Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-103

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل: الواجب على المجتهد طلب حكم الحادثة من كتاب الله تعالى، ثم من سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، بصريح النص أو دلالته، على ما مر ذكره؛ فإنه لا سبيل إلى العمل بالرأي مع امکان العمل بالنص. یاد رکھو! آگے بحثِ رابع قياس کی شروع ہونے والی ہے، اور یہ فصل اس کے لیے تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اس کے لیے تمہید اور مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے بھئی۔ اس میں قياس کی بعض شرائط کا بیان ہوگا بھئی۔ مجتہد قياس کرتا ہے، قياس کے ذریعے کوئی حکم معلوم کرتا ہے مولانا، تو اس فصل کے اندر قياس کی بعض شرائط ذکر ہوں گی۔ تو اجتہاد جو ہے لغت میں کہتے ہیں: کوشش خرچ کرنا، کوشش اور طاقت خرچ کرنا کسی چیز میں۔ اور اصطلاحِ فقہاء کے اندر اجتہاد کہتے ہیں... اجتہاد کہتے ہیں کہ اپنی طاقت اور کوشش کو خرچ کرنا کسی حکم کو طلب کرنے میں، کسی مسئلے کے حکم کو طلب کرنے میں اپنی کوشش اور طاقت کو خرچ کرنا بھئی۔ تو مجتہد جو ہے وہ کون ہے؟ جو اپنی کوشش خرچ کرتا ہے مولانا، کوشش کرتا ہے کسی مسئلے کا... کے حکم کو طلب کرنے کے لیے، اس کو تلاش کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: الواجب على المجتهد طلب حكم الحادثة من كتاب الله تعالى؛ مجتہد پر واجب ہے حکم کو طلب کرنا کسی واقعہ... حادثہ: واقعہ... مجتہد پر واجب ہے کسی واقعہ کے حکم کو طلب کرنا من كتاب الله تعالى؛ کس سے؟ کتاب اللہ سے بھئی۔ بھئی! سب سے پہلے وہ کسی واقعہ کے حکم کو کہاں تلاش کرے؟ کتاب اللہ سے، اس لیے کہ کتاب اللہ کا مرتبہ سب سے بلند ہے، دلائلِ شرعیہ میں سے سب سے قوی دلیل کتاب اللہ ہے بھئی۔ تو سب سے پہلے کتاب اللہ میں اس مسئلے کو تلاش کرے، اس کے حکم کو تلاش کرے۔ پھر اگر اسے کتاب اللہ میں نہ ملے، تو ثم من سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ پھر کس میں سے تلاش کرے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں سے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اس کو تلاش کرے بھئی، اس مسئلے کے حکم کو بھئی۔ بصريح النص أو دلالته؛ چاہے وہ حکم صریحِ نص سے معلوم ہو رہا ہو یا دلالۃ النص سے معلوم ہو رہا ہو یا اسی طرح مولانا اشارۃ النص سے ہو یا اقتضاء النص سے ہو یا عموم کے ذریعے معلوم ہو رہا ہو یا اطلاق کے ذریعے معلوم ہو رہا ہو، جو پچھلے آپ پہلے ضابطے وغیرہ پڑھ چکے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حکم چاہے صریحِ نص سے معلوم ہو بھئی یا اشارۃ النص سے ہو یا دلالۃ النص سے، اقتضاء النص وغیرہ جس طریقے سے بھی ہو، سب سے پہلے کتاب اللہ اور پھر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تلاش کرے گا بھئی۔ بصريح النص أو دلالته على ما مر ذكره؛ صریحِ نص کے ساتھ یا دلالۃ النص کے ساتھ، بناءً پر اس کے جس کا ذکر گزر گیا، یعنی اسی طریقے پر جیسے ہم نے ذکر کیا بھئی۔ فإنه لا سبيل إلى العمل بالرأي مع امکان العمل بالنص؛ تو پہلے بھئی فورا قياس نہیں شروع کر دے گا کسی مسئلے کے اندر، سب سے پہلے کہاں تلاش کرے گا؟ کتاب اللہ میں تلاش... نصوص میں یعنی اس کو تلاش کرے گا، کتاب اللہ میں اور پھر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ اس لیے کہ قياس تو صرف ایک رائے کا نام ہے بھئی، قياس کس چیز کا نام ہے؟ ایک رائے کا نام ہے، رائے کا، اور رائے پر اس وقت عمل کیا جائے گا جب نص پر عمل کرنا ممکن نہ رہے۔ جب کیا ہو؟ نص پر عمل کرنا ممکن نہ رہے، نص ہے ہی نہیں تو اب مجبورا کیا کرنا پڑے گا؟ ہمیں کس کی طرف جانا پڑے گا؟ قياس کی طرف بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ ہے احناف کا صحیح مسلک مولانا، دیکھا؟ مصنفِ کتاب اب خود بتلائیں گے آپ کو کہ جب تک نص پر عمل کرنا ممکن ہے، قياس کی طرف ہم نہیں جائیں گے، قياس کی طرف نہیں جائیں گے۔ جب نص پر عمل ممکن نہ رہے تو پھر ہم قياس کی طرف جاتے ہیں اور یہ ہے احناف کا صحیح مذہب۔ نص کے ہوتے ہوئے قياس نہیں کریں گے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فإنه لا سبيل إلى العمل بالرأي؛ اس لیے کہ کوئی راستہ نہیں ہے رائے پر عمل کرنے کا مع امکان العمل بالنص؛ نص پر عمل کے ممکن ہوتے ہوئے، نص پر جب تک عمل ممکن ہو تو اس وقت تک رائے پر عمل کرنے کا کوئی... کوئی راستہ نہیں بھئی۔ ولهذا إذا اشتبهت عليه القبلة فأخبره واحد عنها لا يجوز له التحري؛ بھئی! آپ نے فقہ کی کتابوں میں مسئلہ پڑھا ہے کہ کوئی شخص کسی ایسی جگہ ہے جہاں پر اب اس پر سمتِ قبلہ کیا ہو گئے؟ مشتبہ ہو گئے، اسے پتہ نہیں چل رہا قبلہ کس طرف ہے، تو پھر وہ کسی طرح بھی معلوم نہیں ہو رہا، کوئی بتانے والا بھی نہیں، تو پھر وہ تحری کرے گا، کیا کرے گا؟ تحری، یعنی غور و فکر کرے گا اور پھر جس طرف اس کی رائے قائم ہو جائے، اس طرف رخ کر کے کیا کر لے گا؟ نماز پڑھ لے گا، تو یہ غور و فکر کر کے ایک چیز کو اختیار کرنا، یہ تحری کہلاتا ہے، تحری۔ تو لہٰذا کہتے ہیں: اب اگر ایک شخص ہے مثلاً، اس پر قبلہ مشتبہ ہو گیا، اسے پتہ نہیں چل رہا قبلہ کس طرف ہے۔ پھر اس کو ایک شخص نے خبر دی کہ قبلہ اس طرف کو ہے، ایک سمت اس کو بتلا دی بھئی۔ تو کہتے ہیں: جب اس شخص نے اس کو خبر دے دی تو اب اس کے لیے تحری کرنا جائز نہیں، اس کے لیے کیا ہے؟ تحری کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ تحری تو رائے ہے، قياس ہے مولانا! اور اس شخص کی خبر جو ہے وہ نص کے درجے میں ہے، اور نص کے ہوتے ہوئے قياس نہیں کیا جاتا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس کی خبر جو ہے نص کے درجے میں ہے اور یہ تحری تو صرف رائے ہے، گمان ہے اور قياس ہے، اور قياس کی طرف تب جائیں گے جب کوئی نص وغیرہ موجود نہ ہو اور یہاں نص موجود ہے، لہٰذا اب قياس یا تحری نہیں کی جائے گی۔ ولهذا إذا اشتبهت عليه القبلة؛ اور اسی بناء پر جب مشتبہ ہو جائے کسی شخص پر بھئی قبلہ، فأخبره واحد؛ تو اس کو کوئی شخص خبر دے دے عنها؛ اس قبلہ کے بارے میں، لا يجوز له التحري؛ تو اس کے لیے تحری کرنا جائز نہیں۔ ولو وجد ماء فأخبره عدل أنه نجس لا يجوز له التوضي به بل يتيمم؛ ایک شخص ہے، اس کو پانی ملا بھئی، سمجھ میں آیا؟ پانی نہیں تھا، پھر کہیں اس کو پانی مل گیا بھئی، اور اب یہ اسے پتہ نہیں کہ پانی پاک ہے یا ناپاک ہے، ناپاک ہے۔ تو اب اس کو کوئی دوسرا شخص آ کر خبر دے دیتا ہے کہ یہ پانی کیا ہے؟ پاک ہے، تو اب وہ تحری نہیں کرے گا مولانا کہ پانی پاک ہے یا ناپاک ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ویسے تو پانی ملے، کوئی خبر دینے والا نہیں، پھر تو تحری کرے گا، غور و فکر کرے گا کہ یہ پانی پاک ہوگا یا پانی پاک نہیں ہوگا۔ لہٰذا اب اگر کسی نے خبر دے دی، تو یہ خبر کس کے درجے میں ہے؟ نص کے درجے میں ہے، اور نص کے ہوتے ہوئے قياس نہیں کیا جائے گا، تحری نہیں کی جائے گی، لہٰذا اب اس شخص کے لیے اس تحری کر کے اس پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہے بلکہ کیا کرے گا؟ تیمم کرے گا بھئی، تیمم۔ شخص نے جب خبر دے دی یہ پانی نجس ہے تو بس اب اس سے وضو کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے، اب تحری کر کے تحری کرے، سوچے کہ قياس کرے کہ بھئی پانی کے اندر تو اصل کیا ہے؟ پاک ہونا، پانی اصل میں کیا ہوتا ہے بنیادی طور پر؟ پاک ہوتا ہے، تو یہ بھی پانی کیا ہوگا؟ پاک ہوگا، لہٰذا وضو مجھے اس سے کر لینا چاہیے، کہتے ہیں: نہیں بھئی! تحری نہیں کرے گا، قياس یہاں پر نہیں کرے گا، اس لیے کہ خبر دینے والا شخص موجود ہے، اس نے خبر دے دی اور اس کی خبر نص کے درجے میں ہے اور نص کے ہوتے ہوئے تحری نہیں کرے گا بھئی، مسئلہ سمجھ میں آیا؟ آسان باتیں چل رہی ہیں۔ ولو وجد ماءً؛ اور اگر پانی پایا کسی نے، فأخبره عدل؛ تو اس کو کسی عادل شخص نے خبر دے دی أنه نجس؛ کہ یہ پانی تو نجس ہے، لا يجوز له التوضي به؛ اس کے لیے اس سے وضو کرنا جائز نہیں، بل يتيمم؛ بلکہ کیا کرے گا؟ تیمم کرے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وعلى اعتبار أن العمل بالرأي دون العمل بالنص؛ اور اسی بات کا اعتبار کرتے ہوئے کہ عمل کرنا... وعلى اعتبار؛ اور اسی بات کا اعتبار کرتے ہوئے کہ أن العمل بالرأي؛ کہ رائے پر عمل کرنا دون العمل بالنص؛ نص پر عمل کرنے سے کم ہے۔ ایک ہے رائے پر عمل کرنا، ایک ہے نص سے عمل کرنا، اونچا درجہ کس کا ہے بھئی؟ نص پر عمل کرنا، تو رائے پر عمل کرنے کا درجہ کم ہوا۔ تو اسی بات کا اعتبار کرتے ہوئے کہ رائے پر عمل کرنا کم ہے کس سے؟ نص پر عمل کرنے سے، قلنا؛ ہم کہتے ہیں: إن الشبهة بالمحل أقوى من الشبهة في الظن؛ کہ شبہ بالمحل جو ہے وہ زیادہ قوی ہے شبہ فی الظن سے۔ شبہ فی الظن... شبہ کہتے کس کو ہیں بھئی؟ یاد رکھو! شبہ اسے کہتے ہیں جو حق کے مشابہ تو ہو لیکن حق نہ ہو۔ شبہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ شبہ اسے کہتے ہیں جو حق کے مشابہ ہو لیکن حق نہ ہو، جو حق کے مشابہ ہو لیکن حق نہ ہو۔ حق یعنی ثابت، یعنی کسی... یعنی ثابت کے مشابہ تو ہے لیکن ثابت نہیں، اسے کیا کہتے ہیں؟ شبہ کہتے ہیں، حق کس معنی میں ہے؟ ثابت میں۔ نیز یاد رکھو! یہ شبہ پھر دو قسم پر ہے: ایک شبہ فی المحل، ایک شبہ فی الظن بھئی۔ یہ شبہ کتنے قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے: ایک شبہ فی المحل، ایک شبہ فی الظن۔ شبہ فی الظن یہ ہے کہ انسان... کہ انسان کسی مسئلے میں... کہ انسان کسی مسئلے میں غیرِ دلیل کو دلیل سمجھ بیٹھے، کسی غیرِ دلیل کو دلیل سمجھ بیٹھے اپنے ظن اور گمان کے مطابق، اپنے ظن اور گمان کے مطابق۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی! شبہ فی الظن کسے کہتے ہیں؟ کہ انسان کسی مسئلے کے اندر غیرِ دلیل کو دلیل سمجھ بیٹھے اپنے ظن اور اپنے گمان، اپنی رائے کے مطابق بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک چیز ہے مسئلہ ہے اور اس میں کسی چیز کو دلیل سمجھتا ہے حالانکہ دراصل وہ دلیل نہیں ہے، تو دیکھا؟ یہ شبہ فی الظن ہے مولانا! تو شبہ فی الظن جو ہے بندے کے اپنی رائے، اپنے گمان، اپنے ظن سے پیدا ہوتا ہے۔ شبہ فی الظن کس سے پیدا ہوتا ہے؟ بندے کے اپنے گمان سے، اپنی رائے سے۔ اور دوسرا ہے شبہ فی المحل بھئی، شبہ فی المحل۔ شبہ بالمل وہ شبہ ہے... شبہ فی المحل وہ شبہ ہے جو کسی محل میں کسی نص سے ثابت ہو، جو کسی محل میں کسی نص سے ثابت ہو... یعنی... یعنی یا یوں کہیں مثلاً... مثلاً کسی مسئلے میں... مثلاً کسی مسئلے میں بعض نصوص سے حرمت ثابت ہو چکی ہو... مثلاً کسی مسئلے میں بعض نصوص سے حرمت ثابت ہو چکی ہو، پھر کوئی دوسری نص آ کر وہاں حلت کا شبہ پیدا کر دے... پھر وہاں کوئی دوسری نص آ کر حلت کا شبہ پیدا کر دے... اسے شبہ فی المحل کہتے ہیں، اسے شبہ فی المحل کہتے ہیں۔ جی! لکھ لیا بھئی؟ تو دیکھو! شبہ کسے کہتے ہیں مولانا؟ جو حق کے مشابہ ہو لیکن حق... یعنی ثابت کے مشابہ ہو لیکن ثابت نہ ہو۔ اور یہ دو قسم پر ہے: ایک شبہ فی الظن اور ایک شبہ فی المحل۔ شبہ فی الظن کس سے پیدا ہوتا ہے؟ بندے کی اپنی رائے اور اپنے گمان سے پیدا ہوتا ہے، اور یہ کسے کہتے ہیں؟ کہ انسان کسی مسئلے میں غیرِ دلیل کو دلیل سمجھ بیٹھے اپنے ظن اور اپنی رائے، اپنے گمان کے مطابق۔ جبکہ شبہ فی المحل اسے کہتے ہیں کہ کسی نص کی وجہ سے کسی محل میں شبہ آ جائے، کسی نص کی وجہ سے کسی محل میں شبہ آ جائے۔ مثلاً بھئی کسی مثلاً میں بعض نصوص کے ذریعے کیا ثابت ہو چکی ہے؟ مثلاً حرمت ثابت ہو چکی ہے، بعض نصوص سے بھئی واضح طور پر کیا معلوم ہو گیا ہے؟ کہ یہ حرام ہے۔ پھر کوئی اور دوسری نص آ کر اس میں حلت کا شبہ پیدا کر دیتی ہے، اس کے حلال ہونے کا شبہ کہ یہ تو جائز ہے حرام نہیں ہے۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ شبہ فی الشبہ فی المحل کہتے ہیں۔ اب اس کے دو اس سلسلے میں دو ضابطے یاد رکھیں بھئی، آسان سے ضابطے ہیں۔ پہلا ضابطہ یہ کہ شبہ فی المحل کے اندر بندے کے ظن کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ شبہ فی المحل بھئی کس کی وجہ سے آیا کرتا ہے؟ نص کی وجہ سے آتا ہے، لہٰذا اس میں ظنِ عبد کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ شبہ فی الظن کے اندر ظنِ عبد کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ پہلا ضابطہ کیا ہوا بھئی؟ شبہ فی المحل میں ظنِ عبد کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا اور شبہ فی الظن کے اندر ظنِ عبد کا اعتبار کیا جائے گا۔ دوسرا ضابطہ یہ کہ اگر کسی مقام پر شبہ فی المحل اور شبہ فی الظن دونوں جمع ہو جائیں، تو ترجیح شبہ فی المحل کو دی جائے گی۔ کس کو دی جائے گی؟ اگر دونوں آ جائیں بھئی تو وہاں پر ترجیح کس کو دی جائے گی؟ شبہ فی المحل کو ترجیح دی جائے گی اور شبہ فی الظن ساقط الاعتبار ہو گا، اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ شبہ فی المحل وہ قوی ہے کس سے؟ شبہ فی الظن سے۔ آسان سی بات ہے بھئی۔ شبہ فی المحل قوی ہے شبہ فی الظن سے، بھئی کیوں قوی ہے شبہ فی المحل؟ اس لیے کہ یہ کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ نص کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اور شبہ فی الظن جو ہے وہ بندے کے اپنے گمان اور اپنی رائے سے پیدا ہوا ہے، اور نص کو ترجیح ہوتی ہے کس پر؟ رائے اور قیاس پر۔ وہ اس کی اپنی رائے سے بھئی، شبہ فی الظن تو بندے کی اپنی رائے سے پیدا ہوا ہے، اور دوسرے شبہ فی المحل نص سے پیدا ہوا ہے، اور نص کیا ہے؟ زیادہ قوی ہے کس سے بھئی؟ رائے اور قیاس سے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کو ترجیح ہو گی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آئی بھئی؟ سب سے پہلے میں نے شبہ کی تعریف کی، پھر شبہ کی دو قسمیں بتائیں: شبہ فی الظن اور شبہ فی المحل، اور پھر اس پر دو ضابطے بتلائے۔ پہلا ضابطہ یہ کہ جہاں پر شبہ فی المحل میں ظنِ عبد کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور شبہ فی الظن کے اندر ظنِ عبد کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور دوسرا ضابطہ یہ بتلایا بھئی کہ ایک مقام پر شبہ فی المحل بھی آ جائے اور شبہ فی الظن بھی آ جائے، تو شبہ فی المحل کو کیا دی جائے گی؟ ترجیح دی جائے گی، اور شبہ فی الظن ساقط الاعتبار ہو گا، اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ بھئی کس وجہ سے شبہ فی المحل کو ترجیح دی جائے گی؟ وجہ ظاہر ہے مولانا، کہ وجہ یہ کہ شبہ فی المحل کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ نص کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اور شبہ فی الظن کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ بندے کے اپنے ظن، اپنے گمان اور اپنی رائے سے پیدا ہوا ہے، اور یہ بات ظاہر ہے کہ وہ شبہ جو نص سے پیدا ہو وہ زیادہ قوی ہو گا اس شبہ سے جو بندے کی اپنی رائے اور گمان سے پیدا ہو بھئی، اپنی رائے اور گمان سے پیدا ہو۔ دیکھیے بھئی! قلنا، ہم کہتے ہیں: ان الشبهة بالمحل أقوى من الشبهة في الظن، کہ شبہ بالمحل جو ہے وہ زیادہ قوی ہے شبہ فی الظن سے، حتى سقط اعتبار ظن العبد في الفصل الأول، یہاں تک کہ ساقط ہو جائے گا بندے کے ظن کا اعتبار في الفصل الأول، فصلِ اول میں بھئی، یعنی پہلے باب میں۔ کون سا باب بھئی؟ شبہ فی المحل میں، شبہ فی المحل یعنی پہلی صورت میں بندے فی الفصل الأول یعنی پہلی صورت میں۔ پہلی صورت کون سی ہے؟ کیا ذکر کی صاحبِ کتاب نے؟ شبہ فی المحل بھئی، تو معلوم ہوا شبہ فی المحل میں ظنِ عبد کیا ہو گا؟ ساقط الاعتبار ہو گا، اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ومثاله، جی۔ مثال آگے ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ مثال آگے ذکر مثالیں ذکر کریں گے جس کے اندر آپ دیکھیں گے بھئی کہ جس میں بندے کا ظن ساقط الاعتبار آپ دیکھیں گے شبہ فی المحل کی صورت میں۔ جب شبہ فی المحل آ جائے تو بندے کا اپنا ظن کیا ہو گا؟ ساقط ہو جائے گا، اور جہاں پر شبہ فی الظن آئے وہاں آپ دیکھیں گے کہ بندے کا ظن ساقط نہیں ہوتا، اس کا اعتبار کیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کی مثال ذکر کریں گے۔ تو یہ مثال ہے مولانا، شبہ فی المحل اور شبہ فی الظن کی بھئی۔ تو آپ جانتے ہیں مولانا کہ حدود کیا ہیں؟ ادنیٰ شبہ سے بھی کیا ہو جایا کرتی ہیں؟ ساقط ہو جایا کرتی ہیں، ادنیٰ شبہ بھی آ جائے تو حد ساقط ہو جایا کرتی ہے، اور اس کی وجہ حدیث ہے مولانا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث، حضور فرماتے ہیں: ادرؤوا الحدود بالشبهات، حدود کو ساقط کر دو شبہات کی وجہ سے۔ ادرؤوا الحدود بالشبهات، حدود کو کیا کر دو؟ ساقط کر دو شبہات کی وجہ سے، ادرأ یدرؤ کے معنی ساقط کرنا۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ بالاجماع مولانا، بالاجماع باپ کا مال اور بیٹے کا مال الگ الگ ہوتا ہے۔ باپ کے مال کا مالک کون؟ باپ، بیٹے کے مال کا مالک کون؟ بیٹا ہے، ان دونوں کا مال الگ الگ ہوتا ہے۔ لہٰذا جب باپ کا مال الگ، بیٹے کا مال الگ، تو باپ کی باندیاں ان کا مالک کون ہے؟ باپ، اور بیٹے کی جو باندیاں ہیں ان کا مالک کون ہے؟ بیٹا ہے، تو وہ مملوک بیٹے کی باندیاں مملوک ہیں بیٹے کے لیے، اور باپ کی باندیاں مملوک ہیں باپ کے لیے، تو بالاجماع باپ اور بیٹے کا مال الگ الگ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی آپ کو پتہ ہے کہ کوئی شخص کسی غیر کی باندی سے وطی کر لے۔ کوئی شخص کسی غیر کی باندی سے وطی کر لے اور پھر ثابت بھی ہو جائے تو اس پر کیا جاری کی جائے گی؟ حد جاری کی جائے گی بھئی، کسی غیر عورت سے نکاح وطی کر لی تو پھر اس پر کیا جاری ہو گی؟ حد۔ تو باندی بھی غیر کی ہے، اب کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ وطی کر لے تو اس پر لازمی بات ہے کیا جاری ہو گی؟ حد جاری ہو گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اگر باپ جو ہے بیٹے کی باندی سے وطی کر لے، تو اس پر بھی حد جاری ہونی چاہیے۔ باپ کیا کر لے اگر؟ بیٹے کی باندی سے وطی کر لے، تو یہ باندی تو بیٹے کی تھی، یہ مملوک تھی کس کی؟ بیٹے کی، تو باپ پر کیا جاری ہونی چاہیے؟ حد جاری ہونی چاہیے، لیکن فقہائے کرام لکھتے ہیں، اللہ تعالی کی کروڑہا رحمتیں ہوں فقہائے کرام پر جنہوں نے تمام مسائل قرآن و حدیث سے نکال کر ہمارے لیے مرتب فرما دیے بھئی۔ فقہائے کرام لکھتے ہیں بھئی کہ اگر باپ نے بیٹے کی باندی سے وطی کر لی تو باپ پر حد جاری نہیں کی جائے گی بھئی۔ فقہائے کرام کیا لکھتے ہیں؟ باندی سے وطی کر لی تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، اور اگر اس وطی کی وجہ سے بیٹے اس باندی کے ہاں کوئی اولاد پیدا ہو گئی تو اس کا نسب بھی باپ سے ثابت ہو جائے گا۔ اس کا نسب بھی کس سے ثابت ہو جائے گا؟ باپ سے ثابت ہو جائے گا، باپ سے۔ کیوں؟ کیا وجہ ہے بھئی؟ باپ پر حد کیوں نہیں جاری ہو گی اور یہ نسب کیوں ثابت ہو جائے گا باپ سے؟ یہ باندی تو مملوک تھی بیٹے کی، کہتے ہیں وجہ اس کی یہ کہ اگرچہ غیر کی باندی حرام ہوتی ہے دوسرے پر، لیکن یہاں حلت کا شبہ آ گیا حدیث کی وجہ سے۔ حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا: أنت ومالك لأبيك، تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ تو دیکھا اس حدیث کی وجہ سے مولانا بیٹے کے مال میں باپ کی ملکیت کا شبہ آ گیا، حضور فرما رہے ہیں ایک شخص سے تو بھی اپنے باپ کا ہے اور تیرا مال بھی تیرے باپ کا ہے، تو حدیث سے میں آیا کہ تیرا مال بھی باپ کا ہے تو باپ کی ملکیت کا شبہ آ گیا۔ سمجھ میں آیا؟ بالاجماع ہے تو دونوں کا مال الگ الگ، لیکن حدیث کی وجہ سے کیا آ گیا؟ بیٹے کے مال میں باپ کی ملکیت کا شبہ آ گیا، تو یہ کون سا شبہ ہوا مولانا؟ شبہ فی المحل، یہ کیا ہوا؟ شبہ فی المحل ہوا، شبہ فی المحل۔ اور شبہ فی المحل، تو جب شبہ آ گیا، اور آپ نے پڑھا ہے کہ حدود شبہات کی وجہ سے کیا ہو جایا کرتی ہیں؟ ساقط ہو جایا کرتی ہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی جب شبہ آ گیا تو اب باپ سے حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ حد ساقط ہو جائے گی۔ دیکھیے بھئی! ومثاله، اور مثال اس کی فیما، اس مسئلے میں ہے إذا وطئ جارية ابنه، جب وطی کی کسی شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے لا يحد، اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی وإن قال علمت أنها علي حرام، اگرچہ وہ یہ کہے علمت أنها علي حرام، مجھے علم تھا کہ یہ میرے اوپر حرام ہے۔ بھئی باپ یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے علم تھا کہ یہ میرے اوپر حرام ہے، پھر بھی میں نے اس سے وطی کر لی، تو اس کہنے کے باوجود کیا کیا جائے گا؟ حد باپ سے کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ ویثبت نسب الولد منه، اور بچے کا نسب کیا ہے؟ اس سے ثابت ہو جائے گا باپ سے لأن شبهة الملك له تثبت بالنص، اس لیے کہ ملکیت کا باپ کے لیے، لہُ اس کا ضمیر کس کو راجع ہے؟ اب کو، اس لیے کہ باپ کے لیے ملکیت کا شبہ ثابت ہے نص کی وجہ سے في مال الابن، کس میں؟ بیٹے کے مال میں۔ بیٹے کے مال میں باپ کی ملکیت کا شبہ نص سے ثابت ہوا، قال علیہ الصلاۃ والسلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: أنت ومالك لأبيك، تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ جی۔ سمجھ میں آیا؟ آگے اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوا کہ بھئی جب باپ کہہ رہا ہے کہ مجھے پتہ تھا یہ میرے اوپر حرام ہے، پھر کیوں نہیں حد جاری ہوئی؟ اب تو کیا ہونی چاہیے تھی اس پر؟ حد جاری ہونی چاہیے تھی، اس لیے کہ بالاجماع باپ کا مال الگ ہے، بیٹے کا مال الگ ہے، اور باپ خود بھی کہہ رہا ہے کہ مجھے پتہ تھا یہ باندی میرے اوپر کیا ہے؟ حرام ہے، حرام ہے۔ تو جواب دیا، جواب دیں گے کہ بھئی یہ جو باپ کہہ رہا ہے نا کہ مجھے پتہ تھا میرے اوپر یہ حرام ہے، یہ ظنِ عبد ہے، یہ کیا ہے؟ ظنِ عبد ہے، اور آپ نے پڑھا کہ شبہ فی المحل کے اندر ظنِ عبد کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا، تو جب یہاں شبہ فی المحل آ گیا تو اب ظنِ عبد کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا، اور وہ جو یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے پتہ تھا، مجھے معلوم تھا، یہ میرے اوپر حرام ہے، اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی اور اس بات سے کیا ہو جائے گی حد؟ ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فسقط اعتبار ظنه في الحل والحرمة في ذلك، پس ساقط ہو جائے گا اس باپ کے ظن کا اعتبار حلت میں اور حرمت میں اس کے اندر۔ اس وطی کے حلال ہونے اور حرام ہونے میں باپ کے ظن کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مسئلہ یہ ہوا کہ اگر کسی باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے وطی کر لی اور باپ یہ کہتا ہے کہ مجھے معلوم تھا یہ میرے اوپر حرام ہے، پھر بھی اس پر حد جاری نہیں ہو گی، اور اگر اس وطی کی وجہ سے اس باندی کے ہاں کوئی اولاد ہوئی تو اس کا نسب، اس کا نسب بھی کس سے ثابت ہو جائے گا؟ باپ سے ثابت ہو جائے گا، اس لیے کہ بیٹے کے مال کے اندر باپ کی ملکیت کا شبہ آیا ہے حدیث کی وجہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں ایک صحابی سے: أنت ومالك لأبيك، اس حدیث کی وجہ سے بیٹے کے مال میں باپ کی ملکیت کا شبہ آ گیا، اور شبہ کی وجہ سے کیا ہوتی ہے حد؟ ساقط ہو جایا کرتی ہے، لہٰذا باپ پر حد جاری نہیں ہو گی۔ نیز اگر اس سے کوئی اولاد ہوئی تو وہ اس کا نسب بھی باپ سے ثابت ہو جائے گا، اس لیے کہ ملکیت کا شبہ آ گیا، اور ملکیت کے شبہے کی وجہ سے بھی نسب کیا ہو جایا کرتا ہے؟ ملکیت کا شبہ آیا، اور یہ ملکیت کا شبہ کس کی وجہ سے آیا مولانا؟ اس کے اپنے گمان کی وجہ سے آیا یا نص کی وجہ سے آیا؟ نص، تو اس کا اعتبار کیا جائے گا نسب کے اندر مولانا۔ یہ شبہِ ملک ہے، یہ کس کی وجہ سے آیا؟ نص کی وجہ سے آیا، لہٰذا نسب کے اندر اس کا اعتبار کیا جائے گا اور باندی سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ کس کی شمار ہو گی؟ باپ کی۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں بھئی، آپ نے پڑھا ہوگا یہ مسئلہ کہ باندی سے اگر اولاد پیدا ہو تو وہ آقا کی اس وقت تک نہیں شمار ہوتی جب تک آقا خود اقرار نہ کر لے کہ یہ کیا ہے؟ میری اولاد ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ باندی فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ فراش۔ فراش کسے کہتے ہیں بھئی؟ جی؟ اوہو! فراش بھئی فراش اصطلاحی لفظ ہے۔ فراش کا معنی ہے کسی عورت کا کسی شخص کے بچوں کو جنم دینے کے لیے متعین ہونا۔ کسی عورت کا کسی شخص کے بچوں کو جنم دینے کے لیے متعین ہونا۔ بھئی کسی عورت سے کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو وہ عورت اسی کے بچوں کو جنم دینے کے لیے متعین ہو گئی یا نہیں ہو گئی بھئی؟ جی؟ جی، تو کسی عورت کا کسی شخص کے لیے بچوں کو جنم دینے کے لیے متعین ہونا یہ کیا کہلاتا ہے اصطلاحِ فقہ میں؟ فراش کہلاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بستر معنی کر رہے ہو۔ اچھا، پھر یاد رکھو یہ فراش تین قسم پر ہے۔ ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ وسط ہے، ایک فراشِ ضعیف ہے۔ یہ ویسے ایک فائدے کی بات آپ کو بتلا رہا ہوں بھئی۔ ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ وسط ہے، ایک فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ قوی جو ہے منکوحہ کا، منکوحہ بھئی۔ فراشِ قوی کیا ہے؟ منکوحہ ہے بھئی، منکوحہ۔ جس عورت سے نکاح کیا ہوا ہو نہ وہ فراشِ قوی ہے اور لہٰذا اس میں اس سے جو اولاد پیدا ہوگی بغیر دعویٰ کے ہی خاوند کی شمار ہوگی۔ خاوند کا یہ کہنا ضروری نہیں کہ یہ میری اولاد ہے، پھر خاوند کی شمار ہوگی ورنہ شمار نہیں ہوگی، بلکہ اس عورت سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی منکوحہ سے وہ کس کی شمار ہوگی؟ ہاں، اس کا نسب اس شخص کے سے ثابت ہو جائے گا بھئی، اس میں دعویٰ کی ضرورت نہیں۔ تو یہ قوی فراش۔ اور نیز اگر وہ اپنے سے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو پھر لعان کرنا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ لعان آپ نے پڑھا ہے بھئی وہ پانچ پانچ قسمیں جا کر اٹھائیں گے قاضی کے سامنے جب وہ کیا کر دیتا ہے؟ زنا کی تہمت لگاتا ہے۔ تو نسب ثابت ہوگا اس خاوند کے لیے اور اگر اس وہ اس نسب کی اپنے سے نفی کرنا چاہتا ہے تو نفی بغیر لعان کے نہیں ہو سکتی۔ اور سب سے ضعیف جو ہے، سب سے ضعیف فراش ہے باندی کا کہ اس میں جب تک آقا دعویٰ نہ کر دے، نسب اس سے ثابت ہی نہیں ہوتا۔ باندی کے ہاں بچہ پیدا ہوا، آقا جب تک یہ نہیں کہے گا کہ یہ میری اولاد ہے، وہ اس کی اولاد شمار نہیں ہوگی، اس سے نسب اس کا ثابت نہیں ہوگا۔ اور فراشِ وسط ہے مولانا ام ولد کا۔ فراشِ وسط کس کا ہے؟ ام ولد۔ بھئی ایک ایک باندی ہے اس سے اولاد پہلے پیدا ہو چکی ہے اور آقا اقرار کر چکا ہے کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ باندی اب کیا بن چکی؟ ام ولد۔ اب اس ام ولد سے آگے کوئی اولاد پیدا ہو تو یہ ام ولد کون سا فراش ہے؟ فراشِ وسط۔ اس سے آگے جو اولاد پیدا ہوگی وہ بغیر دعویٰ کے ہی مالک کی شمار ہوگی۔ کس کی شمار ہوگی؟ جیسے منکوحہ میں تھا، لیکن فرق ہے اس سے مولانا، منکوحہ میں نسب کی نفی کے لیے لعان کے بغیر کوئی چارہ نہیں، لیکن یہاں پر اگر وہ نسب کی نفی کرتا ہے اپنے سے آقا تو لعان کی ضرورت نہیں۔ لعان کی ضرورت بغیر لعان کے ہی نسب اس نے اولاد کا آقا سے منتفی ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو فراش تین قسم پر ہوئے: ایک قوی، ایک وسط، ایک ضعیف۔ قوی منکوحہ کا ہے کہ جس میں اولاد بغیر دعویٰ کے اس کا نسب خاوند سے ثابت ہو جاتا ہے اور بغیر لعان کے نسب کی نفی بھی نہیں ہوتی۔ اور باندی کے اندر کیا ہے؟ بغیر دعویٰ سب سے ضعیف ہے تو لہٰذا اس میں بغیر دعویٰ کے نسب ثابت ہی نہیں ہوتا۔ اور ام ولد کا فراش وسط، تو وہ کیا ہے؟ بغیر دعویٰ کے اولاد تو ثابت ہوگی لیکن اگر نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو لعان کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ چلیے یہ الگ فائدہ بھئی، یہ تو فقہ کی بات۔ تو لہٰذا، تو وہ اس باندی سے کوئی اولاد پیدا ہوئی تو یہ نہ کہیں کہ یہ اولاد کس کی ہو جائے گی خود بخود باپ کی شمار ہوگی۔ باپ اقرار بھی کرے کہ یہ کس کی اولاد ہے؟ میری۔ کیونکہ باندی کیا ہے؟ فراشِ ضعیف ہے اور فراشِ ضعیف کے اندر کیا ضروری ہے بھئی؟ دعویٰ ضروری ہے، دعویٰ ضروری ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو باپ کا سے نسب کب ثابت ہوگا جبکہ باپ کیا کرے اس کا؟ دعویٰ بھی کرے بھئی، پھر ثابت ہوگا۔ دعویٰ بھی کرے۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھو اس مسئلے کے اندر بھئی کہ یہ فقہاء لکھتے ہیں کہ اب اس باندی کا مالک باپ بن گیا بھئی۔ اس باندی کا مالک کون بن گیا؟ باپ بن گیا ہے، جی باپ کی ملکیت میں اب یہ آ گئی اور بیٹے کا چونکہ نقصان ہوا ہے لہٰذا اب باپ پر ضمان آئے گا، اس باندی کی قیمت اسے بیٹے کو ادا کرنی ہوگی۔ حد تو ہم اس پر جاری نہیں کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ لیکن چونکہ مال تو بیٹے کا تھا، اب باپ مالک بن گیا لہٰذا اب بیٹے کو کیا کرے اس کی قیمت ادا کرے، اس پر ضمان آئے گا۔ اور اس کے اندر یہ بھی آپ نے پڑھا بھئی کہ بندے کے ظن کا کوئی اعتبار الشبہۃ فی المحل جب آ جائے تو بندے کے ظن کا کوئی اعتبار نہیں، باپ کہے چاہے یہ کہے کہ میں کیا کیا سمجھتا تھا؟ اگرچہ یہ کہے کہ میں تو سمجھتا تھا یہ میرے اوپر کیا ہے؟ مجھے پتہ تھا یہ میرے اوپر حرام ہے، لیکن اس ظنِ عبد کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو جب باپ نے یہ کہا کہ مجھے پتہ تھا یہ باندی کیا ہے میرے اوپر؟ حرام ہے۔ تو شبہۃ فی الظن بھی نہیں، باپ کو کوئی اس کے حلال ہونے کا شبہ تھا؟ حلال ہونے کا شبہ نہیں، تو شبہۃ فی الظن یہاں نہیں ہے، صرف کیا شبہ ہے؟ شبہۃ فی المحل، ایک قسم کا شبہ آیا اور اس ایک قسم کے شبھے کی وجہ سے بھی کیا ہو جایا کرتی ہے؟ حد ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ لیکن اگر باپ یہ کہے کہ میرا تو خیال یہ تھا یہ باندی میرے لیے حلال ہے بھئی، کیا کہے؟ باپ یہ کہے میں تو سمجھ رہا تھا یہ باندی میرے لیے حلال ہے تو اب مولانا شبہۃ فی الظن بھی آ گیا اور شبہۃ فی المحل تو پہلے سے موجود ہے۔ باپ کیا کہہ رہا ہے؟ میرا کیا گمان تھا کہ یہ باندی میرے لیے؟ تو شبہۃ فی الظن آیا یا نہیں آیا بھئی؟ وہ باندی حالانکہ اس کے لیے حلال تھی؟ نہیں، حلال تو نہیں تھی، یہ ثابت تو نہیں ہے لیکن اس کو وہ کیا سمجھ رہا ہے؟ حلال یعنی ثابت سمجھ رہا ہے۔ تو شبہۃ فی الظن بھی آ گیا اور شبہۃ فی المحل بھی، اب تو دو قسم کے شبہے آ گئے مولانا، اب تو بطریقِ اولیٰ حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، ایک شبھے کی وجہ سے حد ساقط ہو رہی تھی، دو شبہوں سے تو بطریقِ اولیٰ حد ساقط ہو جائے گی۔ یہ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اسی طرح: ولو وطئ ابن جارية ابيه، اگر وطی کر لی بیٹے نے اپنے باپ کی باندی سے، جی۔ بھئی بیٹے نے باپ کی باندی سے وطی کر لی، تو اب یہاں پر شبہۃ فی المحل تو کوئی نہیں، کسی نص کی وجہ سے باپ کے مال میں بیٹے کی ملکیت کا شبہ نہیں آیا، تو شبہۃ فی المحل موجود نہیں۔ اب جب شبہۃ فی المحل نہیں ہے تو اب ظنِ عبد کا اعتبار کیا جائے گا، بندے کے اپنے گمان کا یہاں پر کیا کیا جائے گا؟ اعتبار کیا جائے گا۔ پس اگر بیٹا یہ کہے کہ مجھے پتہ تھا یہ باندی میرے اوپر حرام ہے، تو اب مولانا اس پر حد جاری کی جائے گی کیونکہ شبہۃ فی المحل موجود ہے؟ نہیں، اور اب اس کے ظن کا کیا کیا جائے گا؟ اعتبار کیا جائے گا، وہ کہہ رہا ہے مجھے پتہ ہے کہ یہ باندی مجھ پر حرام تھی، جب حرام تھی پھر اس نے وطی کی ہے تو اب اس پر کیا کی جائے گی؟ حد جاری۔ لیکن اگر بیٹا یہ کہتا ہے کہ میں تو سمجھ رہا تھا یہ باندی میرے لیے حلال ہے بھئی، باندی کیا ہے؟ اب اس کے ظن کا اعتبار کیا جائے گا مولانا اب بھی، اب بھی اعتبار کیا جائے گا۔ تو یہ اپنے ظن کے مطابق باندی کو اپنے لیے کیا سمجھ رہا ہے؟ حلال سمجھ رہا ہے، تو شبہۃ فی الظن آ گیا، کیا آ گیا؟ شبہۃ فی الظن آ گیا اور جب شبہ آ جائے تو حد کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ساقط ہو جایا کرتی ہے، تو اب اس بیٹے سے بھی کیا ہو جائے گی؟ حد ساقط ہو جائے گی۔ یہ شبہۃ فی الظن معتبر بھی ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ ہر جگہ پہ یہ نہیں معتبر ہوگا بھئی، محل دیکھیں گے بھئی۔ معتبر اس لیے کہ باپ اور بیٹے کے مال جو ہیں دونوں آپس میں ایک دوسرے کا مال بڑی بے تکلفی سے استعمال کرتے ہیں بھئی، بغیر اجازت کے ایک دوسرے کا مال کیا کرتے رہتے ہیں؟ استعمال کرتے ہیں، کرتے ہیں یا نہیں کرتے بھئی؟ جی، عادتاً عرفاً اسی طرح ہے مولانا کہ باپ اور بیٹے کے مال جو ہیں وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر استعمال کرتے رہتے ہیں، اس سے نفع اٹھاتے رہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اب اس گمان کا اعتبار بیٹا، تو چونکہ ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے رہتے ہیں اور بیٹا کیا سمجھ رہا ہے کہ جیسے میں باپ کی اور چیزوں سے انتفاع کرتا ہوں، باندی سے بھی انتفاع میرے لیے کیا ہے؟ جائز ہے، تو یہاں اس شبہۃ فی الظن آیا اور یہ شبہۃ فی الظن معتبر ہے کیونکہ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کی چیزیں واقعی کیا کرتے ہیں؟ استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا اب اس شبہۃ فی الظن کا اعتبار ہوگا اور اس کی وجہ سے کیا ہوگا؟ بیٹے سے حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی بھئی۔ ہاں لیکن نسب نہیں ثابت ہوگا مولانا، بیٹا اگر اولاد پیدا ہو جائے اس وطی کی وجہ سے اور بیٹا بعد میں دعویٰ بھی کر دے کہ یہ کیا ہے؟ میری اولاد ہے، نسب نہیں ثابت ہوگا اس لیے کہ یہاں کسی شرعی دلیل کی وجہ سے شبہِ ملک آیا ہے؟ شبہِ ملک نہیں آیا، جب شبہِ ملک نہیں آیا تو یہ تو نسب ثابت نہیں ہوگا اس سے بھئی، یہ تو محض زنا ہے، محض زنا ہے، جی سمجھ میں آیا؟ اور زنا سے جو اولاد پیدا ہو اس کا نسب اس شخص سے نہیں ثابت ہوتا بلکہ وہ صرف کس سے شمار ہوگا؟ عورت سے ہی بھئی، اس کی نسبت صرف عورت کی طرف کی جاتی ہے، اس زانی کی طرف نہیں کی جاتی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ولو وطئ ابن جارية ابيه، اور اگر وطی کر لی بیٹے نے اپنے باپ کی باندی سے، يعتبر ظنه في الحل والحرمة، تو اعتبار کیا جائے گا اس کے ظن کا حلت کے اندر اور حرمت کے اندر، حتى لو قال ظننت انها علي حرام يجب الحد، حتیٰ کہ اگر اس نے کہا کہ میں نے تو یہ گمان کیا یہ گمان تھا میرا کہ یہ مجھ پر حرام ہے تو حد واجب ہوگی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ یہاں شبہۃ فی المحل بھی نہیں اور شبہۃ فی الظن بھی نہیں۔ تو اب حد جاری ہوگی۔ ولو قال ظننت انها علي حلال، اور اگر اس نے یہ کہا کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ مجھ پر حلال ہے، تو کہتے ہیں: لا يجب الحد، تو حد واجب نہیں ہوگی، حد واجب نہیں ہوگی اس لیے کہ کیا آ گیا؟ شبہۃ فی الظن آ گیا، لان شبهة الملك في مال الاب لم تثبت له بالنس، تو حد واجب نہیں ہوگی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ ملکیت کا شبہ، شبہِ ملک جو ہے فی مال الاب باپ کے مال میں لم تثبت له اس بیٹے کے لیے ثابت نہیں ہے بالنس کس کے ذریعے؟ نص کے ذریعے ثابت جب نہیں ہے تو معلوم ہوا شبہۃ فی المحل نہیں، فاعتبر رايه، تو اس کی رائے کا کیا کیا جائے گا؟ اس کے ظن کا کیا کیا جائے گا؟ اعتبار کیا جائے گا۔ ولا يثبت نسب الولد وان ادعاه، اور نسب بچے کا اس سے ثابت نہیں ہوگا اگرچہ وہ اس کا کیا کر دے؟ دعویٰ کر دے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 103 of 123