Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-122

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 25 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 89
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل ہم نے بحث شروع کی تھی احتجاج بلا دلیل کی، یعنی بغیر دلیل سے کیا کرنا؟ استدلال کرنا، بغیر دلیل کے استدلال کرنا۔ اور اس کی ایک نوع پڑھی تھی کہ عدمِ علت سے استدلال کرنا عدمِ حکم پر۔ سمجھ میں آیا کہ علت موجود نہیں، اس لیے یہ کہنا کہ حکم بھی موجود نہیں، یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے؛ اس لیے کہ ایک علت کے نہ ہونے سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ حکم بھی نہ پایا جائے، بلکہ ہو سکتا ہے وہ حکم وہ حکم کسی اور علت کی وجہ سے پایا جا رہا ہو۔ اور اس کی مثال گزری تھی، جیسے شوافع میں سے کوئی استدلال کرتا ہے قے کی صورت میں، کہ قے ناقض نہیں؛ اس لیے کہ وہ سبیلین سے خارج نہیں۔ تو دیکھو قے کے ناقض نہ ہونے کا حکم لگایا، عدمِ حکم لگایا کس وجہ سے؟ عدمِ علت کی وجہ سے، کہ یہ سبیلین سے خارج نہیں، تو جب سبیلین سے خارج نہیں تو یہ ناقض بھی نہیں۔ تو یہ عدمِ علت کو دلیل بنایا عدمِ حکم کے لیے اور یہ احتجاج بلا دلیل ہے، یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے؛ اس لیے کہ نجاست خارج ہونے سے وضو صرف نہیں ٹوٹتا، وضو ٹوٹنے کی علت صرف نجاست کا سبیلین سے خارج ہونا ہی نہیں ہے، بلکہ اس کی اور بھی علت ہے اور وہ کیا ہے؟ کہ بدن سے نجاست خارج ہو جائے۔ تو بدن سے نجاست خارج ہو جائے، یہ بھی وضو ٹوٹنے کی علت ہے، تو قے کے اندر اگرچہ سبیلین سے نجاست خارج نہیں ہوئی، یہ علت تو نہیں پائی گئی، لیکن بدن سے تو نجاست خارج ہوئی ہے، یہ علت تو پائی گئی ہے۔ تو لہٰذا قے کے غیر ناقض ہونے کا حکم لگانا اس لیے کہ وہ سبیلین سے خارج نہیں، یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے؛ کیونکہ عدمِ علت کے ذریعے استدلال کیا گیا ہے کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ اسی طرح ان شوافع میں سے کوئی استدلال کرتا ہے کہ ایک بھئی دوسرے بھئی کا مالک بن جائے تو وہ آزاد نہیں ہوگا؛ اس لیے کہ ان میں رشتہ ولادت نہیں۔ تو یہ رشتہ ولادت کا نہ ہونا، اس سے استدلال کیا اس کے آزاد نہ ہونے پر۔ تو دیکھا، عدمِ علت سے استدلال کیا کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ ہم کہتے ہیں یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے؛ اس لیے کہ آزاد ہونے کی علت صرف رشتہ ولادت میں تو نہیں ہے، صرف رشتہ ولادت کی وجہ سے تو آزاد نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اور بھی تو علت ہے اور وہ کیا؟ رشتہ محرمیت۔ محرمیت والا رشتہ ہو، یہ بھی تو علت ہے آزاد ہونے کی، حدیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من ملک ذا رحم محرم عتق علیہ"، جو کوئی اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک ہوا، وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں پر بھی اگرچہ رشتہ ولادت نہیں، ایک علت نہیں، لیکن دوسری علت تو ہے اور وہ کیا ہے؟ رشتہ محرمیت۔ تو رشتہ ولادت کے نہ ہونے پر اس کے آزاد نہ ہونے کا حکم لگانا یہ درست نہیں، بلکہ اس کی اور علت پائی جا رہی ہے اور وہ کیا ہے؟ رشتہ محرمیت۔ اسی طرح بھئی، امام محمد رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ بچے کے ساتھ قتل میں اگر کوئی شخص شریک ہو تو اس پر قصاص ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں؛ کیونکہ بچہ مرفوع القلم ہے۔ بچہ مرفوع القلم، تو بچے سے قصاص نہیں لیا جائے گا اور جب بچے سے قصاص نہیں، ایک قاتل سے قصاص نہیں تو اس کے ساتھ جو شریک قاتل ہے اس سے بھی قصاص نہیں؛ کیونکہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک سے قصاص نہ لیا جائے اور دوسرے سے قصاص لیا جائے۔ اس پر اس نے فوراً کہا کہ پھر تو باپ کے شریک، باپ کے ساتھ جو شریک ہوا ہے بیٹے کے قتل میں، اس سے تو قصاص لینا چاہیے؛ کیونکہ باپ تو مرفوع القلم نہیں! صورت سمجھ میں آئی؟ دیکھو، یہاں بھی عدمِ علت سے استدلال کیا گیا کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ کیونکہ بچے کے میں حکم کیا تھا، علت کیا تھی؟ مرفوع القلم ہونا۔ اس کا عدم بناؤ ذرا بھئی: مرفوع القلم نہ ہونا۔ اور تو باپ کیا ہے؟ مرفوع القلم نہیں ہے۔ اچھا، اور بچے کے ساتھ جو شریک، بچے پر حکم کیا تھا بھئی؟ قصاص کا نہ ہونا۔ اس کا عدم بناؤ، نفی پر نفی داخل کر دو: قصاص کا ہونا۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھا، اس نے کہا: باپ مرفوع القلم نہیں، تو قصاص شریک پر ہونا چاہیے۔ تو عدمِ علت سے استدلال کیا کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ بھی استدلال بغیر دلیل کے ہے۔ تو باپ پر یاد رکھو قصاص نہیں آتا جبکہ وہ بیٹے کو قتل کر دے؛ اس لیے کہ شبہِ ملک پایا جا رہا ہے، جیسے مالک اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس پر قصاص نہیں۔ اور سزا بھی نہ ہو، میں یہ نہیں کہہ رہا بھئی سزا ہی نہیں ہوگی، بھئی قصاص کی بات کر رہا ہوں، قصاص نہیں آئے گا؛ کیونکہ اس غلام کیا ہے اس کی؟ غلام اس کی ملک ہے، تو ملک کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے اور باپ میں باپ کے لیے بیٹے میں شبہِ ملک ہے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا ایک صحابی سے؟ "انت ومالک لابیک"، تو اور تیرا مال دونوں کس کے ہیں؟ تیرے باپ کے ہیں۔ تو دیکھا، اس کے نفس کو بھی اس کے باپ کا قرار دیا، تو شبہِ ملک آ گیا اس حدیث کی وجہ سے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، نیز اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے: "لا یقاد الوالد بالولد"، قصاص نہیں لیا جائے گا، قود قصاص کو کہتے ہیں۔ "لا یقاد الوالد" قصاص والد سے نہیں لیا جائے گا "بالولد" بچے کی وجہ سے۔ نیز اس وجہ سے بھی باپ پر قصاص نہیں کہ قرآن میں والدین کے بارے میں کیا آیا ہے؟ "فلا تقل لہما اف"، والدین کو اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے؛ اس لیے کہ اف کہنے سے ان کو تکلیف ہوگی، اف تنگی کے وقت کہتے ہیں بھئی، تو اس کلمے کے کہنے سے بھی ان کو کیا ہوگی؟ تکلیف، تو والدین کو، بیٹوں کو والدین کے لیے کو ذرا سی تکلیف دینے سے بھی منع کیا گیا ہے بچوں کو، اور اب اگر بیٹے کی وجہ سے باپ سے قصاص لیا جائے تو اس میں تو انتہا درجے کی تکلیف ہے اور اس تکلیف کا سبب کون بن رہا ہے؟ بیٹا بن رہا ہے، تو لہٰذا اس وجہ سے اب باپ پر قصاص نہیں آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: یہاں اس نے کہا کہ باپ چونکہ مرفوع القلم نہیں تو شریک پر بھی قصاص نہیں، یہ تو اس نے استدلال کیا عدمِ علت کے ذریعے کس چیز پر؟ عدمِ حکم پر۔ یہ تو کہتے ہیں اسی طرح ہے جیسے کوئی کہے: فلاں مرا نہیں؛ کیونکہ وہ چھت سے نہیں گرا! تو یہ استدلال صحیح ہے اس کے نہ مرنے پر کہ وہ چھت سے نہیں گرا؟ کیا موت صرف چھت سے گرنے سے ہی واقع ہوا کرتی ہے بھئی؟ موت کے تو بہت سینکڑوں ہزاروں اسباب ہیں بھئی! تو جیسے یہ استدلال صحیح نہیں، اسی طرح وہ بھی نہیں۔ ہاں، اگر وہ علت بند ہو کسی وصف کے اندر، وہ علت بند کیا ہو؟ بند ہو کسی وصف کے اندر، یعنی اس حکم کی علت، کہ اگر کسی حکم کی علت کسی وصف میں بند ہو کہ وہی وصف اس کے لیے علت بنتا ہے اور کوئی وصف اس کے لیے علت نہیں بنتا، تو اس صورت میں علت کے نہ ہونے سے حکم کے نہ ہونے پر استدلال کرنا صحیح ہے؛ اس لیے کہ وہ حکم آتا ہی اسی وصف کی وجہ سے تھا، صرف وہی اس کی علت تھی اور جب وہ وصف نہیں ہے تو یہ حکم بھی نہیں۔ جیسے امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مغصوبہ کا بچہ جو ہوگا وہ مضمون نہیں، اس کی وجہ سے ضمان نہیں آئے گا۔ بھئی، کسی شخص نے کسی کی حاملہ مثلاً حاملہ باندی کو کیا کر لیا؟ غصب کر لیا، اس باندی نے اس کے پاس جا کر بچے کو جنم دیا۔ تو اب وہ بچہ جو ہے، وہ مضمون نہیں، یعنی اگر غاصب کے پاس ہلاک ہو گیا تو اس پر ضمان نہیں۔ اس لیے کہ یہاں پر اس شخص پر آپ کیا کہہ رہے ہیں کیا آنا چاہیے؟ ضمانِ غصب، کیا آنا چاہیے؟ اور ضمانِ غصب نام ہی بتلا رہا ہے، اور ضمان کی بات نہیں کر رہا مطلق ضمان، میں کس ضمان کی بات کر رہا ہوں؟ ضمانِ غصب کی، اور ضمانِ غصب نام ہی بتلا رہا ہے آتا ہی کس کی وجہ سے ہے؟ صرف غصب کی وجہ سے، تو ضمانِ غصب کے واجب ہونے کی علت صرف غصب ہے، غصب ہوگا تو ضمانِ غصب ہے، غصب نہیں تو ضمانِ غصب بھی نہیں۔ اور بچے کے اندر غصب نہیں پایا جا رہا، بچے کے اندر غصب نہیں پایا جا رہا، تو اس کا ضمان اس کی وجہ سے ضمانِ غصب بھی نہیں، ہاں باندی کی وجہ سے آئے گا۔ اور اسی طرح جیسے بھئی دو گواہوں نے گواہی دی کسی کے بارے میں کہ یہ قاتل ہے فلاں کا اور اس کو پھر قتل کر دیا گیا، قصاص اس سے لے لیا گیا۔ اب انہوں نے دونوں نے رجوع کر لیا، تو اب ان دونوں گواہوں کو قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا بھئی؛ اس لیے کہ قصاص کا حکم یہ بند ہے صرف کس کے اندر؟ اس کی علت صرف کیا ہے؟ قتل کرنا ہے، قتل کریں گے تو قصاص آئے گا، قتل نہیں تو قصاص بھی نہیں، اور ان گواہوں نے قتل نہیں کیا تو ان پر قصاص بھی نہیں آئے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں کو کیا کیا جائے گا قصاصاً؟ قتل کیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہاں کیا ہے؟ قصاص صرف قتل کی وجہ سے آتا ہے اور انہوں نے قتل نہیں کیا، ہاں اور سخت سزا وغیرہ دی جائے گی، لیکن قصاص ان سے نہیں لیا جائے گا؛ کیونکہ قتل نہیں ہے۔ وکذالک التمسک باستصحاب الحال تمسک بعدم الدلیل، اذ وجود الشئی لا یوجب بقائہ، فیسلح للدفع دون الالزام۔ اسی طرح استدلال کرنا استصحابِ حال سے، وکذالک التمسک باستصحاب الحال، اسی طرح استدلال کرنا استصحابِ حال، استدلال کرنا استصحابِ حال سے، تمسک بعدم الدلیل، یہ استدلال کرنا ہے عدمِ دلیل کے ساتھ۔ استصحابِ حال کسے کہتے ہیں بھئی؟ یاد رکھو، استصحابِ حال کی تعریف لکھ لیجیے بھئی۔ استصحابِ حال کی تعریف لکھ لو بھئی: ابقاء الشئی علی حالہ السابقۃ لعدم الدلیل المزیل۔ مزیل زاء کے ساتھ ہے، زاء بھئی، زال یزول۔ لکھ لی تعریف بھئی؟ ابقاء الشئی علی حالہ السابقۃ لعدم الدلیل المزیل۔ جی، تعریف لکھ لی بھئی؟ بھئی ابقاء، کسی چیز کو باقی رکھنا علی حالہ السابقۃ، حال عربی میں مؤنث ہے؛ اس لیے اس کی صفت مؤنث میں لے کر آیا بھئی۔ کسی چیز کو باقی رکھنا اس کی سابقہ حالت پر لعدم الدلیل المزیل، اس وجہ سے، بوجہ دلیلِ مزیل کے نہ ہونے کے بھئی، کوئی زائل کر دینے والی دلیل کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا بھئی، اب ادھر توجہ کرو بھئی۔ استصحابِ حال کسے کہتے ہیں بھئی؟ کسی چیز کو اس کی سابقہ حالت پر باقی رکھنا اس وجہ سے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں پائی جا رہی جو اس کو زائل کر دے بھئی، جو اس کو بدل دے، جو اس کو جو اس کا انتفاء کر دے، کیا کر دے؟ انتفاء کر دے۔ یعنی بھئی، کوئی چیز جس حالت پر زمانہ ماضی میں ثابت تھی، کوئی چیز تھی زمانہ ماضی میں جس حالت پر ثابت تھی، زمانہ حال میں بھی ہم اس پر وہی حکم لگاتے ہیں کہ اس کا یہ اس کا جو وصف زمانہ ماضی میں ثابت تھا، زمانہ حال میں بھی اس کا یہ وہ اس کا وہ وصف باقی ہے، کیوں؟ کیونکہ کوئی انتفاء کی دلیل موجود نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، تو جی، کیا بات تھی بھئی؟ کسی چیز پر کیا تھا؟ ایک زمانے کے اندر، یعنی یوں کہو، زمانہ ماضی کے اندر اس کی جو حالت تھی، اس کا جو وصف ثابت تھا، زمانہ حال کے اندر بھی وہی اسی وصف کو اس کے لیے ثابت کرنا، کہ اب بھی اس کا وہ وصف کیا ہے؟ ثابت ہے، کیوں ثابت ہے؟ کہ کوئی انتفاء کرنے والی دلیل موجود نہیں ہے، کوئی نفی کی دلیل موجود نہیں ہے۔ یہ استدلال ہے بغیر دلیل کے بھئی، یہ استدلال ہے بغیر دلیل کے؛ اس لیے کہ زمانہ ماضی میں کسی چیز کے لیے کسی وصف کا ثابت ہونا یہ اس کے ساتھ یہ لازم نہیں ہے کہ زمانہ حال میں بھی اس کا وہ وصف ثابت ہو بھئی۔ بھئی، زمانہ ماضی میں کسی چیز کے لیے کوئی وصف ثابت ہو تو ضروری نہیں ہے کہ زمانہ حال میں بھی وہ وصف ثابت ہو، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ استصحابِ حال کو دلیل بنانا کہ بھئی زمانہ ماضی میں چونکہ اس چیز کا یہ حکم تھا تو لہٰذا زمانہ حال میں بھی اس کا یہی حکم ہے، یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے؛ اس لیے کہ زمانہ ماضی میں ایک وصف اگر اس کے لیے ثابت تھا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمانہ حال میں بھی وہ وصف ثابت ہو۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ استصحابِ حال کو وہ دلیل بناتے ہیں بھئی، دلیل بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل ہر حکم میں یہ ہے کہ جب وہ ایک دفعہ ثابت ہو جائے تو اس میں دوام ہو بھئی، اس میں کیا ہو؟ جب ایک دفعہ زمانہ ماضی میں ثابت ہو چکا ہے تو اصل یہ ہے کہ اس کے اندر کیا ہو؟ دوام ہو، جب تک کوئی مغیر نہ پایا جائے، کوئی اس وصف کو بدلنے والی چیز نہ پائی جائے، تو یہ زمانہ حال میں بھی جب زمانہ ماضی میں ایک وصف ثابت تھا تو زمانہ حال میں بھی وہ وصف ثابت ہوگا؛ اس لیے کہ کوئی مغیر پایا نہیں گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ اس کو الزام کی بھی دلیل بناتے ہیں اور دفع کی بھی دلیل بناتے ہیں۔ الزام کسی پر کوئی حکم لازم کرنا، اور دفع کسی سے کسی حکم کو دفع کرنا۔ تو کسی پر کسی حکم کو لازم کرنے کے لیے بھی وہ اس کو دلیل بناتے ہیں اور کسی سے کسی حکم کو دفع کرنے کے لیے بھی وہ اس کو دلیل بناتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: استصحابِ حال یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے، لہٰذا اس کو دفع کی دلیل تو بنایا جا سکتا ہے، الزام کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے ذریعے کسی سے کسی حکم کو دفع تو کیا جا سکتا ہے، دور تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ذریعے کسی پر کسی حکم کو لازم نہیں کیا جا سکتا۔ تو عند الشوافع استصحابِ حال الزام کی بھی دلیل بنتا ہے اور دفع کی بھی دلیل بنتا ہے، جبکہ عند الاحناف جو ہے استصحابِ حال الزام کی دلیل نہیں بنتا، البتہ دفع کی دلیل بنتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی: وکذالک التمسک باستصحاب الحال تمسک بعدم الدلیل، اسی طرح استدلال کرنا استصحابِ حال کے ذریعے تمسک، یہ استدلال کرنا ہے بعدم الدلیل، کس کے ساتھ؟ عدمِ دلیل سے۔ اذ وجود الشئی لا یوجب بقائہ، اس لیے کہ کسی چیز کا پایا جانا لا یوجب، ای لا یثبت، یہ ثابت نہیں کرتا بقائہ، اس چیز کی بقا، کوئی چیز ماضی میں موجود ہو تو حال میں اس کی بقا لازم نہیں ہے۔ فیصلح للدفع دون الالزام، تو استصحابِ حال کے ذریعے استدلال جو ہے یہ دفع کی صلاحیت تو رکھتا ہے، دفع کے لیے تو دلیل بن سکتا ہے دون الالزام، نہ کہ الزام کے لیے، الزام کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔ وعلى هذا قلنا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں۔ دیکھو بھئی، ایک شخص ہے، مجہول النسب ہے۔ اس کے نسب کا پتہ ہی نہیں ہے یہ کس کا بیٹا ہے۔ صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ اب دوسرا شخص اس پر دعویٰ کر دیتا ہے کہ یہ میرا غلام ہے۔ یہ کیا ہے میرا؟ تو دیکھو یہاں پر اس نے اس پر غلام ہونے کا دعویٰ کیا۔ اب یہاں پر استصحابِ حال کے ذریعے اس سے اس کے اس دعوے کو دفع کیا جا سکتا ہے۔ کس کے ذریعے؟ استصحابِ حال کے ذریعے اس کے اس دعوے کو دفع کیا جائے گا تو استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، لیکن الزام اور یہاں کس چیز کی دلیل بن رہا ہے؟ دفع کی، اس نے اس پر کس چیز کا دعویٰ کیا؟ غلام ہونے کا، غلام ہونے کا۔ تو ہم استصحابِ حال کے ذریعے اس کے اس دعوے کو رد کر دیں گے۔ تو صرف دعویٰ کر دینے سے یہ اس کا غلام نہیں بنے گا۔ دعویٰ کر دینے سے یہ اس کا غلام بلکہ اس کے اس دعوے کو ہم دفع کریں گے، کس کے ذریعے؟ استصحابِ حال کے ذریعے، یعنی اس کو اس سابقہ حالت کو ہم ثابت کریں گے زمانہ حال میں بھی۔ وہ کیسے؟ دیکھو بھئی۔ ہم کہیں گے کہ یہ، ہر انسان کے اندر اصل ہے آزاد ہونا۔ ہر انسان کیا ہے؟ آزاد ہے، اصل کے اعتبار سے ہر انسان آزاد ہے۔ بعد میں غلامی کسی عارض کی وجہ سے آئے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو اصل ہے ہر انسان کے اندر آزاد ہونا اور یہ شخص جو مجہول النسب ہے، یہ بھی انسان ہے اور ضابطہ کیا ہے، ہر انسان میں اصل کیا ہے؟ ہاں تو یہ بھی اصل کے اعتبار سے آزاد ہے یعنی جب پیدا ہوا تو کیا تھا؟ آزاد تھا، تو جب زمانہ ماضی کے اندر یہ آزاد تھا، تو زمانہ حال میں بھی یہ کیا ہوگا؟ آزاد ہوگا۔ لہٰذا اس کو اس شخص کا غلام ہم صرف دعوے کی وجہ سے غلام نہیں بنائیں گے۔ تو دیکھو استصحابِ حال کو ہم نے کیا کیا، دفع کی دلیل بنایا اور رَقِیَّت کو اس سے کیا کر دیا؟ دفع کر دیا، رَقِیَّت کو اس سے کیا کر دیا؟ ہاں، اس کے بعد اور بھئی جب کہ اس کے پاس اور کوئی دلیل وغیرہ نہیں ہے دعویٰ کرنے والے کے پاس، صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو اس صرف دعویٰ اس نے کیا ہے، تو استصحابِ حال کے ذریعے ہم نے اس کے اس دعوے کو کیا کر دیا؟ دفع کر دیا۔ اب اسی شخص جس نے دعویٰ کیا تھا، اسی نے غلام پر جنایت کی بھئی، مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ کیا کیا اس کا؟ ہاتھ کاٹ ڈالا۔ یا کوئی سر پہ کوئی زخم لگا دیا مثلاً، چلو ایک صورت بنا لو ہاتھ کاٹا اور ہاتھ کاٹنے کی صورت میں اس پر کیا آتی ہے؟ نصف دیت بھئی۔ یاد رکھو ہاتھ کی دیت نصف ہے بھئی۔ یہ جو ہے نا، ایک لفظ ہے دیت، ایک لفظ ہے ارش۔ دیت جو ہے یہ نفس کا جو ضمان آتا ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ دیت، سو اونٹ کسی کو کسی نے قتل کر دیا غلطی سے تو اس پہ کیا آئے گی؟ دیت آئے گی بھئی، نفس کا ضمان، پورے نفس کا ضمان آئے گا، تو یہ پورے نفس کا ضمان ہے، یہ دیت کہلاتا ہے، یہ سو اونٹ ہوں گے بھئی۔ اور اگر کسی نے کسی کا غلطی سے اس کا ہاتھ اس سے کٹ گیا وغیرہ، تو اب اس پر ہاتھ کے دیت ضمان آئے گا بھئی اور ہاتھ کا ضمان نصف ہوتا ہے نصف ضمان کا بھئی، یعنی 50 اونٹ آئیں گے، کیا آئیں گے؟ 50 اونٹ آئیں گے۔ اور یہ جو نفس کے علاوہ جو ضمان آیا کرتا ہے اس کو ارش کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ارش کہتے ہیں، آپ نے فقہ میں پڑھا ہوگا۔ تو دیت جو ہے نفس کے ضمان کو کہتے ہیں اور ارش نفس کے علاوہ اور اعضاء کے ضمان کو کہتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار یہ کیا ہوتے ہیں، دیت کیا ہے؟ نفس کے علاوہ اور اعضاء کے ضمان میں بھی دیت کا لفظ مجازاً بول دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو لہٰذا اب اس نے غلطی سے اس سے اس شخص کا ہاتھ کٹ گیا جس کو اس نے جس پر اس نے غلام ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب اس پر اس ہاتھ کا ضمان آئے گا۔ جی! اور ہاتھ کا ضمان کتنا ہوا کرتا ہے؟ نصف دیت ہے بھئی اور وہ کتنے ہیں؟ 50، لیکن یہ آزاد کا ہے بھئی۔ آزاد کی دیت کتنی ہے؟ سو اونٹ، تو اس کے نصف دیت کتنی ہوگی؟ 50 اونٹ۔ جبکہ غلام ہر حکم میں آزاد سے نصف ہے، تو غلام کی کل دیت کتنی ہوگی؟ 50 اونٹ، تو اس کے ہاتھ کی اس کے کل دیت کا نصف کر لو، کتنا ہوا؟ 25 اونٹ بھئی، کتنے آ جائیں گے؟ 25 اونٹ۔ تو اگر اب اس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے، تو اس شخص پر ضمان آئے گا، وہ ضمان اگر ہم آزاد والا اس اس پر لازم کریں تو کتنا آئے گا؟ 50 اونٹ اور اگر غلام والا کریں تو کتنا آئے گا؟ 25 اونٹ آیا کرتے ہیں۔ تو اب اس پر کون سا ضمان آئے گا، غلام والا یا آزاد والا؟ کہتے ہیں بھئی اس پر غلام والا ضمان آئے گا، کون سا؟ غلام والا ضمان آئے گا۔ اس لیے کہ اگر ہم اس پر آزاد والا ضمان لازم کر دیں کہ یہ شخص کیا تھا؟ آزاد تھا، لہٰذا تمہارے اوپر کتنا ضمان آئے گا، آزاد آدمی کی دیت آئے گی اور وہ کتنی ہے؟ 50 اونٹ ہے، وہ دینے پڑیں گے، تو یہ تو ہم نے اس شخص کی، یہ جو مجہول النسب ہے، اس کی حریت کو اس پر لازم کر دیا، کیا کر دیا؟ اس کی حریت پر اس کو اس اس کی حریت کو اس پر کیا کر دیا؟ لازم کر دیا کہ وہ لازماً کیا ہے تمہارے لیے؟ آزاد ہے اور جب آزاد ہے تو کتنی دیت دینی پڑے گی؟ 50 اونٹ دینے پڑیں گے بھئی، 50 اونٹ بھئی۔ اور استصحابِ حال کے ذریعے کہ یہ شخص کیا ہے؟ جی! یہ شخص انسان ہے اور ہر انسان میں اصل کیا ہے؟ آزاد ہونا، تو یہ بھی کیا ہے؟ آزاد ہے، لہٰذا تمہارے پر اس کی ضمان کتنا آئے گا؟ آزاد آدمی والا ضمان آئے گا۔ تو یہ تو ہم نے استصحابِ حال کے ذریعے اس شخص کی حریت کو اس پر لازم کر دیا، کیا کر دیا؟ اور استصحابِ حال الزام کی دلیل؟ بھئی اس استصحابِ حال کے ذریعے رَقِیَّت کو ہم غلام سے دفع تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی حریت کو لازم نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے دونوں کی؟ کیا کر سکتے ہیں؟ اس کے اس کے رَقِیَّت کو اس سے دفع تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی حریت کو کسی غیر پر لازم نہیں، کیونکہ استصحابِ حال کس چیز کی دلیل بنتا ہے؟ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، لیکن الزام کی دلیل نہیں بن سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ جی! دیکھیے بھئی! وعلى هذا وقلنا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: مَجْهُولُ النَّسَبِ مجہول النسب جو ہے ”لَوْ ادَّعَى عَلَيْهِ أَحَدٌ رِقًّا“ اگر دعویٰ کیا اس پر کسی ایک نے غلام ہونے کا ”ثُمَّ جَنَى عَلَيْهِ جِنَايَةً“ پھر جنایت کی اس شخص نے اس پر، جنایت کرنا، جی مفعول مطلق، پھر اس پر جنایت کی ”لَا يَجِبُ عَلَيْهِ أَرْشُ الْحُرِّ“ تو اس پر حر آدمی کا ارش واجب نہیں ہوگا ”لِأَنَّ إِيجَابَ أَرْشِ الْحُرِّ إِلْزَامٌ“ اس لیے کہ آزاد آدمی کا ارش یعنی دیت اس پر واجب کرنا الزام ہے ”وَالِاسْتِصْحَابُ حُجَّةٌ لِلدَّفْعِ لَا لِلْإِلْزَامِ“ اور الزام کے لیے استصحابِ حال دلیل، کیونکہ استصحابِ حال تو استدلال بغیر دلیل کے ہے ”فَلَا يَثْبُتُ بِلَا دَلِيلٍ“ لہٰذا یہ الزامِ حریت ثابت نہیں ہوگا بغیر دلیل کے۔ یہ ثابت نہیں ہوگا بغیر دلیل کے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”وَعَلَى هَذَا قُلْنَا إِذَا زَادَ الدَّمُ عَلَى الْعَشَرَةِ فِي الْحَيْضِ وَلِلْمَرْأَةِ عَادَةٌ مَعْرُوفَةٌ رُدَّتْ إِلَى أَيَّامِ عَادَتِهَا“ وعلى هذا وقلنا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں۔ اسی بناء پر جی! کہ اسی بناء پر اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے بھئی؟ نہیں نہیں نہیں، یہ استصحابِ حال آگے دو مسئلے ذکر ہو رہے ہیں، یہ استصحابِ حال نہیں بھئی، اس لیے کیونکہ ان کے اندر دفع یا الزام والی بات نہیں ہے۔ ہاں یہ استدلال بغیر دلیل کے درست نہیں، اس کی مثالیں ہیں بھئی۔ استدلال بغیر دلیل کے درست نہیں اس کی مثالیں ہیں۔ جی! البتہ اس کی تفریع کی استصحابِ حال پر اس لیے کہ دونوں ایک ہی قسم کے ہیں، جیسے استصحابِ حال استدلال بغیر دلیل کے ہے، ان مسئلوں میں بھی کیا صورت ذکر ہوگی؟ استدلال بغیر دلیل کے۔ وعلى هذا وقلنا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: ”إِذَا زَادَ الدَّمُ عَلَى الْعَشَرَةِ“ جب خون بڑھ جائے دس ایام پر ”فِي الْحَيْضِ“ حیض کے ایام میں۔ بائس دیکھو! دیکھو بھئی! ایک عورت ہے اس کے حیض کے ایام متعین ہیں، معروف عادت ہے بھئی، مثلاً اس کو مہینے میں سات دن حیض آتا ہے، حیض کا خون آتا ہے۔ اب ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اس عورت کا خون سات دنوں سے بڑھ گیا اور بڑھتے بڑھتے 13 دن تک یا 14 دن تک چلا گیا بھئی، مثلاً 13 دن تک چلا گیا بھئی یہ۔ اب یہ جو 10 دن سے بڑھ گیا ہے، حیض کے زیادہ سے زیادہ ایام کتنے ہیں؟ 10 دن، تو یہ جو 10 سے اوپر تین دن ہیں یہ تو قطعی طور پر استحاضہ ہیں، یہ کیا ہیں قطعی طور پر؟ اور جو پہلے سات ہیں وہ تو یقیناً کیا ہیں؟ حیض ہیں، اب یہ جو سات کے بعد آٹھ، نو، 10 دن ہیں، آٹھواں، نواں اور دسواں دن ہے، اس یہ حیض ہے یا استحاضہ ہے؟ یہ حیض اس میں دونوں احتمال آ گئے، دونوں احتمال آ گئے۔ اس لیے کہ یہ جو خون ہے تین دن کا، یہ حیض کے ساتھ بھی ملا ہوا ہے اور استحاضہ کے ساتھ بھی۔ حیض بھئی، کیونکہ پہلے سات دن کیا ہیں؟ حیض، تو شروع کے اعتبار سے یہ آٹھویں، نویں، دسویں دن کا خون کس کے ساتھ ملا ہوا ہے؟ حیض اور آخر کے اعتبار سے یہ کس کے ساتھ ملا ہوا ہے؟ استحاضہ، کیونکہ گیارہواں، گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں دن کا خون کیا ہے؟ استحاضہ، تو یہ استحاضہ کے ساتھ بھی ملا ہوا ہے اور حیض کے ساتھ بھی۔ اب اس پر کیا حکم لگایا جائے اس تین دنوں پر؟ کہ یہ استحاضہ ہے یا حیض؟ کہتے ہیں کہ اگر اس کو بھی حیض قرار دیا جائے، کیا قرار دیا جائے؟ حیض قرار دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ عورت کی عادت ٹوٹ گئی، عادت تو سات دن تھی لیکن اب کیا ہو گئی اس کی؟ عادت ٹوٹ گئی اور اب یہ تین دن مزید حیض کے ہو گئے، 10 کے 10 دن حیض کے ہو گئے، تو کہتے ہیں اگر ان تین دنوں کو بھی حیض قرار دیا جائے تو یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے۔ عورت کی عادت ٹوٹ گئی بھئی کوئی دلیل ہے یہاں پر بھئی؟ یہاں پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ ہاں البتہ اس کو استحاضہ قرار دینے کی دلیل موجود ہے اور وہ کیا کہ اس کی عادت پہلے کتنے دن تھی؟ ہاں تو اب بھی کتنی ہوئی؟ اور باقی زائد چھ دن کیا ہیں؟ استحاضہ کے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَعَلَى هَذَا قُلْنَا“ اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: ”إِذَا زَادَ الدَّمُ عَلَى الْعَشَرَةِ“ جب بڑھ جائے خون 10 دنوں پر ”فِي الْحَيْضِ“ حیض کے دنوں میں ”وَلِلْمَرْأَةِ عَادَةٌ مَعْرُوفَةٌ“ اور اس عورت کی کوئی معروف عادت تھی، جی! ”رُدَّتْ إِلَى أَيَّامِ عَادَتِهَا“ تو لوٹایا جائے گا اس کو اس کے عادت کے ایام کی طرف ”وَالزَّائِدُ اسْتِحَاضَةٌ“ اور زائد کیا ہوگا؟ استحاضہ ہوگا ”لِأَنَّ الزَّائِدَ عَلَى الْعَادَةِ اتَّصَلَ بِدَمِ الْحَيْضِ وَبِدَمِ الِاسْتِحَاضَةِ“ اس لیے کہ وہ جو عادت پر زائد ہے وہ ملا ہوا ہے حیض کے خون کے ساتھ بھی اور استحاضہ کے خون کے ساتھ بھی ”فَاحْتَمَلَ الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا“ تو یہ دونوں امور کا احتمال رکھتا ہے، دمِ حیض ہونے کا بھی اور دمِ استحاضہ ہونے کا بھی ”فَلَوْ حَكَمْنَا بِنَقْضِ الْعَادَةِ“ اگر ہم حکم لگا دیں عادت کے ٹوٹنے کا ”لَزِمَنَا“ بھئی لازِماً پڑھنا، نا مفعول ہے اور آگے ”الْعَمَلُ“ اس کا فاعل آ رہا ہے، لازم آئے گا ہم پر، کیا لازم آئے گا؟ ”الْعَمَلُ بِلَا دَلِيلٍ“ بغیر دلیل کے عمل لازم آئے گا، اگر ہم اس کو بھی ہم کیا قرار دے دیں؟ حیض قرار دے دیں اور یہ کہیں کہ عورت کی عادت ٹوٹ گئی تو یہ تو استدلال بغیر دلیل کے ہوا، کوئی دلیل یہاں پر عادت کے ٹوٹنے کی موجود نہیں۔ ”وَكَذَلِكَ إِذَا ابْتَدَأَتْ مَعَ الْبُلُوغِ مُسْتَحَاضَةً“ جی! اسی طرح اگر کوئی لڑکی بالغ ہوئی استحاضہ کے ساتھ بھئی، کوئی عادت کا پتہ ہی نہیں ہے، اس کو مہینے میں کتنے دن حیض آتا ہے، بالغ ہوتے ہی استحاضہ شروع ہوا۔ اب بھئی! 10 دن سے 10 دن سے خون بڑھ گیا، تو بھئی یہ جو 10 دن سے زائد ہے یہ تو یقیناً کیا ہے؟ استحاضہ ہے۔ اور پہلے تین دن وہ یقیناً حیض کے ہیں اس لیے کہ حیض کی کم سے کم مقدار کتنی ہے؟ تین دن، تو یہ جو تین سے آگے چار سے لے کر 10 تک کے جو خون آیا، یہ اس کے حیض ہونے کا بھی احتمال اور استحاضہ ہونے کا بھی احتمال ہے، تو اب اگر اس کو استحاضہ قرار دیا جائے تو یہ استدلال بغیر دلیل کے ہے۔ اس کو استحاضہ اگر قرار دینے کی کوئی دلیل موجود نہیں، ہاں اگر اس کو حیض قرار دیا جائے تو پھر اب دلیل موجود ہے کہ کیونکہ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے؟ 10 دن ہے، حدیث میں آیا ہے، تو ان 10 دنوں کو اب حیض قرار دیا جائے گا اور زائد کو کیا قرار دیا جائے گا؟ استحاضہ، سمجھ میں آیا؟ ”وَكَذَلِكَ إِذَا ابْتَدَأَتْ مَعَ الْبُلُوغِ“ اور اسی طرح اگر ابتداء کی کسی عورت نے بالغ ہونے کے ساتھ ”مُسْتَحَاضَةً“ اس حال میں کہ وہ مستحاضہ تھی ”فَحَيْضُهَا عَشَرَةُ أَيَّامٍ“ تو اس کا حیض 10 دن ہوگا ”لِأَنَّ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ تَحْتَمِلُ الْحَيْضَ وَالِاسْتِحَاضَةَ“ اس لیے کہ 10 سے جو کم ہے وہ حیض کا بھی احتمال رکھتا ہے اور استحاضہ (یعنی وہ تین دن سے زائد اور 10 سے کم، درمیان والے جو ہیں) ”فَلَوْ حَكَمْنَا بِارْتِفَاعِ الْحَيْضِ“ اگر ہم حکم لگا دیں حیض کے اٹھ جانے کا کہ یہ سات دن درمیان والے جو ہیں یہ حیض کے نہیں ہیں ”لَزِمَنَا الْعَمَلُ بِلَا دَلِيلٍ“ تو ہم پر لازم آئے گا عمل کرنا بغیر دلیل کے ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْعَشَرَةِ“ برخلاف کس کے؟ 10 دنوں کے بعد ”لِقِيَامِ الدَّلِيلِ“ اس کو استحاضہ قرار دینے کی دلیل موجود ہے ”لِقِيَامِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْحَيْضَ لَا تَزِيدُ عَلَى الْعَشَرَةِ“ بوجہ دلیل کے قائم ہونے کے اس پر کہ حیض ”وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنْ لَا دَلِيلَ فِيهِ إِلَّا حُجَّةً لِلَّدَفْعِ“۔ آگے مصنف استصحابِ حال کی بات کریں گے بھئی۔ بھئی دیکھو مصنف نے کیا بتلایا آپ کو کہ ہمارے نزدیک استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، الزام کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کہتے ہیں مصنف فرماتے ہیں، یہی مذہب ہے ہمارے ائمہ کا۔ ہمارے ائمہ نے جو مسائل ذکر کیے اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے الزام کی دلیل، جیسے مسئلہ مفقود ہے۔ استصحابِ حال جو ہے، استصحابِ حال دیکھو، استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، لیکن الزام کی دلیل اس کی دلیل مسئلہ مفقود ہے، ہمارے ائمہ نے مسئلہ مفقود کیوں ذکر کیا، معلوم ہوا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ استصحابِ حال دفع کی دلیل بن سکتا ہے، الزام کی دلیل۔ دیکھو بھئی ایک شخص ہے، عورت ہے، اس کا خاوند گم ہو گیا، پتہ ہی نہیں چلتا وہ زندہ ہے، مردہ ہے، کدھر گیا، زمین کھا گئی، آسمان نگل گیا، تو شریعت عند الاحناف یہ عورت نکاح نہیں کر سکتی بھئی، انتظار کرے گی، یہاں تک کہ جب اس خاوند کی عمر 90 برس کو پہنچ جائے، اتنے سال گزر جائیں کہ اب کیا خاوند کی عمر کتنی ہو جائے اس وقت؟ وہ جو گم ہے کہ اگر اس وقت زندہ ہوتا تو 90 سال کا ہوتا، تو اس وقت پھر اب وہ قاضی کے پاس جائے گی اور قاضی اس شخص کے مرنے کا حکم اور فیصلہ کرے گا، پھر وہ عورت اپنی عدت گزارے گی اور عدت کے بعد اب کیا کر سکتی ہے؟ نکاح۔ اگر اس وقت تک وہ جوان ہوئی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی اس نے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اس نے بڑی عمر میں مثلاً شادی کی ہے یا جلدی بھی کی ہے لیکن عند الاحناف اس وقت تک وہ نکاح نہیں کر سکتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ مسئلہ ہے بھئی۔ لیکن زمانۂ حال میں احناف جو ہیں، امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب پر فتویٰ دیتے ہیں اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک چار سال تک انتظار کرے۔ چار سال تک اگر اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا تو قاضی اس شخص کی موت کا فیصلہ کر دے گا اور پھر عورت عدت گزار کر کیا کر سکتی ہے؟ کہیں اور نکاح کر سکتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ اب دیکھیے یہ جو مفقود ہے، یاد رکھو۔ اس کے بارے میں یاد رکھو۔ اس کا مال بطورِ ورثہ کے تقسیم نہیں ہوگا۔ بطورِ ورثہ کے اس کا مال تقسیم نہیں ہوگا، کہ بھئی اس کا مال تقسیم کر دو۔ وارث سارے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں بھئی ہمیں اس کا اتنا حصہ ہمارا بنتا ہے، اتنا ہمارا، یہ مال تقسیم کرو، ہمیں مال دے دو۔ کہتے ہیں، نہیں بھئی! یہاں استصحابِ حال کو دلیل بنایا ہے ہمارے ائمہ نے اور دفع کی دلیل بنایا ہے۔ کس چیز کے؟ یعنی جیسے وہ شخص پہلے زندہ تھا، اب بھی کیا ہے؟ زندہ ہے۔ اسی حالت پر کو کیا کیا، اس کے لیے ثابت کر دیا۔ اور جب کوئی شخص زندہ ہو تو کیا اس کے مال کو وارثوں میں تقسیم کرتے ہیں بھئی؟ نہیں کرتے۔ تو وہ اپنے مال کے حق میں زندہ ہے، تو غیر کے، غیر کا استحقاق اس کے مال میں ثابت نہیں ہو سکتا۔ استصحابِ حال کے ذریعے ہم غیر کے استحقاق کو اس کے مال کے اندر سے کیا کر دیں گے؟ دفع کر دیں گے۔ غیر اس کے مال کا مستحق نہیں۔ تو دیکھا، یہاں استصحابِ حال کو ہم نے دلیل بنایا کس چیز کے لیے؟ دفع کے لیے۔ کس چیز کو دفع کیا؟ غیر کے استحقاق کو، کس چیز کے اندر؟ اس مفقود کے مال کے اندر، غیر کا کوئی استحقاق نہیں ہے بھئی۔ اس کے استحقاق کو ہم نے دفع کر دیا کس کے ذریعے؟ استصحابِ حال کے ذریعے اور لیکن یہ استصحابِ حال الزام کی دلیل نہیں بنتا۔ چنانچہ، اب اگر یہ جو شخص مفقود ہے، یہ گم، جو گم ہوا ہے، اس کا کوئی ایسا شخص رشتہ دار مر جاتا ہے کہ یہ بھی اس کا وارث ہے، مثلاً اس کا باپ فوت ہو گیا بھئی۔ یہ گم ہوا ہے اور باپ کیا ہوا؟ فوت ہو گیا۔ یاد رکھو جب مورث مرتا ہے تو جو ورثہ زندہ ہوں، صرف ان کو حصہ ملتا ہے۔ جو پہلے ہی مر چکے ہیں، ان کا حصہ، بھئی باپ زندہ تھا، اس کا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ تو اب باپ کے مرنے کے بعد، وہ جو بیٹا باپ کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا، اس کا حصہ وراثت میں نہیں آئے گا بھئی۔ صرف ان کا حصہ آئے گا جو کیا تھے؟ زندہ تھے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اب یہ شخص گم ہوا ہے، مثلاً اس کا باپ فوت ہو گیا، تو اب باپ کے مال کا یہ وارث نہیں بنے گا۔ یعنی اس کا حصہ نکال کر اس کے بچوں وغیرہ کو نہیں دیں گے، اس کی بیوی بچوں کو نہیں دیں گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ استصحابِ حال، دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، الزام کی دلیل، تو یہاں ہم یوں کہیں کہ وہ شخص پہلے زندہ تھا اور اب تو اب بھی کیا ہوگا؟ زندہ ہوگا۔ اور جب زندہ ہوگا تو کیا بنے گا؟ وارث بنے گا۔ جب وارث بنے گا تو اس ورثے کے اندر اس کا حق بھی ہے، اس کا حق بھی ہے۔ زندہ کا تو حق ہوا کرتا ہے، تو اس کا بھی حق ہے، لہٰذا اس کو بھی حق اس سے ملنا چاہیے۔ تو یہ تو ہم کیا کر رہے ہیں؟ ایک کے، اس کا استحقاق لازم کر رہے ہیں، کس کے اندر؟ غیر کے مال میں، اس مفقود کا استحقاق لازم کر رہے ہیں، کس کے اندر؟ غیر کے مال میں۔ تو باپ فوت ہو گیا، باقی بیٹوں وغیرہ وارثوں کو تو مال ملے گا، لیکن اس کے حصے کو الگ نہیں کیا جائے گا، ورنہ غیر پر اس کے مال کا کیا کرنا، اس کا استحقاق کو لازم کرنا ہوگا اور استصحابِ حال بھئی، یہ الزام کی دلیل، تو یہ کہنا کہ پہلے زندہ تھا تو اب بھی زندہ ہوگا اور جب زندہ ہے تو یہ وارث بنے گا، جب وارث بنے گا تو ورثے کے اندر اس کا بھی حصہ ہے۔ تو استصحابِ حال کو دلیل بنانا الزام کے لیے، کس چیز کا الزام ہے؟ اس مفقود کے استحقاق کا الزام ہے، کس پر بھئی؟ غیر کے مال پر، غیر کے مال پر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا، تو یہ اب غیر کے مال میں کہ وارث نہیں بنے گا بھئی۔ یہاں استصحابِ حال الزام کی دلیل، تو ہمارے ائمہ نے مسئلہ مفقود کو یوں بیان کیا ہے کہ اگر کہ یہ اس کا مال کسی میں تقسیم نہیں ہوگا بطورِ ورثہ کے، لیکن اگر اس کے وارثوں میں کوئی مر جائے تو پھر یہ اس کا وارث نہیں بنے گا۔ چنانچہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المفقود حی فی مال نفسہ ومیت فی مال غیرہ، مفقود اپنے مال کے حق میں تو زندہ ہے اور غیر کے مال کے حق میں یہ کیا ہے؟ مردہ ہے، گویا مر چکا ہے پہلے، جب مر چکا ہے تو اس کا حصہ بھی، تو دیکھو ہمارے ائمہ نے یہ مسئلہ ذکر کیا اور تو معلوم ہوا اس میں انہوں نے استصحابِ حال کو دلیل بنایا ہے، معلوم ہوا استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، الزام کی دلیل نہیں بن سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ومن الدلیل اور دلائل میں سے بھئی، دلیلوں میں سے، ومن الدلیل خبرِ مقدم ہے، آگے آرہا ہے مسئلہ المفقود، یہ مبتدائے مؤخر ہے، مفقود وہ شخص جو گم ہوا ہے، غائب ہے۔ مفقود کا مسئلہ دلیل میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ یعنی جو دیکھو بھئی، استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، الزام کی دلیل، اس کے دلائل میں سے ایک دلیل کیا ہے؟ مسئلۂ مفقود بھی ہے، یہ بات ذکر کر رہے ہیں۔ ومن الدلیل اور دلیل میں سے کیا ہے؟ مسئلہ مفقود بھی ہے، کس چیز کی دلیل؟ علی أن لا دلیل فیہ إلا حجۃ للدفع لا للإلزام، اس بات کی کہ کوئی دلیل نہیں ہے استصحابِ حال کے اندر إلا حجۃ للدفع، مگر کس چیز کی دلیل؟ دفع کی دلیل، دون الزام، نہ کہ الزام۔ تو استصحابِ حال کے اندر دفع کی دلیل تو ہے، الزام کی دلیل نہیں، اس کی دلیل کیا ہے؟ مسئلہ المفقود، وہ مسئلۂ مفقود ہے؛ فإنہ لا یستحق غیرہ میراثہ، اس لیے کہ اس کے علاوہ کوئی مستحق نہیں ہوتا اس کی میراث، یعنی غیر کوئی اس کی میراث کا مستحق نہیں ہوتا، اس لیے کہ وہ اپنے مال کے حق میں کیا ہے؟ زندہ ہے؛ ولو مات من أقاربہ حال فقدہ، اور اگر کوئی مر گیا اس کے رشتہ داروں میں سے اس کے گم ہونے کی حالت میں، لا یرث ہو منہ، تو یہ اس سے وارث نہیں بنے گا؛ فاندفع استحقاق الغیر بلا دلیل، تو دور ہو گیا غیر کا استحقاق، دیکھا دفع کی دلیل بن رہا ہے، دور ہوا غیر کا استحقاق بغیر دلیل کے، بغیر دلیل کے جو غیر کا استحقاق تھا مفقود کے مال میں، اس کو ہم نے کس کے ذریعے دور کر دیا؟ استصحابِ حال کے ذریعے، تو دور ہوا غیر کا استحقاق بغیر دلیل کے، جو غیر کا استحقاق بغیر دلیل کے تھا، وہ استصحاب کے ذریعے کیا ہو گیا؟ دور ہو گیا۔ ولم یثبت لہ الاستحقاق بلا دلیل، اور اس کا استحقاق بھی ثابت نہیں ہوا بغیر دلیل کے، بغیر دلیل کے، سمجھ میں آرہا ہے؟ استصحابِ حال کے ذریعے اس کا استحقاق بغیر دلیل کے ثابت نہیں، یعنی غیر پر لازم نہیں ہوا۔ چلیے بس مولانا، ہٰذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 122 of 123