Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-014

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 113
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
‏اچھا مولانا، مثالیں چل رہی تھیں عام غیر مخصوص البعض کی بھئی۔ پہلی مثال وہ گزری تھی: "إذا قطعت يد السارق بعد ما هلك المسروق عنده"۔ اور دوسری مثال بھی گزشتہ سبق ہم نے پڑھی گزشتہ سبق میں ہم نے پڑھی تھی بھئی، وہ "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ" بھئی۔ یہاں پر دو مذاہب ہیں، مولانا۔ ایک امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک ہے، ایک احناف کا مسلک ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز کے اندر فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے بھئی۔ فاتحہ نہیں پڑھی تو نماز ہی نہیں ہوگی۔ دلیل ان کی حدیث ہے، خبرِ واحد، حضور فرماتے ہیں: "لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث آ گئی بھئی "لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب"۔ کوئی نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب کے ساتھ، یعنی سورہ فاتحہ کے ساتھ۔ ہم جواب میں اور احناف کیا کہتے ہیں بھئی؟ ہمارا مذہب کیا ہے؟ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض نہیں ہے۔ اگر بھولے سے کوئی چھوٹ بھی جائے تو پھر بھی اس کی نماز کس کے ساتھ ہو جائے گی؟ سجدۂ سہو کے ساتھ۔ دليل ہماری یہ آیت ہے مولانا: "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ" بھئی۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ یہ آیت نماز کے بارے میں ہے کہ پڑھو تم جو بھی میسر آئے، یعنی جو بھی آسانی سے حاصل ہو سکے "مِنَ الْقُرْآنِ" کس میں سے؟ قرآن میں سے۔ تو یہ "مَا" عام ہے، قرآن میں سے جو بھی آسانی سے، جو بھی پڑھ سکو بھئی، اور یہ شامل ہے سورہ فاتحہ سے لے کر "والناس" تک، پورے قرآن میں سے کہیں سے بھی ایک لمبی آیت تلاوت کر لیں یا تین چھوٹی آیتیں تلاوت کر لیں، تو فرض ادا ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس آیت سے پتہ چلا کہ مطلق قرأت فرض ہے، مولانا، کہیں سے بھی ہو جائے قرآن میں سے۔ تو چنانچہ اب اس سے ثابت ہوا۔ اور اگر ہم حدیث پر عمل کرتے ہیں، مولانا، تو پھر اس "مَا" کا عموم فوت ہو جاتا ہے۔ حدیث سے تو پتہ چلتا ہے فاتحہ کا پڑھنا فرض، اور آیت سے کیا پتہ چل رہا ہے، مولانا، کہ جہاں سے بھی آسانی سے پڑھ سکو، جہاں سے بھی کر سکو، تلاوت کر لو، مولانا۔ تو اب ہم نے مولانا، اب حدیث... تو حدیث پر عمل کرتے ہیں تو "مَا" کا عموم فوت ہوتا ہے، تو پھر ہم نے تطبیق کی کوشش کی۔ بتلایا تھا کہ "مَا" کے حکم میں تبدیلی کیے بغیر اگر جمع کرنا ممکن ہو تو دونوں کو کیا کیا جائے گا؟ جمع کیا جائے گا۔ ہم نے جمع کر لیا، دونوں پر عمل ہو گیا کس طرح؟ کہ مطلق قرأت فرض ہے اور فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے، مولانا، واجب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مطلق قرأت فرض ہے، کہیں سے بھی کر لو رکن ادا ہو جائے گا، چاہے فاتحہ پڑھ لو چاہے کوئی اور پڑھ لو۔ ہاں، خاص فاتحہ کا پڑھنا یہ واجب ہے، مولانا۔ اگر بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو سے کیا ہو جائے گی نماز؟ ادا ہو جائے گی۔ ہاں، جان بوجھ کر چھوڑے پھر تو الگ، پھر تو نماز ہی نہیں ہوگی، واجب کو جان بوجھ کر چھوڑا تو نماز ہی ادا نہیں ہوگی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دونوں پر عمل ہوا یا نہیں ہوا، مولانا؟ دونوں پر عمل ہو گیا، مولانا، کہ قرأت بھی آ گئی اور فاتحہ بھی پڑھ لی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہم کہتے ہیں اسی حدیث کی طرح اور حدیثیں بھی اس طرح کی آئی ہیں، یہاں کمال کی نفی مراد ہے کہ "لا صلاة كاملة" نماز کامل نہیں ہے بغیر فاتحہ کے، اور یہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں، کامل نہیں ہے بغیر فاتحہ کے، بغیر فاتحہ کے نماز کامل نہیں، جیسے حدیث میں کیا ہے: "لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد"۔ مسجد کے جو پڑوسی ہیں اس کی نماز نہیں مگر مسجد ہی میں۔ کیا معنی؟ اس کی نماز ہوگی ہی نہیں؟ نہیں، معنی یہ ہے اس کی نماز کامل نہیں ہے، اس کو تو کہاں نماز پڑھنی چاہیے؟ مسجد ہی میں پڑھنی چاہیے، تو کامل نماز اس کی مسجد میں ہے، گھر میں کامل نہیں۔ یا جیسے کیا ہے، مولانا: "لا إيمان لمن لا عهد له"۔ اس شخص کا ایمان نہیں جس کا عہد نہیں، یعنی جو وعدے کو پورا نہیں کرتا۔ کیا معنی؟ وہ مومن ہی نہیں، کافر ہو گیا؟ نہیں، یہ معنی نہیں، ایمان کامل نہیں ہے اس کا، جس نے... وہ جو وعدے کو پورا نہیں کرتا بھئی۔ اس کے بعد دوسرا مسئلہ... تیسری مثال عام غیر مخصوص البعض کی شروع کی تھی ہم نے بھئی۔ عام غیر مخصوص البعض کی، اور وہ یہ آیت ہے، مولانا: "وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ"۔ نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے جس پر اللہ کے نام کو ذکر نہ کیا جائے بھئی۔ اب یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا، مولانا، تین مذاہب ہیں بسم اللہ... اللہ کے ذکر کو، بس... تسمیہ کو چھوڑ دینا، مولانا، ذبح کے وقت بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تسمیہ جس نے نہ پڑھی بھئی۔ تو کیا کہہ... کتنے مذاہب ہیں؟ تین بھئی۔ اول مذہب کس کا ہے، مولانا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں چاہے بھولے سے چھوڑ دے، چاہے جان بوجھ کر چھوڑ دے، دونوں صورتوں میں کیا ہے ذبیحہ؟ حلال ہے، کھا سکتے ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں حرام ہے، چاہے بھولے سے چھوڑ دے، چاہے جان بوجھ کر چھوڑے، دونوں صورتوں میں حرام ذبیحہ، اس کو اب آپ نہیں کھا سکتے۔ اور احناف کہتے ہیں کہ اگر جان بوجھ کر چھوڑا تو حرام، اگر بھولے سے چھوڑ دیا تو حلال ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بحث یہ تین مذاہب ذکر کیے، بحث دو مذاہب میں یہاں ذکر کریں گے، اس کتاب کے مطابق، مولانا۔ ایک امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک ہے اور ایک ہمارا احناف کا مسلک ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں بھئی؟ کہ چاہے حدیث... چاہے تسمیہ بھولے سے رہ جائے، چاہے جان بوجھ کر، دونوں صورتوں میں کیا ہے ذبیحہ؟ حلال ہے۔ اس لیے کہ وہ فرماتے ہیں حدیث میں آیا ہے خبرِ واحد کے اندر: "أنه عليه السلام سئل عن متروك التسمية عامدا" کہ حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا متروک التسمیہ عامداً کے بارے میں، ایسا ذبیحہ کہ ترک کر دیا گیا ہو اس پر تسمیہ کو عامداً، ارادے کے ساتھ، جان بوجھ کر بھئی۔ اس کے بارے میں پوچھا گیا، ایک شخص ذبیحہ ذبح کرتا ہے ایک جانور کو اور بسم اللہ... تسمیہ کو کیا کرتا ہے، مولانا، جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا: "فقال: كلوه" حضور نے فرمایا: اس کو تم کھا لو، "فإن تسمية الله تعالى في قلب كل امرئ مسلم" اس لیے کہ اللہ کا تسمیہ ہر مسلمان شخص کے دل میں ہے۔ ہر مسلمان شخص کے دل میں... جب دل میں موجود ہے، زبان سے چاہے نہیں بھی پڑھا، پھر بھی کیا ہے وہ؟ تو کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ کیا... جان بوجھ کر بھی کوئی تسمیہ نہ کرے تو پھر بھی حلال ہے۔ تو جب جان بوجھ کر حلال ہے تو بھول کر چھوٹ جائے، پھر تو بطریقِ اولیٰ کیا ہے؟ حلال ہے۔ یہ ان کی دلیل ہے، مولانا۔ تو دونوں صورتوں میں جانور کیا ہوا؟ حلال ہوا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ احناف کہتے ہیں بھئی، یہاں تعارض آ گیا، ٹکراؤ آ گیا حدیث کا کس کے ساتھ؟ کتاب اللہ کے عام کے ساتھ، اور عام بھی کون سا ہے؟ غیر مخصوص البعض ہے، اور عام غیر مخصوص البعض قطعی ہوتا ہے، اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ دونوں کو جمع کیا جائے گا بشرطیکہ عام کے حکم میں کوئی تبدیلی نہ ہو، اور یہاں جمع... تو کتاب اللہ میں آیا ہے: "وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا" نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے... تو دیکھو "مَا" آیا بھئی، ہر اس ذبیحے میں سے، عام ہے، "لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ" جس پر اللہ کا نام ذکر نہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب حدیث میں اور اس قسم میں ٹکراؤ آیا، مولانا، کتاب اللہ کے عام میں، "فلا يمكن التوفيق بينهما" ان دونوں میں توفیق... توفیق بمعنی تطبیق، ان دونوں میں توفیق و تطبیق ممکن نہیں، دونوں پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ "لأنه لو ثبت الحل بتركها عامدا" اس لیے کہ اگر اس ذبیحے کی حلت ثابت ہو جائے "بتركها" یعنی "بترك التسمية"، تسمیہ اور بسم اللہ کے چھوڑنے سے ذبیحے کی حلت ثابت ہو جائے "عامدا" جان بوجھ کر... بھئی، جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑ دیا، مولانا، جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑ دیا اور اس سے حلت ثابت ہو جائے، "لثبت الحل بتركها ناسيا" تو یہ ثابت ہو جائے گی حلت اس کی جان بوجھ کر... بھولے سے چھوڑنے کے ساتھ بھی، تسمیہ کو "بتركها ناسيا" اس تسمیہ کو چھوڑنا "ناسيا" کس طرح؟ بھول کر۔ بھئی، جب جان بوجھ کر چھوڑنے کی صورت میں اس کی حلت ثابت... حدیث میں کیا آیا؟ جان بوجھ کر بھی چھوٹ جائے... چھوڑ دی کسی نے تو پھر بھی کیا کرو اس کو؟ کھا لو۔ تو اب اگر ہم حکم لگا دیں کہ جان بوجھ کر چھوڑ دی ہے تو پھر بھی اس کو کھا لو، تو بھولنے کی صورت میں تو وہ بطریقِ اولیٰ کیا ہو جائے گا؟ حلال۔ جب جان بوجھ کر چھوڑنے کی صورت میں حلت ثابت ہو رہی ہے تو بھولنے کی صورت میں بطریقِ اولیٰ کیا ثابت ہوگی؟ حلت ثابت ہو جائے گی، "فحينئذ" اس صورت میں "يرتفع حكم الكتاب" کتاب اللہ کا حکم تو اٹھ جائے گا۔ کتاب اللہ میں تو کیا آیا ہے؟ جس پر اللہ کے نام کو نہ بولا جائے، ذکر نہ کیا جائے، اس کو کیا کرو؟ نہ کھاؤ۔ اور نام چھوڑنے کی دو ہی صورتیں تھیں، مولانا، ایک جان بوجھ کر اور ایک بھولے سے۔ تو جب جان بوجھ کر بھی نہیں پڑھا... جان بوجھ کر نہیں پڑھا اور پھر بھی جانور کیا ہے؟ حلال ہے، تو بھولنے کی صورت میں تو کیا ہوا؟ حلال۔ تو دونوں صورتیں آ گئیں، چھوڑنے کی دونوں صورتوں میں جانور حلال رہے گا، تو... کتاب اللہ تو عملاً معطل... نہیں ہو سکتا بھئی، کتاب اللہ پر عمل ہو سکتا ہے؟ نہیں، کتاب اللہ میں تو کہا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کو نہ کھاؤ، اور نام چھوڑنے کی کتنی صورتیں تھیں؟ جان بوجھ کر اور بھول کر۔ جان بوجھ کر کی صورت میں بھی حلال کہہ رہے ہیں آپ، بھولنے کی صورت میں بھی آپ حلال کہہ رہے ہیں، تو کتاب اللہ کا تو حکم ہی اٹھ گیا، مولانا، اس کے تو حکم پر عمل ہی سرے سے نہیں ہوا، تو اٹھ گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ "فيترك الخبر" پس خبر کو کیا کر دیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا، مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سب کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟ اس پر ایک اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ یہ کس کی مثال پیش کر رہے ہیں؟ عام غیر مخصوص البعض کی مثال ہے، مولانا۔ یعنی جس پر بھی... معنی آیت کا یہ ہوا: جس پر بھی اللہ کے نام کو ذکر نہ کیا جائے اس کو نہ کھاؤ، اور اے احناف، آپ کہتے ہیں بھولے سے رہ جائے تو کھا لو۔ تخصیص کی یا نہیں کی آپ نے؟ بھئی، نام چھوڑنے کے کتنے افراد تھے؟ کتنی صورتیں تھیں؟ دو، ایک عامداً اور ایک ناسیاً۔ آپ نے عامداً... تو اس پر عمل... عموم کا تقاضا تو کیا تھا؟ عامداً کی صورت میں بھی نہ کھایا جائے، ناسیاً کی صورت میں بھی نہ کھایا جائے، پھر غیر مخصوص البعض رہتا۔ آپ نے تو تخصیص کر دی، ایک فرد کو اس حکم سے نکال دیا، کیا کہا؟ بھولے سے رہ جائے تو پھر کھا لو، جان بوجھ کر نہ پڑھی ہو تو پھر اس کو... تو آپ نے کیا کر دی؟ تخصیص کر دی، مولانا۔ تو یہ تو عام غیر مخصوص البعض کی مثال نہ رہی، یہ تو عام مخصوص البعض کی مثال ہو گئی، جو کہ ظنی ہوتا ہے، جو کیا ہوتا ہے؟ ظنی ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تو ظنی کے مقابلے میں آ رہی ہے خبرِ واحد، تو یہ بھی ظنی، وہ بھی ظنی۔ یہ تو قطعی رہا ہی نہیں۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ یہ تو عام کی کون سے عام کی مثال ہے؟ عام غیر مخصوص البعض۔ اور آپ نے اس میں تخصیص کر کے ناسیاً والی صورت کو اس سے نکال دیا، قرآن میں آیا ہے: نہ کھاؤ جس پر اللہ کا ذکر نہ ہو، اور آپ نے کہا ہے بھولے سے نہ کھائے... بھولے سے نہ پڑھے تو پھر بھی اس کو کھا لو، حالانکہ کتاب اللہ میں کیا آیا اس کو نہ کھاؤ، تو آپ نے تخصیص کر دی۔ تو یہ عام غیر مخصوص البعض کی مثال نہ رہی۔ جواب یہ، مولانا، کہ بھئی، بھول کر چھوڑ... بسم اللہ کو چھوڑنے والا صورتاً بسم اللہ کو چھوڑنے والا ہے، حقیقتاً نہیں۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ صورتاً چھوڑنے والا ہے، حقیقتاً نہیں، گویا اس نے چھوڑی ہی نہیں بسم اللہ، گویا کہ اس نے بسم اللہ پڑھ لی ہے بھئی، گویا کہ اس نے کیا کیا بسم اللہ پڑھ لی، اور جب پڑھ لی ہے تو پھر تو اس کا کھانا حلال ہے یا نہیں، مولانا؟ تو وہ "لَمْ يُذْكَرِ" میں داخل ہوا یا "يُذْكَرِ" میں آ گیا وہ تو؟ جی؟ "يُذْكَرِ"، وہ تو "لَمْ يُذْكَرِ" میں آیا ہی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جواب کیا ہوا، مولانا؟ بھول کر چھوڑنے والا دراصل کیا ہے؟ صورتاً چھوڑنے والا ہے، حقیقتاً نہیں۔ اس لیے، مولانا، کہ بھولنے کی نسبت... جو کام بھولے سے ہو، بھولے سے نسیان، نسیان کی نسبت بندے کی طرف نہیں ہوتی، عمد کی نسبت تو بندے کی طرف ہوتی ہے کہ یہ اس نے یہ کام کیا ہے جان بوجھ کر، نسیان کی نسبت بندے کی طرف نہیں ہوتی۔ چنانچہ حدیث آیا ہے، مولانا، حدیث میں: "رفع عن أمتي الخطأ والنسیان"۔ حدیث ہے، مولانا، مشہور حدیث، آپ کو یاد ہونی چاہیے ہر وقت: "رفع عن أمتي" اٹھا لیا گیا ہے میری امت سے، کس چیز کو؟ "الخطأ والنسیان" خطا اور نسیان کو میری امت سے اٹھا لیا گیا ہے، یعنی یہ معاف ہیں ان کو اس... خطا اور نسیان کو میری امت سے کیا کیا گیا ہے؟ اٹھا لیا گیا ہے۔ تو نسیاناً یا خطأً کوئی کام ہو جائے تو اس میں بندے کا دخل نہیں، مولانا، اس نے جان بوجھ کر کوئی کام... دیکھتے نہیں آپ روزے کے اندر کوئی بھولے سے کھا لے تو آپ کیا کہتے ہیں روزہ ٹوٹ گیا؟ نہیں ٹوٹا، مولانا، سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ کہ نسیان کو اس... اور خطا کو اس امت سے کیا کر لیا گیا ہے؟ اٹھا لیا گیا ہے، یعنی ان کے لیے معاف کر دیا گیا ہے، معاف کر دیا گیا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک جواب یہ دیا بعضوں نے، کہ بسم اللہ کو چھوڑنے والا کیا ہے؟ بھول کر چھوڑنے والا صورتاً چھوڑ رہا ہے، حقیقتاً نہیں۔ بعض علماء نے یہ جواب دیا، مولانا، کہ یہ "مَا"... وہ ذبیحہ جس پر اللہ کا نام کو ذکر نہ کیا جائے اس سے مراد "مَا" سے مراد وہ ذبیحہ نہیں جس سے بسم اللہ کو چھوڑ دیا جائے، بلکہ وہ ذبیحہ مراد ہے جس پر بسم اللہ کو عمداً چھوڑ دیا جائے۔ کیا کر دیا جائے؟ عمداً چھوڑ دیا جائے، تو بھولنے والے کا ذکر ہی نہیں ہے اس آیت میں، اس آیت میں تو وہ کہتے ہیں ذکر ہی کس کا ہو رہا ہے؟ عمداً والے کا ذکر ہو رہا ہے جو عامداً ہے۔ اور جب عامداً ہے تو عامداً کوئی بھی ہو چھوڑنے والا، ہم ہمیشہ کیا کہتے ہیں کہ اس کا کھانا جانور ذبیحہ کا کھانا کیا ہو جائے گا؟ حرام۔ تو کوئی تخصیص ہے؟ اسی طرح اپنے عموم پر باقی ہے۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ یہ متعلق ہی عامداً... متروک التسمیہ عامداً سے متعلق ہے، اور جب اس سے متعلق ہے تو اس کے تمام افراد اس میں اب بھی شامل ہیں، کوئی بھی جان بوجھ کر چھوڑے گا، ہم کیا حکم لگائیں گے اس پر فوراً؟ حرمت کا حکم لگا دیں گے، تو کوئی تخصیص ہے؟ بھولنے والے کا تو اس میں ذکر ہی... اس سے تو متعلق ہی... تو اس کو نکالنے یا داخل کرنے کا سوال ہی نہیں، اس کے بارے میں ہے ہی نہیں تو وہ داخل ہی نہیں ہے اس کے اندر۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعضوں نے یہ جواب دیا۔ یعنی بھئی اگر جان بوجھ کر چھوڑنے سے حلت ثابت ہوتی ہے، تو بھولے سے چھوڑنے سے بطریقِ اولیٰ کیا ثابت ہوگی؟ حلت ثابت ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟ اس سے بظاہر یوں لگتا ہے، دیکھو لو اگر جان بوجھ کر چونکہ جان بوجھ کر چھوڑے تو حلال نہیں، معلوم ہوا بھولے سے چھوڑنے پر بھی حلال، بظاہر یوں مفہوم ہوتا ہے، غور کریں آپ اس عبارت میں۔ دیکھو میں کہتا ہوں لو لو آتا ہے نا، لو آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے۔ "لو جئتنی لاکرمتك" اگر تو میرے پاس آیا ہوتا تو میں نے تیرا اکرام کیا ہوتا۔ معلوم ہوا تیرا اکرام منتفی ہے، کیوں؟ کیونکہ تیرا آنا منتفی ہے۔ اگر تو میرے پاس آیا ہوتا تو میں نے تیرا کیا کیا ہوتا؟ اکرام کیا ہوتا، معلوم ہوا تو آیا نہیں اس لیے میں نے تیرا اکرام بھی نہیں کیا۔ تو اکرام نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ نہ آنا۔ معلوم ہوا اول بھی، ثانی منتفی ہے کس کی وجہ سے؟ اول کے نہ ہونے کے۔ اگر تو میرے پاس آیا ہوتا یہ شرط، تو میں تیرا کیا کرتا؟ اکرام کرتا، یہ جزا ہے۔ اور جزا منتفی ہے، میں نے تیرا اکرام نہیں کیا، کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ اول شرط کیا ہے؟ منتفی ہے، تو میرے پاس آیا نہیں۔ تو لو کس لیے آتا ہے مولانا؟ شرط اور جزا دونوں کا انتفا کر دیتا ہے۔ دونوں کا کیا کر دیتا ہے؟ نفی کر دیتا ہے مولانا۔ یہاں بھی کیا آ رہا ہے لو؟ اگر عامداً ترک کرنے والے کا ذبیحہ حلال ہو جائے تو بھول کر چھوڑنے والے کا ذبیحہ بھی کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا۔ اس سے کیا معلوم ہو رہا ہے بظاہر؟ کہ جان بوجھ کر چھوڑنے والے کا ذبیحہ حلال نہیں، اسی طرح بھول کر چھوڑنے والے کا ذبیحہ بھی حلال نہیں کیونکہ لو آیا اور لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے۔ تو بھول کر چھوڑنے والے کا، یہ ثانی کیا ہے یہاں پر؟ بھول کر چھوڑنے والا، اور اول کیا ہے؟ جان بوجھ کر چھوڑنے والا۔ تو اگر معلوم ہوا ثابت کیا؟ ثانی منتفی ہے یعنی بھول کر چھوڑنے والے کے ذبیحے کی حلت منتفی ہے یعنی وہ حرام ہے۔ کیوں حرام ہے؟ کیونکہ جان بوجھ کر بسم اللہ چھوڑنے والے کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔ یہ بظاہر لگ رہا ہے یا نہیں لگ رہا مولانا؟ عبارت میں غور کریں بھئی۔ جی؟ بظاہر، کیونکہ لو آتا ہے ضابطہ، نحوی ضابطہ اگر ذہن میں ہو وہ مثال ذہن میں رکھیں تو پھر بات سمجھ میں آ جائے گی۔ "لو جئتنی لاکرمتك" اگر تو میرے پاس آیا ہوتا تو میں نے تیرا اکرام کیا ہوتا۔ اس جملے سے کوئی کسی سے یوں کہے آپ فوراً سمجھ جائیں گے، کیا سمجھ جائیں گے؟ کہ اس نے اس کا اکرام نہیں کیا۔ کیوں نہیں اکرام کیا؟ کیونکہ وہ اس کے پاس گیا نہیں۔ تو یہاں بھی مولانا اسی طرح ہے کہ بھول کر بسم اللہ چھوڑی ہے تو وہ ذبیحہ حلال نہیں، کیوں نہیں حلال؟ کیونکہ جان بوجھ کر بسم اللہ سے کو چھوڑنے والے کا ذبیحہ حلال نہیں، اسی طرح ثابت ہو رہا ہے؟ جواب یہ مولانا کہ یہ لو جو ہے ہمیشہ شرط اور جزا کے انتفا کے لیے نہیں آتا، کبھی صرف شرط کے انتفا کے لیے آتا ہے اور جزا ثابت ہوتی ہے ہر صورت میں۔ اور جزا ثابت ہوتی ہے ہر صورت میں، جزا ثابت ہوتی ہے ہر صورت میں۔ جیسے مولانا حدیث آتی ہے، جیسے حدیث آتی ہے: "لو كان الإيمان عند الثريا" اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا، ثریا سات ستاروں کا مجموعہ ہے بے انتہا بلندی پر مولانا، بہت تیز آنکھ والے کو اس میں سے ستارے تیز آنکھ والے کو اس سے دکھائی دیں گے چھ، سات بلکہ اس سے عرب نظر کا امتحان لیا کرتے تھے جس کی نظر تیز ہوتی کہ کتنے ستارے اس میں اس کو دکھائی دیتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر حدیث میں آتا ہے "لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من أبناء فارس" "لناله" لکھ لی حدیث بھئی؟ "لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال لناله رجال من أبناء فارس" حدیث میں آتا ہے: اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ اسے پا لیتے، تناول کا معنیٰ پا لینا، حاصل کر لینا۔ اب ادھر توجہ کرو بھئی، اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا پھر بھی اہل فارس میں سے کچھ لوگ کیا ہوتے؟ پا لیتے، یہ پیشین گوئی ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس میں اشارہ ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف، وہ بھی فارس میں سے تھے۔ حضور فرماتے ہیں اگر ثریا جتنی بلندی پر بھی ایمان ہوا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو وہاں سے بھی اس کو کیا کر لیں گے؟ حاصل کر لیں گے۔ تو یہاں جزا بہ ہر تقدیر ثابت ہے مولانا۔ یعنی اگر جہاں بھی ہو ایمان، حتیٰ کہ ثریا پر بھی کیوں نہ ہو، تو اہل فارس میں سے کچھ لوگوں کا اس کا حاصل کر لینا کیا ہے؟ ہر صورت میں کیا ہے؟ ثابت ہے۔ تو یہ بھی اسی قبیل سے ہے، جو کتاب کی عبارت ہے وہ بھی کہ جزا ہر صورت میں کیا ہے؟ ثابت ہے یعنی بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو پھر تو اس کے حلال ہونا ہر صورت میں ثابت ہے ہی ہے اس جانور کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں لو آیا ہے مولانا، کہ اگر جان بوجھ کر چھوڑنے والے کے ذبیحے کی حلت ثابت ہو جائے تو بھول کر بسم اللہ کو چھوڑنے والے کی حلت بطریقِ اولیٰ کیا ہو جائے گی؟ تو یہاں آیا لو، اور لو آتا ہے انتفائے جزا اور انتفائے شرط دونوں کے لیے۔ کس کے لیے آتا ہے؟ انتفائے شرط اور انتفائے جزا دونوں کے لیے آتا ہے، تو اس سے تو یوں ثابت ہو رہا ہے کہ عامداً ترکِ بسم اللہ کو اس کی صورت میں بھی جانور حرام، اور ناسیاً ترک نسیاناً اگر ترک کرتا ہے تو اس صورت میں بھی جانور کیا ہو جائے گا؟ حرام، یہی سمجھ میں آ رہا ہے یا نہیں مولانا؟ کیونکہ لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے شرط اور انتفائے جزا دونوں کے لیے آتا ہے۔ تو جواب یہ مولانا کہ ہمیشہ دونوں کے انتفا کے لیے نہیں آتا لو، کبھی کبھی لو آتا ہے انتفائے شرط پر دلالت کرتا ہے اور جزا ثابت ہوتی ہے ہر تقدیر پر۔ جیسے حدیث میں آیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کے بارے میں "لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من أبناء فارس" اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوا تو فارس والوں میں سے بعض لوگ اس کو پا لیں گے، تو دیکھو یہاں بعض لوگ ایمان کو پا لیں گے ہر صورت میں، یہی مراد ہے نا؟ ہر صورت میں ایمان کو پا لیں گے، تو یہاں بھی اس آیت میں یہ عبارت میں بھی یہی مراد ہے کہ بھول کر چھوڑنے والے کی صورت میں تو بسم اللہ ذبیحہ حلال ہے ہی ہے، اگر جان بوجھ کر چھوڑے گا تو پھر بھی حلت ثابت ہو جائے تو پھر تو آیت پر عمل بالکل کیا ہو جائے گا؟ متروک ہو جائے گا۔ بھئی بھول کر چھوڑنے والے کی صورت میں تو ذبیحہ حلال ہے ہی ہے، ہمارے نزدیک بھی حلال، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی حلال، ہاں اگر عامداً کی صورت میں بھی کیا ہو جائے مولانا؟ حلال ہو جائے تو پھر فحینئذ يرتفع حكم الكتاب، پھر تو کتاب اللہ کا حکم ہی اٹھ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ چلیں مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 14 of 123