Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-111

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَبَيَانُ الْقِسْمِ الثَّالِثِ وَهُوَ الْقِيَاسُ بِعِلَّةٍ مُسْتَنْبَطَةٍ بِالرَّأْيِ وَالِاجْتِهَادِ ظَاهِرٌ، وَتَحْقِيقُ ذٰلِكَ إِذَا وَجَدْنَا وَصْفًا مُنَاسِبًا لِلْحُكْمِ وَهُوَ بِحَالٍ يُوجِبُ ثُبُوتَ الْحُكْمِ وَيَتَقَاضَاهُ بِالنَّظَرِ إِلَيْهِ وَقَدِ اقْتَرَنَ بِهِ الْحُكْمُ فِي مَوْضِعِ الْإِجْمَاعِ يُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ لِلْمُنَاسَبَةِ لَا لِشَهَادَةِ الشَّرْعِ بِكَوْنِهِ عِلَّةً۔ مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ قیاس کا رکن، یعنی علت جو ہے، اس کا پتہ کبھی کتاب اللہ سے چلے گا، کبھی سنتِ رسول صلى الله عليه وسلم سے اس کا پتہ چلے گا، کبھی اس کا پتہ اجماع سے چلے گا اور کبھی اس کا پتہ اجتہاد و استنباط سے چلے گا بھئی۔ تین قسمیں پہلے ذکر کر چکے ہیں بھئی۔ ایک وہ قیاس جس کے علت کا پتہ کتاب اللہ سے چلے، دوسرا وہ قیاس جس کے علت کا پتہ سنتِ رسول سے چلے، تیسرا وہ قیاس جس کا پتہ اجماع سے چلے۔ چوتھی قسم باقی تھی، وہ قیاس جس کے علت کا پتہ اجتہاد و استنباط سے چلے، آج اس کو بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَبَيَانُ الْقِسْمِ الثَّالِثِ اور قسمِ ثالث کا بیان بھئی۔ بھئی! یہ تو قسمِ رابع ہے، لیکن مصنف نے اس کو ثالث قرار دیا۔ وجہ یہ ہے مولانا! کہ پہلی دو قسمیں جو تھیں، جو وہ قیاس جس کے علت کتاب اللہ سے پتہ چلے اور وہ قیاس جس کے علت کا پتہ سنتِ رسول صلى الله عليه وسلم سے چلے، اس کو انہوں نے ایک ہی نوع قرار دے دیا بھئی، ایک ہی قسم قرار دے دیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ہی قسم قرار دیا، اس لیے کہ وہاں علت کا پتہ شارع کی طرف سے چل رہا ہے، چاہے اس کا پتہ قرآن سے چلے یا حدیث سے پتہ چلے، دونوں صورتوں میں کس کی جانب سے ہے؟ علت کا پتہ کس کی جانب سے چل رہا ہے؟ شارع کی جانب سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا یوں کہیں، دونوں میں پتہ نص سے چل رہا ہے، چاہے وہ نصِ قرآنی ہو یا نصِ حدیث ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ان دونوں میں علت کا پتہ نص سے چل رہا ہے، اس لیے ان کو ایک ہی حکم، ایک ہی قسم قرار دے دیا۔ تو یہ تیسری قسم پھر بن گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَبَيَانُ الْقِسْمِ الثَّالِثِ اور تیسری قسم کا بیان۔ وَهُوَ الْقِيَاسُ بِعِلَّةٍ اور وہ، وہ قیاس ہے، وہ قیاس ہے بِعِلَّةٍ مُسْتَنْبَطَةٍ بِالرَّأْيِ اور وہ قیاس ہے ایسی علت کے ساتھ جس کا، جو مستنبط ہوئی ہو رائے اور اجتہاد کے ساتھ۔ ظَاهِرٌ یہ کیا ہے؟ ظاہر۔ یہ ہے خبر مولانا، ظَاهِرٌ کیا ہے؟ خبر ہے اور اوپر مبتدا تھا بَيَانُ الْقِسْمِ الثَّالِثِ۔ قسمِ ثالث کا بیان ظَاهِرٌ، کیا ہے؟ ظاہر ہے۔ اور درمیان میں بتلایا قسمِ ثالث ہے کیا، وَهُوَ الْقِيَاسُ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس کے ذریعے۔ وَتَحْقِيقُ ذٰلِكَ اور تحقیق اس کی یہ ہے مولانا! یعنی وہ قیاس جو علت، جس کے علت رائے سے مستنبط ہو، اس، اس کی تحقیق یہ ہے کہ إِذَا وَجَدْنَا وَصْفًا مُنَاسِبًا لِلْحُكْمِ جب ہم نے کوئی ایسا وصف پایا جو حکم کے مناسب ہو بھئی۔ جب ہم نے کوئی ایسا وصف پایا جو حکم کے مناسب ہے وَهُوَ بِحَالٍ اور وہ وصف اس حال میں ہے کہ يُوجِبُ ثُبُوتَ الْحُكْمِ، يُوجِبُ، أَيْ يُثْبِتُ، يُوجِبُ، أَيْ يُثْبِتُ، جو ثابت کرتا ہے ثبوتِ حکم کو۔ ثبوتِ حکم بمعنیٰ کیا کر لیں؟ چلو وجودِ حکم کر لیں، تھوڑے فرق کے لیے۔ جو ثابت کرتا ہے وجودِ حکم کو بھئی۔ ثبوت، وجود ایک معنیٰ۔ کس چیز کو ثابت کرتا ہے؟ جب ہم نے کوئی ایسا وصف پایا جو مناسب ہے حکم کے اور وہ وصف اس حال میں ہے کہ وہ ثابت کر رہا ہے وجودِ حکم کو وَيَتَقَاضَاهُ اور اس حکم کا کیا کرتا ہے؟ تقاضا کرتا ہے بِالنَّظَرِ إِلَيْهِ اس وصف کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ اس وصف کی طرف نظر کرتے ہوئے بھئی۔ تو وہ وصف مناسب ہے حکم کے اور حکم کو ثابت بھی کرتا ہے اور اس کا تقاضا بھی کرتا ہے وَقَدِ اقْتَرَنَ بِهِ الْحُكْمُ فِي مَوْضِعِ الْإِجْمَاعِ اور تحقیق مل بھی چکا ہو حکم موضعِ اجماع، موضعِ اجماع میں۔ محلِ اجماع، اجماع کی جگہ میں، اجماع کے مقام میں وہ حکم، وہ وصف اس حکم کے ساتھ مل بھی چکا ہو۔ صورت سمجھ میں آئی کیا بات کی انہوں نے؟ جب ہم نے کوئی، ہمیں کوئی ایسا وصف ملا جو مناسب ہے حکم کے اور وہ اس حال میں ہے کہ حکم کو ثابت کر رہا ہے، اس کا تقاضا کر رہا ہے، تقاضا کر رہا ہے اور موضعِ، مقامِ اجماع کے اندر اس وصف کے ساتھ حکم مل بھی چکا ہے۔ مقامِ اجماع میں اس حکم کے ساتھ، اس وصف کے ساتھ حکم مل بھی چکا ہے، تو يُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ حکم کی اس کی طرف نسبت کی جائے گی۔ حکم کی کیا کی جائے گی اس کی طرف؟ نسبت کی جائے گی۔ یہ جزا ہے مولانا! يُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ یہ کیا ہے؟ جزا ہے اور اوپر آیا تھا ایک سطر اوپر بھئی۔ إِذَا وَجَدْنَا وَصْفًا یہ شرط ہے۔ جب ہم کوئی ایسا وصفِ مناسب پائیں گے، يُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ تو حکم کی اس کی طرف کیا کی جائے گی؟ نسبت کی جائے گی۔ کیا کی جائے گی؟ نسبت کی جائے گی کہ یہ حکم جو ہے، اس کی علت یہ وصف ہے کیونکہ یہ وصف کیا ہے اس کے مناسب ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اجماع سے وہ اجماع نہیں مراد بھئی، جو آپ نے اجماعِ امت پہلے پڑھا۔ سمجھ میں آیا؟ اجماع سے مراد ہے معلل اور خصم کا اجماع بھئی۔ جو علت بیان کر رہا ہے، آپ تعلیل کرنے والے ہیں، آپ نے کوئی وصفِ مناسب دیکھا کسی حکم کے اور اب آپ اس کو کیا کر، اس اور اس حکم کے ساتھ، اس وصف کے ساتھ حکم مل بھی چکا ہو موضعِ اجماع میں، کس میں؟ اجماع میں۔ جی۔ سمجھ میں آیا؟ موضعِ اجماع میں، یعنی ایسی جگہ میں جہاں پر آپ کے خصم، آپ کے مقابل جو ہے، اس نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ اس نے بھی کیا کیا ہے؟ آپ نے بھی اسی کو وہاں علت قرار دیا ہے، تو آپ کا خصم جو آپ کا مقابل ہے، جو فریقِ مخالف ہے، اس نے بھی کیا کیا ہے اسی کو تسلیم کیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اجماع سے وہ اجماعُ الامۃ نہیں مراد بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھیے، آگے اور بات واضح ہو جائے گی بھئی۔ اور تو حکم کی نسبت اس وصف کی طرف کی جائے گی لِلْمُنَاسَبَةِ کس وجہ سے؟ مناسبت کی وجہ سے، یہ مناسبت تھی اس لیے حکم کی نسبت ہم نے کس طرف کی ہے؟ اس وصف کی طرف، اس وصف کی طرف کی ہے۔ لَا لِشَهَادَةِ الشَّرْعِ بِكَوْنِهِ عِلَّةً اس وجہ سے نہیں کہ شریعت نے شہادت دی ہے اس وصف کے علت ہونے کی۔ شریعت نے کوئی شہادت، شریعت نے نہیں بتلایا کہ یہ اس حکم کی علت ہے، بلکہ یہ کس وجہ سے علت ہم نے حکم کی نسبت اس وصف کی طرف کیوں کی ہے؟ مناسبت کی وجہ سے کی ہے، شریعت کی شہادت کی وجہ سے نہیں کی۔ جی! شریعت کی لَا لِشَهَادَةِ الشَّرْعِ بِكَوْنِهِ عِلَّةً نہ کہ شریعت کی شہادت کی وجہ سے کہ یہ، بِكَوْنِهِ عِلَّةً اس وصف کے علت ہونے کی۔ هٰذَا ضمیر کس کو راجع ہے؟ وصف۔ اس وصف کے علت ہونے کی شہادت شریعت نے دی ہو، ایسا نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اس کا تعلق شہادت سے ہے۔ دیکھیے، حکم کی نسبت کی جائے گی اس وصف کی طرف لِلْمُنَاسَبَةِ مناسبت کی وجہ سے لَا لِشَهَادَةِ الشَّرْعِ بِكَوْنِهِ عِلَّةً نہ کہ شریعت کے یہ شہادت دینے کی وجہ سے کہ یہ وصف علت ہے، کہ یہ وصف علت ہے۔ وَنَظِيرُهُ اور اس کی نظیر جو ہے إِذَا رَأَيْنَا شَخْصًا أَعْطَى فَقِيرًا دِرْهَمًا بھئی دیکھو، انہوں نے کیا کہا کہ جب کوئی وصفِ مناسب نظر آئے گا تو اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ اس حکم کی علت قرار دیا جائے گا، اس کی طرف حکم کی نسبت کی جائے گی۔ اس کی نظیر ذکر کر رہے ہیں۔ دیکھیے: إِذَا رَأَيْنَا شَخْصًا دیکھو، ایک شخص کو آپ نے دیکھا کہ وہ فقیر کو درہم دے رہا ہے۔ فقیر اور محتاج کو کیا کر رہا ہے؟ درہم دے رہا ہے۔ فوراً آپ کا غالب گمان کیا ہوگا بھئی؟ یہ فقیر کو کس لیے دے رہا ہے درہم؟ جی! اس کی حاجت تاکہ پوری ہو جائے اور اس شخص کو ثواب مل جائے۔ یہ آپ کے ذہن میں آئے گا یا نہیں آئے گا بھئی؟ یہ فوراً آپ کے ذہن میں آئے گا۔ تو دیکھا! اعطا ہے ایک حکم، اس شخص کا عطا کرنا، تو اعطا ہے ایک حکم اور اس کے لیے ایک وصفِ مناسب آپ کو نظر آیا اور وہ کیا تھا؟ دفعِ حاجت اور تحصیلِ ثواب۔ تو آپ نے اس کو اس کی علت قرار دے دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اعطا، یہ اعطا ہے حکم اور علت کیا ہوئی؟ دفعِ حاجتِ فقیر اور تحصیلِ ثواب۔ تو تحصیلِ ثواب اور دفعِ حاجتِ فقیر کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ اس، یہ اعطا کیا جا رہا ہے، اس فقیر کو درہم دیا جا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھا، یہ اس کی مثال ہے، وصفِ مناسب نظر آیا تو آپ نے اسے اس کی علت قرار دے دیا بھئی۔ وَنَظِيرُهُ اور اس کی نظیر إِذَا رَأَيْنَا شَخْصًا ہم نے ایک ایسے شخص کو دیکھا أَعْطَى فَقِيرًا دِرْهَمًا کہ وہ کیا کر، اس نے کیا کیا ہے؟ ایک فقیر کو درہم عطا کیا ہے غَلَبَ عَلَى الظَّنِّ تو غالب ہوئی اس بات ظن پر، ظن پر۔ أَنَّ الْـ کیا بات ظن پر غالب ہوئی؟ کہ أَنَّ الْإِعْطَاءَ لِدَفْعِ حَاجَةِ الْفَقِيرِ وَتَحْصِيلِ مَصَالِحِ الثَّوَابِ کہ یہ جو اعطا ہے، یہ فقیر کی حاجت کو دور کرنے کے لیے ہے وَتَحْصِيلِ مَصَالِحِ الثَّوَابِ اور ثواب کی مصلحتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ ثواب کی مصلحتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ مَصَالِحِ الثَّوَابِ جو مضاف مضاف الیہ ہیں، یہ اضافتِ بیانیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ اضافتِ بیانیہ۔ مضاف مضاف الیہ، اضافتِ بیانیہ کسے کہتے ہیں، جانتے ہو؟ بھئی، جس میں مضاف الیہ بیان ہوتا ہے مضاف کا۔ مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ بیان کا۔ لِتَحْصِيلِ مَصَالِحَ مصلحتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ بھئی وہ مصلحتیں کیا ہیں؟ ثواب ہے۔ کیا ہے؟ ثواب، یعنی ثواب حاصل کرنے کے لیے ہے۔ وَتَحْصِيلِ مَصَالِحِ الثَّوَابِ اور ثواب کی مصلحتیں حاصل کرنے کے لیے ہے إِذَا عُرِفَ هٰذَا جب یہ جان لیا گیا فَنَقُولُ تو ہم کہتے ہیں إِذَا رَأَيْنَا وَصْفًا مُنَاسِبًا لِلْحُكْمِ جب ہم نے کوئی ایسا وصف دیکھا جو مناسب ہے حکم کے وَقَدِ اقْتَرَنَ بِهِ الْحُكْمُ فِي مَوْضِعِ الْإِجْمَاعِ اور اس حال میں کہ مل چکا ہے اس وصف کے ساتھ حکم فِي مَوْضِعِ الْإِجْمَاعِ مقامِ اجماع کے اندر بھئی۔ يَغْلِبُ الظَّنُّ بِإِضَافَةِ الْحُكْمِ إِلَى ذٰلِكَ الْوَصْفِ تو غالب گمان ہوتا ہے اس حکم کی نسبت کرنے کا إِلَى ذٰلِكَ الْوَصْفِ اس وصف کی طرف۔ اس حکم کی اضافت اس وصف کی طرف کرنے کا غالب گمان کیا ہوتا ہے؟ گمان غالب ہوتا ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ يَغْلِبُ الظَّنُّ غالب ہوتا ہے ظن، کہ کیا ظن؟ بِإِضَافَةِ الْحُكْمِ إِلَى ذٰلِكَ الْوَصْفِ کہ اس حکم کی نسبت کس کی طرف ہے؟ اس تو اس حکم کی نسبت اس وصف کی طرف کرنے کا ظن غالب ہو جاتا ہے۔ تو ظنِ غالب، یہ ظنِ غالب یعنی حاصل ہوتا ہے۔ وَغَلَبَةُ الظَّنِّ فِي الشَّرْعِ تُوجِبُ الْعَمَلَ عِنْدَ انْعِدَامِ مَا فَوْقَهَا مِنَ الدَّلِيلِ اور غلبہٴ ظن شریعت کے اندر عمل کو واجب کر دیتا ہے عِنْدَ انْعِدَامِ مَا فَوْقَهَا جب نہ پائی جائے اس کے اوپر بھئی۔ اس، جب نہ پائی جائے وہ چیز فَوْقَهَا جو اس کے اوپر ہے بھئی۔ وہ کیا چیز؟ مِنْ بیانیہ ہے، یعنی کہ دلیل، یعنی کہ۔ تو اس مَا کی جگہ پر اٹھا کر دلیل کا لفظ رکھیں گے تو اب ترجمہ ہو جائے گا۔ اس لیے غلبہ، غلبہٴ ظن واجب کرتا ہے شریعت میں عمل کو عِنْدَ انْعِدَامِ جب نہ پائی جائے وہ دلیل فَوْقَهَا جو اس سے اوپر ہو۔ یعنی اس سے اوپر کی جب کوئی دلیل نہ پائی جائے تو پھر کیا حکم لگایا جائے گا؟ جی؟ اس پر عمل کرنا کیا ہوگا؟ واجب ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی! آپ مسافر ہیں ایک جگہ پر۔ اور پانی آپ کے پاس نہیں ہے۔ تو اب کیا کریں گے آپ؟ جی؟ فوراً تیمم کر لیں گے؟ نہیں، نہیں۔ تحری کریں گے۔ اگر آپ کا یہ غالب گمان ہے کہ قریب میں کہیں پانی مل جائے گا تو اب آپ کو تیمم کی اجازت نہیں۔ اب اس تحری پر عمل واجب ہے اور پانی آپ تلاش کریں گے۔ ہاں، اگر غالب گمان یہ ہے کہ قریب میں کہیں پانی، قریب کہیں پانی نہیں ملے گا، تو اب آپ کیا کر سکتے ہیں؟ تیمم کریں گے بھئی۔ تو جب غالب گمان ہوا کہ قریب پانی نہیں ہے تو اب تیمم کرنا جائز ہوا بھئی۔ بِمَنْزِلَةِ الْمُسَافِرِ مسافر کے درجے میں إِذَا غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ کہ جب غالب ہو اس کے گمان پر كَأَنَّ بِقُرْبِهِ مَاءً کہ اس کے قریب کیا ہے؟ قریب پانی ہے لَمْ يَجُزْ لَهُ التَّيَمُّمُ تو جائز نہیں ہے اس کے لیے تیمم کرنا وَعَلَى هٰذَا مَسَائِلُ التَّحَرِّي اور اسی پر مبنی ہیں تحری کے مسائل بھئی۔ اسی پر تحری کے مسائل، یعنی شریعت میں جب اس سے اوپر کی کوئی دلیل نہ ہو تو اس تحری پر عمل کیا ہو جاتا ہے؟ واجب ہوتا ہے۔ وَحُكْمُ هٰذَا الْقِيَاسِ أَنْ يَبْطُلَ بِالْفَرْقِ الْمُنَاسِبِ اور حکم اس قیاس کا یہ ہے کہ یہ باطل ہو جاتا ہے بِالْفَرْقِ الْمُنَاسِبِ فرقِ مناسب کی وجہ سے۔ جی۔ فرقِ مناسب۔ لِأَنَّ عِنْدَهُ، اس لیے کہ جب عِنْدَهُ، هٰذَا ضمیر، هٰذَا ضمیر راجع ہے فرق کو بھئی۔ اس لیے کہ جب فرق ہوگا، تو يُوجَدُ مُنَاسِبٌ سِوَاهُ تو اس وصف کے علاوہ کوئی اور مناسب بھی پایا گیا فِي صُورَةِ الْحُكْمِ حکم کی صورت میں فَلَا يَبْقَى الظَّنُّ بِإِضَافَةِ الْحُكْمِ إِلَيْهِ تو اس وصف کی طرف حکم کی نسبت کرنے کا ظن باقی نہ رہا بھئی۔ ظن باقی نہ رہا۔ کیا بیان، کیا بات بیان ہوئی؟ وَحُكْمُ هٰذَا الْقِيَاسِ أَنْ يَبْطُلَ بِالْفَرْقِ الْمُنَاسِبِ کہ یہ قیاس کیا ہو جاتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے، کس کی وجہ سے؟ فرقِ مناسب کی وجہ سے باطل ہو جائے گا۔ دیکھو، مثال میں اب ساری بحث آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ بھئی، یاد رکھو! ہمارے نزدیک اگر کوئی صغیر ہے، اس کے پاس اتنا مال ہے جو نصاب کو پہنچتا ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے، تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس پر زکوٰۃ کا، بالغ ہے، پھر تو اس کے مال پر سال گزرے نصاب کے بقدر اور پھر تو زکوٰۃ آئے گی، لیکن نابالغ ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نابالغ، صغیر جو ہے اس کے مال پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اس پر بھی کیا بات، کیا واجب ہے؟ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مالِ کبیر پر بھئی۔ مالِ کبیر پر۔ کہ جیسے کبیر کے مال میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، صغیر کے مال میں بھی کیا ہے زکوٰۃ واجب۔ اس لیے کہ یہ جو کبیر پر زکوٰۃ واجب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے فقیر کی حاجت پوری ہوگی۔ اس مال کے ذریعے کیا ہوگی؟ فقیر کی حاجت پوری ہوگی اور یہی علت صغیر کے مال میں بھی تو ہے۔ اس کے مال کو بھی، سے بھی کیا ہوگی؟ کسی فقیر کی حاجت پوری ہوگی۔ تو دیکھو! دونوں میں علتِ متحدہ آ گئی۔ کیا آ گئی؟ لہٰذا اس پر بھی مال، زکوٰۃ آئے گی۔ جیسے کبیر کے مال میں سے زکوٰۃ دیں تو اس سے فقیر کی حاجت پوری ہوگی، اسی طرح صغیر کے مال میں سے بھی زکوٰۃ دی جائے تو اس سے بھی کیا ہوگی؟ فقیر کی حاجت پوری ہوگی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا قیاس سمجھ میں آیا آپ کو بھئی؟ تو انہوں نے صغیر کے مال پر بھی وجوبِ زکوۃ کا حکم لگایا کس علت کی بناء پر؟ جی؟ دفعِ حاجتِ فقیر کی علت کی وجہ سے کہ جیسے اس کبیر کے مال سے کیا ہوگی؟ فقیر کی حاجت دور ہوگی، پوری ہوگی، اسی طرح اس صغیر کے مال سے بھی کیا ہو سکتی ہے؟ فقیر کی حاجت، دونوں ایک جیسے ہوئے۔ جی، ہم اب فرقِ مناسب بیان کر کے اس قیاس کو باطل کر دیں گے۔ انہوں نے کیا، کیا حکم بتلایا تھا؟ یہ جو قیاس کی قسم ہے، فرقِ مناسب بیان کرنے سے کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ تو یہاں دیکھو ہم فرقِ مناسب بیان کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ جو وصف ہے، یہ جس کو آپ نے علت قرار دیا، یہ حکم کے مناسب نہیں ہے، بلکہ یہاں ایک اور وصفِ مناسب موجود ہے بھئی۔ ایک اور کیا ہے وصفِ مناسب موجود ہے اور وہ کیا؟ کہ یہ جو زکوۃ دی جاتی ہے، وہ مال کو پاک کرتی ہے اور اس سے انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ زکوۃ دینے کی علت کیا ہے بھئی؟ اس سے انسان کا مال پاک ہو جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں، گناہ معاف ہوتے ہیں۔ تو زکوۃ کے وجوب کی علت مال کا پاک ہونا ہے اور گناہوں کا معاف ہونا ہے، یہ ہے وصفِ مناسب بھئی۔ اور کیا کہا تھا؟ کہ موضعِ اجماع کے اندر اس وصف کے ساتھ حکم مل بھی چکا ہو۔ موضعِ اجماع میں کیا ہے؟ مل بھی چکا ہو اور اجماع سے میں نے کیا بتلایا؟ کیا مراد ہے؟ معلل، علت بیان کرنے والا جو ہے، آپ جو ہیں، جو آپ تعلیل کرنے لگے ہیں، معلل اور فریقِ مخالف میں اتحاد آیا ہو، کیا آیا ہو؟ تو فریقِ مخالف یہاں کون ہیں؟ امام، امام شافعی رحمہ اللہ بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ، تو وہ ہیں فریقِ مخالف اور آپ ہیں تعلیل بیان کر رہے، تو اب آپ فرق بیان کرتے ہیں، وصفِ مناسب ایک اور ذکر کر رہے ہیں، تعلیل کر رہے ہیں بھئی۔ کیا وصفِ مناسب آپ نے ذکر کیا بھئی؟ کہ زکوۃ کی علت کیا ہے؟ مال کو یہ پاک کرتی ہے اور گناہ معاف ہوتے ہیں، یہ وصف مناسب ہے، یہ وصف کیا ہے؟ مناسب ہے، اس کو علت قرار دیا جائے وجوبِ زکوۃ کے لیے۔ اور موضعِ اجماع میں اس وصف کے ساتھ حکم مل بھی چکا ہے اور وہ کیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص زکوۃ دیتا ہے تو اس کا مال پاک ہو جاتا ہے اور اس کے گناہ کیا ہوتے ہیں؟ تو دیکھا ہم بھی یہی بات کر رہے ہیں اور انہوں نے بھی کیا کہا کہ زکوۃ دینے سے کیا ہو جاتے ہیں؟ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور مال کیا ہو جاتا ہے؟ تو اسی حکم کے ساتھ یہ وصف، وہ بھی تو تسلیم کرتے ہیں، تو دیکھو دونوں کی جانب سے کیا آ گیا؟ اجماع آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی؟ کہ اس وصف کے ساتھ یہ حکم مل چکا ہے اس وصف کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا اب اس کو علت قرار دیا جائے گا، کس کو قرار دیا جائے گا علت؟ اس کو علت قرار دینا، یہ زیادہ مناسب ہے اس کے، تو کیا علت ہم نے بیان کی بھئی؟ زکوۃ سے کیا ہو جائے گا؟ مال پاک ہو جائے گا اور گناہ معاف ہوں گے بھئی اور صغیر میں یہ علت نہیں پائی جا رہی بھئی، صغیر کے کوئی گناہ ہیں؟ وہ تو مکلف ہی نہیں ہے، اس کے گناہ ہی نہیں، اس پر لہٰذا زکوۃ کو واجب کرنے کی ضرورت بھی نہیں کہ اس سے گناہ معاف ہوں گے، جب اس کے گناہ ہی نہیں تو گناہ معاف ہونے کا کیا معنیٰ بھئی، لہٰذا صغیر کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔ تو دیکھا، امام شافعی رحمہ اللہ نے صغیر کے مال میں زکوۃ واجب کی تھی دفعِ حاجتِ فقیر کی علت کی وجہ سے، انہوں نے اسے علت بنایا تھا، ہم نے فرق بیان کر دیا کہ یہ مناسب نہیں ہے اس حکم کے، اس لیے کہ اس کی حکم کے مناسب ایک اور وصف ہے اور وہ کیا؟ کہ اس سے مال پاک ہوتا ہے اور گناہ معاف ہوتے ہیں اور یہ علت جو ہے، یہ صغیر کے مال میں نہیں پائی جا رہی، لہٰذا اس پر وجوبِ زکوۃ کا حکم بھی نہیں لگایا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَحُكْمُ هَذَا الْقِيَاسِ أَنْ يَبْطُلَ بِالْفَرْقِ الْمُنَاسِبِ اور حکم اس قیاس کا یہ ہے کہ یہ باطل ہو جائے گا فرقِ مناسب سے۔ لِأَنَّ عِنْدَهُ ای لِأَنَّ عِنْدَ الْفَرْقِ الْمُنَاسِبِ اس لیے کہ جب فرقِ مناسب پایا جائے گا، يُوجَدُ مُنَاسِبٌ سِوَاهُ تو پایا جائے گا ایک اور مناسب بھی اس وصف کے علاوہ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا بیان کیا تھا؟ دفعِ حاجتِ فقیر، تو انہوں نے اس کو، کہ یہ وصف مناسب ہے، تو ہم نے کیا کر دیا؟ ایک اور وصفِ مناسب ذکر کر دیا، تو پہلے وصفِ مناسب کی وجہ سے کیا تھا؟ غلبہ ظن حاصل ہوا تھا یا نہیں بھئی؟ انہیں وہ وصف مناسب لگا تو ظنِ غالب ہو گیا اور ظنِ غالب ہوا تو انہوں نے حکم لگا دیا اور عمل اس پر کیا ہوا؟ واجب۔ جبکہ ہم نے کیا کیا؟ ایک اور وصف بیان کر دیا جو، جو اس حکم کے مناسب ہے، ایک وصف انہوں نے بیان کیا تھا، ایک ہم نے بیان کر دیا، تو اب مولانا دو وصف آ گئے اس حکم کے مناسب، تو اب غلبہ ظن باقی رہا؟ ظن کہتے ہیں یاد رکھو، جس میں، کہ جس میں شک ہوتا ہے لیکن ایک جانب راجح ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ راجح ہوتی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو جب ایک ہی وصف ان کو مناسب نظر آیا تو وہی راجح تھا، لیکن اب کیا ہو گئے؟ وصف دو ہو گئے جو اس حکم کے مناسب ہیں، تو اب غلبہ ظن باقی رہے گا؟ نہیں، اب تو ایک، صرف وہی وصف نہیں، ایک اور وصف بھی آ گیا۔ لِأَنَّ عِنْدَهُ يُوجَدُ مُنَاسِبٌ سِوَاهُ اس لیے کہ جب فرق پایا جائے گا تو اس وقت ایک اور مناسب بھی پایا جائے گا سِوَاهُ اس وصفِ اول کے علاوہ جس کو، جس کو علت بتایا تھا، فِي صُورَةِ الْحُكْمِ حکم کی صورت میں، فَلَا يَبْقَى الظَّنُّ بِإِضَافَةِ الْحُكْمِ إِلَيْهِ تو ظن باقی نہیں رہے گا اس کی طرف، اس وصف کی طرف حکم کی اضافت کے ساتھ بھئی۔ إِلَيْهِ یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ اس وصف کی طرف حکم کی اضافت کرنے کا ظن باقی نہیں رہے گا، اس حکم کی، اس وصف کی طرف حکم کی نسبت کرنے کا ظن باقی نہیں رہے گا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اب کیا آ گیا؟ ایک اور وصفِ مناسب آ گیا، تو اب غلبہ ظن باقی ہی نہیں رہا۔ فَلَا يَثْبُتُ الْحُكْمُ بِهِ تو اب اس وصف کے ذریعے حکم ثابت نہیں ہوگا، لِأَنَّهُ كَانَ بِنَاءً عَلَى غَلَبَةِ الظَّنِّ وَقَدْ بَطَلَ ذَلِكَ بِالْفَرْقِ اس لیے کہ اس حکم کی بناء کس پر تھی؟ غلبہ ظن پر تھی، وَقَدْ بَطَلَ ذَلِكَ بِالْفَرْقِ اور تحقیق وہ غلبہ ظن تو کیا ہو چکا ہے؟ باطل ہو چکا ہے بالفرق، سببِ فرق، فرق کی وجہ سے۔ وَعَلَى هَذَا كَانَ الْعَمَلُ بِالنَّوْعِ الْأَوَّلِ بِدَلَالَةِ الْحُكْمِ بِالشَّهَادَةِ بَعْدَ تَزْكِيَةِ الشَّاهِدِ وَتَعْدِيلِهِ یہاں سے تینوں انواع کے بارے میں بتلا رہے ہیں، تین انواع کے قیاس انہوں نے بتلائے بھئی، ایک قیاس وہ ہے جو نص سے معلوم ہو، چاہے کتاب اللہ سے معلوم ہو، چاہے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی علت معلوم ہو اور ایک وہ قیاس ہے جس کی علت اجماع سے معلوم ہو اور ایک وہ قیاس ہے جس کی علت اجتہاد و استنباط سے معلوم ہو، ان تینوں کے بارے میں حکم بتلا رہے ہیں، ان کا فرق بتلا رہے ہیں بھئی۔ یاد رکھو اس سے پہلے ایک بات سمجھ لو، ایک ہوتی ہے تعدیل، ایک ہوتا ہے تزکیہ۔ ایک ہے تعدیل اور ایک ہے تزکیہ۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی، گواہوں کا عادل ہونا ضروری ہے، گواہوں کا عادل ہونا ضروری ہے۔ تو لہٰذا قاضی کے پاس جب کوئی شخص گواہی دینے کے لیے آئے کسی مسئلے کے اندر، تو قاضی کے لیے ضروری ہے کہ پتہ کروائے کہ یہ عادل ہے یا عادل نہیں، عادل ہے یا عادل نہیں۔ پھر اس کی دو صورتیں ہیں، ایک ہے ظاہراً لوگ اس کو عادل کہتے ہیں، لوگوں سے پوچھا بھئی ہاں یہ کیسا ہے بھئی، یہ کس قسم کا ہے، سارے کے، سارے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کہ عادل ہے، یہ گواہ کیا ہے؟ عادل ہے، کبائر گناہوں سے بچتا ہے، صغائر پہ اصرار نہیں کرتا اور خصیص افعال بھی سرانجام نہیں دیتا۔ تو ظاہر کے اندر لوگ جو اسے عادل کہتے ہیں اس کو کہتے ہیں تعدیل، کیا کہتے ہیں؟ ظاہراً لوگ ظاہر۔ تعدیل یعنی عدل کی نسبت اس کی طرف کرتے ہیں ظاہراً، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعدیل۔ اور ایک ہے تزکیہ مولانا، تزکیہ۔ تزکیہ اس کو کہتے ہیں کہ ظاہراً تو لوگ اس کو عادل کہہ رہے ہیں، قاضی ایک رقعہ لکھتا ہے اس کے جاننے والوں میں سے کسی کی طرف بھئی، خفیہ طور پر ایک خط بھیجتا ہے اور اس پر پوچھتا ہے اس شخص سے کہ بھئی ظاہر میں تو لوگ اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ عادل کہہ رہے ہیں، تم بتاؤ بھئی، یہ عادل ہے یا عادل نہیں؟ خفیہ طور پر اس سے پتہ کرواتا ہے، ظاہر کا تو ہمیں پتہ ہے، باطن کا تو ہمیں پتہ نہیں، تو آپ کا تو تعلق وغیرہ ہے، آپ ہمیں بتائیں بھئی، یہ کیسا ہے باطن کے اعتبار سے۔ تو پھر وہ لکھ دیتا ہے اس رقعے پر کہ عادل ہے، یہ عادل نہیں ہے، اس کو کہتے ہیں تزکیہ، کیا کہتے ہیں؟ تزکیہ کہتے ہیں، تزکیہ۔ تو تعدیل کا تعلق ہے ظاہر سے اور تزکیے کا تعلق ہے باطن سے، تعدیل ہوگی ظاہر میں لوگ جو اسے عادل کہتے ہیں اور تزکیہ ہے جس میں خفیہ طور پر پتہ کروایا جاتا ہے کہ درپردہ یہ کیسا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تعدیل کا تعلق کس سے ہوا؟ ظاہر سے اور تزکیے کا تعلق کس سے ہوا؟ باطن سے، یہ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھو اب قاضی کے پاس جب کوئی شخص آیا گواہی کے لیے، اب اس کی تعدیل بھی ثابت ہو گئی اور تزکیہ بھی ثابت ہو گیا، اس گواہ کی گواہی پر جو قاضی فیصلہ کرتا ہے، وہ بڑا قوی فیصلہ ہے، کیونکہ گواہ کی کیا ہو چکی ہے؟ تعدیل بھی ہو چکی ہے اور تزکیہ بھی ہو چکا ہے، لہٰذا یہ حکم کبھی باطل نہیں ہو سکتا، باطل نہیں ہو سکتا قاضی۔ تو مصنف فرماتے ہیں کہ وہ قیاس جو نوعِ اول کے قبیل سے ہو، یعنی جس کا علم، جس کی علت کا پتہ نص کے ذریعے چلا، قاضی کے اس فیصلے کی طرح ہے جو قاضی نے اس طرح کی گواہی کے ذریعے کیا جو فیصلہ تعدیل اور تزکیہ کے بعد بھئی، تعدیل اور تزکیہ کے بعد قاضی نے جو فیصلہ کیا ہے گواہوں کی گواہی پر، یہ قاضی کے اس فیصلے کی طرح ہے، یہ پہلا قیاس بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ظاہر میں بھی اس کی عدالت کا پتہ چل گیا تھا مولانا اور باطن میں بھی کیا تھا؟ اس کی عدالت کا پتہ چل گیا، اسی طرح یہ قیاس بھی اسی کی طرح ہے، اس لیے کہ یہاں مولانا شریعت کی جانب سے اس کی علت کی تصریح آ چکی کہ یہ چیز اس کی علت ہے، تو ظاہر کے اعتبار سے بھی وہی علت ہوئی اور معلوم ہوا باطن کے اعتبار سے بھی، جب شارع نے بتلا دیا کہ اس کام، اس حکم کی یہ علت ہے تو معلوم ہوا باطن میں بھی، حقیقت میں بھی یہی علت ہے، تو ظاہر میں بھی یہ علت اور باطن میں بھی یہ علت، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور وہ قیاس جس کی علت کا پتہ اجماع سے چلے، جس کی علت کا پتہ اجماع سے چلے، کہتے ہیں یہ اس شہادت کی طرح ہے جس میں تعدیل تو ہوئی ہو، تزکیہ نہ ہوا ہو، جس میں تعدیل تو ہوئی ہے لیکن تزکیہ نہیں، بھئی اجماع کس کو کہتے تھے؟ کہ سارے علماء کی رائے کیا ہو جائے؟ متفق ہو جائے، تمام علماء کی رائے۔ اب سارے علماء تو فرما رہے ہیں کہ اس چیز کی یہی علت ہے، لیکن کیا ضروری ہے حقیقت میں بھی وہی علت ہو؟ حقیقت وہ تو اللہ جانتے ہیں کہ حقیقت میں علت ہے یا علت نہیں، لیکن ظاہر کے اعتبار سے سارے کیا کہہ رہے ہیں؟ یہی علت ہے، تو وہ قیاس جو کس کے ذریعے، جس کی علت کا پتہ چلے؟ اجماع کے ذریعے پتہ چلے، وہ اس گواہی کی طرح ہے جس میں کیا ہو؟ تعدیل تو ہو چکی ہو لیکن تزکیہ، تعدیل کا تعلق ظاہر سے، تزکیہ کا تعلق تھا باطن سے، یعنی جس میں ظاہر میں تو سارے کہہ رہے ہیں یہی علت ہے لیکن تزکیہ نہیں ہوا، یعنی باطن کا پتہ نہیں کہ حقیقت میں یہ حکم، یہ علت ہے یا علت نہیں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ اس نوع میں سے ہے۔ اور تیسرا قیاس بھئی، جس کی علت کا پتہ اجتہاد و استنباط سے چلے بھئی، کہتے ہیں وہ مستور الحال کی گواہی کے درجے میں ہے، کس کے درجے میں ہے؟ مستور الحال، مستور بھئی، ستر سے ہے، پوشیدہ ہو جس، وہ شخص جس کا حال، وہ گواہ جس کا حال کیا ہو؟ پوشیدہ ہو، قاضی کے پاس ایک شخص آ کر گواہی دیتا ہے اور وہ مستور الحال ہے، نہ اس کے عادل ہونے کا پتہ، نہ اس کے فاسق ہونے کا پتہ، اس کا حال پوشیدہ ہے مولانا، تو اب اس شخص کی گواہی پر قاضی کے لیے فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اگر قاضی فیصلہ کر دے تو اس پر عمل کیا ہو جاتا ہے؟ واجب ہو جاتا ہے، تو یہ تیسری قسم جو ہے قیاس کی، وہ بھی مستور الحال شخص کی گواہی کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ مستور الحال شخص کی تعدیل ہوئی ہے؟ تزکیہ ہوا ہے؟ نہیں، یعنی ظاہر کے اعتبار سے بھی عدل کی نسبت نہیں پائی جا رہی اور باطن کے اعتبار سے بھی عدل کی نسبت نہیں پائی جا رہی، تو اسی طرح وہ قیاس جو مستنبط ہوا ہے رائے اور اجتہاد کے ذریعے، اس میں بھی علت کا پتہ نہ ظاہر کے اعتبار سے ہے اور نہ باطن کے اعتبار سے، سمجھ میں آیا؟ ظاہر کے اعتبار سے بھی بات یقینی نہیں، باطن کے اعتبار سے بھی بات یقینی، علت تو آپ نے نکال لی، لیکن کیا ظاہر کے اعتبار سے یقینی ہے؟ نہیں، باقی اور کوئی نہیں نکال رہا بھئی، معلوم ہوا ظاہر کے اعتبار سے بات یقینی اور باطن کے اعتبار سے بھی بات یقینی نہیں ہے اس میں کہ حقیقت میں بھی وہی علت ہو، حقیقت میں بھی وہی علت، ہاں شارع کی طرف سے جب آ گیا کہ یہ علت ہے تو ظاہر کے اعتبار سے بھی قطعی طور پر یہی علت ہے، باطن کے اعتبار سے بھی بات پکی ہو گئی کہ حقیقی طور پر بھی یہی علت، اور اجماع کے ذریعے جب علت کا پتہ چلا تو تعدیل کی طرح ہے، یعنی ظاہر کے اعتبار سے تو پتہ چل گیا، یہی علت ہے، سب اسی کو قرار دے رہے ہیں، ہاں لیکن باطن کے اعتبار سے، یعنی حقیقت کے اعتبار سے کچھ پتہ نہیں کہ حقیقت میں یہی علت ہے یا حقیقت میں علت نہیں، اور تیسری قسم جس میں اجتہاد و استنباط کے ذریعے علت کا پتہ چلا، کس کی طرح ہے وہ گواہی کی طرح جس میں نہ تعدیل ہوئی ہے اور نہ تزکیہ ہوا ہے، یعنی ظاہر کے اعتبار سے بھی اسی کا علت ہونا یقینی نہیں اور باطن کے اعتبار سے بھی اس کا علت ہونا یقینی نہیں، تو تب بھی بات پکی ہو گئی کہ حقیقی طور پر بھی یہی علت ہے۔ اور اجماع کے ذریعے جب علت کا پتہ چلا تو تعدیل کی طرح ہے، یعنی ظاہر کے اعتبار سے تو پتہ چل گیا، یہی علت ہے، سب اسی کو قرار دے رہے ہیں، ہاں لیکن باطن کے اعتبار سے، یعنی حقیقت کے اعتبار سے کچھ پتہ نہیں کہ حقیقت میں یہی علت ہے یا حقیقت میں علت نہیں، اور تیسری قسم جس میں اجتہاد و استنباط کے ذریعے علت کا پتہ چلا، کس کی طرح ہے وہ گواہی کی طرح جس میں نہ تعدیل ہوئی ہے اور نہ تزکیہ ہوا ہے، یعنی ظاہر کے اعتبار سے بھی اسی کا علت ہونا یقینی نہیں اور باطن کے اعتبار سے بھی اس کا علت ہونا یقینی نہیں ہے۔ بحث سمجھ میں آئی اچھی طرح بھئی؟ دیکھئے بھئی۔ وَعَلَى هَذَا كَانَ الْعَمَلُ بِالنَّوْعِ الْأَوَّلِ بِدَلَالَةِ الْحُكْمِ بِالشَّهَادَةِ بَعْدَ تَزْكِيَةِ الشَّاهِدِ وَتَعْدِيلِهِ اور اسی فرق کی بناء پر بھئی کہ جو ہم نے فرق سارے قسموں میں بیان کر دیے ہیں۔ كَانَ الْعَمَلُ بِالنَّوْعِ الْأَوَّلِ پہلی نوع پر عمل کرنا بِدَلَالَةِ الْحُكْمِ بِالشَّهَادَةِ وہ اس حکم کے درجے میں ہے جو کس کے ساتھ کیا جائے؟ شہادت کے ساتھ، وہ حکم جو کس کے ساتھ ہو؟ شہادت کے ساتھ بَعْدَ تَزْكِيَةِ الشَّاهِدِ وَتَعْدِيلِهِ بعد گواہ کے تزکیہ اور اس کی تعدیل کے، جب کہ گواہ کا تزکیہ بھی ہو چکا ہو اور اس کی تعدیل بھی ہو چکی ہو، اس کے بعد جو قاضی فیصلہ کر دے، وہ فیصلہ کبھی بھی باطل نہیں ہو سکتا اور اس پر عمل کیا ہو گیا؟ واجب، اسی طرح وہ قیاس جس کی علت کا پتہ کس سے چلے؟ نص سے پتہ چلے، اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے۔ وَالنَّوْعِ الثَّانِي ای وَالْعَمَلُ بِالنَّوْعِ الثَّانِي یہ اوپر نوعِ اول پر عطف ہے اور نوعِ ثانی پر عمل کرنا بِمنْزِلَةِ الشَّهَادَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْعَدَالَةِ قَبْلَ التَّزْكِيَةِ وہ کس شہادت کے درجے میں ہے؟ وہ شہادت کے درجے میں ہے عِنْدَ ظُهُورِ الْعَدَالَةِ جب کہ کیا ہو؟ عدالت تو ظاہر ہو قَبْلَ التَّزْكِيَةِ تزکیہ سے پہلے، جیسے عدالت تعدیل ہو چکی ہے تزکیہ نہیں ہوا اور قاضی کیا کر دیتا ہے؟ فیصلہ کر دیتا ہے، تو اس پر بھی عمل کرنا کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے، تو اسی طرح اس نوع پر بھی عمل کرنا واجب ہے۔ وَالنَّوْعِ الثَّالِثِ بِمنْزِلَةِ شَهَادَةِ الْمَسْتُورِ اور نوعِ ثالث پر عمل کرنا وہ کس کے درجے میں ہے؟ شہادتِ مستور الحال کے درجے میں ہے، شہا، کہ شہادتِ مستور الحال کے ذریعے جب قاضی کوئی فیصلہ کر دیتا ہے تو اس پر عمل کرنا کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اسی طرح اس پر بھی عمل کرنا کیا ہوگا؟ واجب، لیکن یہاں کیا تھا؟ کوئی فرقِ مناسب ذکر ہو تو یہ قیاس کیا ہو جاتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر اس مستور الحال کی گواہی میں کیا، اس مستور الحال شخص کا فسق ظاہر ہو جائے تو اس کی، اس فسق کی وجہ سے قاضی کا فیصلہ بھی کیا ہو جاتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس پر عمل پھر واجب نہیں رہتا۔ تو نوعِ اول میں شریعت کی طرف سے علت کی تعیین آئی مولانا، نوعِ اول میں کیا ہوئے؟ شریعت کی طرف سے علت کی تعیین آئی، تو علت میں کوئی شبہ نہ رہا، نہ ظاہراً کوئی شبہ رہا اور نہ باطناً، جبکہ اجماع میں ظاہراً تو تعیین ہو گئی کہ یہی کیا ہے؟ علت ہے، مگر باطناً تعیین نہیں ہوئی کہ حقیقت میں یہ ہے یا نہیں، یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں، جبکہ اجتہاد کی صورت میں نہ ظاہراً تعیین ہوئی علت کی اور نہ باطناً تعیین ہوئی۔ چلیے بس مولانا، ھذا ہو المرام، واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 111 of 123