اچھا بھئی! کل کہاں تک لکھا تھا؟
پڑھیے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کے بعد سے بھئی۔
اچھا، چلیے، ٹھیک ہے بھئی۔
آگے لکھیے۔
احناف کی دلیل کو سمجھنے سے پہلے تین مقدمات کا سمجھنا ضروری ہے۔ واحناف کی دلیل کو سمجھنے سے پہلے تین مقدمات کا سمجھنا ضروری ہے۔
تین مقدمات کا سمجھنا ضروری ہے۔ مقدمہ اولٰی، مقدمہ اولٰی۔
ایک نفی ہے اور ایک ہے نہی۔
ایک نفی ہے اور ایک ہے نفی، دو لفظ ہوئے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دو لفظ ہیں یہاں پر، یہ جیسے لکھ لیں چاہے ویسے لکھیں یا دو لفظ ہیں یہاں پر ایک نفی ہے اور ایک نہی۔ نہی میں عدمِ فعل بندے کے اختیار سے ہوتا ہے۔
نہی میں عدمِ فعل بندے کے اختیار سے ہوتا ہے۔
لہذا، نہی میں عدمِ فعل بندے کے اختیار سے ہوتا ہے، لہذا بندہ اگر، لہذا بندہ اگر فعلِ منہی عنہ، فعلِ منہی عنہ کے کرنے سے باز رہے، فعلِ منہی عنہ کے کرنے سے باز رہے تو اسے ثواب ملتا ہے، تو اسے ثواب ملتا ہے۔ اور اگر کر لے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے، اور اگر کر لے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
اور اگر عدمِ فعل بندے کے اختیار سے نہ ہو، اور اگر عدمِ فعل بندے کے اختیار سے نہ ہو تو یہ نفی کہلاتا ہے، تو یہ نفی کہلاتا ہے۔
لہذا نفی میں عدمِ فعل پر، لہذا نفی میں عدمِ فعل پر بندے کو ثواب بھی نہیں ملتا، بندے کو ثواب بھی نہیں ملتا؛ کیونکہ یہاں عدمِ فعل، کیونکہ یہاں عدمِ فعل بندے کے اختیار سے نہیں، کیونکہ یہاں عدمِ فعل بندے کے اختیار سے نہیں، مثلاً گلاس میں پانی ہی نہ ہو، گلاس میں پانی ہی نہ ہو اور پھر بندے سے کہا جائے پانی مت پی، اور پھر بندے سے کہا جائے پانی مت پی، تو یہ نفی ہے، تو یہ نفی ہے؛ کیونکہ بندہ، کیونکہ پانی ہی نہیں تو بندہ پانی پینے پر قادر بھی نہیں۔
کیونکہ؟ کیونکہ پانی ہی نہیں تو بندہ پانی پینے پر قادر بھی نہیں۔ اور اگر پانی ہو، اور اگر پانی ہو اور پھر اسے منع کیا جائے تو یہ نہی ہے۔ اور پھر اسے منع کیا جائے تو یہ نہی ہے۔
نفی کی اور مثالیں، نفی کی اور مثالیں جیسے کہ اندھے سے کہا جائے تو نہ دیکھ، اندھے سے کہا جائے تو نہ دیکھ، گونگے سے کہا جائے تو نہ بول، گونگے سے کہا جائے تو نہ بول، بہرے سے کہا جائے تو نہ سن، بہرے سے کہا جائے تو نہ سن، اپاہج سے کہا جائے تو نہ دوڑ، اپاہج سے کہا جائے تو تیز نہ دوڑ۔
تو ان کاموں میں اس بندے کا اختیار ہی نہیں؛ کیونکہ وہ ان کاموں کے کرنے سے ہی عاجز ہے۔ تو ان کاموں میں بندے کا کوئی اختیار ہی نہیں؛ کیونکہ وہ ان کے کرنے سے ہی عاجز ہے، تو یہ نفی ہوئی۔ تو یہ نفی ہوئی۔
اور یاد رکھو نفی قبیح ہے، نفی قبیح ہے۔ قاف دو نقطوں والا، با، یا اور حا حقے والی بھئی، قبیح، قبیح ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کیا ہے؟ بندے کا جب اختیار ہی نہیں ہے پھر اس کو منع کرنے کا کیا معنی بھئی؟ وہ تو عاجز ہے پہلے ہی کرنے سے، تو اس کو منع کرنا درست نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جو چیز بندے کے اختیار میں ہو اس سے اس کو منع کیا جاتا ہے، جو اختیار میں ہی نہ ہو اس سے اس کو منع نہیں کیا جاتا۔ اور اس جو اختیار میں ہی نہیں ہے اس سے منع کرے کوئی تو یہ درست سمجھتا ہے کوئی اس بات کو؟ اندھے کو یہ کہنا نہ دیکھ، کوئی درست سمجھتا ہے اس کو بھئی؟ نہیں، یہ قبیح ہے بھئی۔
جبکہ نہی میں، جبکہ نہی میں ضروری ہے کہ عدمِ فعل بندے کے اپنے اختیار سے ہو۔ جبکہ نہی میں ضروری ہے، جبکہ نہی میں ضروری ہے کہ عدمِ فعل بندے کے اپنے اختیار سے ہو، کہ عدمِ فعل بندے کے اپنے اختیار سے ہو۔
مقدمہ ثانیہ، مقدمہ ثانیہ۔
ناہی، ناہی جب حکیم ہو۔ بھئی آپ نے امر کی بحث میں کیا پڑھا تھا؟ آمر، امر دینے والا جب حکیم ہو تو یہ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ کہ امر میں کیا ہو؟ کہ مامور بہ میں کیا پایا جائے؟ حسن پایا جائے، حکیم ہے، دانا ہے، وہ کس بات کا حکم دے رہا ہے معلوم ہوا اس کے اندر کیا ہوگا؟ حسن ہوگا، کوئی اچھائی ہوگی۔ اور حکیم جب دانا کسی بات سے منع کر رہا ہے معلوم ہوا اس کام میں کوئی برائی ہوگی، کوئی قبح ہوگا۔ کیا ہوگا؟ قبح ہوگا۔ تو یہ بات میں واضح کر رہا ہوں بھئی۔ کیا لکھا بھئی؟ ناہی جب حکیم ہو۔ ناہی جب حکیم ہو تو اس کی، تو اس کی نہی تقاضا کرتی ہے، تو اس کی نہی تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے قبیح ہونے کا، منہی عنہ، منہی عنہ کے قبیح ہونے کا۔
تو نہی مقتضی ہوئی، تو نہی مقتضی ہوئی۔ اور قبح مقتضٰى ہوا، قبح بھئی قُبْحٌ، قُبْحٌ۔
تو نہی مقتضی ہوئی اور قبح کیا، مقتضٰى کیا ہوا؟ قبح ہوا۔
اب اس مقتضٰى یعنی قبح کو، اب اس مقتضٰى یعنی قبح کو ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے، ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے جس سے مقتضی کا باطل ہونا لازم نہ آئے۔ جس سے مقتضی کا باطل ہونا لازم نہ آئے۔
یعنی، یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ، یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ کہ نہی کا وجود ہی باقی نہ رہے، کہ نہی کا وجود ہی باقی نہ رہے اور وہ نفی میں تبدیل ہو جائے، اور وہ نفی میں تبدیل ہو جائے۔
لکھ لیا بھئی؟ مقدمہ ثالثہ، مقدمہ ثالثہ۔ بھئی یہ بحث محفوظ رکھنا بھئی، آپ کو اگلی کتاب نور الانوار وغیرہ کے اندر بھی یہ بحث کام آئے گی بھئی۔
مقدمہ ثالثہ: ہر چیز میں اختیار اس کی مناسبت سے ہوتا ہے، ہر چیز میں اختیار اس کی مناسبت سے ہوتا ہے۔
تو افعالِ حسیہ میں اختیار ہونے کا، تو افعالِ حسیہ میں اختیار ہونے کا مطلب یہ ہے، تو افعالِ حسیہ میں اختیار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو، کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔
مثلاً ایک آدمی زنا کرنے پر قادر ہو، زنا کرنے پر قادر ہو اور پھر اپنے اختیار سے، اور پھر اپنے اختیار سے نہی کی وجہ سے رک جائے، نہی کی وجہ سے رک جائے تو اسے ثواب ملے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ قرآن میں کیا آیا ہے؟ "ولا تقربوا الزنا" زنا کے قریب بھی نہ جاؤ بھئی، تو دیکھا اس نہی کی وجہ سے وہ رک گیا اور نہی کے آنے کے باوجود بندے کو اس فعل کے کرنے کا اختیار ہے۔ یعنی اختیار یعنی حساً اس کے کرنے پر کیا ہے وہ؟ قادر ہے، تو اختیار ہے اور اختیاری فعل سے اس کو روکا جا رہا ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ جی؟ یہ نہی ہی ہے۔ اختیاری فعل سے روکا جائے یہ کیا کہلاتا ہے؟ نہی۔ تو بندہ کیا ہے؟ اور یہ زنا کس میں سے ہے؟ افعالِ حسیہ میں سے ہے، شریعت سے پہلے جو اس کا معنی تھا شریعت کے آنے کے بعد بھی اس کا وہی معنی ہے کوئی تبدیلی نہیں آئی بھئی۔
جی، الگ سطر لکھیے بھئی۔
جبکہ افعالِ شرعیہ میں اختیار، جبکہ افعالِ شرعیہ میں اختیار شارع کی جانب سے ہوتا ہے، اختیار شارع کی جانب سے ہوتا ہے؛ کیونکہ اس چیز کا سمجھنا ہی شریعت پر موقوف ہوتا ہے، کیونکہ اس فعل کا سمجھنا ہی شریعت پر موقوف ہوتا ہے۔
بندے کے حساً اس پر قادر ہونے، بندے کے حساً اس پر قادر ہونے، بندے کے حساً اس پر قادر ہونے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے کوئی تعلق نہیں۔
کیونکہ اس فعل کا تحقق و وجود، کیونکہ اس فعل کا تحقق و وجود موقوف علی الشرع ہوتا ہے، کیونکہ اس فعل کا تحقق و وجود موقوف علی الشرع ہوتا ہے۔
لہذا اگر شارع نے، لہذا اگر شارع نے اس فعل کے کرنے کی اجازت دی، لہذا اگر شارع نے اس فعل کے کرنے کی اجازت دی تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہوگا، تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہوگا۔
اور اگر شارع نے اجازت نہ دی، تو یہ بندے کے اختیار میں ہی نہیں ہوگا۔ تو یہ بندے کے اختیار ہی میں نہیں ہوگا۔
اگرچہ حساً بندہ اس کے کرنے پر قادر ہو۔ اگرچہ حساً بندہ اس کے کرنے پر قادر ہی کیوں نہ ہو۔
جی، مقدمات ختم ہوئے بھئی۔
دلیل احناف، دلیل احناف۔
نہئ کے بعد فعل شرعی میں قبح آیا۔
اب اگر اس فعل کو، اب اگر اس فعل کو قبیح لعینہ قرار دیا جائے، قبیح لعینہ قرار دیا جائے، تو یہ فعل نہ اصلاً مشروع رہے گا اور نہ وصفاً۔
چونکہ جو چیز قبیح لعینہ ہو، شارع کبھی بھی اس کا اختیار نہیں دیتا۔ شارع کبھی بھی اس کا اختیار نہیں دیتا۔ شارع، چونکہ جو چیز قبیح لعینہ ہو شارع کبھی بھی اس کا اختیار نہیں دیتا۔
تو جب یہ اصلاً مشروع ہی نہ رہا، تو جب یہ اصلاً مشروع جائز ہی نہ رہا—مشروع کا کیا معنی بھئی؟ جائز—مشروع کا معنی جائز، تو جب یہ اصلاً مشروع ہی نہ رہا یعنی شارع نے اس کے کرنے کی اجازت ہی نہیں دی، یعنی شارع نے اس کے کرنے کی اجازت ہی نہیں دی، تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہی نہیں رہے گا۔ تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہی نہ رہے گا۔
اور جب یہ فعل بندے کے اختیار میں ہی نہیں، اور جب یہ فعل بندے کے اختیار میں ہی نہیں، تو بندہ اس فعل کے کرنے سے عاجز ہوا۔ بندہ اس فعل کے کرنے سے... اور عاجز کو کسی فعل سے منع کرنا نفی ہے نہ کہ نہئ۔ اور عاجز کو کسی فعل سے منع کرنا نفی ہے نہ کہ نہئ۔ اور نفی انتہائی قبیح ہے۔ اور نفی انتہائی قبیح ہے۔
اور نفی کیا ہے؟ انتہائی قبیح۔ تو اگر اس کو قبیح لعینہ قرار دیا جائے، تو اگر اس فعل شرعی کو، اگر اس فعل شرعی کو نہئ کے آنے کے بعد، تو اگر اس فعل شرعی کو نہئ کے آنے کے بعد قبیح لعینہ قرار دیا جائے، تو شارع کا عاجز کو منع کرنا لازم آئے گا۔ عاجز کو منع کرنا لازم آئے گا۔
اور عاجز کو منع کرنا تو قبیح ہے۔ اور عاجز کو منع کرنا تو قبیح ہے۔ تو شارع کی طرف قبیح چیز کی نسبت لازم آئے گی۔ تو شارع کی طرف قبیح چیز کی نسبت لازم آئے گی، جو کہ درست نہیں۔ جو کہ درست نہیں۔
یعنی شارع کا عاجز کو منع کرنا محال ہے۔ یعنی شارع کا عاجز کو منع کرنا محال ہے۔
اور جو چیز محال کو مستلزم ہو، وہ خود محال ہوا کرتی ہے۔
لہذا نہئ کے آنے کے بعد، لہذا نہئ کے آنے کے بعد فعل شرعی کا، فعل شرعی کا قبیح لعینہ ہونا محال ہوا۔
اور جب وہ قبیح لعینہ نہیں، تو پھر یقیناً قبیح لغیرہ ہے۔
یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے حسن ہے، یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے حسن ہے اور غیر کی وجہ سے قبیح ہے۔ تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوا۔ یعنی ذات کے اعتبار سے حسن ہے اور غیر کے اعتبار سے، غیر کی وجہ سے قبیح ہے۔ تو یعنی ذات کے اعتبار سے مشروع اور جائز ہے اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع۔
مشروع ہونے کا معنی ہے، مشروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شرعاً اس کی اجازت ہے۔
الگ سطر لکھیے بھئی۔
جبکہ فعل حسی سے منع کیا جائے، جبکہ فعل حسی سے منع کیا جائے، تو وہ قبیح لعینہ ہوگا۔ اور ذات و اصل کے اعتبار سے ہی مشروع نہ رہے گا۔
اور اس سے نہئ عاجز بھی لازم نہیں آتی، اور اس سے نہئ عاجز بھی لازم نہیں آتی۔ کیونکہ افعال حسیہ میں، کیونکہ افعال حسیہ میں اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔
جی، لکھ لیا بھئی؟ یہ تھی نہئ کی بحث، مولانا۔ بس بھئی۔
تو بھئی، اب سمجھ لیں بھئی سبق کو۔
اچھا، کیا بات ہوئی بھئی؟ ہاں، نہئ کی بحث، مولانا، مشکل ترین، بڑی مشکل مباحث میں سے ہے، بھئی۔ یہ تقریر یاد رکھیں، انشاء اللہ۔ یہ مقدمات کو آپس میں جوڑتے چلے جائیں، انشاء اللہ احناف کی دلیل آپ کو سمجھ میں آ جائے گی۔
میں نے بتایا آپ کو کہ افعال دو قسم پر ہیں، بھئی۔ ایک افعال حسیہ ہیں اور ایک افعال شرعیہ ہیں۔ افعال حسیہ کن کو کہتے ہیں؟ جی؟ کہ جن، وہ افعال کہ ان کا جو معنی شریعت سے پہلے تھا، وہی معنی شریعت کے بعد ہے۔ شریعت نے ان کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، بھئی۔ کوئی قیودات وغیرہ ذکر نہیں کی، بھئی۔ جیسے فعل زنا ہے، بھئی۔ تو یہ، بھئی، زنا شریعت سے پہلے جو معنی تھا، یعنی غیر ملک کے اندر وطی کرنا، اب بھی وہی معنی ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اور جیسے جھوٹ بولنا وغیرہ، یہ سب جو معنی ان کا پہلے تھا شریعت سے، وہی معنی اب بھی ہے۔ ظلم کرنا، جس کا جو پہلے معنی تھا، اب بھی وہی معنی ہے۔ اور ایک فعل شرعی ہے۔ تو افعال شرعیہ کن کو کہتے ہیں؟ کہ جن میں شریعت نے کیا کر دی ان کے معنی میں؟ تبدیلی کر دی ہو، بھئی۔ جیسے بیع ہے، بھئی۔ بیع شریعت سے پہلے کس کو کہا کرتے تھے؟ مبادلۃ المال بالمال۔ مال کا مال سے مبادلہ، بس۔ لیکن شریعت نے بڑی قیودات بڑھا دیں، بھئی۔ بالتراضی کی قید بڑھا دی، دونوں کی آپس میں کیا ہونی چاہیے؟ رضامندی ہونی چاہیے۔ اور نیز، مولانا، ایجاب اور قبول ہونا چاہیے۔ اور ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں۔ اور شرائط، کوئی ایسی شرط نہ ہو جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو۔ بہت سی چیزیں اس میں بڑھا دیں، تو اس کے بیع کے معنی میں شریعت نے کیا کر دی؟ تبدیلی پیدا کر دی۔ تو یہ کیا کہلائے گا؟ فعل شرعی۔ اب اس فعل کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہے۔ شریعت کے بغیر ان چیزوں کا لوگوں کو پتا تھا؟ جی؟ کہ بیع کس کو کہتے ہیں؟ اس میں تراضی بھی ہوا کرتی ہے، اس میں یہ قیدیں بھی ہوا کرتی ہیں، یہ شرطیں ہوا کرتی ہیں۔ شریعت کے بغیر کسی کو اس کا پتا... تو یہ فعل شرعی کہلاتا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فعل شرعی کہلاتا ہے، بھئی۔
اچھا، اس کے بعد نہئ آ جائے۔ اب افعال شرعیہ کے اندر بھی کبھی نہئ آئی، روکا گیا۔ اب جس چیز سے روکا گیا ہے، وہ فعل شرعی ہوگی یا فعل حسی۔ بھئی، فعل حسی سے اگر روکا جائے تو اس میں تو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے کہ اس پھر اس صورت میں یہ منہی عنہ، جس کام سے روکا گیا ہے، وہ کیا ہوگا؟ حرام لغیرہ ہوگا، یعنی قبیح... حرام لعینہ ہوگا، یعنی قبیح لعینہ، یعنی قبیح لذاتہ ہوگا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ یعنی اس کی ذات ہی حرام ہوگی، ذات کے اعتبار سے یہ جائز نہیں۔ جبکہ افعال شرعیہ کے اندر نہئ آ جائے تو اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ہم کہتے ہیں افعال شرعیہ میں نہئ آ جائے تو وہ کیا ہوگا؟ حرام لغیرہ ہوگا، بھئی، قبیح لغیرہ ہوگا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں کہ یہ کیا ہوگا؟ قبیح لعینہ ہوگا، قبیح لذاتہ ہوگا، حرام لذاتہ ہوگا، بھئی۔ حرام لذاتہ، ذات کے اعتبار سے حرام ہوگا۔ ہم کہتے ہیں، نہیں، ذات کے اعتبار سے حرام نہیں، بلکہ کیا ہے؟ ذات کے اعتبار سے یہ جائز رہے گا اور وصف کے اعتبار سے کیا ہو جائے گا؟ حرام ہو جائے گا، بھئی۔ حرام ہوگا، بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ اب ان کی دلیل کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں، بھئی، دلیل امام شافعی رحمہ اللہ کی یہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ نہئ آ گئی اور نہئ آئی ہے حکیم کی طرف سے۔ اور حکیم جب نہئ کرے تو منہی... یہ تقاضا کرتی ہے کہ منہی عنہ کیا ہو؟ قبیح ہو۔ تو اس کے اندر اس کا قبیح ہونا ضروری، بھئی۔ اور قباحت کامل درجے کی مراد... کامل درجے کی قباحت کون سی ہے؟ تو ایک قبیح لغیرہ ہے، ایک قبیح لعینہ ہے۔ تو قبیح ہونا تو ہے ضروری۔ اب یا تو قبیح لعینہ ہوگا اور قبیح لغیرہ... یا قبیح لغیرہ۔ اور ان میں کامل درجے کا قبح کون سا ہے؟ وہ جو قبیح لعینہ ہو۔ لہذا وہ قبیح لعینہ ہوگا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ جی۔
جبکہ احناف دلیل دیتے ہیں بھئی۔
احناف کی دلیل کے لیے میں نے تین مقدمات ذکر کیے تھے بھئی۔ مقدمہ اولیٰ تھا جس میں آپ کو یہ سمجھایا گیا کہ نفی کسے کہتے ہیں، نہی کسے کہتے ہیں۔ بھئی یاد رکھو ایک بندے کو ایک فعل کے کرنے کا اختیار ہے، وہ اس پر قادر ہے، اب آپ اس کو اس کام سے روکتے ہیں تو یہ نہی کہلاتی ہے۔ اور اگر ایک آدمی ایک کام پر قادر ہی نہیں ہے اور اس کو اس کام سے روکا جائے تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ نفی کہلاتی ہے۔
اور نفی قبیح ہے مولانا، نفی کیا ہے انتہائی؟ قبیح ہے بھئی، جیسے اندھے کو کہا جائے تو نہ دیکھ، یہ کیا ہے نہی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ نفی، کیونکہ وہ تو پہلے ہی دیکھنے پر قادر ہی نہیں، گونگے کو کہا جائے تو مت بول، وہ تو پہلے ہی بولنے پر قادر نہیں ہے پھر اس کو منع کیا جا رہا ہے، یہ قبیح ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ پہلا مقدمہ تھا جس میں نفی اور نہی کا فرق سمجھایا۔
دوسرا مقدمہ جس کے اندر آپ کو یہ بتلایا کہ نہی مقتضی ہے اور قبح جو ہے کیا ہے؟ مقتضا ہے۔ بھئی اس لیے کہ نہی کرنے والا بذات کیا ہے؟ حکیم ہو جب، تو یہ نہی تقاضا کرتی ہے ایک حکیم ذات ایک چیز سے روک رہی ہے، معلوم ہوا وہ چیز حسن نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ قبیح، کوئی بری ہے تو اس سے منع کیا جا رہا ہے بھئی، تو اس کا قبیح ہونا ضروری، اس میں قبح کا ہونا ضروری۔
تو اب قبح یا تو وہ چیز قبیح لعینہ ہوگی یا قبیح لغیرہ، لیکن اس قبح کا ایسے طریق پر ثابت کرنا ضروری جس سے نہی ہی کہیں باطل نہ ہو جائے بھئی، نہی ہی باطل نہ ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر آپ اس کو قبیح لعینہ قرار دیں گے پھر تو نہی کس سے بدل گئی؟ نفی سے بدل جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آگے دلیل میں آ جائے گی یہ بات تفصیل سے۔
تو نہی ہوئی مقتضی، نہی تقاضا کر رہی ہے اور کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ منہی عنہ کے قبح کا، قبیح ہونے کا۔ اور منہی عنہ کا قبیح ہونا یہ کیا ہوا؟ مقتضا، اور نہی کیا ہوئی؟ مقتضی۔ اب اس مقتضی کو، اس مقتضا کو ثابت کرنا ہے، یعنی منہی عنہ کے قبیح ہونے کو ثابت کرنا ہے، لیکن ایسے طریقے پر ثابت کرو کہ اس سے کہیں نہی ہی باطل ہو کر نفی نہ بن جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ مقدمہ ثانیہ تھا۔
مقدمہ ثالثہ میں نے آپ کو یہ لکھوایا کہ کہ ہر چیز میں اختیار اس کی مناسبت سے ہوتا ہے، فعل حسی میں بندے کو اختیار ہے، اختیار ہونے کا کیا معنیٰ؟ یعنی بندہ اس کے حسًّا کرنے پر قادر ہو۔ جب بندہ اس چیز کے کرنے پر حسًّا ظاہر حسًّا کیا ہو اس کے کرنے پر؟ قادر ہو، تو کیا کہا جائے گا؟ بندہ اس کام پر قادر ہے، اس کو اس کام کا اختیار ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور جبکہ فعل شرعی میں اختیار شریعت کی جانب سے آیا کرتا ہے، کیونکہ اس کا سمجھنا ہی کس پر موقوف تھا؟ شریعت۔ اگر شریعت نے اجازت دی ہے تو وہ ہوگی، شریعت نے اجازت ہی نہیں دی تو وہ اس کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو افعال حسیہ میں اختیار حسًّا قادر ہونے پر ہے، اور افعال شرعیہ کے اندر اختیار کس کی جانب سے ہے؟ شریعت، شارع نے اجازت دی تو بندے کے اختیار میں ہے، شارع نے اجازت نہیں دی تو بندے کے اختیار میں بھی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ نہیں ہے۔ بھئی!
اس کے بعد دلیلِ احناف بھئی یہ تین مقدمات کے بعد میں نے ذکر کی تھی، دلیل۔ بھئی نہی آ گئی بھئی، کیا آ گئی؟ نہی تو آ گئی، اب یا یہ فعل حسی میں آئے گی یا فعل شرعی میں۔ اب فعل حسی کے اندر آئے تو اس کو تو ہم کیا قرار دے دیں گے؟ قبیح لعینہ، تو قبیح لعینہ ہونے کا کیا معنیٰ؟ یعنی یہ ذات کے اعتبار سے جائز نہیں، تو نہ ذات کے اعتبار سے جائز ہے اور نہ وصف کے اعتبار سے جائز ہے۔ تو جب یہ ذات کے اعتبار سے جائز نہیں تو تو بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب یہ بندے کے اختیار میں ہی نہیں۔ یہ تو ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہیں بھئی، زنا سے منع کیا گیا تو اب آپ یہ کہیں یہ تو بندے کے اختیار میں ہی نہیں، نہیں بندے کے اختیار میں ہے، کیونکہ یہ تو فعل حسی ہے اور فعل حسی کے اندر اختیار کس کو کہتے ہیں؟ کہ بندہ حسًّا اس کے کرنے پر قادر ہو، شریعت کی اجازت دینے یا اجازت نہ دینے سے اس کا کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ فعل شرعی تو ہے ہی نہیں، یہ تو کیا ہے فعل حسی، تو اس کو قبیح لعینہ قرار ہم دے دیں تو بھی بندے کا بے اختیار ہونا لازم نہیں آتا، بندے کو پھر بھی کیا رہتا ہے؟ اختیار، کیونکہ اختیار کا تعلق شریعت سے ہے ہی نہیں بلکہ اس کا تعلق تو کس سے ہے؟ ظاہراً اس پر قادر ہونے سے ہے۔
جبکہ فعل شرعی کے اندر جب نہی آ جائے تو نہی آنے کا کیا معنیٰ؟ کہ اس کے اندر کیا ہے؟ قبح ہے، کیا ہے؟ قبح ہے، اب اس قبح کو ایسے طریقے سے ثابت کرنا ہے کہ یہ نہی کہیں نفی میں تبدیل نہ ہو جائے، یہ نہی کہیں نفی میں تبدیل نہ ہو جائے، یعنی کسی عاجز کو روکنا لازم نہ آئے۔ نفی میں کیا ہوتا ہے؟ عاجز کو روکا جاتا ہے، اور نہی میں کیا ہوتا ہے؟ جس کو اختیار ہوتا ہے اس کو روکا جاتا ہے۔
تو لہٰذا فعل شرعی کے اندر جب نہی آ گئی تو اگر آپ اس کو قبیح لعینہ قرار دے دیں، کیا قرار دے دیں؟ تو قبیح لعینہ ہونے کا کیا معنیٰ؟ نہ ذات کے اعتبار سے جائز نہ وصف کے اعتبار سے، تو جب ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہیں تو بندے کے اختیار میں ہی نہ رہا، کیونکہ یہ تو فعل کونسا ہے؟ شرعی، اور شریعت نے اجازت کسی طرح سے اس کی دی ہی نہیں، جب شریعت نے اجازت ہی نہیں دی تو بندہ اس کے کرنے پر قادر بھی نہیں، کیونکہ یہ فعل شرعی ہے اور فعل شرعی میں اختیار کس کی طرف سے ہوتا ہے؟ شریعت کی طرف سے، اور شریعت نے تو اجازت نہیں دی، جب اجازت نہیں دی تو بندہ اس کے کرنے پر قادر بھی نہیں، جب بندہ اس کے کرنے پر قادر ہی نہیں تو اس صورت میں کیا لازم آیا؟ عاجز کو نہی لازم آئی، عاجز کو نہی لازم آئی، اور عاجز کو نہی کیا ہے؟ شارع کی جانب سے عاجز کو نہی کرنا محال ہے، شارع کی جانب سے عاجز کو نہی کرنا محال ہے، کیوں؟ کیونکہ اس صورت میں شارع کی طرف امرِ قبیح کی نسبت لازم آتی ہے، کیونکہ نفی یہ تو نفی بن گئی، عاجز کو نہی کرنا کیا ہے؟ نفی، اور نفی کیا ہے؟ قبیح، تو معلوم ہوا شارع نفی کر رہا ہے، تو اس کا تو کیا معنیٰ ہوا؟ ایک قبیح کام شارع کی جانب سے ہوا، اور شارع کی جانب سے قبیح کام شارع کی طرف قبیح کام کی نسبت ہو سکتی ہے؟ شارع کی طرف تو قبیح کام کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی۔
لہٰذا تو شارع کا عاجز کو منع کرنا محال ہے، شارع کا عاجز کو منع کرنا محال ہے، اور یہ محال کس کی وجہ سے آیا؟ اس فعل شرعی کو قبیح لعینہ قرار دینے کی وجہ سے، اس فعل شرعی کو کیا قرار دینے کی وجہ سے؟ قبیح لعینہ، جب اس کو آپ نے قبیح قرار دے دیا تو وہ بندے کے اختیار میں نہ رہا، جب اختیار میں نہ رہا تو یہ نفی کس میں بدل گئی؟ نفی میں بدل گئی، صورت سمجھ میں آئی؟
تو شارع کا عاجز کو نہی کرنا یہ محال ہے، اور جو چیز مستلزمِ محال ہو وہ خود کیا ہوتی ہے؟ محال ہوتی ہے، تو یہ محال کس کی وجہ سے آیا تھا؟ اس فعل شرعی کو کیا قرار دینے سے؟ قبیح لعینہ، معلوم ہوا اس فعل شرعی کا قبیح لعینہ ہونا محال ہوا، کیا ہوا؟ محال ہوا، تو وہ کیا رہے گا؟ قبیح لغیرہ ہو جائے گا، یعنی غیر کی وجہ سے یہ قبیح ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ حسن ہے، ذات کے اعتبار سے حسن ہے، تو ذات کے اعتبار سے یہ مشروع ہو جائے گا اور یعنی ذات کے اعتبار سے یہ مشروع ہے، ذات کے اعتبار سے تو حسن ہے، ذات کے اعتبار سے مشروع ہے، اور وصف کے اعتبار سے کیا ہے؟ حرام مشروع نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جیسے بھئی بیع بھئی، یہ کیا ہے؟ فعل شرعی، اب اس فعل شرعی سے روکا گیا ہے جمعہ کی اذان کے وقت بھئی، جمعہ کی اذان کے وقت بیع سے کیا کیا گیا ہے؟ اور بیع فعل شرعی ہے یا فعل حسی؟ یہ فعل شرعی ہے، اور فعل شرعی سے روکا گیا ہے، اور فعل شرعی میں نہی آ جائے تو یہ کیا ہوتا ہے؟ قبیح لغیرہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ یعنی ذات کے اعتبار سے جائز ہوتا ہے، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں، تو بیع اپنی ذات کے اعتبار سے جائز ہوئی اور وصف کے اعتبار سے جائز نہیں، غیر کی وجہ سے جائز نہیں ہے، وہ غیر کیا تھا؟ کیونکہ اس کیا؟ اس بیع کی وجہ سے ترکِ سعی لازم آتی تھی، تو ترکِ سعی کی وجہ سے یہ بیع کیا ہوئی؟ جائز نہ ہوئی، تو بیع ذات جب اذانِ جمعہ کے وقت جو بیع ہوئی اس سے نہی آئی ہے، تو یہ نہی فعل شرعی میں آئی، اور فعل شرعی میں نہی آئے تو وہ کیا ہوتا ہے؟ قبیح لغیرہ، تو یہ بیع قبیح لغیرہ ہوئی، یعنی ذات کے اعتبار سے حسن اور وصف کے اعتبار سے قبیح، یا یوں کہو ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، تو یہ بیع ذات کے اعتبار سے جائز ہوئی اور وصف کے اعتبار سے جائز نہ ہوئی۔
تو لہٰذا یہ بیع ہو جائے گی اور ملکِ مشتری کا فائدہ دے گی بھئی، کس چیز کا؟ کیونکہ ذات کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ اگر ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہیں پھر تو بندے کے اختیار میں نہیں، جب بندے کے اختیار میں نہیں تو پھر تو کیا لازم آیا؟ عاجز کو نہی، معلوم ہوا بندے کے اختیار میں ہے، اور اختیار میں ہونے کا کیا معنیٰ؟ وہ اس کے کرنے پر قادر ہے، یعنی یہ بیع ہو جاتی ہے، اس کی اجازت ہے، لیکن اس کو منع کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے کیا لازم آ رہی ہے؟ ترکِ سعی لازم آ رہی ہے بھئی۔ صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔