ہوئے، امام محمد سے اس کی کیا ہے تصریح روایت کی گئی ہے بھئی، انہوں نے تصریح کی ہے حدث سبب ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو بعض علماء نے وضو کے وجوب کا سبب نماز کو قرار دیا اور بعض علماء نے حدث کو قرار دیا تو جنہوں نے وہ نماز کو وجوب قرار سبب وجوب قرار دیا وہ فرماتے ہیں کہ بھئی حدث صلاحیت نہیں رکھتا کہ وضو کے لیے سبب بنے بھئی۔ حدث کیا ہے؟ کہ وضو کے لیے سبب بنے، اس لیے کہ سبب مفضی الی الشیء ہوتا ہے، چیز تک پہنچانے والا ہوتا ہے، جبکہ حدث تو وضو کے منافی ہے۔ حدث ہے تو وضو نہیں، وضو ہے تو حدث نہیں تو حدث تو وضو کے منافی ہے، یہ تو وضو کو زائل کر دیتا ہے، طہارت کو کیا کر دیتا ہے؟ زائل کر دیتا ہے تو یہ مفضی الی الوضو نہیں ہے بھئی، یہ تو وضو کو کیا کرنے والا ہے؟ زائل کرنے والا ہے، تو لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ بات ہماری صحیح ہے کہ وضو کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ نماز ہے، جب جس پر نماز واجب، اس پر وضو بھی واجب، ہاں حدث شرط ہے بھئی۔ وسبب وجوب الغسل الحیض والنفاث والجنابۃ اور غسل کے وجوب کا سبب حیض ہے اور نفاس ہے اور جنابت ہے۔ حیض کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ اوہو! غسل کے غسل کے وجوب کا کیا سبب ہے؟ حیض، نفاس اور جنابت بھئی، اسی لیے انہی کی جانب اضافت بھی کی جاتی ہے۔ کیا کہتے ہیں بھئی؟ غسل الحیض، غسل النفاس، غسل الجنابۃ، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ ان کے سبب ہیں۔ فصل قال القاضی الامام ابو زید رحمہ اللہ تعالیٰ الموانع اربعۃ اقسام مانع یمنع انعقاد العلۃ ومانع یمنع تمامہا ومانع یمنع ابتداء الحكم ومانع یمنع دوامہ قاضی امام ابو زید فرماتے ہیں کہ موانع چار قسم پر ہیں بھئی، موانع کے بارے میں بتلائیں گے بھئی۔ وہ فرماتے ہیں بھئی موانع چار قسم پر ہیں، چار قسم پر بھئی، قاضی امام ابو زید یہ کوئی بڑے فقیہ گزرے ہوں گے بھئی، اصولی گزرے ہوں گے، ان کی بات نقل کر رہے ہیں تو بعض علماء نے تین قرار دیے ہیں موانع، بعضوں نے اور زیادہ قرار دیے ہیں بھئی، تو ان کے قول کو ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں قاضی امام ابو زید فرماتے ہیں الموانع اربعۃ اقسام موانع چار قسم پر ہیں مانع یمنع انعقاد العلۃ ایک وہ مانع ہے جو روکتا ہے انعقاد علت کو، علت کو منعقد ہونے سے روکتا ہے بھئی۔ دیکھو بھئی ادھر، علت آئے گی، پوری ہوگی، پھر حکم آئے گا اور حکم میں پھر دوام آ جائے گا، حکم میں کیا ہوگا؟ کیسے بھئی چار تین چار چیزیں ہیں، پہلے کیا ہوگی علت، علت شروع ہوگی، پھر کیا ہوگی علت؟ پوری ہو جائے گی اور پھر کیا ہوگا حکم کی ابتداء ہوگی اور پھر حکم میں کیا آ جائے گا؟ دوام آ جائے گا، چار چیزیں سمجھ میں آئیں؟ تو بعض موانع ایسے ہیں جو علت کو منعقد ہی نہیں ہونے دیتے، آنے ہی نہیں دیتے بھئی، جب علت نہیں آئے گی تو لازمی بات ہے حکم بھی نہیں آئے گا۔ بعض موانع ایسے ہیں کہ علت آ تو گئی لیکن تام نہیں ہوئی اور جب تام نہیں ہوئی تو آگے حکم بھی نہیں آئے گا۔ تیسرے مانع وہ ہیں جو ابتداء حکم کو روکتے ہیں، علت آ منعقد بھی ہوئی، تام بھی ہو گئی لیکن آگے پھر حکم کی ابتداء نہیں ہونے دیتے اور بعض موانع وہ ہیں کہ علت منعقد بھی ہو گئی، تام بھی ہو گئی، حکم کی ابتداء بھی ہو چکی لیکن آگے اس میں دوام کو کیا کرتے ہیں؟ روک دیتے ہیں، دوام نہیں آنے دیتے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھنا بھئی۔ تو کہتے ہیں ایک وہ مانع ہے جو منع کر رہا ہے، کس چیز کو روکتا ہے بھئی؟ انعقاد علت، علت کے منعقد ہونے کو روک دیتا ہے، یعنی علت پائی ہی نہیں جاتی، منعقد ہونے کیا معنی؟ پائی نہیں جاتی، اس کو آنے ہی نہیں دیتے بھئی۔ ومانع یمنع تمامہا اور ایک وہ مانع ہوتا ہے تمامہا ها ضمیر راجع ہے بھئی علت کو، جو علت کے تام ہونے کو منع کرتا ہے، علت کیا ہوا؟ پائی تو جا رہی ہے لیکن تام نہیں ہو رہی۔ ومانع یمنع ابتداء الحكم اور ایک وہ مانع ہے جس کس کو روکتا ہے؟ ابتداء حکم کو روکتا ہے بھئی، علت پائی بھی گئی، پوری بھی ہو گئی لیکن آگے حکم اس پر مرتب نہیں ہو رہا، سمجھ میں آئی ابتداء حکم ہی نہیں ہے۔ اور ومانع یمنع دوامہ اور چوتھا مانع کونسا ہے جو کس کو روکتا ہے؟ دوام حکم کو روکتا ہے، حکم علت پائی گئی، تام بھی ہو گئی، حکم کی ابتداء بھی ہو چکی لیکن اس میں دوام نہیں، مانع آ جاتا ہے۔ سب کی مثالیں آئیں گی، بات خوب واضح ہو جائے گی۔ نظیر الأول پہلے مانع کی نظیریں جو کس کو روکتا ہے؟ علت کے وجود ہی کو روک دیتا ہے، علت پائی ہی نہیں جاتی، کہتے ہیں ونظیر الأول بیع الحر والمیتۃ والدم وہ بیع ہے کس کی؟ آزاد آدمی کی والمیتۃ اور مردار کی والدم اور خون کی، بھئی یاد رکھو بيع کسے کہتے ہیں بھئی؟ مبادلۃ المال بالمال بالتراضی، مال کا مبادلہ ہو، کس کے بدلے میں؟ مال کے بدلے میں اور آپس کی رضامندی ہو، باہمی رضامندی ہو۔ اب آپ بتلائیے آزاد آدمی مال ہے؟ آزاد آدمی مال نہیں، اسی طرح مردار، وہ مال ہے؟ وہ بھی مال نہیں، خون بھئی، یہ مال ہے؟ یہ بھی مال نہیں، تو اب ایک شخص آزاد آدمی کی بیع کرتا ہے یا خون کی بیع کرتا ہے یا مردار کی بیع کرتا ہے، ایجاب بھی پایا گیا، قبول بھی پایا گیا لیکن کیا بیع منعقد ہوئی؟ بیع منعقد ہی تو دیکھو، اس بیع یہ بیع پائی جاتی تو دوسرا شخص مالک بن جاتا، بیع کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، اگر یہ بیع ہوتی تو دوسرا مالک بنتا لیکن علت پائی جا رہی ہے؟ علت ہی نہیں پائی جا رہی، کیوں نہیں علت پائی جا رہی؟ یعنی بیع ایجاب و قبول ہی پایا نہیں جا رہا، یعنی بیع ہی نہیں پائی جا رہی۔ یہ حکم کیا بتایا میں نے؟ مالک ہونا اور علت کیا ہے؟ عقد کا منعقد ہونا، عقد پایا جائے گا تو دوسرا شخص اس کا کیا بن جائے گا چیز کا؟ مالک، تو عقد ہوا علت اور ملکیت کیا ہوئی اس کا؟ حکم بھئی، علت کیا ہوئی؟ عقد اور حکم کیا ہوا؟ ملکیت مالک ہونا، اب مانع آ گیا اور وہ کیا مانع ہے؟ کہ یہ چیزیں مال ہی نہیں ہیں، آزاد، مردار اور خون تو مال ہی لہٰذا ان کی شریعت نے بیع کو جائز شریعت نے ان کی بیع کو کو ہی منع کر دیا، ان کی بیع جائز تھی نہیں، جب ان کی بیع ہی نہیں جائز تو اگر ایک نے بیع کر لی تو یہ بیع منعقد ہوئی؟ دیکھا، یہ ایسا مانع ہے، ان کا مال نہ ہونا یہ ایسا مانع ہے جس نے علت ہی کو روک دیا، بیع ہی کو روک دیا، بیع پائی گئی؟ علت ہی نہیں پائی گئی، جب علت نہیں پائی گئی تو آگے اس کا حکم بھی پایا نہیں جائے گا، تو دیکھو یہ ایسا مانع ہے جس نے علت کو منعقد ہونے سے ہی روک دیا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ فان عدم المحلیۃ یمنع یمنع انعقاد التصرف اس لیے کہ عدم محلیت یعنی بیع کا محل نہ ہونا، ان کا عدم محل ہونا یعنی عدم محلیۃ البيع یعنی ان کا بیع کا محل نہ ہونا یمنع انعقاد التصرف یہ روکتا ہے تصرف کے منعقد ہونے کو، بھئی بیع تصرف ہے یا نہیں ہے؟ ایک کو مالک بنا رہے ہیں دوسری چیز کا بھئی، تو یہ یہ روکتا ہے ان میں ان کا محل نہ ہونا بیع کے لیے، یہ روکتا ہے انعقاد التصرف تصرف کے منعقد ہونے کو، تصرف کیا ہے کر رہے ہیں وہ؟ بیع کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ بیع ہے، اس تصرف یعنی بیع کو روکتا ہے علۃ علت ہونے کے اعتبار سے کہ وہ کیا بنے؟ علت بنے لإفادۃ الحكم کس کے لیے؟ حکم کا فائدہ دینے کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ حکم کیا تھا؟ ملکیت بھئی، ملکیت کے فائدے ہی، تو یہ عقد جو انہوں نے کیا، یہ منعقد ہی نہیں ہو رہا، کیونکہ یہ چیزیں مال ہی نہیں ہیں تو جب عقد ہی منعقد نہیں ہوا تو یہ علت بھی نہیں بنے گا کس چیز کا؟ حکم کا فائدہ دینے کے لیے اور حکم کیا ہے؟ ملکیت، بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ دیکھیے ترجمہ دوبارہ، فان عدم المحلیۃ یمنع انعقاد التصرف اس لیے کہ ان کا عدم محل ہونا یہ روکتا ہے تصرف کے منعقد ہونے کو علۃ بطور علت کے لإفادۃ الحكم حکم کا فائدہ دینے کے لیے، یعنی علت کے طور پر اس تصرف کو منعقد ہونے سے روکتا ہے، علت کے طور پر اس تصرف کو منعقد ہونے سے روکتا ہے تاکہ یہ کس چیز کا فائدہ دے دے؟ حکم، علت کے طور پر منعقد ہی نہیں ہوتا کہ حکم کا فائدہ دے دے۔ وعلی هذا سائر التعلیقات عندنا اور اسی پر قیاس، اسی پر کیا ہیں؟ تمام تعلیق اسی طریقہ پر ہیں تمام تعلیقات ہمارے نزدیک بھئی، تمام، بھئی تعلیق آپ جانتے ہیں یا نہیں؟ کسی خاوند نے بیوی سے کہا ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق، تو یہاں پر انت طالق جو جملہ ہے، یہ طلاق کا سبب بنے گا لیکن کب سبب بنے گا ہمارے نزدیک؟ جی؟ وجود شرط کے وقت، تو معلق بالشرط جو ہوتا ہے، وہ سبب بنتا ہے حکم کا کس وقت؟ وجود شرط، بھئی معلق بالشرط یہاں پر کیا ہے؟ انت طالق، یہ معلق ہے کس چیز کے ساتھ؟ دخول دار کے ساتھ، تو معلق بالشرط یہ جو ہے حکم کا سبب بنے گا، یعنی طلاق کا سبب بنے گا، کس وقت بنے گا؟ دخول دار کے وقت، یعنی جب شرط پائی جائے گی، تو ضابطہ یہ ہوا کہ معلق بالشرط جو ہوتا ہے، وہ سبب بنتا ہے حکم کا کس وقت؟ وجود شرط کے وقت، وجود شرط کے وقت، لہٰذا اب دیکھو ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا ان دخلت الدار فانت طالق، دیکھو اب یہ شخص انت طالق کہہ رہا ہے، کہہ رہا ہے یا نہیں کہہ رہا اپنی زبان سے؟ لیکن یہ انت طالق یہ اس سے ابھی فی الحال طلاق واقع ہو رہی ہے؟ فی الحال طلاق واقع نہیں ہو رہی اور بلکہ یہ طلاق کا سبب کس وقت بنے گا؟ جب دخول دار پایا جائے گا، تو اس وقت گویا یہ ہے ہی نہیں، اس نے گویا کہ کہا ہی نہیں، جب کہا ہی نہیں، جب تک دخول دار نہیں اس وقت تک اس نے یہ کہا ہی نہیں اور تو اور جب کہا ہی نہیں تو طلاق ہو گئی؟ جی؟ تو یہاں پر عدم اصلی کی بناء پر طلاق نہیں ہو رہی ہمارے نزدیک، یہ گویا اس نے کہا ہی نہیں ہے انت طالق، جیسے ہی دخول دار پایا جائے گا گویا اسی وقت وہ کہہ دے گا فوراً کیا؟ انت، تو یہ اس وقت پایا جائے گا اور پھر فوراً طلاق ہو جائے گی، تو دیکھو یہ تعلیق ایسا مانع ہے جس نے علت کو منعقد ہونے سے روک دیا، انت طالق کو منعقد ہونے سے ہی اس کو پائے جانے سے ہی روک دیا، یہ پایا ہی نہیں جا رہا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وعلی هذا سائر التعلیقات عندنا تو اسی طریقے پر ہیں تمام تعلیقات ہمارے نزدیک، فان ذلك یمنع یمنع انعقاد التصرف اس لیے کہ تعلیق وہ روکتی ہے تصرف کے منعقد ہونے کو علۃ بطور علت کے کہ تصرف کیا ہے؟ علت کے طور پر منعقد ہو جائے قبل وجود الشرط شرط سے کے پائے جانے سے پہلے علی ما ذکرناه اسی بناء پر اس کے جو ہم نے ذکر کیا تھا ماقبل میں ولہذا لا یحنث اور اسی لیے اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی لا یطلق امراتہ وہ طلاق نہیں دے گا اپنی بیوی کو فعلق طلاق امراتہ بدخول الدار پھر اس نے معلق کر دیا اپنی بیوی کی طلاق کو دخول دار کے ساتھ، کیسے کہا؟ انت طالق، ان دخلت الدار فانت طالق، لا یحنث یہ شخص حانث نہیں ہوگا بھئی، بھئی اس نے کہا تھا میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دوں گا، اب حالانکہ اس نے انت طالق کہہ تو دیا ہے لیکن یہ انت طالق تو گویا پایا ہی نہیں گیا، تو لہٰذا یہ شخص حانث بھی نہیں ہوا، تو یہ ایسا متعلق ایسا مانع ہے جس نے کیا کر دیا؟ علت کو منعقد ہونے سے ہی روک دیا، وہ پائی ہی نہیں جا رہی، وہ پائی کس وقت جائے گی؟ انت طالق کب پایا جائے گا؟ جب وہ گھر میں داخل ہوگی، اس وقت پھر طلاق بھی ہو جائے گی اور یہ شخص حانث بھی ہو جائے گا بھئی۔ ومثال الثاني دوسرے کی مثال، دوسری کیا کونسا مانع تھا بھئی؟ کہ علت تو پائی جائے لیکن تام نہ ہو بھئی، تام نہ ہو، ومثال الثاني دوسرے کی مثال ہلاک النصاب فی اثناء الحول، نصاب کا ہلاک ہو جانا سال کے دوران میں، سال کے دوران۔ اچھا، بھئی دیکھو بھئی زکوٰۃ کا سبب کیا ہے؟ زکوٰۃ کا کیا سبب ہے ابھی پڑھا ہے آپ نے بھئی؟ نصاب ہے، نصاب نامی، تو اب ایک شخص کے پاس سال کے شروع میں نصاب نامی موجود تھا بھئی اور پھر سال کے دوران سال ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ نصاب ہلاک ہو گیا، تو سبب اور علت کیا تھی زکوٰۃ کی؟ نصاب کا اور نصاب تو پایا گیا، علت منعقد ہو گئی، پائی گئی لیکن تام نہیں ہوئی، کیونکہ یہ تام کب ہوتی جب کیا ہو جاتا؟ کیونکہ سال کا پورا ہونا اس کے لیے شرط تھا، پھر زکوٰۃ واجب ہوتی، لیکن یہاں اب علت تو پائی گئی لیکن تام نہیں ہوئی، تو دیکھو یہ مال کا سال کے دوران ہلاک ہو جانا یہ ایسا مانع ہے جس نے علت کو تام ہونے سے کیا کر دیا؟ روک دیا۔ وامتناع احد الشاہدین اور اسی طرح باز رہنا دو گواہوں میں سے کسی ایک کا عن الشہادۃ گواہی سے، بھئی قاضی کے پاس جب کہ مسئلہ ہے جس کا فیصلہ دو شخصوں کی گواہی پر ہونا ہے بھئی، آپ اس فیصلے میں کیا کرتا ہے؟ ایک گواہ نے گواہی دے دی، دوسرے نے انکار کر دیا میں گواہی نہیں دیتا، میں گواہی نہیں دیتا، تو دیکھو بھئی ایک نے گواہی دے دی تو علت پائی جا رہی ہے بھئی، لیکن دوسرے نے نہیں دی تام نہیں ہوئی کیونکہ کیا تھی؟ گواہی تو پائی گئی، علت تو آ گئی بھئی گواہی پر قاضی کا فیصلہ ہوتا ہے، ایک گواہی تو پائی گئی ہے لیکن تام نہیں ہوئی، تام کب ہوتی جب کتنے ہو جاتے؟ دو ہو جاتے، تو دیکھو یہ ایسا مانع ہے جس نے علت کو تام ہونے سے روک دیا، جب علت ہی تام نہیں ہوئی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا، فیصلہ نہیں ہوگا۔ وامتناع احد الشاہدین اور باز رہنا دو گواہوں میں سے کسی ایک کا "عن الشهادة" گواہی سے، "ورُد شطر العقد"، شطر کہتے ہیں جز کو، جز کو۔ عقد کے جز کو رد کر دینا۔ یاد رکھو بیع کے اندر ایجاب و قبول ضروری ہے بھئی۔ ایجاب و قبول ضروری ہے۔ جو شخص پہلے کلام کرے اس کو ایجاب کہتے ہیں، جو دوسرا کلام کرے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قبول کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ایجاب بائع کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے، مشتری کی طرف سے بھی۔ اور پھر جس کی طرف سے ایجاب پایا گیا تو دوسرے کی طرف سے کیا پایا جائے گا؟ قبول پایا جائے گا۔ اب ایک شخص نے ایک دوسرے کے ساتھ بیع کے لیے اس سے کہا کہ میں نے تمہیں یہ سائیکل مثلاً بیچ دی، ایجاب پایا گیا لیکن دوسرا کہتا ہے: میں نہیں خریدتا بھئی، میں نہیں خریدتا۔ اب دیکھو علت پائی گئی ہے بھئی۔ دیکھو، یہ ایجاب و قبول ارکان ہیں بیع کے، ایجاب و قبول کیا ہیں بیع کے؟ ارکان ہیں۔ یہ ارکان پائے جائیں گے تو بیع پائی جائے گی، عقد پایا جائے گا۔ اگر یہ ارکان ہی نہیں ہیں تو عقد بھی نہیں۔ تو یہ ارکان کیا ہیں؟ یہ علت ہیں بھئی، یہ کیا ہیں؟ علت ہیں۔ اور اس وقت صرف ایجاب، جب اس نے کہا: میں نے سائیکل تمہیں بیچ دی، اس نے کہا: میں نہیں لیتا، تو ایجاب تو پایا گیا لیکن قبول نہیں پایا گیا، تو علت منعقد تو ہو رہی ہے لیکن تام نہیں ہو رہی۔ "ورُد شطر العقد" اور رد کرنا عقد کے جز کو، مراد کیا ہے؟ ایجاب ہے۔ پہلے جو پایا جائے گا وہ کیا ہوگا؟ ایجاب، تو ایجاب کو رد کر دینا، یعنی قبول نہ کرنا بھئی۔ "ومثال الثالث" تیسرے مانع کی مثال، تیسرا کون سا مانع تھا بھئی؟ جی؟ جو ابتداءِ حکم کو روکے، علت منعقد بھی ہو گئی، تام بھی ہو گئی، لیکن آگے حکم کی ابتداء نہیں ہو رہی کیونکہ کوئی مانع آ گیا ہے بھئی، دیکھیے۔ "ومثال الثالث البيع بشرط الخيار" تیسرے کی مثال: وہ بیچنا ہے خیارِ شرط کے ساتھ۔ بھئی! آپ نے اپنی سائیکل کسی کو فروخت کی۔ ایجاب بھی پایا گیا، قبول بھی، لیکن آپ نے اپنے پاس اپنے لیے خیار رکھا ہے تین دن کا۔ بیچنے والے نے کیا کہا: مجھے اختیار ہے تین دن تک، اگر میرا ارادہ ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟ بیچ دوں گا، ارادہ نہ بنا تو پھر جی؟ یا مجھے اختیار ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ میرا دل کیا تو بیع رکھوں گا ورنہ کیا کر لوں گا؟ نہیں دوں گا بھئی چیز آپ کو۔ تو آپ نے تین دن کا خیار بائع نے اپنے لیے رکھ لیا، اور بائع جب خیار رکھ لیتا ہے تو وہ مبیع اس کی ملکیت سے نکلتا نہیں۔ آپ نے پڑھا ہے یا نہیں پڑھا بھئی؟ مبیع اس کی ملکیت سے نہیں نکلتا۔ تو دیکھو! اب یہاں پر بیع پائی گئی، ایجاب بھی پایا گیا، قبول بھی پایا گیا، عقد تام ہوا۔ انعقادِ عقد کیا ہو گیا؟ تام ہو گیا۔ اور عقد علت ہے کس چیز کے لیے؟ کیا حکم پایا کرتا ہے اس سے؟ ملکیت، مشتری کیا ہو جاتا ہے؟ مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو علت منعقد بھی ہو چکی ہے، تام بھی ہو چکی ہے، لیکن مشتری مبیع کا مالک نہیں بن رہا، مبیع کا مالک نہیں بن رہا۔ ابتداءِ حکم ہی نہیں ہے۔ ملکیت آ رہی ہے بھئی؟ ملکیت کی ابتداء ہو رہی ہے؟ ابتداءِ حکم ہی کو روک دیا ایک مانع نے، اور وہ مانع کیا ہے؟ خیارِ شرط بھئی، کیا ہے؟ خیارِ شرط۔ "ومثال الثالث البيع بشرط الخيار" اور تیسرے کی مثال بیع ہے خیارِ شرط کے ساتھ، "وبقاء الوقت في حق صاحب العذر" اسی طرح وقت کا باقی رہنا۔ بھئی! ایک شخص ہے معذور ہے، معذور ہے بھئی کہ ہر وقت مثلاً اسے ہر وقت پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں یا اسے ہر وقت دائمی نکسیر ہے، ہر وقت ناک سے خون بہتا رہتا ہے، یا عورت ہے استحاضہ ہے، اسے ہر وقت استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، تو اب ان صورتوں میں کہ جب ان کے اوپر اتنا وقت بھی نہیں گزرتا جس میں وضو کر کے ایک نماز پڑھ سکیں، شریعت انہیں معذور قرار دے دیتی ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ وضو کر کے اس نماز کے وقت کے اندر جو ہے، جتنا جو کچھ پڑھنا چاہے، جو نمازیں پڑھ سکتا ہے۔ وقت کے گزرنے پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اور پھر اسے کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ۔ تو اس وقت کے اندر اندر وہی حدث جو ہے، اس کو جتنی دفعہ بھی لاحق ہو جائے اس کا وضو، وہی حدث بھئی! ہر حدث نہیں، وہی حدث جس کی وجہ سے اس کو کیا قرار دیا گیا ہے؟ معذور بھئی! اور حدث لاحق ہو گئے پھر وضو ٹوٹ جائے گا، ہاں یہی حدث ہے، اب مثلاً ایک شخص ہے اس نے ظہر کی نماز کے لیے وضو کر لیا اور وہ اسے کیا مرض ہے؟ دائمی نکسیر کا ہے، ہر وقت خون آتا رہتا ہے اسے یا اسے پیشاب کے قطروں کی بیماری ہے، ہر وقت پیشاب کے قطرے آتے ہیں۔ اب شریعت نے اسے معذور قرار دیا، اب یہ وضو، یہ اس ظہر سے لے کر عصر تک جتنا وقت ہے اس وقت میں اگر اس کو اور کوئی حدث لاحق نہیں ہوا سوائے اس پیشاب کے قطروں کے نکلنے کے، یہ پیشاب کے قطرے چاہے اس کے نکلتے رہیں لیکن شریعت نے اسے معذور قرار دے دیا، اب اس کا وضو کیا ہے؟ باقی ہے۔ جب عصر کا وقت داخل ہوگا یا ظہر کا وقت یوں کہیں جیسے ہی نکلے گا، اس کا وضو کیا ہو جائے گا؟ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اس سے پہلے وضو اسی حدث کی وجہ سے نہیں ٹوٹے گا، ہاں کوئی اور حدث لاحق ہو جائے پھر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اب چاہے نماز کے دوران اس کو پیشاب کے قطرے نکلتے رہیں، خون ٹپکتا رہے ناک سے، لیکن پھر بھی شریعت نے کیا حکم دیا؟ وضو ہے اس کا، وضو ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو بھئی! وضو کے ٹوٹنے کے لیے علت کیا تھی؟ خروجِ نجاست، اور یہاں پر خروجِ نجاست پائی جا رہی ہے، علت منعقد بھی ہوئی ہے، تام بھی ہو چکی ہے، خروجِ نجاست پایا گیا ہے، لیکن حکم نہیں آ رہا، وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں آ رہا، تو نقضِ وضو کا حکم ابتداءً ہی نہیں آ رہا، اس کی ابتداء ہی نہیں ہو رہی، کس مانع کی وجہ سے؟ کہ وہ معذور ہے، عذر کی وجہ سے۔ تو مثال سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وبقاء الوقت في حق صاحب العذر" اور اسی طرح وقت کا باقی رہنا صاحبِ عذر کے حق میں، جب تک وہ وقت باقی ہے، وہ حکم نہیں آئے گا، تو یہ وقت کا باقی رہنا، یہ کیا ہے؟ جی؟ یہ مانع ہے، وقت کا باقی رہنا، جب تک ظہر کا وقت باقی ہے بھئی، اب ان پیشاب کے قطروں کی وجہ سے اس کا وضو یا یہ دائمی نکسیر کی وجہ سے اس کا وضو، تو یہ بقائے وقت جو ہے، یہ مانع ہے، یہ مانع ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ جی۔ "ومثال الرابع" چوتھے مانع کی مثال، وہ کون سا تھا بھئی؟ حکم کی ابتداء ہو جائے لیکن اس میں دوام نہ ہو۔ "ومثال الرابع خيار البلوغ" اور چوتھے کی مثال، چوتھے مانع کی مثال خیارِ بلوغ ہے۔ بھئی یاد رکھو! اگر کسی صغیر یا صغیرہ کا نکاح باپ یا دادا کروا دے تو پھر اس کو کوئی اختیار نہیں ہے بالغ ہونے کے بعد، کیونکہ باپ اور دادا کی شفقت بڑی کامل ہے تو یقیناً انہوں نے اچھی جگہ ہی نکاح کیا ہوگا، اس کو کوئی اختیار نہیں بالغ ہونے کے بعد بھی، اس کو فسخ نہیں کر سکتی بھئی۔ اور لیکن اگر باپ دادا کے علاوہ کسی، باپ دادا نہیں تھے، کسی اور ولی نے ان کا نکاح کروا دیا صغیر یا صغیرہ کا، تو شریعت نے ان کو اختیار دیا ہے کہ بالغ ہوتے ہی اگر تم چاہو تو اپنے اس نکاح کو کیا کر دو؟ فسخ کر دو۔ اسے کہتے ہیں خیارِ بلوغ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ خیارِ بلوغ بھئی، بالغ ہوتے ہی اختیار ہوتا ہے۔ جی، تو دیکھو! اب چچا وغیرہ یا مثلاً کسی اور نے، قریبی رشتہ دار نے صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروا دیا۔ تو دیکھو! نکاح کروا دیا، تو اب علت بھی پائی گئی، عقد پایا گیا اور علت تام بھی ہوئی اور پھر حکم کی ابتداء بھی ہو گئی، نکاح بھی ان دونوں کے درمیان کیا ہوا؟ منعقد ہوا، یہ کیا بن گئے بھئی؟ میاں بیوی بن گئے، لیکن آگے خیارِ بلوغ، یہ ایسا مانع ہے جس نے دوامِ نکاح کو روک دیا۔ کس کو روک دیا؟ دوامِ نکاح، وہ چاہے تو کیا کر دے؟ تو ابتداء ہو چکی ہے نکاح کی، لیکن ایک مانع ہے جس نے کیا کر دیا؟ دوامِ نکاح کو کیا کر دیا؟ روک دیا، ختم کر دیا۔ اسی طرح خیارِ عتق ہے بھئی۔ باندی ہے، اس کا آقا نے کسی سے نکاح کروا دیا، یا صورت سمجھ میں آئی؟ اس نے نکاح کروا دیا، تو اب بعد میں آقا نے اسے آزاد کر دیا بھئی، کچھ عرصے کے بعد کیا کر دیا؟ اب یہ منکوحہ باندی تھی پہلے، اب یہ جب آزاد ہوئی تو یاد رکھو! باندی کی طلاقیں ہوتی ہیں دو، اور آزاد عورت کی طلاقیں کتنی ہیں؟ تین ہیں، تو باندی کو خاوند دو دے سکتا ہے طلاقیں زیادہ سے زیادہ اور آزاد عورت کو تین بھئی۔ تو چونکہ اب اس پر طلاقیں بڑھ رہی تھیں بھئی، پہلے دو طلاقیں اس کا مالک تھا اس کا خاوند، اب کتنے کا مالک بن جائے گا؟ تین کا، تو پہلے گویا اس کے گلے میں دو رسیاں تھیں، اب تین ہو جائیں گی، تو شریعت نے اس کو اختیار دے دیا کہ وہ کیا کر لے چاہے تو؟ اس نکاح کو فسخ کر دے، اسے کیا کہتے ہیں؟ خیارِ عتق کہتے ہیں، خیارِ عتق بھئی۔ تو دیکھو! اب وہ عقد بھی پایا گیا، علت تام ہوئی اور نکاح کی ابتداء بھی ہو گئی، یہ دونوں آپس میں کیا ہیں بھئی؟ میاں بیوی، لیکن اب آگے خیارِ عتق یہ ایسا مانع ہے جو کیا کر دیتا ہے؟ دوامِ نکاح کو روک دیتا ہے، دوامِ نکاح کو، دوامِ حکم کو۔ اسی طرح خیارِ رؤیت ہے بھئی۔ بھئی! آپ کسی سے کوئی چیز خریدتے ہیں، شریعت نے آپ کو حق دیا ہے کہ اگر آپ نے وہ چیز دیکھی نہیں، تو اگرچہ بیع ہو چکی ہے، لیکن دیکھنے کے بعد آپ کو وہ چیز پسند نہ آئے تو آپ وہ چیز واپس کر سکتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں خیارِ رؤیت، کیا کہتے ہیں؟ جتنے دن بھی گزر جائیں، جب تک آپ نے نہیں دیکھی، آپ کو خیارِ رؤیت حاصل ہے۔ پسند نہیں آتی، اسے خیارِ، تو دیکھو! اب ایجاب و قبول پایا گیا بھئی، علت منعقد بھی ہوئی، تام بھی ہو گئی، آپ اس چیز کے مالک بھی بن گئے، لیکن اس حکم کے اندر دوام نہیں، کس مانع کی وجہ سے؟ خیارِ رؤیت کی وجہ سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اب آپ خیارِ رؤیت کی وجہ سے کیا کر سکتے ہیں اس چیز کو؟ واپس کر سکتے ہیں۔ تو دیکھو بیع کی وجہ سے آپ مبیع کے مالک بن گئے تھے، تو حکم کی ابتداء ہو گئی تھی کیونکہ بیع کا حکم کیا تھا؟ ملکیت، مالک بننا اور اس کی ابتداء ہو چکی ہے، لیکن ایک مانع ہے جو اس دوام کو کیا کر دیتا ہے؟ اس ملکیت میں دوام کو رہنے ہی نہیں دیتا اور وہ کیا ہے؟ خیارِ رؤیت بھئی، تو آپ نے خیارِ رؤیت استعمال کرتے ہوئے چیز واپس کر دی، تو یہ مانع تھا جس نے دوام کو روک دیا۔ "ومثال الرابع خيار البلوغ والعتق والرؤية" اور چوتھے کی مثال خیارِ بلوغ ہے، اور خیارِ عتق ہے، اور خیارِ رؤیت ہے، "وعدم الكفاءة" اور عدمِ کفاءت ہے۔ یاد رکھو بھئی! ہمارے نزدیک لڑکی اپنا نکاح، بالغة ہو، وہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے بھئی، لیکن شرط ہے کفاءت کا ہونا بھئی، کن کے اندر کرے؟ اپنے برابر کے لوگوں میں کرے، وہ لڑکا کس خاندان سے ہونا چاہیے؟ کس قسم کا ہونا چاہیے؟ برابر کا خاندان برابر ہو، مال وغیرہ، دین داری، کئی امور ہیں فقہ کی کتابوں میں آپ پڑھ چکے ہیں، ان اعتبار کو میں کفاءت کا اعتبار کرنا پڑے گا کہ لڑکی کے برابر ہو بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لیکن اگر لڑکی نے عدمِ کفو کے اندر نکاح کر لیا، وہ لڑکا کیسا تھا؟ اس کے برابر کا نہیں، لڑکی بڑے اعلیٰ خاندان کی ہے، بڑے دولت مند گھرانے کی ہے، بڑی دین دار ہے اور اس کے مقابلے میں لڑکا کیا ہے؟ ایک عام سے خاندان کا ہے، مال بھی نہیں ہے، دین دار بھی نہیں ہے، تو اب خاندان والوں کو شریعت نے حق دیا ہے اعتراض کرنے کا، وہ قاضی کے پاس جا کر قاضی کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کروا سکتے ہیں، کیا کر سکتے ہیں؟ قاضی کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کروا سکتے ہیں بھئی، تو آپ دیکھو! ایک لڑکی ہے اس نے نکاح کر لیا اس قسم کے لڑکے سے جو اس کے برابر کا نہیں ہے خاندان وغیرہ اور مال وغیرہ کے اعتبار سے، تو اب دیکھو! علت منعقد ہوئی اور تام بھی ہو گئی، عقد پایا گیا، اور نکاح ہو گیا، کیا ہو گیا؟ نکاح بھی ہو گیا، دونوں کیا بن گئے؟ میاں بیوی بھی بن گئے، لیکن ایک مانع آیا کہ اس کے خاندان والوں نے کیا کر دیا؟ قاضی کے پاس مقدمہ کیا اور قاضی نے نکاح کو کیا کر دیا؟ فسخ کروا دیا، تو دیکھو! یہ جو عدمِ کفاءت ہے، یہ ایسا مانع ہے جس نے دوامِ نکاح کو روک دیا، عدمِ کفاءت نے کیا کر دیا بھئی؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، اسی طرح "والاندمل في باب الجراحات على هذا الأصل" اور اسی طرح زخموں کا مندمل ہو جانا، زخموں کا بھر جانا فی باب الجراحات، زخموں کے باب میں "على هذا الأصل" وہ اسی پر، اسی اصل پر ہے، اسی ضابطے پر ہے بھئی۔ بھئی دیکھو بھئی! آپ نے پڑھا ہے فقہ کے اندر کوئی شخص اگر کسی کا زخم وغیرہ لگا دے سر، چہرے وغیرہ پر، تو بعض صورتوں میں اس پر قصاص، بعض صورتوں میں مال آیا کرتا ہے بھئی، دس اونٹ، کبھی 15 اونٹ، کبھی اور زیادہ اونٹ دینے پڑتے ہیں بھئی۔ اب ایک شخص نے دوسرے کو زخم لگایا اور مثلاً اس پر اس جنایت کی وجہ سے ارش آ گیا، تاوان آ گیا بھئی، ضمان آیا کہ اتنے اونٹ تمہیں دینے پڑیں گے، ابتداءً قصاص یا ضمان دونوں میں سے کوئی ایک چیز آ جائے گی، لیکن اگر وہ زخم بعد میں ایسا ٹھیک ہو گیا، تو زخم جب تک ٹھیک نہیں ہوگا بھئی، وہ ضمان یا تاوان اس سے لیا نہیں جائے گا، ہم انتظار کریں گے بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ انتظار کریں گے، اگر وہ قصاص والی صورت ہے تو قصاص لیا جائے گا، اگر وہ ضمان والی صورت ہے تو کیا کیا جائے گا؟ ضمان لیا جائے گا، لیکن ابھی نہیں، ابھی اس نے زخم لگایا ہے بھئی، ہم دیکھیں گے اس زخم پر کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، اگر اس زخم سے وہ آدمی مر گیا تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا، اگر وہ بچ گیا پھر ہم دیکھیں گے زخم کا نشان باقی رہتا ہے یا زخم کا نشان باقی نہیں رہتا، اگر زخم کا نشان بھی ختم ہو گیا تو پھر اس صورت کے اندر بھئی، یہ جو اس پر قصاص یا ضمان ابتداءً آ چکا تھا اب اس میں دوام نہیں رہے گا، یہ ختم ہو جائے گا، اب اس میں دوام نہیں رہے گا، یہ ختم، ہاں اگر وہ نشان باقی رہا جس کی وجہ سے اس کا حسن خراب ہو گیا، چہرہ، سر وغیرہ خراب ہوا، تو پھر اس صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ اب وہ قصاص، ضمان پختہ ہو جائے گا، لیکن اگر وہ ختم ہوا وہ نشان تو کیا ہوا؟ یہ مانع آ گیا جس نے اس قصاص اور ضمان کے اندر دوام کو روک دیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "والاندمل في باب الجراحات على هذا الأصل" اور زخموں کا بھر جانا جراحات کے باب میں "على هذا الأصل" اسی قانون پر ہے۔ "وهذا على اعتبار جواز تخصيص العلة الشرعية" بھئی! یہاں تک موانع کی بات مکمل ہوئی۔ اب مصنف آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ یہ جو ہم نے چار قسمیں بنائیں، چار قسمیں، ان میں ایک دوسری قسم جو تھی آپ نے پڑھی بھئی، نہیں تیسری قسم، کون سی؟ تیسری قسم، تیسری قسم میں کیا ہوتا تھا؟ علت منعقد بھی ہوتی تھی اور تام بھی ہو جاتی تھی، لیکن کسی مانع کی وجہ سے ابتداءِ حکم نہیں ہوتا تھا۔ کہتے ہیں: بعض علماء اس کے قائل نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ علت پائی جائے، تام ہو جائے اور حکم کی ابتداء نہ ہو، حکم نہ پایا جائے، ایسا نہیں ہوتا۔ جب بھی علت پائی جائے گی، حکم ضرور پایا جائے گا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو بعض علماء تخصیصِ علت کے قائل ہیں، بعض علماء تخصیصِ علت کے قائل نہیں ہیں۔ تخصیصِ علت کا کیا معنی ہے؟ علت کا حکم سے الگ ہو جانا، کہ علت تو پائی جائے اور حکم نہ پایا جائے، تو یہ جو تیسری قسم ہم نے بیان کی، یہ ان علماء کے نزدیک ہے جو تخصیصِ علت کے قائل ہیں، اس چیز کے قائل ہیں یعنی ان کے نزدیک علت حکم کے بغیر بھی پائی جا سکتی ہے۔ جیسے اس تیسری صورت کے اندر علت منعقد بھی ہو گئی تھی، تام بھی ہو گئی تھی، تو دیکھو علت تو پائی جا رہی ہے، لیکن مانع موجود ہے، حکم نہیں پایا جا رہا، تو علت ہے اور حکم نہیں، تو یہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخصيص العلة، تو جو علماء اس کے قائل ہیں ان کے نزدیک یہ چار قسمیں ہیں، اور جو بعض علماء تخصیصِ علت کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں: ایسا نہیں ہو سکتا کہ علت ہو اور حکم نہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا، جب بھی علت ہوگی کیا پایا جائے گا؟ حکم۔ وہ پھر یہ جو تیسری قسم ہے اس کو دوسری میں داخل کر دیتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ تیسری میں انہوں نے کیا قسم بنائی تھی؟ کہ علت کیا ہو چکی ہے؟ تام ہو چکی ہے، اور لیکن حکم کی ابتداء نہیں، وہ اس کو دوسری میں لے جاتے ہیں کہ نہیں یہاں پر علت تام ہی نہیں ہوئی، کیا ہوئی ہے؟ اس لیے کہ اگر علت تام ہو جائے اور حکم نہ پایا جائے پھر تو علت آ گئی اور حکم نہیں آیا اور ایسا تو جائز نہیں، تو لہٰذا وہ اس کو کس میں لے جاتے ہیں؟ دوسری قسم میں، اور وہاں کہتے ہیں کہ دیکھو ابھی علت ہی تام نہیں ہوئی، جب علت تام ہوتی تو حکم پایا جاتا، جب علت ہی تام نہیں تو حکم بھی نہیں، تو آپ علت بغیر حکم کے نہیں پائی گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی بات کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: "وهذا" یہ جو تقسیم ہم نے کی "على اعتبار جواز تخصيص العلة الشرعية" یہ علتِ شرعیہ کے تخصیص کے، آخر سے ترجمہ کر رہا ہوں، علتِ شرعیہ کی تخصیص کے جائز ہونے کے اعتبار سے ہے بھئی، علتِ شرعیہ کی تخصیص کے جو اس کو جائز کہتے ہیں ان کے اعتبار سے یہ تقسیم ہے، جو جائز نہیں کہتے ان کے اعتبار سے یہ تقسیم نہیں۔ "فأما على قول من لا يقول بجواز تخصيص العلة" پس باقی بناء پر ان لوگوں کے قول کے جو قائل نہیں ہیں تخصیصِ علت کے جواز کے، علت کی تخصیص کے جواز کے قائل نہیں ہیں، ان کے قول کی بناء پر "فالمانع عنده ثلاثة أقسام" ان کے نزدیک مانع کتنی قسم پر ہیں؟ تین قسم پر ہیں، ایک مانع يمنع ابتداء الحكم، ایک یہ ہے "ومانع يمنع تمامها" ایک وہ مانع ہے جو تمامِ حکم کو، تمامِ علت کو روکتا ہے یعنی اس کو تام نہیں ہونے دیتا، "ومانع يمنع دوام الحكم" اور ایک وہ مانع ہے جو کس کو روکتا ہے؟ دوامِ حکم کو۔ "وأما عند تمام العلة" باقی تمامِ علت کے وقت یعنی جب علت پوری ہو جائے "فيثبت الحكم لا محالة" تو حکم ثابت ہوگا کس طور پر؟ قطعی طور پر، حکم قطعی طور پر ثابت ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ علت تام ہو رہی ہے اور حکم کی آگے ابتداء نہیں، یہ تیسری قسم کو وہ نہیں مانتے۔ "وعلى هذا" اور اسی بناء پر "كل ما جعله الفريق الأول مانعا لثبوت الحكم" کہ ہر وہ چیز جس کو بنایا ہے فریقِ اول نے، ہر وہ مانع جس کو بنایا ہے فریقِ اول نے "مانعا لثبوت الحكم" کس کے لیے مانع؟ ثبوتِ حکم کے لیے مانع، بھئی علت منعقد بھی ہو گئی ہے، تام بھی ہو گئی ہے، لیکن حکم کی ابتداء سے کوئی کیا آ گیا ہے؟ مانع، تو فریقِ اول نے اس کو مانع بنایا ہے ثبوتِ اول کے لیے "جعله الفريق الثاني مانعا لتمام العلة" اس کو فریقِ ثانی نے بنایا ہے "مانعا لتمام العلة" کس کے لیے مانع؟ تمامِ علت کے لیے یعنی دوسری قسم میں لے گیا ہے اس کو۔ "وعلى هذا الأصل يدور الكلام بين الفريقين" اور اسی اصل پر، اسی ضابطے پر کلام دائر ہوگا دونوں فریقین میں، کلام مرتب ہوگا دونوں فریقین میں، کلام کا مدار اسی پر ہوگا بھئی اسی ضابطے پر بھئی، تو جس کو تیسری قسم میں جو تھے وہ فریقِ اول کے، فریقِ ثانی اس کو کس قسم میں لے جاتے ہیں؟ دوسری قسم میں، ان کے نزدیک اس تیسری قسم کا کوئی وجود ہی نہیں، مثلاً دیکھو بھئی! تیسری قسم کی انہوں نے کیا مثال ذکر کی تھی بھئی؟ جی؟ خیارِ شرط، بھئی وہ کہتے ہیں خیارِ شرط، انہوں نے کیا کہا تھا؟ اول والوں نے کہ خیارِ شرط کی صورت میں علت تام ہو چکی ہے، ایجاب بھی پایا گیا ہے، قبول بھی پایا گیا ہے، علت منعقد بھی ہوئی، تام بھی ہوئی، لیکن آگے حکم سے مانع ہے، حکم نہیں پایا جا رہا، صرف علت پائی جا رہی ہے اور حکم نہیں پایا جا رہا ہے کیونکہ ایک مانع موجود ہے اور وہ کیا ہے؟ خیارِ شرط۔ فریقِ ثانی کہتے ہیں: نہیں، یہ کس میں، ثانی ہی میں ہے، یہاں علت ہے تو پائی تو جا رہی ہے لیکن تام ہی نہیں۔ تام ہی نہیں، جب ایک نے اپنے لیے خیار ثابت کر لیا ہے تو ایجاب گویا پایا گیا اور قبول نہیں پایا گیا، ایجاب تو پایا جا رہا ہے لیکن قبول گویا کہ پایا ہی، تو گویا علت تام ہی نہیں ہوئی، جب علت تام ہی نہیں ہوئی تو اب وہ بيع بھی، عقد، ملکیت کا فائدہ بھی یہ نہیں دیں گے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 119 of 123