Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-107

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 08 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مثال چوتھی شرط کی اور وہ یہ ہے کہ علت بیان کرنا کسی امر شرعی کے لیے ہو، نہ کہ امر لغوی کے لیے۔ جیسے ان کا یہ قول: "الْمَطْبُوَخُ الْمُنَصَّفُ خَمْرٌ لِأَنَّ الْخَمْرَ إِنَّمَا كَانَ خَمْرًا لِأَنَّهُ يُخَامِرُ الْعَقْلَ وَغَيْرُهُ يُخَامِرُ الْعَقْلَ أَيْضًا فَيَكُونُ خَمْرًا بِالْقِيَاسِ" (پکایا ہوا نصف منصف بھی خمر ہے کیونکہ خمر تو خمر اس وجہ سے ہوا کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے علاوہ بھی عقل کو ڈھانپتا ہے، لہذا وہ بھی قیاس کے ذریعے خمر ہوگا)۔ "وَالسَّارِقُ إِنَّمَا كَانَ سَارِقًا لِأَنَّهُ خَذَ مَالَ الْغَيْرِ بِطَرِيقِ الْخَفِيَّةِ وَقَدْ شَارَكَهُ النَّبَّاشُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فَيَكُونُ سَارِقًا بِالْقِيَاسِ" (اور سارق تو سارق اس لیے ہے کہ اس نے دوسرے کا مال خفیہ طریقے سے لیا اور نباش بھی اس معنی میں اس کے ساتھ شریک ہے، لہذا وہ بھی قیاس سے سارق ہوگا)۔ "وَهَذَا قِيَاسٌ فِي اللُّغَةِ" (اور یہ لغت میں قیاس ہے)۔ یہ چوتھی شرط کی مثال ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ قیاس کے صحیح ہونے کے لیے انہوں نے پانچ شرطیں ذکر کی تھیں بھئی۔ پہلی شرط یہ ذکر کی تھی کہ قیاس نص کے مقابلے میں نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ذکر کی تھی کہ اس قیاس کی وجہ سے نص کے کسی حکم میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ تیسری یہ شرط ذکر کی تھی کہ اس قیاس کی وجہ سے ایسا حکم متعدی نہ ہو جو غیر معقول ہو بھئی، یعنی اس کی علت عقل میں آنے والی نہ ہو۔ اور آج یہ چوتھی قسم پڑھیں گے ہم بھئی۔ چوتھی شرط کیا ذکر کی تھی کہ وہ جو قیاس ہے، وہ حکم شرعی کے لیے ہو، کسی امر لغوی کے لیے نہ ہو بھئی۔ دیکھیے بھئی! ایک ہے خمر۔ خمر بھی حرام ہے، اسی طرح تین اور شرابیں ہیں، وہ بھی کیا ہیں؟ حرام ہیں بھئی، حرام ہیں۔ ان میں سے ایک منصف ہے بھئی، منصف۔ تو خمر اسے کہتے ہیں کہ انگور کا کچا رس ہو، اس کا کچا شیرہ ہو، اس کو رکھ دیا جاتا ہے مخصوص طریقے پر اور کچھ عرصہ پڑا رہنے کے بعد اس میں ابال آ جاتا ہے مولانا، اور وہ جھاگ آ جاتی ہے اس کے اوپر، وہ جھاگ پھینکنے لگتا ہے اور رس تیز ہو جاتا ہے۔ کیا ہو جاتا ہے؟ ذائقہ اس کا تیز ہو جاتا ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں خمر۔ کیا کہتے ہیں؟ خمر کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو، یہ خمر جو ہے اس کی حرمت قرآن سے ثابت ہے۔ اس لیے خمر پینے والے پر حد جاری ہوگی اگرچہ اس سے کسی کو پینے سے چاہے نشہ نہ ہوا ہو، تھوڑی مقدار پی لے۔ تھوڑی مقدار پی لے، مثلاً ایک قطرہ ہی کیوں نہ اس نے پی لیا، لیکن چونکہ اس کی حرمت قرآن سے ثابت ہے، لہذا ایک قطرہ پینے والے پر بھی کیا جاری کی جائے گی؟ حد جاری کی جائے گی بھئی۔ تو یہ جو چار قسم کی شرابیں حرام ہیں، ان میں سب سے زیادہ حرمت خمر کی ہے بھئی۔ کس کی ہے؟ باقی تین قسمیں جو ہیں، ان کے اندر بھی حد جاری ہوتی ہے لیکن اس وقت جب نشہ ہو جائے۔ حرام تو وہ ہیں، پینا تو حرام ہے، لیکن پینے سے حد جاری نہیں ہوگی اس وقت تک جب تک پینے والے کو نشہ نہ ہو جائے۔ اگر نشہ ہو جائے پھر حد جاری ہوگی، جبکہ خمر کے اندر نشہ ہونے کی شرط نہیں ہے، بلکہ وہاں ایک قطرہ بھی پی لے تو اس پر بھی کیا جاری کی جائے گی؟ حد جاری کی جائے گی۔ تو خمر کی حرمت بہت زیادہ ہے، حتیٰ کہ اس کو حلال سمجھنے والے کو کیا کہا جائے گا؟ کافر قرار دیا جائے گا۔ جبکہ باقی شرابوں کے حلال سمجھنے والے کو کافر نہیں قرار دیا جائے گا۔ باقی تین جو رہ گئیں، ان میں سے ایک منصف ہے بھئی۔ منصف اسے، انگور کے پانی جو ہے، اس کے شیرہ جو ہے، اس کو پکا لیا جائے۔ اتنا پکاتے رہیں، پکاتے رہیں یہاں تک کہ نصف خشک ہو جائے اور نصف باقی رہ جائے۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ منصف، آدھا کیا ہوا، یعنی کتنا باقی رہ گیا ہے؟ آدھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پکانے سے چیز خشک ہوتی چلی جاتی ہے تو آدھا رہ جائے، اسے منصف کہتے ہیں۔ اب دیکھو! ہمارے نزدیک جو ہے، خمر کا اگر کوئی قطرہ بھی پی لے تو اس پر کیا جاری کی جائے گی؟ حد جاری کی جائے گی۔ لیکن اگر منصف کوئی تھوڑی مقدار میں پی لے، نشہ نہ ہو تو کیا اس پر حد جاری ہوگی؟ حد جاری نہیں ہوگی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منصف پینے والے پر بھی فوراً کیا جاری ہوگی؟ حد جاری ہوگی، حد بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو خمر ہے، خمر کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ کیا کرتی ہے؟ "لِأَنَّهُ يُخَامِرُ الْعَقْلَ" کہ یہ عقل کو کیا کر لیتی ہے؟ ڈھانپ لیتی ہے، یعنی انسان کو نشہ ہو جاتا ہے، اسے کسی چیز کا کچھ ہوش، کچھ ہوش نہیں رہتا۔ تو خمر کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، اور منصف جب پیا جائے، اس کے پینے کی وجہ سے انسان کو نشہ ہو جاتا ہے تو وہ بھی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے، تو وہ بھی خمر ہوا۔ وہ بھی کیا ہوا؟ خمر ہوا۔ تو دیکھو! امام شافعی رحمہ اللہ قیاس کے ذریعے غیر خمر کے لیے خمر کا لفظ ثابت کر رہے ہیں۔ بھئی دراصل تو خمر وہ ہے جو میں نے آپ کو بتلایا، انگور کا کیا ہوتا ہے؟ کچا پانی ہوتا ہے، اسے مخصوص طریقے پر رکھ دیا جاتا ہے، کچھ عرصے بعد اس میں ابال آتا ہے، اوپر جھاگ آنے لگتی ہے اور تیز ہو جاتا ہے۔ اس میں کیا آ جاتا ہے؟ اشتداد آ جاتا ہے بھئی، شدت آ جاتی ہے۔ تو خمر یہ ہے، اور منصف تو دوسری چیز ہے، انگور کے شیرے کو کیا کیا جاتا ہے؟ پکایا جاتا ہے اور پکانے کے بعد اتنا پکایا جاتا ہے کہ کتنا رہ جائے؟ آدھا رہ جائے، نصف رہ جائے۔ تو وہ خمر اور چیز ہے، منصف اور چیز ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ جی؟ وہ کیا فرماتے ہیں کہ یہ منصف بھی خمر ہے۔ کیوں یہ خمر ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ خمر کو خمر کہنے کی وجہ یہ کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ تو منصف بھی کیا ہے؟ یہ بھی کیا کر لیتا ہے؟ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے، تو لہذا یہ بھی خمر ہوا۔ تو دیکھو! انہوں نے منصف کو قیاس کیا کس پر؟ خمر پر، جیسے وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، یہ بھی کیا کر لیتا ہے؟ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے، اس لیے یہ بھی خمر ہے۔ یہ بھی کیا ہے؟ لہذا اب اس کے پینے والے پر بھی کیا جاری ہوگی؟ حد جاری ہوگی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو قیاس کے ذریعے امام شافعی رحمہ اللہ نے غیر خمر کے لیے خمر کے لفظ کو ثابت کیا۔ منصف کو بھی کیا قرار دے دیا انہوں نے قیاس کے ذریعے؟ خمر قرار دے دیا، اور خمر کے پینے والے پر تو کیا جاری ہوتی ہے؟ حد جاری ہوتی ہے، چاہے قطرہ ہی پی لے۔ تو یہاں پر بھی منصف کے پینے والے پر بھی کیا جاری ہوگی؟ حد جاری ہوگی۔ تو اب بتلائیے، انہوں نے یہ قیاس حکم شرعی کے لیے کیا یا امر لغوی کے لیے کیا بھئی؟ امر لغوی کے لیے۔ اب دیکھ نہیں رہے بھئی! غیر خمر کو کیا قرار دے دیا؟ خمر قرار دے دیا۔ کہ وہ چونکہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، اس لیے اس کو خمر کہتے ہیں، یہ بھی چونکہ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے، لہذا یہ بھی کیا ہے؟ خمر ہے۔ تو قیاس کے ذریعے وہ منصف کے لیے بھی کون سا لفظ ثابت کر رہے ہیں؟ خمر والا۔ اور پھر جب یہ بھی خمر ہے تو اس پر بھی وہی خمر والے احکام جاری ہوں گے۔ خمر میں ایک قطرہ پینے والے پر بھی کیا جاری ہوتی ہے؟ حد، تو اس کے ایک قطرہ پینے والے پر بھی کیا جاری ہو جائے گی؟ حد جاری ہو جائے گی۔ ہم کہتے ہیں: یہ قیاس درست نہیں، اس لیے کہ یہ تو آپ نے قیاس کس کے لیے کیا؟ امر لغوی کے لیے کیا۔ اس کے ذریعے لغت کا ایک حکم ثابت کیا، یعنی غیر خمر کے لیے کیا نام ثابت کر دیا آپ نے؟ خمر کا لفظ ثابت کر دیا، حالانکہ یہ جو ہے، اس کو تو عرب خمر نہیں کہتے بلکہ اس کو تو کیا کہتے ہیں؟ منصف، اس کا تو باقاعدہ الگ نام ہے۔ تو آپ قیاس کے ذریعے اس کو بھی کیا قرار دے رہے ہیں؟ خمر، اور تو جب یہ خمر ہے تو اس پر حکم بھی کون سے لاگو ہوں گے؟ خمر والے لاگو ہوں گے۔ تو یہ قیاس فی اللغۃ ہوا جو کہ صحیح نہیں۔ اسی طرح مولانا! قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا" کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، ان کا ہاتھ کاٹ دو۔ تو یہاں پر مولانا، چوری کرنے والے پر حد جاری ہوتی ہے اور اس کے ہاتھ کو کاٹا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک ہے نباش مولانا! نباش کسے کہتے ہیں؟ کفن چور کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قدیم زمانے کے اندر چونکہ کپڑا ہاتھ سے بنایا جاتا تھا تو بڑا قیمتی ہوتا تھا، کسی کے لیے خریدنا مشکل تھا بھئی کہ آسانی سے کوئی نہیں خرید سکتا تھا بھئی۔ تو پھر جو ہے، بعض لوگ کیا کرتے تھے؟ مردوں کے کفن چرایا کرتے تھے۔ تو وہ کپڑا بھی نکال لیتے اور وہ اچھی خاصی قیمت پر فروخت کر دیتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب نباش جو ہے، وہ کفن چور کو کہتے ہیں۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ سرقہ کسے کہتے ہیں؟ غیر کے مال کو خفیہ طور پر لے لینا، اور نباش بھی کیا کرتا ہے؟ غیر کے مال کو کیا کر لیتا ہے؟ خفیہ طور پر لے لیتا ہے، میت کے کفن کو چرا کر لے جاتا ہے، اس لیے وہ بھی سارق ہے۔ وہ بھی کیا ہے؟ سارق ہے۔ تو دیکھا! نام تو اس کا تھا نباش، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے قیاس کے ذریعے نباش کے لیے بھی کیا لفظ ثابت کر دیا؟ سارق والا، اسے بھی سارق قرار دے دیا۔ تو یہ انہوں نے قیاس کیا کس میں؟ امر لغوی کے لیے قیاس کیا، اور وہ قیاس جو ہے ہم نے کیا کہا تھا، امر لغوی کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو چونکہ سارق پر تو حد جاری ہوگی۔ کیوں؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سارق، سرقہ کہتے ہیں غیر کے مال کو خفیہ طور پر لے لینا، اور نباش بھی غیر کے مال کو خفیہ طور پر لے لیتا ہے، لہذا یہ بھی سارق ہوا۔ اور جب سارق ہوا تو سارق کے بارے میں تو قرآن کیا فرماتا ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو، تو یہ بھی سارق ہے، اس کا بھی کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو غیر سارق کو امام شافعی رحمہ اللہ نے قیاس کے ذریعے کیا قرار دے دیا؟ سارق قرار دے دیا، اس کے لیے سارق کا لفظ ثابت کر دیا۔ تو یہ تو قیاس کس میں ہوا؟ لغت میں ہوا، لہذا یہ قیاس صحیح نہیں۔ بحث سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، آسان سی بات ہے۔ دیکھیے اب کتاب میں: "وَمثَالُ الرَّابِعِ" (اور چوتھی شرط کی مثال) "وَهُوَ مَا يَكُونُ التَّعْلِيلُ لِأَمْرٍ شَرْعِيٍّ لَا لِأَمْرٍ لُغَوِيٍّ" (اور وہ قیاس ہے کہ جس میں علت کا بیان کرنا امر شرعی کے لیے ہو، نہ کہ امر لغوی کے لیے ہو) "فِي قَوْلِهِمْ" (شوافع کے اس قول میں ہے) "الْمَطْبُوَخُ الْمُنَصَّفُ خَمْرٌ" (وہ کیا فرماتے ہیں؟ مطبوخ منصف، مطبوخ: پکائی ہوئی، وہ منصف پکایا ہوا جو منصف ہے، خمرٌ: وہ بھی کیا ہے؟ خمر ہے) "لِأَنَّ الْخَمْرَ إِنَّمَا كَانَ خَمْرًا لِأَنَّهُ يُخَامِرُ الْعَقْلَ" (کیونکہ خمر تو خمر اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، خمر کو خمر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے) "وَغَيْرُهُ يُخَامِرُ الْعَقْلَ أَيْضًا" (اور اس کے علاوہ جو ہے، وہ بھی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے، اس کے علاوہ سے کیا مراد ہے؟ مطبوخ منصف، وہ منصف بھی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے) "فَيَكُونُ خَمْرًا بِالْقِيَاسِ" (تو یہ بھی خمر ہوا قیاس کے سبب سے)۔ قیاس کی وجہ سے یہ بھی کیا بن گیا؟ تو اس کا نام بھی انہوں نے خمر رکھا۔ "وَالسَّارِقُ إِنَّمَا كَانَ سَارِقًا لِأَنَّهُ خَذَ مَالَ الْغَيْرِ بِطَرِيقِ الْخَفِيَّةِ" (اور سارق بھی سارق اس لیے ہے کہ اس نے غیر کے مال کو خفیہ طریقے سے لے لیا ہے) "وَقَدْ شَارَكَهُ النَّبَّاشُ فِي هَذَا الْمَعْنَى" (اور تحقیق شریک ہے اس سارق کے ساتھ نباش بھی اس معنی کے اندر بھئی، اس معنی میں سارق کے ساتھ نباش بھی شریک ہے، نباش بھی کیا کرتا ہے؟ غیر کے مال کو خفیہ طور پر لے لیتا ہے) "فَيَكُونُ سَارِقًا بِالْقِيَاسِ" (تو وہ بھی سارق ہوگا بوجہ قیاس کے، تو اس پر بھی کس کے احکام لاگو ہوں گے؟ سارق کے) "وَهَذَا قِيَاسٌ فِي اللُّغَةِ" (اور یہ تو قیاس ہے کس کے اندر؟ لغت کے اندر) "مَعَ اعْتِرَافِهِ أَنَّ الْإِسْمَ لَمْ يُوضَعْ لَهُ فِي اللُّغَةِ" (باوجود اس کے کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ جو نام ہے، یہ نام جو ہے، کون سا نام؟ یعنی خمر اور سارق، خمر اور سارق، یہ اس کے لیے وضع نہیں، کس کے لیے؟ یعنی منصف اور نباش دونوں کے لیے، فی اللغۃ: لغت میں)۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ "وَالدَّلِيلُ عَلَى فَسَادِ هَذَا النَّوْعِ" (اور دلیل اس نوع کے فاسد ہونے پر) یہاں سے مولانا، دو دلیلیں ذکر کر رہے ہیں کس چیز کی؟ کہ قیاس فی اللغت صحیح نہیں۔ قیاس فی اللغت کے فاسد ہونے کی دو دلیلیں ذکر کر رہے ہیں مصنف بھئی۔ پہلی دلیل کیا ذکر کریں گے؟ دیکھو، پہلے یہ بتلائیں گے آپ کو کہ عرب سیاہ گھوڑے کو ادہم کہتے ہیں۔ اور ادہم ماخوذ ہے دہمۃ سے، دُهْمَةٌ۔ دہمۃ کا معنیٰ ہے سیاہ ہونا۔ تو سیاہ گھوڑے کو وہ کیا کہتے ہیں؟ ادہم۔ اسی طرح سرخ گھوڑا جو ہو، اس کو وہ کمیت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ کمیت یا کُمَيْتٌ کہتے ہیں مولانا، اور یہ کمد سے ماخوذ ہے، کمد سے بھئی، کمد۔ کمد کا کیا معنیٰ؟ سرخ ہونا، تو یہ بھی چونکہ سرخ ہوتا ہے، لہذا اس گھوڑے کو کیا کہتے ہیں؟ کمیت۔ تو سیاہ گھوڑے کو عرب ادہم کہتے ہیں اور سرخ گھوڑے کو کمیت کہتے ہیں۔ تو اگر لغت کے اندر قیاس جاری ہوتا تو پھر تو ہر سیاہ چیز کو ادہم کہنا جائز ہوتا، ہر سرخ چیز کو کمیت یا کمیت کہنا صحیح ہوتا۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ چنانچہ حبشی ہے مولانا، حبشی بھی کالا ہے، لیکن اس کو کوئی عرب ادہم نہیں کہتا، حالانکہ قیاس تو کیا چاہتا ہے کہ اسے کیا کہنا چاہیے؟ ادہم، لیکن کوئی عرب اسے ادہم نہیں کہتا۔ معلوم ہوا لغت کے اندر قیاس صحیح نہیں۔ اسی طرح سرخ گھوڑے کو وہ کیا کہتے ہیں؟ کمیت کہتے ہیں۔ تو ہر سرخ چیز کو کیا کہنا چاہیے؟ کمیت کہنا چاہیے۔ تو سرخ کپڑا بھی ہو مثلاً، اسے بھی کیا کہنا چاہیے؟ کمیت، لیکن کوئی عرب سرخ کپڑے کو کمیت نہیں کہتا، حالانکہ علت تو اس میں بھی موجود ہے۔ معلوم ہوا لغت کے اندر قیاس صحیح نہیں ہے، تو قیاس امر لغوی کے لیے ہو، وہ فاسد ہے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ایک دلیل ہے۔ "وَالدَّلِيلُ عَلَى فَسَادِ هَذَا النَّوْعِ مِنَ الْقِيَاسِ" (اور دلیل فاسد ہونے کی اس نوع کی قیاس میں سے، یعنی قیاس میں سے یہ جو نوع ہے، اس کے فاسد ہونے کی دلیل کیا ہے؟) "أَنَّ الْعَرَبَ يُسَمِّي الْفَرَسَ أَدْهَمَ لِسَوَادِهِ" (کہ عرب کہتے ہیں گھوڑے کو ادہم اس کی سیاہی کی وجہ سے، یعنی اس کے سیاہ ہونے کی وجہ سے) "وَكُمَيْتًا لِحُمْرَتِهِ" (اور کمیت کہتے ہیں اس کے سرخ ہونے کی وجہ سے، اس کی سرخی کی وجہ سے) "ثُمَّ لَا يُطْلِقُ هَذَا الْإِسْمَ عَلَى الزَّنْجِيِّ وَالثَّوْبِ الْأَحْمَرِ" (پھر وہ اطلاق نہیں کرتے اس اسم کا زنجی، یعنی حبشی پر اور سرخ کپڑے پر)۔ تو کیا کہتے ہیں؟ "وَلَوْ جَرَتِ الْمُقَايَسَةُ فِي الْأَحْكَامِ اللُّغَوِيَّةِ" (اور اگر جاری ہوتا قیاس لغوی احکام میں) تو کیا کہتے ہیں؟ اگر لغت کے اندر قیاس جاری ہوتا تو پھر حبشی کو بھی کیا کہنا چاہیے تھا؟ ادهم کہنا چاہیے تھا اور سرخ کپڑے کو بھی کیا کہنا چاہیے تھا؟ کمیت کہنا چاہیے تھا لیکن کیا عرب حبشی پر ادهم کا اطلاق کرتے ہیں؟ نہیں کرتے۔ اسی طرح کیا سرخ کپڑے پر وہ کمیت کا اطلاق کرتے ہیں؟ سرخ کپڑے پر بھی وہ کمیت کا اطلاق نہیں کرتے۔ ولو جرت المقایسۃ فی الاسماء اللغویۃ اور اگر جاری ہوتا قیاس کرنا فی الاسماء اللغویۃ کس کے اندر؟ لغوی ناموں میں اسامی جمع ہے اسم کی۔ اگر لغوی ناموں کے اندر قیاس کرنا جاری ہوتا لجاز ذلک تو پھر یہ اطلاق بھی جائز ہونا چاہیے تھا یعنی زنجی کو کیا کہنا چاہیے؟ ادهم کہنا چاہیے تھا اور سرخ کپڑے کو کیا کہنا چاہیے؟ کمیت کہنا اس پر ان پر ان ناموں کا اطلاق ہونا چاہیے تھا لوجود العلہ علت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ اس لیے کہ علت پائی جا رہی ہے بھئی۔ تو اس لیے کہ کیا گھوڑے کو ادهم کہتے ہیں سیاہی کی وجہ سے اور سرخ گھوڑے کو کمیت کہتے ہیں سرخی کی وجہ سے، تو وہ سرخی تو سرخ کپڑے میں بھی موجود ہے اور وہ سیاہی تو حبشی میں بھی موجود ان کو بھی ان ناموں کا اطلاق ہونا جائز ہونا چاہیے تھا لیکن عرب تو اطلاق نہیں کرتے۔ معلوم ہوا یہ درست نہیں بھئی۔ آگے دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ لغت میں قیاس کے فاسد ہونے۔ دوسری دلیل یہ ذکر کریں گے کہ بھئی اگر لغت میں قیاس جاری ہو تو پھر تو اسباب شرعیہ کا باطل ہونا لازم آئے گا۔ اگر کیا کیا جائے؟ لغت میں قیاس ہو تو پھر اس کی وجہ سے تو اسباب شرعیہ کیا ہو جائیں گے؟ باطل ہو جائیں گے۔ کیسے باطل ہوں گے؟ کہتے ہیں دیکھیے بھئی قرآن نے سارق کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کی علت کیا بیان ہے مولانا؟ سرقہ، کیا ہے؟ کہ چونکہ اس نے سرقہ کیا ہے اس لیے اس کا سارق کا کیا کر دو؟ ہاتھ کاٹ دو۔ اگر ہم لغت میں امام جو قیاس کے امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے تسلیم کر دیں تو معلوم ہوا سارق کا ہاتھ کاٹنے کی علت سرقہ نہیں ہے بلکہ اس کی علت دوسرا معنی ہے اور وہ کیا؟ غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا۔ سارق کا ہاتھ کاٹنے کی علت سرقہ نہیں ہے بلکہ ایک اور معنی ہے اور وہ کیا ہے؟ غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا اور یہ علت تو عام ہے نباش کو بھی شامل ہو گئی۔ شامل ہوئی یا نہیں ہوئی؟ ویسے سرقہ نباش کو شامل تھا؟ نہیں، لیکن جب ہم نے کیا کہا؟ کہ سارق اس کا ہاتھ اس لیے کاٹا جاتا ہے اس لیے کہ اس نے غیر کا مال خفیہ طور پر لے لیا اور یہ غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا یہ تو کس میں پایا گیا؟ نباش میں بھی، تو لہذا نباش کا بھی کیا کرنا چاہیے؟ ہاتھ کاٹنا چاہیے اس پر بھی حد جاری ہو۔ تو دیکھا اس سے تو سبب شرعی باطل ہو گیا۔ شریعت نے تو ہاتھ کاٹنے کا سبب کسے قرار دیا تھا؟ سرقہ کو، اور اگر اس قیاس کو تسلیم کر لیا جائے پھر تو ہاتھ کاٹنے کا سبب سرقہ نہیں ہو گا بلکہ ایک عام معنی ہو گا اور وہ کیا ہے؟ غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا، دیکھا وہ عام ہے معنی بھئی نباش کو بھی شامل ہو گیا، ویسے تو سرقہ نباش کو شامل نہیں، تو دیکھا شریعت نے ہاتھ کاٹنے کا سبب بیان کیا ہے سرقہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کا سبب کیا بیان کر رہے ہیں؟ غیر کا مال خفیہ طور پر، تو اس کی وجہ سے تو اب غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا اگر اس کو علت تسلیم کر لیا جائے پھر تو وہ سبب شرعی باطل ہوا۔ شریعت نے تو کیا سبب قرار دیا؟ کیا علت قرار دی؟ سرقہ، وہ سرقہ کی علت تو باطل ہوئی علت تو کیا بن گئی؟ غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ دیکھا قیاس فی اللغۃ کی وجہ سے اسباب شرعیہ کیا ہو جاتے ہیں؟ باطل ہو جاتے ہیں اور وہ قیاس جس کی وجہ سے اسباب شرعیہ باطل ہوں وہ خود کیا ہے؟ باطل ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اسی طرح شریعت نے شراب پینے والے پر حد جاری کرنے کا حکم دیا۔ تو یہ حد جاری ہونے کی علت کیا بیان کی شریعت نے بھئی؟ شرب خمر، کیا بیان کی؟ شرب خمر، لیکن اگر امام شافعی رحمہ اللہ کا وہ قیاس فی اللغۃ کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر اس حد کا سبب شرب خمر نہ ہو گا بلکہ شرب ما یخامر العقل ہو گا۔ خمر کا پینا علت نہ بنا بلکہ کیا علت بنا؟ شرب ما یخامر العقل، ایسی چیز کا پینا جو عقل کو ڈھانپ لے۔ معلوم ہوا یہ جو حد جاری ہو گی یہ شراب پینے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ایسی چیز کے پینے کی وجہ سے ہے جو عقل کو کیا کر لیتی ہے؟ ڈھانپ لیتی ہے اور یہ معنی تو عام ہے یہ تو منبذ کو بھی شامل ہوا۔ کس کو شامل ہوا؟ تو دیکھا اس شریعت نے تو اس حد کے جاری ہونے کا سبب کسے قرار دیا تھا؟ شرب خمر کو، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک عام معنی کو قرار دے دیا اور وہ کیا ہے؟ شرب ما شرب ما یخامر العقل، وہ ایسی چیز کا پینا جو عقل کو ڈھانپ لے، تو شریعت کا سبب تو باطل ہو گیا اس قیاس کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور وہ قیاس جو جس کی وجہ سے سبب شرعیت کا باطل ہونا لازم آئے وہ قیاس خود کیا ہے؟ باطل ہے۔ بحث سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ ولان هذا يؤدي یہاں سے دوسری دلیل بیان کر رہے ہیں بھئی۔ دوسری دلیل بیان کر رہے ہیں۔ ولان هذا يؤدي الى ابطال الاسباب الشرعية یہ دوسری دلیل ہے اور اس لیے کہ یہ جو ہے یہ قیاس فی اللغۃ یہ لے جانے والا ہے الى ابطال الاسباب الشرعية اسباب شرعیہ کے باطل کرنے کی طرف، کس کی طرف؟ اس قیاس فی اللغۃ کی وجہ سے کیا لازم آئے گا؟ اسباب شرعیہ کا باطل ہونا لازم آئے گا۔ وذلك اور وہ اس وجہ سے لان الشرع جعل السرقة سببا لنوع من الاحكام اس لیے کہ شریعت نے سرقہ کو بنایا ہے سبب، سرقہ کو سبب قرار دیا ہے لنوع من الاحكام احکام میں سے ایک نوع کے لیے، احکام میں سے ایک نوع کے لیے سبب قرار دیا ہے اور وہ کیا ہے مولانا؟ ہاتھ کاٹنا، احکام میں سے ایک نوع کا حکم یعنی حد جاری ہو گی بھئی، سرقہ کو اس کا سبب قرار دیا کس چیز کا؟ ہاتھ کاٹنے کا، اس کا کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا اس پر حد جاری ہو گی۔ فاذا علقنا الحكم بس جب ہم معلق کر دیں حکم کو بما هو اعم من السرقة ایسی چیز کے ساتھ جو سرقہ سے زیادہ عام ہو، جو سرقہ سے زیادہ عام ہو۔ و بھئی وہ کیا ہے سرقہ سے زیادہ عام؟ کہتے ہیں وهو اخذ مال الغير على طريق الخفية اور وہ غیر کا مال لینا ہے خفیہ طریقے سے، پوشیدہ طریقے سے۔ تو اگر ہم حکم کو معلق سرقہ سے نہ کریں بلکہ سرقہ سے ایک عام معنی اور وہ کیا ہے؟ غیر کا مال، اس کے ساتھ حکم معلق کر دیں کہ یہ حد سرقہ کی وجہ سے نہیں جاری بلکہ کس وجہ سے جاری ہے؟ غیر کا مال خفیہ طور پر، فتبين تو یہ بات ظاہر ہو جائے گی ان السبب كان في الاصل معنى هو غير السرقة کہ اصل میں یہ سبب کیا تھا؟ معنى ایک ایسی علت ہے هو غير السرقة جو سرقہ کے علاوہ ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ یہ بات فتبين یہ بات ظاہر ہو جائے گی ان السبب كان في الاصل معنى هو غير السرقة کہ سبب جو تھا اصل میں سبب وہ سرقہ نہیں تھا بلکہ ایسا معنی تھا جو سرقہ کے علاوہ ہے۔ یا ایسی علت تھی، معنی کا کیا ترجمہ کریں یہاں؟ علت، ایسی علت تھی جو سرقہ کے علاوہ تھی یعنی سرقہ علت نہیں تھی ہاتھ کاٹنے کی بلکہ ہاتھ کاٹنے کی علت سرقہ کے علاوہ ایک اور معنی ہے اور وہ کیا؟ غیر کا مال خفیہ طور پر لے لینا۔ وكذلك جعل شرب الخمر سببا لنوع من الاحكام اسی طرح قرار دیا ہے شریعت نے، بنایا ہے شریعت نے کس چیز کو؟ شرب الخمر، شراب کے پینے کو سببا کیا بنایا ہے؟ سبب بنایا ہے لنوع من الاحكام احکام میں سے ایک نوع کے لیے، احکام میں سے ایک نوع حکم جو ہے اس کے لیے سبب بنایا ہے شرب خمر کو، کیا حکم ہے مولانا وہ؟ حد جاری ہو گی، شرب خمر سبب ہے کس چیز کا؟ حد کا، تو شرب خمر کو شریعت سبب قرار دیا ہے حد کا کہ اس پر اس پر حد جاری ہو گی۔ فاذا علقنا الحكم بامر اعم من الخمر پس جب ہم معلق کر دیں حکم کو ایسی چیز کے ساتھ جو زیادہ عام ہو من الخمر کس سے؟ خمر سے۔ یعنی خمر کو اگر ہم علت نہ بنائیں بلکہ اس کو علت بنا دیں، ما یخامر العقل کو، ما؟ وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ لے۔ فتبين تو یہ بات ظاہر ہو گی ان الحكم كان في الاصل متعلقا بغير الخمر کہ حکم جو اصل کے اندر تھا وہ متعلق تھا غیر خمر کے ساتھ، خمر کے ساتھ متعلق نہیں تھا بھئی، خمر پینا اس کا سبب نہیں تھا، شریعت نے تو خمر پینے کو سبب قرار دیا حد کا لیکن اگر ہم امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کو تسلیم کر لیں تو پھر اس صورت میں معلوم ہوا حد کا سبب شرب خمر نہیں ہے بلکہ خمر سے ایک عام چیز ہے اور وہ کیا ہے؟ ما یخامر العقل، تو ما یخامر العقل کے پینے کی وجہ سے حد جاری ہوتی ہے خمر کے پینے کی وجہ سے حد جاری تو دیکھا سبب شرعی کو کیا کرنا لازم آیا؟ باطل کرنا لازم آیا اس قیاس کی وجہ سے اور وہ قیاس جس کی وجہ سے سبب شرعی باطل ہوتا ہو وہ قیاس خود باطل ہے۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی؟ ومثال الشرط الخامس اور پانچویں شرط کی مثال بھئی، پانچویں شرط کون سی تھی بھئی؟ کہ وہ جو فرع ہے منصوص علیہ نہ ہو یعنی مقیس جس کے لیے قیاس کرنا ہے وہ منصوص علیہ اس کے لیے اس کے بارے میں پہلے سے نص نہ آئی ہو، اگر اس کے بارے میں پہلے ہی نص آ چکی ہے قرآن و حدیث میں حکم اس کا بیان ہو چکا ہے تو اب قیاس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پانچویں شرط کی مثال وهو ما لا يكون الفرع منصوصا عليه اور وہ قیاس ہے کہ جس میں کیا ہے فرع منصوص علیہ نہ ہو كما يقال جیسے کہا جاتا ہے اعتاق الرقبة الكافرة في كفارة اليمين والظهار لا يجوز بالقياس على كفارة القتل. قتل کے بارے میں کفارہ کیا ذکر کیا گیا ہے؟ فتحرير رقبة مؤمنة کیا کرنا پڑے گا؟ ایک تحریر رقبت، گردن کو آزاد کرنا پڑے گا اور وہ گردن کیسی ہو؟ مومنہ، یعنی ایک مومن غلام یا ایک مومن باندی کو آزاد کرنا پڑے گا، جبکہ اسی طرح ظہار اور یمین کا قسم کا جو کفارہ ذکر ہوا اس میں بھی آیا ہے قرآن میں فتحریر رقبة لیکن وہاں مومنہ کی قید نہیں، معلوم ہوا کفارہ یمین میں اور کفارہ ظہار میں چاہے کافر غلام یا کافر باندی ہی کیوں نہ آزاد کر دی جائے کفارہ ادا ہو جائے گا۔ کیا ہے؟ تو عند الاحناف کفارہ قتل میں مومنہ کی قید ہے لہذا اس میں صرف مومن غلام یا مومن باندی ہی آزاد کر سکتا ہے کفارے کے طور پر، جبکہ کفارہ ظہار اور کفارہ یمین میں چونکہ مومنہ کی قید نہیں لہذا وہاں کسی بھی قسم کے کوئی غلام آزاد کر دے یا باندی آزاد کر دے تو کفارہ ادا ہو جائے گا چاہے وہ غلام اور باندی مومن ہوں یا مومن نہ ہوں بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں کفارہ ظہار میں بھی مومن غلام یا باندی آزاد کرنا پڑے گی اور کفارہ یمین میں بھی کیا کرنی پڑے گی؟ مومن غلام یا مومن باندی آزاد کرنا پڑے گی۔ وہ کفارہ ظہار اور کفارہ یمین کو قیاس کرتے ہیں کفارہ قتل پر، کس پر قیاس کرتے ہیں؟ کفارہ قتل پر قیاس کرتے ہیں اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ سارے کفارے ہیں اور کفارے ایک جنس سے ہیں، کس سے ہیں؟ بھئی جنس سے کفارہ ہیں سارے اور ایک نوع کے اندر جب ایک قید آ گئی تو باقی انواع کے اندر بھی اس قید کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ ایک نوع کے اندر جب کیا آ گئی بھئی؟ ایک قید آ گئی تو باقی انواع کے اندر بھی کیا کرنا پڑے گا؟ اس قید کا اعتبار کرنا پڑے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ کفارہ ظہار اور کفارہ یمین کو قیاس کرتے ہیں کفارہ قتل پر اور کہتے ہیں کہ جیسے کفارہ قتل میں مومن غلام یا باندی کا آزاد کرنا ضروری اسی طرح کفارہ یمین اور کفارہ ظہار میں بھی مومن غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہم کہتے ہیں نہیں بھئی یہاں قیاس صحیح نہیں اس لیے کہ فرع خود منصوص علیہ ہے۔ کفارہ ظہار اور کفارہ یمین کے بارے میں تو خود نص موجود ہے تو اب قیاس کی کوئی ضرورت نہیں، نص کے اندر ان کا حکم بیان ہو چکا ہے اور وہاں پر مطلق کس کا ذکر ہوا ہے؟ غلام یا باندی کے آزاد کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ لہذا اب اپ کو قیاس یہاں پر قیاس نہیں کیا جائے گا کہ قیاس کر کے اپ اس مطلق کو کیا کر دیں؟ مقید بنا دیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو كما يقال جیسے کہا جاتا ہے اعتاق الرقبة الكافرة في كفارة اليمين والظهار لا يجوز بالقياس على كفارة القتل رقبہ کافرہ کا آزاد کرنا فی كفارة اليمين والظهار کفارہ یمین اور کفارہ ظہار میں لا يجوز جائز نہیں ہے بالقياس على كفارة القتل کفارہ قتل پر قیاس کرتے ہوئے ولو جعل المظاهر في خلال الإطعام یستأنف الإطعام بالقیاس علی الصوم بھئی، بالقیاس علی الصوم بھئی۔ بھئی یہ مسئلہ پہلے گزر چکا ہے بھئی۔ ظہار کا مسئلہ گزر چکا ہے بھئی۔ ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں سورۂ مجادلہ میں: "والذین یظاهرون من نسائهم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبة من قبل أن یتماسا ذلکم توعظون به والله بما تعملون خبیر فمن لم یجد فصیام شهرین متتابعین من قبل أن یتماسا فمن لم يستطع فإطعام ستین مسکینا ذلکم لتؤمنوا بالله ورسوله وتلک حدود الله وللکافرین عذاب ألیم" بھئی۔ اس سورۂ مجادلہ میں اللہ فرماتے ہیں، کیا فرماتے ہیں؟ "والذین یظاهرون من نسائهم" اور وہ لوگ جو ظہار کر لیں اپنی بیویوں سے "ثم یعودون لما قالوا" پھر وہ تلافی کرنا چاہیں "لما قالوا" اپنے کہے ہوئے کی "فتحریر رقبة" تو ایک گردن کا آزاد کرنا ہے "من قبل أن یتماسا" قبل اس کے کہ باہم اختلاط کریں، یعنی میاں بیوی کیا کریں آپس میں؟ جماع کریں، صحبت کریں اس سے پہلے۔ "ذلکم توعظون به" اس سے تم کو نصیحت ہوگی، یا اس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے "والله بما تعملون خبیر" اور اللہ خوب باخبر ہے جو تم عمل کرتے ہو۔ "فمن لم یجد" پس جو جس کو یہ میسر نہ ہو، غلام میسر نہ ہو "فصیام شهرین متتابعین" تو روزے رکھنا ہے دو ماہ کے لگاتار، دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا ہے "من قبل أن یتماسا" باہم اختلاط کرنے سے پہلے، یعنی جماع کرنے سے پہلے۔ "فمن لم یستطع" جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھے "فإطعام ستین مسکینا" تو پھر کھانا کھلانا ہے کتنے؟ 60 مسکینوں کو۔ "ذلکم لتؤمنوا بالله" یہ اس لیے تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر "ورسوله" اور اس کے رسول پر "وتلک حدود الله" اور یہ اللہ کی حدود ہیں "وللکافرین عذاب ألیم" اور کافروں کے لیے، انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ جی، سورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کفارۂ ظہار کیا بیان ہوا ہے؟ کہ سب سے پہلے غلام کو آزاد کرے اگر استطاعت رکھتا ہو، ایک غلام یا باندی کو۔ "من قبل أن یتماسا" جماع کرنے سے، صحبت کرنے سے پہلے بھئی۔ اور اگر یہ غلام میسر نہ ہو پھر کیا کرے؟ 60 روزے رکھے مسلسل "من قبل أن یتماسا" باہم صحبت کرنے سے پہلے۔ اور اگر یہ 60 روزے رکھنا بھی اس کے لیے ممکن نہ ہو تو پھر، تو پھر 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ اب آپ یہاں پر دیکھیے، 60 مسکینوں کو کھانا کھلانے کے جہاں ذکر ہوا وہاں پر "من قبل أن یتماسا" کی قید موجود نہیں ہے۔ یعنی صحبت کرنے سے پہلے کی قید نہیں، لیکن 60 روزوں کا جہاں ذکر ہوا وہاں پر کیا ذکر ہے کہ 60 روزے رکھے "من قبل أن یتماسا" صحبت کرنے سے پہلے، صحبت کرنے سے پہلے۔ لہٰذا عند الاحناف اگر کوئی شخص روزے، کفارۂ ظہار کے روزے رکھنا شروع کرتا ہے اور کچھ روزے رکھنے کے بعد درمیان میں وہ بیوی سے صحبت کر لیتا ہے تو اب پھر از سرِ نو دوبارہ کیا کرنے پڑیں گے اسے؟ رکھنے پڑیں گے۔ اس لیے کہ قرآن نے کیا حکم دیا تھا کہ یہ 60 روزے جماع سے پہلے ہوں۔ کیا ہوں؟ پہلے ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس سے پہلے جماع نہیں کر سکتا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر 60 مسکینوں کو کھانا کھلایا تو وہاں "من قبل أن یتماسا" کی قید موجود نہیں۔ تو وہاں اگر کچھ مسکینوں کو کھانا کھلا چکا ہے پھر اس نے جماع کر لیا تو پھر از سرِ نو 60 مسکینوں کو کھانا نہیں کھلانا پڑے گا بلکہ بقیہ ہی کو کیا کر دے؟ کھلا دے، 60 مسکین پورے کر لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "من قبل أن یتماسا" کی قید یہ إطعام مساکین میں بھی آ جائے گا بھئی۔ سمجھ آئے؟ کیونکہ یہ بھی کفارہ ہے اور تمام کفارات کیا ہیں؟ ایک نوع سے ہیں۔ لہٰذا ایک نوع کے اندر جو قید ہے تو دوسرے کے اندر بھی اس قید کا کیا کیا جائے گا؟ اعتبار کیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی! یہاں تو قیاس اس وقت کیا جاتا جب فرع منصوص علیہ نہ ہوتی۔ یہ إطعام مساکین تو کیا ہے؟ خود منصوص علیہ، اس کے بارے میں تو نص آ گئی ہے لہٰذا اس کے اندر مزید قیاس کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا؟ ولو جامع المظاهر في خلال الإطعام، اگر جماع کر لیا ظہار کرنے والے نے فی خلال الإطعام کھانا کھلانے کے بیچ میں، یستأنف الإطعام تو نئے سرے سے وہ إطعام کرے گا، کھانا نئے سرے سے کھلائے گا، بالقیاس علی الصوم کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ صوم پر، جیسے صوم از سرِ نو نئے سرے سے دوبارہ رکھنا ضروری تھا تو یہ إطعام مساکین بھی نئے سرے سے دوبارہ بھئی شروع سے رکھے گا۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا؟ ویجوز للمحصر أن یتحلل بالصوم بالقیاس علی المتمتع۔ محصر وہ شخص ہے جو احرام باندھ لے، نیت کر لیتا ہے حج یا عمرے کی اور چل پڑتا ہے۔ اور پھر کوئی رکاوٹ آ گئی، وہ حرم تک نہیں جانے پایا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حرم تک نہیں جا سکتا۔ یا چل پڑا یا نہیں چلا ابھی مولانا، لیکن اس نے احرام باندھ دیا اور نیت کر لی ہے، احرام باندھ دیا ہے اور جب نیت کر لی، احرام باندھ دیا تو پھر یہ احرام اسی وقت اتارا جاتا ہے جب وہ عمرہ کر لے یا حج کر لے۔ تو اب یہ شخص محصر ہوا مولانا، اس کی رکاوٹ آ گئی، روک دیا گیا اس کو حج اور عمرے سے تو اب یہ کیا کرے مولانا؟ یہ کیسے احرام اتارے بھئی؟ بھئی اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ یہ ایسا کرے، قربانی کا ایک جانور بھجوا دے حرم میں۔ اور جب وہ قربانی کا جانور وہاں پہنچ جائے اور ذبح ہو جائے، اسے یقین ہو جائے کہ اب وہ جانور کیا ہو چکا ہوگا؟ ذبح ہو چکا ہوگا۔ بھئی یہ تو قدیم زمانے کی بات ہے جس میں پتہ ہی نہیں چل سکتا تھا۔ اب تو رابطے کیا ہیں؟ ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعے اسی لمحے پتہ چل سکتا ہے اور چیزوں کے ذریعے۔ یا پھر بھی مثلاً کسی ایسے مقام پر ہے جہاں وہ ٹیلی فون وغیرہ بھی نہیں ہے تو اب پتہ ہی نہیں قربانی کب پہنچے گی، لیکن اندازہ ہوگا کہ اتنے عرصے میں یقیناً میں نے جن کے ہاتھ بھیجی ہے وہ پہنچ جائیں گے اور اس وقت، اس وقت تک انہوں نے کیا کر دیا ہوگا میرے جانور کو حرم میں اب ذبح کر دیا ہوگا۔ تو جب قربانی کے وہاں پر پہنچنے اور ذبح ہونے کا یقین ہو جائے تو پھر اب وہ حلال ہو جائے۔ کیا کر لے؟ حلال ہو جائے، بال کٹوائے اور کپڑے پہن لے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ احرام اتار دے۔ یہ تو تھا محصر کے بارے میں۔ اسی طرح متمتع جو حجِ تمتع کرنے والا ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ متمتع۔ حجِ تمتع حج کی ایک قسم ہے بھئی۔ ایک حجِ افراد ہوتا ہے، ایک حجِ تمتع ہے، ایک حجِ قران ہے۔ حجِ افراد میں صرف حج کا احرام باندھا جاتا ہے اور حاجی جا کر صرف حج کرتا ہے۔ حجِ تمتع جو ہے اس کے اندر مولانا عمرہ اور حج دونوں کرتا ہے۔ پہلے جا کر کیا کرتا ہے؟ عمرہ کرتا ہے، پھر مولانا بال کٹوا کر بھئی کیا کر لیتا ہے؟ عام کپڑے پہن لیتا ہے، حلال ہو گیا۔ پھر اس کے بعد جب حج کے دن آئے حج کے، تو آٹھویں یا نویں کو پھر کیا کر لے گا؟ احرام باندھ کر باقی افعالِ حج کرے گا۔ اس کو یہ حجِ تمتع ہے اور اس کے کرنے والے کو متمتع کہتے ہیں، متمتع۔ اور اس پر قربانی واجب ہے۔ حجِ افراد کرنے والے کو مفرد کہتے ہیں اور حجِ تمتع کرنے والے کو متمتع، اور اس پر قربانی واجب ہے۔ اس لیے کہ اس نے ایک سفر میں دو عبادتیں، دو عبادتیں اسے حاصل ہوئیں مولانا۔ ایک عمرے کی اور ایک حج کی۔ اس پر قربانی واجب ہے۔ اسی طرح حجِ قران جو کرنے والا ہے اس کو قارن کہتے ہیں، قارن بھئی۔ تو وہ بھی حجِ تمتع کی طرح ہے، اس میں بھی ایک حج ہوگا اور ایک عمرہ ہوگا۔ لیکن حجِ تمتع اور قران میں یہ فرق ہے کہ تمتع میں وہ پھر عمرہ کر کے احرام اتار دیتا ہے، حلال ہو جاتا ہے اور حج کے دنوں میں پھر کیا کر لیتا ہے؟ احرام۔ جبکہ قارن میں عمرہ کر لیتا ہے لیکن حلال نہیں ہوگا، احرام پہنے رکھے گا یہاں تک کہ اسی میں کیا کر لے؟ حج بھی کر لے۔ تو یہ ہمارے نزدیک سب سے افضل حج، حجِ قران ہے۔ اس لیے کہ اس میں مشقت بھی زیادہ ہے بھئی، کہ عمرہ کرنے کے بعد حج تک اب کیا کرے گا؟ احرام پہنے رکھے گا، اس کو اتارے گا، عام کپڑے نہیں پہنے گا۔ تو اب متمتع پر قربانی واجب ہے اس لیے کہ اس کو ایک سفر میں دو عبادتیں نصیب ہوئی ہیں مولانا، ایک عمرے کی بھی اور ایک، تو بطورِ شکرانے کے قربانی واجب۔ اسی طرح قارن پر بھی قربانی واجب ہے بھئی۔ اب ایک شخص ہے اس نے حجِ تمتع کیا لیکن اس کو قربانی کا جانور میسر نہیں، وہ کیا کرے گا؟ تو اس کے بارے میں حکم آیا کہ وہ 10 روزے رکھ لے۔ کیا کر لے؟ 10 روزے رکھ لے۔ تین ایامِ حج میں قربانی کے دن سے پہلے پہلے، اور سات واپس گھر آ کر بھئی۔ تو یہ کل کتنے ہو گئے؟ 10 ہو گئے۔ تین قربانی کے دن سے پہلے اور باقی سات بعد میں۔ تو متمتع جو ہے، متمتع اگر قربانی نہ پائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ 10 روزے رکھ لے۔ تین روزے کب رکھ لے؟ قربانی کے دن سے پہلے رکھے اور سات واپس آ کر کل 10 روزے رکھ لے۔ جی، کل 10 روزے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو محصر کو بھی اسی متمتع پر امام شافعی رحمہ اللہ قیاس کرتے ہیں۔ وہ شخص جسے حج اور عمرے سے روکا گیا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ اسے بھی کس پر قیاس کرتے ہیں؟ محصر کو بھی اس متمتع پر قیاس کرتے ہیں، کہ متمتع جب قربانی پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے شریعت نے کیا حکم دیا کہ 10 روزے رکھو اور پھر کیا ہو جاؤ گے؟ حلال ہو جاؤ گے۔ تو یہاں محصر بھی کیا کر لے؟ 10 روزے رکھے اور حلال ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور دونوں میں علتِ جامعہ کیا ہے؟ قربانی پر قادر نہ ہونا بھئی۔ قربانی کے جانور پر قادر نہ ہونا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہم کہتے ہیں آپ کا یہ قیاس درست نہیں۔ اس لیے کہ یہ قیاس ایسی فرع کے بارے میں ہے جو منصوص علیہ ہے، جس کے بارے میں پہلے ہی کیا آ چکی ہے؟ نص آ چکی ہے اور جب فرع منصوص علیہ ہو تو اس پہ قیاس نہیں کیا جائے گا۔ اس محصر کے بارے میں پہلے ہی نص آ چکی ہے قرآن میں، اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: "ولا تحلقوا رؤوسکم حتی یبلغ الهدي محله"۔ ولا یہ کس کے بارے میں آئی ہے؟ محصر کے بارے میں۔ "ولا تحلقوا رؤوسکم" اور تم اپنے سروں کا حلق نہ کرواؤ "حتی یبلغ الهدي محله" یہاں تک کہ قربانی کا جانور پہنچ جائے "محله" اپنے مقام کو بھئی، اپنی جگہ پر کیا ہے؟ یعنی حرم پہنچ جائے۔ سمجھ میں آیا؟ حلق کا معنی ہے سر منڈوانا بھئی، استرے سے سر کے بالوں کو صاف کرنا بھئی۔ استرے سے سر کے بالوں کو صاف کرنا یہ حلق کہلاتا ہے، حلق بھئی۔ یاد رکھو، حج یا عمرہ جب کوئی کرتا ہے تو اس کے لیے احرام باندھنا پڑتا ہے بھئی۔ احرام باندھے گا اور حج یا عمرے کی کیا کرے گا؟ نیت کرے گا۔ اب یہ شخص محرم ہے مولانا، اور اس کے لیے بہت سی چیزیں ممنوع قرار دے دی ہیں شریعت نے۔ یہ خوشبو نہیں لگا سکتا بھئی۔ خوشبو نہیں لگا، شکار نہیں کر سکتا بھئی۔ بیوی ہو ساتھ تو صحبت نہیں کر سکتا بھئی۔ صحبت وغیرہ، بال اور ناخن وغیرہ نہیں کٹوا سکتا۔ تو بہت سی چیزوں میں شریعت اس پر کیا کر دیتی ہے؟ ممانعت، بہت سی چیزیں اس کے لیے اب جائز نہیں رہتیں۔ تو اب اس کے حلال ہونے، حلال کس طرح ہوگا؟ کہ جب افعالِ حج کر لے یا افعالِ عمرہ کر لے تو پھر اس کے بعد احرام اتارے گا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سر کو، کے بالوں کو منڈوا دے استرے کے ساتھ یا کیا کروا دے کم از کم؟ کٹوا دے۔ کیا کرے؟ چھوٹے کروا لے۔ تو سر کے بالوں کو کٹوانا یا منڈوانا ضروری ہے احرام کے اتارنے کے لیے، یعنی حلال ہونے کے لیے۔ یعنی حلال ہونے کے لیے، تو پھر وہ حلال ہوگا اور پھر وہ جو چیزیں اس کے لیے ممنوع تھیں وہ کیا ہو جائیں گی؟ جائز۔ تو حلال ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟ سر کے بالوں کا منڈوانا یا سر کے بالوں کا چھوٹا کروانا ضروری ہے۔ تو یہاں پر جو ذکر ہوا "ولا تحلقوا رؤوسکم" یہاں سے مراد کیا ہے؟ حلال ہونا، حلال ہونا۔ اور تم حلال نہ ہو یہاں تک، "ولا تحلقوا رؤوسکم" کیا مراد ہے بھئی؟ جی؟ ہاں، حلال نہ ہو یہاں تک کہ قربانی کیا ہے؟ قربانی کا جانور اپنے محل کو پہنچ جائے۔ تو سر منڈوانے سے یہاں مراد ہے حلال ہونا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ تو یہاں تو نص آ چکی ہے مولانا، معلوم ہوا محصر کے حلال ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ قربانی کا جانور بھیجے اور وہ قربانی کا جانور وہاں پر حرم میں ذبح ہوگا تو یہ حلال ہو سکے گا، ورنہ اس کے لیے حلال ہونا جائز نہیں، ہمیشہ حالت احرام ہی میں رہے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو کیا کیا؟ قیاس کیا، کس پر؟ متمتع پر، کہ متمتع اگر قربانی کا جانور نہ پائے تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ 10 روزے رکھ لے اور ہمارے نزدیک بھئی اس کے لیے روزے رکھنا جائز نہیں، اس کے لیے قربانی ہی کا جانور بھیجنا پڑے گا، اگر قربانی کا جانور اسے میسر نہ ہوا تو یہ ہمیشہ کس حالت میں رہے گا؟ احرام ہی کی حالت میں رہے گا، اس لیے کہ اس کے بارے میں نص آ چکی ہے اور جو فرع منصوص علیہ ہو اس کے بارے میں قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَيجُوزُ لِلْمُحْصَرِ أَنْ يَتَحَلَّلَ بِالصَّوْمِ بِالْقِيَاسِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ"۔ جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو محصر کے نزدیک، محصر ہمارے نزدیک، محصر کو اگر قربانی کا جانور نہ ملے تو وہ ہمیشہ کیا ہے؟ حالت احرام ہی میں رہے گا، اس لیے کہ اس کے بارے میں نص آئی ہے قرآن میں: "وَلَا تَحْلِقُوا رُؤُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ" کہ اس وقت تک اپنے سروں کو حلق نہ کرواؤ جب تک کہ قربانی کا جانور اپنے مقام کو یعنی حرم میں نہ پہنچ جائے۔ تو لہٰذا ہمیشہ یہ حالت احرام ہی میں رہے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں چونکہ اس محصر کو قربانی کا جانور میسر نہیں ہے لہٰذا اب یہ بھی کیا کر دے؟ متمتع کی طرح 10 روزے رکھے اور پھر کیا یہ کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا، سر مندوائے اور عام کپڑے پہن لے بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ قیاس صحیح نہیں، اس لیے کہ فرع پہلے ہی منصوص علیہ ہے، اس کے بارے میں پہلے ہی نص آ چکی ہے بھئی۔ جی، اسی طرح "وَيجُوزُ لِلْمُحْصَرِ" اور جائز ہے محصر کے لیے بھئی "أَنْ يَتَحَلَّلَ بِالصَّوْمِ" کہ وہ حلال ہو جائے کس کے ساتھ؟ روزے کے ساتھ، "بِالْقِيَاسِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ" کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ متمتع پر قیاس کرتے ہوئے۔ بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور علّت جامعہ دونوں میں کیا ذکر کرتے ہیں وہ؟ کہ جیسے متمتع جو ہے قربانی پر قادر نہیں تو روزے رکھے گا، اسی طرح یہ بھی اب قربانی پر قادر نہیں، اس کو جانور نہیں مل رہا تو پھر یہ بھی کیا کر لے گا؟ روزے رکھے گا۔ "وَالْمُتَمَتِّعُ إِذَا لَمْ يَصُمْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَصُومُ بَعْدَهَا بِالْقِيَاسِ عَلَى قَضَاءِ رَمَضَانَ"۔ جی، اور اسی طرح تو متمتع پر کیا ضروری ہے اگر قربانی کا جانور نہ ملے تو وہ کیا کرے گا؟ 10 روزے رکھے گا، اور وہ 10 روزے کس طرح ہوں گے کہ 3 یوم النحر سے پہلے ہوں گے، قربانی کے دن سے پہلے، اور 7 بعد میں ہوں گے مولانا، تو یہ 10 ہیں بھئی۔ اب اگر ایک شخص ہے اس کو وہ یہ روزے نہیں رکھ سکا، یعنی یوم النحر سے جو پہلے 3 روزے رکھنے تھے وہ روزے نہیں رکھ سکا تو اب اس کا کیا حکم ہے؟ ہمارے نزدیک اب اس پر قربانی ہی واجب ہے، اب ان روزوں کی قضا نہیں کر سکتا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اس کو قیاس کرتے ہیں رمضان کے روزوں پر بھئی، رمضان کے روزے اگر کسی سے قضا ہو جائیں تو وہ کیا کرے گا اس کی؟ قضا کسی بھی وقت بعد میں کر سکتا ہے۔ قضا کیا کر سکتا ہے؟ تو رمضان کے روزوں کا بھی وقت متعین ہے، وہ جب فوت ہو جائیں تو بعد میں کسی بھی وقت ان کی قضا کر سکتا ہے۔ اسی طرح یہ جو 3 روزے تھے ان کا بھی وقت متعین تھا کہ یوم النحر سے پہلے پہلے رکھنا پڑیں گے، تو اور یہ فوت ہو گئے تو ان کی بھی بعد میں کسی وقت بھی قضا کر سکتا ہے۔ تو جیسے رمضان کے روزے تھے موقت، یہ بھی روزے کیا ہیں؟ موقت۔ تو وہاں پر موقت روزہ اپنے وقت سے رہ گیا تو بعد میں کسی بھی وقت اس کی قضا کرنا جائز، تو یہاں بھی موقت روزہ جب اپنے وقت سے رہ جائے گا تو اس کی قضا کسی بھی وقت بعد میں کرنا جائز ہے، جائز ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک نہیں بھئی، ان کی قضا نہیں کر سکے گا، اگر روزے رہ گئے تو اب اس کو قربانی ہی کرنا پڑے گی اور وجہ اس کی جو ہے حدیث ہے مولانا، حدیث میں آیا ہے، حضرت عمر کے آثار ہیں مولانا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب خلیفہ تھے تو حج کے موقع پر ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں متمتع ہوں، مجھ پر قربانی کیا تھی؟ واجب تھی، لیکن میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، پھر مجھ پر روزے فرض ہوئے لیکن میں یوم النحر سے پہلے 3 روزے بھی نہیں رکھ سکا، اب میں کیا کروں؟ تو حضرت عمر نے فرمایا کہ تمہارے اوپر قربانی ہی لازم ہے اب، قربانی ہی کرو گے۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی قربانی کا جانور بھی نہیں ہے، مجھے میسر نہیں قربانی کا جانور۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اپنی قوم والوں سے مانگو بھئی، ان سے قربانی کا کوئی جانور یا قرض وغیرہ مانگو بھئی۔ اس نے کہا: میرا قبیلہ بھی یہاں نہیں ہے، قوم والے یہاں نہیں ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے ایک بکری کی قیمت دے دو بھئی تاکہ یہ جانور خرید کر کیا کر لے اس کی؟ قربانی کر لے اور حلال ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس حدیث میں دیکھو کیا ثابت ہوا؟ کہ اس شخص کے روزے رہ گئے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے کیا حکم دیا؟ کہ اب قربانی ہی کرنا پڑے گی، اب روزے نہیں رکھ سکتے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ کا اس کو قیاس کہ کسی کے روزے ایامِ تشریق میں رہ جائیں اور وہ بعد میں پھر کیا کر سکتا ہے اس کی؟ قضا کر سکتا ہے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں رمضان کے روزوں پر کہ جیسے رمضان کے روزوں کا وقت متعین ہے اسی طرح ان روزوں کا بھی وقت کیا تھا؟ متعین تھا اور رمضان کے روزے جب اپنے وقت سے رہ جائیں تو بعد میں کسی بھی وقت کیا کر سکتا ہے ان کی؟ قضا کر سکتا ہے، تو یہ روزے بھی جب اپنے وقت سے رہ جائیں تو ان کی بھی کیا ہونی چاہیے؟ بعد میں کسی بھی وقت قضا کر لے، یہ صحیح، تو اس کو قیاس یہ کرتے ہیں وہ رمضان کے روزوں پر، رمضان کے روزوں پر۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نہیں یہ قیاس صحیح نہیں، اس لیے کہ فرع خود منصوص علیہ ہے، اگر وہ ان ایام میں روزے نہیں رکھ سکا تو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ قربانی ہی کرنا پڑے گی، اب وہ روزے نہیں رکھ سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ یہاں پر تو کوئی نص نہیں ہے، یہ تو صحابی کا قول ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا، انہوں نے کہا کہ اب تم صرف کیا کرو گے؟ قربانی ہی کر سکتے ہو، اب روزے ان کی قضا نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ تو قولِ صحابی ہوا، اس مسئلے میں کوئی مرفوع حدیث یا قرآن کی کوئی آیت نہیں ہے، نہیں ہے بھئی۔ تو جواب یہ مولانا کہ قولِ صحابی دو قسم پر ہوتا ہے: ایک وہ قول جو مدرک بالعقل ہو، ایک وہ جو مدرک بالعقل نہ ہو بھئی۔ یعنی وہ حکم عقل کے ذریعے معلوم ہو سکتا ہے یا عقل کے ذریعے معلوم نہیں؟ عقل کے ذریعے معلوم ہو سکتا ہے تو وہ کیا ہے؟ مدرک بالعقل، اور اگر عقل کے ذریعے معلوم نہیں ہو سکتا تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ غیر مدرک بالعقل۔ تو صحابی کا قول اگر غیر مدرک بالعقل ہو تو وہ حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہے۔ اگر صحابی کا قول کیا ہو؟ غیر مدرک بالعقل ہو، یعنی عقل کے ذریعے اس کا پتہ ہی نہیں چل سکتا اور پھر صحابی وہ قول کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ بات انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوگی، اپنی عقل کے ذریعے تو یہ بات معلوم نہیں ہو سکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرما رہے ہیں کہ اب صرف کیا کر سکتے ہو؟ قربانی ہی کر سکتے ہو، اور یہ بات عقل کے ذریعے معلوم ہو سکتی ہے بھئی؟ جی؟ بلکہ عقل تو کیا کہہ رہی ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا قیاس کر کے بتلا رہے ہیں کہ بعد میں قضا کر سکتا ہے، تو عقل کے ذریعے تو یہ فیصلہ ہو رہا ہے کہ بعد میں بھی قضا جائز ہونی چاہیے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کیا فرما رہے ہیں کہ اب قربانی ہی کرنا پڑے گی، قضا نہیں کر سکتے۔ تو ان کا یہ قول کیا ہوا؟ مدرک بالعقل ہوا یا غیر مدرک بالعقل؟ جی، غیر مدرک بالعقل ہوا اور صحابی کا جو قول غیر مدرک بالعقل ہو وہ حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے، عقل سے تو یہ بات معلوم ہو نہیں سکتی، یقیناً انہوں نے کس سے سنی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔ تو اس لیے یہ ہے تو اثر لیکن کس کے حکم میں ہے؟ حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہے۔ لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قیاس صحیح نہیں اس لیے کہ فرع پہلے ہی منصوص علیہ ہے۔ تو یہاں اس شرطِ خامس کی مثالوں میں 4-5 مسئلے ذکر ہوئے بھئی، وہ آپ کو سمجھ میں آ گئے سارے مسئلے بھئی؟ لیکن عبارت سے آپ حیران ہو رہے ہوں گے، یہ عبارت عجیب سی ہے۔ اب ذرا عبارت کو دوبارہ دیکھو، یہ مسائل بیان ہو رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق، یہ ساری مثالیں کیا ہیں؟ اس کی ہیں جس میں فرع خود منصوص علیہ ہے اور امامِ شوافع کیا کر رہے ہیں اس کے اندر؟ قیاس کر رہے ہیں، تو یہ ہمارے نزدیک ساری مثالیں صحیح نہیں۔ تو یہ سارے یہ جو مسئلے ذکر ہوئے کس کے مذہب کے مطابق ہیں؟ شوافع کے مذہب کے مطابق ہیں۔ دیکھیے ذرا ترجمہ، اب عبارت سمجھ میں آئے گی بھئی۔ ترجمہ مسئلہ یہ یاد رکھیں، کس کے مذہب کے مطابق ذکر ہو رہے ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق۔ "كَمَا يُقَالُ إِعْتَاقُ الرَّقَبَةِ الْكَافِرَةِ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ وَالظِّهَارِ لَا يَجُوزُ بِالْقِيَاسِ عَلَى كَفَّارَةِ الْقَتْلِ" جیسے کہا جاتا ہے، کہنے والے کون ہیں بھئی؟ شوافع۔ جیسے کہا جاتا ہے: "إِعْتَاقُ الرَّقَبَةِ الْكَافِرَةِ" کہ کافر گردن کا آزاد کرنا "فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ وَالظِّهَارِ" کفارہ یمین میں اور کفارہ ظہار میں جائز نہیں، ان کے نزدیک کافر گردن کا آزاد کرنا جائز نہیں "بِالْقِيَاسِ عَلَى كَفَّارَةِ الْقَتْلِ" کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ کفارہ قتل پر، اور ہمارے نزدیک تو یہ قیاس صحیح نہیں کیونکہ اصل فرع خود کیا ہے؟ منصوص علیہ ہے۔ اسی طرح وہ کیا کہتے ہیں: "وَلَوْ جَامَعَ الْمُظَاهِرُ فِي خِلَالِ الْإِطْعَامِ" اگر جماع کر لیا ظہار کرنے والے نے اطعام کے بیچ میں، کھانا کھلانے کے بیچ میں، "يَسْتَأْنِفُ الْإِطْعَامَ" تو پھر نئے سرے سے کھانا کھلائے گا 60 مسکینوں کو "بِالْقِيَاسِ عَلَى الصَّوْمِ" کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ صوم پر، یہ شوافع فرماتے ہیں اور ہم کیا کہتے ہیں؟ یہ قیاس صحیح نہیں کیونکہ فرع خود کیا ہے؟ منصوص علیہ۔ اسی طرح وہ فرماتے ہیں: "وَيَجُوزُ لِلْمُحْصَرِ أَنْ يَتَحَلَّلَ بِالصَّوْمِ بِالْقِيَاسِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ" کہ محصر کے لیے جائز ہے کہ وہ حلال ہو جائے روزے کے سبب، روزے کے ساتھ، قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ متمتع پر، ہم کہتے ہیں یہ قیاس صحیح نہیں اس لیے کہ محصر کے بارے میں تو خود نص موجود ہے، تو جب وہ فرع خود منصوص علیہ ہے تو اب اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اور اسی طرح وہ کہتے ہیں: "وَالْمُتَمَتِّعُ إِذَا لَمْ يَصُمْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ" اور متمتع جب کیا ہے؟ روزے نہ رکھے ایامِ تشریق کے اندر "يَصُومُ بَعْدَهَا" تو وہ کب رکھے گا روزے؟ اس کے بعد رکھے گا "بِالْقِيَاسِ عَلَى قَضَاءِ رَمَضَانَ" کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ قضاءِ رمضان پر قیاس کرتے ہوئے، ہم کہتے ہیں آپ کا یہ قیاس صحیح نہیں اس لیے کہ فرع خود کیا ہے؟ منصوص علیہ ہے۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 107 of 123