Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-114

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَ أَمَّا العَكْسُ فَنَعْنِي بِهِ أَنْ يَتَمَسَّكَ السَّائِلُ بِأَصْلِ الْمُعَلِّلِ عَلَى وَجْهٍ يَكُونُ الْمُعَلِّلُ مُضْطَرًّا إِلَى وَجْهِ الْمُفَارَقَةِ بَيْنَ الأَصْلِ وَالْفَرْعِ. مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ سوالات یا وہ اعتراضات جو قیاس پر وارد کیے جاتے ہیں، کتنی قسم کے ہیں؟ اٹھ قسم کے ہیں بھئی! اٹھ قسم کے۔ ان میں سے تین: ممانعت، قول بموجب العلت اور قلب، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔ آج ہم عکس کے بارے میں اور باقیوں کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَ أَمَّا العَكْسُ، عکس جو ہے فَنَعْنِي بِهِ، تو ہم پس مراد لیتے ہیں اس سے، اس عکس سے مراد لیتے ہیں: کیا؟ أَنْ يَتَمَسَّكَ السَّائِلُ بِأَصْلِ الْمُعَلِّلِ، تمسک کا معنیٰ ہے دلیل پکڑنا، استدلال کرنا، کہ استدلال کرے سائل یعنی معترض بِأَصْلِ الْمُعَلِّلِ، کس کے ساتھ؟ معلل کے اصل یعنی وہ جو مقیس علیہ ہے، اس سے اس طریقے پر دلیل پکڑے عَلَى وَجْهٍ، ایسے طریقے پر يَكُونُ الْمُعَلِّلُ مُضْطَرًّا إِلَى وَجْهِ الْمُفَارَقَةِ بَيْنَ الأَصْلِ وَالْفَرْعِ، کہ معلل مجبور ہو جائے اصل اور فرع کے درمیان فرق کرنے پر بھئی۔ اس طریقے کا کیا کرنے پر؟ اصل اور فرع میں فرق بیان کرنے پر مجبور ہو جائے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی عکس کسے کہتے ہیں؟ کہ معلل نے مثلاً بھئی ایک معلل نے قیاس کیا تھا بھئی، اور ایک چیز کو مقیس علیہ بنایا اور پھر دوسری چیز کو کیا بنایا؟ مقیس بنایا اور اس کے لیے مقیس کے لیے وہی حکم ثابت کر دیا جو کس کے اندر تھا؟ مقیس علیہ کے اندر تھا۔ اب معترض یا سائل جو ہے اسی معلل کی اصل سے، جس کو اس نے کیا بنایا تھا؟ مقیس علیہ، اسی کے اصل سے ایسے طریقے پر دلیل بنائے کہ وہ اصل اور فرع میں فرق کرنے، فرق بیان کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اصل اور فرع میں فرق بیان کرنے پر مجبور ہو جائے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو دیکھو، فَنَعْنِي بِهِ ہم عکس سے یہ مراد لیتے ہیں: أَنْ يَتَمَسَّكَ السَّائِلُ بِأَصْلِ الْمُعَلِّلِ، کہ سائل یعنی معترض دلیل پکڑے معلل کی اصل سے، عَلَى وَجْهٍ، ایسے طریقے پر يَكُونُ الْمُعَلِّلُ مُضْطَرًّا، کہ معلل مجبور ہو جائے إِلَى وَجْهِ الْمُفَارَقَةِ بَيْنَ الأَصْلِ وَالْفَرْعِ، اصل اور فرع میں مفارقت پر بھئی، مفارقت بیان کرنے پر، فرق بیان کرنے پر مجبور ہو جائے۔ وَمِثَالُهُ: الْحُلِيُّ أُعِدَّتْ لِلابْتِذَالِ. بھئی دیکھو مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک عند الاحناف بھئی، زیورات کے اندر زکوٰۃ واجب ہے بھئی۔ زیورات میں زکوٰۃ واجب ہے، چاہے وہ عورت کے زیورات ہوں یا چاہے مرد کے ہوں، کوئی مرد ہی کیوں نہ اپنے لیے زیور وغیرہ بنوا لے جیسے آج کل آپ دیکھتے ہیں بھئی، گلے میں زنجیر ڈالی ہوئی ہے، ہاتھ میں بھی ہے سونے کی زنجیر، انگوٹھی ہے سونے کی وغیرہ، تو مرد بھی اگر کوئی اپنے لیے زیور بنوا لے تو اس پر بھی کیا آئے گی؟ زکوٰۃ، جیسے عورت کے زیور پر کیا آتی ہے؟ زکوٰۃ آتی ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد کے زیور میں تو زکوٰۃ آتی ہے، عورت کے زیور میں زکوٰۃ نہیں ہے، اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی اختلاف دونوں ائمہ کا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عورت کے زیور میں زکوٰۃ نہیں۔ دلیل کیا دیتے ہیں بھئی؟ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں عورت کے استعمال کے کپڑوں پر بھئی، کہ جیسے عورت کے استعمال کے کپڑوں میں استعمال کے کپڑوں کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے، اسی طرح اس کے استعمال کے زیور کے اندر بھی زکوٰۃ نہیں ہے، اور علت جامعہ ہے دونوں کے اندر استعمال کے لیے ہونا بھئی۔ جیسے کپڑے استعمال کے لیے ہیں، اسی طرح زیور بھی کس کے لیے ہیں؟ استعمال کے لیے، اور جیسے کپڑوں کے اندر تو بالاتفاق کسی کے نزدیک بھی زکوٰۃ نہیں ہے تو زیور بھی استعمال کے لیے ہیں، ان کے اندر بھی کوئی زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ قیاس سمجھ میں آیا بھئی؟ کس کو انہوں نے اصل بنایا؟ ثیابِ بذلہ کو، وہ کپڑے جو استعمال کے لیے ہیں ان کو مقیس علیہ بنایا، اور کس کو مقیس بنایا؟ زیور کو کیا بنایا؟ مقیس بنایا بھئی، اور علت جامعہ کیا ہے دونوں کے اندر؟ استعمال بھئی، دونوں کس کے لیے ہیں؟ استعمال کے لیے ہیں۔ تو جیسے کپڑوں میں استعمال کی علت پائی جا رہی ہے تو ان پر زکوٰۃ کے نہ ہونے کا حکم لگایا گیا، یہی علت کس کے اندر پائی جا رہی ہے؟ ان کے زیور میں بھی پائی جا رہی ہے، تو لہٰذا اس پر بھی وہی حکم لگے گا، اس کے اندر بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔ اب ہم انہی کی اصل، یعنی مقیس علیہ استعمال کے جو کپڑے ہیں، اسی سے ہم دلیل پکڑتے ہیں اس طریقے پر کہ وہ اصل اور فرع میں فرق کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ بھئی اگر عورت کے کپڑوں میں جیسے استعمال کی وجہ سے زکوٰۃ نہیں ہے، اسی طرح آپ نے کیا کہا: ان کے استعمال کے زیور میں بھی زکوٰۃ نہیں، پھر تو مرد کے زیور کے اندر بھی زکوٰۃ نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کہ جیسے مرد کے کپڑوں میں بالاتفاق زکوٰۃ نہیں ہے استعمال والے کپڑوں میں، اسی طرح اس کے زیور بھی کس کے لیے ہو گئے؟ اس کے زیور بھی استعمال کے لیے ہیں، تو اس کے زیور کے اندر بھی زکوٰۃ نہیں ہونی چاہیے، حالانکہ آپ کیا کرتے ہیں کہ مرد کے زیور میں کیا حکم لگاتے ہیں؟ کہ اس میں زکوٰۃ فرض ہے۔ تو امام، تو دیکھا! ہم نے امام شافعی رحمہ اللہ مجبور ہوئے فرق بیان کرنے پر بھئی، اصل اور فرع کے درمیان، استعمال کے کپڑوں اور زیور کے درمیان فرق کرنے پر مجبور ہوئے اور فرمانے لگے کہ بھئی دراصل مرد کے لیے زیور چونکہ حرام ہے۔ مرد کے لیے کیا ہے؟ زیور اس کے لیے حرام ہے، تو اس کے لیے استعمال پایا ہی نہیں گیا شرعی اعتبار سے۔ شرعی اعتبار سے اس کے لیے استعمال اور ابتذال ثابت ہی نہیں ہے، شریعت نے استعمال کی اجازت دی ہے؟ نہیں دی، تو اس کے لیے شرعاً ابتذال اور استعمال ثابت ہی نہیں ہے۔ جب استعمال اور ابتذال ہے ہی نہیں مرد کے زیور میں، تو لہٰذا اس کو اس کے استعمال کے کپڑوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو انہی کی اصل سے ہم نے اس طریقے پر دلیل کو پکڑا کہ وہ اصل اور فرع میں کیا بیان کرنے پر مجبور ہو گئے؟ فرق بیان کرنے پر مجبور ہو گئے، دیکھو وہی مرد کے استعمال کے کپڑے ہیں ان کو ہم نے اصل بنایا، اور اس کے زیور کو ہم نے کیا بنایا؟ فرع بنایا، تو اب وہ فرق بیان کر رہے ہیں کہ نہیں بھئی، ادھر تو کیا ہے؟ استعمال پایا ہی نہیں گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وَمِثَالُهُ، اور اس کی مثال بھئی، جیسے شوافع کا یہ قول ہے: الْحُلِيُّ أُعِدَّتْ لِلابْتِذَالِ، حلی جمع ہے حلیٌ کی بھئی، حلیٌ زیور۔ الْحُلِيُّ أُعِدَّتْ لِلابْتِذَالِ، کہ زیورات جو ہیں وہ تیار کیے گئے ہیں لِلابْتِذَالِ، کس کے لیے؟ استعمال کے لیے تیار کیے گئے ہیں، فَلا تَجِبُ فِيهَا الزَّكَاةُ، تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، كَثِيَابِ الْبِذْلَةِ، جیسے عام استعمال کے کپڑے ہیں۔ جیسے عام استعمال کے کپڑے ہیں۔ قُلْنَا، ہم کہتے ہیں عکس کے طریقے پر: لَوْ كَانَ الْحُلِيُّ بِمَنْزِلَةِ الثِّيَابِ، اگر زیور اس کپڑوں کے درجے میں ہوتے، فَلا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي حُلِيِّ الرِّجَالِ، تو زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے تھی کس میں؟ مردوں کے زیور میں، كَثِيَابِ الْبِذْلَةِ، جیسے کہ استعمال کے کپڑے، جیسے ان کے استعمال کے کپڑوں میں نہیں ہے تو ان کے استعمال کے زیور میں بھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ وَ أَمَّا فَسَادُ الْوَضْعِ، اگلی قسم، اگلا اعتراض جو قیاس پر وارد ہوتا ہے وہ ہے فساد الوضع۔ فساد الوضع کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: فَالْمُرَادُ بِهِ، فسادِ وضع سے مراد یہ ہے: أَنْ يُجْعَلَ الْعِلَّةُ وَصْفًا، کہ علت کو ایسا وصف بنانا لا يَلِيقُ بِذَلِكَ الْحُكْمِ، جو اس حکم کے مناسب نہ ہو۔ دیکھو بھئی، فسادِ وضع کسے کہتے ہیں؟ فسادِ وضع اسے کہتے ہیں کہ معلل نے ایک وصف کو ایک حکم کی علت قرار دیا۔ معلل نے کیا کیا بھئی؟ ایک وصف کو ایک حکم کی علت قرار دیا کہ اس حکم کی یہ علت ہے، جی، تو اس علت کی وجہ سے اب یہ حکم پایا جائے گا۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ معترض کہتا ہے کہ بھئی جس وصف کو آپ نے اس حکم کے لیے علت بنایا ہے، وہ تو اس حکم کے لیے، اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے بھئی، اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے، وہ اس لائق ہی نہیں ہے کہ اس کو اس حکم کے لیے علت بنایا جائے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ انہوں نے کیا بنایا تھا حکم کے لیے ایک وصف کو؟ علت۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ معترض کیا کہتا ہے؟ کہ اس حکم کے لیے تو یہ علت مناسب ہی نہیں، یہ وصف مناسب ہی نہیں ہے کہ اس کے ذریعے کیا کیا جائے؟ اس حکم کو ثابت کیا جائے۔ جیسے مثال دیکھو بھئی۔ ہمارے نزدیک یاد رکھو، اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو دوسرے پر اسلام کو پیش کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام سے انکار کر دیتا ہے تو نکاح زائل ہو جائے گا، نکاح کیا ہو جائے گا؟ زائل۔ خود بخود نکاح زائل نہیں ہوگا بھئی ایک کے اسلام لانے سے، بلکہ دوسرے پر بھی کیا پیش کیا جائے گا؟ اسلام، کہ تو مسلمان ہو جا، اسلام لے آ۔ اب اگر وہ انکار کرتا ہے تو یہ انکار کرنے کی وجہ سے اب کیا ہو جائے گا؟ نکاح زائل ہو جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ جبکہ شافعی، شوافع کیا کہتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے اگر کوئی ایک بھی مسلمان ہو جائے تو مسلمان ہوتے ہی فوراً نکاح زائل ہو جائے گا اس لیے کہ اختلافِ دین آ گیا۔ کیا آ گیا؟ اختلافِ دین آ گیا، اور اختلافِ دین جب نکاح پر پیش آئے، پہلے سے نکاح ہوا ہے اور اس کے بعد اب کیا پیش آ گیا؟ اختلافِ دین پیش آ جائے تو پھر اس صورت میں نکاح کیا ہو جاتا ہے؟ زائل ہو جاتا ہے، جیسے مرتد کے اندر مولانا۔ مرتد بھئی العیاذ باللہ کوئی شخص میاں بیوی میں سے کوئی ایک مرتد ہو جائے بھئی، تو دیکھو یہ اختلافِ دین طاری ہوا ہے، پیش آیا ہے، کس پر بھئی؟ نکاح پر، پہلے سے نکاح تھا اب کیا پیش آ گیا؟ اختلافِ دین، کوئی ایک مرتد ہو گیا، تو اب نکاح کیا ہو جایا کرتا ہے؟ زائل ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو انہوں نے کیا علت بیان کی بھئی؟ جی؟ کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام لے آئے تو نکاح کیا ہو جائے گا؟ زائل ہو جائے گا، تو انہوں نے اسلام کو علت بنا دیا زوالِ نکاح کی۔ اسلام کو کس چیز کی علت بنا دیا؟ زوالِ نکاح کی، زوالِ نکاح کی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ اسلام ایسا وصف ہے کہ یہ اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے۔ اسلام کی، اسلام کا علت بننا زوالِ نکاح کے لیے یہ درست ہی نہیں ہے، اسلام اس قابل ہی نہیں کہ اس کو کس کے لیے بنایا جائے؟ زوالِ نکاح کے لیے علت، کیونکہ اسلام کے ذریعے تو ملک کی حفاظت ہوتی ہے نہ کہ اس کی وجہ سے ملک زائل ہوتی ہے۔ اسلام تو املاک کی حفاظت کرنے والا ہے اور آپ نے اس کو کس چیز کے لیے علت بنا دیا؟ زوالِ ملک کے لیے بھئی، زوالِ ملک کے لیے۔ اسلام کی وجہ سے تو انسان کے عزت، جان، آبرو، مال وغیرہ سب محفوظ ہو جاتے ہیں بھئی۔ دار الحرب ہے مولانا، دار الحرب بھئی، کفار کا وطن جس سے لڑائی ہے بھئی، وہاں پر بھی اگر کوئی شخص مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کا، اس کا مال، اس کی جان، عزت و آبرو کیا ہو جاتے ہیں؟ محفوظ ہو جاتے ہیں، اب مسلمان اگر اس علاقے پر حملہ کریں، قبضہ کریں تو اس کے جان، مال، عزت وغیرہ سے تعرض نہیں کیا جائے گا، اسلام کی وجہ سے وہ سب محفوظ ہو چکے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اسلام تو املاک کی حفاظت کرنے والا ہے نہ کہ املاک کو زائل کرنے والا، لہٰذا یہ اسلام مناسب ہی نہیں ہے اس حکم کے، یعنی زوالِ ملک کے مناسب ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کے لیے علت بنانا صحیح نہیں، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ وَ أَمَّا فَسَادُ الْوَضْعِ، باقی فسادِ وضع جو ہے فَالْمُرَادُ بِهِ، پس اس سے مراد یہ ہے: أَنْ يُجْعَلَ الْعِلَّةُ وَصْفًا، کہ علت کو ایسا وصف بنانا لا يَلِيقُ بِذَلِكَ الْحُكْمِ، کہ جو اس حکم کے مناسب ہی نہ ہو۔ مِثَالُهُ فِي قَوْلِهِمْ، اس کی مثال شوافع کے اس قول کے اندر ہے: فِي إِسْلامِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ اِخْتِلافُ الدِّينِ، کہ دونوں زوجین کے، دونوں زوجین میں سے کسی ایک کے، کے اسلام لانے کی صورت میں اِخْتِلافُ الدِّينِ، کیا ہے؟ دین کا اختلاف ہے، طَرَأَ عَلَى النِّكَاحِ، اس حال میں کہ یہ طاری ہوا ہے کس پر؟ نکاح پر بھئی۔ دونوں میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے میں کیا آیا مولانا؟ اختلافِ دین آیا، اور یہ اختلافِ دین کیا ہے؟ طَرَأَ عَلَى النِّكَاحِ، نکاح پر پیش آیا ہے، نکاح پر طاری ہوا ہے، فَيُفْسِدُهُ، تو یہ کیا کر دے گا؟ نکاح کو فاسد کر دے گا، كَارْتِدَادِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ، جیسے کہ دونوں میاں بیوی میں سے کسی ایک کا مرتد ہونا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ فَإِنَّهُ جَعَلَ الإِسْلامَ عِلَّةً لِزَوَالِ الْمِلْكِ، اس لیے کہ انہوں نے بنایا ہے اسلام کو علت زوالِ ملک کے لیے، ملکِ متعه یا ملکِ نکاح کے زوال کے لیے علت بنایا ہے، قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: الإِسْلامُ عُهِدَ عَاصِمًا لِلْمِلْكِ، اسلام کو 'عہد' یعنی 'عرف' جانا گیا ہے۔ اسلام کو جانا گیا ہے یا متعین کیا گیا ہے۔ اسلام کو کیا کیا گیا ہے؟ متعین کیا گیا ہے۔ عاصماً للملك، ملکیت کے لیے، ملکیت کی حفاظت کرنے والا۔ عاصماً یعنی حافظاً بھئی۔ اسلام کو متعین کیا گیا ہے، کس لیے بھئی؟ ملکیت کی، ملکیت کی حفاظت کرنے والا ہے یا اسلام کو پہچانا گیا ہے کہ یہ ملکیت کی حفاظت کرنے والا ہے۔ فلا يكون مؤثراً في زوال الملك، تو یہ زوال ملک کے اندر مؤثر نہیں ہوگا، تو اسلام لانے کی وجہ سے ان کا نکاح زائل نہیں ہوگا، بلکہ نکاح زائل نہیں ہوگی۔ بلکہ علت کیا ہے ہمارے نزدیک؟ اباء عن الإسلام۔ اباء عن الإسلام، اسلام سے انکار کرنا بھئی۔ یہ علت ہے زوال ملک کی بھئی، اسلام تو ملک کی حفاظت کر رہا تھا لیکن انہوں نے کیا کر دیا؟ اسلام سے انکار۔ بھئی، ایک اسلام لے کر آیا، دوسرے پر بھی اسلام پیش کیا، اس نے اسلام لانے سے کیا کر دیا؟ انکار کر دیا، تو یہ اباء عن الإسلام، اسلام سے انکار کرنا یہ علت ہے کس چیز کی؟ زوال ملک کی، زوال ملک نکاح کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وكذلك في مسألة طول الحرة أنه حر قادر على النكاح، اور اسی طرح کس مسئلے میں؟ آزاد عورت پر نکاح کی قدرت کے مسئلے میں۔ آزاد عورت سے نکاح کی قدرت کے مسئلے میں کہ انه حر قادر، شوافع کیا فرماتے ہیں؟ بھئی، شوافع کہتے ہیں: اگر کوئی شخص آزاد ہو اور آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہو، تو اس کے لیے باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں پہلے بھئی۔ آزاد ہو اور آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہو، تو اس کے لیے باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں کس پر بھئی؟ اس شخص پر، اس آزاد شخص پر جس کے تحت کیا ہو؟ آزاد عورت ہو۔ ایک آدمی ہے اس نے پہلے سے ایک آزاد عورت سے نکاح کر رکھا ہے، اس کی ایک آزاد عورت کیا ہے؟ اس کی بیوی ہے، تو ایسی، ایسے شخص کے لیے باندی سے بالاتفاق نکاح درست نہیں بھئی۔ ہمارے نزدیک بھی یہ شخص اب باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، کوئی حاجت نہیں ہے باندی سے نکاح کرنے کی، آزاد عورت اس کے نکاح میں موجود ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جب آزاد عورت اس کے نکاح میں موجود ہے، تو باندی کے ساتھ یہ نکاح، تو جیسے یہ آزاد، یہ شخص جس کے تحت آزاد عورت ہے، اس کے لیے باندی سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح وہ کیا فرماتے ہیں کہ آزاد، وہ شخص جو آزاد عورت سے نکاح پر قدرت رکھتا ہو، اس کے لیے باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ تو علت کسے بنایا؟ آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہونا۔ آزاد آدمی کا آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہونا، یہ علت ہے کس چیز کی؟ عدم جواز نکاحِ امۃ کی بھئی، عدم جواز نکاحِ امۃ کہ باندی سے نکاح کے جائز نہ ہونے کی، جب آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہے، تو حکم کیا لگایا؟ باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ ہم کہتے ہیں: یہ وصف تو اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے۔ آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہونا، یہ تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ باندی کے ساتھ بھی نکاح جائز ہونا چاہیے۔ جب یہ آزاد کے ساتھ نکاح پر قادر ہے، تو باندی کے ساتھ بھی اس کا نکاح کیا ہونا چاہیے؟ جائز ہونا چاہیے، نہ کہ ناجائز بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو انہوں نے آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہونے کو علت بنایا کس کے لیے؟ باندی کے ساتھ نکاح کے جائز نہ ہونے کے لیے، ہم کہتے ہیں: یہ وصف اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وكذلك في مسألة طول الحرة، اور اسی طرح ہے آزاد عورت سے نکاح کے مسئلے میں کہ انه، شوافع فرماتے ہیں: انه حر قادر على النكاح، کہ یہ ایسا آزاد ہے جو قدرت رکھتا ہے نکاح پر۔ یعنی آزاد عورت سے نکاح پر قدرت رکھتا ہے، فلا يجوز له الأمة، تو اس کے لیے جائز نہیں ہے باندی، یعنی باندی کے ساتھ نکاح اس کے لیے جائز نہیں۔ كما لو كانت تحته حرة، جیسے کہ اس کے تحت کیا ہو؟ اس کے تحت اگر اس کے یعنی تحت آزاد عورت ہوتی، تو اگر اس کے تحت آزاد عورت ہوتی، تو اس کے لیے نکاح باندی سے جائز نہیں تھا، تو یہاں بھی جائز نہیں۔ قلنا، ہم کہتے ہیں: وصف كونه حراً قادراً، کہ اس کا حر اور قادر ہونے کا وصف جو ہے، وصف كونه حراً قادراً، اس کے حر اور قادر ہونے کا وصف يقتضي جواز النكاح، یہ تو جوازِ نکاح کا تقاضا کرتا ہے کہ باندی سے بھی نکاح کیا ہونا چاہیے؟ جائز ہونا چاہیے، فلا يكون مؤثراً في عدم الجواز، تو لہذا یہ مؤثر نہیں ہوگا کس کے اندر؟ عدمِ جواز کے اندر بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ أما النقض، اگلی قسم بھئی، وہ جو اعتراض کس پر وارد ہوتے ہیں؟ قیاس پر۔ اگلی قسم نقض ہے بھئی، نقض اور مناقضہ بھی اس کو کہتے ہیں۔ جی، مناقضہ کی اور نقض کی تعریف نہیں کی بھئی مصنف نے، جی، مثال ذکر کر دی ہے۔ حاشیے میں اس کی تعریف دی ہوئی ہے بھئی۔ نقض کہتے ہیں: هو وجود العلة وتخلف الحكم عنه۔ وجود الحكم، وجود العلة وتخلف الحكم عنه، علت کا پایا جانا اور حکم کا اس سے بچھڑ جانا۔ حکم کا پایا جانا، علت کا پایا جانا اور حکم کا اس سے بچھڑ جانا یا اس سے پیچھے رہ جانا، جو ترجمہ آپ کو مناسب لگے بھئی۔ تخلف کا معنی پیچھے رہ جانا، بچھڑ جانا بھئی۔ دیکھیے بھئی، معلل نے قیاس کیا، ایک وصف، علت بیان کی ایک حکم کے لیے بھئی۔ کیا کیا؟ ایک وصف کو کیا بنایا؟ علت بنایا ایک حکم کے لیے کہ اس حکم کی یہ علت ہے، یہ وصف اس کی علت ہے۔ یہ علت ہے۔ تو اب ہونا یہ چاہیے کہ جہاں پر بھی کیا ہو؟ علت پائی جائے، وہ حکم بھی پایا جائے۔ اس لیے کہ اس حکم کے لیے انہوں نے ایک وصف کو کیا قرار دیا ہے؟ علت، تو ہونا تو یہ چاہیے کہ جہاں یہ وصف پایا جائے، وہ حکم بھی پایا جانا چاہیے، اس لیے کہ یہ اس حکم کی علت ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہم کیا، معترض کیا کرتا ہے؟ اس کی دلیل کو باطل کرتا ہے، ایسی جگہیں ذکر کرتا ہے جہاں پر حکم، علت تو پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں پایا جا رہا۔ کہ اے معلل! آپ نے کیا کیا تھا؟ اس حکم کے لیے یہ علت ذکر کی، تو ہونا تو یہ چاہیے کہ جہاں یہ علت، یہ وصف پایا جائے، وہاں پر یہ حکم بھی پایا جائے، لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں ایسے مقامات جہاں پر علت تو پائی جا رہی ہے، وہ وصف تو پایا جا رہا ہے، لیکن حکم نہیں ہے۔ تو لہذا آپ کا معلوم ہوا یہ قیاس صحیح نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اس کی دلیل ہی کو باطل کر دیا جاتا ہے۔ معلل کی دلیل ہی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ باطل کر دیا جاتا ہے کہ دیکھو! علت پائی جا رہی ہے اور حکم نہیں پایا جا رہا، تو دیکھا وجودِ علت ہے اور تخلف الحکم ہے عنہ، اس علت سے۔ کہ علت تو پائی جا رہی ہے اور حکم اس سے بچھڑ گیا ہے، اس سے پیچھے رہ گیا ہے یعنی نہیں پایا جا رہا۔ دیکھیے مثال بھئی: وأما النقض، اور باقی نقض جو ہے، فمثل ما يقال، وہ مثل اس قول کے ہے جو کہا گیا ہے کہ الوضوء طهارة، شوافع کیا کہتے ہیں؟ وضو طہارت ہے، فيشترط له النية، تو اس کے لیے شرط لگائی جائے گی کس چیز کی؟ نیت کی، كالتيمن، جیسے کس کے لیے ہے؟ تیمم کے لیے ہے بھئی۔ تو وہ قیاس کرتے ہیں وضو کو تیمم پر کہ تیمم بھی طہارت ہے اور وضو بھی کیا ہے؟ طہارت، اور تیمم کے اندر بالاتفاق کیا ضروری ہے؟ نیت ضروری ہے، نیت نہ کی تو تیمم بھی نہیں، تو تیمم بھی طہارت ہے اور اس کے لیے نیت ضروری ہے، تو وضو بھی تو طہارت ہے، اس کے لیے بھی کیا ضرورت، کیا ضروری ہوگی؟ نیت ضروری ہوگی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو انہوں نے وضو کو کس پر قیاس کیا؟ تیمم پر، اور علتِ جامعہ کیا ہے دونوں میں؟ طہارت بھئی، علتِ جامعہ کیا ہے؟ کہ دونوں طہارت ہیں، دونوں طہارت ہیں۔ تو طہارت کو انہوں نے علت بنایا۔ قلنا، ہم کہتے ہیں: ينقض بغسل الثوب والإناء، کہ یہ جو ہے ٹوٹ جاتی ہے آپ کی دلیل بغسل الثوب والإناء، کپڑے کے غسل اور برتن کے غسل کے سبب سے، کہ کپڑے کے دھونے اور برتن کے دھونے سے۔ بھئی دیکھیے، آپ نے کیا کہا کہ وضو کے اندر کیا ضروری ہے؟ نیت ضروری ہے، علت کیا ہے اس کی؟ طہارت ہے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ علت تو پائی جا رہی ہے، حکم نہیں پایا جا رہا، جیسے کوئی شخص کپڑے دھوتا ہے یا برتن دھوتا ہے۔ ناپاک کپڑے دھوئے یا مولانا ناپاک برتن دھوئے، تو یہاں پر بھی طہارت ہے، کیا ہے؟ لیکن بالاتفاق نیت ضروری نہیں، حتیٰ کہ شوافع آپ کے نزدیک بھی یہاں نیت ضروری نہیں، نیت کرے یا نہ کرے، کپڑا کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا، برتن کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ تو دیکھو طہارت علت آئی اور حکم نیت کا شرط کی نیت کی شرط نہیں پائی گئی۔ تو دیکھا؟ یہ اس کو نقض کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نقض بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ وأما المعارضة، اور باقی معارضہ جو ہے، جی، معارضہ کی بھی تعریف مصنف نے نہیں کی بھئی۔ معارضہ کی بھی۔ معارضہ کسے کہتے ہیں؟ معارضہ کہتے ہیں: معلل کے معلل کے دعویٰ کی نقیض پر دلیل ذکر کرنا۔ معلل کے دعویٰ کی نقیض پر دلیل ذکر کرنا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ معارض نے جو دعویٰ کیا ہے بھئی، اس کے لیے دلیل ذکر کی، دلیل کے ذریعے وہ دعویٰ یعنی حکم بھئی، دلیل کے ذریعے کیا ثابت کیا؟ علت کے ذریعے کیا ثابت کیا؟ حکم کو ثابت کیا۔ آپ کوئی ایسی دلیل ذکر کرتے ہیں جس سے اس کے حکم کی نقیض ثابت ہو جاتی ہے، کیا ثابت ہوتی ہے؟ دیکھو! بھئی، معلل نے کیا کی؟ تعلیل کی بھئی، ایک وصف کو علت بنایا ایک حکم کے لیے، ایک حکم کو ثابت کیا اور اس کے لیے ایک وصف کو کیا قرار دیا؟ علت قرار دیا، علت قرار دیا۔ اب آپ اس کی دلیل سے تعرض نہیں کرتے بھئی کہ اس کی دلیل کو باطل کریں، بس مقابلے میں ایسی دلیل ذکر کر دیتے ہیں جس سے اس کے حکم کی نقیض ثابت ہو جائے، مثلاً اس نے حرمت والا حکم لگایا تھا، ہم ایسی دلیل ذکر کر دیتے ہیں جس سے کیا ثابت ہو جائے گی؟ علت ثابت ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کی دلیل کو باطل نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف کیا کیا جائے گا؟ اس کے حکم کی نقیض پر کیا ذکر کر دی جائے گی؟ دلیل، یعنی اس کے حکم کی نقیض کو ثابت کر دیا جائے گا دلیل کے ذریعے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو نقض اور معارضہ میں یہ فرق ہوا بھئی، نقض کے اندر دلیل ہی کو کیا کر دیا جاتا تھا؟ باطل کر دیا جاتا تھا، جبکہ معارضہ میں دلیل کو نہیں چھیڑا جائے گا اس کی، بلکہ صرف اس کے حکم کو کیا کر دیا جائے گا؟ باطل کر دیا جائے گا اور اس حکم کی نقیض کو کیا کر دیا جائے گا؟ ثابت کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وأما المعارضة، باقی معارضہ جو ہے، فمثل ما يقال، پس مثل اس قول کے ہے جو شوافع کا ہے کہ المسح رکن في الوضوء، مسح کیا ہے؟ وضو کے اندر رکن ہے، فيسن تثليثه، تو مسنون ہوگی اس کی تثلیث، كالغسل، جیسے کس کی ہے؟ دھونے کی، دھونے میں تثلیث ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسح کے اندر بھی تثلیث مسنون ہے۔ کیا وجہ ہے؟ اس لیے کہ مسح بھی وضو کا رکن ہے، جیسے کہ اعضائے مغسولہ کیا ہیں؟ وضو کے رکن ہیں اور ان کے اندر تثلیث بالاتفاق مسنون ہے، تو مسح بھی رکن ہوا تو اس کے اندر بھی کیا مسنون ہوگا؟ تثلیث، تین دفعہ کرنا مسنون ہوگا۔ جی، قلنا، ہم کہتے ہیں: المسح رکن فلا يسن تثليثه كمسح الخف والتيمن، ہم کہتے ہیں کہ مسح رکن ہے، لہذا تثلیث مسنون نہیں ہوگی كمسح الخف والتيمن، جیسے موزے کا مسح ہے اور تیمم ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا دلیل ذکر کی تھی بھئی؟ مسح کو کس پر قیاس کیا تھا؟ غسل پہ قیاس کیا تھا اور غسل کے اندر تو کیا ہے؟ تثلیث مسنون، تو مسح کے اندر بھی کیا مسنون ہوگی؟ اور علتِ جامعہ کیا ذکر کی تھی؟ کہ دونوں وضو کے رکن ہیں، جیسے غسل رکن ہے وضو کا، اسی طرح مسح بھی وضو کا رکن ہے، تو جب ایک رکن کے اندر تثلیث مسنون ہے، تو باقی ارکان کے اندر بھی تثلیث کیا ہوگی؟ مسنون ہوگی۔ ہم جواب دیتے ہیں بھئی کہ انہوں نے تو کس چیز کو ثابت کیا بھئی؟ تثلیثِ مسح کو، ہم کس چیز کو ثابت کریں گے؟ عدمِ تثلیثِ مسح کو ثابت کریں گے، اس پر بس دلیل ذکر کر دیتے ہیں، ان کی دلیل کو نہیں چھیڑتے، ہم کہتے ہیں: دیکھیے بھئی، وضو کے اندر جب موزے پہنے ہوئے ہوں تو موزوں پر مسح کرنا رکن ہوا، موزوں کا مسح بھی کیا ہے وضو کا؟ رکن ہے، اور اس میں کیا ہے؟ تثلیث نہیں ہے بلکہ کتنی دفعہ کرنا پڑتا ہے؟ بالاتفاق ایک مرتبہ کرنا پڑتا ہے، یہاں تثلیث مسنون نہیں، تو جیسے اس مسح کے اندر تثلیث مسنون نہیں، اسی طرح سر کے مسح میں بھی تثلیث مسنون نہیں، اور جیسے تیمم ہے، تیمم کے اندر چہرے کا بھی مسح کیا جاتا ہے، ہاتھوں کا بھی مسح کیا جاتا ہے، اور ہاتھوں کا مسح بھی رکن ہے اور چہرے کا مسح بھی تیمم میں رکن ہے، تو جیسے ان میں تثلیث مسنون نہیں، اسی طرح سر کے مسح میں بھی تثلیث مسنون نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ قلنا، ہم کہتے ہیں: المسح رکن، مسح رکن ہے، فلا يسن تثليثه، تو اس کی تثلیث مسنون نہیں ہونی چاہیے، نہیں ہوگی، كمسح الخف والتيمن، جیسے کہ موزے کا مسح ہے، والتيمن، اور جیسے تیمم ہے، تیمم، سمجھ میں آیا؟ تو اعضائے ممسوحہ کو ممسوح کو ممسوح پر ہی قیاس کرنا چاہیے، ممسوح کو مغسول پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کتنے اعتراضات ذکر کر دیے انہوں نے بھئی؟ سات ذکر کر دیے، شمار اٹھ کیے تھے، ذکر سات کیے، فرق، ایک فرق بھی ذکر کیا تھا بھئی، فرق، چھٹے نمبر پر فرق ذکر کیا تھا بھئی، اس کو ذکر نہیں کیا مصنف نے، یہ یا تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ کسی لکھنے والے سے یہ رہ گیا بھئی، پہلے بھئی کتابیں ہاتھ سے نقل ہوتی تھیں، تو جس، یہ نسخہ جس سے آیا اس کاتب سے کیا ہوا؟ یہ فرق والی بحث رہ گئی بھئی، سمجھ میں آیا؟ غلطی سے رہ گئی پھر آگے یہی نسخہ چلا اور اسی طرح چلتا آیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو مصنف نے ذکر کی لیکن کسی لکھنے والے کی وجہ سے، نقل کرنے والے کی وجہ سے یہ بحث رہ گئی۔ یا ہو سکتا ہے مصنف ہی نے ذکر نہ کی ہو بھئی فرق کی بحث، اس لیے کہ فرق کے بارے میں تھوڑی بہت بات وہ پہلے کر چکے ہیں بھئی، انہوں نے کہا نہیں تھا بھئی ایک بحث گزری تھی کہ حکم کبھی کیا ہوگا؟ مقیس کے اندر جو حکم ہے وہ مقیس علیہ کے حکم کی نوع میں سے ہوگا یا اس کی جنس میں سے ہوگا، اگر نوع میں سے ہے تو فرق بتلانے سے یہ قیاس باطل نہیں ہوگا، اور اگر اسی نوع جنس میں سے ہے تو فرق بتلانے سے کیا ہو جائے گا یہ قیاس؟ باطل ہو جائے گا، وہاں پر بھی کچھ فرق کے بارے میں بتلایا تھا، نیز اسی طرح بھئی، صفحہ 91 میں بھئی، صفحہ 91 کے آخر میں کہا تھا انہوں نے بھئی کہ یہ جو چوتھی قسم کا قیاس ہے جس کی علت اجتہاد و استنباط سے معلوم ہو، یہ بھی فرقِ مناسب ذکر کرنے سے یہ قیاس کیا ہو جایا کرتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے، جیسے امامِ شافعی رحمہ اللہ نے مالِ صبی کو قیاس کیا تھا بالغ کے مال پر، جیسے بالغ کے مال کے اندر زکوۃ واجب ہوتی ہے وہ فرماتے ہیں مالِ بچے کے مال کے اندر بھی کیا ثابت ہوگی؟ زکوۃ ثابت ہوگی، ہم نے فرقِ مناسب ذکر کیا کیا؟ کہ زکوۃ کی علت کیا ہے؟ وہ انہوں نے علت بنائی تھی دفعِ حاجتِ فقیر، اور ہم نے کیا کیا ذکر کیا؟ فرق ذکر کیا کہ یہاں ایک اور وصف بھی ہے جو اس حکم کے مناسب ہے اور وہ کیا ہے؟ مال کا پاک کرنا اور انسان کا گناہوں سے پاک ہونا، اور یہ علت بچے کے اندر نہیں پائی جا رہی کیونکہ وہ مکلف ہی نہیں لہذا بچے کے مال میں بھی زکوۃ نہیں ہے، تو یہاں بھی فرق کی کچھ بحث آگئی تھی اس لیے مصنف نے شاید اس کو ذکر نہیں کیا، لیکن زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے بھئی کہ مصنف نے ذکر کیا ہوگا کیونکہ یہاں بھی تو صرف اشارات آئے ہیں کوئی مفصل واضح بحث انہوں نے نہیں کی، تو جی۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 114 of 123